نظریات پردے کی مخالفت جن وجوہ سے کی جاتی ہے وہ محض سلبی نوعیت ہی کے نہیں ہیں بلکہ دراصل ایک ثبوتی و ایجابی بنیاد پر قائم ہیں۔ ۔ ان کی بنا صرف یہی نہیں ہے کہ لوگ عورت کے گھر میں رہنے اور نقاب کے ساتھ باہر نکلنے کو ناروا قید سمجھتے ہیں اور بس اسے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ ان کے پیش نظر عورت کے لیے زندگی کا ایک دوسرا نقشہ . ہے۔ تعلقات مرد و زن کے مبارے میں وہ اپنا ایک مستقل نظریہ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عورتیں یہ نہ کریں بلکہ کچھ اور کریں اور پردے پر ان کا اعتراض اس وجہ سے ہے کہ " عورت اپنی اس خانہ نشینی اور روپوشی کے ساتھ نہ تو زندگی کا وہ نقشہ جما سکتی ہے، نہ وہ "کچھ اور" کر سکتی ہے۔
اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ "کچھ اور" کیا ہے اس کی تہ میں کون سے نظریات اور کون سے اصول ہیں، وہ بجائے خود کہاں تک درست اور معقول ہے اور عملاً اس سے کیا نتائج برآمد ہوئے ہے کہ اگر ان کے نظریات اور اصولوں کو جوں کا توں تسلیم کر لیا جائے تب تو پردہ اور وہ نظام معاشرت جس کا جز یہ پردہ ہے، واقعی سراسر غلط قرار پائے گا۔ مگر ہم بغیر کسی تنقید اور بغیر کسی عقلی اور تجربی امتحان کے آخر کیوں ان کے نظریات تسلیم کر لیں؟ کیا محض جدید ہوتا یا محض یہ واقعہ کہ ایک چیز دنیا میں زور شور سے چل رہی ہے، اس بات کے لیے بالکل کافی ہے کہ آدمی کسی جانچ پڑتال کے بغیر اس کے آگے سپر ڈال ہی دے؟
اٹھارویں صدی کا تصور آزادی جیسا کہ اس سے پہلے اشارہ کر چکا ہوں، اٹھارویں صدی میں جن فلاسفہ اور علمائے طبیعین اور اہل ادب نے اصلاح کی آواز بلند کی تھی ان کو دراصل ایک ایسے نظام تمدن سے سابقہ در پیش تھا جس میں طرح طرح کی جکڑ بندیاں تھیں، جو کسی پہلو سے لوچ اور لچک نام کو نہ رکھتا تھا، جو غیر معقول رواجوں، جامد قاعدوں اور عقل و فطرت کے خلاف صریح تناقضات سے لبریز تھا۔ صدیوں کے مسلسل انحطاط نے اس کو ترقی کے ہر راستہ میں سنگ گراں بنا دیا تھا۔ ایک طرف نئی عقلی و علمی بیداری طبقه متوسط (بورثوا طبقے) میں ابھرنے اور ذاتی جد و جہد سے آگے بڑھنے کا پر جوش جذبہ پیدا کر رہی تھی اور وہ اور دوسری طرف امراء اور پیشوایان مذہب کا طبقہ ان کے اوپر بیٹھا ہوا روایتی قیود کی گرہیں مضبوط کرنے میں لگا ہوا تھا۔ چرچ سے لے کر فوج اور عدالت کے محکموں تک شاہی محلوں سے لے کر کھیتوں اور مالی لین دین کی کوٹھیوں تک زندگی کا ہر شعبہ اور اجتماعی تنظیمات کا ہر ادارہ اس طرح کام کر رہا تھا کہ محض پہلے سے قائم شدہ حقوق کے زور پر چند مخصوص طبقے ان نئے ابھرنے والے لوگوں کی محنتوں اور قابلیتوں کے ثمرات چھین لے جاتے تھے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہر وہ کوشش جو اس صورت حال کی اصلاح کے لیے کی جاتی تھی، برسر اقتدار طبقوں کی خود غرضی و جہالت کے مقابلہ میں ناکام ہو جاتی تھی۔ ان وجوہ سے اصلاح و تغیر کا مطالبہ کرنے والوں میں روز بروز اندھا انقلابی جوش پیدا ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ بالاخر اس پورے اجتماعی نظام اور اس کے ہر شعبے اور ہر جز کے خلاف بغاوت کا جذبہ پھیل گیا اور شخصی آزادی کا ایک ایسا انتہا پسندانہ نظریہ مقبول عام ہوا جس کا مقصد سوسائٹی کے مقابلہ میں فرد کو حریت تامہ اور اباحت مطلقہ عطا کر دینا تھا۔ کہا جانے لگا کہ فرد کو پوری خود مختاری کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق ہر وہ کام کرنے کا حق ہونا چاہئے جو اس کو پسند آئے، اور ہر اس کام سے باز رہنے کی آزادی حاصل ہونی چاہئے جو اسے پسند نہ آئے۔ سوسائٹی کو اس کی انفرادی آزادی چھین لینے کا کوئی حق نہیں۔ حکومت کا فرض صرف یہ ہے کہ افراد کی اس آزادی عمل کو محفوظ رکھے، اور اجتماعی ادارات صرف اس لیے ہونے چاہئیں کہ مرد کو اس کے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیں۔
آزادی کا یہ مبالغہ آمیز تصور جو در اصل ایک ظالمانہ اجتماعی نظام کے خلاف غصے کا نتیجہ تھا، اپنے اندر ایک بڑے اور عظیم تر فساد کے جراثیم رکھتا تھا۔ جن لوگوں نے اس کو ابتداء پیش کیا وہ خود بھی پوری طرح اس کے منطقی نتائج سے آگاہ نہ تھے۔ شاید ان کی روح کانپ اٹھتی اگر ان کے سامنے وہ نتائج متمثل ہو کر آجاتے جن پر ایسی بے قید ابادت اور ایسی خودسرانه انفرادیت لازماً منتہی ہونے والی تھی۔ انہوں نے زیادہ تر ان ناروا سختیوں اور غیر معقول بندشوں کو توڑنے کے لیے اسے بطور ایک آلہ کے استعمال کرنا چاہا تھا جو ان کے زمانہ کی سوسائٹی میں پائی جاتی تھی۔ لیکن بالاخر اس تصور نے مغربی ذہن میں جڑ پکڑلی اور نشو و نما پانا شروع کر دیا۔
انیسویں صدی کے تغیرات فرانس کا انقلاب اسی تصور آزادی کے زیر اثر رونما ہوا۔ اس انقلاب میں بہت سے پرانے اخلاقی نظریات اور تمدنی و مذہبی ضابطوں کی دھجیاں اڑا دی گئیں اور جب ان کا اڑنا ترقی کا ذریعہ ثابت ہوا تو انقلاب پسند دماغوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہر وہ نظریہ اور ہر وہ ضابطہ عمل جو پہلے سے چلا آ رہا ہے ترقی کی راہ کا روڑا ہے، اسے بنائے بغیر قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ چنانچہ مسیحی اخلاقیات کے غلط اصولوں کو توڑنے کے بعد بہت جلدی ان کی مقراض تنقید انسانی اخلاقیات کے اساسی تصورات کی طرف متوجہ ہو گئی۔ یہ عصمت کیا بلا ہے؟ یہ جوانی پر تقویٰ کی مصیبت آخر کیوں ڈالی گئی ہے؟ نکاح کے بغیر اگر کوئی کسی سے محبت کر لے تو کیا بگڑ جاتا ہے؟ اور نکاح کے بعد کیا دل آدمی کے سینے سے نکل جاتا ہے کہ اس سے محبت کرنے کا حق چھین لیا جائے؟ اس قسم کے سوالات نئی انقلابی سوسائٹی میں ہر طرف سے اٹھنے لگے اور خصوصیت کے ساتھ افسانوي گروه (Romantic School) نے ان کو سب سے زیادہ زور کے ساتھ اٹھایا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں ژور ژماں (George Sand) اس گروہ کی لیڈر تھی۔ اس عورت نے خود ان تمام اخلاقی اصولوں کو توڑا جن پر ہمیشہ سے انسانی شرافت اور خصوصاً عورت کی عزت کا مدار رہا ہے۔ اس نے ایک شوہر کی بیوی ہوتے ہوئے حسن نکاح سے باہر آزادانہ تعلقات قائم کئے۔ آخر کار شوہر سے مفارقت ہوئی۔ اس کے بعد یہ دوست پر دوست بدلتی چلی گئی اور کسی کے ساتھ دو برس سے زیادہ نباہ نہ کیا۔ اس کی سوانح حیات میں کم از کم چھ ایسے آدمیوں کے نام ملتے ہیں جن کے ساتھ اس کی علانیہ اور باقاعدہ آشنائی رہی ہے۔ اس کے انہیں دوستوں میں سے ایک اس کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے۔
١- انفرادی آزادی کے اس تخیل سے موجودہ نظام سرمایہ داری، جمہوری نظام تمدن اور اخلاقی آوارگی (Licentiousness) کی تخلیق ہوئی اور تقریباً ڈیڑھ صدی کے اندر اس نے یورپ اور امریکہ میں اتنے ظلم ڈھائے کہ انسانیت اس کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہو گئی کیونکہ اس نظام نے فرد کو جماعتی مفاد کے خلاف خود غرضانہ عمل کرنے کا لائسنس دے کر اجتماعی فلاح و بہبود کو ذبح کر ڈالا اور جماعتی زندگی کو پارہ پارہ کر دیا۔ سوشلزم اور فاشزم دونوں اسی بغاوت کے مظاہر ہیں۔ لیکن اس نئی تعمیر میں ابتدا ہی سے ایک خرابی کی صورت مضمر ہے۔ یہ دراصل ایک انتہا کا علاج دوسری انتہا سے ہے۔ اٹھارویں صدی کے تصور حریت شخصی کا قصور یہ تھا کہ وہ جماعت کو فرد پر قربان کرتا تھا۔ اور اس بیسویں صدی کے تصور اجتماع کا قصور یہ ہے کہ یہ فرد کو جماعت پر قربان کرنا چاہتا ہے۔ فلاح انسانیت کے لیے ایک متوازن نظریہ آج بھی ویسا ہی ناپید ہے جیسا اٹھارویں صدی میں تھا۔
"ژور ژسال پہلے ایک پروانے کو پکڑتی ہے اور اسے پھولوں کے پنجرے میں قید کرتی ہے۔ یہ اس کی محبت کا دور ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنے پن سے اس کو چھونا شروع کرتی ہے اور اس کے پھڑ پھڑانے سے لطف اٹھاتی ہے۔۔۔ یہ اس کی سرد مہری کا دور ہوتا ہے اور دیر یا سویر یہ دور بھی ضرور آتا ۔ ہے۔۔۔ پھر وہ اس کے پر نوچ کر اور اس کا تجزیہ کر کے اسے ان پروانوں کے ذخیرے میں شامل کر لیتی ہے جن سے وہ اپنے ناولوں کے لیے ہیرو کا کام لیا کرتی ہے"۔
فرانسیسی شاعر الفرے سے (Alfred Musse) بھی اسی کے عشاق میں سے تھا اور آخر کار وہ اس کی بے وفائیوں سے اس قدر دل شکستہ ہوا کہ مرتے وقت اس نے وصیت کی کہ ژور ژساں اس کے جنازے پر نہ آنے پائے۔ یہ تھا اس عورت کا ذاتی کیریکٹر جو کم و بیش تمیں سال تک اپنی شاداب تحریروں سے فرانس کی نوخیز نسلوں پر گہرا اثر ڈالتی رہی۔
اپنے تاویل لیلیا (Lelia) میں وہ لیلیا کی طرف سے استینو کو لکھتی ہے۔ " جس قدر زیادہ مجھے دنیا کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے میں محسوس کرتی جاتی ہوں کہ محبت کے متعلق ہمارے نوجوانوں کے خیالات کتنے غلط ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ محبت ایک ہی سے ہونی چاہئے اور اس کا دل پر پورا قبضہ ہونا چاہئے اور وہ ہمیشہ کے لیے ہونی چاہئے۔ بلاشبہ تمام مختلف خیالات کو گوارا کرنا چاہئے۔ میں یہ ماننے کے لیے تیار ہوں کہ بعض خاص روحوں کو ازدواجی زندگی میں وفادار رہنے کا حق ہے مگر اکثریت کچھ دوسری ضروریات اور کچھ دوسری قابلیتیں رکھتی ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ طرفین ایک دوسرے کو آزادی دیں، باہمی رواداری سے کام لیں، اور اس خود غرضی کو دل سے نکال دیں جس کی وجہ سے رشک و رقابت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ تمام محبتیں صحیح ہیں، خواہ وہ تیز و تند ہوں یا پرسکون، شہوانی ہوں یا روحانی پائیدار ہوں یا تغیر پذیر لوگوں کو خود کشی کی طرف لے جائیں یا لطف و مسرت کی طرف"۔
اپنے ایک دوسرے ناول ”ڈاک" (Jaccuse) میں وہ اس شوہر کا کیریکٹر پیش کرتی ہے جو اس کے نزدیک شوہریت کا بہترین نمونہ ہو سکتا تھا۔ اس کے ہیرو ڈاک کی بیوی اپنے آپ کو ایک غیر مرد کی آغوش میں ڈال دیتی ہے۔ مگر فراخ دل شوہر اس سے نفرت نہیں کرتا اور نفرت نہ کرنے کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ جو پھول میرے بجائے کسی اور کو خوشبو دینا چاہتا ہے، مجھے کیا حق ہے کہ اسے پاؤں تلے روند ڈالوں۔
” میں نے اپنی رائے نہیں بدلی، میں نے سوسائٹی سے صلح نہیں کی، میری رائے میں نکاح تمام اجتماعی طریقوں میں وہ انتہائی وحشیانہ طریقہ ہے جس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آخر کار یہ طریقہ موقوف ہو جائے گا۔ اگر نسل انسانی نے انصاف اور عقل کی طرف کوئی واقعی ترقی کی۔ پھر اس کی جگہ ایک دوسرا طریقہ لے گا جو نکاح سے کم مقدس نہ ہو گا مگر اس سے زیادہ انسانی طریقہ ہو گا۔ اس وقت انسانی نسل ایسے مردوں اور عورتوں سے آگے چلے گی جو کبھی ایک دوسرے کی آزادی پر کوئی پابندی عائد نہ کریں گے۔ فی الحال تو مرد اتنے خود غرض اور عورتیں اتنی بزدل ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی موجودہ قانون سے زیادہ شریفانہ قانون کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ہاں! جن میں ضمیر اور نیکی کا فقدان ہے۔ ان کو تو بھاری زنجیروں میں جکڑا ہی جانا چاہئے"۔
یہ وہ خیالات ہیں جو ۱۸۳۳ء اور اس کے لگ بھگ زمانہ میں ظاہر کیے گئے تھے۔ ژور ژسان صرف اسی حد تک جا سکی۔ اس تخیل کو آخری منطقی نتائج تک پہنچانے کی اسے بھی ہمت نہ ہوئی۔ بایں ہمہ آزاد خیالی اور روشن دماغی، پرانے روایتی اخلاق کی تاریکی پھر بھی کچھ نہ کچھ اس کے دماغ میں موجود تھی۔ اس کے تیں پینتیس سال بعد فرانس میں ڈرامہ نویسوں، ادیبوں اور اخلاقی فلسفیوں کا ایک دوسرا لشکر نمودار ہوا جس کے سرخیل الکساندے دوما (Alexander Dumas) اور الفرے ناکے (Alfred Naquet) تھے۔ان لوگوں نے سارا زور اس خیال کی اشاعت پر صرف کیا کہ آزادی اور لطف زندگی بجائے خود انسان کا پیدائشی حق ہے اور اس حق پر ضوابط اخلاق و تمدن کی جکڑ بندیاں لگانا فرد پر سوسائٹی کا ظلم ہے۔ اس سے پہلے فرد کے لیے آزادی عمل کا مطالبہ محبت کے نام پر کیا جاتا تھا۔ بعد والوں کو یہ نری جذباتی بنیاد کمزور محسوس ہوئی۔ لہذا انہوں نے انفرادی خودسری آوارگی اور بے قید آزادی کو عقل، فلسفہ اور حکمت کی مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ نوجوان مرد اور عورتیں جو کچھ بھی کریں قلب و ضمیر کے کامل اطمینان کے ساتھ کریں اور سوسائٹی صرف یہی نہیں کہ ان کی شورش شباب کو دیکھ کر دم نہ مار سکے، بلکہ اخلاقاً جائز و مستحسن سمجھے۔
انیسویں صدی کے آخری دور میں پال آدم (Paul Adam) ہنری بتائی (Henry Bataille) پیرلوئی (Pierne Louis) اور بہت سے دوسرے ادیبوں نے اپنا تمام زور نوجوانوں میں جرات رندانہ پیدا کرنے پر صرف کیا تاکہ قدیم اخلاقی تصور رات کےبچےکھچےاثرات سےجو جھجک اور رکاوٹ طبیعتوں میں باقی ہے وہ نکل جائےچنانچہ پول اوان اپنی کتاب(La Morale De L amour)میں نوجوانوں کو ان کی اس جهالت و حماقت پر دل کھول کر ملامت کرتا ہے کہ وہ جس لڑکی یا لڑکے) سےمحبت کےتعلقات قائم کرتےہیں اس کو جھوٹ موٹ یہ یقین دلانےکی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس پر مر مٹے ہیں اور اس سے حقیقی عشق رکھتےہیں اور ہمیشہ اسی کےہو کر رہیں گے۔ پھر کہتا ہے :
"یہ سب باتیں اس کے لئے کی جاتی ہیں کہ جسمانی لذت کی اس صحیح خواہش کو جو فطری طور پر ہر آدمی میں ہوتی ہے اور جس میں کوئی بات فی الواقع گناہ یا برائی کی نہیں ہے پرانے خیالات کی بناء پر معیوب سمجھا جاتا ہے، اور اس لئے آدمی خواہ مخواہ جھوٹے الفاظ کے پردے میں اس کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ لاطینی قوموں کی یہ بڑی کمزوری ہے کہ ان میں محبت کرنے والے جوڑے ایک دوسرے پر اس بات کا صاف صاف اظہار کرتے ہوئے جھجھکتے ہیں کہ ملاقات سے ان کا مقصد محض ایک جسمانی خواہش کو پورا کرنا اور لطف اٹھانا ہے۔"
"شائستہ اور معقول انسان بنو اپنی خواہشات اور لذات کے خادموں اے کو اپنا معبود نہ بنا لو۔ نادان ہے وہ جو محبت کا مندر تعمیر کر کے اس میں ایک ہی بت کا پجاری بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ لطف کی ہر گھڑی میں ایک نئے مہمان کا انتخاب کرنا چاہئے۔ " اے
پیرلوئی نے ان سب سے چار قدم آگے بڑھ کر پورے زور کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا کہ اخلاق کی بندشیں در اصل انسانی ذہن اور دماغی قوتوں کے نشوونما میں حائل ہوتی ہیں، جب تک ان کو بالکل توڑ نہ دیا جائے اور انسان پوری آزادی کے ساتھ جسمانی لذات سے متمتع نہ ہو، کوئی عقلی و علمی اور مادی و روحانی ارتقاء ممکن نہیں ہے۔ اپنی کتاب افرودیت (Afrodite) میں وہ نہایت شدومد کے ساتھ یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ بابل اسکندریہ، ایتھنز روم، وینس اور تمدن و تہذیب کے تمام دوسرے مرکزوں کی بہار اور عروج و شباب کا زمانہ وہ تھا جو وہاں رندی، آوارگی اور نفس پرستی (Licentiousness) پورے زور پر تھی۔ مگر جب و جب وہاں اخلاقی اور قانونی بندشیں انسانی خواہشات پر عائد ہوئیں تو خواہشات کے ساتھ ساتھ آدمی کی روح بھی انہی بندشوں میں جکڑ گئی۔
یہ پیرلوئی وہ شخص ہے جو اپنے عہد میں فرانس کا نامور ادیب، صاحب طرز انشاء پرداز اور ادب کے ایک مستقل اسکول کا رہنما تھا، اس کے جلو میں افسانہ نگاروں، ڈرامہ نویسوں اور اخلاقی مسائل پر لکھنے والوں کا ایک لشکر تھا جو اس کے خیالات کو پھیلانے میں لگا ہوا تھا۔ اس نے اپنے قلم کی پوری طاقت عریانی اور مردوزن کی بے قیدی کو سراہنے میں صرف کر دی۔ اپنی اس کتاب "افرودیت" میں وہ یونان کے اس دور کی حمد وثنا کرتا ہے :
"جب کہ برہنہ انسانیت - - - - مکمل ترین صورت جس کا ہم تصور کر سکتے ہیں اور جس کے متعلق اہل مذہب نے ہم کو یقین دلایا ہے کہ خدا نے اسے خود اپنی صورت پر پیدا کیا ہے.- - - - - ایک مقدس بیسوا کی شکل میں باہزاراں ناز و ادا اپنے آپ کو ۲۰ ہزار زائرین کے سامنے پیش کر سکتی تھی۔ جب کہ کمال درجہ کی شہوانی محبت ------ وہی متبرک آسمانی محبت جس سے ہم سب پیدا ہوئے ہیں- - - - - نہ گناہ تھی، نہ شرم کی چیز تھی، نہ گندی اور نجس تهی-"
بیسویں صدی کی ترقیات انیسویں صدی میں خیالات کی ترقی یہاں تک پہنچ چکی تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں نئے شاہباز فضا میں نمودار ہوتے ہیں جو اپنے پیش روؤں بھی اونچے اڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ۱۹۰۸ء میں پیروولف (Pierre Wolff) اور گیستان لیرو (Gaston Lero) کا ایک ڈراما (Lelys) جس میں دو لڑکیاں اپنے جوان بھائی کے سامنے اپنے باپ سے اس مسئلے پر بحث کرتی نظر آتی ہیں کہ انہیں آزادانہ محبت کرنے کا حق ہے اور یہ کہ دل لگی کے بغیر زندگی گزارنا ایک نوجوان لڑکی کے لئے کس قدر المناک ہوتا ہے۔ ایک صاحبزادی کو بوڑھا باپ اس بات پر ملامت کرتا ہے کہ وہ ایک نوجوان سے ناجائز تعلقات رکھتی ہے۔ اس کے جواب میں صاحبزادی فرماتی ہیں :
جنگ عظیم نے اس آزادی کی تحریک کو اور زیادہ بڑھایا، بلکہ انتہائی مراتب تک پہنچا دیا۔ منع حمل کی تحریک کا اثر سب سے زیادہ فرانس پر ہوا تھا۔ مسلسل چالیس سال سے فرانس کی شرح پیدائش گر رہی تھی۔ فرانس کے ستاسی ۸۷ اضلاع میں سے صرف ہیں ۲۰ اضلاع ایسے تھے جن میں شرح پیدائش شرح اموات سے زیادہ تھی۔ باقی ۶۷ اضلاع میں اموات کی شرح پیدائش کی شرح سے بڑھی ہوئی تھی۔ بعض اقطاع ملک کا تو یہ حال تھا کہ وہاں ہر سو بچوں کی پیدائش کے مقابلہ میں ۱۳۰۔۱۴۰ اور ۱۶۰ تک اموات کی تعداد کا اوسط تھا۔ جنگ چھڑی تو عین اس وقت جبکہ فرانسیسی قوم کی موت اور زندگی کا مسئلہ درپیش تھا فرانس کے مدبروں کو معلوم ہوا کہ قوم کی گود میں لڑنے کے قابل نوجوان بہت ہی کم ہیں۔ اگر اس وقت ان قلیل التعداد جوانوں کو بھینٹ چڑھا کر قومی زندگی کو محفوظ کر بھی لیا گیا تو دشمن کے دوسرے حملہ میں بچ جانا محال ہو گا۔ اس احساس نے یکا یک تمام فرانس میں شرح پیدائش بڑھانے کا جنون پیدا کر دیا اور ہر طرف سے مصنفوں نے اخبار نویسوں نے، خطیبوں نے اور حد یہ ہے کہ سنجیدہ علماء اور اہل سیاست تک نے ہم زبان ہو کر پکارنا شروع کیا کہ بچے جنو اور جناؤ نکاح کے رسمی قیود کی کچھ پرواہ نہ کرو، ہر وہ کنواری لڑکی اور بیوہ، جو بطن کے لئے اپنے رحم کو رضا کارانہ پیش کرتی ہے، ملامت کی نہیں، عزت کی مستحق ہے۔اس زمانہ میں آزادی پسند حضرات کو قدرتی شہ مل گئی، اس لئے انہوں نے وقت کو سازگار دیکھ کر وہ سارے ہی نظریات پھیلا دیئے جو شیطان کی زنبیل میں بچے کھچے رہ گئے تھے۔
اسی دور میں پیرس کی فیکلٹی آف میڈیسن نے ایک فاضل ڈاکٹر کا مقالہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کرنے کے لئے پسند کیا اور اپنے سرکاری جریدہ میں اسے شائع کیا جس میں ذیل کے چند فقرے بھی پائے جاتے ہیں :
"ہمیں توقع ہے کہ کبھی وہ دن بھی آئے گا جب ہم بغیر جھوٹی تعلی اور بغیر کسی شرم و حیا کے یہ کہہ دیا کریں گے کہ مجھے ہیں سال کی عمر میں آتشک ہوئی تھی جس طرح اب بے تکلف کہہ دیتے ہیں کہ مجھے خون تھوکنے کی وجہ سے پہاڑ پر بھیج دیا گیا ...... یہ امراض تو لطف زندگی کی قیمت ہیں۔ جس نے اپنی جوانی اس طرح بسر کی کہ ان میں سے کوئی مرض لگنے کی بھی نوبت نہ آئی وہ ایک غیر مکمل وجود ہے۔ اس نے بزدلی یا سرد مزاجی یا مذہبی غلط فہمی کی بناء پر اس طبیعی وظیفہ کی انجام دہی سے غفلت برتی جو اس کے فطری وظائف میں شاید سب سے ادنی وظیفہ تھا۔"
نومالتھوسی تحریک کا لٹریچر آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر ان خیالات پر بھی ڈال لیجئے جو منع حمل کی تحریک کے سلسلے میں پیش کئے گئے ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں جب انگریز ماہر معاشیات (Malthus) نے آبادی کی روز افزوں ترقی کو روکنے کے لئے ضبط ولادت کی تجویز پیش کی تھی اس وقت اس کے تو خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ آئی ہو گی کہ اس کی یہی تجویز ایک صدی بعد زنا اور فواحش کی اشاعت میں سب سے بڑھ کر مددگار ثابت ہو گی۔ اس نے تو آبادی کی افزائش کو روکنے کے لئے ضبط نفس اور بڑی عمر میں نکاح کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر انیسویں صدی کے آخر میں جب نومالتصوسی تحریک (Neo-Malthusian Movement) اٹھی تو اس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ نفس کی خواہش کو آزادی کے ساتھ پورا کیا جائے اور اس کے فطری نتیجہ یعنی اولاد کی پیدائش کو سائینٹفک ذرائع سے روک دیا جائے۔ اس چیز نے بدکاری کے راستہ سے وہ آخری رکاوٹ بھی دور کر دی جو آزاد صنفی تعلقات رکھنے میں مانع ہو سکتی تھی، کیونکہ اب ایک عورت بلا اس خوف کے اپنے آپ کو ایک مرد کے حوالے کر سکتی ہے کہ اس سے اولاد ہو گی اور اس پر ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑے گا۔ اس کے نتائج بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ۔ یہاں ہم ان خیالات کے چند نمونے پیش کرنا چاہتے ہیں جو برتھ کنٹرول کے لٹریچر میں کثرت سے پھیلائے گئے ہیں۔
" ہر انسان کو فطری طور پر تین سب سے زیادہ قاہر اور پر زور حاجتوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ ایک غذا کی حاجت، دوسرے آرام کی حاجت اور تیسری شہوت۔ فطرت نے ان تینوں کو پوری قوت کے ساتھ انسان میں ودیعت کر دیا ہے اور ان کی تسکین میں خاص لذت رکھی ہے تاکہ انسان ان کی تسکین کا خواہش مند ہو۔ عقل اور منطق کا تقاضا ا یہ ہے کہ آدمی انہیں پورا کرنے کی طرف لیکے اور پہلی دو چیزوں کے معاملہ میں اس کا طرز عمل بھی یہی۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ تیسری چیز کے معاملہ میں اس کا طرز عمل مختلف ہے۔ اجتماعی اخلاق نے اس پر پابندی لگا دی ہے کہ صنفی خواہش کو حدود نکاح سے باہر پورا نہ کیا جائے۔ اور حدود نکاح میں زن و شوہر کے لئے وفاداری اور عصمت مالی فرض کر دی گئی ہے اور اس پر مزید یہ شرط بھی لگا دی گئی ہے کہ اولاد کی پیدائش کو نہ روکا جائے۔ یہ سب باتیں سراسر لغو ہیں۔ عقل اور فطرت کے خلاف ہیں، عین اپنے اصول میں غلط ہیں اور انسانیت کے لئے بد ترین نتائج پیدا کرنے والی ہیں۔"
”ہماری تمام خواہشات کی طرح محبت بھی ایک تغیر پذیر چیز ہے اس کو ایک طریقہ کے ساتھ مخصوص کر دینا قوانین فطرت میں ترمیم کرنا ہے۔ نوجوان خصوصیت کے ساتھ اس تغیر کی طرف رغبت رکھتے ہیں، اور ان کی یہ رغبت فطرت کے اس عظیم الشان منطقی نظام کے مطابق ہے جس کا تقاضا یہی ہے کہ ہمارے تجربات متنوع ہوں ...... آزاد تعلق ایک برتر اخلاق کا مظہر ہے اس لئے کہ وہ قوانین فطرت سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے، اور اس لئے بھی کہ وہ براہ راست جذبات، احساس اور بے غرض محبت سے ظہور میں آتا ہے۔ جس میلان و رغبت سے یہ تعلق واقع ہوتا ہے وہ بڑی اخلاقی قدر و قیمت رکھتا ہے۔ یہ بات بھلا اس تجارتی کاروبار کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے جو نکاح کو در حقیقت پیشه (Prostitution) بنا دیتا ہے۔"
دیکھئے اب نظریہ بدل رہا ہے، بلکہ الٹ رہا ہے۔ پہلے تو یہ کوشش تھی کہ زنا کو اخلاقا" معیوب سمجھنے کا خیال دلوں سے نکل جائے اور نکاح و سفاح دونوں مساوى الدرجہ ہو جائیں۔ اب آگے قدم بڑھا کر نکاح کو معیوب اور سفاح کو اخلاقی برتری کا مرتبہ دلوایا جا رہا ہے۔
" ایسی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ شادی کے بغیر بھی محبت کو ایک معزز چیز بنا دیا جائے ...... یہ خوشی کی بات ہے کہ طلاق کی آسانی اس نکاح کے طریقہ کو آہستہ آہستہ ختم کر رہی ہے، کیونکہ اب نکاح بس دو اشخاص کے درمیان مل کر زندگی بسر کرنے کا ایک ایسا معاہدہ ہے جس کو فریقین جب چاہیں ختم کر سکتے ہیں۔ یہ صنفی ارتباط کا ایک ہی صحیح طریقہ ہے۔"
" پچھلے ۲۵ سال میں ہم کو اتنی کامیابی تو ہو چکی ہے کہ حرامی بچہ کو قریب قریب حلالی بچہ کا ہم مرتبہ کر دیا گیا ہے۔ اب صرف اتنی کسر باقی ہے کہ صرف پہلی ہی قسم کے بچے پیدا ہوا کریں ناکہ مقابل کا سوال ہی باقی نہ رہے"
انگلستان کا مشہور فلسفی مل اپنی کتاب "آزادی" (On Liberty) میں اس بات پر بڑا زور دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کو شادی کرنے سے قانونا" روک دیا جائے جو اس بات کا ثبوت نہ دے سکیں کہ وہ زندگی بھر کے لئے کافی ذرائع رکھتے ہیں لیکن جس وقت انگلستان میں مجبہ گری (Prostitution) کی روک تھام کا سوال اٹھا تو اسی فاضل فلسفی نے بڑی سختی سے اس کی مخالفت کی۔ دلیل یہ تھی کہ یہ شخصی آزادی پر حملہ ہے اور ورکرز کی توہین ہے۔ کیونکہ یہ تو ان کے ساتھ بچوں کا سا سلوک کرنا ہوا !
غور کیجئے، شخصی آزادی کا احترام اس لئے ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا کر زنا کی جائے۔ لیکن اگر کوئی احمق اسی شخصی آزادی سے فائدہ اٹھا کر نکاح کرنا چاہے تو وہ ہرگز اس کا مستحق نہیں ہے کہ اس کی آزادی کا تحفظ کیا جائے۔ اس کی آزادی میں قانون کی مداخلت نہ صرف گوارا کی جائے بلکہ آزادی پسند فلسفی کا ضمیر اس کو عین مطلوب قرار دے گا ! یہاں اخلاقی نظریہ کا انقلاب اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ جو عیب تھا وہ صواب ہو گیا۔ جو صواب تھا وہ عیب ہو گا۔
| کتاب | پرده |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |