امریکہ ہم نے محض تاریخی بیان کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے فرانس کے نظریات اور فرانس ہی کے نتائج بیان کئے ہیں۔ لیکن یہ گمان کرنا صحیح نہیں ہو گا کہ فرانس اس معاملہ میں منفرد ہے۔ فی الحقیقت آج ان تمام ممالک کی کم و بیش یہی کیفیت ہے جنہوں نے وہ اخلاقی نظریات اور معاشرے کے وہ غیر متوازن اصول اختیار کئے ہیں جن کا ذکر پچھلے ابواب میں کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ممالک متحدہ امریکہ کو لیجئے جہاں یہ نظام معاشرت اس وقت اپنے پورے شباب پر ہے۔
حج بن لنڈے (Ben Lindsey) جس کو ڈنور (Denver) کی عدالت جرائم اطفال Juvenile Court) کا صدر ہونے کی حیثیت سے امریکہ کے نوجوانوں کی اخلاقی حالت سے واقف ہونے کا بہت زیادہ موقع ملا ہے۔ اپنی کتاب "Revolf of Modern Youth" میں لکھتا ہے کہ امریکہ میں بچے قبل از وقت بالغ ہونے لگے ہیں اور بہت کچی عمر میں ان کے اندر منفی احساسات بیدار ہو جاتے ہیں۔ اس نے نمونہ کے طور پر ۳۱۲ ) ۳۱۲ لڑکیوں کے حالات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان میں ۲۵۵ ایسی تھیں جو گیارہ اور تیرہ برس کے درمیان عمر میں بالغ ہو چکی تھیں اور ان کے اندر ایسی صنفی خواہشات اور ایسے جسمانی مطالبات کے آثار پائے جاتے تھے جو ایک ۱۸ برس اور اس سے بھی زیادہ عمر کی لڑکی میں ہونے چاہئیں۔ (صفحہ ۸۲ تا ۸۶)
ڈاکٹر ایڈ تھ ہو کر (Edith Hooker) اپنی کتاب "Laws of Sex" میں لکھتی ہے کہ نہایت مہذب اور دولت مند طبقوں میں بھی یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ سات آٹھ برس کی لڑکیاں اپنے ہم عمر لڑکوں سے عشق و محبت کے تعلقات رکھتی ہیں، جن کے ساتھ بسا اوقات مباشرت بھی ہو جاتی ہے"-
ایک سات برس کی چھوٹی سی لڑکی جو ایک نہایت شریف خاندان کی چشم و چراغ تھی خود اپنے بڑے بھائی اور اس کے چند دوستوں سے ملوث ہوئی۔ ایک دوسرا واقعہ یہ ہے کہ پانچ بچوں کا ایک گروہ جو دو لڑکیوں اور تین لڑکوں پر مشتمل تھا اور جن کے گھر پاس پاس واقع ہوئے تھے باہم شہوانی تعلقات میں وابسته پائے گئے اورانہوں نے دوسرے ہم سن بچوں کو بھی اس کی ترغیب دی۔ ان میں سب سے بڑے بچے کی عمر صرف دس سال کی تھی۔ ایک اور واقعہ ایک ۹ سال کی بچی کا ہے جو بظاہر بہت حفاظت سے رکھی جاتی تھی۔ اس بچی کو متعدد عشاق" کی منظور نظر ہونے کا فخر حاصل تھا۔" (صفحہ ٣٢٨ )
یہ پہلا ثمرہ ہے اس ہیجان انگیز ماحول کا جس میں ہر طرف جذبات کو برانگیختہ کرنے والے اسباب فراہم ہو گئے ہوں۔ امریکہ کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ ہماری آبادی کا اکثر و بیشتر حصہ آج کل جن حالات میں زندگی بسر کر رہا ہے وہ اس قدر غیر فطری ہیں کہ لڑکے اور لڑکیوں کو دس پندرہ برس کی عمر ہی میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ ا ایک دوسرے کے ساتھ عشق رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ نہایت افسوس ناک ہے۔ اس قسم کی قبل از وقت صنفی دلچسپیوں سے بہت برے نتائج رونما ہو سکتے ہیں اور ہوا کرتے ہیں۔ ان کا کم سے کم نتیجہ یہ ہے کہ نو عمر لڑکیاں اپنے دوستوں کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں یا کم سنی میں شادیاں کر لیتی ہیں اور اگر محبت میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو خود کشی کر لیتی ہیں۔
تعلیم کا مرحلہ اس طرح جن بچوں میں قبل از وقت صنفی احساسات بیدار ہو جاتے ہیں ان کے لئے پہلی تجربہ گاہ مدارس ہیں۔ مدر سے دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم ان مدرسوں کی ہے جن میں ایک ہی صنف کے بچے داخل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم ان مدرسوں کی ہے جن میں تعلیم مخلوط ہے۔
پہلی قسم کے مدرسوں میں "صحبت ہم جنس" (Homo-Sexuality) اور خودکاری (Masturbation) کی وبا پھیل رہی ہے، کیونکہ جن جذبات کو بچپن ہی میں بھڑکایا جا چکا ہے اور جن کو مشتعل کرنے کے سامان فضا میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں، وہ اپنی تسکین کے لئے کوئی نہ کوئی صورت نکالنے پر مجبور ہیں۔ ڈاکر ہو کر لکھتی ہے کہ اس قسم کی تعلیم گاہوں، کالجوں، نرسوں کے ٹریننگ سکولوں اور مذہبی مدرسوں میں ہمیشہ اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں ایک ہی صنف کے دو فرد آپس میں شہوانی تعلق رکھتے ہیں اور صنف مقابل سے ان کی دلچپسی فنا ہو چکی ہے۔ اے
اس سلسلہ میں اس نے بکثرت واقعات ایسے بیان کئے ہیں جن میں لڑکیاں لڑکیوں کے ساتھ اور لڑکے لڑکوں کے ساتھ ملوث ہوے اور دردناک انجام سے دو چار ہوئے۔ بعض دوسری کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ "صحبت ہم جنس" کی وبا کس قدر کثرت سے پھیلی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر لوری (Dr. Lowry) اپنی کتاب Hereself میں لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر نے چالیس خاندانوں کو خفیہ اطلاع دی کہ ان کے لڑکے اب مدرسہ میں نہیں رکھےجا سکتے۔ کیونکہ ان میں بد اخلاقی کی ایک خوفناک حالت“ کا پتہ چلا ہے۔ (صفحہ ١٧٩)
اب دوسری قسم کے مدارس کو لیجئے جن میں لڑکیاں اور لڑکے ساتھ مل کر پڑھتے ہیں۔ یہاں اشتعال کے اسباب بھی موجود ہیں اور اس کو تسکین دینےکےاسباب بھی۔ جس ہیجان جذبات کی ابتدا بچپن میں ہوئی تھی،یہاں پہنچ کر اس کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ بدترین فحش لٹریچر لڑکوں اور لڑکیوں کے زیر مطالعہ رہتا ہے۔ عشقیہ افسانے نام نہاد "آرت" کے رسالے صنفی مسائل پر نهایت گندی کتابیں اور منع حمل کی معلومات فراہم کرنے والے مضامین ہیں۔ یہ ہیں وہ چیزیں جو عنفوان شباب میں مدرسوں اور کالجوں کے طالبین اور طالبات کے لئے سب سے زیادہ جاذب نظر ہوتی ہیں۔ مشہور امریکن مصنف ہینڈ رچ فان لون (Hendrich on Loain) کہتا ہے کہ :
اس لٹریچر سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں، دونوں صنفوں کے جوان افراد ان پر نہایت آزادی اور بے باکی سے مباحثے کرتے ہیں اور اس کے بعد عملی تجربات کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں مل کر (Petting Parties) کے لئے نکلتے ہیں جن میں شراب اور سگریٹ کا استعمال خوب آزادی سے ہوتا ہے اور ناچ رنگ سے پورا لطف اٹھایا جاتا ہے۔ اے
مدرسے اور کالج میں پھر بھی ایک قسم کا ڈسپلن ہوتا ہے جو کسی حد تک آزادی عمل میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے لیکن یہ نوجوان جب تعلیم گاہوں سے مشتعل جذبات اور بگڑی ہوئی عادات لئے ہوئے زندگی کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو ان کی شورش تمام حدود و قیود سے آزاد ہو جاتی ہے۔ یہاں ان کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے ایک پورا آتش خانہ موجود رہتا ہے اور ان کے بھڑکتے ہوئے جذبات کی تسکین کے لئے ہر قسم کا سامان بھی کسی وقت کے بغیر فراہم ہو جاتا ہے۔
"تین شیطانی قوتیں ہیں جن کی مثلیت آج ہماری دنیا پر چھا گئی ہے۔ اور یہ تینوں ایک جہنم تیار کرنے میں مشغول ہیں۔ فحش لٹریچر ا۔ جو جنگ عظیم کےبعد حیرت انگیز رفتار کے ساتھ اپنی بے شرمی اور کثرت اشاعت میں بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ متحرک ۲۔ تصویریں جو شهوانی محبت کے جذبات کو نہ صرف بھڑکاتی ہیں بلکہ عملی سبق بھی دیتی ہیں۔ عورتوں ۳؎ کا گرا ہوا اخلاقی معیار جو ان کے لباس اور با اوقات ان کی برہنگی اور سگریٹ کے روز افزوں استعمال، اور مردوں کے ساتھ ان کے ہر قید و امتیاز سے نا آشنا اختلاط کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔یہ تین چیزیں ہمارے ہاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ اور ان کا نتیجه مسیحی تہذیب و معاشرت کا زوال اور آخر کار تباہی ہے۔ اگر ان کو نہ روکا گیا تو ہماری تاریخ بھی روم اور ان دوسری قوموں کے مماثل ہو گی جن کو یہی نفس پرستی اور شہوانیت ان کی شراب اور عورتوں اور ناچ رنگ سمیت فنا کے گھاٹ اتار چکی ہے۔"
فواحش کی کثرت امریکہ میں جن عورتوں نے زنا کاری کو مستقل پیشہ بنا لیا ہے ان کی تعداد کا کم سے کم اندازہ چار پانچ لاکھ کے درمیان اس ہے۔ مگر امریکہ کی بیسوا کو ہندوستان کی بیسوا پر قیاس نہ کر لیجئے۔ وہ خاندانی بیسوا نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی عورت ہے جو کل تک کوئی آزاد پیشہ کرتی تھی۔ بری صحبت میں خراب ہو گئی اور قحبہ خانے میں آ بیٹھی۔ چند سال یہاں گزارے گی۔ پھر اس کام کو چھوڑ کر کسی دفتر یا کارخانہ میں ملازم ہو جائے گی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ امریکہ کی ۵۰ فیصد بیسوا ئیں خانگی ملازموں Domestic Servant) میں سے بھرتی ہوتی ہیں اور باقی ۵۰ فیصد ہسپتالوں، دفتروں اور دکانوں کی ملازمتیں چھوڑ کر آتی ہیں۔ عموما" پندرہ اور بیس سال کی عمر میں یہ پیشہ شروع کیا جاتا ہے اور پچیس تیں سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد وہ عورت جو کل بیسوا تھی مجبہ خانے سے منتقل ہو کر کسی دوسرے آزاد پیشے میں چلی جاتی ہے۔ ۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں چار پانچ لاکھ بیواؤں کی موجودگی در حقیقت کیا معنی رکھتی ہے۔ جیسا کہ پچھلے باب میں بیان کیا جا چکا ہے، مغربی ممالک میں فاحشہ گری ایک منظم بین الاقوامی کاروبار کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ میں نیویارک، ریوڈی جینز اور بیونس آئرس اس کاروبار کی بڑی منڈیاں ہیں۔ نیویارک کی دو سب سے بڑی "تجارتی کوٹھیوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک انتظامی کونسل ہے جس کے صدر اور سیکرٹری باقاعدہ انتخاب کئے جاتے ہیں۔ ہر ایک نے قانونی مشیر مقرر کر رکھے ہیں تاکہ کسی عدالتی قضیہ میں پھنس جانے کی صورت میں ان کے مفاد کی حفاظت کریں۔ جوان لڑکیوں کو بہکانے اور اڑا کر لانے کے لئے ہزا رہا دلال مقرر ہیں جو ہر جگہ شکار کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں۔ ان شکاریوں کی دستبرد کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ شکاگو آنے والے مہاجرین کی لیگ کے صدر نے ایک مرتبہ ۱۵ مہینہ کے اعداد و شمار جمع کئے تھے تو معلوم ہوا کہ اس مدت میں ۷۲۰۰ لڑکیوں کے خطوط لیگ کے دفتر کو موصول ہوئے جن میں لکھا تھا کہ وہ شکاگو پہنچنے والی ہیں مگر ان میں سے صرف ۱۷۰۰ اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکیں۔ باقی کا کچھ پتہ نہ چل سکا کہ کہاں گئیں۔
قحبہ خانوں کے علاوہ بکثرت ملاقات خانے ( Assignation Houses ) اور (Call Houses ) ہیں جو اس غرض کے لئے آراستہ رکھے جاتے ہیں کہ "شریف" اصحاب اور خواتین جب باہم ملاقات فرمانا چاہیں تو وہاں ان کی ملاقات کا انتظام کر دیا جائے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک شہر میں ایسے ۷۸ مکان تھے۔ ایک دوسرے شہر میں ۴۳۔ ایک اور شہر میں ۳۳۔ ۱۔ ان مکانوں میں صرف بن بیاہی خواتین ہی نہیں جاتیں بلکہ بہت سی بیاہی ہوئی خواتین کا بھی وہاں سے گزر ہو تا رہتا ہے۔۲؎
امریکہ کے مصلحین اخلاق کی ایک مجلس (Committee of Fourteen) کے نام سے' مشهور ہے۔ اس مجلس کی طرف سے بد اخلاقی کے مرکزوں کی تلاش اور ملک کی اخلاقی حالت کی تحقیقات اور اصلاح اخلاق کی عملی تدابیر کا کام بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ اس کی رپورٹوں میں بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ کے جتنے رقص خانے، نائٹ کلب، حسن گاہیں( Saloons Beauty) ہاتھوں کو خوبصورت بنانے کی دکانیں (Manicure Shops) مالش کرے (Massage Rooms) اور بال سنوارنے کی دکانیں (Hair Dressings) ہیں قریب قریب سب باقاعدہ قحبہ خانے بن چکے ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر۔ کیونکہ وہاں ناقابل بیان افعال کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔
امراض خبیشه فواحش کی اس کثرت کا لازمی نتیجہ امراض خبیثہ کی کثرت ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی قریب قریب ۹۰ فیصد آبادی ان امراض . سے متاثر ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا سے اوسطا ہر سال آتشک کے دو لاکھ اور سوزاک کے ایک لاکھ ۲۰ ہزار مریضوں کا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے سرکاری دوا خانوں میں علاج کیا جاتا ہے۔ ۶۵ دواخانے صرف انہی امراض کے لئے مخصوص ہیں۔ مگر سرکاری دوا خانوں زیادہ مرجوعہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کا ہے جن کے پاس آتشک کے ۶۱ فیصد اور سوزاک کے ۶۹ فیصدی مریض جاتے ہیں۔ (جلد ۲۳۔ صفحه ۴۵)
تیس اور چالیس ہزار کے درمیاں بچوں کی اموات صرف موروثی آتشک کی بدولت ہوتی ہیں۔ دق کے سوا باقی تمام امراض سے جتنی موتیں واقع ہوتی ہیں ان سب سے زیادہ تعداد ان اموات کی ہے۔ جو صرف آتشک کی بدولت ہوتی ہیں۔ سوزاک کے ماہرین کا کم سے کم تخمینہ ہے کہ ۶۰ فیصد جوان اشخاص اس مرض میں مبتلا ہیں، جن میں شادی شدہ بھی ہیں اور غیر شادی شدہ بھی۔ امراض نسواں کے ماہرین کا متفقہ بیان ہے کہ شادی شدہ عورتوں کے اعضاء جنسی پر پر جتنے آپریشن کئے جاتے ہیں، ان میں سے ۷۵ فیصدی ایسی نکلتی ہیں جن میں سوزاک کا اثر پایا جاتا ہے۔ ۱
طلاق اور تفریق ایسے حالات میں ظاہر ہے کہ خاندان کا نظم اور ازدواج کا مقدس رابطہ کہاں قائم رہ سکتا ہے۔ آزادی کے ساتھ اپنی روزی کمانے والی عورتیں جن کو شهوانی ضروریات کے سوا اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی مرد کی ضرورت نہیں ہے اور جن کو شادی کے بغیر آسانی کے ساتھ مرد بھی مل سکتے ہیں، شادی کو ایک فضول چیز سمجھتی ہیں۔ جدید ر فلسفہ اور مادہ پرستانہ خیالات نے ان کے وجدان سے یہ احساس بھی دور کر دیا ہے کہ شادی کے بغیر کسی شخص سے تعلقات رکھنا کوئی عیب یا گناہ ہے۔ سوسائٹی کو بھی اس ماحول نے اس قدر بے حس بنا دیا ہے کہ وہ ایسی عورتوں کو قابل نفرت یا قابل ملامت نہیں سمجھتی۔ حج لنڈ سے امریکہ کی عام لڑکیوں کے خیالات کی ترجمانی ان الفاظ میں کرتا ہے :
میں شادی کیوں کروں؟ میرے ساتھ کی جن لڑکیوں نے گذشتہ دو سال میں شادیاں کی ہیں، ہر دس میں سے پانچ کی شادی کا انجام طلاق پر ہوا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس زمانہ کی ہر لڑکی محبت کے معاملہ میں آزادی عمل کا فطری حق رکھتی ہے۔ ہم کو منع حمل کی کافی تدبیریں معلوم ہیں۔ اس ذریعہ سے یہ خطرہ بھی دور کیا جا سکتا ہے کہ ایک حرامی بچے کی پیدائش کوئی پیچیدہ صورت حال پیدا کر دے گی۔ہم کو یقین ہے کہ روایتی طریقوں کو اس جدید طریقہ سے بدل دینا عقل کا مقتضا ہے۔"
ان خیالات کی بے شرم عورتوں کو اگر کوئی چیز شادی پر آمادہ کرتی ہے تو وہ صرف جذبہ محبت ہے لیکن اکثر یہ جذبہ بھی دل اور روح کی گہرائی میں نہیں ہوتا، بلکہ محض ایک عارضی کشش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ خواہشات کا نشہ اتر جانے کے بعد زوجین میں کوئی الفت باقی نہیں رہتی۔ مزاج اور عادات کی ادنیٰ ناموافقت ان کے درمیان منافرت پیدا کر دیتی ہے۔ آخر کار عدالت میں طلاق یا تفریق کا دعوئی پیش ہو جاتا ہے۔ لنڈ سے لکھتا ہے :
" ۱۹۲۲ء میں ڈنور میں ہر شادی کے ساتھ ایک واقعہ تفریق کا پیش آیا اور دو شادیوں کے مقابلہ میں ایک مقدمہ طلاق کا پیش ہوا۔ یہ حالت محض ڈنور ہی کی نہیں ہے۔ امریکہ کے تقریبا تمام شہروں کی قریب قریب یہی حالت ہے۔"
" نکاحوں کی کمی، طلاقوں کی زیادتی اور نکاح کے بغیر مستقل یا عارضی ناجائز تعلقات کی کثرت یہ معنی رکھتی ہے کہ ہم حیوانیت کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ بچے پیدا کرنے کی فطری خواہش مٹ رہی ہے،پیدا شده بچوں سے غفلت برتی جا رہی ہے اور اس امر کا احساس رخصت ہو رہا ہے کہ خاندان اور گھر کی تعمیر، تہذیب اور آزاد حکومت کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ اس کے برعکس تہذیب اور حکومت کے انجام سے ایک بے دردانہ بے اعتنائی پیدا ہو رہی ہے۔"
طلاق اور تفریق کی اس کثرت کا علاج اب یہ نکالا گیا ہے کہ (Commissionate Marriage) یعنی " آزمائشی نکاح" کو رواج دیا جائے۔ مگر یہ علاج اصل مرض سے بھی بدتر ہے۔ آزمائشی نکاح کے معنی یہ ہیں کہ مرد اور عورت " پرانے فیشن کی شادی" کئے بغیر کچھ عرصہ تک باہم مل کر رہیں۔ اگر اس یکجائی میں دل سے دل مل جائے تو شادی کر لیں ورنہ دونوں الگ ہو کر کہیں اور قسمت آزمائی کریں۔ دوران آزمائش میں دونوں کو اولاد پیدا کرنے سے پر ہیز کرنا لازمی ہے، کیونکہ بچے کی پیدائش کے بعد ان کو با ضابطه نکاح کرنا گا۔ پڑے یہ وہی چیز ہے جس کا نام روس میں آزاد محبت (Free Love) ہے۔
قومی خودکشی نفس پرستی ازدواجی ذمہ داریوں سے نفرت، خاندانی زندگی سے بیزاری اور ازدواجی تعلقات کی ناپائیداری نے عورت کے اس فطری جذبہ مادری کو قریب قریب فنا کر دیا ہے جو نسوانی جذبات میں سب سے زیادہ اشرف و اعلیٰ روحانی جذبہ ہے، اور جس کے بقا پر نہ صرف تمدن و تہذیب بلکہ انسانیت کے بقا کا انحصار ہے۔ منع حمل، اسقاط حمل اور قتل اطفال اسی جذبہ کی موت سے پیدا ہوئے ہیں۔ منع حمل کی معلومات ہر قسم کی قانونی پابندیوں کے باوجود ممالک متحدہ امریکہ میں ہر جوان لڑکی اور لڑکے کو حاصل ہیں۔ مانع حمل دوائیں اور آلات بھی آزادی کے ساتھ دکانوں پر فروخت ہوتے. ہیں۔ - عام آزاد عورتیں تو در کنار مدرسوں اور کالجوں کی لڑکیاں بھی اس سامان کو ہمیشہ اپنے پاس رکھتی ہیں،تا کہ اگر ان کا دوست اتفاق اپنا سامان بھول آئے تو ایک پر لطف شام ضائع نہ ہونے پائے۔ حج لنڈ سے لکھتا ہے:
" ہائی اسکول کی کم عمر والی ۴۹۵ لڑکیاں جنہوں نے خود مجھ سے اقرار کیا کہ ان کو لڑکوں کے صنفی تعلقات کا تجربہ ہو چکا ہے۔ ان میں سے صرف ۲۵ ایسی تھیں جن کو حمل ٹھر گیا تھا۔ باقیوں میں سے بعض تو اتفاقا" بچ گئی تھیں لیکن اکثر کو منع حمل کی موثر تدابیر کا کافی علم تھا۔ یہ واقفیت ان میں اتنی عام ہو چکی ہے کہ لوگوں کو اس کا صحیح اندازہ نہیں ہے"۔
کنواری لڑکیاں ان تدابیر کو اس لئے استعمال کرتی ہیں کہ ان کی آزادی میں فرق نہ آئے۔ شادی شدہ عورتیں اس لئے ان سے استفادہ کرتی ہیں کہ بچہ کی پیدائش سے نہ صرف ان پر تربیت اور تعلیم کا بار پڑ جاتا ہے، بلکہ شوہر کو طلاق دینے کی آزادی میں بھی رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور تمام عورتیں اس لئے ماں بننے سے نفرت کرنے لگی ہیں کہ زندگی کا پورا پورا لطف اٹھانے کے لئے ان کو اس جنجال سے بچنے کی ضرورت ہے۔ نیز اس لئے بھی کہ ان کے نزدیک بچے جننے سے ان کے حسن میں فرق آ جاتا ہے۔ا۔
بهر حال اسباب خواہ کچھ بھی ہوں، ۹۵ فی صد تعلقات مرد و زن ایسے ہیں جن میں اس تعلق کے فطری نتیجہ کو منع حمل کی تدبیروں سے روک دیا جاتا ہے۔ باقی ماندہ پانچ فیصد حوادث جن میں اتفاقا" حمل قرار پا جاتا ہے، ان کے لیے اسقاط اور قتل اطفال کی تدبیریں موجود ہیں۔ لنڈسے کا بیان ہے کہ امریکہ میں ہر سال کم از کم ۱۵ لاکھ حمل ساقط کیے جاتے ہیں اور ہزا رہا بچے پیدا ہوتے ہی قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ (صفحہ ۲۲۰)
| کتاب | پرده |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |