فطرت نےتمام انواع کی طرح انسان کو بھی "زوجین" یعنی دو ایسی صنفوں کی صورت میں پیدا کیا ہے جو ایک دوسرےکی جانب طبعی میلان رکھتی ہیں۔ مگر دوسری انواع حیوانی کا جس حد تک مطالعہ کیا گیا ہے اس سے . معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اس صنفی تقسیم اور اس طبیعی میلان کا مقصد محض بقائے نوع ہے۔ اسی لیے ان میں یہ میلان صرف اس حد تک رکھا گیا ہےجو ہر نوع کےبقا کے لیے ضروری ہے،اور ان کی جبلت میں ایسی قوت ضابطہ رکھ دی گئی ہےجو انھیں منفی تعلق میں اس حد مقرر سے آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ اس کے برعکس انسان میں یہ میلان غیر محدود غیر منضبط اور تمام دوسری انواع سے بڑھا ہوا ہے۔اس کےلیے وقت اور موسم کی کوئی قید نہیں ہےاس کی جبلت میں کوئی ایسی قوت ضابطہ بھی نہیں ہےجو اسےکسی حد پر روک دے.مرد اور عورت ایک دوسرےکی طرف دائمی میلان رکھتےہیں۔ان کےاندر ایک دوسرےکی طرف جذب و انجذاب اور صنفی کشش کےغیر محدود اسباب فراہم کیے گئے ہیں۔ان کےقلب میں صنفی محبت اور عشق کا ایک زبردست داعیہ رکھا گیا ہے۔ان کے جسم کی ساخت اور اس کے مناسب اور اس کے رنگ و روپ اور اس کے لمس اور اس کے ایک ایک جز میں صنف مقابل کے لیے کشش پیدا کر دی گئی ہے۔ ان کی آواز رفتار انداز و ادا ہر ایک چیز میں کھینچ لینے کی قوت بھر دی گئی ہےاور گردو پیش کی دنیا میں بے شمار ایسے اسباب پھیلا دیئے گئے ہیں جو دونوں کے داعیات صنفی کو حرکت میں لاتے اور انہیں ایک دوسرے کی طرف مائل کرتےہیں۔ ہوا کی سرسراہٹ، پانی کی روانی، سبزہ کا رنگ پھولوں کی خوشبو پرندوں کے پیچھے ، فضا کی گھٹائیں، شب مہ کی لطافتیں، غرض جمال فطرت کا کوئی مظہر اور حسن کائنات کا کوئی جلوہ ایسا نہیں ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس تحریک کا سبب نہ بنتا ہو۔
پھر انسان کے نظام جسمانی کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہو گا کہ اس میں طاقت کا جو زبردست خزانہ رکھا گیا ہے۔ وہ بیک وقت قوت حیات اور قوت عمل بھی ہے، اور صنفی تعلق کی قوت بھی۔ وہی غدود (Glands) جو اس کے اعضاء کو جیون رس (Harmone) بہم پہنچاتے ہیں، اور اس میں چستی، توانائی، ذہانت عمل کی طاقت پیدا کرتے ہیں، انہی کے سپرد یہ خدمت بھی کی گئی ہے کہ اس میں صنفی تعلق کی قوت پیدا کریں، اس قوت کو حرکت میں لانے والے جذبات کو نشوونما دیں، ان جذبات کو ابھارنے کے لیے حسن اور روپ اور نکھار اور پھین کے گوناگوں آلات بہم پہنچائیں اور ان آلات سے متاثر ہونے کی قابلیت اس کی آنکھوں اور اس کے کانوں اور اس کی شامه اور لامسه و حتی کہ اس کی قوت متخیلہ تک میں فراہم کر دیں۔
قدرت کی یہی کار فرمائی انسان کے قوائے نفسانی میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کے نفس میں جتنی محرک قوتیں پائی جاتی ہیں ان سب کا رشتہ دو زبردست داعیوں سے ملتا ہے۔ ایک وہ داعیہ جو اسے خود اپنے وجود کی حفاظت اور اپنی ذات کی خدمت پر ابھارتا ہے۔ دوسرا وہ داعیہ جو اس کو اپنے مقابل کی صنف تعلق پر مجبور کرتا ہے۔ شباب کے زمانہ میں جبکہ انسان کی عملی قوتیں اپنے پورے عروج پر ہوتی ہیں، یہ دوسرا داعیہ اتنا قوی ہوتا ہے کہ بسا اوقات پہلے داعیہ کو بھی دبا لیتا ہے اور اس کے اثر سے انسان اس قدر مغلوب ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی جان تک دے دینے اور اپنے آپ کو جانتے بوجھتے ہلاکت میں ڈال دینے میں بھی تامل نہیں ہوتا۔
یہ سب کچھ کس لئے ہے؟ کیا محض ابقاء نوع کے لیے؟ نہیں۔ کیونکہ نوع انسانی کو باقی رکھنے کے لئے اس قدر تناسل کی بھی ضرورت نہیں ہے جس قدر مچھلی اور بکری اور ایسی ہی دوسری انواع کے لیے ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ فطرت نے ان سب انواع سے زیادہ صنفی میلان انسان میں رکھا ہے اور اس کے لیے سب سے زیادہ اسباب تحریک فراہم کیےہیں؟ کیا یہ محض انسان کے لطف اور لذت کےلیے ہے؟ یہ بھی نہیں۔ فطرت نے کہیں بھی لطف اور لذت کو مقصود بالذات نہیں بنایا ہے۔ وہ تو کسی بڑے مقصد کی خدمت پر انسان اور حیوان کو مجبور کرنے کے لیے لطف اور لذت کو محض چاشنی کے طور پر لگا دیتی ہے تاکہ وہ اس خدمت کو غیر کا نہیں بلکہ اپنا کام سمجھ کر انجام دیں۔ اب غور کیجئے کہ اس معاملہ میں کون سا بڑا مقصد فطرت کے پیش نظر ہے؟ آپ جتنا غور کریں گے کوئی اور وجہ اس کے سوا سمجھ میں نہ آئے گی کہ فطرت دوسری تمام انواع کے خلاف نوع انسانی کو متمدن بنانا چاہتی ہے۔
اسی لیے انسان کے قلب میں صنفی محبت اور عشق کا وہ داعیہ رکھا گیا ہے جو محض جسمانی اتصال اور فعل تناسل ہی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ ایک دائمی معیت اور قلبی وابستگی اور روحانی لگاؤ کا مطالبہ کرتا ہے۔
اسی لیے انسان میں صنفی میلان اس کی واقعی قوت مباشرت سے بہت زیادہ رکھا گیا ہے۔ اس میں جتنی منفی خواہش اور صنفی کشش رکھی گئی ہے۔ اگر اسی نسبت سے، بلکہ ایک اور دس کی نسبت سے بھی وہ فعل متناسل کا ارتکاب کرے تو اس کی صحت جواب دے دے اور عمر طبعی کو پہنچنے سے پہلے ہی اس کی جسمانی قوتیں ختم ہو جائیں۔ یہ بات اس امر کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ انسان میں صنفی کشش کی زیادتی کا مقصود یہ نہیں ہے کہ وہ تمام حیوانات سے بڑھ کر صنفی عمل کرے۔ بلکہ اس سے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنا اور ان کے باہمی تعلق میں استمرار و استقلال پیدا کرنا ہے۔
اسی لیےعورت کی فطرت میں صنفی کشش اور صنفی خواہش کےساتھ شرم و حیا اور تمانع اور فرار اور رکاوٹ کا مادہ رکھا گیا ہے جو کم و بیش ہر عورت میں پایا جاتا ہے۔ یہ فرار اور منع کی کیفیت اگرچه دوسرے حیوانات کے اناث میں بھی نظر آتی ہے، مگر انسان کی صنف اناث میں اس کی قوت و کمیت بہت زیادہ ہے اور اس کو جذبہ شرم و حیا کے ذریعہ سے اور زیادہ شدید کر دیا گیا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان میں صنفی مقناطیسیت کا مقصد ایک مستقل وابستگی ہے، نہ کہ ہر صنفی کشش ایک صنفی عمل پر منتج ہو۔
اسی لیے انسان کے بچے کو تمام حیوانات کے بچوں سے زیادہ کمزور اور بے بس کیا گیا ہے۔ بخلاف دوسرے حیوانات کے انسان کا بچہ کئی سال تک ماں باپ کی حفاظت اور تربیت کا محتاج ہوتا ہے اور اس میں اپنے آپ کو سنبھالنے اور اپنی مدد آپ کرنے کی قابلیت بہت دیر میں پیدا ہوتی ہے۔ اس سے بھی یہ مقصود ہے کہ عورت اور مرد کا تعلق محض تعلق صنفی کی حد تک نہ رہے بلکہ اس تعلق کا نتیجہ ان کو باہمی ارتباط اور تعاون پر مجبور کر دے۔
اسی لیے انسان کے دل میں اولاد کی محبت تمام حیوانات سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ حیوانات ایک قلیل مدت تک اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے بعد ان سےالگ ہو جاتے ہیں۔ پھر ان میں کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ بلکہ وہ ایک دوسرےکو پہچانتے بھی نہیں۔ بخلاف اس کے انسان ابتدائی پرورش کا زمانہ گزر جانےکے بعد بھی اولاد کی محبت میں گرفتار رہتا ہے۔ حتی کہ یہ محبت اولاد کی اولاد تک منتقل ہوتی ہے اور انسان کی خود غرض حیوانیت اس محبت کے اثر سے اس درجہ مغلوب ہو جاتی ہے کہ وہ جو کچھ اپنی ذات کے لیے چاہتا ہے اس سے زیادہ اپنی اولاد کے لیے چاہتا ہے۔ اور اس کے دل میں اندر سے یہ امنگ پیدا ہوتی ہےکہ اپنی حد امکان تک اولاد کے لیے بہتر سے بہتر اسباب زندگی بہم پہنچائے اور اپنی محنتوں کے نتائج ان کے لیے چھوڑ جائے۔ اس شدید جذبہ محبت کی تخلیق، فطرت کا مقصد صرف یہی ہو سکتا ہے کہ عورت اور مرد کے صنفی تعلق کو ایک دائی رابطہ میں تبدیل کر دے ، پھر اس دائمی رابطہ کو ایک خاندان کی ترکیب کا ذریعہ بنائے۔ پھر خونی رشتوں کی محبت کا سلسلہ بہت سے خاندانوں کو مصاہرت کے تعلق . سے مربوط کرتا چلا جائے، پھر محبتوں اور محبوبوں کا اشتراک ان کے درمیان تعاون اور معالمت کا تعلق پیدا کر دے، اور اس طرح ایک معاشرہ اور ایک نظام تمدن وجود میں آ جائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ صنفی میلان جو انسانی جسم کے ریشے ریشے اور اس کے قلب و روح کے گوشے گوشے میں رکھا گیا ہے اور جس کی مدد کے لیےبڑے وسیع پیمانہ پر کائنات کے چپے چپے میں اسباب و محرکات فراہم کیے گئےہیں۔ اس کا مقصد انسان کی انفرادیت کو اجتماعیت کی طرف مائل کرنا ہے۔ فطرت نے اس میلان کو تمدن انسانی کی اصل قوت محرکہ بنایا ہے۔ اس میلان و کشش کے ذریعہ سے نوع انسانی کی دو صنفوں میں وابستگی پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وابستگی سے اجتماعی زندگی (Social Life) کا آغاز ہوتا ہے۔
جب یہ امر متحقق ہو گیا، تو یہ بات بھی آپ سے آپ ظاہر ہو گئی کہ عورت اور مرد کے تعلق کا مسئلہ دراصل تمدن کا بنیادی مسئلہ ہے اور اسی کے صحیح حل پر تمدن کی صلاح و فساد اور اس کی بہتری و بد تری، اور اس کے استحکام و ضعف کا انحصار ہے۔ نوع انسانی کے ان دونوں حصوں میں ایک تعلق حیوانی یا بالفاظ دیگر خالص صنفی اور سراسر شہوانی ہے جس کا مقصود بقائے نوع کے سوا کچھ نہیں۔ اور دوسرا تعلق انسانی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ دونوں مل کر مشترک اغراض کے لیے اپنی اپنی استعداد اور اپنی اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق تعاون کریں۔ اس تعاون کے لیے ان کی صنفی محبت ایک واسطہ اتصال کے طور پر کام دیتی ہے، اور یہ حیوانی و انسانی عناصر، دونوں مل کر بیک وقت ان سے تمدن کا کاروبار چلانے کی خدمت بھی لیتے ہیں اور اس کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے مزید افراد فراہم کرنے کی خدمت بھی۔ تمدن کی صلاح و فساد کا مدار اس پر ہے کہ دونوں عناصر کا امتزاج نہایت مناسب اور معتدل ہو۔
آئیے اب ہم اس مسئلہ کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کریں کہ ایک صالح تمدن کے لیے عورت اور مرد کے حیوانی اور انسانی تعلق میں معتدل اور متناسب امتزاج کی صورت کیا ہے اور اس امتزاج پر بے اعتدالی کی کن کن صورتوں کے عارض ہونے سے تمدن فاسد ہو جاتا ہے۔
سب سے اہم اور مقدم سوال خود اس صنفی کشش اور میلان کا ہے کہ اس کو کس طرح قابو میں رکھا جائے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ انسان کے اندر یہ میلان تمام حیوانات سے زیادہ طاقتور ہے۔ نہ صرف یہ کہ انسانی جسم کے اندر صنفی تحریک پیدا کرنے والی قوتیں زیادہ شدید ہیں، بلکہ باہر بھی اس وسیع کائنات میں ہر طرف بے شمار صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ چیز جس کے لئے فطرت نے خود ہی اتنے انتظامات کر رکھے ہیں، اگر انسان بھی اپنی توجہ اور قوت ایجاد سے کام لے کر اس کو بڑھانے اور ترقی دینے کے اسباب مہیا کرنے لگے اور ایسا طرز تمدن اختیار کرے جس میں اس کی صنفی پیاس بڑھتی چلی جائے اور پھر اس پیاس کو بجھانے کی آسانیاں بھی پیدا کی جاتی رہیں تو ظاہر ہے اس صورت میں یہ حد مطلوب سے بہت زیادہ متجاوز ہو جائے گی، انسان کا حیوانی عصر اس کے انسانی عصر پر پوری طرح غالب ہو جائے گا اور یہ حیوانیت اس کی انسانیت اور اس کے تمدن دونوں کو کھا جائے گی۔
صنفی تعلق اور اس کے مبادی اور محرکات میں سے ایک ایک چیز کو فطرت نے لذیذ بنایا ہے۔ مگر جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں، فطرت نے یہ لذت کی چاٹ محض اپنے مقصد یعنی تعمیر تمدن کے لئے لگائی ہے۔ اس چاٹ کا حد سے بڑھ جانا اور اسی میں انسان کا منہمک ہو جانا نہ صرف تمدن بلکہ خود انسان کی بھی تخریب و ہلاکت کا موجب ہو سکتا ہے، ہو رہا ہے اور ہا رہا ہو چکا ہے۔ جو قومیں تباہ ہو چکی ہیں ان کے آثار اور ان کی تاریخ کو دیکھئے۔ شہوانیت ان میں متجاوز ہو چکی تھی۔ ان کے لڑ پچر اسی قسم کے ہیجان انگیز مضامین سے لبریز حد سے اس پر پائے جاتے ہیں۔ ان کے تعمیلات، ان کے افسانے ان کے اشعار ان کی تصویریں، ان کے مجسمے ، ان کے عبادت خانے، ان کے محلات کے سب شاہد ہیں۔ جو قومیں اب تباہی کی طرف جا رہی ہیں ان کے حالات بھی دیکھ لیجئے۔ وہ اپنی شہوانیت کو آرٹ اور ادب لطیف اور ذوق جمال اور ایسے کتنے ہی خوشنما اور معصوم ناموں سے موسوم کر لیں، مگر تعبیر کے بدل جانے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ یہ کیا چیز ہے کہ سوسائٹی میں عورت کو عورتوں سے زیادہ مرد کی صحبت اور مرد کو مردوں سے زیادہ عورتوں کی معیت مرغوب ہے؟ یہ کیوں ہے کہ عورتوں اور مردوں میں تزئین و آرائش کا ذوق بڑھتا چلا جا رہا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے کہ مخلوط سوسائٹی میں عورت میں عورت کا جسم لباس سے باہر نکلا پڑتا ہے ؟ وہ کون سی شے ہے جس کے سبب سے عورت اپنے جسم کے ایک ایک حصے کو کھول کھول کر پیش کر رہی ہے اور مردوں کی طرف سے ھل من مزید کا تقاضا ہے؟ اس کی کیا علت ہے کہ برہنہ تصویریں، ننگے مجسمے اور عریاں ناچ۔ سب سے زیادہ پسند کئے جاتے ہیں؟ اس کا کیا سبب ہے کہ سینما میں اس وقت تک لطف ہی نہیں جب تک کہ عشق و محبت کی چاشنی نہ ہو اور اس پر صنفی تعلقات کے بہت سے قولی اور فعلی مبادی کا اضافہ نہ کیا جائے؟ یہ اور ایسے ہی بہت سے مظاہر اگر شہوانیت کے مظاہر نہیں تو کس چیز کے ہیں؟ جس تمدن میں ایسا غیر معتدل شہوانی ماحول پیدا ہو جائے اس کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں صنفی میلان کی شدت اور پیم ہیجان اور مسلسل تحریک کی وجہ سے ناگزیر ہے کہ نسلیں کمزور ہو جائیں، جسمانی اور عقلی قوتوں کا نشوونما بگڑ جائے۔ قوائے ذہنی پراگندہ اے ہو جائیں، فواحش کی کثرت ہو، امراض خبیثہ کی وبائیں پھیلیں، منع حمل اور اسقاط حمل اور قتل اطفال جیسی تحریکیں وجود میں آئیں، مرد اور عورت بہائم کی طرح ملنے لگیں، بلکہ فطرت نے ان کے اندر جو صنفی میلان تمام حیوانات سے بڑھ کر رکھا ہے اس کو وہ مقاصد فطرت کے خلاف استعمال کریں اور اپنی بهیمیت میں تمام حیوانات سے بازی لے جائیں، حتی کہ بندروں اور بکروں کو بھی مات کر دیں۔ لا محاله ایسی شدید حیوانیت انسانی تمدن و تهذیب بلکه خود انسانیت کو بھی غارت کر دے گی اور جو لوگ اس میں مبتلا ہوں گے ان کا اخلاقی انحطاط ان کو ایسی پستی میں گرائے گا جہاں سے وہ پھر کبھی نہ اٹھ سکیں گے۔
١- ایک ڈاکٹر لکھتا ہے :۔ بلوغ کے آغاز کا زمانہ بڑے اہم تغیرات کے ساتھ آتا ہے۔ نفس اور جسم کے مختلف افعال میں اس وقت ایک انقلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور تمام حیثیتوں سے عام نشو و نما ہوتا ہے۔ آدمی کو اس وقت ان تغییرات کو برداشت کرنے اور اس نشو و نما کو حاصل کرنے کے لئے اپنی تمام قوت درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بیماریوں کے مقابلہ کی طاقت اس زمانہ میں آدمی کے اندر بہت کم ہوتی ہے .... عام نشود نما اعضاء کی ترقی اور نفسی و جسمانی تغیرات کا یہ طویل عمل جس کے بعد آدمی بچہ سے جوان بنتا ہے، ایک تھکا دینے والا عمل ہے جس کے دوران میں طبیعت انتہائی جدوجہد میں مصروف ہوتی ہے۔ اس حالت میں اس پر کوئی غیر معمولی بار ڈالنا جائز نہیں۔ خصوصا" منفی عمل اور شہوانی ہیجان تو اس کے لئے تباہ کن ہے۔"
ایک اور مشہور جرمن عالم نفسیات و عمرانیات لکھتا ہے کہ :۔ ”صنفی اعضاء کا تعلق چونکہ لذت اور جوش کے غیر معمولی بیجانات (Sensations) کے ساتھ ہے، اس وجہ سے یہ اعضاء ہماری ذہنی قوتوں میں سے ایک بڑا حصہ اپنی طرف جذب کر لینے یا الفاظ دیگر ان پر ڈاکہ مار دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اگر انہیں غلبہ حاصل ہو جائے تو یہ آدمی کو تمدن کی خدمت کے بجائے انفرادی لطف اندوزی میں منہمک کر دیں۔ یہ طاقتور پوزیشن جو ان کو جسم انسانی میں حاصل ہے، آدمی کی صنفی زندگی کو ذرا سی غفلت میں حالت اعتدال سے بے اعتدالی کی طرف لے جا کر مفید سے مضر بنا سکتی ہے۔ تعلیم کا اہم ترین مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس خطرے کی روک تھام کی جائے۔
ایسا ہی انجام اس تمدن کا بھی ہو گا جو تفریط کا پہلو اختیار کرے گا۔ جس طرح صنفی میلان کا حد اعتدال . سے بڑھ جانا مضر ہے اسی طرح اس کو حد سے زیادہ دبانا اور کچل دینا بھی مضر ہے۔ جو نظام تمدن انسان کو سنیاس اور برہمچریہ اور رہبانیت کی طرف لے جانا چاہتا ہے وہ فطرت سے لڑتا ہے اور فطرت اپنے مد مقابل سے کبھی شکست نہیں کھاتی بلکہ خود اسی کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ خالص رہبانیت کا تصور تو ظاہر ہے کہ کسی تمدن کی بنیاد بن ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ دراصل تمدن و تہذیب کی نفی ہے۔ البتہ راہبانہ تصورات کو دلوں میں راسخ کر کے نظام تمدن میں ایک ایسا غیر صنفی ماحول ضرور پیدا کیا جا سکتا ہے جس میں صنفی تعلق کو بذات خود ایک ذلیل قابل نفرت اور گھناؤنی چیز سمجھا جائے اس سے پر ہیز کرنے کو معیار اخلاق قرار دیا جائے اور ہر ممکن طریقے سے اس میلان کو دبانے کی کوشش کی جائے۔ مگر صنفی میلان کا دینا دراصل انسانیت کا دینا ہے وہ اکیلا نہیں دے گا بلکہ اپنے ساتھ انسان کی ذہانت اور قوت عمل اور عقلی استعداد اور حوصلہ و عزم اور ہمت و شجاعت سب کو لے کر دب جائے گا۔ اس کے دینے سے انسان کی ساری قوتیں ٹھٹھر کر رہ جائیں گی۔ اس کا خون سرد اور منجمد ہو کر رہ جائے گا۔ اس میں ابھرنے کی کوئی صلاحیت باقی نہ رہے گا۔ کیونکہ انسان کی سب سے بڑی محرک طاقت یہی صنفی طاقت ہے۔
پس صنفی میلان کو افراط و تفریط سے روک کر توسط و اعتدال کی حالت پر لانا اور اسے ایک مناسب ضابطے سے منضبط (Regulate) کرنا ایک صالح تمدن کا اولین فریضہ ہے۔ اجتماعی زندگی کا نظام ایسا ہونا چاہئے کہ وہ ایک طرف غیر معتدل (Abnormal) هیجان و تحریک کے ان تمام اسباب کو روک دے جن کو انسان خود اپنے ارادے اور اپنی لذت پرستی سے پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف فطری (Normal) بیجانات کی تسکین و تشفی کے لئے ایسا راستہ کھول دے جو خود منشائے فطرت کے مطابق ہو۔
اب یہ سوال خود بخود ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ فطرت کا منشاء کیا ہے؟ کیا اس معاملہ میں ہم کو بالکل تاریکی میں چھوڑ دیا گیا ہے کہ آنکھیں بند کر کے ہم جس چیز پر چاہیں ہاتھ رکھ دیں اور وہی فطرت کا منشاء قرار پائے؟ یا نوامیس فطرت پر غور کرنے سے ہم مٹائے فطرت تک پہنچ سکتے ہیں؟ شاید بہت سے لوگ صورت اول ہی کے قائل ہیں اور اسی لئے وہ نوامیس فطرت پر نظر کئے بغیر ہی کیف ما اتفق جس چیز کو چاہتے ہیں، منشاء فطرت کہہ دیتے ہیں، لیکن ایک محقق جب حقیقت کی جستجو کے لئے نکلتا ہے تو چند ہی قدم چل کر اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا فطرت آپ ہی اپنے منشاء کی طرف صاف صاف انگلی اٹھا کر اشارہ کر رہی ہے۔
یہ تو معلوم ہے کہ تمام انواع حیوانی کی طرح انسان کو بھی زوجین یعنی دو صنفوں کی صورت میں پیدا کرنے اور ان کے درمیان صنفی کشش کی تخلیق کرنے سے فطرت کا اولین مقصد بقائے نوع ہے لیکن انسان سے فطرت کا مطالبہ صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کر کچھ دوسرے مطالبات بھی اس سے کرتی ہے اور با ادنی تامل ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ مطالبات کیا ہیں اور کس نوعیت کے ہیں۔
سب سے پہلے جس چیز پر نظر پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام حیوانات کے بر عکس انسان کا بچہ نگہداشت اور پرورش کے لئے بہت زیادہ وقت، محنت اور توجہ مانگتا ہے۔ اگر اس کو مجرد ایک حیوانی وجود ہی کی حیثیت سے لے لیا جائےتب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی حیوانی ضروریات پوری کرنے - - - - یعنی غذا حاصل کرنے اور اپنے نفس کی مدافعت کرنے - - - - - کے قابل ہوتے ہوئے وہ کئی سال لے لیتا ہے اور ابتدائی دو تین سال تک تو وہ اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ ماں کی پیم توجہ کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔
لیکن یہ ظاہر ہے کہ انسان خواہ وحشت کے کتنے ہی ابتدائی درجہ میں ہو بهرحال نرا حیوان نہیں ہے۔ کسی نہ کسی مرتبہ کی مدنیت بہرحال اس کی زندگی کے لئے ناگزیر ہے اور اس مدنیت کی وجہ سے پرورش اولاد کے فطری تقاضے پر لامحالہ اور تقاضوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک یہ کہ بچہ کی پرورش میں ان تمام تمدنی وسائل سے کام لیا جائے جو اس کے پرورش کرنے والے کو بہم پہنچ سکیں۔ دوسرے یہ کہ بچے کو ایسی تربیت دی جائے کہ جس تمدنی ماحول میں وہ پیدا ہوا ہے وہاں تمدن کے کارخانے کو چلانے اور سابق کارکنوں کی جگہ لینے کے لئے وہ تیار ہو سکے۔
پھر تمدن جتنا زیادہ ترقی یافتہ اور اعلیٰ درجہ کا ہوتا جاتا ہے، یہ دونوں تقاضے بھی اتنے ہی زیادہ بھاری اور بوجھل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک طرف پرورش اولاد کے ضروری وسائل و لوازم بڑھتے جاتے ہیں اور دوسری طرف تمدن نہ صرف اپنے قیام و بقا کے لئے اپنے مرتبے کے مطابق اچھے تعلیم و تربیت یافتہ کا رکن مانگتا ہے، بلکہ اپنے نشو و ارتقاء کے لئے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ ہر نسل پہلی نسل سے بہتر اٹھے ، یعنی دوسرے الفاظ میں ہر بچے کا نگہبان اس کو خود اپنے آپ سے بہتر بنانے کی کوشش کرے - - - - انتہا درجہ کا ایثار جو انسان سے جذبہ خود پسندی تک کی قربانی مانگتا ہے۔
یہ ہیں فطرت انسانی کے مطالبات۔ اور ان مطالبات کی اولین مخاطب ہے عورت۔ مرد ایک ساعت کے لئے عورت سے مل کر ہمیشہ کے لئے اس سے اور اس ملاقات کی ذمہ داری سے الگ ہو سکتا ہے۔ لیکن عورت کو تو اس ملاقات کا قدرتی نتیجہ برسوں کے لئے بلکہ عمر بھر کے لئے پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ حمل قرار پانے کے بعد سے کم از کم پانچ برس تک تو یہ نتیجہ اس کا پیچھا کسی طرح چھوڑتا ہی نہیں اور اگر تمدن کے پورے مطالبات ادا کرنے ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مزید پندرہ سال تک وہ عورت جس نے ایک ساعت کے لئے مرد کی معیت کا لطف اٹھایا تھا اس کی ذمہ داریوں کا بار سنبھالتی رہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک مشترک فعل کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تنہا ایک فریق کس طرح آمادہ ہو سکتا ہے؟ جب تک عورت کو اپنے شریک کار کی بے وفائی کے خوف سے نجات نہ ملےجب تک اسے اپنے بچے کی پرورش کا پورا اطمینان نہ ہو جائے،جب تک اسے خود اپنی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے کام سے بھی ایک بڑی حد تک سبکدوش نہ کر دیا جائے، وہ اتنے بھاری کام کا بوجھ اٹھانے پر کیسے آمادہ ہو جائے گی؟ جس عورت کا کوئی قوام (Protector Provider) نہ ہو اس کے لئے تو حمل یقیناً ایک حادثہ اور مصیبت، بلکہ ایک خطرناک بلا ہے جس سے چھٹکارا پانے کی خواہش اس میں طبعی طور پر پیدا ہونی ہی چاہیئے، آخر وہ اسے خوش آمدید کیسے کہہ سکتی ہے؟
لا محالہ یہ ضروری ہے- - - - - اگر نوع کا بقاء اور تمدن کا قیام اور ارتقاء ضروری ہے - - - - - کہ جو مرد جس عورت کو بار آور کرے وہی اس بار کو سنبھالنے میں اس کا شریک بھی ہو۔ مگر اس شرکت پر اسے راضی کیسے کیا جائے؟ وہ تو فطرتا خود غرض واقع ہوا ہے۔ جہاں تک بقائے نوع کے طبعی فریضے کا تعلق ہے، اس کے حصے کا کام تو اسی ساعت پورا ہو جاتا ہے جب کہ وہ عورت کو بار آور کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ بار تنہا عورت کے ساتھ لگا رہتا ہے اور مرد سے وہ ہ کسی طرح بھی چسپاں نہیں ہوتا۔ جہاں تک صنفی کشش کا تعلق ہے وہ بھی اسے مجبور نہیں کرتی کہ اسی عورت کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ چاہے تو اسے چھوڑ کر دوسری اور دوسری کو چھوڑ کر تیسری سے تعلق پیدا کر سکتا ہے اور ہر زمین میں بیج پھینکتا پھر سکتا ہے۔ لہذا اگر یہ معاملہ محض اس کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ بخوشی اس بار کو سنبھالنے کے لئے آمادہ ہو جائے۔ آخر کون سی چیز اسے مجبور کرنے والی ہے کہ وہ اپنی محنتوں کا پھل اس عورت اور اس بچے پر صرف کرے؟ کیون وہ ایک دوسری حسین دوشیزہ کو چھوڑ کر اس پیٹ پھولی عورت سے اپنا دل لگائے رکھے؟ کیوں و گوشت پوست کے ایک بیکار لوتھڑے کو خواہ مخواہ اپنے خرچ پر پالے؟ کیوں اس کی چیخوں سے اپنی نیند حرام کرے؟ کیوں اس چھوٹے سے ، شیطان کے ہاتھوں اپنا نقصان کرائے جو ہر چیز کو توڑتا پھوڑتا اور گھر بھر میں گندگی پھیلاتا پھرتا ہے اور کسی کی سن کر نہیں دیتا۔
فطرت نے کسی حد تک اس مسئلہ کے حل کا خود بھی اہتمام کیا ہے۔ اس نے عورت میں حسن، شیرینی، دل لبھانے کی طاقت اور محبت کے لئے ایثار و قربانی کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے تاکہ ان ہتھیاروں سے مرد کی خود غرضانہ انفرادیت پر فتح پائے اور اسے اپنا اسیر بنا لے۔ اس نے بچے کے اندر بھی ایک عجیب قوت تسخیر بھر دی ہے تاکہ وہ اپنی تکلیف دہ برباد کن، پاجیانہ خصوصیات کے باوجود ماں باپ کو اپنے دام محبت میں گرفتار رکھے۔ مگر صرف یہی چیزیں ایسی نہیں ہیں کہ بجائے خود ان کا زور انسان کو اپنے اخلاقی، فطری، تمدنی فرائض ادا کرنے کے لئے برسوں نقصان، اذیت، قربانی کرنے پر مجبور کر سکے۔ آخر انسان کے ساتھ اس کا وہ ازلی دشمن بھی تو لگا ہوا ہے جو اسے فطرت کے راستے سے منحرف کرنے کی ہر وقت کوشش کرتا رہتا ہے جس کی زنبیل عیاری میں ہر زمانے اور ہر نسل کے لوگوں کو بہکانے کے لئے طرح طرح کی دلیلوں اور ترغیبات کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ بھرا ہوا ہے۔
یہ مذہب کا معجزہ ہے کہ وہ انسان کو ۔۔۔۔۔ مرد اور عورت دونوں کو - - - - نوع اور تمدن کے لئے قربانی پر آمادہ کرتا ہے اور اس خود غرض جانور کو آدمی بنا کر ایٹار کے لئے تیار کر دیتا ہے۔ وہ خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء ہی تھے جنہوں نے فطرت کے منشاء کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر عورت اور مرد کے درمیان صنفی تعلق اور تمدنی تعاون کی صحیح صورت نکاح تجویز کی۔ انہی کی تعلیم و ہدایت سے دنیا کی ہر قوم اور روئے زمین کے ہر گوشے میں نکاح کا طریقہ جاری ہوا۔ انہی کے پھیلائے ہوئے اخلاقی اصولوں سے انسان کے اندر اتنی روحانی صلاحیت پیدا ہوئی کہ وہ اس خدمت کی تکلیفیں اور نقصانات برداشت کرے، ورنہ حق به تا یہ ہے کہ ماں اور باپ سے زیادہ بچے کا دشمن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا، انہی کے قائم کئے ہوئے ضوابط معاشرت سے خاندانی نظام کی بنا پڑی جس کی مضبوط گرفت لڑکیوں اور لڑکوں کو اس ذمہ دارانہ تعلق اور اس اشتراک عمل پر مجبور کرتی ہے، ورنہ شباب کے حیوانی تقاضوں کا زور اتنا سخت ہوتا ہے کہ محض اخلاقی ذمہ داری کا احساس کسی خارجی ڈسپلن کے بغیر ان کو آزاد شهوت رانی. سے نہ روک سکتا تھا۔ شہوت کا جذبہ بجائے خود اجتماعیت کا دشمن Anti Social ہے۔ یہ خود غرضی، انفرادیت اور انار کا میلان رکھنے والا جذبہ ہے۔ اس میں پائیداری نہیں۔ اس میں احساس ذمہ داری نہیں۔ یہ محض وقتی لا لطف اندوزی کے لئے تحریک کرتا ہے۔ اس دیو کو مسخر کر کے اس سے اجتماعی زندگی کی ۔ ۔ اس زندگی کی جو صبر و ثبات، محنت، قربانی ذمہ داری اور پیم جفاکشی چاہتی ہے - - - - خدمت لینا کوئی آسان کام نہیں۔ وہ نکاح کا قانون اور خاندان کا نظام ہی ہے جو اس دیو کو شیشے میں اتار کر اس سے شرارت اور بد نظمی کی ایجنسی چھین لیتا ہے اور اسے مرد و عورت کے اس لگاتار تعاون و اشتراک عمل کا ایجنٹ بنا دیتا ہے جو اجتماعی زندگی کی تعمیر کے لئے ناگزیر ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی تمدنی زندگی ختم ہو جائے، انسان حیوان کی طرح رہنے لگیں اور بالاخر نوع انسانی صفحہ ہستی سے ناپید ہو جائے۔
پس صنفی میلان کو انار کی اور بے اعتدالی سے روک کر اس کے فطری مطالبات کی تشفی و تسکین کے لئے جو راستہ خود فطرت چاہتی ہے کہ کھولا جائے وہ صرف یہی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان نکاح کی صورت میں مستقل وابستگی ہو، اور اس وابستگی سےخاندانی نظام کی بنا پڑے۔ تمدن کے وسیع کارخانے کو چلانے کے لئے جن پرزوں کی ضرورت ہے وہ خاندان کی اسی چھوٹی کارگاہ میں تیار کئے جاتے ہیں۔ یہاں لڑکیوں اور لڑکوں کے جوان ہوتے ہی کارگاہ کے منتظمین کو خود بخود یہ فکر لگ جاتی ہے کہ حتی الامکان ان کے ایسے جوڑ لگائیں جو ایک دوسرے کے لئے زیادہ مناسب ہوں تاکہ ان کے ملاپ سے زیادہ سے زیادہ بہتر نسل پیدا ہو سکے۔ پھر ان سے جو نسل نکلتی ہے، اس کارگاہ کا ہر کارکن اپنے دل کے بچے جذبہ سے کوشش کرتا ہے کہ اس کو جتنا بہتر بنا سکتا ہےبنائے۔ زمین پر اپنی زندگی کا پہلا لمحہ شروع کرتے ہی بچہ کو خاندان کے دائرہ میں محبت،خبر گیری، حفاظت اور تربیت کا وہ ماحول ملتا ہےجو اس کے نشوونما کےلئے آب حیات کا حکم رکھتا ہے۔ در حقیقت خاندان ہی میں بچے کو وہ لوگ تل سکتے ہیں جو اس سے نہ صرف محبت کرنے والے ہوں، بلکہ جو اپنے دل کی سے یہ چاہتے ہوں کہ بچہ جس مرتبہ پر پیدا ہوا ہے اس سے اونچے رتبے پر پہنچے۔ دنیا میں صرف ماں اور باپ ہی کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ہر لحاظ سے خود اپنے سے بہتر حالت میں اور خود اپنے سے بڑھا ہوا دیکھیں۔ اس طرح وہ بلا ارادہ، غیر شعوری طور پر آئندہ نسل کو موجودہ نسل سے بہتر بنانے اور انسانی ترقی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی اس کوشش میں خود غرضی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ اپنے لئے کچھ نہیں چاہتے۔ وہ بس اپنے بچے کی فلاح چاہتے ہیں اور اس کے ایک کامیاب اور عمدہ انسان بن کر اٹھنے ہی کو اپنی محنت کا کافی صلہ سمجھتے ہیں۔ ایسے مخلص کارکن (Labourers) اور ایسے بے غرض خادم (Workers) تم کو خاندان کی اس کارگاہ کے باہر کہاں ملیں گے جو نوع انسانی کی بہتری کے لئے نہ صرف بلا معاوضہ محنت صرف کریں، بلکہ اپنا وقت اپنی آسائش، اپنی قوت و قابلیت اور اپنی محنت کا سب کچھ اس خدمت میں صرف کر دیں؟ جو اس چیز پر اپنی ہر قیمتی شے قربان کرنے کے لئے تیار ہوں جس کا پھل دوسرے کھانے والے ہوں؟ جو اپنی محنتوں کا صلہ بس اس کو سمجھیں کہ دوسرے کے لئے انہوں نے بہتر کار کن اور خادم فراہم کر دیئے؟ کیا اس سے زیادہ پاکیزہ اور بلند ترین ادارہ انسانیت میں کوئی دوسرا بھی ہے۔
ہر سال نسل انسانی کو اپنے بقاء کے لئے اور تمدن انسانی کو اپنے تسلسل و ارتقاء کے لئے ایسے لاکھوں اور کروڑوں جوڑوں کی ضرورت ہے جو بخوشی و رضا اپنے آپ کو اس خدمت اور اس کی ذمہ داریوں کے لئے پیش کریں، اور نکاح کر کے اس نوعیت کی مزید کار گاہوں کی بنا ڈالیں۔ یہ عظیم الشان کارخانہ جو دنیا میں چل رہا ہے، یہ اسی طرح چل اور بڑھ سکتا ہے کہ اس قسم کے رضاکار پیم خدمت کے لئے اٹھتے رہیں اور اس کارخانہ کے لئے کام کے آدمی فراہم کرتے رہیں۔ اگر نئی بھرتی نہ ہو اور قدرتی اسباب سے پرانے کارکن بیکار ہو کر ہتے جائیں تو کام کے آدمی کم اور کم تر ہوتے چلے جائیں گے اور ایک دن یہ ساز ہستی بالکل بے نوا ہو کر رہ جائے گا۔ ہر آدمی جو اس تمدن کی مشین کو چلا رہا ہے، اس کا فرض صرف یہی نہیں ہے کہ اپنے جیتے جی اس کو چلائے جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ اپنی جگہ لینے کے لئے اپنے ہی جیسے اشخاص مہیا کرنے کی کوشش کرے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نکاح کی حیثیت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ صنفی جذبات کی تسکین و تشفی کے لئے ہی ایک جائز صورت ہے۔ بلکہ در اصل یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے، یہ فرد پر جماعت کا فطری حق ہے اور فرد کو اس بات کا اختیار ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ وہ نکاح کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خود اپنے لئے محفوظ رکھے۔ جو لوگ بغیر کسی معقول وجہ کے نکاح - سے انکار کرتے ہیں و جماعت کے نکھٹو افراد (Parasites) بلکہ غدار اور لٹیرے ہیں۔ ہر فرد جو زمین پر پیدا ہوا ہے اس نے زندگی کا پہلا سانس لینے کے بعد جوا جوانی کی عمر کو پہنچنے تک اس بےحد و حساب سرمایه سےاستفادہ کیا ہے جو پچھلی نسلوں نے فراہم کیا تھا۔ ان کے قائم کئےہوئے ادارت ہی کی بدولت اس کو زندہ رہنے، بڑھنے پھولنے اور آدمیت میں نشو و نما پانے کا موقع ملا۔ اس دوران میں وہ لیتا ہی رہا۔ اس نے دیا کچھ نہیں۔ جماعت نے اس امید پر اس کی ناقص قوتوں کی تکمیل کی طرف لے جانے میں اپنا سرمایہ اور اپنی قوت صرف کی کہ جب و نب وہ کچھ دینے کے قابل ہو گا تو دے گا۔ اب اگر وہ بڑا ہو کر اپنے لئے شخصی آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں صرف اپنی خواہشات پوری کروں گا۔ مگر ان ذمہ داروں کا بوجھ نہ اٹھاؤں گا جو ان خواہشات کے ساتھ وابستہ ہیں، تو دراصل وہ اس جماعت کے ساتھ غداری اور دھوکا بازی کرتا ہے۔اس کی زندگی کا ہر لمحہ ایک ظلم اور بے انصافی ہے۔جماعت میں اگر شعور موجود ہو تو وہ اس مجرم کو جنٹلمین' یا معزز لیڈی ، یا مقدس بزرگ سمجھنے کے بجائے اس نظر سے دیکھے جس سے وہ چوروں، ڈاکوؤں اور جعل سازوں کو دیکھتی ہے۔ ہم نے خواہ چاہا ہو یا نہ چاہا ہو بہر طور ہم اس تمام سرمایہ اور ذخیرہ کے وارث ہوئے ہیں جو ہم سے پہلے کی نسلوں نے چھوڑا ہے۔ اب ہم اس فیصلہ میں آزاد کیسے ہو سکتے ہیں کہ جس فطری قانون کے مطابق یہ ورثہ ہم تک پہنچا ہے اس کے منشاء کو پورا کریں یا نہ کریں؟ ایسی نسل تیار کریں یا نہ کریں جو نوع انسانی کے اس سرمایہ اور ذخیرہ کی وارث ہو؟ اس کو سنبھالنے کے لئے دوسرے آدمی اسی طرح تیار کریں یا نہ کریں جس طرح ہم خود تیار کئے گئے ہیں؟
پرانی جاہلیت کی طرح اس نئی جاہلیت کے دور میں بھی اکثر لوگ زنا کو ایک فطری فعل سمجھتے ہیں اور نکاح ان کے نزدیک محض تمدن کی ایجاد کردہ مصنوعات یا زوائد میں سے ایک چیز ہے۔ ان کا خیال ہے کہ فطرت نے جس طرح ہر بکری کو ہر بکرے کے لئے اور ہر کتیا کو ہر کتے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح ہر عورت کو بھی ہر مرد کےلئے پیدا کیا ہے اور فطری طریقہ یہی ہے کہ جب خواہش ہو، جب موقع بہم پہنچ جائے، اور جب دونوں صنفوں کے کوئی.دو فرد باہم راضی ہوں، تو ان کےدرمیان اسی طرح صنفی عمل واقع ہو جائے جس طرح جانوروں میں ہو جاتا ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت انسانی کی بالکل غلط تعبیر ہے۔ان لوگوں نےانسان کو محض ایک حیوان سمجھ لیا ہے لہذا جب کبھی یہ فطرت کے لفظ بولتے ہیں تو اس سے ان کی مراد حیوانی فطرت ہوتی ہے نہ کہ انسانی فطرت۔ جس منتشر تعلق کو یہ فطری کہتے ہیں وہ حیوانات کے لئے تو ضرور فطری ہے مگر انسان کے لئے ہرگز فطری نہیں۔ وہ نہ صرف انسانی فطرت کے خلاف ہے، بلکہ اپنے آخری نتائج کے اعتبار سے اس حیوانی فطرت کے بھی خلاف واقع ہو جاتا ہےجو انسان کے اندر موجود ہے۔اس لئےکہ انسان کےاندر انسانیت اور حیوانیت دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ دراصل ایک وجود کے اندر دونوں مل کر ایک ہی شخصیت بناتی ہیں اور دونوں کے مقتضیات باہم ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو جاتے ہیں کہ جہاں تک ایک منشاء سے منہ موڑا گیا دوسری کا منشاء بھی خود بخود فوت ہو کر رہ جاتا ہے۔
زنا میں بظاہر آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کم از کم فطرت حیوانی کے اقتضاء کو تو پورا کر دیتی ہے کیونکہ تناسل اور بقائے نوع کا مقصد مجرد صنفی عمل سے پورا ہو جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ نکاح کے اندر ہو یا باہر۔ لیکن اس سے پہلے جو کچھ ہم بیان کر چکے ہیں اس پر پھر ایک نگاہ ڈال کر دیکھ لیجئے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ فعل جس طرح فطرت انسانی کے مقصد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اسی طرح فطرت حیوانی کے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ فطرت انسانی چاہتی ہے کہ منفی تعلق میں استحکام اور استقلال ہو تا کہ بچہ کو ماں اور باپ مل کھیل رہے۔ اگر مرد کو یقین نہ ہو کہ بچہ اسی کا ہے تو وہ اس کی پرورش کے لئے قربانی اور تکلیفیں برداشت ہی نہ کرے گا اور نہ یہی گوارا کرے گا کہ وہ اس کے بعد اس کے ترکہ کا وارث ہو۔ اسی طرح اگر عورت کو یقین نہ ہو کہ جو مرد اسے ہارور کر رہا ہے وہ اس کی اور اس کے بچہ کی کفالت کے لئے تیار ہے تو وہ حمل کی مصیبت اٹھانے کے لئے تیار ہی نہ ہو گی۔ اگر بچہ کی پرورش میں ماں اور باپ تعاون نہ کریں تو اس کی تعلیم و تربیت اور اس کی اخلاقی، ذہنی اور معاشی حیثیت کبھی اس معیار پر نہ پہنچ سکے گی جس سے وہ انسانی تمدن کے لئے کوئی مفید کار کن نہ بن سکے۔ یہ سب فطرت انسانی کے مقتضیات ہیں اور جب ان مقتضیات سے منہ موڑ کر محض حیوانوں کی طرح مرد اور عورت عارضی تعلق قائم کرتے ہیں تو وہ خود فطرت حیوانی کے اقتضاء (یعنی توالد و تناسل) سے بھی منہ موڑ جاتے ہیں، کیونکہ اس وقت توالد و تناسل ان کے پیش نظر نہیں ہوتا اور نہیں ہو سکتا۔ اس وقت ان کے درمیان صنفی تعلق صرف خواہشات نفس کی تسکین اور صرف لذت طلبی و لطف اندوزی کے لئے ہوتا ہے جو سرے سے منشاء فطرت ہی کے خلاف ہے۔
جاہلیت جدیدہ کے علمبردار اس پہلو کو خود بھی کمزور پاتے ہیں۔ اس لئے وہ اس پر ایک اور استدلال کا اضافہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر جماعت کے دو فرد آپس میں مل کر چند ساعتیں لطف اور تفریح میں گزار دیں تو اس میں آخر سوسائٹی کا بگڑتا کیا ہے کہ وہ اس میں مداخلت کرے؟ سوسائٹی اس صورت میں تو ضرور مداخلت کا حق رکھتی ہے جبکہ ایک فریق دوسرے پر جبر کرے یا دھوکے اور فریب سے کام لے، یا کسی جماعتی قضیہ کا سبب بنے لیکن جہاں ان میں سے کوئی بات بھی نہ ہو اور صرف دو اشخاص کے درمیان لذت اندوزی ہی کا معالمہ ہو تو سوسائٹی کو ان کے بیچ میں حائل ہونے کا کیا حق ہے؟ لوگوں کے ایسے پرائیویٹ معاملات میں بھی اگر دخل دیا جائے تو شخصی آزادی محض ایک لفظ بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔
شخصی آزادی کا یہ تصور اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ان جہالتوں میں سے ایک ہے جن کی تاریکی، علم اور تحقیق کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی کافور ہو جاتی ہے۔ تھوڑے سے غوروخوض کے بعد بنی آدمی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جس آزادی کا مطالبہ افراد کے لئے کیا جا رہا ہے اس کے لئے کوئی گنجائش جماعتی زندگی میں نہیں ہے۔جس کو ایسی آزادی مطلوب ہو اسے جنگل میں جا کر حیوانوں کی طرح رہنا چاہئے۔ انسانی اجتماع تو دراصل علائق اور روابط کے ایسے جال کا نام ہے جس میں ہر فرد کی زندگی دوسرے بے شمار افراد کے ساتھ وابستہ ہے، ان پر اثر ڈالتی ہے اور ان سے اثر قبول کرتی ہے۔ اس تعلق باہمی میں انسان کے کسی فعل کو بھی خالص شخصی اور بالکل انفرادی نہیں کہا جا سکتا۔ کسی ایسے شخصی فعل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جس کا اثر بحیثیت مجموعی پوری جماعت پر نہ پڑتا ہو۔ افعال جوارح تو درکنار، دل میں چھپا ہوا کوئی خیال بھی ایسا نہیں جو ہمارے وجود پر اور اس سے منعکس ہو کر دوسروں پر اثر انداز نہ ہوتا ہو۔ ہمارے قلب و جسم کی ایک ایک حرکت کے نتائج ہم سے منتقل ہو کر اتنی دور تک پہنچتے ہیں کہ ہمارا علم کسی طرح ان کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔ ایسی حالت میں یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کا اپنی کسی قوت کا استعمال کرنا اس کی اپنی ذات کے سوا کسی پر اثر نہیں ڈالتا لہذا کسی کو اس سے کوئی سروکار نہیں اور اسے اپنے معاملہ میں پوری آزادی حاصل ہونی چاہئے؟ اگر مجھے یہ آزادی نہیں دیجا سکتی کہ ہاتھ میں لکڑی لے کر جہاں چاہوں گھماؤں اپنے پاؤں کو حرکت دے کر جہاں چاہوں گھس جاؤں۔ اپنی گاڑی کو جس طرح چاہوں چلاؤں، اپنے گھر میں جتنی غلاظت چاہوں جمع کر لوں اگر یہ اور ایسے ہی بے شمار شخصی معاملات اجتماعی ضوابط کے پابند ہونے ضروری ہیں، تو آخر میری قوت شہوانی ہی تنہا اس شرف کی حقدار کیوں ہو کہ اسے کسی اجتماعی ضابطہ کا پابند نہ بنایا جائے اور مجھے بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے کہ اسے جس طرح چاہوں صرف کروں؟
یہ کہنا کہ ایک مرد اور ایک عورت باہم مل کر ایک پوشیدہ مقام پر سب سے الگ جو لطف اٹھاتے ہیں اس کا کوئی اثر اجتماعی زندگی پر نہیں پڑتا ؟ بچوں کی سی بات ہے۔ دراصل اس کا اثر صرف اس سوسائٹی پر ہی نہیں پڑتا جس سے وہ براہ راست متعلق ہیں، بلکہ پوری انسانیت پر پڑتا ہے اور اس کے اثرات صرف حال کے لوگوں ہی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ جس اجتماعی و عمرانی رابطہ میں پوری انسانیت بندھی ہوئی ہے اس سے کوئی فرد کسی حال میں کسی محفوظ مقام پر بھی الگ نہیں ہے۔ بند کمروں میں، دیواروں کی حفاظت میں بھی وہ اسی طرح جماعت کی زندگی سے مربوط ہے جس طرح بازار یا محفل میں ہے، جس وقت وہ خلوت میں اپنی تولیدی طاقت کو ایک عارضی اور غیر نتیجہ خیز لطف اندوزی پر ضائع کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت دراصل وہ اجتماعی زندگی میں بد نظمی پھیلانے اور نوع کی حق تلفی اور جماعت کو بے شمار اخلاقی، مادی، تمدنی نقصانات پہنچانے میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ اپنی خود غرضی سے تمام ان اجتماعی ادارت پر ضرب لگاتا ہے جن سے اس نے جماعت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے فائدہ تو اٹھایا مگر ان کے قیام و بقا میں اپنا حصہ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ جماعت نے میونسپلٹی سے لے کر اسٹیٹ تک، مدرسہ سے لے کر فوج تک، کارخانوں سے لے کر علمی تحقیقات کی مجلسوں تک جتنے بھی ادارے قائم رکھتے ہیں، سب اسی اعتماد پر قائم کئے ہیں کہ ہر وہ فرد جو ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے، ان کے قیام اور ان کی ترقی میں اپنا واجبی حصہ ادا کرے گا لیکن جب اس بے ایمان نے اپنی قوت شہوانی کو اس طرح استعمال کیا کہ اس میں توالد و تناسل اور تربیت اطفال کے فرائض انجام دینے کی سرے سے نیت ہی نہ تھی تو اس نے ایک ہی ضرب میں اپنی حد تک اس پورے نظام کی جڑ کاٹ دی۔ اس نے اس اجتماعی معاہدہ کو توڑ ڈالا جس میں وہ عین اپنے انسان ہونے کی ہی حیثیت سے شریک تھا۔ اس نے اپنے ذمہ کا بار خود اٹھانے کےبجائے دوسروں پر سارا بار ڈالنے کی کوشش کی۔ وہ کوئی شریف آدمی نہیں ہے بلکہ ایک چور خائن اور لٹیرا ہے۔ اس سے رعایت کرنا پوری از انیت پر ظلم کرنا ہے۔
اجتماعی زندگی میں فرد کا مقام کیا ہے، اس چیز کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہ سکتا کہ ایک ایک قوت جو ہمارے نفس اور جسم میں ودیعت کی گئی ہے محض ہماری ذات کے لئے نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہمارے پاس امانت ہے اور ہم ان میں سے ہر ایک کے لئے پوری انسانیت کے حق میں جواب و وہ ہیں ۔ اگر ہم خود اپنی جان کو یا اپنی قوتوں میں سے کسی کو ضائع کرتے ہیں یا اپنی غلط کاری سے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ہمارے اس فعل کی اصلی حیثیت یہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہمارا تھا اس کو ہم نے ضائع کیا یا نقصان پہنچا دیا۔ بلکہ دراصل اس کی حیثیت یہ ہے کہ تمام عالم انسانی کے لئے جو امانت ہمارے پاس تھی، اس میں ہم نے خیانت کی اور اپنی اس حرکت سے پوری نوع کو نقصان پہنچایا۔ ہمارا دنیا میں موجود ہونا خود اس بات پر شاہد ہے کہ دوسرے نے ذمہ داریوں اور تکلیفوں کا بوجھ اٹھا کر زندگی کا نور ہماری طرف منتقل کیا تب ہی ہم اس عالم میں آئے۔ پھر اسٹیٹ کی تنظیم نے ہماری جان کی حفاظت کی۔ حفظان صحت کے محکمے ہماری زندگی کے تحفظ میں لگے رہے۔ لاکھوں کروڑوں انسانوں نے مل کر ہماری ضروریات فراہم کیں۔ تمام اجتماعی اداروں نے مل کر ہماری قوتوں کو سنوارنے اور تربیت دینے کی کوشش کی اور ہمیں وہ کچھ بنایا جو ہم ہیں۔ کیا ان سب کا یہ جائز بدلہ ہو گا کیا یہ انصاف ہو گا کہ جس جان اور جن قوتوں کے وجود بقا نشوونما میں دوسروں کا اتنا حصہ ہے اس کو ہم ضائع کر دیں یا مفید بنانے کے بجائے مضر بنائیں؟ خود کشی اسی بناء پر حرام ہے۔ ہاتھ سے شہوت رانی کرنے والے کو اسی وجہ سے دنیا کےسب سے بڑے حکیم نے ملعون کہا ہے۔ (ناکح اليد ملعون) عمل قوم لوط کو اسی بنیاد پر بدترین جرم قرار دیا گیا ہے اور زنا بھی اسی وجہ سے انفرادی تفریح اور خوش وقتی نہیں ہے بلکہ پوری انسانی جماعت پر ظلم ہے۔
(١) سب سے پہلے ایک زانی اپنے آپ کو امراض خبیثہ کے خطرے میں ڈالتا ہے۔ اور اس طرح نہ صرف اپنی جسمانی قوتوں کی اجتماعی افادیت میں نقص پیدا کرتا ہے بلکہ جماعت اور نسل کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ سوزاک کے متعلق ہر طبیب آپ کو بتا دے گا کہ مجرائے بول کا یہ قرحہ شاذونادر ہی کامل طور پر مندمل ہوتا ہے۔ ایک بڑے ڈاکٹر کا قول ہے کہ ”ایک دفعہ سوزاک ہمیشہ کے لئے سوزاک" اس سے جگر ، مثانہ ، انشیین وغیرہ اعضاء بھی بسا اوقات آفت رسیدہ ہو جاتے ہیں۔ گٹھیا اور بعض دوسرے امراض کا بھی یہ سبب بن جاتا ہے۔ اس سے مستقل بانجھ پن پیدا ہو جانے کا بھی امکان ہے۔ اور یہ دوسروں کی طرف متعدی بھی ہوتا ہے۔ رہا آتشک تو کس کو معلوم نہیں کہ اس سے پورا نظام جسمانی مسموم ہو جاتا ہے۔ سر سے پاؤں تک کوئی عضو بلکہ جسم کا کوئی جزو ایسا نہیں جس میں اس کا زہر نفوذ نہ کر جاتا ہو۔ یہ نہ صرف خود مریض کی جسمانی قوتوں کو ضائع کرتا ہے بلکہ ایک شخص سے نہ معلوم کتنے اشخاص تک مختلف ذرائع سے پہنچ جاتا ہے۔ پھر اس کی بدولت مریض کی اولاد اور اولاد کی اولاد تک بے قصور سزا بھگتی ہے۔ بچوں کا اندھا، گونگا بہرا فاتر العقل پیدا ہونا لطف کی ان چند گھڑیوں کا ایک معمولی ثمرہ ہے جنہیں ظالم باپ نے اپنی زندگی میں متاع عزیز سمجھا تھا۔
(۲) امراض خبیثہ میں تو ہر زانی کا مبتلا ہو جانا یقینی نہیں ہے، مگر ان اخلاقی کمزوریوں سے کسی کا بچنا ممکن نہیں جو اس فعل سے لازما" تعلق رکھتی ہیں۔ بے حیائی، فریب کاری، جھوٹ ، بد نیتی، خود غرضی، خواہشات کی غلامی ضبط نفس کی کمی، خیالات کی آوارگی طبیعت میں ذواقی اور ہر جائی پن اور نا وفاداری۔ یہ سب زنا کے وہ اخلاقی اثرات ہیں جو خود زانی کے نفس پر مترتب ہوتے ہیں۔ جو شخص یہ خصوصیات اپنے اندر پرورش کرتا ہے اس کی کمزوریوں کا اثر محض صنفی معاملات ہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی طرف سے یہی ہدیہ جماعت کو پہنچتا ہے۔ اگر جماعت میں کثرت سے لوگوں کے اندر یہ اوصاف نشوونما پا گئے ہوں تو ان کی بدولت آرٹ اور ادب تفریحات اور کھیل، علوم اور فنون، صنعت اور حرفت، معاشرت اور معیشت سیاست اور عدالت، فوجی خدمات اور انتظام ملکی، غرض ہر چیز کم و بیش ماؤف ہو کر رہے گی۔ خصوصا" جمہوری نظام میں تو افراد کی ایک ایک اخلاقی خصوصیت کا پوری قوم کی زندگی پر منعکس ہونا یقینی ہے۔ جس قوم کے بیشتر افراد کے مزاج میں کوئی قرار و ثبات نہ ہو اور جس قوم کے اکثر اجزاء ترکیبی وفا سے ایثار سے اور خواہشات پر قابو رکھنے کی صفات سے عاری ہوں اس کی سیاست میں استحکام آخر آئے کہاں سے؟
(۳) زنا کو جائز رکھنے کے ساتھ یہ بھی لازم ہو جاتا ہے کہ سوسائٹی میں فاحشہ گری کا کاروبار جاری رہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ایک جوان مرد کو تفریح" کا حق حاصل ہے، وہ گویا ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں ایک معتد بہ طبقہ ایسی عورتوں کا موجود رہنا چاہئے جو ہر حیثیت سے انتہائی پستی و ذلت کی حالت میں ہوں۔ آخر یہ عورتیں آئیں گی کہاں سے؟ اس سوسائٹی ہی میں سے تو پیدا ہوں گی۔ بہر حال کسی کی بیٹی اور بہن ہی تو ہوں گی۔ وہ لاکھوں عورتیں جو ایک ایک گھر کی ملکہ ایک ایک خاندان کی بانی کئی کئی بچوں کی مربی بن سکتی تھیں، انہی کو لا کر تو بازار میں بٹھانا پڑے گا تاکہ میونسپلٹی کے پیشاب خانوں کی طرح وہ آوارہ مزاج مردوں کے لئے رفع حاجت کا محل بنیں۔ ان سے عورت کی تمام شریفانہ خصوصیات چھینی جائیں ، انہیں ناز فروشی کی تربیت دی جائے، انہیں اس غرض کے لئے تیار کیا جائے کہ اپنی محبت اپنے دل اپنے جسم اپنے حسن اور اپنی اداؤں کو ہر ساعت ایک نئے خریدار کے ہاتھ بیچیں اور کوئی نتیجه خیز و بار آور خدمت کے بجائے تمام عمر دوسروں کی نفس پرستی کے لئے کھلونا بنی رہیں۔
(۴) زنا کے جواز سے نکاح کے تمدنی ضابطه کو لامحالہ نقصان پہنچتا ہے بلکہ انجام کار نکاح ختم ہو کر صرف زنا ہی زنا رہ جاتی ہے۔ اول تو زنا کا میلان رکھنے والے مردوں اور عورتوں میں یہ صلاحیت ہی بہت کم باقی رہ جاتی ہے کہ صحیح ازدواجی زندگی بسر کر سکیں۔ کیونکہ جو بدنیتی، بد نظری، ذواتی اور آوارہ مزاجی اس طریق کار سے پیدا ہوتی ہے اور ایسے لوگوں میں جذبات کی بے ثباتی اور خواہشات نفس پر قابو نہ رکھنے کی جو کمزوری پرورش پاتی ہے، وہ ان صفات کے لئے سم قاتل ہے جو ایک کامیاب ازدواجی تعلق کے لئے ضروری ہیں۔ وہ اگر ازدواج کے رشتہ میں بندھیں گے بھی تو ان کے درمیان وہ حسن سلوک و سنجوگ، وہ باہمی اعتماد اور وہ مہر و وفا کا رابطہ کبھی استوار نہ ہو گا جس سے اچھی نسل پیدا ہوتی ہے اور ایک مسرت بھرا گھر وجود میں آتا ہے۔ پھر جہاں زنا کی آسانیاں ہوں وہاں عملاً " یہ ناممکن ہے کہ نکاح کا تمدن پرور طریقہ قائم رہ سکے کیونکہ جن لوگوں کو ذمہ داریاں قبول کئے بغیر خواہشات نفس کی تسکین کے مواقع حاصل ہوں انہیں کیا ضرورت ہے کہ نکاح کر کے اپنے سر پر بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ لاد لیں؟
(۵) زنا کے جواز اور رواج سے نہ صرف تمدن کی جڑ کٹتی ہے، بلکہ خود نسل انسانی کی جڑ بھی کٹتی ہے۔ جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے، آزادانہ صنفی تعلق میں مرد اور عورت دونوں میں سے کسی کی بھی یہ خواہش نہیں ہوتی اور نہیں ہو سکتی کہ بقائے نوع کی خدمت انجام دیں۔
(٦) زنا سے نوع اور سوسائٹی کو اگر بچے ملتے ہیں تو حرامی بچے ہوتے ہیں۔ نسب میں حلال اور حرام کی تمیز محض ایک جذباتی چیز نہیں ہے جیسا کہ بعض نادان لوگ گمان کرتے ہیں۔ دراصل متعدد حیثیات سے حرام کا بچہ پیدا کرنا خود بچے پر اور پورے انسانی تمدن پر ایک ظلم عظیم ہے۔ اول تو ایسے بچہ کا نطفہ ہی اس حالت میں قرار پاتا ہے جب کہ ماں اور باپ دونوں پر خالص حیوانی جذبات کا تسلط ہوتا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے میں صنفی عمل کے وقت جو پاک انسانی جذبات ہوتے ہیں وہ ناجائز تعلق رکھنے والے جوڑے کو کبھی میسر ہی نہیں آ سکتے۔ان کو تو مجرد بہیمیت کا جوش ایک دوسرے سے ملاتا ہے اور اس وقت تمام انسانی خصوصیات برطرف ہوتی ہیں۔ لہذا ایک حرامی بچہ طبعا" اپنےوالدین کی حیوانیت کا وارث ہوتا ہے۔ پھر وہ بچہ جس کا خیر مقدم کرنے کے لئے نہ ماں تیار ہو نہ باپ جو کہ مطلوب چیز کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ناگہانی مصیبت کی حیثیت سے والدین کے درمیان آیا ہو، جس کو باپ کی محبت اور اس کے وسائل بالعموم میسر نہ آئیں، جو صرف ماں کی یک طرفہ تربیت پائے اور وہ بھی ایسی جس میں بے دلی اور بیزاری شامل ہو، جس کو دادا، دادی، چچا، ماموں اور دوسرے اہل خاندان کی سرپرستی حاصل نہ ہو، وہ بہرحال ایک ناقص و نامکمل انسان ہی بن کر اٹھے گا۔ نہ اس کا صحیح کریکٹر بن سکے گا۔ نہ اس کی صلاحیتیں چک سکیں گی۔ نہ اس کو ترقی اور کارپردازی کے پورے وسائل بہم پہنچ سکیں گے۔ وہ خود بھی ناقص، بے وسیلہ بے یار و مددگار اور مظلوم ہو گا اور تمدن کے لئے کسی طرح اتنا مفید نہ بن سکے گا جتنا وہ حلال ہونے کی صورت میں ہو سکتا تھا۔
آزاد شہوت رانی کے حامی کہتے ہیں کہ بچوں کی پرورش اور تعلیم کے لئے ایک قومی نظام ہونا چاہئے تاکہ بچوں کو ان کے والدین اپنے آزادانہ تعلق سے جنم دیں اور قوم ان کو پال پوس کر تمدن کی خدمت کے لئے تیار کرے۔ اس تجویز سے ان لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی آزادی اور ان کی انفرادیت محفوظ رہے اور ان کی نفسانی خواہشات کو نکاح کی پابندیوں میں جکڑے بغیر تولید نسل و تربیت اطفال کا مدعا حاصل ہو جائے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو موجودہ نسل کی انفرادیت اتنی عزیز ہے وہ آئندہ نسل کے لئے قومی تعلیم یا سرکاری تربیت کا ایسا سسٹم تجویز کرتے ہیں جس میں انفرادیت کے نشوونما اور شخصیت کے ارتقاء کی صورت نہیں ہے۔ اس قسم کے ایک سسٹم میں جہاں ہزاروں لاکھوں بچے بیک وقت ایک نقشے ایک ضابطے اور ایک ہی ڈھنگ پر تیار کئے جائیں، بچوں کا انفرادی تشخص ابھر اور نکھر ہی نہیں سکتا۔ وہاں تو ان میں زیادہ . سے زیادہ یکسانی اور مصنوعی ہمواری پیدا ہو گی۔ اس کارخانے سے بچے اسی طرح ایک سی شخصیت لے کر نکلیں گے جس طرح کسی بڑی فیکٹری سے لوہے کے پرزے یکساں ڈھلے ہوئے نکلتے . ہیں۔ غور تو کرو انسان کے متعلق ان کم عقل لوگوں کا تصور کتنا پست اور کتنا گھٹیا ہے۔ یہ باٹا کے جوتوں کی طرح انسانوں کو تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ بچے کی شخصیت کو تیار کرنا ایک لطیف ترین آرٹ ہے۔ یہ آرٹ ایک چھوٹے نگار خانے ہی میں انجام پا سکتا ہے جہاں ہر مصور کی توجہ ایک ایک تصویر پر مرکوز ہو۔ ایک بڑی فیکٹری میں جہاں کرایہ کے مزدور ایک ہی طرز کی تصویریں لاکھوں کی تعداد میں تیار کرتے ہیں، یہ آرٹ غارت ہو گا نہ کہ ترقی کرے گا۔
پھر قومی تعلیم و تربیت کے اس سسٹم میں آپ کو بہرحال ایسے کارکنوں کی ضرورت ہو گی جو سوسائٹی کی طرف سے بچوں کی پرورش کا کام سنبھالیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس خدمت کو انجام دینے کے لئے ایسے ہی کارکن موزوں ہو سکتے ہیں جو اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھتے ہوں اور جن میں خود اخلاقی انضباط پایا جاتا ہو۔ ورنہ وہ بچوں میں اخلاقی انضباط کیسے پیدا کر سکیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسے آدمی آپ لائیں گے کہاں سے؟ آپ تو قومی تعلیم و تربیت کا سسٹم قائم ہی اس لئے کر رہے ہیں۔ کہ مردوں اور عورتوں کو اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ اس طرح جب آپ نے سوسائٹی میں سے اخلاقی انضباط اور خواہشات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کا بیج ہی مار دیا تو اندھوں کی بستی میں آنکھوں والے دستیاب کہاں ہوں گے کہ وہ نئی نسلوں کو دیکھ کر چلنا سکھائیں؟
(٧) زنا کے ذریعہ سے ایک خود غرض انسان جس عورت کو بچہ کی ماں بنا دیتا ہے اس کی زندگی ہمیشہ کے لئے تباہ ہو جاتی ہے اور اس پر ذلت اور نفرت عامہ اور مصائب کا ایسا پہار ٹوٹ پڑتا ہے کہ جیتے جی وہ اس کے بوجھ تلے سے نہیں نکل سکتی۔ نئے اخلاقی اصولوں نے اس مشکل کا حل یہ تجویز کیا ہے کہ ہر قسم کی مادری کو مساوی حیثیت دے دی جائے، خواہ وہ قید نکاح کے اندر ہو یا باہر۔ کہا جاتا ہے کہ مادریت بہر حال قابل احترام ہے اور یہ کہ جس لڑکی نے اپنی سادگی سے یا بے احتیاطی سے ماں بننے کی ذمہ داری قبول کر لی اس پر یہ ظلم ہے کہ سوسائٹی میں اسے مطعون کیا جائے لیکن اول تو یہ حل ایسا ہے کہ اس میں مجموعی سراسر مصیبت ہی مصیبت ہے۔ سوسائٹی فطرتا حرامی بچہ کی ماں کو جس نفرت اور ذلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے وہ ایک طرف افراد کو گناہ اور بدکاری سے روکنے کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے اور دوسری طرف وہ خود سوسائٹی میں بھی اخلاقی حس کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ اگر حرامی بچہ کی ماں اور حلالی بچہ کی ماں کو مساوی سمجھا جانے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت سے خیر اور شر، بھلائی اور برائی گناہ اور ثواب کی تمیز ہی رخصت ہو گئی۔ پھر بالفرض اگر یہ ہو بھی جائے تو کیا اس سے فی الواقع وہ مشکلات حل ہو جائیں گی جو حرامی بچہ کی ماں کو پیش آتی ہیں۔ تم اپنے نظریہ میں حرام اور حلال دونوں قسم کی مادری کو مساوی قرار دے سکتے ہو، مگر فطرت ان دونوں کو مساوی نہیں کرتی اور حقیقت میں وہ ہ کبھی مساوی ہو ہی نہیں سکتیں۔ ان کی مساوات عقل، منطق، انصاف حقیقت ہر چیز کے خلاف ہے۔ آخر وہ بے وقوف عورت جس نے شہوانی جذبات کے وقتی ہیجان سے مغلوب ہو کر اپنے آپ کو ایک ایسے خود غرض آدمی کے حوالہ کر دیا جو اس کی اور اس کے بچہ کی کفالت کا ذمہ لینے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس عقل مند عورت کے برابر کس طرح ہو سکتی ہے جس نے اپنے جذبات کو اس وقت تک قابو میں رکھا جب تک اسے ایک شریف ذمہ دار آدمی نہ مل گیا؟ کون سی عقل ان دونوں کو یکساں کہہ سکتی ہے؟ تم چاہو تو نمائشی طور پر انہیں برابر کر دو مگر تم اس بے وقوف عورت کو وہ کفالت و حفاظت، وہ ہمدردانہ رفاقت، وہ محبت آمیز نگهداشت وہ خیر خواہانہ دیکھ بھال اور وہ سکینت و طمانیت کہاں سے دلواؤ گے جو صرف ایک شوہر والی عورت ہی کو تو مل سکتی ہے؟ تم اس کے بچہ کو باپ کی شفقت اور پورے سلسلہ پدری کی محبت و عنایت کس بازار سے لادو گے؟ زیادہ سے زیادہ تم قانون کے زور سے اس کو نفقہ دلوا سکتے ہو۔ مگر کیا ایک ماں اور ایک بچہ کو دنیا میں صرف نفقہ ہی کی ضرورت ہوا کرتی ہے؟ پس یہ حقیقت ہے کہ حرام اور حلال کی مادریت کو یکساں کر دینے سے گناہ کرنے والیوں کو خارجی تسلی چاہے کتنی ہی مل جائے، بہر حال یہ چیز ان کو ان کی حماقت کے طبعی نتائج سے ان کے بچوں کو اس طرح کی پیدائش کے حقیقی نقصانات سے نہیں بچا سکتی۔
ان وجوہ سے یہ بات جماعتی زندگی کے قیام اور صحیح نشوونما کے لئے اہم ضروریات میں سے ہے کہ جماعت میں صنفی عمل کے انتشار کو قطعی روک دیا جائے اور جذبات شہوانی کی تسکین کے لئے صرف ایک ہی دروازہ - - - - - - - - ازدواج کا دروازہ کھولا جائے۔ افراد کو زنا کی آزادی دینا ان کے ساتھ بے جا رعایت اور سوسائٹی پر ظلم، بلکہ سوسائٹی کا قتل ہے۔ جو سوسانٹی اس معاملہ کو حقیر سمجھتی ہے اور زنا کو محض افراد کی ”خوش وقتی" (Having a good time سمجھ کر نظر انداز کر دینا چاہتی ہے۔ اور آزادانه تخم ریزی Sowing Wild Oats) کے ساتھ رواداری برتنے کے لئے تیار ہے، وہ دراصل ایک جاہل سوسائٹی ہے۔ اس کو اپنے حقوق کا نہیں ہے۔ وہ آپ اپنے ساتھ دشمنی کرتی ہے۔ اگر اسے اپنے حقوق کا شعور ہو اور وہ جانے اور سمجھے کہ صنفی تعلقات کے معاملہ میں انفرادی آزادی کے اثرات جماعتی مفاد پر کیا مرتب ہوتے ہیں تو وہ اس فعل کو اسی نظر سے دیکھے جس سے چوری، ڈاکہ اور قتل کو دیکھتی ہے بلکہ یہ چوری سے اشد ہے۔ چور قاتل اور ڈاکو زیادہ سے زیادہ ایک فرد یا چند افراد کا نقصان کرتے ہیں۔ مگر زانی پوری سوسائٹی پر اور اس کی آئندہ نسلوں پر ڈاکہ مارتا ہے۔ وہ بیک وقت لاکھوں کروڑوں انسانوں کی چوری کرتا . ہے۔ اس کے نتائج ان سب مجرموں سے زیادہ دور رس اور زیادہ وسیع ہیں۔ جب یہ تعلیم ہے کہ افراد کی خود غرضانه دست درازیوں کے مقابلہ میں سوسائٹی کی مدد پر قانون کی طاقت ہونی چاہئے اور جب اسی بنیاد پر چوری، قتل، لوٹ مار، جعل سازی اور غصب حقوق کی دوسری صورتوں کو جرم قرار دے کر تعزیر کے زور سے ان کا سدباب کیا جاتا ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ زنا کے معاملہ میں قانون سوسائٹی کا محافظ نہ ہو اور اسے تعزیزی جرم قرار نہ دیا جائے۔
اصولی حیثیت سے بھی یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ نکاح اور سفاح دونوں بیک وقت ایک نظام معاشرت کے جز نہیں ہو سکتے۔ اگر ایک شخص کے لئے ذمہ داریاں قبول کئے بغیر خواہشات نفس کی تسکین جائز رکھی جائے تو اسی کام کے لئے نکاح کا ضابطہ مقرر کرنا محض بے معنی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ریل میں بلا ٹکٹ سفر کرنے کو جائز بھی رکھا جائے اور پھر سفر کے لئے ٹکٹ کا قاعدہ بھی مقرر کیا جائے۔ کوئی صاحب عقل آدمی ان دونوں طریقوں کو بیک وقت اختیار نہیں کر سکتا۔ معقول صورت یہی ہے کہ یا تو ٹکٹ کا قاعدہ سرے سے اڑا دیا جائے یا اگر یہ قاعدہ مقرر کرتا ہے تو بلا ٹکٹ سفر کرنے کو جرم قرار دیا جائے۔ اسی طرح نکاح اور سفاح کے معاملہ میں بھی دو عملی ایک قطعی غیر معقول چیز ہے۔ اگر تمدن کے لئے نکاح کا ضابطہ ضروری ہے، جیسا کہ پہلے بدلائل ثابت کیا جا چکا ہے، تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سفاح کو جرم قرار دیا جائے۔ اس جاہلیت کی خصوصیات میں سے یہ بھی ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ جن چیزوں کے نتائج محدود ہوتے ہیں اور جلدی اور محسوس شکل میں سامنے آ جاتے ہیں ان کا تو ادراک کر لیا جاتا ہے مگر جن کے نتائج وسیع اور دور رس ہونے کی وجہ سے غیر محسوس رہتے ہیں اور دیر میں مرتب ہوا کرتے ہیں انہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، بلکہ ناقابل اعتناء سمجھا جاتا ہے۔ چوری، قتل اور ڈکیتی جیسے معاملات کو اہم اور زنا کو غیر اہم سمجھنے کی وجہ یہی ہے۔ جو شخص اپنے گھر میں طاعون کے چوہے جمع کرتا ہے یا متعدی امراض پھیلاتا ہے۔ جاہلیت کا تمدن اس کو تو معافی کے قابل نہیں سمجھتا کیونکہ اس کا فعل صریح طور پرنقصان رساں نظر آتا ہے۔ مگر جو زنا کار اپنی خود غرضی سے تمدن کی جڑ کاتا ہے اس کے نقصانات چونکہ محسوس ہونے کے بجائے معقول ہیں اس لئے وہ جاہلوں کو ہر رعایت کا مستحق نظر آتا ہے بلکہ ان کی سمجھ میں یہ آتا ہی نہیں کہ اس کے فعل میں جرم کی آخر کون سی بات ہے۔ اگر تمدن کی بنیاد جاہلیت کے بجائے عقل اور علم فطرت پر ہو تو یہ طرز عمل کبھی اختیار نہ کیا جائے۔
١- ایک عام غلط فہمی یہ ہےکہ نکاح سے پہلےایک جوان آدمی کو خواہشات نفس کی تسکین کا تھوڑا بہت موقع ضرور حاصل ہونا چاہئےکیونکہ جوانی میں جذبات کےجوش کو روکنا مشکل ہےاور اگر روکا جائے تو صحت کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اس نتیجہ کی بنا جن مقدمات پر قائم ہے وہ سب غلط ہیں۔ جذبات کا ایسا جوش جو روکا نہ جا سکےایک غیر معمولی (Abnormal) حالت ہےاور معمولی (Normal) انسانوں میں یہ حالت صرف اس وجہ سےپیدا ہوتی ہےکہ ایک غلط نظام تمدن ان کو زبردستی مشتعل کرتا ہے۔ہمارے سینما ہمارا لٹریچر، ہماری تصویریں، ہماری موسیقی اور اس مخلوط سوسائٹی میں بنی ٹھنی عورتوں کا ہر جگہ مردوں سے متصادم ہونا، یہی وہ اسباب ہیں جو خواہ مخواہ معمولی انسانوں کو شہوانی اعتبار سے غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔ ورنہ ایک پر سکون فضا میں عام مردوں اور عورتوں کو ایسا ہیجان کبھی لاحق نہیں ہو سکتا کہ ذہن اور اخلاق کی تربیت سے اس کو ضبط نہ کیا جا سکے اور یہ خیال کہ جوانی کے زمانہ میں صنفی عمل نہ کرنے سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے لہذا صحت برقرار رکھنے کے لئے زنا کرنا چاہئے، ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دراصل صحت اور اخلاق دونوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ معاشرت کے اس غلط نظام اور خوشحال زندگی کے ان غلط معیارات کو بدلا جائے جن کی وجہ سے نکاح مشکل اور سفاح آسان ہو کر رہ گیا ہے۔
٤- انسداد فواحش کی تدابیر
تمدن کے لئے جو فعل نقصان دہ ہو اس کو روکنے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ اسے بس قانونا جرم قرار دیا جائے اور اس کے لئے ایک سزا مقرر کر دی جائے، بلکہ اس کے ساتھ چار قسم کی تدبیریں اور بھی اختیار کرنی ضروری ہیں :
ایک یہ کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ سے افراد کی ذہنیت درست کی جائے اور ان کے نفس کی اس حد تک اصلاح کر دی جائے کہ وہ خود اس فعل سے نفرت کرنے لگیں، اسے گناہ سمجھیں اور ان کا اپنا اخلاقی وجدان انہیں اس کے ارتکاب سے باز رکھے۔
دو سرے یہ کہ جماعتی اخلاق اور رائے عام کو اس گناہ یا جرم کے خلاف اس حد تک تیار کر دیا جائے کہ عام لوگ اسے عیب اور لائق شرم فعل سمجھنےاور اس کے مرتکب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تاکہ جن افراد کی تربیت ناقص رہ گئی ہو، یا جن کا اخلاقی وجدان کمزور ہو انہیں رائے عام کی طاقت ارتکاب جرم سے باز رکھے۔
تیسرے یہ کہ نظام تمدن میں ایسے تمام اسباب کا انسداد کر دیا جائے جو اس جرم کی تحریک کرنے والے اور اس کی طرف ترغیب و تحریص دلانے والے ہوں اور اس کے ساتھ ہی ان اسباب کو بھی حتی الامکان دور کیا جائے جو افراد کو اس فعل پر مجبور کرنے والے ہوں۔
چوتھے یہ کہ تمدنی زندگی میں ایسی رکاوٹیں اور مشکلات پیدا کر دی جائیں کہ اگر کوئی شخص اس جرم کا ارتکاب کرنا بھی چاہے تو آسانی سے نہ کر سکے۔
یہ چاروں تدبیریں ایسی ہیں جن کی صحت اور ضرورت پر عقل شہادت دیتی ہے، فطرت ان کا مطالبہ کرتی ہے اور بالفعل ساری دنیا کا تعامل بھی یہی ہے کہ سوسائٹی کا قانون جن جن چیزوں کو جرم قرار دیتا ہے ان سب کو روکنے کے لئے تعزیر کے علاوہ یہ چاروں تدبیریں بھی کم و بیش ضرور استعمال کی جاتی ہیں- اب اگر یہ مسلم ہے کہ صنفی تعلقات کا انتشار تمدن کے لئے مملک. ہے اور سوسائٹی کے خلاف ایک شدید جرم کی حیثیت رکھتا ہے تو لا محالہ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے روکنے کے لئے تعزیر کے ساتھ ساتھ وہ سب ! اصلاحی و انسدادی تدابیر استعمال کرنی ضروری ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے لئے افراد کی تربیت بھی ہونی چاہئے، رائے عام کو بھی اس کی مخالفت کے لئے تیار کرنا چاہئے۔تمدن کے دائرے سے ان تمام چیزوں کو خارج بھی کرنا چاہئے جو افراد کے شہوانی جذبات کو مشتعل کرتی ہیں، نظام معاشرت سے ان رکاوٹوں کو بھی دور کرنا چاہئے جو نکاح کے لئے مشکلات پیدا کرتی ہیں اور مردوں اور عورتوں کے تعلقات پر ایسی پابندیاں بھی عائد کرنی چاہئیں کہ اگر وہ دائرہ ازدواج کے باہر صنفی تعلق قائم کرنے کی طرف مائل ہوں تو ان کی راہ میں بہت سے مضبوط تجابات حائل ہو جائیں۔ زنا کو جرم اور گناہ تسلیم کر لینے کے بعد کوئی صاحب عقل آدمی ان تدابیر کے خلاف ایک لفظ نہیں کہہ سکتا۔
بعض لوگ ان تمام اخلاقی و اجتماعی اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر زنا کو گناہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا اصرار یہ ہے کہ اس کے خلاف تعزیری اور انسدادی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے صرف اصلاحی تدبیروں پر اکتفا کرنا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ تعلیم اور تربیت کے ذریعہ سے لوگوں میں اتنا باطنی احساس، ان کے ضمیر کی آواز میں اتنی طاقت اور ان کے اخلاقی وجدان میں اتنا زور پیدا کر دو که و وہ خود اس گناہ سے رک جائیں۔ ورنہ اصلاح نفس کے بجائے تقریر اور انسدادی تدابیر اختیار کرنے کے معنی تو یہ ہوں گے کہ تم آدمیوں کے ساتھ بچوں کا سا سلوک کرتے ہو، بلکہ آدمیت کی توہین کرتے ہو۔“ ہم بھی ان کے ارشاد کو اس حد تک تسلیم کرتے ہیں کہ اصلاح آدمیت کا اعلیٰ اور اشرف طریقہ وہی ہے جو وہ بیان فرماتے ہیں۔ تہذیب کی غایت فی الحقیقت یہی ہے کہ افراد کے باطن میں ایسی قوت پیدا ہو جائے جس سے وہ خود بخود سوسائٹی کے قوانین کا احترام کرنے لگیں اور خود ان کا اپنا ضمیر ان کو اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی سے روک دے۔ اسی غرض کے لئے افراد کی تعلیم و تربیت پر سارا زور صرف کیا جاتا ہے۔ مگر کیا فی الواقع تہذیب اپنی اس غایت کو پہنچ چکی ہے؟ کیا حقیقت میں تعلیم اور اخلاقی تربیت کے ذرائع سے افراد انسانی کو اتنا مہذب بنایا جا چکا ہے کہ ان کے باطن پر کامل اعتماد کیا جا سکتا ہو اور جماعتی نظام کی حفاظت کے لئے خارج میں کسی انسدادی اور تعزیزی تدبیر کی ضرورت باقی نہ رہی ہو؟ زمانہ قدیم کا ذکر چھوڑئیے کہ آپ کی زبان میں وہ ” تاریک دور تھا۔ یہ بیسویں صدی یه قرن منور " آپ کے سامنے موجود ہے۔ اس زمانہ میں یورپ اور امریکہ کے مہذب ترین ممالک کو دیکھ لیجئے جن کا ہر باشندہ تعلیم یافتہ ہے، جن کو اپنے شہریوں کی اعلیٰ تربیت پر ناز ہے، کیا وہاں تعلیم اور اصلاح نفس نے جرائم اور قانون شکنی کو روک دیا ہے؟ کیا وہاں چوریاں نہیں ہوتیں؟ ڈاکے نہیں پڑتے ؟ قتل نہیں ہوتے؟ جعل اور فریب اور اور فساد کے واقعات پیش نہیں آتے؟ کیا وہاں افراد کے اندر اخلاقی ذمہ داری کا اتنا احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ بچوں کا سا سلوک نہیں کیا جاتا؟ اگر واقعہ یہ نہیں ہے اگر اس روشن زمانہ میں بھی سوسائٹی نے نظم و آئین کو محض افراد کے اخلاقی وجد ان پر نہیں چھوڑا جا سکا ہے، اگر اب بھی ہر جگہ "آدمیت کی یہ تو ہین" ہو رہی ہے کہ جرائم کے سدباب کے لئے تعزیری اور انسدادی دونوں قسم کی تدبیریں استعمال کی جاتی ہیں، تو آخر کیا وجہ ہے کہ صرف صنفی تعلقات ہی کے معاملہ میں آپ کو یہ تو ہین ناگوار ہے ؟ صرف اسی ایک معاملہ میں کیوں ان بچوں" سے "بڑوں" کا سلوک کئے جانے پر آپ کو اصرار اور اتنا اصرار ہے؟ ذرا ٹول کر دیکھئے ، کہیں دل میں کوئی چور تو چھپا ہوا نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جن چیزوں کو تم شہوانی محرکات قرار دے کر تمدن کےدائرے سے خارج کرنا چاہتے ہو وہ تو سب آرٹ اور ذوق جمال کی جان ہیں،انہیں نکال دینے سے تو انسانی زندگی میں لطافت کا سرچشمہ ہی سوکھ کر رہ جائے گا لہذا تمہیں تمدن کی حفاظت اور معاشرت کی اصلاح جو کچھ بھی کرنی ہے اس طرح کرو کہ فنون لطیفہ اور جمالیت کو ٹھیس نہ لگنے پائے۔ ہم بھی ان حضرات کے ساتھ اس حد تک متفق ہیں کہ آرٹ اور ذوق جمال في الواقع قیمتی چیزیں ہیں جن کی حفاظت بلکہ ترقی ضرور ہونی چاہئے۔ مگر سوسائٹی کی زندگی اور اجتماعی فلاح ان سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ ان کو کسی آرٹ اور کسی ذوق پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹ اور جمالیت کو اگر پھلنا پھولنا ہے تو اپنے لئے نشوونما کا وہ راستہ ڈھونڈیں جس میں وہ اجتماعی زندگی اور فلاح کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔جو آرٹ اور ذوق جمال زندگی کے بجائے ہلاکت اور فلاح کے بجائے فساد کی طرف لے جانے والا ہو اسے جماعت کے دائرے میں ہرگز پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جا سکتا۔ یہ کوئی ہمارا انفرادی اور خانہ زاد نظریہ نہیں ہے بلکہ یہی عقل و فطرت کا مقتضا ہے، تمام دنیا اس کو اصولا تسلیم کرتی ہے اور اسی پر ہر جگہ عمل بھی ہو رہا ہے۔ جن چیزوں کو بھی دنیا میں جماعتی زندگی کے لئے مہلک اور موجب فساد سمجھا جاتا ہے انہیں کہیں آرٹ اور ذوق جمال کی خاطر گوارا نہیں کیا جاتا مثلا" جو لٹریچر فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری پر ابھارتا ہو اسے کہیں بھی محض اس کی ادبی خوبیوں کی خاطر جائز نہیں رکھا جاتا۔ جس ادب میں طاعون یا ہیضہ پھیلانے کی ترغیب دی جائے اسے کہیں برداشت نہیں کیا جاتا۔ جو سینما یا تھیٹر امن شکنی اور بغاوت پر اکساتا ہو اس کو دنیا کی کوئی حکومت منظر عام پر آنے کی اجازت نہیں دیتی۔ جو تصویریں ظلم اور فسادات اور شرارت کے جذبات کی مظہر ہوں یا جن میں اخلاق کے تسلیم شدہ اصول توڑے گئے ہوں وہ خواہ کتنی ہی کمال فن کی حامل ہوں، کوئی قانون اور کسی سوسائٹی کا ضمیر ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ جیب کترنے کا فن اگرچہ ایک لطیف ترین فن ہے اور ہاتھ کی صفائی کا اس سے بہتر کمال شاید ہی کہیں پایا جاتا ہو، مگر کوئی اس کے پھلنے پھولنے کا روادار نہیں ہوتا۔ جعلی نوٹ اور چیک اور دستاویزیں تیار کرنے میں حیرت انگیز ذہانت اور مہارت صرف کی جاتی ہے، مگر کوئی اس آرٹ کی ترقی کو جائز نہیں رکھتا۔ ٹھگی میں انسانی دماغ نے اپنی قوت ایجاد کے کیسے کیسے کمالات کا اظہار کیا ہے مگر کوئی مہذب سوسائٹی ان کمالات کی قدر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ پس یہ اصول بجائے خود مسلم ہے کہ جماعت کی زندگی، اس کا امن، اس کی فلاح و بہبود ہر فن لطیف اور ہر ذوق جمال و کمال . سے زیادہ قیمتی اور کسی آرٹ پر اسے قربان نہیں کیا جا سکتا۔ البته اختلاف جس امر میں ہے وہ صرف یہ ہے کہ ایک چیز کو ہم جماعتی زندگی اور فلاح کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور دوسرے ایسا نہیں سمجھتے۔ اگر اس امر میں ان کا نقطہ نظر بھی وہی ہو جائے جو ہمارا ہے تو انہیں بھی آرٹ اور ذوق جمال پر وہی پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگے گی جن کی ضرورت ہم محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ناجائز صنفی تعلقات کو روکنے کے لئے عورتوں اور مردوں کے درمیان حجابات حائل کرنا اور معاشرت میں ان کے آزادانه اختلاط پر پابندیاں عائد کرنا در اصل ان کے اخلاق اور ان کی سیرت پر حملہ ہے۔ اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ گویا تمام افراد کو بد چلن فرض کر لیا گیا ہے اور یہ کہ ایسی پابندیاں لگانے والوں کو نہ ہی اپنی عورتوں پر اعتماد ہے نہ مردوں پر ۔ بات بڑی معقول ہے ۔ مگر اسی طرز استدلال کو ذرا آگے بڑھائیے۔ ہر قفل جو کسی دروازے پر لگایا جاتا ہے گویا اس امر کا اعلان ہے کہ اس کے مالک نے تمام دنیا کو چور فرض کیا ہے۔ ہر پولیس مین کا وجود اس پر شاہد ہے کہ حکومت اپنی تمام رعایا کو بدمعاش بھتی ہے۔ پھر لین دین میں جو دستاویز لکھائی جاتی ہے وہ اس امر کی دلیل ہے کہ ایک فریق نے دوسرے فریق کو خائن قرار دیا ہے۔ ہر وہ انسدادی تدابیر جوار تکاب جرائم کی روک تھام کے لیے اختیار کی جاتی ہیں، اس کے عین وجود میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ان سب لوگوں کو امکانی مجرم فرض کیا گیا ہے جن پر اس تدبیر کا اثر پڑتا ہو۔ اس طرز استدلال کے لحاظ سے تو آپ ہر آن چوڑ بدمعاش، خائن اور مشتبہ چال چلن کے آدمی قرار دیئے جاتے ہیں۔ مگر آپ کی عزت نفس کو ذراسی ٹھیں بھی نہیں لگتی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صرف اسی ایک معاملہ میں آپ کے احساسات اتنے نازک ہو گئے ہیں؟
اصل بات وہی ہے جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں۔ جن لوگوں کے ذہن میں پرانے اخلاقی تصورات کا بچا کھچا اثر بھی باقی ہے وہ زنا اور صنفی انار کی کو برا تو سمجھتے ہیں، مگر ایسا زیادہ برا نہیں سمجھتے کہ اس کے قطعی انسداد کی ضرورت محسوس کریں۔ اسی وجہ سے اصلاح وانسداد کی تدابیر میں ہمارا اور ان کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ اگر فطرت کے حقائق ان پر پوری طرح منکشف ہو جائیں اور وہ اس معاملہ کی صحیح نوعیت سمجھ لیں تو انہیں ہمارے ساتھ اس امر میں اتفاق کرنا پڑے گا کہ انسان جب تک انسان ہے اور اس کے اندر جب تک حیوانیت کا عصر موجود ہے اس وقت تک کوئی ایسا تمدن جو اشخاص کی خواہشات اور ان کے لطف ولذت سے بڑھ کر جماعتی زندگی کی فلاح کو عزیز رکھتا ہو ان تدابیر سے غافل نہیں ہوسکتا۔
خاندان کی تاسیس اور صنفی انتشار کا سدباب کرنے کے بعد ایک صالح تمدن کے لئے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نظام معاشرت میں مرد اور عورت کے تعلق کی صحیح نوعیت متعین کی جائے، ان کے حقوق ٹھیک ٹھیک عدل کے ساتھ مقرر کئے جائیں، ان کے درمیان ذمہ داریاں پوری مناسبت کے ساتھ تقسیم کی جائیں اور خاندان میں ان کے مراتب اور وظائف کا تقرر اس طور پر ہو کہ اعتدال اور توازن میں فرق نہ آنے پائے۔ تمدن کے جملہ وسائل میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ پیچیدہ ہے ، مگر انسان کو اس گتھی کے سلجھانے میں اکثر ناکامی ہوئی ہے۔
بعض قومیں ایسی ہیں جن میں عورت کو مرد پر قوام بنایا گیا ہے۔ مگر ہمیں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ اس قسم کی قوموں سے کوئی قوم تہذیب و تمدن کسی اعلیٰ مرتبہ پر پہنچی ہو۔ کم از کم تاریخی معلومات کے ریکارڈ میں تو کسی ایسی قوم کا نشان پایا نہیں جاتا جس نے عورت کو حاکم بنایا ہو پھر دنیا میں عزت اور طاقت حاصل کی ہو یا کوئی کار نمایاں انجام دیا ہو۔
بیشتر اقوام عالم نے مرد کو عورت پر قوام بنایا، مگر اس ترجیح نے اکثر ظلم کی شکل اختیار کرلی ہے۔ عورت کو لونڈی بنا کر رکھا گیا۔ اس کی تذلیل و تحقیر کی گئی۔ اس کو کسی قسم کے معاشی اور تمدنی حقوق نہ دیئے گئے۔ اس کو خاندان میں ایک ادنی خدمت گار اور مرد کے لئے آلہ شہوت رانی بنا کر رکھا گیا اور خاندان سے باہر عورتوں کے ایک گروہ کو کسی حد تک علم اور تہذیب کے زیوروں سے آراستہ کیا بھی گیا تو صرف اس لئے کہ وہ مردوں کے منفی مطالبات زیادہ دلاویز طریقے سے پوری کریں، ان کے لئے اپنی موسیقی سے لذت گوش اور اپنے رقص اور ناز و ادا سے لذت نظر اور اپنے صنفی کمالات سے لذت جسم بن جائیں۔ یہ عورت کی توہین و تذلیل کا سب سے زیادہ شرمناک طریقہ تھا جو مرد کی نفس پرستی نے ایجاد کیا اور جن قوموں نے یہ طریقہ اختیار کیا وہ خود بھی نقصان سے نہ بچ سکیں۔
جدید مغربی تمدن نے تیسرا طریقہ اختیار کیا ہے۔ یعنی یہ کہ مردوں اور عورتوں میں مساوات ہو دونوں کی ذمہ داریاں یکساں اور قریب قریب ایک ہی طرح کی ہوں، دونوں ایک ہی حلقہ عمل میں مسابقت کریں، دونوں اپنی روزی آپ کمائیں اور اپنی ضروریات کے آپ کفیل ہوں۔ معاشرت کی تنظیم کا یہ قاعدہ ابھی تک پوری طرح تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔ کیونکہ مرد کی فضیلت و برتری اب بھی نمایاں ہے، زندگی کے کسی شعبہ میں بھی عورت مرد کی ہم پلہ نہیں ہے اور اس کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہوئے ہیں جو کامل مساوات کی صورت میں اس کو ملنے چاہئیں۔ لیکن جس حد تک بھی مساوات قائم کی گئی ہے اس نے ابھی سے نظام تمدن میں فساد برپا کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ہم تفصیل کے ساتھ اس کے نتائج بیان کر چکے ہیں لہذا یہاں اس پر مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ تینوں قسم کے تمدن، عدل اور توازن اور تناسب سے خالی ہیں کیونکہ انہوں نے فطرت کی رہنمائی کو سمجھنے اور ٹھیک ٹھیک اس کے مطابق طریقہ اختیار کرنے میں کو تاہی کی ہے۔ اگر عقل سلیم سے کام لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ فطرت خود ان مسائل کا صحیح حل بتا رہی ہے۔ بلکہ یہ بھی دراصل فطرت ہی کی زبردست طاقت ہے جس کے اثر سے عورت نہ تو اس حد تک گر سکی جس حد تک اسے گرانے کی کوشش کی گئی اور نہ اس حد تک بڑھ سکی جس حد تک اس نے بڑھنا چاہا یا مرد نے اسے بڑھانے کی کوشش کی۔ افراط و تفریط کے دونوں پہلو انسان نے غلط اندیش عقل اور اپنے بہکے ہوئے تعمیلات کے اثر سے اختیار کئے ہیں۔ مگر فطرت عدل اور تناسب چاہتی ہے۔ اور خود اس کی صورت بناتی ہے۔
اس سےکوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان ہونے میں مرد اور عورت دونوں مساوی ہیں۔دونوں نوع انسانی کے دو مساوی حصےہیں۔تمدن کی تعمیر اور تہذیب کی تاسیس و تشکیل اور انسانیت کی خدمت میں دونوں برابر کےشریک ہیں۔ دل، دماغ، عقل،جذبات،خواہشات اور بشری ضروریات دونوں رکھتے ہیں۔ تمدن کی صلاح و فلاح کےلئےدونوں کی تہذیب نفس،دماغی تربیت اورہیں۔تمدن کی صلاح و فلاح کےلئےدونوں کی تہذیب نفس دماغی تربیت اور پورا حصہ ادا کر سکے۔ اس اعتبار سے مساوات کا دعوی بالکل صحیح ہے اور ہر صالح تمدن کا فرض یہی ہےکہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اپنی فطری استعداد اور صلاحیت کےمطابق زیادہ سے زیادہ ترقی کرنے کا موقع دے۔ ان کو علم اور اعلیٰ تربیت سے مزین کرے، انہیں بھی مردوں کی طرح تمدنی و معاشی حقوق عطا کرے اور انہیں معاشرت میں عزت کا مقام بخشے تاکہ ان میں عزت نفس کا احساس پیدا ہو اور ان کے اندر وہ بہترین بشری صفات پیدا ہو سکیں جو صرف عزت نفس کے احساس ہی سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ جن قوموں نے اس قسم کی مساوات سے انکار کیا ہے، جنہوں نے اپنی عورتوں کو جاہل، ناتربیت یافتہ ذلیل اور حقوق مدنیت سے محروم رکھا ہے، وہ خود پستی کے گڑھے میں گر گئی ہیں، کیونکہ انسانیت کے پورے نصف حصہ کو گرا دینے کے معنی خود انسانیت کو گرا دینے کے ہیں۔ ذلیل ماؤں کی گودیوں سے عزت والے، اور نا تربیت یافتہ ماؤں کی آغوش سے اعلیٰ تربیت والے اور پست خیال ماؤں کے گہوارے سے اونچے خیال والے انسان نہیں نکل سکتے۔
لیکن مساوات کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ مرد اور عور دونوں کا حلقہ عمل ایک ہی ہو، دونوں ایک ہی طرح سے کام کریں، دونوں پر زندگی کے تمام عمل ایک ہی ہو، دونوں ایک ہی طرح سے کام کریں، دونوں پر زندگی کے تمام حیثیتیں بالکل ایک سی ہوں۔ اس کی تائید میں سائنس کے مشاہدات اور تجربات سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ عورت اور مرد اپنی جسمانی استعداد اور قوت کے لحاظ سے مساوی (Equipotential) ہیں مگر صرف یہ امر کہ ان دونوں میں اس قسم کی مساوات پائی جاتی ہے اس امر کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ فطرت کا مقصود بھی دونوں سے ایک ہی طرح کے کام لیتا ہیں۔ ایسی رائے قائم کرنا اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا۔ جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ دونوں کے نظام جسمانی بھی یکساں ہیں۔ دونوں پر فطرت نے ایک ہی جیسی خدمات کا بار بھی ڈالا ہے اور دونوں کی نفسی کیفیات بھی ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ انسان نے اب تک جتنی سائینفک تحقیقات کی ہیں اس سے ان تینوں تنقیحات کا جواب نفی میں ملتا ہے۔
علم الحیات (Biology) کی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ عورت اپنی شکل و صورت اور ظاہری اعضاء سے لے کر جسم کے ذرات اور نسیجی خلا یا (Protein Molecules of Tissue Cells) تک ہر چیز میں مرد مختلف ہے۔ جس وقت رحم میں بچے کے اندر صنفی تشکیل (Sex Formation) واقع ہوتی ہے اسی وقت سے دونوں صنفوں کی جسمانی ساخت بالکل ایک دوسرے سے مختلف صورت میں ترقی کرتی ہے۔ عورت کا پورا نظام جسمانی اس طور پر بنایا جاتا ہے کہ وہ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کے لئے مستعد ہو۔ ابتدائی جنینی تشکیل سے لے کر سن بلوغ تک اس کے جسم کا پورا نشود نما ای استعداد کی تکمیل کے لئے ہوتا ہے۔ اور یہی چیز اس کی آئندہ زندگی کا راستہ متعین کرتی ہے۔
بالغ ہونے پر ایام ماہواری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے اثر سے اس کے جسم کے تمام اعضاء کی فعلیت متاثر ہو جاتی ہے۔ اکابر فن حیاتیات و عضویات کے مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایام ماہواری میں عورت کے اندر حسب ذیل تغیرات ہوتے ہیں :
یه تغییرات ایک تندرست عورت کو بیماری کی حالت سے اس قدر قریب کر دیتے ہیں کہ در حقیقت اس وقت صحت اور مرض کے درمیان کوئی واضح خط کھینچنا مشکل ہوتا ہے۔ سو (۱۰۰) میں سے بمشکل تئیس (۲۳) عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو ایام ماہواری بغیر کسی درد اور تکلیف کے آتے ہوں۔ ایک مرتبہ ۱۰۲۰ عورتوں کو بلا انتخاب لے کر ان کے حالات کی تحقیق کی گئی تو ان میں ۸۴ فیصدی ایسی نکلیں جن کو ایام ماہواری میں درد اور دوسری تکلیفوں سے سابقہ پیش آتا تھا۔
در دسر تکان اعضاء شکنی اعصابی کمزوری طبیعت کی پستی مثانہ کی بے چینی، ہضم کی خرابی بعض حالات میں قبض کبھی کبھی متلی اور تے ۔ اچھی خاصی تعداد ایسی عورتوں کی ہے جن کی چھاتیوں میں ہلکا سا درد ہوتا ہے اور کبھی کبھی وہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ ٹیسیں سی اٹھتی معلوم ہوتی ہیں ۔ بعض عورتوں کا غدہ ورقہ ( تھائی رائڈ ) اس زمانہ میں سوج جاتا ہے جس سے گلا بھاری ہو جاتا ہے ۔ بسا اوقات فتور ہضم کی شکایت ہوتی ہے اور اکثر سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کریگر نے جتنی عورتوں کا معائنہ کیا ہے ان میں سے آدھی ایسی تھیں جن کو ایام ماہواری میں بد ہضمی کی شکایت ہو جاتی تھی اور آخری دنوں میں قبض ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر کب ہارڈ کا بیان ہے کہ ایسی عورتیں بہت کم مشاہدہ میں آئی ہیں جن کو زمانہ حیض میں کوئی تکلیف نہ ہوتی ہو۔ بیشتر ایسی ہی دیکھی گئی ہیں جنہیں در دسر تکان زیر ناف درد اور تھوک کی کمی لاحق ہوتی ہے۔ طبیعت میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے اور رونے کو جی چاہتا ہے۔“
ان حالات کے اعتبار سے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ ایام ماہواری میں ایک عورت دراصل بیمار ہوتی ہے۔ یہ ایک بیماری ہی ہے جو اسے ہر مہینہ لاحق ہوتی رہتی ہے۔
ان جسمانی تغییرات کا اثر لا محالہ عورت کے ذہنی قوی اور اس کے افعال اعضاء پر بھی پڑتا ہے۔ ۱۹۰۹ء میں ڈاکٹر (Voicechevsky) نے گہرے مشاہدہ کے بعد یہ نتیجہ ظاہر کیا تھا کہ اس زمانے میں عورت کے اندر مرکزیت خیال اور دماغی محنت کی طاقت کم ہو جاتی ہے پروفیسر ( Krschiskersky) نفسیاتی مشاہدات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس زمانہ میں عورت کا نظام عصبی نہایت اشتعال پذیر ہو جاتا ہے۔احساسات میں بلاوت اور ناہمواری پیدا ہو جاتی ہے۔مرتب انعکا سات کو قبول کرنےکی صلاحیت کم اور بسا اوقات باطل ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ پہلے سے حاصل شدہ مرتب انعکاسات میں بھی بدنظمی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے دو افعال بھی درست نہیں رہتے جن کی وہ اپنی روز مرہ زندگی میں خوگر ہوتی ہے۔ ایک عورت جو ٹرام کی کنڈکٹر ہے اس زمانہ میں غلط ٹکٹ کاٹ دے گی اور ریز گاری گننے میں الجھے گی۔ ایک موٹر ڈرائیور عورت گاڑی آہستہ اور ڈرتےڈرتےچلائےگی اور ہر موڑ پر گھبرائےگی۔ ایک لیڈی ٹائپسٹ غلط ٹائپ کرے گی دیر میں کرے گی۔ کوشش کے باوجود الفاظ چھوڑ جائے گی، غلط جملے بنائے گی، کسی حرف پر انگلی مارنی چاہے گی اور ہاتھ کسی پر جا پڑے گا۔ ایک بیرسٹر عورت کی قوت استدلال درست نہ رہے گی اور اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں اس کا دماغ اور اس کی قوت بیان دونوں غلطی کریں گے۔ ایک مجسٹریٹ عورت کی قوت فہم اور قوت فیصلہ دونوں متاثر ہو جائیں گی۔ ایک دندان ساز عورت کو اپنا کام کرتے وقت مطلوبہ اوزار مشکل سے ملیں گے۔ ایک گانے والی عورت اپنے لہجہ اور آواز کی خوبی کو کھو دے گی حتی کہ ایک ماہر نطقیات محض آواز سن کر بتا دے گا کہ گانے والی اس وقت حالت حیض میں ہے۔ غرض یہ کہ اس زمانہ میں عورت کے دماغ اور اعصاب کی مشین بڑی حد تک ست اور غیر مرتب ہو جاتی ہے، اس کے اعضاء پوری طرح اس کے ارادے کے تحت عمل نہیں کر سکتے، بلکہ اندر سے ایک اضطراری حرکت اس کے ارادے پر غالب آکر اس کی قوت ارادی اور قوت فیصلہ کو ماؤف کر دیتی ہے۔ اس سے مجبورانہ افعال سرزد ہونے لگتے .
پروفیسر لا پنسکی (Lapinsky) " اپنی کتاب (The Development of Personality in Women) میں لکھتا ہے کہ زمانہ حیض عورت کو اس کی آزادی عمل سے محروم کر دیتا ہے۔ وہ اس وقت اضطراری حرکات کی غلام ہوتی ہے اور اس میں بالا رادہ کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی قوت بہت کم ہو جاتی ہے۔
یہ سب تغیرات ایک تندرست عورت میں ہوتے ہیں اور باسانی ترقی کر کے مرض کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ریکارڈ پر ایسے واقعات بکثرت موجودہیں کہ اس حالت میں عورت دیوانی سی ہو جاتی ہے۔ ذرا سے اشتعال پر غضبناک ہو جانا وحشیانہ اور احمقانہ حرکات کر بیٹھنا، حتی کہ خود کشی تک کر گزرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ڈاکٹر کرافت ا - یبنگ (Kraft Ebing) لکھتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو عورتیں نرم مزاج، سلیقہ مند اور خوش خلق ہوتی ہیں ان کی حالت ایام ماہواری کے آتے ہی یکایک بدل جاتی ہے۔ یہ زمانہ ان کے اوپر گویا ایک طوفان کی طرح آتا ہے۔ وہ چڑ چڑی، جھگڑالو اور کٹ کھنی ہو جاتی ہیں۔ نوکر اور بچے اور شوہر سب ان سے نالاں ہوتے ہیں۔ حتی کہ وہ اجنبی لوگوں بھی بری طرح پیش آتی ہیں بعض دوسرے اہل فن گہرے مطالعہ کے بعد اس " نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عورتوں سے اکثر جرائم حالت حیض میں سرزد ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت اپنےقابو میں نہیں ہوتیں۔ ایک اچھی خاصی نیک عورت اس زمانہ میں چوری کر گزرے گی اور بعد میں خود اس کو اپنے فعل پر شرم آئے گی - - - - وائن برگ (Weinberg) اپنے مشاہدات کی بناء پر لکھتا ہے کہ خود کشی کرنے والی عورتوں میں ۵۰ فیصدی ایسی پائی گئی ہیں جنہوں نے حالت حیض میں یہ فعل کیا ہے۔ اسی بناء پر ڈاکٹر کرافت امینگ کی رائے یہ ہے کہ بالغ عورتوں پر جب کسی جرم کی پاداش میں مقدمہ چلایا جائے تو عدالت کو اس امر کی تحقیق کر لینی چاہئے کہ جرم کہیں حالت حیض میں تو نہیں کیا گیا۔
ایام ماہواری - سے بڑھ کر حمل کا زمانہ عورت پر سخت ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ریپریف (Reprev) لکھتا ہے کہ حمل کے زمانہ میں عورت کے جسم فضلات کا اخراج بسا اوقات فاقہ زدگی کی حالت بھی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں عورت کے قومی کسی طرح بھی جسمانی اور دماغی محنت کا وہ بار نہیں سنبھال سکتے جو حمل کے ماسوا دوسرے ایام میں سنبھال سکتے ہیں۔ جو حالات اس زمانہ میں عورت پر گزرتے ہیں وہ اگر مرد پر گزریں یا غیر زمانہ حمل میں خود عورت پر گزریں تو قطعی بیماری کا حکم لگا دیا جائے۔ اس زمانہ میں کئی مہینے تک اس کا نظام عصبی مختل رہتا ہے۔ اس کا دماغی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کے تمام عناصر روحی ایک مسلسل بد نظمی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ وہ مرض ا صحت کے درمیان معلق رہتی ہے اور ایک ادنی سی وجہ اس کو بیماری کی سرحد میں پہنچا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فشر کا بیان ہے کہ ایک تندرست عورت بھی حمل کے زمانہ میں سخت نفسی اضطراب میں مبتلا رہتی ہے۔ اس میں تلون پیدا ہو جاتا ہے خیالات پریشان رہتے ہیں، ذہن پراگندہ ہوتا ہے۔ شعور اور غورو فکر اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ ہیولاک ایلیس اور البرٹ مول اور اں دوسرے ماہرین کی متفقہ رائے یہ ہے کہ زمانہ حمل کا آخری ایک اس قابل نہیں ہوتا کہ اس میں عورت سے کوئی جسمانی یا دماغی محنت کی جائے۔
وضع حمل کے بعد متعدد بیماریوں کے رونما ہونے اور ترقی کرنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ زچگی کے زخم زہریلے اثرات قبول کرنے کے لئے مستعد رہتے ہیں۔ قبل حمل کی حالت پر واپس جانے کے لئے اعضاء میں ایک حرکت شروع ہوتی ہے جو سارے نظام جسمانی کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ اگر کوئی خطرہ بھی نہ پیش آئے تب بھی اس کو اپنی اصلی حالت پر آنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ اس طرح استقرار حمل کے بعد سے پورے ایک سال تک عورت در حقیقت بیمار یا کم از کم نیم بیمار ہوتی ہے اور اس کی قوت کار کردگی عام حالات کی بہ نسبت آدھی بلکہ اس سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
پھر رضاعت کا زمانہ ایسا ہوتا ہے جس میں درحقیقت وہ اپنے لئے نہیں جیتی بلکہ اس امانت کے لئے جیتی ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کی ہے۔ اس کے جسم کا جو ہر اس کے بچے کے لئے دودھ بنتا ہے۔ جو کچھ غذا وہ کھاتی ہے اس میں صرف اس قدر حصہ اس کے جسم کو ملتا ہے جس قدر اسے زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے باقی سب کا سب دودھ کی پیدائش میں صرف ہوتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسئلہ رضاعت کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ بچوں کو خارجی غذاؤں پر رکھا جائے۔ لیکن یہ کوئی صحیح حل نہیں ہے اس لئے فطرت نے بچہ کی پرورش کا جو سامان ماں کے سینے میں رکھ دیا ہے اس کا صحیح بدل اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ بچے کو اس سے محروم کرنا ظلم اور خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔ تمام ماہرین فن اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کے صحیح نشوونما کے لئے ماں کے دودھ سے بہتر کوئی غذا نہیں ہے۔
اسی طرح تربیت اطفال کے لئے نرسنگ ہوم اور تربیت گاہ اطفال کی تجویزیں نکالی گئی ہیں تاکہ مائیں اپنے بچوں سے بے فکر ہو کر بیرون خانہ کے مشاغل میں منہمک ہو سکیں۔ لیکن کسی نرسنگ ہوم اور کسی تربیت گاہ میں شفقت مادری فراہم نہیں کی جا سکتی۔ طفولیت کا ابتدائی زمانہ جس محبت اور جس دردمندی و خیر سگالی کا محتاج ہے وہ کرایہ کی پالنے پوسنے والیوں کے سینے میں کہاں سے آ سکتی ہے۔ تربیت اطفال کے یہ جدید طریقے ابھی تک آزمودہ نہیں ہیں۔ ابھی تک وہ نسلیں پھل پھول بھی نہیں لائیں جو بچے پالنے کے ان نئے کارخانوں میں تیار کی گئی ہیں۔ ابھی تک ان کی سیرت ان کے اخلاق ان کے کارنامے دنیا کے سامنے نہیں آئے ہیں کہ اس تجربہ کی کامیابی و ناکامی کے متعلق کوئی رائے قائم کی جا سکے۔ لہذا اس طریقے کے متعلق یہ دعوی کرنا قبل از وقت ہے کہ دنیا نے ماں کی آغوش کا صحیح بدل پا لیا ہے۔ کم از کم اس وقت تو یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ بچہ کی فطری تربیت گاہ اس کی ماں کی آغوش ہی ہے۔
اب یہ بات ایک معمولی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر عورت اور مرد دونوں کی جسمانی اور دماغی قوت و استعداد بالکل مساوی بھی ہے۔ تب بھی فطرت نے دونوں پر مساوی بار نہیں ڈالا ہے۔ بقائے نوع کی خدمت میں تخم ریزی کے سوا اور کوئی کام مرد کے سپرد نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد وہ بالکل آزاد ہے۔ زندگی کے جس شعبہ میں چاہے کام کرے۔ بخلاف اس کے اس خدمت کا پورا بار عورت پر ڈال دیا گیا ہے۔ اسی بار کے سنبھالنے کے لئے اس کو اس وقت سے مستعد کیا جاتا ہے جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں محض ایک مضغته گوشت ہوتی ہے۔ اس کے لئے اس کے جسم کی ساری مشین موزوں کی جاتی ہے۔ اس کے لئے اس پر جوانی کے پورے زمانے میں ایام ماہواری کے دورے آتے ہیں جو ہر مہینے میں تین سے لے کر سات یا دس دن اس کو کسی بڑی ذمہ داری کا بار سنبھالنے اور کوئی اہم جسمانی یا دماغی محنت کرنے کے قابل نہیں رکھتے۔ اس کے لئے اس پر حمل اور مابعد حمل کا پورا ایک سال سختیاں جھیلتے گزرتا ہے جس میں وہ در حقیقت نیم جاں ہوتی ہے۔ اس کے لئے اس پر رضاعت کے پورے دو سال اس طرح گزرتے ہیں کہ وہ اپنے خون سے انسانیت کی کھیتی کو سینچتی ہے اور اسے اپنے سینے کی نہروں سے سیراب کرتی ہے۔ اس کے لئے اس پر بچے کی ابتدائی پرورش کے کئی سال اس محنت و مشقت میں گزرتے ہیں کہ اس پر رات کی نیند اور دن کی آسائش حرام ہوتی ہے اور وہ اپنی راحت، اپنے لطف اپنی خوشی اپنی خواہشات، غرض ہر چیز کو آنے والی نسل پر قربان کر دیتی ہے۔
جب حال یہ ہے تو غور کیجئے کہ عدل کا تقاضا کیا ہے؟ کیا عدل یہی ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجا آوری کا بھی مطالبہ کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے اور پھر ان تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اس پر مرد کے برابر ڈال دیا جائے جن کو سنبھالنے کے لئے مرد فطرت کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد رکھا گیا ہے؟ اس سے کہا جائے کہ تو وہ ساری مصیبتیں بھی برداشت کر جو فطرت نے تیرے اوپر ڈالی ہیں اور پھر ہمارے ساتھ آکر روزی کمانے کی مشقتیں بھی اٹھا، سیاست اور عدالت اور صنعت و حرفت اور تجارت و زراعت اور قیام امن اور مدافعت وطن کی خدمتوں میں بھی برابر کا حصہ لے، ہماری سوسائٹی میں آکر ہمارا دل بھی بہلا اور ہمارے لئے عیش و مسرت اور لطف و لذت کے سامان بھی فراہم کر؟ یہ عدل نہیں ظلم ہے، مساوات نہیں صریح نامساوات ہے۔ عدل کا تقاضا تو یہ ہونا چاہئے کہ جس پر فطرت نے بہت زیادہ بار ڈالا ہے اس کو تمدن کے ہلکے اور سبک کام سپرد کئے جائیں اور جس پر فطرت نے کوئی بار نہیں ڈالا اس پر تمدن کی اہم اور زیادہ محنت طلب ذمہ داریوں کا بار ڈالا جائے اور اسی کے سپرد یہ خدمت بھی کی جائے کہ وہ خاندان کی پرورش اور اس کی حفاظت کرے۔
صرف یہی نہیں کہ عورت پر بیرون خانہ کی ذمہ داریاں ڈالنا ظلم ہے۔ بلکہ در حقیقت وہ ان مردانہ خدمات کو انجام دینے کی پوری طرح اہل بھی نہیں ہے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ ان کاموں کے لئے وہی کارکن موزوں ہو سکتے ہیں جن کی قوت کار کردگی پائیدار ہو، جو مسلسل اور علی الدوام اپنے فرائض کو یکساں اہلیت کے ساتھ انجام دے سکتے ہوں اور جن کی دماغی و جسمانی قوتوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہو۔ لیکن جن کارکنوں پر ہمیشہ ہر مہینہ ایک کافی مدت کے لئے عدم اهلیت یا کمی اہلیت کےدورے پڑتےہوں اور جن کی قوت کار کردگی بار بار معیار مطلوب سےگھٹ جایا کرتی ہو، وہ کس طرح ان ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکتےہیں؟اس فوج یا اس بحری بیڑے کی حالت کا اندازہ کیجئے جو عورتوں پر مشتمل ہو اور جس میں عین موقع کار زار پر کئی فی صدی ایام ماہواری کی وجہ سے نیم بیکار ہو رہی ہوں، ایک اچھی خاصی تعداد زچگی کی حالت میں بستروں پر پڑی ہو، اور ایک معتدبہ جماعت حاملہ ہونے کی وجہ سے ناقابل کار ہو رہی ہو۔ فوج کی مثال کو آپ کہہ دیں گے کہ یہ زیادہ سخت قسم کے فرائض سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر پولیس ، عدالت، انتظامی محکمے ، سفارتی خدمات، ریلوے، صنعت و حرفت اور تجارت کے کام ان میں سے کس کی ذمہ داریاں ایسی ہیں جو مسلسل قابل اعتماد کار کردگی کی اہلیت نہ چاہتی ہوں، پس جو لوگ عورتوں سے مردانہ کام لینا چاہتے ہیں ان کا مطلب شاید یہ ہے کہ یا تو سب عورتوں کو ناعورت بنا کر نسل انسانی کا خاتمہ کر دیا جائے یا یہ کہ ان میں سے چند فیصدی لازما" ناعورت بننے کی سزا کے لئے منتخب کی جاتی رہیں یا یہ کہ تمام معاملات تمدن کے لئے اہلیت کا معیار بالعموم گھٹا دیا جائے۔
مگر خواہ آپ ان میں سے کوئی صورت بھی اختیار کریں، عورت کو مردانہ کاموں کے لئے تیار کرنا عین اقتضائے فطرت اور وضع فطرت کے خلاف ہے اور یہ چیز نہ انسانیت کے لئے مفید ہے نہ خود عورت کے لئے۔ چونکہ علم الحیات کی رو سے عورت کو بچہ کی پیدائش اور پرورش کے لئے بنایا گیا ہے، اس لئے نفسیات کے دائرے میں بھی اس کے اندر وہی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں جو اس کے فطری وظیفہ کے لئے موزوں ہیں۔ یعنی محبت، ہمدردی، رحم و شفقت رقت قلب، ذکاوت حس اور لطافت جذبات اور چونکہ صنفی زندگی میں مرد کو فعل کا اور عورت کو انفعال کا مقام دیا گیا ہے۔ اس لئے عورت کے اندر تمام وہی صفات پیدا کی گئی ہیں جو اسے زندگی کے صرف منفعلانہ پہلو میں کام کرنے کے لئے تیار کرتی ہیں۔ اس کے اندر سختی اور شدت کے بجائے نرمی اور نزاکت اور لچک ہے۔ اس میں اثر اندازی کے بجائے اثر پذیری ہے، فعل کے بجائے انفعال ہے، جمنے اور ٹھرنے کے بجائے جھکنے اور ڈھل جانے کی صلاحیت ہے بیباکی اور جسارت کے بجائے منع اور فرار اور رکاوٹ ہے، کیا ان خصوصیات کو لے کر وہ کبھی ان کاموں کے لئے موزوں ہو سکتی ہے اور ان دوائر حیات میں کامیاب ہو سکتی ہے جو شدت، تحکم، مزاحمت اور سرد مزاجی چاہتے ہیں، جن میں نرم جذبات کے بجائے مضبوط ارادے اور بے لاگ رائے کی ضرورت ہے؟تمدن کے ان شعبوں میں عورت کو گھسیٹ لانا خود اس کو بھی ضائع کرنا ہے اور ان شعبوں کو بھی۔
اس میں عورت کے لئے ارتقاء نہیں بلکہ انحطاط ہے۔ ارتقاء اس کو نہیں کہتے کہ کسی کی قدرتی صلاحیتوں کو دبایا اور مٹایا جائے اور اس میں مصنوعی طور پر وہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو فطری طور پر اس کے اندر نہ ہوں۔ بلکہ ارتقاء اس کا نام ہے کہ قدرتی صلاحیتوں کو نشو و نما دیا جائے، ان کو نکھارا اور چپکایا جائے اور ان کے لئے بہتر سے بہتر عمل کے مواقع پیدا کئے جائیں۔
اس میں عورت کے لئے کامیابی نہیں بلکہ ناکامی ہے۔ زندگی کے ایک پہلو میں عورتیں کمزور ہیں اور مرد بڑھے ہوئے ہیں۔ دوسرے پہلو میں مرد کمزور ہیں اور عورتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ تم غریب عورتوں کو اس پہلو میں مرد کے مقابلہ پر لاتے ہو جس میں وہ کمزور ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہو گا کہ عورتیں ہمیشہ مردوں سے کم تر رہیں گی۔ تم خواہ کتنی ہی تدبیریں کر لو، ممکن نہیں ہے کہ عورتوں کی صنف سے ارسطو ابن سینا، کانٹ، ہیگل، خیام، ٹیکسپیر، سکندر نپولین، صلاح الدین، نظام الملک طوسی، اور سمارک کی ٹکر کا ایک فرد بھی پیدا ہو سکے۔ البتہ تمام دنیا کے مرد چاہے کتنا ہی سر مار لیں، وہ اپنی پوری صنف میں سے ایک معمولی درجہ کی ماں بھی پیدا نہیں کر سکتے۔
اس میں خود تمدن کا بھی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔ انسانی زندگی اور تہذیب کو جتنی ضرورت غلظت شدت اور صلابت کی ہے، اتنی ہی ضرورت رقت، نرمی اور لچک کی بھی ہے۔ جتنی ضرورت اچھے . سالاروں، اچھے مدبروں اور اچھے منتظمین کی ہے، اتنی ہی ضرورت اچھی ماؤں، اچھی بیویوں اور اچھی خانہ داروں کی بھی ہے۔ دونوں عصروں میں جس کو بھی ساقط کیا جائے گا تمدن بہر حال نقصان اٹھائے گا۔
وہ تقسیم عمل ہے جو خود فطرت نے انسان کی دونوں صنفوں کے یہ درمیان کر دی ہے۔ حیاتیات، عضویات، نفسیات اور عمرانیات کے تمام علوم اس تقسیم کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ بچہ جننے اور پالنے کی خدمت کا عورت کے سپرد ہونا ایک ایسی فیصلہ کن حقیقت ہے جو خود بخود انسانی تمدن میں اس کے لئےایک دائرہ عمل مخصوص کر دیتی ہے اور کسی مصنوعی تدبیر میں یہ طاقت نہیں ہےکہ فطرت کے اس فیصلہ کو بدل سکے۔ ایک صالح تمدن وہی ہو سکتا جو اولا" اس فیصلہ کو جوں کا توں قبول کرے۔ پھر عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اسے معاشرت میں عزت کا مرتبہ دے۔ اس کے جائز تمدنی و معاشی حقوق تسلیم کرے، اس پر صرف گھر کی ذمہ داریوں کا بار ڈالے اور بیرون خانہ کی ذمہ داریاں اور خاندان کی قوامیت مرد کے سپرد کر دے۔ جو تمدن اس تقسیم کو مٹانے کی کوشش کرے گا وہ عارضی طور پر مادی حیثیت سے ترقی اور شان و شوکت کے کچھ مظاہر پیش کر سکتا .لیکن بالاخر ایسے تمدن کی بربادی یقینی ہےکیونکہ جب عورت پر مرد کے برابر معاشی و تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا جائے گا تو وہ اپنے اوپر سے فطری ذمہ داریوں کا بوجھ اتار پھینکے گی اور اس کا نتیجہ نہ صرف تمدن بلکہ خود انسانیت کی بربادی ہو گا۔ عورت اپنی افتاد طبع اور اپنی فطری ساخت کے خلاف اگر کوشش کرے تو کسی نہ کسی حد تک مرد کے سب کاموں کا بوجھ سنبھال لے جائے گی۔ لیکن مرد کسی طرح بھی اپنے آپ کو بچے جننے اور پالنے کے قابل نہیں بنا سکتا۔
فطرت کی اس تقسیم عمل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاندان کی جو تنظیم اور معاشرت میں مرد و عورت کے وظائف کی جو تعین کی جائے گی اس کے ضروری ارکان لا محاله حسب ذیل ہوں گے۔
١- خاندان کے لئے روزی کمانا اس کی حمایت و حفاظت کرنا اور تمدن کی محنت طلب خدمات انجام دینا مرد کا کام ہو اور اس کی تعلیم و تربیت ایسی ہو
٢- بچوں کی پرورش، خانہ داری کے فرائض اور گھر کی زندگی کو سکون و راحت کی جنت بنانا عورت کا کام ہو اور اس کو بہتر سے بہتر تعلیم و تربیت دے کر انہی اغراض کے لئے تیار کیا جائے۔
٣- خاندان کے نظم کو برقرار رکھنے اور اس کو طوائف الملوکی سے بچانے کے لئے ایک فرد کو قانونی کے اندر ضروری حاکمانہ اختیارات حاصل ہوں تاکہ خاندان ایک بن سری فوج بن کر نہ رہ جائے۔ ایسا فرد صرف مرد ہی ہو سکتا ہے کیونکہ جس رکن خاندان کی دماغی اور قلبی حالت بار بار ایام ماہواری اور حمل کے زمانہ میں بگڑتی ہو وہ بہرحال ان اختیارات کو استعمال کرنے کے لئے قابل نہیں ہو سکتا۔
٤- تمدن کے نظام میں اس تقسیم اور ترتیب و تنظیم کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری تحفظات رکھے جائیں تاکہ بے عقل افراد اپنی حماقت سے مردوں اور عورتوں کے حلقہ ہائے عمل مخلوط کر کے اس صالح تمدنی نظام کو درہم برہم نہ کر سکیں۔
| کتاب | پرده |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |