اسلام کس چیز کا علمبردارہے سید ابو الا علی مودودی اپریل کےآغازمیں اسلامک کونسل آف یورپ لندن میں ایک کانفرنس کررہی ہے- یہ مقالہ اسی کی فرمائش پر لکھ کربھیجاگیا ہےافسوس ہےکہ اپنی بیماری کےباعث میں خود وہاں نہ جاسکا-
اسلام کس چیزکا علمبردارہے؟ 1- ابتداء ہی میں یہ وضاحت کردینا ضروری ہےکہ ہمارےعقیدےکےمطابق اسلام کسی ایسےدین کا نا نہیں ہےجسےپہلی مرتبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےپیش کیا ہواوراس بنا پرآپ کوبانی اسلام کہنا صحیح ہو- قرآن اس امرکی پوری صراحت کرتاہےکہ خدا کی طرف سےنوع انسانی کےلیےہمیشہ ایک ہی دین بھیجا گیا ہے، اوروہ ہے اسلام______خدا کےآگےسراطاعت جھکا دینا- دنیا کےمختلف حصوں اورمختلف قوموں میں جوانبیاء بھی خدا کےبھیجےہوئےآئےتھے- وہ اپنےکسی الگ دین کےبانی نہیں تھےکہ ان میں سےکسی کے لائےہوئےدین کونوحیت اورکسی کےدین کوابراہمیت یا موسویت، یا عیسائیت کہا جاسکے- بلکہ ہرآنےوالا نبی اسی ایک دین کوپیش کرتارہاجواس سےپہلےکےانبیاء پیش کرتےچلےآرہےتھے_1
2- انبیاء میں سےمحمد صلےاللہ علیہ وسلم کی خصوصیت دراصل یہ ہےکہ (1) وہ خدا کےآخری نبی ہیں-(2) ان کےذریعہ سےخدا نےاسی اصل دین کوپھرتازہ کردیاجوتمام انبیاء کا لایا ہواتھا- (3)اس میں جوآمیزشیں مختلف زمانوں کے لوگوں نےکرکےالگ الگ مذاہب (RELIGIONS) بنالیےتھےان سب کو خدا نےچھانٹ کرالگ کردیا اورمحمد صلےاللہ علیہ وسلم کےذریعےسےاصلی اورخالص اسلام کی تعلیم نوع انسانی کودی- (4) ان کےبعد چونکہ خدا کوکوئی نبی بھیجنا نہیں تھا اس لیےان کو جو کتاب اس نےدی اسےاس کی اصل زبان میں لفظ بلفظ محفوظ کر دیا - _1 تاکہ انسان ہرزمانےمیں اس سےہدایت حاصل کرسکے-_2 (5) خودان کی سیرت اورسنت کو صحابہ رضی اللہ عنہ اوربعد کے محدثین نےایسےبےمثل طریقےسےمحفوظ کرلیا جس سےزیادہ محفوظ طریقہ سےکبھی کسی نبی یا کسی اورتاریخی شخصیت کےحالات زندگی اوراس کےاقوال واعمال محفوظ نہیں کیےگئے-_ 1 (6) اس طرح قرآن مجید اوراس کےلانےوالےنبی کی مستند سیرت وسنت ، دونوں باہم مل کرہمیشہ کےلیےیہ معلوم کرنےکا قابل اعتماد ذریعہ بن گئےہیں کہ خدا کا دین دراصل کیا ہےکیا رہنمائی وہ ہمیں دیتاہے، اورہم سےکیا چاہتاہے-
مختصراوہ طریقہ یہ تھا کہ جو شخص بھی محمد صلےاللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکےکوئی بات بیان کرتااسےلازما یہ بتانا پڑتاتھا کہ اس تک کن روایوں کےذریعہ سےوہ بات پہنچی ہے، اورروایت کا یہ سلسلہ کسی ایسےشخص تک پہنچتاہےیا نہیں جس نےخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےوہ بات سنی ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کووہ کام کرتےدیکھا ہو- پھرجن جن راویوں کےذریعہ سےیہ روایات بعد کےلوگوں تک پہنچیں ان کےحالات کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکےکہ ان کی بیان کی ہوئی روایات قابل اعتماد ہیں یا نہیں- اس طرح احادیث کےمجموعےتیارکیےگئےجن کےمرتب کرنےوالوں نےہرحدیث کے راویوں کاپورا سلسلہ درج کردیا- اوراس کےساتھ راویوں کےحالات پربھی کتابیں لکھ دی گئیں جن کی مدد سے آج بھی ہم یہ تحقیق کرسکتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کیسی تھی اورانہوں نے اپنے قول وعمل سےلوگوں کوکیا تعلیم دی تھی-
3- اگرچہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سےپہلےکےتمام انبیاء پرایمان رکھتےہیں____ ان پربھی جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہےاوران پربھی جن کا ذکرقرآن مجید میں نہیں آیا_ 1_______ اوریہ ایمان ہمارےعقیدے کا ایسا لازمی حصہ ہےجس کےبغیرہم مسلمان نہیں ہوسکتے،_______2 لیکن ہدایت حاصل کرنےکےلیےہم صرف محمد صلےاللہ علیہ وسلم ہی کی طرف رجوع کرتےہیں – یہ کسی تعصب کی بنا پرنہیں ہے- دراصل اس کی وجہ یہ ہےکہ ( 1) وہ آخری نبی ہیں اس لیے ان کی لائی ہوئی تعلیم خدا کی طرف سےجدید ترین ہدایت (LATEST DISPENSATION) ہے،(2)ان کےذریعےسےجوکلام اللہ (WORD OF GOD) ہم کوپہنچا ہےوہ خالص اللہ کا کلام ہےجس کےساتھ کسی انسانی کلام کی آمیزش نہیں ہوئی ہے- وہ اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے، اس کی زبان ایک زندہ زبان ہےجسےآج بھی کروڑوں انسان بولتے، لکھتےاورسمجھتےہیں، اور اس زبان کی گرائمر، لغت ، محاروے، تلفظ اوراملا میں نزول قرآن کےزمانےسےاب تک کوئی تغیرنہیں آیا ہے، اور(3) جیسا کہ ابھی میں بیان کرچکا ہوں ان کی سیرت ، اخلاق کردار، اقوال اوراعمال کےمتعلق پورا تاریخی ریکارڈ زیادہ سےزیادہ ممکن صحت ، اورزیادہ سےزیادہ ممکن تفصیلات کےساتھ محفوظ ہے- یہ بات چونکہ دوسرےانبیاء پرصادق نہیں آتی اس لیےہم ان پرصرف ایمان رکھ سکتےہیں ، عملا ان کی پیروی نہیں کرسکتے-
4- ہمارےعقیدےکےمطابق رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام دنیا کےلیےہرزمانےکےلیےہے- اس لیےکہ (1)قرآن مجید اس کی صراحت کرتاہے_1 (2) یہ ان کےآخری نبی ہونےکامنطقی تقاضا ہے- کیونکہ دنیا میں ایک نبی ہونےسےخود بخود لازم آتاہےکہ وہ تمام انسانوں کےلیے اور اپنےبعد آنےوالےہرزمانےکےلیےہادی ورہبرہو- (3) ان کےذریعہ سےوہ ہدایت مکمل طورپردےدی گئی ہےجو راہ راست پرچلنےکےلیےانسان کودرکارہے_2 ، اوریہ بھی ان کےآخری نبی ہونےکا منطقی تقاضا ہے، کیونکہ مکمل ہدایت کےبغیرجونبی بھیجا گیا ہووہ آخری نبی نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کےبعد پھرایک نبی کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے- (4) اوریہ ایک امرواقعہ ہےکہ ان کےبعد پچھلےچودہ سوسال میں کوئی ایسی شخصیت نہیں آئی ہےجوخدا کی طرف سےنبی ہونےکا دعوی کرنےکےساتھ اپنی سیرت وکرداراوراپنےکام اور کلام میں انبیاء سےکوئی ادنی درجےکی بھی مشابہت رکھتی ہو،جس نےحامل وحی ہونےکا دعوی کرکے کوئی ایسی کتاب پیش کی ہوجوخدائی کلام سےبرائےنام بھی کوئی مناسبت رکھتی ہو، اورجسےشریعت دینے والا (LAW GIVER) نبی کہا جاسکتاہو-
5- گفتگوکےاس مرحلےپریہ جان لینا بھی ضروری ہےکہ خدا کی طرف سےانسان کوکسی خاص علم کی ضرورت ہےجوصرف انبیاء ہی کےذریعہ سےدیا گیا ہے؟ دنیا میں ایک قسم کی چیزیں وہ ہیں جنہیں ہم اپنےحواس کےذریعہ سےمحسوس کرسکتےہیں یا اپنےفنی آلات (SCIENTIFIC- INSTRUMENTS) سےکام لےکران کا ادراک کرسکتےہیں اوران ذرائع سےحاصل ہونےوالی معلومات کومشاہدات وتجربات اورفکرواستدلال کی مدد سےمرتب کرکےنئےنئےنتائج تک پہنچ سکتےہیں- اس نوعیت کی اشیاء کا علم خدا کی طرف سےآنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ ہماری اپنی تلاش و جستجو،غوروفکراورتحقیق واکتشاف کا دائرہ ہے، اگرچہ اس معاملہ میں بھی ہمارےخالق نےہمارا ساتھ بالکل چھوڑنہیں دیا ہے- تاریخ کےدوران میں وہ غیرمحسوس طریقےسے ایک تدریج کےساتھ اپنی پیدا کی ہوئی دنیا سےہمارا تعارف کراتارہاہے- علم وواقفیت کےدروازےہم پرکھولتارہا ہے- اوروقتافوقتا الہامی طورپرکسی نہ کسی انسان کوایسی کوئی بات سمجھاتارہاہےجس سےوہ کوئی نئی ایجاد، یا کوئی نیا قانون فطرت دریافت کرنےپرقادرہوسکاہے- لیکن فی الجملہ ہےیہ انسانی علم ہی کادائرہ جس کےلیےخدا کی طرف سےکسی نبی اورکتاب کےآنےکی حاجت نہیں ہے- اس دائرےمیں جومعلومات مطلوب ہیں انہیں حاصل کرنےکےذرائع انسان کودےدیےگئےہیں-
دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں جوہمارےحواس اورہمارےفنی آلات کی پہنچ سےبالاترہیں- جنہیں نہ ہم تول سکتےہیں، نہ ناپ سکتےہیں، نہ اپنےذرائع علم میں سےکوئی ذریعہ استعمال کرکےان کےمتعلق وہ "علم " (KNOWLEDGE) کہا جاسکتاہو- فلسفی اورسانئس داں ان کےبارے میں کوئی رائےقائم کرتےہیں تووہ محض قیاس (GUESS) وتخمین اورظن (SPECNLATION) ہےجسےعلم نہیں کہا جاسکتا- یہ آخری حقیقیتیں (ULTIMATE- REALITIES) ہیں- جن کےمتعلق استدلالی نظریات کوخود وہ لوگ بھی یقیتی قرارنہیں دےسکتےجنہوں نےان نظریات کوپیش کیا ہےاوراگروہ اپنےعلم کےحدود کوجانتےہوں تونہ ان پرخود ایمان لاسکتےہیں نہ کسی کوایمان لانےکی دعوت دےسکتےہیں-
یہی وہ دائرہ ہےجس میں انسان حقیقت کوجاننےکےلیےخالق کائنات کےدیےہوئےعلم کامحتاج ہے- اورخالق نےیہ علم کبھی اس طرح نہیں دیا ہےکہ کوئی کتاب چھاپ کرایک ایک آدمی کےہاتھ میں دےدی ہو، اوراس سےیہ کہا ہوکہ اسےپڑھ کرخود معلوم کرےکہ کائنات کی اورخودتیری حقیقت کیا ہے، اوراس حقیقت کےلحاظ سےدنیا کی زندگی میں تیرا طرزعمل کیا ہونا چاہیے- اس علم کوانسانوں تک پہنچانےکےلیےاس نےہمیشہ انبیاء کوذریعہ بنایاہے، وحی کےذریعہ سےان کوحقائق سےآگاہ کیا ہےاورانہیں اس کام پرمامورکیا ہے کہ یہ علم لوگوں تک پہنچادیں-
6- نبی کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہےکہ وہ بس حقیقت کاعلم لوگوں تک پہنچادےبلکہ اس کاکام یہ بتانا بھی ہےکہ اس علم کےمطابق خدااورانسان کےدرمیان اورانسان اورانسان کےدرمیان کیا تعلق فی الحقیقت (FACTUALLY) ہےکیا تعلق عملا (ACTUALLY) ہوناچاہیےاس علم کی رو سےمعاشرت معیشت، مالیات (FINANCE) سیاست ،عدالت،صلح وجنگ ، بین الاقوامی تعلقات،غرض زندگی کےہرشعبےکی تشکیل کن اصولوں پرہونی چاہیے- نبی صرف ایک نظام عبادات و رسوم RITUAL) AND WORSHIP) لےکرنہیں آتا جسےدنیا کی اصطلاح میں مذہب (RELIGION) کہاجاتاہے،کہ وہ ایک پورانظام زندگی لےکرآتاہےجس کا نام اسلام کی اصطلاح میں دین (WAY OF LIFE) ہے-
7- پھریہ بھی نہیں ہےکہ نبی کامشن صرف دین کاعلم پہنچانےتک محدود ہو- بلکہ اس کامشن یہ بھی ہےکہ جولوگ اس کےپیش کردہ دین کوقبول کرکےمسلم بن جائیں- انہیں وہ دین سمجھائے،ان کےعقائد ، اخلاقیات ، عبادات ، قانونی احکام اورمجموعی نظام حیات سےان کوآگاہ کرے، ان کےسامنےخود ایک نمونےکا مسلمان بن کردکھائےتاکہ وہ اپنی زندگی میں اس کی پیروی کرسکیں ، انہیں انفرادی اوراجتماعی تربیت دےکرایک صحیح اسلامی تہذیب وتمدن کےلیےعملا تیارکرے، اوران کومنظم کرکےایک ایسی جماعت بنا دےجو دنیا میں خدا کےدین کوبالفعل قائم کرنےکی جدوجہد کرے، یہاں تک کہ خدا کا کلمہ بلند ہوجائےاوردوسرےکلمےپست ہوکر رہ جائیں – ضروری نہیں ہےکہ سب نبی اپنےاس مشن کوکامیابی کےآخری مراحل تک پہنچانےمیں کامیاب ہی ہوگئےہوں- بہت سےانبیاء ایسےہیں جواپنےکسی قصورکی بنا پرنہیں بلکہ متعصب لوگوں کی مزاحمت اورحالات کی نامساعدت کےباعث اس میں ناکام ہوگئے- لیکن بہرحال تمام انبیاء کامشن تھا- یہی – البتہ محمد صلےاللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت تاریخ میں نمایاں ہےکہ انہوں نےخدا کی بادشاہی زمین میں اسی طرح قائم کرکےدکھادی جیسی وہ آسمان میں ہے-
8- قرآن مجید اورمحمد صلےاللہ علیہ وسلم نےآغازہی سےاپنا خطاب یاتوتمام انسانوں کےلیےعام رکھا ہے، یا پھرانسانوں میں سےجوبھی اسلام کی دعوت کوقبول کرلیں ان کومومن ہونےکی حیثیت سےمخاطب کیا ہے- قرآن مجید کواول سےلےکرآخرتک دیکھ جائیے- محمد صلےاللہ علیہ وسلم کی تقریروں اورگفتگووں کےپورے، ریکارڈ کی بھی چھان بین کرلیجئے- آپ کہیں یہ نہ دیکھیں گےکہ اس کتاب نےاوراس کےلانےوالےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکسی خاص ملک یا قوم یا نسل یا رنگ یا طبقے کے لوگوں کو، یا کسی خاص زبان کےبولنےوالوں کوپکاراہو- ہر جگہ یا بنی ادم ، "اےاولاد آدم " یا ایھاس ، " اے انسانو" کہہ کرپوری نوع انسانی کواسلام قبول کرنےکی دعوت دی گئی ہے، یا پھراسلام قبول کرنےوالوں کو احکام اورہدایات دینےکےلیے یا یھاالذین امنو، " اےلوگو جوایمان لائےہو" کہہ کرمخاطب کیا گیا ہے- اس سے خودبخود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کی دعوت عالمگیر (UNIYERSAL) ہے، اورجوانسان بھی اس دعوت کوقبول کرلیں وہ بالکل برابرکےحقوق کےساتھ یکساں حیثیت میں مومن (BELIEVER) ہیں، قرآن کہتا ہے، " اہل ایمان توایک دوسرےکےبھائی ہیں _1 " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں کہ جو لوگ بھی اسلام کےعقائد قبول کرلیں اورمسلمانوں کاساطرزعمل اختیارکرلیں- ان کےحقوق وہی ہیں جوہمارےحقوق ہیں اوران کےواجبات بھی وہی ہیں جو ہمارےواجبات ہیں _ 2 اس سےبھی زیادہ صراحت کےساتھ رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم نےفرمایا ، سنو تمہارا رب بھی ایک ہےاورتمہارا باپ (آدم) بھی ایک – کسی عربی کوکسی عجمی پرفضیلت نہیں اورکسی عجمی کوعربی پرفضیلت نہیں- نہ کوئی کالا کسی گورےپرفضیلت رکھتا ہے- اورنہ کوئی گورا کسی کالےپر- فضیلت ہےتو خدا ترسی کی بنا پرہے- تم میں سب سےزیادہ اللہ کےنزدیک عزت والا وہ ہےجو سب سےبڑھ کر پرہیزگار_1 ہے
صرف اس بات پرنہیں کہ خدا موجودہے، اورصرف اس بات پربھی نہیں کہ وہ ایک ہے، بلکہ اس بات پرکہ وہی تنہا اس کائنات کاخالق،مالک_2 (MASTER) حاکم (RULER) اورمدبر (ADMINISTRATOR) ہے- اسی کےقائم رکھنےسےیہ کائنات قائم ہے، اسی کےچلانےسےیہ چل رہی ہے، اوراس کی ہرچیزکواپنے قیام وبقا کےلیےجس رزق (SUBSISTENCE) یاقوت (ENERGY) کی ضرورت ہےاس کا فراہم کرنےوالا وہی ہے_3- حاکمیت کی تمام صفات ATTRIBUTES OF) SOVEREIGNTY) صرف اسی میں پائی جاتی ہیں، اورکوئی ان میں ذرہ برابربھی اس کےساتھ شریک نہیں ہے_4 – خداوندی والوہیت کی جملہ صفات کابھی صرف وہی حامل ہے، اوران میں سےبھی کوئی صفت اس کی ذات کےسواکسی کو حاصل نہیں_1 – پوری کائنات کواوراس کی ایک ایک چیزکووہ بیک نظردیکھ رہاہے- کائنات اوراس کی ہرشےکووہ براہ راست جانتاہے- نہ صرف اس کےحال کو، بلکہ اس کےماضی اورمستقبل کوبھی- یہ نگاہ ہمہ بیں اوریہ جامع علم غیب اس کےسوا کسی کوحاصل نہیں _2 - وہ ہمیشہ سےہےاورہمیشہ رہےگا- اس کےسوا سب فانی ہیں اوراپنی ذات سےخودزندہ وباقی صرف وہی ہے_3 - وہ نہ کسی کی اولاد ہےاورنہ کوئی اس کی اولاد – اس کی ذات کےسوا دنیا میں جوبھی ہےوہ اس کی مخلوق ہےاوردنیا میں کسی کی بھی یہ حیثیت نہیں ہےکہ اس کوکسی معنی میں بھی رب کائنات (LORD OF THE UNIVERSE) کا ہم جنس یا اس کابیٹا یا بیٹی کہا جا سکے_4 - وہی انسان کاحقیقی معبود ہے، کسی کوعبادت میں اس کےساتھ شریک کرنا سب سےبڑا گناہ اورسب سےبڑی بےوفائی (INFIDALITY) ہے- وہی انسان کی دعائیں سننےوالاہے اور انہیں قبول کرنےیانہ کرنےکےاختیارات وہی رکھتاہے- اس سےدعا نہ مانگنا بےجاغرورہے، اس کےسوا کسی اورسےدعامانگنا جہالت ہے، اوراس کےساتھ دوسروں سےبھی دعامانگنا خدائی میں غیرخداکوخدا کےساتھ شریک ٹھیراناہے_1 –
10- اسلام کی روسےخدا کی حاکمیت صرف فوق الفطری ہی نہیں بلکہ سیاسی اورقانونی بھی ہےاوراس کی حاکمیت میں بھی کوئی اس کاشریک نہیں- اس کی زمین پر، اوراس کےپیدا کیےہوئےبندوں پراس کےسوا کسی کوحکم چلانےکا اختیارنہیں ہے- خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو، یا شاہی خاندان ہو، یاحکمران طبقہ ہو، یا کوئی ایسی کی قائل ہو- اس کےمقابلےمیں خود(SOVEREIGNTY OF THE PEOPLE)جمہوریت ہوجوحاکمیت عوام مختاربنتاہےوہ بھی باغی ہے- اورجواس کوچھوڑکرکسی دوسرےکی اطاعت کرتاہےوہ بھی باغی- اورایسا ہی باغی وہ شخص یا ادارہ ہےجوسیاسی وقانونی حاکمیت کواپنےلیےمخصوص کرکےخدا کےحدود اختیار یا مذہبی احکام وہدایات تک محدود کرتاہے- فی (PERSONAL( کوشخصی قانون (JURISDICTION) )اس کےسوانہ LAW GIVER)الحقیقت اپنی زمین پراپنےپیدا کیےہوئےانسانوں کےلیےشریعت دینےوالا کوئی ہےنہ ہوسکتاہے، اورنہ کسی کویہ حق پہنچتاہےکہ اس کےاقتداراعلی کوچیلنج کرے_1-
11- اسلام کےاس تصورخداکی روسےچند باتیں فطری طورپرلازم آتی ہیں- (1) خدا ہی اکیلا انسان کاحقیقی معبود (یابالفاظ دیگرمستحق عبادت) ہےجس کےسواکسی اورکی یہ حیثیت ہی نہیں ہےکہ انسان اس کی عبادت کرے- (2) وہی اکیلا کائنات کی تمام قوتوں پرحاکم ہےاورانسان کی دعاؤں کاپوراکرنا یا نہ کرنا بالکل اس کےاختیارمیں ہے- اس لیےانسان کوصرف اسی سےدعا مانگنی چاہیےاورکسی کےمتعلق یہ گمان تک نہ کرنا چاہیئےکہ اس سےبھی دعامانگی جاسکتی ہے،(3) وہی اکیلا انسان کی قسمت (DESTINY) کا مالک ہےاور کسی دوسرےمیں یہ قدرت نہیں ہےکہ وہ انسان کی قسمت بناسکےیا بگاڑسکے- اس لیےانسان کی امیداوراس کےخوف ،دونوں کا مرجع بھی لازما وہی ہے- اس کےسوا نہ کسی سےامیدیں وابستہ کرنی چاہییں ، نہ کسی سےڈرنا چاہیے-(4) وہی اکیلا انسان اوراس کےگرد وپیش کی دنیا کا خالق ومالک ہے، اس لیےانسان کی حقیقت اورتمام دنیا کےحقائق کابراہ راست اورکامل علم صرف اسی کو ہےاورہوسکتاہے- پس وہی زندگی کی پرپیج (COMPLICATED) راہوں میں انسان کوصحیح ہدایت اورصحیح قانون حیات دےسکتاہے- (5) پھرچونکہ انسان کا خالق و مالک وہ ہے اوروہی اس زمین کا مالک ہےجس میں انسان رہتاہےاس لیےانسانوں پرکسی دوسرےکی حاکمیت یاخوداپنی حاکمیت سراسرکفر( BLASPHEMY) ہے اوراسی طرح انسان کاخود اپنا قانون ساز (LAWGIVER) بننا ، یاکسی اورشخص یا اشخاص یا اداروں کے اختیارقانون سازی کوماننا بھی یہی نوعیت رکھتاہے- اپنی زمین پراپنی مخلوق کا حاکم اورقانون سازحتما صرف وہی ہوسکتاہے،اور(6) اقتداراعلی کاحقیقی مالک ہونےکی حیثیت سےاس کا قانون درحقیقت بالاتر قانون (SUPREME LAW) ہےاورانسان کےلیےقانون سازی (LEGISLATION) کااختیارصرف اسی حد تک ہےجس حد تک وہ اس بالاترقانون کےتحت اوراس سےماخوذ ہو، یا اس کی دی ہوئی اجازتوں پرمبنی ہو-
12- اس مرحلےپرہمارےسامنےاسلام کا دوسرا اہم ترین بنیادی عقیدہ جوآتاہے،اوروہ ہےعقیدہ رسالت، رسول وہ شخص ہےجس کےذریعہ سےاللہ تعالےنےاپناقانون انسان کودیتاہے، اوریہ قانون ہم کورسول سے دوصووتوں میں ملتاہے- ایک، کلام اللہ، جولفظ بلفظ رسول پرنازل کیا گیا ہے، یعنی قرآن مجید – دوسرےوہ اقوال اوراعمال ، اوراحکام امرونہی جو رسول نےاپنےپیروں کوخدا کی ہدایت کےتحت دیے- یعنی سنت – اس عقیدےکی اہمیت یہ ہےکہ اگریہ نہ ہوتوخدا پرایمان محض ایک فطری (THEORETICAL) فکروخیال بن کر رہ جاتاہے- عملا جوچیزخدا پرستی کےعقیدےکوایک تہذیب ایک تمدن ، اورایک نظام حیات کی شکل میں ڈھالتی ہےوہ رسول کی فکری (DEOLOGICAL) اورعملی رہنمائی ہے- اسی کےذریعہ سےہمیں قانون ملتاہےاوروہی اس قانون کےمنشاکےمطابق زندگی کا نظام قائم کرتاہے، اسی وجہ سےتوحید کےبعد رسالت پرایمان لائےبغیرکوئی شخص عملا مسلم نہیں ہوسکتا_1 –
13- اسلام میں رسول کی حیثیت اس طرح واضح طورپربیان کی گئی ہےکہ ہم ٹھیک ٹھیک یہ بھی جان سکتےہیں کہ رسول کیا ہےاوریہ بھی کہ وہ کیا نہیں ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کواپنا نہیں بلکہ اللہ کابندہ بنانےکےلیےآتاہے_2 – اوروہ خود بھی اپنےآپ کواللہ کابندہ ہی کہتاہے- نمازمیں ہرروزکم ازکم 17مرتبہ جو کلمہ شہادت پڑھنےکی تعلیم محمد مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم نےمسلمانوں کودی ہےاس میں یہ فقرہ لازما پڑھا جاتاہےکہ اشھدان محمد اعبدہ ورسولہ (میں گواہی دیتاہوں کہ محمد صلےاللہ علیہ وسلم اللہ کےبندےاوررسول ہیں_3) – قرآن مجید اس معاملہ میں کسی ادنی اشتباہ کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتاکہ رسول ایک انسان ہےاورخدائی (DIVINITY) میں اس کا ذرہ برابربھی کوئی حصہ نہیں ہے_4- وہ نہ فوق البشرہے، نہ بشری کمزوریوں سےبالاترہے، نہ خدا کےخزانوں کامالک ہے، نہ عالم الغیب کہ اس کوخدا کی طرح سب کچھ معلوم ہو_5 – وہ دوسروں کےلیےنافع وضارہونا تودرکنارخوداپنے لیےبھی کسی نفع وضررکا اختیارنہیں رکھتا_1 - اس کا کام پیغام پہنچادینا ہے، اس کےاختیارمیں کسی کوراہ راست پرلےآنا نہیں ہے، نہ انکار کرنےوالوں کامحاسبہ کرنا اوران پرعذاب نازل کردینااس کےاختیارمیں ہے_2 – وہ خود اگراللہ کی نافرمانی کرے(معاذ اللہ )، یا اپنی طرف سےکوئی چیزگھڑکرخدا کی طرف منسوب کردے،یا خدا کی وحی میں بطورخودذرہ برابربھی ردو بدل کرنےکی جسارت کرڈالےتووہ خدا کےعذاب سےنہیں بچ سکتا_ 3- محمد صلےاللہ علیہ وسلم رسولوں میں سےایک ہیں، رسالت سےبالاترکسی حیثیت کےمالک نہیں ہیں_ 4- وہ اپنےاختیارسےکسی چیزکوحلال اورکسی کوحرام کرنے، یا بالفاظ دیگرخدا کےاذن کےبغیربطورخود قانون سازبن جانےکےمحاذ نہیں ہیں_ 5- ان کا کام اس وحی کا اتباع کرنا ہےجوان پر خدا کی طرف سےنازل ہو_6-
اس طرح اسلام نےان تمام مبالغوں سےنوع انسانی کوبچالیا جو محمد صلےاللہ علیہ وسلم پہلےآنے والے انبیاء کےپیرووں نےاپنےپیشواؤں کےحق میں کیےتھے، حتی کہ ان کوخدا ، یا اس کا ہم جنس ، یا اس کی اولاد ، یا اس کا اوتار (INCARNATION) تک بنا ڈالا تھا- اس طرح کےتمام مبالغوں کی نفی کرکے اسلام نےرسول کی جو اصل حیثیت بیان کی ہےوہ یہ ہے-
رسول پرایمان لائےبغیرکوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا_1 – جوشخص رسول کی اطاعت کرتاہے- وہ دراصل اللہ کی اطاعت کرتاہےکیونکہ اللہ نےرسول بھیجیا ہےاسی لیےبھیجا ہےکہ اس کی اطاعت کی جائے_2 - ہدایت وہی پاسکتاہےجورسول کی اطاعت کرے_3 – رسول جوحکم دےاسےقبول کرناچاہیےاورجس سےمنع کرےاس سےرک جاناچاہیے_4 - (اس امرکی وضاحت خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاس طرح فرمائی ہےکہ میں ایک بشرہی ہوں-جوحکم میں تمہارےدین کےمعاملہ میں دوں اس کی پیروی کرو- اورجو بات اپنی رائےسےکہوں تومیں بھی ایک بشرہوں- اپنی دنیا کےمعاملات کوتم زیادہ جانتےہو_5) رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم کی سنت دراصل قرآن مجید کےمنشاکی تشریح قرآن مجید کےمصنف ، یعنی اللہ تعالےنےان کوخود سکھائی تھی- اس سےان کی تشریح اپنےپیچھےخدائی سند (AUTHORITY) رکھتی ہےجس سےہٹ کرکوئی شخص قرآن مجید کی کوئی تشریح بطورخود کرنےکامحازنہیں ہے_6 – اللہ تعالےنےرسول کی زندگی کونمونےکی زندگی قراردیا ہے_7 – کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ رسول کےفیصلےکوتسلیم نہ کرے_1 - مسلمانوں کایہ کام نہیں کہ جس معاملےکوخدا اوررسول نےکر دیا ہواس میں وہ خود کوئی فیصلہ کرنےکےمحازہوں_2 – بلکہ مسلمانوں کایہ کام بھی نہیں ہےکہ کسی پیش آمدہ معاملےمیں کوئی فیصلہ کرنےسےپہلےیہ نہ دیکھ لیں کہ اللہ اوراس کے رسول کا حکم اس معاملے میں کیا ہے_3 –
مذکورہ بالا بیان سےیہ بات واضح ہوتی ہےکہ اللہ تعالےنےرسول کےذریعہ سےانسان کوصرف ایک بالاترقانون (BUPREME LAW) بلکہ مستقبل اقدار ہی نہیں دیاہے (PERMANENT VALUES) بھی دی ہیں- قرآن مجید اورسنت میں جس چیزکوخیرقراردیا گیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےخیرہے- جس چیزکوشرکہا گیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےشر ہے، جوچیزفرض کی گئی ہےوہ ہمیشہ کےلیےفرض ہے، جس چیزکوحلال ٹھرایا گیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےحلال ہے، اورجوچیزحرام کی گئی ہےوہ ہمیشہ کےلیےحرام ہے- اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم ، یا حذف واضافہ، یا تنسیخ (ABROGATION) کااختیارکسی کوحاصل نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی شخص یا گروہ ،یا قوم اسلام ہی کوچھوڑدینےکا ادارہ رکھتی ہو- جب تک مسلمان مسلمان ہیں ان کےلیےیہ ممکن نہیں ہےکہ کل کا شرآج خیرہوجائے- اورپرسوں پھرشرہوجائے-کوئی قیاس ، کوئی اجتہاد ، کوئی اجماع اس قسم کی تبدیلی کامحاز نہیں ہے-
14- اسلام کا تیسرا بنیادی عقیدہ آخرت ہے، اوراس کی اہمیت یہ ہےکہ اس کاانکارکرنےوالا کافرہوجاتاہے اورخدا اوررسول ، قرآن ، کسی چیزکاماننا بھی اسےکفرسےنہیں بچاسکتا _1 – یہ عقیدہ اپنی تفصیلی صورت میں چھ لازمی تصورات پرمشتمل ہے-
(1)دنیا میں انسان غیرذمہ دار (IRRESPONSIBLE) بناکرنہیں چھوڑدیا گیا ہے، بلکہ وہ اپنےخالق کے سامنےجواب دہ ہے- دنیا کی موجودگی دراصل انسان کا امتحان اورآزمائش کےلیےہے- اس کےخاتمےکےبعد اسےاپنےکارنامہ حیات کاحساب خدا کودینا ہوگا_2 –
(2) اس محاسبےکےلیےاللہ نےایک وقت مقررکررکھا ہے- نوع انسانی کودنیا میں کام کرنےکےلیےجتنی مہلت دینےکا اللہ تعالےفیصلہ کرچکا ہےاس کےاختتام پرقیامت برپاہوگی جس میں دنیا کاموجودہ نظام درہم برہم کردیا جائےگا- اورایک دوسرانظام عالم نئےطرزپربرپاکیا جائےگا-اس نئی دنیا میں وہ تمام انسان دوبارہ زندہ کرکےاٹھائےجائیں گےجوابتدائےآفرنیش سےقیامت تک پیدا ہوئےتھے_3 –
(3) اس وقت ان سب کوبیک وقت خدا وندعالم کی عدالت میں پیش کیا جائےگا اورہرشخص کواپنی ذاتی حیثیت میں ان اعمال کی جواب دہی کونی ہوگی جو اس نےخود اپنی ذمہ داری پردنیا میں کیےہوں گے_1 –
(4) وہاں اللہ تعالی صرف اپنےذاتی علم پرفیصلہ نہیں کردےگا بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کی جائیں گی- ہرشخص کےکارنامہ حیات کا پورا ریکارڈ بےکم وکاست عدالت کےسامنےرکھ دیا جائےگا اوربےشماراقسام کی شہادتیں اس امرکےثبوت میں پیش کردی جائیں گےکہ اس نےخیفہ اورعلانیہ کیا کچھ کیا ہےاورکس نیت سےکیا ہے_2 -
(5) اللہ کی عدالت میں کوئی رشوت ، کوئی بےجاسفارش اورکوئی خلاف حق وکالت نہ چل سکےگی- کسی کا بوجھ دوسرےپرنہ ڈالا جائےگا- کوئی قریب سےقریب عزیز یا دوست یا لیڈریا مذہبی پیشوایاخود ساختہ معبود کسی کی مدد کےلیےآگےنہ بڑھےگا- انسان وہاں تن تنہا بالکل بےیارومددگارکھڑاہواپنا حساب دےرہاہوگا-اور فیصلہ صرف اللہ کےاختیارمیں ہوگا- _3 -
(6) فیصلےکاسارا دارومداراس بات پرہوگا کہ انسان نےدنیا میں انبیاء کےبتائےہوئےحق کومان کراورآخرت میں اپنی جواب دہی کومحسوس کرکےٹھیک ٹھیک اللہ کی بندگی کی یا نہیں- پہلی صورت میں اس کےلیےجنت ہے، اوردوسری صورت میں دوزخ_1 –
15- یہ عقیدہ تین اقسام کےانسانوں کی زندگی کےطریقوں کوایک دوسرےسےبالکل ہی مختلف کردیتاہے- ایک قسم کےانسان وہ ہیں جوآخرت کےقائل نہیں ہیں اوربس اسی دنیا کی زندگی کوزندگی سمجھتےہیں- وہ لامحالہ خیروشرکامعیاراعمال کےان نتائج ہی کوسمجھیں گےجو اس دنیا میں ظاہرہوتےہیں- یہاں جس عمل کا نتیجہ اچھایا مفید ہووہ ان کےنزدیک خیرہوگا اورجس کا نتیجہ برایا نقصان دہ ہوگا وہی ان کےنزدیک شرہوگا- بلکہ بارہانتائج عمل کےلحاظ سےایک ہی چیزایک وقت میں خیراوردوسرےوقت میں شرہوگی دوسری قسم کےآدمی وہ ہیں جوآخرت کوتومانتےہیں مگران کویہ بھروسہ ہےکہ کسی کی سفارش اللہ کی عدالت میں انہیں بچالےگی- یاکوئی ان کےگناہوں کاکفارہ پہلےہی دےچکاہے- یا وہ اللہ کےچہیتےہیں اس لیےانہیں بڑےسےبڑے گناہوں کی سزابھی بڑائےنام دی جائےگی – یہ چیزعقیدہ آخرت کےتمام اخلاقی فوائد کوضائع کرکےدوسری قسم کےلوگوں کوبھی پہلی قسم کےاشخاص کی صف میں لےجاتی ہے- تیسری قسم کےلوگ وہ ہیں جو عقیدہ آخرت کوٹھیک اس شکل میں مانتےہیں جس شکل میں اسلام انہیں پیش کرتاہے، اورکسی کفارےیابےجاسفارش یااللہ سےکسی خاص تعلق کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں_1 – ان کےلیےیہ عقیدہ ایک بہت بڑی اخلاقی طاقت رکھتاہے- جس شخص کےضمیرمیں آخرت کا یقین اپنی صحیح صورت میں جاگزیں ہوجائےاس کا حال ایسا ہوگا جیسےاس کےساتھ ہروقت ایک نگران لگا ہواہو جوبرائی کےہراراداےپراسےٹوکتا، ہراقدام پراسےروکتااورہرعمل پراسےسرزنش کرتاہے-باہرکوئی گرفت کرنےوالی پولیس کوئی شہادت دینےوالا گواہ – کوئی سزادینےوالی عدالت ، اورکوئی ملامت کرنےوالی رائے عام موجود ہویا نہ ہو- اس کےاندرایک سخت گیرمحتسب ہروقت بیٹھارہےگا جس کی پکڑکےخوف سےوہ کبھی خلوت میں، یا جنگل میں، یا اندھیرےمیں، یا کسی سنسان جگہ میں خدا کےمقررکردہ فرض سےفرار، اوراس کےمقررکردہ حرام کےارتکاب کاحوصلہ نہ کرسکےگا- اوربالفرض اگرکربھی گزرےتوبعد میں شرمندہ ہوگا اورتوبہ کرےگا، اس سےبڑھ کراخلاقی اصلاح ، اورانسان کےاندرایک مستحکم کردارپیداکرنےکاکوئی ذریعہ نہیں- خدا کا بالاترقانون جو مستقل اقدارانسان کودیتاہےان پرمضبوطی کےساتھ انسان کےکاربندہونےاوران سےکسی حالت میں اس کےنہ ہٹنےکاانحصاراسی عقیدےپرہے- اسی لیےاسلام میں اس کواتنی اہمیت دی گئی ہےکہ اگریہ نہ ہوتوخدا اوررسالت پرایمان بھی بےکارہے-
16- اسلام، جیساکہ میں پیراگراف _6 میں بیان کرچکا ہوں، ایک پوری تہذیب ، ایک جامع تمدن، اورایک ہمہ گیر (COMPREHENSIVE) نظام حیات ہے، اورانسانی زندگی کےتمام گوشوں میں اخلاقی رہنمائی دیتاہے، اس لیےاس کےاخلاقیات دراصل تارک الدنیاراہبوں اورجوگیوں اورسنیاسیوں کےلیےنہیں ہیں، بلکہ ان لوگوں کےلیےہیں جوزندگی کےمختلف شعبوں کوچلاتے، یا ان کےاندرکام کرتےہیں- اخلاق کی جوبلندیاں دنیا،خانقاہوں،راہبوں اورصومعوں (CONVENTS,MONASTRIES,CLOISTERS) میں تلاش کرتی تھی- اسلام ان کوزندگی کےبیج منجھدارمیں لےآنا چاہتاہے- اس کا منشایہ ہےکہ حکومتوں کےقرمانردا، صوبوں کےگورنر،عدالتوں کےجج ، فوج اورپولیس کےافسر، پارلمینٹوں کےممبر، مالیات اور صنعت وحرفت کےکارفرما، کالجوں اوریونیورسٹیوں کےاساتذہ و طلبہ ، بچوں کےباپ ،باپوں کےبچے، عورتوں کےشوہراورشوہروں کی عورتیں، ہمسایوں کےہمسائے،غرض سب ان اخلاقیات سےآراستہ ہوں- وہ چاہتاہےکہ ہرگھرمیں بھی اسی اخلاق کی فرمانروائی ہواورمحلےاوربازارمیں بھی اسی چلن ہو- وہ چاہتاہےکہ کار وبارکےسارےادارےاورحکومت کےسارےمحکمےاسی کی پیروی کریں- سیاست سچائی اورانصاف پر مبنی ہو- قومیں حق شناسی اورادائےحقوق پرایک دوسرےسےمعاملہ کریں- جنگ بھی ہوتوشرافت اورتہذیب کےساتھ ہونہ کہ بھیڑیوں کی سی درندگی کےساتھ، انسان جب خدا ترسی اختیارکرے-خدا کےقانون کوبالاترمان لے، خدا کےسامنےاپنی جواب دہی کویاد رکھ کرمستقل اقدارکاپابندہوجائے، توپھراس کی یہ صفت صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں رہنی چاہیئےبلکہ جس حیثیت میں بھی وہ دنیا کےاندرکام کررہاہےخدا کےسچےاوروفاداربندےکی طرح ہی کام کرے-
یہ ہےمختصراوہ چیزیں جس کا اسلام علمبردارہے- اوریہ محض کسی فلسفی کی خیالی جنت (UTOPIA) نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم نےاسےعملا برپاکرکےدکھادیا- اورآج چودہ سوبرس گزرجانےپربھی اس کےاثرات مسلم معاشرےمیں کم وبیش پائےجاتےہیں- ___________________٭______________________
| کتاب | خطبات یورپ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |