دورحاضرکا چیلنج اور اسلام ٭ لندن کےاستقبالیہ کا خطبہ اور اس کا جواب سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ
مسلمان انگلستان نےاتوار15دسمبر1968ء کومولانا ابوالاعلی مودودی صاحب کےاعزازمیں ہوٹل ہلٹن لندن میں ایک استقبالیہ دیاتھا- یہ استقبالیہ انگلستان میں مقیم مسلمانوں کی ایک استقبالیہ کمیٹی کی طرف سےمنعقدکیا گیا تھا- اس کمیٹی میں پاکستان کےعلاوہ ترکی، عراق، الیبیا، شام، ویسٹ انڈیز، قبرص، سیلون، ملائشیا، مصر، نائیجیریا، اریشس، ٹرینی ڈاڈااورخود انگلستان کےمسلمانوں کےنمایاں اصحاب شامل تھے- یہ میں منعقد ہئوا- سواتین سومہمان اس میں شریک(BANQUET HALL استقبالیہ ہوٹل ہلٹن کےدالان ضیافت( ہوئے-شرکاومیں اردن، سوڈان، اوریمن کےسفیر،سعودی عرب کےکونسلر،ٹرینی ڈاڈا کےفرسٹ سکرٹری، انڈونیشیاکےفرسٹ اورسیکنڈسیکرٹری اوردوسرےسفارتی نمائندےشامل ہوئےتھے- مستشرقین اورماہرین تعلیم میں سےپروفیسربرنارڈلیوس ایڈیٹرانسائیکلوپیڈیا آف اسلام، ڈاکٹرٹنکرپروفیسرسیاسیات لنڈن یونیورسٹی پروفیسر بکنگھم اسکول آف اورمنٹیل اینڈ عریبک اسٹڈایسٹرڈنکن مڈل ایسٹ آرکائیوز، پروفیسرحیدری اورڈاکٹرٹیلرصدر شعبہ تقابل مذاہب برمنگھم یونیورسٹی وغیرہ تشریف لائےتھے- برطانوی صحافت کےاہم نمائندوں میں سے گارڈین، ڈیلی مرر، ڈیلی ٹیلیگراف، دی سن ، ایوننگ نیوز، بی بی سی(لندن وبرمنگھم) ویژن نیوزٹی وی ، اورہم پاکستانی اخبارات میں سےڈان ، نوائے وقت ، مارننگ نیوزاورحریت وغیرہ کےنمائندے، نیز انگلستان سےشائع ہونےوالےتقریباتمام اردواخبارات ورسائل کےنمائندے شریک تھے- ان کےعلاوہ انگلستان میں مقیم تمام اسلامی ممالک کےنمایاں اصحاب بھی وہاں موجود تھےجس کی وجہ سےیہ ایک اہم بین الاقوامی اجتماع بن گیا تھا- پروگرام کےمطابق ٹھیک ساڑھےچھ بجےکاروائی شروع ہوئی چائےنوشی کےبعد لیبیا کےنوجوان مسٹرعاشورشامس نےتلاوت قرآن پاک کی- پھرمتحدہ عرب جمہوریہ کےڈاکٹرصلاح شاہین پروفیسرگلاسگویونیورسٹی نےاستقبالیہ کمیٹی کی طرف سےخطبہ استقبالیہ پیش کیا- خطبہ انگریزی زبان میں تھا- پھرمولانا محترم نےاس کا جواب اردو میں دیا
اورپھرپروفیسر خورشیداحمد صاحب نےاس کا ترجمہ انگریزی میں کیا- اس پروگرام کےبعد معززین نےمولانا سےملاقات کی- یہ سلسلہ 9 بجےتک چلتا رہا- ذیل میں اس خطبہ اوراس کےجواب کودرج کیا جارہا ہے
| کتاب | خطبات یورپ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |