داعئی حق کی خصوصیات یہ انٹرویوعالمی تحریکات اسلامی کےفکری قائد اوربانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالا علی مودودی سے مسلم ٹوڈنٹس ایسوسی ایشن امریکہ و کینیڈا (M.S.A) کےنمائندہ جناب انیس احمد نے8اپریل1978 ء کولیا- یہ انٹرویودراصل ایم- ایس- اےکےسالانہ اجتماع کےشرکاء کےلیےپیغام کے طورپرفلم بندریکارڈکیا گیا ، جو کہ ایک ہی سوال اوراس کےجواب پر مشتمل ہے-
نمائندہ – ایم- ایس- اے _______________ مولانا! سب سےپہلےمیں جنوبی امریکہ اورکینیڈا کےمسلمانوں اورمسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سےآپ کا تہ دل سےشکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ نےہماری دعوت کوقبول فرمایا اورناسازی طبع کےباوجود ہمارےسالانہ اجتماع 1979ء کےلیےخصوصی انٹرویودنیا پسند فرمایا – یہ اللہ تعالی کی نہایت مہربانی اوراس کا فضل ہےکہ جنوبی امریکہ میں تحریک اسلامی کی فکرآپ کی اوراخوان المسلمون کےرہنماؤں کی تحریروں کی بدولت تیزی سےپھیل رہی ہےاوراسلامی انقلاب کا تصورذہنوں میں جڑپکڑرہا ہے- آج امریکہ میں بےشمارانسان آپ کی ایک جھلک دیکھنےاورآپ کی طرف سےرہنمائی کےچند کلمات سننےکےمنتظرہیں- انہی کی خواہش پرہم آپ کی خدمت میں حاضرہوئےہیں-
اس ارشاد کی پوری اہمیت سمجھنےکےلیےیہ چیزنگاہ میں رکھنی ضروری ہےکہ یہ بات مکہ معظمہ کےحالات میں کہی گئی- یہ وہ دورتھا جب رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم اورآپ کےپیروؤں پرشدید مظالم ڈھائےجارہےتھے- ایسےعالم میں یہ کہنا اوراس بات کا اعلان کرنا کوئی آسان کام نہ تھا کہ میں مسلمان ہوں- ایسی بات کہنا گویا اپنےاوپردرندوں کوحملہ آورہونےکی دعوت دینا تھا- ان حالات میں پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ بہترین قول اس شخص کاہےجو اللہ کی طرف بلائے- دوسرےالفاظ میں ایک داعی حق کی خصوصیت یہ ہےکہ اس کی دعوت اللہ کی طرف ہو کوئی دنیاوی غرض اس کےسامنےنہ ہو- نہ وطنی ، نہ قومی، نہ خاندانی، اورنہ مادی، کوئی دوسرامقصد اس کےپیش نظرنہ ہونا چاہیے- کوئی شخص خالص اللہ کی طرف دعوت دےرہاہوتوقرآن مجید کی تعلیم کےمطابق ایسےداعی کی اولین خصوصیت یہ معلوم ہوئی کہ اسےاللہ کی توحید کی طرف دعوت دینی چاہیئے- اس بات کی دعوت دینی چاہیئےکہ خدا کےسواکسی کی بندگی ، کسی کی عبادت اورکسی کی پرستش نہ کی جائے- خدا کےسوا کسی کا خوف نہ ہو، خدا کےسواکسی سےکوئی طمع نہ ہو- صرف خدا ہی کےاحکام اوراس کےفرامین کی اطاعت اس کےپیش نظرہو- اسی کےقانون کی پیروی مطلوب ہو- آدمی دنیا میں جوکام بھی کرےیہ سمجھتےہوئےکرےکہ میں کس کا بندہ ہوں اورکس کےسامنےجاکرمجھےجوابدہی کرنی ہے- انسان کی تمام کوششوں اورساری جدوجہد کامرکزومحوراللہ اوراس کےرسول صلےاللہ علیہ وسلم کےبتائےہوئےاصولوں کے مطابق اپنی اوراجتماعی زندگی کی تعمیراوراس کےذریعےرضائےالہی کا حصول ہونا چاہیئے-
یہ تعلیم ہمیں قرآن پاک کےساتھ سنت رسول صلےاللہ علیہ وسلم میں بھی قدم قدم پرملتی ہے-رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی اپنی حیات طیبہ شہادت دیتی ہےکہ جب وہ خدا کی طرف سےدعوت حق دینےکے لیے کھڑےہوئےتو وہ معاشرہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال سےموجود تھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےعظیم الشان کردارکاشاہد تھا- اس معاشرےمیں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ تھا جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی کا قائل نہ ہو، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےظاہروباطن کی پاکیزگی کامعترف نہ ہو- جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےجس قدرقریب تھا وہ اتنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ معتقد تھا- جن افرادسےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کاکوئی پہلوچھپ نہیں سکتا تھا انہوں نےسب سےپہلےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرارکیا-
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا:- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پندرہ سال سےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں تھیں اوروہ کوئی کمسن عورت نہیں تھیں بلکہ عمرمیں ان سےبڑی تھیں- جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےنبوت کا دعوی کیا اس وقت ان کی عمرپچپن سال تھی- ایک ایسی پختہ ، سن رسیدہ اوردانشمند خاتون سےجس نےپندرہ سال سےاپنےشوہرکی زندگی کوقریب سےدیکھا ہو، شوہرکاکوئی عیب اس سےچھپ نہیں سکتا- دنیاوی اغراض کےلیےایک بیوی اپنےشوہرکےناجائزکاموں میں بھی شریک ہوسکتی ہے لیکن اس پرایمان کسی صورت نہیں لا سکتی- عقیدۂ بھی وہ یہ ماننےکےلیےکبھی تیارنہیں ہوسکتی کہ یہ شخص خدا کا رسول ہوسکتا ہےیا اسےہونا چاہیئے- لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حد تک معتقد تھیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےنبوت کی بشارت کاماجرابیان فرمایا توانہوں نےایک لمحےکاتامل کیئےبغیر اسے تسلیم کرلیا-
حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ:- قریب سےدیکھنےوالےدوسرےشخص زید بن حارث رضی اللہ عنہ تھےجوغلام کی حیثیت سےرسول خدا صلےاللہ علیہ وسلم کےگھرانےمیں آئےتھے- جب آئےتھےتوپندرہ برس عمرتھی اورجب رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی نبوت کا آغازہوا توحضرت زید رضی اللہ عنہ کی عمرتیس سال تھی- اس کا مطلب یہ ہےکہ پورےپندرہ سال انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےگھرمیں رہ کرہرطرح سےاورہرپہلوسےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کودیکھنےاورمشاہدہ کرنےکا موقع ملا- اوران کی شہادت ایک خاص صورت واقعہ میں سامنےآتی ہے- واقعہ یہ تھا کہ وہ بچپن میں والدین سےبچھڑگئےتھےاورخدا کی قدرت نےانہیں حضورتک پہنچا دیا- جب ان کےوالدین اوران کےچچا کومعلوم ہوا کہ ہمارا بیٹا فلاں جگہ غلامی کی زندگی بسرکررہاہے تو وہ مکہ معظمہ آئےیہ رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم سےکہا کہ: "آپ کا بڑا احسان ہوگا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارےاس بیٹےکوآزاد فرمادیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ:- " میں لڑکے(زید) کوبلا لیتاہوں، وہ آپ کےساتھ جانا چاہےتو میں آپ کےساتھ روانہ کردوں گا، اور اگر وہ میرےساتھ رہنا چاہےتومیں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ جو میرےساتھ رہنا چاہےتو اسےزبردستی اپنےسے علیحدہ کردوں-"
" میں نےان میں (حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ) ایسی خوبیاں دیکھی ہیں کہ جن کےبعد انہیں چھوڑکرمیں اپنےباپ اورچچا اوررشتہ داروں کےپاس جانا نہیں چاہتا"-
یہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاخلاق کےبارےمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےخادم کی گواہی – ایک خادم احسان مند توہوسکتاہےلیکن اتنا متاثراورگرویدہ نہیں ہوسکتاکہ اپنےمخدوم پرایمان لےآئے- ایمان لانےکےلیےضروری ہےکہ اس میں کردارکی ایسی بلندی اوراخلاق کی ایسی پاکیزگی دیکھی ہوکہ جس کےبعد اسےیہ ماننےمیں ذرا تامل نہ ہوکہ میرا مخدوم نبی ہے- یہ بات بھی پیش نظررکیھئےکہ حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارث کسی معمولی قابلیت کےآدمی نہیں تھے- مدینہ طیبہ میں جب رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں بکثرت فوجی مہمات میں لشکرمجاہدین کا سالاربنایاگیا- یہ گواہی ایسی قابلیت کےانسان کی گواہی تھی- ______________
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ:- پھرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالےعنہ تھے- جہنیں نبوت سےپہلےبیس سال تک ایک گہرےدوست کی حیثیت سےرسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کودیکھنےکاموقع ملا- ان کی نشست وبرخاست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ تھی- اورمکہ معظمہ میں سب سےزیادہ جن دوآدمیوں کی دوستی تھی ان میں سےایک حضرت محمد صلےاللہ علیہ وسلم تھےاوردوسرےحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – ایک دوست اپنے دوست کوپسند کرسکتا ہےاس سےاپنےدل کی بات کہہ سکتاہے- لیکن کبھی اتنا معتقدتو نہیں ہوسکتا کہ اس کو نبی مان لے- حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کابلا تامل آپ کو نبی مان لینا ظاہرکرتاہےکہ بیس سال کی ایک طویل مدت کےدوران میں انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کواخلاق کی پاکیزگی اورکرداربلندی کا مجسم نمونہ پایا- جب ہی توانہوں نےیہ تسلیم کیا- اوراس بات کا اعلان کیا کہ اتنےبلندکردارکا آدمی یقینا نبی ہو سکتا ہےاوراس کو نبی ہونا چاہیے-
حضرت علی کرم اللہ وجہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا نام میں نےپہلےاس لیےنہیں لیا کہ اس وقت وہ دس سال کےتھے- انہوں نےرسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کےگھرہی میں پرورش پائی تھی- لیکن دس سال کا بچہ بھی جس کےگھرمیں ہوجس کےپاس رہتاہو اس کےہرپہلوسےواقف ہوتاہے- خصوصا اتنا ذہین انسان جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی خصوصیات کی بنا پرآگےچل کرثابت ہوئےجس کا مطلب یہ ہےکہ وہ بچپن میں بھی یقینا اتنی ذہانت رکھتےتھےکہ جس کی بنا پرہم کہہ سکتےہیں- کہ ایک ذہین بچےکا اس بات کومان لینا اس کےبغیرممکن نہیں ہوسکتاتھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی پاکیزہ اوربلند اخلاق وکردارسےواقف تھا-
اس لیےعمل صالحا کےسلسلہ میں ان اعلی مثالوں سےمعلوم ہوا کہ انسان جس چیزکو پیش کررہاہو- اس کی زندگی ٹھیک ٹھیک اس دعوت کےمطابق بسرہورہی ہو- وہ اتنےپاکیزہ اخلاق اوربلند کردارکا مالک ہوکہ جب وہ اللہ کےراستےکی طرف بلانےکےلیےاٹھےتواس کی بات میں وزن ہواوراس کے قول میں اثر، اس کا عمل شہادت دےاورلوگ تسلیم کریں کہ یہ واقعی اپنےقول میں سچا ہے- قطع نظراس سےکہ لوگ اس چیزکومانیں یا نہ مانیں__________ لیکن یہ توان کوماننا پڑےگا کہ یہ آدمی اپنےقول میں سچا ہے، جوکچھ کہہ رہاہےوہ اس بنا پرکہہ رہاہےکہ وہ اس نظریےاس اصول اوراس دعوت کا قائل ہے- چنانچہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کےبدترین دشمن ابوجہل نےایک مرتبہ خود کہا" کہ اے محمد (صلےاللہ علیہ وسلم) ہم تم کو جھوٹا نہیں کہتےبلکہ اس پیغام کوجوتم لائےہوجھوٹا کہتےہیں"- یعنی آپ کا بدترین دشمن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا قائل تھا- پس ایک داعی کی دوسری بڑی خصوصیت اس کےقول و عمل کی یہ صداقت ہے، یہ بلندی کردارہےاوریہ پاکیزگی اخلاق ہے-
تیسری خصوصیت یہ بیان فرمائی گئی : وقال اننی من المسلمین یعنی وہ کہتاہےکہ میں مسلمانوں میں سےہوں- اسےسمجھنےکےلیےمکہ معظمہ کا وہ ماحول پیش نظررہتاچاہیئےجسےمیں شروع میں بیان کرچکا ہوں-_________ یہ وہ دورتھا کہ جب کسی فرد کا اٹھ کریہ اعلان کرنا کہ میں مسلمان ہوں، کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ درندوں کواپنےاوپرحملہ آورہونےکی دعوت دینا تھا__ تو داعی حق کی یہ خصوصیت سامنےآتی ہےکہ وہ صرف اللہ کی طرف دعوت دینےوالاہو- نہ صرف پاکیزہ عمل رکھنےوالا ہو- بلکہ وہ بدترین دشمنوں اورانتہائی ناسازگارحالات میں بھی اپنےمسلمان ہونےسےانکارنہ کرے- اپنےمسلمان ہونےکوچھپائےنہیں-
اپنےمسلمان ہونےکا اعلان اوراقرارکرنےمیں وہ نہ شرمائے، نہ جھجکےاورنہ ڈرے- بلکہ کھلم کھلم یہ کہےکہ " ہاں میں مسلمان ہوں جوکچھ جس کا جی چاہےکرلے"- دوسرےالفاظ میں داعی حق کی تیسری بڑی اوراہم خصوصیت یہ ہونی چاہیےکہ وہ نہایت جری آدمی ہو، نہایت بہادرآدمی ہو______ کسی بزدل آدمی کاکام نہیں ہےکہ وہ خدا کےراستےکی طرف دعوت دے- جوذرا سی چوٹ لگنےپربلبلےکی طرح بیٹھ جانےوالا ہو- ایسا انسان کبھی خدا کےراستےکی طرف نہیں بلا سکتا- خدا کےراستےکی طرف دعوت جوشخص دےسکتاہےوہ، ہےجوسخت سےسخت دشمنی کےماحول میں، مخالفت کےماحول میں، خطرات کےماحول میں اسلام کا علم لےکر اٹھ کھڑاہواوراس بات کی پروانہ کرےکہ اس کےنتائج کیا ہوں گے- رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات ، اس شجاعت کا ایک مکمل اورعملی نمونہ ہے- مکہ معظمہ میں کھلم کھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےدعوت اسلام پیش کی- شہادت حق کافریضہ انجام دیا اوران لوگوں کےدرمیان یہ کام جاری رکھا- جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےخون کےپیاسےہوگئےتھے، اورجہنوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کواورگپ صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ رضی اللہ عنہ کوظلم وتشدد کا نشانہ بنانےمیں کوئی کسراٹھانہ رکھی تھی- آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک اس ماحول کی تمام ترتاریکیوں، سختیوں اورمصیبتوں کےدرمیان اپنی دعوت پیش کرتےچلےگئے- پھرمدینہ طیبہ پہنچنےکےبعد جوحالات پیش آئےجن خطرناک اوربڑی بڑی لڑائیوں سےسابقہ پیش آیا ، ان میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم کبھی پیچھےنہیں ہٹا- غزوہ حنین کےموقع پرجب کہ مسلمانوں کوتقریبا شکست ہوچکی تھی- رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم نہ صرف اپنےمقام پرموجودرہےبلکہ میدان جنگ میں برابرآگےدشمن کی صفوں کی طرف بڑھتےچلےگئےاوراس بات کوچھپایا بھی نہیں کہ " میں کون ہوں" – آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہےتھے- انا النبی لا کذب ______________ انا ابن عبدالمطلب
یہ اعلان آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ میں ایسےحالات کےدوران میں کررہےتھے- جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کےنرغےمیں تھےاورساتھ صرف دوتین ساتھی رہ گئےتھے- اس وقت بھی یہ کہا کہ "ہاں ! میں نبی ہوں" اس سےظاہرہواکہ ایک داعی حق کواتنا شجاع اوراتنا بہادرہونا چاہیےجواللہ کی راہ کی دعوت دینےکےلیےکھڑاہو- اگرداعی میں ہمت ، شجاعت ، استقامت، اوربہادری کاجوہرنہ ہوتووہ اس راہ میں کھڑاہونہیں سکتا- اوراگرکھڑاہوبھی جائےتواپنی بزدلی کی وجہ سےالٹا اس مشن کونقصان پہنچانےکا سبب بن جاتاہے-
یہ وہ چندباتیں تھیں جومیں نےآپ کےسامنےبیان کی ہیں- اگراس پرغورکیا جائےتویہ بجائےخود دعوت الی اللہ کا مکمل پروگرام ہےجس کےمطابق ہرجگہ، ہرماحول میں کام کیا جاسکتاہے- واخردعواناان الحمدللہ رب العالمین _________________________
| کتاب | خطبات یورپ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |