خطبات یورپ

خطبات یورپ

مرتب اخترحجازی ادارہ ترجمان القرآن (پرائیویٹ)لمیٹڈ لاہور

جملہ حقوق محفوظ ہیں

کتاب : --------------- خطبات یورپ خطاب : -------------- مولانا سیدابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ ترتیب : -------------- اخترحجازی مطبع : -------------- محمد سرورقادری پرنٹرز، لاہور ناشر : -------------- ادارہ ترجمان القرآن (پرائیویٹ) لمٹیڈ، اردو بازار،لاہور اشاعت : طبع اول : رجب المرجب 1401ھ – مئی 1981ء 1000 طبع دوم : رجب المرجب 14ھ – دسمبر1995ء 1000 قیمت : /- روپے

فہرست

1- دیباچہ 5 2- برطانیہ میں اسلام اورمسلمانوں کےمسائل 9 3- پاپائےروم کا پیغام اورجواب 23 4- دورحاضرکا چیلنج اوراسلام 37 5- مجلستہ الغربآ کاسوالنامہ اوراس کاجواب 59 6- مغرب کواسلام کی دعوت 71 7- ٹورانٹو(کینیڈا ) میں ایک مجلس 81 8- اسلام، مغرب کےالزامات،اعتراضات اورسوالات کاجواب دیتاہے 128 9- اسلام کس چیزکا علمبردارہے؟ 157 10- توضیحات 183 11- داعی حق کی خصوصیات 191 12- ضمیمہ 203

Blank page

دیباچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم دیباچہ مولانا سید ابوالا علی مودودی رحمتہ اللہ نابغہ روزگارہستی ہیں- ان کی زندگی کامشن دعوت اسلامی اوراس کی توضیح وتشریح وتوسیع ہے- وہ جہاں بھی ہوں ان کا اوڑھنا بچھونا اسلامی دعوت کافروغ ہے

خطبات یورپ " مولانا مودودی کی وہ تقاریرہیں جو انہوں نےبرطانیہ اورامریکہ کےسفروں میں مختلف دینی اجتماعات میں کیں- ان میں مجالس سوالات وجوابات کی رودادیں بھی شامل ہیں جومغرب میں اسلام کےبارےمیں الجھنوں کی عقدہ کشائی کرتی ہیں

بعض تقاریرمیں مولانا محترم نےبرطانیہ میں اسلام کودرپیش مزاحمتوں اورمسلمانوں کودرپیش مشکلات کےمسائل پربحث کی اوران کاحل پیش کیا ہے- حقیقت یہ ہےکہ اسلام کواپنی دعوت وتوسیع کےلیے جومسائل درپیش ہیں ان میں سب سےبڑا مسئلہ یہ ہےکہ اس کی تعلیمات کچھ اورہیں اوراسےماننےوالوں کا عمل اس سےبالکل مختلف ہےاس سےاسلام کوسمجھنےمیں رکاوٹیں پیش آئی ہیں- اس کی تعلیمات کےبارےمیں غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں اورغیرمسلموں کواسےقبول کرنےمیں شرح صدرحاصل نہیں ہوئی- پھرجوجواسلام کی معاشرتی تعلیمات ہیں ان میں سےبیشترکواپنی مغربی تہذیب سےمختلف پاکرمغرب کےباشندوں کےذہن میں شبہات سےزیادہ سوالات پیداہوتےہیں- لیکن ان سوالات کا تشفی بخش جواب دینےوالا اورہرقسم کی ذہنی مرعوبیت سےبالاترذہن رکھتےہوئےاسلام کی صحیح صحیح ترجمانی کرنےوالا شخص انہیں کہیں نہیں ملتا- اس لیےکہ جن کےسامنےوہ اپنےسوالات واعتراضات رکھتےہیں وہ خود ان کی مغربی تہذیب سےمرعوب انہیں کےرنگ میں رنگےہوئےہوتےہیں جس کےنتیجےمیں قول وفعل کےتضاد کےسبب دعوت غیرموثرہوجاتی ہے- ان تقاریرکےذریعےمولانا مودودی نےپہلی بارآزاد غیرمرعوب اورپراعتماد ذہن وضمیرکےساتھ مغرب کےاسلام کےخلاف اعتراضات وسوالات کاجواب دیاہے- مولانا مودودی کا لہجہ جہاں حدود شریفانہ پراعتماد اورمقبول ہےوہاں جدید ذہن کی ضروریات کوسامنےرکھتےہوئےبہت سائنٹیفک بھی ہے- انہوں نےاسلام اوراس کی تعلیمات کواپنےمعمول کےمطابق دواورچارکی طرح کھول کربیان کردیا ہے- اس بیان میں کوئی الجھن نہیں ہےکوئی نفسیاتی رکاوٹ نہیں ہے- کوئی معذرت خواہی اوردادخواہی نہیں ہے- اسلام ایک مکمل نظام حیات ہےاوراپنےپیرؤں کوزندگی کےہرمعاملےمیں ہدایات دیتاہے- وہ ہدایات جوانسان کی فطرت اورضمیرکےمطابق ہیں اورجن پرعمل پیراہوکرانسان جدیدوقدیم جاہلیتوں کےپیچ درپیچ الجھاؤں سےبچ سکتاہے

مولانا محترم نےیورپ میں مسلمانوں کی مشکلات کےبارےمیں بھی انہیں مفید مشورےدیئے ہیں- ان کی مشکلات کاحل پیش کیا ہےاورانہیں فی الجملہ اسلام کےصحیح نمائندےاوراپنےمسلمان معاشروں کےحقیقی سفیربن کررہنےکی تلقین کی ہے

مولانا مودودی نےکلیساء یورپ کےپیغام کابھی بڑاخوبصورت جواب دیا ہےاوردنیائےعیسائیت کوصدیوں کےبعد کھل کربتایا ہےکہ مسلمانوں کوان سےکیا شکایات ہیں وہ کہتےہیں ہم تمہارےبزرگوں کی تعظیم کرتےہیں اورتم ہمارےبزرگوں کی اہانت کرتے ہیں یہ انصاف تونہیں ہے- یہ ایک ایسی دل لگتی بات ہےجس کا کوئی جواب یورپ کےپاس نہیں ہے

دورحاضرنےاپنی جدید ذہنی کاوشوں اورسائنسی انکشافات سےجوچیلنج اسالم کےسامنےرکھ دیا ہے، موالنا محترم نےاس کوبھی تشفی بخش جواب دیاہےاوردورحاضرکی نظریاتی کمزوریوں کاپول کھول کررکھ دیا ہےاوربتایا ہےکہ جدید دورکےسارےمسائل کاحل صرف اسالمی نظام حیات میں پوشید ہ ہے- انہوں نےمغرب کواسالم کی دعوت -قبول کرنےکی دعوت دی ہے

غرض موالنا مودودی نےاپنےخطبات کےذریعےیورپ کےتعلیم یافتہ اورذہین طبقےپراسالم کی طرف سےاتمام حجت قائم کرنےکی کوشش کی ہےاورلندن کی اسالمی کانفرنس میں ان کامقام توشاہکارہے جس -کےذریعےانہوں نےمغربی قاری کےذہن کےمطابق مثبت طورپراسالم کوپیش کیا ہے

موالنا مودودی افہام وتفہیم کےبادشاہ ہیں- اپنی بات خوبصورتی سےکہنےکےفن کوخوب جانتےہیں- ان کی کتب انسان کےذہن کی تمام الجھنیں مات کردیتی ہیں- ان کی تفسیرتفہیم القرآن جدید دورکےانسان کےلیے ایک گرالقدرتحفہ ہے- انہوں نےاپنےقلم سےجواسالم کی خدمت کی ہےوہ صدیوں پرپھیال ہواسالمی دعوت کا کام ہےجوانہوں -نےاپنی مختصرسی انسانی عمرمیں کرکےحیرت انگیزکارنامہ سرانجام دیا ہے

خطبات یورپ مختلف جرائدورسائل میں بکھرےہوئےتھےاوراخباری فائلوں میں دفن تھے- میں نےان کی افادیت کےپیش نظرانہیں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کریکجاکردیاہے- مجھےیہ توقع نہ تھی کہ ان کی اتنی ضنحامت ہوجائےگی لیکن حقیقت یہ ہےکہ مولانا محترم جہاں جائیں اسلامی دعوت ان کےساتھ جاتی ہےاورجس مجلس میں ہوں وہاں اسلام کی ترجمانی ان کی باتوں سےخود بخود ہوتی رہتی ہے- یہ اتناساراموادجواسلام کےفہم کے لیےجدید ذہن کی بنیادی ضرورت ہےیوں بکھراپڑاہےاورفائلوں میں دفن ہوگیا تھا کہ اس کی حقیقی ضرورت کےباوجوداس کی افادیت محدود ہوگئی تھی- میں نےخدمت اسلام کےپیش نظرہرجگہ سےیہ موادتلاش کرکےان تقاریر-مجلس گفتگوؤں اورسوالات وجوابات کوخطبات یورپ کےاندرجمع کردیاہےتاکہ اس کا افادہ وسیع ترہو اوراس کی افادیت کاسلسلہ قائم اورجاری ہوجائےمجھےامید ہےکہ قارئین ان تقاریرسےاستفادہ کرتےہوئےمیرے حق میں دعائےخیرکریں گے- اگران تقاریرکےیوں جمع ہوجانےسےدعوت اسلامی کاایک کتابی چشمہ اورجاری ہوجائےجس سےکچھ لوگ رہنمائی پالیں تومیری سخت ٹھکانےلگ جائےگی- اس موضوع کامنتشر مواداگرکسی دوست کواوربھی کہیں سےمل جائےجو اس میں شامل نہ ہواہو، مجھےاس سےضرورآگاہ کیا جائےتاکہ اس کتاب کادوسرا ایڈیشن زیادہ جامع اورمفید بنایا جاسکے-" اخترحجازی 39 – رفیق پارک – حماد کالونی شاد باغ- لاہور

برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل

برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل اگست 1940 میں یو کے اسلامک مشن کی سالانہ کانفرنس لندن میں یہ تقریر ریکارڈ کر کے بھیجی گئی تھی۔

blank page no 10

لیےجدید ذہن کی بنیادی ضرورت ہےیوں بکھراپڑاہےاورفائلوں میں دفن ہوگیا تھا کہ اس کی حقیقی ضرورت کےباوجوداس کی افادیت محدود ہوگئی تھی- میں نےخدمت اسلام کےپیش نظرہرجگہ سےیہ موادتلاش کرکےان تقاریر-مجلس گفتگوؤں اورسوالات وجوابات کوخطبات یورپ کےاندرجمع کردیاہےتاکہ اس کا افادہ وسیع ترہو اوراس کی افادیت کاسلسلہ قائم اورجاری ہوجائےمجھےامید ہےکہ قارئین ان تقاریرسےاستفادہ کرتےہوئےمیرے حق میں دعائےخیرکریں گے- اگران تقاریرکےیوں جمع ہوجانےسےدعوت اسلامی کاایک کتابی چشمہ اورجاری ہوجائےجس سےکچھ لوگ رہنمائی پالیں تومیری سخت ٹھکانےلگ جائےگی- اس موضوع کامنتشر مواداگرکسی دوست کواوربھی کہیں سےمل جائےجو اس میں شامل نہ ہواہو، مجھےاس سےضرورآگاہ کیا جائےتاکہ اس کتاب کادوسرا ایڈیشن زیادہ جامع اورمفید بنایا جاسکے اخترحجازی 39 – رفیق پارک – حماد کالونی شاد باغ- لاہور

BLANK PAGE 10

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی میرےدورافتادہ بھائیو! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ اپ کےمشن کی اس کانفرنس کےموقع پرمیں سب سےپہلےآپ کو ہدیہ تبریک پیش کرتاہوں اوراللہ تعالےسےدعاکرتاہوں کہ وہ آپ کےارادوں میں خلوص، آپ کی کوششوں میں برکت ، اورآپ کےکاموں میں رشدوہدایت عطا فرمائے- آپ اگرچہ جسمانی طورپربہت دورہیں- مگردل سےبہت قریب ہیں، اورمومن جہاں بھی ہو، مومن کےدل سےقریب ہی رہتاہے، کیونکہ جورشتہ اس کودوسرےمومن سےجوڑتاہےوہ دل ہی کا رشتہ ہے

میرےعزیزبھائیو، آپ جس سرزمین میں مقیم ہیں اس کےمتعلق آپ کا مشاہدہ میری نسبت زیادہ قریب کا ہے، اس لیےیہ بات بظاہرکچھ بہ محل سی ہوگی کہ میں یہاں سےبیٹھ کراس کےبارےمیں آپ کوکچھ بتاؤں- مگرجو باتیں آج مجھےآپ سےکہنی ہیں ان کےلیےیہ ضروری ہےکہ آپ سب سےپہلےایک مسلم گروہ ہونے کی حیثیت سےاپنےلیےاس سرزمین کی پوزیشن ، اوراس کےلیےاپنی پوزیشن کواپنےذہن میں اچھی طرح تازہ کرلیں

یہ سرزمین کبھی نوراسلام سےمنورنہیں رہی ہے- اس کا معاشرہ ابتداء سےغیرمسلم ہے-

ایک زمانہ تک یہاں پوری شدت کےساتھ ایک مسخ شدہ مذہب آسمانی کادور دورہ رہاہے-جس میں توحید کےساتھ شرک کی آمیزش ہے- رسالت ووحی کوماننےکےساتھ غلونی الدین کی وجہ سےخدا کےرسول کوخدا کا بیٹا بنالیا گیا ہے، عقیدہ آخرت کےساتھ کفارہ کا عقیدہ شامل ہوگیا ہے، اورخدا کی شریعت کو لعنت سمجھ کرچھوڑدیا گیا ہےجس کی جگہ پہلےمذہبی پیشیواؤں کی خود ساختہ شریعت نےلی اوربعد میں دین سے بےنیازقانون سازی نےلےلی- اس مذہب کےتسلط واقتدارکی وہ شدت تواب باقی نہیں رہی ہے، مگراس کےتمام بنیادی افکاروعقائداب بھی پوری فضاپرچھائےہوئےہیں

خدا کےحقیقی دین سےجودوری اس مذہب کی بدولت یہاں پیدا ہوچکی تھی، اس کوصلیبی لڑائیوں نےہزاردرجہ زیادہ بڑھا دیا، اوریہ دوری اسلام اوراہل اسلام کےخلاف نفرت اورتعصب میں تبدیل ہوگئی

اس کےبعد یہاں لادینی فلسفوں کاطوفان اٹھاجس نےایک مادہ پرستانہ تہذیب کوجنم دیا- اورچونکہ یہی وہ دورتھا جس میں ان لوگوں کوبےمثال مادی ترقی نصیب ہوئی، دنیا بھرسےلوٹی اورکمائی ہوئی دولت کی ریل پیل ان کےہاں ہونےلگی ، اورروئےزمین کےہرگوشےمیں ان کےاقتدارکےپھریرےاڑتےچلےگئے، اس لیےایک طرف اپنی گمراہی پران کاغروربڑھتاچلاگیا ، اوردوسری طرف تہذیب ، تمدن ، معاشرت ، اخلاق ، غرض ان کےپورےنظام زندگی میں وہ اوصاف جڑپکرتےچلےگئےجواپنےاصول اورمظاہر، دونوں میں بہت بڑی حد تک اسلام کی عین ضد ہیں

اپنےعروج کےاس دورمیں بہت سےمسلمان ملک ان کی زد میں آئےاورجگہ جگہ مسلمان قومیں سالہا سال تک ان سےمغلوب رہیں- اس صورت حال کا ایک اثران پرپڑا، اوردوسرا اثرہم پر- ان پراس کا اثریہ پڑا کہ اسلام اورمسلمان ، دونوں ان کی نگاہ سے گرگئے، صلیبی لڑائیوں کےزمانےکی نفرت پرحقارت کا اضافہ اورہوگیا، اورپرانا تعصب اپنی جگہ جوں کا توں قائم رہا- ہم پراس کااثریہ پڑا کہ ہم ان سےصرف مغلوب ہی نہیں ہوئےمرعوب بھی ہوگئے، ان کےسیاسی و معاشی اقتدارنےہمارےتمدن اورہماری تہذیب کی جڑیں ہلادیں- ان کےقوانین نےہمارےنظام زندگی کا نقشہ بدل ڈالا-ان کی تعلیم نےہمارےافکارو نظریات اورعقائد تک ہل چل برپا کردی- اوران کےغالب اثرات نے ہمارے اخلاق ہی میں نہیں – ہمارےگھروں میں گھس کرہمارےمعاشرت کی بنیادی خصوصیات تک میں ترامیم کر ڈالی- اس مغلوبیت کےدورمیں جس نےجتنا زیادہ ان کا اثرقبول کیا اسےاتنا ہی زیادہ ہمارےہاں عروج نصیب ہوا- مگرخاص طورپرہمارےجوافراداس سرزمین میں تعلیم حاصل کرنےکیلئےآئےان کی بہت بڑی اکثریت اندرسےباہرتک پوری طرح ان کےرنگ میں رنگ گئی اورواپس جاکریہی، انگریزیت کامکمل بپتسمہ پائےہوئےلوگ زندگی کےہرشعبےمیں ہمارےرہنماوسربراہ کارہنتےرہے

اب جس نئےدورمیں ہم داخل ہوئےہیں اس میں صرف دوحیثیتوں سےتغیرہوا ہے- ایک یہ کہ ہم سیاسی حیثیت سےاس سرزمین کےباشندوں کی غلامی سےآزاد ہوگئےہیں- دوسرےیہ کہ دوسری جنگ عظیم نےان کےاقتدارکی کمرتوڑدی ہےاوران کوخدا کی زمین پروہ غلبہ حاصل نہیں رہاہےجو اس جنگ سےپہلے تک تھا ، لیکن عملا اس لحاظ سےآج تک کوئی فرق واقع نہیں ہواہےکہ ان کےنظریات ، ان کےعلوم ، ان کےتہذیب ، ان کےتمدن ، ان کےاخلاق ، اوران کےطورطریقوں کاہم پرجوغلبہ پہلےتھا وہی اب بھی ہے- ہرمعاملہ میں ہم ان کےشاگردہی نہیں بلکہ اندھےمقلدہیں، اوران کی سیاسی ومعاشی فوقیت گھٹ جانےسےجو جگہ خالی ہوئی تھی- اسےانہی کےبھائی بند، امریکہ والوں نےبھردیاہے

حضرات ؛ یہ ہےوہ ملک اورمعاشرہ جس میں آپ رہتےہیں- آپ کےاوراس کے درمیان جو نسبتیں اب تک رہی ہیں ان کا یہ مختصرتجزیہ میں نےآپ کےسامنےاس لیےپیش کیا ہےکہ آپ یہاں اپنی پوزیشن کو ٹھیک ٹھیک ذہن میں رکھ کران مسائل کو سمجھنےکی کوشش کریں جو یہاں کاقیام اختیارکر کےآپ کےلیےپیدا ہوتےہیں، اوراس فرض کوپہچانیں جویہاں رہتےہوئےایک مسلم گروہ کی حیثیت سےآپ کے اوپرعائد ہوتا ہے- پہلےزیادہ ترمسلمان یہاں عارضی طورپرتعلیم یاکاروبارکےلیےآتےتھے- مگراب یہاں آپ کی ایک مستقل آبادی بس رہی ہے، اوراندازہ یہ ہےکہ باہرسےآنےوالےمتوطن مسلمانوں کی اچھی خاصی جماعت آئندہ برطانوی معاشرےکا ایک جزبن کررہےگی- اس لیےجن مسائل کی طرف میں آپ کوتوجہ دلا رہاہوں وہ عارضی ووقتی نوعیت کےنہیں ہیں بلکہ دوامی نوعیت کےہیں

اس سلسلےمیں چھوٹےچھوٹےامورکوچھوڑکرمیں آپ کوصرف چند اہم ترین مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہوں

سب سےپہلےاورسب سےاہم مسئلہ یہ ہےکہ آپ کویہاں اپنےدین، اپنی تہذیب، اپنےاخلاق، اپنےاصول معاشرت، اورفی الجملہ اپنی انفرادیت کومحفوظ رکھنےکےلیےسخت کوشش کرنی ہوگی، کیونکہ آپ ایک ضعیف معاشرےسےنکل کرایک بہت طاقتورمعاشرےمیں آگےہیں، جس کےزبردست اثرات سےخود اپنےملک میں بھی بچ کررہنا آپ کےلیےمشکل ثابت ہوچکاہے- یہاں اگرآپ نےاس معاملہ میں ذراسی بھی غفلت برتی توآپ اس معاشرےمیں جذب ہوکراپنی ہستی گم کردیں گےاورمحض نسل ورنگ کافرق آپ کی انفرادیت کوزیادہ دیرتکنہ بچا سکےگا- اس لیےآپ کواپنےتمام وسائل وذرائع جمع کرکےایسی تدبیریں اختیار کرنی چاہییں جن سےاس ملک کےمتوطن مسلمانوں میں وحدت پیدا ہو، ان کےدرمیان باہمی روابط زیادہ سےزیادہ بڑھیں، ہرطرح کی چھوٹی چھوٹی تفریقیں ختم کرکےایک ملت ہونےکااحساس ان میں بیدارکیا جائے، غلط راہ پرجانےوالوں کوسنبھالاجائے- اخلاق اورمعاشرت کےبگاڑکوروکاجائے- اوریہاں کےمسلمانوں میں دین کاشعوراوراس کاعلم پھیلانےکےلیےنہ صرف تعلیمی و تبلیغی اجتماعات اورنشرواشاعت کا انتظام کیا جائے، بلکہ ایسےکارکنوں کا ایک منظم گروہ تیارکیا جائےجومسلمان افردتک پہنچ کرانہیں اسلام سےوابستہ رکھنےکی کوشش کریں، اوران کےانفرادی حالات کوسمجھ کران مشکلات کورفع کرنےکی فکرکریں جوانہیں مسلمان کی سی زندگی بسرکرنےمیں پیش آرہی ہیں

دوسرا مسئلہ جواپنی اہمیت میں اس سےکچھ کم نہیں ہے، آپ کی آئندہ نسلوں کاہے، جویہاں اس کفرکےماحول میں پیدا ہورہی ہیں اورتعلیم وتربیت پارہی ہیں- آپ ان علاقوں سےآرہےہیں جہاں آپ کومسلمان معاشرہ میسرتھا- اس کےباوجود آپ کےلیےکفرکےاس غالب ماحول میں اپنےملی تشخص کوبرقراررکھنا اوراپنی زندگی کوغیراسلامی اثرات سےمحفوظ رکھنا دشوارہورہاہے- پھران بچوں کاکیا انجام ہوگا جو اسی ماحول میں آنکھیں کھولیں گے، اسی تہذیب کوچاروں طرف محیط دیکھیں گے، اوریہیں تعلیم وتربیت پائیں گے؟ آپ نےاگران کےمستقبل کی فکرنہ کی- اوران نسلوں کوسنبھالنےکےلیےاپنی متحدہ کوششوں سےکوئی مناسب انتظام نہ کیا، توآپ خودچاہےاپنےآپ کواس بحرشورمیں غرق ہونےسےبچالےجائیں، اپنی اولاد کونہ بچاسکیں گے- یہ مسئلہ برطانیہ میں رہنےوالےتمام مسلمانوں کی خاص توجہ کامحتاج ہے- کسی تاخیراورتساہل کےبغیراس پرپوری سنجیدگی کےساتھ غورکرنا چاہیے، اورجوبھی بااثرمسلمان اس ملک کےمختلف حصوں میں رہتےہیں، انہیں مل جل کرایسےانتظامات کرنےچاہییں جووہاں کےمسلمان بچوں کودینی تعلیم وتربیت دینے کےلیےمناسب اورممکن ہوں

یہ دوامورتواس حیثیت سےاہم ہیں کہ ان پرآپ کےبقاکاانحصارہے، لیکن مسلمان کی ہستی کابقا صرف اس کی ذات کےلیےمطلوب نہیں ہوتا بلکہ اس سےزیادہ بڑے ایک اورمقصد کےلیےمطلوب ہوتاہے- اللہ تعالی نےاپنےفضل سےآپ کویہ موقع دیا ہےکہ پہلےجولوگ اپنی گمراہی کاجھنڈا لےکرکبھی فاتحانہ شان سےآپ کےہاں پہنچےتھے، اب خود ان کےہاں آپ اپنی ہدایت کاجھنڈا لیےہوئےفاتحانہ شان سےنہ سہی مبلغانہ شان ہی سےپہنچ جائیں- ابتداسےیہ سرزمین نوراسلام سےمحروم ہے- آپ کوتقدیرالہی نےاسلام کانمائندہ بناکریہاں لا بٹھایاہے- اب کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ یہاں اسلام کی غلط نمائندگی کرکےاپنےساتھ اپنےدین کوبھی رسواکریں اورخدا کےحضوراپنی غلط کاریوں کےساتھ ان کی بھی مزید گمراہی کاوبال اپنےسرلےکرجائیں- آپ کوخواہ اس کا شعورہویا نہ ہو، اورآپ خواہ اس بات کاکوئی پاس کریں یا نہ کریں، جب تک آپ مسلمان ہیں وہ سب لوگ آپ کواسلام کانمائندہ ہی سمجھیں گےجن کےساتھ آپ کورہنے سہنے، ملنےجلنےاورکام کرنےکاموقع ملےگا- وہ آپ کی ایک ایک چیزسےاندازہ لگائیں گےکہ جس دین وملت کی آپ نمائندگی کررہےہیں وہ کیاہے، آپ کی ہرکمزوری ان کی نگاہ میں اس دین وملت کی کمزوری قرارپائے گی اورہرخوبی آخرکاراس کی خوبی ٹھہرےگی- اس لیےہرمسلمان کوجویہاں رہتا ہےیہ خیال اپنےدماغ سےنکال دینا چاہیےکہ یہاں وہ محض اپنی پرائیویٹ حیثیت میں مقیم ہےاوراس کی بھلائی اوربرائی اس کی ذاتی بھلائی اوربرائی سےزیادہ کچھ نہیں ہے- نہیں، وہ فی الواقع یہاں اسلام اورملت مسلمہ کاسفیرہے- یہ سفارت کی ذمہ داری مسلمان ہونےکی حیثیت سےآپ سےآپ اس پرعائد ہوتی ہے، اس سےوہ سبکدوش ہونا چاہےبھی تونہیں ہوسکتا

اس منصب سفارت کی ذمہ داری ادا کرنےکےلیےجوکچھ آپ کوکرنا چاہیےاس کومیں بڑےاختصار کےساتھ آپ سےعرض کرتاہوں

اولین چیزیہ ہےکہ آپ کےہرفرد میں اپنےسفیراسلام ہونےکاشعورہو- یہ شعورجس لمحہ کسی شخص میں پیدا ہوگا، اسی لمحہ سےوہ اپنی زندگی ، اپنےاخلاق، اپنےمعاملات اور اپنےبرتاؤ کواس نگاہ سےدیکھنا شروع کردےگا کہ یہ محض میرا ذاتی کردارنہیں ہےبلکہ میرےدین اورمیری ملت کی نمائندگی بھی ہے، اوریہی چیزاسےیہ سوچنےپرمجبورکردےگی کہ کیا میں اس کی ٹھیک نمائندگی کررہاہوں؟ کیا مجھےدیکھ کرایک آدمی واقعی یہ محسوس کرےگا کہ اسلام کوئی قابل غورچیزہے، مسلمان اپنی کوئی امتیازی شان رکھتاہے، اوراس چیزکاپتہ لگانےکی ضرورت ہےجس نےاس میں یہ امتیازی شان پیدا کی ہے؟

یہ شعوراپنےاندربیدارکرنےکےبعدآپ کویہ سمجھنا ہوگا کہ ایک غیرمسلم معاشرےمیں بکھرےہوئے وہ چندافرادجویہاں اسلام کی نمائندگی کررہےہیں، کس طرح اپنی امتیازی شان نمایاں کرسکتےہیں جس سےاس معاشرےکےلوگوں کوان کااوراپنافرق محسوس ہو، اوروہ فرق بھی ایسا ہوجوان میں قدرکااحساس پیدا کرے- یہ بات یادرکھیئےکہ جتنا زیادہ آپ اپنےآپ کواس معاشرےکاہم رنگ بنائیں گےاتنی ہی زیادہ آپ کی امتیازی حیثیت مٹےگی اوراسی قدرزیادہ آپ ناقابل توجہ ہوجائیں گے- کچھ زیادہ مدت ابھی نہیں گزری ہے، 20 سال پہلےہی کی بات ہےکہ یہی انگریزآپ کےاپنےملک میں رہتےتھےاورڈھائی سوبرس انہوں نےوہاں گزارے- اس پورےزمانےمیں کس چیزنےان کا امتیازقائم کئےرکھا؟ انہوں نےکبھی آپ کا لباس نہیں پہنا – کبھی آپ کی زبان نہیں بولی- کبھی آپ کےکھانےنہیں کھائے- کبھی آپ کےطرززندگی کواختیارنہیں کیا – کبھی اپنےطور طریقےآپ کی خاطرنہیں چھوڑے- جن طریقوں کوبھی یہ اپنےاصول اورمعیاروں کےمطابق ٹھیک سمجھتے تھےانہی پرعمل کرتےتھے- آپ مدتوں ان کی ایک ایک چیزپرناک بھوں چڑھاتےرہے- مگران کی اسی استقامت اورقومی کیرکڑکی مضبوطی نےآخرکاران کوبدلنےکےبجائےآپ کوبدل ڈالا- اس کےبرعکس اگریہ آپ کےرنگ میں اپنےآپ کورنگ لیتےتوہندوستان کےسمندرمیں مٹھی بھرانگریزنمک کی طرح گھل کررہ جاتے- یہ ایک فطری حقیقت ہےکہ طاقت وردوسروں کواپنے سانچےمیں ڈھالتاہے، اورکمزورخوددوسروں کےسانچےمیں ڈھل جاتاہے، جولوگ اپنےآپ سے خودشرماتےہوں اوردوسروں کےمعاشرےمیں جاتےہی اپنا لباس ، اپنی زبان، اپنی معاشرت اوراپنی زندگی کےاصول اورطورطریقےچھوڑچھا ڑکراپنےآپ کوان کاہم رنگ وہم مشرب بنا لیتےہوں، ان کودیکھتےہی اس معاشرےکےافرادلازما یہ اثرلیتےہیں کہ یہ کمزورمزاج کےلوگ ہیں، اپنےآپ کوخود کمتراورہمیں برتر سمجھتےہیں-ایسےلوگوں کاکوئی اثروہ کیسےقبول کرسکتےہیں؟ اورکیوں ان کےدل میں کبھی یہ خیال پیدا ہوکہ ان بےچاروں کےپاس بھی کوئی چیزقدرکےلائق ہوسکتی ہے؟

پس اگرآپ یہاں اسلام کےسفیرہونےکاحق ادا کرنا چاہیں توسب سےپہلےاپنےآپ کوایک مضبوط کریکڑرکھنےوالا گروہ بنائیے- اپنےلباس، اپنی زبان، اپنےطرززندگی، اوراپنےاخلاق ومعاشرت میں اپنی امتیازی شان قائم کیجئے- جوفرائض مسلمان پراس کادین عائد کرتاہےان کوعلانیہ ادا کیجئےاورہراس مزاحمت کامضبوطی کےساتھ مقابلہ کیجئےجوان کےاداکرنےمیں پیش آئے- جن چیزوں کواسلام حرام قراردیتاہے، سخت تکلیف اٹھاکربھی ان سےپرہیزکیجئےاوران کوحرام کہتےہوئےنہ شرمائیےآپ کی معاشرت کےلیےجوطریقے اسلام نےبتائےہیں ان کوپوری جرات کےساتھ برتیےاورجب یہاں کی معاشرت سےآپ کی معاشرت کےطریقوں کافرق ظاہرہونےپراعتراضات ہوں توگبھراکراپنےآپ کونہ بدلیےبلکہ دھڑنےکےساتھ اپنےطریقوں کی برتری ثابت کیجئے- اپنےاخلاق اورمعاملات میں وہ پاکیزگی ، وہ راستبازی اوروہ دیانت پیداکیجئےجوآپ کے گردو پیش رہنےوالےہرشخص کونمایاں طورپرمحسوس ہواوربالاخریہاں کےلوگوں میں یہ عام رائےپیدا ہوجائےکہ مسلمان ایک خاص ٹائپ کاآدمی ہوتاہےجس سےفلاں اوصاف کی توقع کی جاسکتی ہےاورفلاں اوصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی

یہ ڈھنگ آپ اختیارکریں گےتوآپ کےلیےاسلام کی نمائندگی کرنےکےراستےخود بخود کھلتے چلےجائیں گے، اوراس سےدہرافائدہ ہوگا- یہ فائدہ بھی ہوگا کہ آپ کی اس روش سےیہاں کےعام لوگوں میں ہرطرف کچھ سوالات پیدا ہوں گےجن کا جواب آپ سےمانگا جائےگا، اوریہ فائدہ بھی ہوگا کہ آپ ان سوالات کاجواب دینےکیلئےاپنےآپ تیارکرنےپرخود مجبورہوجائیں گے- مثال کےطورپرنماز روزےکی پابندی پرآپ کاہرحال میں اورہرجگہ اصراران عبادات کی اہمیت و ضرورت کےبارےمیں ایک عام سوال پیدا کردےگا ، اوراس کوسمجھانےکےلیےآپ کوخود اسےسمجھنےاوربیان کرنےکےقابل بننا پڑےگا- حرام وحلال کی تمیز میں آپ کی شدت جگہ جگہ یہ سوال اٹھادےگی کہ یہ تمیزکیسی اورکیوں ہے، اوراس کا جواب دینےکی قابلیت آپ کواپنےاندرپیدا کرنی پڑےگی- یہاں کی مادرپدرآزادی سےآپ بچیں گے، مخلوط معاشرت اوراس کی تمام گندگیوں سےآپ اجتناب کریں گے، اورآپ کی خواتین پردےکےحدود کی پابندی کریں گی توبڑےپیمانہ پریہ سوالات اٹھ کھڑےہوں گےکہ مغربی معاشرت کی" ترقی پسندی" کےمقابلےمیں یہ "رجعت" کیسی ہے- اس وقت آپ کےلیےیہ بتانےکا بہترین موقع ہوگا کہ جس " ترقی پسندی" پریہ لوگ نازکررہےہیں اس میں کیا قباحتیں ہیں اس کےکیا نتائج رونما ہورہےہیں، اورجسےیہ " رجعت " سمجھ رہےہیں، وہ کن وجوہ سےانسانی معاشرےکےلیےایک بہتراورپاکیزہ ترراستہ ہے- آپ شاید یہ خیال کریں گےکہ ان سوالات کا چھڑنا اوران پر بخثیں ہونا بس خواہ مخواہ کی قیل وقال بن کررہ جائےگا اوراس کاکوئی اثریہاں کےمعاشرےپرنہ پڑےگا- میں آپ کویقین دلاتاہوں کہ نتیجہ اس کےبالکل برعکس ہوگا- انسانی معاشرہ کبھی اورکہیں ایسےلوگوں سےخالی نہیں ہوتا جوغلط طریقوں کےعام رواج کوان کےصحیح ہونےکی دلیل نہیں سمجھتےاوران کےنقصانات کوخودکم وبیش محسوس کرتےہیں- ایسےلوگوں کی اس برطانوی معاشرےمیں بھی کمی نہیں ہے- آپ اپنےبہترنظام زندگی کےاتباع میں مضبوطی دکھائیےاوراپنےعمل اوراپنی زبان سےاس کی نمائندگی کیجئے- کچھ زیادہ دن نہ گزریں گےکہ اسی معاشرےمیں جسےآپ اس بگاڑپرمگن پارہےہیں، ہزاروں مرد، عورتیں، جوان، اوربوڑھےایسےنکل آئیں گےجوسنجیدگی کےساتھ آپ کی باتوں پرغورکرنا شروع کردیں گے، اورروزبروزان لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جائےگی جوغورکرنےسےآگےبڑھ کران کوقبول کرنےکےلیے بھی تیار ہوجائیں گے- یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے- آپ ہمت کرکےاس کا تجربہ کیجئے- انشاء اللہ دیریا سویریہ اپنا رنگ دکھا کررہےگی

لیکن دنیا کےاس انتہائی ترقی یافتہ ملک میں اسلام کی نمائندگی کرنےکےلیےصرف یہی چیزکافی نہیں ہے، یہاں فلسفہ اورسائنس اورمعاشرتی علوم اپنےعروج پرہیں- یہاں اعلی درجہ کی ذہانت اورعلم رکھنےوالےلوگ کیثرتعداد میں موجود ہیں- یہاں مضبوط دلائل ، وزنی تنقید، زبردست علمی شواہد اورشاندارطرزپیش کش کےبغیرکوئی چیزفروغ نہیں پاسکتی- اس لیےہمارےلائق اورذہین نوجوانوں میں سےکم ازکم ایک تعداد ایسی ہونی چاہیےجواپنےآپ کواونچےدرجےکےعلمی کام کےلےتیارکریں- اسلامی نظریہ حیات کواچھی طرح سمجھیں – زندگی کےمختلف شعبوں کےبارےمیں اس کی تعلیمات کامطالعہ کریں- مغربی علوم اورنظریات سےاس کامقابلہ کرکےدونوں کافرق ٹھیک ٹھیک معلوم کریں- موجودہ دورکےمسائل حیات پر اسلامی نظریات کومنطبق کرنےکی زیادہ سےزیادہ معقول اورممکن صورتیں دریافت کریں- اوراپنےآپ کوتحریروتقریرکےذریعہ سےعمدہ اظہاروبیان کےقابل بنائیں- اس کام کی ضرورت کااحساس ہمارےاندرموجود ہوتوبرطانیہ میں اس کےلیےوسائل کی کمی نہیں ہے- یہاں اس کےلیےتیاری بھی خوب کی جاسکتی ہے، اورخیالات کی اشاعت کےلیےپریس اورپلیٹ فارم کے

Blank page 21

Blank page 22

جب نصب العین امن ہو

جب نصب العین امن ہو پاپائے روم کا پیغام اور اس کا جواب

دسمبر1967ء میں رومن کیتھولک چرچ کےپوپ ششم نے مشاہیرعالم کوعالمی امن کاپیغام بھیجا- مولینائےمحترم نے ان کےمکتوب کاحسب ذیل جواب دیا

Blank page 24

پوپ کا پیغام کا خلاصہ " ہمدنیا کےتمام خیراندیش انسانوں سےگذارش کرتےہیں کہ وہ دنیا بھرمیں نئےسال کےپہلےدن یکم جنوری کویوم امن منائیں- ہمارا خیال ہےکہ بحالات موجودہ امن کی ضرورت اوراس فقدان سےپیدا شدہ خطرات کووہ ساری قومیں ، بین الاقوامی مذہبی تنظیمیں اورتہذیبی وسیاسی تحریکیں محسوس کررہی ہیں جن کامطمع نظرعالمی قیام امن ہےاورجواسی کےلیےکوشاں ہیں ------

قیام امن کی راہ میں جوموانع درپیش ہیں، ان کا ازالہ ضروری ہے- ان موانع میں سےچند ایک یہ ہیں کہ اقوام عالم باہمی تعلقات میں خود غرضی برت رہی ہیں- بعض آبادیاں اس احساس کا شکار ہیں کہ انہیں عزت وشرف اوروقارکی زندگی بسرکرنےکےحق سےمحروم کردیاگیا ہے، اوراس حق کےعدم اعتراف کی وجہ سےیہ لوگ سربکف ہوکرتنگ آمدبجنگ آمد کی روش اختیارکرچکےہیں- یہ خیال عام ہوگیا ہےکہ بین الاقوامی تنازعات عدل وانصاف اورآپس کی گفت وشنید کےمعقول ذرائع سےطےنہیں کیےجاسکتے، بلکہ انہیں قاضی شمیشرکےحوالےکردینا ضروری ہےجوخون ریزی اورقتل انسانی کےغیرمحدود آلات ووسائل استعمال کرسکتاہے

امن وسلامتی اوربقائےباہمی کےلیےناگزیرہےکہ نئی نسلوں کورواداری ، اخوت اورعالم گیرمعاونت کی تربیت دی جائے----------- امن وامان محض لفاظیوں سےقائم نہیں ہوسکتا- اس طرح کا زبانی جمع خرچ بظاہرخوش آئندنظرآتاہےکیونکہ یہ انسانیت کےدل کی آوازہے- لیکن اکثروبیشتریہ چیزنہ صرف بےعملی اورعدم خلوص کوچھپانےکےلیےایک لبادےکاکام دیتی ہےبلکہ بسا اوقات جانبداری اورظلم وتعدی کی آلہ کاربن جاتی ہے- جب تک ریاستیں ایک دوسرےکےساتھ اورمختلف ریاستوں کےاندرخود ان کےحکام اورشہری ایک دوسرےکےساتھ محبت، اخلاص اورانصاف کواپنا حقیقی شعارنہ بنائیں- اورجب تک افراداوراقوام کوتہذیبی، اخلاقی اورمذہبی دائروں میں قول وعمل کی آزادی حاصل نہ ہو-اس وقت تک امن کی باتیں کرنابالکل بےمعنی اورلاحاصل ہے- آزادی اورسلامتی کےان لوازم کےبغیراگرمحض تغلب وتسلط کےذریعہ سےامن وامان اورقانونی نظم ونسق کاظاہری ڈھانچہ قائم بھی ہوجائے، تب بھی ہیجان وبغاوت اورجنگ وجدال کاایک لامتنا ہی اورناقابل تسیخرسلسلہ ہمیشہ جاری رہےگا

جواب:- چندروزپہلےمجھےڈاکٹرآراےٹبلر، ڈاکٹرلویولاہال، لاہورکےتوسط سےآپ کا وہ نہایت قابل قدرپیغام پہنچاجس میں آپ نےنئےسال کاآغازایک " یوم امن" کی تقریب سےکرنےکی اپیل کیتھولک چرچ کےمعتقدین کےعلاوہ تمام دنیا کےبڑےبڑےادیان کےپیروں اورتمام نیک خواہشات رکھنےوالےلوگوں سےکی تھی- اس پیغام کےمتعلق میں اپنےخیالات آپ تک جلدی پہنچانا چاہتاتھا، مگررمضان اورعیدالفطرکےمصروفیات اس میں مانع رہیں- اب پہلی فرصت میں میں آپ کوخطاب کررہا ہوں

میں آپ کواس بات پرمبارک باددیتاہوں کہ آپ نےایک ایسےمقصد کی طرف دنیا کےانسانوں کودعوت دی جو سب کا مشترک مقصد ہے، اورساتھ ساتھ ان اہم اسباب کی نشاندہی بھی کی جواس مقصد کےحصول میں سدراہ ہیں- فی الحقیقت امن ان اولین بنیادی ضروریات میں سےہےجن پرنوع انسانی کی فلاح وبہود کا انحصارہے- مگراس کی خواہش اوراس کی ضرورت کااحساس رکھنےکےباوجود جن وجوہ سےانسان ہمیشہ اس سےمحروم ہوتارہاہےاورآج بھی محروم ہےوہ وہی وجوہ ہیں جن میں سےاکثرکی طرف آپ نےصحیح طورپردنیا کےلوگوں کوتوجہ دلائی ہے- میں سمجھتاہوں کہ جب تک عملا انہیں رفع کرنےکےلیےکچھ نہ کیا جائےگا محض پاکیزہ خواہشات اورتمناؤں کےاظہارسےکوئی امن دنیا کومیسرنہ آسکےگا- اس بنا پرمیرےنزدیک یہ نہایت ضروری ہےکہ ہم میں سےہرایک شخص قوم، مجموعہ، اقوام، اورپیروان مذاہب کاگروہ پورےخلوص اوردیانت کےساتھ خود اپنا محاسبہ کرکےدیکھےکہ اس کی اپنی کوتاہیاں کیا ہیں جواس کےانبائےنوع کواوربالآخرخود اس کوامن سےمحروم کرنےکی موجب ہوتی ہیں، اورجہاں تک بھی اس کےامکان میں ہوان کورفع کرنےکی کوشش کرےاسی طرح ہم میں سےہرایک کوپوری صاف گو‏ئی کےساتھ ، اصلاح کی نیت سے، نہ کہ تلخی پیدا کرنےاوربڑھانےکےلیے، دوسرےگروہوں کےنیک نیت لوگوں تک یہ بات پہنچانی چاہیےکہ ان کےطرزعمل میں کیا چیزیں ایسی ہیں جواس کےگروہ کےلیےموجب اذیت ہوتی ہیں تاکہ وہ انہیں رفع کرنےکی کوشش کرسکیں

ٹھیک اسی غرض کےلیےمیں آپ کوچند ایسےامورکی طرف توجہ دلارہاہوں جومسلمانوں کےلیےاپنے مسیحی بھائیوں سےوجہ شکایت ہیں تاکہ کیتھولک چرچ کےپیشوائےاعظم ہونےکی حیثیت سےجوغیرمعمولی اثرورسوخ آپ کومسیحی دنیا میں حاصل ہےاس سےکام لےکرآپ ان کی اصلاح کےلیےسعی فرمائیں- اورمیں اس بات کا خیرمقدم کروں گا کہ ہمارےمسیحی بھائیوں کےلیےہمارےطرزعمل میں اگرکوئی چیزمعقول وجہ شکایت ہوتووہ ہمیں بتائی جائے- ہم انشاء اللہ ان کورفع کرنےکی کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھیں گے- دنیا میں امن اورصلح وآشتی کی فضا پیدا کرنےمیں ہم سب اسی طرح مددگار بن سکتےہیں کہ ایک دوسرےکےساتھ انصاف کریں- دوسروں سےفیاضانہ سلوک کرنےکی قراخ حوصلگی اگرہم میں موجود نہ بھی ہوتوکم ازکم اتنا توہوکہ دوسروں کی حق تلفی کرنےیا ان کواذیت دینےسےتو ہم باز رہیں

مسیحی بھائیوں کےطرزعمل میں جوامورکسی ایک یا قوم کےنہیں، پوری دنیا کےمسلمانوں کےلیے وجہ شکایت ہیں ، انہیں میں کسی لاگ لپیٹ کےبغیرمختصراآپ سےبیان کئےدیتاہوں

امن اورباہمی منافرت 1- ایک مدت درازسےمسیحی اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں سیدناحضرت محمد صلےاللہ علیہ وآلہ وسلم ،قرآن اوراسلام پرجوحملےکررہےہیں اورآج بھی جن کا سلسلہ جاری ہے، وہ مسلمانوں کےلیے انتہائی موجب اذیت ہیں- میں " حملے" کا لفظ قصدااستعمال کررہاہوں، تاکہ آپ کویہ غلط فہمی نہ ہوکہ ہماری شکایت معقول علمی تنقید کےخلاف ہے- علمی تنقید اگردلیل کےساتھ اورتہذیب وشائستگی کےحدود میں ہوتو خواہ وہ کیسےہی سخت اعتراضات پرمشتمل ہو، ہم اس پربرانہیں مانتےبلکہ اس کا خیرمقدم کرتےہیں اوردلیل کاجواب دلیل سےدینےکےلیےتیارہیں- لیکن ہمیں بجاطورپرشکایت ان حملوں کےخلاف ہےجوچھوٹےاوررکیک الزامات کی صورت میں اورنہایت دل آزاد زبان میں کیےجاتےرہےہیں اوراب تک کیےجارہےہیں- جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ حضرت مریم علیہاالسلام اورحضرت عیسی علیہ السلام کاانتہائی ادب واحترام ملحوظ رکھتےہیں اوران کےمتعلق کوئی خلاف ادب بات زبان سےنکالنا ہمارےعقیدےمیں کفرہے- آپ کوئی مثال ایسی نہیں پاسکتےکہ کسی مسلمان نےکبھی سیدنا عیسی علیہ السلام اوران کی والدہ ماجدہ کی شان میں کوئی بےادبی کی ہو- اگرچہ ہم حضرت عیسی کی الوہیت کےقائل نہیں ہیں، مگران کی نبوت پرہمارا ویسا ہی ایمان ہےجیسا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پرہے، اورکوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ان پراوردوسرے انبیاء پربھی ایمان نہ لائے- اسی طرح ہم صرف قرآن ہی کونہیں بلکہ تورات اورانجیل کوبھی خدا کی کتابیں تسلیم کرتےہیں اورکوئی مسلمان ان مقدس کتابوں کی توہین کاخیال بھی نہیں کرسکتا- ہماری طرف سےاگرکبھی کوئی بحث ہوئی ہےتو اس حیثیت سےہوئی ہےکہ بائیبل جس شکل میں اب پائی جاتی ہےیہ کہاں تک مستند ہے، اوریہ بحث خود مسیحی علماء بھی کرتےرہےہیں- لیکن کسی مسلمان نےکبھی اس کا انکارنہیں کیا کہ حضرت موسی علیہ السلام ورعیسی علیہ السلام اوربائیبل کےدوسرےانبیاء پراللہ کاکلام نازل ہئوا تھا- اورمسلمان چاہے یہ بات نہ مانتےہوں کہ اس وقت پائی جانےوالی پوری بائیبل اللہ کا کلام ہے، مگریہ ضرورمانتےہیں کہ اس میں اللہ کاکلام موجود ہے- لہذا ہمارےمسیحی بھائیوں کوہم سےیہ شکایت کرنےکاکبھی موقع نہیں ملا ہےکہ ہم ان کےانبیاء کی، یا ان کی کتب مقدسہ کی توہین کرتےہیں، بخلاف اس کےہمیں آئےدن ان سےیہ رنج پہنچتا رہتا ہے، اورصدیوں سےاس دل آزاری کاسلسلہ چل رہا ہےکہ ان کےمصنفین اورمقررین ہمارےنبی اورہماری کتاب مقدس اورہمارےدین پرسخت حملےکرتےہیں- دنیا کی اسلامی اورمسیحی برادریوں کےدرمیان تعلقات کی خرابی کایہ ایک اہم سبب ہے- اس سےشدید باہمی منافرت پیدا ہوتی ہے، اورمزید براں اس نارداپروپیگنڈے کا لازما یہ نتیجہ بھی ہوتاہےکہ مسیحی عوام کےدلوں میں مسلمانوں کےخلاف نفرت وتحقیرکےجذبات پیداہوتے ہیں- آپ دنیا کےامن کی بہت بڑی خدمت انجام دیں گے، اگرمسیحیت کےپیروں کواس طرزعمل میں کم ازکم اتنی اصلاح کرلینےکی نصیحت کریں کہ یہ دل آزاری اورنفرت انگیزی کی حد تک نہ پہنچے

امن اوراستعماریت :- مسیحی مشن اورمشنری ایک مدت درازسےمسلم ممالک میں مسیحیت پھیلانےکےلیےجو طریقے استعمال کرتےرہےہیں اورآج بھی کررہےہیں ، وہ بھی دنیا کےمسلمانوں کےلیےایک بڑی وجہ شکایت ہیں، دوسرےملکوں اورآبادیوں میں ان کاجوطرزعمل بھی ہو- اس سےہمیں کوئی بحث نہیں- مگرمسلمان ملکوں اورآبادیوں میں ہمارا تجربہ اورمشاہدہ یہ ہےکہ انہوں نےمحض " تبلیغ " پراکتفانہیں کیا ، بلکہ اس سےتجاویز کرکےدوسرےمتعددایسےطریقےاختیارکئےہیں جوتبلیغ کےبجائےسیاسی دباؤ ، معاشی طمع وتحریص، اور اخلاقی واعتقادی تخریب کی تعریف میں اتےہیں جنہیں مشکل ہی سےکوئی معقول آدمی اشاعت مذہب کے جائزذرائع تسلیم کرسکتاہے- افریقہ کےایک بڑےحصہ میں انہوں نےاستعماری طاقتوں کی مدد سے مسلمانوں کوتعلیم سےمحروم کیا، اوردرسگاہوں کےدروازےہراس شخص پربندکردیئےجو مسیحیت قبول نہ کرے، یا کم ازکم اپنا اسلامی نام ترک کرکےمسیحی نام نہ اختیارکرلے- اس طریقےسےجوبااثرمسیحی اقلیت پیدا ہوگئی، آزادی کادورآنےکےبعد آج وہ بہت سی ایسی افریقی ریاستوں پرسیاسی ،فوجی اورمعاشی حیثیت سے غالب ہےجن کی بیشترآبادی مسلمان ہے- یہ ایک صریح نا انصافی تھی جو مسلم اکثریت رکھنےوالےافریقی ملکوں کےساتھ کی گئی- سوڈان میں برطانوی استعمارکی مدد سےمشنریوں نےجنوبی حصےکواپنےلیے " محفوظ علاقہ" بنوالیاجس میں تعلیم اورتبلیغ کاحق صرف مسیحی مشنریوں کےلیےمختص کردیا گیا اورمسلمانوں کےلیےتبلیغ تودرکنار،دوسری اغراض تک کےلیےوہاں جانےپرپابندیاں عائد کردی گئیں- میں نہیں سمجھتاکہ اس کوکسی دلیل سےبھی اشاعت مذہب کاجائزومعقول طریقہ ثابت کیا جاسکتاہے- خود ہمارےملک میں مشن ہسپتالوں اور درسگاہوں کامعروف طریق کاریہ ہےکہ وہ مسلمان مریضوں اورطلبہ سےبےتحاشوں فیسیں وصول کرتے ہیں، اورجوغریب آدمی عیسائیت قبول کرےاسےعلاج اورتعلیم کی سہولتیں مفت یا برائےنام خرچ پربہم پہنچاتےہیں- ظاہرہےکہ یہ تبلیغ نہیں بلکہ ضمیروایمان کی خریدوفروخت ہے- علاوہ بریں ان کی درسگاہیں ہمارےہاں ایک ایسی نسل تیارکررہی ہیں جو نہ مسیحیت اختیارکرتی ہےنہ مسلمان رہتی ہے، بلکہ اپنےاخلاق و تہذیب ، زبان اورطرززندگی کےاعتبارسےایک اجنبی عنصربن کررہ جاتی ہے، اورمذہبی حیثیت سےاس کےاندرمسیحیت یا اسلام کےبجائےالحادوبےدینی کےرجحانات پیدا ہوجاتےہیں- کیا کوئی معقول آدمی یہ مان سکتاہےکہ یہ مذہب کی کوئی خدمت ہےجومسیحی مشن انجام دےرہےہیں؟ یہی وجوہ ہیں، جن کی بنا پرمسلمان ملکوں میں عموما ان مشنوں کومذہبی تبلیغ کےبجائےاسلام اورمسلم معاشرےکےخلاف ایک سازش سمجھا جاتاہے- میں آپ سےدرخواست کرتاہوں کہ آپ اس کےنتائج پرغورفرمائیں اوراپنا اثرورسوخ استعمال کرکےمشنری اداروں کے طرزتبلیغ میں اصلاح کی کوشش کریں

امن اوراسرائیل :- مسیحی دنیا کےمتعلق مسلمانوں کاعام احساس یہ ہےکہ وہ اسلام اورمسلمانوں کےخلاف ایک شدید جذبہ عنادرکھتی ہے، اورآئےدن ہمیں ایسےتجربات ہوتےرہتےہیں، جواس احساس کوتقویت پہنچاتےہیں- اس کا تازہ ترین تجربہ وہ ہےجو ابھی حال میں عرب اسرائیل جنگ کےموقع پرہئوا ہے- اس لڑائی میں اسرائیل کی فتح پریورپ اورامریکہ کےبیشترملکوں میں جس طرح خوشیاں منائی گئیں انہوں نےتمام دنیا کے مسلمانوں کےدل میں زخم ڈال دئیےہیں- آپ شاید ہی کوئی مسلمان ایسا پائیں گےجس نےعربوں کی شکست اوراسرائیل کی فتح پرمسیحی دنیا کےاس علمی الاعلان اظہارمسرت وشادمانی اوراسرائیل کی کھلی کھلی حمایت کودیکھ کریہ محسوس نہ کیا ہوکہ یہ اسلام اورمسلمانوں کےخلاف مسیحیوں کےگہرےجذبہ عناد کامظاہرہ تھا- فلسطین میں اسرائیل کی ریاست جس طرح بنی ہے، بلکہ بنائی گئی ہے- اس کی تاریخ کسی سےپوشیدہ نہیں ہے- دوہزاربرس سےفلسطین عرب آبادی کاوطن تھا- موجودہ صدی کےآغازمیں وہاں یہودی 8 فی صد سےزیادہ نہ تھے- اس حالت میں برطانوی حکومت نےاس کویہودیوں کاقومی وطن بنانےکافیصلہ کیا اورمجلس اقوام نےنہ صرف اس فیصلےکی توثیق کی بلکہ برطانوی حکومت کوفلسطین کامینڈیٹ دیتےہوئےیہ ہدایت کی کہ وہ یہودی ایجنسی کوباقاعدہ شریک حکومت بناکراس تجویزکوعملی جامہ پہنائے- اس کےبعد دنیا بھرکےیہودیوں کولالا کرہرممکن تدبیرسےفلسطین میں بسانےکا سلسلہ شروع کردیاگیا یہاں تک کہ 30 سال کےاندران کی آبادی 33فیصدی تک پہنچ گئی- یہ ایک صریح ظلم تھا جس کےذریعہ سےایک قوم کےوطن میں زبردستی ایک دوسری اجنبی قوم کاوطن بنایا گیا – پھرایک دوسرا اس سےبھی زیادہ ظالمانہ قدم اٹھایاگیا اورامریکہ نےکھلے بندوں دباؤ ڈال کراقوام متحدہ سےیہ فیصلہ کرایا کہ یہودیوں کےاس مصنوعی قومی وطن کویہودی ریاست میں تبدیل کردیا جائے- اس فیصلےکی رو سے33فیصدی یہودی آبادی کوفلسطین کا 55 فیصدی، اورعربوں کی 67 فیصدی آبادی کو45فیصدی یہودی رقبہ الاٹ کیا گیا تھا، لیکن یہودیوں نےلڑکرطاقت کےبل پراس ملک کا77 فیصدی رقبہ حاصل کرلیا اورماردھاڑ اورقتل وغارت کےذریعہ سےلاکھوں عربوں کوگھرسےبےگھرکردیا- یہ ہےاسرائیل کی اصل حقیقت – کیا دنیا کاکوئی انصاف تسنداورایماندار آدمی یہ کہہ سکتاہےکہ یہ ایک جائزریاست ہےجوفطری اورمنصفانہ طریق سےبنی ہے؟ اس کا توعین وجودہی ایک بدترین جارجیت ہے- اوراس پرمزید ظلم یہ ہےکہ یہودی صرف ان حدود کےاندرمحدود رہنےپربھی راضی نہیں ہیں جوانہوں نےفلسطین میں زبردستی حاصل کی ہیں، بلکہ وہ سالہا سال سےعلانیہ کہہ رہےہیں کہ نیل سےفرات تک کاپورا علاقہ ان کاقومی وطن ہے- اس کےدوسرےمعنی یہ ہیں کہ یہ قوم ہروقت یہ جارحانہ ارادہ رکھتی ہےکہ اس پورےعلاقےپرجبراقبضہ کرےاوراس کےاصل باشندوں کوزبردستی وہاں سےنکال کردنیا بھرمیں پھیلےہوئےیہودیوں کووہاں لا کربسائے، اسی جارحانہ اسکیم کاایک جزگذشتہ ماہ جون کاوہ اچانک حملہ تھاجس کےذریعہ سےاسرائیل نے26 ہزارمربع میل علاقےپرقبضہ کیا- اس پورےظلم کی ذمہ دارمسیحی دنیا ہےاس نےایک قوم کےوطن میں ایک دوسری قوم کاوطن زبردستی بنوایا- اس نےاس مصنوعی قومی وطن کوایک ریاست میں تبدیل کرایا- اس نےاس جارح ریاست کوروپےاورہتھیاروں سےمدد دےکراتناطاقتور بنایا کہ وہ زبردستی اپنےتوسیعی منصوبوں کوعمل میں لا سکے- اوراب اس ریاست کی تازہ فتوحات پریہی مسیحی دنیا جشن شادمانی منارہی ہے- کیا آپ سمجھتےہیں کہ اس کےبعد نہ صرف عربوں میں، بلکہ تمام دنیاکے مسلمانوں میں مسیحیوں کی انصاف پسندی ، ان کی خیراندیشی ، اورمذہبی عنادوتعصب سےان کی بریت پرکوئی اعتماد باقی رہ گیا ہے؟ اورکیا آپ کا خیال ہےکہ دنیا میں امن قائم کرنےکےیہی طریقےہیں؟ یہ دراصل ہمارا نہیں بلکہ آپ کاکام ہےکہ مسیحی بھائیوں کواس روش پرشرم دلائیں اوران کی روح کواس گندگی سےپاک کرنےکی کوشش کریں

امن اوراقوام متحدہ اس سلسلےمیں ایک زیادتی ایسی بھی ہےجوخودآپ کی طرف سےہورہی ہےاگرچہ میں سمجھتاہوں کہ وہ نیک نیتی کےساتھ ہےاورآپ کوغالبایہ احساس نہیں ہےکہ درحقیقت وہ ایک زیادتی ہے- میرا اشارہ آپ کی اس تجویزکی طرف ہےکہ قدیم بیت المقدس کوبین الاقوامی کنٹرول میں دےدیا جائے- آپ یہ تجویزشاید اس خیال سےپیش کررہےہیں کہ اس طرح یہ مقدس شہرلڑائی جھگڑےسےمحفوظ رہےگا- لیکن درحقیقت اس کا نتیجہ ایک اورظلم کی شکل میں رونما ہوگا- ظاہرہےکہ بین الاقوامی کنٹرول اسی بین الاقوامی ادارےکےہاتھ میں ہوگا جس نےاسرائیل کی یہ مصنوعی ریاست بنائی ہےاور آج تک اسرائیل کی کسی جارجیت کونہ روک سکاہے- نہ اس کےہوہونےکےبعد اس کا تدارک کرسکاہے- اس ادارےکےکنٹرول میں جب یہ شہرآجائےگا تووہ یہودیوں کےلیےبیت المقدس میں آباد ہونےکےدروازےاسی طرح چوپٹ کھول دےگا جس طرح مجلس اقوام کےانتداب کےتحت برطانوی حکومت نےیہودی مہاجرین کے لیےفلسطین کےدروازےکھولےتھےاورپھریہودیوں کوبیت المقدس کی زمینیں اورعمارتیں خریدنےکی وہی سب سہولتیں بھی فراہم کردی جائیں گی جوبرطانوی انتداب اس سےپہلےفلسطین میں ان کوفراہم کرچکا ہے- اس طرح تھوڑی ہی مدت کےاندریہ شہرعملا یہودی شہربن جائےگا اوروہ یہودی اس پرقابض ہوں گےجن کےدلوں میں نہ مسیحی مقدسات کاکوئی احترام ہےنہ اسلامی مقدسات کا

میں آپ کےپیغام کےجواب میں اس طویل مراسلےاوراس صاف گوئی پرمعذرت خواہ ہوں- مگرمیں آپ کویہ بتانا اپنافرض سمجھتا تھا کہ قیام امن کی اصل رکاوٹیں کیا ہیں جنہیں دورکرنےکےلیےعملا کچھ کرنےکی ضرورت ہے- اس کےساتھ میں پھراس بات کااعادہ کرتاہوں کہ اگراسلامی دنیا کی طرف سےکوئی ایسی بات ہوجسےامن عالم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جائےتووہ مجھےبتائی جائےمجھ کوجو تھوڑابہت اثردنیا‏ئےاسلام میں حاصل ہےاسےمیں خود بھی اس رکاوٹ کےدورکرنےمیں استعمال کروں گا اوردوسرےزعمائےاسلام کوبھی اس کی طرف توجہ دلاؤں گا

Blank page 36

دورحاضرکا چیلنج

دورحاضرکا چیلنج اور اسلام ٭ لندن کےاستقبالیہ کا خطبہ اور اس کا جواب سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ

Blank page 38

مسلمان انگلستان نےاتوار15دسمبر1968ء کومولانا ابوالاعلی مودودی صاحب کےاعزازمیں ہوٹل ہلٹن لندن میں ایک استقبالیہ دیاتھا- یہ استقبالیہ انگلستان میں مقیم مسلمانوں کی ایک استقبالیہ کمیٹی کی طرف سےمنعقدکیا گیا تھا- اس کمیٹی میں پاکستان کےعلاوہ ترکی، عراق، الیبیا، شام، ویسٹ انڈیز، قبرص، سیلون، ملائشیا، مصر، نائیجیریا، اریشس، ٹرینی ڈاڈااورخود انگلستان کےمسلمانوں کےنمایاں اصحاب شامل تھے- یہ میں منعقد ہئوا- سواتین سومہمان اس میں شریک(BANQUET HALL استقبالیہ ہوٹل ہلٹن کےدالان ضیافت( ہوئے-شرکاومیں اردن، سوڈان، اوریمن کےسفیر،سعودی عرب کےکونسلر،ٹرینی ڈاڈا کےفرسٹ سکرٹری، انڈونیشیاکےفرسٹ اورسیکنڈسیکرٹری اوردوسرےسفارتی نمائندےشامل ہوئےتھے- مستشرقین اورماہرین تعلیم میں سےپروفیسربرنارڈلیوس ایڈیٹرانسائیکلوپیڈیا آف اسلام، ڈاکٹرٹنکرپروفیسرسیاسیات لنڈن یونیورسٹی پروفیسر بکنگھم اسکول آف اورمنٹیل اینڈ عریبک اسٹڈایسٹرڈنکن مڈل ایسٹ آرکائیوز، پروفیسرحیدری اورڈاکٹرٹیلرصدر شعبہ تقابل مذاہب برمنگھم یونیورسٹی وغیرہ تشریف لائےتھے- برطانوی صحافت کےاہم نمائندوں میں سے گارڈین، ڈیلی مرر، ڈیلی ٹیلیگراف، دی سن ، ایوننگ نیوز، بی بی سی(لندن وبرمنگھم) ویژن نیوزٹی وی ، اورہم پاکستانی اخبارات میں سےڈان ، نوائے وقت ، مارننگ نیوزاورحریت وغیرہ کےنمائندے، نیز انگلستان سےشائع ہونےوالےتقریباتمام اردواخبارات ورسائل کےنمائندے شریک تھے- ان کےعلاوہ انگلستان میں مقیم تمام اسلامی ممالک کےنمایاں اصحاب بھی وہاں موجود تھےجس کی وجہ سےیہ ایک اہم بین الاقوامی اجتماع بن گیا تھا- پروگرام کےمطابق ٹھیک ساڑھےچھ بجےکاروائی شروع ہوئی چائےنوشی کےبعد لیبیا کےنوجوان مسٹرعاشورشامس نےتلاوت قرآن پاک کی- پھرمتحدہ عرب جمہوریہ کےڈاکٹرصلاح شاہین پروفیسرگلاسگویونیورسٹی نےاستقبالیہ کمیٹی کی طرف سےخطبہ استقبالیہ پیش کیا- خطبہ انگریزی زبان میں تھا- پھرمولانا محترم نےاس کا جواب اردو میں دیا

اورپھرپروفیسر خورشیداحمد صاحب نےاس کا ترجمہ انگریزی میں کیا- اس پروگرام کےبعد معززین نےمولانا سےملاقات کی- یہ سلسلہ 9 بجےتک چلتا رہا- ذیل میں اس خطبہ اوراس کےجواب کودرج کیا جارہا ہے

خطبہ استقبالیہ

آج کی شام ہم انتہائی جذبات مسرت کےساتھ آپ کوخوش آمد ید کہہ رہےہیں ہم اللہ قادرمطلق کے شکرگزارہیں کہ اس نےدوبڑےنازک آپرشنیوں کےبعد آپ کی صحت کوتیزی سےبحال فرما دیا- ہماری دعا ہےکہ اللہ تعالی آپ کوصحت کاملہ وقوت وافرہ عطا فرمائےتاکہ آپ اعلائےکلمتہ اللہ کی خدمت سر انجام دیتے رہیں

آپ کا ہمارےدرمیان اس ساعت موجود ہونا ہم سب کےلیےایک عظیم سعادت ہے- چشم تصورکے سامنےنصف صدی سےزائد کےمناظرگھوم پھررہےہیں- اس وقت نظریاتی اضمحلال اورسیاسی اختلال کے باعث ہمارےلیل ونہارکتنےتیرہ وتازتھے! وہ تمام مثالی اقدارومطامح جن کےلیےامت مسلمہ اپنی پوری تاریخ میں سینہ سپررہی ، وہ انحطاط کاشکار ہوتےنظرآرہےتھے

لیکن اس کےبعد حالات پلٹا کھاتےہیں- تجدید واحیائےاسلام کی تحریک اٹھتی اوربرپا ہوتی ہےاورحیات نوکےآثارچارسوپھیلتےنظرآتےہیں- ذہنی افق پرتشکیک واعتذارکی روش رخصت ہوتی ہےاوردینی حمیت اور خود اعمتادی اس کی جگہ لےلیتی ہے- پراگندگی فکراورژولیدگی دماغ کےتانےبانےٹوٹ پھوٹ جاتےہیں اور اسلام کی خالص اوربےآمیزتعلیمات عقلی تقاضوں اورعصرجدید کےمطالبوں کاموزوں جواب بن کرپیش کی جاتی ہیں- اسلام اب محض پوجا پاٹ یا مراسم عبادات کانام نہیں ہے، بلکہ یہ بنی نوع انسان کےلیےایک انقلاب انگیزپروگرام ہے، یہ اخلاقی ارتقاء اوراجتماعی تنظیم کےلیےایک الہامی نظام فکرہے- یہ ایک ہمہ گیرضابطہ و حیات ہےجوفطرت انسانی کےعین مطابق ہے- یہ انسان کی شخصیت کوایک متعین سانچےمیں ڈھالتاہے،زندگی کی گزرگاہوں میں اس کی حفاظت کرتاہےاورایک پاکیزہ اورپروقارزندگی بسرکرنےمیں رہنمائی کرتاہے

یہ انقلابی تحریک برائی اورباطل کوہرمحاذ پرللکارتی اورچیلنج دیتی ہےاورانسانیت کوایک نظام نو کی تعمیرکےلیےدعوت دیتی ہے- یہ ایک عمومی دعوت ہےجوپوری نوع انسانی کوخطاب کرتی ہے- تاہم اس دعوت کاآغازاوراس کاردعمل چونکہ اسلامی دنیا میں ہئوا ہے، اسلیےقدرتی طورپرعالم اسلام ہی اسلامی تحریک کااولین میدان کارزارہے- ہوسکتاہےکہ اسلامی دنیا کےبعض حصوں میں حالات کی رفتار اطمینان بخش نہ ہو، لیکن اس عالمگیرتحریک کاوجود میں آجانا، عزائم وتوقعات کاسینوں میں بیدارہوجانا اوراس راہ میں گرانقدرقربانیوں کاپیش کیا جانا، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایک نیادورشروع ہوچکا ہے

آج کی شام خاص طورپراپنےاس ماضی قریب پرہماری یہ نگاہ بازگشت ایک قدرتی امرہےجبکہ ہم یہ دیکھتےہیں کہ اللہ کا فضل وکرم سےآپ کواس تحریک احیائےدین کاایک خصوصی علمبردارہونےکا فخر حاصل ہے- آپ نےاسلامی افکارونظریات کےذخائرمیں نمایاں اورقابل رشک اضافہ کیا ہے- آپ نےنشاۂ وتجدید کی طاقتوں کواصلاح اخلاق اورسماجی تعمیرنوکی ایک مثبت تحریک کی راہ پرڈال دیاہے- آپ نےجملہ موانع، طویل قید وبند، حتی کہ سزائےموت کا سامنا عدیم النیظرجرات اورعظیم ضبط وتحمل سےکیا ہے- آپ نےراہ حق پرگامزن ہونےوالوں کےلیےایک تابناک اوردرخشاں مشعل روشن کردی ہے- حق یہ یہ ہےکہ یہ سب اللہ کی عنایت ہےاوراسی کی ذات حمد وثنا کےلائق ہے

لیکن اس تاریک ماضی سےخلاصی کایہ مطلب ہرگزنہیں ہےکہ ہمارےحال کی تلخیوں میں کسی طرح کی کمی واقع ہوگئی ہےیا مستقبل کی مشکلات آسان ہوگئی ہیں- ہمیں نہایت سنگین حالات سےسابقہ درپیش ہے- یہاں سےتاریخ انسانی ایک نیا موڑمڑےگی یا پھرانسانیت کےتحفظ وبازیابی کےسارےامکانات کاخاتمہ ہوجائےگا

انسان آج اپنی فتوحات کےاوج کمال پرہے- وہ زمان ومکان کی حدوں کوپامال کرتانظرآتاہے- قوائےفطرت کی تسخیرمیں اسےبےحدوحساب کامیابی ہورہی ہے- مادی تکاثروترقہ کا ایک عالم اس کی دسترس میں ہے- طب ومعالجہ کےفن میں اتنی ترقی ہوچکی ہو گویا کہ مرض والم کاخاتمہ ہئوا چاہتا ہے- اقتصادی ارتقاء کایہ حال ہےکہ اگرانسان چاہےتوغربت وفاقہ کااسیصال ہوسکتاہے- خلاپیمائی کاعلم وفن چاندپرکمند پھینک رہاہے

بلاشبہ یہ بڑےکارنامےہیں لیکن اس سےانسان کی انسانیت وآدمیت میں کوئی ترقی واصلاح نہیں ہوئی-طاقت میں اضافےسےدانش وبنیش، نیکی اوربھلائی میں کوئی اضافہ نہیں ہئوا- باہرکی دنیا کافاتح اپنےنفس کومفتوح ومغلوب نہیں کرسکا- لہذایہ امرباعث تعجب نہیں ہےکہ اس کامیابی کی ساعت میں خود انسان ہی عظیم ترین خطرےکی زد میں ہے- یہ اپنےبنائےہوئےآلات واسلحہ کےرحم وکرم پرہے- کیونکہ زندگی کاکوئی بہتروبرترمقصد اورمشن اس کےپاس نہیں ہے- ذرائع ووسائل پراسےقابوحاصل ہےمگرمقاصد واقدارکارشتہ اس کےہاتھ میں نہیں ہے- مادی ثروت افلاس واستحصال کوختم کرنےمیں ناکام ہے- بلکہ اس کےبرعکس قوموں کی سطح پربھی اورافرادکےمابین بھی امیروغریب کافاصلہ بڑھتاجارہاہے- عائلی زندگی مائل باتشارہے- تقوی اوراحساس ذمہ داری کی جگہ اباحیت اورتعیش پرستی لےرہی ہے- تشدداورجرم وفساد اپنے عروج پرہے- انتہا پسندی کادوردورہ ہے- علائق میں کشیدگی ، چپقلش اورآویزش میں بےحد اضافہ ہو چکا ہے- ووٹ کی پرچی کی جگہ بندوق کی گولی لینےکی کوشش کررہی ہے

انسان نےجس سوسائٹی کوخود جنم دیا ہے،اس میں وہ اجنبی بن کررہ گیا ہےوہ جس کنبےمیں پیدا ہئوا تھا، اس کےکٹ چکاہے- اپنی مادرعلمی – اپنےکاروباری حلقے، غرض یہ کہ اپنےجس ماحول اوردنیا میں وہ پروان چڑھاتھا، اس سےاس کا رشتہ کلیتہ منقطع ہوچکاہے- وہ ایک ہجوم میں تنہا، بلکہ اپنےگھرمیں بیگانہ بن گیا ہے- اگرچہ ٹیکنولوجی کےاعتبارسےپوری دنیا کی طنابیں کھینچ گئی ہیں مگرانسان ابھی تک قومیت، وطنیت اورنسلیت کےبتوں کا پجاری ہے، امن وامان ناپیداراورعدل وانصاف ایک سراب ہے- انسان اپ نے بنائےہوئےتناقضات وتضادات کاصیدزبوں بن چکا ہے- وہ ایک طرف فتحمندی مگردوسری طرف دہشت، ایک طرف کاروانی مگردوسری طرف اذیت کےچنگل میں ہے

سوال یہ ہے، کیا اس متوقع آفت اورسیلاب بلا کرکسی طرح ٹالا جاسکتاہے؟ کیا انسان اپنےاس تیار کردہ قفس سےرہائی پاسکتاہے؟ کیا وہ اپنی جبلی نیک طینتی کودوبارہ حاصل کرسکتاہےاورازسرنوایک شریفانہ وعادلانہ معاشرےکی تعمیرکرسکتاہے

ہمارےعزیزبھائی! ہم آج کی شام جب اپنےخیالات کامخاطب آپ کو بنا رہےہیں، توہمارےذہن میں آپ کی وہ عظیم الشان خدمات تازہ ہورہی ہیں جوآپ نےعالم اسلام کی فکرونظرکی بیداری کےضمن میں انجام دی ہیں اورہم آپ کی قیادت اوررہنمائی کےمنتظرہیں- ہماری دعا اورتمنا ہےکہ موجودہ مخمصےسےنکلنےکی راہ انشاء اللہ موجود ہے ہم اپنےساتھ یہ شام گزارنےپرآپ کےدوبارہ شکرگزارہیں اوراللہ سےدعاکرتےہیں کہ وہ آپ کواسلام اورانسانیت کی خدمت بجالانےکی بیش ازبیش طاقت وہمت عطا فرمائے

جواب حمدوثناء کےبعد – جناب صدر، ارکان مجلس استقبالیہ اورمعززحاضرین سب سےپہلےمیں اس بات پرمعذرت چاہتاہوں کہ بیٹھ کرآپ سےخطاب کررہاہوں- جیسا کہ آپ کوخطبہ استقبالیہ سےمعلوم ہوچکاہے، پچھلےماہ ستمبراوراکتوبرمیں مجھےدوبڑےآپریشنوں سےگزرنا پڑا ہے- اورابھی میں اتنا کمزورہوں کہ چند منٹ سےزیادہ کھڑا نہیں رہ سکتااورمسلسل زیادہ دیرتک بول بھی نہیں سکتا- مجھےافسوس ہےکہ میں پہلی مرتبہ انگلستان آیا بھی توبیماری کی حالت میں آیا- انگلستان کےدوسرے مقامات پرجانا تودرکنارمجھےخود لندن بھی اچھی طرح دیکھنےکاموقع نہیں ملا- نہ یہاں کےبڑےبڑےادارات میں جاسکا، نہ یہاں کےاہل علم سےمل سکا اورنہ اپنےبھائیوں کی اس خواہیش کوپورا کرسکا ان کےاجتماعات میں شریک ہوں- میں مجلس استقبالیہ کابڑاشکرگزارہوں کہ اس نےیہ تقریب منعقد کی جس کی وجہ سےآج کم از کم مجھےآپ حضرات سےملنےاورتھوڑی بہت اپنی بات کہنےکاموقع مل گیا

مجلس استقبالیہ کا میں اس بنا پربھی بہت شکرگزارہوں کہ اس نےتحریک احیائےاسلام کےسلسلہ میں میری نا چیزخدمات کی قدر افزائی خود ان خدمات سےبہت زیادہ کی ہے- درحقیقت میرےلیےبڑےسےبڑا فخربس یہی کافی ہےکہ میں اللہ کےدین کاایک ادنی خادم ہوں- مجھےاپنےمتعلق کبھی یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں نےکوئی بڑا کارنامہ انجام دیاہے، فی الواقع یہ میرےمخلص بھائیوں کی اسلام سےمحبت ہےجس کی بنا پروہ کسی آدمی کواسلام کی تھوڑی بہت خدمت بھی کرتےدیکھتےہیں تواس کی حیثیت سےزیادہ اس کی قدرافزائی کرتےہیں- ان کےاس مخلصانہ جذبےکودیکھ کریہ توقع بندھی ہےکہ احیائےاسلام کی تحریک کوجن ناموافق حالات میں نئی نسل کےپیشروآگےبڑھانے کی کوشش کرتےرہےہیں، انشاء اللہ آئندہ نسل اس سےبہت زیادہ خدمات انجام دے گی اورانشاء اللہ اس تحریک کا مستقبل روشن ہوگا

حضرات ! مجلس استقبالیہ کےاس خطبہ میں پچھلےپچاس سال اوراس سےپہلےکےجن حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہےوہ درحقیقت کچھ غیرمتوقع حالات نہ تھے- مسلمانوں کوانیسویں صدی میں جوپےدرپے زکیں پہنچی تھیں ان کی بدولت اچانک انہوں نےاپنےآپ کواس حالت میں پایا کہ مشرق سےلےکرمغرب تک وہ اہل مغرب کےغلبہ اوراستیلاء سےمغلوب ہوچکےتھے- فطری طورپراس کاپہلا ردعمل وہی کچھ ہونا تھا جوہئوا، جس کا ذکرآپ نےاپنےاس خطبہ استقبالیہ میں کیا ہے- ان کویکایک ایک ایسی تہذیب سےسابقہ پیش آیا تھاجوصرف اپنےفلسفہ اورسائنس ہی کولےکرنہیں آئی تھی، محض اپنےاخلاقی ، تمدنی، اورمعاشی نظام کولےکربھی نہیں آئی تھی- بلکہ ان سب چیزوں کی پشت پرتوپ اوربندوق بھی تھی اوران کی پشت پرسیاسی اقتداربھی تھاجس سےمسلمان خود اپنےگھرمیں غلام بن کررہ گئےتھے- اس نوعیت کےغالب وقاہرفلسفہ زندگی سےجب یکایک ان کوسابقہ پیش آیا توانہوں نےاس کےآگےہتھیارڈال دئیے- انہوں نےانتہائی شکست خوروگی کےساتھ اس کی بالاتری کوتسلیم کرلیا- ان کےاندریہ جرات باقی ہی نہ رہی کہ اس تنقید کی نظرسےدیکھتے- وہ صرف جسم ہی کےاعتبارسےنہیں، عقل وفکراورروح کےاعتبارسےبھی مفتوح ہوکررہ گئےتھے- انہوں نےیہ سمجھا کہ فاتح کےنظریات وافکارتوہرغلطی سےمبراہیں- غلطی کا امکان اگرہےتومفتوح کےنظریات وافکارمیں ہے- تہذیب اگرصحیح ہےتوفاتح کی تہذیب ہے- بدلنےکےقابل صرف مفتوح کی تہذیب ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں ہےجسےفاتح کی تہذیب کےمعیارپرڈھالاجاناچاہیےعلم اورتحقیق کےنام سےفاتح جوکچھ لارہاہےوہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں- ترمیم کےقابل طرف مفتوح کےعقائد ہیں جواس علم و تحقیق سےمطابقت نہ رکھتےہوں- فاتح کاہراعتراض جووہ مفتوح کےمذہب ، تاریخ، اورتمدن پرکرے، بجائےخود بالکل بجاہے- مفتوح اگراپنی عزت بچانا چاہتاہےتواسےاپنی ہراس چیزکا انکارکردینا چاہیےجس پرفاتح نےانگشت نمائی کی ہو- جنگ کےمیدان میں شکست کھانےاورسیاست کےمیدان میں مغلوب ہوجانےکےبعد یہ قدرتی ردعمل تھی جس کےزیراثرانیسویں صدی کےنصف آخراوربیسویں صدی کےدوراول میں مسلمانوں کےاہل علم اوراہل قلم نےمغربی فلسفہ کوحق مان کراسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی- مغربی تہذیب کوبجاودرست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنےاوراس کےاندرنئےپیوند لگانےکاسلسلہ جاری کیا ، اوراسلام پراہل مغرب کےاعتراضات کووزنی سمجھ کران کےجواب میں معذرت خواہانہ اندازاختیارکرلیا- بجائےاس کےوہ ان اعتراضات کی حقیقت پرنگاہ ڈالتےاورتحقیق کرتےکہ وہ کہاں تک، صحیح اورکہاں تک غلط ہیں، ان پریکایک ان اعتراضات کادرعمل یہ ہئوا کہ انہوں نےہر اس چیزسےانکار شروع کردیا جس کی نشاندہی معترضین کی طرف سےکی گئی تھی، خواہ وہ حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہواورخود معترضین اس کواپنی نادانی سےغلط سمجھ بیٹھےہوں

مثلا معترضین کی طرف سےجب اسلام کےجہاد پراعتراض کیا گیا تومغلوب اورمرعوب ذہن یہ نہ دیکھ سکےکہ یہ اعتراضات کن کی طرف سےآرہےہیں- معترضین وہ لوگ تھےجہنوں نےخود ایشیا، افریقہ، امریکہ، اورآسٹریلیا میں ہرطرف جارحانہ جہاد کیا تھا، پورےپورےبراعظموں پرقبضہ کرکےکروڑوں انسانوں کواپنا غلام بنالیا تھا- اوربعض علاقوں میں قدیم باشندوں کی قریب قریب بالکل فنا کردیا تھا- ان کےاپنےمذہب میں چونکہ جہاد نہ تھا ،اوروہ جہاد کےبغیردنیا میں رہ بھی نہ سکتےتھے، اس لیےجب انہوں نےجہاد کیا توان کےپاس جنگ کےلیےکوئی اخلاقی ضابطہ موجود نہ تھا ، کوئی خدائی ہدایات نہ تھی جو ان کوجنگ کی تہذیب سےآشنا کرتی، بلکہ انہوں نےخود اپنےلیےجنگ کے طریقے اپنی خواہشات اوراغراض کےمطابق وضع کرلیےتھے- اس وجہ سےجب انہوں نےجہاد کیا توبعض براعظموں میں پوری کی پوری نسلوں کومٹا دیا، اورمفتوحون پرظلم وستم کی انتہاکردی- ان چیزوں پرنگاہ کرنے کےبجائےہمارےہاں کےاہل علم اوراہل قلم نےسرےسےاس بات کا انکار ہی کردیا کہ ہمارےہاں جہاد نامی بھی کوئی چیزہے، اورمعترضین کو یہ نہ بتایا کہ اسلامی تعلیم کی برکت سےمسلمانوں نےاپنی پوری تاریخ میں جنگ کےاندرکبھی وحشیانہ حرکتیں نہیں کیں جواہل مغرب نےکی تھیں اورآج تک کررہےہیں، نہ مفتوح قوموں کےساتھ کبھی وہ برتاؤ کیا جواہل مغرب نےکیا ہے- اس کےبرعکس مسلمان معذرت خواہوں نےگویا معترضین سےیہ کہا کہ جہاد کرنا بس آپ ہی کا حق ہے- ہم اس کا حق نہیں رکھتے

اسی طرح جب اسلام کےمسئلہ غلامی پراعتراض ہئوا توہمارےہاں کےاہل علم اوراہل قلم نےفورا اس بات کا انکارکردیا کہ اسلام میں غلامی کابھی کوئی قانون ہےاوراس کےلیےکچھ ضوابط اورقواعد مقرر کیےگئےہیں- ان پریہ اعتراض سن کرکچھ ایسی گبھراہٹ اورخوف زدگی طاری ہوگئی کہ وہ اس معاملہ میں خود معترضین کےطرزعمل کاجائزہ لےکردیکھ ہی نہ سکے- معترض وہ لوگ تھےجن کےاپنےدین میں غلامی کےمتعلق کوئی ہدایت موجود نہ تھی- جس سےان کویہ معلوم ہوتاکہ انسان کوغلام کس حالت میں بنایا جا سکتاہے- اورکس حالت میں نہیں بنایا جا سکتا، اورغلام بنانےکےبعد غلاموں کےساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے- ایسےکسی ہدایت نامےکےبغیرانہوں نےاتنےبڑےپیمانےپرغلامی کاکاروبارکیا جس کی کوئی نظیرانسانی تاریخ میں نہیں ملتی- وہ کئی صدیوں تک افریقہ کےباشندوں پرچھاپےمارتےرہے- دس بارہ کروڑانسانوں کوپکڑکر لےگئے- امریکہ اورویسٹ انڈیزوغیرہ میں اپنی نوآبادیوں کی آباد کاری کا کام ان سےلیا اوران کےساتھ بدترین انسانیت سوزسلوک کیا- آج مغربی دنیا میں رنگ کا مسئلہ ان کےاپنی ظلم کی بدولت پیدا ہئوا ہےورنہ بچارےافریقہ کےکالےخود امریکہ جمیکا اوردوسرےملکوں میں پروازکرکےنہیں گئےتھے، ہمارےاہل قلم اتنی جرات ہی نہ رکھتےتھےکہ وہ اسلام کےمسئلہ غلامی پراعتراض کرنےوالےاہل مغرب سےیہ کہہ سکتے کہ حضرات یہ نامہ اعمال لےکرآپ کا منہ کیا ہےکہ ہم پرحرف زنی کریں- وہ وقت تھا ہی کچھ ایسا کہ فاتحین کے اعتراضات سن کرہمارےہاں کےلوگوں پرجوبدحواسی طاری ہوجاتی تھی- وہ اس بات کونہیں دیکھتےتھے کہ معترض کون لوگ ہیں اوران کےاعتراض کی حقیقت کیا ہے- انہیں توفاتح کالگایا ہوا ہرالزام سن کراپنی عزت بچانےکی فکرلاحق ہوجاتی تھی- انہوں نےکبھی یہ کہنےکی ہمت نہ کی کہ حضرات ہمارےپاس چونکہ غلامی کےبارےمیں ایک اعلی درجہ کامعقول اخلاقی ضابطہ موجود تھا اس لیےہمارےہاں کبھی غلاموں کےساتھ وہ سلوک نہیں کیا گیا جوافریقہ کےغلاموں کےساتھ آپ نےامریکہ اورویسٹ انڈیزوغیرہ میں کیا ہے- آپ کو توانیسویں صدی میں غلامی کوقانونا منسوخ کرنےکی توفیق نصیب ہوئی بھی توآج تک گورےاورکالے کی تمیزسےآپ نجات پاسکےہیں- امریکہ اورجنوبی افریقہ میں کالوں کےساتھ جوسلوک آپ کررہےہیں وہ غلامی کےطریقےسےہزاردرجہ بدترہےاس کےبرعکس ہمارےہاں غلام بادشاہی کےتخت پربارہا سرفرازہوئے ہیں- ہمارےبڑےبڑےسپہ سالارغلام ہوئےہیں- اورہماری تاریخ ان غلاموں سےبھری ہوئی ہےجنہیں محدث فقیہ اورامام بننےکاشرف حاصل ہئوا ہے

اسی طرح جب ہمارےتعدد ازواج پراہل مغرب کی طرف سےاعتراض کیا گیا توہمارےہاں کےاہل علم اوراہل قلم اس پرشرمندہ ہوکرطرح طرح کی معذرتیں پیش کرنےلگےاورانہوں نےآنکھیں کھول کریہ نہ کوقانون قراردےکراہل مغرب نےایک بہت بڑی نادانی کا ارتکاب کیا ہے(Monogamy) دیکھا کہ یک زوجی جس کا بدترین خمیازہ وہ آج بھگت رہےہیں- اس کی بدولت ان کےہاں غیرقانونی تعدد ازواج نے رواج پایا جوکسی ضابطہ کاپابند نہیں اورجس کےساتھ کسی ذمہ داری کابارنہیں- اسی کی بدولت ان پرکثرت طلاق کی وبا مسلط ہوئی جوروزبروزبڑھتی چلی جارہی ہے- اسی کی بدولت ان کےہاں ناجائزبچوں کی بھرمار کےبچےایک پریشان (BROKEN HOMES) ہورہی ہے- خاندانی نظام درہم برہم ہورہاہےبربادشدہ گھروں کن مسئلہ بن گئےہیں- اورکمسنی کےجرائم روزافزوں ترقی پرہیں- ان ساری چیزوں کوپیش کرکےمعترضین کو شرم دلانےکےبجائےہم خود اپنےقانون تعددازواج پرشرمانےلگےاوراس میں ترمیم کرنےپرتل گئے

وہ ایک دورتھا جوقدرتی اسباب سےہمارےاوپرآیاتھا- اگرچہ وہ ابھی تک بالکل ختم نہیں ہئوا ہے لیکن بہرحال اس کوگزرنا تھا، گزرنا ہےاورلازما گزرکرہی رہےگا – ابتدائی مراحل سےنکلنےکےبعد ہمارے ہاں ذرازیادہ گہرےغوروفکرکےساتھ فلسفہ، سائنس، تاریخ، اورمذہب کامطالعہ کیا گیا تواس کےبعد ظاہربات ہے کہ ابتدائی مرعوبیت کی وہ کیفیت باقی نہیں رہ سکتی تھی- ابتدائےاسلام میں بھی جب مسلمانوں کویونانی اوردوسرےعجمی فلسفوں سےنیا نیا سابقہ پیش آیا تھا تو اس نےاعتزال کی شکل اختیارکی تھی- لیکن جب گہرائی کےساتھ ان چیزوں کا مطالعہ کیا گیا توآخرکار تنقید اورتحقیق نےان ابتدائی تاثرات کوختم کردیا اور مسلمانوں کےاندرایک پختہ نظام فکر اورایک پختہ علم کلام وجود میں آیا-ایسی ہی صورت اب بھی پیش آرہی ہے- جوں جوں مطالعہ میں وسعت اورتحقیقات میں پختگی پیدا ہوتی جارہی ہےوہ ابتدائی اثرات ختم ہوتےجا رہے ہیں- اگرچہ ابھی تک مسلمانوں میں اس طرح کےلوگ پیدا ہورہےہیں جو مغربی نظرسےاسلام کودیکھ رہےہیں اوراسلام میں ترمیمات کرنےکی کوششیں کررہےہیں- لیکن اب ہمارےاندرایسےمحققین خدا کےفضل سےموجود ہیں جو اس طرح کی ہرکج فہمی اورہراٹھنےوالی ترمیمی تحریک کا استیصال کرنےاورمسلمانوں کو غلط فہمیوں سےبچانے میں کامیاب ہورہےہیں

اب میں مختصرخطبہ استقبالیہ کےاس حصہ کےمتعلق بھی کچھ عرض کرنا چاہتاہوں جس میں موجودہ زمانےکی مشکلات اورپریشانیوں کا ذکرکیا گیا ہے- اس کےمتعلق میں یہ عرض کروں گا کہ اس دور کی جتنی ترقی بھی ہے- وہ ساری کی ساری دراصل علوم طبیعی (PHYSICAL SCIENCES) کی تحقیقات کی بدولت ہے- ان علوم کی تحقیقات نےانسان کوغیرمعمولی قوتیں دےدی ہیں- ان کی بدولت انسان نےعجیب وغریب ایجادات کی ہیں اوران کےاستعمال سےانسانی تمدن ومعاشرت اورتہذیب کوغیرمعمولی ترقی حاصل ہوئی ہے- لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیئےکہ جہاں تک علوم طبیعی کا تعلق ہے، خدا نےانسان کوخود اس کی تحقیق کےذرائع عطا کردئیےہیں اوراس کےاندرقابلیتیں اورصلاحیتیں پیداکردی ہیں جن کےذریعہ سےوہ اپنےگردوپیش کی موجودات کا مطالعہ کرسکتاہے، تجربات اورمشاہدات سےان کےخواص اوران کےاندرکام کرنےوالےقوانین دریافت کرسکتاہےاوراپنی مادی ترقی کےلیےانہیں زیادہ سےزیادہ بہتر طریقےسےاستعمال کرنےکی کوشش کرسکتاہے- اس کےلیےکسی خدائی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے- خدانے خود انسان کوزمین پراپنا خلیفہ بنایا ہےاس مادی دنیا پر اس کواقتدارعطا کردیاہے- اس اقتدارکواستعمال کرنے کےذرائع ووسائل اس کےلیےفراہم کردئیےہیں، اورخود انسان کےاندروہ صلاحیتیں اورطاقیتں پیدا کردی ہیں جن سےکام لےکروہ موجودات زمین سےاپنی خدمت لےسکتاہے- مگرجہاں تک تہذیب وتمدن کا تعلق ہےجہاں تک اخلاق کاتعلق ہےاورجہاں تک انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کےنظام کاتعلق ہے، اس کےبارےمیں انسان کویہ غلط فہمی لاحق ہوجانا صحیح نہیں ہےکےیہاں بھی وہ اپنی ہی تحقیقات سےزندگی کےصحیح اصول معلوم کرسکتاہے- یہ غلط فہمی درحقیقت ان تمام خرابیوں کابنیادی سبب ہےجوانسانی تہذیب میں راہ پاگئی ہیں- یہاں فی الواقع انسان خدائی ہدایت (DIVINE CUIDANCE) کا محتاج ہے- خدا کی ہدایت سےآزاد ہوکرانسان اگراپنے اصول خود وضع کرنےلگےاوراپنےنزدیک یہ سمجھےکہ اس پہلومیں بھی اسےخدا کی طرف سےآئی ہوئی کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہےتووہ ٹھوکروں پرٹھوکریں کھاتاچلا جاتاہےاورمحض اپنی عقل وفکراور تجربات ومشاہدات کےبل پرکوئی صحت مند نظام زندگی تعمیرنہیں کرسکتا – یہ غلطی پہلےبھی انسان کوگمراہ کرتی رہی ہےاورآج بھی کررہی ہےاوراس کا نتیجہ بجزتباہی کےاورکچھ نہیں ہے

اس معاملہ میں ایک اورغلطی بھی ہےجوانسان کرتارہاہے، اوروہ یہ ہےکہ جس حدود دائرہ میں کوئی خدائی ہدایت وہ اپنےپاس پاتاہےصرف اسی پروہ اکتفاکرنا چاہتا ہےاوراپنےدائرہ سےباہرجاکریہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتاکہ کہیں اوربھی کوئی ہدایت خدا کی طرف سےآئی ہوئی موجود ہےیا نہیں، اس کے اپنےمعاشرہ میں، اس کےاپنےاسلاف کےذریعہ سےاگرکوئی خدائی ہدایت اسےملی ہےتوصرف اسی پرقناعت کرتالیتاہے- پھرجب وہ دیکھتاہےکہ یہ ہدایت اسےپوری رہنمائی نہیں دےرہی ہےجس سےزندگی کےمختلف پہلوؤں میں وہ ایک جامع اورقابل عمل نظام مرتب کرسکےاوراپنی زندگی کوصحیح طریقوں پرڈھال سکےتو وہ سرےسےخدائی ہدایت ہی سےمایوس ہوجاتاہےاورغیرضروری سمجھتاہےکہ اپنےدائرہ سےباہرنکل کربھی یہ معلوم کرےکہ کہیں اوربھی کوئی خدائی ہدایت زیادہ جامع اورصحیح شکل میں موجود ہےیا نہیں، وہ اگرکہیں اورپائی جاتی ہوتواس کووہ اجنبی چیزسمجھتا ہے، اس کےاندرعیب نکالنےکی کوشش کرتاہے، اس کی قدر گھٹا نےمیں اپنا زورصرف کرتاہے، اورچاہتاہےکہ کسی نہ کسی طرح اس کےخدائی ہدایت ہونےکا انکار کرنےکےلیےاسےکوئی بہانہ مل جائے- حالانکہ فی الواقع یہ اس کی خود اپنےساتھ دشمنی ہےایک انسان کوکھلےدل کےساتھ دیکھنا چاہیےکہ کہاں حق کی روشنی موجود ہے- کھلےدل کےساتھ اس کومعلوم کرنا چاہیے کہ اگرمیرےپاس کوئی روشنی مکمل شکل میں نہیں ہےتوکہیں اوروہ موجود ہےیا نہیں- اگروہ کہیں پائی جاتی ہویا کوئی اسےپیش کرےتوبغیرکسی تعصب اوربغیرکسی تنگ نظری کے اس کوجانچنا چاہیے- قبل ازوقت کوئی رائےقائم کیےبغیراس کی تحقیق کرنی چاہیے- کھلی آنکھوں سےدیکھنا چاہیےکہ آیا اس سےکوئی ایسی رہنمائی مل سکتی ہےجس سےہم اخلاق کےصحیح اصول معلوم کرسکیں- جس سےہم اپنےتمدن اوراپنی تہذیب کےبنیادی مسائل کا حل معلوم کرسکیں، جس سےہم اپنی زندگی کوزیادہ بہتربنانےکی کوشش کرسکیں

میں سمجھتاہوں اگرموجودہ زمانےکےاہل فکراپنی اس کمزوری سےنجات پالیں توسارےانسان خدا کی طرف سےآئےہوئےہر اس نورسےفائدہ اٹھاسکتےہیں جودنیا میں کہیں آیا ہے- ہم اس کےلیےبالکل تیارہیں کہ اہل مغرب کےپاس اگرخدا کی طرف سےآئی ہوئی ہدایت موجود ہوتواس سےاستفادہ کریں جبکہ تحقیق سےہمیں اس کےخدائی ہدایت ہونےکا اطمینان ہوجائے- اسی طرح سےاہل مغرب کوبھی چاہیےکہ ہمارےپاس خدا کی جوہدایت موجود ہے، جس کوہم ہدایت الہی کی حیثیت سےپیش کرتےہیں- اس کوبھی وہ اچھی طرح جانچ لیں اوردیکھیں کہ آیا اس کےاندرکوئی ایسی رہنمائی ملتی ہےجس کی مدد سےوہ اپنی زندگی کےنظام کو درست کرسکیں

مثال کےطورپرعرض کروں گا کہ اس وقت امریکہ، جنوبی افریقہ، رہوڈیشیا اوردوسرےملکوں میں رنگ ونسل کی تفریق انتہائی شست اختیارکرگئی ہےاوربرطانیہ میں بھی یہ سراٹھاتی نظرآرہی ہے- یہ ایک بد کےسارے(RATIONALISM) ترین داغ ہےجوانسانیت کےدامن پرلگاہئواہےاورمغربی دنیا معقولیت پرستی دعووں کےباوجوداس دھبےکواپنےدامن سےدھونےمیں کامیاب نہیں ہورہی ہے- اب اگرانصاف کی نظرسے دیکھا جائےتومعلوم ہوگا کہ اس مسئلہ کوجس طرح اسلام نےحل کیا ہےدنیا کا کوئی معاشرہ اسےحل نہیں کرسکا ہے-آخرتعصب کوچھوڑکریہ سمجھنےکی کوشش کیوں نہ کی جائےکہ اسلام کےاصولوں میں وہ کیا چیزہےجس کی وجہ سےاسلامی معاشرہ کےاندرپوری اسلامی تاریخ میں کبھی رنگ کےمسئلہ نےوہ شکل اختیارنہیں کی جومغربی معاشرہ میں پیش آرہی ہے؟

اسی طرح موجودہ تہذیب میں آپ دیکھ رہےہیں کہ خاندانی نظام بری طرح درہم برہم ہورہاہے- شوہراوربیوی ، ماں باپ اوراولاد، بھائی اوربہن کےرشتےبےمعنی ہوکررہ گئےہیں- بھرےگھربربادہورہےہیں- کےبچےپورےمعاشرے(BROKE HOMES) کم سنی کےجرائم بےتحاشا بڑھ رہےہیں- ٹوٹےہوئےگھروں کےلیےایک نفسیاتی مسئلہ بنتےجارہےہیں- ناجائزبچوں کی ولادت روزبروزبڑھتی چلی جارہی ہے- طلاق وتفریق کی کثرت نےانسانی معاشرہ کوپارہ پارہ کردیاہے، دیکھنا چاہیےاورانصاف کی نگاہ سےدیکھنا چاہیے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں کبھی یہ مسائل اس شکل میں پیدا نہیں ہوسکے-آخرکیوں نہ ان قوانین وضوابط کامطالعہ کیا جائےجن کی وجہ سےاس انتہائی تنزل کےدورمیں بھی مسلم معاشرہ ان لعنتوں سےپاک ہے؟ علمائےمغرب اس سےسبق لینےکےبجائےہمارےقوانین نکاح وطلاق اورہمارےنظام معاشرت پرالٹی نکتہ چینیاں کرتےہیں اوراپنےشاگردوں کےذریعہ سےہمیں بھی وہ بیمایاں لگانےکی کوشش کررہےہیں جو ان کےمعاشرےکوتباہ کررہی ہیں حالانکہ انہیں یہ معلوم کرنا چاہیےکہ ہمارےقوانین اورقواعدکےاندرکیا چیزایسی ہےجس کی وجہ سےاسلامی معاشرہ کےاندرخاندانی نظام کی یہ درہمی وبرہمی پیدا نہیں ہوئی ناجائزبچوں کی یہ کثرت نہیں ہوئی- طلاقوں کی یہ بھرمارنہیں ہوئی- بچوں کےجرائم کایہ زورنہیں ہئوا ، اولاد اپنےبوڑھے والدین کےلیےاس قدربےدردنہیں ہوئی- اوروالدین اپنی اولاد سےاس درجہ بےپروانہیں ہوئےکہ بچوں سےبڑھ کران کواپنےکتےزیادہ پیارےہوجائیں- تعصب سےذہن کوپاک کیا جاتا توبعیدنہ تھا کہ اپنےمحدود دائرےسے باہرکی دنیا کودیکھ کرکوئی مفید سبق حاصل کیا جا سکتا

اس سلسلےمیں ایک اورمثال بھی میں پیش کرسکتاہوں- آج کی دنیا پےدرپےلڑائیوں کےچکرمیں پھنسی ہوئی ہے- دوعظیم اورخوفناک لڑائیاں ہوچکی ہیں اورایک تیسری لڑائی کاہروقت خطرہ ہے، چروں طرف یوں محسوس ہوتاہےکہ باردوبچھی ہوئی ہےاوردنیا کوبھڑکا دینےکےلیےجس ایک چنگاڑی کافی ہے- اگرغورکیا جائےتومعلوم ہوگا کہ دنیا کےموجودہ نظام میں چند بنیادی خرابیاں موجود ہیں جہنوں نےروئےزمین کوآتش فشاں بنا رکھاہے- ان میں سےایک خرابی یہ حدسےبڑھتی ہوئی قوم پرستی ہےجس نےقوموں کوایک دوسرےسےپھاڑاہےاورایک دوسرےکاحریف بنادیاہے- اورایک دوسری خرابی وہ تنگ نظری اورتنگ دلی ہے جس کی وجہ سےفتح یاب ہونےکےبعد مفتوح قوم کےساتھ کبھی فیاضی کاسلوک نہیں کیا جاتابلکہ اس کوکچلنے اوردبانےاوراس کی عزت نفس کوختم کرنےاورمادی حیثیت سےاس کوبالکل برباد کردینےاوراس کےملک کو ٹکڑےٹکڑےکرڈالنےکی کوشش کی جاتی ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوتاہےکہ مفتوح قوم کےدل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہےاورایک جنگ ختم ہوتےہی دوسری جنگ کی تیاری شروع ہوجاتی ہے- اہل مغرب کوکھلی آنکھوں سےدیکھنا چاہیےکہ کیا کوئی دوسرا معاشرہ ایسا ہےجس کےپاس کوئی ایسی ہدایت موجود ہوجس کی بدولت اس کےہاں کبھی جنگ نےیہ شکل احتیارنہیں کی- بلاشبہ مسلمانوں کےاندربھی اسلام کی پوری پیروی نہ کرنےکےباعث بارہاآپس کی لڑائیاں پیش آئی ہیں- غیرمسلموں سےبھی بارہاان کا مقابلہ ہئواہے- دنیا کےبہت سےملک انہوں نےبھی فتح کیےہیں لیکن اگرکوئی شخص انصاف کی نظرسےدیکھےتواسےنظرآسکتاہےکہ مسلمانوں کےاندرکبھی نیشنلزم کا وہ اندھا جنون پیدا نہیں ہئوا جومغربی دنیا میں پایا جاتاہےاورمسلمانوں نےکبھی مفتوحوں کےساتھ وہ سلوک نہیں کیا جواہل مغرب نےکیاہے- اسپین کوکبھی مسلمانوں نےبھی فتح کیا تھا- اورپھرعیسائیوں نےبھی اسےمسلمانوں سےچھینا- دونوں فتوحات کےنتائج ہرشخص خود دیکھ سکتاہے- فلسطین اوربیت المقدس کبھی مسلمانوں سےبھی چھنےگئےتھے، اورمسلمانوں نےکبھی کبھی ان کوواپس لیاتھا- دونوں کافرق آخرکس کومعلوم نہیں ہے؟ اس فرق کی وجہ تلاش کیجئے- کیا اس کی وجہ اس کےسواتیائی جاسکتی ہےکہ اسلام نےاپنےپیروانسانوں کواس قدروسیع القلب اس قدر فیاض ، اوراس قدرغیرقوم پرست بنا دیاہےجس کےباعث وہ فتح یاب ہونےکےبعد مفتوح قوم کےساتھ کبھی وہ سلوک نہیں کرتےجودوسرےلوگ کرتےہیں- اوران کےاندرقومیت کاوہ جنون کبھی پیدا نہیں ہوتاجو اپنی قوم کےسواانسان کوہردوسری قوم کا دشمن بنا دیتاہے- اسلام کی ان تعلیمات کوکھلےدل سےدیکھنا چائیےجن کی بدولت مسلمانوں کویہ نعمت حاصل ہوئی ہے- اگران کےاندرکوئی بھلائی پائی جائے، اگران کےاندرکوئی روشنی نظرآئےتوآخر کیوں نہ اس سےرہنمائی حاصل کی جائے؟ انسان اپنا خوددشمن ہوگا اگرکہیں اسےداروئےشفاملتی ہوتووہ صرف اس لیےاس کولینےسےانکارکردےکہ یہ اس کےہاں کی چیزنہیں ہے

آخرمیں ایک بات اوربھی عرض کرنا چاہتاہوں ، اگرچہ میری قوت گویائی اب جواب دےرہی ہے- اس زمانےمیں خوش قسمتی سےمسلمانوں کی ایک بڑی تعدادکومغربی تہذیب کےایک بہت بڑےمرکزانگلستان تھا اس وقت مسلمانوں کے(EMPIRE) میں آکررہنےکاموقع ملاہے- اس سےپہلےجب برطانیہ ایک سلطنت کےساتھ اہل برطانیہ کےتعلقات کی نوعیت کچھ اورتھی- اس وقت اس کا امکان نہ تھا کہ ان کےدرمیان کسی صحت مند بنیاد ترتہذیبی لین دین ہوسکے- لیکن اب سلطنت کادورختم ہوگیا اوربرطانیہ صرف ایک مملکت ہے- اب ہم اسی طرح آزاد ہیں جس طرح خود اہل برطانیہ آزاد ہیں- اب ہمارا اوران کا رابطہ دوآزادقوموں کاسارا رابطہ ہےجس میں نہ ایک فریق حقیرہےاورنہ دوسرافریق کبیر- یہ ایک ایسا موقع ہےکہ اگراس سےدونوں فریق فائدہ اٹھانا چاہیں تواٹھاسکتےہیں- ہم اہل برطانیہ کےعلوم وفنون سے، ان کےسیاسی ادارات سے، ان کی آزادی صحافت سے، ان کی علمی تحقیقات سےاوران کی تنظیمات سےبہت کچھ استفادہ کرسکتےہیں اورہمیں کرنا چاہیے اسی طرح اہل برطانیہ بھی، اگروہ خود بھی اس رداداری سےکچھ کام لیں جس کا سبق وہ ہمیں دیا کرتےہیں، ہم سےبہت کچھ سیکھ سکتےہیں- اگروہ اپنی سرزمین میں مسلمانوں کواسلامی اصول کےمطابق زندگی بسرکرنے کا موقع دیں توبہت آسانی کےساتھ انہیں یہ دیکھنےکاموقع مل سکتاہےکہ آیا ہماری تہذیب میں کچھ اصول ایسےہیں جن سےدوفائدہ اٹھائیں میں جب سےیہاں آیا ہوں میں نےاکثریہ باتیں سنی ہیں کہ اہل برطانیہ میں، اور خصوصا یہاں کےبعض لیڈروں کےدلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہےکہ جولوگ بھی اس ملک میں آئےہیں وہ یہاں کی آبادی کےساتھ ہم رنگ ہوجائیں کےاندرکچھ اورانگریزوں کا اضافہ کرنےسےآخرکیا فائدہ ہوگا؟ اورمجھےیہ بھی امید نہیں کہ اگریہ باہرسےآنےوالےلوگ سوفی صدی بھی انگریز بننےکی کوشش کریں تو یہاں واقعی ان کوانگریزمان لیا جائےگا- پھریہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اہل برطانیہ کودوسروں سےایسا مطالبہ کرنےکی ضرورت ہی کیا پیش آئی ہے؟ کم ازکم ہمارےہاں پاکستان میں اوردوسرےمسلمان ملکوں میں توانگریزوں، امرمکینوں اوریوروپین حضرات سےکبھی اس نوعیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ اگرہمارےملک میں آکررہیں تواپنا لباس ترک کریں،کےاندرکچھ اورانگریزوں کا اضافہ کرنےسےآخرکیا فائدہ ہوگا؟ اورمجھےیہ بھی امید نہیں کہ اگریہ باہرسےآنےوالےلوگ سوفی صدی بھی انگریز بننےکی کوشش کریں تو یہاں واقعی ان کوانگریزمان لیا جائےگا- پھریہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اہل برطانیہ کودوسروں سےایسا مطالبہ کرنےکی ضرورت ہی کیا پیش آئی ہے؟ کم ازکم ہمارےہاں پاکستان میں اوردوسرےمسلمان ملکوں میں توانگریزوں، امرمکینوں اوریوروپین حضرات سےکبھی اس نوعیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ اگرہمارےملک میں آکررہیں تواپنا لباس ترک کریں، اپنےکھانےپینےکےطریقےچھوڑیں، اپنےطریق زندگی سےدست بردارہوں ہمارےساتھ ہم رنگ (INTEGRATE) ہوجائیں، حتی کہ ہم نےتو کبھی ان سےیہ بھی نہیں کہا کہ ان کی خواتین اپنی ٹانگیں ہی ڈھانک لیں- جب ہم نےان کےساتھ یہ رواداری برتی ہےتووہ بھی ہمارے ساتھ کم ازکم اتنی رواداری توبرتیں جو ہم ان کےساتھ برت رہےہیں- برطانیہ کی آبادی کیثرالنسل ( MULTI- RACIAL) توبن ہی چکی ہےاگروہ کیثرالتہذیب (MULTI- CULTURAL) بھی ہوجائےتواس میں آخرخطرےکی کیا بات ہے؟ مسلمان یہاں اپنی تہذیب کےمطابق زندگی بسرکریں گےتو انشاء اللہ برطانیہ کے ہی کریں گے، اوران کی تہذیبی اقداراوراطوارکودیکھ کراہل برطانیہ کویہ (ENRICH) معاشرےکومالا مال دیکھنےکاموقع ملےگا کہ ان کےہاں کیا چیزیں ایسی ہیں جن سےوہ آج تک معاشرتی الجھنوں سےبچےرہےہیں جن سےانگریزی معاشرہ اس وقت دوچارہے، خوش قسمتی سےاس مجمع میں متعدد صاحب علم انگریزاصحاب بھی موجود ہیں مجھےامید ہےکہ جوکچھ میں نےخلوص دل کےساتھ عرض کیا ہےاس پروہ ٹھنڈےدل سےغور کریں گےاوراگرمیری باتوں کومعقول پائیں گےتوانہیں کھلےدل سےقبول کریں گے

آخرمیں میں مجلس استقبالیہ کاپھرشکریہ ادا کرتاہوں کہ اس نےمجھےآپ حضرات سےملنےکا قیمتی موقع عطا فرمایا جس کی یاد انشاء اللہ میرےدل سےکبھی محونہ ہوگی اخردعواناان الحمدللہ رب العالمین) ____________٭______________

مجلتہ الغرباء کاسوالنامہ

مجلتہ الغرباء کاسوالنامہ اور اس کا جواب لندن سےایک رسالہ عربی زبان میں مجلتہ الغرباکےنامسےنکلتاہےجسےان عرب طلبہ نےجاری کیا ہےجوبرطانیہ میں مقیم ہیں اوراپنی دوسری مصروفتیوں کےساتھ اسلام کی خدمت بھی انجام دےرہےہیں- اس رسالےکےایڈیٹرنےمولانا مودودی سےان کےزمانہ قیام لندن میں چند سوالات کیے تھےجن کا جواب انہوں نےوہیں دےدیاتھاذیل میں یہ سوالنامہ اور اس کےجوابات درج کئےجارہےہیں سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ

Blank page62

سوالنامہ ٭ 1- الغرباء اسلام پسند طلبہ کامجلہ ہےاوربرطانیہ سےعربی زبان میں نکلتا ہے- ہمیں خوشی ہوگی کہ آپ قارئین مجلہ کوجماعت اسلامی پاکستان کےحالات سےمختصرا آگاہ فرمائیں 2- پاکستانی مسلمانوں کےاندرمختلف مذہبی تصورات پائےجاتےہیں، جماعت اسلامی نےاختلاف مذاہب کےمسئلہ کوکس طرح حل کیا ہے؟ 3- موجودہ حالات میں وہ کونسا اہم ترین میدان کارہےجس پراسلامی تحریک کواپنی تمام ترکوششیں مرکوزکردینی چاہییں؟ کیا سیاسی میدان ؟ یا تعلیمی میدان؟ یاکوئی اورمیدان؟ 4- اسلامی تحریک کی ایک متحدہ عالمی قیادت قائم کرنےپرمدت سےسوچ بچارہورہاہےاس بارےمیں آپ کی کیا رائےہے؟ 5- عالم اسلام اس وقت جن حالات سےگزررہاہےوہ آپ کےسامنےہیں- ان حالات میں امورذیل کےبارے میں آپ کا نقطہ نظرکیا ہے؟ الف : مسلمان سربراہوں کی کانفرنس کا انعقاد ب : مشترکہ اسلامی منڈی کاقیام ج : بین الاقوامی اسلامی نیوزایجنسی کا اجراء 6- اسلامی تحریکیں اس وقت جگہ جگہ حکومتوں کےجبروتشدد کی فضامیں سانس لےرہی ہیں چنانچہ آپ کی نظرمیں وہ کونسامناسب ترین رویہ ہےجواسلامی تحریکوں کوان حکومتوں کےبارےمیں اختیارکرنا چاہیے؟ 7- آپ کی رائےمیں اسلامی تحریک کومغربی مالک میں کس اہم پہلوپرزیادہ زوردنیاچاہیے؟ 8- مغرب میں کام کرنےوالےداعیان اسلام کےلیےآپ کےمشورےکیا ہیں؟ 9- دوحرفی سوال ہےکہ بیت المقدس کی واگزاری کا صحیح راستہ کیا ہے؟ 10- آپ کےقلم نےاسلامی نظریات اوراسلامی تاریخ کےمتعدد گوشوں پروافرلڑیچرفراہم کردیاہے- مگر ابھی تک سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےموضوع پرآپ کی کوئی کتاب منظرعام پرنہیں آئی کیا آپ اس موضوع پرلکھنےکا ارادہ رکھتےہیں؟ 11- عہدحاضرکےاسلامی مفکرہونےکی حیثیت سےکیا آپ نےاپنےدورمیں اسلامی نظریہ کےاندرکوئی تبدیلی یا ترقی محسوس کی ہے؟ 12- اسلامی مفکرین نےموجودہ صدی میں، بلکہ کسی حدتک گزشتہ صدی میں بھی معتددمغربی اصطلاحیں استعمال کی ہیں، مثلا ڈیموکریسی- نیشنلزم ، وطنیت، پارلمینٹ، دستورسوشلزم وغیرہ، یہ اصطلاحیں ماضی قریب کےزمانےتک برابراستعمال ہوتی رہی ہیں لیکن اب ہم دیکھ رہےہیں کہ بعض اسلامی مفکرین اصطلاحوں کےاستعمال سےگریزکرتےہیں، بلکہ اسلامی نظام کی تشریح میں ان اصطلاحوں کواختیارکرنےکی مخالفت کررہےہیں اوران کا رجحان ہی نہیں بلکہ اصرارہےکہ خالص اسلامی اصطلاحات کواستعمال کرنا چاہیےجوقرآن کریم وسنت رسول سےماخوذہوں- کیا آپ اپنےتجربات اور اسلامی احساسات کی روشنی میں بتاسکتےہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں میں ایسےاسلامی مفکرین پیدا ہوں گےجوہراس چیزکوکلیتہ ردکردیں گےجوقرآن وسنت سےخارج ہوگی، اوراسلامی شریعت، احکام قرآن اوردیگراسلامی معاملات کےبارےمیں کسی بحث وجدال کوبرداشت نہیں کریں گے، بلکہ ان تمام چیزوں کواسی طرح اصل حالت میں اختیارکریں گےجس طرح دعوت اسلامی کےآغازمیں ان کواختیار کیا گیا تھا؟

سوالنامہ ٭ 1- الغرباء اسلام پسند طلبہ کامجلہ ہےاوربرطانیہ سےعربی زبان میں نکلتا ہے- ہمیں خوشی ہوگی کہ آپ قارئین مجلہ کوجماعت اسلامی پاکستان کےحالات سےمختصرا آگاہ فرمائیں 2- پاکستانی مسلمانوں کےاندرمختلف مذہبی تصورات پائےجاتےہیں، جماعت اسلامی نےاختلاف مذاہب کےمسئلہ کوکس طرح حل کیا ہے؟ 3- موجودہ حالات میں وہ کونسا اہم ترین میدان کارہےجس پراسلامی تحریک کواپنی تمام ترکوششیں مرکوزکردینی چاہییں؟ کیا سیاسی میدان ؟ یا تعلیمی میدان؟ یاکوئی اورمیدان؟ 4- اسلامی تحریک کی ایک متحدہ عالمی قیادت قائم کرنےپرمدت سےسوچ بچارہورہاہےاس بارےمیں آپ کی کیا رائےہے؟ 5- عالم اسلام اس وقت جن حالات سےگزررہاہےوہ آپ کےسامنےہیں- ان حالات میں امورذیل کےبارے میں آپ کا نقطہ نظرکیا ہے؟ الف : مسلمان سربراہوں کی کانفرنس کا انعقاد ب : مشترکہ اسلامی منڈی کاقیام ج : بین الاقوامی اسلامی نیوزایجنسی کا اجراء 6- اسلامی تحریکیں اس وقت جگہ جگہ حکومتوں کےجبروتشدد کی فضامیں سانس لےرہی ہیں چنانچہ آپ کی نظرمیں وہ کونسامناسب ترین رویہ ہےجواسلامی تحریکوں کوان حکومتوں کےبارےمیں اختیارکرنا چاہیے؟ 7- آپ کی رائےمیں اسلامی تحریک کومغربی مالک میں کس اہم پہلوپرزیادہ زوردنیاچاہیے؟ 8- مغرب میں کام کرنےوالےداعیان اسلام کےلیےآپ کےمشورےکیا ہیں؟ 9- دوحرفی سوال ہےکہ بیت المقدس کی واگزاری کا صحیح راستہ کیا ہے؟ 10- آپ کےقلم نےاسلامی نظریات اوراسلامی تاریخ کےمتعدد گوشوں پروافرلڑیچرفراہم کردیاہے- مگر ابھی تک سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےموضوع پرآپ کی کوئی کتاب منظرعام پرنہیں آئی کیا آپ اس موضوع پرلکھنےکا ارادہ رکھتےہیں؟ 11- عہدحاضرکےاسلامی مفکرہونےکی حیثیت سےکیا آپ نےاپنےدورمیں اسلامی نظریہ کےاندرکوئی تبدیلی یا ترقی محسوس کی ہے؟ 12- اسلامی مفکرین نےموجودہ صدی میں، بلکہ کسی حدتک گزشتہ صدی میں بھی معتددمغربی اصطلاحیں استعمال کی ہیں، مثلا ڈیموکریسی- نیشنلزم ، وطنیت، پارلمینٹ، دستورسوشلزم وغیرہ، یہ اصطلاحیں ماضی قریب کےزمانےتک برابراستعمال ہوتی رہی ہیں لیکن اب ہم دیکھ رہےہیں کہ بعض اسلامی مفکرین اصطلاحوں کےاستعمال سےگریزکرتےہیں، بلکہ اسلامی نظام کی تشریح میں ان اصطلاحوں کواختیارکرنےکی مخالفت کررہےہیں اوران کا رجحان ہی نہیں بلکہ اصرارہےکہ خالص اسلامی اصطلاحات کواستعمال کرنا چاہیےجوقرآن کریم وسنت رسول سےماخوذہوں- کیا آپ اپنےتجربات اور اسلامی احساسات کی روشنی میں بتاسکتےہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں میں ایسےاسلامی مفکرین پیدا ہوں گےجوہراس چیزکوکلیتہ ردکردیں گےجوقرآن وسنت سےخارج ہوگی، اوراسلامی شریعت، احکام قرآن اوردیگراسلامی معاملات کےبارےمیں کسی بحث وجدال کوبرداشت نہیں کریں گے، بلکہ ان تمام چیزوں کواسی طرح اصل حالت میں اختیارکریں گےجس طرح دعوت اسلامی کےآغازمیں ان کواختیار کیا گیا تھا؟ 13- دنیائےاسلام میں بیشترلوگ اس خیال کا اظہارکررہےہیں، کہ ظہورمہدی (جس کی بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےدی ہے) سےپہلےجس قسم کےحالات کی خبردی گئی ہےوہ اس زمانے میں رونماہوچکےہیں- آپ کی اس بارےمیں کیا رائےہے؟ 14- مسلم اوراسلامی کےدرمیان کیا فرق ہے؟ کیا ان دونوں لفظوں کا استعمال درست ہے؟

جواب 1- مجھےیہ معلوم کرکےبہت خوشی ہوئی کہ برطانیہ میں آپ لوگ مجلتہ الغرباکےنام سےایک عربی پرچہ شائع کرتےہیں- اللہ تعالےآپ لوگوں کی کوششوں میں برکت دےاورآپ اس پرچےکےذریعےسےطلبہ میں اسلامی روح بیدارکرنےاوربیداررکھنےکےلیےکوئی مفید خدمت انجام دےسکیں

جماعت اسلامی کےمتعلق تمام ضروری معلومات آپ کوجماعت کےایک ممتازکارکن پروفیسرغلام اعظم صاحب (جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی مشرقی پاکستان) کی ایک تازہ کتاب سےحاصل ہوسکتی ہیں جوحال میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے_1 اس کا ایک نسخہ اس جواب کےساتھ آپ کو مہیا کیا جارہا ہے

2- پاکستان میں اس وقت تین ہی فقہی مذاہب ہیں- ایک حنفی، دوسرےاہل حدیث، تیسرےشیعہ امامیہ ، ان تینوں مذاہب کےعلماء نے1951ء میں باہم اتفاق سےیہ بات طےکرلی تھی کہ ملکی قانون (LAW OF THE LAND) اکثریت مسلک پرمبنی ہوگا،اورہرفقہی مذہب کےپیروں کویہ حق دیا جائےگا کہ ان کےشخصی معاملات ان کےاپنےپرسنل لا کےمطابق طےکیےجائیں- رہےمختلف مذاہب کےاعتقادی اختلافات، تونہ وہ دور کیےجاسکتےہیں، نا ان کودورکرناضروری ہے- صرف اتنی بات کافی ہےکہ ہرگروہ اپنےعقیدےپر قائم رہےاورسب ایک دوسرےکےساتھ رواداری برتیں- اس کےلیےجماعت ملک میں مسلسل کوشش کررہی ہے

(A GUIDE TO THE ISLAMIC MOVEMENT) کتاب کا نام ہے

3- اسلامی تحریک کےلیےساری دنیا میں کوئی ایک لگا بندھا طریق کارنہیں ہوسکتا- مختلف ممالک کے حالات مختلف ہیں، اورہرجگہ کام کرنےوالوں کواپنےحالات کےمطابق ایک طریق کاراختیارکرنا ہوگا- البتہ جوچیزمشترک رہےگی وہ اصول اورمقصد ہےجس کا مبنع قرآن وسنت ہےاوروہی تحریک اسلامی کےتمام کارکنوں کوایک وحدت میں منسلک کرتاہے- جوگروہ جس ملک اورمعاشرےمیں اس تحریک کےلیےکام کرنےاٹھے، اس کا یہ فرض ہےکہ اعتقاداورعمل میں کتاب وسنت کی تعلیمات کاپورااتباع کرے، اوراقامت دین کواپنا مقصود بنا کراپنی تمام مساعی اس پرمرکوزرکھے- اس کےبعد اپنی تحریک کےلیےعملی پروگرام طےکرنا ہرعلاقےکےلوگوں کااپنا کام ہے، اوران میں اتنی حکمت ہونی چاہیےکہ وہ اپنی قوت ، ذرائع اورحالات کےلحاظ سےاقامت دین کےلیےمناسب ترین طریق کارتجویز کریں

4- جن حالات سےاس وقت ہم گزررہےہیں، ان میں یہ کسی طرح ممکن نہیں ہےکہ دنیا کےتمام ممالک کےلیےاسلامی تحریک کی کوئی ایک مرکزی قیادت قائم ہوسکے- بلکہ اس وقت کےبین الاقوامی حالات تواتنی بھی اجازت نہیں دیتےکہ ہمارےدرمیان کوئی مراسلت اورتبادلہ خیالات ہوسکے، یا ہم وقتا فوقتا کوئی مشترک کانفرنس کرسکیں- سروست زیادہ سےزیادہ جو کچھ ہوسکتاہےوہ نہ صرف یہ ہےکہ ہم اپنی مطبوعات کےتبادلےکرکےایک دوسرےکےحالات وخیالات سےواقف ہوتےرہیں- حج کےاجتماع سے فائدہ اٹھاتےرہیں 5- عالم اسلام کواس وقت نہ صرف ان تینوں امورکی ضرورت ہے، بلکہ اس کےعلاوہ اوربھی بہت سے کام ہیں جومسلم ممالک کوباہم مل کرکرنےچاہییں- دوسال پہلےمیں نےاس کےمتعلق 12نکات پرمشتمل ایک پروگرام پیش کیا تھا- لیکن اس طرح کی تجویزیں اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتیں جب تک مسلمان ملکوں کی حکومتیں ایسےلوگوں کےہاتھوں میں نہ ہوجواسلام کےرشتےکی بناپرباہم متفق و متحد ہونےکےلیےتیارہوں- سروست تووہ" رجعت پسند " اور" ترقی پسند" کےجگھڑوں میں لگےہوئے ہیں اوراپنےاپنےملکوں میں آئےدن انقلابات برپاکرنےسےان کوفرصت نہیں مل رہی ہے 6-میرےنزدیک یہ طےکرنا ہرملک کی اسلامی تحریک کےکارکنوں اورقائدین کاکام ہےکہ جس قسم کا ظلم واستبدادان پرمسلط ہےاس کےمقابلہ میں وہ کس طرح کام کریں- ہرملک میں اس کی صورتیں اور کیفیتیں اتنی مختلف ہیں کہ سب کےلیےکوئی ایک طریق عمل تجویزکرنا مشکل ہے- البتہ جوچیزمیں ان سب کےلیےضروری سمجھتاہوں وہ یہ ہےکہ ان کوخفیہ تحریکات اورمسلح انقلاب کی کوششوں سے قطعی بازرہنا چاہیےاورہرطرح کےخطرات ونقصانات برداشت کرکےبھی علانیہ پرامن اعلائےکلمتہ الحق کاراستہ ہی اختیارکرنا چاہیئے، خواہ اس کےنتیجےمیں ان کوقید وبندسےدوچارہوناپڑےیا پھانسی -کےتختےپرچڑھ جانےکی نوبت آجائے 7- مغربی ممالک میں جولوگ اسلامی تحریک کاکام کریں ان کوچاہیےکہ پہلےعملا اپنی زندگی کو ٹھیک ٹھیک اسلامی سانچےمیں ڈھالیں اورمغربی سوسائٹی کےاندراپنی امتیازی شان نمایاں کریں- اہل مغرب کےساتھ اخلاق اوراعمال اورطرززندگی میں ہم رنگ ہوجانےکےبعد ان کی تحریک کوموثرہونےکے امکانات آدھےسےزیادہ ختم ہوجاتےہیں- اس کےبعد دوسری چیزیہ ہےکہ ان کواہل مغرب کی تہذیب اوران کےمذہب اوران کےفلسفہ حیات کاگہرامطالعہ کرناچاہیےاورپھرایسےحکیمانہ طریقہ سےتنقیداور تبلیغ کرنی چاہیےجس سےمغربی ممالک کےسنجیدہ طبقےاسلام کی طرف متوجہ ہوسکیں- آپ کا کم سےکم ہدف یہ ہونا چاہیےکہ جس مغربی ملک میں بھی آپ ہوں وہاں کےکم ازکم دوچاراعلی صلاحیتیں رکھنےوالےانسانوں کواسلام کی طرف کھینچ لیں اوران کواسلامی تحریک کےلیےعملا کام کرنے پر آمادہ کردیں- اس کےبعد یہ ان کاکام ہوگا کہ اپنےملک میں دعوت اسلامی کےکام کی ذمہ داری سنبھال لیں 8- سوال_8 کاجواب اوپرآچکاہے-میرےنزدیک کسی مغربی ملک میں کام کرنےوالےداعی اسلام کومشرقی ممالک میں کام کرنےوالوں سےبھی بڑھ کراسلامی احکام کاسخت متبع ہونا چاہیے 9- بیت المقدس کی واپسی کاکوئی امکان میرےنزدیک اس وقت تک نہیں ہےجب تک فلسطین کےگردوپیش کی عرب ریاستیں اپنی اس روش کوچھوڑنہ دیں جس کی وجہ سےانہوں نے1948ء سےاب تک پےدر پےیہودیوں سےشکستیں کھائی ہیں- ظاہربات ہےکہ بیت المقدس کسی سیاسی تصفیےکےذریعہ سےاب مسلمانوں کےقبضےمیں واپس نہیں آسکتا- اس کےلیےلامحالہ لڑنا ہوگا اوراتنی طاقت سےلڑنا ہوگاکہ اسرائیل کوپوری شکست دی جاسکے- لیکن مجھےاندیشہ ہےکہ شام ۔عراق، مصر اوراردن میں اس وقت جوحالات پائےجاتےہیں ان میں جنگ کا نتیجہ بیت المقدس کی واپسی کے رہےسہےکچھ مزید علاقےکھودینےکی صورت میں رونماہوگا- رہےدوسرےاسلامی ممالک،تووہ اسرائیل کےخلاف کوئی عملی اقدام نہیں کرسکتےجب تک وہ عرب ملک ان کاتعاون حاصل کرنے کےلیےتیارنہ ہوں جن کی سرحدیں اسرائیل سےملتی ہیں 10- میں ایک مدت سےیہ تمنا رکھتاہوں کہ سیرت رسول صلےاللہ علیہ وسلم پرکوئی کتاب لکھوں،مگر مجھےابھی تک اس کاموقع نہیں مل سکاہے- سردست میں نےیہ کوشش کی ہےکہ قرآن مجید کی جوتفسیرآج کل میں لکھ رہاہوں اس میں قرآن اورسیرت کےتعلق کوواضح کرتےہوئےان حالات کی تفصیل بیان کرتاجاؤں جن میں قرآن مجید کی آیات مختلف مواقع پرنازل ہوئی ہیں- اللہ تعالےنےاس تفسیرکی تکمیل کےبعد اگرمجھےاتنی مہلت اورطاقت دی کہ میں سیرت پاک پربھی کوئی مستقل کتاب لکھ سکوں تومیرےلیےیہ بہت بڑی سعادت ہوگی 11- میں نےپچھلے40 سال میں فکراسلامی کےاندرمسلسل ایک تغیرمحسوس کیاہےاورالحمدللہ کہ وہ بہتری کی طرف ہے- پہلےکےمقابلےمیں اب بہت زیادہ واضح شکل میں اسلامی تصورات دنیاکے سامنےآرہےہیں- اگرچہ اس زمانےمیں مغربی مستشرقین کےشاگردوں نےبھی پہلےسےبہت زیادہ پرفریب اوربظاہرعلمی طریقےاختیارکرکےاسلام اوراس کی تعلیمات کومسخ کرنےکی کوششیں کی ہیں- مگرہرمرحلےپران کی سرکوبی کی جاتی رہی ہے-اورکم ازکم مسلمان آبادیوں پروہ اپنا اثر ڈالنےمیں کامیاب نہیں ہوسکےہیں- مسلمان بالعموم اب اسلام کواتنی صاف شکل میں جان اورپہچان رہےہیں کہ ان کویہ مشرقی مستفربین دھوکا نہیں دےسکتے 12- موجودہ زمانےکےلوگوں کوبات سمجھانےکےلیےجدیداصطلاحات کااستعمال توناگزیرہے، لیکن ان کےاستعمال میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے- بعض اصطلاحوں سےپرہیزاولی ہے، بلکہ اجتناب واجب ہے، مثلا اشتراکیت – اوربعض کااستعمال اس شرط کےساتھ جائزہےکہ ان کےاسلامی مفہوم اورمغربی مفہوم کافرق پوری طرح واضح کردیاجائے،مثلا جمہوریت یا دستوریت، یا پارلمنٹری سسٹم – اوربعض کوسرےسےکوئی اسلامی مفہوم دیا ہی نہیں جاسکتا، مثلا نیشنلزم 13- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےجوپیشین گوئیاں ارشاد فرمائی ہیں ان میں سےکسی کےظہورکی تاریخ بھی نہیں بتائی گئی ہےبلکہ صرف ان حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہےجن میں کوئی واقعہ پیش آنےوالا ہے- اس طرح کےبیانات کی بناپرقطعیت کےساتھ کسی وقت بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کب کس پیشین گوئی کاظہورہوجائےگا- ہوسکتاہےکہ ہم جن حالات کودیکھ کریہ رائےقائم کریں کہ فلاں پیشین گوئی کےظہورکاوقت ہے، ان کےبارےمیں ہمارااندازہ غلط ہو- ویسےتوظہورقیامت کی علامات بھی اب بڑی حد تک دنیا میں پائی جاتی ہیں، لیکن قطعیت کےساتھ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ اب اس کےبرپاہونےکا وقت آگیا ہے 14- مسلم اوراسلامی میں ایک لحاظ سےتوکوئی فرق نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ مسلم حقیقت میں کہتےہی اس کوہیں جواسلام کامتبع ہو- لیکن ایک دوسرےلحاظ سےان دونوں میں بہت بڑافرق ہے- مسلم ہر اس گروہ یا اس شخص کوکہا جاسکتاہےجودائرہ اسلام سےخارج نہ ہو- خواہ وہ عملا اسلام کی پیروی نہ کررہاہو- اوراس کےبرعکس اسلامی صرف وہی چیزہےجوٹھیک ٹھیک اسلام کےمطابق ہو- مثلا ایک مسلم حکومت ہراس حکومت کوکہا جاسکتاہےجس کےحکمراں مسلمان ہوں- لیکن اسلامی حکومت صرف اسی کوکہا جاسکتاہےجواپنےدستوراورقوانین اورانتظامی پالیسی کے اعتبارسےپوری طرح اسلام پرقائم ہو

Blank page 70

مغرب کواسلام کی دعوت

مغرب کواسلام کی دعوت " دنیا میں اسلام " کےموضوع پرانٹرویو 4 " مارچ 1969ءکو" دنیا میں اسلام " (ISLAM IN THE WORLD) کےموضوع پراٹلی کی ایک سرکاری ٹیلی ویژن کمپنی کوحسب ذیل انٹرویودیا- سید ابوالاعلی مودودی

Blank page 72

مغرب کواسلام کی دعوت ٭ سوال:- برصغیرمیں اسلام کی آمد پریہاں کےباشندوں کوکس چیزنےاپیل کیا ؟ جواب :- برصغیرمیں اسلام پہلی صدی ہی میں آگیا تھا – پہلی صدی سےمیری مرادپہلی صدی ہجری ہے- اس زمانےمیں اسلام کودومذہبوں سےسابقہ پیش آیا – ایک بدھ مت ، دوسرےہندومت، بدھ ازم ایک ایسامذہب ہےجو انسان کورہبانیت سکھاتاہے- اورہندوازم ایک ایسا مذہب ہےجوانسان کوطبقات میں تقسیم کرتاہے، ایسےمستقل طبقات میں جوکبھی تبدیل نہیں ہوسکتے- اس کےعلاوہ ہندوازم شرک وبت پرستی پرمبنی ہے- اسلام جب آیا تو اس نےیہاں ایک طرف توحید کاعقیدہ پیش کیا- دوسری طرف اس نےطبقاتی تقسیم کوباطل ثابت کیا اورتمام انسانیت کی وحدت پرزوردیا- تیسری اس نےانسان کویہ بتایا کہ اس کی ترقی کافطری راستہ ترک دنیا اور رہبانیت نہیں ہےبلکہ اجتماعی زندگی میں رہتےہوئےخدا اوراس کےبندوں اورخود اپنےنفس کےحقوق اداکرنا ہے- جواثرات اسلام نےبرصغیرکےباشندوں پرڈالےان کا اندازہ کرنےکےلیےیہ بات کافی ہےکہ جہاں اسلام کی آمد سےپہلےایک مسلمان بھی موجود نہ تھا وہاں آج کروڑوں مسلمان پائےجاتےہیں کیونکہ ان کےذہن کواسلام کی تعلیم توحید نے، وحدت انسانی کےتخیل نے، اوراجتماعی زندگی کی اصلاح کےپروگرام نےاپیل کیا-

سوال :- جدید دورکےلیےاسلام کا اجتماعی فلسفہ حیات کیا ہے؟ جواب :- اسلام کا اجتماعی فلسفہ حیات ہرزمانےکےلیےہے- وہ جدید دورکےلیےبھی اسی طرح صحیح اور درست ہےجس طرح قدیم دورکےلیےتھا- اورآئندہ آنےوالےہزاروں سال کےلیےرہےگا- اس کا فلسفہ حیات اس تصورپرمبنی ہےکہ انسان کےلیےصحیح رویہ زندگی اللہ وحدہ لاشرک کی بندگی واطاعت اوراس قانون کی پیروی ہےجواللہ تعالےنےاپنےپیغمبروں کےذریعےسےبھیجا ہے- چونکہ یہ ساری کائنات اللہ کی سلطنت ہےاورانسان فطری طورپراس کا بندہ ہے، اس لیےہرزمانےمیں انسانوں کےلیےصحیح رویہ اس کےسوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ خدا کی بندگی اوراطاعت کریں اوراس قانون کی پیروی کریں جواس کائنات کےبنانے والےنےاپنےپیغمبروں کےذریعےسےبھیجاہے- یہی طریق زندگی ہرزمانےکےلیےٹھیک ، صحیح اوردرست ہے-جب کبھی انسان نےاس سےانحراف کیا،اس کوایسےپیچیدہ مسائل سےسابقہ پیش آیا جن کووہ اپنی عقل سے کبھی صحیح طورپرحل نہ کرسکا- موجودہ دورمیں جوتمدن اورتہذیب کانظام پایاجاتاہےوہ چونکہ خدا کی اطاعت سےمنحرف اوراس قانون سےبےنیازہےاس لیےاس نےبھی بےشمارایسےمسائل پیدا کردئیےہیں جن کےحل کرنےپرانسان قادرنہیں ہورہاہے-

مثلا ، آج خاندانی زندگی کانظام موجودہ تہذیب ہی کی وجہ سےدرہم برہم ہورہاہے- مثلا ، اسی تہذیب وتمدن کی بدولت رنگ اورنسل کےامتیازات اس حد تک بڑھ گئےہیں کہ دنیا میں کبھی انسانیت پراتنا ظلم وستم نہیں ہئوا ہےجتنا اس رنگ ونسل کےامتیازکی بدولت آج ہورہاہے-

مثلا ، آج خاندانی زندگی کانظام موجودہ تہذیب ہی کی وجہ سےدرہم برہم ہورہاہے- مثلا ، اسی تہذیب وتمدن کی بدولت رنگ اورنسل کےامتیازات اس حد تک بڑھ گئےہیں کہ دنیا میں کبھی انسانیت پراتنا ظلم وستم نہیں ہئوا ہےجتنا اس رنگ ونسل کےامتیازکی بدولت آج ہورہاہے- مثلا اس تہذیب نےنیشنلزم کاطوفان برپاکردیا جس کی بدولت دنیا میں دوعظیم الشان لڑائیاں ہوچکی ہیں اورمزید ہوتی نظرآرہی ہیں-

یہ سب کچھ اسی وجہ سےتوہےکہ انسان نےعلوم طبیعی کی طرح اپنی اجتماعی زندگی کےلیےبھی اپنی عقل ہی کوکافی سمجھ لیاہےاوراپنی زندگی کانظام اپنی عقل سےتصنیف کرنےکی کوشش کی ہے- اگراس فطری نظام کواختیارکیا جائے، جوانسان کےلیےخدانےاپنےپیغمبروں کےذریعہ سےبھیجا ہےتویہ مسائل کبھی پیدا نہ ہوں اوراگرکبھی پیدا ہوبھی جائیں توان کوآسانی سےحل کیا جاسکتاہے-

سوال :- نسل اوررنگ کامسئلہ کس طرح حل کرتاہے؟ جواب:- نسل اوررنگ کےمسئلےکےپیدا ہونےکااصل سبب یہ ہےکہ آدمی محض اپنی جہالت اورتنگ نظری کی بناپریہ سمجھتاہےکہ جوشخص کسی خاص نسل یا ملک یا قوم میں پیدا ہوگیاہےوہ کسی ایسےشخص کےمقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتاہےجوکسی دوسرےملک میں پیدا ہئواہے- حالانکہ آدمی کی پیدائش ایک اتفاقی امرہے- اس کےاپنےانتخاب کا نتیجہ نہیں ہے- اسلام ایسےتمام تعصبات کوجاہلیت قراردیتاہےوہ کہتاہےکہ تمام انسان ایک ماں اورایک باپ سےپیدا ہوئےہیں اورانسان اورانسان کےدرمیان فرق کی بنیاد اس کی پیدائش نہیں بلکہ اس کےاخلاق ہیں- اگرایک انسان اعلی درجےکےاخلاق رکھتاہےتوخواہ وہ کالا ہویا گورا ، خواہ وہ افریقہ میں پیدا ہواہویا امریکہ میں یا ایشیامیں، بہرحال وہ قابل قدرانسان ہے- اوراگرایک انسان اخلاق کےاعتبارسےایک بڑاآدمی ہےتوخواہ وہ کسی جگہ پیداہئوا ہو- اوراس کارنگ خواہ کچھ ہی ہواور اس کا تعلق خواہ کسی نسل سےہو، وہ ایک برا انسان ہے- اسی بات کوہمارےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان الفاظ میں بیان فرمایا ہےکہ کالےکوگورےپراورگورےکوکالےپرکوئی فضیلت نہیں ہے- عربی کوعجمی پراورعجمی کوعربی پرکوئی فضیلت نہیں ہے- فضیلت اگرہےتووہ تقوی کی بناپرہے- جوشخص خدا کی صحیح صحیح بندگی کرتاہےاورخدا کےقانون کی صحیح صحیح پیروی کرتاہے،خواہ وہ گوراہویا کالا ، بہرحال وہ اس شخص سےافضل ہےجوخدا ترشی اورنیکی سےخالی ہو- اسلام نےاسی بنیاد پرتمام نسلی اورقومی امتیازات کومٹایاہے- وہ پوری نوع انسانی کوایک قراردیتاہےاورانسان کےبنیادی حقوق کوواضح طورپربیان کیا ہےاوراسلام وہ پہلا دین ہےجس نےتمام انسانوں کوجوکسی مملکت میں شامل ہوں، ایک جیسےبنیادی حقوق عطا کیےہیں- فرق اگر پرقائم ہوتی ہے، اس لیےاس نظریہ کو(IDEOL) ہےتویہ ہےکہ اسلامی ریاست چونکہ ایک نظریہ اوراصول جولوگ مانتےہوں اسلامی ریاست کوچلانےکاکام انہی کےسپردکیا جاتاہے، کیونکہ جولوگ اسےمانتےاور سمجھتےہیں وہی اس پرعمل پیراہوسکتےہیں- لیکن انسان ہونےکی حیثیت سےاسلام تمام ان لوگوں کویکساں تمدنی حقوق عطا کرتاہےجوکسی اسلامی ریاست میں رہتےہوں- اسی بنیاد پراسلام نےایک عالمگیرامت بنائی ہےجس میں ساری دنیا کےانسان برابرکےحقوق کےساتھ شامل ہو(WORLD – COMMUNITY) سکتےہیں حج کےموقع پرہرشخص جاکردیکھ سکتاہےکہ ایشیا ، افریقہ، امریکہ، یورپ، اورمختلف ملکوں کےلاکھوں مسلمان ایک جگہ جمع ہوتےہیں اوران کےدرمیان کسی قسم کا امتیازنہیں پایا جاتا- ان کودیکھنے والا ایک ہی نظرمیں یہ محسوس کرلیتاہےکہ یہ سب ایک امت ہیں اوران کےدرمیان کوئی معاشرتی امتیازنہیں ہے- اگراس اصول کوتسلیم کرلیاجائےتودنیا میں رنگ ونسل کی تفریق کی بناپرآج جوظلم وستم ہورہاہےاس کا یک لخت خاتمہ ہو سکتاہے-

سوال:- شراب اورسودکی حرمت کےکیا وجوہ ہیں؟ جواب:- سب سےپہلےآپ شراب کےمسئلےپرغورکریں- علمی بنیادپریہ بات تسلیم کی جاتی ہےکہ الکوہل انسان کےجسم کےلیےبھی نقصان دہ ہےاورعقل کےلیےبھی- اس وقت دنیا میں الکوہلزم ایک خطرناک مسئلےکی شکل اختیارکیےہوئےہے- بکثرت انسان ایسےہیں جواسی الکوہلزم کی بدولت عملا اپنی ذہنی اورجسمانی صلاحیتیں کھوچکےہیں اورمعاشرے کےلیےایک مسئلہ بن چکےہیں- اس بات کوبھی مانا جاتا ہےکہ دنیا میں اس وجہ سےہوتےہیں کہ آدمی کےخون میں اگرایک خاص مقدارمیں الکوہل(ACCIDENTS) بکثرت حادثات موجودہواوراس حالت میں وہ گاڑی چلائےتواپنی جان کوبھی خطرےمیں ڈال دیتاہےاوردوسرےانسانوں کےلیے بھی خطرہ بن جاتاہے- لیکن اس پرکوئی اتفاق نہیں ہوسکاہےکہ وہ خاص مقدارکونسی ہےجس کاپایاجانا ذہنی توازن کوبگاڑدیتاہے- بہرحال یہ مسلم ہےکہ الکوہل ایک ایسی چیزہےجوانسان کی ذہنی صلاحتیوں کومتوازن نہیں رہنےدیتی- اسی وجہ سےاسلام نےالکوہل کوقطعی طورپرممنوع قراردیاہے- آج تک کوئی شخص یہ طے نہیں کرسکا ہےکہ کتنی مقدارمیں الکوہل ہرشخص کےلیےمضرہےاورکتنی مقدارمیں غیرمضر- یہ نسبت مختلف انسانوں کےمعاملہ میں مختلف ہوتی ہےاورکوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جاسکتاکہ فلاں خاص مقدار تک الکوہل کا استعمال تمام انسانوں کےلیےیکساں غیرمضرہوگا اوراس سےزائد مقدارسب کےلیےیکساں مضرہوگی- اسی لیےاسلام نےیہ اصول قراردیا ہےکہ جوچیزحرام ہےاس کی کم سے کم مقداربھی حرام ہے، کیونکہ اس کی کم مقدارکوحلال قراردینےکےبعد کوئی خط ایسا نہیں کھینچا جا سکتا جہاں جوازکی حد ختم ہوسکےاورعدم جوازکی حد شروع ہوجائے- لہذا قابل عمل صورت یہی ہےکہ اس کو قطعی طورپرممنوع قراردےدیاجائے- اسلام کےسواکوئی دوسرامذہب یانظام تہذیب ایسا نہیں ہےجس سےنے انسان کوالکوہلزم سےبچانےمیںوہ کامیابی حاصل کی ہوجو اسلام نےحاصل کی ہے- امریکہ نےاسی صدی میں اس بات کی کوشش کی تھی کہ امریکی قوم کوشراب کےنقصانات سےبچایا جائے، چنانچہ امریکی دستورمیں ایک ترمیم کےذریعہ سےشراب کوممنوع قراردیاگیا ، لیکن تجربہ ناکام ہوگیا- اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ شراب کا سائنٹیفک بنیاد پرمضرہونا پہلےثابت ہوگیاتھا اوربعد میں اس کا غیرمضرہوناثابت ہوگیا- بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ امریکہ کی حکومت اوراس کاپوراقانونی نظام اپناسارازورلگاکربھی لوگوں کوشراب چھوڑنے پرآمادہ نہ کرسکا- یہ دراصل امریکی تہذیب کےنظام کی کمزوری تھی، اس کےبرعکس اسلام کا تہذیبی نظام اتنا طاقت ورتھا کہ ایک حکم مسلمانوں کوشراب سےروک دینےکےلیےکافی ہوگیا- اوراس حکم میں آج تک اتنی طاقت ہےکہ دنیاکی کوئی قوم اب بھی شراب سےاجتناب کےمعاملہ میں مسلمانوں کی برابری نہیں کر سکتی-

جہاں تک سورکا تعلق ہے، تمام آسمانی شریعتوں میں وہ ہمیشہ سےحرام رہاہے- آج بھی بائیبل میں اس کی حرمت کاحکم موجود ہے-اورحضرت عیسی علیہ السلام نےکبھی یہ نہیں کہا کہ میں آج سےسورکو حلال قراردیتاہوں- اس کےمعنی یہ ہیں کہ عیسائیت نےبھی اس حکم کوبرقراررکھا جوپہلےسےبائیبل میں سور کی حرمت کےلیےموجودتھا- اگرسورکسی وقت بھی حلال کیا گیا ہوتاتواس کا ثبوت موجود ہوتاکہ فلاں پیغمبر نے یا خدا کی فلاں کتاب نےاس کوحلال قراردیاہے- لیکن میرےعلم میں نہیں ہےکہ کبھی خدا کی کسی کتاب میں اس کےحلال ہونےکا حکم آیا ہو-

اب رہایہ سوال کہ سورکیوں حرام ہے؟ اس کےبارےمیں یہ اصولی بات سمجھ لینی چاہیےکہ انسان ان چیزوں کی برائی کوتوجان سکتاہےجوجسمانی حیثیت سےاس کےلیےنقصان دہ ہوں- لیکن وہ آج تک کبھی یہ جاننےپرقادرنہیں ہئوا کہ کونسی غذائیں اس کےاخلاق پربرا اثرڈالتی ہیں اورروحانی حیثیت سےاس کےلیے نقصان دہ ہیں- غذاؤں کےاخلاقی اثرات جاننےاورٹھیک ٹھیک ان کومتعین کرنےکےذرائع انسان کوحاصل نہیں ہیں- اسی لیےیہ کام خدا نےاپنےذمہ لیاہےکہ جوچیزیں انسان کےاخلاق اوراس کی روح کےلیےنقصان دہ ہیں ان کی نشاندہی وہ خود کردےاورانہیں حرام قراردے- اب اگرکوئی شخص خدا پراعتماد کرتاہوتواسےوہ چیزیں چھوڑدینی چاہیں جن سےاس نےمنع کیا ہے، اورجوغذاپراعتماد نہ رکھتاہو وہ جوکچھ چاہیےکھاتارہے _______________٭_______________

Blank page80

ٹورانٹو(کینیڈا)میں

ٹورانٹو(کینیڈا)میں ایک مجلس ابوالاعلی مودودی 1974ء میں مجھےبغرض علاج امریکہ جاناپڑاتھا- وہاں میرا قیام بفلومیں تھا جس سےکینیڈا کا شہرٹورانٹوتقریبا سومیل کی مسافت پرواقع ہے- اس شہرکی2175000 آبادی میں مسلمانوں کی تعداد کم وبیش 25ہزارہےوہاں کےمسلمانوں کاتقاضا تھا کہ میں امریکہ چھوڑنےسےپہلےکم ازکم ایک دفعہ ان کےہاں ضرورحاضرہوں- چنانچہ 5اگست 1974ء کی شام کو میں نےان کی فرمائش پوری کی اوراسلامک سنٹرکےہال میں ایک بڑےمجمع کوخطاب بھی کیا اورلوگوں کےسوالات کےجواب بھی دئیے- اس مجلس کی رودادرج ذیل ہے-

Blank page 82

بھائیو اور بہنو، میں تہ دل سےاس محبت کےلیےشکریہ ادا کرتاہوں جس کےساتھ مجھےیہاں آنےکی دعوت دی گئی ہے- مجھےافسوس ہےکہ میں امریکہ اورکینیڈا کےسفرپرآیا بھی توبیماری کی حالت میں آیا- اگرصحت کی حالت میں آتااورمیرےاندرطاقت ہوتی تومیں مختلف شہروں میں خود جاتااورہرجگہ اپنےمسلمان بھائیوں سے ملتا، ان کےحالات معلوم کرتا، ان کےسوالات کےجوابات دیتااورجوکچھ مشورےان کودےسکتاتھا وہ دیتا- لیکن افسوس یہ ہےکہ میں زیادہ محنت کرنےکےقابل نہیں ہوں- سفرکرنےکےقابل بھی نہیں ہوں- بہت مشکل سےیہاں پہنچاہوں- میں سب سےپہلےآپ کےسوالات کےجوابات دوں گا پھرجوکچھ مجھےکہنا ہےوہ چند منٹوں میں عرض کردوں گا- سوال وجواب کےطریقےکومیں نےاس لیےپسند کیا ہےکہ جوباتیں آپ کےدل میں کھٹکتی ہیں پہلےوہ مجھےمعلوم ہوجائیں اورمیں ان کا جواب دےکرآپ کی تشفی کرنےکی کوشش کروں-

سود کا مسئلہ سوال :- کیا آپ سمجھتےہیں کہ موجودہ زمانےکےبنیکوں کاسود وہی چیز ہےجسےرباکہا جاتاہے؟ کیا مکان کاکرایہ سودپرقرض دینےسےمختلف کوئی چیزہے؟ ایک ملک کی معیشت ، مثلا افراط زر، تفریط زر، اورقمیتوں وغیرہ کوسود کےتصورکےبغیرکنٹرول کیا جا سکتا ہے؟"

جواب:- سب سےپہلےآپ کویہ جان لیناچاہیےکہ قرآن سودکا کیا تصورپیش کرتاہے- اس میں بالکل واضح طورپربتادیا گیا ہےکہ جو رقم کسی شخص نےقرض لی ہواس سےزائد کوئی رقم اگرقرض دینےوالا بطورشرط وصول کرتاہےتو وہ " ربا" ہےیہ ایک اصولی بات ہےجوقرآن میں بیان کردی گئی ہے- اوریہ بھی واضح کردیا گیا ہےکہ قرض دینےوالےکواپنے" راس المال" (یعنی اپنےدئیےہوئےاصل مال) سےزیادہ ایک پئیشہ تک لینے کاحق نہیں ہے- اس معاملہ میں یہ بات خارج ازبحث ہےکہ جوشخص سود پرقرض لےرہاہےوہ آیاغریب ہے، یا قرض اس غرض کےلیےلےرہاہےکہ اس کوکاروبارمیں لگائےیا صنعت میں یا کسی اورکام میں لگائے- ان حیثیتوں سےقرآن قطعی بحث نہیں کرتا- بلکہ وہ اصل راس المال سےزیادہ وصول کرنےکےبجائےخود قطعی حرام قراردیتاہے- اس سلسلےمیں مزید بات یہ سمجھ لیجئےکہ جوشخص قرض دیتاہےوہ آخرپشیگی کیسے اندازہ لگاسکتاہےکہ قرض لینےوالا اس سےکتنا فائدہ اٹھائےگا، بلکہ کوئی فائدہ اٹھائےگا بھی یا نہیں، یا الٹا نقصان اٹھائےگا- اس کوان باتوں سےکوئی بحث نہیں ہے- وہ ایک مقررہ منافع اورقانونی طورپرمحفوظ منافع لینےکا ہرحال میں حقدارہے- قرض لینےوالےنےمثلا اگرکسی مردسےکودفن کرنےکےلیےقرض لیا تھا تب توسود اس کےلیےخسارہ ہی خسارہ ہے- لیکن اگراس نےکاروبارمیں لگانےکےلیےلیا تھاتواس کےلیےمنافع ہی کی نہیں، نقصان سےبچنےکی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے-محنت، ذہانت اوروقت سب کچھ وہ اس کےذمہ اورقرض دینےوالےکےلیےایک مقرر منافع (RISK) صرف کرتاہے- لیکن کاروبارکاسارا خطرہ کی پوری ضمانت ہے- اس کوانصاف کون کہہ سکتاہے؟

اب میں اس سوال کےدوسرےحصےکولیتاہوں- یعنی یہ کہ مکان کاکرایہ لینےاورقرض دیئےہوئے مال پرسود لینےکا کیا فرق ہے؟ اس سوال کوآپ صرف مکان کےکرائےتک محدود کیوں رکھتےہیں؟ اگرکوئی شخص ٹیکسی چلا رہاہےاوراس کا کرایہ لےرہاہےتواس پربھی یہی سوال کیجئےکہ کیا وہ روپیہ جو اس نےٹیکسی خرید نےاوراس کےچلانےمیں لگایا ہےوہ اس کا سود وصول نہیں کررہاہے؟ اسی طرح سےآپ ان تمام چیزوں کےبارےمیں یہی سوال کرسکتےہیں جوکرایہ پردی جاتی ہوں- مثلا فرنیچروغیرہ لیکن روپیہ قرض دینے،اورمکان یا کسی دوسری چیزکوکرایہ پردینےمیں صریح فرق ہے، جو نقدروپیہ کسی کودیا جاتاہے وہ توخرچ ہوجاتاہے- اس نقد روپےمیں کوئی ٹوٹ پھوٹ یا فردسودگی نہیں ہوتی- وہ استعمال کرنےسےپرانا نہیں ہوجاتا- اس کومرمت اوردیکھ بھال کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی- وہ اس کی وصول طلب تعداد جوں کا توں قائم رہتی ہے- لیکن مکان ہویاکوئی اورچیز، اس میں ٹوٹ پھوٹ بھی ہوتی ہے- استعمال سےفرسودگی بھی لاحق ہوتی ہے- مرمت کی ضرورت بھی پیش آتی ہےاورجس حالت میں کرایہ دارکوئی چیز لیتاہےوہ اسی حالت میں اسےمالک کوواپس نہیں کرتا بلکہ کسی نہ کسی نقصان کے ساتھ واپس کرتاہے- اس لیےچیز کا مالک اس پرکرایہ لینےکاجائزحقدارہے- اس نوعیت کےکرائےکوروپے کےکرائےپرقیاس نہیں کیا جاسکتا- اس لیےشریعت میں سود اوراستعمال اشیاء کےکرائےمیں واضح فرق کردیا گیا ہے-

سوال کا آخری حصہ یہ ہےکہ سود کےبغیرایک ملک کی معیشت کوکس طرح کنٹرول کیا جاسکتاہے؟ یہ سوال ایک غلط فہمی کےسوا کچھ نہیں ہے-

اصل بات یہ ہےکہ جب کسی غلط طریقےپردنیا کانظام چل پڑتاہےتوپھرآدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کےبغیرنظام کیسےچل سکتاہے؟ اس طرح کےنظام میں خرابی بس یہی ہے، ورنہ اسلام نےصدیوں تک دنیا کےبڑےحصےپرحکومت کی ہے- صدیوں تک اس کےتخت اندرونی اوربیرونی تجارت چلتی رہی ہے- مالی معاملات چلتےرہےہیں- صنعتیں چلتی رہی ہیں- ہرقسم کالین دین ہوتارہاہے- مگرکبھی سودلینےیادینےکا سوال پیدانہیں ہوا- یہ سودی نظام جس طرح موجودہ نظام مالیات پرمسلط ہواہےاس کی وجہ یہ ہےکہ پہلےیورپ میں یہودیوں نےسودخواری شروع کی- کلیساابتداء میں اس کا مخالف تھا- سود کووہ بھی حرام قراردیتاتھا، لیکن یہودیوں کی وجہ سےجب سارےکاروبارمیں سود گھستاچلاگیا توکلیسا اس کےساتھ مصالحت کرتاچلاگیا یہاں تک کہ آخرکارسود بالکل جائزہوگیا اورساری معیشت اسی پرچلنےلگی- ہم مسلمان ہونےکی حیثیت سےاس بات کےعلمبردارہیں کہ دنیا سےسود کوختم کریں اورسارےمالی نظام کوغیرسودی طریقےپرچلائیں- ہمارےپاس ہے- یعنی بجائےاس کےکہ (profit sharing system)سودی نظام کےمقابلےمیں منافع میں شرکت کاقاعدہ سرمایہ دارقرض دےکرایک مقررہ رقم وصول کرے، اس کولازما کاروبارمیں روپیہ لگانا چاہیےاورجومنافع ہواس کامتنا سب حصہ لینا چاہیے- اگربڑےپیمانےپربہت سےکاموں میں روپیہ لگایا جائےگا توسارےکاموں میں نقصان ہی نہ ہوگا-بلکہ کسی میں نقصان اورکسی میں منافع ہوگا، اورمجموعی طورپرنفع نقصان سےزیادہ ہوگا- لیکن اس صورت میں یہ باانصافی نہ ہوگی کہ روپےوالےکےلیےلازما مقررضافع کی ضمانت ہو، اورساراخطرہ صرف کام کرنےوالوں کےحصہ میں آئے- ہمارےنزدیک دنیا کی تباہی کےاسباب میں سب سےبڑا سبب یہ ہےکہ سودی نظام پورےمالیات پرقابض ہوگیا ہے- ___________________________

اسلامی نظام کےقیام کاطریقہ سوال نمبر2:- قرآن میں فرمایا گیا ہےکہ اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامومنکم – اللہ کی اطاعت کرواور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو- اوران ادلوالامرکی اطاعت کروجو تم میں سےہوں، یہ حکم ایک ایسی منظم جماعت چاہتا ہےجوکسی خاص فرقےیاقوم تک محدود نہ ہواوراسلام کی حدوں میں رہ کرکام کرے- آپ کا اس معاملہ میں کیا مشورہ ہےکہ اس مقصد کوحاصل کرنےکے لیےکیا طریقےاختیارکیےجائیں، خصوصا کینیڈا کےتنظیمی ڈھانچےکےاندر؟"

جواب :- یہ ایساسوال ہےجس کاپورا جواب توایک کتاب میں ہی دیاجاسکتاہے- تاہم میں ایک مختصرساجواب عرض کیےدیتاہوں- آدمی خواہ کینیڈا میں ہو، امریکہ میں ہو، چین میں ہو، یا کہیں بھی ہو، مسلمان ہونےکی حیثیت سےاس کا اصل کام لوگوں کو اللہ اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراس کی کتاب اورآخرت پرایمان لانےکی دعوت دیناہےحالات اور مقامات کی مخصوص نوعیتوں کےلحاظ سےآپ اس دعوت کےلیےمناسب صورتیں اختیارکرسکتےہیں- لیکن سب سےمقدم کام ایمان کی دعوت ہی ہےجس کےبغیراسلامی تعلیمات کی دوسری تفصیلات کوپیش کرنا لا حاصل ہے- اس غرض کےلیےضروری ہےکہ معقول دلائل کےساتھ لوگوں کواچھی طرح اس بات پرمطمئن کردیا جائےکہ وہ اس دنیا میں حود مختارپیدانہیں ہوئےہیں، بلکہ اس دنیا کاایک خدا ہےجس کےوہ بندےہیں، جس نےان کوپیدا کیا ہےاورجس کی اطاعت ان کوکرنی چاہئیے- پھران کواس بات کاقائل کیا جائےکہ خدا کی اطاعت کرنےکا ذریعہ اس کےبھیجےہوئےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقےکی پیروی کرنا ہےاوراس کتاب کی پیروی کرنا ہےجوانسانوں کی ہدایت کےلیےخداکی طرف سےبھیجی گئی ہے- پھران کویہ سمجھانا ہےکہ انسان اس دنیا میں غیرذمہ دارنہیں ہے، مرکرمٹی ہوجانےوالا نہیں ہے، بلکہ اس کودوبارہ ایک زندگی عطا ہونی ہےجس میں وہ خدا کےسامنےاپنےتمام اعمال کی جواب دہی کرےگا اوراپنا حساب دےگا- یہ چیزیں آپ کولوگوں کےذہن نشین کرنی پڑیں گی خواہ آپ کہیں بھی ہوں- آپ جس معاشرےمیں بھی ہوں اس کےانفرادی اوراجتماعی حالات کاجائزہ لےکرآپ کوبتانا ہوگا کہ لوگوں کی انفرادی زندگیوں اوراجتماعی نظام میں جوخرابیاں پائی جاتی ہیں ان کی بنیادی وجہ یا توخدا کےمتعلق ان کا غلط عقیدہ ہے، رسالت ، یا کتاب ، یا آخرت کےبارےمیں وہ کوئی غلط عقیدہ اختیارکیےہوئےہیں- یہ چاربنیادی چیزیں ہیں، ان کےبارےمیں اگرکوئی شخص یا قوم کوئی غلط عقیدہ اختیارکرلےتواس کی ساری زندگی غلط ہوجاتی ہے- یہاں آپ جس معاشرےمیں رہتےہیں اس کےاندرآپ خود دیکھ رہےہیں اورلوگوں کودکھا سکتےہیں کہ ہرطرف کیسی کیسی خرابیاں موجود ہیں- ترقی کےساتھ ساتھ تنزل کےکون کون سےاسباب کس کس شکل میں یہاں خرابیاں پیدا کررہےہیں- یہ خرابیاں کس طرح سوسائٹی کاستیاناس کررہی ہیں- جرائم بڑھا رہی ہیں – خاندانی نظام کوتباہ کررہی ہیں- نئی نسلوں کو بگاڑرہی ہیں- اخلاقی قدروں کاخاتمہ کررہی ہیں- اوربد کرداری کاوہ طوفان برپاکررہی ہیں جو اس سےپہلے بہت سی تہذیبوں کوغارت کرچکا ہے- یہ ساری چیزیں اب اس قدرعیاں ہوچکی ہیں کہ ان کی نشاندہی کرنے میں آپ کوکوئی مشکل پیش نہیں آسکتی- انہیں پیش کرکےآپ اپنےگردوپیش کےلوگوں کوسمجھاسکتےہیں کہ ان کی اصل وجہ سےخدا سےاوراس کی بھیجی ہوئی ہدایت سےاورآخرت کی جواب دہی کےاحساس سےغافل ہو جانا ہے- اس حقیقت کوجب آپ معقول دلائل وشواہد کیساتھ پیش کریں گےتولازما کچھ لوگ آپ کوایسےمل جائیں گےجو ان صداقت تسلیم کرلیں گے- مکےمیں بھی اسی طرح ہواتھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایمان کی طرف دعوت دی توپہلےچند آدمیوں ہی نےاس کومانا تھا- ایسےآدمی جب آپ کومل جائیں تو انہیں ایک منظم جماعت بنائیےاوران کےذریعےسےدعوت کومزید پھیلائیےجتنےلوگ اس دعوت کوقبول کرتےجائیں گےوہ اس جماعت میں شامل ہوتےچلےجائیں گےیہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئےگاجب اس سوسائٹی کوعملا تبدیل کردینا ممکن ہوگا- اس کےلیےصبرچاہیے- مسلسل محنت چاہیے- عقلمندی کےساتھ کام کرنا چاہئیے- اوراس بات کی فکرنہ کرنی چاہیےکہ ہم کواس میں کامیابی ایک صدی میں ہوگی یا دوصدیوں میں ہوگی ______________________

حرام مال سےخیرات سوال 3:- رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم نےفرمایا " جس نےجمع کیا مال حرام سےاورپھراس کوصدقہ دےدیا تواس کےلیےکوئی اجرنہیں بلکہ اس کا اجراس کودیا جائےگا جس کا مال اس شخص نےچرالیا اوراس کوصدقہ کردیا-"

اس حدیث کی روسےیہ کیسےجائزہوسکتاہےکہ وہ بینک سےسودلےاورپھرغربیوں میں تقسیم کردے؟ میں سمجھتاہوں کہ شاید آپ نےاس فعل کوکسی عارضی حل کےطورپرپیش کیا ہوگا- کیا آپ اس کی وضاحت فرمائیں گے؟"

جواب :- میں بارہااس بات کوواضح کرچکا ہوں کہ بینک کےسودی اکاؤنٹ میں اس غرض سےروپیہ رکھنا کہ جوسود اس سےوصول ہوگا اس کوغریبوں میں تقسیم کردیا جائےگا بالکل ایسا ہی ہےجیسےایک شخص جیب اس لیےکاٹےکہ جوروپیہ اسےملےگا اس کووہ کسی یتیم یا کسی بیوہ کو دےدےگا- جس طرح جیب کاٹ کرخیرات کرنا غلط ہےاسی طرح بینک سےسودلےکرخیرات کرنا بھی غلط ہے- میری جس بات کاآپ حوالہ دےرہےہیں وہ دراصل یہ ہےکہ اگرآپ غلطی سےبینک کےسودی حساب میں روپیہ رکھ چکےہوں اوراس پر آپ کوسودمل گیا ہوتواس کوخود نہ استعمال کیجئےبلکہ غریبوں کودےدیجئے- یہ بات میں اس وجہ سےکہتاہوں کہ سود کےذریعےسےجوروپیہ آتاہےوہ صرف اسی شخص کےلیےحرام ہےجس نےسودی حساب میں روپیہ رکھا اوراس کووصول کیا-لیکن اگروہ شخص کسی اورآدمی کویہ روپیہ ہبہ کردیتاہےیاکسی چیزکی اجرت یا قیمت میں دےدیتاہےتواس شخص کےلیےحرام نہیں ہےکیونکہ اس کوجائز طریقےسےیہ روپیہ ملا ہےاورسود لینےوالےکےپاس یہ ناجائزطریقےسےآیا تھا- مثال کےطورپرسودلینےوالا آدمی اگرکسی ٹیکسی پرسوارہوتاہےاورٹیکسی والےکواجرت دیتاہےتووہ روپیہ ٹیکسی والےکےلیےحرام نہیں ہے، البتہ اس شخص کےلیےیہ حرام ہےجس نےسودی روپےسےٹیکسی پرسفرکیا- اسی طرح اگروہ کسی کو ہبہ کردیتاہےیا صدقہ کردیتاہےتویہ ایک شخص سےدوسرےکی طرف مال منتقل ہونےکی جائزشرعی صورتیں ہیں- اس لیےصدقہ یا ہبہ لینےوالےکےلیےیہ روپیہ حرام نہیں ہے ____________________

جماعت اسلامی جمہوری طریق کارکیوں اختیارکرتی ہے سوال 4:- پاکستان کی جماعت اسلامی نےاقتدارکی منزل تک پہنچنےکےلیےجمہوری طریقہ اختیارکیا ہے، یعنی ایک مغربی طرزکےجمہوری نظام میں مغربی طرزکےانتخابات کےذریعہ سےاکثریت حاصل کرنا- دعوت اسلامی کےلیےاس طریقہ کےموافق ومخالف دلائل کیا ہیں؟ کیا جماعت نےاس سےپہلےکی تحریکوں کےتجربات سےاس معاملہ میں کوئی فائدہ اٹھایاہےاورکس طرح؟ ایسےحالات میں دعوت کےلیےکیا طریق کار مناسب ہوگا جہاں کےحکمران بالکل مطلق العنان ہیں اوربنیادی انسانی حقوق تک کاکوئی لحاظ نہیں کرتے"-

جواب:- یہ بھی ایک بڑی تفصیل طلب بحث ہے-مگرمیں اختصارکےساتھ آپ کےسوال کا جواب دوں گا- جماعت اسلامی جس ملک میں کام کررہی ہےاس کےحالات کےلحاظ سےاس نےاپنا طریق کار اختیارکیا ہے- کوئی دوسرا آدمی جو اسلامی دعوت کےلیےکسی اورملک میں کام کررہاہواس کےلیےضروری نہیں کہ وہ ہمارےطریقےکی پیروی کرے- وہ اپنے ملک کےحالات کےلحاظ سےکوئی دوسراطریق کاراختیارکرسکتاہے- ہم اس کےلیےیہ لازم نہیں کرسکتےکہ وہ ہمارےہی طریقےکی پیروی کرے- ہم اپنی جگہ یہ سمجھتےہیں کہ اسلامی حکومت قائم کرنےکےلیےکسی قسم کی خفیہ تحریک کاطریقہ اختیارکرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کےنتائج اچھےنہیں ہوتے، ہم اس کوبھی صحیح نہیں سمجھتےکہ کسی طرح کی سازشیں کرکےکوئی فوجی انقلاب لانےکی کوشش کی جائےاوراس طریقےسےاسلامی حکومت قائم کی جائے- کیونکہ اس کا نتیجہ پھریہ ہوگا کہ جس طرح ایک سازش کےنتیجےمیں اسلامی حکومت قائم ہوگی اسی طرح ایک دوسری سازش کے نتیجےمیں اس کا تختہ الٹ کرکوئی اورحکومت قائم ہوجائےگا- ہمارےنزدیک صحیح طریقہ یہ ہےکہ ہم زیادہ سےزیادہ لوگوں کوایک کھلی اوراعلانیہ دعوت سےاپنا ہم خیال بنائیں- اس میں وقت کی حکومت خواہ کتنی ہی رکاوٹیں ڈالے، ہرطرح کی تکلیفوں کو، ہرطرح کےنقصانات کو، ہرطرح کی سزاؤں کوبرداشت کرلیا جائے اوراپنی دعوت کوبرابرجاری رکھا جائے، یہاں تک کہ زیادہ سےزیادہ لوگ ہمارےہم خیال ہوجائیں- جب لوگ ہمارےہم خیال ہوجائیں گےتو ہم انشاء اللہ جمہوری طریقےسےہی اپنےملک میں اسلامی انقلاب لےآئیں گے- ___________________

کیا زکوۂ ایک ٹیکس ہے؟ سوال 5:- کیا زکوۂ ایک طرح کاانکم ٹیکس نہیں ہے؟ کیا ہم زکوۂ کوفلاح عامہ کےکاموں مثلا مدارس اورہسپتالوں کےلیےاستعمال نہیں کرسکتے؟"

جواب :- زکوۂ کوٹیکس قراردیناسرےسےہی غلط ہے- وہ تواسی طرح ارکان اسلام میں سےایک رکن ہےجس طرح نمازایک رکن ہے، حج ایک رکن ہے، روزہ ایک رکن ہے- زکوۂ انہی عبادتوں کی طرح ایک عبادت ہےاوراس عبادت کومقررکرنےکےساتھ ہی اللہ تعالی نےاس کےمصارف بھی متعین کردیےہیں جن کے سوا کسی اورمصرف میں اسےاستعمال نہیں کیا جاسکتا- آپ جتنےٹیکس دیتےہیں، خواہ وہ انکم ٹیکس ہو یا کسی اورقسم کا ٹیکس، ہرایک کا نفع آپ کی طرف پلٹ کرآتاہے- لیکن زکوۂ ایک ایسی چیزہےجس کا نفع آپ کی طرف آخرت میں پلٹ کرآئےگا- اس دنیا میں کسی طورپربھی اس کی منفعت حاصل ہونےکی امید پرآپ زکوۂ دیں گےتواسےضائع کردیں گے، اس دنیا میں آپ بس حدا کےبتائےہوئےحق داروں کوزکوۂ دےدیجئے اورسمجھ لیجئےکہ یہ نیکی خدا کےدفترمیں درج ہوگئی- اگرآپ اس سےسڑکیں بنائیں گےیا ریلیں بنائیں گے، یا مدرسےاورہسپتال بنائیں گےتوان سےامیراورغریب سب فائدہ اٹھائیں گے، درآنحالیکہ زکوۂ غریبوں کےلیے ہے، امیروں کےلیےنہیں ہے- ان چیزوں سےآپ خود بھی فائدہ اٹھائیں گے- درآنحالیکہ زکوۂ سےآپ کوخود فائدہ اٹھانےکاحق نہیں پہنچتا- اس لیےزکوۂ کوصرف عبادت سمجھ کراداکیجئے، اس کورکن اسلام سمجھئے، انکم ٹیکس نہ سمجھئے- ٹیکس کی خاصیت یہ ہوتی ہےکہ وہ خواہ کتنےہی انصاف کےساتھ لگایا جائےاورکتنی ہی ایمانداری سےوصول اورخرچ کیا جائے- بہرحال جن لوگوں پراس کا بارپڑتا ہےوہ کبھی اس کوخوشدلی سےنہیں دیتےبلکہ اس سےبچنےکی بےشمارراہیں تلاش کرتےہیں- اب کیا خدا کی فرض کی ہوئی ایک عبادت کوبھی ٹیکس سمجھ کراس کے ساتھ آپ یہی سلوک کرنا چاہتےہیں؟ یہ طرز عمل آپ زکوۂ کےساتھ اختیارکریں گےتواپنےمال کےساتھ اپنےایمان کو بھی کھودیں گے- یہ تووہ چیز ہےجوخوشدلی سےدینی چاہیے، خدا کی خاطردینی چاہیئےجتنی آپ پرواجب ہو اس سےبھی کچھ بڑھ کردینا چاہیئے، تا که خدا کی خوشنودی اورزیادہ حاصل ہوسکے- _____________________________

انشورنس سوال 6:- کیا آپ صحت، زندگی، یا حادثات کےبیمےکوایک طرح کا بیت المال نہیں سمجھتے؟ اس میں توہرشخص جواپنےآپ کوانشورکراتاہےوہ ایک طرح کا چندہ دیتاہے، اورحاجت منداس کا فائدہ حاصل کرتےہیں"-

جواب :- آپ نےانشورنس کاکاروبارکرنےوالوں کوبالکل جنت ہی میں پہنچادیا- یہ غلط فہمی آپ کوکہاں سے لاحق ہوگئی کہ یہ ایک بیت المال ہےجس میں مال دارایک چندہ دیتاہےاورحاجت مند لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں ؟ حالانکہ یہ ایک باقاعدہ کاروبار(بزنس) ہے جس کوسرمایہ داراپنےفائدہ کےلیےچلاتےہیں نہ کہ آفت رسیدہ کھینچ کراپنےقبضےمیں (SAVINGS) لوگوں کےفائدےکےلیے- سرمایہ داروں نےسارےمعاشرےکی بچتیں (SAVINGS)ل کےلیےدوطریقےاختیارکئےہیں ایک بینک جوسودکالالچ دےکرلوگوں کےبچےہوئےمالینے اپنےقبضےمیں لیتاہے،اوردوسرےانشورنس کمپنی، جولوگوں کونقصانات کی صورت میں مدد دینےکا لالچ دے کرپرمییم کی صورت میں ان کا سرمایہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے- ان دوطریقوں سےتمام قوم کےبچےہو‏ئے مال ان سرمایہ داروں کےپاس جمع ہوجاتےہیں اورپھریہ اپنی شرائط پراس ساری دولت کو معاشرے کے ان کاموں میں لگاتےہیں جو ان کےلیےزیادہ سےزیادہ مفید ہوں- بینک کی طرح انشورنس کمپنی بھی کوئی فلاح عام ادارہ نہیں ہے، کمپنی والےپوراحساب لگاکردیکھتےہیں کہ جتنےلوگ ہم سےانشورکرتےہیں ان سےہم کو پرمییم کتنا وصول ہوگا اورکتنےنقصانات کی تلافی کرنےکےلیےہم کوکتنی رقم دینی ہوگی – اس حساب سے وہ یہ اندازہ کرلیتےہیں کہ کتنا نفع ہم کوحاصل ہوگا- جب تک انہیں بھاری نفع کی امید نہ ہووہ انشورنس کاکاروبار ہرگزنہ کریں- اب آپ خود بتائیےکہ اگروہ آپ کےایسےہی خیرخواہ ہیں اورخدمت خلق ہی کےلیےکام کررہے ہیں تواتنےبھاری منافع کیسےکماتےہیں؟ اتنی عظیم الشان کوٹھیاں کیسےبناتےہیں؟ اتنےعالی شان دفترکیسےقائم کرتےہیں؟ اتنی بڑی بڑی تنخواہوں والےملازم اورایجنٹ کیسےرکھتےہیں؟ کیا یہ سب کچھ اپنی جیب سے خیرات کےطورپرہورہاہےیا آپ کی جیب سےوصول کیا جاتاہے؟یہ بیت المال نہیں ہے، محض ناجائز نفع اندوزی ہے- ____________________

امریکہ اور کینیڈا میں مسلمان بچوں کی تعلیم کا مسلہ سوال7:- "جماعت اسلامی امریکہ اور کینیڈا میں ہمارے بچوں کی تعلیم کے لیے نصابی کتابیں کس طرح فراہم کر سکتی ہے ؟ "

جواب:- جماعت اسلامی اس خدمت کی خود خواہشمند ہے ۔ آپ اس کو بتائیں کہ آپ کسی قسم کے لڑکچر کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔ میں تو اب واپس جا رہا ہوں ۔ آپ اپنی ضروریات سے مرکز جماعت اسلامی لاہور کو آگاہ کریں اور تفصیل سے بتائیں کہ آپ کو کس طرح کا لٹریچر درکار ہے ۔ انشاء اللہ ہم اسے فراہم کریں گے ۔ یا اگر دہ موجود نہ ہو گا تو تیار کرائیں گے اور یا تو خود چھپوائیں گے یا آپ کو بھیج دیں گے تاکہ آپ خود چھپوا لیں ۔ ____________________

ترقی یافتہ قوموں کیلئے اسلام میں کشش کیا ہے سوال نمبر8 :- "ایک غیر مسلم کے لیے اسلام میں کیا کشش ہے جبکہ اچھے کر کٹڑ کے لوگ غیر مسلموں میں بھی پائے جاتے ہیں ؟ اور مسلمان تو آج کی دنیا میں ایک شکست خوردہ قوم سمجھے جاتے ہیں ۔ “

جواب :- ایک غیرمسلم کےسامنےاسلام بحیثیت ایک دین کےآئےتواس کویہ نہیں دیکھنا چاہیےکہ پیش کرنے والےکون ہیں- اس کو یہ دیکھنا چاہیےکہ پیش کیا چیزکی جارہی ہواورآیا وہ حق ہےیا نہیں؟ اگروہ مطمئن ہو جائےکہ جوچیزمیرےسامنےپیش کیا جارہی ہےوہ حق ہےتواسےقبول کرنا چاہیےاورافسوس کرنا چاہیے اس شخص کےحال پرجوحق اس کےسامنےپیش کررہاہےمگرخود اس کی پیروی نہیں کررہا- اسےپیش کرنے والےکواس بات پرشرم دلانی چاہیئےاورخود اس چیزکی پیروی اختیارکرنی چاہیئےجسےوہ حق سمجھتاہے- یہ کوئی بات نہیں ہےکہ ہم مسلمان چونکہ ایک شکست خوردہ قوم ہیں اس لیےہماری پیش کردہ اسلامی تعلیمات کودنیا قبول نہیں کرےگی- مسلمان آج اتنےشکست خوردہ تونہیں ہیں جتنےتاتاری حملےکےوقت ہوئےتھے- ان وحشیوں نےاس وقت ہمارےبڑےبڑےمراکزتہذیب وتمدن کوبرباد کردیا تھا- بڑی بڑی لائبریریاں تباہ کردی تھیں- لاکھوں مسلمانوں کوقتل کردیاتھا- اورماوارء الہنرسےلےکرمصرکےقریب تک ساری اسلامی دنیا کو تہس نہس کرڈالا تھا- لیکن وہی تاتاری جہنوں نےمسلمانوں پراس طرح سےغلبہ حاصل کیا تھا آخرکار خود مسلمان ہوگئے- انہوں نےاسی شکست خوردہ قوم کےدین کوقبول کرلیا جس نےان کےآگےہتھیارڈالےتھے- اس سےمعلوم ہوا کہ آپ کا ایک شکست خوردہ قوم ہونا اس امرماں مانع نہیں ہےکہ آپ دنیا کےسامنےاسلام پیش کریں- اسلام کومعقول طریقےسےپیش کیجئےاورساتھ ساتھ یہ کوشش کیجئےکہ آپ کی زندگی بھی اس کے مطابق ہوتاکہ لوگوں کےسامنےآپ اپنی بری مثال پیش نہ کریں- لیکن اگرفرض کیجئےکہ آپ اپنی زندگی نہیں بدلتےتوپھربھی اسلام کواس کی اصل صورت میں اللہ کےبندوں تک پہنچانےمیں کوتاہی نہ کیجئے- کوئی معقول آدمی یہ نہیں کہہ سکتاکہ میں ایک حق بات کواس لیےقبول نہیں کرتا کہ اس کاپیش کرنےوالا خود اس پرنہیں چل رہاہے- یہ بالکل ایسا ہی ہےجیسے کوئی لوگوں کےسامنےحفظان صحت کےاصول بیان کررہا ہواوریہ بتارہاہو کہ تمہاری صحت ان اصولوں کی پیروی کرنےسےٹھیک رہ سکتی ہے، اورسننےوالا یہ دیکھےکہ یہ شخص خود حفظان صحت کےاصولوں کی خلاف ورزی کرکےاپنی صحت خراب کررہاہے- تووہ یہ دلیل نہیں دےسکتا- کہ چونکہ تم خود ان اصولوں کی خلاف ورزی کرکےاپنی صحت بگاڑرہےہو- اسلئےمیں بھی حفظان صحت کےیہ اصول قبول نہیں کرتاعقلمند آدمی تو ایسی بات کبھی نہ کہےگا-

اسلام کی ابتدا غربت سےہونیکا مطلب سوال نمبر9:- " اس حدیث کا کیا مطلب ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بداالاسلام غریباوسیکون غریبافطوبی الغرباء اسلام کی ابتداغربت سےہوئی اورپھرایک وقت آئےگا کہ وہ پھرغریب ہوجائےگا- پس خوشخبری ہو،غرباکےلے"-

جواب :- اس حدیث کوسمجھنےمیں عام طورپرلوگوں کوجو مشکل پیش آتی ہےوہ یہ ہےکہ وہ لفظ غریب کو اردومحاورے کےمطابق مفلس کےمعنی میں لےلیتےہیں- حالانکہ غریب کا لفظ زبان میں اجنبی اورنامانوس چیز کےلیےاستعمال ہوتاہےاوراردومیں بھی جب ہم عجیب و غریب بولتےہیں تواس کےمعنی قریب قریب وہی ہوتے ہیں جوعربی میں لفظ غریب کےہیں- ہروہ شخص یاکام یا چیز غریب ہےجس سےلوگ آشنانہ ہوں، جسےنرالا سمجھ کر لوگ اس سےاپراتےہوں، جوان کےذوق اورپسند کےمطابق نہ ہو- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےارشاد کامطلب یہ ہےکہ اسلام کوجب اول اول پیش کیا گیا تو عموما لوگوں نےیہ سمجھا کہ یہ ایک نرالی بات کہی جارہی ہے، ہم تو اس سےبالکل مانوس نہیں ہیں، ہمارےباپ دادانےکبھی ایسی باتیں نہیں سنی تھیں- پس اسلام ابتدا میں بالکل اجنبی تھا اورلوگ اس کوایک نرالی اورناموافق مزاج چیزسمجھتےتھے- پھرایک وقت ایسا آیا کہ اسلام ہی مقبول عام ہوگیا اورہروہ چیزاجنبی ہوگئی جو اسلام کےخلاف تھی- اس کےبعد ایک پھرایساآئےگا جب اسلام دنیا میں پھرغریب ہوجائےگا –یعنی اسی طرح سےغیرمانوس اوراجنبی ہوگا جس طرح وہ ابتدا میں تھا، اوروہ وقت یہی ہےجو آپ دیکھ رہےہیں- آج ایک مسلمان لوگوں کےسامنےنمازپڑھتےہوئےشرماتاہے- اپنےاسلامی لباس میں چلتےپھرتےشرم محسوس کرتاہے- ایک مسلمان عورت اسلامی احکام کی اطاعت میں زندگی بسرکرتےہوئے شرم محسوس کرتی ہے- گناہ کرنےوالا آج جری وبیباک ہےاورایک صالح مسلمان کی سی زندگی بسرکرنے والا اپنی جگہ خوف زدہ بیٹھا ہواہےکہ معلوم نہیں مجھےسوسائٹی میں کیسےقبول کیا جائےگا- اس کا جینا مشکل ہے- ہرچیزاس کےمزاج کےخلاف ہے- ہرچیزان اصولوں کےخلاف ہےجن کووہ حق مانتاہے- وہ سب کچھ دنیا میں دھڑتےسےہورہاہےجس کےمتعلق اس کا عقیدہ ہےکہ یہ بحیائی ہے- فحش ہے، بےشرمی ہے، گناہ ہے، حرام ہے، جن چیزوں کووہ سمجھتاہےکہ یہ فرض ہیں ان کوبجالانا مشکل ہورہاہےاورجن چیزوں کو وہ سمجھتا ہےکہ یہ حلال ہیں ان کا استعمال اس کےلیےدشوارہورہاہے- یہی وقت ہےجس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےخبردی ہےکہ اسلام ایک دفعہ پھرغریب اورنامانوس ہوکررہ جائےگا- اورایسےہی حالات کےبارےمیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہےکہ خوشخبری ہےغریبوں کےلیے، یعنی ان لوگوں کے لیےجوایسےحالات پیدا ہوجانےکےبعد بھی اسلام کےاصولوں پرمضبوطی کےساتھ قائم رہیں اوراس کی کچھ پروانہ کریں کہ دنیا کیا کہتی ہے- دنیا ان کا مذاق اڑائے، یا ان پرہنسے،یا ان کی تذلیل و تحقیرکرے، وہ بہرحال اسلام کےاصولوں سےنہ ہٹیں اوراجنبی بن کررہ جانا قبول کرلیں- ان کےلیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خوشخبری دی ہےوہ آخرت میں کامیاب ہونےکی بشارت تربہرصصورت ہے، خواہ دنیا میں وہ کامیاب ہوں یا نہ ہوں- مگر یہ دنیا میں بھی کامیاب ہونےکی بشارت ہوسکتی ہےاگرایسے"غریب " لوگ مل کرایک مضبوط اورمنظم جماعت جن جائیں اوراسلام کےاصولوں کوغالب کرنےکےلیےاسی طرح جان لڑادیں جس طرح ابتدائےاسلام میں اہل ایمان نےاپنی جانیں لڑائی تھیں- اس صورت میں ان کےلیے خوشخبری ہےکہ آخرکاراسلام کی غربت ختم ہوجائےگی اورپھروہ دنیا میں ایک غالب قوت بن جائےگا- اس کی تشریح سےآپ سمجھ سکتےہیں کہ اسلام کی غربت کےزمانےمیں غریب بن کررہ جانےوالوں کےلیےہرحال میں بشارت ہی بشارت ہے- خواہ وہ دنیا میں اکیلےغریب رہ جائیں، یا اس غربت کی حالت میں منظم ہوکردنیا کی غالب جاہلیت سےلڑیں اوراس پراسلام کوغالب کرنےکےلیےاپنی تمام کوششیں صرف کردیں، یا اس کوشش میں لڑتےلڑتےشہید ہوجائیں_1 ___________________________ 1- مزید تشریح کےلیےہماری کتاب معرکہ اسلام اورجاہلیت کامطالعہ کریں- اخترحجازی

ترقی کا صحیح مفہوم سوال نمبر10:- "اگرہم زمانےکاساتھ نہ دیں توترقی کیسےکرسکتےہیں- اس صورت میں تو ہم دنیا سےپیچھےرہ جائیں گے"

جواب :- اس سےپہلےایک حدیث کی تشریح میں جوکچھ میں نےکہا ہےاس میں اس سوال کا جواب پوری طرح آگیا ہے- ایک بگڑی ہوئی سوسائٹی کےاندرشراب اورزنا اورجوا توایسےحلال وطیب ہوجاتےہیں کہ علی الاعلان ان کا ارتکاب میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ ان پراعتراض کرنےوالا الٹا نکوبن جاتاہے-ان سےبھی آگےبڑھ کرایسےگھناؤ نےافعال بھی جن کانام لیتےہوئےشرم آتی ہے کھلےبندوں کیےجانے لگتےہیں، یہاں تک کہ پوری بےباکی کےساتھ ان کوجائزکردینےکامطالبہ صرف کیا ہی نہیں جاتا بلکہ مان بھی لیاجاتاہے ایسےحالات میں ایک مسلمان کایہ کام نہیں ہےکہ غلط قسم کی ترقی (PROGRESS) میں اپنےآپ بھی شامل کرے- ترقی یافتہ قوموں کاہرفعل ترقی نہیں ہے، ترقی دراصل ایک اضافی اصطلاح ہے- ہرشخص یاگروہ اپنےسامنےجو ہدف ( RELATIVE TERM) رکھتاہےاس کی طرف پیش(GOAL) قدمی کووہ ترقی سمجھتاہے- ضروری نہیں کہ وہی ہدف ہمارا بھی ہوجواس کا ہے- ہم اگراس ہدف کوغلط سمجھتےہیں تواس کی طرف جتنی پیش قدمی بھی ہم کریں گےوہ ہمارےلیےترقی نہیں ہوگی بلکہ الٹی رجعت ہو گی، اورہم اپنےہدف سےدورترہوتےچلےجائیں گے- اب آپ خود دیکھ لیں کہ کیا مسلمان ہونےکی حیثیت سےہمارا بھی وہی ہدف ہے-جس کی طرف دنیا کی یہ بگڑی ہوئی قومیں چلی جارہی ہیں؟ اگرہمارا یہ ہدف نہیں ہےتو اس کی طرف پیش قدمی ہمارےلیےترقی کیسےہوسکتی ہے-ہم ایک خدا اورایک رسول اورایک کتاب کےماننےوالےہیں اورہمارا ہدف نیکی اورتقوی کی زندگی ہےجوآخرت میں ہم کوفلاح وسعادت سےہمکنارکرے- ہمارےدین نےہم کو مستقل دی ہیں جوکبھی بدل نہیں سکتیں- جو کچھ حرام ہےوہ ہمیشہ کےلیے (PERMANENT VALUES) قدریں حرام ہے، اسےحلال نہیں کیا جاسکتا- اورجوکچھ حلال ہےوہ ہمیشہ کےلیےحلال ہے، اسےحرام نہیں کیا جاسکتا- ہم ان قوموں کی طرح نہیں ہیں جن کی قدریں روزبدلتی ہیں- آج جونیکی ہےکل وہ بدی بن جاتی ہےاور آج جوحرام ہےکل وہ حلال ہوجاتاہے- ایسی ناپائیدارقدروں کوہم کیسےقبول کرسکتےہیں- ہمارا یہ کام نہیں ہےکہ دنیا جس طرف جارہی ہوہم بھی اسی طرف جائیں- ہمارا کام یہ ہےکہ اگردریا غلط راستہ کی طرف بہہ رہا ہوتوہم اس کا رخ پلٹ دیں، یا اگراس کا رخ پلٹ نہ سکیںتواس کی روکےخلاف چلیں- اس کی رو کےخلاف چل کراپنےہاتھ پاؤں توڑلینا اوراس کےبھنورمیں آکرڈوب جانا اس سےبہترہےکہ ہم اس کےساتھ بہتےہوئےاپنی منزل سےدورہوتےچلےجائیں _____________________

پردہ مغربی معاشرےمیں سوال نمبر11:- " پردہ کےاصطلاحی پہلوکےبارےمیں اسلام کاقاعدہ کیا ہے؟ آپ مغربی دنیا میں اس پرکیسے عمل کراسکتےہیں؟ مردوں اورعورتوں کےمخلوط اجتماعات کےبارےمیں آپ کیا کہتےہیں؟

جواب :- آپ لوگ اس معاملےمیں میرےخیالات جانتےہوں گے- میری کتاب پردہ اردو، عربی اورانگریزی میں شائع ہوچکی ہے- تفسیرسورہ نورمیں بھی اس کی پوری وضاحت کرچکاہوں اوریہ بھی اردواورعربی میں شائع شدہ موجود ہے- سورہ احزاب کی تفسیراگرچہ دوسری کسی زبان میں شائع نہیں ہوئی ، مگراردو میں توشائع ہوچکی ہے- اس کےبعد میں نہیں سمجھ سکا کہ یہاں یہ سوال کرنےکی ضرورت کیوں محسوس کی گئی- یہ بات سب لوگوں کومعلوم ہونی چاہیےکہ اسلام عورتوں اورمردوں کےآزادانہ میل جول اورمخلوط سوسائٹی کاقطعی قائل نہیں ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں جب عورتوں (MIXED SOCIETY) نےچاہا کہ انہیں مسجد نبوی میں آکرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےپیچھےنمازپڑھنےکی اجازت دی جائےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں منع تونہیں کیا مگرفرمایا کہ تمہارا اپنےگھرمیں نمازپڑھنا میری مسجد میں آکر پڑھنےسےبہترہے، اورتمہارا اپنےگھرکےاندرکسی حجرےمیں پڑھنا اپنےگھرکےدالان میں پڑھنےسے بہتر ہے- پھرجب عورتوں نےاس شوق کااظہارکیا کہ وہ آپ کےپیچھےنمازباجماعت میں شریک ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےصرف صبح اورعشاء کےوقت آنےکی اجازت دی، ان کےآنےجانےکےلیےالگ دروازہ مخصوص کردیا- اوران کےلیےمردوں کی صفوں کےپیچھےکی صفیں مقررفرمائیں- اس زمانےمیں صبح کی نماز ایسےوقت ختم ہوتی تھی جب نمازسےفارغ ہوکرمسجد سےواپس جاتےوقت بھی اتنا اندھیرا ہوتاتھا کہ ایک دوسرےکوپہنچانا نہیں جاسکتاتھا- عشاء کی نمازمیں شریک ہونےکی اجازت بھی اس لیےدی گئی تھی کہ اس زمانےمیں بجلی کی روشنی نہیں ہوتی تھی، اس لیےپیچھےکی صفوں میں کھڑی ہونےوالی عورتیں چھپی رہتی تھیں- پھرحکم یہ تھا کہ نمازختم ہونےکےبعد مرد بیٹھےرہیں اور جب عورتیں چلی جائیں اس وقت اٹھیں- جس مذہب کی یہ تعلیمات ہوں اس کےمتعلق آپ یہ پوچھتےہیں کہ وہ عورتوں اورمردوں کےمخلوط اجتماعات کی اجازت دیتاہے؟ اب اگرآپ ایسی جگہ آگئےہیں جہاں اس غلط طریقےکارواج عام ہےتوخدا کےلیےجوکچھ آپ کوکرنا ہےکریں، اس کواسلامی تعلیم بناکرپیش کرنےکی کوشش نہ کریں- شریعت کےتابع آپ نہیں رہ سکتےتوشریعت کواپنا تابع تونہ بنائیں کہ جوکچھ آپ کرتےجائیں، شریعت بھی اس کی اجازت دیتی چلی جائے- مغرب کی اس سوسائٹی کےرنگ ڈھنگ آپ کواختیارکرنےہیں توکیجئےمگراپنےآپ کوگناہ ہگارسمجھ کرکیجئے-

اسی پچھلےسوال کےسلسلےمیں ایک اوربات آپ سےکہنا چاہتاہوں- اگریہ سوال کوئی شخص مجھ سےپاکستان میں یا کسی دوسرےمسلمان ملک میں کرتاتواس کی وجہ کچھ سمجھ میں بھی آسکتی تھی- لیکن یورپ ، امریکہ یا کینیڈا میں جولوگ رہتےہیں ان کا ایسےسوال کرنا بہت ہی عجیب معلوم ہوتاہے- آپ آنکھوں سےدیکھ رہےہیں کہ اختلاط مردوزن کیارنگ دکھارہاہے- کیسی کیسی اخلاقی خرابیاں یہاں امنڈرہی ہیں- کس کارواج بڑھ رہاہے، اسےقانونی جواز(ABORTION) طرح خاندانی نظام تباہ ہورہاہے- کس طرح اسقاط حمل عطا کیا جارہاہےاورکہا جارہاہےکہ عورت کواس کاویسا ہی حق ہےجیسا ایک دانت نکلوانےکااسےحق ہے، کس طرح نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہےکہ خواہشات نفس کوپورا کرنےکی جوطبعی صورتیں تھیں ان سےلوگوں کی طرف (PERVERSIONS) کےدل بھرگئےہیں، اوراب وہ طرح طرح کےگھناؤنے خلاف فطرت افعال مائل ہوتےجارہےہیں، بلکہ اس قسم کےافعال بھی بےتحاشاوبا کی طرح پھیل رہےہیں- عریانی کس شدت سےبڑھ رہی ہے- نیم برہنہ نوجوان جوڑےکس بےشرمی کےساتھ برسرعام بوس وکنارکررہےہیں- حرامی بچوں کی تعداد کس رفتارسےبڑھ رہی ہےاورحلالی بچوں کی پیدائش کوکس طرح روکاجارہاہے- یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سےدیکھ لینےکےبعد توآپ کوسمجھنا چاہیئےتھا کہ آپ کےاوپرخدا اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کایہ احسان عظیم تھا کہ اس نےاخلاقی تباہی کےاس گڑھےمیں گرنےسےپہلے ہی اس راستےکےاولین قدم پرآپ کوروک دیا جو اس گڑھےکی طرف لےجانےوالا تھا- یہاں جو شخص اختلاط مردوزن کےجوازکا فتوی پوچھتاہے، مجھےاس پرسخت حیرت ہوتی ہے- ____________________________

فلاحی ریاست کا اسلامی تصور سوال نمبر12:- " اسلام میں محاصل (TAXATION) کا کیا تصورہے؟ ایک فلاحی ریاست اسلام کا معاشی نظام اختیارکرنےکےبغیرنہیں بن سکتی- مگرجماعت اسلامی نےاس کوکبھی نمایاں کرکےپیش نہیں کیا؟

جواب :- میں نہیں سمجھتاکہ جن صاحب نےیہ سوال کیا ہےانہوں نےمیری اورجماعت اسلامی کی شائع کردہ کتابوں اورجماعت کےمنشورکوکبھی دیکھا ہے- اگرانہوں نےیہ چیزیں دیکھی ہوتیں توشاید یہ بات نہ کہتے کہ جماعت نےاسلام کےمعاشی نظام کوپیش نہیں کیا ہےاورنہ یہ بتایا کہ اسلام کس طرح ایک فلاحی ریاست بناتاہے- ان کی غلط فہمی رفع کرنےکےلیےعرض کرتاہوں کہ ہم نےوضاحت کے(WELFARE STATE) ساتھ یہ بیان کیا ہےکہ اسلام ہی ایک صحیح قسم کاویلفیرسٹیٹ بناسکتاہے- ایک ویلفیرسٹیٹ تووہ ہوتاہےجس میں لوگوں کوکسی قسم کی اخلاقی تعلیم وتربیت نہیں دی جاتی ان کوکسی قسم کی صحت مندروحانی غذانہیں ملتی- ان کوصحیح معنوں میں انسان بنانےکی کوئی کوشش نہیں کی جاتی- البتہ اس امرکی کوشش کی جاتی ہےکہ ان کی تمام ضروریات کوسٹیٹ پوراکرے- اس کا نتیجہ یہ ہوگیا ہےکہ جب ان کی تمام ضروریات سٹیٹ پوری کردیتاہےتواس کےبعد ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اب وہ اور کیا کریں- پھروہ بےمقصد عیش کی زندگی سےاکتاکرطرح طرح کی بدراہیوں اوربدکرداریوں پراترآتے ہیں- اورجب ان سےبھی دل بھرجاتاہےتونوبت یہاں تک پہنچتی ہےکہ خود کشی کرنےلگتےہیں- آپ کومعلوم ہےکہ آج جوبڑےبڑےویلفیرسٹیٹ ہیں ان میں خودکشی کی شرح کیا ہے؟ اگریہ ویلفیرسٹیٹ واقعی آدمی کو مطمئن کردیتاہےتواس کوخودکشی کرنےکی کیا ضرورت ہے؟ اس سےمعلوم ہواکہ محض دینوی سامان عیش کی فراوانی انسان کواطمینان نہیں بخش سکتی- انسان صرف روٹی سےنہیں جی سکتا- اس کےقلبی اطمینان کےلیے اوراس کے ذہنی سکون کےلیےمادی خوشحالی کےعلاوہ بھی کوئی چیزچاہیئےجویہ ویلفیرسٹیٹ پیش نہیں کرسکتا-

پھریہ ویلفیرسٹیٹ آدمی کوکام چوربنا دیتاہے- وہ کم سےکم کام کرکےزیادہ سےزیادہ معاوضہ لینا چاہتاہے- وہ کہتاہےہفتہ وارتعطیل کےلیےدودن بھی کافی نہیں ہیں- تین دن ہونےچاہییں- بلکہ وہ ہفتےمیں تین دن ہی کام کرنا چاہتاہے- دفتروں اورکارخانوں میں جاتاہےتوہربہانےکام سےبچنےکی کوشش کرتاہے- اخلاق کی بنیاد کےبغیرجس ویلفیرسٹیٹ کی تعمیرکی جاتی ہےوہ بالاخراسی طرح کی خرابیوں سےدوچارہوکررہتی ہے- اس کےبرعکس اسلام پہلےانسان کا اخلاق درست کرتاہےاسےحق شناس اورفرض شناس بناتاہےاس میں خدا ترسی اورپرہیزگاری پیدا کرتاہے، اورپھراس کےلیےدنیوی خوشحالی کاپورا سروسامان بہم پہنچاتاہے- ایسےویلفیرسٹیٹ میں نہ انسان کام چوربنتاہےنہ بدکردار، اورنہ اسےکبھی خودکشی کی ضرورت پیش آتی ہے- اس کی تمام جائزخواہشات اورضروریات جب پوری کردی جاتی ہیں تووہ آگےبڑھ کر انسانیت کی فلاح کا کام کرتا ہے- اوراپنےاوقات ووسائل زیادہ سے زیادہ نیکیوں اوربھلائیوں کے پھیلانےمیں صرف کرتا ہے- _____________________________

حرام و حلال گوشت کا مسئلہ سوال نمبر13:- " حلال گوشت کاکیا تصورہے؟ کیاجانورکو ذبح کرتےوقت اللہ اکبرکہنا ضروری ہے؟ اورسورکیوں حرام ہے؟ جھٹکےکا گوشت مکروہ ہےیا حرام؟ کن حالات میں مجبوری کےباعث جھٹکےکا گوشت کھایا جا سکتا ہے؟ اگرکوئی غیرمسلم اللہ اکبرکہہ کراسلامی طریقہ سےذبح کرتاہےتوگوشت حلال ہوتاہےیا حرام ؟ بہت سےمسلمان جھٹکےکا گوشت کھاتےہیں اورتاویل فرماتےہیں کہ لقمہ کھانےسےپہلے" اللہ اکبر" کہنےسےیہ گوشت حلال ہوجاتاہے- یہ بات صاف طورپرعیاں ہےکہ اگروہ جھٹکےکےگوشت پرپوراقرآن شریف بھی ختم کرلیں تووہ گوشت جھٹکےہی کا گوشت رہےگا- راقم الحروف نےاپنےایک بھائی کےذریعےمفتی محمد شفیع صاحب سےدریافت کرایا تھا کہ جھٹکےکا گوشت مکروہ ہےیا حرام؟ جواب وصول ہوا- حرام ہےاورصرف اس حد تک کھایا جاسکتاہے کہ حیات باقی رہے "

جواب :- میں اس مسئلےکی وضاحت اردومیں بھی کرچکاہوں اورعربی میں بھی- جواصحاب اس مسئلے کو تفصیل کےساتھ سمجھنا چاہیں وہ اردویا عربی میں میرےاس مضمون کوپڑھ لیں- اردومیں میری کتاب تفہیمات حصہ سوم میں یہ مضمون موجود ہے- اورعربی میں پہلےاس کو" المسلمون " نےشائع کیا تھا اوربعد میں وہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے- جہاں تک میں نےقرآن وحدیث کامطالعہ کیا ہے، میرےعلم میں ایک گوشت کےحلال ہونےکےلیےتین شرطیں ہیں- ایک یہ کہ جانورحلال قسم کاہونہ کہ ایسا جانورجسےشریعت میں حرام کیا گیا ہے، دوسرےیہ کہ جانورکا گلااس حد تک کاٹاجائےاس کےدماغ کا پچھلا حصہ جسم سے منقطع نہ ہوجائےکیونکہ اگروہ کٹ جائےتوجانورکی موت فورا واقع ہوجائےگی اوراس کےجسم کا پورا خون باہرنہ آسکےگا-بلکہ اندرہی گوشت کےساتھ چمٹ کررہ جائےگا- لیکن اگرآدھا گلا کاٹا جائےاورپچھلےحصہ کا تعلق جسم کےساتھ باقی رہےتوجانورتڑپےگااوراس کےتڑپنےسےخون پوراکا پوراباہرآجائےگا اوراس کی موت خون بہنےسےواقع ہوگی- اس طرح اس کا گوشت خون سےپاک ہوجائےگا- تیسری شرط یہ ہےکہ ذبح کرتےوقت جانورپراللہ کانام لیا جائے- اللہ کا نام لیےبغیرذبح کرنا جائزنہیں ہےجیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ولا تاکلواممالم یذکراسم اللہ علیہ – جانورپراللہ کانام لینےکا مطلب یہ نہیں ہےکہ جانورکھڑاہےاوراس پراللہ کا نام لےلیا جائے، بلکہ ذبح کرتےوقت اس پراللہ کانام لینا مقصود ہے- ان شرطوں سےذبحیہ حلال ہوتاہے- یہ شرطیں اگرنہ پائی جائیں تومیرےنزدیک اورعلماء کی اکثریت کےنزدیک وہ حلال نہیں ہوگا-

سورکیوں حرام کیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہےکہ اللہ تعالی نےدنیا میں ہرچیزکھانےہی کےلیےپیدا نہیں کی ہے- جولوگ سورکےمتعلق یہ سوال کرتےہیں وہ آخردوسرے بہت سےجانوروں کےمتعلق بھی کیوں نہیں پوچھتے؟ انہیں پوچھنا چاہیئےکہ چوہا، بلی، گدھا، کتا، چیل،کوا، گدھ ، کیبچوےوغیرہ کیوں نہ کھائےجائیں؟ ظاہرہےکہ دنیا کی ہرچیزصرف کھالینےکےلیےنہیں ہے- رہا یہ سوال کہ اللہ تعالےنےخاص طورپرسورکی حرمت کاحکم کیوں دیا- تواس کاجواب یہ ہےکہ دنیا میں بعض چیزیں توایسی ہیں جن کےنقصانات کوہم خود جان سکتےہیں اوران کوجاننےکےلیےہمارا علم وتجربہ کافی ہے- ایسی چیزوں کےاستعمال سےمنع کرنےکی اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی ضرورت نہ تھی- لیکن جن چیزوں کانقصان ہم نہیں جان سکتےان کےمتعلق حکم دینا اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےذمہ لیا ہے- وہ ہمیں بتاتےہیں کہ انہیں کھانےسےپرہیزکرو- اب جسےاللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پراعتماد ہووہ ان سےپرہیزکرےاورجسےان پراعتماد نہ ہووہ جوکچھ چاہیےکھاتارہے-

جھٹکےکےگوشت کےمتعلق چونکہ حرمت کاحکم خود قرآن مجید میں ہےاس لیے اسےمحض مکروہ کہنا صحیح نہیں ہےبلکہ وہ حرام ہے- اسےاوردوسری حرام چیزوں کوصرف ایسی حالت میں کھایا جا سکتاہےجبکہ آدمی کی جان پربن رہی ہواورصرف وہ حرام چیزہی بھوک مٹانےکےلیےموجودہو- ایسی حالت میں صرف جان بچانےکی حدتک اسےکھایا جاسکتاہے-

اگرکوئی مشرک اللہ اکبرکہہ کراسلامی طریقہ پرذبح کرےتواس کا ذبیحہ حلال نہیں ہےصرف اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے- جبکہ وہ خدا کانام لےکرذبح کریں اوراسلامی طریقہ پرذبح کریں ____________________________

پاکستان سےکسی کافرملک کی جنگ میں جماعت اسلامی کا رویہ ___________________________ سوال نمبر14:- " اگرپاکستان اورکسی غیرمسلم حکومت میں جنگ ہوتوکیا جماعت حکومت کی مدد کرےگی؟ اگرجواب ہاں ہےتوکس حد تک مددکرےگی؟ کیا وہ دوسری مسلمان حکومتوں پربھی یہ اثرڈالےگی کہ وہ پاکستان کی مدد کریں؟

جواب :- اگرکوئی غیرمسلم ملک کسی مسلمان ملک پرحملہ کرےاس صورت میں اس کی مدافعت کےلیےجنگ کرنا ہمارا دینی فریضہ ہےقطع نظراس سےکہ مسلمان ملک کی حکومت کیسی ہی ہو- اس لیےکہ حکومت خواہ بری ہویا اچھی، اگرغیرمسلم دشمن ملک کےاوپرقابض ہوجائےتوہماری مسجدیں، ہماری عورتوں کی آبرو، ہماری جان ومال، کوئی چیزبھی محفوظ نہیں رہ سکتی، اس لیےہم کواپنےدین، اپنےگھر، اپنی عزت، اپنی آبرو اوراپنےمال کوبچانےکےلیےجنگ کرنےکا حق ہے- ساری دنیا میں مدافعت کےاس حق کوتسلیم کیا جاتاہے اور شریعت نےبھی اس کا حکم ہمیں دیا ہے- اس میں یہ بحث نہیں ہےکہ ہمارےملک کی حکومت کیسی ہے- اگرکوئی فاسق وفاجربھی حکمراں ہوتب بھی ہم اس کےساتھ مل کرلڑیں گےاورملک کوبچائیں گے- اس کےبعد جب اس فاسق وفاجرکی خبرلینی ہوگی تولیتےرہیں گے- اس کےعلاوہ یہ بھی ایک شرعی مسئلہ ہی ہےکہ کسی مسلمان ملک پراگرکوئی غیرمسلم طاقت حملہ کرےتودوسرےمسلمان ملکوں کوبھی اس کی مدد کرنی چاہیے- _______________________

جماعت اسلامی نےمشرقی پاکستان میں فوج کی مدد کیوں کی؟ سوال نمبر15:- " جماعت اسلامی نےمشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی مدد کی- پاکستان کی فوجوں نےوہاں بہت مظالم کئے- اس بنا پرکیا جماعت کوان کےرویہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے؟

جواب:- ہمارےپیش نظریہ تھا کہ مشرقی پاکستان کےمسلمان ،جو دوبرس تک انگریزاورہندو کےہاتھوں کچلے جاتےرہےتھے- کہیں وہ پھرہندوستان کی غلامی میں نہ چلےجائیں- لہذا ان کوبچانےکےلیےہم نےجنگ کی- اورآپ کومعلوم ہونا چاہیےکہ یہ جنگ ہماری جماعت کےبنگالی کارکنوں ہی نےلڑی تھی- مغربی پاکستان سےجماعت کاکوئی آدمی نہ گیا تھا- مشرقی پاکستان میں عملا جوصورت پیش آئی وہ یہ تھی کہ بنگالی قوم پرست مسلمان اورہندومل کرایک قوم بن گئےتھے، اورانہوں نےہندوستان سےمدد لےکرپاکستان کےخلاف بغاوت کی تھی- اب آپ ہی بتائیں کیا ہم سےیہ توقع کی جاسکتی تھی کہ ہم آنکھوں دیکھتےاس بات کوگواراکر لیتےکہ ایک طرف اندرسےہندواورمسلمان بنگالی قوم پرست مل کربغاوت کریں اوردوسری طرف باہرسے ہندوستان کےہندوپہلےدرپردہ اورپھرعلانیہ ان باغیوں کی مددکوآ جائیں- اورہم ہاتھ پرہاتھ رکھ کربیٹھےیہ تماشا دیکھتےرہیں- یہ بغاوت مشرقی پاکستان کےعام مسلمانوں کی نہ تھی بلکہ صرف بنگالی قوم پرست مسلمانوں اورہندوؤں کی تھی، اورہندوستان کی مداخلت اس کوطاقت پہنچارہی تھی- اس کےکامیاب ہونےکا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھاکہ وہاں سات کروڑمسلمانوں کی آبادی غلامی کےجوئےمیں کس دی جائے- کیا آپ کی رائے میں ہمیں اس المناک نتیجےکورونماہونےسےروکنےکےلیےکچھ نہ کرنا چاہیےتھا؟ اب آپ خود جاکروہاں دیکھ لیں کہ اس نام نہاد بنگلہ دیش کی عام مسلمان آبادی کاکیاحال ہورہاہے- ان کےمذہبی مدارس تباہ کردیےگئے- بکثرت بنگالی مسلمان علماء قتل کردیےگئے- دینی تعلیم کےلیےقاعدےاورسیپارےتک نہیں مل رہےہیں- معاشی بد حالی کایہ عالم ہےکہ ایک مزدورکوآٹھ روپےروزانہ اجرت ملتی ہےمگربیس روپےسےکم میں ایک دن کاکھانا میسرآتا- حالانکہ ایک زمانہ میں جب پاکستان تھا تین روپےایک مزدورکوملتےتھےاوروہ پیٹ بھرکردو وقت کھانا کھاتاتھا-اب جاکراہل بنگال کواورخود بنگالی قوم پرست مسلمانوں کومعلوم ہوا ہےکہ ناجائز استحصال (EXPLOITATION) جس کارونا دہ پاکستان کےزمانےمیں روتےتھے، اصل میں کس چیز کا نام ہےاوراب انہیں کون لوٹ کھسوٹ رہاہے- ہندوستان کی فوجوں نےوہاں داخل ہوکرملک کوبےتحاشا لوٹاہے- ہندووہاں کے کارخانےاکھاڑاکھاڑکرلےگئے- لوگوں کےگھروں سےریفریجیٹراورایئرکنڈیشنرتک نکال لےگئے- موٹریں چھین چھین کرلےگئے- اوراب اتنےبڑےپیمانےپروہاں کاخام مال ہندوستان اسمگل ہورہاہےکہ اس نےمشرقی پاکستان کی معیشت کوکھوکھلاکردیاہے- جونام نہاد آزادی مشرقی پاکستان کےلوگوں کوملی ہے- اس کی حقیقت یہ ہےکہ ہندوستان جب چاہیےوہاں اپنی فوجیں داخل کرسکتاہے- ہندوستان کی مرضی کےخلاف یہ نام نہاد بنگلہ دیش کوئی فوج ،کوئی ایرفورس اورکوئی بحری بیڑہ نہیں رکھ سکتا- نہ کسی سےآزادانہ تجارتی معاملات طےکرسکتاہے- اپنےبنگالی مسلمان بھائیوں کواسی انجام سےبچانےکےلیےجماعت اسلامی کےکارکنوں نےاپنی جانیں لڑادیں اوراپنےچھ سات ہزارسےزیادہ آدمی شہید کرادیے- جولوگ مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج کےمظالم کی دوہائی دیتےہیں ان کومعلوم نہیں ہےکہ بنگالی قوم پرست مسلمانوں نےہندوؤں کےساتھ مل کرنہ صرف غیر بنگالی مسلمانوں پر بلکه خوددیندار بنگالی مسلمانوں پربھی کیسےکیسےخوفناک مظالم ڈھائےتھے- انہوں نےمردوں، عورتوں بچوں اوربوڑھوں کوبلاامتیازلاکھوں کی تعداد میں قتل کیا- عورتوں کےننگےجلوس نگالےاورباپوں، بھائیوں، شوہروں اوربیٹوں کےسامنےان کی بےحرمت کیا- حاملہ عورتوں کےپیٹ چاک کیے- بچوں کوقتل کرکےان کی ماؤں کومجبور کیا کہ ان کاخون پیئیں- میں یقین رکھتاہوں کہ جس سرزمین میں مسلمان کافروں کےساتھ مل کرمسلمانوں پر یہ ظلم ڈھائیں وہ سرزمین خدا کےعذاب سےکبھی نہیں بچ سکتی- آفرین ہےمغرب کےجھوٹےپریس پرکہ اس نے پاکستانی فوجوں کےجھوٹےسچےمظالم کاتو ڈھول خوب پیٹا، مگر بنگالی قوم پرستوں کےان مظالم کاکبھی ذکر تک نہ کیا _____________________________

اہل کتاب کی ذبیحہ سوال نمبر16:- " یہودی یا مسیحی اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا گوشت حلال ہےیا حرام؟"

جواب :- قرآن مجید میں آپ سورۂ مائدہ کاپہلا رکوع پڑھیئے، اس میں سب سےپہلےمسلمانوں سےیہ کہا گیا ہےکہ تمہارےلیےطیبات (پاک چیزیں) حلال کی گئی ہیں- اس کےبعد یہ کہا گیا ہےکہ تمہارےلیے اہل کتاب کا کھانا حلال ہے- اس کےمعنی یہ ہوئےکہ اہل کتاب کا طیب کھانا ہمارےلیےحلال کیا گیاہےنہ کہ ان کا خبیث (ناپاک) کھانا- اوراس پراللہ کانام لیا گیا ہو- انہی شرائط کےساتھ اہل کتاب کاکھانا ہمارےلیےحلال کیا گیا ہے- جہاں تک مجھےمعلوم ہےساتویں آٹھویں صدی تک عیسائی کم ازکم شرق اوسط میں اسی طریقہ سےذبح کرتےتھے، جیساکہ حافظ ابن کیثرنےاپنی تفسیرمیں بیان کیا ہے- اس لیےان کا ذبیحہ حلال تھا- مگراب چونکہ انہوں نےاس طریقہ کی پابندی چھوڑدی ہےاس لیے ان کا ذبیحہ حلال نہیں رہا- البتہ مذہب کےپابندیہودیوں کےمتعلق مجھےمعلوم ہواہےکہ ان کےہاں ذبح کرنےکا طریقہ تقریبا وہی ہےجوہمارےہاں رائج ہےاوروہ ذبح کرتےوقت اللہ کانام لیتےہیں – اب یہ آپ لوگ خود تحقیق کرلیں کہ وہ یہاں اس طریقہ پرعمل کرتےہیں یانہیں- میں نےپاکستان میں ان کےایک عالم سےپوچھا تھا تواس نےمجھےبتایا تھا کہ ہمارےہاں بھی یہی حکم ہےکہ ذبح کرتےوقت اللہ کا نام لیا جائےاورہمارےہاں ذبح کاطریقہ بھی وہی ہےجوآپ کےہاں ہے- اسی بنا پرمیں ان کےذبیحہ کوحلال سمجھتاہوں- مگرمیں آپ سےیہ کہےبغیر نہیں رہ سکتا کہ اگریہودیوں نے دنیا بھر کےملکوں میں منتشر ہوجانے کے جاوجود اپنے لیے کو شر (KOSHER) گوشت کا انتظام کیا اوراپنےاس حق کوتسلیم کرایا کہ وہ اپنےلیےجانوراپنےطریقہ پر ذبح کریں گے- توآخرآپ ہزاروں کی تعداد میں یہاں رہتےہوئےاپنےلیےحلال گوشت کا انتظام کیوں نہیں کرتےاورخواہ مخواہ کی تاویلوں سےجھٹکےکےگوشت کواپنےلیےحلال کرنےکی کوشش کیوں کرتےہیں؟ __________________________

اہل کتاب کی عورتوں سےنکاح کا مسئلہ سوال نمبر17:- "کیا آپ سمجھتےہیں کہ اس زمانےکےیہودی اورعیسائی اہل کتاب میں شمارہوسکتےہیں؟ کیا ایک مسلمان اس زمانےکی ایک یہودی یا عیسائی عورت سےشادی کرسکتاہے؟ اگرنہیں توآپ قرآن کی اس آیت کی کیا توجیہ کریں گےجواہل کتاب کی عورتوں سےشادی کرنےکوجائزقراردیتی ہے؟"

جواب :- اس زمانےکےیہودیوں اورعیسائیوں کےمذہب میں کوئی نئی بات ایسی نہیں پائی جاتی جو نزول قرآن کےزمانےمیں ان کےاندرموجودنہ رہی ہو- اس وجہ سےیہ اب بھی اہل کتاب ہی ہیں- رہاان سےشادی کرنےکاتعلق تواس کےبارےمیں آپ تین باتوں کوملحوظ رکھیں-

ایک یہ کہ قرآن میں اجازت دی گئی ہےحکم نہیں دیا گیا ہے-

دوسرے یہ کہ جن عورتوں سےشادی کرنےکی اجازت دی گئی ہےان کےلیےایک شرط تویہ لگائی گئی ہےکہ وہ محصنات ( یعنی باعصمت) ہوں- اوردوسری شرط یہ کہ ان سےخفیہ یا علانیہ ناجائزتعلقات پیدا نہ کیے جائیں- اورشادی کرکےان کی خاطراپنےایمان اوراپنی آخرت کوخطرمیں نہ ڈالا جائے-

تیسری بات یہ ہےکہ جوکام شرعا جائزہیں ان پرعمل کرنےسےپہلےآدمی کواپنےزمانےکےحالات اورماحول پرنگاہ ڈال کریہ ضروردیکھ لینا چاہیےکہ آیا اس زمانےاوراس ماحول میں یہ کام کرنےسےکوئی قباحت توپیدا نہیں ہوگی- اب آپ دیکھیئےکہ امریکہ تواہل کتاب ضرورہیں، لیکن(TECHNICALLY) کینیڈا اوریورپ میں جوعورتیں پائی جاتی ہیں،وہ اصطلاحا ان میں بہت کم تعداد ایسی عورتوں کی ہےجوصحیح معنوں میں اہل کتاب ہوں- یعنی خدا اوررسول اورکتابوں اورآخرت پرایمان رکھتی ہوں- پھرجوایسی ہیں بھی ان پرمحصنات ہونےکااطلاق مشکل ہی سےہوسکتاہے- اب رہا زمانےاورحالات کامعاملہ توان ممالک میں رہتےہوئےکسی یہودی اورعیسائی عورت سےشادی کرنےکے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنےآپ کونہیں تواپنی آئندہ نسل کوغیرمسلم معاشرےمیں بالکل جذب ہوجانےکےخطرے میں مبتلا کررہاہے- اوراگروہ بالفرض اس عورت کواپنےمسلم معاشرےمیں لےبھی جائےتواس طرح کی عورتوں میں بمشکل ایک فیصد عورت ایسی ملےگی جواپنےآپ کو، اپنےگھرکو، اوراپنےبچوں کواسلامی معاشرےکےآداب اورطرززندگی میں ڈھال لے- اس کےبرعکس خود شوہرصاحب اس کی خاطراپنےپورےگھر کوایک مغربی گھرکانمونہ بنالیتےہیں اوران کی میم صاحبہ صرف اپنےہی گھرکونہیں بلکہ شوہرکےخاندان اور رشتہ داروں کوبھی اسلامی طرززندگی اوراسلامی افکارسےہٹانےکی موجب بن جاتی ہیں- ایسی صورت میں جذبات سےمغلوب ہوکرمحض جوازکےحیلےسےعیسائی یا یہودی عورتوں سےشادی کرلینا دینی مصلحت کےبالکل خلاف ہے- __________________________

کیا اسلامی اصول حالات اورزمانےکےمطابق ڈھالےجاسکتےہیں سوال نمبر18:- کیا آپ کاخیال یہ ہےکہ بعض اسلامی اصول حالات اورزمانےکےمطابق ڈھالے جاسکتےہیں؟ آپ کا ان لوگوں کےمعاملےمیں کیا طرزعمل ہوگاجو ہیں تو مسلمان مگر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑاتےہیں؟"

جواب:- آپ نےدراصل دوسوالات کیےہیں- پہلےسوال کایہ جواب ہےکہ حالات اورزمانےپراسلامی اصولوں کومنطبق کرنےکاکام بچوں کاکھیل نہیں ہے، بلکہ اسلامی قانون میں گہری مجتہدانہ بصیرت رکھنےوالےہی ایسا کام کرسکتےہیں- اوراکثر صورتوں میں زمانےاورماحول کےحالات پران کومنطبق کرنےکی شکل وہ نہیں ہوسکتی جوعلم دین کےبغیر اس طرح کےانطباق کی باتیں کرنےوالےچاہتےہیں- اگرحالات اورزمانےمیں اسلام کےاصولوں کےخلاف بگاڑ پیدا ہوگیا ہوتواسلام میں بصیرت رکھنےوالا آدمی اسلامی اصولوں میں ڈھیل پیدا کرنےکےبجائےاورزیادہ سختی برتنےکی ضرورت محسوس کرےگا- مثلا ابھی اہل کتاب سےشادیاں کرنےکےمتعلق جوسوال مجھ سے کیا گیا تھااس میں میں آپ کوبتاچکاہوں کہ حالات وزمانےکی رعایت سےاس دورکی یہودی لڑکیوں سےشادی کرنےکی اجازت میں نرمی کرنےکےبجائےالٹی سختی کرنےکی ضرورت ہے-

آپ کےدوسرےسوال کاجواب قرآن مجید ہی میں دےدیاگیا ہے- سورہ نساء (آیت -40) میں فرمایا گیا ہے کہ :- "جب تم سنوکہ اللہ کی آیات سےکفرکیا جارہاہےاوران کا مذاق اڑایا جارہاہےتوایسےلوگوں کےپاس ہرگزنہ بیٹھوجب تک کہ وہ گفتگوکا موضوع بدل نہ دیں____________اگرتم نےایسا کیا تو تم بھی انہی جیسےہوگے"- ______________________________

کیا شادی سےپہلےلڑکی سےتخلیہ میں ملاقات کی جا سکتی ہے سوال نمبر19:- " کیاایک مسلمان اس لڑکی سےملاقات کرسکتاہےجس سےوہ شادی کرنا چاہتاہو؟ اگریہ جائزہے توکیا وہ تخلیہ میں اس سےمل سکتاہےاوراس کےسرپرستوں کی اجازت کےبغیربھی مل سکتاہے؟"

جواب:- اسلام میں کورٹ شپ کی کوئی جگہ نہیں ہے- جس بات کی اجازت حدیث میں دی گئی ہےوہ صرف اتنی ہےکہ لڑکی کےسرپرستوں کی موجودگی میں اس کی شکل دیکھ لی جائے- تخلیےکی ملاقاتیں، اور وہ بھی سرپرستوں کےعلم واجازت کےبغیر، اسلامی طریقہ نہیں ہے- بلکہ یہ رنگ ڈھنگ امریکہ اور کینیڈا اور یورپ کےلوگوں کوہی مبارک رہیں- آپ لوگ اگریہاں اپنی معاشی ضروریات کی خاطرآئے ہیں تو اپنے اوپرکم ازکم اتنا کرم کیجئےکہ اپنی اسلامی اقدارکو یہاں کے طورطریقوں کےمطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں- ________________________________

کیا سودی قرض لےکرمکان خریداجاسکتاہے سوال نمبر20:- " اس ملک میں مکان بہت مہنگےہیں اورکرائےپراگرآدمی لےتووہ بھی بہت زیادہ گراں ہوتاہے- اس حالت میں کیا مکان بینک کےپاس رہن رکھ کرسودی قرضہ کےذریعہ خریدا جا سکتا ہے؟"

جواب:- حرام وحلال کےاختیارات اگرمیرےہاتھ میں ہوتےتومیں آپ کےلیےکسی چیزکوحرام نہ رہنے دیتا- لیکن یہ اختیارات تو اللہ نےاپنےہاتھ میں رکھےہیں، اورمیں اس کےمقررکیےہوئےحلال وحرام کےاحکام میں کوئی ردو بدل کرنےکا محازنہیں ہوں-

رہی یہ بات کہ آپ یہاں کےحالات میں اپنےسودی ذرائع سےمکان خریدنےپرمجبورسمجھتے ہیں، تواپنی اس مجبوری کافیصلہ آپ اپنی ذمہ داری پرخود کریں- مجھےاس ذمہ داری میں شریک نہ کریں- آپ کودنیا میں کم ازکم مکان تومل جائےگا- لیکن آخرت میں آپ کےساتھ میری بھی شامت آئےگی- ___________________________

سرکاری با نڈ زکا حکم سوال نمبر21:- "کیا گورنمنٹ کےبانڈزپردیا جانےوالا منافع بھی سود میں شمارہوتاہے؟"-

جواب:- اس کےسود ہونےمیں کسی شک کی گنجائش نہیں- _________________________

ایسی کمپنی کی ملازمت جوحلال وحرام دونوں قسم کےکام __________ کرتی ہو _____________ سوال نمبر22:- " کیا کسی حالت میں ایک مسلمان کسی ایسی تجارتی کمپنی میں ملازمت کرسکتاہےجوحلال وحرام دونوں قسم کی چیزیں تیارکرتی ہویا ان کا بیوپارکرتی ہو؟

جواب:- ایک غیرمسلم معاشرےاورحکومت میں رہ کرمسلمان افراد کےلیےحلال وحرام کی تمیزکرنا اورحرام سےہرحالت میں بچنا بلاشبہ ایک سخت مشکل کام ہے، لیکن جہاں تک آپ کےامکان میں ہوآپ اپنےآپ کوحرام سےبچانےکی انتہائی کوشش کریں- بالفرض اگرایسی کمپنی میں نوکری کرنی ہی پڑجائے جوحلال وحرام دونوں قسم کےکاروبارکرتی ہوشریعت کی روسےآپ کےساتھ یہاں کےحالات میں زیادہ سےزیادہ جورعایت ہوسکتی ہےوہ یہ ہےکہ آپ اس کےکسی ایسےشعبےمیں ملازمت کریں جوحلال قسم کا کاروبارکرتاہو-

مولودشریف پڑھنا اورقیام کامسئلہ سوال نمبر23:- " آپ کی رائےمیں کیا مولودشریف پڑھنا جائزہےاورکیا اس میں تعظیما" کھڑاہونا بھی جائزہے؟"-

جواب:- مولود شریف جس چیزکانام ہےدراصل اس سےمرادذکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسیرت رسول اللہ علیہ الصلوۂ والسلام کابیان ہے- اس کےجائزہی نہیں کارثواب ہونےمیں بھی کسی کلام کی گنجائش نہیں ہے- البتہ اس میں غلط اورموضوع روایات بیان کرنادرست نہیں ، اورمولود کی محفلوں پراگراعتراض ہوسکتاہےتواسی پہلوسےہوسکتاہے-

رہا سلام کےلیےتعظیماکھڑاہونا تونہ یہ فرض وواجب ہےکہ ہرآدمی کواس پرمجبورکیا جائےاور نہ کھڑےہونےوالےکوملامت کی جائے- نہ یہ حرام ہےکہ جوایساکرتاہےاس کوملامت کی جائے- کوئی شخص اگرعقیدت کی بناپرکھڑاہوتوکوئی مضائقہ نہیں- لیکن اس کےلازم اورضروری نہ ہونےکاثبوت توہم ہرروزپنج وقتہ نمازمیں دیتےہیں- تشہد میں السلام علیک ایھاالنبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کھڑےہوکرآخرکون صاحب پڑھا کرتےہیں؟ سب اس کوبیٹھ کرہی پڑھتےہیں اوریہ تشہد خود رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کا سکھایا ہواہے- اس لیےجولوگ اس کےضروری ہونےپرزوردیتےہیں ان کوبھی اپنےمبالغےسےبازآجانا چاہیئےکیونکہ شریعت میں اس کےلزوم کاکوئی ثبوت نہیں-

کیا ہراسلامی اصول منطقی دلائل سےصحیح ثابت کیا جاسکتاہے سوال نمبر24:- "کیا ہراسلامی اصول کی خالص منطقی طریقےسےتوجہیہ کی جاسکتی ہے؟ اگرنہیں توکیا بعض اسلامی اصول محض اندھےایمان کی بناپرماننےکےلیےہیں؟ آپ منطقی طریقےسےآخرتقدیرکی کس طرح تشریح کریں گے؟

جواب :- اسلام کاکوئی اصول یا عقیدہ یا حکم غیرمعقول نہیں ہے- ہرایک کوعقلی اورخالص منطقی طریقے سےسمجھایاجاسکتاہے- ہمیں مسلمان ہونےکےلیےکہیں بھی اندھےایمان کی ضرورت پیش نہیں آتی- آپ نے تقدیرکامسئلہ اپنےنزدیک یہ سمجھتےہوئےچھیڑا ہےکہ اس مسئلہ میں منطق بالکل نہیں چل سکتی- لیکن براہ کرم میری کتاب " جبروقدر" اورمیری تفسیرتفہیم القرآن کی ہرجلد کےانڈکس میں لفظ " تقدیر" نکال کروہ تمام مقامات دیکھ لیجئےجہاں میں نےاس مسئلہ کی تشریح کی ہے- اس کےبعد آپ مجھےضروربتائیےگا کہ اللہ تعالےکی طرف سےبندےکی پیشگی تقدیرکاطےہونا زیادہ معقول ہےیا طےنہ ہونازیادہ معقول ہے؟ کیا آپ ایسےخدا پرایمان لاسکتےہیں جس کواپنی خدائی میں پیش آنےوالےکسی واقعہ کاایک لمحہ پہلےتک بھی علم نہ ہواورجب کوئی واقعہ پیش آ جائےتب اسےپتہ چلےکہ میری خدائی میں یہ کچھ ہوگیا؟ کیا واقعی ایسا خدا اس عظیم کائنات پرحکومت کر سکتا ہے؟ ___________________٭___________________

خطاب میں آپ کےسوالات کےجوابات دے چکا ہوں- اب میں اختصارکےساتھ خود بھی کچھ آپ سےعرض کرنا چاہتاہوں- اگرچہ آپ اس سرزمین میں مختلف مقاصد کےلیےآئےہیں- کوئی آپ میں سےعلم حاصل کرنے یا کوئی فن سکھنےکےلیےآیا ہے- کوئی اپنی معاش کی فکرمیں آیا ہے- اورکچھ ایسےلوگ ہیں جو ہییں رہ بس گئےہیں- لیکن ان سب چیزوں کےساتھ آپ کی ایک حیثیت اوربھی ہےاوروہ ہےآپ کےمسلمان ہونےکی حیثیت – اس دوسری حیثیت میں آپ لامحالہ جہاں بھی رہیں گےاورجہاں بھی جائیں گےآپ کواسلام کانمائندہ ہی سمجھا جائےگا- خواہ آپ کواس کا احساس ہویا نہ ہوایک غیرمسلم جب بھی آپ کودیکھےگا ، یہی سمجھےگا کہ مسلمان ایسا ہوتاہے، اب اگرآپ نےاپنےآپ کوایک برےانسان کی حیثیت سےپیش کیا- اپنےاخلاق، اپنےمعاملات، اوراپنےرہن سہن کابرانمونہ لوگوں کودکھایا، یا یہاں کےعوام وخاص کویہ تاثردیا کہ جیسےوہ ہیں ویسےہی آپ بھی ہیں- توآپ اسلام کی غلط نمائندگی کریں گےاوراس صورت میں آپ کودیکھ کرجوشخص بھی اسلام کےمتعلق بری رائےقائم کرےگا اس کی ذمہ داری آپ پرہوگی- اس کےبرعکس اگرآپ نےاپنےقول وعمل سے، اخلاق اورمعاملات سے، اپنےطرززندگی سےاسلام کی صحیح نمائندگی کی توبعیدنہیں کہ بہت سےلوگوں کےدل اسلام کےلیےکھل جائیں گےخواہ آپ باقاعدہ تبلیغ کا کام کریں یا نہ کریں- لہذا میں چاہتاہوں کہ ہرمسلمان جویہاں رہتاہےاپنی اس حیثیت اوراس ذمہ داری کومحسوس کرے- آپ کی زندگی اگرایک سچے اورپورےعمل مسلمان کی سی زندگی ہوتوآپ کا وجود ایک جیتاجاگتااورچلتا پھرتا مبلغ بن جائےگا-

دوسری بات میں آپ سےیہ کہنا چاہتاہوں کہ آپ میں سےجولوگ یہاں رہ پڑےہیں وہ اپنی آئندہ نسل کی فکرکریں- آپ یہاں ایک مسلمان ملک اورمسلمان معاشرےسےنکل کرآئےہیں- آپ نےمسلمان ماں باپ کےگھرمیں آنکھیں کھولی ہیں- آپ نےخواہ اسلام کی تعلیم حاصل نہ بھی کی ہوتوزندگی کاایک خاصا حصہ مسلم معاشرےمیں گزاراہےجس کےاندررہ کرہرشخص کچھ نہ کچھ اسلام کےمتعلق ضرورجان لیتاہے- اس کوسرسری ہی سہی- بہرحال اتناضرورعلم ہوتاہےکہ اسلامی عقائد کیا ہیں، اسلامی عبادات کیا ہیں، اسلام کی نگاہ میں کیا چیزبری ہےاورکیا چیزاچھی، اورمسلمان کاطرززندگی کیا ہے- لیکن آپ کی اولادجو یہاں پرورش پارہی ہےوہ بالکل نہیں جانتی کہ اسلام کیا ہےاوراسلامی زندگی کیا ہوتی ہے- اس کواسلام کی کوئی تعلیم نہیں ملتی- اورنہ مسلم معاشرےکےطورطریقوں سےوہ واقف ہوتاہے- یہاں آنکھیں کھول کےایک بچہ ہروقت ایک غیرمسلم معاشرےکوچلتاپھرتادیکھتاہے- یہاں کےمدارس میں جاتاہےتووہی تعلیم وتربیت اسےملتی ہےجویہاں کےبچوں اورنوجوانوں کودی جاتی ہے- اس حالت میں آپ چاہےکتنا ہی زورلگائیں اپنی اولاد کویہاں کے معاشرے، یہاں کےاخلاق وتہذیب اوریہاں کےغلط نظام زندگی میں جذب ہونےسےنہیں بچاسکتے- اس لیےیہ نہایت ضروری ہےکہ جہاں بھی مسلمان کافی تعداد میں آباد ہیں وہاں وہ اپنےبچوں کی اسلامی تعلیم وتربیت کا خود انتظام کریں- اگروہ اس کی ضرورت اوراہمیت کومحسوس کرلیں گےتویہ کچھ مشکل نہیں ہےکہ مل جل کرایک تنظیم قائم کریں- ایک تعلیمی فنڈقائم کریں جس میں ہرشخص باقاعدگی کےساتھ اپنی استطاعت کےمطابق چندہ دے، اوراس فنڈ سےمسلمان بچوں کےلیےمدارس کھولےجائیں جن میں تعلیم اسی معیارکی ہو جو اس ملک کانظام تعلیم چاہتاہے، اگراس کےساتھ دینی تعلیم وتربیت بھی دی جائےاورمسلمان بچوں کویہاں کےنظام تعلیم کی گندگیوں( مثلا جنسی تعلیم اورمخلوط تعلیم)سے، محفوظرکھا جائے- ان مدرسوں کےساتھ ایسےہوسٹل بھی قائم کئےجائیں جن میں ایسےمقامات کےلوگ اپنےبچےبھیج سکیں جہاں مسلمانوں کی تعداد اتنی کم ہےکہ وہ اپنےمدرسےقائم نہیں کرسکتے- میرےنزدیک کوئی وجہ نہیں ہےکہ آپ کےمدارس کو تسلیم نہ کیا جائے- اگرآپ یہ ثابت کردیں گےکہ کینیڈا یا امریکہ میں تعلیم کاجومعیارہےآپ کےمدارس اس معیارپرپورےاترتےہیں اورآپ کا اس معیارکوبرقراررکھتےہوئےاپنےبچوں کواپنےمذہب کی تعلیم دینا چاہتے ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ آپ کےاس حق کو تسلیم کرنےسےکوئی حکومت انکارکردےگی- اگریہاں دوسرے مدارس قائم کرنےکی اجازت دی جا(PAROCHIAL) مذہبی یا نسلی گروہوں کواپنےمخصوص دوسرے سکتی ہےتوآخرآپ کوکیوں نہیں دی جاسکتی ؟ شرط بس یہ ہےکہ آپ بھی اپناحق منوانےکےلیےاسی طرح کی کوشش کریں جس طرح دوسروں نےکی ہےاوراسےمنوا کرچھوڑاہے- میں صاف صاف عرض کرتاہوں کہ اگرآپ نےاس کام میں غفلت سےکام لیا توآپ کی پہلی نسل کوتوشاید یہ یاد بھی رہ جائےکہ ان کےباپ دادا مسلمان تھے، لیکن دوسری تیسری نسل تک پہنچتےپہنچتےوہ بالکل یہاں کی تہذیب اورمعاشرےمیں گم ہوجائیں گےاوران کےاندراسلام کی رمق تک باقی نہ رہےگی- خدا نہ کرےکہ اس حد تک نوبت پہنچے- اس لیےمیں بڑی دل سوزی کےساتھ آپ کواس کام کی ضرورت و اہمیت کااحساس دلاتا ہوں- مجھےامید ہےکہ کینیڈ اورامریکہ میں رہنےوالےمسلمان اس میں کسی تسایل اورتاخیرسے کام نہ لیں گے- واخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین _______________٭_________________

اسلام ! مغرب کےالزامات ، اعتراضات اورسوالات کا جواب دیتا ہے!

اسلام ! مغرب کےالزامات ، اعتراضات اورسوالات کا جواب دیتا ہے! جب آپ اسلام اوراس کےنظام حیات سےمتعلق سوال اٹھاتےہیں تویہ ایک ایسا موضوع ہوتاہے- جس کا جواب دینےمیں کوئی الجھن پیش نہیں آتی- آپ کی تہذیب کوجتنی ہمدردی مجرم سےہے، اتنی مظلوم سےنہیں- آپ جسےماڈرن کہہ رہےہیں- ہمارےنزدیک پسماندہ اورفرسودہ ہے-

نمائندہ بی بی سی برائےساؤتھ ایسٹ ایشیا مسٹرولیم کرے 25نومبر1975ءکوگیارہ بجےقبل دوپہربانی جماعت اسلامی مودودی صاحب سےملاقات کیلئے5- اےذیلڈارپارک پہنچے یہ ملاقات پچاس منٹ تک جاری رہی- نمائندہ بی بی سی نےمختلف موضوعات پرمولانائےمحترم سےمتعددسوالات کیے- سوالات کےجوابات زیادہ تراردومیں دیئےگئے- کیونکہ مسٹرولیم کراےاردوبخوبی سمجھ سکتےہیں، البتہ بعض مواقع پرمولانائےمحترم نےانگریزی میں بھی اظہارخیال کیا-

ولیم کراے:- Are you satisfied with the Islamic provisions. Ineorporated in the constitution of Pakistan 1973? مولانائےمحترم:- Yes. We are satisfied with those provisions. As a matter of fact we have tried to introduce these provisions in this constitution- (جی ہاں، ہم ان دفعات پرمطمئن ہیں اوردرحقیقت دستورمیں ان دفعات کوشامل کرانےکےلیےہم نےمسلسل جدوجہد کی ہے)

ولیم کراے:- Like Islamic council etc? (مثلا اسلامی کونسل وغیرہ؟)

مولانائےمحترم:- Yes. Everything about Islam, which has been included in the constitution is due to our persistence. (اسلام سےمتعلق ہروہ چیزجودستورمیں شامل ہےدراصل ہماری کوششوں کےنتیجے میں شامل کی گئی ہے) جہاں تک ان دفعات کےشامل آئین ہونےکا تعلق ہےاس پرتوہم مطمئن ہیں لیکن اس بات پرمطمئن نہیں ہیں کہ ان پرعمل درآمد کس طریقےسےہورہاہےحقیقت یہ ہےکہ ان دفعات کوسرد خانےمیں ڈال دیا گیا ہےاورنہ صرف یہ کہ ان پرعمل نہیں کیا جارہا ہےبلکہ جتنےکام بھی کئےجارہےہیں وہ ان کےبرعکس کئےجارہےہیں-

ولیم کراے:- " پاکستان کا موجودہ قانونی ڈھانچا انیگلوسیکن قانون کی بنیادپرقائم ہےکیا آپ اسلام کےشرعی قوانین کونافذ کرنےکیلئےپاکستان کےموجودہ قانونی نظام میں بنیادی تغیرات لائیں گے-؟"

مولانائےمحترم:- ہم صرف اتنا ہی نہیں چاہتےکہ محض قانونی نظام (Legal system) کوتبدیل کیا جائے- بلکہ ہمارےپیش نظرپورےمعاشرےکواسلامی بنیادوں پراستوارکرنا اورپورےنظام حکومت کوتبدیل کرنا ہے-اس مقصد کےلیےصرف لیگل سسٹم کوتبدیل کرناکافی نہیں ہوسکتا- قانونی نظام کےساتھ ایک بڑاتعلق ملک کےتعلیمی نظام کا ہے- اگرنظام تعلیم افرادقوم کومسلمان بنانےوالا نہ ہوتومحض قانونی نظام کےنفاذ سے اسلامی معاشرےکی تشکیل کامقصدپورانہیں ہوسکتا- ایسا ہی معاملہ ملک کےمعاشی نظام کا ہے- اگراسے صحیح اسلامی خطوط پراستوارنہ جائےتو اس صورت میں بھی محض قانونی نظام کی اصلاح مفید اورموثر اسلام کے مطابق(Social life) ثابت نہیں ہوسکتی- اس بناپرہم یہ چاہتےہیں کہ ہماری پوری معاشرتی زندگی ہو- ہماری حکومت کی تمام پالیسیاں اسلام کےمطابق ہوں اورحکومت کےسارےمعاملات صحیح اسلامی خطوط پرانجام پائیں- اس مقصد کے مطابق ہوں اورحکومت کےسارےمعاملات صحیح اسلامی خطوط پرانجام پائیں- اس مقصد کےم نہایت ضروری ہے کہ سروسنر کی ٹرینگ کے تمام اداروں کا تعلیمی اور تربیتی مانچا تبدیل کیا جائے ، سول سروس کے تمام شعبوں اور فورج کی تربیت کے اداروں میں بھی اسلام کی اخلاقی تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے اور زیر تربیت انسروں کے دلوں السلام کا صحیح شعور (Creed) بٹھایا جائے۔ ان کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے لیکن یہ کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بر عکس صورت حال یہ ہے انگریزی حکومت کے زمانے میں سروسز کو جس طرز پرٹر نینگ دی جاتی تھی ۔ اسی پر اب بھی دی جارہی ہے ۔ اسلامی تربیت کی کوئی فکر اب تک نہیں کی گئی ۔ اس یہ ہمارے نقطہ نظر سے محض لیگل سسٹم میں تبدیلی کافی نہیں۔ (We want to see overall change)

اسلام اور جدید ریاست ولیم کراے:- آپ نے مرشعبہ زندگی سے متعلق اداروں میں اسلامی تعلیم و تربیت کو لازمی— دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جدید ریاست کی معیشت کو خالص اسلامی اصولوں مطابق کیونکر چلا یا جا سکتا ہے ؟

مولانائے محترم;- ہم نے تمیں سال یہ بات ثابت کرنے میں صرف کئے ہیں کہ ایک جدید ریاست ادہ طور پر اسلام کے خط کر وہ اصولوں پر چلایا جا سکتا ہے ، اور صرف چلایا ہی نہیں جا سکتا بلکہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے والی جدید ریاست دوسری تمام جدیدریاستوں سےزیادہ کامیاب اوربہترہے___________چنانچہ ہماری کوشش صرف یہی ہےکہ ہم پاکستان میں اسلام کونافذ کرکےیہ بتائیں کہ اسلام کی بنیادوں پرایک جدید ریاست چل سکتی ہے بلکہ ہم یہ بھی چاہتےہیں کہ اس جدید ریاست کودیکھ کردنیا کی دوسری جدید ریاستیں اس بات کی قائل ہوجائیں کہ یہ ریاست ہم سےکہیں بہتراورفائق ہے- The principles of an Islamic state are superior to all other political systems ( اسلامی ریاست کےاصول باقی تمام سیاسی نظاموں پرفوقیت رکھتےہیں)

ولیم کراے:- اتفاق سےترکی کےصدران دنوں پاکستان کا دورہ کررہےہیں اورپاکستان اورترکی کےدرمیان گہرےدوستانہ تہذیبی اورسیاسی روابط بھی ہیں- چنانچہ میں ترکی کےحوالےسےایک سوال پوچھنا چاہتاہوں- ترکی ایک مسلمان ملک ہےلیکن بیسویں صدی کےتیسرےعشرےسےاس نےسیاسی اورمعاشی ترقی کا ایک نیا راستہ اختیار کیا- ایک زمانےمیں ہندوستان اورترکی کےدرمیان خلافت کےمسلےپرخاصی جذباتی فضاپائی جاتی تھی- لیکن بالآخرترکی نےخود ہی خلافت کاادارہ ختم کردیااس کےبعد وہاں سیکولرنظام قائم کیا گیا- بلکہ یوں کہنا چاہیےکہ ملکی سیاست اورمعیشت کوجدید دورکےتقاضوں سےہم آہنگ کردیا گیا-سوال یہ ہےکہ پاکستان کیوں ترکی کےتجربےسےفائدہ نہیں اٹھاتااوراس کی تنقید کیوں نہیں کرتا- اس کےبرعکس آپ ماضی کےقدیم اسلامی نظام کی طرف کیوں واپس جانا چاہتےہیں؟

مولانا کے محترم;- آپ نے سوال بہت بڑا کیا ہے ۔ اس لیے میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس کیا جواب دوں گا ۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی جتنی حکومتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی پور سے طور پر اسلامی سسٹم پر نہیں چل رہی ہے۔ پھر ان میں سے بھی دو طرح کی حکومتیں ہیں۔ ایک حکومتیں تو وہ ہیں جو کہا، کھلا خود کو سیکولر کہتی ہیں اور دوسری وہ ہیں جو اسلام کو ریاست کا مذہب تو قرار دیتی ہیں لیکن نہ تو وہ اسلام کے اصولوں پہ قائم کی گئی ہیں اور نہ انہیں اسلام کے اصولوں کے مطابق چلایا جارہا ہے ________ جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو اصل صورت واقعہ یہ ہے کہ وہاں جو خلافت چلی آرہی تھی وہ الخطاط کا شکار (Degenerated) ہو کر اپنی حقیقی شخصوصیات سے عاری ہو چکی تھی۔ پھر اس کو ختم کر کے ترکی میں جوسیکولر ریاست قائم کی گئی وہ بھی خانہ نا اہم تھی ! یعنی نہ تو وہ خلافت پوری طرح اسلامی تھی اور نہ بعد میں قائم ہونے والی سیکولر ریاست کا اسلام سے کوئی تعلق تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ترکی میں کوئی لیڈر یا اجتماعی قوت ایسی موجود نہ تھی جو وہاں پر اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت قائم کرتی ۔ آپ کے بقول ترکی میں جونیا دور شروع کیا گیا ۔ اس کی بنیاد اسلام پر ہرگز نہ تھی اور اس سے پہلے جو نظام وہاں نامہ تھا وہ بھی اسلامی نہ تھا اور دراصل پرانا ٹکٹ نظام تھا۔ خلافت کا ادارہ ہیں ائے نام موجود تھا محض ایک بادشاہ کے لیے خلیفہ کا خطاب اختیار کر لیا گیا تھا۔ مانیا نکو خلافت، بادشاہت Monarchy سے بالکل ایک مختلف چیز ہے۔

ولیم کراے:- ?You are saying that khilafat had become a secular or a non- religious institution (آپ کا مطلب یہ ہےکہ ترکی میں خلافت کانظام لادینی یا غیرمذہبی نظام میں تبدیل ہوچکاتھا؟)

مولانائےمحترم:- Rather a pseudo- religious institution we were not satisfjed with it, and we are not satisfied also with the socalled reforam of Mustafa Kamal Ataturk, (خلافت ایک نیم مذہبی نظام بن چکی تھی- چنانچہ ہم اس مطمئن نہ تھے، لیکن ہم ان نام نہاد اصلاحات سےبھی مطمئن نہ تھےجو مصطفےکمال اتاترک نےخلافت کوختم کرکےترکی میں رائج کیں)

لیکن اب ہم یہ دیکھ رہےہیں کہ خود ترکی میں بھی بکثرت ہمارےہم خیال لوگ پیدا ہورہےہیں جو یہ چاہتےہیں کہ وہاں بھی اسلامی نظام قائم کیا جائے---------- اس طرح دنیا کےتمام مسلمان ممالک میں بھی ایسا ایک عنصر (Element) موجود ہےجواسلام کےحقیقی اصولوں پرعمل درآمد کرناچاہتاہے

آپ نےجوکہا ہےکہ ہم ایک پرانے طریقے کی طرف واپس کیوں جانا چاہتے ہیں تو دراصل یہ کا سب سےقدیم بھی ہےلفظ غلط ہے- بات دراصل یہ ہےکہ انسان کےلیےخدا کی طرف سےجو (Go back) ہدایت آئی ہے جدید بھی – خدائی ہدایت کسی وقت اورمقام کی پابندنہیں ہے- یہ ایک ازلی اورابدی چیزہے- اس وجہ سےاس اس معاملےمیں (go back) کا لفظ استعمال کرنا بےمعنی بے- Truth is always cruth. It cannot be old or new- At any time and at every place it is truth. (صداقت ہرحال میں صداقت ہے- اس کےقدیم یا جدید ہونےکا سوال پیدا نہیں ہوتا- صداقت ہرعہد میں اور ہرمقام پرصداقت ہے-)

اسلام کا قانون تعزیرات ولیم کراے:- لیکن اسلامی قانون کےبعض پہلوؤں مثلا قانون تعزیرات کےبارےمیں جدید ذہن کےاندربعض اعتراضات اورشبہات پائےجاتےہیں- موجودہ دورکی جدید مسلم ریاستیں بھی ان ان قوانین کوترک کرچکی ہیں- شاید آپ اتفاق کریں کہ یہ تعزیری قوانین دراصل قرون وسطی کی سوسائٹی کےلیےوضع کئےگئےتھے، اوریہ قوانین اب بیسویں صدی کےمعاشرےکےلیےزیادہ موزوں نہیں ہوسکتے- اب جرم اورسزا کےبارےمیں تصورات بھی تبدیل ہوچکےہیں- اس لیےیہ معاملہ مذہبی نقطئہ نظرسےزیادہ معاشرتی ہےکیا آپ اس بدلےہوئے زمانےمیں اس دورکےتبدیل شدہ رویوں کےبرعکس ان قوانین کوان کی اسی پرانی شکل میں نافذ کرنا چاہیں گے؟ _______________________

مولانائےمحترم:- آپ جس بیسویں صدی کاذکرکررہےہیں، آپ کاکیا خیال ہےکہ اس بیسویں صدی میں امریکہ اوریورپ کےاندراورخود مسلمان ممالک کےاندرجن میں اسلامی قوانین پرعمل کرنا چھوڑدیا گیا ہے، کیا ارتکاب جرائم کی رفتار ( Crime Rate) بڑھ رہی ہےیا کم ہورہی ہے؟ _______کیا خیال ہےآپ کا؟

ولیم کراے:- In many countries it is increasing (بہت سےممالک میں یہ رفتاربڑھ رہی ہے)

مولانائےمحترم:- ہمارےہاں صرف پنجاب کےبارےمیں جوپولیس رپورٹ حال میں شائع ہوئی ہے- اس میں یہ بتایاگیا ہےکہ صرف ایک مہینےمیں دوسوقتل ہوئےہیں- اوریہ رفتارجرم پہلےکہیں زیادہ ہے- امریکہ اوردوسرےترقی یافتہ ممالک میں رفتارجرائم کےبارےمیں آپ جانتےہیں کہ اس وقت کیا ہےاوروہ کتنی تیزی سےبڑھ رہی ہے______اب سوال یہ ہےکہ کسی معاشرےمیں جرائم کاموجود رہنا کچھ اچھا ہے؟

ولیم کراے:- " اچھا نہیں ہے"! (یہ جواب اردومیں دیا گیا)

مولانائےمحترم:- اس کا صاف مطلب یہ ہےکہ موجودہ تعزیری قوانین (criminal laws) جرائم کےحاتمے میں مکمل ناکام ہوچکےہیں- یہی نہیں بلکہ ان میں اضافےکےموجب بن رہےہیں- اس کےبرعکس ایک مسلمان ملک میں جہاں اسلام کاقانون صرف ایک حد تک ہی نافذ ہے، یعنی چوری پراسلامی تعزیرات نافذ کی گئی ہیں وہاں اس نےچوری کاخاتمہ کردیاہے، وہاں کیفیت یہ ہےکہ اگرآپ اپناسامان سڑک پرچھوڑکرچلےجائیں اورتین دن بعد واپس آئیں تووہ آپ کووہیں پڑاملےگا- کوئی اس کوہاتھ نہیں لگائےگا------- اگرآپ اپنا گھرکھلا چھوڑکر چلےجائیں- اورکئی ہفتےبعد واپس آئیں توآپ کوسارےگھرکاسامان جوں کا توں ملےگا- کوئی شخص گھرمیں داخل نہیں ہوگا----- یہ صرف اس چیزکانتیجہ ہےکہ سعودی عرب میں ان سزاؤں کےنفاذ پرشروع میں جوچند ہاتھ کاٹےگئےان کی وجہ سےچوری کا وہاں خاتمہ ہوگیا------ توکیا چندمجرموں کےہاتھ کاٹ کرچوری کوختم کردینا بہترہےیا یہ بہترہےکہ مجرموں کوجیل بھیج بھیج کران کران کوعادی مجرم بنایاجائے- وہ جیل سےنکلیں توپھرچوری کریں اورپھرجیل جائیں- حقیقت یہ ہےکہ آپ کےموجودہ تعزیری قوانین جرائم کی پرورش کررہے ہیں،لیکن ہم اسلامی قوانین کےنفاذ کےساتھ جرائم کوختم کرسکتےہیں- اب کیا یہ بہترہےکہ ہم جرائم کوختم کردیں یا یہ بہترہےکہ جرائم ہوتےرہیں اوران کےموثر انسداد کی کوئی تدبیرنہ کی جائے؟

ولیم کراے:- جدید معاشرےکےحالات واطواربہت بدل چکےہیں- جرم اورسزاکاتصوربدل چکاہے- ماضی کی اسلامی ریاست میں اورموجودہ دورکی جدید ریاست میں بڑافرق رونما ہوچکاہے- سعودی عرب کےمعاشرتی حالات اورشکاگواورنیویارک جیسےبڑےبڑےشہروں کی معاشرتی کیفیت اورساخت بالکل مختلف ہے- اس لیےایک محدود شہری نظام کےلیےاگراسلامی سزائیں مفید بھی تھیں توموجودہ بڑےبڑےشہروں کےلیےیہ کس طرح کارآمد ہوسکتی ہیں جبکہ ان میں جرائم کارونما ہونا ایک حد تک فطری بات ہےاوران میں سزاؤں کا عملی نفاذ کوئی آسان کام بھی نہیں-

مولانائےمحترم:- آپ کاخیال یہ ہےکہ شکاگواورنیورک جیسےبڑےبڑےشہروں کی معاشرتی زندگی (Social life) ہی ایسی ہےکہ ان کےاندرجرائم کاہونا ایک فطری چیزہے- اس لیےاس حالت کےخاتمےکےلیےہاتھ کاٹنے جیسی سزاؤں کانفاذ ایک غیرترقی پسندانہ بات ہےاورآپ کےخیال میں یہ عملا ممکن بھی نہیں- لیکن میراخیال یہ ہےکہ ایسا ہوسکتاہےاوراگرصرف چوری پرہاتھ کاٹنےکاقانون جاری کردیاجائےتونیویارک اورشکاگوجیسے شہروں بلکہ پورےامریکہ میں چوری کاارتکاب کم ہوسکتاہے- اس کا مکمل خاتمہ توصرف اسی صورت میں ممکن ہےجبکہ پورا سیاسی اورمعاشرتی نظام اسلامی خطوط پرقائم کیا جائےلیکن اسلامی سزاؤں کےنتیجے میں بھی اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے-

____________ ہمیں اس بات کاپورا یقین ہےکہ اسلام کی تجویزکردہ سزائیں معاشرےسےجرائم کامکمل انسداد کرسکتی ہیں اورہم یہ چاہتےکہ پاکستان کےاندراسلام کا مکمل ضابطہ حیات جاری ہواوراسلامی تعزیرات نافذ ہوں پھرہم دنیا کو بتائیں گےکہ ہمارےہاں جرائم کس طرح ختم ہوگئےہیں- اگرہمیں اس بات کاموقع ملا کہ ہم پاکستان میں صحیح اسلامی نظام کرسکیں توہم عملا دنیا پریہ بات ثابت کردیں گے-کہ اسلام کی بنیادوں پرایک جدید ریاست چل سکتی ہے اورزیادہ بہترطریقےسےچل سکتی ہے- اوراسلام کی بنیاد پرایک ایسا معاشرہ وجود میں آتاہےجوجرائم سےپاک اورامن وامان کاگہوارہ ہوتاہے-

ولیم کراے:- لیکن میراخیال یہ ہےکہ روایتی اسلامی قانون کایہ پہلوایسا ہےبیسویں صدی کاانسان اس کوقبول کرنےمیں دقت محسوس کرتاہے- یہ اس وجہ سےنہیں کہ ان سزاؤں کاتعلق اسلامی قانون سےہےاوراس کو قبول کرنےمیں مذہبی تعصب مانع ہوتاہےبلکہ اس کی وجہ یہ ہےکہ جدید ذہن کےلیےکسی جرم پرایک شخص کاہاتھ کاٹ کراسےعضوسےمحروم کردینا ایک وحشیانہ فعل معلوم ہوتاہےاورشاید یہ اس جرم سےبھی سنگین نوعیت کی چیزہے- اسی بناپربعض لوگوں کا خیال یہ ہےکہ ریاست کی طرف سےکسی شخص کی جان لینے کا اقدام بہرحال ایک غیرمعمولی نوعیت رکھتاہےاس میں سمجھتاہوں کہ قرون وسطی کےایک نظام کوخواہ وہ اپنی جگہ پرمفید ہی تھا ، جدید دورمیں رائج کرنا کچھ عجیب سی بات معلوم ہوتاہے-

مولانائےمحترم:- میراخیال ہےکہ آپ کی موجودہ تہذیب کوجسےآپ جدید تہذیب کہتےہیں جتنی ہمدردی مجرم کےساتھ ہےاتنی ہمدردی ان لوگوں کےساتھ نہیں جن پرجرم کاارتکاب کیا جاتاہےمثلا ایک شخص کابچہ کوئی اغواکرکےلےجاتاہےاورپھراس کواطلاع کرتاہےکہ اتنےملین ڈالڑمجھےدےدوتوبچہ تمہیں مل جائےگاورنہ اسےقتل کردیا جائےگا اوربعض اوقات وہ ایسا کربھی گزرتاہےتوآپ کاکیا خیال ہےکہ اس طرح کے آدمی کو پکڑکراگرکوئی سزادی جائےمثلا اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائےیا اس کی گردن اڑادی جائےتوکیا یہ ایک وحشیانہ فعل ہوگا؟ یعنی آپ کےنزدیک والدین کوان کےبچوں سےمحروم کردینا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں- البتہ اس حرکت کےمرتکب کواس جرم کی سزا دینا وحشیانہ اورظالمانہ فعل ہےجس کی کم ازکم ریاست کوذمہ داری نہیں یعنی چاہیئے- آپ کی ساری ہمدردی اس شخص کےساتھ جس نےایک مجرمانہ اورغیرانسانی فعل کےذریعےسےاپنےآپ کومستوجب سزاٹہھرایاہےاوراس شخص کےبارےمیں آپ بےحس ہیں جسےظلم اورسنگدلی کا نشانہ بنایا گیا ہے______________ہم یہ کہتےہیں کہ جوشخص معاشرےکےاندرجرم کاارتکاب کرکےمعاشرےکےامن وسکون کوغارت کرتاہےوہ اس کا مستحق ہےکہ اس کواتنی سزادی جائےکہ دوسروں کواس سےعبرت ہواوروہ اس قسم کےجرم کےارتکاب کی جرات نہ کرسکیں یعنی ہمارےنزدیک سزاصرف سزاہی نہیں ہےبلکہ وہ ارتکاب جرم کوروکنےکا ذریعہ بھی ہے، وہ جرم کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے- چنانچہ ہماری ہمدردی مجرم کےساتھ نہیں ہےبلکہ اس شخص کےساتھ ہےجس پرارتکاب جرم کیا جاتاہےاوراس معاشرےکےساتھ ہے، جس کےاندرارتکاب جرم سےناہمواری اورعدم تحفظ کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے- You think it is more social and more cultured to be a criminal. It is human to kill a man and it is inhuman to kill a murderer.

ابھی پچھلےدنوں امریکہ میں مس ہرسٹ کاجوواقعہ پیش آیا ہےوہ آپ کےعلم میں ہوگا- جولوگ اس کواغواکرکےلےگئےاورانہوں نےاس کواس حد تک جرائم آشناکردیاکہ اس نےبنک پر ڈاکہ ڈالا اوردوسرے جرائم کا ارتکاب کرتی پھری- آپ کے نزدیک وہ لوگ تو بہت مہذیب اور (Cultured) ہیں، لیکن اگران لوگوں کوکوئی سخت سزادی جائےتویہ فعل غیرمہذبانہ ہوگا

ولیم کراے:- اس کےباوجودمیں سمجھتاہوں کہ اسلام جیسےقدیم مذہب اوراس کی مخصوص فلاسفی کےاس پہلوکو سمجھنا اوراس بات کاقائل ہونا بہت مشکل سی بات ہےکہ معاشرےکواتنا غیرمہذب ،ان گھڑاورغیرترقی یا فتہ تسلیم کرلیاجائےکہ اس میں اس قسم کی انتہائی سزاؤں کورائج کیا جائےجوآپ بیان فرمارہےہیں-

مولانائےمحترم:- بات دراصل یہ ہےکہ آپ کےمعاشرےمیں جس قسم کےجرائم ہورہےہیں-آپ نےان کےساتھ صلح کرلی ہےاورآپ ان کےساتھ ہی جیناچاہتےہیں- گویا آپ چاہتےیہ ہیں کہ آپ کی سوسائٹی میں لوگوں کوقتل بھی کیا جاتارہے- اغواکی وارداتیں بھی ہوتی رہیں، ڈاکےبھی پڑتےرہیں، لوگوں کاگھروں کےاندراطمینان سےسانس لینا بھی مشکل ہوجائےلیکن ان میں سےکسی چیزکوختم کرنےکےلیےکوئی سخت اقدام نہ کیا جائے کیونکہ یہ آپ کےخیال میں تہذیب کےخلاف ہےاوراس سےموجودہ دورکےمہذب انسان کی توہین ہوتی ہے___________نیویارک میں اس وقت حالت یہ ہےکہ اگررات کےوقت آکرکسی کا کوئی عزیزیا دوست گھنٹی بجائےتووہ کبھی اس خوف سےدروازہ نہیں کھولےگا آنےوالا ضرورکوئی ڈاکو ہو گا __________ اس قسم کےخوف و دہشت کے درمیان آپ لوگ زندگی بسرکر رہےہیں- لیکن اس صورت حال سےآپ نےسمجھوتہ (Compromise) کرلیا ہےاوراس کوبدلنےکےلیےتیارنہیں – آپ کا خیال یہ ہے کہ اس کوتورہنا ہی ہےاوراس چیزکےہوتےہوئےآپ ماڈرن اورمہذب بھی ہیں لیکن اگراس جرم وخوف کی زندگی کو بدلنےکےلیےکوئی سخت قدم اٹھایاجائےتووہ آپ کےنزدیک قرون وسطی کی طرف پلٹنا ہے______ لیکن ہم چاہتےہیں کہ اگرہمیں موقع ملےتوہم اسلامی قوانین کورائج کرکےدنیا کودکھادیں کہ اس طرح ایک پرامن معاشرہ (Peaceful Society) وجودمیں آتاہے-وہ معاشرہ مہذب اور ( Modern) بھی ہوگااورامن وسلامتیکاگہوارہ بھی! اس کےقیام کےبعد آپ کےیہ سارےنام نہاد جدید تصورات ونظریات محض ایک داستان پارینہ بن جائیں گے__________چنانچہ اگرہم اسلامی نظام زندگی کےقائل اوراسےدنیا میں قائم کرنےکے آرزومندہیں تواس وجہ سےنہیں کہ وہ ہماراقدیم مذہبی یا قومی نظام ہےاوراس بناپراس کےساتھ ہمیں محبت ہے بلکہ اس کوہم اس وجہ سےمانتےہیں کہ وہ سراسرایک معقول اورعادلانہ نظام ہےاوریہ ایک بالکل انصاف اورمعقول بات ہےکہ سوسائٹی کوجرائم سےپاک کیا جائے- ہمارےنزدیک وہ معاشرےنہایت براہےجس کےاندر جرائم پرورش پاتےہوں اورلوگوں کی ہمدردی کااصل مرکزمجرم ہوں نہ کہ وہ جن پرجرم کا ارتکاب کیا گیاہو

اسلام اورجمہوریت ولیم کراے:- جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اوروہاں اسلامی قوانین نافذ نہیں بلکہ سیکولرنظام پایاجاتاہے- ان ممالک میں مسلمانوں کاطرزعمل کیا ہوگا جبکہ وہ کسی غیراسلامی قانون پریقین نہیں رکھتےکیا وہ اس قسم کی گورنمنٹ کےخلاف کوئی اقدام کریں گے؟

مولانائےمحترم:- نہیں ، اگرہم کسی غیرمسلم ریاست (Non Muslim State) میں ہوں گےتوہم اس ریاست میں یہ کوشش کریں گےکہ پرامن جمہوری ذرائع سےلوگوں کےخیالات کوتبدیل کریں اوردلائل کےساتھ ان کواسلامی نظام زندگی کی معقولیت اوریرتری کاقائل کریں اس طریقےسےجب ہم اکثریت کےخیالات واذہان کوتبدیل کرلیں گےاورلوگوں کواسلامی نظام زندگی کاقائل کرلیں گےتواس اکثریت کی بناپروہاں کانظام تبدیل کریں گےاور ظاہرہےکہ یہ چیزجمہوری نقطئہ نظرسےبالکل درست ہوگی- ہم اس ریاست کےاندرغیرجمہوری ذرائع سے کوئی انقلاب نہیں لائیں گے-

ولیم کراے:- کیا آپ کےخیال میں جمہوریت کی اسلامک سوشل فلاسفی کےاندرگنجائش پائی جاتی ہے؟

مولانائےمحترم:- Yes, but not in the western meaning. In western political philosophy sovereignty rests with people, but in Islam it rests with God. جی ہاں- لیکن اہل مغرب کےنظریہ کےمطابق نہیں- مغربی فلسفہ، سیاست میں تواقتداراعلی کےالگ عوام الناس ہوتےہیں لیکن اسلام میں اقتداراعلی اللہ تعالی کوحاصل ہے- لیکن اس بنیادی فرق کےباوجودہمارا نظام حکومت ایسا ہوگا کہ اس میں ریاست کےسربراہ کاانتخاب لوگوں کی کثرت رائےکے ذریعےسےہوگا – لوگوں کےنمائندےان کی رائےسےمنتخب ہوں گےاورپارلمینٹ ان منتخب نمائندوں پرمشتمل ہوگی اورکوئی حکومت عوام الناس کااعتماد کھودینےکےبعد قائم نہیں رہ سکےگی- اس حد تک جمہوریت ہمارےہاں موجود ہےگویا اللہ تعالےکےاقتداراعلی کوتسلیم کرتےہوئےحکومت کی مشینری جمہوری طریقےپر اللہ تعالی کےاحکام وقوانین کونافذ کرےگی- عوام الناس خود مقتدراعلی نہیں ہوں گے

ولیم کراے:- کیا اس وقت ان معنوں میں کوئی صحیح اسلامی جمہوری ریاست پائی جاتی ہے؟ یاماضی قریب میں ایسی کوئی ریاست موجودتھی؟

مولانائےمحترم:- اگرفرض کیجئےکہ کسی مسلمان ملک میں اس قسم کااسلامی جمہوری نظام موجود نہیں ہےتواس کایہ مطلب نہیں ہےکہ اسلام کادیا ہواجمہوری تصورریاست اورقانون حکمرانی ناقض ہےبلکہ یہ صورت حال ان لوگوں کی غلطی کا نتیجہ ہےجو مسلمان بھی کہلاتےہیں لیکن اسلام کےجمہوری نظام رائج نہیں کرتے چنانچہ ہماری کوشش یہ ہےکہ مسلمان جہاں کہیں بھی وہ ہیں،محض نام کےمسلمان (Professing Muslims) نہ رہیں بلکہ عملی مسلمان (Practicing Muslims) بنیں-

ولیم کراے:- آپ جس قسم کی اسلامی ریاست کاتصورپیش فرمارہےہیں اس کےنمایاں خدوخال اوربنیادی خصوصیات کیا ہوں گی اورآپ موجودہ دورمیں حکومت کانظام کن خطوط پراستوارکریں گے؟

مولانائےمحترم:- اگرآپ جماعت اسلامی کےمنشور (Manifesto) کا مطالعہ کریں توآپ کوپوری طرح معلوم ہوجائےگا کہ ہم اسلامی اصول حکمرانی پرمبنی ایک جمہوری حکومت کس طرح قائم کریں گےاوراس کے نمایاں خدوخال کیا ہوں گےجماعت اسلامی کامنشورانگریزی زبان میں چھپا ہوا موجود ہے- وہ آپ کومہیا کیا جا سکتاہے- آپ اس کا مطالعہ کرکےاس سوال کامفصل جواب پالیں گے-

اسلامی معاشرےمیں عورت کا مقام ولیم کراے:- ایک اوراہم مسئلہ ہےجس کےبارےمیں میں کچھ عرض کرناچاہتاہوں اوروہ مسئلہ ہےسوسائٹی میں عورت کےمقام اورحیثیت کا؟ اس معاملےمیں اسلامی اقدار، مغرب کی صنعتی طورپرترقی یافتہ سوسائٹی کی اقدارسےقطعی مختلف اورمتضاد ہیں- آپ کی رائےکیا ہےاس معاملےمیں کہ کیا جدید دنیا کےبدلےہوئے حالات اورجدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں معاشرےکےاندرعورت کےبارےمیں اسلام کےنقطہ نظرمیں کوئی ترقی پسندانہ تبدیلی ممکن ہے؟

مولانائےمحترم:- دیکھئے، آپ کےخیال میں آپ کی جوجدید تہذیب اورماڈرن کلچرہے، آپ سمجھتےہیں کہ تہذیب اورثقافت کا یہی معیار (Standard) ہےاسی معیارپرآپ دوسری ہرتہذیب و ثقافت کوپرکھتےہیں- لیکن ہم اس کو نہیں مانتے-آپ اپنی جس تہذیب اورکلچرکو"ماڈرن" کہہ کر اس کی بڑی تعریف کرتےہیں ہم یہ سمجھتےہیں کہ یہ ایک پسماندہ (Backward) اورفرسودہ چیزہے، اوریہ تباہ کررہی ہےآپ کوپوری سوسائٹی کواورآپ کے پورےنظام تمدن کو- ہم نہیں چاہتےکہ اس " ماڈرن کلچر" کواپنی سوسائٹی میں لائیں اوراسےبھی تباہ کرلیں- آپ کی جدید تہذیب یہی ہےناکہ آپ نےاپنےہاں خاندانی نظام کاخاتمہ کردیا- آپ نےعورت کاجومقام ومرتبہ سوسائٹی کےاندر متعین کیا اس کانتیجہ یہی نکلاہےنا کہ آپ نےعورتوں کےاخلاق بھی برباد کئےاورمردوں کےبھی- آپ نے لوگوں کواخلاقی پستی کی انتہاتک گرادیا- کیا اپ چاہتےہیں کہ ہم بھی وہاں تک گرجائیں- ہم اس کےلیےتیار نہیں ہیں، ہم اپنی سوسائٹی کوان تمام برائیوں سےپاک رکھنا چاہتےہیں جوآپ کی ماڈرن سوسائٹی میں پائی جاتی ہیں – ہمارےنزدیک ترقی (Progress) اورچیزہےاورنام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بری عادات واطواراورچیزہم ہیں- (Progress) اور (Development) کےقائل ہیں اوروہ ہم ضرورکریں گے، لیکن اس شکل میں نہیں جس میں آپ کررہےہیں- ہم اس کوغلط سمجھتےہیں – اس کےبجائےہم اپنےاصولوں پرتعمیروترقی کریں گےاور وہی صحیح معنوں میں تعمیروترقی ہوگی"-

ولیم کراے:- کیاآپ سمجھتےہیں کہ عورت کامقام ہرحال میں اس کےگھرکےاندرہے،اوراس کی معاشرتی زندگی کےجملہ معاملات اس کےشوہرسےہی وابستہ ہونےچاہیئیں اوروہ دوسرےمردوں سےرابطہ نہیں رکھ سکتی- اس صورت میں کیا آپ یہ بھی پسند نہ کریں گےکہ عورتیں ڈاکٹریا معلمات بنیں؟-

مولانائےمحترم:- جی ہاں، اسلامی اصول معاشرت کی روسےعورت کامقام اس کا گھرےاوراس میں مرد کی حیثیت نگران اورقوام کی ہے- البتہ جہاں تک عورتوں کےتعلیم پانےاورڈاکٹریا معلمہ وغیرہ بننےکاسوال ہےتوہم نہ صرف یہ کہ اس کودرست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتےہیں- ہم اپنی خواتین کواعلی تعلیم دلواتےہیں لیکن اعلی سےاعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک مسلمان عورت یہ سمجھتی ہےکہ اس کااصل دائرہ کاراس کاگھرہے- ہماری خواتین ڈاکٹربھی بنیں گی لیکن وہ عورتوں کاعلاج کریں گی مردوں کانہیں، ہم عورتوں کاڈاکٹربننا اس لئےضروری سمجھتےہیں کہ وہ عورتوں کاعلاج کریں اورعورتوں کومردوں سےعلان نہ کرانا پڑے- ہم یہ چاہتےہیں کہ عورتیں اعلی تعلیم حاصل کرکےمعلمات اورلیڈی لیکچرارزاورپروفیسرز بنیں تاکہ وہ ہماری بچیوں کواعلی تعلیم دے سکیں- ہم یہ نہیں چاہتےکہ ہماری عورتوں کومردپڑھائیں چنانچہ ہمارےملک میں ایسےبےشمارکالج موجود ہیں جن میں صرف خواتین پڑھاتی ہیں اورتمام علوم وفنون کی تعلیم دیتی ہیں- وہ سائنس بھی پڑھاتی ہیں اوردوسرے جدید علوم بھی- اسی طرح دوسرےشعبوں میں بھی جہاں ضروری ہوہم اپنی خواتین کواعلی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرتےہیں- لیکن ان سب چیزوں کےساتھ ساتھ ہم اس اصول کوہرگزتبدیل نہیں کریں گےکہ مسلمان عورت کا اصل مقام اس کا گھرہے- مسلمان عورت سےہم جوبھی کام لیں گےوہ اس کےگھرکےاندراورعورتوں کی سوسائٹی کےاندرلیں گے- اس کو مردوں کےاندرنہیں لےآئیں گے-

ولیم کراے:- جیسا کہ آپ نےفرمایا یہ درست ہےکہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی نظام انتشارکاشکارہے لیکن اسلامی قانون کا یہ پہلوبھی غورطلب ہےکہ اس میں طلاق کےذریعےشادی کےبندھن کوختم کردینا بہت آسان ہے، خاص طورپرموجودہ فیمیلی لاذ سےپہلےتوایسا ہی تھا- کیا یہ چیزعورتوں کےلیےعدم تحفظ کی موجب نہیں ہے-

مولانائےمحترم:- Inspite of this easiness, the divorce- rate in our country is very low, rather negligible, but it is very hjgh in western countries, where the family system is entirely shattered. I have seen myself what is the condition of western societv and western culture. طلاق میں اس آسانی کےباوجود آپ دیکھتےہیں کہ ہمارےہاں طلاقوں کی شرح بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونےکےبرابرہے- جبکہ مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے، وہاں خاندانی نظام مکمل طورپرتباہ ہوچکاہے- میں نےمغربی معاشرےکی اس صورت حال کا اپنی آنکھوں سےمشاہدہ کیا ہے، ہمارےہاں توکبھی اتفاق سےیہ سننےمیں آتاہےکہ کسی شخص نےاپنی بیوی کوطلاق دےدی اوراس پرہم حیران ہوتےہیں کہ ایساکیوں ہوا- اس طرح طلاق ہمارےہاں آسان ہونےکےباوجود عملا ایک (RARE) چیزہےلیکن آپ کےیہاں جوحالات ہیں وہ آپ خود جانتےہیں کہ وہاں طلاقوں کی کس قدربھرمارہورہی ہے-

ولیم کراے:- مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی یہ کثرت عورتوں کےلیےکچھ زیادہ بڑامسئلہ نہیں ہےکیونکہ وہ معاشی طورپرآزاد ہیں اورمردکی محتاج نہیں ہیں، جبکہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے-

مولانائےمحترم:- آپ کومعلوم نہیں کہ مسلمان عورت اپنےباپ سےورثہ پاتی ہے- اپنےشوہرسےاوراپنے بیٹےسےبھی اس کوحصہ پہنچتاہےاوراس اس کوحصہ پہنچتاہےاوراس طرح جس شکل میں بھی اس کوکوئی ورثہ ملتاہےوہ اس کی خود مالک ہوتی ہےاوراس کا شوہر، باپ، بیٹا، یا کوئی اورشخص اس کواس سےمحروم نہیں کرسکتا-اسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبارکرسکتی اوران اداروں میں ملازمت کرسکتی ہےجن کادائرہ کار خواتین تک محدود ہے- اس طرح اس کومعقول طریقےسےجومعاشی آزادی حاصل ہوسکتی ہےہم اس کوتسلیم کرتےہیں لیکن ہم اس کی ایسی معاشی آزادی کودرست نہیں سمجھتےجس کےنتیجےمیں وہ بالکل آزاد ہوجائےاورجس کے نتیجےمیں معاشرےکےاندرطلاقوں کی اس طرح بھرمارہوجائےجیسی کہ مغربی معاشرہ میں پائی جاتی ہے جس سوسائٹی میں (Divorce rate) اس قدر بڑھ جائےوہاں ان بچوں کاکیا حشرہوگا جن کی ماؤں نےطلاق لےلی ہو طلاق لےکرپہلےوہ ایک شخص سےشادی کریں- پھرکسی اورشخص سےاورپھرکسی اورشخص سے، اورادھر بچوں کاحال یہ ہوکہ کوئی ان کا ولی وارثنہ ہو___________آپ کےہاں نئی نسل جرائم کی کیوں عادی ہوتی جاری ہے اور کےجرائم کیوں ایک بڑا مسئلہ بنےہوئےہیں- اس کی وجہ اس کےسواکیا ہےکہ آپ کےہاں طلاقتیں بڑی کثرت سےہورہی ہیں اوران کےنتیجےمیں خاندانی نظام درہم برہم بلکہ تباہ ہوکررہ گیا ہے- آپ دیکھ رہےہیں کہ آپ کےہاں نوعمرمجرم (Teenager Criminals) زیادہ ترعائلی طورپربرباد گھروں (Broken Home) سےنکل کرآرہےہیں-لیکن آپ یہ تسلیم کریں گےکہ ایسے (Broken- Home) خدا کےفضل سےہمارےہاں تقریبانا پیدہیں اورایسا شاذوناد ہی کبھی ہوتاہو گا کہ کسی خاندان میں طلاق کے نتیجےمیں بچےبگڑکرمجرم بن جائیں- تو اس لحاظ سےہم اپنےآپ کومغربی معاشرےسےکہیں زیادہ بہتراور قابل رشک پوزیشن میں پاتےہیں- اوریہ چیزاسلام کےان معاشرتی اصولوں کی بدولت ہےجوہمارےمعاشرے میں اب تک برقرارہیں اوران کی پابندی کی جاتی ہے-

بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی حمایت کا مسئلہ ولیم کراے:- کیا آپ پاکستان کےاندررہتےہوئےہندوستانی مسلمانوں کےساتھ ثقافتی روابط رکھنا چاہتےہیں اورکیا آپ یہ جانتےہیں کہ ہندوستان کےعلمی اوردینی مراکزکےساتھ رابطہ استوارہے؟

مولانائےمحترم:- جی ہاں، ہم تویہ چاہتےہیں، لیکن ہندوستان اورپاکستان کےدرمیان تعلقات کشیدہ ہونےکی وجہ سےایسا ممکن نہیں ہے- اس سےپشیترجب ہندوستان اورپاکستان کےدرمیان آمدورفت ممکن تھی اورڈاک آتی جاتی تھی تو اس زمانےمیں ہندوستان کےتمام کلچرل سنیٹرزاوردینی وعلمی مراکزکےساتھ ہمارےتعلقات برابر قائم رہے- ہمارےرسائل وجرائداورکتب وہاں جاتی تھیں اوروہاں سےکتب اوررسائل وجرائد ہمارےملک میں آتےتھے- اس طرح ہندوستان کےمسلمانوں کےساتھ ہمارےثقافتی روابطہ برابررہےہیں-

ولیم کراے:- کیا آپ ہندوستان کےموجودہ حالات میں بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی مددوحمایت کرنا چاہتےہیں؟

مولانائےمحترم:- بالکل ، ہم بھارتی مسلمانوں کواخلاقی مدددینا بھی ضروری سمجھتےہیں اورہم یہ بھی چاہتےہیں کہ دنیا کی رائےعامہ کواس بات پرآمادہ کریں کہ وہ ہندوستان میں مسلم کشی کوروکنےمیں اپنا کرداراداکرے- او ر بھارتی حکومت پریہ دباؤ ڈالےکہ وہ وہاں کہ مسلمانوں کےساتھ عدل وانصاف کےساتھ کام لے- ہماری ہمدردیاں پوری طرح ہندوستان کےمسلمانوں کےساتھ ہیں اورہم یہ سمجھتےہیں کہ ان پرمسلسل ظلم وزیادتی کی جا رہی ہے، ظلم وزیادتی ہی نہیں بلکہ ان کی نسل کشی کی جارہی ہےجو کہ اقوام متحدہ کےچارٹرکےمطابق بھی جرم ہےلیکن چونکہ بھارت ایک بڑی طاقت ہے، اس لیےاس سےیہ نہیں پوچھاجاتاکہ وہ اپنےشہریوں کےساتھ یہ سلوک کیوں کررہی ہے- ہم یہ چاہتےہیں کہ دنیا کی رائےعامہ اس معاملےمیں بھارت پراپنا اخلاقی دباؤ ڈال کراسےاس نسل کشی سےبازرکھنےکی کوشش کرے-

چندباتیں ________مولاناکےحالات ومصروفیات کےبارےمیں ولیم کراے:- اب چندباتیں آپ کی ذاتی زندگی کےبارےمیں معلوم کرنا چاہتاہوں - آپ نےبرصغیرپاک وہندکی سیاست میں ایک بڑا طویل اورموثررول ادا کیا ہے- آپ کی سیاسی زندگی کا آغازکب ہوا؟

مولانائےمحترم:- میں نےاپنےسیاسی کیرئیرکا آغاز1919ء میں کیا جب کہ میری عمر16(سولہ) سال کی تھی-

ولیم کراے:- غالبا آپ نےاس دورمیں تحریک خلافت میں حصہ لیا ہوگا؟ اورکیا اس زمانے میں آپ لاہور یں تھے؟

مولانائےمحترم:- جی ہاں- میں نےتحریک خلافت میں حصہ لیا- میں اس زمانےمیں دہلی میں تھا-

ولیم کراے:- کیا آپ دیوبندسےبھی وابستہ رہےہیں؟

مولانائےمحترم:- نہیں________میں اصل میں دہلی کارہنےوالا ہوں اورمیں نےتعلیم حیدرآباد دکن میں پائی- بس کےبعد جب تحریک خلافت کاآغازہواتومیں دہلی میں تھا – میں اس تحریک میں کام کرتارہالیکن بعد میں مجھےافسوس ہوا کہ اس تحریک کےزمانےمیں تحریک خلافت کےارکاناورانڈین نیشنل کانگریس کےدرمیان جوربط اورتعاون رہا وہ چلنےوالی چیزنہیں ہے، چنانچہ یہی ہوا کہ 1924ء میں کانگریس اورتحریک خلافت کا تعلق کٹ گیا-

ولیم کراے:- آج کل جب کہ آپ پرجماعت اسلامی کی قیادت کی ذمہ داری نہیں ہےآپ کےمشاغل کیا ہیں ؟ کیا آپ ایک بزرگ سیاستدان کی حیثیت سےجماعت کی سرگرمیوں میں شریک ہیں یا محض تصنیف و تالیف کاکام کر رہےہیں؟

مولانائےمحترم:- میں اپنی کمزورصحت کی وجہ سےجماعت کی سرگرمیوں اورعملی سیاست میں زیادہ حصہ نہیں لےرہاہوں- بس صرف لکھنےپڑھنےکےکام میں مصروف ہوں-

ولیم کراے:- آج کل آپ کیا تصنیف کررہےہیں؟

مولانائےمحترم:- آج کل میں " لائف آف دی ہولی پرافٹ" پرکام کررہاہوں اسےمیں ایک نئےطریقےسےلکھنا چاہتاہوں جو اس سےپہلےکسی نےاختیارنہیں کیا ہے، آج کل میرا سارا وقت اسی کام میں صرف ہو رہا ہے-

ولیم کراے:- تب تویہ ایک طویل کام ہے-

مولانائےمحترم :- جی ہاں،

ولیم کراے:- آپ کی اس بارےمیں کیا رائےہےکہ آیا اس قسم کےتصنیفی کام میں تاریخی تحقیق کےجدید اصول اختیارکئےجاسکتےہیں؟

مولانائےمحترم:- آپ تاریخی تحقیق ومطالعہ کےجس ماڈرن سسٹم کاحوالہ دےرہےہیں میراخیال یہ ہےکہ اس کے مقابلےمیں ہمارےہاں طریق تحقیق ہے- اس کا ماڈرن ریسرچ سکالرزکوکبھی خیال بھی نہیں آیا ہوگا- ہمارےہاں جس طریقےسےروایات کوتحقیق وجستجواورچھان پھٹک کےبعد قبول کیا جاتاہےاس کا اہتمام کسی دورمیں بڑے سےبڑےعلمائےتاریخ نےکبھی نہیں کیا- ہمارےہاں روایات کی صحت کوعقلی معیارپرجانچنےکےساتھ ساتھ ان کی اسناد کی تحقیق کی جاتی ہےاورجب یہ بات ثابت ہوجاتی ہےکہ ان سند پوری طرح متصل ہےاوراس میں کوئی کڑی غائب یا کمزورنہیں ہےتب ان روایات کوقبول کیا جانا ہے- احادیث اورکتب سیرت میں رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم سےمنسوب تمام روایات کواس طریق تحقیق پرجانچنےکےبعد ان کوقبول یارد کیا جاتا ہے- آپ کےموجودہ ریسرچ سکالرزاس طرزتحقیق سےبالکل ناآشنا ہیں-

ولیم کراے:- میں آپ کا بہت شکرگذارہوں کہ آپ نےاپنےقیمتی وقت میں سےیہ گرانقدرلمحات مجھےعطافرمائے-یہ میرےلیےایک بڑا اعزازہے- اب میں آپ سےاجازت چاہتاہوں – بہت بہت شکریہ-

مولانائےمحترم:- آپ سےملاقات میرےلیےبھی باعث مسرت ہے-

ولیم کراے:- خدا حافظ ( یہ الفاظ اردومیں ادا کئےگئے-)

مولانائےمحترم:- خدا حافظ- ________________________________

اسلام کس چیز کا علمبردارہے

اسلام کس چیز کا علمبردارہے سید ابو الا علی مودودی اپریل کےآغازمیں اسلامک کونسل آف یورپ لندن میں ایک کانفرنس کررہی ہے- یہ مقالہ اسی کی فرمائش پر لکھ کربھیجاگیا ہےافسوس ہےکہ اپنی بیماری کےباعث میں خود وہاں نہ جاسکا-

Blank page 158

اسلام کس چیزکا علمبردارہے؟ 1- ابتداء ہی میں یہ وضاحت کردینا ضروری ہےکہ ہمارےعقیدےکےمطابق اسلام کسی ایسےدین کا نا نہیں ہےجسےپہلی مرتبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےپیش کیا ہواوراس بنا پرآپ کوبانی اسلام کہنا صحیح ہو- قرآن اس امرکی پوری صراحت کرتاہےکہ خدا کی طرف سےنوع انسانی کےلیےہمیشہ ایک ہی دین بھیجا گیا ہے، اوروہ ہے اسلام______خدا کےآگےسراطاعت جھکا دینا- دنیا کےمختلف حصوں اورمختلف قوموں میں جوانبیاء بھی خدا کےبھیجےہوئےآئےتھے- وہ اپنےکسی الگ دین کےبانی نہیں تھےکہ ان میں سےکسی کے لائےہوئےدین کونوحیت اورکسی کےدین کوابراہمیت یا موسویت، یا عیسائیت کہا جاسکے- بلکہ ہرآنےوالا نبی اسی ایک دین کوپیش کرتارہاجواس سےپہلےکےانبیاء پیش کرتےچلےآرہےتھے_1

2- انبیاء میں سےمحمد صلےاللہ علیہ وسلم کی خصوصیت دراصل یہ ہےکہ (1) وہ خدا کےآخری نبی ہیں-(2) ان کےذریعہ سےخدا نےاسی اصل دین کوپھرتازہ کردیاجوتمام انبیاء کا لایا ہواتھا- (3)اس میں جوآمیزشیں مختلف زمانوں کے لوگوں نےکرکےالگ الگ مذاہب (RELIGIONS) بنالیےتھےان سب کو خدا نےچھانٹ کرالگ کردیا اورمحمد صلےاللہ علیہ وسلم کےذریعےسےاصلی اورخالص اسلام کی تعلیم نوع انسانی کودی- (4) ان کےبعد چونکہ خدا کوکوئی نبی بھیجنا نہیں تھا اس لیےان کو جو کتاب اس نےدی اسےاس کی اصل زبان میں لفظ بلفظ محفوظ کر دیا - _1 تاکہ انسان ہرزمانےمیں اس سےہدایت حاصل کرسکے-_2 (5) خودان کی سیرت اورسنت کو صحابہ رضی اللہ عنہ اوربعد کے محدثین نےایسےبےمثل طریقےسےمحفوظ کرلیا جس سےزیادہ محفوظ طریقہ سےکبھی کسی نبی یا کسی اورتاریخی شخصیت کےحالات زندگی اوراس کےاقوال واعمال محفوظ نہیں کیےگئے-_ 1 (6) اس طرح قرآن مجید اوراس کےلانےوالےنبی کی مستند سیرت وسنت ، دونوں باہم مل کرہمیشہ کےلیےیہ معلوم کرنےکا قابل اعتماد ذریعہ بن گئےہیں کہ خدا کا دین دراصل کیا ہےکیا رہنمائی وہ ہمیں دیتاہے، اورہم سےکیا چاہتاہے-

1-الاحقاف : 9- آل عمران : 19،67،83تا85 - یونس : 72 ،84 - البقرہ : 128۔ 131 تا 133 - یوسف : 101 - المائدہ : 44، 111 - النمل : 44

1- الاحزب : 40 – الشوری : 13 - آل عمران : 84 - البینہ : 1، 2، 3 - الحجر: 9 - البروج : 22 2- قرآن مجید کےمتعلق یہ امرہرشک وشبہ سےبالاترہےکہ یہ بلا کسی تغیروتبدل کےٹھیک وہی قرآن حمید ہےجو محمد صلےاللہ علیہ وسلم نےپیش کیا تھا- اس کےنزول کےوقت ہی سےآنحضرت صلےاللہ علیہ وسلم اس کو لکھواتےرہےتھےاوریہ سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک جاری رہا- اس مکمل قرآن مجید کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےپہلےخلیفہ نےایک کتاب کی شکل میں نقل کراکےمحفوظ کرلیا اورپھرتیسرےخلیفہ نےاس کی نقلیں تمام اسلامی دنیا کےمراکزمیں بھیج دیں- اس وقت سےلےکرآج تک ہرملک اورہرصدی کے مکتوبہ اورمطبوعہ قرآن جمع کرکےدیکھ لیاجائے، ان میں کوئی فرق نہیں پایا جائےگا – اس کےعلاوہ نماز میں قرآن مجید پڑھنےکاحکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کےپہلےہی دن سےدےدیا گیاتھا اس لیے سینکڑوں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین نےپورا قرآن مجید ، اورتمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نےاسکا کوئی نہ کوئی حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں یاد کرلیاتھا- اس وقت سےآج تک قرآن مجید کولفظ بلفظ یاد کرنےاورہرسال رمضان کی نماز تراویح میں پورا قرآن زبانی سنانےکا سلسلہ پوری اسلامی دنیا میں رائج چلا آرہاہےاورہرزمانےمیں لاکھوں حافظ موجود رہےہیں دنیاکی کوئی مذہبی کتاب بھی اس طرح نہ تحریری شکل میں کتاب اورنہ حافظوں میں محفوظ ہوئی ہےکہ اس کی صحت میں شک کاادنی امکان تک نہ ہو-

مختصراوہ طریقہ یہ تھا کہ جو شخص بھی محمد صلےاللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکےکوئی بات بیان کرتااسےلازما یہ بتانا پڑتاتھا کہ اس تک کن روایوں کےذریعہ سےوہ بات پہنچی ہے، اورروایت کا یہ سلسلہ کسی ایسےشخص تک پہنچتاہےیا نہیں جس نےخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےوہ بات سنی ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کووہ کام کرتےدیکھا ہو- پھرجن جن راویوں کےذریعہ سےیہ روایات بعد کےلوگوں تک پہنچیں ان کےحالات کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکےکہ ان کی بیان کی ہوئی روایات قابل اعتماد ہیں یا نہیں- اس طرح احادیث کےمجموعےتیارکیےگئےجن کےمرتب کرنےوالوں نےہرحدیث کے راویوں کاپورا سلسلہ درج کردیا- اوراس کےساتھ راویوں کےحالات پربھی کتابیں لکھ دی گئیں جن کی مدد سے آج بھی ہم یہ تحقیق کرسکتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کیسی تھی اورانہوں نے اپنے قول وعمل سےلوگوں کوکیا تعلیم دی تھی-

3- اگرچہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سےپہلےکےتمام انبیاء پرایمان رکھتےہیں____ ان پربھی جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہےاوران پربھی جن کا ذکرقرآن مجید میں نہیں آیا_ 1_______ اوریہ ایمان ہمارےعقیدے کا ایسا لازمی حصہ ہےجس کےبغیرہم مسلمان نہیں ہوسکتے،_______2 لیکن ہدایت حاصل کرنےکےلیےہم صرف محمد صلےاللہ علیہ وسلم ہی کی طرف رجوع کرتےہیں – یہ کسی تعصب کی بنا پرنہیں ہے- دراصل اس کی وجہ یہ ہےکہ ( 1) وہ آخری نبی ہیں اس لیے ان کی لائی ہوئی تعلیم خدا کی طرف سےجدید ترین ہدایت (LATEST DISPENSATION) ہے،(2)ان کےذریعےسےجوکلام اللہ (WORD OF GOD) ہم کوپہنچا ہےوہ خالص اللہ کا کلام ہےجس کےساتھ کسی انسانی کلام کی آمیزش نہیں ہوئی ہے- وہ اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے، اس کی زبان ایک زندہ زبان ہےجسےآج بھی کروڑوں انسان بولتے، لکھتےاورسمجھتےہیں، اور اس زبان کی گرائمر، لغت ، محاروے، تلفظ اوراملا میں نزول قرآن کےزمانےسےاب تک کوئی تغیرنہیں آیا ہے، اور(3) جیسا کہ ابھی میں بیان کرچکا ہوں ان کی سیرت ، اخلاق کردار، اقوال اوراعمال کےمتعلق پورا تاریخی ریکارڈ زیادہ سےزیادہ ممکن صحت ، اورزیادہ سےزیادہ ممکن تفصیلات کےساتھ محفوظ ہے- یہ بات چونکہ دوسرےانبیاء پرصادق نہیں آتی اس لیےہم ان پرصرف ایمان رکھ سکتےہیں ، عملا ان کی پیروی نہیں کرسکتے-

4- ہمارےعقیدےکےمطابق رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام دنیا کےلیےہرزمانےکےلیےہے- اس لیےکہ (1)قرآن مجید اس کی صراحت کرتاہے_1 (2) یہ ان کےآخری نبی ہونےکامنطقی تقاضا ہے- کیونکہ دنیا میں ایک نبی ہونےسےخود بخود لازم آتاہےکہ وہ تمام انسانوں کےلیے اور اپنےبعد آنےوالےہرزمانےکےلیےہادی ورہبرہو- (3) ان کےذریعہ سےوہ ہدایت مکمل طورپردےدی گئی ہےجو راہ راست پرچلنےکےلیےانسان کودرکارہے_2 ، اوریہ بھی ان کےآخری نبی ہونےکا منطقی تقاضا ہے، کیونکہ مکمل ہدایت کےبغیرجونبی بھیجا گیا ہووہ آخری نبی نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کےبعد پھرایک نبی کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے- (4) اوریہ ایک امرواقعہ ہےکہ ان کےبعد پچھلےچودہ سوسال میں کوئی ایسی شخصیت نہیں آئی ہےجوخدا کی طرف سےنبی ہونےکا دعوی کرنےکےساتھ اپنی سیرت وکرداراوراپنےکام اور کلام میں انبیاء سےکوئی ادنی درجےکی بھی مشابہت رکھتی ہو،جس نےحامل وحی ہونےکا دعوی کرکے کوئی ایسی کتاب پیش کی ہوجوخدا‏ئی کلام سےبرائےنام بھی کوئی مناسبت رکھتی ہو، اورجسےشریعت دینے والا (LAW GIVER) نبی کہا جاسکتاہو-

1- المومن ؛ 78، 2- البقرہ : 285 - النساء : 150 تا 152

5- گفتگوکےاس مرحلےپریہ جان لینا بھی ضروری ہےکہ خدا کی طرف سےانسان کوکسی خاص علم کی ضرورت ہےجوصرف انبیاء ہی کےذریعہ سےدیا گیا ہے؟ دنیا میں ایک قسم کی چیزیں وہ ہیں جنہیں ہم اپنےحواس کےذریعہ سےمحسوس کرسکتےہیں یا اپنےفنی آلات (SCIENTIFIC- INSTRUMENTS) سےکام لےکران کا ادراک کرسکتےہیں اوران ذرائع سےحاصل ہونےوالی معلومات کومشاہدات وتجربات اورفکرواستدلال کی مدد سےمرتب کرکےنئےنئےنتائج تک پہنچ سکتےہیں- اس نوعیت کی اشیاء کا علم خدا کی طرف سےآنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ ہماری اپنی تلاش و جستجو،غوروفکراورتحقیق واکتشاف کا دائرہ ہے، اگرچہ اس معاملہ میں بھی ہمارےخالق نےہمارا ساتھ بالکل چھوڑنہیں دیا ہے- تاریخ کےدوران میں وہ غیرمحسوس طریقےسے ایک تدریج کےساتھ اپنی پیدا کی ہوئی دنیا سےہمارا تعارف کراتارہاہے- علم وواقفیت کےدروازےہم پرکھولتارہا ہے- اوروقتافوقتا الہامی طورپرکسی نہ کسی انسان کوایسی کوئی بات سمجھاتارہاہےجس سےوہ کوئی نئی ایجاد، یا کوئی نیا قانون فطرت دریافت کرنےپرقادرہوسکاہے- لیکن فی الجملہ ہےیہ انسانی علم ہی کادائرہ جس کےلیےخدا کی طرف سےکسی نبی اورکتاب کےآنےکی حاجت نہیں ہے- اس دائرےمیں جومعلومات مطلوب ہیں انہیں حاصل کرنےکےذرائع انسان کودےدیےگئےہیں-

1- الاعراف : 185 - الانعام : 19 - سبا : 28 - التکویر: 27 2- المائدہ : 3-

دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں جوہمارےحواس اورہمارےفنی آلات کی پہنچ سےبالاترہیں- جنہیں نہ ہم تول سکتےہیں، نہ ناپ سکتےہیں، نہ اپنےذرائع علم میں سےکوئی ذریعہ استعمال کرکےان کےمتعلق وہ "علم " (KNOWLEDGE) کہا جاسکتاہو- فلسفی اورسانئس داں ان کےبارے میں کوئی رائےقائم کرتےہیں تووہ محض قیاس (GUESS) وتخمین اورظن (SPECNLATION) ہےجسےعلم نہیں کہا جاسکتا- یہ آخری حقیقیتیں (ULTIMATE- REALITIES) ہیں- جن کےمتعلق استدلالی نظریات کوخود وہ لوگ بھی یقیتی قرارنہیں دےسکتےجنہوں نےان نظریات کوپیش کیا ہےاوراگروہ اپنےعلم کےحدود کوجانتےہوں تونہ ان پرخود ایمان لاسکتےہیں نہ کسی کوایمان لانےکی دعوت دےسکتےہیں-

یہی وہ دائرہ ہےجس میں انسان حقیقت کوجاننےکےلیےخالق کائنات کےدیےہوئےعلم کامحتاج ہے- اورخالق نےیہ علم کبھی اس طرح نہیں دیا ہےکہ کوئی کتاب چھاپ کرایک ایک آدمی کےہاتھ میں دےدی ہو، اوراس سےیہ کہا ہوکہ اسےپڑھ کرخود معلوم کرےکہ کائنات کی اورخودتیری حقیقت کیا ہے، اوراس حقیقت کےلحاظ سےدنیا کی زندگی میں تیرا طرزعمل کیا ہونا چاہیے- اس علم کوانسانوں تک پہنچانےکےلیےاس نےہمیشہ انبیاء کوذریعہ بنایاہے، وحی کےذریعہ سےان کوحقائق سےآگاہ کیا ہےاورانہیں اس کام پرمامورکیا ہے کہ یہ علم لوگوں تک پہنچادیں-

6- نبی کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہےکہ وہ بس حقیقت کاعلم لوگوں تک پہنچادےبلکہ اس کاکام یہ بتانا بھی ہےکہ اس علم کےمطابق خدااورانسان کےدرمیان اورانسان اورانسان کےدرمیان کیا تعلق فی الحقیقت (FACTUALLY) ہےکیا تعلق عملا (ACTUALLY) ہوناچاہیےاس علم کی رو سےمعاشرت معیشت، مالیات (FINANCE) سیاست ،عدالت،صلح وجنگ ، بین الاقوامی تعلقات،غرض زندگی کےہرشعبےکی تشکیل کن اصولوں پرہونی چاہیے- نبی صرف ایک نظام عبادات و رسوم RITUAL) AND WORSHIP) لےکرنہیں آتا جسےدنیا کی اصطلاح میں مذہب (RELIGION) کہاجاتاہے،کہ وہ ایک پورانظام زندگی لےکرآتاہےجس کا نام اسلام کی اصطلاح میں دین (WAY OF LIFE) ہے-

7- پھریہ بھی نہیں ہےکہ نبی کامشن صرف دین کاعلم پہنچانےتک محدود ہو- بلکہ اس کامشن یہ بھی ہےکہ جولوگ اس کےپیش کردہ دین کوقبول کرکےمسلم بن جائیں- انہیں وہ دین سمجھائے،ان کےعقائد ، اخلاقیات ، عبادات ، قانونی احکام اورمجموعی نظام حیات سےان کوآگاہ کرے، ان کےسامنےخود ایک نمونےکا مسلمان بن کردکھائےتاکہ وہ اپنی زندگی میں اس کی پیروی کرسکیں ، انہیں انفرادی اوراجتماعی تربیت دےکرایک صحیح اسلامی تہذیب وتمدن کےلیےعملا تیارکرے، اوران کومنظم کرکےایک ایسی جماعت بنا دےجو دنیا میں خدا کےدین کوبالفعل قائم کرنےکی جدوجہد کرے، یہاں تک کہ خدا کا کلمہ بلند ہوجائےاوردوسرےکلمےپست ہوکر رہ جائیں – ضروری نہیں ہےکہ سب نبی اپنےاس مشن کوکامیابی کےآخری مراحل تک پہنچانےمیں کامیاب ہی ہوگئےہوں- بہت سےانبیاء ایسےہیں جواپنےکسی قصورکی بنا پرنہیں بلکہ متعصب لوگوں کی مزاحمت اورحالات کی نامساعدت کےباعث اس میں ناکام ہوگئے- لیکن بہرحال تمام انبیاء کامشن تھا- یہی – البتہ محمد صلےاللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت تاریخ میں نمایاں ہےکہ انہوں نےخدا کی بادشاہی زمین میں اسی طرح قائم کرکےدکھادی جیسی وہ آسمان میں ہے-

8- قرآن مجید اورمحمد صلےاللہ علیہ وسلم نےآغازہی سےاپنا خطاب یاتوتمام انسانوں کےلیےعام رکھا ہے، یا پھرانسانوں میں سےجوبھی اسلام کی دعوت کوقبول کرلیں ان کومومن ہونےکی حیثیت سےمخاطب کیا ہے- قرآن مجید کواول سےلےکرآخرتک دیکھ جائیے- محمد صلےاللہ علیہ وسلم کی تقریروں اورگفتگووں کےپورے، ریکارڈ کی بھی چھان بین کرلیجئے- آپ کہیں یہ نہ دیکھیں گےکہ اس کتاب نےاوراس کےلانےوالےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکسی خاص ملک یا قوم یا نسل یا رنگ یا طبقے کے لوگوں کو، یا کسی خاص زبان کےبولنےوالوں کوپکاراہو- ہر جگہ یا بنی ادم ، "اےاولاد آدم " یا ایھاس ، " اے انسانو" کہہ کرپوری نوع انسانی کواسلام قبول کرنےکی دعوت دی گئی ہے، یا پھراسلام قبول کرنےوالوں کو احکام اورہدایات دینےکےلیے یا یھاالذین امنو، " اےلوگو جوایمان لائےہو" کہہ کرمخاطب کیا گیا ہے- اس سے خودبخود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کی دعوت عالمگیر (UNIYERSAL) ہے، اورجوانسان بھی اس دعوت کوقبول کرلیں وہ بالکل برابرکےحقوق کےساتھ یکساں حیثیت میں مومن (BELIEVER) ہیں، قرآن کہتا ہے، " اہل ایمان توایک دوسرےکےبھائی ہیں _1 " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں کہ جو لوگ بھی اسلام کےعقائد قبول کرلیں اورمسلمانوں کاساطرزعمل اختیارکرلیں- ان کےحقوق وہی ہیں جوہمارےحقوق ہیں اوران کےواجبات بھی وہی ہیں جو ہمارےواجبات ہیں _ 2 اس سےبھی زیادہ صراحت کےساتھ رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم نےفرمایا ، سنو تمہارا رب بھی ایک ہےاورتمہارا باپ (آدم) بھی ایک – کسی عربی کوکسی عجمی پرفضیلت نہیں اورکسی عجمی کوعربی پرفضیلت نہیں- نہ کوئی کالا کسی گورےپرفضیلت رکھتا ہے- اورنہ کوئی گورا کسی کالےپر- فضیلت ہےتو خدا ترسی کی بنا پرہے- تم میں سب سےزیادہ اللہ کےنزدیک عزت والا وہ ہےجو سب سےبڑھ کر پرہیزگار_1 ہے

1- الحجرات :10 2- بخاری ، صلاۂ ، 38 نسائی ، تحریم ،2 -

9- اسلام کی بنیاد جن عقائد پرہےان میں سب سےمقدم اورسب سےاہم خدائےواحد پرایمان ہے-

صرف اس بات پرنہیں کہ خدا موجودہے، اورصرف اس بات پربھی نہیں کہ وہ ایک ہے، بلکہ اس بات پرکہ وہی تنہا اس کائنات کاخالق،مالک_2 (MASTER) حاکم (RULER) اورمدبر (ADMINISTRATOR) ہے- اسی کےقائم رکھنےسےیہ کائنات قائم ہے، اسی کےچلانےسےیہ چل رہی ہے، اوراس کی ہرچیزکواپنے قیام وبقا کےلیےجس رزق (SUBSISTENCE) یاقوت (ENERGY) کی ضرورت ہےاس کا فراہم کرنےوالا وہی ہے_3- حاکمیت کی تمام صفات ATTRIBUTES OF) SOVEREIGNTY) صرف اسی میں پائی جاتی ہیں، اورکوئی ان میں ذرہ برابربھی اس کےساتھ شریک نہیں ہے_4 – خداوندی والوہیت کی جملہ صفات کابھی صرف وہی حامل ہے، اوران میں سےبھی کوئی صفت اس کی ذات کےسواکسی کو حاصل نہیں_1 – پوری کائنات کواوراس کی ایک ایک چیزکووہ بیک نظردیکھ رہاہے- کائنات اوراس کی ہرشےکووہ براہ راست جانتاہے- نہ صرف اس کےحال کو، بلکہ اس کےماضی اورمستقبل کوبھی- یہ نگاہ ہمہ بیں اوریہ جامع علم غیب اس کےسوا کسی کوحاصل نہیں _2 - وہ ہمیشہ سےہےاورہمیشہ رہےگا- اس کےسوا سب فانی ہیں اوراپنی ذات سےخودزندہ وباقی صرف وہی ہے_3 - وہ نہ کسی کی اولاد ہےاورنہ کوئی اس کی اولاد – اس کی ذات کےسوا دنیا میں جوبھی ہےوہ اس کی مخلوق ہےاوردنیا میں کسی کی بھی یہ حیثیت نہیں ہےکہ اس کوکسی معنی میں بھی رب کائنات (LORD OF THE UNIVERSE) کا ہم جنس یا اس کابیٹا یا بیٹی کہا جا سکے_4 - وہی انسان کاحقیقی معبود ہے، کسی کوعبادت میں اس کےساتھ شریک کرنا سب سےبڑا گناہ اورسب سےبڑی بےوفائی (INFIDALITY) ہے- وہی انسان کی دعائیں سننےوالاہے اور انہیں قبول کرنےیانہ کرنےکےاختیارات وہی رکھتاہے- اس سےدعا نہ مانگنا بےجاغرورہے، اس کےسوا کسی اورسےدعامانگنا جہالت ہے، اوراس کےساتھ دوسروں سےبھی دعامانگنا خدائی میں غیرخداکوخدا کےساتھ شریک ٹھیراناہے_1 –

1- مسنداحمد ،جلدہ ،ص 411- بہیقی ،کتاب الحج – بخاری ومسلم بمعنی – زادالمعادلابن القیم-ح 4، ص31- 2- الانعام :73 – الرعد :16-طہ : 4تا8 – الاعراف : 54- السجدہ : 5 – البقرہ : 107 – الفرقان :2 3- الانعام : 164 – فاطر: 3 ،41 – الذاریات : 58- 4- الانعام : 18، 57- الکہف : 26، 27- الحدید : 5- الحشر: 23- الملک : 1 – یس : 83- الفتح : 11 یونس : 107 – الجن : 22 –المومنون : 88 – البروج : 16- المائدہ : 1 الرعدہ : 4 – الانبیا : 23- التین : 8 – آل عمران : 26، 83، 154- الاعراف : 128-

1- مریم : 81،82 – یس :74- ہود : 101 – النحل : 17، 20 ، 22، 51- الاحقاف: 27، 28- یسن :22، 23- یونس : 18 – الزخرف :84- فاطر: 3- الانعام :46 – القصص : 70،72- سبا :22،23- الزم : 5،6- النمل :60،64- الفرقان : 3- النمل : 3تا5- 2- الملک :13،14،19- الکہف :26- ق :16- الحدید :4- النمل: 65- سبا: 2،3- الانعام : 59- 3- الحدید :3- القصص :88 – الرحمن : 27- البقرہ : 255- المومن : 65- 4- الاخلاص : 3،4- البقرہ : 116، 117- الانعام : 102- المومنون : 91- الکہف :4،5 – مریم: 35، 88تا93-

10- اسلام کی روسےخدا کی حاکمیت صرف فوق الفطری ہی نہیں بلکہ سیاسی اورقانونی بھی ہےاوراس کی حاکمیت میں بھی کوئی اس کاشریک نہیں- اس کی زمین پر، اوراس کےپیدا کیےہوئےبندوں پراس کےسوا کسی کوحکم چلانےکا اختیارنہیں ہے- خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو، یا شاہی خاندان ہو، یاحکمران طبقہ ہو، یا کوئی ایسی کی قائل ہو- اس کےمقابلےمیں خود(SOVEREIGNTY OF THE PEOPLE)جمہوریت ہوجوحاکمیت عوام مختاربنتاہےوہ بھی باغی ہے- اورجواس کوچھوڑکرکسی دوسرےکی اطاعت کرتاہےوہ بھی باغی- اورایسا ہی باغی وہ شخص یا ادارہ ہےجوسیاسی وقانونی حاکمیت کواپنےلیےمخصوص کرکےخدا کےحدود اختیار یا مذہبی احکام وہدایات تک محدود کرتاہے- فی (PERSONAL( کوشخصی قانون (JURISDICTION) )اس کےسوانہ LAW GIVER)الحقیقت اپنی زمین پراپنےپیدا کیےہوئےانسانوں کےلیےشریعت دینےوالا کوئی ہےنہ ہوسکتاہے، اورنہ کسی کویہ حق پہنچتاہےکہ اس کےاقتداراعلی کوچیلنج کرے_1-

1- القصص :88- الزمر: 3،5، 6، 46- الاعراف: 58، 64، 72، 84، - یونس : 18- لقمن :13- سبا : 22 – ص: 65- المومن: 60- النحل : 36-

11- اسلام کےاس تصورخداکی روسےچند باتیں فطری طورپرلازم آتی ہیں- (1) خدا ہی اکیلا انسان کاحقیقی معبود (یابالفاظ دیگرمستحق عبادت) ہےجس کےسواکسی اورکی یہ حیثیت ہی نہیں ہےکہ انسان اس کی عبادت کرے- (2) وہی اکیلا کائنات کی تمام قوتوں پرحاکم ہےاورانسان کی دعاؤں کاپوراکرنا یا نہ کرنا بالکل اس کےاختیارمیں ہے- اس لیےانسان کوصرف اسی سےدعا مانگنی چاہیےاورکسی کےمتعلق یہ گمان تک نہ کرنا چاہیئےکہ اس سےبھی دعامانگی جاسکتی ہے،(3) وہی اکیلا انسان کی قسمت (DESTINY) کا مالک ہےاور کسی دوسرےمیں یہ قدرت نہیں ہےکہ وہ انسان کی قسمت بناسکےیا بگاڑسکے- اس لیےانسان کی امیداوراس کےخوف ،دونوں کا مرجع بھی لازما وہی ہے- اس کےسوا نہ کسی سےامیدیں وابستہ کرنی چاہییں ، نہ کسی سےڈرنا چاہیے-(4) وہی اکیلا انسان اوراس کےگرد وپیش کی دنیا کا خالق ومالک ہے، اس لیےانسان کی حقیقت اورتمام دنیا کےحقائق کابراہ راست اورکامل علم صرف اسی کو ہےاورہوسکتاہے- پس وہی زندگی کی پرپیج (COMPLICATED) راہوں میں انسان کوصحیح ہدایت اورصحیح قانون حیات دےسکتاہے- (5) پھرچونکہ انسان کا خالق و مالک وہ ہے اوروہی اس زمین کا مالک ہےجس میں انسان رہتاہےاس لیےانسانوں پرکسی دوسرےکی حاکمیت یاخوداپنی حاکمیت سراسرکفر( BLASPHEMY) ہے اوراسی طرح انسان کاخود اپنا قانون ساز (LAWGIVER) بننا ، یاکسی اورشخص یا اشخاص یا اداروں کے اختیارقانون سازی کوماننا بھی یہی نوعیت رکھتاہے- اپنی زمین پراپنی مخلوق کا حاکم اورقانون سازحتما صرف وہی ہوسکتاہے،اور(6) اقتداراعلی کاحقیقی مالک ہونےکی حیثیت سےاس کا قانون درحقیقت بالاتر قانون (SUPREME LAW) ہےاورانسان کےلیےقانون سازی (LEGISLATION) کااختیارصرف اسی حد تک ہےجس حد تک وہ اس بالاترقانون کےتحت اوراس سےماخوذ ہو، یا اس کی دی ہوئی اجازتوں پرمبنی ہو-

1- الفرقان :43- التوبہ : 31 – الشوری : 10،21- المومنون: 116- الناس : 1،2،3- یوسف : 40- الاعراف: 3،45- المائدہ : 38تا 40 ، 45- البقرہ : 178، 180 تا 182، 229 ، 232- النساء : 11 ، 60 ، 176- الجاثیہ :18- المائدہ : 44 ، 45 ، 47، 50- النحل : 116- النور: 2 تا 9 آل عمران : 64-

12- اس مرحلےپرہمارےسامنےاسلام کا دوسرا اہم ترین بنیادی عقیدہ جوآتاہے،اوروہ ہےعقیدہ رسالت، رسول وہ شخص ہےجس کےذریعہ سےاللہ تعالےنےاپناقانون انسان کودیتاہے، اوریہ قانون ہم کورسول سے دوصووتوں میں ملتاہے- ایک، کلام اللہ، جولفظ بلفظ رسول پرنازل کیا گیا ہے، یعنی قرآن مجید – دوسرےوہ اقوال اوراعمال ، اوراحکام امرونہی جو رسول نےاپنےپیروں کوخدا کی ہدایت کےتحت دیے- یعنی سنت – اس عقیدےکی اہمیت یہ ہےکہ اگریہ نہ ہوتوخدا پرایمان محض ایک فطری (THEORETICAL) فکروخیال بن کر رہ جاتاہے- عملا جوچیزخدا پرستی کےعقیدےکوایک تہذیب ایک تمدن ، اورایک نظام حیات کی شکل میں ڈھالتی ہےوہ رسول کی فکری (DEOLOGICAL) اورعملی رہنمائی ہے- اسی کےذریعہ سےہمیں قانون ملتاہےاوروہی اس قانون کےمنشاکےمطابق زندگی کا نظام قائم کرتاہے، اسی وجہ سےتوحید کےبعد رسالت پرایمان لائےبغیرکوئی شخص عملا مسلم نہیں ہوسکتا_1 –

13- اسلام میں رسول کی حیثیت اس طرح واضح طورپربیان کی گئی ہےکہ ہم ٹھیک ٹھیک یہ بھی جان سکتےہیں کہ رسول کیا ہےاوریہ بھی کہ وہ کیا نہیں ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کواپنا نہیں بلکہ اللہ کابندہ بنانےکےلیےآتاہے_2 – اوروہ خود بھی اپنےآپ کواللہ کابندہ ہی کہتاہے- نمازمیں ہرروزکم ازکم 17مرتبہ جو کلمہ شہادت پڑھنےکی تعلیم محمد مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم نےمسلمانوں کودی ہےاس میں یہ فقرہ لازما پڑھا جاتاہےکہ اشھدان محمد اعبدہ ورسولہ (میں گواہی دیتاہوں کہ محمد صلےاللہ علیہ وسلم اللہ کےبندےاوررسول ہیں_3) – قرآن مجید اس معاملہ میں کسی ادنی اشتباہ کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتاکہ رسول ایک انسان ہےاورخدائی (DIVINITY) میں اس کا ذرہ برابربھی کوئی حصہ نہیں ہے_4- وہ نہ فوق البشرہے، نہ بشری کمزوریوں سےبالاترہے، نہ خدا کےخزانوں کامالک ہے، نہ عالم الغیب کہ اس کوخدا کی طرح سب کچھ معلوم ہو_5 – وہ دوسروں کےلیےنافع وضارہونا تودرکنارخوداپنے لیےبھی کسی نفع وضررکا اختیارنہیں رکھتا_1 - اس کا کام پیغام پہنچادینا ہے، اس کےاختیارمیں کسی کوراہ راست پرلےآنا نہیں ہے، نہ انکار کرنےوالوں کامحاسبہ کرنا اوران پرعذاب نازل کردینااس کےاختیارمیں ہے_2 – وہ خود اگراللہ کی نافرمانی کرے(معاذ اللہ )، یا اپنی طرف سےکوئی چیزگھڑکرخدا کی طرف منسوب کردے،یا خدا کی وحی میں بطورخودذرہ برابربھی ردو بدل کرنےکی جسارت کرڈالےتووہ خدا کےعذاب سےنہیں بچ سکتا_ 3- محمد صلےاللہ علیہ وسلم رسولوں میں سےایک ہیں، رسالت سےبالاترکسی حیثیت کےمالک نہیں ہیں_ 4- وہ اپنےاختیارسےکسی چیزکوحلال اورکسی کوحرام کرنے، یا بالفاظ دیگرخدا کےاذن کےبغیربطورخود قانون سازبن جانےکےمحاذ نہیں ہیں_ 5- ان کا کام اس وحی کا اتباع کرنا ہےجوان پر خدا کی طرف سےنازل ہو_6-

13- اسلام میں رسول کی حیثیت اس طرح واضح طورپربیان کی گئی ہےکہ ہم ٹھیک ٹھیک یہ بھی جان سکتےہیں کہ رسول کیا ہےاوریہ بھی کہ وہ کیا نہیں ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کواپنا نہیں بلکہ اللہ کابندہ بنانےکےلیےآتاہے_2 – اوروہ خود بھی اپنےآپ کواللہ کابندہ ہی کہتاہے- نمازمیں ہرروزکم ازکم 17مرتبہ جو کلمہ شہادت پڑھنےکی تعلیم محمد مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم نےمسلمانوں کودی ہےاس میں یہ فقرہ لازما پڑھا جاتاہےکہ اشھدان محمد اعبدہ ورسولہ (میں گواہی دیتاہوں کہ محمد صلےاللہ علیہ وسلم اللہ کےبندےاوررسول ہیں_3) – قرآن مجید اس معاملہ میں کسی ادنی اشتباہ کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتاکہ رسول ایک انسان ہےاورخدائی (DIVINITY) میں اس کا ذرہ برابربھی کوئی حصہ نہیں ہے_4- وہ نہ فوق البشرہے، نہ بشری کمزوریوں سےبالاترہے، نہ خدا کےخزانوں کامالک ہے، نہ عالم الغیب کہ اس کوخدا کی طرح سب کچھ معلوم ہو_5 – وہ دوسروں کےلیےنافع وضارہونا تودرکنارخوداپنے لیےبھی کسی نفع وضررکا اختیارنہیں رکھتا_1 - اس کا کام پیغام پہنچادینا ہے، اس کےاختیارمیں کسی کوراہ راست پرلےآنا نہیں ہے، نہ انکار کرنےوالوں کامحاسبہ کرنا اوران پرعذاب نازل کردینااس کےاختیارمیں ہے_2 – وہ خود اگراللہ کی نافرمانی کرے(معاذ اللہ )، یا اپنی طرف سےکوئی چیزگھڑکرخدا کی طرف منسوب کردے،یا خدا کی وحی میں بطورخودذرہ برابربھی ردو بدل کرنےکی جسارت کرڈالےتووہ خدا کےعذاب سےنہیں بچ سکتا_ 3- محمد صلےاللہ علیہ وسلم رسولوں میں سےایک ہیں، رسالت سےبالاترکسی حیثیت کےمالک نہیں ہیں_ 4- وہ اپنےاختیارسےکسی چیزکوحلال اورکسی کوحرام کرنے، یا بالفاظ دیگرخدا کےاذن کےبغیربطورخود قانون سازبن جانےکےمحاذ نہیں ہیں_ 5- ان کا کام اس وحی کا اتباع کرنا ہےجوان پر خدا کی طرف سےنازل ہو_6-

_1 النور: 62- الحجرات : 15- _2 آل عمران :79- _3 بخاری ،کتاب 10، ابواب 153 – 154- یہی حدیث مسلم، ابوداؤد ، نسائی، ابن ماجہ ، داری موطا، اورمسند احمد میں بھی روایت کی گئی ہےاوریہ متفق علیہ ہے- _4 الکہف : 111- لحم السجدہ :6- بنی اسرائیل : 90 ، تا 93 _5 الانعام : 50 – الاعراف : 188

اس طرح اسلام نےان تمام مبالغوں سےنوع انسانی کوبچالیا جو محمد صلےاللہ علیہ وسلم پہلےآنے والے انبیاء کےپیرووں نےاپنےپیشواؤں کےحق میں کیےتھے، حتی کہ ان کوخدا ، یا اس کا ہم جنس ، یا اس کی اولاد ، یا اس کا اوتار (INCARNATION) تک بنا ڈالا تھا- اس طرح کےتمام مبالغوں کی نفی کرکے اسلام نےرسول کی جو اصل حیثیت بیان کی ہےوہ یہ ہے-

1- الانعام : 17 – یونس : 49 _2 الانعام : 57، 58- الرجد : 40 _3 البقرہ : 120 ، 145- یونس : 15- الحاقہ: 44تا 47- _4 آل عمران : 144- یس :3 – الاحقاف : 9- النجم: 52- _5 التحریم: 1 _6 الانعام : 50 – یونس : 15- الاحقاف :9

رسول پرایمان لائےبغیرکوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا_1 – جوشخص رسول کی اطاعت کرتاہے- وہ دراصل اللہ کی اطاعت کرتاہےکیونکہ اللہ نےرسول بھیجیا ہےاسی لیےبھیجا ہےکہ اس کی اطاعت کی جائے_2 - ہدایت وہی پاسکتاہےجورسول کی اطاعت کرے_3 – رسول جوحکم دےاسےقبول کرناچاہیےاورجس سےمنع کرےاس سےرک جاناچاہیے_4 - (اس امرکی وضاحت خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاس طرح فرمائی ہےکہ میں ایک بشرہی ہوں-جوحکم میں تمہارےدین کےمعاملہ میں دوں اس کی پیروی کرو- اورجو بات اپنی رائےسےکہوں تومیں بھی ایک بشرہوں- اپنی دنیا کےمعاملات کوتم زیادہ جانتےہو_5) رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی سنت دراصل قرآن مجید کےمنشاکی تشریح قرآن مجید کےمصنف ، یعنی اللہ تعالےنےان کوخود سکھائی تھی- اس سےان کی تشریح اپنےپیچھےخدائی سند (AUTHORITY) رکھتی ہےجس سےہٹ کرکوئی شخص قرآن مجید کی کوئی تشریح بطورخود کرنےکامحازنہیں ہے_6 – اللہ تعالےنےرسول کی زندگی کونمونےکی زندگی قراردیا ہے_7 – کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ رسول کےفیصلےکوتسلیم نہ کرے_1 - مسلمانوں کایہ کام نہیں کہ جس معاملےکوخدا اوررسول نےکر دیا ہواس میں وہ خود کوئی فیصلہ کرنےکےمحازہوں_2 – بلکہ مسلمانوں کایہ کام بھی نہیں ہےکہ کسی پیش آمدہ معاملےمیں کوئی فیصلہ کرنےسےپہلےیہ نہ دیکھ لیں کہ اللہ اوراس کے رسول کا حکم اس معاملے میں کیا ہے_3 –

1- النور:62 – الحجرات: 15 – _2 آل عمران : 50 – النساء : 64،80- الشعراء : 100،110،162،131، 144، 150، 163، 179،الزحرف:63 – نوع : 3- _3 النور: 54 _4 الحشر:7 _5 مسلم، کتاب 43، حدیث 139 تا141- مسنداحمد ،جلداول ، ص 162- جلد ثالث ص 152- _6 النحل : 44- القیمہ : 17تا 19 _7 الاحزاب: 21

مذکورہ بالا بیان سےیہ بات واضح ہوتی ہےکہ اللہ تعالےنےرسول کےذریعہ سےانسان کوصرف ایک بالاترقانون (BUPREME LAW) بلکہ مستقبل اقدار ہی نہیں دیاہے (PERMANENT VALUES) بھی دی ہیں- قرآن مجید اورسنت میں جس چیزکوخیرقراردیا گیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےخیرہے- جس چیزکوشرکہا گیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےشر ہے، جوچیزفرض کی گئی ہےوہ ہمیشہ کےلیےفرض ہے، جس چیزکوحلال ٹھرایا گیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےحلال ہے، اورجوچیزحرام کی گئی ہےوہ ہمیشہ کےلیےحرام ہے- اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم ، یا حذف واضافہ، یا تنسیخ (ABROGATION) کااختیارکسی کوحاصل نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی شخص یا گروہ ،یا قوم اسلام ہی کوچھوڑدینےکا ادارہ رکھتی ہو- جب تک مسلمان مسلمان ہیں ان کےلیےیہ ممکن نہیں ہےکہ کل کا شرآج خیرہوجائے- اورپرسوں پھرشرہوجائے-کوئی قیاس ، کوئی اجتہاد ، کوئی اجماع اس قسم کی تبدیلی کامحاز نہیں ہے-

1- النساء : 65 – _2 الاحزاب : 36- _3 الحجرات :1

14- اسلام کا تیسرا بنیادی عقیدہ آخرت ہے، اوراس کی اہمیت یہ ہےکہ اس کاانکارکرنےوالا کافرہوجاتاہے اورخدا اوررسول ، قرآن ، کسی چیزکاماننا بھی اسےکفرسےنہیں بچاسکتا _1 – یہ عقیدہ اپنی تفصیلی صورت میں چھ لازمی تصورات پرمشتمل ہے-

(1)دنیا میں انسان غیرذمہ دار (IRRESPONSIBLE) بناکرنہیں چھوڑدیا گیا ہے، بلکہ وہ اپنےخالق کے سامنےجواب دہ ہے- دنیا کی موجودگی دراصل انسان کا امتحان اورآزمائش کےلیےہے- اس کےخاتمےکےبعد اسےاپنےکارنامہ حیات کاحساب خدا کودینا ہوگا_2 –

(2) اس محاسبےکےلیےاللہ نےایک وقت مقررکررکھا ہے- نوع انسانی کودنیا میں کام کرنےکےلیےجتنی مہلت دینےکا اللہ تعالےفیصلہ کرچکا ہےاس کےاختتام پرقیامت برپاہوگی جس میں دنیا کاموجودہ نظام درہم برہم کردیا جائےگا- اورایک دوسرانظام عالم نئےطرزپربرپاکیا جائےگا-اس نئی دنیا میں وہ تمام انسان دوبارہ زندہ کرکےاٹھائےجائیں گےجوابتدائےآفرنیش سےقیامت تک پیدا ہوئےتھے_3 –

(3) اس وقت ان سب کوبیک وقت خدا وندعالم کی عدالت میں پیش کیا جائےگا اورہرشخص کواپنی ذاتی حیثیت میں ان اعمال کی جواب دہی کونی ہوگی جو اس نےخود اپنی ذمہ داری پردنیا میں کیےہوں گے_1 –

1- الانعام : 30،31- یونس : 45- الرعد:5 – المومنون : 33- الفرقان : 11 – سبا : 7،8- ص: 2 تا 28- ق : 2 تا 4- التغابن : 7- _2 الکہف :7- الملک :2 – لقیمہ : 36- الدھر:2- التکویر: 8،9 – المطففین : 3 تا 6- التکاثر:8 _3 الزمر:68 – الدخان : 40- الواقعہ : 49،50-

(4) وہاں اللہ تعالی صرف اپنےذاتی علم پرفیصلہ نہیں کردےگا بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کی جائیں گی- ہرشخص کےکارنامہ حیات کا پورا ریکارڈ بےکم وکاست عدالت کےسامنےرکھ دیا جائےگا اوربےشماراقسام کی شہادتیں اس امرکےثبوت میں پیش کردی جائیں گےکہ اس نےخیفہ اورعلانیہ کیا کچھ کیا ہےاورکس نیت سےکیا ہے_2 -

(5) اللہ کی عدالت میں کوئی رشوت ، کوئی بےجاسفارش اورکوئی خلاف حق وکالت نہ چل سکےگی- کسی کا بوجھ دوسرےپرنہ ڈالا جائےگا- کوئی قریب سےقریب عزیز یا دوست یا لیڈریا مذہبی پیشوایاخود ساختہ معبود کسی کی مدد کےلیےآگےنہ بڑھےگا- انسان وہاں تن تنہا بالکل بےیارومددگارکھڑاہواپنا حساب دےرہاہوگا-اور فیصلہ صرف اللہ کےاختیارمیں ہوگا- _3 -

(6) فیصلےکاسارا دارومداراس بات پرہوگا کہ انسان نےدنیا میں انبیاء کےبتائےہوئےحق کومان کراورآخرت میں اپنی جواب دہی کومحسوس کرکےٹھیک ٹھیک اللہ کی بندگی کی یا نہیں- پہلی صورت میں اس کےلیےجنت ہے، اوردوسری صورت میں دوزخ_1 –

1- الانعام : 93، 94- مریم : 81، 96- _2 الکہف : 49- النور: 24- یس : 12، 65- الزمر:69- حم السجدہ : 20، 21- الزحرف: 80- الجاثیہ: 28،29- ق: 17،18- القمر:52،53- الانفطار: 10 تا12- الطارق: 9،10- الزلزال: 2 تا8- _3 البقرہ: 166،167، 254- یونس : 28- ابراہیم : 21، 31- النحل: 86- مریم: 81،82- القصص: 62 تا68- فاطر:18- المومن:18- الاحقاف: 5،6- المارج: 10 تا14- عبس: 34 تا37- الانفطار:19

15- یہ عقیدہ تین اقسام کےانسانوں کی زندگی کےطریقوں کوایک دوسرےسےبالکل ہی مختلف کردیتاہے- ایک قسم کےانسان وہ ہیں جوآخرت کےقائل نہیں ہیں اوربس اسی دنیا کی زندگی کوزندگی سمجھتےہیں- وہ لامحالہ خیروشرکامعیاراعمال کےان نتائج ہی کوسمجھیں گےجو اس دنیا میں ظاہرہوتےہیں- یہاں جس عمل کا نتیجہ اچھایا مفید ہووہ ان کےنزدیک خیرہوگا اورجس کا نتیجہ برایا نقصان دہ ہوگا وہی ان کےنزدیک شرہوگا- بلکہ بارہانتائج عمل کےلحاظ سےایک ہی چیزایک وقت میں خیراوردوسرےوقت میں شرہوگی دوسری قسم کےآدمی وہ ہیں جوآخرت کوتومانتےہیں مگران کویہ بھروسہ ہےکہ کسی کی سفارش اللہ کی عدالت میں انہیں بچالےگی- یاکوئی ان کےگناہوں کاکفارہ پہلےہی دےچکاہے- یا وہ اللہ کےچہیتےہیں اس لیےانہیں بڑےسےبڑے گناہوں کی سزابھی بڑائےنام دی جائےگی – یہ چیزعقیدہ آخرت کےتمام اخلاقی فوائد کوضائع کرکےدوسری قسم کےلوگوں کوبھی پہلی قسم کےاشخاص کی صف میں لےجاتی ہے- تیسری قسم کےلوگ وہ ہیں جو عقیدہ آخرت کوٹھیک اس شکل میں مانتےہیں جس شکل میں اسلام انہیں پیش کرتاہے، اورکسی کفارےیابےجاسفارش یااللہ سےکسی خاص تعلق کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں_1 – ان کےلیےیہ عقیدہ ایک بہت بڑی اخلاقی طاقت رکھتاہے- جس شخص کےضمیرمیں آخرت کا یقین اپنی صحیح صورت میں جاگزیں ہوجائےاس کا حال ایسا ہوگا جیسےاس کےساتھ ہروقت ایک نگران لگا ہواہو جوبرائی کےہراراداےپراسےٹوکتا، ہراقدام پراسےروکتااورہرعمل پراسےسرزنش کرتاہے-باہرکوئی گرفت کرنےوالی پولیس کوئی شہادت دینےوالا گواہ – کوئی سزادینےوالی عدالت ، اورکوئی ملامت کرنےوالی رائے عام موجود ہویا نہ ہو- اس کےاندرایک سخت گیرمحتسب ہروقت بیٹھارہےگا جس کی پکڑکےخوف سےوہ کبھی خلوت میں، یا جنگل میں، یا اندھیرےمیں، یا کسی سنسان جگہ میں خدا کےمقررکردہ فرض سےفرار، اوراس کےمقررکردہ حرام کےارتکاب کاحوصلہ نہ کرسکےگا- اوربالفرض اگرکربھی گزرےتوبعد میں شرمندہ ہوگا اورتوبہ کرےگا، اس سےبڑھ کراخلاقی اصلاح ، اورانسان کےاندرایک مستحکم کردارپیداکرنےکاکوئی ذریعہ نہیں- خدا کا بالاترقانون جو مستقل اقدارانسان کودیتاہےان پرمضبوطی کےساتھ انسان کےکاربندہونےاوران سےکسی حالت میں اس کےنہ ہٹنےکاانحصاراسی عقیدےپرہے- اسی لیےاسلام میں اس کواتنی اہمیت دی گئی ہےکہ اگریہ نہ ہوتوخدا اوررسالت پرایمان بھی بےکارہے-

1- الکہف : 105، 106- الفصص: 65- الزمر: 71- الملک: 8 تا 11- النازعات : 37 تا 41

16- اسلام، جیساکہ میں پیراگراف _6 میں بیان کرچکا ہوں، ایک پوری تہذیب ، ایک جامع تمدن، اورایک ہمہ گیر (COMPREHENSIVE) نظام حیات ہے، اورانسانی زندگی کےتمام گوشوں میں اخلاقی رہنمائی دیتاہے، اس لیےاس کےاخلاقیات دراصل تارک الدنیاراہبوں اورجوگیوں اورسنیاسیوں کےلیےنہیں ہیں، بلکہ ان لوگوں کےلیےہیں جوزندگی کےمختلف شعبوں کوچلاتے، یا ان کےاندرکام کرتےہیں- اخلاق کی جوبلندیاں دنیا،خانقاہوں،راہبوں اورصومعوں (CONVENTS,MONASTRIES,CLOISTERS) میں تلاش کرتی تھی- اسلام ان کوزندگی کےبیج منجھدارمیں لےآنا چاہتاہے- اس کا منشایہ ہےکہ حکومتوں کےقرمانردا، صوبوں کےگورنر،عدالتوں کےجج ، فوج اورپولیس کےافسر، پارلمینٹوں کےممبر، مالیات اور صنعت وحرفت کےکارفرما، کالجوں اوریونیورسٹیوں کےاساتذہ و طلبہ ، بچوں کےباپ ،باپوں کےبچے، عورتوں کےشوہراورشوہروں کی عورتیں، ہمسایوں کےہمسائے،غرض سب ان اخلاقیات سےآراستہ ہوں- وہ چاہتاہےکہ ہرگھرمیں بھی اسی اخلاق کی فرمانروائی ہواورمحلےاوربازارمیں بھی اسی چلن ہو- وہ چاہتاہےکہ کار وبارکےسارےادارےاورحکومت کےسارےمحکمےاسی کی پیروی کریں- سیاست سچائی اورانصاف پر مبنی ہو- قومیں حق شناسی اورادائےحقوق پرایک دوسرےسےمعاملہ کریں- جنگ بھی ہوتوشرافت اورتہذیب کےساتھ ہونہ کہ بھیڑیوں کی سی درندگی کےساتھ، انسان جب خدا ترسی اختیارکرے-خدا کےقانون کوبالاترمان لے، خدا کےسامنےاپنی جواب دہی کویاد رکھ کرمستقل اقدارکاپابندہوجائے، توپھراس کی یہ صفت صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں رہنی چاہیئےبلکہ جس حیثیت میں بھی وہ دنیا کےاندرکام کررہاہےخدا کےسچےاوروفاداربندےکی طرح ہی کام کرے-

1- البقرہ :80، 81، 123، 225- آل عمران : 75، 76- النساء : 107 تا 109- المائدہ : 18- الانعام: 51- یونس: 3- طہ: 109- النجم: 26

یہ ہےمختصراوہ چیزیں جس کا اسلام علمبردارہے- اوریہ محض کسی فلسفی کی خیالی جنت (UTOPIA) نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم نےاسےعملا برپاکرکےدکھادیا- اورآج چودہ سوبرس گزرجانےپربھی اس کےاثرات مسلم معاشرےمیں کم وبیش پائےجاتےہیں- ___________________٭______________________

توضیحات

توضیحات "اسلام کس چیزکاعلمبردارہے" کےبعض مندرجات پر اعتراضات کا جواب

BLANK PAGE 184

؟ 1- " پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم مافوق البشرنہیں ہوتا" – اس کا کیا مفہوم ہے؟ کیا اس سےمرادخدائی اختیارات کاحامل ہونا ہے؟ یا بشریت سےمادراء ہونا ؟ معترضین نےیہ نکتہ برآمد کیا ہےکہ مافوق البشر کا مطلب عام بشرسےفائق ہونا ہےاورپیغمبراس معاملےمیں فائق ہوتےہیں-

2- دوسرااعتراض اس پرہےکہ مقالہ نویس نےپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کوبشری کمزوریوں سے مبراتسلیم نہیں کیا- حالانکہ وہ ہرلحاظ سےمعصوم ہوتےہیں- بشری کمزوریوں سےمرادبشریت کے لوازمات ہیں یا اورکچھ مراد ہے؟

3- بعض پیغمبروں کامشن ناکام ہوگیا- یہ انداز بیان انبیاء کےشایان شان نہیں ہے- معترضین کازیادہ ترزوراس پرتھا کہ چاہےنیت بخیرہومگراندازبیان گستاخانہ ہے-

جواب ان اعتراضات کاجواب دینےسےپہلےیہ بتا دینا ضروری ہےکہ یہ مقالہ دراصل غیرمسلموں کےسامنےاسلام پیش کرنےکےلیےلکھا گیا تھا- اس میں ان کےغلط عقائد کاذکرکیےبغیران کی تروید اس طرح کی گئی ہےکہ اسلام کی صحیح تصویران کےسامنےرکھ دی گئی جسےدیکھ کروہ خود سمجھ سکتےہیں کہ ان کے مذہب میں کیا کیا غلط باتیں شامل ہوگئی ہیں-

اب ایک ایک اعتراض کولیجئے-

1- " پیغمبرفوق البشرنہیں ہوتا"- اس فقرےسےکوئی معنی اخذ کرنےسےپہلےمعترض کودیکھنا چاہیے- کہ میں نےکس سلسلہ کلام میں یہ بات کہی ہے- اوپرسےعبارت یوں چلی آرہی ہےکہ " رسول ایک انسان ہےاورخدائی میں اس کاذرہ برابربھی کوئی حصہ نہیں ہے"- اس کےمعا بعد یہ کہنا ہےکہ " وہ فوق البشر نہیں ہے" صاف طورپرمعنی رکھتاہےکہ وہ بشریت سےمادراء اورخدائی صفات سےمتصف نہیں ہےجیسا کہ دوسرےمذاہب والوں نےاپنےپیشواؤں کوبنا رکھا ہے-

2- اسی سلسلہ کلام میں فورابعد دوسری بات یہ کہی گئی ہےکہ " رسول بشری کمزوریوں سے بالاترنہیں ہے"- اس میں بشری کمزوریوں سےمراد بھوک، پیاس، نیند، مرض، رنج وغم وغیرہ امورہیں جو بشری کولاحق ہوتےہیں- اوراس مضمون میں یہ بات اس غرض کےلیےکہی گئی ہےکہ عیسائیوں نےجس ہستی کوخدا یاخدا کابیٹا قراردےڈالا اس کوبھی یہ بشری کمزوریاں لاحق ہوتی تھیں- مگریہ سب کچھ دیکھتےہوئے بھی وہ بشرکوخدائی میں شریک قراردےبیٹھے- یہ استذلال ٹھیک ٹھیک قرآن سےماخوذ ہے- ماالمسیخ ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل،وامہ صدیقہ : کانایا کلان الطعام (5: 75)

" مریم کا بیٹا مسیح علیہ السلام رسول کےسوا کچھ نہ تھا- اس سےپہلےبھی رسول گزرچکےتھے اوراس کی ماں راست باز تھی، دونوں کھانا کھایا کرتےتھے" اس آیت میں ایک عورت کےپیٹ سےپیدا ہونے اورماں بیٹے، دونوں کےکھانا کھانےکواس بات کی صریح دلیل ٹھیرایاگیا ہےکہ حضرت مسیح بشرتھےنہ کہ فوق البشراورالوہیت میں ان کا قطعا کوئی حصہ نہ تھا- جیساکہ مسیحوں نےسمجھ رکھا ہے-

3- تیسرا اعتراض بھی سلسلہ کلام کونظراندازکرکےصرف ایک لفظ کےاستعمال پرکیا گیا ہے- سلسلہ کلام یہ ہےکہ نبی کاکام ایمان لانےوالوں کوانفرادی اوراجتماعی تربیت دےکرایک صحیح اسلامی تہذیب ،وتمدن کےلیےعملا تیارکرنا اوران کومنظم کرکےایک ایسی جماعت بنا دینا ہےجودنیا میں خدا کےدین کو بالفعل قائم کرنے کی جدوجہد کرےیہاں تک کہ خدا کا کلمہ بلند ہوجائےاوردوسرےکلمےپست ہوکروہ جائیں- اس کےبعد یہ عبارت لکھی گئی ہے؟ " ضروری نہیں ہےکہ سب نبی اپنےاس مشن کوکامیابی کےآخری مراحل تک پہنچانے میں کامیاب ہی ہو گئےہوں- بہت سےانبیاء ایسےہیں جواپنےکسی قصورکی بنا پرنہیں بلکہ متعصب لوگوں کی مزاحمت اورحالات کی نا مساعدت کےباعث اس میں نا کام ہوگئے"-

اس عبارت میں لفظ ناکام کےاستعمال کوگستاخی کہنا آخرادب واحترام کی کونسی قسم ہے؟ یہ مبالغہ آمیزیاں اگراسی شان سےبڑھتی رہیں توبعید نہیں کہ کل ہروہ شخص گستاخ ہوجوکہےکہ رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم احد میں زخمی ہوگئےتھے، یاآپ کسی وقت بیمارہوگئےتھے- کسی واقعہ ہونےسےاگرانکار نہیں ہےتواس کی انہی الفاظ میں بیان کیا جائےگاجو زبان میں معروف ہیں جوحضرات اسےگستاخی سمجھتےہیں وہ اپنی رائےکےمختارہیں- مگردوسروں پر وہ اس رائےکوکیوں مسلط کرتےہیں؟ ________________________

"بشری کمزوریاں " سوال : ایک عالم دین کواصرارہےکہ لندن کی اسلامی کانفرنس والےمقالےمیں آپ نےرسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کےبارےمیں "بشری کمزوریوں سےبالاترنہ ہونے" کےالفاظ جواستعمال کیےہیں وہ درحقیقت عیب اورنقص کےمعنی میں ہیں- کیا آپ اس کی وضاحت کریں گےکہ ان الفاظ سےخود آپ کی مرادکیا تھی؟"

جواب: اگرچہ میں ترجمان القرآن میں اپنی مرادوضاحت کےساتھ بیان کرچکاہوں، مگراس کےبعد بھی اس الزام پراصرارکیا جارہاہے- اس کےمعنی یہ ہیں کہ قائل جب اپنےقول کی صاف صاف وضاحت کردے، تب بھی الزام لگانےوالا یہی کہتارہےگا کہ تیرےقول کا اصل منشاوہ نہیں ہےجوتوبیان کرتاہے، بلکہ وہ ہےجوہم بیان کرتےہیں- یہ عجیب رویہ ہےجو متقی اورخدا ترس لوگوں نےکبھی اختیارنہیں کیا-

حقیقت یہ ہےکہ اگرمیری طرف سےکوئی وضاحت نہ بھی ہوتی اورصرف اس مضمون کی متعلقہ عبارات ہی کوصاف ذہن کےساتھ پڑھا جاتا تو اس غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ ہوتی کہ اس سلسلہ کلام میں بشری کمزوریوں سےمراد عیوب اورنقائص ہوسکتےہیں- اس میں توساری بحث یہ ہےکہ دوسری قوموں نےاپنےانبیاء کےحق میں جومبالغےکئے ہیں اور ان کوخدا کی اولاد ،یا خدا کااوتارتک بنا ڈالا ہے، قرآن مجید نےان سب سےمسلمانوں کوبچالیا اورخدائی و رسالت کےدرمیان ایک ایسا خط امتیازکھینچ دیا جس سےہرانسان یہ جان سکتا ہےکہ رسول کیا ہےاورکیا نہیں ہے- آخر اس بحث کےدوران میں یہ کہنےکا کیا موقع ہوسکتا ہےکہ رسول عیوب اورنقائص سے بالاتر نہیں ہوتا-

علاوہ بریں اگرکوئی شخص الفاظ کےمعانی کی سمجھ رکھتاہوتووہ بشری کمزوریوں کامطلب عیوب اورنقائص ہرگزنہیں لےسکتا- انسان کےلیے" عیب" کا لفظ ایسےموقع پربولا جاتاہےجب وہ مثلا بدزبان ہو، جھوٹاہو، چغلخورہو، فریبی اورخائن اوربدکردارہو، " نقص" کا لفظ اس وقت استعمال ہوتاہےجب وہ یا توکسی جسمانی نقص میں مبتلا ہومثلا بد شکل یا ناقص الاعضاء ہونا، یا وہ کسی ذہنی یا اخلاقی نقص میں مبتلا ہو، مثلا کندذہن ، کم فہم یا خواہشات نفس سےمغلوب ہونا- ان دونوں کےبرعکس بشری کمزوریاں یہ ہیں کہ انسان اپنی سلامتی کےلیےغذااورپانی کا محتاج ہے- آرام اورنیند کا محتاج ہے- نکاح کا محتاج ہے- بیماری میں علاج کا محتاج ہے- دھوپ اوربارش سےبچنےکےلیےسائےکامحتاج ہے- سردی سےبچنےکےلیےگرم لباس کا محتاج ہے- اسی معنی میں اللہ تعالی نےفرمایا ہے(النساء آیت 28) " انسان کمزورپیدا کیا گیاہے"- ____________________*______________________

BLANK PAGE 190

داعئی حق کی خصوصیات

داعئی حق کی خصوصیات یہ انٹرویوعالمی تحریکات اسلامی کےفکری قائد اوربانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالا علی مودودی سے مسلم ٹوڈنٹس ایسوسی ایشن امریکہ و کینیڈا (M.S.A) کےنمائندہ جناب انیس احمد نے8اپریل1978 ء کولیا- یہ انٹرویودراصل ایم- ایس- اےکےسالانہ اجتماع کےشرکاء کےلیےپیغام کے طورپرفلم بندریکارڈکیا گیا ، جو کہ ایک ہی سوال اوراس کےجواب پر مشتمل ہے-

نمائندہ – ایم- ایس- اے _______________ مولانا! سب سےپہلےمیں جنوبی امریکہ اورکینیڈا کےمسلمانوں اورمسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سےآپ کا تہ دل سےشکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ نےہماری دعوت کوقبول فرمایا اورناسازی طبع کےباوجود ہمارےسالانہ اجتماع 1979ء کےلیےخصوصی انٹرویودنیا پسند فرمایا – یہ اللہ تعالی کی نہایت مہربانی اوراس کا فضل ہےکہ جنوبی امریکہ میں تحریک اسلامی کی فکرآپ کی اوراخوان المسلمون کےرہنماؤں کی تحریروں کی بدولت تیزی سےپھیل رہی ہےاوراسلامی انقلاب کا تصورذہنوں میں جڑپکڑرہا ہے- آج امریکہ میں بےشمارانسان آپ کی ایک جھلک دیکھنےاورآپ کی طرف سےرہنمائی کےچند کلمات سننےکےمنتظرہیں- انہی کی خواہش پرہم آپ کی خدمت میں حاضرہوئےہیں-

سوال: محترم مولانا! قرآن کریم، رسول خدا صلےاللہ علیہ وسلم کی داعی الی اللہ قراردیتاہے- آپ قرآن اورسیرت پاک کی روشنی میں ایک داعی حق کی کون سی اہم خصوصیات بیان فرمائیں گے؟-

جواب: امریکہ اورکینیڈا میں جواللہ کےبندےتحریک اسلامی کےلیےکام کررہےہیں، ان سب کومیری طرف سےسلام پہنچا دیجئے- میں زیادہ دیرتک بات نہیں کرسکتا، اس لیےمختصرطورپرآپ کا سوال کا جواب دیتاہوں-

قرآن کریم میں ایک آیت ہےجس میں ایک داعی کی اہم خصوصیات کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے- ومن احسن قولاممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین " یعنی اس شخص سےاچھی بات اورکس کی ہوگی جس نےاللہ کی طرف بلایا اورنیک عمل کیا اورکہا کہ میں مسلمان ہوں"-

اس ارشاد کی پوری اہمیت سمجھنےکےلیےیہ چیزنگاہ میں رکھنی ضروری ہےکہ یہ بات مکہ معظمہ کےحالات میں کہی گئی- یہ وہ دورتھا جب رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم اورآپ کےپیروؤں پرشدید مظالم ڈھائےجارہےتھے- ایسےعالم میں یہ کہنا اوراس بات کا اعلان کرنا کوئی آسان کام نہ تھا کہ میں مسلمان ہوں- ایسی بات کہنا گویا اپنےاوپردرندوں کوحملہ آورہونےکی دعوت دینا تھا- ان حالات میں پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ بہترین قول اس شخص کاہےجو اللہ کی طرف بلائے- دوسرےالفاظ میں ایک داعی حق کی خصوصیت یہ ہےکہ اس کی دعوت اللہ کی طرف ہو کوئی دنیاوی غرض اس کےسامنےنہ ہو- نہ وطنی ، نہ قومی، نہ خاندانی، اورنہ مادی، کوئی دوسرامقصد اس کےپیش نظرنہ ہونا چاہیے- کوئی شخص خالص اللہ کی طرف دعوت دےرہاہوتوقرآن مجید کی تعلیم کےمطابق ایسےداعی کی اولین خصوصیت یہ معلوم ہوئی کہ اسےاللہ کی توحید کی طرف دعوت دینی چاہیئے- اس بات کی دعوت دینی چاہیئےکہ خدا کےسواکسی کی بندگی ، کسی کی عبادت اورکسی کی پرستش نہ کی جائے- خدا کےسوا کسی کا خوف نہ ہو، خدا کےسواکسی سےکوئی طمع نہ ہو- صرف خدا ہی کےاحکام اوراس کےفرامین کی اطاعت اس کےپیش نظرہو- اسی کےقانون کی پیروی مطلوب ہو- آدمی دنیا میں جوکام بھی کرےیہ سمجھتےہوئےکرےکہ میں کس کا بندہ ہوں اورکس کےسامنےجاکرمجھےجوابدہی کرنی ہے- انسان کی تمام کوششوں اورساری جدوجہد کامرکزومحوراللہ اوراس کےرسول صلےاللہ علیہ وسلم کےبتائےہوئےاصولوں کے مطابق اپنی اوراجتماعی زندگی کی تعمیراوراس کےذریعےرضائےالہی کا حصول ہونا چاہیئے-

یہ تعلیم ہمیں قرآن پاک کےساتھ سنت رسول صلےاللہ علیہ وسلم میں بھی قدم قدم پرملتی ہے-رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی اپنی حیات طیبہ شہادت دیتی ہےکہ جب وہ خدا کی طرف سےدعوت حق دینےکے لیے کھڑےہوئےتو وہ معاشرہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال سےموجود تھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےعظیم الشان کردارکاشاہد تھا- اس معاشرےمیں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ تھا جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی کا قائل نہ ہو، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےظاہروباطن کی پاکیزگی کامعترف نہ ہو- جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےجس قدرقریب تھا وہ اتنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ معتقد تھا- جن افرادسےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کاکوئی پہلوچھپ نہیں سکتا تھا انہوں نےسب سےپہلےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرارکیا-

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا:- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پندرہ سال سےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں تھیں اوروہ کوئی کمسن عورت نہیں تھیں بلکہ عمرمیں ان سےبڑی تھیں- جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےنبوت کا دعوی کیا اس وقت ان کی عمرپچپن سال تھی- ایک ایسی پختہ ، سن رسیدہ اوردانشمند خاتون سےجس نےپندرہ سال سےاپنےشوہرکی زندگی کوقریب سےدیکھا ہو، شوہرکاکوئی عیب اس سےچھپ نہیں سکتا- دنیاوی اغراض کےلیےایک بیوی اپنےشوہرکےناجائزکاموں میں بھی شریک ہوسکتی ہے لیکن اس پرایمان کسی صورت نہیں لا سکتی- عقیدۂ بھی وہ یہ ماننےکےلیےکبھی تیارنہیں ہوسکتی کہ یہ شخص خدا کا رسول ہوسکتا ہےیا اسےہونا چاہیئے- لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حد تک معتقد تھیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےنبوت کی بشارت کاماجرابیان فرمایا توانہوں نےایک لمحےکاتامل کیئےبغیر اسے تسلیم کرلیا-

حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ:- قریب سےدیکھنےوالےدوسرےشخص زید بن حارث رضی اللہ عنہ تھےجوغلام کی حیثیت سےرسول خدا صلےاللہ علیہ وسلم کےگھرانےمیں آئےتھے- جب آئےتھےتوپندرہ برس عمرتھی اورجب رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی نبوت کا آغازہوا توحضرت زید رضی اللہ عنہ کی عمرتیس سال تھی- اس کا مطلب یہ ہےکہ پورےپندرہ سال انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےگھرمیں رہ کرہرطرح سےاورہرپہلوسےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کودیکھنےاورمشاہدہ کرنےکا موقع ملا- اوران کی شہادت ایک خاص صورت واقعہ میں سامنےآتی ہے- واقعہ یہ تھا کہ وہ بچپن میں والدین سےبچھڑگئےتھےاورخدا کی قدرت نےانہیں حضورتک پہنچا دیا- جب ان کےوالدین اوران کےچچا کومعلوم ہوا کہ ہمارا بیٹا فلاں جگہ غلامی کی زندگی بسرکررہاہے تو وہ مکہ معظمہ آئےیہ رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم سےکہا کہ: "آپ کا بڑا احسان ہوگا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارےاس بیٹےکوآزاد فرمادیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ:- " میں لڑکے(زید) کوبلا لیتاہوں، وہ آپ کےساتھ جانا چاہےتو میں آپ کےساتھ روانہ کردوں گا، اور اگر وہ میرےساتھ رہنا چاہےتومیں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ جو میرےساتھ رہنا چاہےتو اسےزبردستی اپنےسے علیحدہ کردوں-"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کےجواب میں، انہوں نےکہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےبہت انصاف کی بات کہی ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم زید کو طلب فرمائیے- جب حضرت زید رضی اللہ عنہ ان کےسامنے آئے توحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ: " ان لوگوں کوپہنچانتےہو؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نےکہا: " جی ہاں ! یہ میرےوالد اورچچا ہیں"- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ: " یہ تمہیں گھرواپس لےجانےکےلیےآئےہیں، تم جانا چاہو تو بڑی خوشی سےان کےساتھ جا سکتےہو"- ان کےوالد اورچچا نےبھی یہی کہا کہ " ہم تمیں لےجانا چاہتےہیں"- حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارث نےکہا کہ :

" میں نےان میں (حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ) ایسی خوبیاں دیکھی ہیں کہ جن کےبعد انہیں چھوڑکرمیں اپنےباپ اورچچا اوررشتہ داروں کےپاس جانا نہیں چاہتا"-

یہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاخلاق کےبارےمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےخادم کی گواہی – ایک خادم احسان مند توہوسکتاہےلیکن اتنا متاثراورگرویدہ نہیں ہوسکتاکہ اپنےمخدوم پرایمان لےآئے- ایمان لانےکےلیےضروری ہےکہ اس میں کردارکی ایسی بلندی اوراخلاق کی ایسی پاکیزگی دیکھی ہوکہ جس کےبعد اسےیہ ماننےمیں ذرا تامل نہ ہوکہ میرا مخدوم نبی ہے- یہ بات بھی پیش نظررکیھئےکہ حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارث کسی معمولی قابلیت کےآدمی نہیں تھے- مدینہ طیبہ میں جب رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں بکثرت فوجی مہمات میں لشکرمجاہدین کا سالاربنایاگیا- یہ گواہی ایسی قابلیت کےانسان کی گواہی تھی- ______________

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ:- پھرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالےعنہ تھے- جہنیں نبوت سےپہلےبیس سال تک ایک گہرےدوست کی حیثیت سےرسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کودیکھنےکاموقع ملا- ان کی نشست وبرخاست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ تھی- اورمکہ معظمہ میں سب سےزیادہ جن دوآدمیوں کی دوستی تھی ان میں سےایک حضرت محمد صلےاللہ علیہ وسلم تھےاوردوسرےحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – ایک دوست اپنے دوست کوپسند کرسکتا ہےاس سےاپنےدل کی بات کہہ سکتاہے- لیکن کبھی اتنا معتقدتو نہیں ہوسکتا کہ اس کو نبی مان لے- حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کابلا تامل آپ کو نبی مان لینا ظاہرکرتاہےکہ بیس سال کی ایک طویل مدت کےدوران میں انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کواخلاق کی پاکیزگی اورکرداربلندی کا مجسم نمونہ پایا- جب ہی توانہوں نےیہ تسلیم کیا- اوراس بات کا اعلان کیا کہ اتنےبلندکردارکا آدمی یقینا نبی ہو سکتا ہےاوراس کو نبی ہونا چاہیے-

حضرت علی کرم اللہ وجہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا نام میں نےپہلےاس لیےنہیں لیا کہ اس وقت وہ دس سال کےتھے- انہوں نےرسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کےگھرہی میں پرورش پائی تھی- لیکن دس سال کا بچہ بھی جس کےگھرمیں ہوجس کےپاس رہتاہو اس کےہرپہلوسےواقف ہوتاہے- خصوصا اتنا ذہین انسان جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی خصوصیات کی بنا پرآگےچل کرثابت ہوئےجس کا مطلب یہ ہےکہ وہ بچپن میں بھی یقینا اتنی ذہانت رکھتےتھےکہ جس کی بنا پرہم کہہ سکتےہیں- کہ ایک ذہین بچےکا اس بات کومان لینا اس کےبغیرممکن نہیں ہوسکتاتھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی پاکیزہ اوربلند اخلاق وکردارسےواقف تھا-

اس لیےعمل صالحا کےسلسلہ میں ان اعلی مثالوں سےمعلوم ہوا کہ انسان جس چیزکو پیش کررہاہو- اس کی زندگی ٹھیک ٹھیک اس دعوت کےمطابق بسرہورہی ہو- وہ اتنےپاکیزہ اخلاق اوربلند کردارکا مالک ہوکہ جب وہ اللہ کےراستےکی طرف بلانےکےلیےاٹھےتواس کی بات میں وزن ہواوراس کے قول میں اثر، اس کا عمل شہادت دےاورلوگ تسلیم کریں کہ یہ واقعی اپنےقول میں سچا ہے- قطع نظراس سےکہ لوگ اس چیزکومانیں یا نہ مانیں__________ لیکن یہ توان کوماننا پڑےگا کہ یہ آدمی اپنےقول میں سچا ہے، جوکچھ کہہ رہاہےوہ اس بنا پرکہہ رہاہےکہ وہ اس نظریےاس اصول اوراس دعوت کا قائل ہے- چنانچہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کےبدترین دشمن ابوجہل نےایک مرتبہ خود کہا" کہ اے محمد (صلےاللہ علیہ وسلم) ہم تم کو جھوٹا نہیں کہتےبلکہ اس پیغام کوجوتم لائےہوجھوٹا کہتےہیں"- یعنی آپ کا بدترین دشمن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا قائل تھا- پس ایک داعی کی دوسری بڑی خصوصیت اس کےقول و عمل کی یہ صداقت ہے، یہ بلندی کردارہےاوریہ پاکیزگی اخلاق ہے-

تیسری خصوصیت یہ بیان فرمائی گئی : وقال اننی من المسلمین یعنی وہ کہتاہےکہ میں مسلمانوں میں سےہوں- اسےسمجھنےکےلیےمکہ معظمہ کا وہ ماحول پیش نظررہتاچاہیئےجسےمیں شروع میں بیان کرچکا ہوں-_________ یہ وہ دورتھا کہ جب کسی فرد کا اٹھ کریہ اعلان کرنا کہ میں مسلمان ہوں، کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ درندوں کواپنےاوپرحملہ آورہونےکی دعوت دینا تھا__ تو داعی حق کی یہ خصوصیت سامنےآتی ہےکہ وہ صرف اللہ کی طرف دعوت دینےوالاہو- نہ صرف پاکیزہ عمل رکھنےوالا ہو- بلکہ وہ بدترین دشمنوں اورانتہائی ناسازگارحالات میں بھی اپنےمسلمان ہونےسےانکارنہ کرے- اپنےمسلمان ہونےکوچھپائےنہیں-

اپنےمسلمان ہونےکا اعلان اوراقرارکرنےمیں وہ نہ شرمائے، نہ جھجکےاورنہ ڈرے- بلکہ کھلم کھلم یہ کہےکہ " ہاں میں مسلمان ہوں جوکچھ جس کا جی چاہےکرلے"- دوسرےالفاظ میں داعی حق کی تیسری بڑی اوراہم خصوصیت یہ ہونی چاہیےکہ وہ نہایت جری آدمی ہو، نہایت بہادرآدمی ہو______ کسی بزدل آدمی کاکام نہیں ہےکہ وہ خدا کےراستےکی طرف دعوت دے- جوذرا سی چوٹ لگنےپربلبلےکی طرح بیٹھ جانےوالا ہو- ایسا انسان کبھی خدا کےراستےکی طرف نہیں بلا سکتا- خدا کےراستےکی طرف دعوت جوشخص دےسکتاہےوہ، ہےجوسخت سےسخت دشمنی کےماحول میں، مخالفت کےماحول میں، خطرات کےماحول میں اسلام کا علم لےکر اٹھ کھڑاہواوراس بات کی پروانہ کرےکہ اس کےنتائج کیا ہوں گے- رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات ، اس شجاعت کا ایک مکمل اورعملی نمونہ ہے- مکہ معظمہ میں کھلم کھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےدعوت اسلام پیش کی- شہادت حق کافریضہ انجام دیا اوران لوگوں کےدرمیان یہ کام جاری رکھا- جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےخون کےپیاسےہوگئےتھے، اورجہنوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کواورگپ صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ رضی اللہ عنہ کوظلم وتشدد کا نشانہ بنانےمیں کوئی کسراٹھانہ رکھی تھی- آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک اس ماحول کی تمام ترتاریکیوں، سختیوں اورمصیبتوں کےدرمیان اپنی دعوت پیش کرتےچلےگئے- پھرمدینہ طیبہ پہنچنےکےبعد جوحالات پیش آئےجن خطرناک اوربڑی بڑی لڑائیوں سےسابقہ پیش آیا ، ان میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم کبھی پیچھےنہیں ہٹا- غزوہ حنین کےموقع پرجب کہ مسلمانوں کوتقریبا شکست ہوچکی تھی- رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم نہ صرف اپنےمقام پرموجودرہےبلکہ میدان جنگ میں برابرآگےدشمن کی صفوں کی طرف بڑھتےچلےگئےاوراس بات کوچھپایا بھی نہیں کہ " میں کون ہوں" – آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہےتھے- انا النبی لا کذب ______________ انا ابن عبدالمطلب

" میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں __________ میں ابن عبدالمطلب ہوں"-

یہ اعلان آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ میں ایسےحالات کےدوران میں کررہےتھے- جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کےنرغےمیں تھےاورساتھ صرف دوتین ساتھی رہ گئےتھے- اس وقت بھی یہ کہا کہ "ہاں ! میں نبی ہوں" اس سےظاہرہواکہ ایک داعی حق کواتنا شجاع اوراتنا بہادرہونا چاہیےجواللہ کی راہ کی دعوت دینےکےلیےکھڑاہو- اگرداعی میں ہمت ، شجاعت ، استقامت، اوربہادری کاجوہرنہ ہوتووہ اس راہ میں کھڑاہونہیں سکتا- اوراگرکھڑاہوبھی جائےتواپنی بزدلی کی وجہ سےالٹا اس مشن کونقصان پہنچانےکا سبب بن جاتاہے-

یہ وہ چندباتیں تھیں جومیں نےآپ کےسامنےبیان کی ہیں- اگراس پرغورکیا جائےتویہ بجائےخود دعوت الی اللہ کا مکمل پروگرام ہےجس کےمطابق ہرجگہ، ہرماحول میں کام کیا جاسکتاہے- واخردعواناان الحمدللہ رب العالمین _________________________

کتاب خطبات یورپ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم