برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل اگست 1940 میں یو کے اسلامک مشن کی سالانہ کانفرنس لندن میں یہ تقریر ریکارڈ کر کے بھیجی گئی تھی۔
blank page no 10
لیےجدید ذہن کی بنیادی ضرورت ہےیوں بکھراپڑاہےاورفائلوں میں دفن ہوگیا تھا کہ اس کی حقیقی ضرورت کےباوجوداس کی افادیت محدود ہوگئی تھی- میں نےخدمت اسلام کےپیش نظرہرجگہ سےیہ موادتلاش کرکےان تقاریر-مجلس گفتگوؤں اورسوالات وجوابات کوخطبات یورپ کےاندرجمع کردیاہےتاکہ اس کا افادہ وسیع ترہو اوراس کی افادیت کاسلسلہ قائم اورجاری ہوجائےمجھےامید ہےکہ قارئین ان تقاریرسےاستفادہ کرتےہوئےمیرے حق میں دعائےخیرکریں گے- اگران تقاریرکےیوں جمع ہوجانےسےدعوت اسلامی کاایک کتابی چشمہ اورجاری ہوجائےجس سےکچھ لوگ رہنمائی پالیں تومیری سخت ٹھکانےلگ جائےگی- اس موضوع کامنتشر مواداگرکسی دوست کواوربھی کہیں سےمل جائےجو اس میں شامل نہ ہواہو، مجھےاس سےضرورآگاہ کیا جائےتاکہ اس کتاب کادوسرا ایڈیشن زیادہ جامع اورمفید بنایا جاسکے اخترحجازی 39 – رفیق پارک – حماد کالونی شاد باغ- لاہور
BLANK PAGE 10
الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی میرےدورافتادہ بھائیو! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ اپ کےمشن کی اس کانفرنس کےموقع پرمیں سب سےپہلےآپ کو ہدیہ تبریک پیش کرتاہوں اوراللہ تعالےسےدعاکرتاہوں کہ وہ آپ کےارادوں میں خلوص، آپ کی کوششوں میں برکت ، اورآپ کےکاموں میں رشدوہدایت عطا فرمائے- آپ اگرچہ جسمانی طورپربہت دورہیں- مگردل سےبہت قریب ہیں، اورمومن جہاں بھی ہو، مومن کےدل سےقریب ہی رہتاہے، کیونکہ جورشتہ اس کودوسرےمومن سےجوڑتاہےوہ دل ہی کا رشتہ ہے
میرےعزیزبھائیو، آپ جس سرزمین میں مقیم ہیں اس کےمتعلق آپ کا مشاہدہ میری نسبت زیادہ قریب کا ہے، اس لیےیہ بات بظاہرکچھ بہ محل سی ہوگی کہ میں یہاں سےبیٹھ کراس کےبارےمیں آپ کوکچھ بتاؤں- مگرجو باتیں آج مجھےآپ سےکہنی ہیں ان کےلیےیہ ضروری ہےکہ آپ سب سےپہلےایک مسلم گروہ ہونے کی حیثیت سےاپنےلیےاس سرزمین کی پوزیشن ، اوراس کےلیےاپنی پوزیشن کواپنےذہن میں اچھی طرح تازہ کرلیں
ایک زمانہ تک یہاں پوری شدت کےساتھ ایک مسخ شدہ مذہب آسمانی کادور دورہ رہاہے-جس میں توحید کےساتھ شرک کی آمیزش ہے- رسالت ووحی کوماننےکےساتھ غلونی الدین کی وجہ سےخدا کےرسول کوخدا کا بیٹا بنالیا گیا ہے، عقیدہ آخرت کےساتھ کفارہ کا عقیدہ شامل ہوگیا ہے، اورخدا کی شریعت کو لعنت سمجھ کرچھوڑدیا گیا ہےجس کی جگہ پہلےمذہبی پیشیواؤں کی خود ساختہ شریعت نےلی اوربعد میں دین سے بےنیازقانون سازی نےلےلی- اس مذہب کےتسلط واقتدارکی وہ شدت تواب باقی نہیں رہی ہے، مگراس کےتمام بنیادی افکاروعقائداب بھی پوری فضاپرچھائےہوئےہیں
خدا کےحقیقی دین سےجودوری اس مذہب کی بدولت یہاں پیدا ہوچکی تھی، اس کوصلیبی لڑائیوں نےہزاردرجہ زیادہ بڑھا دیا، اوریہ دوری اسلام اوراہل اسلام کےخلاف نفرت اورتعصب میں تبدیل ہوگئی
اس کےبعد یہاں لادینی فلسفوں کاطوفان اٹھاجس نےایک مادہ پرستانہ تہذیب کوجنم دیا- اورچونکہ یہی وہ دورتھا جس میں ان لوگوں کوبےمثال مادی ترقی نصیب ہوئی، دنیا بھرسےلوٹی اورکمائی ہوئی دولت کی ریل پیل ان کےہاں ہونےلگی ، اورروئےزمین کےہرگوشےمیں ان کےاقتدارکےپھریرےاڑتےچلےگئے، اس لیےایک طرف اپنی گمراہی پران کاغروربڑھتاچلاگیا ، اوردوسری طرف تہذیب ، تمدن ، معاشرت ، اخلاق ، غرض ان کےپورےنظام زندگی میں وہ اوصاف جڑپکرتےچلےگئےجواپنےاصول اورمظاہر، دونوں میں بہت بڑی حد تک اسلام کی عین ضد ہیں
اپنےعروج کےاس دورمیں بہت سےمسلمان ملک ان کی زد میں آئےاورجگہ جگہ مسلمان قومیں سالہا سال تک ان سےمغلوب رہیں- اس صورت حال کا ایک اثران پرپڑا، اوردوسرا اثرہم پر- ان پراس کا اثریہ پڑا کہ اسلام اورمسلمان ، دونوں ان کی نگاہ سے گرگئے، صلیبی لڑائیوں کےزمانےکی نفرت پرحقارت کا اضافہ اورہوگیا، اورپرانا تعصب اپنی جگہ جوں کا توں قائم رہا- ہم پراس کااثریہ پڑا کہ ہم ان سےصرف مغلوب ہی نہیں ہوئےمرعوب بھی ہوگئے، ان کےسیاسی و معاشی اقتدارنےہمارےتمدن اورہماری تہذیب کی جڑیں ہلادیں- ان کےقوانین نےہمارےنظام زندگی کا نقشہ بدل ڈالا-ان کی تعلیم نےہمارےافکارو نظریات اورعقائد تک ہل چل برپا کردی- اوران کےغالب اثرات نے ہمارے اخلاق ہی میں نہیں – ہمارےگھروں میں گھس کرہمارےمعاشرت کی بنیادی خصوصیات تک میں ترامیم کر ڈالی- اس مغلوبیت کےدورمیں جس نےجتنا زیادہ ان کا اثرقبول کیا اسےاتنا ہی زیادہ ہمارےہاں عروج نصیب ہوا- مگرخاص طورپرہمارےجوافراداس سرزمین میں تعلیم حاصل کرنےکیلئےآئےان کی بہت بڑی اکثریت اندرسےباہرتک پوری طرح ان کےرنگ میں رنگ گئی اورواپس جاکریہی، انگریزیت کامکمل بپتسمہ پائےہوئےلوگ زندگی کےہرشعبےمیں ہمارےرہنماوسربراہ کارہنتےرہے
اب جس نئےدورمیں ہم داخل ہوئےہیں اس میں صرف دوحیثیتوں سےتغیرہوا ہے- ایک یہ کہ ہم سیاسی حیثیت سےاس سرزمین کےباشندوں کی غلامی سےآزاد ہوگئےہیں- دوسرےیہ کہ دوسری جنگ عظیم نےان کےاقتدارکی کمرتوڑدی ہےاوران کوخدا کی زمین پروہ غلبہ حاصل نہیں رہاہےجو اس جنگ سےپہلے تک تھا ، لیکن عملا اس لحاظ سےآج تک کوئی فرق واقع نہیں ہواہےکہ ان کےنظریات ، ان کےعلوم ، ان کےتہذیب ، ان کےتمدن ، ان کےاخلاق ، اوران کےطورطریقوں کاہم پرجوغلبہ پہلےتھا وہی اب بھی ہے- ہرمعاملہ میں ہم ان کےشاگردہی نہیں بلکہ اندھےمقلدہیں، اوران کی سیاسی ومعاشی فوقیت گھٹ جانےسےجو جگہ خالی ہوئی تھی- اسےانہی کےبھائی بند، امریکہ والوں نےبھردیاہے
حضرات ؛ یہ ہےوہ ملک اورمعاشرہ جس میں آپ رہتےہیں- آپ کےاوراس کے درمیان جو نسبتیں اب تک رہی ہیں ان کا یہ مختصرتجزیہ میں نےآپ کےسامنےاس لیےپیش کیا ہےکہ آپ یہاں اپنی پوزیشن کو ٹھیک ٹھیک ذہن میں رکھ کران مسائل کو سمجھنےکی کوشش کریں جو یہاں کاقیام اختیارکر کےآپ کےلیےپیدا ہوتےہیں، اوراس فرض کوپہچانیں جویہاں رہتےہوئےایک مسلم گروہ کی حیثیت سےآپ کے اوپرعائد ہوتا ہے- پہلےزیادہ ترمسلمان یہاں عارضی طورپرتعلیم یاکاروبارکےلیےآتےتھے- مگراب یہاں آپ کی ایک مستقل آبادی بس رہی ہے، اوراندازہ یہ ہےکہ باہرسےآنےوالےمتوطن مسلمانوں کی اچھی خاصی جماعت آئندہ برطانوی معاشرےکا ایک جزبن کررہےگی- اس لیےجن مسائل کی طرف میں آپ کوتوجہ دلا رہاہوں وہ عارضی ووقتی نوعیت کےنہیں ہیں بلکہ دوامی نوعیت کےہیں
سب سےپہلےاورسب سےاہم مسئلہ یہ ہےکہ آپ کویہاں اپنےدین، اپنی تہذیب، اپنےاخلاق، اپنےاصول معاشرت، اورفی الجملہ اپنی انفرادیت کومحفوظ رکھنےکےلیےسخت کوشش کرنی ہوگی، کیونکہ آپ ایک ضعیف معاشرےسےنکل کرایک بہت طاقتورمعاشرےمیں آگےہیں، جس کےزبردست اثرات سےخود اپنےملک میں بھی بچ کررہنا آپ کےلیےمشکل ثابت ہوچکاہے- یہاں اگرآپ نےاس معاملہ میں ذراسی بھی غفلت برتی توآپ اس معاشرےمیں جذب ہوکراپنی ہستی گم کردیں گےاورمحض نسل ورنگ کافرق آپ کی انفرادیت کوزیادہ دیرتکنہ بچا سکےگا- اس لیےآپ کواپنےتمام وسائل وذرائع جمع کرکےایسی تدبیریں اختیار کرنی چاہییں جن سےاس ملک کےمتوطن مسلمانوں میں وحدت پیدا ہو، ان کےدرمیان باہمی روابط زیادہ سےزیادہ بڑھیں، ہرطرح کی چھوٹی چھوٹی تفریقیں ختم کرکےایک ملت ہونےکااحساس ان میں بیدارکیا جائے، غلط راہ پرجانےوالوں کوسنبھالاجائے- اخلاق اورمعاشرت کےبگاڑکوروکاجائے- اوریہاں کےمسلمانوں میں دین کاشعوراوراس کاعلم پھیلانےکےلیےنہ صرف تعلیمی و تبلیغی اجتماعات اورنشرواشاعت کا انتظام کیا جائے، بلکہ ایسےکارکنوں کا ایک منظم گروہ تیارکیا جائےجومسلمان افردتک پہنچ کرانہیں اسلام سےوابستہ رکھنےکی کوشش کریں، اوران کےانفرادی حالات کوسمجھ کران مشکلات کورفع کرنےکی فکرکریں جوانہیں مسلمان کی سی زندگی بسرکرنےمیں پیش آرہی ہیں
دوسرا مسئلہ جواپنی اہمیت میں اس سےکچھ کم نہیں ہے، آپ کی آئندہ نسلوں کاہے، جویہاں اس کفرکےماحول میں پیدا ہورہی ہیں اورتعلیم وتربیت پارہی ہیں- آپ ان علاقوں سےآرہےہیں جہاں آپ کومسلمان معاشرہ میسرتھا- اس کےباوجود آپ کےلیےکفرکےاس غالب ماحول میں اپنےملی تشخص کوبرقراررکھنا اوراپنی زندگی کوغیراسلامی اثرات سےمحفوظ رکھنا دشوارہورہاہے- پھران بچوں کاکیا انجام ہوگا جو اسی ماحول میں آنکھیں کھولیں گے، اسی تہذیب کوچاروں طرف محیط دیکھیں گے، اوریہیں تعلیم وتربیت پائیں گے؟ آپ نےاگران کےمستقبل کی فکرنہ کی- اوران نسلوں کوسنبھالنےکےلیےاپنی متحدہ کوششوں سےکوئی مناسب انتظام نہ کیا، توآپ خودچاہےاپنےآپ کواس بحرشورمیں غرق ہونےسےبچالےجائیں، اپنی اولاد کونہ بچاسکیں گے- یہ مسئلہ برطانیہ میں رہنےوالےتمام مسلمانوں کی خاص توجہ کامحتاج ہے- کسی تاخیراورتساہل کےبغیراس پرپوری سنجیدگی کےساتھ غورکرنا چاہیے، اورجوبھی بااثرمسلمان اس ملک کےمختلف حصوں میں رہتےہیں، انہیں مل جل کرایسےانتظامات کرنےچاہییں جووہاں کےمسلمان بچوں کودینی تعلیم وتربیت دینے کےلیےمناسب اورممکن ہوں
یہ دوامورتواس حیثیت سےاہم ہیں کہ ان پرآپ کےبقاکاانحصارہے، لیکن مسلمان کی ہستی کابقا صرف اس کی ذات کےلیےمطلوب نہیں ہوتا بلکہ اس سےزیادہ بڑے ایک اورمقصد کےلیےمطلوب ہوتاہے- اللہ تعالی نےاپنےفضل سےآپ کویہ موقع دیا ہےکہ پہلےجولوگ اپنی گمراہی کاجھنڈا لےکرکبھی فاتحانہ شان سےآپ کےہاں پہنچےتھے، اب خود ان کےہاں آپ اپنی ہدایت کاجھنڈا لیےہوئےفاتحانہ شان سےنہ سہی مبلغانہ شان ہی سےپہنچ جائیں- ابتداسےیہ سرزمین نوراسلام سےمحروم ہے- آپ کوتقدیرالہی نےاسلام کانمائندہ بناکریہاں لا بٹھایاہے- اب کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ یہاں اسلام کی غلط نمائندگی کرکےاپنےساتھ اپنےدین کوبھی رسواکریں اورخدا کےحضوراپنی غلط کاریوں کےساتھ ان کی بھی مزید گمراہی کاوبال اپنےسرلےکرجائیں- آپ کوخواہ اس کا شعورہویا نہ ہو، اورآپ خواہ اس بات کاکوئی پاس کریں یا نہ کریں، جب تک آپ مسلمان ہیں وہ سب لوگ آپ کواسلام کانمائندہ ہی سمجھیں گےجن کےساتھ آپ کورہنے سہنے، ملنےجلنےاورکام کرنےکاموقع ملےگا- وہ آپ کی ایک ایک چیزسےاندازہ لگائیں گےکہ جس دین وملت کی آپ نمائندگی کررہےہیں وہ کیاہے، آپ کی ہرکمزوری ان کی نگاہ میں اس دین وملت کی کمزوری قرارپائے گی اورہرخوبی آخرکاراس کی خوبی ٹھہرےگی- اس لیےہرمسلمان کوجویہاں رہتا ہےیہ خیال اپنےدماغ سےنکال دینا چاہیےکہ یہاں وہ محض اپنی پرائیویٹ حیثیت میں مقیم ہےاوراس کی بھلائی اوربرائی اس کی ذاتی بھلائی اوربرائی سےزیادہ کچھ نہیں ہے- نہیں، وہ فی الواقع یہاں اسلام اورملت مسلمہ کاسفیرہے- یہ سفارت کی ذمہ داری مسلمان ہونےکی حیثیت سےآپ سےآپ اس پرعائد ہوتی ہے، اس سےوہ سبکدوش ہونا چاہےبھی تونہیں ہوسکتا
اولین چیزیہ ہےکہ آپ کےہرفرد میں اپنےسفیراسلام ہونےکاشعورہو- یہ شعورجس لمحہ کسی شخص میں پیدا ہوگا، اسی لمحہ سےوہ اپنی زندگی ، اپنےاخلاق، اپنےمعاملات اور اپنےبرتاؤ کواس نگاہ سےدیکھنا شروع کردےگا کہ یہ محض میرا ذاتی کردارنہیں ہےبلکہ میرےدین اورمیری ملت کی نمائندگی بھی ہے، اوریہی چیزاسےیہ سوچنےپرمجبورکردےگی کہ کیا میں اس کی ٹھیک نمائندگی کررہاہوں؟ کیا مجھےدیکھ کرایک آدمی واقعی یہ محسوس کرےگا کہ اسلام کوئی قابل غورچیزہے، مسلمان اپنی کوئی امتیازی شان رکھتاہے، اوراس چیزکاپتہ لگانےکی ضرورت ہےجس نےاس میں یہ امتیازی شان پیدا کی ہے؟
یہ شعوراپنےاندربیدارکرنےکےبعدآپ کویہ سمجھنا ہوگا کہ ایک غیرمسلم معاشرےمیں بکھرےہوئے وہ چندافرادجویہاں اسلام کی نمائندگی کررہےہیں، کس طرح اپنی امتیازی شان نمایاں کرسکتےہیں جس سےاس معاشرےکےلوگوں کوان کااوراپنافرق محسوس ہو، اوروہ فرق بھی ایسا ہوجوان میں قدرکااحساس پیدا کرے- یہ بات یادرکھیئےکہ جتنا زیادہ آپ اپنےآپ کواس معاشرےکاہم رنگ بنائیں گےاتنی ہی زیادہ آپ کی امتیازی حیثیت مٹےگی اوراسی قدرزیادہ آپ ناقابل توجہ ہوجائیں گے- کچھ زیادہ مدت ابھی نہیں گزری ہے، 20 سال پہلےہی کی بات ہےکہ یہی انگریزآپ کےاپنےملک میں رہتےتھےاورڈھائی سوبرس انہوں نےوہاں گزارے- اس پورےزمانےمیں کس چیزنےان کا امتیازقائم کئےرکھا؟ انہوں نےکبھی آپ کا لباس نہیں پہنا – کبھی آپ کی زبان نہیں بولی- کبھی آپ کےکھانےنہیں کھائے- کبھی آپ کےطرززندگی کواختیارنہیں کیا – کبھی اپنےطور طریقےآپ کی خاطرنہیں چھوڑے- جن طریقوں کوبھی یہ اپنےاصول اورمعیاروں کےمطابق ٹھیک سمجھتے تھےانہی پرعمل کرتےتھے- آپ مدتوں ان کی ایک ایک چیزپرناک بھوں چڑھاتےرہے- مگران کی اسی استقامت اورقومی کیرکڑکی مضبوطی نےآخرکاران کوبدلنےکےبجائےآپ کوبدل ڈالا- اس کےبرعکس اگریہ آپ کےرنگ میں اپنےآپ کورنگ لیتےتوہندوستان کےسمندرمیں مٹھی بھرانگریزنمک کی طرح گھل کررہ جاتے- یہ ایک فطری حقیقت ہےکہ طاقت وردوسروں کواپنے سانچےمیں ڈھالتاہے، اورکمزورخوددوسروں کےسانچےمیں ڈھل جاتاہے، جولوگ اپنےآپ سے خودشرماتےہوں اوردوسروں کےمعاشرےمیں جاتےہی اپنا لباس ، اپنی زبان، اپنی معاشرت اوراپنی زندگی کےاصول اورطورطریقےچھوڑچھا ڑکراپنےآپ کوان کاہم رنگ وہم مشرب بنا لیتےہوں، ان کودیکھتےہی اس معاشرےکےافرادلازما یہ اثرلیتےہیں کہ یہ کمزورمزاج کےلوگ ہیں، اپنےآپ کوخود کمتراورہمیں برتر سمجھتےہیں-ایسےلوگوں کاکوئی اثروہ کیسےقبول کرسکتےہیں؟ اورکیوں ان کےدل میں کبھی یہ خیال پیدا ہوکہ ان بےچاروں کےپاس بھی کوئی چیزقدرکےلائق ہوسکتی ہے؟
پس اگرآپ یہاں اسلام کےسفیرہونےکاحق ادا کرنا چاہیں توسب سےپہلےاپنےآپ کوایک مضبوط کریکڑرکھنےوالا گروہ بنائیے- اپنےلباس، اپنی زبان، اپنےطرززندگی، اوراپنےاخلاق ومعاشرت میں اپنی امتیازی شان قائم کیجئے- جوفرائض مسلمان پراس کادین عائد کرتاہےان کوعلانیہ ادا کیجئےاورہراس مزاحمت کامضبوطی کےساتھ مقابلہ کیجئےجوان کےاداکرنےمیں پیش آئے- جن چیزوں کواسلام حرام قراردیتاہے، سخت تکلیف اٹھاکربھی ان سےپرہیزکیجئےاوران کوحرام کہتےہوئےنہ شرمائیےآپ کی معاشرت کےلیےجوطریقے اسلام نےبتائےہیں ان کوپوری جرات کےساتھ برتیےاورجب یہاں کی معاشرت سےآپ کی معاشرت کےطریقوں کافرق ظاہرہونےپراعتراضات ہوں توگبھراکراپنےآپ کونہ بدلیےبلکہ دھڑنےکےساتھ اپنےطریقوں کی برتری ثابت کیجئے- اپنےاخلاق اورمعاملات میں وہ پاکیزگی ، وہ راستبازی اوروہ دیانت پیداکیجئےجوآپ کے گردو پیش رہنےوالےہرشخص کونمایاں طورپرمحسوس ہواوربالاخریہاں کےلوگوں میں یہ عام رائےپیدا ہوجائےکہ مسلمان ایک خاص ٹائپ کاآدمی ہوتاہےجس سےفلاں اوصاف کی توقع کی جاسکتی ہےاورفلاں اوصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی
یہ ڈھنگ آپ اختیارکریں گےتوآپ کےلیےاسلام کی نمائندگی کرنےکےراستےخود بخود کھلتے چلےجائیں گے، اوراس سےدہرافائدہ ہوگا- یہ فائدہ بھی ہوگا کہ آپ کی اس روش سےیہاں کےعام لوگوں میں ہرطرف کچھ سوالات پیدا ہوں گےجن کا جواب آپ سےمانگا جائےگا، اوریہ فائدہ بھی ہوگا کہ آپ ان سوالات کاجواب دینےکیلئےاپنےآپ تیارکرنےپرخود مجبورہوجائیں گے- مثال کےطورپرنماز روزےکی پابندی پرآپ کاہرحال میں اورہرجگہ اصراران عبادات کی اہمیت و ضرورت کےبارےمیں ایک عام سوال پیدا کردےگا ، اوراس کوسمجھانےکےلیےآپ کوخود اسےسمجھنےاوربیان کرنےکےقابل بننا پڑےگا- حرام وحلال کی تمیز میں آپ کی شدت جگہ جگہ یہ سوال اٹھادےگی کہ یہ تمیزکیسی اورکیوں ہے، اوراس کا جواب دینےکی قابلیت آپ کواپنےاندرپیدا کرنی پڑےگی- یہاں کی مادرپدرآزادی سےآپ بچیں گے، مخلوط معاشرت اوراس کی تمام گندگیوں سےآپ اجتناب کریں گے، اورآپ کی خواتین پردےکےحدود کی پابندی کریں گی توبڑےپیمانہ پریہ سوالات اٹھ کھڑےہوں گےکہ مغربی معاشرت کی" ترقی پسندی" کےمقابلےمیں یہ "رجعت" کیسی ہے- اس وقت آپ کےلیےیہ بتانےکا بہترین موقع ہوگا کہ جس " ترقی پسندی" پریہ لوگ نازکررہےہیں اس میں کیا قباحتیں ہیں اس کےکیا نتائج رونما ہورہےہیں، اورجسےیہ " رجعت " سمجھ رہےہیں، وہ کن وجوہ سےانسانی معاشرےکےلیےایک بہتراورپاکیزہ ترراستہ ہے- آپ شاید یہ خیال کریں گےکہ ان سوالات کا چھڑنا اوران پر بخثیں ہونا بس خواہ مخواہ کی قیل وقال بن کررہ جائےگا اوراس کاکوئی اثریہاں کےمعاشرےپرنہ پڑےگا- میں آپ کویقین دلاتاہوں کہ نتیجہ اس کےبالکل برعکس ہوگا- انسانی معاشرہ کبھی اورکہیں ایسےلوگوں سےخالی نہیں ہوتا جوغلط طریقوں کےعام رواج کوان کےصحیح ہونےکی دلیل نہیں سمجھتےاوران کےنقصانات کوخودکم وبیش محسوس کرتےہیں- ایسےلوگوں کی اس برطانوی معاشرےمیں بھی کمی نہیں ہے- آپ اپنےبہترنظام زندگی کےاتباع میں مضبوطی دکھائیےاوراپنےعمل اوراپنی زبان سےاس کی نمائندگی کیجئے- کچھ زیادہ دن نہ گزریں گےکہ اسی معاشرےمیں جسےآپ اس بگاڑپرمگن پارہےہیں، ہزاروں مرد، عورتیں، جوان، اوربوڑھےایسےنکل آئیں گےجوسنجیدگی کےساتھ آپ کی باتوں پرغورکرنا شروع کردیں گے، اورروزبروزان لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جائےگی جوغورکرنےسےآگےبڑھ کران کوقبول کرنےکےلیے بھی تیار ہوجائیں گے- یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے- آپ ہمت کرکےاس کا تجربہ کیجئے- انشاء اللہ دیریا سویریہ اپنا رنگ دکھا کررہےگی
لیکن دنیا کےاس انتہائی ترقی یافتہ ملک میں اسلام کی نمائندگی کرنےکےلیےصرف یہی چیزکافی نہیں ہے، یہاں فلسفہ اورسائنس اورمعاشرتی علوم اپنےعروج پرہیں- یہاں اعلی درجہ کی ذہانت اورعلم رکھنےوالےلوگ کیثرتعداد میں موجود ہیں- یہاں مضبوط دلائل ، وزنی تنقید، زبردست علمی شواہد اورشاندارطرزپیش کش کےبغیرکوئی چیزفروغ نہیں پاسکتی- اس لیےہمارےلائق اورذہین نوجوانوں میں سےکم ازکم ایک تعداد ایسی ہونی چاہیےجواپنےآپ کواونچےدرجےکےعلمی کام کےلےتیارکریں- اسلامی نظریہ حیات کواچھی طرح سمجھیں – زندگی کےمختلف شعبوں کےبارےمیں اس کی تعلیمات کامطالعہ کریں- مغربی علوم اورنظریات سےاس کامقابلہ کرکےدونوں کافرق ٹھیک ٹھیک معلوم کریں- موجودہ دورکےمسائل حیات پر اسلامی نظریات کومنطبق کرنےکی زیادہ سےزیادہ معقول اورممکن صورتیں دریافت کریں- اوراپنےآپ کوتحریروتقریرکےذریعہ سےعمدہ اظہاروبیان کےقابل بنائیں- اس کام کی ضرورت کااحساس ہمارےاندرموجود ہوتوبرطانیہ میں اس کےلیےوسائل کی کمی نہیں ہے- یہاں اس کےلیےتیاری بھی خوب کی جاسکتی ہے، اورخیالات کی اشاعت کےلیےپریس اورپلیٹ فارم کے
| کتاب | خطبات یورپ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |