خطبات یورپ

مجلتہ الغرباء کاسوالنامہ

مجلتہ الغرباء کاسوالنامہ اور اس کا جواب لندن سےایک رسالہ عربی زبان میں مجلتہ الغرباکےنامسےنکلتاہےجسےان عرب طلبہ نےجاری کیا ہےجوبرطانیہ میں مقیم ہیں اوراپنی دوسری مصروفتیوں کےساتھ اسلام کی خدمت بھی انجام دےرہےہیں- اس رسالےکےایڈیٹرنےمولانا مودودی سےان کےزمانہ قیام لندن میں چند سوالات کیے تھےجن کا جواب انہوں نےوہیں دےدیاتھاذیل میں یہ سوالنامہ اور اس کےجوابات درج کئےجارہےہیں سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ

Blank page62

سوالنامہ ٭ 1- الغرباء اسلام پسند طلبہ کامجلہ ہےاوربرطانیہ سےعربی زبان میں نکلتا ہے- ہمیں خوشی ہوگی کہ آپ قارئین مجلہ کوجماعت اسلامی پاکستان کےحالات سےمختصرا آگاہ فرمائیں 2- پاکستانی مسلمانوں کےاندرمختلف مذہبی تصورات پائےجاتےہیں، جماعت اسلامی نےاختلاف مذاہب کےمسئلہ کوکس طرح حل کیا ہے؟ 3- موجودہ حالات میں وہ کونسا اہم ترین میدان کارہےجس پراسلامی تحریک کواپنی تمام ترکوششیں مرکوزکردینی چاہییں؟ کیا سیاسی میدان ؟ یا تعلیمی میدان؟ یاکوئی اورمیدان؟ 4- اسلامی تحریک کی ایک متحدہ عالمی قیادت قائم کرنےپرمدت سےسوچ بچارہورہاہےاس بارےمیں آپ کی کیا رائےہے؟ 5- عالم اسلام اس وقت جن حالات سےگزررہاہےوہ آپ کےسامنےہیں- ان حالات میں امورذیل کےبارے میں آپ کا نقطہ نظرکیا ہے؟ الف : مسلمان سربراہوں کی کانفرنس کا انعقاد ب : مشترکہ اسلامی منڈی کاقیام ج : بین الاقوامی اسلامی نیوزایجنسی کا اجراء 6- اسلامی تحریکیں اس وقت جگہ جگہ حکومتوں کےجبروتشدد کی فضامیں سانس لےرہی ہیں چنانچہ آپ کی نظرمیں وہ کونسامناسب ترین رویہ ہےجواسلامی تحریکوں کوان حکومتوں کےبارےمیں اختیارکرنا چاہیے؟ 7- آپ کی رائےمیں اسلامی تحریک کومغربی مالک میں کس اہم پہلوپرزیادہ زوردنیاچاہیے؟ 8- مغرب میں کام کرنےوالےداعیان اسلام کےلیےآپ کےمشورےکیا ہیں؟ 9- دوحرفی سوال ہےکہ بیت المقدس کی واگزاری کا صحیح راستہ کیا ہے؟ 10- آپ کےقلم نےاسلامی نظریات اوراسلامی تاریخ کےمتعدد گوشوں پروافرلڑیچرفراہم کردیاہے- مگر ابھی تک سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےموضوع پرآپ کی کوئی کتاب منظرعام پرنہیں آئی کیا آپ اس موضوع پرلکھنےکا ارادہ رکھتےہیں؟ 11- عہدحاضرکےاسلامی مفکرہونےکی حیثیت سےکیا آپ نےاپنےدورمیں اسلامی نظریہ کےاندرکوئی تبدیلی یا ترقی محسوس کی ہے؟ 12- اسلامی مفکرین نےموجودہ صدی میں، بلکہ کسی حدتک گزشتہ صدی میں بھی معتددمغربی اصطلاحیں استعمال کی ہیں، مثلا ڈیموکریسی- نیشنلزم ، وطنیت، پارلمینٹ، دستورسوشلزم وغیرہ، یہ اصطلاحیں ماضی قریب کےزمانےتک برابراستعمال ہوتی رہی ہیں لیکن اب ہم دیکھ رہےہیں کہ بعض اسلامی مفکرین اصطلاحوں کےاستعمال سےگریزکرتےہیں، بلکہ اسلامی نظام کی تشریح میں ان اصطلاحوں کواختیارکرنےکی مخالفت کررہےہیں اوران کا رجحان ہی نہیں بلکہ اصرارہےکہ خالص اسلامی اصطلاحات کواستعمال کرنا چاہیےجوقرآن کریم وسنت رسول سےماخوذہوں- کیا آپ اپنےتجربات اور اسلامی احساسات کی روشنی میں بتاسکتےہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں میں ایسےاسلامی مفکرین پیدا ہوں گےجوہراس چیزکوکلیتہ ردکردیں گےجوقرآن وسنت سےخارج ہوگی، اوراسلامی شریعت، احکام قرآن اوردیگراسلامی معاملات کےبارےمیں کسی بحث وجدال کوبرداشت نہیں کریں گے، بلکہ ان تمام چیزوں کواسی طرح اصل حالت میں اختیارکریں گےجس طرح دعوت اسلامی کےآغازمیں ان کواختیار کیا گیا تھا؟

سوالنامہ ٭ 1- الغرباء اسلام پسند طلبہ کامجلہ ہےاوربرطانیہ سےعربی زبان میں نکلتا ہے- ہمیں خوشی ہوگی کہ آپ قارئین مجلہ کوجماعت اسلامی پاکستان کےحالات سےمختصرا آگاہ فرمائیں 2- پاکستانی مسلمانوں کےاندرمختلف مذہبی تصورات پائےجاتےہیں، جماعت اسلامی نےاختلاف مذاہب کےمسئلہ کوکس طرح حل کیا ہے؟ 3- موجودہ حالات میں وہ کونسا اہم ترین میدان کارہےجس پراسلامی تحریک کواپنی تمام ترکوششیں مرکوزکردینی چاہییں؟ کیا سیاسی میدان ؟ یا تعلیمی میدان؟ یاکوئی اورمیدان؟ 4- اسلامی تحریک کی ایک متحدہ عالمی قیادت قائم کرنےپرمدت سےسوچ بچارہورہاہےاس بارےمیں آپ کی کیا رائےہے؟ 5- عالم اسلام اس وقت جن حالات سےگزررہاہےوہ آپ کےسامنےہیں- ان حالات میں امورذیل کےبارے میں آپ کا نقطہ نظرکیا ہے؟ الف : مسلمان سربراہوں کی کانفرنس کا انعقاد ب : مشترکہ اسلامی منڈی کاقیام ج : بین الاقوامی اسلامی نیوزایجنسی کا اجراء 6- اسلامی تحریکیں اس وقت جگہ جگہ حکومتوں کےجبروتشدد کی فضامیں سانس لےرہی ہیں چنانچہ آپ کی نظرمیں وہ کونسامناسب ترین رویہ ہےجواسلامی تحریکوں کوان حکومتوں کےبارےمیں اختیارکرنا چاہیے؟ 7- آپ کی رائےمیں اسلامی تحریک کومغربی مالک میں کس اہم پہلوپرزیادہ زوردنیاچاہیے؟ 8- مغرب میں کام کرنےوالےداعیان اسلام کےلیےآپ کےمشورےکیا ہیں؟ 9- دوحرفی سوال ہےکہ بیت المقدس کی واگزاری کا صحیح راستہ کیا ہے؟ 10- آپ کےقلم نےاسلامی نظریات اوراسلامی تاریخ کےمتعدد گوشوں پروافرلڑیچرفراہم کردیاہے- مگر ابھی تک سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےموضوع پرآپ کی کوئی کتاب منظرعام پرنہیں آئی کیا آپ اس موضوع پرلکھنےکا ارادہ رکھتےہیں؟ 11- عہدحاضرکےاسلامی مفکرہونےکی حیثیت سےکیا آپ نےاپنےدورمیں اسلامی نظریہ کےاندرکوئی تبدیلی یا ترقی محسوس کی ہے؟ 12- اسلامی مفکرین نےموجودہ صدی میں، بلکہ کسی حدتک گزشتہ صدی میں بھی معتددمغربی اصطلاحیں استعمال کی ہیں، مثلا ڈیموکریسی- نیشنلزم ، وطنیت، پارلمینٹ، دستورسوشلزم وغیرہ، یہ اصطلاحیں ماضی قریب کےزمانےتک برابراستعمال ہوتی رہی ہیں لیکن اب ہم دیکھ رہےہیں کہ بعض اسلامی مفکرین اصطلاحوں کےاستعمال سےگریزکرتےہیں، بلکہ اسلامی نظام کی تشریح میں ان اصطلاحوں کواختیارکرنےکی مخالفت کررہےہیں اوران کا رجحان ہی نہیں بلکہ اصرارہےکہ خالص اسلامی اصطلاحات کواستعمال کرنا چاہیےجوقرآن کریم وسنت رسول سےماخوذہوں- کیا آپ اپنےتجربات اور اسلامی احساسات کی روشنی میں بتاسکتےہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں میں ایسےاسلامی مفکرین پیدا ہوں گےجوہراس چیزکوکلیتہ ردکردیں گےجوقرآن وسنت سےخارج ہوگی، اوراسلامی شریعت، احکام قرآن اوردیگراسلامی معاملات کےبارےمیں کسی بحث وجدال کوبرداشت نہیں کریں گے، بلکہ ان تمام چیزوں کواسی طرح اصل حالت میں اختیارکریں گےجس طرح دعوت اسلامی کےآغازمیں ان کواختیار کیا گیا تھا؟ 13- دنیائےاسلام میں بیشترلوگ اس خیال کا اظہارکررہےہیں، کہ ظہورمہدی (جس کی بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےدی ہے) سےپہلےجس قسم کےحالات کی خبردی گئی ہےوہ اس زمانے میں رونماہوچکےہیں- آپ کی اس بارےمیں کیا رائےہے؟ 14- مسلم اوراسلامی کےدرمیان کیا فرق ہے؟ کیا ان دونوں لفظوں کا استعمال درست ہے؟

جواب 1- مجھےیہ معلوم کرکےبہت خوشی ہوئی کہ برطانیہ میں آپ لوگ مجلتہ الغرباکےنام سےایک عربی پرچہ شائع کرتےہیں- اللہ تعالےآپ لوگوں کی کوششوں میں برکت دےاورآپ اس پرچےکےذریعےسےطلبہ میں اسلامی روح بیدارکرنےاوربیداررکھنےکےلیےکوئی مفید خدمت انجام دےسکیں

جماعت اسلامی کےمتعلق تمام ضروری معلومات آپ کوجماعت کےایک ممتازکارکن پروفیسرغلام اعظم صاحب (جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی مشرقی پاکستان) کی ایک تازہ کتاب سےحاصل ہوسکتی ہیں جوحال میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے_1 اس کا ایک نسخہ اس جواب کےساتھ آپ کو مہیا کیا جارہا ہے

2- پاکستان میں اس وقت تین ہی فقہی مذاہب ہیں- ایک حنفی، دوسرےاہل حدیث، تیسرےشیعہ امامیہ ، ان تینوں مذاہب کےعلماء نے1951ء میں باہم اتفاق سےیہ بات طےکرلی تھی کہ ملکی قانون (LAW OF THE LAND) اکثریت مسلک پرمبنی ہوگا،اورہرفقہی مذہب کےپیروں کویہ حق دیا جائےگا کہ ان کےشخصی معاملات ان کےاپنےپرسنل لا کےمطابق طےکیےجائیں- رہےمختلف مذاہب کےاعتقادی اختلافات، تونہ وہ دور کیےجاسکتےہیں، نا ان کودورکرناضروری ہے- صرف اتنی بات کافی ہےکہ ہرگروہ اپنےعقیدےپر قائم رہےاورسب ایک دوسرےکےساتھ رواداری برتیں- اس کےلیےجماعت ملک میں مسلسل کوشش کررہی ہے

(A GUIDE TO THE ISLAMIC MOVEMENT) کتاب کا نام ہے

3- اسلامی تحریک کےلیےساری دنیا میں کوئی ایک لگا بندھا طریق کارنہیں ہوسکتا- مختلف ممالک کے حالات مختلف ہیں، اورہرجگہ کام کرنےوالوں کواپنےحالات کےمطابق ایک طریق کاراختیارکرنا ہوگا- البتہ جوچیزمشترک رہےگی وہ اصول اورمقصد ہےجس کا مبنع قرآن وسنت ہےاوروہی تحریک اسلامی کےتمام کارکنوں کوایک وحدت میں منسلک کرتاہے- جوگروہ جس ملک اورمعاشرےمیں اس تحریک کےلیےکام کرنےاٹھے، اس کا یہ فرض ہےکہ اعتقاداورعمل میں کتاب وسنت کی تعلیمات کاپورااتباع کرے، اوراقامت دین کواپنا مقصود بنا کراپنی تمام مساعی اس پرمرکوزرکھے- اس کےبعد اپنی تحریک کےلیےعملی پروگرام طےکرنا ہرعلاقےکےلوگوں کااپنا کام ہے، اوران میں اتنی حکمت ہونی چاہیےکہ وہ اپنی قوت ، ذرائع اورحالات کےلحاظ سےاقامت دین کےلیےمناسب ترین طریق کارتجویز کریں

4- جن حالات سےاس وقت ہم گزررہےہیں، ان میں یہ کسی طرح ممکن نہیں ہےکہ دنیا کےتمام ممالک کےلیےاسلامی تحریک کی کوئی ایک مرکزی قیادت قائم ہوسکے- بلکہ اس وقت کےبین الاقوامی حالات تواتنی بھی اجازت نہیں دیتےکہ ہمارےدرمیان کوئی مراسلت اورتبادلہ خیالات ہوسکے، یا ہم وقتا فوقتا کوئی مشترک کانفرنس کرسکیں- سروست زیادہ سےزیادہ جو کچھ ہوسکتاہےوہ نہ صرف یہ ہےکہ ہم اپنی مطبوعات کےتبادلےکرکےایک دوسرےکےحالات وخیالات سےواقف ہوتےرہیں- حج کےاجتماع سے فائدہ اٹھاتےرہیں 5- عالم اسلام کواس وقت نہ صرف ان تینوں امورکی ضرورت ہے، بلکہ اس کےعلاوہ اوربھی بہت سے کام ہیں جومسلم ممالک کوباہم مل کرکرنےچاہییں- دوسال پہلےمیں نےاس کےمتعلق 12نکات پرمشتمل ایک پروگرام پیش کیا تھا- لیکن اس طرح کی تجویزیں اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتیں جب تک مسلمان ملکوں کی حکومتیں ایسےلوگوں کےہاتھوں میں نہ ہوجواسلام کےرشتےکی بناپرباہم متفق و متحد ہونےکےلیےتیارہوں- سروست تووہ" رجعت پسند " اور" ترقی پسند" کےجگھڑوں میں لگےہوئے ہیں اوراپنےاپنےملکوں میں آئےدن انقلابات برپاکرنےسےان کوفرصت نہیں مل رہی ہے 6-میرےنزدیک یہ طےکرنا ہرملک کی اسلامی تحریک کےکارکنوں اورقائدین کاکام ہےکہ جس قسم کا ظلم واستبدادان پرمسلط ہےاس کےمقابلہ میں وہ کس طرح کام کریں- ہرملک میں اس کی صورتیں اور کیفیتیں اتنی مختلف ہیں کہ سب کےلیےکوئی ایک طریق عمل تجویزکرنا مشکل ہے- البتہ جوچیزمیں ان سب کےلیےضروری سمجھتاہوں وہ یہ ہےکہ ان کوخفیہ تحریکات اورمسلح انقلاب کی کوششوں سے قطعی بازرہنا چاہیےاورہرطرح کےخطرات ونقصانات برداشت کرکےبھی علانیہ پرامن اعلائےکلمتہ الحق کاراستہ ہی اختیارکرنا چاہیئے، خواہ اس کےنتیجےمیں ان کوقید وبندسےدوچارہوناپڑےیا پھانسی -کےتختےپرچڑھ جانےکی نوبت آجائے 7- مغربی ممالک میں جولوگ اسلامی تحریک کاکام کریں ان کوچاہیےکہ پہلےعملا اپنی زندگی کو ٹھیک ٹھیک اسلامی سانچےمیں ڈھالیں اورمغربی سوسائٹی کےاندراپنی امتیازی شان نمایاں کریں- اہل مغرب کےساتھ اخلاق اوراعمال اورطرززندگی میں ہم رنگ ہوجانےکےبعد ان کی تحریک کوموثرہونےکے امکانات آدھےسےزیادہ ختم ہوجاتےہیں- اس کےبعد دوسری چیزیہ ہےکہ ان کواہل مغرب کی تہذیب اوران کےمذہب اوران کےفلسفہ حیات کاگہرامطالعہ کرناچاہیےاورپھرایسےحکیمانہ طریقہ سےتنقیداور تبلیغ کرنی چاہیےجس سےمغربی ممالک کےسنجیدہ طبقےاسلام کی طرف متوجہ ہوسکیں- آپ کا کم سےکم ہدف یہ ہونا چاہیےکہ جس مغربی ملک میں بھی آپ ہوں وہاں کےکم ازکم دوچاراعلی صلاحیتیں رکھنےوالےانسانوں کواسلام کی طرف کھینچ لیں اوران کواسلامی تحریک کےلیےعملا کام کرنے پر آمادہ کردیں- اس کےبعد یہ ان کاکام ہوگا کہ اپنےملک میں دعوت اسلامی کےکام کی ذمہ داری سنبھال لیں 8- سوال_8 کاجواب اوپرآچکاہے-میرےنزدیک کسی مغربی ملک میں کام کرنےوالےداعی اسلام کومشرقی ممالک میں کام کرنےوالوں سےبھی بڑھ کراسلامی احکام کاسخت متبع ہونا چاہیے 9- بیت المقدس کی واپسی کاکوئی امکان میرےنزدیک اس وقت تک نہیں ہےجب تک فلسطین کےگردوپیش کی عرب ریاستیں اپنی اس روش کوچھوڑنہ دیں جس کی وجہ سےانہوں نے1948ء سےاب تک پےدر پےیہودیوں سےشکستیں کھائی ہیں- ظاہربات ہےکہ بیت المقدس کسی سیاسی تصفیےکےذریعہ سےاب مسلمانوں کےقبضےمیں واپس نہیں آسکتا- اس کےلیےلامحالہ لڑنا ہوگا اوراتنی طاقت سےلڑنا ہوگاکہ اسرائیل کوپوری شکست دی جاسکے- لیکن مجھےاندیشہ ہےکہ شام ۔عراق، مصر اوراردن میں اس وقت جوحالات پائےجاتےہیں ان میں جنگ کا نتیجہ بیت المقدس کی واپسی کے رہےسہےکچھ مزید علاقےکھودینےکی صورت میں رونماہوگا- رہےدوسرےاسلامی ممالک،تووہ اسرائیل کےخلاف کوئی عملی اقدام نہیں کرسکتےجب تک وہ عرب ملک ان کاتعاون حاصل کرنے کےلیےتیارنہ ہوں جن کی سرحدیں اسرائیل سےملتی ہیں 10- میں ایک مدت سےیہ تمنا رکھتاہوں کہ سیرت رسول صلےاللہ علیہ وسلم پرکوئی کتاب لکھوں،مگر مجھےابھی تک اس کاموقع نہیں مل سکاہے- سردست میں نےیہ کوشش کی ہےکہ قرآن مجید کی جوتفسیرآج کل میں لکھ رہاہوں اس میں قرآن اورسیرت کےتعلق کوواضح کرتےہوئےان حالات کی تفصیل بیان کرتاجاؤں جن میں قرآن مجید کی آیات مختلف مواقع پرنازل ہوئی ہیں- اللہ تعالےنےاس تفسیرکی تکمیل کےبعد اگرمجھےاتنی مہلت اورطاقت دی کہ میں سیرت پاک پربھی کوئی مستقل کتاب لکھ سکوں تومیرےلیےیہ بہت بڑی سعادت ہوگی 11- میں نےپچھلے40 سال میں فکراسلامی کےاندرمسلسل ایک تغیرمحسوس کیاہےاورالحمدللہ کہ وہ بہتری کی طرف ہے- پہلےکےمقابلےمیں اب بہت زیادہ واضح شکل میں اسلامی تصورات دنیاکے سامنےآرہےہیں- اگرچہ اس زمانےمیں مغربی مستشرقین کےشاگردوں نےبھی پہلےسےبہت زیادہ پرفریب اوربظاہرعلمی طریقےاختیارکرکےاسلام اوراس کی تعلیمات کومسخ کرنےکی کوششیں کی ہیں- مگرہرمرحلےپران کی سرکوبی کی جاتی رہی ہے-اورکم ازکم مسلمان آبادیوں پروہ اپنا اثر ڈالنےمیں کامیاب نہیں ہوسکےہیں- مسلمان بالعموم اب اسلام کواتنی صاف شکل میں جان اورپہچان رہےہیں کہ ان کویہ مشرقی مستفربین دھوکا نہیں دےسکتے 12- موجودہ زمانےکےلوگوں کوبات سمجھانےکےلیےجدیداصطلاحات کااستعمال توناگزیرہے، لیکن ان کےاستعمال میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے- بعض اصطلاحوں سےپرہیزاولی ہے، بلکہ اجتناب واجب ہے، مثلا اشتراکیت – اوربعض کااستعمال اس شرط کےساتھ جائزہےکہ ان کےاسلامی مفہوم اورمغربی مفہوم کافرق پوری طرح واضح کردیاجائے،مثلا جمہوریت یا دستوریت، یا پارلمنٹری سسٹم – اوربعض کوسرےسےکوئی اسلامی مفہوم دیا ہی نہیں جاسکتا، مثلا نیشنلزم 13- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےجوپیشین گوئیاں ارشاد فرمائی ہیں ان میں سےکسی کےظہورکی تاریخ بھی نہیں بتائی گئی ہےبلکہ صرف ان حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہےجن میں کوئی واقعہ پیش آنےوالا ہے- اس طرح کےبیانات کی بناپرقطعیت کےساتھ کسی وقت بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کب کس پیشین گوئی کاظہورہوجائےگا- ہوسکتاہےکہ ہم جن حالات کودیکھ کریہ رائےقائم کریں کہ فلاں پیشین گوئی کےظہورکاوقت ہے، ان کےبارےمیں ہمارااندازہ غلط ہو- ویسےتوظہورقیامت کی علامات بھی اب بڑی حد تک دنیا میں پائی جاتی ہیں، لیکن قطعیت کےساتھ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ اب اس کےبرپاہونےکا وقت آگیا ہے 14- مسلم اوراسلامی میں ایک لحاظ سےتوکوئی فرق نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ مسلم حقیقت میں کہتےہی اس کوہیں جواسلام کامتبع ہو- لیکن ایک دوسرےلحاظ سےان دونوں میں بہت بڑافرق ہے- مسلم ہر اس گروہ یا اس شخص کوکہا جاسکتاہےجودائرہ اسلام سےخارج نہ ہو- خواہ وہ عملا اسلام کی پیروی نہ کررہاہو- اوراس کےبرعکس اسلامی صرف وہی چیزہےجوٹھیک ٹھیک اسلام کےمطابق ہو- مثلا ایک مسلم حکومت ہراس حکومت کوکہا جاسکتاہےجس کےحکمراں مسلمان ہوں- لیکن اسلامی حکومت صرف اسی کوکہا جاسکتاہےجواپنےدستوراورقوانین اورانتظامی پالیسی کے اعتبارسےپوری طرح اسلام پرقائم ہو

Blank page 70

کتاب خطبات یورپ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم