یہ بات اسلام کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ اپنے قانون کی حکمت پر بھی خود ہی روشنی ڈالتا ہے۔ معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کو منضبط کرنے کے لئے جو قانون اسلام میں پایا جاتا ہے اس کے متعلق خود اسلام ہی نے ہم کو بتا دیا ہے کہ اس قانون کی بنیاد کن اصول حکمت اور کن حقائق فطرت پر ہے۔
اس آیت میں قانون زوجی (Law Sex) کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کارگاہ عالم کا انجینئر خود اپنی انجینئری کا یہ راز کھول رہا ہے کہ اس نے کائنات کی یہ ساری مشین قاعده زوجیت پر بنائی ہے۔ یعنی اس مشین کے تمام کل پرزے جوڑوں (Pairs) کی شکل میں بنائے گئے ہیں اور اس جہان خلق میں جتنی کاریگری تم دیکھتے ہو، وہ سب جوڑوں کی تزویج کا کرشمہ ہے۔
اب اس پر غور کیجئے کہ زوجیت کیا شے ہے۔ زوجیت میں اصل یہ ہے کہ ایک شے میں فعل ہو اور دوسری شے میں قبول و انفعال۔ ایک شے میں تاثیر ہو اور دوسری شے میں تاثر ۔ ایک شے میں عاقدیت ہو اور دوسری شے میں منعقدیت۔ یہی عقد و انعقاد اور فعل و انفعال، اور تاثیر و تاثر اور فاصلیت و قابلیت کا تعلق دو چیزوں کے درمیان زوجیت کا تعلق ہے۔ اسی تعلق سے تمام ترکیبات واقع ہوتی ہیں۔ اور اسی ترکیبات سے عالم خلق کا سارا کارخانہ چلتا ہے۔ کائنات میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب اپنے اپنے طبقہ میں زوج زوج اور جوڑ جوڑ پیدا ہوئی ہیں، اور ہر دو زوجین کے درمیان اصلی و اساسی حیثیت سے زوجیت کا یہی تعلق پایا جاتا ہے کہ ایک فعال ہے اور دوسرا قابل و منفعل۔اگرچہ مخلوقات کے ہر طبقے میں اس تعلق کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ مثلا ایک تزویج وہ ہے جو بسائط اور عناصر میں ہوتی ہے، ایک وہ جو مرکبات غیر نامیہ میں ہوتی ہے، ایک وہ جو اجسام نامیہ میں ہوتی ہے۔ ایک وہ جو انواع حیوانی میں ہوتی ہے۔ یہ سب تزو سمجیں اپنی نوعیت اور کیفیت اور فطری مقاصد کے لحاظ مختلف ہیں لیکن اصل زوجیت ان سب میں وہی ایک ہے۔ ہر نوع میں، خواہ وہ کسی طبقہ کی ہو، فطرت کے اصل مقصد یعنی وقوع ترکیب اور حصول ہیئت ترکیبی کے لیے ناگزیر ہے کہ زوجین میں سے ایک میں قوت فعل ہو دوسرے میں قوت انفعال۔
ا۔ اللہ تعالی نے جس فارمولے پر تمام کائنات کی تخلیق کی ہے اور جس طریقے کو اپنے کارخانے کے چلنے کا ذریعہ بنایا ہے وہ ہرگز ناپاک اور ذلیل نہیں ہو سکتا۔بلکہ اپنی اصل کے اعتبار سے وہ پاک اور محترم ہی ہے اور ہونا چاہئے۔ کارخانہ کے مخالف اس کو گندہ اور قابل نفرت قرار دے کر اس سے اجتناب کر سکتے ہیں، مگر خود کارخانہ کا صانع اور مالک تو یہ کبھی نہ چاہے گا کہ اس کا کارخانہ بند ہو جائے۔ اس کا منشا تو یہی ہے کہ اس کی مشین کے تمام پرزے چلتے رہیں اور اپنے اپنے حصے کا کام پورا کریں۔
٢ - فعل اور انفعال دونوں اس کارخانے کو چلانے کےلئے یکساں ضروری ہیں۔ فاعل اور منفعل دونوں کا وجود اس کارگاہ میں یکساں اہمیت رکھتا ہے۔نہ فاعل کی حیثیت فعلی میں کوئی عزت ہےاور نہ منفعل کی حیثیت انفعالی میں کوئی ذلت۔ فاعل کا کمال یہی ہے کہ اس میں قوت فعل اور کیفیات فاعلیہ پائی جائیں تاکہ وہ زوجیت کے فعلی پہلو کا کام بخوبی ادا کر سکے اور منفعل کا کمال یہی ہے کہ اس میں انفعال اور کیفیت انفعالیہ بدرجه اتم موجود ہوں تاکہ وہ زوجیت کے انفعالی اور قبولی پهلو کی خدمت با حسن وجوه بجا لا سکے۔ ایک معمولی مشین کے پرزے کو بھی اگر کوئی شخص اس کے اصلی مقام سے ہٹا دے اور اس سے وہ کام لینا چاہے جس کے لیے وہ دراصل بنایا ہی نہیں گیا ہے، تو وہ احمق اور اناڑی سمجھا جائےگا۔ اول تو اپنی اس کوشش میں اسے کامیابی ہی نہ ہو گی، اور اگر وہ بہت زور لگائے تو بس اتنا کر سکے گا کہ مشین کو توڑ دے۔ ایسا ہی حال اس کائنات کی عظیم ! الشان مشین کا بھی ہے۔ جو احمق اور اناڑی ہیں وہ اس کے زوج فاعل کو زوج منفعل کی جگہ یا زوج منفعل کو زوج فاعل کی جگہ رکھنے کا خیال کر سکتے ہیں اور اس کی کوشش کر کے اور اس میں کامیابی کی امید رکھ کر حماقت کا ثبوت بھی دے سکتے ہیں مگر اس مشین کا صانع تو ہرگز ایسا نہ کرے گا۔ وہ تو فاعل پرزے کو فعل ہی کی جگہ رکھے گا۔ اور اسی حیثیت سے اس کی تربیت کرے گا۔ اور منفعل پر زے کو انفعال ہی کی جگہ رکھے گا۔ اور اس میں انفعالی استعدادی پرورش کرنے کا انتظام کرے گا۔
٣- فعل اپنی ذات میں قبول و انفعال پر بہرحال ایک طرح کی فضیلت رکھتا ہے۔ یہ فضیلت اس معنی میں نہیں ہے کہ فعل میں عزت ہو اور انفعال اس کے مقابلے میں ذلیل ہو بلکہ فضیلت دراصل غلبہ اور قوت اور اثر کے معنی میں ہے جو شے کسی دوسری شے پر فعل کرتی ہے وہ اسی وجہ سے تو کرتی ہے کہ وہ اس پر غالب ہے، اس کے مقابلے میں طاقتور ہے، اور اس پر اثر کرنے کی قوت رکھتی ہے اور جو شے اس کے فعل کو قبول کرتی ہے اور اس سے منفعل ہوتی ہے اس کے قبول و انفعال کی وجہ یہی تو ہے کہ وہ مغلوب ہے، اس کے مقابلے میں کمزور ہے اور متاثر ہونے کی استعداد رکھتی ہے۔ جس طرح وقوع فعل کے لئے فاعل اور منفعل دونوں کا وجود یکساں ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ فائل میں غلبہ اور قوت تاثیر ہو اور منفعل میں مغلوبیت اور قبول اثر کی استعداد۔ کیونکہ اگر دونوں قوت میں یکساں ہوں اور کسی کو کہ غلبہ حاصل نہ ہو تو ان میں کوئی کسی کا اثر قبول نہ کرے گا اور سرے سے فعل واقع ہی نہ ہو گا۔ اگر کپڑے میں بھی وہی سختی ہو جو سوئی میں ہے تو سینے کا فعل پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر زمین میں نرمی نہ ہو جس کی وجہ سے کدال اور ہل کا غلبہ قبول کرتی ہے تو زراعت اور تعمیر نا ممکن ہو جائے، غرض دنیا میں جتنے افعال واقع ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی واقع نہیں ہو سکتا اگر ایک فاعل کے مقابلہ میں ایک منفعل نہ ہو اور منفعل میں فاعل کے اثر سے مغلوب ہونے کی صلاحیت نہ ہو۔ پس زوجین میں سے زوج فاعل کی طبیعت کا اقتضاء یہی ہے کہ اس میں غلبہ اور شدت اور تحکم ہو جس کو مردانگی اور رجولیت سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ فعلی پرزے کی حیثیت سے اپنی خدمت بجا لانے کے لیے اس کا ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔ اس کے برعکس زوج منفعل کی فطرت انفعالیہ کا یہی تقاضا ہے کہ اس میں نرمی اور نزاکت اور لطافت اور تاثر ہو جسے انوثت یا نسائیت کہا جاتا ہے، کیونکہ زوجیت کے انفعالی پہلو میں یہی صفات اس کو کامیاب بنا سکتی ہیں۔ جو لوگ اس راز کو نہیں جانتے وہ یا تو فاعل کی ذاتی فضیلت کو عزت کا ہم معنی سمجھ کر منفعل کو بالذات ذلیل قرار دے بیٹھے ہیں، یا پھر سرے سے اس فضیلت کا انکار کر کے منفعل میں بھی وہی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو فاعل میں ہونی چاہئیں۔ لیکن جس انجینئر نے ان دونوں پرزوں کو بنایا ہے وہ ان کو مشین میں اس طور پر نصب کرتا ہے کہ عزت میں دونوں یکساں اور تربیت و غایت میں دونوں برابر ، مگر فعل و انفعال کی طبیعت جس غالبیت اور مغلوبیت کی مقتضی ہے وہی ان میں پیدا ہو، تاکہ وہ تزویج کے منشا کو پورا کر سکیں، نہ کہ یہ دونوں ایسے پتھر بن جائیں جو ٹکرا تو سکتے ہیں مگر آپس میں کوئی امتزاج اور کوئی ترکیب قبول نہیں کر سکتے۔
یہ وہ اصول ہیں جو زوجیت کے ابتدائی مفہوم ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔محض ایک مادی وجود ہونے کی حیثیت سے عورت اور مرد کا زوج زوج ہوتا ہی اس کا مقتضی ہے کہ ان کے تعلقات میں یہ اصول مرگی رکھے جائیں۔ چنانچہ آگے چل کر آپ کو معلوم ہو گا کہ فاطر السموات والارض نے جو قانون معاشرت بنایا ہے اس میں ان تینوں کی پوری رعایت کی گئی ہے۔
اب ایک قدم اور آگے بڑھئے، عورت اور مرد کا وجود محض ایک مادی وجود ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک حیوانی وجود بھی ہے۔ اس حیثیت سے ان کا زوج ہونا کس چیز کا مقتضی ہے؟ قرآن کہتا ہے۔
پہلی آیت میں انسان اور حیوان دونوں کے جوڑے بنانے کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور اس کا مشترک مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے زوجی تعلق سے تناسل کا سلسلہ جاری ہو۔
دوسری آیت میں انسان کو عام حیوانات سے الگ کر کے یہ ہر کیا گیا ہے کہ انواع حیوانات میں سے اس خاص نوع کے زوجین میں کھیتی اور کسان کا سا تعلق ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی حقیقت (Biological fact) ہے۔ حیاتیات کے نقطہ نظر سے بہترین تشبیہ جو عورت اور مرد کو دی جا سکتی ہے۔ وہ یہی ہے۔
(١) اللہ تعالی نے تمام حیوانات کی طرح انسان کے جوڑے بھی اس مقصد کے لئے بنائے کہ ان کے منفی تعلق سے انسانی نسل جاری ہو۔ہو۔ یہ انسان کی حیوانی فطرت کا مقتضا ہے جس کی رعایت ضروری ہے۔ خدا نے نوع انسانی کو اس لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ اس کے چند افراد زمین پر اپنے نفس کی پرورش کریں اور بس ختم ہو جائیں۔ بلکہ اس کا ارادہ ایک اجل معین تک اس نوع کو باقی رکھنے کا ہے، اور اس نے انسان کی حیوانی فطرت میں صنفی میلان اسی لیےرکھا ہے کہ اس کے زوجین باہم میں اور خدا کی زمین کو آباد رکھنے کے لئے اپنی نسل جاری کریں۔ پس جو قانون خدا کی طرف سے ہو گا وہ کبھی صنفی میلان کو کچلنے اور فنا کرنے والا نہیں ہو سکتا۔ اس سے ن نفرت اور کلی اجتناب کی تعلیم دینے والا نہیں ہو سکتا، بلکہ اس میں لازما" ایسی گنجائش رکھی جائے گی کہ انسان اپنی فطرت کے اس اقتضا کو پورا کر سکے۔
(۲) عورت اور مرد کو کھیتی اور کسان سےتشبیہ دے کر بتایا گیا ہے کہ انسانی زوجین کا تعلق دوسرے حیوانات کے زوجین سے مختلف ہے۔ انسانی حیثیت سے قطع نظر، حیوانی اعتبار سے بھی ان دونوں کی ترکیب جسمانی اس طور پر رکھی گئی ہے کہ ان کے تعلق میں وہ پائیداری ہونی چاہئے جو کسان اور اس کے کھیت میں ہوتی ہے۔ جس طرح کھیتی میں کسان کا کام محض پیج پھینک دینا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس کو پانی دے کھاد مہیا کرے اور اس کی حفاظت کرتا رہے، اسی طرح عورت بھی وہ زمین نہیں ہے جس میں ایک جانور چلتے پھرتے کوئی بیج پھینک جائے اور وہ ایک خود رو درخت اگا دے، بلکہ جب وہ بارور ہوتی ہے تو در حقیقت اس کی محتاج ہوتی ہے کہ اس کا کسان اس کی پرورش اور اس کی رکھوالی کا پورا بار سنبھالے۔
(۳) انسان کے زوجین میں جو صنفی کشش ہے وہ حیاتیاتی حیثیت سے (Biologically) اسی نوعیت کی ہے جو دوسری انواع حیوانی میں پائی جاتی ہے۔ ایک صنف کا ہر فرد صنف مقابل کے ہر فرد کی طرف حیوانی میلان رکھتا ہے اور تناسل کا زبردست داعیہ جو ان کی سرشت میں رکھا گیا ہے، دونوں صنفوں کے ان تمام افراد کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتا ہے، جن میں تناسل کی حیثیت بالفعل موجود ہو۔ پس فاطر کائنات کا بنایا ہوا قانون انسان کی حیوانی فطرت کے اس کمزور پہلو سے بے پروا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں صنفی انتشار (Sexual Anarchy) کی طرف - - - - شدید میلان چھپا ہوا ہے جو تحفظ کی خاص تدابیر کے بغیر قابو میں نہیں رکھا جا سکتا اور ایک مرتبہ اگر وہ بے قابو ہو جائے تو انسان کو پورا حیوان بلکہ حیوانات میں بھی سب سے ارذل بن جانے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔
"ہم نے انسان کو بہت ہی اچھی صورت میں پیدا کیا۔ پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے"۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، طبیعت حیوانیہ، خلقت انسانی کی نہ میں زمین اور بنیاد کے طور پر ہے، اور اسی زمین پر انسانیت کی عمارت قائم کی گئی ہے۔ انسان کے انفرادی وجود اور اس کی نوعی ہستی، دونوں کو باقی رکھنےکےلئےجن چیزوں کی ضرورت ہےان میں سے ہر ایک کی خواہش اور ہر ایک کےحصول کی استعداد اللہ تعالی نےاس کی حیوانی سرشت میں رکھ دی ہےاور فطرت الہی کا منشا ہےنا یہ ہرگز نہیں ہےکہ ان خواہشات میں سےکسی خواہش کو پورا نہ ہونے دیا جائےیا ان استعدادات میں سےکسی استعداد کو فنا کر دیا جائے کیونکہ یہ سب چیزیں بھی بہر حال ضروری ہیں اور ان کے بغیر انسان اور اس کی نوع زندہ نہیں رہ سکتی۔ البتہ فطرت حق یہ چاہتی ہے کہ انسان اپنی ان خواہشات کو پورا کرنے اور ان استعدادات سے کام لینے میں نرا حیوانی طریقہ اختیار نہ کرے بلکہ اس کی انسانی سرشت جن امور کی مقتضی ہے اور اس میں جن فوق الحیوانی امور کی طلب رکھی ہے، ان کے لحاظ سے اس کا طریقہ انسانی ہونا چاہئے۔ اسی غرض کے لیے اللہ تعالی نے حدود شرعی مقرر فرمائی ہیں تاکہ انسان کے افعال کو ایک ضابطہ کا پابند بنایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ تنبیہہ بھی کر دی گئی ہے کہ اگر افراط یا تفریط کا طریقہ اختیار کر کے ان حدود سے تجاوز کرو گے تو اپنے آپ کو خود تباہ کر لو گے۔
اس سے پہلے جس آیت میں انسان اور حیوان دونوں کے جوڑے بنانےکا ذکر ایک ساتھ کیا گیا وہاں تخلیق زوجین کا مقصد صرف بقائے نسل بتایا گیا تھا۔ اب حیوان سےالگ کر کے انسان کی یہ خصوصیت بتائی گئی ہے کہ اس میں زوجیت کا ایک بالاتر مقصد بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کا تعلق محض شہوانی تعلق نہ ہو بلکہ محبت اور انس کا تعلق ہو، دل کے لگاؤ اور روہوں کے اتصال کا تعلق ہو وہ ایک دوسرے کے راز دار اور شریک رنج و راحت ہوں، ان کےدر میان ایسی معیت اور دائمی وابستگی ہو جیسی لباس اور جسم میں ہوتی ہے۔ دونوں صنفوں کا یہی تعلق انسانی تمدن کی عمارت کا سنگ بنیاد ہے جیسا کہ ہم بتفصیل بیان کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ لتَسْكُنُوا إِلَيْهَا سے اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا کہ عورت کی ذات میں مرد کے لیے سرمایہ سکون و راحت ہے اور عورت کی فطری خدمت یہی ہے کہ وہ اس جدوجہد اور ہنگامہ عمل کی مشقتوں بھری دنیا میں سکون و راحت کا ایک گوشتہ مہیا کرے۔ یہ انسان کی خانگی زندگی ہے، جس کی اہمیت کو مادی منفعتوں کی خاطر اہل مغرب نے نظر انداز کر دیا ہے۔ حالانکہ تمدن و عمران کے شعبوں میں جو اہمیت دوسرے شعبوں کی ہے وہی اس شعبے کی بھی ہے اور تمدنی زندگی کے لیے یہ بھی اتنا ضروری ہے جتنے دوسرے شعبے ضروری ہیں۔
٢- یہ صنفی تعلق صرف زوجین کی باہمی محبت ہی کا مقتضی نہیں ہے بلکہ اس امر کا بھی مقتضی ہے کہ اس تعلق سے جو اولاد پیدا ہو اس کے ساتھ بھی ایک گہرا روحانی تعلق ہو۔ فطرت الہی نے اس کے لئے انسان کی اور خصوصا" عورت کی جسمانی ساخت اور حمل و رضاعت کی طبیعی صورت ہی میں ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اس کی رگ رگ اور ریشے ریشے میں اولاد کی محبت پیوست ہو جاتی ہے، چنانچہ قرآن مجید کہتا ہے :
پس ارحام اور انساب اور مصاہرت کے رشتے دراصل انسانی تمدن کے ابتدائی اور طبیعی موسسات ہیں اور ان کے قیام کا انحصار اس پر ہے کہ اولاد اپنے معلوم و معروف ماں باپ سے ہو اور انساب محفوظ ہوں۔
٣- انسانی فطرت کا اقتضاء یہ بھی ہے کہ وہ اپنی محنتوں کے نتائج اور اپنی گاڑھی کمائی میں سے اگر کچھ چھوڑے تو اپنی اولاد اور اپنے عزیزوں کے لئے چھوڑے جن کے ساتھ وہ تمام عمر خونی اور رحمی رشتوں میں بندھا رہا ہے۔
٤- انسان کی فطرت میں حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اس کے جسم کے بعض حصے ایسے بھی ہیں جن کے چھپانے کی خواہش خدا نے اس کی جبلت میں پیدا کی ہے۔ یہی جبلی خواہش ہے جس نے ابتداء سے انسان کو کسی نہ کسی نوع کا لباس اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس باب میں قرآن قطعیت کے ساتھ جدید نظریہ کی تردید کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسانی جسم کے جن حصوں میں مرد اور عورت کے لئے منفی جاذبیت ہے۔ ان کے اظہار میں شرم کرنا اور ان کو چھپانے کی کوشش کرنا انسانی فطرت کا اقتضا ہے۔ البتہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو کھول دے۔
پھر قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے لباس اس لئے اتارا ہے کہ وہ تمہارے لئے ستر پوشی کا ذریعہ بھی ہو اور زینت کا ذریعہ بھی۔ مگر محض ستر چھپا لینا کافی نہیں۔اس کے ساتھ ضروری ہے کہ تمہارے دلوں میں تقوی بھی ہو۔
یہ اسلامی نظام معاشرت کے اساسی تصورات ہیں۔ ان تصورات کو ذہن نشین کرانے کے بعد اب اس نظام معاشرت کی تفصیلی صورت ملاحظه کیجئےجو ان تصورات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔اس مطالعہ کے دوران میں آپ کو گہری نظر سے اس امر کا تجس کرنا چاہئے کہ اسلام جن نظریات کو اپنے قانون کی اساس قرار دیتا ہےان کو عملی جزئیات و تفصیلات میں نافذ کرتے ہوئے کہاں تک یکسانی و ہمواری اور منطقی ، ربط و مطابقت قائم رکھتا ہے۔ انسان کے بنائے ہوئےجتنے قوانین ہم نے دیکھے ہیں ان سب کی یہ مشترک اور نمایاں کمزوری ہے کہ ان کے اساسی نظریات اور عملی تفصیلات کے درمیان پورا منطقی ربط قائم نہیں رہتا۔ اصول اور فروغ میں صریح تناقض پایا جاتا ہے۔ کلیات جو بیان کئے جاتے ہیں ان کا مزاج کچھ اور ہوتا ہے اور عمل درآمد کے لئے جو جزئیات مقرر کئے جاتے ہیں ان کا مزاج کوئی اور صورت اختیار کر لیتا ہے۔ فکر و تعطل کے آسمانوں پر چڑھ کر ایک نظریہ پیش کر دیا جاتا ہے، مگر جب عالم بالا سے اتر کر واقعات اور عمل کی دنیا میں آدمی اپنے نظریہ عمل کو جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہاں عملی مسائل میں وہ کچھ ایسا کھویا جاتا ہے کہ اسے خود اپنا نظریہ یاد نہیں رہتا۔ انسانی ساخت کے قوانین میں سے کوئی ایک قانون بھی اس کمزوری سے خالی نہیں پایا گیا۔ اب آپ دیکھیں، اور خوردبین لگا کر انتہائی نکتہ چینی کی نگاہ سے دیکھیں کہ یہ قانون جو ریگستان عرب کے ایک ان پڑھ انسان نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جس کے مرتب کرنے میں اس نے کسی مجلس قانون ساز اور کسی سلکٹ کمیٹی سے مشورہ تک نہیں لیا، اس میں بھی کہیں کوئی منطقی بے ربطی اور کسی تناقض کی جھلک پائی جاتی ہے؟
اسلامی نظام معاشرت
تنظیم معاشرت کے سلسلہ میں سب سے اہم سوال، جیسا کہ ہم کسی دوسرے موقع پر بیان کر چکے ہیں، صنفی میلان کو انتشار عمل سے روک کر ایک ضابطہ میں لانے کا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر تمدن کی شیرازہ بندی ہی نہیں ہو سکتی اور اگر ہو بھی جائے تو اس شیرازہ کو بکھرنے اور انسان کو شدید اخلاقی و ذہنی انحطاط سے بچانے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ اس غرض کے لئے اسلام نے عورت اور مرد کے تعلقات کو مختلف حدود کا پابند کر کے ایک مرکز پر سمیٹ دیا ہے۔
سب سے پہلے اسلامی قانون ان تمام مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے لئے حرام کرتا ہے جو باہم مل کر رہنے یا نہایت قریبی تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں۔ مثلا ماں اور بیٹا باپ اور بیٹی، بھائی اور بہن، پھوپھی اور بھتیجا، چچا اور بھتیجی، خالہ اور بھانجا، ماموں اور بھانجی، سوتیلا باپ اور بیٹی، سوتیلی ماں اور بیٹا ساس اور داماد خسر اور بہو، سالی اور بہنوئی بہن کی زندگی میں) اور رضائی رشته دار (سوره نساء۔ ۲۳-۲۴) ان تعلقات کی حرمت قائم کر کے ان کو صنفی میلان سے اس قدر پاک کر دیا گیا ہے کہ ان رشتوں کے مرد اور عورت یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ ایک دوسرے کی جانب کوئی صنفی کشش رکھتے ہیں۔ (بجز ایسے خبیث بہائم کے جن کی بہیمیت کسی اخلاقی ضابطہ کی حد میں رہنا قبول نہیں کرتی)
اس طرح حدود و قیود لگا کر صنفی انتشار کے تمام راستے بند کر دیئے گئے مگر انسان کی حیوانی سرشت کے اقتضا اور کارخانہ قدرت کے مقررہ طریقہ کو جاری رکھنے کے لئے ایک دروازہ کھولنا بھی ضرور تھا۔ سو وہ دروازہ نکاح کی صورت میں کھولا گیا اور کہہ دیا گیا کہ اس ضرورت کو تم پورا کرو۔ مگر منتشر اور بے ضابطہ تعلقات میں نہیں، چوری چھپے بھی نہیں ، کھلے بندوں بے حیائی کے طریقہ پر بھی نہیں، بلکہ باقاعدہ اعلان و اظہار کے ساتھ، ناکہ تمہاری سوسائٹی میں یہ بات معلوم اور مسلم ہو جائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ہو چکے
"ان عورتوں کے سوا جو عورتیں ہیں تمہارے لئے حلال کیا گیا کہ تم اپنے اموال کے بدلہ میں (مردے کر) ان سے احصان (نکاح) کا باضابطہ تعلق قائم کرو نہ کہ آزاد شهوت رانی کا ........ پس ان عورتوں کے متعلقین کی رضامندی سے ان کے ساتھ نکاح کرو - - - – اس طرح کہ وہ قید نکاح میں ہوں نہ یہ کہ کھلے بندوں یا چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔"
یہاں اسلام کی شان اعتدال دیکھئے کہ جو صنفی تعلق دائرہ ازدواج کے باہر حرام اور قابل نفرت تھا وہی دائرہ ازدواج کے اندر نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے، کار ثواب ہے، اس کو اختیار کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، اس سے اجتناب کرنے کو ناپسند کیا جاتا ہے اور زوجین کا ایسا تعلق ایک عبادت بن جاتا ہے۔ حتی کہ اگر عورت اپنے شوہر کی جائز خواہش سے بچنے کے لئے نفل روزہ رکھ لے یا نماز و تلاوت میں مشغول ہو جائے تو وہ الٹی گنہ گار ہو گی۔ اس باب میں نبی اکرم علیم کے چند حکیمانہ اقوال ملاحظہ ہوں۔
" تم کو نکاح کرنا چاہئے کیونکہ وہ آنکھوں کو بد نظری سے روکنے اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے کی بہترین تدبیر ہے اور جو شخص تم میں سے نکاح کی قدرت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو دبانے والا ہے۔"
"بخدا میں خدا سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے میں تم سب سے بڑھ کر ہوں، مگر مجھے دیکھو کہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور راتوں کو سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، یہ میرا طریقہ ہے اور جو میرے طریقہ سے اجتناب کرے اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔"
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھ لے اور اس کے حسن سے متاثر ہو تو اپنی بیوی کے پاس چلا جائے کیونکہ اس کے پاس وہی ہے جو اس کے پاس تھا۔"
ان تمام احکامات و ہدایات سے شریعت کا منشاء یہ ہے کہ صنفی انتشار کےتمام دروازے مسدود کئے جائیں، زوجی تعلقات کو دائرہ ازدواج کے اندر محدود کیا جائے، اس دائرہ کے باہر جس حد تک ممکن ہو کسی قسم کی صنفی تحریکات نہ ہوں اور جو تحریکات خود طبیعت کے اقتضاء یا اتفاقی حوادث سے پیدا ہوں ان کی تسکین کے لئے ایک مرکز بنا دیا جائے۔ عورت کے لئے اس کا شوہر اور مرد کے لئے اس کی بیوی . نا که انسان تمام غیر طبعی اور خود ساختہ ہیجانات اور انتشار عمل سے بچ کر اپنی مجمتع قوت (Conservated Energy) کے ساتھ نظام تمدن کی خدمت کرے اور وہ صنفی محبت اور کشش کا مادہ جو اللہ تعالٰی نے اس کارخانہ کو چلانے کے لئے ہر مرد و عورت میں پیدا کیا ہے، تمام تر ایک خاندان کی تخلیق اور اس کے استحکام میں صرف ہو۔ ازدواج ہر حیثیت سے پسندیدہ ہے، کیونکہ وہ فطرت انسانی اور فطرت حیوانی دونوں کے منشاء اور قانون الہی کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔ اور ترک ازدواج ہر حیثیت سے ناپسندیدہ کیونکہ وہ دو برائیوں میں ۔ ایک برائی کا حامل ضرور ہو ہو گا یا تو انسان قانون فطرت کے نشاء کو پورا ہی نہ کرے گا اور اپنی قوتوں کو فطرت سے لڑنے میں ضائع کر دے گا یا پھر وہ اقتضائے طبیعت سے مجبور ہو کر غلط اور ناجائز طریقوں سے اپنی خواہشات کو پورا کرے گا۔
صنفی میلان کو خاندان کی تخلیق اور اس کے استحکام کا ذریعہ بنانے کے بعد اسلام خاندان کی تنظیم کرتا ہے اور یہاں بھی وہ پورے توازن کے ساتھ قانون فطرت کے ان تمام پہلوؤں کی رعایت ملحوظ رکھتا ہے جن کا ذکر اس سے پہلے کیا جا چکا ہے۔ عورت اور مرد کے حقوق متعین کرنے میں جس درجہ عدل و انصاف اس نے ملحوظ رکھا ہے، اس کی تفصیلات میں نے ایک الگ کتاب میں بیان کی ہیں جو "حقوق الزوجین" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے اس کی طرف مراجعت کرنے سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ دونوں صنفوں میں جس حد تک مساوات قائم کی جا سکتی تھی وہ اسلام نے قائم کر دی ہے۔ لیکن اسلام اس مساوات کا قائل نہیں ہے جو قانون فطرت کے خلاف ہو۔ انسان ہونے کی حیثیت سے جیسے حقوق مرد کے ہیں ویسے ہی عورت کے ہیں۔
لیکن زوج فاعل ہونے کی حیثیت سے ذاتی فضیلت ( معنی عزت نہیں بلکہ معنی غلبه تقدم مرد کو حاصل ہے، وہ اس نے پورے انصاف کے ساتھ مرد کو عطا کی ہے۔
خاندان میں مرد کی حیثیت قوام کی ہے، یعنی وہ خاندان کا حاکم ہے، محافظ ہے، اخلاق اور معاملات کا نگران ہے، کی بیوی اور بچوں پر اس کی اطاعت فرض ہے (بشرطیکہ وہ اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم نہ دے) اور اس پر خاندان کے لئے روزی کمانے اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے-
"مرد عورتوں پر قوام ہیں اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر عطا کی ہے اور اس بناء پر کہ وہ ان پر (صر و نفقہ کی صورت میں) اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔"
”نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عورت اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف گھر سے نکلتی ہے تو آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت بھیجتا ہے اور جن و انس کے سوا ہر وہ چیز جس پر سے وہ گزرتی ہے پھنکار بھیجتی ہے، تاوقتیکہ وہ واپس نہ ہو۔"
"اور جن بیویوں سے تم کو سرکشی و نافرمانی کا خوف ہو ان کو نصیحت کرو (نہ مانیں تو خواب گاہوں میں ان سے ترک تعلق کرو پھر بھی باز نہ آئیں تو مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان پر زیادتی کرنے کے لئے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔"
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص خدا کی اطاعت نہ کرے اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ اللہ کی نافرمانی میں کسی شخص کی فرمانبرداری نہیں کی جا سکتی۔ فرمانبرداری صرف معروف میں ہے۔ "(یعنی ایسے حکم میں جو جائز اور معقول ہو)"
”اور ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے لیکن اگر وہ تجھ کو حکم دیں کہ تو میرے ساتھ کوئی شریک ٹھہرائے جس کے لئے تیرے پاس کوئی دلیل ہی نہیں ہے تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کر۔"
اس طرح خاندان کی تنظیم اس طور پر کی گئی ہے کہ اس کا ایک سر دھرا اور صاحب امر ہو۔ جو شخص اس نظم میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے اس کے حق میں نبی اکرم سلیم کی یہ وعید ہے کہ :
اس تنظیم میں عورت کو گھر کی ملکہ بنایا گیا ہے۔ کسب مال کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اور اس مال سے گھر کا انتظام کرنا اس کا کام ہے۔
اس پر نماز باجماعت اور مسجدوں کی حاضری بھی لازم نہیں کی گئی۔ اگر چه چند پابندیوں کے ساتھ مسجدوں میں آنے کی اجازت ضرور دی گئی ہے، لیکن اس کو پسند نہیں کیا گیا۔
اس کو محرم کے بغیر سفر کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی (ترمذی، باب آیت کی ابتداء یا نساء النبی سے کی گئی ۔ ہے۔ لیکن اس پوری آیت میں جو ہدایات دی گئی تحج بغیر محرم)
غرض ہر طریقہ سے عورت کے گھر سے نکلنے کو ناپسند کیا گیا ہے اور اس کے لئے قانون اسلامی میں پسندیدہ صورت یہی ہے کہ کہ وہ گھر میں رہے، جیسا کہ آيت وقرن في بيوتكن ا ........ كا صاف نشاء ہے لیکن اس باب میں زیادہ سختی اس لئے نہیں کی گئی کہ بعض حالات میں عورتوں کے لئے گھر سے نکلنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک عورت کا کوئی سر دھرا نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے محافظ خاندان کی مفلسی، قلت معاش، بیماری، معذوری یا اور ایسے ہی وجوہ سے عورت باہر کام کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسی تمام صورتوں کے لئے قانون میں کافی گنجائش رکھی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے :
قد اذن الله لكن ان تخرجن لحوائجكن (بخاری، باب خروج النساء لحوا نجمن وفي هذا المعنی، حدیث فی المسلم، باب اباحه الخروج النساء تمضاء حاجته الانسان)
مگر اس قسم کی اجازت جو محض حالات اور ضروریات کی رعایت سے دی گئی ہے، اسلامی نظام معاشرت کے اس قاعدے میں ترمیم نہیں کرتی کہ عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے۔ یہ تو محض ایک وسعت اور رخصت ہے اور اس کو اسی حیثیت میں رہنا چاہئے۔
١- بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حکم نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے خاص ہے کیونکہ آیت کی ابتداء یا نساء النبی سے کی گئی ۔ ہے۔ لیکن اس پوری آیت میں جو ہدایات دی گئی ہیں۔ ان میں سے کون سی ہدایت ایسی ہے جو امہات المومنین کے ساتھ خاص ہو ؟ فرمایا گیا ہے :
"اگر تم پر ہیز گار ہو تو دبی زبان سے لگاوٹ کے انداز میں کسی سے بات نہ کرو تاکہ جس شخص کے دل میں کھوٹ ہو وہ تمہارے متعلق کچھ امیدیں اپنے دل میں نہ پال لے۔ جو بات کرو سیدھے سادے انداز میں کرو۔ اپنے گھروں میں جبھی بیٹھی رہو ۔ جاہلیت کے بناؤ سنگھار نہ کرتی پھرو۔ نماز پڑھو۔ زکوۃ دو۔ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ چاہتا ہے کہ گندگی کو تم سے دور کر دے ۔ "
ان ہدایات پر غور کیجئے۔ ان میں سے کون سی چیز ہے جو عام مسلمان عورتوں کے لئے نہیں ہے؟ کیا مسلمان عورتیں پر ہیز گار نہ بنیں؟ کیا وہ غیر مردوں سے لگاوٹ کی باتیں کیا کریں؟ کیا وہ جاہلیت کے بناؤ سنگھار کرتی پھریں؟ کیا وہ نماز و زکوۃ اور اطاعت خدا اور رسول سے انحراف کریں؟ کیا اللہ تعالٰی ان کو گندگی میں رکھنا چاہتا ہے ؟ اگر یہ سب ہدایات سب مسلمان عورتوں کے لئے عام ہیں تو صرف وقرن فی بیوتکن ہی کو ازواج نبی کے ساتھ خاص کرنے کی کیا وجہ ہے؟
در اصل غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ آیت کی ابتداء میں لوگوں کو یہ الفاظ نظر آئے کہ "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لیکن انداز بیان بالکل اس طرح کا ہے جیسے کسی شریف بچہ سے کہا جائے کہ "تم کوئی عام بچوں کی طرح تو ہو نہیں کہ بازاروں میں پھرو اور بیہودہ حرکات کرو، تمہیں تمیز سے رہنا چاہئے۔" ایسا کہنے سے یہ مقصد نہیں ہو تا کہ دوسرے بچوں کے لئے بازاری پن اور بیہودہ حرکات پسندیدہ ہیں اور خوش تمیزی ان کے حق میں مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ اس سے حسن اخلاق کا ایک معیار قائم کرنا مقصود ہوتا ہے تاکہ ہر وہ بچہ جو شریف بچوں کی طرح رہنا چاہتا ہو اس معیار پر پہنچنے کی کوشش کرے۔ قرآن میں عورتوں کے لئے نصیحت کا یہ طریقہ اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ عرب جاہلیت کی عورتوں میں ویسی ہی آزادی تھی جیسی اس وقت یورپ میں ہے۔ نبی اکرم علم کے ذریعہ سے بتدریج ان کو اسلامی تہذیب کا خوگر بنایا جا رہا تھا اور ان کے لئے اخلاقی حدود اور ضابطہ معاشرت کی قیود منظور کی جا رہی تھیں۔ اس حالت میں امہات المومنین کی زندگی کو خاص طور پر منضبط کیا گیا تاکہ وہ دوسری عورتوں کے لئے نمونہ بن جائیں اور عام مسلمانوں کے گھروں میں ان کے طریقوں کی تقلید کی جائے۔ ٹھیک یہی رائے علامہ ابوبکر جصاص نے اپنی کتاب احکام القرآن" میں ظاہر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔
"یہ حکم اگر چہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کی بیویوں کے حق میں نازل ہوا ہے مگر اس کی مراد عام ہے، جس میں آپ اور دوسرے سب مسلمان شریک ہیں کیونکہ ہم آپ کی پیروی پر مامور ہیں اور وہ سب احکام جو آپ کے لئے نازل ہوئے ہیں، ہمارے لئے بھی ہیں بجز ان امور کے جن کے متعلق تصریح ہے کہ وہ آپ کے لئے خاص ہیں ۔ " (جلد سوم ص ۵۵)
بالغ عورت کو اپنے ذاتی معاملات میں کافی آزادی بخشی گئی ہے، مگر اس کو اس حد تک خود اختیاری عطا نہیں کی گئی جس حد تک بالغ مرد کو عطا کی گئی ہے۔
مرد اپنے اختیار سے جہاں چاہیے جا سکتا ہے لیکن عورت خواہ کنواری ہو یا شادی شده یا بیوہ ہر حال میں ضروری ہے کہ سفر میں اس کے ساتھ ایک محرم ہو۔
"اور ابو ہریرہ پیٹھ کی روایت نبی اکرم علیم سے یہ ہے کہ حضور اکرم علیہ وسلم نے فرمایا عورت ایک دن رات کا سفر نہ کرے جب تک کہ اس کے ساتھ کوئی محرم مرد نہ ہو۔"
وعن أبي هريرة ايضا" ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لا يحل لامرأة مسلمة تسافر مسيرة ليلة الا ومعها رجل نو حرمة منها (ابوداؤد باب في المراة حج بغیر محرم)
"اور حضرت ابو ہریرہ بھی الحمد سے یہ بھی روایت ہے کہ حضور اکرم السلام نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لئے حلال نہیں کہ ایک ان روایات میں جو اختلاف مقدار سفر کی تعیین میں ہے وہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ دراصل ایک دن یا دو دن کا سوال اہمیت نہیں رکھتا، بلکہ اہمیت صرف اس امر کی ہے کہ عورت کو تنہا نقل و حرکت کرنے کی ایسی آزادی نہ دی جائے جو موجب فتنہ ہو۔ اسی لئے حضور اکرم سلیم نے مقدار سفر معین کرنے میں زیادہ اہتمام نہ فرمایا اور مختلف حالات میں وقت اور موقع کی رعایت مختلف مقدار میں ارشاد فرمائیں۔
مرد کو اپنے نکاح کے معالمہ میں پوری آزادی حاصل ہے۔ مسلمان یا کتابیہ عورتوں میں سے جس کے ساتھ چاہے وہ نکاح کر سکتا ہے اور لونڈی بھی رکھ سکتا ہے، لیکن عورت اس معاملہ میں کلیتہ " خود مختار نہیں ہے۔ وہ کسی غیر قوم سے نکاح نہیں کر سکتی۔
وہ اپنے غلام سے بھی تمتع نہیں کر سکتی۔ قرآن میں جس طرح مرد کو لونڈی سے تمتع کی اجازت دی گئی ہے اس طرح عورت کو نہیں دی گئی۔ حضرت عمر بھی چھو کے زمانہ میں ایک عورت نے ما ملکت ایمانکم ....... کی غلط تاویل کر کے اپنے غلام سے تمتع کیا تھا۔ آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے یہ معاملہ صحابہ کی مجلس شوری میں پیش کیا اور سب نے بالاتفاق فتوی دیا کہ :
غلام اور کافر کو چھوڑ کر آزاد مسلمان مردوں میں سے عورت اپنے لئےشوہر کا انتخاب کر سکتی ہے، لیکن اس معاملہ میں بھی اس کے لئے اپنے باپ، دادا بھائی اور دوسرے اولیاء کی رائے کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ اولیاء کو یہ حق نہیں کہ عورت کی مرضی کے خلاف کسی سے اس کا نکاح کر دیں کیونکہ ارشاد نبوی ہے :
مگر عورت کے لئے بھی یہ مناسب نہیں کہ اپنے خاندان کے ذمہ دار مردوں کی رائے کے خلاف جس کے ساتھ چاہے نکاح کر لے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جہاں مرد کے نکاح کا ذکر ہے وہاں نکح ينكح کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی خود نکاح کر لینے کے ہیں، مثلاً:
مگر جہاں عورت کے نکاح کا ذکر آیا ہے وہاں عموما" باب افعال سے انکاح کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی نکاح کر دینے کے ہیں۔ مثلاً :
اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح شادی شدہ عورت اپنے شوہر کی تابع ہے اسی طرح غیر شادی شدہ عورت اپنے خاندان کے ذمہ دار مردوں کی تابع ہے۔ مگر یہ تابعیت اس معنی میں نہیں ہے کہ اس کے لئے ارادہ و عمل کی کوئی آزادی نہیں یا اسے اپنے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ نظام معاشرت کو اختلال و برہمی سے محفوظ رکھنے اور خاندان کے اخلاق و معاملات کو اندرونی و بیرونی فتنوں سے بچانے کی ذمہ داری مرد پر ہے اور اس نظم کی خاطر عورت پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ جو شخص اس نظم کا ذمہ دار ہو اس کی اطاعت کرے، خواہ وہ اس کا شوہر ہو یا باپ یا بھائی۔
این طرح اسلام نے بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُم على بعض کو ایک فطری حقیقت تسلیم کرنے کے ساتھ ہی وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ....... کی بھی ٹھیک ٹھیک تعیین کر دی ہے۔ عورت اور مرد میں حیاتیات اور نفسیات کے اعتبار سے جو فرق ہے اس کو وہ بعینہ قبول کرتا ہے، جتنا فرق ہے اسے جوں کا توں برقرار رکھتا ہے اور جیسا فرق ہے اس کے لحاظ سے ان کے مراتب اور وظائف مقرر کرتا ہے۔
ایک یہ کہ مرد کو جو حاکمانہ اختیارات محض خاندان کے نظم کی خاطر دیئے ان سے ناجائز فائدہ اٹھا کر وہ ظلم نہ کر سکے اور ایسا نہ ہو کہ تابع و متبوع کا تعلق عموما لونڈی اور آقا کا تعلق بن جائے۔
دوسرے یہ کہ عورت کو ایسے تمام مواقع بہم پہنچائے جائیں جن سے فائدہ اٹھا کر وہ نظام معاشرت کے حدود میں اپنی فطری صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ ترقی دے سکے اور تعمیر تمدن میں اپنے حصے کا کام بہتر سے بہتر انجام دے سکے۔
تیسرے یہ کہ عورت کے لئے ترقی اور کامیابی کے بلند سے بلند درجوں تک پہنچنا ممکن ہو ، مگر اس کی ترقی اور کامیابی جو کچھ بھی ہو عورت ہونے کی حیثیت سے ہو۔ مرد بننا تو اس کا حق ہے، نہ مردانہ زندگی کے لئے اس کو تیار کرنا اس کے لئے اور تمدن کے لئے مفید ہے اور نہ مردانہ زندگی میں وہ کامیاب ہو سکتی ہے۔
مذکورہ بالا تینوں امور کی پوری پوری رعایت ملحوظ رکھ کر اسلام نے عورت کو جیسے وسیع تمدنی و معاشی حقوق دیئے ہیں، اور عزت و د شرف کے جو بلند مراتب عطا کئے ہیں، اور ان حقوق و مراتب کی حفاظت کے لئے اپنی اخلاقی اور قانونی هدایات میں جیسی پایدار ضمانتیں مہیا کی ہیں، ان کی نظیر دنیا کے کسی قدیم و جدید نظام معاشرت میں نہیں ملتی۔
سب سے اہم اور ضروری چیز جس کی بدولت تمدن میں انسان کی منزلت قائم ہوتی ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ اپنی منزلت کو برقرار رکھتا ہے، وہ اس کی معاشی حیثیت کی مضبوطی ہے۔ اسلام کے سوا تمام قوانین نے عورت کو معاشی حیثیت سے کمزور کیا ہے اور یہی معاشی بے بسی معاشرت میں عورت کی غلامی کا سب سے بڑا سبب بنی ہے۔ یورپ نے اس حالت کو بدلنا چاہا مگر اس طرح کہ عورت کو ایک کمانے والا فرد بنا دیا۔ یہ ایک دوسری عظیم تر خرابی کا باعث بن گیا۔ اسلام بیچ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ عورت کو وراثت کے نہایت وسیع حقوق دیتا ہے۔ باپ سے شوہر سے اولاد سے اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے اس کو وراثت _ا ملتی ہے۔ نیز شوہر سے اس کو مہر بھی ملتا ہےاور ان تمام ذرائع سے جو کچھ مال اس کو پہنچتا ہے اس میں ملکیت اور قبض و تصرف کے پورے حقوق اسے دیئے گئے ہیں جن میں مداخلت کا اختیار نہ اس کے باپ کو حاصل ہے، نہ شوہر کو نہ کسی اور کو۔ مزید براں اگر وہ کسی تجارت میں روپیہ لگا کر یا خود محنت کر کے کچھ کمائے تو اس کی مالک بھی کلیتہ " وہی ہے اور ان سب کے باوجود اس کا نفقہ ہر حال میں اس کے شوہر پر واجب ہے۔ بیوی خواہ کتنی ہی مالدار ہو، اس کا شوہر اس کے نفقہ سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔اس طرح اسلام میں عورت کی معاشی حیثیت اتنی مستحکم ہو گئی ہے کہ بسا اوقات وہ مرد سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتی ہے۔
١- وراثت میں عورت کا حصہ مرد کےمقابلہ میں نصف رکھا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کو نفقہ اور مہر کے حقوق حاصل ہیں جن سے مرد محروم ہے۔ عورت کا نفقہ صرف اس کے شوہر ہی پر واجب نہیں ہے بلکہ شوہر نہ ہونے کی صورت میں باپ، بھائی، بیٹے یا دوسرے اولیاء پر اس کی کفالت واجب ہوتی ہے۔ پس جب عورت پر وہ ذمہ داریاں نہیں ہیں جو مرد پر ہیں، تو وراثت میں اس کا حصہ بھی وہ نہ ہونا چاہئے جو مرد کا ہے۔
(۱) عورت کو شوہر کے انتخاب کا پورا حق دیا گیا ہے۔ اس کی مرضی کےخلاف یا اس کی رضامندی کے بغیر کوئی شخص اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ خود اپنی مرضی سے کسی مسلم کے ساتھ نکاح کر لے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ البته اگر اس کی نظر انتخاب کسی ایسے شخص پر پڑے جو اس کے خاندان کے مرتبے سے گرا ہوا ہو تو صرف اس صورت میں اس کے اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔
”تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے ہیں اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ لطف و مہربانی کا سلوک کرنے والے ہیں۔"
یہ محض اخلاقی ہدایت ہی نہیں ہے۔ اگر شوہر اپنے اختیارات کے استعمال میں ظلم سے کام لے تو عورت کو قانون سے مدد لینے کا حق بھی حاصل ہے۔
(۴) بیوی اور مطلقہ عورتوں اور ایسی تمام عورتوں کو جن کے نکاح از روئے قانون فسخ کئے گئے ہوں یا جن کو حکم تفریق کے ذریعہ سے شوہر سے جدا کیا گیا نکاح ثانی کا غیر مشروط حق دیا گیا ہے اور اس امر کی تصریح کر دی گئی ہے کہ ان پر شوہر سابق یا اس کے کسی رشتہ دار کا کوئی حق باقی نہیں۔ یہ وہ حق ہے جو آج تک یورپ اور امریکہ کے بیشتر ممالک میں بھی عورت کو نہیں ملا ہے۔
(۵) دیوانی اور فوجداری کے قوانین میں عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات قائم کی گئی ہے۔ جان و مال اور عزت کے تحفظ میں اسلامی قانون عورت اور مرد کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں رکھتا۔
عورتوں کو دینی اور دنیوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کو اسی قدر ضروری قرار دیا گیا ہےجس قدر مردوں کی تعلیم و تربیت ضروری ہےنبی اکرم مریم -دین و اخلاق کی تعلیم جس طرح مرد حاصل کرتے تھے اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں۔آپ نے ان کے لئے اوقات معین فرما دیے تھے جن میں وہ آپ سے علم حاصل کرنےکےلئےحاضر ہوتی تھیں۔ آپ کی ازواج مطہرات اور خصوصا" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها نہ صرف عورتوں کی، بلکہ مردوں کی بھی معلمہ تھیں اور بڑے بڑے صحابہ و تابعین ان سے حدیث، تفسیر اور فقہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اشراف تو درکنار، نبی اکرم ﷺ نے لونڈیوں تک کو علم اور ادب سکھانے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ حضور اکرم علم کا ارشاد ہے کہ :
ايما رجل كانت عنده وليدة فعلمها فاحسن تعليمها وانبها فاحن تانيبها ثم اعتقها وتزوجها فله اجران (بخاری كتاب النكاح) "جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کو خوب تعلیم دے اور عمدہ تہذیب و شائستگی سکھائے پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔"
پس جہاں تک نفس تعلیم و تربیت کا تعلق ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا ہے۔ البتہ نوعیت میں فرق ضروری ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اس کو ایک بہترین بیوی، بہترین ماں اور بہترین گھر والی بنائے۔ اس کا دائرہ عمل گھر ہے۔ اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کو ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہئے جو اس دائرہ میں اسے زیادہ مفید بنا سکتے ہوں۔ مزید براں وہ علوم بھی اس کے لئے ضروری ہیں جو انسان کو انسان بنانے والے اور اس کے اخلاق کو سنوارنے والے اور اس کی نظر کو وسیع کرنے والے ہیں۔ ایسے علوم اور ایسی تربیت سے آراستہ ہونا ہر مسلمان عورت کے لئے لازم ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی عورت غیر معمولی عقلی و ذہنی استعداد رکھتی ہو، اور ان علوم کے علاوہ دوسرے علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہے تو اسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے، بشرطیکہ وہ ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے عورتوں کے لئے مقرر کئے ہیں۔
یہ تو صرف حقوق کا ذکر ہے۔ مگر اس سے اس احسان عظیم کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا جو اسلام نے عورت پر کیا ہے۔ انسانی تمدن کی پوری تاریخ اس پر گواہ ہے کہ عورت کا وجود دنیا پر ذلت، شرم اور گناہ کا وجود تھا۔ بیٹی کی پیدائش باپ کے لئے سخت عیب اور موجب ننگ و عار تھی۔ سسرالی رشتے ذلیل سمجھے جاتے تھے حتی کہ سرے اور سالے کے الفاظ اسی جاہلی تخیل کے تحت آج تک گالی کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ بہت سی قوموں میں اسی ذلت سے بچنے کے لئے لڑکیوں کو قتل کر دینے کا رواج ہو گیا تھا۔اے جہلا تو در کنار علماء اور پیشوایان مذہب تک میں مدتوں یہ سوال زیر بحث رہا کہ آیا عورت انسان بھی ہے یا نہیں؟ اور خدا نے اس کو روح بخشی ہے یا نہیں؟ ہندو مذہب میں ویدوں کی تعلیم کا دروازہ عورت کے لئے بند تھا۔ بدھ مت میں عورت سے تعلق رکھنے والے کے لئے نروان کی کوئی صورت نہ تھی۔ مسیحیت اور یہودیت کی نگاہ میں عورت ہی انسانی گناہ کی بانی مبانی اور ذمہ دار تھی۔ یونان میں گھر والیوں کے لئے نہ علم تھا نہ تہذیب و ثقافت تھی اور نہ حقوق مدنیت۔ یہ چیزیں جس عورت کو ملتی تھیں وہ رنڈی ہوتی تھی۔ روم اور ایران اور چین اور مصر اور تہذیب انسانی کے دوسرے مرکزوں کا حال بھی قریب قریب ایسا ہی تھا۔ صدیوں کی مظلومی و محکومی اور عالمگیر حقارت کے برتاؤ نے خود عورت کے ذہن سے بھی عزت نفس کا احساس مٹا دیا تھا۔ وہ خود بھی اس امر کو بھول گئی تھی کہ دنیا میں وہ کوئی حق لے کر پیدا ہوئی ہے یا اس کے لئے بھی عزت کا کوئی مقام ہے۔مرد اس پر ظلم و ستم کرنا اپنا حق سمجھتا تھا اور وہ اس کے ظلم کو سہنا اپنا فرض جانتی تھی۔ غلامانہ ذہنیت اس حد تک اس میں پیدا کر دی گئی تھی کہ وہ فخر کے ساتھ اپنے آپ کو شوہر کی داسی" کہتی تھی۔ ”پتی ورتا اس کا دھرم تھا اور پتی درتا کے معنی یہ تھے کہ شوہر اس کا معبود اور دیوتا ہے۔
"اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی اور وہ زہر کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ اس خبر سے جو شرم کا داغ اس کو لگ گیا ہے اس کے باعث لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیا ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہوں یا مٹی میں دبا دوں۔"
اس ماحول میں جس نے نہ صرف قانونی اور عملی حیثیت سے بلکہ ذہنی حیثیت سے بھی ایک انقلاب عظیم برپا کیا وہ اسلام ہے۔ اسلام نے ہی عورت اور مرد دونوں کی ذہنیتوں کو بدلا ہے۔ عورت کی عزت اور اس کے حق کا تخیل ہی انسان کے دماغ میں اسلام کا پیدا کیا ہوا ہے۔ آج حقوق نسواں اور بیداری اناث کے جو الفاظ آپ سن رہے ہیں، یہ سب اسی انقلاب انگیز صدا کی بازگشت ہیں جو محمد علم کی زبان سے بلند ہوئی تھی اور جس نے افکار انسانی کا رخ ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔ وہ محمد علیم ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ عورت بھی ویسی ہی انسان ہے جیسا مرد ہے۔
ایمان اور عمل صالح کےساتھ روحانی ترقی کے جو درجات مرد کو مل سکتے ہیں وہی عورت کےلئےبھی کھلے ہوئے ہیں۔ مرد اگر ابراہیم بن ادہم بن سکتا ہے تو عورت کو بھی رابعہ بصریہ بننے سے کوئی شے نہیں روک سکتی۔
"ان کے رب نے ان کی دعا کے جواب میں فرمایا کہ میں تم سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہ نہ کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے کی جنس سے ہو۔"
"اور جو کوئی بھی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، مگر ہو ایماندار، تو ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر رتی برابر ظلم نہ ہو گا۔"
پھر وہ محمد صلی اللّہ علیہ وسلم ہی ہیں جنہوں نے مرد کو بھی خبردار کیا اور عورت میں بھی یہ احساس پیدا کیا کہ جیسے حقوق عورت پر مرد کے ہیں ویسے ہی مرد پر عورت کے ہیں۔
پھر وہ محمد ﷺ ہی کی ذات ہے جس نے ذلت اور عار کے مقام سے اٹھا کر عورت کو عزت کے مقام پر پہنچایا۔ وہ حضور اکرم ی ہی ہیں جنہوں نے باپ کو بتایا کہ بیٹی کا وجود تیرے لئے جنگ و عار نہیں ہے بلکه اس کی پرورش اور اس کی حق رسانی تجھے جنت کا مستحق بناتی ہے۔
"جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے جیسے میرے ہاتھ کی دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں۔"
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی نے بیٹے کو بتایا کہ خدا اور رسول کے بعد سب سےزیادہ عزت اور قدر و منزلت اور محسن سلوک کی مستحق تیری ماں ہے۔
"ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! مجھ پر حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تیرا باپ۔"
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ ہی نے انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ جذبات کی فراوانی اور حیات کی نزاکت اور انتہا پسندی کی جانب میل و انعطاف عورت کی فطرت میں ہے۔ اسی فطرت پر اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے اور یہ انوشت کے لئے عیب نہیں ہے۔ اس کا حسن ہے۔ تم اس سے جو کچھ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو اس فطرت پر قائم رکھ کر ہی اٹھا سکتے ہو۔ اگر اس کو مردوں کی طرح سیدھا اور سخت بنانے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے۔
اسی طرح محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہ پہلے اور در حقیقت وہ آخری شخص ہیں جنہوں نےعورت کی نسبت نہ صرف مرد کی بلکہ خود عورت کی اپنی زہنیت کو بھی بدل دیا اور جاہلی ذہنیت کی جگہ ایک نهایت صحیح ذهنیت پیدا کی جس کی بنیاد جذبات پر نہیں بلکہ خالص عقل اور علم پر تھی۔ پھر آپ نے باطنی اصلاح پر ہی اکتفا نہ فرمایا بلکہ قانون کے ذریعہ سے عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور مردوں کے ظلم کی روک تھام کا بھی انتظام کیا اور عورتوں میں اتنی بیداری پیدا کی کہ وہ اپنے جائز حقوق کو سمجھیں اور ان کی حفاظت کے لئے قانون سے مدد لیں۔
سرکار رسالت ماب ﷺ کی ذات میں عورتوں کو ایک ایسا رحیم و شفیق حامی اور ایسا زبردست محافظ مل گیا تھا کہ اگر ان پر ذرا سی بھی زیادتی ہوتی تو وہ شکایت لے کر بے تکلف حضور اکرم کے پاس دوڑ جاتی تھیں اور مرد اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کی بیویوں کو آنحضرت سلیم تک شکایت لے جانے کا موقع نہ مل جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر بھی چھ کا بیان ہے کہ جب تک حضور اکرم ﷺ زندہ رہے ہم اپنی عورتوں سے بات کرنے میں احتیاط کرتے تھےکہ مبادا ہمارے حق میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ جب حضور اکرم لم نے وفات پائی تب ہم نے کھل کر بات کرنی شروع کی۔ (بخاری، باب الوصايا بالنساء)
ابن ماجہ میں ہے کہ حضور اکرم علیم نے بیویوں پر دست درازی کرنے کی عام ممانعت فرما دی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت عمر پیٹھ نے شکایت کی کہ عورتیں بہت شوخ ہو گئی ہیں، ان کو مطیع کرنے کے لئے مارنے کی اجازت ہونی چاہئے۔آپ نے اجازت دے دی۔ لوگ نہ معلوم کب سے بھرے بیٹھے تھے۔ جس روز اجازت ملی اسی روز ستر عورتیں اپنے گھروں میں چیٹی گئیں۔ دوسرے دن نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مکان پر فریادی عورتوں کا ہجوم ہو گیا۔ سرکار نے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا، خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا :
"آج محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس ستر عورتوں نے چکر لگایا ہے۔ ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی۔ جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے وہ تم میں ہرگز اچھے لوگ نہیں ہیں۔"
اسی اخلاقی اور قانونی اصلاح کا نتیجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں عورت کو وہ بلند حیثیت حاصل ہوئی جس کی نظیر دنیا کی سوسائٹی میں نہیں پائی جاتی۔ مسلمان عورت دنیا اور دین میں مادی، عقلی اور روحانی حیثیات سے عزت اور ترقی کے ان بلند سے بلند ہدارج تک پہنچ سکتی ہے جن تک مرد پہنچ سکتا ہے اور اس کا ہونا کسی مرتبہ میں بھی اس کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ آج اس بیسویں صدی میں بھی دنیا اسلام ۔ سے بہت پیچھے ہے۔ افکار انسانی کا ارتقاء اب بھی اس مقام تک نہیں پہنچا ہے جس پر اسلام پہنچا ہے۔ مغرب نے عورت کو جو کچھ دیا ہے عورت کی حیثیت سے نہیں دیا ہے بلکہ مرد بنا کر دیا - عورت در حقیقت اب بھی اس کی نگاہ میں دیسی ہی ذلیل ہے جیسی پرانی دور جاہلیت میں تھی۔ گھر کی ملکہ شوہر کی بیوی، بچوں کی ماں، ایک اصلی اور حقیقی عورت کے لئے اب بھی کوئی عزت نہیں۔ عزت اگر ہے تو اس مرد مونشه یا زن مزکر کے لئے جو جسمانی حیثیت سے تو عورت مگر دماغی اور ذہنی حیثیت سے مرد ہو اور تمدن و معاشرت میں مرد ہی کے سے کام کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ انوشت کی عزت نہیں رجولیت کی عزت ہے، پھر احساس پستی کی ذہنی الجھن (Inferiority Complex ) کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ مغربی عورت مردانہ لباس فخر کے ساتھ پہنتی ہے، حالانکہ کوئی مرد زنانہ لباس پہن کر بر سر عام آنے کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔ بیوی بننا لاکھوں مغربی عورتوں کے نزدیک موجب ذلت ہے، حالانکہ شوہر بننا کسی مرد کے نزدیک ذلت کا موجب نہیں۔ مردانہ کام کرنے میں عورتیں عزت محسوس کرتی ہیں، حالانکہ خانہ داری اور پرورش اطفال جیسے خالص زنانہ کاموں میں کوئی مرد عزت محسوس نہیں کرتا۔ پس بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ مغرب نے عورت کو بحیثیت عورت کے کوئی عزت نہیں دی ہے۔ یہ ہمارا کام اسلام اور صرف اسلام نے کیا ہے کہ عورت کو تمدن و معاشرت میں اس کے فطری مقام ہی پر رکھ کر عزت و شرف کا مرتبہ عطا کیا اور صحیح معنوں میں انوشت کے درجہ کو بلند کر دیا۔ اسلامی تمدن عورت کو عورت اور مرد کو مرد رکھ کر دونوں ۔ سے الگ الگ وہی کام لیتا ہے جس کے لئے فطرت نے اسے بنایا ہے اور پھر ہر ایک کو اس کی جگہ پر ہی رکھتے ہوئے عزت اور ترقی اور کامیابی کے یکساں مواقع بہم پہنچاتا ہے۔ اس کی نگاہ میں انوشت اور رجولیت دونوں انسانیت کے ضروری اجزاء ہیں۔ تعمیر تمدن کے لئے دونوں کی اہمیت یکساں ۔دونوں اپنے اپنے دائرے میں جو خدمات انجام دیتے ہیں وہ یکساں مفید اور یکساں قدر کی مستحق ہیں۔ نہ رجولیت میں کوئی شرف ہے نہ انوثت میں کوئی زلت۔ جس طرح مرد کے لئے عزت اور ترقی اور کامیابی اسی میں ہے کہ وہ مرد رہے اور مردانہ خدمات انجام دے۔ اسی طرح عورتہ کے لئے بھی عزت اور ترقی اور کامیابی اسی میں ہے کہ وہ عورت رہے اور زنانہ خدمات انجام دے - - - - ایک صالح تمدن کا کام یہی ہے کہ وہ عورت کو اس کے فطری دائرہ عمل میں رکھ کر پورے انسانی حقوق دے، عزت اور شرف عطا کرے۔ تعلیم و تربیت سے اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو چمکائے اور اسی دائرے میں اس کے لئے ترقیوں اور کامیابیوں کی راہیں کھولے۔
| کتاب | پرده |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |