پرده

نتائج

نتائج لٹریچر پیش قدمی کرتا ہے۔ رائے عام اس کے پیچھے آتی ہے۔ آخر میں اجتماعی اخلاق، سوسائٹی کے ضوابط اور حکومت کےقوانین سب سپر ڈالتےجاتےہیں۔جہاں پیم ڈیڑھ سو سال تک فلسفه، تاریخ،اخلاقیات، فنون حکمت، ناول ڈراما، تھیٹر، آرٹ، غرض دماغوں کو تیار کرنے والے اور ذہنوں کو ڈھالنے والے تمام آلات اپنی متحدہ طاقت کے ساتھ ایک ہی طرز خیال کو انسانی ذہن کے ریشہ ریشہ میں پیوست کرتے رہیں، وہاں اس طرز خیال سے سوسائٹی کا متاثر نہ ہونا غیر ممکن ہے۔ پھر جس جگہ حکومت اور ساری اجتماعی تنظیمات کی بنیاد جمهوری اصولوں پر ہو وہاں یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ رائے عام کی تبدیلی کے ساتھ قوانین میں تغیر نہ ہو۔

صنعتی انقلاب اور اس کے اثرات: اتفاق یہ کہ عین وقت پر دوسرے تمدنی اسباب بھی سازگار ہو گئے۔ اسی زمانہ میں صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) رونما ہوا۔ اس سے معاشی زندگی میں جو تغیرات واقع ہوئے، اور تمدنی زندگی پر ان کے جو اثرات مرتب ہوئے وہ سب کے سب حالات کا رخ اسی سمت میں دینے کے لئے تیار تھے جدھر یہ انقلابی لٹریچر انہیں پھیرنا چاہتا تھا۔ شخصی آزادی کے جس تصور پر نظام سرمایہ داری کی تعمیر ہوئی تھی اس کو مشین کی ایجاد اور کثیر پیداواری (Mass Production) کے امکانات نے غیر معمولی قوت بہم پہنچا دی۔ سرمایہ دار طبقوں نے بڑے بڑے معنی اور تجارتی ادارے قائم کئے۔ صنعت و تجارت کے نئے مرکز رفتہ رفتہ عظیم اعلی الشان شہر بن گئے۔ دیہات و متصلات سے لاکھوں کروڑوں انسان کھنچ کھنچ کر ان شہروں میں جمع ہوتے چلے گئے۔ زندگی حد زیادہ گراں ہو گئی۔ مکان، لباس، غذا اور تمام ضروریات زندگی پر آگ برسنے لگی۔ کچھ ترقی تمدن کے سبب سے اور کچھ سرمایہ داروں کی کوششوں سےبےشمار نئے اسباب عیش بھی زندگی کی ضروریات میں داخل ہو گئے ، مگر سرمایہ دارانہ نظام نے دولت کی تقسیم اس طرز پر نہیں کی کہ جن آسائشوں، لذتوں اور آرائشوں کو اس نے زندگی کی ضروریات میں داخل کیا تھا انہیں حاصل کرنے کے وسائل بھی اسی پیمانہ پر سب لوگوں کو بہم پہنچاتا۔ اس نے تو عوام کو اتنے وسائل معیشت بھی ہم نہ پہنچائے کہ جن بڑے بڑے شہروں میں وہ ان کو گھیٹ لایا تھا، وہاں کم از کم زندگی کی حقیقی ضروریات ۔۔۔۔۔۔ مکان غذا اور لباس وغیرہ - ہی ان کو باسانی حاصل ہو سکتیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شوہر پر بیوی اور باپ پر اولاد تک بار گراں بن گئی۔ہر شخص کے لئے خود اپنے آپ ہی کو سنبھالنا مشکل ہو گیا، کجا کہ وہ دوسرے متعلقین کا بوجھ اٹھائے۔ معاشی حالات نے مجبور کر دیا کہ ہر فرد کمانے والا فرد بن جائے۔ کنواری اور شادی شدہ اور بیوہ سب ہی قسم کی عورتوں کو رفتہ رفتہ کسب رزق کے لئے نکل آنا پڑا۔ پھر جب دونوں صنفوں میں ربط و اختلاط کے مواقع زیادہ بڑھے اور اس کے فطری نتائج ظاہر ہونے لگے تو اسی شخصی آزادی کے تصور اور اس نئے فلسفہ اخلاق نے آگے بڑھ کر باپوں اور بیٹیوں، بہنوں اور بھائیوں، شوہروں اور بیویوں، سب کو اطمینان دلایا کہ کچھ گھبرانے کی بات نہیں، جو کچھ ہو رہا ہے، خوب ہو رہا ہے، یہ گراوٹ نہیں اٹھان (Emancipation) ہے یہ بد اخلاقی نہیں عین لطف زندگی ہے، یہ گڑھا جس میں سرمایہ دار تمہیں پھینک رہا ہے دوزخ نہیں جنت ہے جنت !

سرمایه دارانه خود غرضی اور معاملہ یہیں تک نہیں رہا۔ حریت شخصی کے اس تصور پر جس نظام سرمایہ داری کی بنا اٹھائی گئی تھی اس نے فرد کو ہر ممکن طریقہ سے دولت کمانے کا غیر مشروط اور غیر محدود اجازت نامہ دے دیا اور نئے فلسفہ اخلاق نے ہر اس طریقہ کو حلال و طیب ٹھہرایا جس سے دولت کمائی جا سکتی ہو، خواہ ایک شخص کی دولت مندی کتنے ہی اشخاص کی تباہی کا نتیجہ ہو۔ اس طرح تمدن کا سارا نظام ایسے طریقے پر بنا کہ جماعت کے مقابلہ میں ہر پہلو سے فرد کی حمایت تھی اور فرد کی خود غرضیوں کے مقابلہ میں جماعت کے لئے تحفظ کی صورت نہ تھی۔ خود غرض افراد کے لئے سوسائٹی پر تاخت کرنے کے سارے راستے کھل گئے۔انہوں نے تمام انسانی کمزوریوں کو چن چن کر تاکا اور انہیں اپنی اغراض کے لئے استعمال (Exploit) کرنے کے نت نئے طریقے اختیار کرنے شروع کئے۔ ایک شخص اٹھتا ہے اور وہ اپنی جیب بھرنے کے لئے لوگوں کو شراب نوشی کی لعنت میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ کوئی نہیں جو سوسائٹی کو اس طاعون کے چوہے سے بچائے۔دوسرا اٹھتا ہے اور وہ سود خواری کا جال دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس جو تک سے لوگوں کے خون حیات کی حفاظت کرے - - - - بلکہ قوانین اسی جونک کے مفاد کی حفاظت کر رہے ہیں تاکہ کوئی اس سے ایک قطرہ خون بھی نہ بچا سکے - - - - تیرا اٹھتا ہے اور وہ قمار بازی کے عجیب طریقے رائج کرتا ہے ، حتی کہ تجارت کے بھی کسی شعبہ کو قمار بازی کے عصر سے خالی نہیں چھوڑتا۔ کوئی نہیں جو اس تپ محرقہ سے انسان کی حیات معاشی کا تحفظ کر سکے۔ انفرادی خود سری اور بغی و عدوان کے اس ناپاک دور میں غیر ممکن تھا که خود غرض افراد کی نظر انسان کی اس بڑی اور شدید ترین کمزوری - - - -شهوانیت - - - - پر نہ پڑتی جس کو بھڑکا کر بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔ چنانچہ اس سے بھی کام لیا گیا اور اتنا کام لیا گیا جتنا لینا ممکن تھا۔ تھیٹروں میں، رقص گاہوں میں اور فلم سازی کے مرکزوں میں سارے کاروبار کا مدار ہی اس پر قرار پایا کہ خوبصورت عورتوں کی خدمات حاصل کی جائیں، ان کو زیادہ ۔ زیادہ برہنہ اور زیادہ سے زیادہ بہیجان انگیز صورت میں منظر عام پر پیش کیا جائے اور اس طرح لوگوں کی شہوانی پیاس کو زیادہ سے زیادہ بھڑکا کر ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جائے۔ کچھ دوسرے لوگوں نے عورتوں کو کرایہ پر چلانے کا انتظام کیا اور قجبہ گری کے پیشہ کو ترقی دے کر ایک نہایت منتظم بین الاقوامی تجارت کی حد تک پہنچا دیا۔ کچھ اور لوگوں نے زینت اور آرائش کے عجیب عجیب سامان نکالے اور ان کو خوب پھیلایا تاکہ عورتوں کے پیدائشی جذبہ حسن آرائی کو بڑھا کر دیوانگی تک پہنچا دیں اور اس طرح دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹیں۔ کچھ اور لوگوں نے لباس کے نئے شہوت انگیز اور عریاں فیش نکالے اور خوب صورت عورتوں کو اس لئے مقرر کیا کہ وہ انہیں پہن کر سوسائٹی میں پھریں، تاکہ نوجوان مرد کثرت سے راغب ہوں، اور نوجوان لڑکیوں میں اس لباس کے پہننے کا شوق پیدا ہو اور اس طرح موجد لباس کی تجارت فروغ پائے۔ کچھ اور لوگوں نے برہنہ تصویروں اور فحش مضامین کی اشاعت کو روپیہ کھینچنے کا ذریعہ بنایا اور اس طرح عوام کو اخلاقی جذام میں مبتلا کر کے خود اپنی جیبیں بھرنی شروع کر دیں۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مشکل ہی سے تجارت کا کوئی ایسا شعبہ باقی رہ گیا ہو جس میں شہوانیت کا عصر شامل نہ ہو۔ کسی تجارتی کاروبار کے اشتہار کو دیکھ لیجئے۔ عورت کی برہنہ یا نیم برہنہ تصویر اس کی جزو لاینفک ہو گی۔ گویا عورت کے بغیر اب کوئی اشتہار ، اشتہار نہیں ہو سکتا، ہوٹل، ریسٹوران، شو روم کوئی جگہ آپ کو ایسی نہ ملے گی جہاں عورت اس غرض سے نہ رکھی گئی ہو کہ مرد اس کی طرف کھینچ کر آئیں۔ غریب سوسائٹی جس کا کوئی محافظ نہیں، صرف ایک ہی ذریعہ سے اپنے مفاد کی حفاظت کر سکتی تھی کہ خود اپنے اخلاقی تصورات سے ان حملوں کی مدافعت کرتی اور اس شہوانیت کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیتی۔ مگر نظام سرمایہ داری ایسی کچی بنیادوں پر نہیں اٹھا کہ یوں اس کے حملے کو روکا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مکمل فلسفہ اور زبردست شیطانی لشکر - - - - لٹریچر بھی تو تھا جو ساتھ ساتھ اخلاقی نظریات کی شکست و ریخت بھی کرتا جا رہا تھا۔ قاتل کا کمال یہی ہے کہ جسے قتل کرنے جائے اسے بطوع و رغبت قتل ہونے کے لئے تیار کر دے۔

جمهوری نظام سیاست مصیبت اتنے پر بھی ختم نہ ہوئی۔ مزید براں، اسی تصور آزادی نے مغرب میں جمہوری نظام حکمرانی کو جنم دیا جو اس اخلاقی انقلاب کی تکمیل کا ایک طاقتور ذریعہ بن گیا۔

جمهوری نظام سیاست مصیبت اتنے پر بھی ختم نہ ہوئی۔ مزید براں، اسی تصور آزادی نے مغرب میں جمہوری نظام حکمرانی کو جنم دیا جو اس اخلاقی انقلاب کی تکمیل کا ایک طاقتور ذریعہ بن گیا۔

جمهوریت جدیده کا اصل الاصول یہ ہے کہ لوگ خود اپنے حاکم اور خود اپنے قانون ساز ہیں، جیسے قوانین چاہیں اپنے لئے بنائیں اور جن قوانین کو پسند نہ کریں ان میں جیسی چاہیں ترمیم و تنسیخ کر دیں۔ ان کے اوپر کوئی ایسا بالاتر اقتدار نہیں جو انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور جس کی ہدایت و رہنمائی کے آگے سر جھکا کر انسان بے راہ روی سے بچ سکتا ہو۔ ان کے پاس کوئی ایسا اساسی قانون نہیں جو اٹل ہو اور انسان کی دسترس سے باہر ہو اور جس کے اصولوں کو ناقابل ترمیم و تنسیخ مانا جائے۔ ان کے لئے کوئی ایسا معیار نہیں جو صحیح اور غلط کی تمیز کے لئے کسوٹی ہو اور انسانی اہواء اور خواہشات کے ساتھ بدلنے والا نہ ہو بلکہ مستقل اور ثابت ہو۔ اس طرح جمہوریت کے جدید نظریہ نے انسان کو بالکل خود مختار اور غیر ذمہ دار فرض کر کے آپ ہی اپنا شارع بنا دیا اور ہر قسم کی قانون سازی کا مدار صرف رائے عام پر رکھا۔

اب یہ ظاہر ہے کہ جہاں اجتماعی زندگی کے سارےقوانین رائے عام کے تابع ہوں اور جہاں حکومت اسی جمہوریت جدیدہ کےالہ کی عبد ہو۔ وہاں قانون اور سیاست کی طاقتیں کسی طرح سوسائٹی کو اخلاقی فساد سےنہیں بچا سکتیں۔ بلکہ بچانا کیا معنی، آخر کار وہ خود اس کو تباہ کرنےمیں معین و مددگار بن کر رہیں گی۔ رائے عام کے ہر تغیر کےساتھ قانون بھی بدلتا چلا جائےگا۔جوں جوں عام لوگوں کے نظریات بدلیں گے، قانون کے اصول اور ضوابط بھی ان کےمطابق ڈھلتےجائیں گے۔ حق اور خیر اور اصلاح کا کوئی معیار اس کے سوا نہ ہو گا کہ ووٹ کس طرف زیادہ ہیں۔ایک تجویز خواہ وہ بجائےخود کتنی ہی ناپاک کیوں نہ ہو،اگر عوام میں اتنی مقبولیت حاصل کر چکی ہے کہ ۱۰۰ میں سے ۵۱ ووٹ حاصل کر سکتی ہے تو اس کو تجویز کے مرتبے سے ترقی کر کے شریعت بن جانے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ اس کی بدترین عبرت انگیز مثال وہ ہے جو نازی دور سے پہلے جرمنی میں ظاہر ہوئی۔ جرمنی میں ایک صاحب ڈاکٹر ماگنوس ہر شیفیلڈ Magnus Hirsch) ہیں جو دنیا کے مجلس اصلاح صنفی (World League of Sexual Reform) کے صدر رہ چکے ہیں۔انہوں نے عمل قوم لوط کے حق میں چھ سال تک زبردست پروپیگنڈا کیا۔ آخر کار جمہوریت کا الہ اس حرام کو حلال کرنے پر راضی ہو گیا اور جرمن پارلیمینٹ نے کثرت رائے سے یہ طے کر دیا کہ اب یہ فعل جرم نہیں ہے بشرطیکہ طرفین کی رضامندی سے اس کا ارتکاب کیا جائے اور معمول کے نابالغ ہونے کی صورت میں اس کا ولی ایجاب و قبول کی رسم ادا کر دے۔

قانون اس جمہوری الہ کی عبادت میں ذرا نسبتا" ست کار واقع ہوا ہے۔ اس کے اوامر کا اتباع کرتا تو ہے مگر کسل اور کاہلی کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ نقص جو عبودیت کی تکمیل میں باقی رہ گیا ہے، اس کی کسر حکومت کے انتظامی کل پرزے پوری کر دیتے ہیں۔ جو لوگ ان جمہوری حکومتوں کے کاروبار چلاتے ہیں وہ قانون سے پہلے اس لڑیچر اور ان اخلاقی فلسفوں کا اور ان عام رجحانات کا اثر قبول کر لیتے ہیں جو ان کے گردو پیش پھیلے ہوتے ہیں۔ ان کی عنایت سے ہر وہ بد اخلاقی سرکاری طور پر تسلیم کر لی جاتی ہے جس کا رواج عام ہو گیا ہو۔ جو چیزیں قانونا" ابھی تک ممنوع ہیں ان کے معاملہ میں عملاً" پولیس اور عدالتیں قانون کے نفاذ سے احتراز کرتی ہیں اور اس طرح وہ گویا حلال کے درجے میں ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسقاط ہی کو لے لیجئے۔ یہ مغربی قوانین میں اب بھی حرام ہے مگر کوئی ملک ایسا نہیں جہاں علی الاعلان اور بکثرت اس کا ارتکاب نہ ہو رہا ہو۔ انگلستان میں کم سے کم اندازہ کے مطابق ہر سال ۹۰ ہزار حمل اسقاط کئے جاتے ہیں۔ شادی شدہ عورتوں میں سے کم از کم ۲۵ فیصدی ایسے ہیں جو یا تو خود اسقاط کر لیتی ہیں یا کسی ماہر فن کی مدد حاصل کرتی ہیں۔ غیر شادی شدہ عورتوں میں اس کا تناسب اس سے بھی زیادہ ہے۔ بعض مقامات پر عمالاً" با قاعده اسقاط کلب قائم ہیں۔ جن کو خواتین کرام ہفتہ وار فیس ادا کرتی ہیں تاکہ موقع پیش آنے پر ایک ماہر اسقاط کی خدمات آسانی سے حاصل ہو جائیں۔ لندن میں ایسے بہت سے نرسنگ ہوم ہیں جہاں زیادہ تر مریضات وہ ہوتی ہیں جنہون نے اسقاط کرایا ہوتا ہے۔ ا۔


حقائق و شواہد اب میں ذرا تفصیل سے بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تینوں عناصر، یعنی جدید اخلاقی نظریات سرمایہ دارانہ نظام تمدن اور جمہوری نظام سیاسی، مل جل کر اجتماعی اخلاق اور مرد و عورت کے صنفی تعلق کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں اور ان سے فی الواقع کسی قسم کے نتائج رونما ہوئے ہیں۔ چونکہ اس وقت تک میں نے زیادہ تر سرزمین فرانس کا ذکر کیا ہے جہان سے اس تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ لہذا میں سب سے پہلے فرانس ہی کو شہادت میں پیش کروں گا۔ ۲؎

اخلاقی حس کا تعطیل پچھلے باب میں جن نظریات کا ذکر کیا جا چکا ہے ان کی اشاعت کا اولین اثر یہ ہوا کہ صنفی معاملات میں لوگوں کی اخلاقی حس مفلوج ہونے لگی۔ شرم و حیا اور غیرت و حمیت روز بروز مفقود ہوتی چلی گئی۔ نکاح و - سفاح کی تمیز دلوں نکل گئی اور زنا ایک معصوم چیز بن گئی جسے اب کوئی عیب یا قباحت کی بات سمجھا ہی نہیں جاتا کہ اس کو چھپانے کا اہتمام کیا جائے۔

١- یہ تفصیلات پروفیسر جوڑ نے اپنی کتاب ".Guide to Modern Wickedness" میں بیان کی ہیں جو حال میں شائع ہوئی ہے۔

۲۔ میں نے زیادہ تر ان معلومات کا استفادہ ایک ممتاز فرانسیسی عالم عمرانیات پول بیورو (Paul Bureau) کی کتاب "Towards Moral Bankruptcy" سے کیا ہے جو ۱۹۲۵ء میں لندن سے شائع ہوئی۔

انیسویں صدی کے وسط بلکہ اخیر تک عام فرانسیسیوں کے اخلاقی نظریہ میں صرف اتنا تغیر ہوا تھا کہ مردوں کے لئے زنا کو بالکل ایک معمولی فطری چیز سمجھا جاتا تھا۔ والدین اپنے نوجوان لڑکوں کی آوارگی کو (بشرطیکہ وہ امراض خبیثہ یا عدالتی کارروائی کا موجب نہ بن جائے) بخوشی گوارا کرتے تھے، بلکہ اگر وہ مادی حیثیت سے مفید ہو تو اس پر خوش بھی ہوتے تھے۔ ان کے خیال میں کسی مرد کا کسی عورت سے نکاح کے بغیر تعلق رکھنا کوئی معیوب فعل نہ تھا۔ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ والدین نے اپنے نوجوان لڑکوں پر خود زور دیا ہے کہ وہ کسی بااثر یا مالدار عورت سے تعلقات قائم کر کے اپنا مستقبل درخشاں بنائیں۔ لیکن اس وقت تک عورت کے معاملہ میں نظریہ اس سے بہت مختلف تھا۔ عورت بهر حال ایک قیمتی چیز سمجھتی جاتی تھی۔ وہی والدین جو اپنے لڑکے کی آوارگی کو جوانی کی ترنگ سمجھ کر گوارا کر لیتے تھے۔ اپنی لڑکی کے دامن پر کوئی داغ دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ بدکار مرد جس طرح بے عیب سمجھا جاتا تھا، بدکار عورت اس طرح بے عیب نہ سمجھی جاتی تھی۔ پیشہ ور فاحشہ کا ذکر جب ذلت کے ساتھ کیا جاتا تھا اس کے پاس جانے والے مرد کے حصہ میں وہ ذلت نہ آتی تھی۔ اسی طرح ازدواجی رشتہ میں بھی عورت اور مرد کی اخلاقی ذمہ داری مساوی نہ تھی۔ شوہر کی بدکاری گوارا کر لی جاتی تھی مگر بیوی کی بدکاری ایک سخت ترین معیوب چیز تھی۔

بیسویں صدی کے آغاز تک پہنچتے پہنچتے یہ صورت حال بدل گئی۔ تحریک آزادی نسواں نے عورت اور مرد کی اخلاقی مساوات کا جو صور پھونکا تھا اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگ عام طور پر عورت کی بدکاری کو بھی اسی طرح غیر معیوب سمجھنے لگے جس طرح مرد کی بدکاری کو سمجھتے تھے ، اور نکاح کے بغیر کسی مرد سے تعلق رکھنا عورت کے لئے بھی کوئی ایسا فعل نہ رہا جس سے اس کی شرافت و عزت پر بشه لگتا ہو ۔


نہ صرف بڑے شہروں میں بلکہ فرانس کے قصبات و دیہات میں اب نوجوان مرد اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ جب ہم عفیف نہیں ہیں تو ہمیں اپنی منگیتر سے بھی عفت کا مطالبہ کرنے کا اور یہ چاہنے کا کہ وہ ہمیں کنواری ملے، کوئی حق نہیں ہے۔ برگنڈی، بون اور دوسرے علاقوں میں اب یہ عام بات ہے کہ ایک لڑکی شادی سے پہلے بہت سی دوستیاں" کر چکتی ہے اور شادی کے وقت اسے اپنی منگتیر سے اپنی گذشتہ زندگی کے حالات چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ لڑکی کے قریب ترین رشتہ داروں میں بھی اس کی بد چلنی پر کسی قسم کی ناپسندیدگی نہیں پائی جاتی۔ وہ اس کی دوستیوں" کا ذکر آپس میں اس طرح بے تکلف کرتے ہیں گویا کسی کھیل یا روزگار کا ذکر ہے اور نکاح کے موقع پر دولہا صاحب جو اپنی بیوی کی سابق زندگی سے نہیں بلکہ اس کے ان دوستوں تک سے واقف ہوتے ہیں جو اب تک اس کے جسم ۔ سے لطف اٹھاتے رہے ہیں، اس امر کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو اس بات کا شبہ تک نہ ہونے پائے کہ انہیں اپنی دلہن کے ان مشاغل پر کسی درجہ میں بھی کوئی اعتراض ہے۔" (ص ۹۴)


” فرانس میں متوسط درجہ کے تعلیم یافتہ طبقوں میں یہ صورت حال بکثرت دیکھی جاتی ہے اور اب اس میں قطعا کوئی غیر معمولی پن نہیں رہا ہے کہ ایک اچھے خاندان کی تعلیم یافتہ لڑکی جو کسی دفتر یا تجارتی فرم میں ایک اچھی جگہ پر کام کرتی ہے اور شائستہ سوسائٹی میں اٹھتی بیٹھتی ہے، کسی نوجوان مانوس ہو گئی اور اس کے ساتھ رہنے لگی۔ اب یہ بالکل ضروری نہیں کہ وہ آپس میں شادی کر لیں۔ دونوں شادی کے بغیر ہی ایک ساتھ رہنا مرجع سمجھتے ہیں۔ محض اس لئے کہ دونوں کے دل بھر جانے کے بعد الگ ہونے اور کہیں اور دل لگانے کی آزادی حاصل رہے۔ سوسائٹی میں ان کے تعلق کی یہ نوعیت سب کو معلوم ہوتی ہے۔ شائستہ طبقوں میں دونوں مل کر آتے جاتے ہیں۔ نہ وہ خود اپنے تعلق کو چھپاتے ہیں، نہ کوئی دوسرا ان کی ایسی زندگی میں کسی قسم کی برائی محسوس کرتا ہے۔ ابتداء میں یہ طرز عمل کارخانوں میں کام کرنے والے لوگوں نے شروع کیا تھا۔ اول اول اس کو سخت معیوب سمجھا گیا۔ مگر اب یہ اونچے طبقے میں عام ہو گیا ہے اور اجتماعی زندگی میں اس نے وہی جگہ حاصل کر لی ہے جو کبھی نکاح کی تھی ۔ " (ص ۹۳ - ۹۲)

اس نوعیت کی داشته کو اب باقاعدہ تسلیم کیا جانے لگا۔ موسیو بر تعلیمی (Berthelemy ) پیرس یونیورسٹی کا معلم قانون لکھتا ہے کہ رفتہ رفتہ داشتہ " کو وہی قانونی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے جو پہلے ” بیوی" کی تھی۔ پارلیمنٹ میں اس کے کا تذکرہ آنے لگا ہے۔ حکومت اس کے مفاد کی حفاظت کرنے لگی ہے۔ ایک سپاہی کی داشتہ کو وہی نفقہ دیا جاتا ہے جو اس کی بیوی کے لئے مقرر ہے۔ سپاہی اگر مرجائے تو اس کی داشتہ کو وہی پنشن ملتی ہے جو منکوحه بیوی کو ملتی ہے۔

فرانسیسی اخلاقیات میں زنا کے غیر معیوب ہونے کی کیفیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ۱۹۱۸ء میں ایک مدرسہ کی معلمہ مس ہونے کے باوجود حاملہ پائی گئی۔ محکمہ تعلیم میں کچھ پرانے خیالات کے لوگ بھی موجود تھے۔ انہوں نے ذرا شور مچایا۔ اس پر معززین کا ایک وفد وزارت تعلیم میں حاضر ہوا اور اس کے حسب ذیل دلائل اتنے وزنی پائے گئے کہ معلمہ کا معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔



فرانسیسی فوج میں سپاہیوں کو جو تعلیم دی جاتی ہے اس میں منجمله دوسرے ضروری مسائل کے یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ امراض خبیثہ سے محفوظ رہنے اور حمل روکنے کی کیا تدابیر ہیں۔ گویا یہ بات تو مسلم ہی ہے کہ ہر سپاہی زنا ضرور کرے گا۔ ۳ مئی ۱۹۱۹ء کو فرانس کی ۱۲۷ ویں ڈویژن کے کمانڈر نے سپاہیوں کے نام ایک اعلان شائع کیا تھا جس کے الفاظ یہ ہیں :۔

" معلوم ہوا ہے کہ فوجی قحبہ خانوں پر بندو قیمیوں کے ہجوم کی وجہ سے عام سوار اور پیادہ فوج کے سپاہیوں کو شکایت ہے۔ وہ گلہ کرتے ہیں کہ بند و قیچیوں نے ان جگا نے ان جگہوں پر اپنا اجارہ قائم کر لیا ہے اور وہ دوسروں کو موقع ہی نہیں دیتے۔ ہائی کمانڈ کوشش کر رہا ہے کہ عورتوں کی تعداد میں کافی اضافہ کر دیا جائے ، مگر جب تک یہ انتظام نہیں ہو تا بند و قیچیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ زیادہ دیر تک اندر نہ رہا کریں اور اپنی خواہشات کی تسکین میں ذرا عجلت سے کام لیا کریں۔“

غور تو کیجئے یہ اعلان دنیا کی ایک مہذب ترین حکومت کے فوجی محکمہ کی طرف سے باضابطہ سرکاری طور پر شائع کیا جاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ زنا کے اخلاقا" معیوب ہونے کا وہم تک ان لوگوں کے دل و دماغ میں باقی نہیں رہا ہے۔ سوسائٹی، قانون، حکومت سب کے سب اس تصور سے خالی ہو چکے ہیں۔ ا_

١- جس فوج کی یہ اخلاقی حالت ہو ، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب وہ کسی دوسرے ملک میں فاتحانہ داخل ہوتی ہو گی تو اس کے ہاتھوں مغلوب قوم کی عزت و و آبرو پر کیا کچھ نہ گزر جاتی ہو گی۔ سپاہیانہ اخلاق کا ایک معیار یہ ہے اور دوسرا معیار یہ ہے جو قرآن پیش کرتا ہے۔ الَّذِینَ إِن مَّنْهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَ اتَوُا الزَّكَوةَ وَآمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوا عَنِ الْمُنْكَرِ - (اگر ہم انہیں زمین میں حکومت عطا کریں تو وہ نماز و زکوۃ کا نظام قائم کریں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

جنگ عظیم سے کچھ مدت پہلے فرانس میں ایک ایجنسی اس اصول پر قائم کی گئی تھی کہ ہر عورت خواہ وہ اپنے حالات، ماحول مالی کیفیت اور عادی اخلاقی چال چلن کے اعتبار سے کیسی ہی ہو، بہرحال ایک نئے تجربے" کے لئے آمادہ کی جا سکتی ہے۔ جو صاحب کسی خاتون سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہوں وہ بس اتنی زحمت اٹھائیں کہ ان لیڈی صاحبہ کا اتا پتا بتا دیں اور ۲۵ فرانک ابتدائی فیس کے طور پر داخل کر دیں۔ اس کے بعد صاحبہ موصوفہ کو معاملہ پر راضی کر لینا ایجنسی کا کام ہے۔ اس ایجنسی کے رجسٹر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ فرنچ سوسائٹی کا کوئی طبقہ ایسا نہ تھا جس کے کثیر التعداد لوگوں نے اس سے "بزی نس“ نہ کیا ہو اور یہ کاروبار حکومت سے بھی مخفی نہ تھا۔ (پول بیورو صفحہ ۱۶)


” فرانس کے بعض اضلاع میں بڑے شہروں کی گھنی آبادی رکھنے والے حصوں میں قریب ترین نسبی رشتہ داروں کے درمیان حتی کہ باپ اور بیٹی اور بھائی اور بہن کے درمیان صنفی تعلقات کا پایا جانا بھی اب کوئی شازونادر واقعہ نہیں رہا ہے۔"

فواحش کی کثرت جنگ عظیم سے پہلے موسیو بیولو (M. Bulot) فرانس کے اٹارنی جنرل نے اپنی رپورٹ میں ان عورتوں کی تعداد ۵ لاکھ بتائی تھی جو اپنے جسم کو کرایہ پر چلاتی ہیں ۔ مگر وہاں کی زنان بازاری کو ہندوستان کی پیشہ ور فاحشات پر قیاس نہ کر لیجئے۔ شائستہ اور متمدن ملک ہے۔ اس کے سب کام شایستگی، تنظیم اور فی الجمله بلند پیمانے پر ہوتے ہیں۔ وہاں اس پیشہ میں فن اشتہار سے پورا کام لیا جاتا ہے۔ اخبار مصور پوسٹ کارڈ، ٹیلی فون اور شخصی دعوت نامے، غرض تمام مہذب طریقے گاہکوں کی توجہ منعطف کرانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں اور پبلک کا ضمیر اس پر کوئی ملامت نہیں کرتا۔ بلکہ اس تجارت میں جن عورتوں کو زیادہ کامیابی نصیب ہو جاتی ہے وہ بسا اوقات ملکی سیاسیات اور مالیات اور اعیان و امراء کے طبقوں میں کافی با اقتدار ہو جاتی ہیں۔ وہی ترقی جو کبھی یونانی تمدن میں اس طبقہ کی عورتوں کو نصیب ہوئی تھی۔

اور بھلائی ( کا حکم دیں اور برائیوں کا سدباب کرین) ایک وہ سپاہی ہے جو زمین میں سانڈ بنا پھرتا ہے اور ایک وہ سپاہی ہے جو اس لئے ہتھیلی پر سر لے کر نکلتا ہے کہ انسانی اخلاق کی حفاظت کرے اور دنیا کو پاکیزگی کا سبق سکھائے۔ کیا انسان اتنا اندھا ہو گیا ہے کہ دونوں کا فرق نہیں دیکھ سکتا؟

فریج سینٹ کے ایک رکن موسیو فروناں وریفو (M. Ferdinand Dreyfus نے اب سے چند سال پہلے بیان کیا تھا کہ تجبہ گری کا پیشہ اب محض ایک انفرادی کام نہیں رہا ہے بلکہ اس کی ایجنسی سے عظیم مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں ان کی وجہ سے اب یہ ایک تجارت (Business) اور ایک منظم حرفہ (Organised Industry) بن گیا ہے۔ اس کے ”خام پیداوار" مہیا کرنے والے ایجنٹ الگ ہیں، سفری ایجنٹ ہیں۔ اس کی باقاعدہ منڈیاں موجود ہیں۔ جوان لڑکیاں اور کم سن بچیاں وہ تجارتی مال ہیں جس کی درآمد برآمد ہوتی ہے، اور دس سال سے کم عمر لڑکیوں کی مانگ زیادہ ہے۔


" یہ ایک زبردست نظام ہے جو پورے منظم طریقہ سے تنخواہ یاب عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ چل رہا ہے۔ ناشرین اور اہل (Publicist) خطباء و مقررین اطباء اور قابلات (Mid Wives) اور تجارتی سیاح اس میں باقاعدہ لازم ہیں اور اشتهار اور مظاھرہ کے جدید طریقے اس کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔"

فحش کاری کے ان اڈوں کے ماسوا ہوٹلوں اور چائے خانوں اور رقص خانوں میں علی الاعلان مجبہ گرمی کا کاروبار ہو رہا ہے اور بعض اوقات بهیمیت انتهایی ظلم اور قیادت کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ ۱۹۱۲ء میں ایک مرتبہ مشرقی فرانس کے ایک میر بلد )Mayor) کو مداخلت کر کے ایک ایسی لڑکی کی جان بخشی کرانی پڑی تھی جس کو دن بھر میں ۴۷ گاہکوں سے پالا پڑ چکا تھا اور ابھی مزید گاہک تیار کھڑے تھے۔

تجارتی قحبه خانوں کے علاوہ خیراتی "تجربہ خانوں" کی ایک نئی قسم پیدا کرنے کا شرف جنگ عظیم کو حاصل ہوا۔ جنگ کے زمانہ میں محب وطن خواتین نے سرزمین فرانس کی حفاظت کرنے والے بہادروں کی "خدمت" فرمائی تھی اور جن کو اس خدمت کے صلے میں بے باپ کے بچے مل گئے تھے، انہیں (War God Mothers) کا معزز لقب عطا ہوا۔ یہ ایسا اچھوتا تخیل ہے کہ اردو زبان اس کا ترجمہ کرنے . سے عاجز ہے۔ یہ خواتین منظم صورت میں مجتبہ گری کرنے لگیں اور ان کی امداد کرنا سیاہ کاروں کے لئے ایک اخلاقی کام بن گیا۔ بڑے بڑے روزانہ اخباروں اور خصوصا" فرانس کے دو مشہور مصور جریدوں فتتاسیو (Fantasion) اور لادی پاریزیاں La) Vie Parisienne) نے ان کی طرف ”مردان کار" کی توجہ منعطف کرانے کی خدمت سب سے بڑھ کر انجام دی۔ ۱۹۱۷ء کے آغاز میں موخر الذکر اخبار کا صرف ایک نمبر ان عورتوں کے ۹۹ اشتہارات پر مشتمل تھا۔

شہوانیت اور بے حیائی کی ویا فواحش کی یہ کثرت اور مقبولیت شہوانی جذبات کے جس اشتعال کا نتیجہہے وہ لٹریچر، تصاویر، سینما، تھیٹر، رقص اور برهنگی و بے حیائی کے عام مظاہروں سے رونما ہوتا ہے۔

خود غرض سرمایہ داروں کا ایک پورا لشکر ہے جو ہر ممکن تدبیر سے عوام کی شہوانی پیاس کو بھڑکانے میں لگا ہوا ہے اور اس ذریعہ سے اپنے کاروبار کو فروغ دے رہا ہے۔ روزانہ اور ہفتہ وار اخبارات مصور جرائد اور نصف ماہی اور ماہوار رسالے انتہا درجہ کے فحش مضامین اور شرمناک تصویریں شائع کرتے ہیں۔ کیونکہ اشاعت بڑھانے کا یہ سب سے زیادہ موثر ذریعہ ہے۔اس کام میں اعلیٰ درجہ کی ذہانت، فن کاری اور نفسیات کی مہارت صرف کی جاتی ہے تاکہ شکار کسی طرف سےبچ کر نہ جا سکے۔ان کے علاوہ صنفی مسائل پر حد درجہ ناپاک لڑیچر پمفلٹوں اور کتابوں کی شکل میں نکلتا رہتا ا ہے، جن کی کثرت اشاعت کا یہ حال ہے کہ ایک ایک ایڈیشن پچاس ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے اور بسا اوقات ساٹھ ساتھ ایڈیشنوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ بعض اشاعت خانے تو صرف اسی لٹریچر کی اشاعت کے لئے مخصوص ہیں۔ بہت سے اہل قلم ایسے ہیں جو اسی ذریعہ سے شہرت اور عزت کے مرتبے پر پہنچتے ہیں۔ اب کسی فحش کتاب کا لکھنا کسی کے لئے بے عزتی نہیں ہے، بلکہ اگر کتاب مقبول ہو جائے تو ایسے مصنفین فرنچ اکیڈمی کے ممبر یا کم از کم کردے دانیو" (Corix D Honneus) کے مستحق ہو جاتے ہیں۔

حکومت ان تمام بے شرمیوں اور ہیجان انگیزیوں کو ٹھنڈے دل سے دیکھتی رہتی ہے۔ کبھی کوئی بہت ہی زیادہ شرمناک چیز شائع ہو گئی تو پولیس نے بادل نخواسته چالان کر دیا۔ مگر اوپر فراخ دل عدالتیں بیٹھی ہیں جن کی بارگاہ عدل سے اس قسم کے مجرموں کو صرف تنبیہہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ جو لوگ عدالت کی کرسیوں پر جلوہ فرما ہوتے ہیں ان میں سے اکثر اس لٹریچر سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں اور بعض حکام عدالت کا اپنا قلم فحش منفی لڑیچر کی تصنیف سے آلودہ ہوتا ہے۔ اتفاقا" اگر کوئی مجسٹریٹ دقیانوسی خیال کا نکل آیا اور اس سے ”بےانصافی" کا اندیشہ ہوا تو بڑےبڑے ادیب اور نامور اہل قلم بالاتفاق اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہیں، اور زوروشور سے اخبارات میں لکھا جاتا ہے کہ آرٹ اور لڑیچر کی ترقی کے لئے آزاد فضا درکار ہے، قرون مظلمه کی سی ذہنیت کے ساتھ اخلاقی بندشیں لگانے کے معنی تو یہ ہیں کہ فنون لطیفہ کا گلا گھونٹ دیا جائے۔

اور یہ فنون لطیفہ کی تا تی ہوتی کس کس طرح ہے؟ اس میں ایک بڑا حصہ ان ننگی تصویروں اور عملی تصویروں کا ہے جن کے البم لاکھوں کی تعداد میں تیار کئے جاتے ہیں اور نہ صرف بازاروں، ہوٹلوں اور چائے خانوں میں بلکہ مدرسوں اور کالجوں تک میں پھیلائے جاتے ہیں۔ امیل پوریسی (Emile Poureisy) نے جمعیت انسداد فواحش کے دوسرے اجلاس عام میں جو رپورٹ پیش کی تھی اس میں وہ لکھتا ہے :

” یہ گندے فوٹو گراف لوگوں کے حواس میں شدید ہیجان و اختلال برپا کرتے ہیں اور اپنے بد قسمت خریداروں کو ایسے ایسے جرائم پر اکساتے ہیں جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں پر ان کا تباہ کن اثر بیان سے زیادہ ہے۔ بہت سے مدرسے اور کالج انہی کی بدولت اخلاقی اور جسمانی حیثیت سے برباد ہو چکے ہیں۔ خصوصا" لڑکیوں کے لئے تو کوئی چیز اس سے زیادہ غارت گر نہیں ہو سکتی۔"

اورانہی فنون لطیفہ کی خدمت تھیٹر، سینما، میوزیک ہال اور قہوہ خانوں کی تفریحات کے ذریعہ سےہو رہی ہے۔ وہ ڈرامے جن کی تمثیل کو فریچ سوسائٹی کے اونچے سے اونچے طبقے دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں اور جن کے مصنفین اور کامیاب نقالوں پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کئے جاتے ہیں۔ بلا استثناء سب کے سب شہوانیت سے لبریز ہیں اور ان کی نمایاں خصوصیت بس یہ ہے کہ اخلاقی حیثیت سے جو کریکٹر بدترین ہو سکتا ہے اس کو ان میں مثل اعلیٰ اور اسوہ حسنہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پول بیورو کے بقول ” تمیں چالیس سال سے ہمارے ڈراما نگار زندگی کے جو نقشے پیش کر رہے ہیں ان کو دیکھ کر اگر کوئی شخص ہماری تمدنی زندگی کا اندازہ لگانا چاہے تو وہ بس یہ سمجھے گا کہ ہماری سوسائٹی میں جتنے شادی شدہ جوڑے ہیں سب خائن اور ازدواجی وفاداری سے عاری ہیں۔ شوہر یا بیوقوف ہوتا ہے یا بیوی کے لئے بلائے جان اور بیوی کی بہترین صفت اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ ہر وقت شوہر سے دل برداشتہ ہونے اور ادھر ادھر دل لگانے کے لئے تیار رہے۔"

اونچی سوسائٹی کے تھیٹروں کا جب یہ حال ہے تو عوام کے تھیٹروں اور تفریح گاہوں کا جو رنگ ہو گا اس کا اندازہ باسانی کیا جا سکتا ہے۔ بدترین آوارہ منش لوگ جس زبان، جن اداؤں اور جن عریانیوں سے ، مطمئن ہو سکتے ہیں وہ بغیر کسی شرم و حیا اور لاگ لپیٹ کے وہاں پیش کر دی جاتی ہیں اور عوام کو اشتہارات کے ذریعہ سے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ تمہاری شہوانی پیاس جو جو کچھ مانگتی ہے وہ سب یہاں حاضر ہے۔ ہمارا اسٹیج تکلف - خالی اور حقیقت پر مبنی .(Realistic) ہے۔ امیلپوریسی نے اپنی رپورٹ میں متعدد مثالیں پیش کی ہیں جو مختلف تفریح گاہوں میں گشت لگا کر جمع کی گئی تھیں۔ ناموں کو اس نے حروف تہجی کے پردے میں چھپا دیا ہے۔

"ب" میں ایکٹرس کے گیت، تکلمات (Monologues) اور حرکات انتہا درجہ کے فحش تھے اور پردہ پر جو پس منظر پیش کیا گیا تھا وہ بعض صنفی اختلاط کے آخری مدارج تک پہنچتے پہنچتے رہ گیا تھا۔ ایک ہزار سے زیادہ تماشائی موجود تھے جن میں شرفاء بھی نظر آتے تھے اور سب عالم بے خودی میں صدا ہائے آفرین و مرحبا بلند کر رہے تھے۔"

" "ن" میں چھوٹے چھوٹے گیت اور ان کے درمیان چھوٹے چھوٹے بول اور ان کے ساتھ حرکات و سکنات، بے شرمی کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ بچے اور کم سن نوجوان اپنے والدین کے ساتھ بیٹھے ہوئے اس تماشے کو دیکھ رہے تھے اور پرجوش طریقے سے ہر شدید بے شرعی پر تالیاں بجاتے تھے۔"

" "ل" میں حاضرین کے ہجوم نے پانچ مرتبہ شور مچا کر ایک ایسی ایکٹرس کو اعادے پر مجبور کیا جو اپنے ایکٹ کو ایک حد درجہ فحش میت ، ختم کرتی تھی۔"

" "ر" میں حاضرین نے ایسی ہی ایک اور ایکٹرس سے بار بار فرمائش کر کے ایک نہایت فحش چیز کا اعادہ کرایا۔ آخر اس نے بگڑ کر کہا " تم کتنے بے شرم لوگ ہو، دیکھتے نہیں کہ ہال میں بچے موجود ہیں۔“


" "ز" میں تماشا ختم ہونے کے بعد ایکٹرسوں پر لاٹری ڈالی گئی۔ لاٹری کے ٹکٹ خود ایکٹرس دس دس سانتیم میں فروخت کر رہی تھیں۔ جس شخص کے نام جو ایکٹرس نکل آئی وہ اس رات کے لئے اس کی تھی۔"

پول بیورو لکھتا ہے کہ بسا اوقات اسٹیج پر بالکل برہنہ عورتیں تک پیش کر دی جاتی ہیں جن کے جسم پر کپڑے کے نام کا ایک تار بھی نہیں ہوتا۔ اڈولف بریاں (Adolphe Briason) نے ایک مرتبہ فرانس کے مشہور اخبار "طان" (Tamps) میں ان چیزوں پر احتجاج کرتے ہوئے لکھا کہ اب بس اتنی کسر رہ گئی ہے کہ اسٹیج پر فعل مباشرت کا منظر پیش کر دیا جائے۔“ اور یہ سچ ہے کہ "آرٹ" کی تکمیل تو اسی وقت ہو گی !

منع حمل کی تحریک اور صنفیات (Sexual Science) کے.نام نہاد علمی اور طبی لٹریچر نے بھی بے حیائی پھیلانے اور لوگوں کے اخلاق بگاڑنے میں بڑا حصہ لیا ہے۔ پبلک جلسوں میں تقریروں اور میجک لینٹرن کے ذریعہ سے، اور مطبوعات میں تصاویر اور تشریحی بیانات کے ذریعہ سے حمل اور اس کے متعلقات اور مانع حمل آلات کے طریق استعمال کی وہ وہ تفصیلات بیان کی جاتی ہیں جن کے بعد کوئی چیز قابل اظہار باقی نہیں رہ جاتی۔ اسی طرح منفیات کی کتابوں میں تشریح بدن سے لے کر آخر تک معاملات صنفی کے کسی پہلو کو بھی روشنی میں لائے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ بظاہر ان سب چیزوں پر علم اور سائنس کا غلاف چڑھا دیا گیا ہے تاکہ یہ اعتراض سے بالاتر ہو جائیں۔ بلکہ مزید ترقی کر کے ان چیزوں کی اشاعت کو ” خدمت خلق" کے نام سے بھی موسم کر دیا جاتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ہم تو لوگوں کو صنفی معاملات میں غلطیاں کرنے سے بچانا چاہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس لڑیچر اور اس تعلیم کی عام اشاعت نے عورتوں، مردوں اور کمسن نوجوانوں میں سخت بے حیائی پیدا کر دی ہے۔ اس کی بدولت آج یہ نوبت آگئی ہے کہ ایک نوخیز لڑکی جو مدرسے میں تعلیم پاتی ہے اور ابھی سن بلوغ کو بھی پوری طرح نہیں پہنچتی ہے ، صنفی معاملات کے متعلق وہ معلومات رکھتی ہے جو کبھی شادی شدہ عورتوں کو بھی حاصل نہ تھیں اور یہی حال نوخیز بلکہ نابالغ لڑکوں کا بھی ہے۔ ان کے جذبات قبل از وقت بیدار ہو جاتے ہیں۔ان میں صنفی تجربات کا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔ پوری جوانی کو پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنے آپ کو خواہشات نفسانی کے چنگل میں دے دیتے ہیں۔ نکاح کے لئے تو عمر کی حد مقرر کی گئی ہے مگر ان تجربات کے لئے کوئی حد مقرر نہیں۔ بارہ تیرہ سال کی عمر ہی سے ان کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

قومی ہلاکت کے آثار جہاں بد اخلاقی، نفس پرستی اور لذات جسمانی کی بندگی اس حد کو پہنچ چکی ہو، جہاں عورت مرد جوان، بوڑھے سب کے سب عیش کوشی میں اس قدر منہمک ہو گئے ہوں اور جہاں انسان کو شہوانیت کے انتہائی اشتعال نے یوں آپے سے باہر کر دیا ہو، ایسی جگہ ان تمام اسباب کا بروئے کار آ جانا بالکل ایک طبیعی امر ہے جو کسی قوم کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں۔ لوگ اس قسم کی برسر انحطاط على شفا حفرة من النار قوموں کو بر سر عروج دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان کی عیش پرستی ان کی ترقی میں مانع نہیں ہے بلکہ الٹی مددگار ہے اور یہ کہ ایک قوم کے انتہائی عروج و ترقی کا زمانہ وہ ہوتا ۔ ہے جب وہ لذت پرستی کے انتہائی مرتبہ پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایک سرا سر غلط استنتاج ہے۔ جہاں تعمیر اور تخریب کی قوتیں ملی جلی کام کر رہی ہوں اور مجموعی حیثیت سے تعمیر کا پہلو نمایاں نظر آتا ہو، وہاں تخریبی قوتوں کو بھی اسباب تعمیر میں شمار کر لینا صرف اس شخص کا کام ہو سکتا ہے جس کی عقل خبط ہو گئی ہو۔

مثال کے طور پر اگر ایک ہوشیار تاجر اپنی ذہانت، محنت اور آزموده کاری کے سبب لاکھوں روپیہ کما رہا ہے اور اس کے ساتھ وہ مے نوشی، قمار بازی اور عیاشی میں بھی مبتلا ہو گیا ہے، تو آپ کتنی بڑی غلطی کریں گے اگر اس کی زندگی کے ان دونوں پہلوؤں کو اس کی خوش حالی اور ترقی کے اسباب میں شمار کر لیں گے۔ دراصل اس کی صفات کا پہلا مجموعہ اس کی تعمیر کا موجب اور دوسرا مجموعہ اس کی تخریب میں لگا ہوا ہے۔ پہلے مجموعہ کی طاقت سے اگر عمارت قائم ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دوسرے مجموعہ کی تخریبی طاقت اپنا اثر نہیں کر رہی ہے۔ ذرا گہری نظر سے دیکھئے تو پتہ چلے گا کہ یہ تخریبی قوتیں اس کے دماغ اور جسم کی طاقتوں کو برابر کھائے جا رہی ہیں۔ اس کی محنت سے کمائی ہوئی دولت پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں، اور اس کو بتدریج تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر وقت اس تاک میں لگی ہوئی ہیں کہ کب ایک فیصلہ کن حملہ کا موقع ملے اور یہ ایک ہی وار میں اس کا خاتمہ کر دیں۔ قمار بازی کا شیطان کسی بری گھڑی اس کی عمر بھر کی کمائی کو ایک سیکنڈ میں غارت کر سکتا ہے اور وہ اس گھڑی کا منتظر بیٹا ہے۔ مے نوشی کا شیطان وقت آنے پر اس سے عالم مدہوشی میں ایسی غلطی کرا سکتا ہے جو یک لخت اسے دیوالیہ بنا کر چھوڑ دے اور وہ بھی گھات میں لگا ہوا ہے۔ بدکاری کا شیطان بھی اس گھڑی کا انتظار کر رہا ہے جب وہ اسے قتل یا خود کشی یا کسی اور اچانک تباہی میں مبتلا کر دے۔ تم اندازہ نہیں کر سکتے کہ اگر وہ ان شیاطین کے چنگل میں پھنسا ہوا نہ ہوتا تو اس کی ترقی کا کیا حال ہوتا۔

ایسا ہی معاملہ ایک قوم کا بھی ہے۔ وہ تعمیری قوتوں کے بل پر ترقی کرتی ہے، مگر صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے ترقی کی طرف چند ہی قدم بڑھانے کے بعد خود اپنی تخریب کے اسباب فراہم کرنے لگتی ہے۔ کچھ مدت تک تعمیری قوتیں اپنے زور میں اسے آگے بڑھائے لئے چلی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ تخریبی قوتیں اس کی زندگی کی طاقت کو اندر ہی اندر گھمن کی طرح کھاتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ آخر کار اسے اتنا کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہیں کہ ایک اچانک صدمہ اس کی قصر عظمت کو آن کی آن میں پیوند خاک کر سکتا ہے۔ یہاں مختصر طور پر ہم ان بڑے بڑے نمایاں اسباب ہلاکت کو بیان کریں گے جو فرنچ قوم کے اس غلط نظام معاشرت نے ان کے لئے پیدا کئے ہیں۔

جسمانی قوتوں کا انحطاط شہوانیت کے اس تسلط کا اولین نتیجہ یہ ہوا ہے کہ فرانسیسیوں کی جسمانی قوت رفته رفته جواب دیتی چلی جا رہی ہے۔ دائمی ہیجانات نے ان کے اعصاب کمزور کر دیئے ہیں۔ خواہشات کی بندگی نے ان میں خبط اور برداشت کی طاقت کم ہی باقی چھوڑی ہے۔ اور امراض خبیثہ کی کثرت نے ان کی صحت پر نہایت ملک اثر ڈالا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے یہ کیفیت ہے کہ فرانس کے فوجی حکام کو مجبورا ہر چند سال کے بعد نئے رنگروٹوں کے لئے جسمانی اہلیت کے معیار کو گھٹا دینا پڑتا ہے، کیونکہ اہلیت کا جو پہلے معیار تھا اب اس معیار کے نوجوان قوم میں کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک معتبر پیمانہ ہے جو تھرما میٹر کی طرح قریب قریب یقینی صحت کے ساتھ بتاتا ہے کہ فرنچ قوم کی جسمانی قوتیں کتنی تیزی کے ساتھ بتدریج گھٹ رہی ہیں۔ امراض خبیثہ اس تنزل کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہیں۔ جنگ عظیم اول کے ابتدائی دو سالوں میں جن سپاہیوں کو محض آتشک کی وجہ سے رخصت دے کر ہسپتالوں میں بھیجنا پڑا ان کی تعداد ۷۵۰۰۰ تھی۔ صرف ایک متوسط درجہ کی فوجی چھاؤنی میں بیک وقت ۲۴۲ سپاہی اس مرض میں مبتلا ہوئے۔ ایک طرف اس وقت کی نزاکت کو دیکھئے کہ فرانسیسی قوم کی موت اور حیات کا فیصلہ در پیش تھا اور اس کے وجود و بقا کے لئے ایک ایک سپاہی کی جانفشانی درکار تھی۔ ایک ایک فرانک بیش قیمت تھا اور وقت، قوت، وسائل ہر چیز کی زیادہ سے زیادہ مقدار دفاع میں خرچ ہونے کی ضرورت تھی۔ دوسری طرف اس قوم کے جوانوں کو دیکھئے کہ کتنے ہزار افراد اس عیاشی کی بدولت نہ صرف خود کئی کئی مہینوں کے لئے بیکار ہوئے بلکہ انہوں نے اپنی قوم کی دولت اور وسائل کو بھی اس آڑے وقت میں اپنے علاج پر ضائع کرایا۔

ایک فرانسیسی ماہر فن ڈاکٹر لیرید (Dr. Laredde) کا بیان ہے کہ فرانس میں ہر سال صرف آتشک اور اس کے پیدا کردہ امراض کی وجہ سے ۳۰ ہزار جانین ضائع ہو جاتی ہیں اور دق کے بعد یہ مرض سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک مرض خبیث کا حال ہے اور امراض . خبیثہ کی فہرست صرف اسی ایک مرض پر مشتمل نہیں ہے۔

خاندانی نظام کی بربادی

اس بے قید شہوانیت اور آوارہ منشی کے اس رواج عام نے دوسری عظیم الشان مصیبت جو فرانسیسی تمدن پر نازل کی ہےوہ خاندانی نظام کی تباہی ہے۔ خاندان کا نظام عورت اور مرد کے اس مستقل اور پائیدار تعلق سے بنتا ہے جس کا نام نکاح ہے۔ اسی تعلق کی بدولت افراد کی زندگی میں سکون استقلال اور ثبات پیدا ہوتا ہے۔ یہی چیز ان کی انفرادیت کو اجتماعیت میں تبدیل کرتی ہے اور انتشار (انار کی) کے میلانات کو دبا کر انہیں تمدن کا خادم بناتی ہے۔ اسی نظام کے دائرے میں محبت اور امن اور ایثار کی وہ پاکیزہ فضا پیدا ہوتی ہے جس میں نئی نسلیں صحیح اخلاق، صحیح تربیت اور صحیح قسم کی تعمیر سیرت کے ساتھ پروان چڑھ سکتی ہیں۔ لیکن جہاں عورتوں اور مردوں کے ذہن سے نکاح اور اس کے مقصد کا تصور بالکل ہی نکل گیا ہو اور جہاں صنفی تعلق کا کوئی مقصد شہوانی آگ کو بجھا لینے کے سوا لوگوں کے ذہن میں نہ ہو اور جہاں ذواقین و زواقات کے لشکر کے لشکر بھونروں کی طرح پھول پھول کا رس لیتے پھرتے ہوں۔ وہاں یہ نظام نہ قائم ہو سکتا ہے۔ نہ قائم رہ سکتا ہے۔ وہاں عورتوں اور مردوں میں یہ صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی کہ ازدواج کی ذمہ داریوں اور اس کے حقوق و فرائض اور اس کے اخلاقی انضباط کا بوجھ پسیار سکیں۔ اور ان کی اس ذہنی و اخلاقی کیفیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر نسل کی تربیت پہلی نسل سے بدتر ہوتی ہے۔ افراد میں خود غرضی و خود سری اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ تمدن کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے۔ نفوس میں تکون اور سیماب و شی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ قومی سیاست اور اس کے بین الاقوامی رویہ میں بھی کوئی ٹھراؤ باقی نہیں رہتا۔ گھر کا سکون ہم نہ پہنچنے کی وجہ سے افراد کی زندگیاں تلخ اور تلخ تر ہوتی جاتی ہیں اور ایک دائی اضطراب ان کو کسی کل چین نہیں لینے دیتا۔ یہ دنیوی جہنم کا عذاب ہے جسے انسان اپنی احمقانہ لذت طلبی کے جنون میں خود مول لیتا ہے۔

فرانس میں سالانہ سات آٹھ فی ہزار کا اوسط ان مردوں اور عورتوں کا ہے جو ازدواج کے رشتہ میں منسلک ہوتے ہیں۔ یہ اوسط خود اتنا کم ہے کہ اسے دیکھ کر آسانی کے ساتھ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آبادی کا کتنا کثیر حصہ غیر شادی شدہ ہے۔ پھر اتنی قلیل تعداد جو نکاح کرتی ہے ان میں بھی بہت کم لوگ ایسےہیں جو باعصمت رہتے اور پاک اخلاقی زندگی بسر کرنے کی نیت سے نکاح کرتے ہیں۔ اس ایک مقصد کے سوا ہر دوسرا ممکن. مقصد ان کے پیش نظر ہوتا ہے۔ حتی کہ عامتہ الورود مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نکاح سے پہلے ایک عورت نے جو بچہ ناجائز طور پر جنا ہے، نکاح کر کے اس کو مولود جائز بنا دیا جائے۔چنانچہ پول بیورو لکھتا ہے کہ فرانس کے کام پیشہ لوگوں (Working Classes)میں یہ عام دستور ہےکہ نکاح سے پہلے عورت اپنے ہونےوالے شوہر سے اس بات کا وعدہ لے لیتی ہے کہ وہ اس کے بچہ کو اپنا بچہ تسلیم کرے گا۔ ۱۹۱۷ء میں سین (Seine) کی عدالت دیوانی کے سامنے ایک عورت نے بیان دیا کہ ”میں نے شادی کے وقت ہی اپنے شوہر کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ اس شادی سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے قبل از نکاح آزادانہ تعلقات سے جو بچے پیدا ہوئے ہیں ان کو حلالی" بنا دیا جائے۔ باقی رہی یہ بات کہ میں اس کے ساتھ بیوی بن کر زندگی گزاروں تو یہ نہ اس وقت میرے ذہن میں تھی نہ اب ہے۔ اسی بناء پر جس روز شادی ہوئی اسی روز ساڑھے پانچ بجے میں اپنے شوہر سے الگ ہو گئی اور آج تک اس سے نہیں ملی کیونکہ میں فرائض زوجیت ادا کرنے کی کوئی نیت نہ رکھتی تھی۔" (صفحہ ۵۵)

پیرس کے ایک مشہور کالج کے پرنسپل نے پول بیورو سے بیان کیا کہ عموما نوجوان نکاح میں صرف یہ مقصد پیش نظر رکھتے ہیں کہ گھر پر بھی ایک داشتہ کی خدمات حاصل کر لیں۔ دس بارہ سال تک وہ ہر طرف آزادانہ مزے چکھتے پھرتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس قسم کی بے ضابطہ آوارہ زندگی سے تھک کر وہ ایک عورت سے ، شادی کر لیتے ہیں تاکہ گھر کی آسائش بھی کسی حد تک بہم پہنچے اور آزادانہ زواقی کا لطف بھی حاصل کیا جاتا رہے۔“ (صفحہ ۵۶)

فرانس میں شادی شدہ اشخاص کا زنا کار ہونا قطعا کوئی معیوب یا قابل ملامت فعل نہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے علاوہ کوئی مستقل داشتہ رکھتا ہو تو وہ اسے چھپانے کی ضرورت نہیں سمجھتا اور سوسائٹی اس فعل کو ایک معمولی اور متوقع بات سمجھتی ہے۔ (صفحہ ۷۶۔۷۷)

ان حالات میں نکاح کا رشتہ اس قدر بودا ہو کر رہ گیا ہے کہ بات بات پر ٹوٹ جاتا ہے۔ بسا اوقات اس بیچارے کی عمر چند گھنٹوں سے متجاوز نہیں ہوتی۔ چنانچہ فرانس کے ایک معزز شخص نے جو کئی مرتبہ وزیر رہ چکا تھا، اپنی شادی کے صرف پانچ گھنٹہ بعد اپنی بیوی سے طلاق حاصل کر لی۔ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں طلاق کی موجب بن جاتی ہیں جنہیں سن کر ہنسی آتی ۔ ہے۔ مثلا" فریقین میں سے کسی ایک کا سوتے میں خراٹے لینا یا کتے کو پسند نہ کرنا۔ سین عدالت دیوانی نے ایک مرتبہ صرف ایک تاریخ میں ۲۹۴ نکاح فسخ کئے۔ ۱۸۴۴ء میں جب طلاق کا نیا قانون پاس ہوا تھا، چار ہزار طلاق واقع ہوئے تھے۔ ۱۹۰۰ء میں یہ تعداد ساڑھے سات ہزار تک پہنچی۔ ۱۹۱۳ء میں ۱۶ ہزار اور ۱۹۳۱ء میں ۲۱ ہزار۔

نسل کشی بچوں کی پرورش ایک اعلیٰ درجہ کا اخلاقی کام ہے جو ضبط نفس، خواہشات کی قربانی، تکلیفوں اور مختوں کی برداشت اور جان و مال کا ایثار چاہتا ہے۔ خود غرض نفس پرست لوگ جن پر انفرادیت اور بہیمیت کا پورا تسلط ہو :ہو چکا ہو، اس خدمت کی انجام دہی کے لئے کسی طرح راضی نہیں ہو سکتے۔

ساٹھ ستر برس سے فرانس میں منع حمل کی تحریک کا زبردست پر چار ہو رہا ہے۔ اس تحریک کی بدولت سرزمین فرانس کے ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت تک ان تدابیر کا علم پہنچا دیا گیا ہے جن سے آدمی اس قابل ہو سکتا ہے کہ صنفی تعلق اور اس کی لذات سے متمتع ہونے کے باوجود اس فعل کے قدرتی نتیجه ، یعنی استقرار حمل اور تولید نسل سے بچ سکے۔ کوئی شہر، قصبہ یا گاہ ایسا نہیں ہے جہاں مانع حمل دوائیں اور آلات بر سر عام فروخت نہ ہو تے ہوں اور ہر شخص ان کو حاصل نہ کر سکتا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزاد شهوت رانی کرنے والے لوگ ہی نہیں بلکہ شادی شدہ جوڑے بھی کثرت سے ان تدابیر کو استعمال کرتے ہیں اور ہر زن و مرد کی یہ خواہش ہے کہ ان کے درمیان بچہ ، یعنی وہ بلا جو تمام لطف و لذت کو کرکرا کر دیتی ہے، کسی طرح خلل انداز نہ ہونے پائے۔ فرانس کی شرح پیدائش جس رفتار سے گھٹ رہی ہے اس کو دیکھ کر ماہرین فن نے اندازہ لگایا ہے کہ منع حمل کی اس وبائے عام کی بدولت کم از کم لاکھ انسانوں کی پیدائش روک دی جاتی ہے۔

ان تدابیر کے باوجود حمل ٹھہر جاتے ہیں ان کو اسقاط کے ذریعہ سے ضائع کیا جاتا ہے اور اس طرح مزید تین چار لاکھ انسان دنیا میں آنے سے ، روک دیئے جاتے ہیں۔ اسقاط حمل صرف غیر شادی شدہ عورتیں ہی نہیں کراتیں بلکہ شادی شدہ بھی اس معاملہ میں ان کی ہم پلہ ہیں۔ اخلاقا" اس فعل کو ناقابل اعتراض بلکہ عورت کا حق سمجھا جاتا ہے۔ قانون نے اس کی طرف سے گویا آنکھیں بند کر لی ہیں۔ اگر چہ کتاب آئین میں یہ فعل ابھی تک جرم ہے، لیکن عملاً" یہ حال ہے کہ ۳۰۰ میں سے بمشکل ایک کے چالان کی نوبت آتی ہے، اور پھر جن کا چالان ہو جاتا ہے ان میں سے بھی ۷۵ فیصد عدالت میں جا کر چھوٹ جاتے ہیں۔ اسقاط کی طبی تدابیر اتنی آسان اور اس قدر معلوم عوام کر دی گئی ہیں کہ اکثر عورتیں خود ہی اسقاط کر لیتی ہیں اور جو نہیں کر سکتیں انہیں طبی امداد حاصل کرنے میں کوئی وقت نہیں۔ پیٹ کے بچے کو ہلاک کر دینا ان لوگوں کے لئے بالکل ایسا ہو گیا ہے جیسے کسی درد کرنے والے دانت کو نکلوا دینا۔

اس ذہنیت نے فطرت مادری کو اتنا مسخ کر دیا ہے کہ وہ ماں جس کی محبت کو دنیا ہمیشہ سے محبت کا بلند ترین منتہی سمجھتی رہی ہے، آج اپنی اولاد سے بیزار متنفر بلکہ اس کی دشمن ہو گئی ہے۔ منع حمل اور اسقاط سے بچ بچا کر جو بچے دنیا میں آ جاتے ہیں ان کے ساتھ سخت بے رحمی کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس دردناک حقیقت کو پول بیورو نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

" آئے دن اخبارات میں ان بچوں کے مصائب کی اطلاعات شائع ہوتی رہتی ہیں جن پر ان کے ماں باپ سخت سے سخت ظلم ڈھاتے ہیں۔ اخباروں میں تو صرف غیر معمولی واقعات ہی کا تذکرہ آتا ہے۔ مگر لوگ واقف ہیں کہ عموما ان بچوں ۔ ناخواندہ مہمانوں ------ کے ساتھ کیسا بے رحمانہ برتاؤ کیا جاتا ہے جن سے ان کے والدین صرف اس لئے دل برداشتہ ہیں کہ ان کم بختوں نے آکر زندگی کا سارا لطف غارت کر دیا۔ جرات کی کمی اسقاط میں مانع ہو جاتی ہے اور اس طرح ان معصوموں کو آنے کا موقع مل جاتا ہے، مگر جب یہ آ جاتے ہیں تو انہیں اس کی پوری سزا بھگتنی پڑتی ہے۔" (صفحہ ۷۴)

یہ بیزاری اور نفرت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت کا چھ ماہ کا بچہ مر گیا تو وہ اس کی لاش کو سامنے رکھ کر خوشی کے مارے ناچی اور گائی اور اپنے ہمسایوں سے کہتی پھری کہ اب ہم دوسرا بچہ نہ ہونے دیں گے۔ مجھے اور میرے شوہر کو اس بچے کی موت سے بڑا اطمینان نصیب ہوا ہے۔ دیکھو تو سی ایک بچہ کیا چیز ہوتا ہے۔ ہر وقت روں رول کرتا رہتا ہے ، گندگی پھیلاتا ہے اور آدمی کو کبھی اس سے نجات نصیب نہیں ہوتی۔"

اس سے بھی زیادہ دردناک بات یہ ہے کہ بچوں کو قتل کرنے کی وبا تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور فرانسیسی حکومت اور اس کی عدالتیں اسقاط حمل کی طرح اس جرم عظیم کے معاملہ میں بھی کمال درجہ کا تغافل برت رہی ہیں۔ مثلا فروری ۱۹۱۸ء میں لوار (Loire) کی عدالت میں دو لڑکیاں اپنے بچوں کے قتل کے الزام میں پیش ہوئیں اور دونوں بری کر دی گئیں۔ ان میں سے ایک لڑکی نے اپنے بچے کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کیا تھا۔ اس کے ایک بچے کو اس کے رشتہ دار پہلے سے پرورش کر رہے تھے اور اس دوسرے بچے کو بھی وہ پرورش کرنے کے لئے آمادہ تھے ، مگر اس نے پھر بھی یہی فیصلہ کیا کہ اس غریب کو جیتا نہ چھوڑے۔ عدالت کی رائے میں اس کا جرم قابل معافی تھا۔ دوسری لڑکی نے اپنے بچے کا گلا گھونٹ کر مار دیا اور جب گلا گھونٹنے پر بھی اس میں کچھ جان باقی رہ گئی تو دیوار پر مارکر اس کا سر پھوڑ دیا۔ یه عورت بھی فرانسیسی چوں اور جیوری کی نگاہ میں قصاص کی سزاوار نہ ٹھری۔ اسی ۱۸ء کے ماہ مارچ میں سین کی عدالت کے سامنے ایک رقاصہ پیش ہوئی جس نے اپنے بچہ کی زبان حلق سے کھینچنے کی کوشش کی، پھر اس کا سر پھوڑا اور اس کا گلا کاٹ ڈالا۔ یہ عورت بھی حج اور جیوری کی رائے میں مجرم نہ تھی۔

جو قوم اپنی نسل کی دشمنی میں اس حد کو پہنچ جائے اسے دنیا کی کوئی تدبیر فنا ہونے سے نہیں بچا سکتی۔ نئی نسلوں کی پیدائش ایک قوم کے وجود کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے ناگزیر ہے۔ اگر کوئی قوم اپنی نسل کی دشمن ہے تو دراصل وہ آپ اپنی دشمن ہے، خود کشی کر رہی ہے، کوئی بیرونی دشمن نہ ہو تب بھی وہ آپ اپنی ہستی کو مٹا دینے کے لئے کافی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں فرانس کی شرح پیدائش گذشتہ ساٹھ سال سے پیم گرتی جا رہی ہے۔ کسی سال شرح اموات شرح پیدائش سے بڑھ جاتی ہے، کسی سال دونوں برابر رہتی ہیں اور کبھی شرح پیدائش، شرح اموات کی بہ نسبت مشکل سے ایک فی ہزار زائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف سرزمین فرانس میں غیر قوموں کے مہاجرین کی تعداد روز افزوں ہے۔ چنانچہ ۱۹۳۱ء میں فرانس کی ۴ کروڑ ۱۸ لاکھ کی آبادی میں ۲۸ لاکھ 90 ہزار غیر قوموں کے لوگ تھے۔ یہ صورت حال یونہی رہی تو بیسوی صدی کے اختتام تک فرانسیسی قوم عجب نہیں کہ خود اپنے وطن میں اقلیت بن کر رہ جائے۔


کتاب پرده
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

pardah