پرده

پردہ کے احکام

قرآن مجید کی جن آیات میں پر وہ کے احکام بیان ہوئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں :

”اے نبی ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے پاکیزگی کا طریقہ ہے۔ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور مومن عورتوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس زینت کے جو خود ظاہر ہو جائے اور وہ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے بکل مار لیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : شوہر، باپ، خسر بیٹے سوتیلے بیٹے، بھائی، بھتیجے بھانجے ، اپنی عورتیں، اپنے غلام‘ وہ مرد خدمت گار جو عورتوں سے کچھ مطلب نہیں رکھتے۔ وہ لڑکے جو ابھی عورتوں کی پردہ کی باتوں سے آگاہ نہیں ہوئے ہیں۔ (نیز ان کو حکم دو کہ) وہ چلتے وقت اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ مارتی چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے (آواز کے ذریعہ) اس کا اظہار ہو۔"

"اے نبی کی بیبیو ! تم کچھ عام عورتوں کی طرح تو ہو نہیں۔ اگر تمہیں پر ہیز گاری منظور ہے تو دبی زبان سے بات نہ کرو۔ کہ جس شخص کے دل میں کوئی خرابی ہے وہ تم سے کچھ توقعات وابستہ کر بیٹھے۔ بات سیدھی سادھی طرح کرو اور اپنے گھروں میں جمی بیٹھی رہو اور اگلے زمانہ جاہلیت کے سے بناؤ سنگھار نہ دکھاتی پھرو۔"

"اے نبی علم ! اپنی بیویوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہچانی جائیں گی اور ان کو ستایا نہ جائے گا۔"

ان آیات پر غور کیجئے۔ مردوں کو تو صرف اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ اپنی نگاہیں پست رکھیں اور فواحش سے اپنے اخلاق کی حفاظت کریں۔ مگر عورتوں کو مردوں کی طرح ان دونوں چیزوں کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اور پھر معاشرت اور برتاؤ کے بارے میں چند مزید ہدایتیں بھی دی گئی ہیں۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ان کے اخلاق کی حفاظت کے لئے صرف غض بصر اور حفظ فروج کی کوشش ہی کافی نہیں ہے بلکہ کچھ اور ضوابط کی بھی ضرورت ہے۔ اب ہم کو دیکھنا چاہئے کہ ان مجمل ہدایات کو نبی اکرم علیم اور آپ علم کے صحابہ نے اسلامی معاشرت میں کس طرح نافذ کیا ہے اور ان کے اقوال اور اعمال سےان ہدایات کی معنوی اور عملی تفصیلات پر کیا روشنی پڑتی ہے۔

غض بصر

سب سے پہلا جو حکم مردوں اور عورتوں کو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ غض بصر کرو۔ عموماً اس لفظ کا ترجمہ ”نظریں نیچی رکھو" یا "نگا ہیں پست رکھو" کیا جاتا ہے مگر اس سے پورا مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ حکم الہی کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہیں اور کبھی اوپر نظر ہی نہ اٹھائیں۔ مدعا دراصل یہ ہے کہ اس چیز سے پر ہیز اس چیز سے پر ہیز کرو جس کو حدیث میں آنکھوں کی زنا کہا گیا ہے۔ اجنبی عورتوں کے حسن اور ان کی زینت کی دید سے لذت اندوز ہونا مردوں کے لئے اور اجنبی مردوں کو مطمع نظر بنانا عورتوں کے لئے فتنے کا موجب ہے۔ فساد کی ابتداء طبعا" و عادتا" یہیں سے ہوتی ہے۔ اس لئے سب سے پہلے اسی دروازے کو بند کیا گیا ہے اور یہی غض بصر" کی مراد ہے۔ اردو زبان میں ہم اس لفظ کا مفہوم ” نظر بچانے" سے بخوبی ادا کر سکتے ہیں۔

یہ ظاہر ہے کہ جب انسان آنکھیں کھول کر دنیا میں رہے گا تو سب ہی چیزوں پر اس کی نظر پڑے گی۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کو اور کوئی عورت کسی مرد کو کبھی دیکھے ہی نہیں۔ اس لئے شارع نے فرمایا کہ اچانک نظر پڑ جائے تو معاف ہے، البتہ جو چیز ممنوع ہے وہ یہ ہے کہ ایک نگاہ میں جہاں تم کو حسن محسوس ہو وہاں دوبارہ نظر دوڑاؤ اور اس کو گھورنے کی کوشش کرو۔


"حضرت جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیم سے پوچھا کہ اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظر پھیر لو۔"


"حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے علی بیٹھ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو۔ پہلی نظر تمہیں معاف ہے مگر دوسری نظر کی اجازت نہیں۔"


”نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی اجنبی عورت کے محاسن پر شہوت کی نظر ڈالے گا تو قیامت کے روز اس کی آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔"

مگر بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں اجنبیہ کو دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ مثلا کوئی مریضہ کسی طبیب کے زیر علاج ہو، یا کوئی عورت کسی مقدمہ میں قاضی کے سامنے بحیثیت گواہ یا بحیثیت فریق پیش ہو، یا کسی آتش زدہ مقام میں کوئی عورت گھر گئی ہو یا پانی میں ڈوب رہی ہو، یا اس کی جان یا آبرو کسی خطرے میں مبتلا ہو۔ ا ایسی صورتوں میں چہرہ تو درکنار حسب ضرورت ستر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جسم کو ہاتھ بھی لگایا جا سکتا ہے، بلکہ ڈوبتی ہوئی یا جلتی ہوئی عورت کو گود میں اٹھا کر لانا بھی صرف جائز ہی نہیں، فرض ہے۔ شارع کا حکم یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں جہاں تک ممکن ہو اپنی نیت کو پاک رکھو۔ لیکن اقتضائے بشریت سے اگر جذبات میں کوئی خفیف سی تحریک پیدا ہو جائے تب بھی کوئی گناہ نہیں، کیونکہ ایسی نظر اور ایسےلمس کےلئے ضرورت داعی ہوئی .کہ فطرت کےمقتضیات کو بالکل روک دینے پر انسان قادر نہیں ہے۔ ا۔

١- اس مضمون کی تفصیل کے لیئے ملاحظہ ہو تفسیر امام رازی، آیه قل للمومنين يغضنوا من ابصارهم احكام القرقين الحاص، تغییر آیه مذکوره، فصل الوط والنظر واللمس المبسوط کتاب الاستحسان)

اسی طرح اجنبی عورت کو نکاح کے لئے دیکھنا اور تفصیلی نظر کے ساتھ دیکھنا نہ انه صرف جائز ہے، بلکہ احادیث میں اس کا حکم وارد ہوا ہے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غرض کے لئے عورت کو دیکھا ہے۔

عن المغيرة ابن شعبة انه خطب امراة فقال النبي صلى الله عليه وسلم انظر اليها فانه امری ان بودم بينكما۔ (ترندی باب ما جاء في النظر الى المخطوبة)

" مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ نبی اکرم علیم نے ان فرمایا کہ اس کو دیکھ لو کیونکہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت و اتفاق پیدا کرنے کے لئے مناسب تر ہو گا۔"

عن سهل ابن سعد ان امراة جائت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله جئت لاهب لك نفسی فنظر اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فصعد النظر اليها (بخاری، باب النظر الى المراة قبل الترويج)

"سهل ابن سعد سے روایت ہے کہ ایک عورت آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور بولی کہ میں اپنے آپ کو حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے نکاح میں دینے کے لئے آئی ہوں اس پر رسول اللہ سلیم نے نظر اٹھائی اور اس کو دیکھا۔"

عن ابي هريرة قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فاتاه رجل فاخبره تزوج امراة من الانصار فقال له رسول الله صلعم انظرت اليها؟ قال -لا قال فاذهب فانظر اليها فان في اعين الانصار شيئا۔ (مسلم، باب نذب من ارا و نكاح امراة الى ان لنظر الی و جها)

"حضرت ابو ہریرہ پینچو کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے انصار میں سے ایک عورت کے ساتھ نکاح کا ارادہ کیا ہے۔ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کیا تو نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نےفرمایا جا اور اس کو دیکھ لے، کیونکہ انصار کی آنکھوں میں عموماً عیب ہوتا ہے۔"

عن جابر بن عبدالله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا خطب أحدكم المرأة قال استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه الى نكاحها فليفعل (ابوداؤد ، باب في الرجل ينظر الى المرات و ہو یرید نزد بها)

"جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عليه وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہئے کہ آیا۔ اس میں کوئی چیز ہے جو اس کو اس عورت کے ساتھ نکاح کی رغبت دلانے والی ہو۔"

ان مستثنیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شارع کا مقصد دیکھنے کو کلیتہ " روک دینا نہیں ہے بلکہ دراصل فتنے کا سدباب مقصود ہے اور اس غرض کے لئے صرف ایسے دیکھنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جس کی کوئی حاجت بھی نہ ہو۔ جس کا کوئی تمدنی فائدہ بھی نہ ہو اور جس میں جذبات شہوانی کو تحریک دینے کے اسباب بھی موجود ہوں۔

یہ حکم جس طرح مردوں کے لئے ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہے۔ چنانچہ حدیث میں حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں۔ اتنے میں حضرت ابن ام مکتوم آئے جو نابینا تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے پردہ کرو۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا، کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ وہ ہم کو دیکھیں گے، نہ ہمیں پہچانیں گے۔ حضور اکرم ٹیم نے جواب دیا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو ؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو ؟!۔


مگر عورت کے مردوں کو دیکھنے اور مرد کے عورتوں کو دیکھنے میں نفسیات کے اعتبار سے ایک نازک فرق ہے۔ مرد کی فطرت میں اقدام ہے، کسی چیز کو پسند کرنے کے بعد وہ اس کے حصول کی سعی میں پیش قدمی کرتا ہے۔ مگر عورت کی فطرت میں تمانع اور فرار ہے، جب تک کہ اس کی فطرت بالکل ہی مسخ نہ ہو جائے۔ وہ کبھی اس قدر دراز دست اور جری اور بے باک نہیں ہو سکتی کہ کسی کو پسند کرنے کے بعد اس کی طرف پیش قدمی کرے۔ شارع نے اس فرق کو ملحوظ رکھ کر عورتوں کے لئے غیر مردوں کو دیکھنے کے معاملہ میں وہ سختی نہیں کی ہے جو مردوں کے لئے غیر عورتوں کو دیکھنے کے معاملہ میں کی ہے۔چنانچہ احادیث میں حضرت عائشہ کی یہ روایت مشہور ہے۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے موقع پر ان کو حبشیوں کا تماشا دکھایا تھا۔۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا مردوں کو دیکھنا مطلقاً ممنوع نہیں ہے، بلکہ ایک مجلس میں مل کر بیٹھنا اور نظر جما کر دیکھنا مکروہ ہے اور ایسی نظر بھی جائز نہیں جس میں فتنے کا احتمال ہو۔ وہی نابینا صحابی ابن مکتوم جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو پردہ کرنے کا حکم دیا تھا، ایک دوسرے موقع پر حضور اکرم علم انسی کے گھر میں فاطمہ بنت قیس کو عدت بسر کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے اپنی احکام القرآن میں اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے کہ فاطمہ بنت قیس ام شریک کے گھر میں عدت گزارنا چاہتی تھیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس گھر میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ، تم ابن مکتوم کے ہاں رہو کیونکہ وہ ایک اندھا آدمی ہے اور اس کے ہاں تم بے پردہ رہ سکتی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل مقصد فتنے کے احتمالات کو کم کرنا ہے۔ جہاں فتنے کا احتمال زیادہ تھا وہاں رہنے سے منع فرما دیا۔ جہاں احتمال کم تھا وہاں رہنے کی اجازت دے دی، کیونکہ بہرحال اس عورت کو کہیں رہنا ضرور تھا۔ لیکن جہاں کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی وہاں خواتین کو ایک غیر مرد کے ساتھ ایک مجلس میں جمع ہونے اور روبرو اس کو دیکھنے سے روک دیا۔


۲۔ یہ روایت بخاری اور مسلم اور نسائی اور مسند احمد وغیرہ میں کئی طریقوں سے آئی ہے۔بعض لوگوں نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ یہ واقعہ شائد اس وقت کا ہے جب حضرت عائشہ کمسن تھیں اور حجاب کے احکام نازل نہ ہوئے تھے ۔ مگر ابن حیان میں تصریح ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب جبش کا ایک وفد مدینے آیا تھا اور تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ اس فد کی آمد ۷ھ میں ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے حضرت عائشہ کی عمر اس وقت پندرہ سولہ برس کی تھی۔ نیز بخاری کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو چادر سے ڈھانکتے جاتے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ احکام حجاب بھی اس وقت نازل ہو چکے تھے۔

یہ سب مراتب حکمت پر مبنی ہیں اور جو شخص مغز شریعت تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو وہ باسانی سمجھ سکتا ہے کہ غض بصر کے احکام کن مصالح پر مبنی ہیں اور ان مصالح کے لحاظ سے ان احکام میں شدت اور تخفیف کا مدار کن امور پر ہے۔ شارع کا اصل مقصد تم کو نظر بازی سے روکنا ہے، ورنہ اسے تمہاری آنکھوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ یہ آنکھیں ابتداء میں بڑی معصوم نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔ نفس کا یہ شیطان ان کی تائید میں بڑے بڑے پر فریب دلائل پیش کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ یہ ذوق جمال ہے جو فطرت نے تم میں ودیعت کیا ہے۔ جمال فطرت کے دوسرے مظاہر و تجلیات کو جب تم دیکھتے ہو اور ان سے بہت ہی پاک لطف اٹھاتے ہو تو جمال انسانی کو بھی دیکھو اور روحانی لطف اٹھاؤ مگر اندر ہی اندر یہ شیطان لطف اندوزی کی لے کو بڑھاتا چلا جاتا ہے،یہاں تک کہ ذوق جمال ترقی کر کےشوق وصال بن جاتا ہے۔کون ہے جو اس حقیقت سے انکار کی جرات رکھتا ہو کہ دنیا مین جس قدر بدکاری اب تک ہوئی ہے اور اب ہو رہی ہے اس کا پہلا اور سب سے بڑا محرک یہی آنکھوں کا فتنہ ہے؟ کون یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اپنی صنف کے مقابل کے کسی حسین اور جوان فرد کو دیکھ کر اس میں وہی کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو ایک خوب صورت پھول کو دیکھ کر ہوتی ہیں؟ اگر دونوں قسم کی کیفیات میں فرق ہے اور ایک کے برخلاف دوسری کیفیت کم و بیش شہوانی کیفیت ہے تو پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ ایک ذوق جمال کے لئے بھی وہی آزادی ہونی چاہئے جو دوسرے ذوق جمال کے لئے ہے؟ شارع تمہارے ذوق جمال کو مٹانا تو نہیں چاہتا وہ کہتا ہے کہ تم اپنی پسند کے مطابق اپنا ایک جوڑا انتخاب کر لو۔ اور جمال کا جتنا ذوق تم میں ہے اس کا مرکز صرف اسی ایک کو بنا لو۔ پھر جتنا چاہو اس سے لطف اٹھاؤ۔ اس مرکز سے ہٹ کر دیدہ بازی کرو گے تو فواحش میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ اگر ضبط نفس یا دوسرے موانع کی بناء پر آوارگی عمل میں مبتلا نہ بھی ہوئے تو وہ آوارگی خیال سے کبھی نہ بچ سکو گے۔ تمہاری بہت سی قوت آنکھوں کے راستے ضائع ہو گی۔ بہت سے ناکردہ گناہوں کی حسرت تمہارے دل کو نا پاک کرے گی۔ بار بار فریب محبت میں گرفتار ہو گے اور بہت سی راتیں بیداری کے خواب دیکھنے میں جاگ جاگ کر ضائع کرو گے۔ بہت سے حسین ناگوں اور ناگنوں سے ڈسے جاؤ گے۔ تمہاری بہت سی قوت حیات دل کی دھڑکن اور خون کے بہیجان میں ضائع ہو جائے گی۔ یہ نا یہ نقصان کیا کچھ کم ہے ؟ اور یہ سب اپنے مرکز دید سے ہٹ کر دیکھنے کا ہی نتیجہ ہے۔ لہذا اپنی آنکھوں کو قابو میں رکھو۔ بغیر حاجت کے دیکھنا اور ایسا دیکھنا جو فتنے کا سبب بن سکتا ہو، قابل عذر ہے۔ اگر دیکھنے کی حقیقی ضرورت ہو یا اس کا کوئی تمدنی فائدہ ہو تو احتمال فتنہ کے باوجود دیکھنا جائز ہے اور اگر حاجت نہ ہو لیکن فتنے کا بھی احتمال نہ ہو تو عورت کے لئے مرد کو دیکھنا جائز ہے، مگر مرد کے لئے عورت کو دیکھنا جائز نہیں، الا یہ کہ اچانک نظریہ جائے۔

اظہار زینت کی ممانعت اور اس کے حدود

غض بصر کا حکم عورت اور مرد دونوں کے لیے تھا۔ اس کے چند احکام خاص عورتوں کے لئے ہیں۔ ان میں سے پہلا حکم یہ ہے کہ ایک محدود دائرے کے باہر اپنی زینت" کے اظہار سے پرہیز کرو۔

اس حکم کے مقاصد اور اس کی تفصیلات پر غور کرنے سے پہلے ان احکام کو پھر ایک مرتبہ ذہن میں تازہ کر لیجئے جو اس سے پہلے لباس اور ستر کے باب میں بیان ہو چکے ہیں۔ چہرے اور ہاتھوں کے سوا عورت کا پورا جسم ستر ہے جس کو باپ، چچا بھائی اور بیٹے تک کے سامنے کھولنا جائز نہیں۔ حتی کہ عورت پر بھی عورت کے ستر کا کھلنا مکروہ ہے۔ا۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھنے کے بعد اظہار زینت کے حدود ملاحظہ کیجئے۔

ا۔ عورت کو اجازت دی گئی ہے کہ اپنی زینت کو ان رشتہ داروں کے سامنے ظاہر کرے = شوہر، باپ، خسر، بیٹے سوتیلے بیٹے، بھائی، بھتیجے اور بھانجے۔


٣۔ وہ ایسے مردوں کے سامنے بھی زینت کے ساتھ آ سکتی ہے جو تابع یعنی زیر دست اور ماتحت ہوں اور عورتوں کی طرف میلان و رغبت رکھنے والے مردوں میں سے نہ ہوں۔۲؎

۴۔ عورت ایسے بچوں کے سامنے بھی اظہار زینت کر سکتی ہے جن میں ابھی صنفی احساسات پیدا نہ ہوئے ہوں۔ قرآن میں أَوِ الطِفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عورات النساء فرمایا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ”ایسے بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوئے ہوں۔

٥- اپنے میل جول کی عورتوں کے سامنے بھی عورت کا زینت کے ساتھ آنا جائز ہے۔ قرآن میں النساء (عورتوں) کے الفاظ نہیں کیے گئے بلکہ نسائهن (اپنی عورتوں) کے الفاظ کہے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ شریف عورتیں، یا اپنے کنبے یا رشتے، یا اپنے طبقے کی عورتیں مراد ہیں۔ ان کے ماسوا غیر عورتیں، جن میں ہر قسم کی مجهول الحال، اور مشتبه چال چلن والیاں اور آواره و بدنام سب ہی شامل ہوتی ہیں، اس اجازت سے خارج ہیں کیونکہ وہ بھی فتنہ کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی بنا پر جب شام کے علاقہ میں مسلمان گئے اور ان کی خواتین وہاں کی نصرانی اور یہودی عورتوں کے ساتھ بے تکلف ملنے لگیں تو حضرت عمر نےامیر شام حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو لکھا کہ مسلمان عورتوں کو اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ حماموں میں جانے سے منع کر دو۔ا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تصریح کی ہے کہ مسلمان عورت کفار اور اہل الذمہ کی عورتوں کے سامنے اس سے زیادہ ظاہر نہیں کر سکتی جو اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے“۔۲؎ اس سے کوئی مذہبی امتیاز مقصود نہ تھا بلکہ مسلمان عورتوں کو ایسی عورتوں کےاثرات سے بچانا مقصود تھا جن کے اخلاق اور تہذیب کا صحیح حال معلوم نہ ہو، یا جس حد تک معلوم ہو وہ اسلامی نقطہ نظر سے قابل اعتراض ہو۔ رہیں وہ غیر مسلم عورتیں جو شریف اور باحیا اور نیک خصلت ہوں تو وہ نا من ہی میں شمار ہوں گی۔

١- عورت کے لئے عورت کے جسم کا ناف سے گھٹنے تک حصہ کا دیکھنا اسی طرح حرام ہے جس طرح مرد کے لیے دوسرے مرد کا یہی حصہ جسم دیکھنا حرام ہے۔ اس کے سوا باقی حصہ جسم کو دیکھنا اس کے لیے مکروہ ہے۔ قطعی حرام نہیں ہے۔

۲۔ اس حکم کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ او التابعين غير اولى الاربعة من الرجال أى الاجراء والاتباع الذين ليسوا باكفاء وهو مع ذالك في عقولهم وله فلا هم لهم إلى النساء ولا يشتهونهن یعنی اس سے مراد مزدور ملازم اور تابعدار مرد ہیں جو عورتوں کے ہمسر نہ ہوں۔ نیز چالاک اور تیز قسم کے لوگ نہ ہوں بلکہ سیدھے سادھے لوگ ہیں جوعورتوں کی طرف شہوانی میلان نہ رکھتے ہوں۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد ۳، ص ۲۸۵)

شہوانی میلان نہ رکھنے کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں سرے سےشہوت ہی مفقود ہو ، جیسے بہت بوڑھے لوگ، ناقص العقل، ابلہ یا پیدائشی مخنث۔ دوسرے یہ کہ ان میں مردانہ قوت اور عورتوں کی طرف طبعی میلان موجود ہو تو مگر اپنی ماتحتی : ریر دستی کی وجہ سے وہ اس شخص کے گھر کی عورتوں کے ساتھ کسی قسم کے شہوانی جذبات وابستہ نہ کر سکتے ہوں جس کے ہاں مزدور یا ملازم کی حیثیت سے وہ کام کرتے ہوں، یا جس کے ہاں فقیر و مسکین کی حیثیت سے وہ خیرات طلب کرنے کے لیے جایا کرتے ہوں۔

اوِ التَّبِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجالِ کا اطلاق ان دونوں قسم کے آدمیوں پر ہو گا لیکن یہ خیال رہے کہ اس طرح کے تمام وہ مرد جن کے سامنے عورتوں کو زینت کے ساتھ آنے کی اجازت دی جائے، ان میں لازما " یہ دو صفتیں موجود ہونی چاہئیں۔ ایک یہ کہ وہ اس گھر کے تابع ہوں جس کی عورتیں ان کے سامنے آ رہی ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ اس گھر کی عورتوں کے ساتھ شہوانی غرض وابستہ کرنے کا تصور بھی نہ کر سکتے ہوں اور یہ دیکھنا ہر خاندان کے قوام کا کام ہے کہ ایسے جن تابعین کو وہ گھر میں آنے کی اجازت دے رہا ہے۔ ان پر غیر الاولی الاربة ہونے کا جو گمان اس نے ابتداء " کیا تھا وہ صحیح ثابت ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر ابتدائی اجازت کے بعد آگے چل کر کسی وقت یہ شبہ کرنے کی گنجائش نکل آئے کہ وہ اولی الاربہ میں سے ہیں تو اجازت منسوخ کر دینی چاہئے۔ اس معاملہ میں بہترین نظیر اس مخنث کی ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں آنے کی اجازت دے رکھی تھی، اور پھر ایک واقعہ کے بعد اس کو نہ صرف گھروں میں آنے سے روک دیا بلکہ مدینہ ہی سے نکال دیا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں ایک مخنث جو ازواج مطہرات کے پاس آیا جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ حضرت ام سلمہ کے ہاں بیٹھا ہوا ان کے بھائی حضرت عبداللہ سے باتیں کر رہا تھا۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور مکان میں داخل ہوتے ہوئے آپ نے سنا کہ وہ عبد اللہ سے کہہ رہا تھا۔ "اگر کل طائف فتح ہو گیا تو میں بادیہ بنت غیلان ثقفی کو تمہیں دکھاؤں گا جس کا حال یہ ہے کہ جب سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار بل نظر آتے ہیں اور جب پیچھے پلٹتی ہے تو آٹھ مل"۔ اس کے بعد ایک شرمناک فقرے میں اس نے اس عورت کے ستر کی تعریف کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ باتیں سن کر فرمایا : لقد غلغلت النظر اليها ياعد و الله (اے دشمن خدا تو نے اسے خوب نظریں گاڑ کر دیکھا ہے) پھر ازواج مطہرات سے فرمایا : میں دیکھتا ہوں کہ یہ عورتوں کے احوال سے واقف ہے، لہذا اب تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پھر آپ نے اس پر بھی بس نہ کیا بلکہ اسے مدینہ سے نکال کر پیداء میں رہنے کا حکم دیا کیونکہ اس نے بنت غیان کے ستر کا جو نقشہ کھینچا تھا اس سے آپ نے اندازہ فرمایا کہ اس شخص کے زنانہ پن کی وجہ سے عورتیں اس کے ساتھ اتنی بے تکلف ہو جاتی ہیں جتنی ہم جنس عورتوں سے ہو سکتی ہیں اور اس طرح یہ ان کے اندرونی احوال سے واقف ہو کر ان کی تعریفیں مردوں کے سامنے بیان کرتا ہے جس سے برے فتنے برپا ہو سکتے ہیں۔ (بذل الجهود کتاب اللباس، باب ماجاء في قوله تعالى غير اولى الاربه من الرجال)




ایک یہ کہ جس زینت کے اظہار کی اجازت اس محدود حلقہ میں دی گئی ہے وہ ستر عورت کے ماسوا ہے۔ اس سے مراد زیور پہننا، اچھے ملبوسات سے آراستہ ہوتا، سرما اور جنا اور بالوں کی آرائش اور دوسری وہ آرائشیں ہیں جو عورتیں اپنی انوثت کے اقتضاء سے اپنے گھر میں کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔

دوسرے یہ کہ اس قسم کی آرائشوں کے اظہار کی اجازت یا تو ان مردوں کے سامنے دی گئی ہے جن کو ابدی حرمت نے عورتوں کے لیے حرام کر دیا ہے یا ان لوگوں کے سامنے جن کے اندر صنفی میلانات نہیں ہیں، یا ان کے سامنے جو فتنے کا سبب نہ بن سکتے ہوں۔ چنانچہ عورتوں کے لئے نایمن کی قید ہے۔تابعین کے لیے غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ کی اور بچوں کے لیے لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ شارع کا منشاء عورتوں کے اظہار زینت کو ایسے حلقہ میں محدود کرتا ہے جس میں ان کے حسن اور ان کی آرائش سے کسی قسم کے ناجائز جذبات پیدا ہونے اور صنفی انتشار کے اسباب فراہم ہو جانے کا اندیشہ نہیں ہے۔

اس حلقے کے باہر جتنے مرد ہیں ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ ان کے سامنے اپنی زینت کا اظہار نہ کرو بلکہ چلنے میں پاؤں بھی اس طرح نہ مارو کہ چھپی ہوئی زینت کا حال آواز سے ظاہر ہو اور اس ذریعہ سے توجہات تمہاری طرف منعطف ہوں۔ اس فرمان میں جس زینت کو اجانب سے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ وہی زینت ہے جس کو ظاہر کرنے کی اجازت اوپر کے محدود حلقہ میں دی گئی ہے۔ مقصود بالکل واضح ہے۔ عورتیں اگر بن ٹھن کر ایسے لوگوں کے سامنے آئیں گی جو صنفی خواہشات رکھتے ہیں اور جن کے داعیات نفس کو ابدی حرمت نے پاکیزہ اور معصوم جذبات سےمبدل بھی نہیں کیا ہے، تو لامحالہ اس کے اثرات وہی ہوں گے جو مقتضائے بشریت ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ ایسےاظہار زینت سے ہر عورت فاحشہ ہی ہو کر رہے گی اور ہر مرد بالفعل بدکار ہی بن کر رہے گا۔ مگر اس سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ زینت و آرائش کے ساتھ عورتوں کے علانیہ پھرنے اور محفلوں میں شریک ہونے سے بے شمار جلی اور خفی، نفسانی اور مادی نقصانات رونما ہوتے ہیں۔ آج یورپ اور امریکہ کی عورتیں اپنی اور اپنے شوہروں کی آمدنی کا بیشتر حصہ اپنی آرائش پر خرچ کر رہی ہیں۔ اور روز بروز ان کا یہ خرچ اتنا بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ ان کے معاشی وسائل اس کے تحمل کی قوت نہیں رکھتے۔ا۔ کیا یہ جنون انہی پر شوق نگاہوں نے پیدا نہیں کیا ہے جو بازاروں اور دفتروں اور سوسائٹی کے اجتماعات میں آراستہ خواتین کا استقبال کرتی ہیں؟ پھر غور کیجئے کہ آخر عورتوں کی آرائش کا اس قدر شوق پیدا ہونے اور طوفان کی طرح بڑھنے کا سبب کیا ہے؟ یہی نا کہ وہ مردوں سے خراج تحسین وصول کرنا اور ان کی نظروں میں کھب جانا چاہتی ہیں۔۲؎

ا- حال میں کیمیاوی سامان بنانے والوں کی نمائش ہوئی تھی جس میں ماہرین کے بیانات سےمعلوم ہوا کہ انگلستان کی عورتیں اپنے سنگھار پر دو کروڑ پونڈ اور امریکہ کی عورتیں ساڑھے بارہ کروڑ پونڈ سالانہ خرچ کرتی ہیں اور قریب قریب ۹۰ فیصدی عورتیں کسی نہ کسی طریقہ کے Make up کی خوگر ہیں۔

٢- خوبصورت بننے کا جنون عورتوں میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اس کی خاطر وہ اپنی جائیں تک دے رہی ہیں۔ ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہلکی پھلکی گڑیا سی بن کر رہیں اور ان کے جسم پر ایک اونس بھی ضرورت سے زیادہ گوشت نہ ہو۔ خوبصورتی کے لیے پنڈلی، ران اور سینہ کے جو تاپ ماہرین نے مقرر کر دیئے ہیں، ہر لڑکی اپنے آپ کو اس پیمانہ کے اندر رکھنا چاہتی ہے۔ گویا اس کم بخت کی زندگی کا کوئی مقصد دوسروں کی نگاہوں میں مرغوب بننے کے سوا نہ رہا۔ اس مقصد کے لئے یہ بیچاریاں فاقے کرتی ہیں، جسم کو نشوونما دینے والی غذاؤں سے قصدا اپنے آپ کو محروم رکھتی ہیں، لیموں کے رس، تلخ قہوہ اور ایسی ہی ہلکی غذاؤں پر جیتی ہیں اور طبی مشورے کے بغیر، بلکہ اس کے خلاف ایسی دوائیں استعمال کرتی ہیں جو انہیں دبلا کریں۔ اس جنون کی خاطر بہت سی عورتوں نے اپنی جانیں دی ہیں اور دے رہی ہیں۔ ۱۹۳۷ء میں بوڈاپسٹ کی مشہور ایکٹرس جوی لاباس یکا یک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مرگئی۔ بعد میں تحقیق ۔ معلوم ہوا کہ وہ کئی سال سے قصدا نیم فاقہ کشی کی زندگی بسر کر رہی تھی اور جسم گھٹانے کی پیٹینٹ دوائیں استعمال کیے جاتی تھی۔ آخر اس کی قوتوں نے یکایک جواب دے دیا۔اس کے بعد پے درپے بوڈاپسٹ ہی میں تین اور ایسے ہی حادثے پیش آئے۔ ماگدا بر میلی جو اپنے حسن اور کمالات کے لیے تمام ہنگری میں مشہور تھی، اسی ” ہلکے پن" کے شوق کی نذر ہوئی۔ پھر ایک مغنیہ لوئیسا زا بو جس کے گانوں کی ہر طرف دھوم تھی، ایک رات عین اسٹیج پر اپنا کام کرتی ہوئی ہزارہا ناظرین کے سامنے غش کھا کر گر پڑی۔ اس کو یہ غم کھائے جاتا تھا کہ اس کا جسم موجودہ زمانے کے معیار حسن پر پورا نہیں اترتا۔ اس مصیبت کو کرنے کے لیے بیچاری نے مصنوعی تدبیریں اختیار کرنا شروع کیں اور دو مہینے میں ۶۰ پونڈ وزن کم کر ڈالا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دل حد سے زیادہ کمزور ہو گیا اور ایک دن وہ بھی خریداران حسن کی بھینٹ چڑھ کر رہی۔ اس کے بعد ایمولا نامی ایک اور ایکٹرس کی باری آئی اور اس نے مصنوعی تدبیروں سے اپنے آپ کو اتنا ہلکا کیا کہ ایک مستقل دماغی مرض میں مبتلا ہو گئی۔ اور اسٹیج کے بجائے اسے پاگل خانے کی راہ لینی پڑی۔ اس قسم کی مشہور شخصیتوں کے واقعات تو اخباروں میں آ جاتےمگر کون جانتا ہے کہ یہ حسن اور معشوقیت کا جنون جو گھر گھر پھیلا ہوا ہے، روزانہ کتنی صحتوں اور کتنی زندگیوں کو تباہ کرتا ہو گا؟ کوئی بتائے کہ یہ عورتوں کی آزادی ہے یا ان کی غلامی؟ اس نام نہاد آزادی نے تو ان پر مردوں کی خواہشات کا استبداد اور زیادہ مسلط کر دیا ہے۔ اس نے تو ان کو ایسا غلام بنایا ہے کہ وہ کھانے پینے اور تندرست رہنے کی وجہ سے بھی محروم ہو و گئیں۔ ان غریبوں کا تو جینا اور مرنا اب بس مردوں ہی کے لیے رہ گیا ہے۔

یہ کس لئے؟ کیا یہ بالکل ہی معصوم جذبہ ہے؟ کیا اس کی تہ میں وہ صنفی خواہشات چھپی ہوئی نہیں ہیں جو اپنے فطری دائرے سے نکل کر پھیل جانا چاہتی ہیں اور جن کے مطالبات کا جواب دینے کے لیے دوسری جانب بھی ویسی خواہشات موجود ہیں؟ اگر آپ اس سے انکار کریں گے تو شاید کل آپ یہ دعویٰ نہ میں کوئی لاوا باہر نکلنے کے لیے بے تاب نہیں ہے۔ آپ اپنے عمل کے مختار ہیں جو چاہے کیجئے۔ مگر حقائق سے انکار نہ کیجئے۔ یہ حقیقتیں اب کچھ مستور بھی نہیں رہیں سامنے آچکی ہیں اور اپنے آفتاب سے زیادہ روشن نتائج کے ساتھ آ چکی ہیں۔ آپ ان نتائج کو دانسته یا نادانسته قبول کرتے ہیں، مگر اسلام ان کو ٹھیک اسی مقام پر روک دینا چاہتا ہے جہاں سے ان کے ظہور کی ابتدا ہوتی ہے کیونکہ اس کی نظر اظهار زینت کے ظاهر معصوم انجام پر ہے جو تمام سوسائٹی پر قیامت کی سی تاریکی لے کر پھیل جاتا ہے۔


قرآن میں جہاں اجنبیوں کے سامنے زینت کا اظہار کرنے کی ممانعت ہے۔وہاں ایک استثناء بھی ہے۔ الا ما ظهر منها جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی زینت کے ظاہر ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جو خود ظاہر ہو جائے۔ لوگوں نے اس استثناء سے بہت کچھ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ان الفاظ میں کچھ زیادہ فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ شارع صرف یہ کہتا ہے کہ تم اپنے ارادہ سے غیروں کے سامنے اپنی زینت ظاہر نہ کرو، لیکن جو زینت خود ظاہر ہو جائے یا اضطرارا ظاہر ہی رہنے والی ہو اس کی تم پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ مطلب صاف ہے تمہاری نیت اظہار زینت کی نہ ہونی چاہئے۔ تم میں یہ جذبہ یہ ارادہ ہرگز نہ ہونا چاہئے۔ کہ اپنی آرائش غیروں کو دکھاؤ اور کچھ نہیں تو چھپے ہوئے زیوروں کی جھنکار ہی سنا کر ان کی توجہ اپنی طرف مائل کرو۔ تم کو اپنی طرف سے تو اخفائے زینت کی اختیاری کوشش کرنی چاہئے۔ پھر اگر کوئی چیز اضطرارا کھل جائے تو اس پر خدا تم سے کوئی مواخذہ نہ کرے گا۔ تم جن کپڑوں میں زینت کو چھپاؤ گی وہ تو بہر حال ظاہر ہی ہوں گے۔ تمہارا قد و قامت، تناسب جسمانی، ڈیل ڈول تو ان میں محسوس ہو گا۔ کسی ضرورت یا کام کاج کے لیے کبھی ہاتھ یا چہرے کا کوئی حصہ تو کھولنا ہی پڑے گا۔ کوئی حرج نہیں اگر ایسا ہو۔ تمہاری نیت اس کے اظہار کی نہیں۔ تم اس کے اظہار پر مجبور ہو۔ اگر ان چیزوں سے بھی کوئی کمینہ لذت لیتا ہے تو لیا کرے۔ اپنی بدنیتی کی سزا خود بھگتے گا۔ جتنی ذمہ داری تمدن اور اخلاق کی خاطر تم پر ڈالی گئی تھی۔ اس کو تم نے اپنی حد تک پورا کر دیا۔

ا۔ اجنبیوں میں زینت کے ساتھ ناز و انداز سے چلنے والی عورت ایسی ہے جیسے روز قیامت کی تاریکی کہ اس میں کوئی نور نہیں۔ (ترندی ، باب ماجاء في كرابيته خروج النساء في الزينته

یہ ہے صحیح مفہوم اس آیت کا۔ مفسرین کے درمیان اس کے مفہوم میں جتنے اختلافات ہیں، ان سب پر جب آپ غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ تمام اختلافات کے باوجود ان کے اقوال کا مدعا وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔

ابن مسعود ابراہیم نھی اور حسن بصری کے نزدیک زینت ظاہرہ سے مراد وہ کپڑے ہیں جن میں زینت باطنہ کو چھپایا جاتا ہے، مثلاً برقع یا چادر۔

ابن عباس، مجاہد، عطاء ابن عمر، انس، ضحاک، سعید بن جبیر، اوزاعی اور عامہ حنفیہ کے نزدیک اس سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہیں اور وہ اسباب زینت بھی اس استثناء میں داخل ہیں جو چہرے اور ہاتھ میں عادتا" ہوتے ہیں، مثلاً ہاتھ کی حنا اور انگوٹھی اور آنکھوں کا سرمہ وغیرہ۔



مسور بن مخرمه اور قتادہ ہاتھوں کو ان کی زینت سمیت کھولنے کی اجازت دیتے ہیں مگر چہرے کے باب میں ان کے اقوال سے ایسا متبادر ہوتا ہے کہ پورے چہرے کے بجائے وہ صرف آنکھیں کھولنے کو جائز رکھتے ہیں۔ا۔

ان اختلافات کے منشاء پر غور کیجئے۔ان سب مفسرین نے الا ما ظهر منها سےیہی سمجھا ہےکہ اللہ تعالی ایسی زینت کو ظاہر کرنےکی اجازت دیتا ہےجو اضطرارا ظاہر ہو جائےیا جس کو ظاہر کرنےکی ضرورت پیش آ جائے چہرے اور ہاتھوں کی نمائش کرنا یا ان کو مطح انتظار بنانا ان میں سے کسی کا بھی مقصود نہیں۔ ہر ایک نے اپنے فہم اور عورتوں کو ضروریات کے لحاظ سے یہ " سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ضرورت کس حد تک کس چیز کو بے حجاب کرنے کے لیے داعی ہوتی ہے، یا کیا چیز اضطرارا کھل سکتی ہے، یا عاد تا کھلتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ الا ما ظهر منها کو ان میں سے کسی چیز کےساتھ بھی مقید نہ کیجئےایک مومن عورت جو خدا اور رسول کے احکام کی بچےدل سے پابند رہنا چاہتی ہےاور جس کو فتنےمیں مبتلا ہونا منظور نہیں ہےوہ خود اپنے حالات اور ضرریات کے لحاظ سے فیصلہ کر سکتی ہےکہ چہرہ اور ہاتھ کھولےیا نہیں، کب کھولے اور کب نہ کھولے،کس حد تک کھولے اور کس حد تک چھپائے۔اس باب میں قطعی احکام نه شارع نےدیئےہیں، نہ اختلاف احوال و ضروریات کو دیکھتے ہوئے مقتضائے حکمت ہے کہ قطعی احکام وضع کئے جائیں۔ جو عورت اپنی حاجات کے لیے باہر جانے اور کام کاج کرنے پر مجبور ہے۔ اس کو کسی وقت ہاتھ بھی کھولنے کی ضرورت پیش آئے گی اور چہرہ بھی۔ ایسی عورت کے لیے بلحاظ ضرورت اجازت ہے اور جس عورت کا حال یہ نہیں ہے اس کے لیےبلا ضرورت قصدا" کھولنا درست نہیں۔ پس شارع کا مقصد یہ ہے کہ اپنا حسن دکھانے کے لیے اگر کوئی چیز بے حجاب کی جائے تو یہ گناہ ہے۔ خود بخود ارادہ کچھ ظاہر ہو جائے تو کوئی گناہ نہیں۔ حقیقی ضرورت اگر کچھ کھولنے پر مجبور کرے تو اس کا کھولنا جائز ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ اختلاف احوال سے قطع نظر کر کےنفس چہرہ کا کیا حکم ہے؟ شارع اس کے کھولنے کو پسند کرتا ہے یا ناپسند ؟ اس کےاظہار کی اجازت محض ناگزیر ضرورت کے طور پر دی گئی ہے یا اس کے نزدیک چہرہ غیروں سے چھپانے کی چیز ہی نہیں ہے؟ ان سوالات پر سورۃ احزاب والی آیت میں روشنی ڈالی گئی ہے۔


چہرے کا حکم


"اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں۔ اس تدبیر سے یہ بات زیادہ متوقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور انہیں ستایا نہ جائے گا"۔

یہ آیت خاص چہرے کو چھپانے کے لئے ہے۔ جلابیب جمع ہے جلباب کی جس کے معنی چادر کے ہیں۔ ادناء کے معنی ارخاء یعنی لٹکانے کےہیں۔يدنين عليهن من جلابیبھن کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا کہ ”اپنے اوپر اپنی چادروں میں سے ایک حصہ لٹکا لیا کریں"۔ یہی مفہوم گھونگھٹ ڈالنے کا ہے۔ مگر اصل مقصد وہ خاص وضع نہیں ہے جس کو عرف عام میں گھونگھٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے بلکہ چہرے کو چھپانا مقصود ہے، خواہ گھونگھٹ سے چھپایا جائے یا نقاب سے یا کسی اور طریقے سے۔ اس کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب مسلمان عورتیں اس طرح مستور ہو کر باہر نکلیں گی تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ شریف عورتیں ہیں، بے حیا نہیں ہیں، اس لئے کوئی ان سے تعرض نہ کرے گا۔

قرآن مجید کے تمام مفسرین نے اس آیت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔حضرت ابن عباس اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیات کہ جب وہ کسی ضرورت سے نکلیں تو سر کے اوپر سے اپنی چادروں کے دامن لٹکا کر اپنے چہروں کو ڈھانک لیا کریں۔ (تفسیر ابن جریر، جلد ۲۲۔ صفحہ ۲۹)

امام محمد بن سیرین نے حضرت عبیدہ بن سفیان بن الحارث الحضرمی سےدریافت کیا کہ اس حکم پر عمل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ انہوں نے چادر اوڑھ کر بتایا اور اپنی پیشانی اور ناک اور ایک آنکھ کو چھپا کر صرف ایک آنکھ کھلی رکھی۔ (تفسیر ابن جریر، حوالہ مذکور ۔ احکام القرآن جلد سوم صفحہ ۴۵۷)


اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ جب اپنے گھروں سے کسی حاجت کے لیے نکلیں تو لونڈیوں کے سےلباس نہ پہنیں کہ سر اور چہرے کھلے ہوئے ہوں بلکہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں تاکہ کوئی فاسق ان سے تعرض نہ کر سکے اور سب جان لیں کہ وہ شریف عورتیں ہیں“۔ (تفسیر ابن جریر، حوالہ مذکور)


"یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جوان عورت کو اجنبیوں سے چہرہ چھپانے کا حکم ہے اور اسے گھر سے نکلتے وقت پردہ داری اور عفت مالی کا اظہار کرنا چاہئے تاکہ بدنیت لوگ اس کے حق میں طمع نہ کر سکیں۔" (احکام القرآن، جلد سوم صفحه ۴۵۸)


"ابتدائے عہد اسلام میں عورتیں زمانہ جاہلیت کی طرح قمیص اور دوپٹے کے ساتھ نکلتی تھیں اور شریف عورتوں کا لباس ادنی درجہ کی عورتوں سے مختلف نہ تھا۔ پھر حکم دیا گیا کہ وہ چادریں اوڑھیں اور اپنے سر اور چہرے کو چھپائیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ شریف عورتیں ہیں فاحشہ نہیں ہیں۔" (تفسیر غرائب القرآن برحاشیہ ابن جریر، جلد ۲۲ صفحه ۳۲)


”جاہلیت میں اشراف کی عورتیں اور لونڈیاں سب کھلی پھرتی تھیں اور بدکار لوگ ان کا پیچھا کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شریف عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اوپر چادر ڈالیں اور یہ فرمایا کہ ذلِك ادی آن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ، تو اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اس لباس سے پہچان لیا جائے گا کہ وہ شریف عورتیں ہیں اور ان کا پیچھا نہ کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ وہ بدکار نہیں ہیں۔ کیونکہ جو عورت چہرہ چھپائے گی، در آنحالیکہ چہرہ عورت اس نہیں ہے جس کا چھپانا فرض ہو، تو کوئی شخص اس سے یہ توقع نہ کرے گا کہ ایسی شریف عورت کشف "عورت" پر آمادہ ہو جائے گی۔ پس اس لباس سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ ایک پردہ دار عورت ہے اور اس سے بدکاری کی توقع نہ کی جاسکے گی۔ (تفسیر کبیر جلد ۶ صفحه ۵۹۱)


يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ، یعنی جب وہ اپنی حاجات کے لئے باہر نکلیں تو اپنی چادروں سے اپنے چہروں اور اپنے جسموں کو چھپا لیں۔ یہاں لفظ من تبعیض کے لئے ہے۔ یعنی چادروں کے ایک حصہ کو منہ پر ڈالا جائے اور ایک حصہ کو جسم پر لپیٹ لیا جائے فلک اتنی ان يعرفن یعنی اس سے ان کے اور لونڈیوں اور مغنیات کے درمیان تمیز ہو جائے گی۔ فلا یونین اور مشتبہ چال چلن کے لوگ اس سے تعرض کی جرات نہ کر سکیں گے۔" (تفسیر بیضاوی، جلد ۴، صفحه ۱۶۸)

١- " عورت " اصطلاح میں جسم کے اس حصے کو کہتے ہیں جس کو بیوی یا شوہر کے سوا ہر ایک سے چھپانے کا حکم ہے، مرد کے جسم کا بھی وہ حصہ جو ناف اور گھٹنے کے درمیان ہے اس معنی میں عورت ہی ہے۔

ان اقوال سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کے مبارک دور سے لے کر آٹھویں صدی تک ہر زمانے میں اس آیت کا ایک ہی مفہوم سمجھا گیا ہے اور وہ مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ سے ہم نے سمجھا ہے۔ اس کے بعد احادیث کی طرف رجوع کیجئے تو وہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد سےعہد نبوی میں عام طور پر مسلمان عورتیں اپنے چہروں پر نقاب ڈالنے لگی تھیں اور کھلے چہروں کے ساتھ پھرنے کا رواج بند ہو گیا تھا۔ ابو داؤد، ترندی، موطا اور دو سری کتب حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو حالت احرام میں چہروں پر نقاب ڈالنے اور دستانے پہننے سے منع فرما دیا تھا۔


اس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس عہد مبارک میں چہروں کو چھپانے کے لئے نقاب اور ہاتھوں کو چھپانے کے لئے دستانوں کا عام رواج ہو چکا تھا۔ صرف احرام کی حالت میں اس سے منع کیا گیا۔ مگر اس سے بھی یہ مقصد نہ تھا کہ حج میں چہرے منظر عام پر پیش کئے جائیں، بلکہ دراصل مقصد یہ تھا کہ احرام کی فقیرانہ وضع میں نقاب عورت کے لباس کا جزو نہ ہو، جس طرح عام طور پر ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسری احادیث میں تصریح کی گئی ہے کہ حالت احرام میں بھی ازواج مطہرات اور عام خواتین اسلام نقاب کے بغیر اپنے چہروں کو اجانب سے چھپاتی تھیں۔


عن عائشة قالت كان الركبان يمرون بنا و نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات فانا حازوا بنا سئلت احدانا جلبابها من راسها على وجهها فاذا جاوزونا کشفناه (باب في المحرمة خلى و جها)

"حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ سوار ہمارے قریب سے گزرتےتھے اور ہم عورتیں رسول اللہ علیم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتی تھیں۔ پس جب وہ لوگ ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنی چادریں اپنے سروں کی طرف سے اپنے چہروں پر ڈال لیتیں اور جب وہ گزر جاتے تو منہ کھول لیتی تھیں۔"



" فاطمہ بنت منذر کا بیان ہے کہ ہم حالت احرام میں اپنے چہروں پر کپڑا ڈال لیا کرتی تھیں۔ ہمارے ساتھ حضرت ابو بکر بیٹھ کی صاحب زادی حضرت اسماء تھیں۔ انہوں نے ہم کو اس سے منع نہیں کیا (یعنی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ احرام کی حالت میں نقاب استعمال کرنے کی جو ممانعت ہے اس کا اطلاق ہمارے اس فعل پر ہوتا ہے۔"




نقاب

جو شخص آیت قرآنی کے الفاظ اور ان کی مقبول عام اور متفق علیہ تفسیر اور عہد نبوی علیم کے تعامل کو دیکھے گا اس کے لئے اس حقیقت سے انکار کی مجال باقی نہ رہے گی کہ شریعت اسلامیہ میں عورت کے لئے چہرے کو اجانب سے مستور رکھنے کا حکم ہے اور اس پر خود نبی اکرم علیم کے زمانہ سے عمل کیا جا رہا ہے۔ نقاب اگر لفظا نہیں تو معنی و حقیقتہ " خود قرآن عظیم کی تجویز کردہ چیز ہے۔ جس ذات مقدس پر قرآن نازل ہوا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے خواتین اسلام نے اس چیز کو اپنے خارج البیت لباس کا جزو بنایا تھا اور اس زمانہ میں بھی اس چیز کا نام ”نقاب" ہی تھا۔

جی ہاں ! یہ وہی "نقاب" (Veil) ہے جس کو یورپ انتہا درجہ کی مکروہ اور گھناؤنی چیز سمجھتا ہے، جس کا محض تصور ہی فرنگی ضمیر پر ایک بار گراں ہے جس کو ظلم اور تنگ خیالی اور وحشت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ ہاں یہ وہی چیز ہے جس کا نام کسی مشرقی قوم کی جہالت اور تمدنی پسماندگی کے ذکر میں سب سے پہلے لیا جاتا ہے اور جب یہ بیان کرنا ہوتا ہے کہ کوئی مشرقی قوم تمدن و تہذیب میں ترقی کر رہی ہے تو سب سے پہلے جس بات کا ذکر بڑے انشراح و انبساط کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ اس قوم سے "نقاب" رخصت ہو گئی ہے۔ اب شرم سے سر جھکا لیجئے کہ یہ چیز بعد کی ایجاد نہیں، خود قرآن نے اس کو ایجاد کیا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کو رائج کر گئے ہیں۔ مگر محض سر جھکانے سے کام نہ چلے گا۔ شتر مرغ اگر شکاری کو دیکھ کر ریت میں سر چھپا لے تو شکاری کا وجود باطل نہیں ہو جاتا۔ آپ بھی اپنا سر جھکائیں گے تو سر ضرور جھک جائے گا مگر قرآن کی آیت نہ مٹے گی، نہ تاریخ سے ثابت شدہ واقعات محو ہو جائیں گے۔ تاویلات سے اس پر پردہ ڈالئے گا تو یہ "شرم کا داغ" اور زیادہ چمک اٹھے گا۔ جب وحی مغربی پر ایمان لا کر آپ اس کو "شرم کا داغ“ مان ہی چکےہیں، تو اس کو دور کرنے کی اب ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اس اسلام ہی سے اپنی برات کا اعلان فرما دیں جو نقاب، گھونگھٹ، ستر وجوہ جیسی ” گھناؤنی" چیز کا حکم دیتا ہے۔ آپ ہیں "ترقی" کے خواہشمند۔ آپ کو درکار ہے"تہذیب۔" آپ کے لئے وہ مذہب کیسےقابل اتباع ہو سکتا ہے جو خواتین کو شمع انجمن بننے سے روکتا ہو، حیا اور پردہ داری اور عفت مابی کی تعلیم دیتا ہو گھر کی ملکہ کو اہل خانہ کےسوا ہر ایک کے لئے قرۃ العین بننے سے منع کرتا ہو بھلا ایسے مذہب میں "ترقی" کہاں ! ایسے مذہب کو تہذیب سے کیا واسطہ ! "ترقی" اور "تہذیب" کے لئے ضروری ہے کہ عورت ۔۔۔۔۔ نہیں لیڈی صاحبہ - - - - - باہر نکلنے سے پہلے دو گھنٹے تک تمام مشاغل سے دست کش ہو کر صرف اپنی تزئین و آرائش میں مشغول ہو جائیں، تمام جسم کو معطر کریں، رنگ اور وضع کی مناسبت سے انتہا درجہ کا جاذب نظر لباس زیب تن فرمائیں، مختلف قسم کےغازوں سےچہرےاور بانہوں کی تنویر بڑھائیں، ہونٹوں کو لپ اسٹک سےمزین کریں، کمان ابرو کو درست اور آنکھوں کو تیر اندازی کے لئے چست کر لیں اور ان سب کرشموں سے مسلح ہو کر گھر سے باہر نکلیں تو شان یہ ہو کہ ہر کرشمہ دامن دل کو کھینچ کھینچ کر ”جا ایں جا است" کی صدا لگا رہا ہو ! پھر اس سے بھی ذوق خود آرائی کی تسکین نہ ہو، آئینہ اور سنگھار کا سامان ہر وقت ساتھ رہے ناکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسباب زینت کے خفیف ترین نقصانات کی بھی تلافی کی جاتی رہے۔

جیسا کہ ہم بار بار کہہ چکےہیں، اسلام اور مغربی تہذیب کےمقاصد میں بعد المشرقین ہے اور وہ شخص سخت غلطی کرتا ہے جو مغربی نقطہ نظر سے اسلامی احکام کی تعبیر کرتا ہے۔مغرب میں اشیاء کی قدر و قیمت کا جو معیار ہے، اسلام کا مقصود معیار اس سے بالکل مختلف ہے۔ مغرب جن چیزوں کو نہایت اہم اور حیات سمجھتا ہے،اسلام کی نگاہ میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ اور اسلام جن چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، مغرب کی نگاہ میں وہ بالکل بے قیمت ہیں۔ اب جو مغربی معیار کا قائل ہے، اس کو تو اسلام کی ہر چیز قابل ترمیم ہی نظر آئے گی۔ وہ اسلامی احکام کی تعبیر کرنے بیٹھے گا تو ان کی تحریف کر ڈالے گا اور تحریف کے بعد بھی ان کو اپنی زندگی میں کسی طرح نصب نہ کر سکےگا۔کیونکہ قدم قدم پر قرآن اور سنت کی تصریحات اس کی مزاحمت کریں گی۔ ایسےشخص کو عملی طریقوں کےجزئیات پر نظر ڈالنےسےپہلےیہ دیکھنا چاہئے کہ جب مقاصد کے لئے ان طریقوں کو اختیار کیا گیا ہے وہ خود کہاں تک قابل قبول ہیں۔ اگر وہ مقاصد ہی سے اتفاق نہیں رکھتا تو حصول مقاصد کے طریقوں پر بحث کرنے اور ان کو مسخ و محرف کرنے کی فضول زحمت کیوں اٹھائے؟ کیوں نہ اس مذہب ہی کو چھوڑ دے جس کے مقاصد کو وہ غلط سمجھتا ہے؟ اور اگر اسے مقاصد سے اتفاق ہے تو بحث صرف اس میں رہ جاتی ہے کہ ان مقاصد کے لئے جو عملی طریقے تجویز کئےگئے ہیں وہ مناسب ہیں یا نامناسب اور اس بحث کو باسانی طے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ صرف شریف لوگ ہی اختیار کر سکتے ہیں۔ رہے منافقین، تو وہ خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوقات میں سب سے ارذل مخلوق ہیں۔ ان کو یہی زیب دیتا ہے کہ دعوی ایک چیز پر اعتقاد رکھنے کا کریں اور درحقیقت اعتقاد دوسری چیز پر رکھیں۔

نقاب اور برقع کےمسئلے میں جس قدر بحثیں کی جا رہی ہیں وہ دراصل اسی نفاق پر مبنی ہیں۔ایڑی سے چوٹی تک کا زور یہ ثابت کرنے میں صرف کیا گیا ہے کہ پردے کی یہ صورت اسلام سے پہلے کی قوموں میں رائج تھی اور جاہلیت کی یہ میراث عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت مدت بعد مسلمانوں میں تقسیم ہوئی۔ قرآن کی ایک صریح آیت اور عہد نبوی کے ثابت شدہ تعامل اور صحابہ و تابعین کی تشریحات کے مقابلہ میں تاریخی تحقیقات کی یہ زحمت آخر کیوں اٹھائی گئی؟ صرف اس لئے کہ زندگی کے وہ مقاصد پیش نظر تھے اور ہیں جو مغرب میں مقبول عام ہیں۔ "ترقی" اور "تہذیب" کے وہ تصورات ذہن نشین ہو گئےمغرب سے نقل کئے گئے ہیں۔ چونکہ برقع اوڑھنا اور نقاب ڈالنا ان مقاصد کےخلاف ہے اور ان تصورات سے کسی طرح میل نہیں کھاتا، لہذا تاریخی تحقیق کے زور سے اس چیز کو مٹانے کی کوشش کی گئی جو اسلام کی کتاب آئین میں ثبت ہے، یہ کھلی ہوئی منافقت، جو بہت سے مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی برتی گئی ہے، اس کی اصلی وجہ وہی بے اصولی اور عقل کی خفت اور اخلاقی جرات کی کمی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اتباع اسلام کا دعوی کرنے کے باوجود قرآن کے مقابلہ میں تاریخ کو لا کر کھڑا کرنے کا خیال بھی ان کے ذہن میں نہ آتا۔ یا تو یہ اپنے مقاصد کو اسلام کے مقاصد سے بدل ڈالتے (اگر مسلمان رہنا چاہتے ) یا اعلانیہ اس مذہب سے الگ ہو جاتے جو ان کے معیار ترقی کے لحاظ سے مانع ترقی ہے۔

جو شخص اسلامی قانون کے مقاصد کو سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ عقل عام Common Sense) بھی رکھتا ہے اس کے لئے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ عورتوں کو کھلے چہروں کے ساتھ باہر پھرنے کی عام اجازت دینا ان مقاصد کےبالکل خلاف ہے جن کو اسلام اس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان کی جو چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ اس کا چہرہ ہی تو ہے۔ انسان کی خلقی و پیدائشی زینت، یا دوسرے الفاظ میں انسانی حسن کا سب سے بڑا مظہر چہرہ ہے۔نگاہوں کو سب سےزیادہ وہی کھینچتا ہےجذبات کو سب سے زیادہ وہی اپیل کرتا ہے۔ صنفی جذب و انجذاب کا سب سے زیادہ قوی ایجنٹ وہی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے نفسیات کے کسی گہرے علم کی بھی ضرورت نہیں۔ خود اپنے دل کو ٹولئے۔ اپنی آنکھوں سے فتوی طلب کیجئے۔اپنے نفسی تجربات کا جائزہ لے کر دیکھ لیجئے۔ منافقت کی بات تو دوسری ہے۔منافق اگر آفتاب کے وجود کو بھی اپنے مقصد کے خلاف دیکھے گا تو دن دیہاڑےکہہ دے گا کہ آفتاب موجود نہیں۔ البتہ صداقت سے کام لیجئے گا۔ تو آپ کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ صنفی تحریک ( Sex Appeal ) میں جسم کی ساری زینتوں سے زیادہ حصہ اس فطری زینت کا ہے جو اللہ نے چہرے کی ساخت میں رکھی ہے۔ اگر آپ کو کسی لڑکی سے شادی کرنی ہو اور آپ اسے دیکھ کر آخری فیصلہ کرنا چاہتے ہوں تو سچ بتائیے کہ کیا دیکھ کر آپ فیصلہ کریں گے؟ ایک شکل اس کے دیکھنے کی یہ ہو سکتی ہے۔ کہ چہرے کے سوا اوہ پوری کی پوری آپ کے سامنے ہو۔ دوسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ ایک جھروکے میں وہ صرف اپنا چہرہ دکھا دے۔ بتائیے کہ دونوں شکلوں میں سے کون سی شکل کو آپ ترجیح دیں گے؟ سچ بتائیے کیا سارے جسم کی بہ نسبت چہرے کا حسن آپ کی نگاہ میں اہم ترین نہیں ہے؟

اس حقیقت کےمسلم ہو جانےکےبعد آگے بڑھئے۔اگر سوسائٹی میں صنفی انتشار اور لامرکزی ہیجانات و تحریکات کو روکنا مقصود ہی نہ ہو،تب تو چہرہ کیا معنی،سینہ اور بازو اور پنڈلیاں اور رائیں سب کچھ ہی کھول دینے کی آزادی ہونی چاہئےجیسی کہ اس وقت مغربی تہذیب میں ہےاس صورت میں ان حدود و قیود کی کوئی ضرورت ہی نہیں جو اسلامی قانون حجاب کے سلسلہ میں آپ اوپر سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن اگر اصل بات اسی طوفان کو روکنا ہو تو اس سے زیادہ خلاف حکمت اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ اس کو روکنے کے لئےچھوٹے چھوٹے دروازوں پر تو کنڈیاں چڑھائی جائیں اور سب سے بڑےدروازے کو چوپٹ کھلا چھوڑ دیا جائے۔

اب آپ سوال کر سکتے ہیں کہ جب ایسا ہے تو اسلام نے ناگزیر حاجات و ضروریات کے لئے چہرہ کھولنے کی اجازت کیوں دی جیسا کہ تم خود پہلے بیان کر چکے ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کا کوئی غیر معتدل اور یک رخا قانون نہیں ہے۔ وہ ایک طرف مصالح اخلاقی کا لحاظ کرتا ہے تو دوسری طرف انسان کی حقیقی ضرورتوں کا بھی لحاظ کرتا ہے اور ان دونوں کے درمیان اس نے غایت درجہ کا تناسب اور توازن قائم کیا ہے۔ وہ اخلاقی فتنوں کا سدباب بھی کرنا چاہتا ہےاور اس کےساتھ کسی انسان پر ایسی پابندیاں بھی عائد کرنا نہیں چاہتا جن کےباعث وہ اپنی حقیقی ضروریات کو پورا نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے عورت کے لئے چہرے اور نقاب کے باب میں ویسے قطعی احکام نہیں دیئے جیسے ستر پوشی اور اخفائے زینت کے باب میں دیئے ہیں۔ کیونکہ ستر پوشی اور اخفائے زینت سےضروریات زندگی کو پورا کرنے میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ مگر چہرے اور ہاتھوں کو دائما" چھپائے رہنے سے عورتوں کو اپنی حاجات میں سخت مشکل پیش آ سکتی ہے پس عورتوں کے لئے عام قاعدہ یہ مقرر کیا گیا کہ چہرے پر نقاب یا گھونگھٹ ڈالے رہیں اور اس قاعدہ میں الا ما ظهر منها کے استثناء سے یہ آسانی پیدا کر دی گئی کہ اگر حقیقت میں چہرہ کھولنے کی ضرورت پیش آ جائے تو وہ اس کو کھول سکتی ہے، بشرطیکہ نمائش حسن مقصود نہ ہو بلکہ رفع ضرورت مد نظر ہو پھر دوسری جانب سے فتنہ انگیزی کے جو خطرات تھے ان کا سد باب اس طرح کیا گیا کہ مردوں کو غض بصر کا حکم دیا گیا تاکہ اگر کوئی عفت ماب عورت اپنی حاجات کے لئے چہرہ کھولے تو وہ اپنی نظریں نیچی کر لیں اور بے ہودگی کے ساتھ اس کو گھورنے سے باز رہیں۔

پردہ داری کےان احکام پر آپ غور کریں گےتو آپ کو معلوم ہو جائے گا که اسلامی پردہ کوئی جاہلی رسم نہیں بلکہ ایک عقلی قانون ہے۔ جاہلی رسم ایک جامد چیز ہوتی ہے۔ جو طریقہ جس صورت سے رائج ہو گیا، کسی حال میں اس کےاندر تغیر نہیں کیا جا سکتا۔جو چیز چھپا دی گئی وہ بس ہمیشہ کے لئے چھپا دی گئی۔ آپ مرتے مر جائیں مگر اس کا کھلنا غیر ممکن۔ بخلاف اس کے عقلی قانون میں لچک ہوتی ہے۔ اس میں احوال کے لحاظ سے شدت اور تخفیف کی گنجائش ہوتی ہے۔ موقع و محل کے اعتبار - سے اس کے عام قواعد میں استثنائی صورتیں رکھی جاتی ہیں۔ ایسے قوانین کی پیروی اندھوں کی طرح نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لئے عقل اور تمیز کی ضرورت ہے۔ سمجھ بوجھ رکھنے والا پیرو خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کہاں اس کو عام قاعدے کی پیروی کرنی چاہئے اور کہاں قانون کے نقطہ نظر سے حقیقی ضرورت درپیش ہے جس میں استثنائی رخصتوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ پھر وہ خود ہی یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ کس محل پر رخصت سے کس حد تک استفادہ کیا جائے اور استفادہ کی صورت میں مقصد قانون کو کس طرح ملحوظ رکھا جائے۔ ان تمام امور میں در حقیقت ایک نیک نیت مومن کا قلب ہی سچا مفتی بن سکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم سلیم نے فرمایا استفت قلبک اور دع ما حاک فی صدرک (اپنے دل سے فتوی طلب کرو اور جو چیز دل میں کھٹکے اس کو چھوڑ دو) یہی وجہ ہے کہ اسلام کی صحیح پیروی جہالت اور نا سمجھی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ یہ عقلی قانون ہے اور اس کی پیروی کے لئے قدم قدم پر پر شعور اور فہم کی ضرورت ہے۔

کتاب پرده
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

pardah