خطبات یورپ

اسلام ! مغرب کےالزامات ، اعتراضات اورسوالات کا جواب دیتا ہے!

اسلام ! مغرب کےالزامات ، اعتراضات اورسوالات کا جواب دیتا ہے! جب آپ اسلام اوراس کےنظام حیات سےمتعلق سوال اٹھاتےہیں تویہ ایک ایسا موضوع ہوتاہے- جس کا جواب دینےمیں کوئی الجھن پیش نہیں آتی- آپ کی تہذیب کوجتنی ہمدردی مجرم سےہے، اتنی مظلوم سےنہیں- آپ جسےماڈرن کہہ رہےہیں- ہمارےنزدیک پسماندہ اورفرسودہ ہے-

نمائندہ بی بی سی برائےساؤتھ ایسٹ ایشیا مسٹرولیم کرے 25نومبر1975ءکوگیارہ بجےقبل دوپہربانی جماعت اسلامی مودودی صاحب سےملاقات کیلئے5- اےذیلڈارپارک پہنچے یہ ملاقات پچاس منٹ تک جاری رہی- نمائندہ بی بی سی نےمختلف موضوعات پرمولانائےمحترم سےمتعددسوالات کیے- سوالات کےجوابات زیادہ تراردومیں دیئےگئے- کیونکہ مسٹرولیم کراےاردوبخوبی سمجھ سکتےہیں، البتہ بعض مواقع پرمولانائےمحترم نےانگریزی میں بھی اظہارخیال کیا-

ولیم کراے:- Are you satisfied with the Islamic provisions. Ineorporated in the constitution of Pakistan 1973? مولانائےمحترم:- Yes. We are satisfied with those provisions. As a matter of fact we have tried to introduce these provisions in this constitution- (جی ہاں، ہم ان دفعات پرمطمئن ہیں اوردرحقیقت دستورمیں ان دفعات کوشامل کرانےکےلیےہم نےمسلسل جدوجہد کی ہے)

ولیم کراے:- Like Islamic council etc? (مثلا اسلامی کونسل وغیرہ؟)

مولانائےمحترم:- Yes. Everything about Islam, which has been included in the constitution is due to our persistence. (اسلام سےمتعلق ہروہ چیزجودستورمیں شامل ہےدراصل ہماری کوششوں کےنتیجے میں شامل کی گئی ہے) جہاں تک ان دفعات کےشامل آئین ہونےکا تعلق ہےاس پرتوہم مطمئن ہیں لیکن اس بات پرمطمئن نہیں ہیں کہ ان پرعمل درآمد کس طریقےسےہورہاہےحقیقت یہ ہےکہ ان دفعات کوسرد خانےمیں ڈال دیا گیا ہےاورنہ صرف یہ کہ ان پرعمل نہیں کیا جارہا ہےبلکہ جتنےکام بھی کئےجارہےہیں وہ ان کےبرعکس کئےجارہےہیں-

ولیم کراے:- " پاکستان کا موجودہ قانونی ڈھانچا انیگلوسیکن قانون کی بنیادپرقائم ہےکیا آپ اسلام کےشرعی قوانین کونافذ کرنےکیلئےپاکستان کےموجودہ قانونی نظام میں بنیادی تغیرات لائیں گے-؟"

مولانائےمحترم:- ہم صرف اتنا ہی نہیں چاہتےکہ محض قانونی نظام (Legal system) کوتبدیل کیا جائے- بلکہ ہمارےپیش نظرپورےمعاشرےکواسلامی بنیادوں پراستوارکرنا اورپورےنظام حکومت کوتبدیل کرنا ہے-اس مقصد کےلیےصرف لیگل سسٹم کوتبدیل کرناکافی نہیں ہوسکتا- قانونی نظام کےساتھ ایک بڑاتعلق ملک کےتعلیمی نظام کا ہے- اگرنظام تعلیم افرادقوم کومسلمان بنانےوالا نہ ہوتومحض قانونی نظام کےنفاذ سے اسلامی معاشرےکی تشکیل کامقصدپورانہیں ہوسکتا- ایسا ہی معاملہ ملک کےمعاشی نظام کا ہے- اگراسے صحیح اسلامی خطوط پراستوارنہ جائےتو اس صورت میں بھی محض قانونی نظام کی اصلاح مفید اورموثر اسلام کے مطابق(Social life) ثابت نہیں ہوسکتی- اس بناپرہم یہ چاہتےہیں کہ ہماری پوری معاشرتی زندگی ہو- ہماری حکومت کی تمام پالیسیاں اسلام کےمطابق ہوں اورحکومت کےسارےمعاملات صحیح اسلامی خطوط پرانجام پائیں- اس مقصد کے مطابق ہوں اورحکومت کےسارےمعاملات صحیح اسلامی خطوط پرانجام پائیں- اس مقصد کےم نہایت ضروری ہے کہ سروسنر کی ٹرینگ کے تمام اداروں کا تعلیمی اور تربیتی مانچا تبدیل کیا جائے ، سول سروس کے تمام شعبوں اور فورج کی تربیت کے اداروں میں بھی اسلام کی اخلاقی تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے اور زیر تربیت انسروں کے دلوں السلام کا صحیح شعور (Creed) بٹھایا جائے۔ ان کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے لیکن یہ کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بر عکس صورت حال یہ ہے انگریزی حکومت کے زمانے میں سروسز کو جس طرز پرٹر نینگ دی جاتی تھی ۔ اسی پر اب بھی دی جارہی ہے ۔ اسلامی تربیت کی کوئی فکر اب تک نہیں کی گئی ۔ اس یہ ہمارے نقطہ نظر سے محض لیگل سسٹم میں تبدیلی کافی نہیں۔ (We want to see overall change)

اسلام اور جدید ریاست ولیم کراے:- آپ نے مرشعبہ زندگی سے متعلق اداروں میں اسلامی تعلیم و تربیت کو لازمی— دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جدید ریاست کی معیشت کو خالص اسلامی اصولوں مطابق کیونکر چلا یا جا سکتا ہے ؟

مولانائے محترم;- ہم نے تمیں سال یہ بات ثابت کرنے میں صرف کئے ہیں کہ ایک جدید ریاست ادہ طور پر اسلام کے خط کر وہ اصولوں پر چلایا جا سکتا ہے ، اور صرف چلایا ہی نہیں جا سکتا بلکہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے والی جدید ریاست دوسری تمام جدیدریاستوں سےزیادہ کامیاب اوربہترہے___________چنانچہ ہماری کوشش صرف یہی ہےکہ ہم پاکستان میں اسلام کونافذ کرکےیہ بتائیں کہ اسلام کی بنیادوں پرایک جدید ریاست چل سکتی ہے بلکہ ہم یہ بھی چاہتےہیں کہ اس جدید ریاست کودیکھ کردنیا کی دوسری جدید ریاستیں اس بات کی قائل ہوجائیں کہ یہ ریاست ہم سےکہیں بہتراورفائق ہے- The principles of an Islamic state are superior to all other political systems ( اسلامی ریاست کےاصول باقی تمام سیاسی نظاموں پرفوقیت رکھتےہیں)

ولیم کراے:- اتفاق سےترکی کےصدران دنوں پاکستان کا دورہ کررہےہیں اورپاکستان اورترکی کےدرمیان گہرےدوستانہ تہذیبی اورسیاسی روابط بھی ہیں- چنانچہ میں ترکی کےحوالےسےایک سوال پوچھنا چاہتاہوں- ترکی ایک مسلمان ملک ہےلیکن بیسویں صدی کےتیسرےعشرےسےاس نےسیاسی اورمعاشی ترقی کا ایک نیا راستہ اختیار کیا- ایک زمانےمیں ہندوستان اورترکی کےدرمیان خلافت کےمسلےپرخاصی جذباتی فضاپائی جاتی تھی- لیکن بالآخرترکی نےخود ہی خلافت کاادارہ ختم کردیااس کےبعد وہاں سیکولرنظام قائم کیا گیا- بلکہ یوں کہنا چاہیےکہ ملکی سیاست اورمعیشت کوجدید دورکےتقاضوں سےہم آہنگ کردیا گیا-سوال یہ ہےکہ پاکستان کیوں ترکی کےتجربےسےفائدہ نہیں اٹھاتااوراس کی تنقید کیوں نہیں کرتا- اس کےبرعکس آپ ماضی کےقدیم اسلامی نظام کی طرف کیوں واپس جانا چاہتےہیں؟

مولانا کے محترم;- آپ نے سوال بہت بڑا کیا ہے ۔ اس لیے میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس کیا جواب دوں گا ۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی جتنی حکومتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی پور سے طور پر اسلامی سسٹم پر نہیں چل رہی ہے۔ پھر ان میں سے بھی دو طرح کی حکومتیں ہیں۔ ایک حکومتیں تو وہ ہیں جو کہا، کھلا خود کو سیکولر کہتی ہیں اور دوسری وہ ہیں جو اسلام کو ریاست کا مذہب تو قرار دیتی ہیں لیکن نہ تو وہ اسلام کے اصولوں پہ قائم کی گئی ہیں اور نہ انہیں اسلام کے اصولوں کے مطابق چلایا جارہا ہے ________ جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو اصل صورت واقعہ یہ ہے کہ وہاں جو خلافت چلی آرہی تھی وہ الخطاط کا شکار (Degenerated) ہو کر اپنی حقیقی شخصوصیات سے عاری ہو چکی تھی۔ پھر اس کو ختم کر کے ترکی میں جوسیکولر ریاست قائم کی گئی وہ بھی خانہ نا اہم تھی ! یعنی نہ تو وہ خلافت پوری طرح اسلامی تھی اور نہ بعد میں قائم ہونے والی سیکولر ریاست کا اسلام سے کوئی تعلق تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ترکی میں کوئی لیڈر یا اجتماعی قوت ایسی موجود نہ تھی جو وہاں پر اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت قائم کرتی ۔ آپ کے بقول ترکی میں جونیا دور شروع کیا گیا ۔ اس کی بنیاد اسلام پر ہرگز نہ تھی اور اس سے پہلے جو نظام وہاں نامہ تھا وہ بھی اسلامی نہ تھا اور دراصل پرانا ٹکٹ نظام تھا۔ خلافت کا ادارہ ہیں ائے نام موجود تھا محض ایک بادشاہ کے لیے خلیفہ کا خطاب اختیار کر لیا گیا تھا۔ مانیا نکو خلافت، بادشاہت Monarchy سے بالکل ایک مختلف چیز ہے۔

ولیم کراے:- ?You are saying that khilafat had become a secular or a non- religious institution (آپ کا مطلب یہ ہےکہ ترکی میں خلافت کانظام لادینی یا غیرمذہبی نظام میں تبدیل ہوچکاتھا؟)

مولانائےمحترم:- Rather a pseudo- religious institution we were not satisfjed with it, and we are not satisfied also with the socalled reforam of Mustafa Kamal Ataturk, (خلافت ایک نیم مذہبی نظام بن چکی تھی- چنانچہ ہم اس مطمئن نہ تھے، لیکن ہم ان نام نہاد اصلاحات سےبھی مطمئن نہ تھےجو مصطفےکمال اتاترک نےخلافت کوختم کرکےترکی میں رائج کیں)

لیکن اب ہم یہ دیکھ رہےہیں کہ خود ترکی میں بھی بکثرت ہمارےہم خیال لوگ پیدا ہورہےہیں جو یہ چاہتےہیں کہ وہاں بھی اسلامی نظام قائم کیا جائے---------- اس طرح دنیا کےتمام مسلمان ممالک میں بھی ایسا ایک عنصر (Element) موجود ہےجواسلام کےحقیقی اصولوں پرعمل درآمد کرناچاہتاہے

آپ نےجوکہا ہےکہ ہم ایک پرانے طریقے کی طرف واپس کیوں جانا چاہتے ہیں تو دراصل یہ کا سب سےقدیم بھی ہےلفظ غلط ہے- بات دراصل یہ ہےکہ انسان کےلیےخدا کی طرف سےجو (Go back) ہدایت آئی ہے جدید بھی – خدائی ہدایت کسی وقت اورمقام کی پابندنہیں ہے- یہ ایک ازلی اورابدی چیزہے- اس وجہ سےاس اس معاملےمیں (go back) کا لفظ استعمال کرنا بےمعنی بے- Truth is always cruth. It cannot be old or new- At any time and at every place it is truth. (صداقت ہرحال میں صداقت ہے- اس کےقدیم یا جدید ہونےکا سوال پیدا نہیں ہوتا- صداقت ہرعہد میں اور ہرمقام پرصداقت ہے-)

اسلام کا قانون تعزیرات ولیم کراے:- لیکن اسلامی قانون کےبعض پہلوؤں مثلا قانون تعزیرات کےبارےمیں جدید ذہن کےاندربعض اعتراضات اورشبہات پائےجاتےہیں- موجودہ دورکی جدید مسلم ریاستیں بھی ان ان قوانین کوترک کرچکی ہیں- شاید آپ اتفاق کریں کہ یہ تعزیری قوانین دراصل قرون وسطی کی سوسائٹی کےلیےوضع کئےگئےتھے، اوریہ قوانین اب بیسویں صدی کےمعاشرےکےلیےزیادہ موزوں نہیں ہوسکتے- اب جرم اورسزا کےبارےمیں تصورات بھی تبدیل ہوچکےہیں- اس لیےیہ معاملہ مذہبی نقطئہ نظرسےزیادہ معاشرتی ہےکیا آپ اس بدلےہوئے زمانےمیں اس دورکےتبدیل شدہ رویوں کےبرعکس ان قوانین کوان کی اسی پرانی شکل میں نافذ کرنا چاہیں گے؟ _______________________

مولانائےمحترم:- آپ جس بیسویں صدی کاذکرکررہےہیں، آپ کاکیا خیال ہےکہ اس بیسویں صدی میں امریکہ اوریورپ کےاندراورخود مسلمان ممالک کےاندرجن میں اسلامی قوانین پرعمل کرنا چھوڑدیا گیا ہے، کیا ارتکاب جرائم کی رفتار ( Crime Rate) بڑھ رہی ہےیا کم ہورہی ہے؟ _______کیا خیال ہےآپ کا؟

ولیم کراے:- In many countries it is increasing (بہت سےممالک میں یہ رفتاربڑھ رہی ہے)

مولانائےمحترم:- ہمارےہاں صرف پنجاب کےبارےمیں جوپولیس رپورٹ حال میں شائع ہوئی ہے- اس میں یہ بتایاگیا ہےکہ صرف ایک مہینےمیں دوسوقتل ہوئےہیں- اوریہ رفتارجرم پہلےکہیں زیادہ ہے- امریکہ اوردوسرےترقی یافتہ ممالک میں رفتارجرائم کےبارےمیں آپ جانتےہیں کہ اس وقت کیا ہےاوروہ کتنی تیزی سےبڑھ رہی ہے______اب سوال یہ ہےکہ کسی معاشرےمیں جرائم کاموجود رہنا کچھ اچھا ہے؟

ولیم کراے:- " اچھا نہیں ہے"! (یہ جواب اردومیں دیا گیا)

مولانائےمحترم:- اس کا صاف مطلب یہ ہےکہ موجودہ تعزیری قوانین (criminal laws) جرائم کےحاتمے میں مکمل ناکام ہوچکےہیں- یہی نہیں بلکہ ان میں اضافےکےموجب بن رہےہیں- اس کےبرعکس ایک مسلمان ملک میں جہاں اسلام کاقانون صرف ایک حد تک ہی نافذ ہے، یعنی چوری پراسلامی تعزیرات نافذ کی گئی ہیں وہاں اس نےچوری کاخاتمہ کردیاہے، وہاں کیفیت یہ ہےکہ اگرآپ اپناسامان سڑک پرچھوڑکرچلےجائیں اورتین دن بعد واپس آئیں تووہ آپ کووہیں پڑاملےگا- کوئی اس کوہاتھ نہیں لگائےگا------- اگرآپ اپنا گھرکھلا چھوڑکر چلےجائیں- اورکئی ہفتےبعد واپس آئیں توآپ کوسارےگھرکاسامان جوں کا توں ملےگا- کوئی شخص گھرمیں داخل نہیں ہوگا----- یہ صرف اس چیزکانتیجہ ہےکہ سعودی عرب میں ان سزاؤں کےنفاذ پرشروع میں جوچند ہاتھ کاٹےگئےان کی وجہ سےچوری کا وہاں خاتمہ ہوگیا------ توکیا چندمجرموں کےہاتھ کاٹ کرچوری کوختم کردینا بہترہےیا یہ بہترہےکہ مجرموں کوجیل بھیج بھیج کران کران کوعادی مجرم بنایاجائے- وہ جیل سےنکلیں توپھرچوری کریں اورپھرجیل جائیں- حقیقت یہ ہےکہ آپ کےموجودہ تعزیری قوانین جرائم کی پرورش کررہے ہیں،لیکن ہم اسلامی قوانین کےنفاذ کےساتھ جرائم کوختم کرسکتےہیں- اب کیا یہ بہترہےکہ ہم جرائم کوختم کردیں یا یہ بہترہےکہ جرائم ہوتےرہیں اوران کےموثر انسداد کی کوئی تدبیرنہ کی جائے؟

ولیم کراے:- جدید معاشرےکےحالات واطواربہت بدل چکےہیں- جرم اورسزاکاتصوربدل چکاہے- ماضی کی اسلامی ریاست میں اورموجودہ دورکی جدید ریاست میں بڑافرق رونما ہوچکاہے- سعودی عرب کےمعاشرتی حالات اورشکاگواورنیویارک جیسےبڑےبڑےشہروں کی معاشرتی کیفیت اورساخت بالکل مختلف ہے- اس لیےایک محدود شہری نظام کےلیےاگراسلامی سزائیں مفید بھی تھیں توموجودہ بڑےبڑےشہروں کےلیےیہ کس طرح کارآمد ہوسکتی ہیں جبکہ ان میں جرائم کارونما ہونا ایک حد تک فطری بات ہےاوران میں سزاؤں کا عملی نفاذ کوئی آسان کام بھی نہیں-

مولانائےمحترم:- آپ کاخیال یہ ہےکہ شکاگواورنیورک جیسےبڑےبڑےشہروں کی معاشرتی زندگی (Social life) ہی ایسی ہےکہ ان کےاندرجرائم کاہونا ایک فطری چیزہے- اس لیےاس حالت کےخاتمےکےلیےہاتھ کاٹنے جیسی سزاؤں کانفاذ ایک غیرترقی پسندانہ بات ہےاورآپ کےخیال میں یہ عملا ممکن بھی نہیں- لیکن میراخیال یہ ہےکہ ایسا ہوسکتاہےاوراگرصرف چوری پرہاتھ کاٹنےکاقانون جاری کردیاجائےتونیویارک اورشکاگوجیسے شہروں بلکہ پورےامریکہ میں چوری کاارتکاب کم ہوسکتاہے- اس کا مکمل خاتمہ توصرف اسی صورت میں ممکن ہےجبکہ پورا سیاسی اورمعاشرتی نظام اسلامی خطوط پرقائم کیا جائےلیکن اسلامی سزاؤں کےنتیجے میں بھی اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے-

____________ ہمیں اس بات کاپورا یقین ہےکہ اسلام کی تجویزکردہ سزائیں معاشرےسےجرائم کامکمل انسداد کرسکتی ہیں اورہم یہ چاہتےکہ پاکستان کےاندراسلام کا مکمل ضابطہ حیات جاری ہواوراسلامی تعزیرات نافذ ہوں پھرہم دنیا کو بتائیں گےکہ ہمارےہاں جرائم کس طرح ختم ہوگئےہیں- اگرہمیں اس بات کاموقع ملا کہ ہم پاکستان میں صحیح اسلامی نظام کرسکیں توہم عملا دنیا پریہ بات ثابت کردیں گے-کہ اسلام کی بنیادوں پرایک جدید ریاست چل سکتی ہے اورزیادہ بہترطریقےسےچل سکتی ہے- اوراسلام کی بنیاد پرایک ایسا معاشرہ وجود میں آتاہےجوجرائم سےپاک اورامن وامان کاگہوارہ ہوتاہے-

ولیم کراے:- لیکن میراخیال یہ ہےکہ روایتی اسلامی قانون کایہ پہلوایسا ہےبیسویں صدی کاانسان اس کوقبول کرنےمیں دقت محسوس کرتاہے- یہ اس وجہ سےنہیں کہ ان سزاؤں کاتعلق اسلامی قانون سےہےاوراس کو قبول کرنےمیں مذہبی تعصب مانع ہوتاہےبلکہ اس کی وجہ یہ ہےکہ جدید ذہن کےلیےکسی جرم پرایک شخص کاہاتھ کاٹ کراسےعضوسےمحروم کردینا ایک وحشیانہ فعل معلوم ہوتاہےاورشاید یہ اس جرم سےبھی سنگین نوعیت کی چیزہے- اسی بناپربعض لوگوں کا خیال یہ ہےکہ ریاست کی طرف سےکسی شخص کی جان لینے کا اقدام بہرحال ایک غیرمعمولی نوعیت رکھتاہےاس میں سمجھتاہوں کہ قرون وسطی کےایک نظام کوخواہ وہ اپنی جگہ پرمفید ہی تھا ، جدید دورمیں رائج کرنا کچھ عجیب سی بات معلوم ہوتاہے-

مولانائےمحترم:- میراخیال ہےکہ آپ کی موجودہ تہذیب کوجسےآپ جدید تہذیب کہتےہیں جتنی ہمدردی مجرم کےساتھ ہےاتنی ہمدردی ان لوگوں کےساتھ نہیں جن پرجرم کاارتکاب کیا جاتاہےمثلا ایک شخص کابچہ کوئی اغواکرکےلےجاتاہےاورپھراس کواطلاع کرتاہےکہ اتنےملین ڈالڑمجھےدےدوتوبچہ تمہیں مل جائےگاورنہ اسےقتل کردیا جائےگا اوربعض اوقات وہ ایسا کربھی گزرتاہےتوآپ کاکیا خیال ہےکہ اس طرح کے آدمی کو پکڑکراگرکوئی سزادی جائےمثلا اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائےیا اس کی گردن اڑادی جائےتوکیا یہ ایک وحشیانہ فعل ہوگا؟ یعنی آپ کےنزدیک والدین کوان کےبچوں سےمحروم کردینا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں- البتہ اس حرکت کےمرتکب کواس جرم کی سزا دینا وحشیانہ اورظالمانہ فعل ہےجس کی کم ازکم ریاست کوذمہ داری نہیں یعنی چاہیئے- آپ کی ساری ہمدردی اس شخص کےساتھ جس نےایک مجرمانہ اورغیرانسانی فعل کےذریعےسےاپنےآپ کومستوجب سزاٹہھرایاہےاوراس شخص کےبارےمیں آپ بےحس ہیں جسےظلم اورسنگدلی کا نشانہ بنایا گیا ہے______________ہم یہ کہتےہیں کہ جوشخص معاشرےکےاندرجرم کاارتکاب کرکےمعاشرےکےامن وسکون کوغارت کرتاہےوہ اس کا مستحق ہےکہ اس کواتنی سزادی جائےکہ دوسروں کواس سےعبرت ہواوروہ اس قسم کےجرم کےارتکاب کی جرات نہ کرسکیں یعنی ہمارےنزدیک سزاصرف سزاہی نہیں ہےبلکہ وہ ارتکاب جرم کوروکنےکا ذریعہ بھی ہے، وہ جرم کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے- چنانچہ ہماری ہمدردی مجرم کےساتھ نہیں ہےبلکہ اس شخص کےساتھ ہےجس پرارتکاب جرم کیا جاتاہےاوراس معاشرےکےساتھ ہے، جس کےاندرارتکاب جرم سےناہمواری اورعدم تحفظ کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے- You think it is more social and more cultured to be a criminal. It is human to kill a man and it is inhuman to kill a murderer.

ابھی پچھلےدنوں امریکہ میں مس ہرسٹ کاجوواقعہ پیش آیا ہےوہ آپ کےعلم میں ہوگا- جولوگ اس کواغواکرکےلےگئےاورانہوں نےاس کواس حد تک جرائم آشناکردیاکہ اس نےبنک پر ڈاکہ ڈالا اوردوسرے جرائم کا ارتکاب کرتی پھری- آپ کے نزدیک وہ لوگ تو بہت مہذیب اور (Cultured) ہیں، لیکن اگران لوگوں کوکوئی سخت سزادی جائےتویہ فعل غیرمہذبانہ ہوگا

ولیم کراے:- اس کےباوجودمیں سمجھتاہوں کہ اسلام جیسےقدیم مذہب اوراس کی مخصوص فلاسفی کےاس پہلوکو سمجھنا اوراس بات کاقائل ہونا بہت مشکل سی بات ہےکہ معاشرےکواتنا غیرمہذب ،ان گھڑاورغیرترقی یا فتہ تسلیم کرلیاجائےکہ اس میں اس قسم کی انتہائی سزاؤں کورائج کیا جائےجوآپ بیان فرمارہےہیں-

مولانائےمحترم:- بات دراصل یہ ہےکہ آپ کےمعاشرےمیں جس قسم کےجرائم ہورہےہیں-آپ نےان کےساتھ صلح کرلی ہےاورآپ ان کےساتھ ہی جیناچاہتےہیں- گویا آپ چاہتےیہ ہیں کہ آپ کی سوسائٹی میں لوگوں کوقتل بھی کیا جاتارہے- اغواکی وارداتیں بھی ہوتی رہیں، ڈاکےبھی پڑتےرہیں، لوگوں کاگھروں کےاندراطمینان سےسانس لینا بھی مشکل ہوجائےلیکن ان میں سےکسی چیزکوختم کرنےکےلیےکوئی سخت اقدام نہ کیا جائے کیونکہ یہ آپ کےخیال میں تہذیب کےخلاف ہےاوراس سےموجودہ دورکےمہذب انسان کی توہین ہوتی ہے___________نیویارک میں اس وقت حالت یہ ہےکہ اگررات کےوقت آکرکسی کا کوئی عزیزیا دوست گھنٹی بجائےتووہ کبھی اس خوف سےدروازہ نہیں کھولےگا آنےوالا ضرورکوئی ڈاکو ہو گا __________ اس قسم کےخوف و دہشت کے درمیان آپ لوگ زندگی بسرکر رہےہیں- لیکن اس صورت حال سےآپ نےسمجھوتہ (Compromise) کرلیا ہےاوراس کوبدلنےکےلیےتیارنہیں – آپ کا خیال یہ ہے کہ اس کوتورہنا ہی ہےاوراس چیزکےہوتےہوئےآپ ماڈرن اورمہذب بھی ہیں لیکن اگراس جرم وخوف کی زندگی کو بدلنےکےلیےکوئی سخت قدم اٹھایاجائےتووہ آپ کےنزدیک قرون وسطی کی طرف پلٹنا ہے______ لیکن ہم چاہتےہیں کہ اگرہمیں موقع ملےتوہم اسلامی قوانین کورائج کرکےدنیا کودکھادیں کہ اس طرح ایک پرامن معاشرہ (Peaceful Society) وجودمیں آتاہے-وہ معاشرہ مہذب اور ( Modern) بھی ہوگااورامن وسلامتیکاگہوارہ بھی! اس کےقیام کےبعد آپ کےیہ سارےنام نہاد جدید تصورات ونظریات محض ایک داستان پارینہ بن جائیں گے__________چنانچہ اگرہم اسلامی نظام زندگی کےقائل اوراسےدنیا میں قائم کرنےکے آرزومندہیں تواس وجہ سےنہیں کہ وہ ہماراقدیم مذہبی یا قومی نظام ہےاوراس بناپراس کےساتھ ہمیں محبت ہے بلکہ اس کوہم اس وجہ سےمانتےہیں کہ وہ سراسرایک معقول اورعادلانہ نظام ہےاوریہ ایک بالکل انصاف اورمعقول بات ہےکہ سوسائٹی کوجرائم سےپاک کیا جائے- ہمارےنزدیک وہ معاشرےنہایت براہےجس کےاندر جرائم پرورش پاتےہوں اورلوگوں کی ہمدردی کااصل مرکزمجرم ہوں نہ کہ وہ جن پرجرم کا ارتکاب کیا گیاہو

اسلام اورجمہوریت ولیم کراے:- جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اوروہاں اسلامی قوانین نافذ نہیں بلکہ سیکولرنظام پایاجاتاہے- ان ممالک میں مسلمانوں کاطرزعمل کیا ہوگا جبکہ وہ کسی غیراسلامی قانون پریقین نہیں رکھتےکیا وہ اس قسم کی گورنمنٹ کےخلاف کوئی اقدام کریں گے؟

مولانائےمحترم:- نہیں ، اگرہم کسی غیرمسلم ریاست (Non Muslim State) میں ہوں گےتوہم اس ریاست میں یہ کوشش کریں گےکہ پرامن جمہوری ذرائع سےلوگوں کےخیالات کوتبدیل کریں اوردلائل کےساتھ ان کواسلامی نظام زندگی کی معقولیت اوریرتری کاقائل کریں اس طریقےسےجب ہم اکثریت کےخیالات واذہان کوتبدیل کرلیں گےاورلوگوں کواسلامی نظام زندگی کاقائل کرلیں گےتواس اکثریت کی بناپروہاں کانظام تبدیل کریں گےاور ظاہرہےکہ یہ چیزجمہوری نقطئہ نظرسےبالکل درست ہوگی- ہم اس ریاست کےاندرغیرجمہوری ذرائع سے کوئی انقلاب نہیں لائیں گے-

ولیم کراے:- کیا آپ کےخیال میں جمہوریت کی اسلامک سوشل فلاسفی کےاندرگنجائش پائی جاتی ہے؟

مولانائےمحترم:- Yes, but not in the western meaning. In western political philosophy sovereignty rests with people, but in Islam it rests with God. جی ہاں- لیکن اہل مغرب کےنظریہ کےمطابق نہیں- مغربی فلسفہ، سیاست میں تواقتداراعلی کےالگ عوام الناس ہوتےہیں لیکن اسلام میں اقتداراعلی اللہ تعالی کوحاصل ہے- لیکن اس بنیادی فرق کےباوجودہمارا نظام حکومت ایسا ہوگا کہ اس میں ریاست کےسربراہ کاانتخاب لوگوں کی کثرت رائےکے ذریعےسےہوگا – لوگوں کےنمائندےان کی رائےسےمنتخب ہوں گےاورپارلمینٹ ان منتخب نمائندوں پرمشتمل ہوگی اورکوئی حکومت عوام الناس کااعتماد کھودینےکےبعد قائم نہیں رہ سکےگی- اس حد تک جمہوریت ہمارےہاں موجود ہےگویا اللہ تعالےکےاقتداراعلی کوتسلیم کرتےہوئےحکومت کی مشینری جمہوری طریقےپر اللہ تعالی کےاحکام وقوانین کونافذ کرےگی- عوام الناس خود مقتدراعلی نہیں ہوں گے

ولیم کراے:- کیا اس وقت ان معنوں میں کوئی صحیح اسلامی جمہوری ریاست پائی جاتی ہے؟ یاماضی قریب میں ایسی کوئی ریاست موجودتھی؟

مولانائےمحترم:- اگرفرض کیجئےکہ کسی مسلمان ملک میں اس قسم کااسلامی جمہوری نظام موجود نہیں ہےتواس کایہ مطلب نہیں ہےکہ اسلام کادیا ہواجمہوری تصورریاست اورقانون حکمرانی ناقض ہےبلکہ یہ صورت حال ان لوگوں کی غلطی کا نتیجہ ہےجو مسلمان بھی کہلاتےہیں لیکن اسلام کےجمہوری نظام رائج نہیں کرتے چنانچہ ہماری کوشش یہ ہےکہ مسلمان جہاں کہیں بھی وہ ہیں،محض نام کےمسلمان (Professing Muslims) نہ رہیں بلکہ عملی مسلمان (Practicing Muslims) بنیں-

ولیم کراے:- آپ جس قسم کی اسلامی ریاست کاتصورپیش فرمارہےہیں اس کےنمایاں خدوخال اوربنیادی خصوصیات کیا ہوں گی اورآپ موجودہ دورمیں حکومت کانظام کن خطوط پراستوارکریں گے؟

مولانائےمحترم:- اگرآپ جماعت اسلامی کےمنشور (Manifesto) کا مطالعہ کریں توآپ کوپوری طرح معلوم ہوجائےگا کہ ہم اسلامی اصول حکمرانی پرمبنی ایک جمہوری حکومت کس طرح قائم کریں گےاوراس کے نمایاں خدوخال کیا ہوں گےجماعت اسلامی کامنشورانگریزی زبان میں چھپا ہوا موجود ہے- وہ آپ کومہیا کیا جا سکتاہے- آپ اس کا مطالعہ کرکےاس سوال کامفصل جواب پالیں گے-

اسلامی معاشرےمیں عورت کا مقام ولیم کراے:- ایک اوراہم مسئلہ ہےجس کےبارےمیں میں کچھ عرض کرناچاہتاہوں اوروہ مسئلہ ہےسوسائٹی میں عورت کےمقام اورحیثیت کا؟ اس معاملےمیں اسلامی اقدار، مغرب کی صنعتی طورپرترقی یافتہ سوسائٹی کی اقدارسےقطعی مختلف اورمتضاد ہیں- آپ کی رائےکیا ہےاس معاملےمیں کہ کیا جدید دنیا کےبدلےہوئے حالات اورجدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں معاشرےکےاندرعورت کےبارےمیں اسلام کےنقطہ نظرمیں کوئی ترقی پسندانہ تبدیلی ممکن ہے؟

مولانائےمحترم:- دیکھئے، آپ کےخیال میں آپ کی جوجدید تہذیب اورماڈرن کلچرہے، آپ سمجھتےہیں کہ تہذیب اورثقافت کا یہی معیار (Standard) ہےاسی معیارپرآپ دوسری ہرتہذیب و ثقافت کوپرکھتےہیں- لیکن ہم اس کو نہیں مانتے-آپ اپنی جس تہذیب اورکلچرکو"ماڈرن" کہہ کر اس کی بڑی تعریف کرتےہیں ہم یہ سمجھتےہیں کہ یہ ایک پسماندہ (Backward) اورفرسودہ چیزہے، اوریہ تباہ کررہی ہےآپ کوپوری سوسائٹی کواورآپ کے پورےنظام تمدن کو- ہم نہیں چاہتےکہ اس " ماڈرن کلچر" کواپنی سوسائٹی میں لائیں اوراسےبھی تباہ کرلیں- آپ کی جدید تہذیب یہی ہےناکہ آپ نےاپنےہاں خاندانی نظام کاخاتمہ کردیا- آپ نےعورت کاجومقام ومرتبہ سوسائٹی کےاندر متعین کیا اس کانتیجہ یہی نکلاہےنا کہ آپ نےعورتوں کےاخلاق بھی برباد کئےاورمردوں کےبھی- آپ نے لوگوں کواخلاقی پستی کی انتہاتک گرادیا- کیا اپ چاہتےہیں کہ ہم بھی وہاں تک گرجائیں- ہم اس کےلیےتیار نہیں ہیں، ہم اپنی سوسائٹی کوان تمام برائیوں سےپاک رکھنا چاہتےہیں جوآپ کی ماڈرن سوسائٹی میں پائی جاتی ہیں – ہمارےنزدیک ترقی (Progress) اورچیزہےاورنام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بری عادات واطواراورچیزہم ہیں- (Progress) اور (Development) کےقائل ہیں اوروہ ہم ضرورکریں گے، لیکن اس شکل میں نہیں جس میں آپ کررہےہیں- ہم اس کوغلط سمجھتےہیں – اس کےبجائےہم اپنےاصولوں پرتعمیروترقی کریں گےاور وہی صحیح معنوں میں تعمیروترقی ہوگی"-

ولیم کراے:- کیاآپ سمجھتےہیں کہ عورت کامقام ہرحال میں اس کےگھرکےاندرہے،اوراس کی معاشرتی زندگی کےجملہ معاملات اس کےشوہرسےہی وابستہ ہونےچاہیئیں اوروہ دوسرےمردوں سےرابطہ نہیں رکھ سکتی- اس صورت میں کیا آپ یہ بھی پسند نہ کریں گےکہ عورتیں ڈاکٹریا معلمات بنیں؟-

مولانائےمحترم:- جی ہاں، اسلامی اصول معاشرت کی روسےعورت کامقام اس کا گھرےاوراس میں مرد کی حیثیت نگران اورقوام کی ہے- البتہ جہاں تک عورتوں کےتعلیم پانےاورڈاکٹریا معلمہ وغیرہ بننےکاسوال ہےتوہم نہ صرف یہ کہ اس کودرست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتےہیں- ہم اپنی خواتین کواعلی تعلیم دلواتےہیں لیکن اعلی سےاعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک مسلمان عورت یہ سمجھتی ہےکہ اس کااصل دائرہ کاراس کاگھرہے- ہماری خواتین ڈاکٹربھی بنیں گی لیکن وہ عورتوں کاعلاج کریں گی مردوں کانہیں، ہم عورتوں کاڈاکٹربننا اس لئےضروری سمجھتےہیں کہ وہ عورتوں کاعلاج کریں اورعورتوں کومردوں سےعلان نہ کرانا پڑے- ہم یہ چاہتےہیں کہ عورتیں اعلی تعلیم حاصل کرکےمعلمات اورلیڈی لیکچرارزاورپروفیسرز بنیں تاکہ وہ ہماری بچیوں کواعلی تعلیم دے سکیں- ہم یہ نہیں چاہتےکہ ہماری عورتوں کومردپڑھائیں چنانچہ ہمارےملک میں ایسےبےشمارکالج موجود ہیں جن میں صرف خواتین پڑھاتی ہیں اورتمام علوم وفنون کی تعلیم دیتی ہیں- وہ سائنس بھی پڑھاتی ہیں اوردوسرے جدید علوم بھی- اسی طرح دوسرےشعبوں میں بھی جہاں ضروری ہوہم اپنی خواتین کواعلی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرتےہیں- لیکن ان سب چیزوں کےساتھ ساتھ ہم اس اصول کوہرگزتبدیل نہیں کریں گےکہ مسلمان عورت کا اصل مقام اس کا گھرہے- مسلمان عورت سےہم جوبھی کام لیں گےوہ اس کےگھرکےاندراورعورتوں کی سوسائٹی کےاندرلیں گے- اس کو مردوں کےاندرنہیں لےآئیں گے-

ولیم کراے:- جیسا کہ آپ نےفرمایا یہ درست ہےکہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی نظام انتشارکاشکارہے لیکن اسلامی قانون کا یہ پہلوبھی غورطلب ہےکہ اس میں طلاق کےذریعےشادی کےبندھن کوختم کردینا بہت آسان ہے، خاص طورپرموجودہ فیمیلی لاذ سےپہلےتوایسا ہی تھا- کیا یہ چیزعورتوں کےلیےعدم تحفظ کی موجب نہیں ہے-

مولانائےمحترم:- Inspite of this easiness, the divorce- rate in our country is very low, rather negligible, but it is very hjgh in western countries, where the family system is entirely shattered. I have seen myself what is the condition of western societv and western culture. طلاق میں اس آسانی کےباوجود آپ دیکھتےہیں کہ ہمارےہاں طلاقوں کی شرح بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونےکےبرابرہے- جبکہ مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے، وہاں خاندانی نظام مکمل طورپرتباہ ہوچکاہے- میں نےمغربی معاشرےکی اس صورت حال کا اپنی آنکھوں سےمشاہدہ کیا ہے، ہمارےہاں توکبھی اتفاق سےیہ سننےمیں آتاہےکہ کسی شخص نےاپنی بیوی کوطلاق دےدی اوراس پرہم حیران ہوتےہیں کہ ایساکیوں ہوا- اس طرح طلاق ہمارےہاں آسان ہونےکےباوجود عملا ایک (RARE) چیزہےلیکن آپ کےیہاں جوحالات ہیں وہ آپ خود جانتےہیں کہ وہاں طلاقوں کی کس قدربھرمارہورہی ہے-

ولیم کراے:- مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی یہ کثرت عورتوں کےلیےکچھ زیادہ بڑامسئلہ نہیں ہےکیونکہ وہ معاشی طورپرآزاد ہیں اورمردکی محتاج نہیں ہیں، جبکہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے-

مولانائےمحترم:- آپ کومعلوم نہیں کہ مسلمان عورت اپنےباپ سےورثہ پاتی ہے- اپنےشوہرسےاوراپنے بیٹےسےبھی اس کوحصہ پہنچتاہےاوراس اس کوحصہ پہنچتاہےاوراس طرح جس شکل میں بھی اس کوکوئی ورثہ ملتاہےوہ اس کی خود مالک ہوتی ہےاوراس کا شوہر، باپ، بیٹا، یا کوئی اورشخص اس کواس سےمحروم نہیں کرسکتا-اسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبارکرسکتی اوران اداروں میں ملازمت کرسکتی ہےجن کادائرہ کار خواتین تک محدود ہے- اس طرح اس کومعقول طریقےسےجومعاشی آزادی حاصل ہوسکتی ہےہم اس کوتسلیم کرتےہیں لیکن ہم اس کی ایسی معاشی آزادی کودرست نہیں سمجھتےجس کےنتیجےمیں وہ بالکل آزاد ہوجائےاورجس کے نتیجےمیں معاشرےکےاندرطلاقوں کی اس طرح بھرمارہوجائےجیسی کہ مغربی معاشرہ میں پائی جاتی ہے جس سوسائٹی میں (Divorce rate) اس قدر بڑھ جائےوہاں ان بچوں کاکیا حشرہوگا جن کی ماؤں نےطلاق لےلی ہو طلاق لےکرپہلےوہ ایک شخص سےشادی کریں- پھرکسی اورشخص سےاورپھرکسی اورشخص سے، اورادھر بچوں کاحال یہ ہوکہ کوئی ان کا ولی وارثنہ ہو___________آپ کےہاں نئی نسل جرائم کی کیوں عادی ہوتی جاری ہے اور کےجرائم کیوں ایک بڑا مسئلہ بنےہوئےہیں- اس کی وجہ اس کےسواکیا ہےکہ آپ کےہاں طلاقتیں بڑی کثرت سےہورہی ہیں اوران کےنتیجےمیں خاندانی نظام درہم برہم بلکہ تباہ ہوکررہ گیا ہے- آپ دیکھ رہےہیں کہ آپ کےہاں نوعمرمجرم (Teenager Criminals) زیادہ ترعائلی طورپربرباد گھروں (Broken Home) سےنکل کرآرہےہیں-لیکن آپ یہ تسلیم کریں گےکہ ایسے (Broken- Home) خدا کےفضل سےہمارےہاں تقریبانا پیدہیں اورایسا شاذوناد ہی کبھی ہوتاہو گا کہ کسی خاندان میں طلاق کے نتیجےمیں بچےبگڑکرمجرم بن جائیں- تو اس لحاظ سےہم اپنےآپ کومغربی معاشرےسےکہیں زیادہ بہتراور قابل رشک پوزیشن میں پاتےہیں- اوریہ چیزاسلام کےان معاشرتی اصولوں کی بدولت ہےجوہمارےمعاشرے میں اب تک برقرارہیں اوران کی پابندی کی جاتی ہے-

بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی حمایت کا مسئلہ ولیم کراے:- کیا آپ پاکستان کےاندررہتےہوئےہندوستانی مسلمانوں کےساتھ ثقافتی روابط رکھنا چاہتےہیں اورکیا آپ یہ جانتےہیں کہ ہندوستان کےعلمی اوردینی مراکزکےساتھ رابطہ استوارہے؟

مولانائےمحترم:- جی ہاں، ہم تویہ چاہتےہیں، لیکن ہندوستان اورپاکستان کےدرمیان تعلقات کشیدہ ہونےکی وجہ سےایسا ممکن نہیں ہے- اس سےپشیترجب ہندوستان اورپاکستان کےدرمیان آمدورفت ممکن تھی اورڈاک آتی جاتی تھی تو اس زمانےمیں ہندوستان کےتمام کلچرل سنیٹرزاوردینی وعلمی مراکزکےساتھ ہمارےتعلقات برابر قائم رہے- ہمارےرسائل وجرائداورکتب وہاں جاتی تھیں اوروہاں سےکتب اوررسائل وجرائد ہمارےملک میں آتےتھے- اس طرح ہندوستان کےمسلمانوں کےساتھ ہمارےثقافتی روابطہ برابررہےہیں-

ولیم کراے:- کیا آپ ہندوستان کےموجودہ حالات میں بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی مددوحمایت کرنا چاہتےہیں؟

مولانائےمحترم:- بالکل ، ہم بھارتی مسلمانوں کواخلاقی مدددینا بھی ضروری سمجھتےہیں اورہم یہ بھی چاہتےہیں کہ دنیا کی رائےعامہ کواس بات پرآمادہ کریں کہ وہ ہندوستان میں مسلم کشی کوروکنےمیں اپنا کرداراداکرے- او ر بھارتی حکومت پریہ دباؤ ڈالےکہ وہ وہاں کہ مسلمانوں کےساتھ عدل وانصاف کےساتھ کام لے- ہماری ہمدردیاں پوری طرح ہندوستان کےمسلمانوں کےساتھ ہیں اورہم یہ سمجھتےہیں کہ ان پرمسلسل ظلم وزیادتی کی جا رہی ہے، ظلم وزیادتی ہی نہیں بلکہ ان کی نسل کشی کی جارہی ہےجو کہ اقوام متحدہ کےچارٹرکےمطابق بھی جرم ہےلیکن چونکہ بھارت ایک بڑی طاقت ہے، اس لیےاس سےیہ نہیں پوچھاجاتاکہ وہ اپنےشہریوں کےساتھ یہ سلوک کیوں کررہی ہے- ہم یہ چاہتےہیں کہ دنیا کی رائےعامہ اس معاملےمیں بھارت پراپنا اخلاقی دباؤ ڈال کراسےاس نسل کشی سےبازرکھنےکی کوشش کرے-

چندباتیں ________مولاناکےحالات ومصروفیات کےبارےمیں ولیم کراے:- اب چندباتیں آپ کی ذاتی زندگی کےبارےمیں معلوم کرنا چاہتاہوں - آپ نےبرصغیرپاک وہندکی سیاست میں ایک بڑا طویل اورموثررول ادا کیا ہے- آپ کی سیاسی زندگی کا آغازکب ہوا؟

مولانائےمحترم:- میں نےاپنےسیاسی کیرئیرکا آغاز1919ء میں کیا جب کہ میری عمر16(سولہ) سال کی تھی-

ولیم کراے:- غالبا آپ نےاس دورمیں تحریک خلافت میں حصہ لیا ہوگا؟ اورکیا اس زمانے میں آپ لاہور یں تھے؟

مولانائےمحترم:- جی ہاں- میں نےتحریک خلافت میں حصہ لیا- میں اس زمانےمیں دہلی میں تھا-

ولیم کراے:- کیا آپ دیوبندسےبھی وابستہ رہےہیں؟

مولانائےمحترم:- نہیں________میں اصل میں دہلی کارہنےوالا ہوں اورمیں نےتعلیم حیدرآباد دکن میں پائی- بس کےبعد جب تحریک خلافت کاآغازہواتومیں دہلی میں تھا – میں اس تحریک میں کام کرتارہالیکن بعد میں مجھےافسوس ہوا کہ اس تحریک کےزمانےمیں تحریک خلافت کےارکاناورانڈین نیشنل کانگریس کےدرمیان جوربط اورتعاون رہا وہ چلنےوالی چیزنہیں ہے، چنانچہ یہی ہوا کہ 1924ء میں کانگریس اورتحریک خلافت کا تعلق کٹ گیا-

ولیم کراے:- آج کل جب کہ آپ پرجماعت اسلامی کی قیادت کی ذمہ داری نہیں ہےآپ کےمشاغل کیا ہیں ؟ کیا آپ ایک بزرگ سیاستدان کی حیثیت سےجماعت کی سرگرمیوں میں شریک ہیں یا محض تصنیف و تالیف کاکام کر رہےہیں؟

مولانائےمحترم:- میں اپنی کمزورصحت کی وجہ سےجماعت کی سرگرمیوں اورعملی سیاست میں زیادہ حصہ نہیں لےرہاہوں- بس صرف لکھنےپڑھنےکےکام میں مصروف ہوں-

ولیم کراے:- آج کل آپ کیا تصنیف کررہےہیں؟

مولانائےمحترم:- آج کل میں " لائف آف دی ہولی پرافٹ" پرکام کررہاہوں اسےمیں ایک نئےطریقےسےلکھنا چاہتاہوں جو اس سےپہلےکسی نےاختیارنہیں کیا ہے، آج کل میرا سارا وقت اسی کام میں صرف ہو رہا ہے-

ولیم کراے:- تب تویہ ایک طویل کام ہے-

مولانائےمحترم :- جی ہاں،

ولیم کراے:- آپ کی اس بارےمیں کیا رائےہےکہ آیا اس قسم کےتصنیفی کام میں تاریخی تحقیق کےجدید اصول اختیارکئےجاسکتےہیں؟

مولانائےمحترم:- آپ تاریخی تحقیق ومطالعہ کےجس ماڈرن سسٹم کاحوالہ دےرہےہیں میراخیال یہ ہےکہ اس کے مقابلےمیں ہمارےہاں طریق تحقیق ہے- اس کا ماڈرن ریسرچ سکالرزکوکبھی خیال بھی نہیں آیا ہوگا- ہمارےہاں جس طریقےسےروایات کوتحقیق وجستجواورچھان پھٹک کےبعد قبول کیا جاتاہےاس کا اہتمام کسی دورمیں بڑے سےبڑےعلمائےتاریخ نےکبھی نہیں کیا- ہمارےہاں روایات کی صحت کوعقلی معیارپرجانچنےکےساتھ ساتھ ان کی اسناد کی تحقیق کی جاتی ہےاورجب یہ بات ثابت ہوجاتی ہےکہ ان سند پوری طرح متصل ہےاوراس میں کوئی کڑی غائب یا کمزورنہیں ہےتب ان روایات کوقبول کیا جانا ہے- احادیث اورکتب سیرت میں رسول اللہ صلےاللہ علیہ وسلم سےمنسوب تمام روایات کواس طریق تحقیق پرجانچنےکےبعد ان کوقبول یارد کیا جاتا ہے- آپ کےموجودہ ریسرچ سکالرزاس طرزتحقیق سےبالکل ناآشنا ہیں-

ولیم کراے:- میں آپ کا بہت شکرگذارہوں کہ آپ نےاپنےقیمتی وقت میں سےیہ گرانقدرلمحات مجھےعطافرمائے-یہ میرےلیےایک بڑا اعزازہے- اب میں آپ سےاجازت چاہتاہوں – بہت بہت شکریہ-

مولانائےمحترم:- آپ سےملاقات میرےلیےبھی باعث مسرت ہے-

ولیم کراے:- خدا حافظ ( یہ الفاظ اردومیں ادا کئےگئے-)

مولانائےمحترم:- خدا حافظ- ________________________________

کتاب خطبات یورپ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم