باہر نکلنے کے قوانین
و قرن کی قرات میں اختلاف ہے۔ عام قراء مدینہ اور بعض کوفیوں نےاس کو و قرن بفتح قاف پڑھا ہے جس کا مصدر قرار ہے۔ اس لحاظ سے ترجمہ یہ ہو گا کہ اپنے گھروں میں ٹھری رہو یا جمی رہو۔" عام قراء بصرہ و کوفه نےو قرن بکسر قاف پڑھا ہے جس کا مقصد وقار ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوں گےکہ ”اپنے گھروں میں وقار اور سکینت کے ساتھ رہو۔"
تیرج کے دو معنی ہیں۔ ایک زینت اور محاسن کا اظہار۔ دوسرے چلنےمیں ناز و انداز دکھانا تبختر کرتے ہوئے چلنا، اٹھلانا لچے کھانا جسم کو توڑنا ایسی چال اختیار کرنا جس میں ایک ادا پائی جاتی ہو۔ آیت میں یہ دونوں معنی مراد ہیں۔ جاہلیت اولی میں عورتیں خوب بن سنور کر نکلتی تھیں۔ جس طرح دور جدید کی جاہلیت میں نکل رہی ہیں۔ پھر چال بھی قصدا ایسی اختیار کی جاتی تھی کہ ہر قدم زمین پر نہیں بلکہ دیکھنے والوں کے دلوں پر پڑے۔ مشہور تابعی و مفسر قرآن قادہ بن دعامہ کہتے ہیں کہ :۔
اس کیفیت کو سمجھنے کے لئے کسی تاریخی بیان کی حاجت نہیں۔ کسی ایسی سوسائٹی میں تشریف لے جائیے جہاں مغربی وضع کی خواتین تشریف لاتی ہوں۔جاہلیت اولی کی تیرج والی چال آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اسلام اسی سے منع کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اول تو تمہاری صحیح جائے قیام تمہارا گھر ہے۔ بیرون خانہ کی ذمہ داریوں سے تم کو اسی لئے سبکدوش کیا گیا کہ تم سکون و وقار کے ساتھ اپنے گھروں میں رہو اور خانگی زندگی کے فرائض ادا کرو۔ تاہم اگر ضرورت پیش آئے تو گھر سے باہر نکلنا بھی تمہارے لئے جائز ہے۔ لیکن نکلتے وقت پوری عصمت مابی ملحوظ رکھو۔ نہ تمہارے لباس میں کوئی شان اور بھڑک ہونی چاہئے کہ نظروں کو تمہاری طرف مائل کرے۔ نہ اظہار حسن کے لئے تم میں کوئی بے تابی ہونی چاہئے کہ چلتے چلتے کبھی چہرے کی جھلک دکھاؤ اور کبھی ہاتھوں کی نمائش کرو۔ نہ چال میں کوئی خاص ادا پیدا کرنی چاہئے کہ نگاہوں کو خود بخود تمہاری طرف متوجہ کر دے۔ ایسے زیور بھی پہن کر نہ نکلو جن کی جھنکار غیروں کے لئے سامعہ نواز ہو۔ قصدا لوگوں کو سنانے کے لئے آواز نہ نکالو۔ہاں اگر بولنے کی ضرورت پیش آئے تو بولو مگر رس بھری آواز نکالنے کی کوشش نہ کرو۔ ان قواعد اور حدود کو ملحوظ رکھ کر اپنی حاجات کے لئے تم گھر سے باہر نکل سکتی ہو۔
یہ ہے قرآن کی تعلیم آئیے اب حدیث پر نظر ڈال کر دیکھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعلیم کے مطابق سوسائٹی میں عورتوں کے لئے کیا طریقے مقرر فرمائے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کی خواتین نے ان پر کس طرح عمل کیا۔
حدیث میں ہے کہ احکام حجاب نازل ہونے سے پہلے حضرت عمر بیوہ کا تقاضا تھا کہ یا رسول اللہ اپنی خواتین کو پردہ کرائیے۔ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رات کے وقت باہر نکلیں تو حضرت عمر پیٹھ نے ان کو دیکھ لیا اور پکار کر کہا کہ سودہ ! ہم نے تم کو پہچان لیا۔ اس ۔ سے ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح خواتین کا گھروں سے نکلنا ممنوع ہو جائے۔ اس کے بعد جب احکام حجاب نازل ہوئے تو حضرت عمر پیٹھ کی بن آئی۔ انہوں نے عورتوں کے باہر نکلنےپر زیادہ روک ٹوک شروع کر دی۔ ایک مرتبہ پھر حضرت سودہ کے ساتھ وہی صورت پیش آئی۔ وہ گھر سے نکلیں اور عمر پیو نے ان کو ٹوکا۔ انہوں نے حضور اکرم علی مریم سے شکایت کی۔ حضور اکرم علیہ وسلم نے فرمایا۔
اس سے معلوم ہوا کہ وقرن فی بیوتکن کے حکم قرآنی کا منشاء یہ نہیں ہےکہ عورتیں گھر کےحدود سے قدم کبھی باہر نکالیں ہی نہیں۔حاجات و ضروریات کے لئے ان کو نکلنے کی پوری اجازت ہے۔ مگر یہ اجازت نہ غیر مشروط ہے نہ غیر محدود۔ عورتیں اس کی مجاز نہیں ہیں کہ آزادی کےساتھ جہاں چاہیں پھریں اور مردانہ اجتماعات میں گھل مل جائیں۔حاجات و ضروریات سےشریعت کی مراد ایسی واقعی حاجات و ضروریات ہیں جن میں درحقیقت نکلنا اور باہر کام کرنا عورتوں کے لئے ناگزیر ہو۔ اب یہ ظاہر ہے کہ تمام عورتوں کے لئے تمام زمانوں میں نکلنے اور نہ نکلنے کی ایک ایک صورت بیان کرنا اور ہر ہر موقع کے لئے رخصت کے علیحدہ علیحدہ حدود مقرر کر دینا ممکن نہیں ہے۔البتہ شارع نے زندگی کےعام حالات میں عورتوں کےلئےنکلنےکےجو قاعدے مقرر کئے تھےاور حجاب کی . حدود میں جس طرح کمی و بیشی کی تھی اس سے قانون اسلامی کی سپرٹ اور اس کے رجحان کا اندازہ کیا جا ہے اور اس کی سمجھ کو انفرادی حالات اور جزئی معاملات میں حجاب کے حدود اور موقع و محل کے لحاظ سے ان کی کمی و بیشی کے اصول ہر شخص خود معلوم کر سکتا ۔اس کی توضیح کے لئےہم مثال کے طور پر چند مسائل بیان کرتے ہیں۔
یہ معلوم ہے کہ اسلام میں سب سے اہم فرض نماز ہے اور نماز میں حضور مسجد اور شرکت جماعت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ مگر نماز باجماعت کےباب میں جو احکام مردوں کے لئے ہیں ان کے بالکل برعکس احکام عورتوں کےلئے ہیں۔ مردوں کے لئے وہ نماز افضل ہے جو مسجد میں جماعت کے ساتھ ہو اور عورتوں کے لئے وہ نماز افضل ہے جو گھر میں انتہائی خلوت کی حالت میں ہو۔ امام احمد اور طبرانی نے ام حمید ساعدیہ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ :
قالت يا رسول الله اني احب الصلوة معكد قال قد علمت صلوتک فی بیتك خير لك من صلوتك في حجرتك و وصلوتك في حجرتك خير من صلوتك في دارک وصلوتک فی دارک خیر من صلوتك في مسجد قومك وصلواتك في مسجد قومک خیر من صلوتك في مسجد الجمعة
"انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ علی مریم میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں۔ حضور اکرم علیه السلام نے فرمایا مجھے معلوم ہے۔ مگر تیرا ایک گوشے میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تو اپنےحجرے میں نماز پڑھے اور حجرے میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تو اپنے گھر کے دالان میں نماز پڑھے اور تیرا دالان میں نماز پڑھنا اس سےبہتر ہے کہ تو اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھے اور تیرا اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ جامع مسجد میں نماز پڑھے۔ "ا۔
١- عورت کو اس قدر خلوت میں نماز پڑھنے کی ہدایت جس مصلحت سے دی گئی ہے اس کو خود عورتیں زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہیں۔ مہینہ میں چند روز ایسے آتے ہیں جن میں عورت کو مجبورا" نماز ترک کرنی پڑتی ہے اور اس طرح وہ بات ظاہر ہو جاتی ہے جسے کوئی حیا دار عورت اپنے بھائی بہنوں پر بھی ظاہر کرنا پسند نہیں کرتی۔ بہت سی عورتیں اسی شرم کی وجہ سے تارک صلوۃ ہو جاتی ہیں۔ شارع نے اس بات کو محسوس کر کے ہدایت فرمائی کہ چھپ کر خلوت کے ایک گوشہ میں نماز پڑھا کرو تاکہ کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ تم کب نماز پڑھتی ہو اور کب چھوڑ دیتی ہو ۔ مگر یہ صرف ہدایت ہے۔ تاکید اور حکم نہیں ہے۔عورتیں گھر میں اپنی الگ جماعت کر سکتی ہیں اور عورت ان کی امامت کر سکتی ہے۔
اسی سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت جب عورتوں کی جماعت کو نماز پڑھائےتو اسے امام کی طرح صف کے آگے نہیں بلکہ صف کے درمیان کھڑا ہونا چاہئے۔
"عورت کا اپنی کوٹھڑی میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے کمرے میں نماز پڑھے اور اس کا اپنے چور خانہ میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنی کوٹھڑی میں نماز پڑھے۔"
دیکھئےیہاں ترتیب بالکل الٹ گئی ہے۔مرد کے لئے سب سےادنی درجہ کی نماز یہ ہےکہ وہ ایک گوشہ تنہائی میں پڑھے اور سب سےافضل یہ کہ وہ بڑی سےبڑی جماعت میں شریک ہو۔ مگر عورت کےلئے اس کے برعکس انتہائی خلوت کی نماز میں فضیلت ہے،اور اس خفیہ نماز کو نہ صرف نماز باجماعت پر ترجیح دی گئی ہےبلکہ اس نماز سے بھی افضل کیا گیا ہے جس سے بڑھ کر کوئی نعمت مسلمان کے لئے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ یعنی مسجد نبوی کی جماعت، جس کےامام خود امام الانبیاء محمد ﷺ تھے۔آخر اس فرق و امتیاز کی وجہ کیا ہے؟ یہی ناکه شارع نےعورت کےباہر نکلنےکو پسند نہیں کیا اور جماعت میں ذکور و اناث کےخلط ملط ہونےکو روکنا چاہا۔
مگر نماز ایک مقدس عبادت ہے اور مسجد ایک پاک مقام ہے۔ شارع حکیم نے اختلاط صنفین کو روکنے کے لئے اپنے مشاء کا اظہار تو فضیلت اور عدم فضیلت کی تفریق سے کر دیا، مگر ایسے پاکیزہ کام کے لئے ایسی پاک جگہ پر آنے سے عورتوں کو منع نہیں کیا۔ حدیث میں یہ اجازت جن الفاظ کے ساتھ آئی ہے وہ شارع کی بے نظیر حکیمانہ شان پر دلالت کرتے ہیں۔ فرمایا :
”خدا کی لونڈیوں کو خدا کی مسجدوں میں آنے سے منع نہ کرو۔ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اس کو منع نہ کرے۔"
یہ الفاظ خود ظاہر کر رہے ہیں کہ شارع عورتوں کو مسجد میں جانے سےروکتا تو نہیں ہے، کیونکہ مسجد میں نماز کے لئے جانا کوئی برا فعل نہیں جس کو نا جائز قرار دیا جا سکے۔ مگر مصالح اس کے بھی مقتضی نہیں کہ مساجد میں ذکور و اناث کی جماعت مخلوط ہو جائے۔ لہذا ان کو آنے کی اجازت تو دے دی، مگر یہ نہیں فرمایا کہ عورتوں کو مسجدوں میں بھیجو، یا اپنے ساتھ لایا کرو بلکہ صرف یہ کہا کہ اگر وہ افضل نماز کو چھوڑ کر ادنیٰ درجہ کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں آنا ہی چاہیں اور اجازت مانگیں تو منع نہ کرو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو روح اسلام کے بڑے رازدان تھے، شارع کی اس حکمت کو خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ موطا میں مذکور ہے کہ ان کی بیوی عاتکہ بنت زید سے ہمیشہ اس معاملہ میں ان کی کشمکش رہا کرتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہ چاہتے تھے کہ وہ مسجد میں جائیں۔ مگر انہیں جانے پر اصرار تھا۔ وہ اجازت مانگتیں تو آپ ٹھیک ٹھیک حکم نبوی پر عمل کرکے بس خاموش ہو جاتے۔ مطلب یہ تھا کہ ہم تمہیں روکتے نہیں ہیں، مگر صاف صاف اجازت بھی نہ دیں گے۔ وہ بھی اپنی بات کی پکی تھیں۔ کہا کرتی تھیں کہ خدا کی قسم میں جاتی رہوں گی جب تک کہ صاف الفاظ میں منع نہ کریں گے۔" ا۔
حضور مساجد کی اجازت دینے کے ساتھ چند شرائط بھی مقرر کر دی گئیں۔ان میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ دن کے اوقات میں مسجد میں نہ جائیں۔ بلکہ صرف ان نمازوں میں شریک ہوں جو اندھیرے میں پڑھی جاتی ہوں یعنی عشاء اور فجر:
"حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد خاص حضرت نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رات کا تخصیص اس لئے کہ رات کی تاریکی میں اچھی طرح پردہ داری ہو سکتی ہے۔"
"حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صبح کی نماز ایسےوقت پڑھتے تھے کہ جب عورتیں نماز کے بعد اپنی اوڑھنیوں میں لپیٹی ہوئی مسجد سے پلیتیں تو تاریکی کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔"
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ قبیلہ مزینہ کی ایک بہت بنی سنوری ہوئی عورت بڑے ناز و تبختر کےساتھ چلتی ہوئی آئی۔
١- ترندی، باب التفليس في الفجر ۔ اس مضمون کی احادیث بخاری (باب وقت الفجر) مسلم ( باب استحباب التكبير بالصبح فى اول و تنها ) ابوداؤد (باب وقت الصبح) اور دوسری کتب حدیث میں بھی مروی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی کتب حدیث میں موجود ہے کہ نماز پڑھانے کے بعد نبی اکرم ﷺ اور تمام مرد نماز میں بیٹھے رہتے تھے تاکہ عورتیں اٹھ کر چلی جائیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ اور سب لوگ کھڑے ہوتے۔
خوشبو کے متعلق فرمایا کہ جس رات تم کو نماز میں شریک ہونا ہو اس رات کو کسی قسم کا عطر لگا کر نہ آؤ نہ بخور استعمال کرو۔ بالکل سادہ لباس میں آؤ۔ جو عورت خوشبو لگا کر آئے گی اس کی نماز نہ ہو گی۔ ۲۔
تیسری شرط یہ ہے کہ عورتیں جماعت میں مردوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں اور نہ آگے کی صفوں میں آئیں۔ انہیں مردوں کی صفوں کے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ فرمایا کہ :
" مردوں کے لئے بہترین مقام آگے کی صفوں میں ہے اور بدترین مقام پیچھے کی صفوں میں اور عورتوں کے لئے بہترین مقام پیچھے کی صفوں میں ہے اور بد ترین مقام آگے کی صفوں میں۔"
جماعت کے باب میں حضور اکرم ﷺ نے یہ قاعدہ ہی مقرر کر دیا تھا کہ عورت اور مرد پاس پاس کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھیں خواہ وہ شوہر اور بیوی یا ماں اور بیٹا ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میری نانی ملیکہ نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔ کھانے کے بعد آپ می رویم نماز کے لئے اٹھے۔ میں اور یتیم (یہ غالبا"حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بھائی کا نام تھا) حضور اکرم ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ملیکہ رضی اللہ عنہ ہمارے پیچھے کھڑی ہو ئیں۔ ا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ہمارےگھر میں نماز پڑھی۔ میں اور یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہ ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ۲؎
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نماز کے لئے اٹھے۔ میں آپ ﷺ کے پہلو میں کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ ہمارےپیچھے کھڑی ہو ئیں۔ ۳۔
چوتھی شرط یہ ہے کہ عورتیں نماز میں آواز بلند نہ کریں۔ قاعدہ یہ مقرر کیا گیا کہ اگر نماز میں امام کو کسی چیز پر متنبہ کرنا ہو تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں دستک دیں۔ ۴؎
ان تمام حدود و و قیود کے باوجود جب حضرت عمر رضي اللہ عنہ کو جماعت میں ذکور و اناث کے خلط ملط ہونے کا اندیشہ ہوا تو آپ نے مسجد میں عورتوں کے لئے ایک دروازه مختص فرما دیا اور مردوں کو اس دروازہ سے آنے جانے کی ممانعت کر دی۔۵۔
اسلام کا دوسرا اجتماعی فریضہ حج ہے۔ یہ مردوں کی طرح عورتوں پر بھی فرض ہے۔ مگر حتی الامکان عورتوں کو طواف کے موقع پر مردوں کے ساتھ خلط خط ہونے سے روکا گیا ہے۔
فتح الباری میں ابراہیم نھی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے طواف میں عورتوں اور مردوں کو گڈمڈ ہونے سے روک دیا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مرد کو آپ نے عورتوں کے مجمع میں دیکھا تو پکڑ کر کوڑے لگائے۔۲؎
موطا میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر بن عمر رضي اللہ عنہ اپنے بال بچوں کو مزدلفہ سےمنی آگے روانہ کر دیا کرتے تھے ، تاکہ لوگوں کے آنے سے پہلے صبح کی نماز اور رمی سے فارغ ہو جائیں۔
نیز حضرت ابوبکر رضي اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء صبح اندھیرے منه منی تشریف لے جاتی تھیں کہ نبی اکرم ﷺ کے عہد میں عورتوں کے لئے یہی دستور تھا۔۳۔
جمعہ و عیدین کے اجتماعات اسلام میں جیسی اہمیت رکھتے ہیں محتاج بیان نہیں۔ ان کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر شارع نےخاص طور پران اجتماعات کےلئےوہ شرط اڑا دی جو عام نمازوں کے لئے تھی، یعنی یہ کہ دن میں شریک جماعت نہ ہوں۔ اگرچہ جمعہ کے متعلق یہ تصریح ہے کہ عورتیں فرضیت جمعہ سے مستثنیٰ ہیں (ابوداؤد باب الجمعہ للملوک) اور عیدین میں بھی عورتوں کی شرکت ضروری نہیں، لیکن اگر وہ چاہیں تو نماز باجماعت کی دوسری شرائط کی پابندی کرتے ہوئے ان جماعتوں میں شریک ہو سکتی ہیں۔ حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی خواتین کو عیدین میں لے جاتے تھے۔
"ام عطيه قالت ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم كان يخرج الابكار والعواتق وزوات الخدور والحيض في العيدين فاما الحيض فيعتزلن المصلى ويشهدن دعوة المسلمین۔ (ترندی، باب خروج النساء في العيدين)
"ام عطیہ کی روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کنواری اور جوان لڑکیوں اور گھر گرہستنوں اور ایام والی عورتوں کو عیدین میں لےجاتے تھے۔ جو عورتیں نماز کے قابل نہ ہوتیں وہ جماعت سے الگ رہتیں اور دعا میں شریک ہو جاتی تھیں۔"
مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا شریعت میں فرض کفایہ قرار دیا گیاہے اور اس کے متعلق جو تاکیدی احکام ہیں، واقف کاروں سے پوشیدہ نہیں۔ مگر یہ سب مردوں کے لئے ہیں۔ عورتوں کو شرکت جنازات سے منع کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس ممانعت میں سختی نہیں ہے اور کبھی کبھی اجازت بھی دی گئی ہے۔ لیکن شارع کے ارشادات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا جنازوں میں جانا کراہت سے خالی نہیں۔ بخاری میں ام عطیہ کی حدیث ہے کہ :
مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا شریعت میں فرض کفایہ قرار دیا گیاہے اور اس کے متعلق جو تاکیدی احکام ہیں، واقف کاروں سے پوشیدہ نہیں۔ مگر یہ سب مردوں کے لئے ہیں۔ عورتوں کو شرکت جنازات سے منع کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس ممانعت میں سختی نہیں ہے اور کبھی کبھی اجازت بھی دی گئی ہے۔ لیکن شارع کے ارشادات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا جنازوں میں جانا کراہت سے خالی نہیں۔ بخاری میں ام عطیہ کی حدیث ہے کہ :
ابن ماجہ اور نسائی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ ایک عورت نظر آئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹا۔ حضور اکرم ﷺ نےفرمایا: یا عمر دعها (اے عمر رضی اللہ عنہ اسےچھوڑ دے)
معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت میت کی کوئی عزیز قریب ہو گی۔ شدت غم سے مجبور ہو کر ساتھ چلی آئی ہو گی۔ حضور اکرم ﷺ نے اس کے جذبات کی رعایت کر کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ڈانٹ ڈپٹ سے منع فرما دیا۔
ایسی ہی صورت زیارت قبور کی بھی ہے۔ عورتیں رقیق القلب ہوتی ہیں۔ اپنے مردہ عزیزوں کی یاد ان کے دلوں میں زیادہ گہری ہوتی ہے۔ ان کے جذبات کو بالکل پامال کر دینا شارع نے پسند نہ فرمایا۔ مگر یہ صاف کہہ دیا کہ عورتوں کا کثرت سے قبروں پر جانا ممنوع ہے۔
انس رضی اللہ عنہ بن مالک کی روایت ہے کہ نبی اکرم سلیم نے ایک عورت کو قبر کے پاس بیٹھے روتے دیکھا تو اسے منع نہ فرمایا بلکہ صرف اتقى الله واصبری فرمادیا ۔ ا
ان احکام پر غور کیجئے۔ نماز ایک مقدس عبادت ہے۔ مسجد ایک پاک مقام ہے۔ حج میں انسان انتہائی پاکیزہ خیالات کے ساتھ خدا کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ جنازوں اور قبروں کی حاضری میں ہر شخص کے سامنے موت کا تصور ہوتا ہے اور غم و الم کے بادل چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ سب مواقع ایسے ہیں جن میں صنفی جذبات یا تو بالکل مفقود ہوتے ہیں یا رہتے ہیں تو دوسرے پاکیزہ تر جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں مگر اس کے باوجود شارع نے ایسے اجتماعات میں بھی مردوں اور عورتوں کی سوسائٹی کا مخلوط ہونا پسند نہ کیا۔ مواقع کی پاکیزگی مقاصد کی طہارت اور عورتوں کے جذبات کی رعایت ملحوظ رکھ کر انہیں گھر سے نکلنے کی اجازت تو دے دی۔ بعض مواقع پر خود بھی ساتھ لے گئے۔ لیکن حجاب کی اتنی قیود لگا دیں کہ فتنے کے ادنی احتمالات بھی باقی نہ رہیں۔ پھر حج کے سوا تمام دوسرے امور کے متعلق فرما دیا کہ ان میں عورتوں کا شریک نہ ہونا زیادہ بہتر ہے۔
جس قانون کا یہ رجحان ہو کیا اس سے آپ توقع رکھتے ہیں کہ وہ مدرسوں اور کالجوں میں، دفتروں اور کارگاہوں میں، پارکوں اور تفریح گاہوں میں،تھیٹروں اور سینماؤں میں، قہوہ خانوں اور رقص گاہوں میں اختلاط صنفین کو جائز رکھے گا؟
مسلمان جنگ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام مصیبت کا وقت ہے۔حالات مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کی پوری اجتماعی قوت دفاع میں صرف کر دی جائے۔ایسی حالت میں اسلام قوم کی خواتین کو عام اجازت دیتا ہے کہ وہ جنگی خدمات میں حصہ لیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اس کے پیش نظر ہے کہ جو ماں بننے کے لئے بنائی گئی ہے وہ سر کاٹنے اور خون بہانے کے لئے نہیں بنائی گئی۔اس کے ہاتھ میں تیر و خنجر دینا اس کی فطرت کو مسخ کرنا ہے۔ اس لئے وہ عورتوں کو اپنی جان اور آبرو کی حفاظت کے لئے تو ہتھیار اٹھانے کی اجازت دیتا ہے مگر بالعموم عورتوں سے . مصافی خدمات لینا اور انہیں فوجوں میں بھرتی کرنا اس کی پالیسی سے خارج ہے۔ وہ جنگ میں ان سے صرف یہ خدمت لیتا ہے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں ، پیاسوں کو پانی پلائیں، سپاہیوں کے لئے کھانا پکائیں اور مجاہدین کے پیچھے کیمپ کی حفاظت کریں۔ ان کاموں کے لئے پردے کی حد انتہائی کم کر دی گئی ہیں، بلکہ ان خدمات کے لئے تھوڑی ترمیم کے ساتھ وہی لباس پہننا شرعا" جائز ہے جو آج کل عیسائی نہیں پہنتی ہیں۔
تمام احادیث سے ثابت ہے کہ جنگ میں ازواج مطہرات اور خواتین اسلام آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جاتیں اور مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کی خدمات انجام دیتی تھیں۔ یہ طریقہ احکام حجاب نازل ہونے کے بعد بھی جاری رہا۔ ا۔
جنگ احد کے موقع پر جب مجاہدین اسلام کے پاؤں اکھڑ گئے تھے۔ حضرت عائشہ اور ام رضی اللہ عنہم سلیم اپنی پیٹھ پر پانی کے مشکیزے لاد لاد کر لاتی تھیں اور لڑنے والوں کو پانی پلاتی تھیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس حال میں میں نے ان کو پائنچے اٹھائے دوڑ دوڑ کر آتے جاتے دیکھا ان کی پنڈلیوں کا نچلا حصہ کھلا ہوا تھا۔۲؎
اسی جنگ میں ربیع بنت معوذ اور ان کے ساتھ خواتین کی ایک جماعت زخمیوں کی مرہم پٹی میں مشغول تھی اور یہی عورتیں مجرو ہین کو اٹھا اٹھا کر مدینے لے جا رہی تھیں۔۳۔
حضور اکرم ﷺ نے پوچھا یہ کس لئے ہے؟ کہنے لگیں کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔۴؎
ام عطیہ سات لڑائیوں میں شریک ہوئیں۔ کیمپ کی حفاظت، سپاہیوں کے لئے کھانا پکانا، زخمیوں اور بیماروں کی تیمار داری کرنا ان کے سپرد تھا۔۵۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جو خواتین اس قسم کی جنگی خدمات انجام دیتی تھیں ان کو اموال غنیمت میں سے انعام دیا جاتا تھا۔ اے
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی پردہ کی نوعیت کسی جاہلی رسم کی سی نہیں ہے جس میں مصالح اور ضرورت کے لحاظ سے کمی بیشی نہ ہو سکتی ہو۔جہاں حقیقی ضروریات پیش آجائیں وہاں اس کے حدود کم بھی ہو سکتے ہیں، نہ صرف چہرہ اور ہاتھ کھولے جا سکتے ہیں، بلکہ جن اعضاء کو ستر عورت میں داخل کیا گیا ہے ان کے بھی بعض حصے اگر حسب ضرورت کھل جائیں تو مضائقہ نہیں لیکن جب ضرورت رفع ہو جائے تو حجاب کو پھر انہی حدود پر قائم ہو جانا چاہئے جو عام حالات کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ جس طرح یہ پردہ جاہلی پر وہ نہیں ہے، اسی طرح اس کی تخفیف بھی جاہلی آزادی کے مانند نہیں۔ مسلمان عورت کا حال یورپین عورت کی طرح نہیں ہے کہ جب وہ ضروریات جنگ کے لئے اپنی سے باہر نکلی تو اس نے جنگ ختم ہونے کے بعد اپنی حدود میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔
| کتاب | پرده |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |