پرده

انسانی کو تاہیاں

انسانی کو تاہیاں

گذشتہ صفحات میں خالص علمی تحقیق اور سائنٹیفک مشاہدات و تجربات کی مدد سے ہم نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر انسانی فطرت کے مقتضیات اور انسان کی ذہنی افتاد اور جسمانی ساخت کی تمام دلالتوں کا لحاظ کر کے تمدن کا ایک صحیح نظام مرتب کیا جائے تو صنفی معاملات کی حد تک اس کے ضروری اصول و ارکان کیا ہونے چاہئیں۔ اس بحث میں کوئی چیز ایسی بیان نہیں کی گئی ہے جو تشابہات میں سے ہو یا جس میں کسی کلام کی گنجائش ہو۔ جو کچھ کہا گیا ہے وہ علم و حکمت کے محکمات میں سے ہے اور عموما" سب ہی اہل علم و عقل اس سے واقف ہیں۔ لیکن انسانی عجز کا کمال دیکھئے کہ جتنے نظام تمدن خود انسان نے وضع کئے ہیں ان میں سے ایک میں بھی فطرت کی ان معلوم و معروف ہدایات کو بہ تمام و کمال اور بحسن تنا سب ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان خود اپنی فطرت کے مقتضیات سے ناواقف نہیں ہے۔ اس سے خود اپنی ذہنی کیفیات اور جسمانی خصوصیات چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ آج تک وہ کوئی ایسا معتدل نظام تمدن وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جس کے اصول و مناہج میں پورے توازن کے ساتھ ان سب مقتضیات و خصوصیات اور سب مصالح و مقاصد کی رعایت کی گئی ہو۔

نارسائی کی حقیقی علت

اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم اس کتاب کی ابتداء میں اشارہ کر چکے ہیں۔انسان کی یہ فطری کمزوری ہے کہ اس کی نظر کسی معاملہ کے تمام پہلوؤں پر من حیث الکل حاوی نہیں ہو سکتی۔ ہمیشہ کوئی ایک پہلو اسے زیادہ اپیل کرتا ہے اور اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ پھر جب وہ ایک طرف مائل ہو جاتا ہےتو دوسرے اطراف یا تو اس کی نظر سے بالکل ہی اوجھل ہو جاتے ہیں یا وہ قصدا ان کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ زندگی کے جزئی اور انفرادی معاملات تک میں انسان کی یہ کمزوری نمایاں نظر آتی ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ تمدن و تہذیب کے وسیع تر مسائل، جن میں سے ہر ایک اپنے اندر بے شمار جلی و خفی گوشے رکھتا ہے، اس کمزوری کے اثر سے محفوظ رہ جائیں۔ علم اور عقل کی دولت سے انسان کو سرفراز تو ضرور کیا گیا ہے ، مگر عموما" زندگی کے معاملات میں خالص عقلیت اس کی رہنما نہیں ہوتی۔ جذبات اور رجحانات پہلے اس کو ایک رخ پر موڑ دیتے ہیں، پھر جب وہ اس خاص رخ کی طرف ہو جاتا ہے، تب عقل سے استدلال کرتا ہے اور علم سے مدد لیتا ہے۔ اس حالت میں اگر خود اس کا علم اس کو معاملے کے دوسرے رخ دکھائے اور اس کی اپنی عقل اس کی ایک رخی پر متنبہ کرے تب بھی وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ علم و عقل کو مجبور کرتا ہے کہ اس کے رجحان کی تائید میں دلائل اور تاویلات فراہم کریں۔

چند نمایاں مثالیں

معاشرت کے جس مسئلے سے اس وقت ہم بحث کر رہے ہیں، اس میں انسان کی یہی یک رخی اپنی افراط و تفریط کی پوری شان کے ساتھ نمایاں ہوئی ہے۔

ایک گروہ اخلاق اور روحانیت کے پہلو کی طرف جھکا اور اس میں یہاں تک غلو کر گیا کہ عورت اور مرد کے صنفی تعلق ہی کو سرے سے ایک قابل نفرت چیز قرار دے بیٹھا۔ یہ بے اعتدالی ہم کو بدھ مت، مسیحیت اور بعض ہندو مذاہب میں نظر آتی ہے۔ اور اسی کا اثر ہے کہ اب تک دنیا کے ایک بڑے حصہ میں صنفی تعلق کو بجائے خود ایک بدی سمجھا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ ازدواج کے دائرے میں ہو یا اس سے باہر۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ کہ رہبانیت کی غیر فطری اور غیر متمدن زندگی کو اخلاق اور طہارت نفس کا نصب العین سمجھا گیا۔ نوع انسانی کے بہت سے افراد نے جن میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی،اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو فطرت سے انحراف بلکہ جنگ میں ضائع کر دیا اور جو لوگ فطرت کے اقتضا سے باہم ملے بھی تو اس طرح جیسے کوئی شخص مجبورا" اپنی کسی گندی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تعلق نہ تو زوجین کے درمیان محبت اور تعاون کا تعلق بن سکتا ہے اور نہ اس سے کوئی صالح اور ترقی پذیر تمدن وجود میں آ سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نظام معاشرت میں عورت کے مرتبہ کو گرانے کی ذمہ داری بھی بڑی حد تک اسی نام : نهاد اخلاقی تصور پر ہے۔ رہبانیت کے پرستاروں نے صنفی کشش کو شیطانی وسوسہ اور کشش کی محرک، یعنی عورت کو شیطان کا ایجنٹ قرار دیا اور اس کو ایک ناپاک وجود ٹھرایا جس سے نفرت کرنا ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے جو طہارت نفس چاہتا ہے۔ مسیحی، بدھ اور ہندو لٹریچر میں عورت کا یہی تصور غالب ہے اور جو چاہتا ہے۔ مسیحی، بدھ اور ہندو لٹریچر میں عورت کا یہی تصور غالب ہے اور جو کچھ ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

اس کے برعکس دوسرے گروہ نے انسان کے داعیات جسمانی کی رعایت کی تو اس میں اتنا غلو کیا کہ فطرت انسانی تو درکنار، فطرت حیوانی کے مقتضیات کو بھی نظر انداز کر دیا۔ مغربی تمدن میں یہ کیفیت اس قدر نمایاں ہو چکی ہے کہ اب چھپائے نہیں چھپ سکتی۔ اس کے قانون میں زنا کوئی جرم ہی نہیں ہے۔جرم اگر ہے تو جبر و اکراہ ہے، یا کسی دوسرے کے قانونی حق میں مداخلت۔ ان دونوں میں سے کسی جرم کی مشارکت نہ ہو تو زنا (یعنی صنفی تعلقات کا انتشار) بجائے خود کوئی قابل تعزیر جرم، حتی کہ کوئی قابل شرم اخلاقی عیب بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ کم از کم حیوانی فطرت کی حد میں تھا۔ لیکن اس کے بعد وہ اس سے بھی آگے بڑھا۔ اس نے صنفی تعلق کے حیوانی مقصد یعنی تناسل اور بقائے نوع کو بھی نظر انداز کر دیا، اسے محض جسمانی لطف و لذت کا ذریعہ بنا لیا۔ یہاں پہنچ کر وہی انسان جو احسن تقویم پر پیدا کیا گیا تھا، اسفل سافلین میں پہنچ جاتا ہے۔ پہلے وہ اپنی انسانی فطرت سے انحراف کر کے حیوانات کا سا منتشر صنفی تعلق اختیار کرتا ہے جو کسی تمدن کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ پھر وہ اپنی حیوانی فطرت بھی انحراف کرتا ہے اور اس تعلق کے فطری نتیجہ یعنی اولاد کی پیدائش کو بھی روک دیتا ہے تاکہ دنیا میں اس کی نوع کو باقی رکھنے والی نسلیں وجود ہی میں نہ آنے پائیں۔

ایک جماعت نے خاندان کی اہمیت کو محسوس کیا تو اس کی تنظیم اس قدر بندشوں کے ساتھ کی کہ ایک فرد کو جکڑ کر رکھ دیا اور حقوق و فرائض میں کوئی توازن ہی باقی نہ رکھا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ہندوؤں کا خاندانی نظام ہے۔ اس میں عورت کے لئے ارادے اور عمل کی کوئی آزادی نہیں۔ تمدن اور معیشت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ وہ لڑکی ہے تو لونڈی ہے۔ بیوی ہے تو لونڈی ہے۔ ماں ہے تو لونڈی ہے۔ بیوہ ہے تو لونڈی سے بھی بدتر زندہ درگور ہے۔ اس کے حصہ میں صرف فرائض ہی فرائض ہیں، حقوق کے خانہ میں ایک عظیم الشان صفر کے سوا کچھ نہیں۔ اس نظام معاشرت میں عورت کو ابتداء ہی سے ایک بے زبان جانور بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ناکہ اس میں سرے سے اپنی خودی کا کوئی شعور پیدا ہی نہ ہو۔ بلاشبہ اس طریقہ سے خاندان کی بنیادوں کو بہت مضبوط کر دیا گیا اور عورت کی بغاوت کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔ لیکن جماعت کے پورے نصف حصہ کو ذلیل اور پست کر کے اس نظام معاشرت نے در حقیقت اپنی تعمیر میں خرابی کی ایک صورت اور بڑی ہی خطرناک صورت پیدا کر دی جس کے نتائج اب خود ہندو بھی محسوس کر رہے ہیں۔

ایک دوسری جماعت نے عورت کے مرتبے کو بلند کرنے کی کوشش کی اور اس کو ارادہ و عمل کی آزادی بخشی تو اس میں اتنا غلو کیا کہ خاندان کا شیرازہ درہم برہم کر دیا۔ بیوئی ہے تو آزاد ۔ بیٹی ہے تو آزاد۔ بیٹا ہے تو آزاد۔ خاندان کا در حقیقت کوئی سر دھرا نہیں۔ کسی کو کسی پر اقتدار نہیں۔ بیوی سے شوہر نہیں پوچھ سکتا کہ تو نے رات کہاں بسر کی۔ بیٹی سے باپ نہیں پوچھ سکتا کہ تو کس سے ملتی ہے اور کہاں جاتی ہے۔ زوجین در حقیقت دو برابر کے دوست ہیں جو مساوی شرائط کے ساتھ مل کر ایک گھر بناتے ہیں، اور اولاد کی حیثیت اس ایسوسی ایشن میں محض چھوٹے ارکان کی سی ہے۔ مزاج اور طبائع کی ایک ادنی ناموافقت اس بنے ہوئے گھر کو ہر وقت بگاڑ سکتی ہے، کیونکہ اطاعت کا ضروری عصر، جو ہر نظم کو برقرار رکھنے کے لئے ناگزیر ہے، اس جماعت میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ یہ مغربی معاشرت ہے ، وہی مغربی معاشرت جس کے علمبرداروں کو اصول تمدن و عمران میں پیغمبری کا دعوی ہے۔ ان کی پیغمبری کا صحیح حال آپ کو دیکھنا ہو تو یورپ اور امریکہ کی کسی عدالت نکاح و طلاق یا کسی عدالت جرائم اطفال (Juvenile Court) کی روداد اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ ابھی حال میں انگلستان کے ہوم آفس سے جرائم کے جو اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں ان معلوم ہوتا ہے کہ کم سن لڑکوں اور لڑکیوں میں جرائم کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اس کی خاص و وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ خاندان کا ڈسپلن بہت کمزور ہے گیا ہے-(ملاحظہ ہو)


انسان اور خصوصاً عورت کی فطرت میں شرم و حیا کا جو مادہ رکھا گیا ہے اس کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے اور عملاً لباس اور طرز معاشرت کے اندر اس کی صحیح ترجمانی کرنے میں تو کسی انسانی تمدن کو کامیابی نہیں ہوئی۔ شرم و حیا کو انسان اور خاص کر عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ مگر لباس و معاشرت میں اس کا ظہور کسی عقلی طریقے اور کسی ہموار ضابطہ کی صورت میں نہیں ہوا۔ ستر عورت کے صحیح حدود معین کرنے اور یکسانی کے ساتھ ان کو ملحوظ رکھنے کی کسی نے کوشش نہیں کی۔ مردوں اور عورتوں کے لباس اور ان کے آداب و اطوار میں حیا داری کی صورتیں کسی اصول کے تحت مقرر نہیں کی گئیں۔ معاشرت میں مرد اور مرد عورت اور عورت، مرد اور عورت کے درمیان کشف و حجاب کی مناسب اور معقول حد بندی کی ہی نہیں گئی۔ تہذیب و شائستگی اور اخلاق عامہ کے نقطہ نظر سے یہ معاملہ جتنا اہم تھا، اتنا ہی اس کے ساتھ تغافل برتا گیا۔ اس کو کچھ تو رسم و رواج پر چھوڑ دیا گیا، حالانکہ رسم و رواج اجتماعی حالات کے ساتھ بدل جانے والی چیز ہے اور کچھ افراد کے ذاتی رجحان اور انتخاب پر منحصر کر شخص اتنی سلامت ذوق اور صحیح قوت انتخاب رکھتا ہے کہ اپنے اس جذبہ کے لحاظ سے خود کوئی مناسب طریقہ اختیار کر سکے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ مختلف جماعتوں کے لباس اور معاشرت میں حیاداری اور بے حیائی کی عجیب آمیزش نظر آتی ہے جس میں کوئی عقلی مناسبت ،کوئی یکسانی ، کوئی ہمواری، کسی اصول کی پابندی نہیں پائی جاتی۔ مشرقی ممالک میں تو یہ چیز صرف بے ڈھنگے پن ہی تک محدود رہی لیکن مغربی قوموں کے لباس اور معاشرت میں جب بے حیائی کا عصر سے زیادہ بڑھا تو انہوں نے سرے سے شرم و حیا کی جڑ ہی کاٹ دی۔ ان کا جدید نظریہ یہ ہے کہ "شرم و حیا دراصل کوئی فطری جذبہ ہی نہیں ہے بلکہ محض لباس پہننے کی عادت نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ ستر عورت اور حیا داری کا کوئی تعلق اخلاق اور شائستگی سے نہیں ہے بلکہ وہ تو درحقیقت انسان کے داعیات صنفی کو تحریک دینے والے اسباب میں سے ایک سببا ہے۔" اسی فلسفہ بے حیائی کی عملی تفسیریں ہیں وہ نیم عریاں لباس، وہ جسمانی حسن کے مقابلے، وہ برہنہ ناچ وہ ننگی تصویریں، وہ ا وہ اسٹیج پر فاحشانہ مظاہرے، وہ برہنگی (Nudism) کی روز افزوں تحریک، وہ حیوانیت محصہ کی طرف انسان کی واپسی۔

یہی بے اعتدالی اس مسئلہ کے دوسرے اطراف میں بھی نظر آتی ہے۔ جن لوگوں نے اخلاق اور عصمت کو اہمیت دی انہوں نے عورت کی حفاظت ایک جاندار ، ذی عقل، ذی روح وجود کی حیثیت سے نہیں کی، بلکہ ایک بے جان زیور، ایک قیمتی پتھر کی طرح کی اور اس کی تعلیم و تربیت کے سوال کو نظر انداز کر دیا۔ حالانکہ تہذیب و تمدن کی بہتری کے لئے یہ سوال عورت کے حق میں بھی اتنا ہی اہم تھا جتنا مرد کے لئے تھا۔ بخلاف اس کے جنہوں نے تعلیم و تربیت کی اہمیت کو محسوس کیا انہوں نے اخلاق اور عصمت کی اہمیت کو نظر انداز کر کے ایک دوسری حیثیت و تہذیب کی تباہی کا سامان مہیا کر دیا۔


جن لوگوں نے فطرت کی تقسیم عمل کا لحاظ کیا انہوں نے تمدن و معاشرت کی خدمات میں سے صرف خانہ داری اور تربیت اطفال کی ذمہ داریاں عورت پر عائد کیں اور مرد پر رزق مہیا کرنے کا بار ڈالا۔ لیکن اس تقسیم میں وہ توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ انہوں نے عورت سے تمام معاشی حقوق سلب کر لئے۔ وراثت میں اس کو کسی قسم کا حق نہ دیا۔ ملکیت کے تمام حقوق مرد کی طرف منتقل کر دیئے اور اس طرح معاشی حیثیت سے عورت کو بالکل بے دست و پا کر کے عورت اور مرد کے درمیان در حقیقت لونڈی اور آقا کا تعلق قائم کر دیا۔ اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا گروہ اٹھا جس نے اس بے انصافی کی تلافی کرنی چاہی اور عورت کو اس کے معاشی و تمدنی حقوق دلانے کا ارادہ کیا۔ مگر یہ لوگ ایک دوسری غلطی کے مرتکب ہو گئے۔ ان کے دماغوں پر مادیت کا غلبہ تھا۔ اس لئے انہوں نے عورت کو معاشی و تمدنی غلامی سے نجات دلانے کے معنی یہ سمجھے کہ اس کو بھی مرد کی طرح خاندان کا کمانے والا فرد بنا دیا جائے اور تمدن کی ساری ذمہ داریوں کے سنبھالنے میں اس کے ساتھ برابر کا شریک کیا جائے۔ مادیت کے نقطہ نظر سے اس طریقہ میں بڑی جاذبیت تھی، کیونکہ اس سے نہ صرف مرد کا بار ہلکا ہو گیا بلکہ کسب معیشت میں عورت کے ساتھ شریک ہو جانے سے دولت کے حصول اور اسباب عیش کی فراہمی میں قریب قریب دوچند کا اضافہ بھی ہو گیا۔ مزید براں قوم کی معاشی اور عمرانی کو چلانے کے لئے پہلے کے مقابلے میں دوگنے ہاتھ اور دو گنے دماغ مہیا ہو گئے۔ جس سے یکا یک تمدن کے ارتقاء کی رفتار تیز ہو گئی لیکن مادی اور معاشی پہلو کی طرف اس قدر حد سے زیادہ مائل ہو جانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے پہلو جو در در حقیقت اپنی اہمیت میں اس ایک پہلو سے کچھ کم نہ تھے ، ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور بہت سے پہلوؤں کو انہوں نے جانتے بوجھتے نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے قانون فطرت کو جاننے کے باوجود قصدا اس کی خلاف ورزی کی جس پر خود ان کی اپنی سائنٹیفک تحقیقات شہادت دے رہی ہیں۔ انہوں نے عورت کے ساتھ انصاف کرنے کا دعوی کیا مگر در حقیقت بے انصافی کے مرتکب ہوئے جس پر خود ان کے اپنے مشاہدات اور تجربات گواہ ہیں۔ انہوں نے عورت کو مساوات دینے کا ارادہ کیا مگر در حقیقت نامساوات قائم کر بیٹھے جس کا ثبوت خود ان کے اپنے علوم و کیا مگر در حقیقت نامساوات قائم کر بیٹھے جس کا ثبوت خود ان کے اپنے علوم و فنون فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمدن و تہذیب کی اصلاح کرنی چاہی، مگر در حقیقت اس کی تخریب کے نہایت خوفناک اسباب پیدا کر دیے جن کی تفصیلات خود انہی کے بیان کردہ واقعات اور خود ان کے اپنے فراہم کردہ اعداد و شمار سے ہم کو معلوم ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ان حقائق سے بے خبر نہیں ہیں۔ مگر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں، یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کے لئے قانون بنانے میں تمام مصلحتوں کی معتدل اور متناسب رعایت ملحوظ نہیں رکھ سکتا۔ ہوائے نفس اس کو افراط کے کسی ایک رخ پر بہا لے جاتی ہے اور جب وہ بہہ جاتا ہے تو بہت سی مصلحتیں اس کی نظر سے چھپ جاتی ہیں اور بہت سی مصلحتوں اور حقیقتوں کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود وہ ان کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتا ہے، اس قصدی و ارادی اندھے پن کا ثبوت ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتے کہ خود ایک ایسے اندھے ہی کی شہادت پیش کر دیں۔ روس کا ایک ممتاز سائنس دان انتون نیملاف (Anton Nemilov) جو سو فیصدی کمیونسٹ ہے اپنی کتاب_١ ( The Biological Tragedy of Woman) میں سائنس کے تجربات اور مشاہدات سے خود ہی عورت اور مرد کی فطری نامساوات ثابت کرنے پر تقریباً دو سو صفحے سیاہ کرتا ہے مگر پھر خود ہی اس تمام سائلینک تحقیق کے بعد لکھتا ہے :


" آج کل اگر یہ کہا جائے کہ عورت کو نظام تمدن میں محدود حقوق دیئے جائیں تو کم از کم آدمی اس کی تائید کریں گے۔ ہم خود اس تجویز کے سخت مخالف ہیں۔ مگر ہمیں اپنے نفس کو یہ دھوکہ نہ دینا چاہیے کہ مساوات مرد و زن کو عملی زندگی میں قائم کرنا کوئی سادہ اور آسان کام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی عورت اور مرد کو برابر کر دینے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی جتنی سویٹ روس میں کی گئی ہے۔ کسی جگہ اس باب میں اس قدر غیر متعصبانه اور فیاضانہ قوانین نہیں بنائے گئے۔ مگر اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ عورت کی پوزیشن خاندان میں بہت کم بدل سکی ہے۔" (صفحہ ۷۶)


" اب تک عورت اور مرد کی نامساوات کا تخیل، نہایت گہرا تخیل نہ صرف ان طبقوں میں جو ذہنی حیثیت سے ادنی درجہ کے ہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ سویٹ طبقوں میں بھی جما ہوا ہے اور خود عورتوں میں اس تخیل کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر ان کے ساتھ ٹھیٹھ مساوات کا سلوک کیا جائے تو وہ اس کو مرد کے مرتبہ سے گرا ہوا سمجھیں گی، بلکہ اسے مرد کی کمزوری اور نامردی پر محمول کریں گی۔ اگر ہم اس معاملہ میں کسی سائنٹسٹ کسی مصنف ، کسی طالب علم کسی تاجر، یا کسی سو فیصدی کمیونسٹ کے خیالات کا تجس کریں تو بہت جلدی یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ عورت کو وہ اپنے برابر کا نہیں سمجھتا۔ اگر ہم زمانہ حال کے کسی ناول کو پڑھیں، خواہ وہ کیسے آزاد خیال مصنف کا لکھا ہوا ہو، یقیناً اس میں ہم کو کہیں نہ کہیں ایسی عبارتیں ملیں گی جو عورت کے متعلق اس تخیل کی چغلی کھا جائیں گی۔" (صفحہ ۱۹۵-۱۹۴)

”اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انقلابی اصول ایک نہایت اہم صورت واقعی ٹکرا جاتے ہیں، یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات (Biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں ہے اور دونوں پر مساوی بار نہیں ڈالا گیا ہے۔" (صفحہ ۷۷)


”سچی بات تو یہ ہے کہ تمام عمال (Workers) میں صنفی انتشار (Sexual Anarchy) کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں، یہ ایک نہایت پر خطر حالت ہے جو سوشلسٹ نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہے، ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے، کیونکہ اس محاذ پر جنگ کرنے میں بڑی مشکلات ہیں۔ میں ہزارہا ایسے واقعات کا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہوانی بے قیدی (Sexual Licentiousness) نہ صرف ناواقف لوگوں میں بلکہ طبقہ عمال کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عقلی حیثیت سے ترقی یافتہ افراد میں پھیل گئی ہے۔" (صفحہ ۲۰۳۔۲۰۲)

ان عبارتوں کی شہادت کیسی کھلی ہوئی شہادت ہے۔ ایک طرف یہ اعتراف ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان فطرت نے خود ہی مساوات نہیں رکھی، عملی زندگی میں بھی مساوات قائم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں،اور جس حد تک فطرت سے لڑ کر اس قسم کی مساوات قائم کی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فواحش کا ایک سیلاب امنڈ آیا جس سے سوسائٹی کا سارا نظام خطرہ میں پڑ گیا۔ دوسری طرف یہ دعوی ہے کہ نظام اجتماعی میں عورت کے حقوق پر کسی قسم کی حد بندیاں نہ ہونی چاہئیں اور اگر ایسا کیا جائے گا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہو گا کہ انسان - - - - - - جاہل نہیں بلکہ عالم، عاقل، نهایت باخبر انسان بھی . ۔ اپنے نفس کے رجحانات کا کیسا غلام ہوتا ہے کہ خود اپنی تحقیق کو جھٹلاتا ہے اپنے مشاہدات کی نفی کرتا ہےاور ہر طرف سے آنکھیں بند کر کے ہوائے نفس کے پیچھے ایک ہی رخ پر انتہا کو پہنچ جاتا ہے، خواہ اس افراط کے خلاف اس کے اپنے علوم کتنی ہی محکم دلیلیں پیش کریں، اس کے کان کتنے ہی واقعات سن لیں اور اس کی انکھیں کتنے ہی برے نتائج کا مشاہدہ کر لیں۔

" پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کے کانوں پر پردہ ڈال دیا ؟ اللہ کے بعد اب اور کون . ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟"

قانون اسلامی کی شان اعتدال

بے اعتدالی اور افراط و تفریط کی اس دنیا میں صرف ایک نظام تمدن ایسا ہے جس میں غایت درجہ کا اعتدال و توازن پایا جاتا ہے۔ جس میں فطرت انسانی کے ایک ایک پہلو، حتی کہ نہایت خفی پہلو کی بھی رعایت کی گئی ہے۔ انسان کی جسمانی ساخت اور اس کی حیوانی جبلت اور اس کی انسانی سرشت اور اس کی نفسی خصوصیات اور اس کے فطری داعیات کے متعلق نهایت مکمل اور تفصیلی علم سے کام لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ایک چیز کی تخلیق سے فطرت کا جو مقصد ہے اس کو بتمام و کمال اس طریقہ سے پورا کیا گیا ہے کہ کسی دوسرے مقصد حتی کہ چھوٹے سے چھوٹے مقصد کو بھی نقصان نہیں پہنچتا اور بالاخر یہ سب مقاصد مل کر اس بڑے مقصد کی تکمیل میں مددگار ہوتے ہیں جو خود انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔ یہ اعتدال، یہ توازن، یہ تناسب اتنا مکمل ہے کہ کوئی انسان خود اپنی عقل اور کوشش سے اس کو پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ انسان کا وضع کیا ہوا قانون ہو اور اس میں کسی جگہ بھی یک رخی ظاہر نہ ہو نا ممکن، قطعی ناممکن! خود وضع کرنا تو درکنار، حقیقت یہ ہے کہ معمولی انسان تو اس معتدل و متوازن اور انتہائی حکیمانہ قانون کی حکمتوں کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتا جب تک کہ وہ غیر معمولی سلامت طبع نہ رکھتا ہو اور اس پر سالہا سال تک علوم اور تجربات کا اکتساب نہ کر لے اور پھر برسوں غور و خوض نہ کرتا رہے۔ میں اس قانون کی تعریف اس لئے نہیں کرتا ہوں کہ میں اسلام پر ایمان لایا ہوں بلکہ دراصل میں اسلام پر ایمان لایا ہی اس لئے ہوں کہ مجھے اس کمال درجہ کا توازن اور مناسب اور قوانین کے ساتھ تطابق نظر آتا ہے، جسے دیکھ کر میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یقیناً اس قانون کا واضع وہی ہے جو زمین و آسمان کا فاطر اور غیب و شہادت کا عالم ہے اور حق یہ ہے کہ مختلف سمتوں میں بہک جانے والے بنی آدم کو عدل و توسط کا محکم طریقہ وہی بتا سکتا ہے۔

" کھو خدایا ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضر و غائب کے جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔"

کتاب پرده
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

pardah