خطبات یورپ

خطبہ استقبالیہ

آج کی شام ہم انتہائی جذبات مسرت کےساتھ آپ کوخوش آمد ید کہہ رہےہیں ہم اللہ قادرمطلق کے شکرگزارہیں کہ اس نےدوبڑےنازک آپرشنیوں کےبعد آپ کی صحت کوتیزی سےبحال فرما دیا- ہماری دعا ہےکہ اللہ تعالی آپ کوصحت کاملہ وقوت وافرہ عطا فرمائےتاکہ آپ اعلائےکلمتہ اللہ کی خدمت سر انجام دیتے رہیں

آپ کا ہمارےدرمیان اس ساعت موجود ہونا ہم سب کےلیےایک عظیم سعادت ہے- چشم تصورکے سامنےنصف صدی سےزائد کےمناظرگھوم پھررہےہیں- اس وقت نظریاتی اضمحلال اورسیاسی اختلال کے باعث ہمارےلیل ونہارکتنےتیرہ وتازتھے! وہ تمام مثالی اقدارومطامح جن کےلیےامت مسلمہ اپنی پوری تاریخ میں سینہ سپررہی ، وہ انحطاط کاشکار ہوتےنظرآرہےتھے

لیکن اس کےبعد حالات پلٹا کھاتےہیں- تجدید واحیائےاسلام کی تحریک اٹھتی اوربرپا ہوتی ہےاورحیات نوکےآثارچارسوپھیلتےنظرآتےہیں- ذہنی افق پرتشکیک واعتذارکی روش رخصت ہوتی ہےاوردینی حمیت اور خود اعمتادی اس کی جگہ لےلیتی ہے- پراگندگی فکراورژولیدگی دماغ کےتانےبانےٹوٹ پھوٹ جاتےہیں اور اسلام کی خالص اوربےآمیزتعلیمات عقلی تقاضوں اورعصرجدید کےمطالبوں کاموزوں جواب بن کرپیش کی جاتی ہیں- اسلام اب محض پوجا پاٹ یا مراسم عبادات کانام نہیں ہے، بلکہ یہ بنی نوع انسان کےلیےایک انقلاب انگیزپروگرام ہے، یہ اخلاقی ارتقاء اوراجتماعی تنظیم کےلیےایک الہامی نظام فکرہے- یہ ایک ہمہ گیرضابطہ و حیات ہےجوفطرت انسانی کےعین مطابق ہے- یہ انسان کی شخصیت کوایک متعین سانچےمیں ڈھالتاہے،زندگی کی گزرگاہوں میں اس کی حفاظت کرتاہےاورایک پاکیزہ اورپروقارزندگی بسرکرنےمیں رہنمائی کرتاہے

یہ انقلابی تحریک برائی اورباطل کوہرمحاذ پرللکارتی اورچیلنج دیتی ہےاورانسانیت کوایک نظام نو کی تعمیرکےلیےدعوت دیتی ہے- یہ ایک عمومی دعوت ہےجوپوری نوع انسانی کوخطاب کرتی ہے- تاہم اس دعوت کاآغازاوراس کاردعمل چونکہ اسلامی دنیا میں ہئوا ہے، اسلیےقدرتی طورپرعالم اسلام ہی اسلامی تحریک کااولین میدان کارزارہے- ہوسکتاہےکہ اسلامی دنیا کےبعض حصوں میں حالات کی رفتار اطمینان بخش نہ ہو، لیکن اس عالمگیرتحریک کاوجود میں آجانا، عزائم وتوقعات کاسینوں میں بیدارہوجانا اوراس راہ میں گرانقدرقربانیوں کاپیش کیا جانا، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایک نیادورشروع ہوچکا ہے

آج کی شام خاص طورپراپنےاس ماضی قریب پرہماری یہ نگاہ بازگشت ایک قدرتی امرہےجبکہ ہم یہ دیکھتےہیں کہ اللہ کا فضل وکرم سےآپ کواس تحریک احیائےدین کاایک خصوصی علمبردارہونےکا فخر حاصل ہے- آپ نےاسلامی افکارونظریات کےذخائرمیں نمایاں اورقابل رشک اضافہ کیا ہے- آپ نےنشاۂ وتجدید کی طاقتوں کواصلاح اخلاق اورسماجی تعمیرنوکی ایک مثبت تحریک کی راہ پرڈال دیاہے- آپ نےجملہ موانع، طویل قید وبند، حتی کہ سزائےموت کا سامنا عدیم النیظرجرات اورعظیم ضبط وتحمل سےکیا ہے- آپ نےراہ حق پرگامزن ہونےوالوں کےلیےایک تابناک اوردرخشاں مشعل روشن کردی ہے- حق یہ یہ ہےکہ یہ سب اللہ کی عنایت ہےاوراسی کی ذات حمد وثنا کےلائق ہے

لیکن اس تاریک ماضی سےخلاصی کایہ مطلب ہرگزنہیں ہےکہ ہمارےحال کی تلخیوں میں کسی طرح کی کمی واقع ہوگئی ہےیا مستقبل کی مشکلات آسان ہوگئی ہیں- ہمیں نہایت سنگین حالات سےسابقہ درپیش ہے- یہاں سےتاریخ انسانی ایک نیا موڑمڑےگی یا پھرانسانیت کےتحفظ وبازیابی کےسارےامکانات کاخاتمہ ہوجائےگا

انسان آج اپنی فتوحات کےاوج کمال پرہے- وہ زمان ومکان کی حدوں کوپامال کرتانظرآتاہے- قوائےفطرت کی تسخیرمیں اسےبےحدوحساب کامیابی ہورہی ہے- مادی تکاثروترقہ کا ایک عالم اس کی دسترس میں ہے- طب ومعالجہ کےفن میں اتنی ترقی ہوچکی ہو گویا کہ مرض والم کاخاتمہ ہئوا چاہتا ہے- اقتصادی ارتقاء کایہ حال ہےکہ اگرانسان چاہےتوغربت وفاقہ کااسیصال ہوسکتاہے- خلاپیمائی کاعلم وفن چاندپرکمند پھینک رہاہے

بلاشبہ یہ بڑےکارنامےہیں لیکن اس سےانسان کی انسانیت وآدمیت میں کوئی ترقی واصلاح نہیں ہوئی-طاقت میں اضافےسےدانش وبنیش، نیکی اوربھلائی میں کوئی اضافہ نہیں ہئوا- باہرکی دنیا کافاتح اپنےنفس کومفتوح ومغلوب نہیں کرسکا- لہذایہ امرباعث تعجب نہیں ہےکہ اس کامیابی کی ساعت میں خود انسان ہی عظیم ترین خطرےکی زد میں ہے- یہ اپنےبنائےہوئےآلات واسلحہ کےرحم وکرم پرہے- کیونکہ زندگی کاکوئی بہتروبرترمقصد اورمشن اس کےپاس نہیں ہے- ذرائع ووسائل پراسےقابوحاصل ہےمگرمقاصد واقدارکارشتہ اس کےہاتھ میں نہیں ہے- مادی ثروت افلاس واستحصال کوختم کرنےمیں ناکام ہے- بلکہ اس کےبرعکس قوموں کی سطح پربھی اورافرادکےمابین بھی امیروغریب کافاصلہ بڑھتاجارہاہے- عائلی زندگی مائل باتشارہے- تقوی اوراحساس ذمہ داری کی جگہ اباحیت اورتعیش پرستی لےرہی ہے- تشدداورجرم وفساد اپنے عروج پرہے- انتہا پسندی کادوردورہ ہے- علائق میں کشیدگی ، چپقلش اورآویزش میں بےحد اضافہ ہو چکا ہے- ووٹ کی پرچی کی جگہ بندوق کی گولی لینےکی کوشش کررہی ہے

انسان نےجس سوسائٹی کوخود جنم دیا ہے،اس میں وہ اجنبی بن کررہ گیا ہےوہ جس کنبےمیں پیدا ہئوا تھا، اس کےکٹ چکاہے- اپنی مادرعلمی – اپنےکاروباری حلقے، غرض یہ کہ اپنےجس ماحول اوردنیا میں وہ پروان چڑھاتھا، اس سےاس کا رشتہ کلیتہ منقطع ہوچکاہے- وہ ایک ہجوم میں تنہا، بلکہ اپنےگھرمیں بیگانہ بن گیا ہے- اگرچہ ٹیکنولوجی کےاعتبارسےپوری دنیا کی طنابیں کھینچ گئی ہیں مگرانسان ابھی تک قومیت، وطنیت اورنسلیت کےبتوں کا پجاری ہے، امن وامان ناپیداراورعدل وانصاف ایک سراب ہے- انسان اپ نے بنائےہوئےتناقضات وتضادات کاصیدزبوں بن چکا ہے- وہ ایک طرف فتحمندی مگردوسری طرف دہشت، ایک طرف کاروانی مگردوسری طرف اذیت کےچنگل میں ہے

سوال یہ ہے، کیا اس متوقع آفت اورسیلاب بلا کرکسی طرح ٹالا جاسکتاہے؟ کیا انسان اپنےاس تیار کردہ قفس سےرہائی پاسکتاہے؟ کیا وہ اپنی جبلی نیک طینتی کودوبارہ حاصل کرسکتاہےاورازسرنوایک شریفانہ وعادلانہ معاشرےکی تعمیرکرسکتاہے

ہمارےعزیزبھائی! ہم آج کی شام جب اپنےخیالات کامخاطب آپ کو بنا رہےہیں، توہمارےذہن میں آپ کی وہ عظیم الشان خدمات تازہ ہورہی ہیں جوآپ نےعالم اسلام کی فکرونظرکی بیداری کےضمن میں انجام دی ہیں اورہم آپ کی قیادت اوررہنمائی کےمنتظرہیں- ہماری دعا اورتمنا ہےکہ موجودہ مخمصےسےنکلنےکی راہ انشاء اللہ موجود ہے ہم اپنےساتھ یہ شام گزارنےپرآپ کےدوبارہ شکرگزارہیں اوراللہ سےدعاکرتےہیں کہ وہ آپ کواسلام اورانسانیت کی خدمت بجالانےکی بیش ازبیش طاقت وہمت عطا فرمائے

جواب حمدوثناء کےبعد – جناب صدر، ارکان مجلس استقبالیہ اورمعززحاضرین سب سےپہلےمیں اس بات پرمعذرت چاہتاہوں کہ بیٹھ کرآپ سےخطاب کررہاہوں- جیسا کہ آپ کوخطبہ استقبالیہ سےمعلوم ہوچکاہے، پچھلےماہ ستمبراوراکتوبرمیں مجھےدوبڑےآپریشنوں سےگزرنا پڑا ہے- اورابھی میں اتنا کمزورہوں کہ چند منٹ سےزیادہ کھڑا نہیں رہ سکتااورمسلسل زیادہ دیرتک بول بھی نہیں سکتا- مجھےافسوس ہےکہ میں پہلی مرتبہ انگلستان آیا بھی توبیماری کی حالت میں آیا- انگلستان کےدوسرے مقامات پرجانا تودرکنارمجھےخود لندن بھی اچھی طرح دیکھنےکاموقع نہیں ملا- نہ یہاں کےبڑےبڑےادارات میں جاسکا، نہ یہاں کےاہل علم سےمل سکا اورنہ اپنےبھائیوں کی اس خواہیش کوپورا کرسکا ان کےاجتماعات میں شریک ہوں- میں مجلس استقبالیہ کابڑاشکرگزارہوں کہ اس نےیہ تقریب منعقد کی جس کی وجہ سےآج کم از کم مجھےآپ حضرات سےملنےاورتھوڑی بہت اپنی بات کہنےکاموقع مل گیا

مجلس استقبالیہ کا میں اس بنا پربھی بہت شکرگزارہوں کہ اس نےتحریک احیائےاسلام کےسلسلہ میں میری نا چیزخدمات کی قدر افزائی خود ان خدمات سےبہت زیادہ کی ہے- درحقیقت میرےلیےبڑےسےبڑا فخربس یہی کافی ہےکہ میں اللہ کےدین کاایک ادنی خادم ہوں- مجھےاپنےمتعلق کبھی یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں نےکوئی بڑا کارنامہ انجام دیاہے، فی الواقع یہ میرےمخلص بھائیوں کی اسلام سےمحبت ہےجس کی بنا پروہ کسی آدمی کواسلام کی تھوڑی بہت خدمت بھی کرتےدیکھتےہیں تواس کی حیثیت سےزیادہ اس کی قدرافزائی کرتےہیں- ان کےاس مخلصانہ جذبےکودیکھ کریہ توقع بندھی ہےکہ احیائےاسلام کی تحریک کوجن ناموافق حالات میں نئی نسل کےپیشروآگےبڑھانے کی کوشش کرتےرہےہیں، انشاء اللہ آئندہ نسل اس سےبہت زیادہ خدمات انجام دے گی اورانشاء اللہ اس تحریک کا مستقبل روشن ہوگا

حضرات ! مجلس استقبالیہ کےاس خطبہ میں پچھلےپچاس سال اوراس سےپہلےکےجن حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہےوہ درحقیقت کچھ غیرمتوقع حالات نہ تھے- مسلمانوں کوانیسویں صدی میں جوپےدرپے زکیں پہنچی تھیں ان کی بدولت اچانک انہوں نےاپنےآپ کواس حالت میں پایا کہ مشرق سےلےکرمغرب تک وہ اہل مغرب کےغلبہ اوراستیلاء سےمغلوب ہوچکےتھے- فطری طورپراس کاپہلا ردعمل وہی کچھ ہونا تھا جوہئوا، جس کا ذکرآپ نےاپنےاس خطبہ استقبالیہ میں کیا ہے- ان کویکایک ایک ایسی تہذیب سےسابقہ پیش آیا تھاجوصرف اپنےفلسفہ اورسائنس ہی کولےکرنہیں آئی تھی، محض اپنےاخلاقی ، تمدنی، اورمعاشی نظام کولےکربھی نہیں آئی تھی- بلکہ ان سب چیزوں کی پشت پرتوپ اوربندوق بھی تھی اوران کی پشت پرسیاسی اقتداربھی تھاجس سےمسلمان خود اپنےگھرمیں غلام بن کررہ گئےتھے- اس نوعیت کےغالب وقاہرفلسفہ زندگی سےجب یکایک ان کوسابقہ پیش آیا توانہوں نےاس کےآگےہتھیارڈال دئیے- انہوں نےانتہائی شکست خوروگی کےساتھ اس کی بالاتری کوتسلیم کرلیا- ان کےاندریہ جرات باقی ہی نہ رہی کہ اس تنقید کی نظرسےدیکھتے- وہ صرف جسم ہی کےاعتبارسےنہیں، عقل وفکراورروح کےاعتبارسےبھی مفتوح ہوکررہ گئےتھے- انہوں نےیہ سمجھا کہ فاتح کےنظریات وافکارتوہرغلطی سےمبراہیں- غلطی کا امکان اگرہےتومفتوح کےنظریات وافکارمیں ہے- تہذیب اگرصحیح ہےتوفاتح کی تہذیب ہے- بدلنےکےقابل صرف مفتوح کی تہذیب ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں

مثلا معترضین کی طرف سےجب اسلام کےجہاد پراعتراض کیا گیا تومغلوب اورمرعوب ذہن یہ نہ دیکھ سکےکہ یہ اعتراضات کن کی طرف سےآرہےہیں- معترضین وہ لوگ تھےجہنوں نےخود ایشیا، افریقہ، امریکہ، اورآسٹریلیا میں ہرطرف جارحانہ جہاد کیا تھا، پورےپورےبراعظموں پرقبضہ کرکےکروڑوں انسانوں کواپنا غلام بنالیا تھا- اوربعض علاقوں میں قدیم باشندوں کی قریب قریب بالکل فنا کردیا تھا- ان کےاپنےمذہب میں چونکہ جہاد نہ تھا ،اوروہ جہاد کےبغیردنیا میں رہ بھی نہ سکتےتھے، اس لیےجب انہوں نےجہاد کیا توان کےپاس جنگ کےلیےکوئی اخلاقی ضابطہ موجود نہ تھا ، کوئی خدائی ہدایات نہ تھی جو ان کوجنگ کی تہذیب سےآشنا کرتی، بلکہ انہوں نےخود اپنےلیےجنگ کے طریقے اپنی خواہشات اوراغراض کےمطابق وضع کرلیےتھے- اس وجہ سےجب انہوں نےجہاد کیا توبعض براعظموں میں پوری کی پوری نسلوں کومٹا دیا، اورمفتوحون پرظلم وستم کی انتہاکردی- ان چیزوں پرنگاہ کرنے کےبجائےہمارےہاں کےاہل علم اوراہل قلم نےسرےسےاس بات کا انکار ہی کردیا کہ ہمارےہاں جہاد نامی بھی کوئی چیزہے، اورمعترضین کو یہ نہ بتایا کہ اسلامی تعلیم کی برکت سےمسلمانوں نےاپنی پوری تاریخ میں جنگ کےاندرکبھی وحشیانہ حرکتیں نہیں کیں جواہل مغرب نےکی تھیں اورآج تک کررہےہیں، نہ مفتوح قوموں کےساتھ کبھی وہ برتاؤ کیا جواہل مغرب نےکیا ہے- اس کےبرعکس مسلمان معذرت خواہوں نےگویا معترضین سےیہ کہا کہ جہاد کرنا بس آپ ہی کا حق ہے- ہم اس کا حق نہیں رکھتے

اسی طرح جب اسلام کےمسئلہ غلامی پراعتراض ہئوا توہمارےہاں کےاہل علم اوراہل قلم نےفورا اس بات کا انکارکردیا کہ اسلام میں غلامی کابھی کوئی قانون ہےاوراس کےلیےکچھ ضوابط اورقواعد مقرر کیےگئےہیں- ان پریہ اعتراض سن کرکچھ ایسی گبھراہٹ اورخوف زدگی طاری ہوگئی کہ وہ اس معاملہ میں خود معترضین کےطرزعمل کاجائزہ لےکردیکھ ہی نہ سکے- معترض وہ لوگ تھےجن کےاپنےدین میں غلامی کےمتعلق کوئی ہدایت موجود نہ تھی- جس سےان کویہ معلوم ہوتاکہ انسان کوغلام کس حالت میں بنایا جا سکتاہے- اورکس حالت میں نہیں بنایا جا سکتا، اورغلام بنانےکےبعد غلاموں کےساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے- ایسےکسی ہدایت نامےکےبغیرانہوں نےاتنےبڑےپیمانےپرغلامی کاکاروبارکیا جس کی کوئی نظیرانسانی تاریخ میں نہیں ملتی- وہ کئی صدیوں تک افریقہ کےباشندوں پرچھاپےمارتےرہے- دس بارہ کروڑانسانوں کوپکڑکر لےگئے- امریکہ اورویسٹ انڈیزوغیرہ میں اپنی نوآبادیوں کی آباد کاری کا کام ان سےلیا اوران کےساتھ بدترین انسانیت سوزسلوک کیا- آج مغربی دنیا میں رنگ کا مسئلہ ان کےاپنی ظلم کی بدولت پیدا ہئوا ہےورنہ بچارےافریقہ کےکالےخود امریکہ جمیکا اوردوسرےملکوں میں پروازکرکےنہیں گئےتھے، ہمارےاہل قلم اتنی جرات ہی نہ رکھتےتھےکہ وہ اسلام کےمسئلہ غلامی پراعتراض کرنےوالےاہل مغرب سےیہ کہہ سکتے کہ حضرات یہ نامہ اعمال لےکرآپ کا منہ کیا ہےکہ ہم پرحرف زنی کریں- وہ وقت تھا ہی کچھ ایسا کہ فاتحین کے اعتراضات سن کرہمارےہاں کےلوگوں پرجوبدحواسی طاری ہوجاتی تھی- وہ اس بات کونہیں دیکھتےتھے کہ معترض کون لوگ ہیں اوران کےاعتراض کی حقیقت کیا ہے- انہیں توفاتح کالگایا ہوا ہرالزام سن کراپنی عزت بچانےکی فکرلاحق ہوجاتی تھی- انہوں نےکبھی یہ کہنےکی ہمت نہ کی کہ حضرات ہمارےپاس چونکہ غلامی کےبارےمیں ایک اعلی درجہ کامعقول اخلاقی ضابطہ موجود تھا اس لیےہمارےہاں کبھی غلاموں کےساتھ وہ سلوک نہیں کیا گیا جوافریقہ کےغلاموں کےساتھ آپ نےامریکہ اورویسٹ انڈیزوغیرہ میں کیا ہے- آپ کو توانیسویں صدی میں غلامی کوقانونا منسوخ کرنےکی توفیق نصیب ہوئی بھی توآج تک گورےاورکالے کی تمیزسےآپ نجات پاسکےہیں- امریکہ اورجنوبی افریقہ میں کالوں کےساتھ جوسلوک آپ کررہےہیں وہ غلامی کےطریقےسےہزاردرجہ بدترہےاس کےبرعکس ہمارےہاں غلام بادشاہی کےتخت پربارہا سرفرازہوئے ہیں- ہمارےبڑےبڑےسپہ سالارغلام ہوئےہیں- اورہماری تاریخ ان غلاموں سےبھری ہوئی ہےجنہیں محدث فقیہ اورامام بننےکاشرف حاصل ہئوا ہے

اسی طرح جب ہمارےتعدد ازواج پراہل مغرب کی طرف سےاعتراض کیا گیا توہمارےہاں کےاہل علم اوراہل قلم اس پرشرمندہ ہوکرطرح طرح کی معذرتیں پیش کرنےلگےاورانہوں نےآنکھیں کھول کریہ نہ کوقانون قراردےکراہل مغرب نےایک بہت بڑی نادانی کا ارتکاب کیا ہے(Monogamy) دیکھا کہ یک زوجی جس کا بدترین خمیازہ وہ آج بھگت رہےہیں- اس کی بدولت ان کےہاں غیرقانونی تعدد ازواج نے رواج پایا جوکسی ضابطہ کاپابند نہیں اورجس کےساتھ کسی ذمہ داری کابارنہیں- اسی کی بدولت ان پرکثرت طلاق کی وبا مسلط ہوئی جوروزبروزبڑھتی چلی جارہی ہے- اسی کی بدولت ان کےہاں ناجائزبچوں کی بھرمار کےبچےایک پریشان (BROKEN HOMES) ہورہی ہے- خاندانی نظام درہم برہم ہورہاہےبربادشدہ گھروں کن مسئلہ بن گئےہیں- اورکمسنی کےجرائم روزافزوں ترقی پرہیں- ان ساری چیزوں کوپیش کرکےمعترضین کو شرم دلانےکےبجائےہم خود اپنےقانون تعددازواج پرشرمانےلگےاوراس میں ترمیم کرنےپرتل گئے

وہ ایک دورتھا جوقدرتی اسباب سےہمارےاوپرآیاتھا- اگرچہ وہ ابھی تک بالکل ختم نہیں ہئوا ہے لیکن بہرحال اس کوگزرنا تھا، گزرنا ہےاورلازما گزرکرہی رہےگا – ابتدائی مراحل سےنکلنےکےبعد ہمارے ہاں ذرازیادہ گہرےغوروفکرکےساتھ فلسفہ، سائنس، تاریخ، اورمذہب کامطالعہ کیا گیا تواس کےبعد ظاہربات ہے کہ ابتدائی مرعوبیت کی وہ کیفیت باقی نہیں رہ سکتی تھی- ابتدائےاسلام میں بھی جب مسلمانوں کویونانی اوردوسرےعجمی فلسفوں سےنیا نیا سابقہ پیش آیا تھا تو اس نےاعتزال کی شکل اختیارکی تھی- لیکن جب گہرائی کےساتھ ان چیزوں کا مطالعہ کیا گیا توآخرکار تنقید اورتحقیق نےان ابتدائی تاثرات کوختم کردیا اور مسلمانوں کےاندرایک پختہ نظام فکر اورایک پختہ علم کلام وجود میں آیا-ایسی ہی صورت اب بھی پیش آرہی ہے- جوں جوں مطالعہ میں وسعت اورتحقیقات میں پختگی پیدا ہوتی جارہی ہےوہ ابتدائی اثرات ختم ہوتےجا رہے ہیں- اگرچہ ابھی تک مسلمانوں میں اس طرح کےلوگ پیدا ہورہےہیں جو مغربی نظرسےاسلام کودیکھ رہےہیں اوراسلام میں ترمیمات کرنےکی کوششیں کررہےہیں- لیکن اب ہمارےاندرایسےمحققین خدا کےفضل سےموجود ہیں جو اس طرح کی ہرکج فہمی اورہراٹھنےوالی ترمیمی تحریک کا استیصال کرنےاورمسلمانوں کو غلط فہمیوں سےبچانے میں کامیاب ہورہےہیں

اب میں مختصرخطبہ استقبالیہ کےاس حصہ کےمتعلق بھی کچھ عرض کرنا چاہتاہوں جس میں موجودہ زمانےکی مشکلات اورپریشانیوں کا ذکرکیا گیا ہے- اس کےمتعلق میں یہ عرض کروں گا کہ اس دور کی جتنی ترقی بھی ہے- وہ ساری کی ساری دراصل علوم طبیعی (PHYSICAL SCIENCES) کی تحقیقات کی بدولت ہے- ان علوم کی تحقیقات نےانسان کوغیرمعمولی قوتیں دےدی ہیں- ان کی بدولت انسان نےعجیب وغریب ایجادات کی ہیں اوران کےاستعمال سےانسانی تمدن ومعاشرت اورتہذیب کوغیرمعمولی ترقی حاصل ہوئی ہے- لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیئےکہ جہاں تک علوم طبیعی کا تعلق ہے، خدا نےانسان کوخود اس کی تحقیق کےذرائع عطا کردئیےہیں اوراس کےاندرقابلیتیں اورصلاحیتیں پیداکردی ہیں جن کےذریعہ سےوہ اپنےگردوپیش کی موجودات کا مطالعہ کرسکتاہے، تجربات اورمشاہدات سےان کےخواص اوران کےاندرکام کرنےوالےقوانین دریافت کرسکتاہےاوراپنی مادی ترقی کےلیےانہیں زیادہ سےزیادہ بہتر طریقےسےاستعمال کرنےکی کوشش کرسکتاہے- اس کےلیےکسی خدائی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے- خدانے خود انسان کوزمین پراپنا خلیفہ بنایا ہےاس مادی دنیا پر اس کواقتدارعطا کردیاہے- اس اقتدارکواستعمال کرنے کےذرائع ووسائل اس کےلیےفراہم کردئیےہیں، اورخود انسان کےاندروہ صلاحیتیں اورطاقیتں پیدا کردی ہیں جن سےکام لےکروہ موجودات زمین سےاپنی خدمت لےسکتاہے- مگرجہاں تک تہذیب وتمدن کا تعلق ہےجہاں تک اخلاق کاتعلق ہےاورجہاں تک انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کےنظام کاتعلق ہے، اس کےبارےمیں انسان کویہ غلط فہمی لاحق ہوجانا صحیح نہیں ہےکےیہاں بھی وہ اپنی ہی تحقیقات سےزندگی کےصحیح اصول معلوم کرسکتاہے- یہ غلط فہمی درحقیقت ان تمام خرابیوں کابنیادی سبب ہےجوانسانی تہذیب میں راہ پاگئی ہیں- یہاں فی الواقع انسان خدائی ہدایت (DIVINE CUIDANCE) کا محتاج ہے- خدا کی ہدایت سےآزاد ہوکرانسان اگراپنے اصول خود وضع کرنےلگےاوراپنےنزدیک یہ سمجھےکہ اس پہلومیں بھی اسےخدا کی طرف سےآئی ہوئی کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہےتووہ ٹھوکروں پرٹھوکریں کھاتاچلا جاتاہےاورمحض اپنی عقل وفکراور تجربات ومشاہدات کےبل پرکوئی صحت مند نظام زندگی تعمیرنہیں کرسکتا – یہ غلطی پہلےبھی انسان کوگمراہ کرتی رہی ہےاورآج بھی کررہی ہےاوراس کا نتیجہ بجزتباہی کےاورکچھ نہیں ہے

اس معاملہ میں ایک اورغلطی بھی ہےجوانسان کرتارہاہے، اوروہ یہ ہےکہ جس حدود دائرہ میں کوئی خدائی ہدایت وہ اپنےپاس پاتاہےصرف اسی پروہ اکتفاکرنا چاہتا ہےاوراپنےدائرہ سےباہرجاکریہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتاکہ کہیں اوربھی کوئی ہدایت خدا کی طرف سےآئی ہوئی موجود ہےیا نہیں، اس کے اپنےمعاشرہ میں، اس کےاپنےاسلاف کےذریعہ سےاگرکوئی خدائی ہدایت اسےملی ہےتوصرف اسی پرقناعت کرتالیتاہے- پھرجب وہ دیکھتاہےکہ یہ ہدایت اسےپوری رہنمائی نہیں دےرہی ہےجس سےزندگی کےمختلف پہلوؤں میں وہ ایک جامع اورقابل عمل نظام مرتب کرسکےاوراپنی زندگی کوصحیح طریقوں پرڈھال سکےتو وہ سرےسےخدائی ہدایت ہی سےمایوس ہوجاتاہےاورغیرضروری سمجھتاہےکہ اپنےدائرہ سےباہرنکل کربھی یہ معلوم کرےکہ کہیں اوربھی کوئی خدائی ہدایت زیادہ جامع اورصحیح شکل میں موجود ہےیا نہیں، وہ اگرکہیں اورپائی جاتی ہوتواس کووہ اجنبی چیزسمجھتا ہے، اس کےاندرعیب نکالنےکی کوشش کرتاہے، اس کی قدر گھٹا نےمیں اپنا زورصرف کرتاہے، اورچاہتاہےکہ کسی نہ کسی طرح اس کےخدائی ہدایت ہونےکا انکار کرنےکےلیےاسےکوئی بہانہ مل جائے- حالانکہ فی الواقع یہ اس کی خود اپنےساتھ دشمنی ہےایک انسان کوکھلےدل کےساتھ دیکھنا چاہیےکہ کہاں حق کی روشنی موجود ہے- کھلےدل کےساتھ اس کومعلوم کرنا چاہیے کہ اگرمیرےپاس کوئی روشنی مکمل شکل میں نہیں ہےتوکہیں اوروہ موجود ہےیا نہیں- اگروہ کہیں پائی جاتی ہویا کوئی اسےپیش کرےتوبغیرکسی تعصب اوربغیرکسی تنگ نظری کے اس کوجانچنا چاہیے- قبل ازوقت کوئی رائےقائم کیےبغیراس کی تحقیق کرنی چاہیے- کھلی آنکھوں سےدیکھنا چاہیےکہ آیا اس سےکوئی ایسی رہنمائی مل سکتی ہےجس سےہم اخلاق کےصحیح اصول معلوم کرسکیں- جس سےہم اپنےتمدن اوراپنی تہذیب کےبنیادی مسائل کا حل معلوم کرسکیں، جس سےہم اپنی زندگی کوزیادہ بہتربنانےکی کوشش کرسکیں

میں سمجھتاہوں اگرموجودہ زمانےکےاہل فکراپنی اس کمزوری سےنجات پالیں توسارےانسان خدا کی طرف سےآئےہوئےہر اس نورسےفائدہ اٹھاسکتےہیں جودنیا میں کہیں آیا ہے- ہم اس کےلیےبالکل تیارہیں کہ اہل مغرب کےپاس اگرخدا کی طرف سےآئی ہوئی ہدایت موجود ہوتواس سےاستفادہ کریں جبکہ تحقیق سےہمیں اس کےخدائی ہدایت ہونےکا اطمینان ہوجائے- اسی طرح سےاہل مغرب کوبھی چاہیےکہ ہمارےپاس خدا کی جوہدایت موجود ہے، جس کوہم ہدایت الہی کی حیثیت سےپیش کرتےہیں- اس کوبھی وہ اچھی طرح جانچ لیں اوردیکھیں کہ آیا اس کےاندرکوئی ایسی رہنمائی ملتی ہےجس کی مدد سےوہ اپنی زندگی کےنظام کو درست کرسکیں

مثال کےطورپرعرض کروں گا کہ اس وقت امریکہ، جنوبی افریقہ، رہوڈیشیا اوردوسرےملکوں میں رنگ ونسل کی تفریق انتہائی شست اختیارکرگئی ہےاوربرطانیہ میں بھی یہ سراٹھاتی نظرآرہی ہے- یہ ایک بد کےسارے(RATIONALISM) ترین داغ ہےجوانسانیت کےدامن پرلگاہئواہےاورمغربی دنیا معقولیت پرستی دعووں کےباوجوداس دھبےکواپنےدامن سےدھونےمیں کامیاب نہیں ہورہی ہے- اب اگرانصاف کی نظرسے دیکھا جائےتومعلوم ہوگا کہ اس مسئلہ کوجس طرح اسلام نےحل کیا ہےدنیا کا کوئی معاشرہ اسےحل نہیں کرسکا ہے-آخرتعصب کوچھوڑکریہ سمجھنےکی کوشش کیوں نہ کی جائےکہ اسلام کےاصولوں میں وہ کیا چیزہےجس کی وجہ سےاسلامی معاشرہ کےاندرپوری اسلامی تاریخ میں کبھی رنگ کےمسئلہ نےوہ شکل اختیارنہیں کی جومغربی معاشرہ میں پیش آرہی ہے؟

اسی طرح موجودہ تہذیب میں آپ دیکھ رہےہیں کہ خاندانی نظام بری طرح درہم برہم ہورہاہے- شوہراوربیوی ، ماں باپ اوراولاد، بھائی اوربہن کےرشتےبےمعنی ہوکررہ گئےہیں- بھرےگھربربادہورہےہیں- کےبچےپورےمعاشرے(BROKE HOMES) کم سنی کےجرائم بےتحاشا بڑھ رہےہیں- ٹوٹےہوئےگھروں کےلیےایک نفسیاتی مسئلہ بنتےجارہےہیں- ناجائزبچوں کی ولادت روزبروزبڑھتی چلی جارہی ہے- طلاق وتفریق کی کثرت نےانسانی معاشرہ کوپارہ پارہ کردیاہے، دیکھنا چاہیےاورانصاف کی نگاہ سےدیکھنا چاہیے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں کبھی یہ مسائل اس شکل میں پیدا نہیں ہوسکے-آخرکیوں نہ ان قوانین وضوابط کامطالعہ کیا جائےجن کی وجہ سےاس انتہائی تنزل کےدورمیں بھی مسلم معاشرہ ان لعنتوں سےپاک ہے؟ علمائےمغرب اس سےسبق لینےکےبجائےہمارےقوانین نکاح وطلاق اورہمارےنظام معاشرت پرالٹی نکتہ چینیاں کرتےہیں اوراپنےشاگردوں کےذریعہ سےہمیں بھی وہ بیمایاں لگانےکی کوشش کررہےہیں جو ان کےمعاشرےکوتباہ کررہی ہیں حالانکہ انہیں یہ معلوم کرنا چاہیےکہ ہمارےقوانین اورقواعدکےاندرکیا چیزایسی ہےجس کی وجہ سےاسلامی معاشرہ کےاندرخاندانی نظام کی یہ درہمی وبرہمی پیدا نہیں ہوئی ناجائزبچوں کی یہ کثرت نہیں ہوئی- طلاقوں کی یہ بھرمارنہیں ہوئی- بچوں کےجرائم کایہ زورنہیں ہئوا ، اولاد اپنےبوڑھے والدین کےلیےاس قدربےدردنہیں ہوئی- اوروالدین اپنی اولاد سےاس درجہ بےپروانہیں ہوئےکہ بچوں سےبڑھ کران کواپنےکتےزیادہ پیارےہوجائیں- تعصب سےذہن کوپاک کیا جاتا توبعیدنہ تھا کہ اپنےمحدود دائرےسے باہرکی دنیا کودیکھ کرکوئی مفید سبق حاصل کیا جا سکتا

اس سلسلےمیں ایک اورمثال بھی میں پیش کرسکتاہوں- آج کی دنیا پےدرپےلڑائیوں کےچکرمیں پھنسی ہوئی ہے- دوعظیم اورخوفناک لڑائیاں ہوچکی ہیں اورایک تیسری لڑائی کاہروقت خطرہ ہے، چروں طرف یوں محسوس ہوتاہےکہ باردوبچھی ہوئی ہےاوردنیا کوبھڑکا دینےکےلیےجس ایک چنگاڑی کافی ہے- اگرغورکیا جائےتومعلوم ہوگا کہ دنیا کےموجودہ نظام میں چند بنیادی خرابیاں موجود ہیں جہنوں نےروئےزمین کوآتش فشاں بنا رکھاہے- ان میں سےایک خرابی یہ حدسےبڑھتی ہوئی قوم پرستی ہےجس نےقوموں کوایک دوسرےسےپھاڑاہےاورایک دوسرےکاحریف بنادیاہے- اورایک دوسری خرابی وہ تنگ نظری اورتنگ دلی ہے جس کی وجہ سےفتح یاب ہونےکےبعد مفتوح قوم کےساتھ کبھی فیاضی کاسلوک نہیں کیا جاتابلکہ اس کوکچلنے اوردبانےاوراس کی عزت نفس کوختم کرنےاورمادی حیثیت سےاس کوبالکل برباد کردینےاوراس کےملک کو ٹکڑےٹکڑےکرڈالنےکی کوشش کی جاتی ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوتاہےکہ مفتوح قوم کےدل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہےاورایک جنگ ختم ہوتےہی دوسری جنگ کی تیاری شروع ہوجاتی ہے- اہل مغرب کوکھلی آنکھوں سےدیکھنا چاہیےکہ کیا کوئی دوسرا معاشرہ ایسا ہےجس کےپاس کوئی ایسی ہدایت موجود ہوجس کی بدولت اس کےہاں کبھی جنگ نےیہ شکل احتیارنہیں کی- بلاشبہ مسلمانوں کےاندربھی اسلام کی پوری پیروی نہ کرنےکےباعث بارہاآپس کی لڑائیاں پیش آئی ہیں- غیرمسلموں سےبھی بارہاان کا مقابلہ ہئواہے- دنیا کےبہت سےملک انہوں نےبھی فتح کیےہیں لیکن اگرکوئی شخص انصاف کی نظرسےدیکھےتواسےنظرآسکتاہےکہ مسلمانوں کےاندرکبھی نیشنلزم کا وہ اندھا جنون پیدا نہیں ہئوا جومغربی دنیا میں پایا جاتاہےاورمسلمانوں نےکبھی مفتوحوں کےساتھ وہ سلوک نہیں کیا جواہل مغرب نےکیاہے- اسپین کوکبھی مسلمانوں نےبھی فتح کیا تھا- اورپھرعیسائیوں نےبھی اسےمسلمانوں سےچھینا- دونوں فتوحات کےنتائج ہرشخص خود دیکھ سکتاہے- فلسطین اوربیت المقدس کبھی مسلمانوں سےبھی چھنےگئےتھے، اورمسلمانوں نےکبھی کبھی ان کوواپس لیاتھا- دونوں کافرق آخرکس کومعلوم نہیں ہے؟ اس فرق کی وجہ تلاش کیجئے- کیا اس کی وجہ اس کےسواتیائی جاسکتی ہےکہ اسلام نےاپنےپیروانسانوں کواس قدروسیع القلب اس قدر فیاض ، اوراس قدرغیرقوم پرست بنا دیاہےجس کےباعث وہ فتح یاب ہونےکےبعد مفتوح قوم کےساتھ کبھی وہ سلوک نہیں کرتےجودوسرےلوگ کرتےہیں- اوران کےاندرقومیت کاوہ جنون کبھی پیدا نہیں ہوتاجو اپنی قوم کےسواانسان کوہردوسری قوم کا دشمن بنا دیتاہے- اسلام کی ان تعلیمات کوکھلےدل سےدیکھنا چائیےجن کی بدولت مسلمانوں کویہ نعمت حاصل ہوئی ہے- اگران کےاندرکوئی بھلائی پائی جائے، اگران کےاندرکوئی روشنی نظرآئےتوآخر کیوں نہ اس سےرہنمائی حاصل کی جائے؟ انسان اپنا خوددشمن ہوگا اگرکہیں اسےداروئےشفاملتی ہوتووہ صرف اس لیےاس کولینےسےانکارکردےکہ یہ اس کےہاں کی چیزنہیں ہے

آخرمیں ایک بات اوربھی عرض کرنا چاہتاہوں ، اگرچہ میری قوت گویائی اب جواب دےرہی ہے- اس زمانےمیں خوش قسمتی سےمسلمانوں کی ایک بڑی تعدادکومغربی تہذیب کےایک بہت بڑےمرکزانگلستان تھا اس وقت مسلمانوں کے(EMPIRE) میں آکررہنےکاموقع ملاہے- اس سےپہلےجب برطانیہ ایک سلطنت کےساتھ اہل برطانیہ کےتعلقات کی نوعیت کچھ اورتھی- اس وقت اس کا امکان نہ تھا کہ ان کےدرمیان کسی صحت مند بنیاد ترتہذیبی لین دین ہوسکے- لیکن اب سلطنت کادورختم ہوگیا اوربرطانیہ صرف ایک مملکت ہے- اب ہم اسی طرح آزاد ہیں جس طرح خود اہل برطانیہ آزاد ہیں- اب ہمارا اوران کا رابطہ دوآزادقوموں کاسارا رابطہ ہےجس میں نہ ایک فریق حقیرہےاورنہ دوسرافریق کبیر- یہ ایک ایسا موقع ہےکہ اگراس سےدونوں فریق فائدہ اٹھانا چاہیں تواٹھاسکتےہیں- ہم اہل برطانیہ کےعلوم وفنون سے، ان کےسیاسی ادارات سے، ان کی آزادی صحافت سے، ان کی علمی تحقیقات سےاوران کی تنظیمات سےبہت کچھ استفادہ کرسکتےہیں اورہمیں کرنا چاہیے اسی طرح اہل برطانیہ بھی، اگروہ خود بھی اس رداداری سےکچھ کام لیں جس کا سبق وہ ہمیں دیا کرتےہیں، ہم سےبہت کچھ سیکھ سکتےہیں- اگروہ اپنی سرزمین میں مسلمانوں کواسلامی اصول کےمطابق زندگی بسرکرنے کا موقع دیں توبہت آسانی کےساتھ انہیں یہ دیکھنےکاموقع مل سکتاہےکہ آیا ہماری تہذیب میں کچھ اصول ایسےہیں جن سےدوفائدہ اٹھائیں میں جب سےیہاں آیا ہوں میں نےاکثریہ باتیں سنی ہیں کہ اہل برطانیہ میں، اور خصوصا یہاں کےبعض لیڈروں کےدلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہےکہ جولوگ بھی اس ملک میں آئےہیں وہ یہاں کی آبادی کےساتھ ہم رنگ ہوجائیں کےاندرکچھ اورانگریزوں کا اضافہ کرنےسےآخرکیا فائدہ ہوگا؟ اورمجھےیہ بھی امید نہیں کہ اگریہ باہرسےآنےوالےلوگ سوفی صدی بھی انگریز بننےکی کوشش کریں تو یہاں واقعی ان کوانگریزمان لیا جائےگا- پھریہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اہل برطانیہ کودوسروں سےایسا مطالبہ کرنےکی ضرورت ہی کیا پیش آئی ہے؟ کم ازکم ہمارےہاں پاکستان میں اوردوسرےمسلمان ملکوں میں توانگریزوں، امرمکینوں اوریوروپین حضرات سےکبھی اس نوعیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ اگرہمارےملک میں آکررہیں تواپنا لباس ترک کریں،کےاندرکچھ اورانگریزوں کا اضافہ کرنےسےآخرکیا فائدہ ہوگا؟ اورمجھےیہ بھی امید نہیں کہ اگریہ باہرسےآنےوالےلوگ سوفی صدی بھی انگریز بننےکی کوشش کریں تو یہاں واقعی ان کوانگریزمان لیا جائےگا- پھریہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اہل برطانیہ کودوسروں سےایسا مطالبہ کرنےکی ضرورت ہی کیا پیش آئی ہے؟ کم ازکم ہمارےہاں پاکستان میں اوردوسرےمسلمان ملکوں میں توانگریزوں، امرمکینوں اوریوروپین حضرات سےکبھی اس نوعیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ اگرہمارےملک میں آکررہیں تواپنا لباس ترک کریں، اپنےکھانےپینےکےطریقےچھوڑیں، اپنےطریق زندگی سےدست بردارہوں ہمارےساتھ ہم رنگ (INTEGRATE) ہوجائیں، حتی کہ ہم نےتو کبھی ان سےیہ بھی نہیں کہا کہ ان کی خواتین اپنی ٹانگیں ہی ڈھانک لیں- جب ہم نےان کےساتھ یہ رواداری برتی ہےتووہ بھی ہمارے ساتھ کم ازکم اتنی رواداری توبرتیں جو ہم ان کےساتھ برت رہےہیں- برطانیہ کی آبادی کیثرالنسل ( MULTI- RACIAL) توبن ہی چکی ہےاگروہ کیثرالتہذیب (MULTI- CULTURAL) بھی ہوجائےتواس میں آخرخطرےکی کیا بات ہے؟ مسلمان یہاں اپنی تہذیب کےمطابق زندگی بسرکریں گےتو انشاء اللہ برطانیہ کے ہی کریں گے، اوران کی تہذیبی اقداراوراطوارکودیکھ کراہل برطانیہ کویہ (ENRICH) معاشرےکومالا مال دیکھنےکاموقع ملےگا کہ ان کےہاں کیا چیزیں ایسی ہیں جن سےوہ آج تک معاشرتی الجھنوں سےبچےرہےہیں جن سےانگریزی معاشرہ اس وقت دوچارہے، خوش قسمتی سےاس مجمع میں متعدد صاحب علم انگریزاصحاب بھی موجود ہیں مجھےامید ہےکہ جوکچھ میں نےخلوص دل کےساتھ عرض کیا ہےاس پروہ ٹھنڈےدل سےغور کریں گےاوراگرمیری باتوں کومعقول پائیں گےتوانہیں کھلےدل سےقبول کریں گے

آخرمیں میں مجلس استقبالیہ کاپھرشکریہ ادا کرتاہوں کہ اس نےمجھےآپ حضرات سےملنےکا قیمتی موقع عطا فرمایا جس کی یاد انشاء اللہ میرےدل سےکبھی محونہ ہوگی اخردعواناان الحمدللہ رب العالمین) ____________٭______________

کتاب خطبات یورپ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم