خطبات یورپ

مغرب کواسلام کی دعوت

مغرب کواسلام کی دعوت " دنیا میں اسلام " کےموضوع پرانٹرویو 4 " مارچ 1969ءکو" دنیا میں اسلام " (ISLAM IN THE WORLD) کےموضوع پراٹلی کی ایک سرکاری ٹیلی ویژن کمپنی کوحسب ذیل انٹرویودیا- سید ابوالاعلی مودودی

Blank page 72

مغرب کواسلام کی دعوت ٭ سوال:- برصغیرمیں اسلام کی آمد پریہاں کےباشندوں کوکس چیزنےاپیل کیا ؟ جواب :- برصغیرمیں اسلام پہلی صدی ہی میں آگیا تھا – پہلی صدی سےمیری مرادپہلی صدی ہجری ہے- اس زمانےمیں اسلام کودومذہبوں سےسابقہ پیش آیا – ایک بدھ مت ، دوسرےہندومت، بدھ ازم ایک ایسامذہب ہےجو انسان کورہبانیت سکھاتاہے- اورہندوازم ایک ایسا مذہب ہےجوانسان کوطبقات میں تقسیم کرتاہے، ایسےمستقل طبقات میں جوکبھی تبدیل نہیں ہوسکتے- اس کےعلاوہ ہندوازم شرک وبت پرستی پرمبنی ہے- اسلام جب آیا تو اس نےیہاں ایک طرف توحید کاعقیدہ پیش کیا- دوسری طرف اس نےطبقاتی تقسیم کوباطل ثابت کیا اورتمام انسانیت کی وحدت پرزوردیا- تیسری اس نےانسان کویہ بتایا کہ اس کی ترقی کافطری راستہ ترک دنیا اور رہبانیت نہیں ہےبلکہ اجتماعی زندگی میں رہتےہوئےخدا اوراس کےبندوں اورخود اپنےنفس کےحقوق اداکرنا ہے- جواثرات اسلام نےبرصغیرکےباشندوں پرڈالےان کا اندازہ کرنےکےلیےیہ بات کافی ہےکہ جہاں اسلام کی آمد سےپہلےایک مسلمان بھی موجود نہ تھا وہاں آج کروڑوں مسلمان پائےجاتےہیں کیونکہ ان کےذہن کواسلام کی تعلیم توحید نے، وحدت انسانی کےتخیل نے، اوراجتماعی زندگی کی اصلاح کےپروگرام نےاپیل کیا-

سوال :- جدید دورکےلیےاسلام کا اجتماعی فلسفہ حیات کیا ہے؟ جواب :- اسلام کا اجتماعی فلسفہ حیات ہرزمانےکےلیےہے- وہ جدید دورکےلیےبھی اسی طرح صحیح اور درست ہےجس طرح قدیم دورکےلیےتھا- اورآئندہ آنےوالےہزاروں سال کےلیےرہےگا- اس کا فلسفہ حیات اس تصورپرمبنی ہےکہ انسان کےلیےصحیح رویہ زندگی اللہ وحدہ لاشرک کی بندگی واطاعت اوراس قانون کی پیروی ہےجواللہ تعالےنےاپنےپیغمبروں کےذریعےسےبھیجا ہے- چونکہ یہ ساری کائنات اللہ کی سلطنت ہےاورانسان فطری طورپراس کا بندہ ہے، اس لیےہرزمانےمیں انسانوں کےلیےصحیح رویہ اس کےسوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ خدا کی بندگی اوراطاعت کریں اوراس قانون کی پیروی کریں جواس کائنات کےبنانے والےنےاپنےپیغمبروں کےذریعےسےبھیجاہے- یہی طریق زندگی ہرزمانےکےلیےٹھیک ، صحیح اوردرست ہے-جب کبھی انسان نےاس سےانحراف کیا،اس کوایسےپیچیدہ مسائل سےسابقہ پیش آیا جن کووہ اپنی عقل سے کبھی صحیح طورپرحل نہ کرسکا- موجودہ دورمیں جوتمدن اورتہذیب کانظام پایاجاتاہےوہ چونکہ خدا کی اطاعت سےمنحرف اوراس قانون سےبےنیازہےاس لیےاس نےبھی بےشمارایسےمسائل پیدا کردئیےہیں جن کےحل کرنےپرانسان قادرنہیں ہورہاہے-

مثلا ، آج خاندانی زندگی کانظام موجودہ تہذیب ہی کی وجہ سےدرہم برہم ہورہاہے- مثلا ، اسی تہذیب وتمدن کی بدولت رنگ اورنسل کےامتیازات اس حد تک بڑھ گئےہیں کہ دنیا میں کبھی انسانیت پراتنا ظلم وستم نہیں ہئوا ہےجتنا اس رنگ ونسل کےامتیازکی بدولت آج ہورہاہے-

مثلا ، آج خاندانی زندگی کانظام موجودہ تہذیب ہی کی وجہ سےدرہم برہم ہورہاہے- مثلا ، اسی تہذیب وتمدن کی بدولت رنگ اورنسل کےامتیازات اس حد تک بڑھ گئےہیں کہ دنیا میں کبھی انسانیت پراتنا ظلم وستم نہیں ہئوا ہےجتنا اس رنگ ونسل کےامتیازکی بدولت آج ہورہاہے- مثلا اس تہذیب نےنیشنلزم کاطوفان برپاکردیا جس کی بدولت دنیا میں دوعظیم الشان لڑائیاں ہوچکی ہیں اورمزید ہوتی نظرآرہی ہیں-

یہ سب کچھ اسی وجہ سےتوہےکہ انسان نےعلوم طبیعی کی طرح اپنی اجتماعی زندگی کےلیےبھی اپنی عقل ہی کوکافی سمجھ لیاہےاوراپنی زندگی کانظام اپنی عقل سےتصنیف کرنےکی کوشش کی ہے- اگراس فطری نظام کواختیارکیا جائے، جوانسان کےلیےخدانےاپنےپیغمبروں کےذریعہ سےبھیجا ہےتویہ مسائل کبھی پیدا نہ ہوں اوراگرکبھی پیدا ہوبھی جائیں توان کوآسانی سےحل کیا جاسکتاہے-

سوال :- نسل اوررنگ کامسئلہ کس طرح حل کرتاہے؟ جواب:- نسل اوررنگ کےمسئلےکےپیدا ہونےکااصل سبب یہ ہےکہ آدمی محض اپنی جہالت اورتنگ نظری کی بناپریہ سمجھتاہےکہ جوشخص کسی خاص نسل یا ملک یا قوم میں پیدا ہوگیاہےوہ کسی ایسےشخص کےمقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتاہےجوکسی دوسرےملک میں پیدا ہئواہے- حالانکہ آدمی کی پیدائش ایک اتفاقی امرہے- اس کےاپنےانتخاب کا نتیجہ نہیں ہے- اسلام ایسےتمام تعصبات کوجاہلیت قراردیتاہےوہ کہتاہےکہ تمام انسان ایک ماں اورایک باپ سےپیدا ہوئےہیں اورانسان اورانسان کےدرمیان فرق کی بنیاد اس کی پیدائش نہیں بلکہ اس کےاخلاق ہیں- اگرایک انسان اعلی درجےکےاخلاق رکھتاہےتوخواہ وہ کالا ہویا گورا ، خواہ وہ افریقہ میں پیدا ہواہویا امریکہ میں یا ایشیامیں، بہرحال وہ قابل قدرانسان ہے- اوراگرایک انسان اخلاق کےاعتبارسےایک بڑاآدمی ہےتوخواہ وہ کسی جگہ پیداہئوا ہو- اوراس کارنگ خواہ کچھ ہی ہواور اس کا تعلق خواہ کسی نسل سےہو، وہ ایک برا انسان ہے- اسی بات کوہمارےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان الفاظ میں بیان فرمایا ہےکہ کالےکوگورےپراورگورےکوکالےپرکوئی فضیلت نہیں ہے- عربی کوعجمی پراورعجمی کوعربی پرکوئی فضیلت نہیں ہے- فضیلت اگرہےتووہ تقوی کی بناپرہے- جوشخص خدا کی صحیح صحیح بندگی کرتاہےاورخدا کےقانون کی صحیح صحیح پیروی کرتاہے،خواہ وہ گوراہویا کالا ، بہرحال وہ اس شخص سےافضل ہےجوخدا ترشی اورنیکی سےخالی ہو- اسلام نےاسی بنیاد پرتمام نسلی اورقومی امتیازات کومٹایاہے- وہ پوری نوع انسانی کوایک قراردیتاہےاورانسان کےبنیادی حقوق کوواضح طورپربیان کیا ہےاوراسلام وہ پہلا دین ہےجس نےتمام انسانوں کوجوکسی مملکت میں شامل ہوں، ایک جیسےبنیادی حقوق عطا کیےہیں- فرق اگر پرقائم ہوتی ہے، اس لیےاس نظریہ کو(IDEOL) ہےتویہ ہےکہ اسلامی ریاست چونکہ ایک نظریہ اوراصول جولوگ مانتےہوں اسلامی ریاست کوچلانےکاکام انہی کےسپردکیا جاتاہے، کیونکہ جولوگ اسےمانتےاور سمجھتےہیں وہی اس پرعمل پیراہوسکتےہیں- لیکن انسان ہونےکی حیثیت سےاسلام تمام ان لوگوں کویکساں تمدنی حقوق عطا کرتاہےجوکسی اسلامی ریاست میں رہتےہوں- اسی بنیاد پراسلام نےایک عالمگیرامت بنائی ہےجس میں ساری دنیا کےانسان برابرکےحقوق کےساتھ شامل ہو(WORLD – COMMUNITY) سکتےہیں حج کےموقع پرہرشخص جاکردیکھ سکتاہےکہ ایشیا ، افریقہ، امریکہ، یورپ، اورمختلف ملکوں کےلاکھوں مسلمان ایک جگہ جمع ہوتےہیں اوران کےدرمیان کسی قسم کا امتیازنہیں پایا جاتا- ان کودیکھنے والا ایک ہی نظرمیں یہ محسوس کرلیتاہےکہ یہ سب ایک امت ہیں اوران کےدرمیان کوئی معاشرتی امتیازنہیں ہے- اگراس اصول کوتسلیم کرلیاجائےتودنیا میں رنگ ونسل کی تفریق کی بناپرآج جوظلم وستم ہورہاہےاس کا یک لخت خاتمہ ہو سکتاہے-

سوال:- شراب اورسودکی حرمت کےکیا وجوہ ہیں؟ جواب:- سب سےپہلےآپ شراب کےمسئلےپرغورکریں- علمی بنیادپریہ بات تسلیم کی جاتی ہےکہ الکوہل انسان کےجسم کےلیےبھی نقصان دہ ہےاورعقل کےلیےبھی- اس وقت دنیا میں الکوہلزم ایک خطرناک مسئلےکی شکل اختیارکیےہوئےہے- بکثرت انسان ایسےہیں جواسی الکوہلزم کی بدولت عملا اپنی ذہنی اورجسمانی صلاحیتیں کھوچکےہیں اورمعاشرے کےلیےایک مسئلہ بن چکےہیں- اس بات کوبھی مانا جاتا ہےکہ دنیا میں اس وجہ سےہوتےہیں کہ آدمی کےخون میں اگرایک خاص مقدارمیں الکوہل(ACCIDENTS) بکثرت حادثات موجودہواوراس حالت میں وہ گاڑی چلائےتواپنی جان کوبھی خطرےمیں ڈال دیتاہےاوردوسرےانسانوں کےلیے بھی خطرہ بن جاتاہے- لیکن اس پرکوئی اتفاق نہیں ہوسکاہےکہ وہ خاص مقدارکونسی ہےجس کاپایاجانا ذہنی توازن کوبگاڑدیتاہے- بہرحال یہ مسلم ہےکہ الکوہل ایک ایسی چیزہےجوانسان کی ذہنی صلاحتیوں کومتوازن نہیں رہنےدیتی- اسی وجہ سےاسلام نےالکوہل کوقطعی طورپرممنوع قراردیاہے- آج تک کوئی شخص یہ طے نہیں کرسکا ہےکہ کتنی مقدارمیں الکوہل ہرشخص کےلیےمضرہےاورکتنی مقدارمیں غیرمضر- یہ نسبت مختلف انسانوں کےمعاملہ میں مختلف ہوتی ہےاورکوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جاسکتاکہ فلاں خاص مقدار تک الکوہل کا استعمال تمام انسانوں کےلیےیکساں غیرمضرہوگا اوراس سےزائد مقدارسب کےلیےیکساں مضرہوگی- اسی لیےاسلام نےیہ اصول قراردیا ہےکہ جوچیزحرام ہےاس کی کم سے کم مقداربھی حرام ہے، کیونکہ اس کی کم مقدارکوحلال قراردینےکےبعد کوئی خط ایسا نہیں کھینچا جا سکتا جہاں جوازکی حد ختم ہوسکےاورعدم جوازکی حد شروع ہوجائے- لہذا قابل عمل صورت یہی ہےکہ اس کو قطعی طورپرممنوع قراردےدیاجائے- اسلام کےسواکوئی دوسرامذہب یانظام تہذیب ایسا نہیں ہےجس سےنے انسان کوالکوہلزم سےبچانےمیںوہ کامیابی حاصل کی ہوجو اسلام نےحاصل کی ہے- امریکہ نےاسی صدی میں اس بات کی کوشش کی تھی کہ امریکی قوم کوشراب کےنقصانات سےبچایا جائے، چنانچہ امریکی دستورمیں ایک ترمیم کےذریعہ سےشراب کوممنوع قراردیاگیا ، لیکن تجربہ ناکام ہوگیا- اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ شراب کا سائنٹیفک بنیاد پرمضرہونا پہلےثابت ہوگیاتھا اوربعد میں اس کا غیرمضرہوناثابت ہوگیا- بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ امریکہ کی حکومت اوراس کاپوراقانونی نظام اپناسارازورلگاکربھی لوگوں کوشراب چھوڑنے پرآمادہ نہ کرسکا- یہ دراصل امریکی تہذیب کےنظام کی کمزوری تھی، اس کےبرعکس اسلام کا تہذیبی نظام اتنا طاقت ورتھا کہ ایک حکم مسلمانوں کوشراب سےروک دینےکےلیےکافی ہوگیا- اوراس حکم میں آج تک اتنی طاقت ہےکہ دنیاکی کوئی قوم اب بھی شراب سےاجتناب کےمعاملہ میں مسلمانوں کی برابری نہیں کر سکتی-

جہاں تک سورکا تعلق ہے، تمام آسمانی شریعتوں میں وہ ہمیشہ سےحرام رہاہے- آج بھی بائیبل میں اس کی حرمت کاحکم موجود ہے-اورحضرت عیسی علیہ السلام نےکبھی یہ نہیں کہا کہ میں آج سےسورکو حلال قراردیتاہوں- اس کےمعنی یہ ہیں کہ عیسائیت نےبھی اس حکم کوبرقراررکھا جوپہلےسےبائیبل میں سور کی حرمت کےلیےموجودتھا- اگرسورکسی وقت بھی حلال کیا گیا ہوتاتواس کا ثبوت موجود ہوتاکہ فلاں پیغمبر نے یا خدا کی فلاں کتاب نےاس کوحلال قراردیاہے- لیکن میرےعلم میں نہیں ہےکہ کبھی خدا کی کسی کتاب میں اس کےحلال ہونےکا حکم آیا ہو-

اب رہایہ سوال کہ سورکیوں حرام ہے؟ اس کےبارےمیں یہ اصولی بات سمجھ لینی چاہیےکہ انسان ان چیزوں کی برائی کوتوجان سکتاہےجوجسمانی حیثیت سےاس کےلیےنقصان دہ ہوں- لیکن وہ آج تک کبھی یہ جاننےپرقادرنہیں ہئوا کہ کونسی غذائیں اس کےاخلاق پربرا اثرڈالتی ہیں اورروحانی حیثیت سےاس کےلیے نقصان دہ ہیں- غذاؤں کےاخلاقی اثرات جاننےاورٹھیک ٹھیک ان کومتعین کرنےکےذرائع انسان کوحاصل نہیں ہیں- اسی لیےیہ کام خدا نےاپنےذمہ لیاہےکہ جوچیزیں انسان کےاخلاق اوراس کی روح کےلیےنقصان دہ ہیں ان کی نشاندہی وہ خود کردےاورانہیں حرام قراردے- اب اگرکوئی شخص خدا پراعتماد کرتاہوتواسےوہ چیزیں چھوڑدینی چاہیں جن سےاس نےمنع کیا ہے، اورجوغذاپراعتماد نہ رکھتاہو وہ جوکچھ چاہیےکھاتارہے _______________٭_______________

Blank page80

کتاب خطبات یورپ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم