پرده

انگلستان کی حالت

انگلستان کی حالت

میں ان افسوسناک تفصیلات کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا۔ مگر نامناسب ہے کہ اس حصہ بحث کو جارج رائیلی اسکاٹ کی تاریخ الفحشاء A History" "of Prostitution کے چند اقتباسات نقل کیے بغیر ختم کر دیا جائے۔ اس کتاب کا مصنف ایک انگریز ہے اور اس نے زیادہ تر اپنے ہی ملک کی اخلاقی حالت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:

جن عورتوں کی بسر اوقات کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ اپنے جسم کو کرایہ پر چلا کر روزی کمائیں۔ ان کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد ان عورتوں کی بھی ہے اور وہ روز بروز زیادہ ہو رہی ہے) جو اپنی ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے دوسرے ذرائع رکھتی ہیں اور ضمنی طور پر اس کے ساتھ فاحشہ گری بھی کرتی ہیں تاکہ آمدنی میں کچھ اور اضافہ ہو جائے۔ یہ پیشہ ور فاحشات سے کچھ بھی مختلف نہیں ہیں، مگر اس نام کا اطلاق ان پر نہیں کیا جاتا۔ ہم ان کو غیر پیشہ ور فاحشات (Amateur Prostitues) کہہ سکتے ہیں"۔

" ان شوقین یا غیر پیشہ ور فاحثات کی کثرت آج کل جتنی ہے اتنی کبھی نہ تھی۔ سوسائٹی کے نیچے سے لے کر اوپر تک ہر طبقہ میں یہ پائی جاتی ہیں۔ اگر ان معزز خواتین کو کہیں اشارے کنایے میں بھی فاحشہ " کہہ دیا جائے تو یہ آگ بگولا ہو جائیں گی۔ مگر ان کی ناراضی سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ حقیقت بہر حال یہی ہے کہ ان میں اور پکاڈلی کی کسی بڑی سے بڑی بے شرم بیسوا میں بھی اخلاقی حیثیت سے کوئی وجہ امتیاز نہیں ہے...... اب جوان لڑکی کے لیے بد چلنی اور بے باکی بلکه سوقیانہ اطوار تک فیشن میں داخل ہو . گئے اور سگریٹ پینا، تلخ شرابیں استعمال کرنا، ہونٹوں پر سرخی لگانا صنفیات اور منع حمل کے متعلق اپنی واقفیت کا اظہار کرنا، فحش لٹریچر پر گفتگو کرنا، یہ سب چیزیں بھی ان کے لیے فیشن بنی ہوئی ہیں..... ایسی لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جو شادی پہلے صنفی تعلقات بلا تکلف قائم کر لیتی ہیں اور وہ لڑکیاں اب شاذ کے حکم میں ہیں جو کلیسا کی قربان گاہ کے سامنے نکاح کا پیمان وفا باندھتے وقت صحیح معنوں میں دوشیزہ ہوتی ہوں"۔

آگے چل کر یہ مصنف ان اسباب کا تجزیہ کرتا ہے جو حالات کو اس حد تک پہنچا دینے کے موجب ہوئے ہیں اور مناسب تر یہ ہے کہ اس تجزیہ کو بھی اسی کے الفاظ میں نقل کیا جائے:

" سب سے پہلے اس شوق آرائش کو لیجئے جس کی وجہ سے ہر لڑکی میں نئے فیشن کے قیمتی لباسوں اور حسن افزائی کے مختلف النوع سامانوں کی بے پناہ حرص پیدا ہو گئی ہے۔ یہ اس بے ضابطہ فاحشہ گری کے اسباب میں سے ، ایک بڑا سبب ہے۔ ہر شخص جو دیکھنے والی آنکھیں رکھتا ہے اس بات کو با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ وہ سینکڑوں ہزاروں لڑکیاں جو اس کے سامنے روزانہ گزرتی ہیں عموما" اتنے قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہوتی ہیں کہ ان کی جائز کمائی کسی طرح بھی ایسے لباسوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ لہذا آج بھی یہ کہنا اتنا ہی صحیح ہے جتنا نصف صدی پہلے صحیح تھا کہ مرد ہی ان کے لیے کپڑے خریدتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے جو مرد ان کے لیے کپڑے خریدتے تھے وہ ان کے شوہر یا باپ بھائی ہوتے تھے اور اب ان کے بجائے کچھ دوسرے لوگ ہوتے ہیں"۔

عورتوں کی آزادی کا بھی ان حالات کی پیدائش میں بہت کچھ دخل ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں لڑکیوں پر سے والدین کی حفاظت و نگرانی اس حد تک کم ہو گئی ہے کہ تمہیں چالیس سال قبل لڑکوں کو بھی اتنی آزادی حاصل نہ تھی جتنی اب لڑکیوں کو حاصل ہے"۔

" ایک اور اہم سبب جو سوسائٹی میں وسیع پیمانہ پر صنفی آوارگی پھیلنے کا موجب ہوا یہ ہے کہ عورتیں روز افزوں تعداد میں تجارتی کاروبار دفتری ملازمتوں اور مختلف پیشوں میں داخل ہو رہی ہیں جہاں شب و روز ان کو مردوں کے ساتھ خلط ملط ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس چیز نے عورتوں اور مردوں کے اخلاقی معیار کو بہت گرا دیا ہے۔ مردانہ اقدامات کے مقابلہ میں عورتوں کی قوت مزاحمت کو بہت کم کر دیا ہے، اور دونوں صنفوں کے شہوانی تعلق کو تمام اخلاقی بندشوں سے آزاد کر کے رکھ دیا ہے۔ اب جوان لڑکیوں کے ذہن میں شادی اور باعصمت زندگی کا خیال آتا ہی نہیں۔ آزادانہ "خوش وقتی" جسے پہلے کبھی آوارہ قسم کے مرد ڈھونڈتے پھرتے تھے ، آج ہر لڑکی اس کی جستجو کرتی پھرتی . ہے۔ دوشیزگی اور بکارت کو ایک دقیانوسی چیز سمجھا جاتا ہے اور دور جدید کی لڑکی اس کو ایک مصیبت خیال کرتی ہے۔ اس کے نزدیک زندگی کا لطف یہ ہے کہ عہد شباب میں لذات نفس کا جام خوب جی بھر کے پیا جائے۔ اسی چیز کی تلاش میں وہ رقص خانوں، نائٹ کلبوں اور ہوٹلوں اور قہوہ خانوں کے چکر لگاتی ہے اور اس کی جستجو میں وہ بالکل اجنبی مردوں کے ساتھ موٹر کی سیر کے لیے بھی جانے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ جان بوجھ کر خود اپنی خواہش سے اپنے آپ کو ایسے ماحول میں اور ایسے حالات میں پہنچا دیتی ہے اور پہنچاتی رہتی ہے جو منفی جذبات کو مشتعل کرنے والے ہیں اور پھر اس کے جو قدرتی نتائج ہیں ان سے وہ گھبراتی نہیں ہے بلکہ ان کا خیر مقدم کرتی ہے- "

کتاب پرده
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

pardah