ٹورانٹو(کینیڈا)میں ایک مجلس ابوالاعلی مودودی 1974ء میں مجھےبغرض علاج امریکہ جاناپڑاتھا- وہاں میرا قیام بفلومیں تھا جس سےکینیڈا کا شہرٹورانٹوتقریبا سومیل کی مسافت پرواقع ہے- اس شہرکی2175000 آبادی میں مسلمانوں کی تعداد کم وبیش 25ہزارہےوہاں کےمسلمانوں کاتقاضا تھا کہ میں امریکہ چھوڑنےسےپہلےکم ازکم ایک دفعہ ان کےہاں ضرورحاضرہوں- چنانچہ 5اگست 1974ء کی شام کو میں نےان کی فرمائش پوری کی اوراسلامک سنٹرکےہال میں ایک بڑےمجمع کوخطاب بھی کیا اورلوگوں کےسوالات کےجواب بھی دئیے- اس مجلس کی رودادرج ذیل ہے-
بھائیو اور بہنو، میں تہ دل سےاس محبت کےلیےشکریہ ادا کرتاہوں جس کےساتھ مجھےیہاں آنےکی دعوت دی گئی ہے- مجھےافسوس ہےکہ میں امریکہ اورکینیڈا کےسفرپرآیا بھی توبیماری کی حالت میں آیا- اگرصحت کی حالت میں آتااورمیرےاندرطاقت ہوتی تومیں مختلف شہروں میں خود جاتااورہرجگہ اپنےمسلمان بھائیوں سے ملتا، ان کےحالات معلوم کرتا، ان کےسوالات کےجوابات دیتااورجوکچھ مشورےان کودےسکتاتھا وہ دیتا- لیکن افسوس یہ ہےکہ میں زیادہ محنت کرنےکےقابل نہیں ہوں- سفرکرنےکےقابل بھی نہیں ہوں- بہت مشکل سےیہاں پہنچاہوں- میں سب سےپہلےآپ کےسوالات کےجوابات دوں گا پھرجوکچھ مجھےکہنا ہےوہ چند منٹوں میں عرض کردوں گا- سوال وجواب کےطریقےکومیں نےاس لیےپسند کیا ہےکہ جوباتیں آپ کےدل میں کھٹکتی ہیں پہلےوہ مجھےمعلوم ہوجائیں اورمیں ان کا جواب دےکرآپ کی تشفی کرنےکی کوشش کروں-
سود کا مسئلہ سوال :- کیا آپ سمجھتےہیں کہ موجودہ زمانےکےبنیکوں کاسود وہی چیز ہےجسےرباکہا جاتاہے؟ کیا مکان کاکرایہ سودپرقرض دینےسےمختلف کوئی چیزہے؟ ایک ملک کی معیشت ، مثلا افراط زر، تفریط زر، اورقمیتوں وغیرہ کوسود کےتصورکےبغیرکنٹرول کیا جا سکتا ہے؟"
جواب:- سب سےپہلےآپ کویہ جان لیناچاہیےکہ قرآن سودکا کیا تصورپیش کرتاہے- اس میں بالکل واضح طورپربتادیا گیا ہےکہ جو رقم کسی شخص نےقرض لی ہواس سےزائد کوئی رقم اگرقرض دینےوالا بطورشرط وصول کرتاہےتو وہ " ربا" ہےیہ ایک اصولی بات ہےجوقرآن میں بیان کردی گئی ہے- اوریہ بھی واضح کردیا گیا ہےکہ قرض دینےوالےکواپنے" راس المال" (یعنی اپنےدئیےہوئےاصل مال) سےزیادہ ایک پئیشہ تک لینے کاحق نہیں ہے- اس معاملہ میں یہ بات خارج ازبحث ہےکہ جوشخص سود پرقرض لےرہاہےوہ آیاغریب ہے، یا قرض اس غرض کےلیےلےرہاہےکہ اس کوکاروبارمیں لگائےیا صنعت میں یا کسی اورکام میں لگائے- ان حیثیتوں سےقرآن قطعی بحث نہیں کرتا- بلکہ وہ اصل راس المال سےزیادہ وصول کرنےکےبجائےخود قطعی حرام قراردیتاہے- اس سلسلےمیں مزید بات یہ سمجھ لیجئےکہ جوشخص قرض دیتاہےوہ آخرپشیگی کیسے اندازہ لگاسکتاہےکہ قرض لینےوالا اس سےکتنا فائدہ اٹھائےگا، بلکہ کوئی فائدہ اٹھائےگا بھی یا نہیں، یا الٹا نقصان اٹھائےگا- اس کوان باتوں سےکوئی بحث نہیں ہے- وہ ایک مقررہ منافع اورقانونی طورپرمحفوظ منافع لینےکا ہرحال میں حقدارہے- قرض لینےوالےنےمثلا اگرکسی مردسےکودفن کرنےکےلیےقرض لیا تھا تب توسود اس کےلیےخسارہ ہی خسارہ ہے- لیکن اگراس نےکاروبارمیں لگانےکےلیےلیا تھاتواس کےلیےمنافع ہی کی نہیں، نقصان سےبچنےکی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے-محنت، ذہانت اوروقت سب کچھ وہ اس کےذمہ اورقرض دینےوالےکےلیےایک مقرر منافع (RISK) صرف کرتاہے- لیکن کاروبارکاسارا خطرہ کی پوری ضمانت ہے- اس کوانصاف کون کہہ سکتاہے؟
اب میں اس سوال کےدوسرےحصےکولیتاہوں- یعنی یہ کہ مکان کاکرایہ لینےاورقرض دیئےہوئے مال پرسود لینےکا کیا فرق ہے؟ اس سوال کوآپ صرف مکان کےکرائےتک محدود کیوں رکھتےہیں؟ اگرکوئی شخص ٹیکسی چلا رہاہےاوراس کا کرایہ لےرہاہےتواس پربھی یہی سوال کیجئےکہ کیا وہ روپیہ جو اس نےٹیکسی خرید نےاوراس کےچلانےمیں لگایا ہےوہ اس کا سود وصول نہیں کررہاہے؟ اسی طرح سےآپ ان تمام چیزوں کےبارےمیں یہی سوال کرسکتےہیں جوکرایہ پردی جاتی ہوں- مثلا فرنیچروغیرہ لیکن روپیہ قرض دینے،اورمکان یا کسی دوسری چیزکوکرایہ پردینےمیں صریح فرق ہے، جو نقدروپیہ کسی کودیا جاتاہے وہ توخرچ ہوجاتاہے- اس نقد روپےمیں کوئی ٹوٹ پھوٹ یا فردسودگی نہیں ہوتی- وہ استعمال کرنےسےپرانا نہیں ہوجاتا- اس کومرمت اوردیکھ بھال کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی- وہ اس کی وصول طلب تعداد جوں کا توں قائم رہتی ہے- لیکن مکان ہویاکوئی اورچیز، اس میں ٹوٹ پھوٹ بھی ہوتی ہے- استعمال سےفرسودگی بھی لاحق ہوتی ہے- مرمت کی ضرورت بھی پیش آتی ہےاورجس حالت میں کرایہ دارکوئی چیز لیتاہےوہ اسی حالت میں اسےمالک کوواپس نہیں کرتا بلکہ کسی نہ کسی نقصان کے ساتھ واپس کرتاہے- اس لیےچیز کا مالک اس پرکرایہ لینےکاجائزحقدارہے- اس نوعیت کےکرائےکوروپے کےکرائےپرقیاس نہیں کیا جاسکتا- اس لیےشریعت میں سود اوراستعمال اشیاء کےکرائےمیں واضح فرق کردیا گیا ہے-
اصل بات یہ ہےکہ جب کسی غلط طریقےپردنیا کانظام چل پڑتاہےتوپھرآدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کےبغیرنظام کیسےچل سکتاہے؟ اس طرح کےنظام میں خرابی بس یہی ہے، ورنہ اسلام نےصدیوں تک دنیا کےبڑےحصےپرحکومت کی ہے- صدیوں تک اس کےتخت اندرونی اوربیرونی تجارت چلتی رہی ہے- مالی معاملات چلتےرہےہیں- صنعتیں چلتی رہی ہیں- ہرقسم کالین دین ہوتارہاہے- مگرکبھی سودلینےیادینےکا سوال پیدانہیں ہوا- یہ سودی نظام جس طرح موجودہ نظام مالیات پرمسلط ہواہےاس کی وجہ یہ ہےکہ پہلےیورپ میں یہودیوں نےسودخواری شروع کی- کلیساابتداء میں اس کا مخالف تھا- سود کووہ بھی حرام قراردیتاتھا، لیکن یہودیوں کی وجہ سےجب سارےکاروبارمیں سود گھستاچلاگیا توکلیسا اس کےساتھ مصالحت کرتاچلاگیا یہاں تک کہ آخرکارسود بالکل جائزہوگیا اورساری معیشت اسی پرچلنےلگی- ہم مسلمان ہونےکی حیثیت سےاس بات کےعلمبردارہیں کہ دنیا سےسود کوختم کریں اورسارےمالی نظام کوغیرسودی طریقےپرچلائیں- ہمارےپاس ہے- یعنی بجائےاس کےکہ (profit sharing system)سودی نظام کےمقابلےمیں منافع میں شرکت کاقاعدہ سرمایہ دارقرض دےکرایک مقررہ رقم وصول کرے، اس کولازما کاروبارمیں روپیہ لگانا چاہیےاورجومنافع ہواس کامتنا سب حصہ لینا چاہیے- اگربڑےپیمانےپربہت سےکاموں میں روپیہ لگایا جائےگا توسارےکاموں میں نقصان ہی نہ ہوگا-بلکہ کسی میں نقصان اورکسی میں منافع ہوگا، اورمجموعی طورپرنفع نقصان سےزیادہ ہوگا- لیکن اس صورت میں یہ باانصافی نہ ہوگی کہ روپےوالےکےلیےلازما مقررضافع کی ضمانت ہو، اورساراخطرہ صرف کام کرنےوالوں کےحصہ میں آئے- ہمارےنزدیک دنیا کی تباہی کےاسباب میں سب سےبڑا سبب یہ ہےکہ سودی نظام پورےمالیات پرقابض ہوگیا ہے- ___________________________
اسلامی نظام کےقیام کاطریقہ سوال نمبر2:- قرآن میں فرمایا گیا ہےکہ اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامومنکم – اللہ کی اطاعت کرواور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو- اوران ادلوالامرکی اطاعت کروجو تم میں سےہوں، یہ حکم ایک ایسی منظم جماعت چاہتا ہےجوکسی خاص فرقےیاقوم تک محدود نہ ہواوراسلام کی حدوں میں رہ کرکام کرے- آپ کا اس معاملہ میں کیا مشورہ ہےکہ اس مقصد کوحاصل کرنےکے لیےکیا طریقےاختیارکیےجائیں، خصوصا کینیڈا کےتنظیمی ڈھانچےکےاندر؟"
جواب :- یہ ایساسوال ہےجس کاپورا جواب توایک کتاب میں ہی دیاجاسکتاہے- تاہم میں ایک مختصرساجواب عرض کیےدیتاہوں- آدمی خواہ کینیڈا میں ہو، امریکہ میں ہو، چین میں ہو، یا کہیں بھی ہو، مسلمان ہونےکی حیثیت سےاس کا اصل کام لوگوں کو اللہ اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراس کی کتاب اورآخرت پرایمان لانےکی دعوت دیناہےحالات اور مقامات کی مخصوص نوعیتوں کےلحاظ سےآپ اس دعوت کےلیےمناسب صورتیں اختیارکرسکتےہیں- لیکن سب سےمقدم کام ایمان کی دعوت ہی ہےجس کےبغیراسلامی تعلیمات کی دوسری تفصیلات کوپیش کرنا لا حاصل ہے- اس غرض کےلیےضروری ہےکہ معقول دلائل کےساتھ لوگوں کواچھی طرح اس بات پرمطمئن کردیا جائےکہ وہ اس دنیا میں حود مختارپیدانہیں ہوئےہیں، بلکہ اس دنیا کاایک خدا ہےجس کےوہ بندےہیں، جس نےان کوپیدا کیا ہےاورجس کی اطاعت ان کوکرنی چاہئیے- پھران کواس بات کاقائل کیا جائےکہ خدا کی اطاعت کرنےکا ذریعہ اس کےبھیجےہوئےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقےکی پیروی کرنا ہےاوراس کتاب کی پیروی کرنا ہےجوانسانوں کی ہدایت کےلیےخداکی طرف سےبھیجی گئی ہے- پھران کویہ سمجھانا ہےکہ انسان اس دنیا میں غیرذمہ دارنہیں ہے، مرکرمٹی ہوجانےوالا نہیں ہے، بلکہ اس کودوبارہ ایک زندگی عطا ہونی ہےجس میں وہ خدا کےسامنےاپنےتمام اعمال کی جواب دہی کرےگا اوراپنا حساب دےگا- یہ چیزیں آپ کولوگوں کےذہن نشین کرنی پڑیں گی خواہ آپ کہیں بھی ہوں- آپ جس معاشرےمیں بھی ہوں اس کےانفرادی اوراجتماعی حالات کاجائزہ لےکرآپ کوبتانا ہوگا کہ لوگوں کی انفرادی زندگیوں اوراجتماعی نظام میں جوخرابیاں پائی جاتی ہیں ان کی بنیادی وجہ یا توخدا کےمتعلق ان کا غلط عقیدہ ہے، رسالت ، یا کتاب ، یا آخرت کےبارےمیں وہ کوئی غلط عقیدہ اختیارکیےہوئےہیں- یہ چاربنیادی چیزیں ہیں، ان کےبارےمیں اگرکوئی شخص یا قوم کوئی غلط عقیدہ اختیارکرلےتواس کی ساری زندگی غلط ہوجاتی ہے- یہاں آپ جس معاشرےمیں رہتےہیں اس کےاندرآپ خود دیکھ رہےہیں اورلوگوں کودکھا سکتےہیں کہ ہرطرف کیسی کیسی خرابیاں موجود ہیں- ترقی کےساتھ ساتھ تنزل کےکون کون سےاسباب کس کس شکل میں یہاں خرابیاں پیدا کررہےہیں- یہ خرابیاں کس طرح سوسائٹی کاستیاناس کررہی ہیں- جرائم بڑھا رہی ہیں – خاندانی نظام کوتباہ کررہی ہیں- نئی نسلوں کو بگاڑرہی ہیں- اخلاقی قدروں کاخاتمہ کررہی ہیں- اوربد کرداری کاوہ طوفان برپاکررہی ہیں جو اس سےپہلے بہت سی تہذیبوں کوغارت کرچکا ہے- یہ ساری چیزیں اب اس قدرعیاں ہوچکی ہیں کہ ان کی نشاندہی کرنے میں آپ کوکوئی مشکل پیش نہیں آسکتی- انہیں پیش کرکےآپ اپنےگردوپیش کےلوگوں کوسمجھاسکتےہیں کہ ان کی اصل وجہ سےخدا سےاوراس کی بھیجی ہوئی ہدایت سےاورآخرت کی جواب دہی کےاحساس سےغافل ہو جانا ہے- اس حقیقت کوجب آپ معقول دلائل وشواہد کیساتھ پیش کریں گےتولازما کچھ لوگ آپ کوایسےمل جائیں گےجو ان صداقت تسلیم کرلیں گے- مکےمیں بھی اسی طرح ہواتھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایمان کی طرف دعوت دی توپہلےچند آدمیوں ہی نےاس کومانا تھا- ایسےآدمی جب آپ کومل جائیں تو انہیں ایک منظم جماعت بنائیےاوران کےذریعےسےدعوت کومزید پھیلائیےجتنےلوگ اس دعوت کوقبول کرتےجائیں گےوہ اس جماعت میں شامل ہوتےچلےجائیں گےیہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئےگاجب اس سوسائٹی کوعملا تبدیل کردینا ممکن ہوگا- اس کےلیےصبرچاہیے- مسلسل محنت چاہیے- عقلمندی کےساتھ کام کرنا چاہئیے- اوراس بات کی فکرنہ کرنی چاہیےکہ ہم کواس میں کامیابی ایک صدی میں ہوگی یا دوصدیوں میں ہوگی ______________________
حرام مال سےخیرات سوال 3:- رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم نےفرمایا " جس نےجمع کیا مال حرام سےاورپھراس کوصدقہ دےدیا تواس کےلیےکوئی اجرنہیں بلکہ اس کا اجراس کودیا جائےگا جس کا مال اس شخص نےچرالیا اوراس کوصدقہ کردیا-"
اس حدیث کی روسےیہ کیسےجائزہوسکتاہےکہ وہ بینک سےسودلےاورپھرغربیوں میں تقسیم کردے؟ میں سمجھتاہوں کہ شاید آپ نےاس فعل کوکسی عارضی حل کےطورپرپیش کیا ہوگا- کیا آپ اس کی وضاحت فرمائیں گے؟"
جواب :- میں بارہااس بات کوواضح کرچکا ہوں کہ بینک کےسودی اکاؤنٹ میں اس غرض سےروپیہ رکھنا کہ جوسود اس سےوصول ہوگا اس کوغریبوں میں تقسیم کردیا جائےگا بالکل ایسا ہی ہےجیسےایک شخص جیب اس لیےکاٹےکہ جوروپیہ اسےملےگا اس کووہ کسی یتیم یا کسی بیوہ کو دےدےگا- جس طرح جیب کاٹ کرخیرات کرنا غلط ہےاسی طرح بینک سےسودلےکرخیرات کرنا بھی غلط ہے- میری جس بات کاآپ حوالہ دےرہےہیں وہ دراصل یہ ہےکہ اگرآپ غلطی سےبینک کےسودی حساب میں روپیہ رکھ چکےہوں اوراس پر آپ کوسودمل گیا ہوتواس کوخود نہ استعمال کیجئےبلکہ غریبوں کودےدیجئے- یہ بات میں اس وجہ سےکہتاہوں کہ سود کےذریعےسےجوروپیہ آتاہےوہ صرف اسی شخص کےلیےحرام ہےجس نےسودی حساب میں روپیہ رکھا اوراس کووصول کیا-لیکن اگروہ شخص کسی اورآدمی کویہ روپیہ ہبہ کردیتاہےیاکسی چیزکی اجرت یا قیمت میں دےدیتاہےتواس شخص کےلیےحرام نہیں ہےکیونکہ اس کوجائز طریقےسےیہ روپیہ ملا ہےاورسود لینےوالےکےپاس یہ ناجائزطریقےسےآیا تھا- مثال کےطورپرسودلینےوالا آدمی اگرکسی ٹیکسی پرسوارہوتاہےاورٹیکسی والےکواجرت دیتاہےتووہ روپیہ ٹیکسی والےکےلیےحرام نہیں ہے، البتہ اس شخص کےلیےیہ حرام ہےجس نےسودی روپےسےٹیکسی پرسفرکیا- اسی طرح اگروہ کسی کو ہبہ کردیتاہےیا صدقہ کردیتاہےتویہ ایک شخص سےدوسرےکی طرف مال منتقل ہونےکی جائزشرعی صورتیں ہیں- اس لیےصدقہ یا ہبہ لینےوالےکےلیےیہ روپیہ حرام نہیں ہے ____________________
جماعت اسلامی جمہوری طریق کارکیوں اختیارکرتی ہے سوال 4:- پاکستان کی جماعت اسلامی نےاقتدارکی منزل تک پہنچنےکےلیےجمہوری طریقہ اختیارکیا ہے، یعنی ایک مغربی طرزکےجمہوری نظام میں مغربی طرزکےانتخابات کےذریعہ سےاکثریت حاصل کرنا- دعوت اسلامی کےلیےاس طریقہ کےموافق ومخالف دلائل کیا ہیں؟ کیا جماعت نےاس سےپہلےکی تحریکوں کےتجربات سےاس معاملہ میں کوئی فائدہ اٹھایاہےاورکس طرح؟ ایسےحالات میں دعوت کےلیےکیا طریق کار مناسب ہوگا جہاں کےحکمران بالکل مطلق العنان ہیں اوربنیادی انسانی حقوق تک کاکوئی لحاظ نہیں کرتے"-
جواب:- یہ بھی ایک بڑی تفصیل طلب بحث ہے-مگرمیں اختصارکےساتھ آپ کےسوال کا جواب دوں گا- جماعت اسلامی جس ملک میں کام کررہی ہےاس کےحالات کےلحاظ سےاس نےاپنا طریق کار اختیارکیا ہے- کوئی دوسرا آدمی جو اسلامی دعوت کےلیےکسی اورملک میں کام کررہاہواس کےلیےضروری نہیں کہ وہ ہمارےطریقےکی پیروی کرے- وہ اپنے ملک کےحالات کےلحاظ سےکوئی دوسراطریق کاراختیارکرسکتاہے- ہم اس کےلیےیہ لازم نہیں کرسکتےکہ وہ ہمارےہی طریقےکی پیروی کرے- ہم اپنی جگہ یہ سمجھتےہیں کہ اسلامی حکومت قائم کرنےکےلیےکسی قسم کی خفیہ تحریک کاطریقہ اختیارکرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کےنتائج اچھےنہیں ہوتے، ہم اس کوبھی صحیح نہیں سمجھتےکہ کسی طرح کی سازشیں کرکےکوئی فوجی انقلاب لانےکی کوشش کی جائےاوراس طریقےسےاسلامی حکومت قائم کی جائے- کیونکہ اس کا نتیجہ پھریہ ہوگا کہ جس طرح ایک سازش کےنتیجےمیں اسلامی حکومت قائم ہوگی اسی طرح ایک دوسری سازش کے نتیجےمیں اس کا تختہ الٹ کرکوئی اورحکومت قائم ہوجائےگا- ہمارےنزدیک صحیح طریقہ یہ ہےکہ ہم زیادہ سےزیادہ لوگوں کوایک کھلی اوراعلانیہ دعوت سےاپنا ہم خیال بنائیں- اس میں وقت کی حکومت خواہ کتنی ہی رکاوٹیں ڈالے، ہرطرح کی تکلیفوں کو، ہرطرح کےنقصانات کو، ہرطرح کی سزاؤں کوبرداشت کرلیا جائے اوراپنی دعوت کوبرابرجاری رکھا جائے، یہاں تک کہ زیادہ سےزیادہ لوگ ہمارےہم خیال ہوجائیں- جب لوگ ہمارےہم خیال ہوجائیں گےتو ہم انشاء اللہ جمہوری طریقےسےہی اپنےملک میں اسلامی انقلاب لےآئیں گے- ___________________
کیا زکوۂ ایک ٹیکس ہے؟ سوال 5:- کیا زکوۂ ایک طرح کاانکم ٹیکس نہیں ہے؟ کیا ہم زکوۂ کوفلاح عامہ کےکاموں مثلا مدارس اورہسپتالوں کےلیےاستعمال نہیں کرسکتے؟"
جواب :- زکوۂ کوٹیکس قراردیناسرےسےہی غلط ہے- وہ تواسی طرح ارکان اسلام میں سےایک رکن ہےجس طرح نمازایک رکن ہے، حج ایک رکن ہے، روزہ ایک رکن ہے- زکوۂ انہی عبادتوں کی طرح ایک عبادت ہےاوراس عبادت کومقررکرنےکےساتھ ہی اللہ تعالی نےاس کےمصارف بھی متعین کردیےہیں جن کے سوا کسی اورمصرف میں اسےاستعمال نہیں کیا جاسکتا- آپ جتنےٹیکس دیتےہیں، خواہ وہ انکم ٹیکس ہو یا کسی اورقسم کا ٹیکس، ہرایک کا نفع آپ کی طرف پلٹ کرآتاہے- لیکن زکوۂ ایک ایسی چیزہےجس کا نفع آپ کی طرف آخرت میں پلٹ کرآئےگا- اس دنیا میں کسی طورپربھی اس کی منفعت حاصل ہونےکی امید پرآپ زکوۂ دیں گےتواسےضائع کردیں گے، اس دنیا میں آپ بس حدا کےبتائےہوئےحق داروں کوزکوۂ دےدیجئے اورسمجھ لیجئےکہ یہ نیکی خدا کےدفترمیں درج ہوگئی- اگرآپ اس سےسڑکیں بنائیں گےیا ریلیں بنائیں گے، یا مدرسےاورہسپتال بنائیں گےتوان سےامیراورغریب سب فائدہ اٹھائیں گے، درآنحالیکہ زکوۂ غریبوں کےلیے ہے، امیروں کےلیےنہیں ہے- ان چیزوں سےآپ خود بھی فائدہ اٹھائیں گے- درآنحالیکہ زکوۂ سےآپ کوخود فائدہ اٹھانےکاحق نہیں پہنچتا- اس لیےزکوۂ کوصرف عبادت سمجھ کراداکیجئے، اس کورکن اسلام سمجھئے، انکم ٹیکس نہ سمجھئے- ٹیکس کی خاصیت یہ ہوتی ہےکہ وہ خواہ کتنےہی انصاف کےساتھ لگایا جائےاورکتنی ہی ایمانداری سےوصول اورخرچ کیا جائے- بہرحال جن لوگوں پراس کا بارپڑتا ہےوہ کبھی اس کوخوشدلی سےنہیں دیتےبلکہ اس سےبچنےکی بےشمارراہیں تلاش کرتےہیں- اب کیا خدا کی فرض کی ہوئی ایک عبادت کوبھی ٹیکس سمجھ کراس کے ساتھ آپ یہی سلوک کرنا چاہتےہیں؟ یہ طرز عمل آپ زکوۂ کےساتھ اختیارکریں گےتواپنےمال کےساتھ اپنےایمان کو بھی کھودیں گے- یہ تووہ چیز ہےجوخوشدلی سےدینی چاہیے، خدا کی خاطردینی چاہیئےجتنی آپ پرواجب ہو اس سےبھی کچھ بڑھ کردینا چاہیئے، تا که خدا کی خوشنودی اورزیادہ حاصل ہوسکے- _____________________________
انشورنس سوال 6:- کیا آپ صحت، زندگی، یا حادثات کےبیمےکوایک طرح کا بیت المال نہیں سمجھتے؟ اس میں توہرشخص جواپنےآپ کوانشورکراتاہےوہ ایک طرح کا چندہ دیتاہے، اورحاجت منداس کا فائدہ حاصل کرتےہیں"-
جواب :- آپ نےانشورنس کاکاروبارکرنےوالوں کوبالکل جنت ہی میں پہنچادیا- یہ غلط فہمی آپ کوکہاں سے لاحق ہوگئی کہ یہ ایک بیت المال ہےجس میں مال دارایک چندہ دیتاہےاورحاجت مند لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں ؟ حالانکہ یہ ایک باقاعدہ کاروبار(بزنس) ہے جس کوسرمایہ داراپنےفائدہ کےلیےچلاتےہیں نہ کہ آفت رسیدہ کھینچ کراپنےقبضےمیں (SAVINGS) لوگوں کےفائدےکےلیے- سرمایہ داروں نےسارےمعاشرےکی بچتیں (SAVINGS)ل کےلیےدوطریقےاختیارکئےہیں ایک بینک جوسودکالالچ دےکرلوگوں کےبچےہوئےمالینے اپنےقبضےمیں لیتاہے،اوردوسرےانشورنس کمپنی، جولوگوں کونقصانات کی صورت میں مدد دینےکا لالچ دے کرپرمییم کی صورت میں ان کا سرمایہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے- ان دوطریقوں سےتمام قوم کےبچےہوئے مال ان سرمایہ داروں کےپاس جمع ہوجاتےہیں اورپھریہ اپنی شرائط پراس ساری دولت کو معاشرے کے ان کاموں میں لگاتےہیں جو ان کےلیےزیادہ سےزیادہ مفید ہوں- بینک کی طرح انشورنس کمپنی بھی کوئی فلاح عام ادارہ نہیں ہے، کمپنی والےپوراحساب لگاکردیکھتےہیں کہ جتنےلوگ ہم سےانشورکرتےہیں ان سےہم کو پرمییم کتنا وصول ہوگا اورکتنےنقصانات کی تلافی کرنےکےلیےہم کوکتنی رقم دینی ہوگی – اس حساب سے وہ یہ اندازہ کرلیتےہیں کہ کتنا نفع ہم کوحاصل ہوگا- جب تک انہیں بھاری نفع کی امید نہ ہووہ انشورنس کاکاروبار ہرگزنہ کریں- اب آپ خود بتائیےکہ اگروہ آپ کےایسےہی خیرخواہ ہیں اورخدمت خلق ہی کےلیےکام کررہے ہیں تواتنےبھاری منافع کیسےکماتےہیں؟ اتنی عظیم الشان کوٹھیاں کیسےبناتےہیں؟ اتنےعالی شان دفترکیسےقائم کرتےہیں؟ اتنی بڑی بڑی تنخواہوں والےملازم اورایجنٹ کیسےرکھتےہیں؟ کیا یہ سب کچھ اپنی جیب سے خیرات کےطورپرہورہاہےیا آپ کی جیب سےوصول کیا جاتاہے؟یہ بیت المال نہیں ہے، محض ناجائز نفع اندوزی ہے- ____________________
امریکہ اور کینیڈا میں مسلمان بچوں کی تعلیم کا مسلہ سوال7:- "جماعت اسلامی امریکہ اور کینیڈا میں ہمارے بچوں کی تعلیم کے لیے نصابی کتابیں کس طرح فراہم کر سکتی ہے ؟ "
جواب:- جماعت اسلامی اس خدمت کی خود خواہشمند ہے ۔ آپ اس کو بتائیں کہ آپ کسی قسم کے لڑکچر کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔ میں تو اب واپس جا رہا ہوں ۔ آپ اپنی ضروریات سے مرکز جماعت اسلامی لاہور کو آگاہ کریں اور تفصیل سے بتائیں کہ آپ کو کس طرح کا لٹریچر درکار ہے ۔ انشاء اللہ ہم اسے فراہم کریں گے ۔ یا اگر دہ موجود نہ ہو گا تو تیار کرائیں گے اور یا تو خود چھپوائیں گے یا آپ کو بھیج دیں گے تاکہ آپ خود چھپوا لیں ۔ ____________________
ترقی یافتہ قوموں کیلئے اسلام میں کشش کیا ہے سوال نمبر8 :- "ایک غیر مسلم کے لیے اسلام میں کیا کشش ہے جبکہ اچھے کر کٹڑ کے لوگ غیر مسلموں میں بھی پائے جاتے ہیں ؟ اور مسلمان تو آج کی دنیا میں ایک شکست خوردہ قوم سمجھے جاتے ہیں ۔ “
جواب :- ایک غیرمسلم کےسامنےاسلام بحیثیت ایک دین کےآئےتواس کویہ نہیں دیکھنا چاہیےکہ پیش کرنے والےکون ہیں- اس کو یہ دیکھنا چاہیےکہ پیش کیا چیزکی جارہی ہواورآیا وہ حق ہےیا نہیں؟ اگروہ مطمئن ہو جائےکہ جوچیزمیرےسامنےپیش کیا جارہی ہےوہ حق ہےتواسےقبول کرنا چاہیےاورافسوس کرنا چاہیے اس شخص کےحال پرجوحق اس کےسامنےپیش کررہاہےمگرخود اس کی پیروی نہیں کررہا- اسےپیش کرنے والےکواس بات پرشرم دلانی چاہیئےاورخود اس چیزکی پیروی اختیارکرنی چاہیئےجسےوہ حق سمجھتاہے- یہ کوئی بات نہیں ہےکہ ہم مسلمان چونکہ ایک شکست خوردہ قوم ہیں اس لیےہماری پیش کردہ اسلامی تعلیمات کودنیا قبول نہیں کرےگی- مسلمان آج اتنےشکست خوردہ تونہیں ہیں جتنےتاتاری حملےکےوقت ہوئےتھے- ان وحشیوں نےاس وقت ہمارےبڑےبڑےمراکزتہذیب وتمدن کوبرباد کردیا تھا- بڑی بڑی لائبریریاں تباہ کردی تھیں- لاکھوں مسلمانوں کوقتل کردیاتھا- اورماوارء الہنرسےلےکرمصرکےقریب تک ساری اسلامی دنیا کو تہس نہس کرڈالا تھا- لیکن وہی تاتاری جہنوں نےمسلمانوں پراس طرح سےغلبہ حاصل کیا تھا آخرکار خود مسلمان ہوگئے- انہوں نےاسی شکست خوردہ قوم کےدین کوقبول کرلیا جس نےان کےآگےہتھیارڈالےتھے- اس سےمعلوم ہوا کہ آپ کا ایک شکست خوردہ قوم ہونا اس امرماں مانع نہیں ہےکہ آپ دنیا کےسامنےاسلام پیش کریں- اسلام کومعقول طریقےسےپیش کیجئےاورساتھ ساتھ یہ کوشش کیجئےکہ آپ کی زندگی بھی اس کے مطابق ہوتاکہ لوگوں کےسامنےآپ اپنی بری مثال پیش نہ کریں- لیکن اگرفرض کیجئےکہ آپ اپنی زندگی نہیں بدلتےتوپھربھی اسلام کواس کی اصل صورت میں اللہ کےبندوں تک پہنچانےمیں کوتاہی نہ کیجئے- کوئی معقول آدمی یہ نہیں کہہ سکتاکہ میں ایک حق بات کواس لیےقبول نہیں کرتا کہ اس کاپیش کرنےوالا خود اس پرنہیں چل رہاہے- یہ بالکل ایسا ہی ہےجیسے کوئی لوگوں کےسامنےحفظان صحت کےاصول بیان کررہا ہواوریہ بتارہاہو کہ تمہاری صحت ان اصولوں کی پیروی کرنےسےٹھیک رہ سکتی ہے، اورسننےوالا یہ دیکھےکہ یہ شخص خود حفظان صحت کےاصولوں کی خلاف ورزی کرکےاپنی صحت خراب کررہاہے- تووہ یہ دلیل نہیں دےسکتا- کہ چونکہ تم خود ان اصولوں کی خلاف ورزی کرکےاپنی صحت بگاڑرہےہو- اسلئےمیں بھی حفظان صحت کےیہ اصول قبول نہیں کرتاعقلمند آدمی تو ایسی بات کبھی نہ کہےگا-
اسلام کی ابتدا غربت سےہونیکا مطلب سوال نمبر9:- " اس حدیث کا کیا مطلب ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بداالاسلام غریباوسیکون غریبافطوبی الغرباء اسلام کی ابتداغربت سےہوئی اورپھرایک وقت آئےگا کہ وہ پھرغریب ہوجائےگا- پس خوشخبری ہو،غرباکےلے"-
جواب :- اس حدیث کوسمجھنےمیں عام طورپرلوگوں کوجو مشکل پیش آتی ہےوہ یہ ہےکہ وہ لفظ غریب کو اردومحاورے کےمطابق مفلس کےمعنی میں لےلیتےہیں- حالانکہ غریب کا لفظ زبان میں اجنبی اورنامانوس چیز کےلیےاستعمال ہوتاہےاوراردومیں بھی جب ہم عجیب و غریب بولتےہیں تواس کےمعنی قریب قریب وہی ہوتے ہیں جوعربی میں لفظ غریب کےہیں- ہروہ شخص یاکام یا چیز غریب ہےجس سےلوگ آشنانہ ہوں، جسےنرالا سمجھ کر لوگ اس سےاپراتےہوں، جوان کےذوق اورپسند کےمطابق نہ ہو- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےارشاد کامطلب یہ ہےکہ اسلام کوجب اول اول پیش کیا گیا تو عموما لوگوں نےیہ سمجھا کہ یہ ایک نرالی بات کہی جارہی ہے، ہم تو اس سےبالکل مانوس نہیں ہیں، ہمارےباپ دادانےکبھی ایسی باتیں نہیں سنی تھیں- پس اسلام ابتدا میں بالکل اجنبی تھا اورلوگ اس کوایک نرالی اورناموافق مزاج چیزسمجھتےتھے- پھرایک وقت ایسا آیا کہ اسلام ہی مقبول عام ہوگیا اورہروہ چیزاجنبی ہوگئی جو اسلام کےخلاف تھی- اس کےبعد ایک پھرایساآئےگا جب اسلام دنیا میں پھرغریب ہوجائےگا –یعنی اسی طرح سےغیرمانوس اوراجنبی ہوگا جس طرح وہ ابتدا میں تھا، اوروہ وقت یہی ہےجو آپ دیکھ رہےہیں- آج ایک مسلمان لوگوں کےسامنےنمازپڑھتےہوئےشرماتاہے- اپنےاسلامی لباس میں چلتےپھرتےشرم محسوس کرتاہے- ایک مسلمان عورت اسلامی احکام کی اطاعت میں زندگی بسرکرتےہوئے شرم محسوس کرتی ہے- گناہ کرنےوالا آج جری وبیباک ہےاورایک صالح مسلمان کی سی زندگی بسرکرنے والا اپنی جگہ خوف زدہ بیٹھا ہواہےکہ معلوم نہیں مجھےسوسائٹی میں کیسےقبول کیا جائےگا- اس کا جینا مشکل ہے- ہرچیزاس کےمزاج کےخلاف ہے- ہرچیزان اصولوں کےخلاف ہےجن کووہ حق مانتاہے- وہ سب کچھ دنیا میں دھڑتےسےہورہاہےجس کےمتعلق اس کا عقیدہ ہےکہ یہ بحیائی ہے- فحش ہے، بےشرمی ہے، گناہ ہے، حرام ہے، جن چیزوں کووہ سمجھتاہےکہ یہ فرض ہیں ان کوبجالانا مشکل ہورہاہےاورجن چیزوں کو وہ سمجھتا ہےکہ یہ حلال ہیں ان کا استعمال اس کےلیےدشوارہورہاہے- یہی وقت ہےجس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےخبردی ہےکہ اسلام ایک دفعہ پھرغریب اورنامانوس ہوکررہ جائےگا- اورایسےہی حالات کےبارےمیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہےکہ خوشخبری ہےغریبوں کےلیے، یعنی ان لوگوں کے لیےجوایسےحالات پیدا ہوجانےکےبعد بھی اسلام کےاصولوں پرمضبوطی کےساتھ قائم رہیں اوراس کی کچھ پروانہ کریں کہ دنیا کیا کہتی ہے- دنیا ان کا مذاق اڑائے، یا ان پرہنسے،یا ان کی تذلیل و تحقیرکرے، وہ بہرحال اسلام کےاصولوں سےنہ ہٹیں اوراجنبی بن کررہ جانا قبول کرلیں- ان کےلیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خوشخبری دی ہےوہ آخرت میں کامیاب ہونےکی بشارت تربہرصصورت ہے، خواہ دنیا میں وہ کامیاب ہوں یا نہ ہوں- مگر یہ دنیا میں بھی کامیاب ہونےکی بشارت ہوسکتی ہےاگرایسے"غریب " لوگ مل کرایک مضبوط اورمنظم جماعت جن جائیں اوراسلام کےاصولوں کوغالب کرنےکےلیےاسی طرح جان لڑادیں جس طرح ابتدائےاسلام میں اہل ایمان نےاپنی جانیں لڑائی تھیں- اس صورت میں ان کےلیے خوشخبری ہےکہ آخرکاراسلام کی غربت ختم ہوجائےگی اورپھروہ دنیا میں ایک غالب قوت بن جائےگا- اس کی تشریح سےآپ سمجھ سکتےہیں کہ اسلام کی غربت کےزمانےمیں غریب بن کررہ جانےوالوں کےلیےہرحال میں بشارت ہی بشارت ہے- خواہ وہ دنیا میں اکیلےغریب رہ جائیں، یا اس غربت کی حالت میں منظم ہوکردنیا کی غالب جاہلیت سےلڑیں اوراس پراسلام کوغالب کرنےکےلیےاپنی تمام کوششیں صرف کردیں، یا اس کوشش میں لڑتےلڑتےشہید ہوجائیں_1 ___________________________ 1- مزید تشریح کےلیےہماری کتاب معرکہ اسلام اورجاہلیت کامطالعہ کریں- اخترحجازی
ترقی کا صحیح مفہوم سوال نمبر10:- "اگرہم زمانےکاساتھ نہ دیں توترقی کیسےکرسکتےہیں- اس صورت میں تو ہم دنیا سےپیچھےرہ جائیں گے"
جواب :- اس سےپہلےایک حدیث کی تشریح میں جوکچھ میں نےکہا ہےاس میں اس سوال کا جواب پوری طرح آگیا ہے- ایک بگڑی ہوئی سوسائٹی کےاندرشراب اورزنا اورجوا توایسےحلال وطیب ہوجاتےہیں کہ علی الاعلان ان کا ارتکاب میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ ان پراعتراض کرنےوالا الٹا نکوبن جاتاہے-ان سےبھی آگےبڑھ کرایسےگھناؤ نےافعال بھی جن کانام لیتےہوئےشرم آتی ہے کھلےبندوں کیےجانے لگتےہیں، یہاں تک کہ پوری بےباکی کےساتھ ان کوجائزکردینےکامطالبہ صرف کیا ہی نہیں جاتا بلکہ مان بھی لیاجاتاہے ایسےحالات میں ایک مسلمان کایہ کام نہیں ہےکہ غلط قسم کی ترقی (PROGRESS) میں اپنےآپ بھی شامل کرے- ترقی یافتہ قوموں کاہرفعل ترقی نہیں ہے، ترقی دراصل ایک اضافی اصطلاح ہے- ہرشخص یاگروہ اپنےسامنےجو ہدف ( RELATIVE TERM) رکھتاہےاس کی طرف پیش(GOAL) قدمی کووہ ترقی سمجھتاہے- ضروری نہیں کہ وہی ہدف ہمارا بھی ہوجواس کا ہے- ہم اگراس ہدف کوغلط سمجھتےہیں تواس کی طرف جتنی پیش قدمی بھی ہم کریں گےوہ ہمارےلیےترقی نہیں ہوگی بلکہ الٹی رجعت ہو گی، اورہم اپنےہدف سےدورترہوتےچلےجائیں گے- اب آپ خود دیکھ لیں کہ کیا مسلمان ہونےکی حیثیت سےہمارا بھی وہی ہدف ہے-جس کی طرف دنیا کی یہ بگڑی ہوئی قومیں چلی جارہی ہیں؟ اگرہمارا یہ ہدف نہیں ہےتو اس کی طرف پیش قدمی ہمارےلیےترقی کیسےہوسکتی ہے-ہم ایک خدا اورایک رسول اورایک کتاب کےماننےوالےہیں اورہمارا ہدف نیکی اورتقوی کی زندگی ہےجوآخرت میں ہم کوفلاح وسعادت سےہمکنارکرے- ہمارےدین نےہم کو مستقل دی ہیں جوکبھی بدل نہیں سکتیں- جو کچھ حرام ہےوہ ہمیشہ کےلیے (PERMANENT VALUES) قدریں حرام ہے، اسےحلال نہیں کیا جاسکتا- اورجوکچھ حلال ہےوہ ہمیشہ کےلیےحلال ہے، اسےحرام نہیں کیا جاسکتا- ہم ان قوموں کی طرح نہیں ہیں جن کی قدریں روزبدلتی ہیں- آج جونیکی ہےکل وہ بدی بن جاتی ہےاور آج جوحرام ہےکل وہ حلال ہوجاتاہے- ایسی ناپائیدارقدروں کوہم کیسےقبول کرسکتےہیں- ہمارا یہ کام نہیں ہےکہ دنیا جس طرف جارہی ہوہم بھی اسی طرف جائیں- ہمارا کام یہ ہےکہ اگردریا غلط راستہ کی طرف بہہ رہا ہوتوہم اس کا رخ پلٹ دیں، یا اگراس کا رخ پلٹ نہ سکیںتواس کی روکےخلاف چلیں- اس کی رو کےخلاف چل کراپنےہاتھ پاؤں توڑلینا اوراس کےبھنورمیں آکرڈوب جانا اس سےبہترہےکہ ہم اس کےساتھ بہتےہوئےاپنی منزل سےدورہوتےچلےجائیں _____________________
پردہ مغربی معاشرےمیں سوال نمبر11:- " پردہ کےاصطلاحی پہلوکےبارےمیں اسلام کاقاعدہ کیا ہے؟ آپ مغربی دنیا میں اس پرکیسے عمل کراسکتےہیں؟ مردوں اورعورتوں کےمخلوط اجتماعات کےبارےمیں آپ کیا کہتےہیں؟
جواب :- آپ لوگ اس معاملےمیں میرےخیالات جانتےہوں گے- میری کتاب پردہ اردو، عربی اورانگریزی میں شائع ہوچکی ہے- تفسیرسورہ نورمیں بھی اس کی پوری وضاحت کرچکاہوں اوریہ بھی اردواورعربی میں شائع شدہ موجود ہے- سورہ احزاب کی تفسیراگرچہ دوسری کسی زبان میں شائع نہیں ہوئی ، مگراردو میں توشائع ہوچکی ہے- اس کےبعد میں نہیں سمجھ سکا کہ یہاں یہ سوال کرنےکی ضرورت کیوں محسوس کی گئی- یہ بات سب لوگوں کومعلوم ہونی چاہیےکہ اسلام عورتوں اورمردوں کےآزادانہ میل جول اورمخلوط سوسائٹی کاقطعی قائل نہیں ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں جب عورتوں (MIXED SOCIETY) نےچاہا کہ انہیں مسجد نبوی میں آکرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےپیچھےنمازپڑھنےکی اجازت دی جائےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں منع تونہیں کیا مگرفرمایا کہ تمہارا اپنےگھرمیں نمازپڑھنا میری مسجد میں آکر پڑھنےسےبہترہے، اورتمہارا اپنےگھرکےاندرکسی حجرےمیں پڑھنا اپنےگھرکےدالان میں پڑھنےسے بہتر ہے- پھرجب عورتوں نےاس شوق کااظہارکیا کہ وہ آپ کےپیچھےنمازباجماعت میں شریک ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےصرف صبح اورعشاء کےوقت آنےکی اجازت دی، ان کےآنےجانےکےلیےالگ دروازہ مخصوص کردیا- اوران کےلیےمردوں کی صفوں کےپیچھےکی صفیں مقررفرمائیں- اس زمانےمیں صبح کی نماز ایسےوقت ختم ہوتی تھی جب نمازسےفارغ ہوکرمسجد سےواپس جاتےوقت بھی اتنا اندھیرا ہوتاتھا کہ ایک دوسرےکوپہنچانا نہیں جاسکتاتھا- عشاء کی نمازمیں شریک ہونےکی اجازت بھی اس لیےدی گئی تھی کہ اس زمانےمیں بجلی کی روشنی نہیں ہوتی تھی، اس لیےپیچھےکی صفوں میں کھڑی ہونےوالی عورتیں چھپی رہتی تھیں- پھرحکم یہ تھا کہ نمازختم ہونےکےبعد مرد بیٹھےرہیں اور جب عورتیں چلی جائیں اس وقت اٹھیں- جس مذہب کی یہ تعلیمات ہوں اس کےمتعلق آپ یہ پوچھتےہیں کہ وہ عورتوں اورمردوں کےمخلوط اجتماعات کی اجازت دیتاہے؟ اب اگرآپ ایسی جگہ آگئےہیں جہاں اس غلط طریقےکارواج عام ہےتوخدا کےلیےجوکچھ آپ کوکرنا ہےکریں، اس کواسلامی تعلیم بناکرپیش کرنےکی کوشش نہ کریں- شریعت کےتابع آپ نہیں رہ سکتےتوشریعت کواپنا تابع تونہ بنائیں کہ جوکچھ آپ کرتےجائیں، شریعت بھی اس کی اجازت دیتی چلی جائے- مغرب کی اس سوسائٹی کےرنگ ڈھنگ آپ کواختیارکرنےہیں توکیجئےمگراپنےآپ کوگناہ ہگارسمجھ کرکیجئے-
اسی پچھلےسوال کےسلسلےمیں ایک اوربات آپ سےکہنا چاہتاہوں- اگریہ سوال کوئی شخص مجھ سےپاکستان میں یا کسی دوسرےمسلمان ملک میں کرتاتواس کی وجہ کچھ سمجھ میں بھی آسکتی تھی- لیکن یورپ ، امریکہ یا کینیڈا میں جولوگ رہتےہیں ان کا ایسےسوال کرنا بہت ہی عجیب معلوم ہوتاہے- آپ آنکھوں سےدیکھ رہےہیں کہ اختلاط مردوزن کیارنگ دکھارہاہے- کیسی کیسی اخلاقی خرابیاں یہاں امنڈرہی ہیں- کس کارواج بڑھ رہاہے، اسےقانونی جواز(ABORTION) طرح خاندانی نظام تباہ ہورہاہے- کس طرح اسقاط حمل عطا کیا جارہاہےاورکہا جارہاہےکہ عورت کواس کاویسا ہی حق ہےجیسا ایک دانت نکلوانےکااسےحق ہے، کس طرح نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہےکہ خواہشات نفس کوپورا کرنےکی جوطبعی صورتیں تھیں ان سےلوگوں کی طرف (PERVERSIONS) کےدل بھرگئےہیں، اوراب وہ طرح طرح کےگھناؤنے خلاف فطرت افعال مائل ہوتےجارہےہیں، بلکہ اس قسم کےافعال بھی بےتحاشاوبا کی طرح پھیل رہےہیں- عریانی کس شدت سےبڑھ رہی ہے- نیم برہنہ نوجوان جوڑےکس بےشرمی کےساتھ برسرعام بوس وکنارکررہےہیں- حرامی بچوں کی تعداد کس رفتارسےبڑھ رہی ہےاورحلالی بچوں کی پیدائش کوکس طرح روکاجارہاہے- یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سےدیکھ لینےکےبعد توآپ کوسمجھنا چاہیئےتھا کہ آپ کےاوپرخدا اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کایہ احسان عظیم تھا کہ اس نےاخلاقی تباہی کےاس گڑھےمیں گرنےسےپہلے ہی اس راستےکےاولین قدم پرآپ کوروک دیا جو اس گڑھےکی طرف لےجانےوالا تھا- یہاں جو شخص اختلاط مردوزن کےجوازکا فتوی پوچھتاہے، مجھےاس پرسخت حیرت ہوتی ہے- ____________________________
فلاحی ریاست کا اسلامی تصور سوال نمبر12:- " اسلام میں محاصل (TAXATION) کا کیا تصورہے؟ ایک فلاحی ریاست اسلام کا معاشی نظام اختیارکرنےکےبغیرنہیں بن سکتی- مگرجماعت اسلامی نےاس کوکبھی نمایاں کرکےپیش نہیں کیا؟
جواب :- میں نہیں سمجھتاکہ جن صاحب نےیہ سوال کیا ہےانہوں نےمیری اورجماعت اسلامی کی شائع کردہ کتابوں اورجماعت کےمنشورکوکبھی دیکھا ہے- اگرانہوں نےیہ چیزیں دیکھی ہوتیں توشاید یہ بات نہ کہتے کہ جماعت نےاسلام کےمعاشی نظام کوپیش نہیں کیا ہےاورنہ یہ بتایا کہ اسلام کس طرح ایک فلاحی ریاست بناتاہے- ان کی غلط فہمی رفع کرنےکےلیےعرض کرتاہوں کہ ہم نےوضاحت کے(WELFARE STATE) ساتھ یہ بیان کیا ہےکہ اسلام ہی ایک صحیح قسم کاویلفیرسٹیٹ بناسکتاہے- ایک ویلفیرسٹیٹ تووہ ہوتاہےجس میں لوگوں کوکسی قسم کی اخلاقی تعلیم وتربیت نہیں دی جاتی ان کوکسی قسم کی صحت مندروحانی غذانہیں ملتی- ان کوصحیح معنوں میں انسان بنانےکی کوئی کوشش نہیں کی جاتی- البتہ اس امرکی کوشش کی جاتی ہےکہ ان کی تمام ضروریات کوسٹیٹ پوراکرے- اس کا نتیجہ یہ ہوگیا ہےکہ جب ان کی تمام ضروریات سٹیٹ پوری کردیتاہےتواس کےبعد ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اب وہ اور کیا کریں- پھروہ بےمقصد عیش کی زندگی سےاکتاکرطرح طرح کی بدراہیوں اوربدکرداریوں پراترآتے ہیں- اورجب ان سےبھی دل بھرجاتاہےتونوبت یہاں تک پہنچتی ہےکہ خود کشی کرنےلگتےہیں- آپ کومعلوم ہےکہ آج جوبڑےبڑےویلفیرسٹیٹ ہیں ان میں خودکشی کی شرح کیا ہے؟ اگریہ ویلفیرسٹیٹ واقعی آدمی کو مطمئن کردیتاہےتواس کوخودکشی کرنےکی کیا ضرورت ہے؟ اس سےمعلوم ہواکہ محض دینوی سامان عیش کی فراوانی انسان کواطمینان نہیں بخش سکتی- انسان صرف روٹی سےنہیں جی سکتا- اس کےقلبی اطمینان کےلیے اوراس کے ذہنی سکون کےلیےمادی خوشحالی کےعلاوہ بھی کوئی چیزچاہیئےجویہ ویلفیرسٹیٹ پیش نہیں کرسکتا-
پھریہ ویلفیرسٹیٹ آدمی کوکام چوربنا دیتاہے- وہ کم سےکم کام کرکےزیادہ سےزیادہ معاوضہ لینا چاہتاہے- وہ کہتاہےہفتہ وارتعطیل کےلیےدودن بھی کافی نہیں ہیں- تین دن ہونےچاہییں- بلکہ وہ ہفتےمیں تین دن ہی کام کرنا چاہتاہے- دفتروں اورکارخانوں میں جاتاہےتوہربہانےکام سےبچنےکی کوشش کرتاہے- اخلاق کی بنیاد کےبغیرجس ویلفیرسٹیٹ کی تعمیرکی جاتی ہےوہ بالاخراسی طرح کی خرابیوں سےدوچارہوکررہتی ہے- اس کےبرعکس اسلام پہلےانسان کا اخلاق درست کرتاہےاسےحق شناس اورفرض شناس بناتاہےاس میں خدا ترسی اورپرہیزگاری پیدا کرتاہے، اورپھراس کےلیےدنیوی خوشحالی کاپورا سروسامان بہم پہنچاتاہے- ایسےویلفیرسٹیٹ میں نہ انسان کام چوربنتاہےنہ بدکردار، اورنہ اسےکبھی خودکشی کی ضرورت پیش آتی ہے- اس کی تمام جائزخواہشات اورضروریات جب پوری کردی جاتی ہیں تووہ آگےبڑھ کر انسانیت کی فلاح کا کام کرتا ہے- اوراپنےاوقات ووسائل زیادہ سے زیادہ نیکیوں اوربھلائیوں کے پھیلانےمیں صرف کرتا ہے- _____________________________
حرام و حلال گوشت کا مسئلہ سوال نمبر13:- " حلال گوشت کاکیا تصورہے؟ کیاجانورکو ذبح کرتےوقت اللہ اکبرکہنا ضروری ہے؟ اورسورکیوں حرام ہے؟ جھٹکےکا گوشت مکروہ ہےیا حرام؟ کن حالات میں مجبوری کےباعث جھٹکےکا گوشت کھایا جا سکتا ہے؟ اگرکوئی غیرمسلم اللہ اکبرکہہ کراسلامی طریقہ سےذبح کرتاہےتوگوشت حلال ہوتاہےیا حرام ؟ بہت سےمسلمان جھٹکےکا گوشت کھاتےہیں اورتاویل فرماتےہیں کہ لقمہ کھانےسےپہلے" اللہ اکبر" کہنےسےیہ گوشت حلال ہوجاتاہے- یہ بات صاف طورپرعیاں ہےکہ اگروہ جھٹکےکےگوشت پرپوراقرآن شریف بھی ختم کرلیں تووہ گوشت جھٹکےہی کا گوشت رہےگا- راقم الحروف نےاپنےایک بھائی کےذریعےمفتی محمد شفیع صاحب سےدریافت کرایا تھا کہ جھٹکےکا گوشت مکروہ ہےیا حرام؟ جواب وصول ہوا- حرام ہےاورصرف اس حد تک کھایا جاسکتاہے کہ حیات باقی رہے "
جواب :- میں اس مسئلےکی وضاحت اردومیں بھی کرچکاہوں اورعربی میں بھی- جواصحاب اس مسئلے کو تفصیل کےساتھ سمجھنا چاہیں وہ اردویا عربی میں میرےاس مضمون کوپڑھ لیں- اردومیں میری کتاب تفہیمات حصہ سوم میں یہ مضمون موجود ہے- اورعربی میں پہلےاس کو" المسلمون " نےشائع کیا تھا اوربعد میں وہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے- جہاں تک میں نےقرآن وحدیث کامطالعہ کیا ہے، میرےعلم میں ایک گوشت کےحلال ہونےکےلیےتین شرطیں ہیں- ایک یہ کہ جانورحلال قسم کاہونہ کہ ایسا جانورجسےشریعت میں حرام کیا گیا ہے، دوسرےیہ کہ جانورکا گلااس حد تک کاٹاجائےاس کےدماغ کا پچھلا حصہ جسم سے منقطع نہ ہوجائےکیونکہ اگروہ کٹ جائےتوجانورکی موت فورا واقع ہوجائےگی اوراس کےجسم کا پورا خون باہرنہ آسکےگا-بلکہ اندرہی گوشت کےساتھ چمٹ کررہ جائےگا- لیکن اگرآدھا گلا کاٹا جائےاورپچھلےحصہ کا تعلق جسم کےساتھ باقی رہےتوجانورتڑپےگااوراس کےتڑپنےسےخون پوراکا پوراباہرآجائےگا اوراس کی موت خون بہنےسےواقع ہوگی- اس طرح اس کا گوشت خون سےپاک ہوجائےگا- تیسری شرط یہ ہےکہ ذبح کرتےوقت جانورپراللہ کانام لیا جائے- اللہ کا نام لیےبغیرذبح کرنا جائزنہیں ہےجیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ولا تاکلواممالم یذکراسم اللہ علیہ – جانورپراللہ کانام لینےکا مطلب یہ نہیں ہےکہ جانورکھڑاہےاوراس پراللہ کا نام لےلیا جائے، بلکہ ذبح کرتےوقت اس پراللہ کانام لینا مقصود ہے- ان شرطوں سےذبحیہ حلال ہوتاہے- یہ شرطیں اگرنہ پائی جائیں تومیرےنزدیک اورعلماء کی اکثریت کےنزدیک وہ حلال نہیں ہوگا-
سورکیوں حرام کیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہےکہ اللہ تعالی نےدنیا میں ہرچیزکھانےہی کےلیےپیدا نہیں کی ہے- جولوگ سورکےمتعلق یہ سوال کرتےہیں وہ آخردوسرے بہت سےجانوروں کےمتعلق بھی کیوں نہیں پوچھتے؟ انہیں پوچھنا چاہیئےکہ چوہا، بلی، گدھا، کتا، چیل،کوا، گدھ ، کیبچوےوغیرہ کیوں نہ کھائےجائیں؟ ظاہرہےکہ دنیا کی ہرچیزصرف کھالینےکےلیےنہیں ہے- رہا یہ سوال کہ اللہ تعالےنےخاص طورپرسورکی حرمت کاحکم کیوں دیا- تواس کاجواب یہ ہےکہ دنیا میں بعض چیزیں توایسی ہیں جن کےنقصانات کوہم خود جان سکتےہیں اوران کوجاننےکےلیےہمارا علم وتجربہ کافی ہے- ایسی چیزوں کےاستعمال سےمنع کرنےکی اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی ضرورت نہ تھی- لیکن جن چیزوں کانقصان ہم نہیں جان سکتےان کےمتعلق حکم دینا اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےذمہ لیا ہے- وہ ہمیں بتاتےہیں کہ انہیں کھانےسےپرہیزکرو- اب جسےاللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پراعتماد ہووہ ان سےپرہیزکرےاورجسےان پراعتماد نہ ہووہ جوکچھ چاہیےکھاتارہے-
جھٹکےکےگوشت کےمتعلق چونکہ حرمت کاحکم خود قرآن مجید میں ہےاس لیے اسےمحض مکروہ کہنا صحیح نہیں ہےبلکہ وہ حرام ہے- اسےاوردوسری حرام چیزوں کوصرف ایسی حالت میں کھایا جا سکتاہےجبکہ آدمی کی جان پربن رہی ہواورصرف وہ حرام چیزہی بھوک مٹانےکےلیےموجودہو- ایسی حالت میں صرف جان بچانےکی حدتک اسےکھایا جاسکتاہے-
پاکستان سےکسی کافرملک کی جنگ میں جماعت اسلامی کا رویہ ___________________________ سوال نمبر14:- " اگرپاکستان اورکسی غیرمسلم حکومت میں جنگ ہوتوکیا جماعت حکومت کی مدد کرےگی؟ اگرجواب ہاں ہےتوکس حد تک مددکرےگی؟ کیا وہ دوسری مسلمان حکومتوں پربھی یہ اثرڈالےگی کہ وہ پاکستان کی مدد کریں؟
جواب :- اگرکوئی غیرمسلم ملک کسی مسلمان ملک پرحملہ کرےاس صورت میں اس کی مدافعت کےلیےجنگ کرنا ہمارا دینی فریضہ ہےقطع نظراس سےکہ مسلمان ملک کی حکومت کیسی ہی ہو- اس لیےکہ حکومت خواہ بری ہویا اچھی، اگرغیرمسلم دشمن ملک کےاوپرقابض ہوجائےتوہماری مسجدیں، ہماری عورتوں کی آبرو، ہماری جان ومال، کوئی چیزبھی محفوظ نہیں رہ سکتی، اس لیےہم کواپنےدین، اپنےگھر، اپنی عزت، اپنی آبرو اوراپنےمال کوبچانےکےلیےجنگ کرنےکا حق ہے- ساری دنیا میں مدافعت کےاس حق کوتسلیم کیا جاتاہے اور شریعت نےبھی اس کا حکم ہمیں دیا ہے- اس میں یہ بحث نہیں ہےکہ ہمارےملک کی حکومت کیسی ہے- اگرکوئی فاسق وفاجربھی حکمراں ہوتب بھی ہم اس کےساتھ مل کرلڑیں گےاورملک کوبچائیں گے- اس کےبعد جب اس فاسق وفاجرکی خبرلینی ہوگی تولیتےرہیں گے- اس کےعلاوہ یہ بھی ایک شرعی مسئلہ ہی ہےکہ کسی مسلمان ملک پراگرکوئی غیرمسلم طاقت حملہ کرےتودوسرےمسلمان ملکوں کوبھی اس کی مدد کرنی چاہیے- _______________________
جماعت اسلامی نےمشرقی پاکستان میں فوج کی مدد کیوں کی؟ سوال نمبر15:- " جماعت اسلامی نےمشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی مدد کی- پاکستان کی فوجوں نےوہاں بہت مظالم کئے- اس بنا پرکیا جماعت کوان کےرویہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے؟
جواب:- ہمارےپیش نظریہ تھا کہ مشرقی پاکستان کےمسلمان ،جو دوبرس تک انگریزاورہندو کےہاتھوں کچلے جاتےرہےتھے- کہیں وہ پھرہندوستان کی غلامی میں نہ چلےجائیں- لہذا ان کوبچانےکےلیےہم نےجنگ کی- اورآپ کومعلوم ہونا چاہیےکہ یہ جنگ ہماری جماعت کےبنگالی کارکنوں ہی نےلڑی تھی- مغربی پاکستان سےجماعت کاکوئی آدمی نہ گیا تھا- مشرقی پاکستان میں عملا جوصورت پیش آئی وہ یہ تھی کہ بنگالی قوم پرست مسلمان اورہندومل کرایک قوم بن گئےتھے، اورانہوں نےہندوستان سےمدد لےکرپاکستان کےخلاف بغاوت کی تھی- اب آپ ہی بتائیں کیا ہم سےیہ توقع کی جاسکتی تھی کہ ہم آنکھوں دیکھتےاس بات کوگواراکر لیتےکہ ایک طرف اندرسےہندواورمسلمان بنگالی قوم پرست مل کربغاوت کریں اوردوسری طرف باہرسے ہندوستان کےہندوپہلےدرپردہ اورپھرعلانیہ ان باغیوں کی مددکوآ جائیں- اورہم ہاتھ پرہاتھ رکھ کربیٹھےیہ تماشا دیکھتےرہیں- یہ بغاوت مشرقی پاکستان کےعام مسلمانوں کی نہ تھی بلکہ صرف بنگالی قوم پرست مسلمانوں اورہندوؤں کی تھی، اورہندوستان کی مداخلت اس کوطاقت پہنچارہی تھی- اس کےکامیاب ہونےکا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھاکہ وہاں سات کروڑمسلمانوں کی آبادی غلامی کےجوئےمیں کس دی جائے- کیا آپ کی رائے میں ہمیں اس المناک نتیجےکورونماہونےسےروکنےکےلیےکچھ نہ کرنا چاہیےتھا؟ اب آپ خود جاکروہاں دیکھ لیں کہ اس نام نہاد بنگلہ دیش کی عام مسلمان آبادی کاکیاحال ہورہاہے- ان کےمذہبی مدارس تباہ کردیےگئے- بکثرت بنگالی مسلمان علماء قتل کردیےگئے- دینی تعلیم کےلیےقاعدےاورسیپارےتک نہیں مل رہےہیں- معاشی بد حالی کایہ عالم ہےکہ ایک مزدورکوآٹھ روپےروزانہ اجرت ملتی ہےمگربیس روپےسےکم میں ایک دن کاکھانا میسرآتا- حالانکہ ایک زمانہ میں جب پاکستان تھا تین روپےایک مزدورکوملتےتھےاوروہ پیٹ بھرکردو وقت کھانا کھاتاتھا-اب جاکراہل بنگال کواورخود بنگالی قوم پرست مسلمانوں کومعلوم ہوا ہےکہ ناجائز استحصال (EXPLOITATION) جس کارونا دہ پاکستان کےزمانےمیں روتےتھے، اصل میں کس چیز کا نام ہےاوراب انہیں کون لوٹ کھسوٹ رہاہے- ہندوستان کی فوجوں نےوہاں داخل ہوکرملک کوبےتحاشا لوٹاہے- ہندووہاں کے کارخانےاکھاڑاکھاڑکرلےگئے- لوگوں کےگھروں سےریفریجیٹراورایئرکنڈیشنرتک نکال لےگئے- موٹریں چھین چھین کرلےگئے- اوراب اتنےبڑےپیمانےپروہاں کاخام مال ہندوستان اسمگل ہورہاہےکہ اس نےمشرقی پاکستان کی معیشت کوکھوکھلاکردیاہے- جونام نہاد آزادی مشرقی پاکستان کےلوگوں کوملی ہے- اس کی حقیقت یہ ہےکہ ہندوستان جب چاہیےوہاں اپنی فوجیں داخل کرسکتاہے- ہندوستان کی مرضی کےخلاف یہ نام نہاد بنگلہ دیش کوئی فوج ،کوئی ایرفورس اورکوئی بحری بیڑہ نہیں رکھ سکتا- نہ کسی سےآزادانہ تجارتی معاملات طےکرسکتاہے- اپنےبنگالی مسلمان بھائیوں کواسی انجام سےبچانےکےلیےجماعت اسلامی کےکارکنوں نےاپنی جانیں لڑادیں اوراپنےچھ سات ہزارسےزیادہ آدمی شہید کرادیے- جولوگ مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج کےمظالم کی دوہائی دیتےہیں ان کومعلوم نہیں ہےکہ بنگالی قوم پرست مسلمانوں نےہندوؤں کےساتھ مل کرنہ صرف غیر بنگالی مسلمانوں پر بلکه خوددیندار بنگالی مسلمانوں پربھی کیسےکیسےخوفناک مظالم ڈھائےتھے- انہوں نےمردوں، عورتوں بچوں اوربوڑھوں کوبلاامتیازلاکھوں کی تعداد میں قتل کیا- عورتوں کےننگےجلوس نگالےاورباپوں، بھائیوں، شوہروں اوربیٹوں کےسامنےان کی بےحرمت کیا- حاملہ عورتوں کےپیٹ چاک کیے- بچوں کوقتل کرکےان کی ماؤں کومجبور کیا کہ ان کاخون پیئیں- میں یقین رکھتاہوں کہ جس سرزمین میں مسلمان کافروں کےساتھ مل کرمسلمانوں پر یہ ظلم ڈھائیں وہ سرزمین خدا کےعذاب سےکبھی نہیں بچ سکتی- آفرین ہےمغرب کےجھوٹےپریس پرکہ اس نے پاکستانی فوجوں کےجھوٹےسچےمظالم کاتو ڈھول خوب پیٹا، مگر بنگالی قوم پرستوں کےان مظالم کاکبھی ذکر تک نہ کیا _____________________________
اہل کتاب کی ذبیحہ سوال نمبر16:- " یہودی یا مسیحی اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا گوشت حلال ہےیا حرام؟"
جواب :- قرآن مجید میں آپ سورۂ مائدہ کاپہلا رکوع پڑھیئے، اس میں سب سےپہلےمسلمانوں سےیہ کہا گیا ہےکہ تمہارےلیےطیبات (پاک چیزیں) حلال کی گئی ہیں- اس کےبعد یہ کہا گیا ہےکہ تمہارےلیے اہل کتاب کا کھانا حلال ہے- اس کےمعنی یہ ہوئےکہ اہل کتاب کا طیب کھانا ہمارےلیےحلال کیا گیاہےنہ کہ ان کا خبیث (ناپاک) کھانا- اوراس پراللہ کانام لیا گیا ہو- انہی شرائط کےساتھ اہل کتاب کاکھانا ہمارےلیےحلال کیا گیا ہے- جہاں تک مجھےمعلوم ہےساتویں آٹھویں صدی تک عیسائی کم ازکم شرق اوسط میں اسی طریقہ سےذبح کرتےتھے، جیساکہ حافظ ابن کیثرنےاپنی تفسیرمیں بیان کیا ہے- اس لیےان کا ذبیحہ حلال تھا- مگراب چونکہ انہوں نےاس طریقہ کی پابندی چھوڑدی ہےاس لیے ان کا ذبیحہ حلال نہیں رہا- البتہ مذہب کےپابندیہودیوں کےمتعلق مجھےمعلوم ہواہےکہ ان کےہاں ذبح کرنےکا طریقہ تقریبا وہی ہےجوہمارےہاں رائج ہےاوروہ ذبح کرتےوقت اللہ کانام لیتےہیں – اب یہ آپ لوگ خود تحقیق کرلیں کہ وہ یہاں اس طریقہ پرعمل کرتےہیں یانہیں- میں نےپاکستان میں ان کےایک عالم سےپوچھا تھا تواس نےمجھےبتایا تھا کہ ہمارےہاں بھی یہی حکم ہےکہ ذبح کرتےوقت اللہ کا نام لیا جائےاورہمارےہاں ذبح کاطریقہ بھی وہی ہےجوآپ کےہاں ہے- اسی بنا پرمیں ان کےذبیحہ کوحلال سمجھتاہوں- مگرمیں آپ سےیہ کہےبغیر نہیں رہ سکتا کہ اگریہودیوں نے دنیا بھر کےملکوں میں منتشر ہوجانے کے جاوجود اپنے لیے کو شر (KOSHER) گوشت کا انتظام کیا اوراپنےاس حق کوتسلیم کرایا کہ وہ اپنےلیےجانوراپنےطریقہ پر ذبح کریں گے- توآخرآپ ہزاروں کی تعداد میں یہاں رہتےہوئےاپنےلیےحلال گوشت کا انتظام کیوں نہیں کرتےاورخواہ مخواہ کی تاویلوں سےجھٹکےکےگوشت کواپنےلیےحلال کرنےکی کوشش کیوں کرتےہیں؟ __________________________
اہل کتاب کی عورتوں سےنکاح کا مسئلہ سوال نمبر17:- "کیا آپ سمجھتےہیں کہ اس زمانےکےیہودی اورعیسائی اہل کتاب میں شمارہوسکتےہیں؟ کیا ایک مسلمان اس زمانےکی ایک یہودی یا عیسائی عورت سےشادی کرسکتاہے؟ اگرنہیں توآپ قرآن کی اس آیت کی کیا توجیہ کریں گےجواہل کتاب کی عورتوں سےشادی کرنےکوجائزقراردیتی ہے؟"
جواب :- اس زمانےکےیہودیوں اورعیسائیوں کےمذہب میں کوئی نئی بات ایسی نہیں پائی جاتی جو نزول قرآن کےزمانےمیں ان کےاندرموجودنہ رہی ہو- اس وجہ سےیہ اب بھی اہل کتاب ہی ہیں- رہاان سےشادی کرنےکاتعلق تواس کےبارےمیں آپ تین باتوں کوملحوظ رکھیں-
دوسرے یہ کہ جن عورتوں سےشادی کرنےکی اجازت دی گئی ہےان کےلیےایک شرط تویہ لگائی گئی ہےکہ وہ محصنات ( یعنی باعصمت) ہوں- اوردوسری شرط یہ کہ ان سےخفیہ یا علانیہ ناجائزتعلقات پیدا نہ کیے جائیں- اورشادی کرکےان کی خاطراپنےایمان اوراپنی آخرت کوخطرمیں نہ ڈالا جائے-
تیسری بات یہ ہےکہ جوکام شرعا جائزہیں ان پرعمل کرنےسےپہلےآدمی کواپنےزمانےکےحالات اورماحول پرنگاہ ڈال کریہ ضروردیکھ لینا چاہیےکہ آیا اس زمانےاوراس ماحول میں یہ کام کرنےسےکوئی قباحت توپیدا نہیں ہوگی- اب آپ دیکھیئےکہ امریکہ تواہل کتاب ضرورہیں، لیکن(TECHNICALLY) کینیڈا اوریورپ میں جوعورتیں پائی جاتی ہیں،وہ اصطلاحا ان میں بہت کم تعداد ایسی عورتوں کی ہےجوصحیح معنوں میں اہل کتاب ہوں- یعنی خدا اوررسول اورکتابوں اورآخرت پرایمان رکھتی ہوں- پھرجوایسی ہیں بھی ان پرمحصنات ہونےکااطلاق مشکل ہی سےہوسکتاہے- اب رہا زمانےاورحالات کامعاملہ توان ممالک میں رہتےہوئےکسی یہودی اورعیسائی عورت سےشادی کرنےکے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنےآپ کونہیں تواپنی آئندہ نسل کوغیرمسلم معاشرےمیں بالکل جذب ہوجانےکےخطرے میں مبتلا کررہاہے- اوراگروہ بالفرض اس عورت کواپنےمسلم معاشرےمیں لےبھی جائےتواس طرح کی عورتوں میں بمشکل ایک فیصد عورت ایسی ملےگی جواپنےآپ کو، اپنےگھرکو، اوراپنےبچوں کواسلامی معاشرےکےآداب اورطرززندگی میں ڈھال لے- اس کےبرعکس خود شوہرصاحب اس کی خاطراپنےپورےگھر کوایک مغربی گھرکانمونہ بنالیتےہیں اوران کی میم صاحبہ صرف اپنےہی گھرکونہیں بلکہ شوہرکےخاندان اور رشتہ داروں کوبھی اسلامی طرززندگی اوراسلامی افکارسےہٹانےکی موجب بن جاتی ہیں- ایسی صورت میں جذبات سےمغلوب ہوکرمحض جوازکےحیلےسےعیسائی یا یہودی عورتوں سےشادی کرلینا دینی مصلحت کےبالکل خلاف ہے- __________________________
کیا اسلامی اصول حالات اورزمانےکےمطابق ڈھالےجاسکتےہیں سوال نمبر18:- کیا آپ کاخیال یہ ہےکہ بعض اسلامی اصول حالات اورزمانےکےمطابق ڈھالے جاسکتےہیں؟ آپ کا ان لوگوں کےمعاملےمیں کیا طرزعمل ہوگاجو ہیں تو مسلمان مگر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑاتےہیں؟"
جواب:- آپ نےدراصل دوسوالات کیےہیں- پہلےسوال کایہ جواب ہےکہ حالات اورزمانےپراسلامی اصولوں کومنطبق کرنےکاکام بچوں کاکھیل نہیں ہے، بلکہ اسلامی قانون میں گہری مجتہدانہ بصیرت رکھنےوالےہی ایسا کام کرسکتےہیں- اوراکثر صورتوں میں زمانےاورماحول کےحالات پران کومنطبق کرنےکی شکل وہ نہیں ہوسکتی جوعلم دین کےبغیر اس طرح کےانطباق کی باتیں کرنےوالےچاہتےہیں- اگرحالات اورزمانےمیں اسلام کےاصولوں کےخلاف بگاڑ پیدا ہوگیا ہوتواسلام میں بصیرت رکھنےوالا آدمی اسلامی اصولوں میں ڈھیل پیدا کرنےکےبجائےاورزیادہ سختی برتنےکی ضرورت محسوس کرےگا- مثلا ابھی اہل کتاب سےشادیاں کرنےکےمتعلق جوسوال مجھ سے کیا گیا تھااس میں میں آپ کوبتاچکاہوں کہ حالات وزمانےکی رعایت سےاس دورکی یہودی لڑکیوں سےشادی کرنےکی اجازت میں نرمی کرنےکےبجائےالٹی سختی کرنےکی ضرورت ہے-
آپ کےدوسرےسوال کاجواب قرآن مجید ہی میں دےدیاگیا ہے- سورہ نساء (آیت -40) میں فرمایا گیا ہے کہ :- "جب تم سنوکہ اللہ کی آیات سےکفرکیا جارہاہےاوران کا مذاق اڑایا جارہاہےتوایسےلوگوں کےپاس ہرگزنہ بیٹھوجب تک کہ وہ گفتگوکا موضوع بدل نہ دیں____________اگرتم نےایسا کیا تو تم بھی انہی جیسےہوگے"- ______________________________
کیا شادی سےپہلےلڑکی سےتخلیہ میں ملاقات کی جا سکتی ہے سوال نمبر19:- " کیاایک مسلمان اس لڑکی سےملاقات کرسکتاہےجس سےوہ شادی کرنا چاہتاہو؟ اگریہ جائزہے توکیا وہ تخلیہ میں اس سےمل سکتاہےاوراس کےسرپرستوں کی اجازت کےبغیربھی مل سکتاہے؟"
جواب:- اسلام میں کورٹ شپ کی کوئی جگہ نہیں ہے- جس بات کی اجازت حدیث میں دی گئی ہےوہ صرف اتنی ہےکہ لڑکی کےسرپرستوں کی موجودگی میں اس کی شکل دیکھ لی جائے- تخلیےکی ملاقاتیں، اور وہ بھی سرپرستوں کےعلم واجازت کےبغیر، اسلامی طریقہ نہیں ہے- بلکہ یہ رنگ ڈھنگ امریکہ اور کینیڈا اور یورپ کےلوگوں کوہی مبارک رہیں- آپ لوگ اگریہاں اپنی معاشی ضروریات کی خاطرآئے ہیں تو اپنے اوپرکم ازکم اتنا کرم کیجئےکہ اپنی اسلامی اقدارکو یہاں کے طورطریقوں کےمطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں- ________________________________
کیا سودی قرض لےکرمکان خریداجاسکتاہے سوال نمبر20:- " اس ملک میں مکان بہت مہنگےہیں اورکرائےپراگرآدمی لےتووہ بھی بہت زیادہ گراں ہوتاہے- اس حالت میں کیا مکان بینک کےپاس رہن رکھ کرسودی قرضہ کےذریعہ خریدا جا سکتا ہے؟"
جواب:- حرام وحلال کےاختیارات اگرمیرےہاتھ میں ہوتےتومیں آپ کےلیےکسی چیزکوحرام نہ رہنے دیتا- لیکن یہ اختیارات تو اللہ نےاپنےہاتھ میں رکھےہیں، اورمیں اس کےمقررکیےہوئےحلال وحرام کےاحکام میں کوئی ردو بدل کرنےکا محازنہیں ہوں-
رہی یہ بات کہ آپ یہاں کےحالات میں اپنےسودی ذرائع سےمکان خریدنےپرمجبورسمجھتے ہیں، تواپنی اس مجبوری کافیصلہ آپ اپنی ذمہ داری پرخود کریں- مجھےاس ذمہ داری میں شریک نہ کریں- آپ کودنیا میں کم ازکم مکان تومل جائےگا- لیکن آخرت میں آپ کےساتھ میری بھی شامت آئےگی- ___________________________
سرکاری با نڈ زکا حکم سوال نمبر21:- "کیا گورنمنٹ کےبانڈزپردیا جانےوالا منافع بھی سود میں شمارہوتاہے؟"-
ایسی کمپنی کی ملازمت جوحلال وحرام دونوں قسم کےکام __________ کرتی ہو _____________ سوال نمبر22:- " کیا کسی حالت میں ایک مسلمان کسی ایسی تجارتی کمپنی میں ملازمت کرسکتاہےجوحلال وحرام دونوں قسم کی چیزیں تیارکرتی ہویا ان کا بیوپارکرتی ہو؟
جواب:- ایک غیرمسلم معاشرےاورحکومت میں رہ کرمسلمان افراد کےلیےحلال وحرام کی تمیزکرنا اورحرام سےہرحالت میں بچنا بلاشبہ ایک سخت مشکل کام ہے، لیکن جہاں تک آپ کےامکان میں ہوآپ اپنےآپ کوحرام سےبچانےکی انتہائی کوشش کریں- بالفرض اگرایسی کمپنی میں نوکری کرنی ہی پڑجائے جوحلال وحرام دونوں قسم کےکاروبارکرتی ہوشریعت کی روسےآپ کےساتھ یہاں کےحالات میں زیادہ سےزیادہ جورعایت ہوسکتی ہےوہ یہ ہےکہ آپ اس کےکسی ایسےشعبےمیں ملازمت کریں جوحلال قسم کا کاروبارکرتاہو-
مولودشریف پڑھنا اورقیام کامسئلہ سوال نمبر23:- " آپ کی رائےمیں کیا مولودشریف پڑھنا جائزہےاورکیا اس میں تعظیما" کھڑاہونا بھی جائزہے؟"-
جواب:- مولود شریف جس چیزکانام ہےدراصل اس سےمرادذکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسیرت رسول اللہ علیہ الصلوۂ والسلام کابیان ہے- اس کےجائزہی نہیں کارثواب ہونےمیں بھی کسی کلام کی گنجائش نہیں ہے- البتہ اس میں غلط اورموضوع روایات بیان کرنادرست نہیں ، اورمولود کی محفلوں پراگراعتراض ہوسکتاہےتواسی پہلوسےہوسکتاہے-
رہا سلام کےلیےتعظیماکھڑاہونا تونہ یہ فرض وواجب ہےکہ ہرآدمی کواس پرمجبورکیا جائےاور نہ کھڑےہونےوالےکوملامت کی جائے- نہ یہ حرام ہےکہ جوایساکرتاہےاس کوملامت کی جائے- کوئی شخص اگرعقیدت کی بناپرکھڑاہوتوکوئی مضائقہ نہیں- لیکن اس کےلازم اورضروری نہ ہونےکاثبوت توہم ہرروزپنج وقتہ نمازمیں دیتےہیں- تشہد میں السلام علیک ایھاالنبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کھڑےہوکرآخرکون صاحب پڑھا کرتےہیں؟ سب اس کوبیٹھ کرہی پڑھتےہیں اوریہ تشہد خود رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کا سکھایا ہواہے- اس لیےجولوگ اس کےضروری ہونےپرزوردیتےہیں ان کوبھی اپنےمبالغےسےبازآجانا چاہیئےکیونکہ شریعت میں اس کےلزوم کاکوئی ثبوت نہیں-
کیا ہراسلامی اصول منطقی دلائل سےصحیح ثابت کیا جاسکتاہے سوال نمبر24:- "کیا ہراسلامی اصول کی خالص منطقی طریقےسےتوجہیہ کی جاسکتی ہے؟ اگرنہیں توکیا بعض اسلامی اصول محض اندھےایمان کی بناپرماننےکےلیےہیں؟ آپ منطقی طریقےسےآخرتقدیرکی کس طرح تشریح کریں گے؟
جواب :- اسلام کاکوئی اصول یا عقیدہ یا حکم غیرمعقول نہیں ہے- ہرایک کوعقلی اورخالص منطقی طریقے سےسمجھایاجاسکتاہے- ہمیں مسلمان ہونےکےلیےکہیں بھی اندھےایمان کی ضرورت پیش نہیں آتی- آپ نے تقدیرکامسئلہ اپنےنزدیک یہ سمجھتےہوئےچھیڑا ہےکہ اس مسئلہ میں منطق بالکل نہیں چل سکتی- لیکن براہ کرم میری کتاب " جبروقدر" اورمیری تفسیرتفہیم القرآن کی ہرجلد کےانڈکس میں لفظ " تقدیر" نکال کروہ تمام مقامات دیکھ لیجئےجہاں میں نےاس مسئلہ کی تشریح کی ہے- اس کےبعد آپ مجھےضروربتائیےگا کہ اللہ تعالےکی طرف سےبندےکی پیشگی تقدیرکاطےہونا زیادہ معقول ہےیا طےنہ ہونازیادہ معقول ہے؟ کیا آپ ایسےخدا پرایمان لاسکتےہیں جس کواپنی خدائی میں پیش آنےوالےکسی واقعہ کاایک لمحہ پہلےتک بھی علم نہ ہواورجب کوئی واقعہ پیش آ جائےتب اسےپتہ چلےکہ میری خدائی میں یہ کچھ ہوگیا؟ کیا واقعی ایسا خدا اس عظیم کائنات پرحکومت کر سکتا ہے؟ ___________________٭___________________
خطاب میں آپ کےسوالات کےجوابات دے چکا ہوں- اب میں اختصارکےساتھ خود بھی کچھ آپ سےعرض کرنا چاہتاہوں- اگرچہ آپ اس سرزمین میں مختلف مقاصد کےلیےآئےہیں- کوئی آپ میں سےعلم حاصل کرنے یا کوئی فن سکھنےکےلیےآیا ہے- کوئی اپنی معاش کی فکرمیں آیا ہے- اورکچھ ایسےلوگ ہیں جو ہییں رہ بس گئےہیں- لیکن ان سب چیزوں کےساتھ آپ کی ایک حیثیت اوربھی ہےاوروہ ہےآپ کےمسلمان ہونےکی حیثیت – اس دوسری حیثیت میں آپ لامحالہ جہاں بھی رہیں گےاورجہاں بھی جائیں گےآپ کواسلام کانمائندہ ہی سمجھا جائےگا- خواہ آپ کواس کا احساس ہویا نہ ہوایک غیرمسلم جب بھی آپ کودیکھےگا ، یہی سمجھےگا کہ مسلمان ایسا ہوتاہے، اب اگرآپ نےاپنےآپ کوایک برےانسان کی حیثیت سےپیش کیا- اپنےاخلاق، اپنےمعاملات، اوراپنےرہن سہن کابرانمونہ لوگوں کودکھایا، یا یہاں کےعوام وخاص کویہ تاثردیا کہ جیسےوہ ہیں ویسےہی آپ بھی ہیں- توآپ اسلام کی غلط نمائندگی کریں گےاوراس صورت میں آپ کودیکھ کرجوشخص بھی اسلام کےمتعلق بری رائےقائم کرےگا اس کی ذمہ داری آپ پرہوگی- اس کےبرعکس اگرآپ نےاپنےقول وعمل سے، اخلاق اورمعاملات سے، اپنےطرززندگی سےاسلام کی صحیح نمائندگی کی توبعیدنہیں کہ بہت سےلوگوں کےدل اسلام کےلیےکھل جائیں گےخواہ آپ باقاعدہ تبلیغ کا کام کریں یا نہ کریں- لہذا میں چاہتاہوں کہ ہرمسلمان جویہاں رہتاہےاپنی اس حیثیت اوراس ذمہ داری کومحسوس کرے- آپ کی زندگی اگرایک سچے اورپورےعمل مسلمان کی سی زندگی ہوتوآپ کا وجود ایک جیتاجاگتااورچلتا پھرتا مبلغ بن جائےگا-
دوسری بات میں آپ سےیہ کہنا چاہتاہوں کہ آپ میں سےجولوگ یہاں رہ پڑےہیں وہ اپنی آئندہ نسل کی فکرکریں- آپ یہاں ایک مسلمان ملک اورمسلمان معاشرےسےنکل کرآئےہیں- آپ نےمسلمان ماں باپ کےگھرمیں آنکھیں کھولی ہیں- آپ نےخواہ اسلام کی تعلیم حاصل نہ بھی کی ہوتوزندگی کاایک خاصا حصہ مسلم معاشرےمیں گزاراہےجس کےاندررہ کرہرشخص کچھ نہ کچھ اسلام کےمتعلق ضرورجان لیتاہے- اس کوسرسری ہی سہی- بہرحال اتناضرورعلم ہوتاہےکہ اسلامی عقائد کیا ہیں، اسلامی عبادات کیا ہیں، اسلام کی نگاہ میں کیا چیزبری ہےاورکیا چیزاچھی، اورمسلمان کاطرززندگی کیا ہے- لیکن آپ کی اولادجو یہاں پرورش پارہی ہےوہ بالکل نہیں جانتی کہ اسلام کیا ہےاوراسلامی زندگی کیا ہوتی ہے- اس کواسلام کی کوئی تعلیم نہیں ملتی- اورنہ مسلم معاشرےکےطورطریقوں سےوہ واقف ہوتاہے- یہاں آنکھیں کھول کےایک بچہ ہروقت ایک غیرمسلم معاشرےکوچلتاپھرتادیکھتاہے- یہاں کےمدارس میں جاتاہےتووہی تعلیم وتربیت اسےملتی ہےجویہاں کےبچوں اورنوجوانوں کودی جاتی ہے- اس حالت میں آپ چاہےکتنا ہی زورلگائیں اپنی اولاد کویہاں کے معاشرے، یہاں کےاخلاق وتہذیب اوریہاں کےغلط نظام زندگی میں جذب ہونےسےنہیں بچاسکتے- اس لیےیہ نہایت ضروری ہےکہ جہاں بھی مسلمان کافی تعداد میں آباد ہیں وہاں وہ اپنےبچوں کی اسلامی تعلیم وتربیت کا خود انتظام کریں- اگروہ اس کی ضرورت اوراہمیت کومحسوس کرلیں گےتویہ کچھ مشکل نہیں ہےکہ مل جل کرایک تنظیم قائم کریں- ایک تعلیمی فنڈقائم کریں جس میں ہرشخص باقاعدگی کےساتھ اپنی استطاعت کےمطابق چندہ دے، اوراس فنڈ سےمسلمان بچوں کےلیےمدارس کھولےجائیں جن میں تعلیم اسی معیارکی ہو جو اس ملک کانظام تعلیم چاہتاہے، اگراس کےساتھ دینی تعلیم وتربیت بھی دی جائےاورمسلمان بچوں کویہاں کےنظام تعلیم کی گندگیوں( مثلا جنسی تعلیم اورمخلوط تعلیم)سے، محفوظرکھا جائے- ان مدرسوں کےساتھ ایسےہوسٹل بھی قائم کئےجائیں جن میں ایسےمقامات کےلوگ اپنےبچےبھیج سکیں جہاں مسلمانوں کی تعداد اتنی کم ہےکہ وہ اپنےمدرسےقائم نہیں کرسکتے- میرےنزدیک کوئی وجہ نہیں ہےکہ آپ کےمدارس کو تسلیم نہ کیا جائے- اگرآپ یہ ثابت کردیں گےکہ کینیڈا یا امریکہ میں تعلیم کاجومعیارہےآپ کےمدارس اس معیارپرپورےاترتےہیں اورآپ کا اس معیارکوبرقراررکھتےہوئےاپنےبچوں کواپنےمذہب کی تعلیم دینا چاہتے ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ آپ کےاس حق کو تسلیم کرنےسےکوئی حکومت انکارکردےگی- اگریہاں دوسرے مدارس قائم کرنےکی اجازت دی جا(PAROCHIAL) مذہبی یا نسلی گروہوں کواپنےمخصوص دوسرے سکتی ہےتوآخرآپ کوکیوں نہیں دی جاسکتی ؟ شرط بس یہ ہےکہ آپ بھی اپناحق منوانےکےلیےاسی طرح کی کوشش کریں جس طرح دوسروں نےکی ہےاوراسےمنوا کرچھوڑاہے- میں صاف صاف عرض کرتاہوں کہ اگرآپ نےاس کام میں غفلت سےکام لیا توآپ کی پہلی نسل کوتوشاید یہ یاد بھی رہ جائےکہ ان کےباپ دادا مسلمان تھے، لیکن دوسری تیسری نسل تک پہنچتےپہنچتےوہ بالکل یہاں کی تہذیب اورمعاشرےمیں گم ہوجائیں گےاوران کےاندراسلام کی رمق تک باقی نہ رہےگی- خدا نہ کرےکہ اس حد تک نوبت پہنچے- اس لیےمیں بڑی دل سوزی کےساتھ آپ کواس کام کی ضرورت و اہمیت کااحساس دلاتا ہوں- مجھےامید ہےکہ کینیڈ اورامریکہ میں رہنےوالےمسلمان اس میں کسی تسایل اورتاخیرسے کام نہ لیں گے- واخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین _______________٭_________________
| کتاب | خطبات یورپ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |