خطبات یورپ

جب نصب العین امن ہو

جب نصب العین امن ہو پاپائے روم کا پیغام اور اس کا جواب

دسمبر1967ء میں رومن کیتھولک چرچ کےپوپ ششم نے مشاہیرعالم کوعالمی امن کاپیغام بھیجا- مولینائےمحترم نے ان کےمکتوب کاحسب ذیل جواب دیا

Blank page 24

پوپ کا پیغام کا خلاصہ " ہمدنیا کےتمام خیراندیش انسانوں سےگذارش کرتےہیں کہ وہ دنیا بھرمیں نئےسال کےپہلےدن یکم جنوری کویوم امن منائیں- ہمارا خیال ہےکہ بحالات موجودہ امن کی ضرورت اوراس فقدان سےپیدا شدہ خطرات کووہ ساری قومیں ، بین الاقوامی مذہبی تنظیمیں اورتہذیبی وسیاسی تحریکیں محسوس کررہی ہیں جن کامطمع نظرعالمی قیام امن ہےاورجواسی کےلیےکوشاں ہیں ------

قیام امن کی راہ میں جوموانع درپیش ہیں، ان کا ازالہ ضروری ہے- ان موانع میں سےچند ایک یہ ہیں کہ اقوام عالم باہمی تعلقات میں خود غرضی برت رہی ہیں- بعض آبادیاں اس احساس کا شکار ہیں کہ انہیں عزت وشرف اوروقارکی زندگی بسرکرنےکےحق سےمحروم کردیاگیا ہے، اوراس حق کےعدم اعتراف کی وجہ سےیہ لوگ سربکف ہوکرتنگ آمدبجنگ آمد کی روش اختیارکرچکےہیں- یہ خیال عام ہوگیا ہےکہ بین الاقوامی تنازعات عدل وانصاف اورآپس کی گفت وشنید کےمعقول ذرائع سےطےنہیں کیےجاسکتے، بلکہ انہیں قاضی شمیشرکےحوالےکردینا ضروری ہےجوخون ریزی اورقتل انسانی کےغیرمحدود آلات ووسائل استعمال کرسکتاہے

امن وسلامتی اوربقائےباہمی کےلیےناگزیرہےکہ نئی نسلوں کورواداری ، اخوت اورعالم گیرمعاونت کی تربیت دی جائے----------- امن وامان محض لفاظیوں سےقائم نہیں ہوسکتا- اس طرح کا زبانی جمع خرچ بظاہرخوش آئندنظرآتاہےکیونکہ یہ انسانیت کےدل کی آوازہے- لیکن اکثروبیشتریہ چیزنہ صرف بےعملی اورعدم خلوص کوچھپانےکےلیےایک لبادےکاکام دیتی ہےبلکہ بسا اوقات جانبداری اورظلم وتعدی کی آلہ کاربن جاتی ہے- جب تک ریاستیں ایک دوسرےکےساتھ اورمختلف ریاستوں کےاندرخود ان کےحکام اورشہری ایک دوسرےکےساتھ محبت، اخلاص اورانصاف کواپنا حقیقی شعارنہ بنائیں- اورجب تک افراداوراقوام کوتہذیبی، اخلاقی اورمذہبی دائروں میں قول وعمل کی آزادی حاصل نہ ہو-اس وقت تک امن کی باتیں کرنابالکل بےمعنی اورلاحاصل ہے- آزادی اورسلامتی کےان لوازم کےبغیراگرمحض تغلب وتسلط کےذریعہ سےامن وامان اورقانونی نظم ونسق کاظاہری ڈھانچہ قائم بھی ہوجائے، تب بھی ہیجان وبغاوت اورجنگ وجدال کاایک لامتنا ہی اورناقابل تسیخرسلسلہ ہمیشہ جاری رہےگا

جواب:- چندروزپہلےمجھےڈاکٹرآراےٹبلر، ڈاکٹرلویولاہال، لاہورکےتوسط سےآپ کا وہ نہایت قابل قدرپیغام پہنچاجس میں آپ نےنئےسال کاآغازایک " یوم امن" کی تقریب سےکرنےکی اپیل کیتھولک چرچ کےمعتقدین کےعلاوہ تمام دنیا کےبڑےبڑےادیان کےپیروں اورتمام نیک خواہشات رکھنےوالےلوگوں سےکی تھی- اس پیغام کےمتعلق میں اپنےخیالات آپ تک جلدی پہنچانا چاہتاتھا، مگررمضان اورعیدالفطرکےمصروفیات اس میں مانع رہیں- اب پہلی فرصت میں میں آپ کوخطاب کررہا ہوں

میں آپ کواس بات پرمبارک باددیتاہوں کہ آپ نےایک ایسےمقصد کی طرف دنیا کےانسانوں کودعوت دی جو سب کا مشترک مقصد ہے، اورساتھ ساتھ ان اہم اسباب کی نشاندہی بھی کی جواس مقصد کےحصول میں سدراہ ہیں- فی الحقیقت امن ان اولین بنیادی ضروریات میں سےہےجن پرنوع انسانی کی فلاح وبہود کا انحصارہے- مگراس کی خواہش اوراس کی ضرورت کااحساس رکھنےکےباوجود جن وجوہ سےانسان ہمیشہ اس سےمحروم ہوتارہاہےاورآج بھی محروم ہےوہ وہی وجوہ ہیں جن میں سےاکثرکی طرف آپ نےصحیح طورپردنیا کےلوگوں کوتوجہ دلائی ہے- میں سمجھتاہوں کہ جب تک عملا انہیں رفع کرنےکےلیےکچھ نہ کیا جائےگا محض پاکیزہ خواہشات اورتمناؤں کےاظہارسےکوئی امن دنیا کومیسرنہ آسکےگا- اس بنا پرمیرےنزدیک یہ نہایت ضروری ہےکہ ہم میں سےہرایک شخص قوم، مجموعہ، اقوام، اورپیروان مذاہب کاگروہ پورےخلوص اوردیانت کےساتھ خود اپنا محاسبہ کرکےدیکھےکہ اس کی اپنی کوتاہیاں کیا ہیں جواس کےانبائےنوع کواوربالآخرخود اس کوامن سےمحروم کرنےکی موجب ہوتی ہیں، اورجہاں تک بھی اس کےامکان میں ہوان کورفع کرنےکی کوشش کرےاسی طرح ہم میں سےہرایک کوپوری صاف گو‏ئی کےساتھ ، اصلاح کی نیت سے، نہ کہ تلخی پیدا کرنےاوربڑھانےکےلیے، دوسرےگروہوں کےنیک نیت لوگوں تک یہ بات پہنچانی چاہیےکہ ان کےطرزعمل میں کیا چیزیں ایسی ہیں جواس کےگروہ کےلیےموجب اذیت ہوتی ہیں تاکہ وہ انہیں رفع کرنےکی کوشش کرسکیں

ٹھیک اسی غرض کےلیےمیں آپ کوچند ایسےامورکی طرف توجہ دلارہاہوں جومسلمانوں کےلیےاپنے مسیحی بھائیوں سےوجہ شکایت ہیں تاکہ کیتھولک چرچ کےپیشوائےاعظم ہونےکی حیثیت سےجوغیرمعمولی اثرورسوخ آپ کومسیحی دنیا میں حاصل ہےاس سےکام لےکرآپ ان کی اصلاح کےلیےسعی فرمائیں- اورمیں اس بات کا خیرمقدم کروں گا کہ ہمارےمسیحی بھائیوں کےلیےہمارےطرزعمل میں اگرکوئی چیزمعقول وجہ شکایت ہوتووہ ہمیں بتائی جائے- ہم انشاء اللہ ان کورفع کرنےکی کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھیں گے- دنیا میں امن اورصلح وآشتی کی فضا پیدا کرنےمیں ہم سب اسی طرح مددگار بن سکتےہیں کہ ایک دوسرےکےساتھ انصاف کریں- دوسروں سےفیاضانہ سلوک کرنےکی قراخ حوصلگی اگرہم میں موجود نہ بھی ہوتوکم ازکم اتنا توہوکہ دوسروں کی حق تلفی کرنےیا ان کواذیت دینےسےتو ہم باز رہیں

مسیحی بھائیوں کےطرزعمل میں جوامورکسی ایک یا قوم کےنہیں، پوری دنیا کےمسلمانوں کےلیے وجہ شکایت ہیں ، انہیں میں کسی لاگ لپیٹ کےبغیرمختصراآپ سےبیان کئےدیتاہوں

امن اورباہمی منافرت 1- ایک مدت درازسےمسیحی اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں سیدناحضرت محمد صلےاللہ علیہ وآلہ وسلم ،قرآن اوراسلام پرجوحملےکررہےہیں اورآج بھی جن کا سلسلہ جاری ہے، وہ مسلمانوں کےلیے انتہائی موجب اذیت ہیں- میں " حملے" کا لفظ قصدااستعمال کررہاہوں، تاکہ آپ کویہ غلط فہمی نہ ہوکہ ہماری شکایت معقول علمی تنقید کےخلاف ہے- علمی تنقید اگردلیل کےساتھ اورتہذیب وشائستگی کےحدود میں ہوتو خواہ وہ کیسےہی سخت اعتراضات پرمشتمل ہو، ہم اس پربرانہیں مانتےبلکہ اس کا خیرمقدم کرتےہیں اوردلیل کاجواب دلیل سےدینےکےلیےتیارہیں- لیکن ہمیں بجاطورپرشکایت ان حملوں کےخلاف ہےجوچھوٹےاوررکیک الزامات کی صورت میں اورنہایت دل آزاد زبان میں کیےجاتےرہےہیں اوراب تک کیےجارہےہیں- جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ حضرت مریم علیہاالسلام اورحضرت عیسی علیہ السلام کاانتہائی ادب واحترام ملحوظ رکھتےہیں اوران کےمتعلق کوئی خلاف ادب بات زبان سےنکالنا ہمارےعقیدےمیں کفرہے- آپ کوئی مثال ایسی نہیں پاسکتےکہ کسی مسلمان نےکبھی سیدنا عیسی علیہ السلام اوران کی والدہ ماجدہ کی شان میں کوئی بےادبی کی ہو- اگرچہ ہم حضرت عیسی کی الوہیت کےقائل نہیں ہیں، مگران کی نبوت پرہمارا ویسا ہی ایمان ہےجیسا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پرہے، اورکوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ان پراوردوسرے انبیاء پربھی ایمان نہ لائے- اسی طرح ہم صرف قرآن ہی کونہیں بلکہ تورات اورانجیل کوبھی خدا کی کتابیں تسلیم کرتےہیں اورکوئی مسلمان ان مقدس کتابوں کی توہین کاخیال بھی نہیں کرسکتا- ہماری طرف سےاگرکبھی کوئی بحث ہوئی ہےتو اس حیثیت سےہوئی ہےکہ بائیبل جس شکل میں اب پائی جاتی ہےیہ کہاں تک مستند ہے، اوریہ بحث خود مسیحی علماء بھی کرتےرہےہیں- لیکن کسی مسلمان نےکبھی اس کا انکارنہیں کیا کہ حضرت موسی علیہ السلام ورعیسی علیہ السلام اوربائیبل کےدوسرےانبیاء پراللہ کاکلام نازل ہئوا تھا- اورمسلمان چاہے یہ بات نہ مانتےہوں کہ اس وقت پائی جانےوالی پوری بائیبل اللہ کا کلام ہے، مگریہ ضرورمانتےہیں کہ اس میں اللہ کاکلام موجود ہے- لہذا ہمارےمسیحی بھائیوں کوہم سےیہ شکایت کرنےکاکبھی موقع نہیں ملا ہےکہ ہم ان کےانبیاء کی، یا ان کی کتب مقدسہ کی توہین کرتےہیں، بخلاف اس کےہمیں آئےدن ان سےیہ رنج پہنچتا رہتا ہے، اورصدیوں سےاس دل آزاری کاسلسلہ چل رہا ہےکہ ان کےمصنفین اورمقررین ہمارےنبی اورہماری کتاب مقدس اورہمارےدین پرسخت حملےکرتےہیں- دنیا کی اسلامی اورمسیحی برادریوں کےدرمیان تعلقات کی خرابی کایہ ایک اہم سبب ہے- اس سےشدید باہمی منافرت پیدا ہوتی ہے، اورمزید براں اس نارداپروپیگنڈے کا لازما یہ نتیجہ بھی ہوتاہےکہ مسیحی عوام کےدلوں میں مسلمانوں کےخلاف نفرت وتحقیرکےجذبات پیداہوتے ہیں- آپ دنیا کےامن کی بہت بڑی خدمت انجام دیں گے، اگرمسیحیت کےپیروں کواس طرزعمل میں کم ازکم اتنی اصلاح کرلینےکی نصیحت کریں کہ یہ دل آزاری اورنفرت انگیزی کی حد تک نہ پہنچے

امن اوراستعماریت :- مسیحی مشن اورمشنری ایک مدت درازسےمسلم ممالک میں مسیحیت پھیلانےکےلیےجو طریقے استعمال کرتےرہےہیں اورآج بھی کررہےہیں ، وہ بھی دنیا کےمسلمانوں کےلیےایک بڑی وجہ شکایت ہیں، دوسرےملکوں اورآبادیوں میں ان کاجوطرزعمل بھی ہو- اس سےہمیں کوئی بحث نہیں- مگرمسلمان ملکوں اورآبادیوں میں ہمارا تجربہ اورمشاہدہ یہ ہےکہ انہوں نےمحض " تبلیغ " پراکتفانہیں کیا ، بلکہ اس سےتجاویز کرکےدوسرےمتعددایسےطریقےاختیارکئےہیں جوتبلیغ کےبجائےسیاسی دباؤ ، معاشی طمع وتحریص، اور اخلاقی واعتقادی تخریب کی تعریف میں اتےہیں جنہیں مشکل ہی سےکوئی معقول آدمی اشاعت مذہب کے جائزذرائع تسلیم کرسکتاہے- افریقہ کےایک بڑےحصہ میں انہوں نےاستعماری طاقتوں کی مدد سے مسلمانوں کوتعلیم سےمحروم کیا، اوردرسگاہوں کےدروازےہراس شخص پربندکردیئےجو مسیحیت قبول نہ کرے، یا کم ازکم اپنا اسلامی نام ترک کرکےمسیحی نام نہ اختیارکرلے- اس طریقےسےجوبااثرمسیحی اقلیت پیدا ہوگئی، آزادی کادورآنےکےبعد آج وہ بہت سی ایسی افریقی ریاستوں پرسیاسی ،فوجی اورمعاشی حیثیت سے غالب ہےجن کی بیشترآبادی مسلمان ہے- یہ ایک صریح نا انصافی تھی جو مسلم اکثریت رکھنےوالےافریقی ملکوں کےساتھ کی گئی- سوڈان میں برطانوی استعمارکی مدد سےمشنریوں نےجنوبی حصےکواپنےلیے " محفوظ علاقہ" بنوالیاجس میں تعلیم اورتبلیغ کاحق صرف مسیحی مشنریوں کےلیےمختص کردیا گیا اورمسلمانوں کےلیےتبلیغ تودرکنار،دوسری اغراض تک کےلیےوہاں جانےپرپابندیاں عائد کردی گئیں- میں نہیں سمجھتاکہ اس کوکسی دلیل سےبھی اشاعت مذہب کاجائزومعقول طریقہ ثابت کیا جاسکتاہے- خود ہمارےملک میں مشن ہسپتالوں اور درسگاہوں کامعروف طریق کاریہ ہےکہ وہ مسلمان مریضوں اورطلبہ سےبےتحاشوں فیسیں وصول کرتے ہیں، اورجوغریب آدمی عیسائیت قبول کرےاسےعلاج اورتعلیم کی سہولتیں مفت یا برائےنام خرچ پربہم پہنچاتےہیں- ظاہرہےکہ یہ تبلیغ نہیں بلکہ ضمیروایمان کی خریدوفروخت ہے- علاوہ بریں ان کی درسگاہیں ہمارےہاں ایک ایسی نسل تیارکررہی ہیں جو نہ مسیحیت اختیارکرتی ہےنہ مسلمان رہتی ہے، بلکہ اپنےاخلاق و تہذیب ، زبان اورطرززندگی کےاعتبارسےایک اجنبی عنصربن کررہ جاتی ہے، اورمذہبی حیثیت سےاس کےاندرمسیحیت یا اسلام کےبجائےالحادوبےدینی کےرجحانات پیدا ہوجاتےہیں- کیا کوئی معقول آدمی یہ مان سکتاہےکہ یہ مذہب کی کوئی خدمت ہےجومسیحی مشن انجام دےرہےہیں؟ یہی وجوہ ہیں، جن کی بنا پرمسلمان ملکوں میں عموما ان مشنوں کومذہبی تبلیغ کےبجائےاسلام اورمسلم معاشرےکےخلاف ایک سازش سمجھا جاتاہے- میں آپ سےدرخواست کرتاہوں کہ آپ اس کےنتائج پرغورفرمائیں اوراپنا اثرورسوخ استعمال کرکےمشنری اداروں کے طرزتبلیغ میں اصلاح کی کوشش کریں

امن اوراسرائیل :- مسیحی دنیا کےمتعلق مسلمانوں کاعام احساس یہ ہےکہ وہ اسلام اورمسلمانوں کےخلاف ایک شدید جذبہ عنادرکھتی ہے، اورآئےدن ہمیں ایسےتجربات ہوتےرہتےہیں، جواس احساس کوتقویت پہنچاتےہیں- اس کا تازہ ترین تجربہ وہ ہےجو ابھی حال میں عرب اسرائیل جنگ کےموقع پرہئوا ہے- اس لڑائی میں اسرائیل کی فتح پریورپ اورامریکہ کےبیشترملکوں میں جس طرح خوشیاں منائی گئیں انہوں نےتمام دنیا کے مسلمانوں کےدل میں زخم ڈال دئیےہیں- آپ شاید ہی کوئی مسلمان ایسا پائیں گےجس نےعربوں کی شکست اوراسرائیل کی فتح پرمسیحی دنیا کےاس علمی الاعلان اظہارمسرت وشادمانی اوراسرائیل کی کھلی کھلی حمایت کودیکھ کریہ محسوس نہ کیا ہوکہ یہ اسلام اورمسلمانوں کےخلاف مسیحیوں کےگہرےجذبہ عناد کامظاہرہ تھا- فلسطین میں اسرائیل کی ریاست جس طرح بنی ہے، بلکہ بنائی گئی ہے- اس کی تاریخ کسی سےپوشیدہ نہیں ہے- دوہزاربرس سےفلسطین عرب آبادی کاوطن تھا- موجودہ صدی کےآغازمیں وہاں یہودی 8 فی صد سےزیادہ نہ تھے- اس حالت میں برطانوی حکومت نےاس کویہودیوں کاقومی وطن بنانےکافیصلہ کیا اورمجلس اقوام نےنہ صرف اس فیصلےکی توثیق کی بلکہ برطانوی حکومت کوفلسطین کامینڈیٹ دیتےہوئےیہ ہدایت کی کہ وہ یہودی ایجنسی کوباقاعدہ شریک حکومت بناکراس تجویزکوعملی جامہ پہنائے- اس کےبعد دنیا بھرکےیہودیوں کولالا کرہرممکن تدبیرسےفلسطین میں بسانےکا سلسلہ شروع کردیاگیا یہاں تک کہ 30 سال کےاندران کی آبادی 33فیصدی تک پہنچ گئی- یہ ایک صریح ظلم تھا جس کےذریعہ سےایک قوم کےوطن میں زبردستی ایک دوسری اجنبی قوم کاوطن بنایا گیا – پھرایک دوسرا اس سےبھی زیادہ ظالمانہ قدم اٹھایاگیا اورامریکہ نےکھلے بندوں دباؤ ڈال کراقوام متحدہ سےیہ فیصلہ کرایا کہ یہودیوں کےاس مصنوعی قومی وطن کویہودی ریاست میں تبدیل کردیا جائے- اس فیصلےکی رو سے33فیصدی یہودی آبادی کوفلسطین کا 55 فیصدی، اورعربوں کی 67 فیصدی آبادی کو45فیصدی یہودی رقبہ الاٹ کیا گیا تھا، لیکن یہودیوں نےلڑکرطاقت کےبل پراس ملک کا77 فیصدی رقبہ حاصل کرلیا اورماردھاڑ اورقتل وغارت کےذریعہ سےلاکھوں عربوں کوگھرسےبےگھرکردیا- یہ ہےاسرائیل کی اصل حقیقت – کیا دنیا کاکوئی انصاف تسنداورایماندار آدمی یہ کہہ سکتاہےکہ یہ ایک جائزریاست ہےجوفطری اورمنصفانہ طریق سےبنی ہے؟ اس کا توعین وجودہی ایک بدترین جارجیت ہے- اوراس پرمزید ظلم یہ ہےکہ یہودی صرف ان حدود کےاندرمحدود رہنےپربھی راضی نہیں ہیں جوانہوں نےفلسطین میں زبردستی حاصل کی ہیں، بلکہ وہ سالہا سال سےعلانیہ کہہ رہےہیں کہ نیل سےفرات تک کاپورا علاقہ ان کاقومی وطن ہے- اس کےدوسرےمعنی یہ ہیں کہ یہ قوم ہروقت یہ جارحانہ ارادہ رکھتی ہےکہ اس پورےعلاقےپرجبراقبضہ کرےاوراس کےاصل باشندوں کوزبردستی وہاں سےنکال کردنیا بھرمیں پھیلےہوئےیہودیوں کووہاں لا کربسائے، اسی جارحانہ اسکیم کاایک جزگذشتہ ماہ جون کاوہ اچانک حملہ تھاجس کےذریعہ سےاسرائیل نے26 ہزارمربع میل علاقےپرقبضہ کیا- اس پورےظلم کی ذمہ دارمسیحی دنیا ہےاس نےایک قوم کےوطن میں ایک دوسری قوم کاوطن زبردستی بنوایا- اس نےاس مصنوعی قومی وطن کوایک ریاست میں تبدیل کرایا- اس نےاس جارح ریاست کوروپےاورہتھیاروں سےمدد دےکراتناطاقتور بنایا کہ وہ زبردستی اپنےتوسیعی منصوبوں کوعمل میں لا سکے- اوراب اس ریاست کی تازہ فتوحات پریہی مسیحی دنیا جشن شادمانی منارہی ہے- کیا آپ سمجھتےہیں کہ اس کےبعد نہ صرف عربوں میں، بلکہ تمام دنیاکے مسلمانوں میں مسیحیوں کی انصاف پسندی ، ان کی خیراندیشی ، اورمذہبی عنادوتعصب سےان کی بریت پرکوئی اعتماد باقی رہ گیا ہے؟ اورکیا آپ کا خیال ہےکہ دنیا میں امن قائم کرنےکےیہی طریقےہیں؟ یہ دراصل ہمارا نہیں بلکہ آپ کاکام ہےکہ مسیحی بھائیوں کواس روش پرشرم دلائیں اوران کی روح کواس گندگی سےپاک کرنےکی کوشش کریں

امن اوراقوام متحدہ اس سلسلےمیں ایک زیادتی ایسی بھی ہےجوخودآپ کی طرف سےہورہی ہےاگرچہ میں سمجھتاہوں کہ وہ نیک نیتی کےساتھ ہےاورآپ کوغالبایہ احساس نہیں ہےکہ درحقیقت وہ ایک زیادتی ہے- میرا اشارہ آپ کی اس تجویزکی طرف ہےکہ قدیم بیت المقدس کوبین الاقوامی کنٹرول میں دےدیا جائے- آپ یہ تجویزشاید اس خیال سےپیش کررہےہیں کہ اس طرح یہ مقدس شہرلڑائی جھگڑےسےمحفوظ رہےگا- لیکن درحقیقت اس کا نتیجہ ایک اورظلم کی شکل میں رونما ہوگا- ظاہرہےکہ بین الاقوامی کنٹرول اسی بین الاقوامی ادارےکےہاتھ میں ہوگا جس نےاسرائیل کی یہ مصنوعی ریاست بنائی ہےاور آج تک اسرائیل کی کسی جارجیت کونہ روک سکاہے- نہ اس کےہوہونےکےبعد اس کا تدارک کرسکاہے- اس ادارےکےکنٹرول میں جب یہ شہرآجائےگا تووہ یہودیوں کےلیےبیت المقدس میں آباد ہونےکےدروازےاسی طرح چوپٹ کھول دےگا جس طرح مجلس اقوام کےانتداب کےتحت برطانوی حکومت نےیہودی مہاجرین کے لیےفلسطین کےدروازےکھولےتھےاورپھریہودیوں کوبیت المقدس کی زمینیں اورعمارتیں خریدنےکی وہی سب سہولتیں بھی فراہم کردی جائیں گی جوبرطانوی انتداب اس سےپہلےفلسطین میں ان کوفراہم کرچکا ہے- اس طرح تھوڑی ہی مدت کےاندریہ شہرعملا یہودی شہربن جائےگا اوروہ یہودی اس پرقابض ہوں گےجن کےدلوں میں نہ مسیحی مقدسات کاکوئی احترام ہےنہ اسلامی مقدسات کا

میں آپ کےپیغام کےجواب میں اس طویل مراسلےاوراس صاف گوئی پرمعذرت خواہ ہوں- مگرمیں آپ کویہ بتانا اپنافرض سمجھتا تھا کہ قیام امن کی اصل رکاوٹیں کیا ہیں جنہیں دورکرنےکےلیےعملا کچھ کرنےکی ضرورت ہے- اس کےساتھ میں پھراس بات کااعادہ کرتاہوں کہ اگراسلامی دنیا کی طرف سےکوئی ایسی بات ہوجسےامن عالم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جائےتووہ مجھےبتائی جائےمجھ کوجو تھوڑابہت اثردنیا‏ئےاسلام میں حاصل ہےاسےمیں خود بھی اس رکاوٹ کےدورکرنےمیں استعمال کروں گا اوردوسرےزعمائےاسلام کوبھی اس کی طرف توجہ دلاؤں گا

Blank page 36

کتاب خطبات یورپ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم