ہدایات

اجتماعی تنقید کا صحیح طریقہ

ان حدود کو ملحوظ رکھ کر جو تنقید کی جائےوہ نہ صرف یہ کہ مفید ہےبلکہ جماعتی زندگی کو درست رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی جماعت زیادہ دیر تک صحیح راستے پر گامزن نہیں رہ سکتی ۔ اس تنقید سے کسی کو بھی بالاتر نہ ہونا چاہیئے خواہ وہ آپ کا امیر ہو یا مجلس شوری ہویا پوری جماعت ہو۔ میں اس کو جماعت کی صحت برقرار رکھنےکےلیےناگزیر سمجھتا ہوں اور مجھےیقین ہے کہ جس روز خدا نخواستہ ہماری جماعت میں اس کا دروازہ بند ہوا اسی روز ہمارے بگاڑ کا دروازہ کھل جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ میں ابتدا سےہر اجتماع عام کےبعد ارکان جماعت کا ایک اجتماع خاص اس غرض کےلیےمنعقد کرتا رہا ہوں کہ اس میں جماعت کےکام اور نظام کا پورا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ایسے اجتماعات میں سب سےپہلے میں خود اپنے آپ کو تنقید کے لیےپیش کرتا ہوں تا کہ جس کو مجھ پر یا میرےکام پر کوئی اعتراض ہو وہ اسےسب کےسامنےبےتکلف پیش کرےاور اس کی تنقید سےیا تو میری اصلاح ہو جائے یا میرےجواب سے اس کی اور اس کی طرح سوچنے والے دوسرے لوگوں کی غلط نہیں رفع ہو جائے چنانچہ اس طرح کا ایک اجتماع کل رات ہی کو منعقد ہو چکا ہے جس میں کھلی اور آزادانہ تنقید کا منظر سب رفتار دیکھ چکےہیں- - - مجھے یہ معلوم کر کےحیرت ہوئی کہ یہ منظر ہمارےبعض نئےرفقاء کےلیے جنہیں ایسےمناظر دیکھنےکا پہلی ہی مرتبہ اتفاق ہوا تھا، سخت صدمے کا موجب ہوا ۔ نہ معلوم انہوں نے کس نگاہ سے اس کو دیکھا کہ انہیں صدمہ ہوا۔ بصیرت کی نگاہ سے دیکھتے تو ان کے دل میں جماعت کی وقعت پہلےسے زیادہ بڑھ جاتی۔ آخر اس سر زمین پر جماعت اسلامی کے سوا اور کون سی جماعت ایسی ہے جس میں تین چار سو آدمیوں کےمجمع میں کئی گھنٹےتک ایسی کھلی اور آزادانہ تنقیدیں ہوں اور پھر نہ کرسیاں اچھلیں، نہ سر پھوٹیں۔ بلکہ اجتماع کےخاتمے پر کسی کےدل میں کسی کی طرف سے غبار تک نہ ہو؟

کتاب ہدایات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت Oct. 29, 2025
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

ہدایت