خطبات یورپ

توضیحات

توضیحات "اسلام کس چیزکاعلمبردارہے" کےبعض مندرجات پر اعتراضات کا جواب

BLANK PAGE 184

؟ 1- " پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم مافوق البشرنہیں ہوتا" – اس کا کیا مفہوم ہے؟ کیا اس سےمرادخدائی اختیارات کاحامل ہونا ہے؟ یا بشریت سےمادراء ہونا ؟ معترضین نےیہ نکتہ برآمد کیا ہےکہ مافوق البشر کا مطلب عام بشرسےفائق ہونا ہےاورپیغمبراس معاملےمیں فائق ہوتےہیں-

2- دوسرااعتراض اس پرہےکہ مقالہ نویس نےپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کوبشری کمزوریوں سے مبراتسلیم نہیں کیا- حالانکہ وہ ہرلحاظ سےمعصوم ہوتےہیں- بشری کمزوریوں سےمرادبشریت کے لوازمات ہیں یا اورکچھ مراد ہے؟

3- بعض پیغمبروں کامشن ناکام ہوگیا- یہ انداز بیان انبیاء کےشایان شان نہیں ہے- معترضین کازیادہ ترزوراس پرتھا کہ چاہےنیت بخیرہومگراندازبیان گستاخانہ ہے-

جواب ان اعتراضات کاجواب دینےسےپہلےیہ بتا دینا ضروری ہےکہ یہ مقالہ دراصل غیرمسلموں کےسامنےاسلام پیش کرنےکےلیےلکھا گیا تھا- اس میں ان کےغلط عقائد کاذکرکیےبغیران کی تروید اس طرح کی گئی ہےکہ اسلام کی صحیح تصویران کےسامنےرکھ دی گئی جسےدیکھ کروہ خود سمجھ سکتےہیں کہ ان کے مذہب میں کیا کیا غلط باتیں شامل ہوگئی ہیں-

اب ایک ایک اعتراض کولیجئے-

1- " پیغمبرفوق البشرنہیں ہوتا"- اس فقرےسےکوئی معنی اخذ کرنےسےپہلےمعترض کودیکھنا چاہیے- کہ میں نےکس سلسلہ کلام میں یہ بات کہی ہے- اوپرسےعبارت یوں چلی آرہی ہےکہ " رسول ایک انسان ہےاورخدائی میں اس کاذرہ برابربھی کوئی حصہ نہیں ہے"- اس کےمعا بعد یہ کہنا ہےکہ " وہ فوق البشر نہیں ہے" صاف طورپرمعنی رکھتاہےکہ وہ بشریت سےمادراء اورخدائی صفات سےمتصف نہیں ہےجیسا کہ دوسرےمذاہب والوں نےاپنےپیشواؤں کوبنا رکھا ہے-

2- اسی سلسلہ کلام میں فورابعد دوسری بات یہ کہی گئی ہےکہ " رسول بشری کمزوریوں سے بالاترنہیں ہے"- اس میں بشری کمزوریوں سےمراد بھوک، پیاس، نیند، مرض، رنج وغم وغیرہ امورہیں جو بشری کولاحق ہوتےہیں- اوراس مضمون میں یہ بات اس غرض کےلیےکہی گئی ہےکہ عیسائیوں نےجس ہستی کوخدا یاخدا کابیٹا قراردےڈالا اس کوبھی یہ بشری کمزوریاں لاحق ہوتی تھیں- مگریہ سب کچھ دیکھتےہوئے بھی وہ بشرکوخدائی میں شریک قراردےبیٹھے- یہ استذلال ٹھیک ٹھیک قرآن سےماخوذ ہے- ماالمسیخ ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل،وامہ صدیقہ : کانایا کلان الطعام (5: 75)

" مریم کا بیٹا مسیح علیہ السلام رسول کےسوا کچھ نہ تھا- اس سےپہلےبھی رسول گزرچکےتھے اوراس کی ماں راست باز تھی، دونوں کھانا کھایا کرتےتھے" اس آیت میں ایک عورت کےپیٹ سےپیدا ہونے اورماں بیٹے، دونوں کےکھانا کھانےکواس بات کی صریح دلیل ٹھیرایاگیا ہےکہ حضرت مسیح بشرتھےنہ کہ فوق البشراورالوہیت میں ان کا قطعا کوئی حصہ نہ تھا- جیساکہ مسیحوں نےسمجھ رکھا ہے-

3- تیسرا اعتراض بھی سلسلہ کلام کونظراندازکرکےصرف ایک لفظ کےاستعمال پرکیا گیا ہے- سلسلہ کلام یہ ہےکہ نبی کاکام ایمان لانےوالوں کوانفرادی اوراجتماعی تربیت دےکرایک صحیح اسلامی تہذیب ،وتمدن کےلیےعملا تیارکرنا اوران کومنظم کرکےایک ایسی جماعت بنا دینا ہےجودنیا میں خدا کےدین کو بالفعل قائم کرنے کی جدوجہد کرےیہاں تک کہ خدا کا کلمہ بلند ہوجائےاوردوسرےکلمےپست ہوکروہ جائیں- اس کےبعد یہ عبارت لکھی گئی ہے؟ " ضروری نہیں ہےکہ سب نبی اپنےاس مشن کوکامیابی کےآخری مراحل تک پہنچانے میں کامیاب ہی ہو گئےہوں- بہت سےانبیاء ایسےہیں جواپنےکسی قصورکی بنا پرنہیں بلکہ متعصب لوگوں کی مزاحمت اورحالات کی نا مساعدت کےباعث اس میں نا کام ہوگئے"-

اس عبارت میں لفظ ناکام کےاستعمال کوگستاخی کہنا آخرادب واحترام کی کونسی قسم ہے؟ یہ مبالغہ آمیزیاں اگراسی شان سےبڑھتی رہیں توبعید نہیں کہ کل ہروہ شخص گستاخ ہوجوکہےکہ رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم احد میں زخمی ہوگئےتھے، یاآپ کسی وقت بیمارہوگئےتھے- کسی واقعہ ہونےسےاگرانکار نہیں ہےتواس کی انہی الفاظ میں بیان کیا جائےگاجو زبان میں معروف ہیں جوحضرات اسےگستاخی سمجھتےہیں وہ اپنی رائےکےمختارہیں- مگردوسروں پر وہ اس رائےکوکیوں مسلط کرتےہیں؟ ________________________

"بشری کمزوریاں " سوال : ایک عالم دین کواصرارہےکہ لندن کی اسلامی کانفرنس والےمقالےمیں آپ نےرسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کےبارےمیں "بشری کمزوریوں سےبالاترنہ ہونے" کےالفاظ جواستعمال کیےہیں وہ درحقیقت عیب اورنقص کےمعنی میں ہیں- کیا آپ اس کی وضاحت کریں گےکہ ان الفاظ سےخود آپ کی مرادکیا تھی؟"

جواب: اگرچہ میں ترجمان القرآن میں اپنی مرادوضاحت کےساتھ بیان کرچکاہوں، مگراس کےبعد بھی اس الزام پراصرارکیا جارہاہے- اس کےمعنی یہ ہیں کہ قائل جب اپنےقول کی صاف صاف وضاحت کردے، تب بھی الزام لگانےوالا یہی کہتارہےگا کہ تیرےقول کا اصل منشاوہ نہیں ہےجوتوبیان کرتاہے، بلکہ وہ ہےجوہم بیان کرتےہیں- یہ عجیب رویہ ہےجو متقی اورخدا ترس لوگوں نےکبھی اختیارنہیں کیا-

حقیقت یہ ہےکہ اگرمیری طرف سےکوئی وضاحت نہ بھی ہوتی اورصرف اس مضمون کی متعلقہ عبارات ہی کوصاف ذہن کےساتھ پڑھا جاتا تو اس غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ ہوتی کہ اس سلسلہ کلام میں بشری کمزوریوں سےمراد عیوب اورنقائص ہوسکتےہیں- اس میں توساری بحث یہ ہےکہ دوسری قوموں نےاپنےانبیاء کےحق میں جومبالغےکئے ہیں اور ان کوخدا کی اولاد ،یا خدا کااوتارتک بنا ڈالا ہے، قرآن مجید نےان سب سےمسلمانوں کوبچالیا اورخدائی و رسالت کےدرمیان ایک ایسا خط امتیازکھینچ دیا جس سےہرانسان یہ جان سکتا ہےکہ رسول کیا ہےاورکیا نہیں ہے- آخر اس بحث کےدوران میں یہ کہنےکا کیا موقع ہوسکتا ہےکہ رسول عیوب اورنقائص سے بالاتر نہیں ہوتا-

علاوہ بریں اگرکوئی شخص الفاظ کےمعانی کی سمجھ رکھتاہوتووہ بشری کمزوریوں کامطلب عیوب اورنقائص ہرگزنہیں لےسکتا- انسان کےلیے" عیب" کا لفظ ایسےموقع پربولا جاتاہےجب وہ مثلا بدزبان ہو، جھوٹاہو، چغلخورہو، فریبی اورخائن اوربدکردارہو، " نقص" کا لفظ اس وقت استعمال ہوتاہےجب وہ یا توکسی جسمانی نقص میں مبتلا ہومثلا بد شکل یا ناقص الاعضاء ہونا، یا وہ کسی ذہنی یا اخلاقی نقص میں مبتلا ہو، مثلا کندذہن ، کم فہم یا خواہشات نفس سےمغلوب ہونا- ان دونوں کےبرعکس بشری کمزوریاں یہ ہیں کہ انسان اپنی سلامتی کےلیےغذااورپانی کا محتاج ہے- آرام اورنیند کا محتاج ہے- نکاح کا محتاج ہے- بیماری میں علاج کا محتاج ہے- دھوپ اوربارش سےبچنےکےلیےسائےکامحتاج ہے- سردی سےبچنےکےلیےگرم لباس کا محتاج ہے- اسی معنی میں اللہ تعالی نےفرمایا ہے(النساء آیت 28) " انسان کمزورپیدا کیا گیاہے"- ____________________*______________________

BLANK PAGE 190

کتاب خطبات یورپ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم