لیکن یہ فکری طریقہ اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا، بلکہ زیادہ دیر تک نباہا بھی نہیں جا سکتا جب تک کہ عملی طریقے سے اس کو مد داور قوت نہ پہنچائی جائے ۔ اور وہ عملی طریقہ ہے احکام الہی کی مخلصانہ اطاعت اور ہر اس کام میں جان لڑا کر دوڑ دھوپ کرنا جس کے متعلق آدمی کو معلوم ہو جائے کہ اس میں اللہ کی رضا ہے۔ احکام ابھی کی مخلصانہ اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ جن کاموں کا اللہ نےحکم دیا ہےان کو بادل نخواسته نہیں بلکہ اپنےدل کی رغبت اور شوق کےساتھ خفیہ اور علانیہ انجام دیں اور اس میں کسی دنیوی غرض کو نہیں بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔اور جن کاموں سےاللہ نے روکا ہے ان سےقلیمی نفرت و کراهت کےساتھ خفیہ اور علانیه پرهیز کریں۔اوراس پر چیز کا محرک کوئی دنیوی نقصان کا خوف نہیں بلکہ اللہ کے غضب کا خوف ہو۔ یہ طرز محمل آپ کو تقویٰ کے مقام پر پہنچا دے گا۔ اور اس کے بعد دوسرا طرز عمل آپکو احسان کی منزل پر پہنچائے گا، یعنی یہ کہ آپ دنیا میں ہر اس بھلائی کو فروغ دینے کی کوشش کرین جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ہر اس برائی کو دبانے کی کوشش کریں جسے اللہ نا پسند فرماتا ہے اور اس کوشش میں جان، مال وقت محنت اور دل و دماغ کی قابلیت غرض کسی چیز کے قربان کرنے میں بھی بھل سے کام نہ لیں۔ پھر اس راہ میں جو قربانی بھی آپ کریں اس پر کوئی نظر آپ کے دل میں پیدا نہ ہو نہ یہ خیال کبھی آپ کے دل میں آئے کہ آپ نے کسی پر احسان کیا ہے بلکہ بڑی سے بڑی قربانی کر کے بھی آپ یہی سمجھتے رہیں کہ آپ کے خالق کا جو حق آپ پر تھاوہ پھر بھی ادا نہیں ہو سکا ہے۔
| کتاب | ہدایات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | Oct. 29, 2025 |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |