اس کے بعد عملی طریقے کو لیجئے ۔ آپ کو دنیا میں رہتے ہوئے اپنی گھر یلو زندگی میں اپنے محلے اور اپنی برادری کی زندگی میں اپنے حلقہ احباب اور حلقہ تعارف میں اپنے شہر اور اپنے ملک کے معاملات میں اپنے لین دین اور اپنی معاش کےکاموں میں، غرض ہر طرف ہر آن قدم قدم پر ایسے دورا ہے ملتے ہیں جن میں سےایک راستےکی طرف جانا ایمان بالآخرۃ کا تقاضا ہوتا ہے اور دوسرے کو اختیار کرنا دنیا پرستی کا تقاضا۔ ایسے ہر موقع پر پوری کوشش کیجئے کہ آپ کا قدم پہلے راستے ہی کی طرف بڑھے۔ اور اگر نفس کی کمزوری سے یا مغفلت کی وجہ سے بھی دوسرے راستے پر آپ چل نکلے ہوں، تو ہوش آتے ہی پلٹنےکی کوشش کیجئے، خواہ کتنے ہی دور پہنچ چکےہوں۔پھر وقتا فوقتا اپنا حساب لےکر دیکھتے رہیے کہ کتنے مواقع پر دنیا آپ کو کھینچنےمیں کامیاب ہوئی، اور کتنی بار آپ آخرت کی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ جائزہ آپ کو خود ہی ناپ تول کر بتا تا ر ہے گا کہ آپ کے اندر فکر آخرت نے کتنا نشوونما پایا اور ابھی کتنی کچھ کی آپ کو پوری کرنی ہے۔ جس قدر کی آپ خود محسوس کریں اسے خودی پورا کرنےکی کوشش کریں۔ بیرونی مدد آپ کو زیادہ سے زیادہ بم بھی سکتی ہےتو اس طرح پہنچ سکتی ہےکہ دنیا پرست لوگوں کو چھوڑ کر ایسےصالح لوگوں سے رابط بڑھائیں جو آپ کے علم میں دنیا پر آخرت کو ترجیح دینےوالے ہوں۔ مگر یاد رکھیے کہ آج تک کوئی ذریعہ ایسا دریافت نہیں ہو سکا ہے جو آپ کے اندر خود آپ کی اپنی کوشش کےبغیر کسی صفت کو کھٹا سکے یا بڑھا سکے یا ایسی کوئی نئی صفت آپ میں پیدا کر سکے جس کا مادہ آپ کی طبیعت میں موجود نہ ہو۔
| کتاب | ہدایات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | Oct. 29, 2025 |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |