پرده

عورت مختلف ادوار میں

یہاں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ تاریخ سے اس کی مثالیں زیادہ تفصیل کے ساتھ دی جا سکیں مگر توضیح مدعا کے لئے دو چار مثالیں ناگزیر ہیں۔

یونان اقوام قدیمہ میں سےجس قوم کی تہذیب سب سےزیادہ شاندار نظر آتی ہےوہ اہل یونان ہیں۔اس قوم کے ابتدائی دور میں اخلاقی نظریہ قانونی حقوق اور معاشرتی برتاؤ ہر اعتبار سےعورت کی حیثیت بہت گری ہوئی تھی۔ یونانی - خرافیات (Mythology) میں ایک خیالی عورت پانڈورا (Pandora) کو ای طرح تمام انسانی مصائب کا موجب قرار دیا گیا تھا جس طرح یہودی خرافیات میں حضرت حوا علیہا السلام کو قرار دیا گیا ہے۔ حضرت حوا کےمتعلق اس غلط افسانے کی شہرت نے عورت کے بارے میں یہودی اور مسیحی اقوام کے روئیے پر جو زبردست اثر ڈالا ہےاور قانون،معاشرت، اخلاق،ہر چیز کو جس طرح متاثر کیا ہے وہ کسی سےپوشیدہ نہیں ہے۔قریب قریب ایسا ہی اثر پانڈورا کے تو ہم کا یونانی ذہن پر بھی ہوا تھا ان کی نگاہ میں عورت ایک ادنی درجہ کی مخلوق تھی۔ معاشرت کے ہر پہلو میں اس کا مرتبہ گرا ہوا رکھا گیا تھا اور عزت کا مقام مرد کے لئے مخصوص تھا۔ تمدنی ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں یہ طرز عمل تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ برقرار رہا۔ تہذیب اور علم کی روشنی کا صرف اتنا اثر ہوا کہ عورت کا قانونی مرتبہ تو جوں کا توں رہا۔ البتہ معاشرت میں اس کو نسبتا" ایک بلند تر حیثیت دے دی گئی۔ وہ یونانی گھر کی ملکہ تھی۔ اس کے فرائض کا دائرہ گھر تک محدود تھا۔ اور ان حدود میں وہ پوری طرح با اقتدار تھی۔ اس کی عصمت ایک قیمتی چیز تھی جس کو قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ شریف یونانیوں کے ہاں پردے کا رواج تھا۔ ان کے گھروں میں زنان خانے مردان خانوں سے الگ ہوتے تھے۔ ان کی عورتیں مخلوط محفلوں میں شریک نہ ہوتی تھیں۔ نہ منظر عام پر نمایاں کی جاتی تھیں۔ نکاح کے ذریعہ سے کسی ایک مرد کے ساتھ وابستہ ہونا عورت کے لئے شرافت کا مرتبہ تھا اور اس کی عزت تھی اور بیسوا بن کر رہنا اس کے لئے ذلت کا موجب سمجھا جاتا تھا۔ یہ اس زمانہ کا حال تھا جب یونانی قوم خوب طاقتور تھی اور پورے زور کے ساتھ عروج و ترقی کی طرف جا رہی تھی۔ اس دور میں اخلاقی خرابیاں ضرور موجود تھیں مگر ایک حد کے اندر تھیں۔ یونانی عورتوں سے اخلاق کی جس پاکیزگی اور طہارت و عصمت کا مطالبہ کیا جاتا تھا اس سے مرد مستثنیٰ تھے۔ ان سے نہ اس کا مطالبہ تھا اور نہ اخلاقا" کسی مرد سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ پاک زندگی بسر کرے گا۔ بیسوا طبقہ یونانی معاشرت کا ایک غیر منفک جزو تھا، اور اس طبقہ سے تعلق رکھنا مردوں کے لئے کسی طرح معیوب نہ سمجھا جاتا تھا۔

رفتہ رفتہ اہل یونان پر نفس پرستی اور شہوانیت کا غلبہ شروع ہوا اور اس دور میں بیسوا طبقہ کو وہ عروج نصیب ہوا جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ رنڈی کا کوٹھا یونانی سوسائٹی کے ادنی سے لے کر اعلی طبقوں تک ہر ایک کا مرکز و مرجع بنا ہوا تھا۔ فلاسفہ ، شعراء ، مورخین ، اہل ادب اور ماہرین فتون غرض تمام سیارے اس آفتاب کے گرد گھومتے تھے۔ وہ نہ صرف علم و ادب کی محفلوں میں صدر نشین تھی، بلکہ بڑے بڑے سیاسی معاملات بھی اس کے حضور میں طے ہوتے تھے۔ قوم کی زندگی و موت کا فیصلہ جن مسائل کے ساتھ وابستہ تھا ان میں اس عورت کی رائے وقیع سمجھی جاتی تھی جس کی دو راتیں بھی کسی ایک شخص کے ساتھ وفاداری میں بسر نہ ہوتی تھیں۔ یونانیوں کے ذوق جمال اور حسن پرستی نے ان کے اندر شہوانیت کی آگ کو اور زیادہ بھڑکایا۔ وہ اپنے اس ذوق کا اظہار جن مجسموں (یا آرٹ کے عریاں نمونوں) میں کرتے تھے وہی ان کی شہوانیت کو اور زیادہ ہوا دیتے چلے جاتے تھے ، یہاں تک کہ ان کے ذہن سے یہ تصور ہی محو ہو گیا تھا کہ شہوت پرستی بھی کوئی اخلاقی عیب ہے۔ ان کا معیار اخلاق اتنا بدل گیا تھا کہ بڑے بڑے فلاسفہ اور معلمین اخلاق بھی زنا اور فحش میں کوئی قباحت اور کوئی چیز قابل ملامت نہ پاتے تھے۔ عام طور پر یونانی لوگ نکاح کو ایک غیر ضروری رسم سمجھنے لگے تھے اور نکاح کے بغیر عورت اور مرد کا تعلق بالکل معقول سمجھا جاتا تھا جس کو کسی سے چھپانے کی ضرورت نہ تھی۔ آخر کار ان کے مذہب نے بھی ان کی حیوانی خواہشات کے آگے سپر ڈال دی۔ ”کام دیوی (Aphrodite) کی پرستش تمام یونان میں پھیل گئی۔ جس کی داستان ان کے خرافیات میں یہ تھی کہ ایک دیوتا کی بیوی ہوتے ہوئے اس نے تین مزید دیوتاؤں سے آشنائی کر رکھی تھی، اور ان کے ماسوا ایک فانی انسان کو بھی اس کی جناب میں سرفرازی کا فخر حاصل تھا۔ اس کے بطن سے محبت کا دیوتا کیوپڈ پیدا ہوا جو ان دیوی صاحبہ اور ان کے غیر قانونی دوست کی باہمی لگاوٹ کا نتیجہ تھا۔ یہ اس قوم کی معبودہ تھی، اور اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جو قوم ایسے کریکٹر کو نہ صرف مثال (آئیڈیل) بلکہ معبودیت تک کا درجہ دے دے اس کے معیار اخلاق کی پستی کا کیا عالم ہو گا۔ یہ اخلاقی انحطاط کا وہ مرتبہ ہے جس میں گرنے کے بعد کوئی قوم پھر کبھی نہ ابھر سکی۔ ہندوستان میں بام مارگ اور ایران میں مزوکیت کا ظہور ایسے ہی انحطاط کے دور میں ہوا۔ بابل میں بھی مجتبہ گری کو مذہبی تقدس کا درجہ ایسے ہی حالات میں حاصل ہوا جس کے بعد پھر دنیا نے کبھی بائل کا نام افسانہ ماضی کے سوا کسی دوسری حیثیت سے نہ سنا۔ یونان میں جب کام دیوی کی پرستش شروع ہوئی تو قحبہ خانہ عبادت گاہ میں تبدیل ہو گیا، فاحشہ عورتیں دیوداسیاں بن گئیں اور زنا ترقی کر کے ایک مقدس مذہبی فعل کے مرتبے تک پہنچ گیا۔

اسی شهوت پرستی کا ایک دوسرا مظہر یہ تھا کہ یونانی قوم میں عمل قوم لوط ایک وبا کی طرح پھیلا اور مذہب و اخلاق نے اس کا بھی خیر مقدم کیا۔ ہومر اور ہیلوڈ کے عہد میں اس فعل کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ مگر تمدن کی ترقی نے جب آرٹ اور ذوق جمال (Aesthetics) کے مہذب ناموں سے عریانی اور لذات نفس کی بندگی کو سراہنا شروع کیا تو شہوانی جذبات کا اشتعال بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گیا کہ فطرت کے راستہ سے تجاوز کر کے یونانیوں کو خلاف وضع فطرت میں تسکین کی جستجو کرنی پڑی۔ آرٹ کے ماہروں نے اس جذبہ کو مجسموں میں نمایاں کیا۔ معلمین اخلاق نے اس کو دو شخصوں کے درمیان ”دوستی کا مضبوط رشتہ" قرار دیا۔ ۔ سب سے پہلے دو یونانی انسان جو اس قدر کے مستحق سمجھے گئے کہ ان کے اہل وطن ان کے مجسمے بنا کر ان کی یاد تازہ رکھیں وہ ہر موڈلیس اور ارسٹو گیٹن تھے جن کے درمیان غیر فطری محبت کا تعلق تھا۔


روم یونانیوں کے بعد جس قوم کو دنیا میں عروج نصیب ہوا وہ اہل روم تھے۔ یہاں پھر وہی اتار چڑھاؤ کا مرقع ہمارے سامنے آتا ہے جو اوپر آپ دیکھ چکے ہیں۔ رومی لوگ وحشت کی تاریکی نکل کر جب تاریخ کے روشن منظر پر نمودار ہوتے ہیں تو ان کے نظام معاشرت کا نقشہ یہ ہوتا ہے کہ مرد اپنے خاندان کا سردار ہے۔ اس کو اپنے بیوی بچوں پر پورے حقوق مالکانہ حاصل ہیں۔ بلکہ بعض حالات میں وہ بیوی کو قتل کر دینے کا بھی مجاز ہے۔

جب وحشت کم ہوئی اور تمدن و تہذیب میں رومیوں کا قدم آگے بڑھا تو اگرچه قدیم خاندانی نظام بدستور قائم رہا مگر عملاً اس کی سختیوں میں کچھ کمی واقع ہوئی اور ایک حد تک اعتدالی حالت پیدا ہوتی گئی۔ رومی جمہوریت کے زمانہ عروج میں یونان کی طرح پردے کا رواج تو نہ تھا، مگر عورت اور جوان نسل کو خاندانی نظام میں کس کر رکھا گیا تھا۔ عصمت و عفت، خصوصا عورت کے معاملہ میں ایک قیمتی چیز تھی اور اس کو معیار شرافت سمجھا جاتا تھا۔ اخلاق کا معیار کافی بلند تھا۔ ایک مرتبہ رومی سینٹ کے ایک ممبر نے اپنی بیٹی کے سامنے اپنی بیوی کا بوسہ لیا تو اس کو قومی اخلاق کی سخت توہین سمجھا گیا اور سینٹ میں اس پر ملامت کا ووٹ پاس کیا گیا۔ عورت اور مرد کے تعلق کی جائز اور شریفانہ صورت نکاح کے سوا کوئی نہ تھی۔ ایک عورت اس وقت عزت کی مستحق ہو سکتی تھی جب کہ وہ ایک خاندان کی ماں (Martron) ہو۔ بیسوا طبقہ اگرچہ موجود تھا اور مردوں کو ایک حد تک اس طبقہ سے ربط رکھنے کی آزادی بھی تھی، مگر عام رومیوں کی نگاہ میں اس کی حیثیت نہایت ذلیل تھی اور اس سے تعلق رکھنے والے مردوں کو بھی اچھی نظر سے نہ دیکھا جاتا تھا۔

تهذیب و تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اہل روم کا نظریہ عورت کے بارے میں بدلتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ نکاح و طلاق کے قوانین اور خاندانی نظام کی ترکیب میں اتنا تغیر رونما ہوا کہ صورت حال سابق حالات کے بالکل برعکس ہو گئی۔ نکاح محض ایک قانونی معاہدہ (Civil Contract) بن کر رہ گیا جس کا قیام و بقا فریقین کی رضا مندی پر منحصر تھا۔ ازدواجی تعلق کی ذمہ داریوں کو بہت ہلکا سمجھا جانے لگا۔ عورت کو وراثت اور ملکیت مال کے پورے حقوق دے دیے گئے۔ اور قانون نے اس کو باپ اور شوہر کے اقتدار سے بالکل آزاد کر دیا۔ رومی عورتیں معاشی حیثیت سے نہ صرف خود مختار ہو گئیں بلکہ قومی دولت کا ایک بڑا حصہ بتدریج ان کے حیطئہ اختیار میں چلا گیا۔ وہ اپنے شوہروں کو بھاری شرح سود پر قرض دیتی تھیں، اور مالدار عورتوں کے شوہر عملاً ان کے غلام بن کر رہ جاتے تھے۔ طلاق کی آسانیاں اس قدر بڑھیں کہ بات بات پر ازدواج کا رشتہ توڑا جانے لگا۔ مشہور رومی فلسفی و مدبر سنيكا ( 4 ق۔ م تا 65) سختی کے ساتھ رومیوں کی کثرت طلاق پر ماتم کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”اب روم میں طلاق کوئی بڑی شرم کے قابل چیز نہیں رہی، عورتیں اپنی عمر کا حساب شوہروں کی تعداد سے لگاتی ہیں"۔ اس دور میں عورت یکے بعد دیگرے کئی کئی شادیاں کرتی جاتی تھی۔ مارشل (43ء تا 104ء) ایک عورت کا ذکر کرتا ہے جو دس خاوند کر چکی تھی۔ جو دنیل (60ء تا 130ء) ایک عورت کے متعلق لکھتا ہے کہ اس نے پانچ سال میں آٹھ شوہر بدلے۔ سینٹ جروم (340ء تا 420ء) ان سب سے زیادہ ایک باکمال عورت کا حال لکھتا ہے جس نے آخری بار تیسواں شوہر کیا تھا اور اپنے شوہر کی بھی وہ اکیسویں بیوئی تھی۔

اس دور میں عورت اور مرد کے غیر نکاحی تعلق کو معیوب سمجھنے کا خیال بھی دلوں سے نکلتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے معلمین اخلاق بھی زنا کو ایک معمولی چیز سمجھنے لگے۔ کاٹو (Cato) جس کو 184ء ق۔م میں روم کا محتسب اخلاق مقرر کیا گیا تھا صریح طور پر جوانی کی آوارگی کو حق بجانب ٹھراتا ہے۔ سرو جیسا شخص نو نوجوانوں کے لیے اخلاق کے بند ڈھیلے کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ حتی کہ ا پلیٹیٹس (Epictetus) جو فلاسفہ رو قیئن (Stoics) میں بہت ہی سخت اخلاقی اصول رکھنے والا سمجھا جاتا تھا، اپنے شاگردوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ”جہاں تک ہو سکے شادی سے پہلے عورت کی صحبت سے اجتناب کرو۔ مگر جو اس معاملہ میں ضبط نہ رکھ سکیں انھیں ملامت بھی نہ کرو"۔

اخلاق اور معاشرت کے بند جب اتنے ڈھیلے ہو گئے تو روم میں شہوانیت، عریانی اور فواحش کا سیلاب پھوٹ پڑا۔ تھیٹروں میں بے حیائی و عریانی کے مظاہرے ہونے لگے۔ ننگی اور نہایت فحش تصویریں ہر گھر کی زینت کے لیے ضروری ہو گئیں۔ مجتبہ گری کے کاروبار کو وہ فروغ نصیب ہوا کہ قیصر ٹائیرکس (14ء تا 37ء) کے عہد میں معزز خاندانوں کی عورتوں کو پیشہ ور طوائف بننے سے روکنے کے لیے ایک قانون نافذ کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔ فلورا (Flora) نامی ایک کھیل رومیوں میں نہایت مقبول ہوا کیونکہ اس میں برہنہ عورتوں کی دوڑ ہوا کرتی تھی۔ عورتوں اور مردوں کے بر سر عام یکجا غسل کرنے کا رواج بھی اس دور میں عام تھا۔ رومی لٹریچر میں فحش اور عریاں مضامین بے تکلف بیان کیے جاتے تھے اور عوام و خواص میں وہی ادب مقبول ہو تا تھا جس میں استعارہ و کنایہ تک کا پردہ نہ رکھا گیا ہو۔بہیمی خواہشات سے اس قدر مغلوب ہو جانے کے بعد روم کا قصر عن ایسا پیوند خاک ہوا کہ پھر اس کی ایک اینٹ بھی اپنی جگہ پر قائم نہ رہی۔

مسیحی یورپ مغربی دنیا کے اس اخلاقی انحطاط کا علاج کرنے کے لیے مسیحیت پہنچی اور اول اول اس نے بڑی اچھی خدمات انجام دیں۔ فواحش کا انسداد کیا۔ عریانی کو زندگی کے ہر شعبے سے نکالا۔ مجتبہ گری کو بند کرنے کی تدبیریں کیں۔ طوائف اور مغنیہ اور رقاصہ عورتوں کو ان کے پیشہ سے توبہ کرائی۔ اور پاکیزہ اخلاقی تصورات لوگوں میں پیدا کیے۔ مگر عورت اور صنفی تعلقات کے بارے میں آبائے مسیحین جو نظریات رکھتے تھے وہ انتہا پسندی کی بھی انتہا تھے، اور ساتھ ہی فطرت انسانی کے خلاف اعلان جنگ بھی۔

ان کا ابتدائی اور بنیادی نظریہ یہ تھا کہ عورت گناہ کی ماں اور بدی کی جڑ ہے۔ مرد کے لئے معصیت کی تحریک کا سرچشمہ اور جہنم کا دروازہ ہے۔ تمام انسانی مصائب کا آغاز اسی سے ہوا ہے۔ اس کا عورت ہونا ہی اس کے شرمناک ہونے کے لیے کافی ہے۔ اس کو اپنے حسن و جمال پر شرمانا چاہئے کیونکہ وہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس کو دائما" کفارہ ادا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ وہ دنیا اور دنیا والوں پر لعنت اور مصیبت لائی ہے۔

تر تولیاں (Tertullian) جو ابتدائی دور کے ائمہ مسیحیت میں سے تھا عورت کے متعلق مسیحی تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کرتا ہے:

”وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کی تصویر مرد کو غارت کرنے والی ہے"۔



ان کا دوسرا نظریہ یہ تھا کہ عورت اور مرد کا صنفی تعلق بجائے خود ایک نجاست اور قابل اعتراض چیز ہے ، خواہ وہ نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔ اخلاق کا یہ راہبانہ تصور پہلے سے اشراقی فلسفہ (Neo-Platonism) کے زیر اثر مغرب میں جڑ پکڑ رہا تھا۔ مسیحیت نے آکر اسے حد کو پہنچا دیا۔ اب تجرد اور دوشیزگی معیار اخلاق قرار پائی اور قابل کی زندگی اخلاقی اعتبار سے پست اور ذلیل سمجھی جانے لگی۔ لوگ ازدواج سے پرہیز کرنے کو تقویٰ اور تقدس اور بلندی اخلاق کی علامت سمجھنے لگے۔ پاک مذہبی زندگی بسر کرنے کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ یا تو آدمی نکاح ہی نہ کرے ، یا اگر نکاح کر لیا ہو تو میاں اور بیوی ایک دوسرے سے زن و شوہر کا تعلق نہ رکھیں۔ متعدد مذہبی مجلسوں میں یہ قوانین مقرر کیے گئے کہ چرچ کے عہدہ دار تخلیہ میں اپنی بیویوں سے نہ ملیں۔ میاں اور بیوی کی ملاقات ہمیشہ کھلی جگہ میں ہو اور کم از کم دو غیر آدمی موجود ہوں۔ ازدواجی تعلق کے نجس ہونے کا تخیل طرح طرح سے مسیحیوں کے دل میں بٹھایا جاتا تھا۔ مثلاً ایک قاعدہ یہ تھا کہ جس روز چرچ کا کوئی تہوار ہو اس سے پہلے کی رات جس میاں بیوی نے یکجا گزاری ہو وہ تہوار میں شریک نہیں ہو سکتے۔ گویا انہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے جس سے آلودہ ہونے کے بعد وہ کسی مقدس مذہبی کام میں " لینے کے قابل نہیں رہے۔ اس راہبانہ تصور نے تمام خاندانی علائق، حتی کہ ماں اور بیٹے تک کے تعلق میں تلخی پیدا کر دی اور ہر وہ رشتہ گندگی اور گناہ بن کر رہ گیا جو نکاح کا نتیجہ ہو۔

ان دونوں نظریات نے نہ صرف اخلاق اور معاشرت میں عورت کی حیثیت حد سے زیادہ گرا دی بلکہ تمدنی قوانین کو بھی اس درجہ متاثر کیا کہ ایک طرف ازدواجی زندگی مردوں اور عورتوں کے لیے مصیبت بن کر رہ گئی اور دوسری طرف سوسائٹی میں عورت کا مرتبہ ہر حیثیت سے پست ہو گیا۔ مسیحی شریعت کے زیر اثر جتنے قوانین مغربی دنیا میں جاری ہوئے ان سب کی خصوصیات یہ تھیں:

1۔ معاشی حیثیت سے عورت کو بالکل بے بس کر کے مردوں کے قابو میں دے دیا گیا۔ وراثت میں اس کے حقوق نہایت محدود تھے اور ملکیت میں اس سے بھی زیادہ محدود۔ وہ خود اپنی محنت کی کمائی پر بھی اختیار نہ رکھتی تھی بلکہ اس کی ہر چیز کا مالک اس کا شوہر تھا۔

2- طلاق اور خلع کی سرے سے اجازت ہی نہ تھی۔ زوجین میں خواہ کتنی ہی ناموافقت ہو، باہمی تعلقات کی خرابی سے خواہ گھر نمونہ جہنم بن گیا ہو، مذہب اور قانون دونوں ان کو زبردستی ایک دوسرے کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور کرتے تھے۔ بعض انتہائی شدید حالات میں زیادہ سے زیادہ جو تدارک ممکن تھا وہ صرف یہ تھا کہ زوجین میں تفریق (Separation) کرا دی جائے۔ یعنی وہ ایک دو سرے سے بس الگ کر دیئے جائیں۔ الگ ہو کر نکاح ثانی کرنے کا حق نہ عورت کو تھا نہ مرد کو۔ در حقیقت یہ تدارک پہلی تصورت سے بھی بدتر تھا کیونکہ اس کے بعد ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ یا تو وہ دونوں راہب اور راہبہ بن جائیں ، یا پھر تمام عمر بد کاری کرتے رہیں۔

3۔ شوہر کے مرنے کی صورت میں بیوی کے لیے اور بیوی کے مرنے کی صورت میں شوہر کے لیے نکاح ثانی کرنا سخت معیوب بلکہ گناہ قرار دیا گیا تھا۔ مسیحی علماء کہتے تھے کہ یہ محض حیوانی خواہشات کی بندگی اور ہوس رانی ہے۔ ان کی زبان میں اس فعل کا نام ” مہذب زناکاری" تھا۔ چرچ کے قانون میں مذہبی عہدہ داروں کے لیے نکاح ثانی کرنا جرم تھا۔ عام ملکی قوانین میں بعض جگہ اس کی سرے سے اجازت ہی نہ تھی اور جہاں قانون اجازت دیتا تھا وہاں بھی رائے عام جو مذہبی تصورات کے زیر اثر تھی اس کو جائز نہ رکھتی تھی۔

جدید یورپ اٹھارویں صدی عیسوی میں یورپ کے فلاسفہ اور اہل قلم نے جب سوسائٹی کے خلاف فرد کے حقوق کی حمایت میں آواز اٹھائی اور شخصی آزادی کا صور پھونکا تو ان کے سامنے وہی غلط نظام تمدن تھا جو مسیحی نظام اخلاق و فلسفہ زندگی اور نظام جاگیرداری (Feudal System) کے منحوس اتحاد سے پیدا ہوا تھا اور جس نے انسانی روح کو غیر فطری زنجیروں میں جکڑ کر ترقی کے سارے دروازے بند کر رکھے تھے۔ اس نظام کو توڑ کر ایک نیا نظام بنانے کے لیے جو نظریات جدید یورپ کے معماروں نے پیش کیے اس کے نتیجے میں انقلاب فرانس رونما ہوا اور اس کے بعد مغربی تہذیب و تمدن کی رفتار ترقی ان راستوں پر لگ گئی جن پر بڑھتے بڑھتے وہ آج کی منزل پر پہنچی ہے۔

اس دور جدید کے آغاز میں صنف اناث کو پستی سے اٹھانے کے لیے جو کچھ کیا گیا۔ اجتماعی زندگی پر اس کے خوشگوار نتائج مرتب ہوئے۔ نکاح و طلاق کے پچھلے قوانین کی سختی کم کی گئی۔ عورتوں کے معاشی حقوق، جو بالکل سلب کر لیے گئے تھے، بڑی حد تک انہیں واپس دیے گئے۔ ان اخلاقی نظریات کی اصلاح کی گئی جن کی بنا پر عورت کو ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا۔ معاشرت کے ان اصولوں میں ترمیم کر دی گئی جن کی وجہ سے عورت فی الواقع لونڈی بن کر رہ گئی تھی۔ اعلیٰ درجہ کی تعلیم و تربیت کے دروازے مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی کھولے گئے۔ ان مختلف تدابیر سے رفتہ رفتہ عورتوں کی وہ قابلیتیں جو غلط قوانین معاشرت اور جاہلانہ اخلاقی تصورات کے بھاری بوجھوں تلے دبی ہوئی تھیں ابھر آئیں۔ انہوں نے گھروں کو سنوارا ۔ معاشرت میں نفاست پیدا کی۔ رفاہ عامہ کے بہت سے مفید کام کیے۔ صحت عامہ کی ترقی، نئی نسلوں کی عمدہ تربیت، بیماروں کی خدمت اور فنون خانہ داری کا نشوونما یہ سب کچھ اس بیداری کے ابتدائی پھل تھے جو تہذیب نو کی بدولت عورتوں میں رونما ہوئی لیکن جن نظریات کے بطن . سے یہ نئی تحریک اٹھی تھی ان میں ابتداء ہی سے افراط کا میلان موجود تھا۔ انیسویں صدی میں اس میلان نے بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی اور بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے مغربی معاشرت بے اعتدالی کی دوسری انتہا پر پہنچ گئی۔

نئی مغربی معاشرت کے تین ستون

یہ نظریات جن پر نئی مغربی معاشرت کی بنا رکھی گئی ہے، تین عنوانوں کے تحت آتے ہیں: (1) عورتوں اور مردوں کی مساوات۔ (2) عورتوں کا معاشی استقلال (Economic Independence) (۳) دونوں صنفوں کا آزادانہ اختلاط۔

ان تین بنیادوں پر معاشرت کی تعمیر کرنے کا جو نتیجہ ہونا چاہئے تھا بالاخر وہی ظاہر ہوا۔

(1) مساوات کے معنی یہ سمجھ لیے گئے کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقی مرتبہ اور انسانی حقوق میں مساوی ہوں، بلکہ تمدنی زندگی میں عورت بھی وہی کام کرے جو مرد کرتے ہیں، اور اخلاقی بندشیں عورت کے لیے بھی اسی طرح ڈھیلی کر دی جائیں جس طرح مرد کے لیے پہلے سے ڈھیلی ہیں۔ مساوات کے اس غلط تخیل نے عورت کو اس کے ان فطری وظائف سے غافل اور منحرف کر دیا جن کی بجا آوری پر تمدن کے بقا بلکہ نوع انسانی کے بقا کا انحصار ہے۔ معاشی، سیاسی اور اجتماعی سرگرمیوں نے ان کی شخصیت کو پوری طرح اپنے اندر جذب کر لیا۔ انتخابات کی جدوجہد، دفتروں اور کارخانوں کی ملازمت، آزاد تجارتی و صنعتی پیشوں میں مردوں کے ساتھ مقابلہ کھیلوں اور ورزشوں کی دوڑ دھوپ، سوسائٹی کے تفریحی مشاغل میں شرکت کلب اور اسٹیج اور رقص و سرود کی مصروفیتیں، یہ اور ان کے سوا اور بہت سی ناکردنی و ناگفتنی چیزیں۔ اس پر کچھ اس طرح چھا گئیں کہ ازدواجی زندگی کی ذمہ داریاں، بچوں کی تربیت خاندان کی خدمت گھر کی تنظیم، ساری چیزیں اس کے لائحہ عمل سے خارج ہو کر رہ گئیں ، بلکہ ذہنی طور پر وہ ان مشاغل -- اپنے اصلی فطری مشاغل - سے متنفر ہو گئی۔ اب مغرب میں خاندان کا نظام، جو تمدن کا سنگ بنیاد ہے، بری طرح منتشر ہو رہا ہے۔ گھر کی زندگی، جس کے سکون پر انسان کی قوت کار کردگی کے نشوونما کا انحصار ہے، عملاً ختم ہو رہی ہے۔ نکاح کا رشتہ جو تمدن کی خدمت میں عورت اور مرد کے تعاون کی صحیح صورت ہے، تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہو گیا ہے۔ نسلوں کی افزائش کو برتھ کنٹرول اور اسقاط حمل اور قتل اولاد کے ذریعہ سے روکا جا رہا ہے۔ اخلاقی مساوات کے غلط تخیل نے عورتوں اور مردوں کے درمیان بد اخلاقی میں مساوات قائم کر دی ہے۔ وہ بے حیائیاں جو کبھی مردوں کے لیے بھی شرمناک تھیں، اب وہ عورتوں کے لیے شرمناک نہیں رہیں۔

(۲) عورت کے معاشی استقلال نے اس کو مرد سے بے نیاز کر دیا ہے۔ وہ قدیم اصول کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرے، اب اس نئے قاعدہ سے بدل گیا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کمائیں اور گھر کا انتظام بازار کے سپرد کر دیا جائے۔ اس انقلاب کے بعد دونوں کی زندگی میں بجز ایک شہوانی تعلق کے اور کوئی ربط ایسا باقی نہیں رہا جو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہونے پر مجبور کرتا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ محض شہوانی خواہشات کا پورا کرنا کوئی ایسا کام میں ہے جس کی خاطر مرد اور عورت لا محالہ اپنے آپ کو ایک دائمی تعلق ہی کی گرہ میں باندھنے اور ایک گھر بنا کر مشترک زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔ جو عورت اپنی روٹی آپ کماتی ہے، اپنی تمام ضروریات کی خود کفیل ہے، اپنی زندگی میں دوسرے کی حفاظت اور اعانت کی محتاج نہیں ہے، وہ آخر محض اپنی شہوانی خواہش کی تسکین کے لیے کیوں ایک مرد کی پابند ہو؟ کیوں اپنے اوپر بہت سی اخلاقی اور قانونی بندشیں عائد کرے؟ کیوں ایک خاندان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے؟ خصوصاً جب کہ اخلاقی مساوات کے تخیل نے اس کی راہ سے وہ تمام رکاوٹیں بھی دور کر دی ہوں جو اسے آزاد شہوت رانی کا طریقہ اختیار کرنے میں پیش آ سکتی تھیں تو وہ اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے آسان اور پرلطف اور خوشنما راستہ چھوڑ کر قربانیوں اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے لدا ہوا پرانا دقیانوسی (Old Fashioned) راستہ کیوں اختیار کرے؟ گناہ کا خیال مذہب کے ساتھ رخصت ہوا۔ سوسائٹی کا خوف یوں دور ہو گیا کہ سوسائٹی اب اسے فاحشہ ہونے پر ملامت نہیں کرتی بلکہ ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے۔ آخری خطرہ حرامی بچے کی پیدائش کا تھا، سو اس سے بچنے کے لئے منع حمل کے ذرائع موجود ہیں۔ ان ذرائع کے باوجود حمل قرار پا جائے تو اسقاط میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ اس میں کامیابی نہ ہو تو بچے کو خاموشی کے ساتھ قتل کیا جا سکتا ہے اور اگر کم بخت جذبہ مادری نے (جو بد قسمتی سے ابھی بالکل فتا نہیں ہو سکا ہے) بچے کو ہلاک کرنے سے روک بھی دیا تو حرامی بچے کی ماں بن جانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ اب "کنواری ماں" اور ناجائز مولود" کے حق میں اتنا پروپیگنڈہ ہو چکا ہے کہ جو سوسائٹی ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے کی جرات کرے گی اسے خود تاریک خیالی کا الٹا الزام اپنے سر لینا پڑے گا۔

یہ وہ چیز ہے جس نے مغربی معاشرت کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ آج ہر ملک میں لاکھوں جوان عورتیں تجرد پسند ہیں جن کی زندگیاں آزاد شہوات رانی میں بسر ہو رہی ہیں۔ ان سے بہت زیادہ عورتیں ہیں جو عارضی جذبات محبت کے زور سے شادیاں کر لیتی ہیں، مگر چونکہ اب شہوانی تعلق کے سوا مرد اور عورت کے درمیان کوئی ایسا احتیاجی ربط باقی نہیں رہا ہے جو انھیں مستقل وابستگی پر مجبور کرتا ہو، اس لیے مناکحت کے رشتہ میں اب کوئی پائیداری نہیں رہی۔ میاں اور بیوی جو ایک دوسرے سے بالکل بے نیاز ہو چکے ہیں، آپس کے تعلقات میں کسی مراعات باہمی اور کسی مدارات (Compromise) کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ نری شہوانی محبت کے جذبات بہت جلدی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک ادنی وجہ اختلاف بلکہ بسا اوقات صرف سرد مہری ہی انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر نکاحوں کا انجام طلاق یا تفریق پر ہوتا ہے۔ منع حمل ، اسقاط ، قتل اولاد شرح پیدائش کی کمی اور ناجائز ولادتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بڑی حد تک اسی سبب کی رہین منت ہے۔ بدکاری، بے حیائی اور امراض خبیثہ کی ترقی میں بھی اس کیفیت کا بڑا دخل ہے۔

مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمائش، عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دے دی ہے۔ صنفی میلان (Sexual Attraction) جو پہلے ہی فطری طور پر مرد اور عورت کے درمیان موجود ہے اور کافی طاقتور ہے، دونوں صنفوں کے آزادانہ میل جول کی صورت میں بہت آسانی کے ساتھ غیر معمولی حد تک ترقی کر جاتا ہے۔ پھر اس قسم کی مخلوط سوسائٹی میں قدرتی طور پر دونوں صنفوں کے اندر یہ جذبہ ابھر آتا ہے کہ صنف مقابل کے لیے زیادہ سے زیادہ جاذب نظر (Attractive) بنیں اور اخلاقی نظریات کے بدل جانے کی وجہ سے ایسا کرنا معیوب بھی نہ رہا ہو، بلکہ علانیہ شان دلربائی پیدا کرنے کو مستحسن سمجھا جانے لگا ہو تو حسن و جمال کی نمائش رفته رفته تمام حدود کو توڑتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ برہنگی کی آخری حد کو پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔یہی کیفیت اس وقت مغربی تہذیب میں پیدا ہو گئی ہے۔صنف مقابل کےلیے مقناطیس بننے کی خواہش عورت میں اتنی بڑھ گئی ہے اور اتنی بڑھتی چلی جا رہی ہے کہ شوخ و شنگ لباسوں، غازوں اور سرخیوں اور بناؤ سنگار کے نت نئے سامانوں سے اس کی تسکین نہیں ہوتی۔ بیچاری تنگ آکر اپنے کپڑوں سے باہر نکلی پڑتی ہے، یہاں تک کہ بسا اوقات تار تک لگا نہیں رہنے دیتی۔ ادھر مردوں کی طرف سے ہر وقت ھل من مزید کا تقاضا ہے، کیونکہ جذبات میں جو آگ لگی ہوئی ہے وہ حسن کی ہر بے حجابی پر بجھتی نہیں بلکہ اور زیادہ بھڑکتی ہے اور مزید بے حجابی کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان غریبوں کی پیاس بھی بڑھتے بڑھتے تو نس بن گئی ہے، جیسے کسی کو لو لگ گئی ہو اور پانی کا ہر گھونٹ پیاس کو بجھانے کے بجائے اور بھڑکا دیتا ہو۔ حد سے ، بڑھی ہوئی شہوانی پیاس ۔ بیتاب ہو کر بیچارے ہر وقت ہر ممکن طریقے سے اس کی تسکین کا سامان بہم پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ ننگی تصویریں، یہ صنفی لڑیچر یہ عشق و محبت کے افسانے یہ عریاں اور جوڑواں ناچ، یہ جذبات شہوانی سے بھرے ہوئے فلم۔ آخر کیا ہیں؟ سب اسی آگ کو بجھانے۔۔۔ مگر دراصل بھڑ کانے۔۔۔ کے سامان ہیں جو اس غلط معاشرت نے ہر سینے میں لگا رکھی ہے اور اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے اس کا نام انہوں نے رکھا ہے " آرٹ"۔

یہ گھن بڑی تیزی کے ساتھ مغربی قوموں کی قوت حیات کو کھا رہا ہے، یہ گھن لگنے کے بعد آج تک کوئی قوم نہیں بچی۔ یہ ان تمام ذہنی اور جسمانی قوتوں کو کھا جاتا ہے جو قدرت نے انسانوں کو زندگی اور ترقی کے لیے عطا کی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ ہر طرف سے شیطانی محرکات میں گھرے ہوئے ہیں، جن کے جذبات کو ہر آن ایک نئی تحریک اور ایک نئے اشتعال سے سابقہ پڑے جن پر ایک سخت ہیجان انگیز ماحول پوری طرح چھا گیا ہو، جن کے خون کو عریاں تصویریں، فحش لٹریچر، ولولہ انگیز گانے برانگیختہ کرنے والے ناچ، عشق و محبت کے فلم ، دل چھیننے والے زندہ مناظر اور صنف مقابل سے ہر وقت کی مڈ بھیٹر کے مواقع پیم ایک جوش کی حالت میں رکھتے ہوں، وہ کہاں سے وہ امن وہ سکون اور وہ اطمینان لا سکتے ہیں جو تعمیری اور تخلیقی کاموں کے لیے ضروری ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایسے ہیجانات کے درمیان ان کو اور خصوصاً ان کی جوان نسلوں کو وہ ٹھنڈی اور پرسکون فضا میسر ہی کہاں آ سکتی ہے جو ان کی ذہنی اور اخلاقی قوتوں کے نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔


فکر انسانی کی المناک نارسائی تین ہزار سال کے تاریخی نشیب و فراز کی یہ مسلسل داستاں ایک بڑے خطہ زمین سے تعلق رکھتی ہے جو پہلے بھی دو عظیم الشان تہذیبوں کا گہوارہ رہ چکا ہے، اور اب پھر جس کی تہذیب کا ڈنکا دنیا میں بج رہا ہے۔ ایسی ہی داستان مصر بایل، ایران اور دوسرے ممالک کی بھی ہے۔ اور خود ہمارا ملک ہندوستان اے بھی صدیوں سے افراط و تفریط میں گرفتار ہے۔ ایک طرف عورت داسی بنائی جاتی ہے۔ مرد اس کا سوامی اور پتی دیو ، یعنی مالک اور معبود بنتا ہے۔ اس کو بچپن میں باپ کی جوانی میں شوہر کی اور بیوگی میں اولاد کی مملوکہ بن کر رہنا پڑتا ہے۔ ائے شوہر کی چتا پر بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ اس کو ملکیت اور وراثت کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس پر نکاح کے انتہائی سخت قوانین مسلط کیے جاتے ہیں جن کے مطابق وہ اپنی رضا اور پسند کے بغیر ایک مرد کے حوالہ کی جاتی ہے اور پھر زندگی کے آخری سانس تک اس کی ملکیت سے کسی حال میں نہیں نکل سکتی۔ اس کو یہودیوں اور یونانیوں کی طرح گناہ اور اخلاقی و روحانی پستی کا مجسمہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی مستقل شخصیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف جب اس پر مہر کی نگاہ ہوتی ہے تو اسے بہیمی خواہشات کا کھلونا بنا کیا جاتا ہے۔ وہ مرد کے اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے اور ایسی سوار ہوتی ہے کہ خود بھی ڈوبتی ہے اور اپنے ساتھ ساری قوم کو بھی لے ڈوبتی ہے۔ یہ لنگ اور یونی کی پوجا یہ عبادت گاہوں میں برہنہ اور جوڑواں مجسمے، یہ دیو داسیاں (Religious Prostitutes) یہ ہولی کے کھیل اور یہ دریاؤں کے نیم عریاں اشنان آخر کس چیز کی یادگاریں ہیں؟ اس بام مارگی تحریک کے باقیات غیر صالحات ہی تو ہیں جو ایران، بابل، یونان اور روم کی طرح ہندوستان میں بھی تہذیب و تمدن کی انتہائی ترقی کے بعد وبا کی طرح پھیلی اور ہندو قوم کو صدیوں کے لیے تنزل اور انحطاط کے گڑھے میں پھینک گئی۔


اس داستان کو غائر نگاہ ۔ دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ عورت کے معاملہ میں نقطہ عدل کو پانا اور اسے سمجھنا اور اس پر قائم ہونا انسان کے لیے کس قدر دشوار ثابت ہوا ہے۔ نقطہ عدل یہی ہو سکتا ہے کہ ایک طرف عورت کو اپنی شخصیت اور اپنی قابلیتوں کے نشو نما کا پورا موقع ملے اور اسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ صلاحیتوں کے ساتھ انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقاء میں اپنا حصہ ادا کر سکے۔ مگر دوسری طرف اس کو اخلاقی تنزل و انحطاط کا ذریعہ اور انسانی تباہی کا آلہ نہ بننے دیا جائے، بلکہ مرد کے ساتھ اس کے تعاون کی ایسی سبیل مقرر کر دی جائے کہ دونوں کا اشتراک عمل ہر حیثیت سے تمدن کے لیے صحت بخش ہو۔ اس نقطه عدل کو دنیا صدہا برس سے تلاش کرتی رہی ہے مگر آج تک نہیں پا سکی۔ کبھی ایک انتہا کی طرف جاتی ہے اور انسانیت کے پورے نصف حصہ کو بیکار بنا کر رکھ دیتی ہے۔ کبھی دوسری انتہا کی طرف جاتی ہے اور انسانیت کے دونوں حصوں کو ملا کر غرق مئے ناب کر دیتی ہے۔

نقطه عدل ناپید نہیں، موجود ہے۔ مگر ہزاروں سال افراط و تفریط کے در میان گردش کرتے رہنے کی وجہ سے لوگوں کا سر کچھ اتنا چکرا گیا ہے کہ وہ سامنے آتا ہے اور یہ پہچان نہیں سکتے کہ یہی تو وہ مطلوب ہے جسے ہماری فطرت ڈھونڈ رہی تھی۔ اس مطلوب حقیقی کو دیکھ کر وہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں، اس پر آوازے کتے ہیں، اور جس کے پاس وہ نظر آتا ہے الٹا اسی کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی مثال اس بچے کی سی ہے، جو ایک کوئلے کی کان میں پیدا ہوا ہو اور وہیں جوانی کی عمر تک پہنچے۔ ظاہر ہے کہ اس کو وہی کوئلے کی ماری ہوئی آب و ہوا اور وہی کالی کالی فضا عین فطری چیز معلوم ہو گی اور جب وہ اس کان سے نکال کر باہر لایا جائے گا تو عالم فطرت کی پاکیزہ فضا میں ہر شے کو دیکھ دیکھ کر اول اول ضرور اپرائے گا۔ مگر انسان آخر انسان ہے۔ اس کی آنکھیں کوئلے کی چھت اور تاروں بھرے آسمان کا فرق محسوس کرنے سے کب تک انکار کر سکتی ہیں؟ اس کے پھیپھڑے گندی ہوا اور صاف ہوا میں آخر کب تک تمیز نہ کریں گے۔

کتاب پرده
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

pardah