برادران اسلام، پچھلے خطبوں میں بار بار میں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔کہ یہ نماز، روزہ اور یہ حج اور زکوۃ جنھیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کیا ہے، اور اسلام کا رکن قرار دیا ہے ، یہ ساری چیزیں دوسرے مذہبوں کی عبادات کی طرح پوجاپاٹ اور نذرونیاز اور جاترا کی رسمیں نہیں ہیں کہ بس آپ ان کو ادا کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہو جائے۔ بلکہ در اصل یہ ایک بڑے مقصد کے لیے آپ کو تیار کرنے اور ایک بڑے کام کے لیے آپ کی تربیت کرنے کی خاطر فرض کی گئی ہیں۔اب چونکہ میں اس تربیت اور اس تیاری کے ڈھنگ کو کافی تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں ، اس لیےوقت آگیا ہے کہ آپ کو یہ بتایا جائے کہ وہ مقصد کیا ہے جس کےلیے یہ ساری تیاری ہے۔
مختصر الفاظ میں تو صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ وہ مقصد انسان پر سےانسان کی حکومت مٹا کر خدائے واحد کی حکومت قائم کرنا ہےاور اس مقصد کے لیےسردهر کی بازی لگا دینےاور جان توڑ کوشش کرنے کا نام جہاد ہے، اور نماز، روزہ، حج،زکوۃ سب کے سب اسی کام کی تیاری کے لیے ہیں ۔ لیکن چونکہ آپ لوگ مدتہائےدراز سے اس مقصد کو اور اس کام کو بھول چکے ہیں اور ساری عبادتیں آپ کے لیےمحض تصوف بن کر رہ گئی ہیں، اس لیےمیں سمجھتا ہوں کہ اس ذرا سے فقرے میں جو مطلب میں نے ادا کیا ہے اُسے آپ ایک معمے سے زیادہ کچھ نہ سمجھے ہوں گے۔اچھا تو آئیے اب میں آپ کے سامنے اس مقصد کی تشریح کروں ۔
دنیا میں آپ جتنی خرابیاں دیکھتےہیں اُن سب کی جڑ در اصل حکومت کی خرابی ہے۔طاقت اور دولت حکومت کےہاتھ میں ہوتی ہے۔ قانون حکومت بناتی ہےانتظام کےسارے اختیارات حکومت کے قبضہ میں ہوتےہیں۔ پولیس اور فوج کا زور حکومت کےپاس ہوتا ہے۔لہذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہےوہ یا تو خود حکومت کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہےیا اس کی مدد سےپھیلتی ہے۔کیونکہ کسی چیز کو پھیلنےکےلیےجس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہےخیال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ زنا دھڑتے سے ہو رہا ہے اور علانیہ کو ٹھوں پر یہ کاروبار جاری ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومت کے اختیارات جن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ان کی نگاہ میں زناکوئی جرم نہیں ہے۔ وہ خود اس کام کو کرتےہیں اور دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ ورنہ وہ اسے بند کرنا چاہیں تو یہ کام اس دھڑتےسےنہیں چل سکتا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سود خواری کا بازار خوب گرم ہو رہا ہےاور بالدار لوگ غریبوں کا خون پٹو سے چلے جاتے ہیں۔ یہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ حکومت خود شود کھاتی ہےاور کھانے والوں کو مدد دیتی ہے۔ اس کی عدالتیں سود خواروں کو ڈگریاں دیتی ہیں اور اس کی حمایت ہی کے بل پر یہ بڑے بڑے ساہوکارے اور بینک پھل رہے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں بیحیائی اور بداخلاقی روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہ کس لیے ؟ محض اس لیے کہ حکومت نے لوگوں کی تعلیم و تربیت کا ایسا ہی انتظام کیا ہےاور اس کو اخلاق اور انسانیت کے وہی نمونے پسند ہیں جو آپ کو نظر آر ہے ہیں۔ کسی دوسرے طرز کی تعلیم و تربیت سےآپ کسی اور نمونے کےانسان تیار کرنا چاہیں تو ذرائع کہاں سے لائیں گے ؟ اور تھوڑے بہت تیار کر بھی دیں تو وہ کھیں گے کہاں؟ رزق کےدروازے اور کھپت کےمیدان تو سارے کےسارےبگڑی ہوئی حکومت کے قبضہ میں ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بیحد و حساب خونریزی ہو رہی ہے۔ انسان کا علم اس کی تباہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انسان کی محنت کے پھل آگ کی نذر کیے جا رہے ہیں اور بیش قیمت جانیں مٹی کے ٹھیکزوں سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ مائع کی جارہی ہیں۔ یہ کس وجہ سے ؟ صرف اس وجہ سےکہ آدم کی اولاد میں جو لوگ سب سے زیادہ شہری اور با نفس تھے وہ دنیا کی قوموں کے رہنما اور اقتدار کی باگوں کے مالک ہیں ۔ قوت اُن کے ہاتھ میں ہے، اس لیے وہ دنیا کو جدھر چلا رہے ہیں اسی طرف دنیا پھل رہی ہے ۔ علم، دولت، محنت، جان ، ہر چینی کا جو مصرف انھوں نے تجویز کیا ہے اُسی میں ہر چیز صرف ہو رہی ہےآپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف ظلم ہو رہا ہے ، کمزور کے لیے کہیں انصاف نہیں ، غریب کی زندگی دشوار ہے، عدالتیں بنیےکی دوکان بنی ہوئی ہیں جہاں سے صرف روپے کے عوض ہی انصاف خریدا جا سکتا ہے، لوگوں سے بے حساب ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور افسروں کی شاہانہ تنخواہوں پر بڑی بڑی عمارتوں پر، لڑائی کے گولہ بارود پر اور ایسی ہی دوسری فضول خرچیوں پر اڑا دیےجاتے ہیں۔ساہو کا لہ، نہ بلیندار،راجہ اور رئیں،خطاب یافتہ اور خطاب کےامیدوار عمادین،گدی نشین پیر اور مہنت،سینما کمپنیوں کے مالک، شراب کے تاجر، فحش کتا بیں اور رسالے شائع کرنے والے،جوئے کا کاربار چلانے والے اور ایسےہی بہت سے لوگ خلق خدا کی جان، مال، عزت، اخلاق، ہر چیز کو تباہ کر رہےہیں اور کوئی اُن کو روکنےوالا نہیں۔یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ صرف اس لیےکہ حکومت کی کل بگڑی ہوئی ہے۔ طاقت جن ہاتھوں میں ہے وہ خراب ہیں۔ وہ خود بھی ظلم کرتے ہیں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔ اور جو ظلم بھی ہوتا ہے اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اس کے ہونے کے خواہشمند یا کم از کم روادار ہیں ۔
ان مثالوں سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔ لوگوں کے خیالات کا گمراہ ہونا ، اخلاق کا بگڑنا ، انسانی قوتوں اور قابلیتوں کا غلط راستوں میں صرف ہوتا ، کاروبار اور معاملات کی غلط صورتوں اور زندگی کےمیرے طور طریق کا رواج پانا ، ظلم و ستم اور بد افعالیوں کا پھیلنا اور خلق خدا کا تمام برای پیر سب کچھ نتیجہ ہے اس ایک بات کا کہ اختیارات اور اقتدار کی کنجیاں غلط ہاتھوں میں ہیں۔ظاہر ہےکہ جب طاقت بگڑے ہوئے لوگوں کےہاتھوں میں ہو گی اور جب خلق خدا کا رزق انہی کے تصرف میں ہو گا تو وہ نہ صرف خود بگاڑ کو پھیلائیں گے بلکہ بگاڑ کی ہر صورت ان کی مدد اور حمایت سے پھیلے گی اور جب تک اختیارات اُن کے قبضہ میں رہیں گے ، کسی چیز کی اصلاح نہ ہو سکے گی۔
یہ بات جب آپ کے ذہن نشین ہو گئی تو یہ سمجھنا آپ کے لیے آسان ہے کہ خلق خدا کی اصلاح کرنے اور لوگوں کو تباہی کے راستوں سے بچا کر فلاح اور سعادت کےراستےپر لانےکےلیے اس کےسوا کوئی چارہ نہیں ہےکہ حکومت کے بگاڑ کو درست کیا جائے۔ معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جہاں لوگوں کو زنا کی آزادی حاصل ہو، وہاں زنا کے خلاف خواہ کتنا ہی وعظ کیا جائے نہ نا کا بند ہونا محال ہے۔ لیکن اگر حکومت کے اختیارات پر قبضہ کر کےزبر دستی زنا کو بند کر دیا جائےتو لوگ خود بخود حرام کےراستےکو چھوڑ کر حلال کا راستہ اختیار کر لیں گے شراب،جوا، شود، رشوت، فحش تماشے، بے حیائی کے لباس، بد اخلاق بنانے والی تعلیم، اور ایسی ہی دوسری چیزیں اگر آپ وعظوں سے دُور کرنا چاہیں تو کامیابی ناممکن ہے البتہ حکومت کے زور سے یہ سب بلائیں دور کی جا سکتی ہیں۔ جو لوگ خلق خدا کو ٹوٹتےاور اخلاق کو تباہ کرتے ہیں، اُن کو آپ محض پند و نصیحت سے چاہیں کہ اپنے فائدوں سے ہاتھ دھو لیں تو یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ ہاں اقتدار ہاتھ میں لے کر آپ بزور اُن کی شرارتوں کا خاتمہ کر دیں تو ان ساری خرابیوں کا انسداد ہو سکتا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ بندگان خدا کی محنت، دولت، ذہانت و قابلیت غلط راستوں میں ضائع ہونے سےبچے اور صحیح راستوں میں صرف ہو، اگر آپ چاہیں کہ ظلم مئے اور انصاف ہو، اگر آپ چاہیں کہ زمین میں فساد نہ ہو، انسان انسان کا خون نہ پٹو سے نہ بہائے ، دبے اور گےہوئے انسان اٹھائے جائیں اور تمام انسانوں کو یکساں عرقت، امن ، خوش حالی اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں ، تو محض تبلیغ و تلقین کے زور سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ البتہ حکومت کا دور آپ کے پاس ہو تو یہ سب کچھ ہونا ممکن ہے۔ پس یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے جس کو سمجھنے کے لیے کچھ بہت زیادہ غور و فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ اصلاح خلق کی کوئی اسکیم بھی حکومت کے اختیارات پر قبضہ کیے بغیر نہیں چل سکتی ۔ جو کوئی حقیقت میں خدا کی زمین سے فتنہ و فساد کو مٹانا چاہتا ہو اور واقعی یہ چاہتا ہو کہ خلق خدا کی اصلاح ہو تو اس کے لیے محض واعظ اور ناصح بن کر کام کرنا فضولی ہے۔ اسے اٹھنا چاہیے اور غلط اصول کی حکومت کا خاتمہ کر کے غلط کار لوگوں کےہاتھ سے اقتدار چھین کر صحیح اصول اور صحیح طریقے کی حکومت قائم کرنی چاہیے۔
یہ نکتہ سمجھ لینے کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھیے۔آپ کو یہ تو معلوم ہو گیا کہ بندگان خدا کی زندگی میں جو خرابیاں پھیلتی ہیں اُن کی جڑ حکومت کی خرابی ہے، اور اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اس جڑ کی اصلاح کی جائے ۔ مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود حکومت کی خوابی کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس خرابی کی جڑ کہاں ہے؟ اور اس میں کون سی بنیادی اصلاح کی بجائے کہ وہ برائیاں پیدا نہ ہوں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جڑ در اصل انسان پر انسان کی حکومت ہے اور اصلاح کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہےکہ انسان پر خدا کی حکومت ہو۔اتنےبڑےسوال کا اتنا مختصر سا جواب سن کر آپ تعجب نہ کریں،اس سوال کی تحقیق میں جتنا کھوچ آپ لگائیں گے یہی جواب آپ کو ملے گا۔
ذرا غور تو کیجیے، یہ زمین جس پر آپ رہتے ہیں یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے یا کسی اور کی ؟ یہ انسان جو زمین پر بسنتے ہیں ان کو خدا نے پیدا کیا ہے یا کسی اور نے ؟ یہ بیشمار اسباب زندگی جن کے بل پر سب انسان جی رہے ہیں انھیں خدا نے مہیا کیا ہے یا کسی اور نے ؟ اگر ان سب سوالات کا جواب یہی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں کہ زمین اور انسان اور یہ تمام سامان خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ملک خدا کا ہے ، دولت خدا کی ہے اور رعیت بھی خدا کی ہے ۔ پھر جب معاملہ یہ ہے تو آخر کوئی اس کا حقدار کیسے ہو گیا کہ خدا کے ملک میں اپنا حکم چلائے؟ آخر یہ کسی طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ خدا کی رعیت پر خدا کے سوا کسی دوسرے کا قانون با خود رعیت کا اپنا بنا یا ہوا قانون جاری ہو؟ ملک کسی کا ہو اور حکم دوسرے کا چلے۔ملکیت کسی کی ہو اور بالک کوئی دوسرا بن جائے ، رعیت کسی کی ہو اور اس پر فرمانروائی دوسرا کرے ، یہ بات آپ کی عقل کیسے قبول کر سکتی ہے ؟ ایسا ہوتا تو صریح حقی کےخلاف ہے۔ اور چونکہ یہ حق کے خلاف ہے اس لیے جہاں کہیں اور جب کبھی ایسا ہوتا ہے نتیجہ بڑا ہی نکلتا ہے۔ جن انسانوں کے ہاتھ میں قانون بنانے اور حکم چلانے کےاختیارات آتےہیں وہ کچھ تو اپنی جہالت کی وجہ سےمجبورا غلطیاں کرتے ہیں،اور کچھ اپنی نفسانی خواہشات کی وجہ سے قصدا ظلم اور بے انصافی کا ارتکاب کرنےلگتے ہیں۔ کیونکہ اول تو ان کے پاس اتنا علم نہیں ہوتا کہ انسانی معاملات کو چلانے کےلیے صحیح قاعدے اور قانون بنا سکیں، اور پھر اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہےکہ خدا کے خوف اور خدا کے سامنے جواب دہی سے غافل ہو کر لا محالہ وہ شتر بے مہار بن جاتے ہیں۔ ذراسی عقل اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ جو انسان خدا سےبے خوف ہو، جسے یہ فکر ہو ہی نہیں کہ کسی کو حساب دینا ہے ، جو اپنی جگہ یہ سمجھ رہا ہو کہ اوپر کوئی نہیں جو مجھ سے پوچھ کچھ کرنے والا ہو، وہ طاقت اور اختیارات پاکر شتر بے مہار نہ بنے گا تو اور کیا بنے گا؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے شخص کے ہاتھ میں جب لوگوں کے رزق کی کنجیاں ہوں، جب لوگوں کی جانیں اور ان کے مال اس کی مٹھی میں ہوں ، جب ہزاروں لاکھوں سر اس کے حکم کے آگے ٹھیک رہے ہوں، تو کیا وہ راستی اور انصاف پر قائم رہ جائے گا ؟ کیا آپ توقع کرتے ہیں کہ وہ خزانوں کا امین ثابت ہو گا ؟ کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ وہ حق مارنے احرام کھانے اور بندگان خدا کو اپنا خواہ است کا غلام بنانےسےباز رہے گا؟ کیا آپ کےنزدیک یہ ممکن ہے کہ ایسا شخص خود بھی سیدھے راستے پر چلے اور دوسروں کو بھی سیدھا چلائے ؟ ہرگز نہیں، ہرگز ہرگز نہیں ، ایسا ہونا عقل کے خلاف ہے ، ہزار ہا برس کا تجربہ اس کے خلاف شہادت دیتا ہے، آج اپنی آنکھوں سے آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ خدا سے بے خوف اور آخرت کی جواب دہی سے غافل ہیں وہ اختیارات پاکر کس قدر ظالم بھائی ، اور بد راہ ہو جاتے ہیں۔
لہذا حکومت کی بنیاد میں جس اصلاح کی ضرورت ہے ،وہ یہ ہے کہ انسان پر انسان کی حکومت نہ ہو بلکہ خدا کی حکومت ہو۔اس حکومت کو چلانےوالےخود مالک الملک نہ نہیں بلکہ خدا کو بادشاہ تسلیم کر کےاس کےنائب اور امین کی حیثیت سے کام کریں اور یہ سمجھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں کہ آخر کار اس امانت کا حساب اُس بادشاہ کو دینا ہے جو کھلےاور چھپےکا جاننےوالا ہے ۔ قانون اُس خدا کی ہدایت پر مبنی. ہو جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہےاور دانائی کا سرچشمه ہےاس قانون کو بدلنےیا اس میں ترمیم و تنسیخ کرنےکے اختیارات کسی کو نہ ہوں، تاکہ وہ انسانوں کی جہالت یا خود فرضی اور ناروانخو اہشات کے دخل پاجانے سے بگڑ نہ جائے۔
یہی وہ بنیادی اصلاح ہے جس کو اسلام بھاری کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ خدا کو اپنا بادشاہ رمحض خیالی نہیں بلکہ واقعی بادشاہ تسلیم کر لیں اور اُس قانون پر جو خدا نےاپنے نبی کے ذریعےسےبھیجا ہے،ایمان لےآئیں،اُن سےاسلام یہ مطالبہ کرتا ہےکہ وہ اپنے بادشاہ کےملک میں اُس کا قانون مباری کرنے کے لیے اٹھیں،اس کی رعیت میں سے جو لوگ باغی ہو گئےہیں اور خود مالک الملک بن بیٹھےہیں اُن کازور توڑدیں اور اللہ کی رعیت کو دوسروں کی رعیت بننے سے بچائیں ۔ اسلام کی نگاہ میں یہ بات ہرگز کافی نہیں ہے کہ تم نے خدا کو خدا اور اس کے قانون کو قانون برحق مان لیا ۔ نہیں اس کو ماننے کے ساتھ ہی آپ سے آپ یہ فرض تم پر عائد ہو جاتا ہےکہ یہاں بھی تم ہو، جس سرزمین میں بھی تمھاری سکونت ہو وہاں خلق خدا کی اصلاح کےلیے اٹھو، حکومت کے غلط اصول کو صحیح اصول سے بدلنے کی کوشش کرو، ناخدا ترس اور شتر بے مہار قسم کے لوگوں سے قانون سازی اور فرماں روائی کا اقتدار چھین لو،اور جو بندگان خدا کی راهنمائی و سربراہ کاری اپنےہاتھ میں لےکر خدا کےقانون کے مطابق، آخرت کی ذمہ داری و جوابدہ ہی کا اور خدا کےعالم الغیب ہونےکا یقین رکھتے ہوئے حکومت کے معاملات انجام دو۔ اسی کوشش اور اسی جدوجہد کا نام جہاد ہے۔
لیکن حکومت اور فرماں روائی جیسی بدبلا ہےہر شخص اُس کو جانتا ہےاس کےحاصل ہونےکا خیال آتے ہی انسان کےاندر لالچ کے طوفان اٹھنےلگتےہیں خوابتا اےنفسانی یہ چاہتی ہیں کہ زمین کے خزانے اور خلق خدا کی گرد میں اپنے ہاتھ میں آئیں تو دل کھول کر خدائی کی جائے۔ حکومت کے اختیارات پر قبضہ کر لینا اتنا مشکل نہیں جتنا ان اختیارات کے ہاتھ میں آجانے کے بعد خدا بننے سے بچنا اور بنده خدا بن کر کام کرنا مشکل ہے،پھر بھلا فائدہ ہی کیا ہوا اگر فرعون کو مٹا کر تم خود فرعون بن گئے؟ لہذا اس شدید آزمائش کے کام کی طرف بلانے سے پہلے اسلام تم کو اس کے لیے تیار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ تم کو حکومت کا دھونی لے کر اٹھنے اور دنیا سے لڑنے کا حق اُس وقت تک ہرگز نہیں پہنچتا جب تک تمھارے دل سےخود غرضی اور نفسانیت نہ نکل جائےجب تک تم میں اتنی پاک نفسی پیدا نہ ہو جائے کہ تمھاری لڑائی اپنی ذاتی یا قومی اغراض کے لیے نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی رضا اور خلق اللہ کی اصلاح کےلیے ہو۔ اور جب تک تم میں یہ صلاحیت مستحکم نہ ہو جائے کہ حکومت بہا کر تم اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو بلکہ خدا کے قانون کی پیروی پر ثابت قدیم رہ سکو محض یہ بات کہ تم کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئےہو ، تمھیں اس کا مستقتی نہیں بنا دیتی کہ اسلام تمھیں تعلق خدا پر ٹوٹ پڑنےکا حکم دے دے، اور پھر تم خدا اور رسول کا نام لے لے کر وہی سب حرکتیں کرنے لگو جو خدا کے باغی اور ظالم لوگ کرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ انتی بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے تم کو حکم دیا جائے ، اسلام یہ ضروری سمجھتا ہے کہ تم میں وہ طاقت پیدا کی جائے جس سے تم اس بو مجھ کو سہار سکو ۔
یہ نمازہ اور روزہ اور یہ زکواۃ اور حج در اصل اسی تیاری اور تربیت کےلیےہیں جس طرح تمام دنیا کی سلطنتیں اپنی فوج ،پولیس اور سول سروس کے لیےآدمیوں کو پہلےخاص قسم کی ٹرینینگ دیتی ہیں پھر ان سے کام لیتی ہیں،اسی طرح اللہ کا دین (اسلام)بھی ان تمام آدمیوں کو اجوہ اس کی ملازمت میں بھرتی ہوں،پہلےخاص طریقےسےتربیت دیتا ہےپھر ان سےجہاد اور حکومت الہی کی خدمت لینا چاہتا ہےفرق یہ ہےکہ دنیا کی سلطنتوں کو اپنےآدمیوں سےجو کام لینا ہوتا ہےاُس میں اخلاق اور نیک نفسی اور بعدا ترسی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے وہ انھیں صرف کا ررواں بنانےکی کوشش کرتی ہیں،خواہ وہ کیسے ہی زانی، شرابی،بے ایمان اور بد نفس ہوں۔ مگر دین الہی کو جو کام اپنے آدمیوں سے لیتا ہے وہ چونکہ سارا کا سارا ہے ہی اخلاقی کام اس لیے وہ انھیں کاررواں بنانےسےزیادہ اہم اس بات کو سمجھتا ہےکہ انھیں خدا ترس اور نیک نفس بنائے۔ وہ ان میں اتنی طاقت پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جب وہ زمین میں خدا کی خلافت قائم کرنے کا دعولی لے کر اٹھیں تو اپنے دعوے کو سچا کہ کے دکھا سکیں۔ وہ لڑیں تو اس لیے نہ لڑیں کہ انھیں خود اپنے واسطے مال و دوست اور زمین درکار ہے ، بلکہ ان کے عمل سے ثابت ہو جائے کہ ان کی لڑائی خالص خدا کی رضا کے لیے اور اس کے بندوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے وہ فتح پائیں تو متکبر و سرکش نہ ہوں بلکہ ان کے سر خدا کے آگے مجھکے ہوئے رہیں ۔ وہ حاکم بنیں تو لوگوں کو اپنا غلام نہ بنائیں بلکہ خود بھی خدا کے غلام بن کر رہیں اور دوسروں کو بھی خدا کے سوا کسی کا غلام نہ رہنے دیں ۔ وہ زمین کے خزانوں پر قابض ہوں تو اپنی یا اپنےخاندان والوں یا اپنی قوم کے لوگوں کی جیبیں نہ بھر نے لگیں، بلکہ خدا کے رزق کو اس کے بندوں پر انصاف کے ساتھ تقسیم کریں اور ایک سچے امانتدار کی طرح یہ سمجھتےہوئے کام کریں کہ کوئی آنکھ ہمیں ہر حال میں دیکھ رہی ہے اور اوپر کوئی ہے جیسے ہم کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ہےاس تربیت کےلیے ان عبادتوں کے سوا اور کوئی دوسرا طریقہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اور جب اسلام اس طرح اپنے آدمیوں کو تیار کر لیتا ہےتب وہ ان سےکہتا ہے کہ ہاں ، اب تم روئے زمین پر خدا کےسب سےزیادہ صالح بندے ہو، لہذا آگے بڑھو، لڑ کر خدا کے باغیوں کو حکومت سے بیدخل کر دو اور خلافت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لو۔
آپ سمجھ سکتےہیں کہ جہاں فوج، پولیس،عدالت،جیل، تحصیلداری، ٹیکسی کلکڑی اور تمام دوسرے سرکاری کام ایسے اہلکاروں اور عہدہ داروں کے ہاتھ میں ہوں جو سب کے سب خدا سے ڈرنے والے اور آخرت کی جوابدهی کا خیال رکھنےوالےہوں، اور جہاں حکومت کے سارے قاعدے اور سارے ضابطے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر قائم ہوں، ہمیں میں بے انصافی اور نادانی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے،اور جہاں بری و بدکاری کی ہر صورت کا بر وقت تدارک کر دیا جائے اور نیکی و نیکو کاری کی ہر بات کو حکومت اپنے روپے اور اپنی طاقت سے پروان چڑھانے کے لیے متعدد ہے ، ایسی جگہ خلق خدا کی بہتری کا کیا حال ہو گا۔ پھر آپ ذرا غور کریں تو یہ بات بھی آسانی کے ساتھ آپ کی سمجھ میں آجائے گی کہ ایسی حکومت جب کچھ مدت تک کام کر کے لوگوں کی بگڑی ہوئی عادتوں کو درست کر دے گی جب وہ حرام خوری بل کاری، ظلم، بے حیائی اور بڑا اخلاقی کے سارے رستے بند کر دے گی ، جب وہ غلط قسم کی تعلیم و تربیت کا انسداد کر کے صحیح تعلیم و تربیت سے لوگوں کے خیالات ٹھیک کر دے گی، اور جب اس کے ماتحت عدل و انصاف، امن و امان اور نیک اطواری و خوش اخلاقی کی پاک صاف فضا میں لوگوں کو زندگی بسر کرنے کا موقع ملے گا ، تو وہ آنکھیں جو بد کار اور ناخدا ترس لوگوں کی سرداری میں مدت ہائے دراز تک رہنے کی وجہ سے اندھی ہو گئی تھیں، رفتہ رفتہ خود ہی حق کو دیکھنے اور پہچاننے کے قابل ہو جائیں گی۔ وہ دل جن پر صدیوں تک بد اخلاقیوں کے درمیان گھرے رہنے کی وجہ سےزنگ کی تہیں چڑھ گئی تھیں، آہستہ آہستہ خود ہی آئینے کی طرح صاف ہوتے چلے جائیں گے اور ان میں سچائی کا عکس قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔ اُس وقت لوگوں کے لیے اس سیدھی سی بات کا سمجھنا اور مان لینا کچھ بھی مشکل نہ رہے گا کہ حقیقت میں اللہ ہی اُن کا خدا ہے اور اُس کے سوا کوئی اس کا مستحق نہیں کہ وہ اس کی بندگی کریں اور یہ کہ واقعی وہ پیغمبر سچے تھے جن کے ذریعے سے ایسے صحیح قوانین ہم کو ملے ۔ آج جس بات کو لوگوں کے دماغ میں اُتارنا سخت مشکل نظر آتا ہے، اس وقت وہ بات خود دماغوں میں اُترنے لگے گی۔ آج تقریروں اور کتابوں کے ذریعہ سے جس بات کو نہیں سمجھایا جا سکتا اُس وقت وہ ایسی آسانی سے سمجھ میں آئے گی کہ گویا اس میں کوئی پیچیدگی تھی ہی نہیں۔ جو لوگ اپنی آنکھوں سے اس فرق کو دیکھ لیں گے کہ انسان کے خود گھڑے ہوئے طریقوں پر دنیا کا کاروبار چلتا ہے تو کیا حال ہوتا ہے اور خدا کے بتائے ہوئے طریقوں پر اسی دنیا کے کام چلائے جاتے ہیں تب کیا کیفیت ہوتی ہے۔ ان کےلیے خدا کی توحید اور اس کے پیغمبر کی صداقت پر ایمان لانا آسان اور ایمان نہ لانا مشکل ہو جائے گا۔ بالکل اُسی طرح جیسے پھول اور کانٹوں کا فرق محسوس کر لینے کے بعد پھول کا انتخاب کرنا آسان اور کانٹوں کا پھٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اُس وقت اسلام کی سچائی سے انکار کرنے اور کفر و شرک پر اڑے رہنے کے لیے بہت ہی زیادہ ہٹ دھرمی کی ضرورت ہوگی اور مشکل سے ہزار میں دس پانچ ہی آدمی ایسے نکلیں گے، جن میں زیادہ ہٹ دھرمی موجود ہو-
بھائیو اب مجھے امید ہے کہ تم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہو گا کہ یہ نماز اور روزہ اور یر حج اور زکوۃ کس غرض کےلیےہیں۔ تم اب تک یہ سمجھے رہے ہو اور مدتوں سےتم کو اس غلط فہمی میں مبتلا رکھا گیا ہے کہ یہ عبادتیں محض پوجا پاٹ قسم کی چیزیں ہیں۔ تمھیں یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ یہ ایک بڑی خدمت کی تیاری کے لیے ہیں۔ اسی وجہ سے تم بغیر کسی مقصد کے ان رسموں کو ادا کرتے رہے اور اس کام کے لیے کبھی تیار ہونے کا خیال تک تمھارے دلوں میں نہ آیا جس کے لیے در اصل انھیں مقرر کیا گیا تھا۔ مگر اب میں تمھیں بتاتا ہوں کہ جس دل میں جہاد کی نیت نہ ہو اور جس کے پیش نظر جہاد کا مقصد نہ ہو اس کی ساری عبادتیں بے معنی ہیں ۔ ان بے معنی عبادت گزاریوں سے اگر تم گمان رکھتے ہو کہ خدا کا تقرب نصیب ہوتا ہے تو خدا کے ہاں بجا کر تم خود دیکھ لو گے کہ انھوں نے تم کو اس سے کتنا قریب کیا۔
جب آپ کسی کی اطاعت میں داخل ہوئے اور اس کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا تو گویا آپ نے اس کا دین قبول کیا۔ پھر جب وہ آپ کا حاکم ہوا اور آپ اُس کی رعایا بن گئے تو اس کے احکام اور اس کے مقرر کیے ہوئے ضابطے آپ کے لیے قانون یا شریعت ہوں گے اور جب آپ اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں گے ، جو کچھ وہ طلب کرے گا حاضر کر دیں گے ، جس بات کا وہ حکم دے گا اسے بجا لائیں گے جن کاموں سے منع کرے گا اُن سے رُک جائیں گے،جن حدود کے اندر رہ کر کام کرنا وہ آپ کے لیے جائز ٹھیرائے گا اپنی حدود کےاندر آپ رہیں گے، اور اپنے آپس کے تعلقات و معاملات اور مقدموں اور قضیوں میں اُسی کی ہدایات پر چلیں گے اور اسی کے فیصلہ پر سر جھکا ئیں گے تو آپ کے اس رویہ کا نام بندگی یا عبادت ہوگا۔
اس تشریح سےیہ بات صاف ہو جاتی ہےکہ دین در اصل حکومت کا نام ہے۔شریعت اس حکومت کا قانون ہے اور عبادت اس کے قانون اور ضابطہ کی پابندی ہےآپ جس کسی کو حاکم مان کر اس کی محکومی قبول کرتے ہیں، دراصل آپ اُس کےدین میں داخل ہوتےہیں۔اگر آپ کا وہ حاکم اللہ ہےتو آپ دین اللہ میں داخل ہوئے، اگر وہ کوئی بادشاہ ہے تو آپ دین بادشاہ میں داخل ہوئے،اگر وہ کوئی خاص قوم ہے تو آپ اُسی قوم کے دین میں داخل ہوئے، اور اگر وہ خود آپ کی اپنی قوم یا آپ کےوطن کے جمہور ہیں تو آپ دین جمہور میں داخل ہوئے۔ غرض جس کی اطاعت کا قلادہ آپ کی گردن میں ہے فی الواقع اُسی کے دین میں آپ ہیں، اور میں کے قانون پر آپ عمل کر رہے ہیں در اصل اُسی کی عبادت کر رہے ہیں ۔
یہ بات جب آپ نے سمجھ لی تو بغیر کسی وقت کے یہ سیدھی سی بات بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کے دو دین کسی طرح نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ مختلف حکمرانوں میں سے بہر حال ایک ہی کی اطاعت آپ کر سکتے ہیں۔ مختلف قانونوں میں سے پہر حال ایک ہی قانون آپ کی زندگی کا منابطہ بن سکتا ہے۔ اور مختلف معبودوں میں سےایک ہی کی عبادت کرنا آپ کے لیے ممکن ہے۔ آپ کہیں گے کہ ایک صورت یہ بھی تو ہو سکتی ہے کہ عقیدے میں ہم ایک کو حاکم مانیں اور واقعہ میں اطاعت دوسرےکی کریں ، پوجا اور پرستش ایک کے آگے کریں اور بندگی دوسرے کی بجالائیں، اپنےدل میں عقیدہ ایک قانون پر رکھیں اور واقعہ میں ہماری زندگی کے سارے معاملات دوسرے قانون کے مطابق چلتے رہیں ۔ یہی اس کے جواب میں عرض کروں گا، بیشک یہ ہو تو سکتا ہے، اور سکتا کیا معنی ہو ہی رہا ہے ، مگر یہ ہے شرک۔ اور یہ شرک سر سے پاؤں تک جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ حقیقت میں تو آپ اُسی کے دین پر ہیں جس کی اطاعت واقعی آپ کو رہے ہیں۔ پھر یہ جھوٹ نہیں تو کیا ہے کہ جس کی اطاعت آپ نہیں کر رہے ہیں اُس کو اپنا حاکم اور اُس کے دین کو اپنا دین کہیں ؟اور اگر زبان سے آپ کہتے بھی ہیں یا دل میں ایسا سمجھتے بھی ہیں تو اس کا فائدہ اور اثر کیا ہے؟ آپ کا یہ کہنا کہ ہم اس کی شریعت پر ایمان لاتے ہیں بالکل ہی بے معنی ہےجبکہ آپ کی زندگی کے معاملات اس کی شریعت کے دائرے سے نکل گئے ہوں اور کسی دوسری شریعت پر چل رہے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ ہم فلاں کو معبود مانتے ہیں اور آپ کا اپنے ان سروں کو جو گردنوں پر رکھے ہوئے ہیں ، سجدے میں اس کے آگےزمین پر ٹیک دینا ، بالکل ایک مصنوعی فعل بن کر رہ جاتا ہے جبکہ آپ واقع میں بندگی دوسرے کی کر رہے ہوں۔ حقیقت میں آپ کا معبود تو وہ ہے اور آپ دراصل عبادت اسی کی کر رہے ہیں جس کےحکم کی آپ تعمیل کرتے ہیں۔ جس کےمنع کرنےسےآپ رُکتے ہیں، جس کی قائم کی ہوئی حدود کےاندر رہ کر آپ کام کرتے ہیں ہیں کے مقرر کیے ہوئے طریقوں پر آپ چلتے ہیں، جس کے ضابطے کے مطابق آپ دوسری کا مال لیتے اور اپنا مال دوسروں کو دیتےہیں ، جس کےفیصلوں کی طرف آپ اپنے معاملہ میں رجوع کرتے ہیں، جس کی شریعت پر آپ کے باہمی تعلقات کی تعظیم اور آپ کےدرمیان حقوق کی تقسیم ہوتی ہے۔ اور جس کی طلبی پر آپ اپنے دل و دماغ اور ہاتھ پاؤں کی ساری قوتیں ، اور اپنے کمائے ہوئے مال اور آخر کار اپنی جانیں تک پیش کر دیتے ہیں۔ پس اگر آپ کا عقیدہ کچھ ہو اور واقعہ اس کے خلاف ہو، تو اصل چیز واقعہ ہی ہوگا ، عقیدے کے لیےاس صورت میں سرےسے کوئی جگہ نہ ہو گی، نہ ایسےعقیدے کا کوئی وزن ہی ہوگا اگر واقعہ میں آپ دین بادشاہ پر ہوں تو اس میں دین اللہ کے لیےکوئی جگہ نہ ہوگی، اگر واقعہ میں آپ دین جمہور پر ہوں یا دین انگریز یا دین جرمن یا دین ملک و وطن پر ہوں تو اس میں بھی دین اللہ کے لیے کوئی جگہ نہ ہو گی اور اگر فی الواقعہ آپ دین اللہ پر ہوں تو اسی طرح اس میں بھی کسی دوسرےدین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ بہر حال یہ خوب سمجھ لیجیے کہ شرک جہاں بھی ہو گا جھوٹ ہی ہوگا۔
یہ نکتہ بھی جب آپ کےذہن نشین ہو گیا تو بغیر کسی لمبی چوڑی بحث کے آپ کا دماغ خود اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ دین خواہ کوئی سا بھی ہو، لامحالہ اپنی حکومت چاہتا ہے دینِ جمهوری ہو یا دین بادشاہی، دین اشتراکی ہو یا دینِ الہی،یا کوئی اور دین،بہر حال ہر دین کو اپنے قیام کے لیے خود اپنی حکومت کی ضرورت ہوتی ہے حکومت کے بغیر دین بالکل ایسا ہے جیسے ایک عمارت کا نقشہ آپ کے دماغ میں ہوں، مگر عمارت زمین پر موجود نہ ہو۔ ایسے دماغی نقشے کے ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے جبکہ آپ رہیں گئے اس عمارت میں جو فی الواقع موجود ہوگی ؟ اُسی کے دروازے ہیں آپ داخل ہوں گے اور اسی کے دروازے سے نکلیں گے۔اُسی کی ہمت اور اسی کی دیواروں کا سایہ آپ پر ہو گا۔اُسی کےنقشےپر آپ کو اپنی سکونت کا سارا انتظام کرنا ہوگا۔پھر بھلا ایک نقشہ کی عمارت میں رہتے ہوئے آپ کا کسی دوسرے طرز یا دوسرےنقشے کی عمارت اپنے ذہن میں رکھنا ، یا اس کا محض معتقد ہو جانا آخر معنی ہی کیا رکھتا ہے؟ وہ خیالی عمارت تو محض آپ کے ذہن میں ہوگی مگر آپ خود اس واقعی عمارت کے اندر ہوں گے جو زمین پر بنی ہوئی ہے۔ عمارت کا لفظ دماغ والی عمارت کے لیے تو کوئی بولتا نہیں ہے، نہ ایسی عمارت میں کوئی رہ سکتا ہے۔ عمارت تو کہتےہی اس کو ہیں اور آدمی رہ اسی عمارت میں سکتا ہے جس کی بنیادیں زمین میں ہوں اور جس کی چھت اور دیواریں زمین پر قائم ہوں ۔ بالکل اسی مثال کےمطابق کسی دین کےحق ہونے کا محض اعتقاد کوئی معنی نہیں رکھتا، اور ایسا اعتقاد لا حاصل ہےجبکہ لوگ عملاً ایک دوسرےدین میں زندگی بسر کر رہےہوں۔جس طرح خیالی نقشےکا نام عمارت نہیں ہے اسی طرح خیالی دین کا نام بھی دین نہیں ہے۔ اور خیالی عمارت کی طرح کوئی شخص خیالی دین میں بھی نہیں رہ سکتا۔ دین وہی ہے جس کا اقتدار زمین پر قائم ہو، جس کا قانون پہلے جس کے ضابطے پر زندگی کے معاملات کا انتظام ہو۔ لہذا ہردین مین اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے اپنی حکومت کا تقاضا کرتا ہے، اور دین ہوتا ہی اسی لیے ہے کہ جس اقتدار کو وہ تسلیم کرنا چاہتا ہے اسی کی عبادت اور بندگی ہو اور اسی کی شریعت نافذ ہو۔
دین جمہوری کا کیا مفہوم ہے ؟ یہی ناکہ ایک ملک کےعام لوگ خود اپنے اقتدار کے مالک ہوں، ان پر خود انہی کی بنائی ہوئی شریعت پہلےاور ملک کے سب باشند ہےاپنے جمہوری اقتدار کی اطاعت و بندگی کریں ۔ بتائیے یہ دین کیوں کہ قائم ہو سکتا ہےجب تک کہ ملک کا قبضہ واقعی جمہوری اقتدار کو حاصل نہ ہو جائےاور جمہوری شریعت نافذ نہ ہونےلگے؟ اگر جمہور کےبجائےکسی قوم کا یا کسی بادشاہ کا اقتدار ملک میں قائم ہو اور اسی کی شریعت چلے تو دین جمہوری کہاں رہا ؟ کوئی شخص دین جمہوری پر اعتقاد رکھتا ہو تو رکھا کرے، جب تک بادشاہ کا یا غیر قوم کا دین قائم ہے ، دین جمہوری کی پیروی تو وہ نہیں کر سکتا۔
دین پادشاہی کو لیجیے۔ یہ دین جس بادشاہ کو بھی معا کی اعلیٰ قرار دیتا ہے اسی لیےتو قرار دیتا ہے کہ اطاعت اُس کی ہو اور شریعت اُس کی نافذ ہو۔اگر یہی بات نہ ہوئی تو بادشاہ کو بادشاہ ماننے اور اُسےحاکم اعلیٰ تسلیم کرنےکےمعنی ہی کیا ہوئے؟دین جمہور سپل پڑا ہو یا کسی دوسری قوم کی حکومت قائم ہو گئی ہو تو دین بادشاہی رہا کب کہ کوئی اس کی پیروی کر سکے۔
دُور نہ جائیے اسی دین انگریز کو دیکھ لیجے جو اس وقت ہندوستان کا دین ہے_١ یہ دین اسی وجہ سے تو چل رہا ہے کہ تعزیرات ہند اور ضابطہ دیوانی انگریزی طاقت سے نافذ ہے ۔ آپ کی زندگی کے سارے کا روبارہ انگریز کے مقرر کردہ طریقے پر اس کی لگائی ہوئی سعد بندیوں کے اندر انجام پاتے ہیں ، اور آپ سب اسی کے محکم کے آگے سر اطاعت مجھکا رہے ہیں۔ جب تک یہ دین اس قوت کے ساتھ قائم ہے،آپ خواہ کسی دین کے معتقد ہوں، بہر حال اُس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے لیکن اگر تعزیرات ہند اور ضابطہ دیوانی چلنا بند ہو جائے اور انگریز کے حکم کی اطاعت بندگی نہ ہو تو بتائیے کہ دین انگریز کا کیا مفہوم باقی رہ جاتا ہے ؟
ایسا ہی معاملہ دین اسلام کا بھی ہےاس دین کی بنا یہ ہےکہ زمین کا مالک اور انسانوں کا بادشاہ صرف اللہ تعالیٰ ہے، لہذا اسی کی اطاعت اور بندگی ہوئی چاہیے اور کسی کی شریعت پر انسانی زندگی کے سارے معاملات چلنے چاہییں۔یہ اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا انمول ہو اسلام پیش کرتا ہے یہ بھی اس غرض کے لیے ہے۔اور اس کے سوا کوئی دوسری غرض اس کی نہیں ہے کہ زمین میں صرف اللہ کا حکم ملےعدالت میں فیصلہ اسی کی شریعت پر ہو ، پولیس اسی کے احکام جاری کرے، لین دین اسی کے ضابطے کی پیروی میں ہو، ٹیکس اسی کی مرضی کے مطابق لگائے جائیں اور انہی مصارف میں صرف ہوں ہو اس نے مقرر کیے ہیں، سول سروس اور فوج اسی کےزیر حکم ہو، لوگوں کی قوتیں اور قابلیتیں،محنتیں اور کوششیں اسی کی راہ میں ہوں ، تقولی اور خوف اسی سے کیا جائے، رعیت اسی کی مطبع ہو، اور فی الجملہ انسان اُس کے سوا کسی کےبندے بن کر نہ رہیں۔ظاہر بات ہے کہ یہ غرض پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ خالص اپنی حکومت نہ ہو ۔کسی دوسرے دین کے ساتھ یہ دین شرکت کہاں قبول کر سکتا ہے؟ اور کونسا دین ہے جو دوسرے دین کی شرکت قبول کرتا ہو ؟ہر دین کی طرح یہ دین بھی یہی کہتا ہے کہ اقتدار خالصا و مخلصا میرا ہونا چاہیے اور ہر دوسرا دین میرے مقابلہ میں مغلوب ہو جانا چاہیےورنہ میری پیروی نہیں ہو سکتی۔میں ہوں گا تو دین جمہوری نہ ہوگا ، دین بادشاہی نہ ہوگا،دین اشترا کی نہ ہوگا، کوئی بھی دوسرا دین نہ ہوگا، اور اگر کوئی دوسرا دین ہوگا تو میں نہ ہوں گا ، اور اس صورت میں محض مجھے سحق مان لینے کا کوئی نتیجہ نہیں ۔ یہی بات ہے جس کو قرآن بار بار دہراتا ہے۔ مثلاً:
"لوگوں کو اس کے سوا کسی بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ سب طرف سےمنہ موڑ کر اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی عبادت کریں۔"
"و ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو پوری ہنس دین پر غالب کر دے خواہ شرک کرنے والوں کو ایسا کرنا کتنا ہی ناگوار ہو"-
"تو جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اس کو چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی دوسرے کی عبادت شریک نہ کرے"-
الم تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمُ المَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَنْهَا كَبُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ تَكْفُرُوا بِه ...... وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَامَ بِإِذْنِ الله (النساء : ۲۰-۶۴)
"تو نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعوئی تو یہ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس ہدایت پر جو تیری طرف اور تجھ سے پہلےکےنبیوں کی طرف اُتاری گئی تھی اور پھر ارادہ یہ کرتے ہیں کہ فیصلے کے لیے اپنے مقدمات طاغوت کے پاس لے جائیں ، حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ...... ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے تو بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے"-
اوپر میں عبادت اور دین اور شریعت کی جو تشریح کر چکا ہوں اس کےبعد آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی وقت نہ ہوگی کہ ان آیات میں قرآن کیا کہہ رہا ہے۔
اب یہ بات بالکل صاف ہو گئی کہ اسلام میں جہاد کی اس قدر اہمیت کیوں ہے، دوسرے تمام دینوں کی طرح دین اللہ بھی محض اس بات پر مطمئن نہیں ہو سکتا کہ آپ میں اس کے حق ہونے کو مان لیں اور اپنےاس اعتقاد کی علامت کے طور پر محض رسمی پوجا پاٹ کر لیا کریں ۔ کسی دوسرے دین کے ماتحت رہ کہ آپ اس دین کی پیروی کر یہی نہیں سکتے ۔ کسی دوسرے دین کی شرکت میں بھی اس کی پیروی نا ممکن ہے ۔ لہذا اگر آپ واقعی اس دین کو حق سمجھتے ہیں تو آپ کے لیے اس کےسوا کوئی چارہ نہیں کہ اس دین کو زمین میں قائم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا نہ درگاہیں اور یا تو اسے قائم کر کے چھوڑیں یا اسی کوشش میں جان دے دیں ۔ یہی کسوٹی ہےجس پر آپ کے ایمان و اعتقاد کی صداقت پر لکھی جا سکتی ہے۔ آپ کا اعتقاد سچا ہو گا تو آپ کو کسی دوسرے دین کے اندر رہتے ہوئےآرام کی نیند تک نہ آسکے گی۔کھا کہ آپ اُس کی خدمت کر یں اور اس خدمت کی روٹی مزے سےکھائیں اور آرام سے پاؤں پھیلا کر سوئیں۔ اس دین کو حق مانتے ہوئے تو جو لمحہ بھی آپ پر کسی دوسرےدین کی ماتحتی میں گزرے گا اس طرح گزرے گا کہ بستر آپ کے لیے کانٹوں کا بستر ہوگا،کھانا زہر اور حنظل کا کھانا ہوگا اور دین حق کو قائم کرنے کی کوشش کیسے بغیر آپ کو کسی کل چین نہ آسکے گا۔ لیکن اگر آپ کو دین اللہ کے سوا کسی دوسرے دین کے اندر رہنے میں چین آتا ہو اور آپ اس حالت پر راضی ہوں تو آپ مومن ہی نہیں ہیں،خواہ آپ کتنی ہی دل لگا لگا کر نمازیں پڑھیں ، کتنے ہی لمبے لمبے مراقبے کریں، کتنی ہی قرآن و حدیث کی شرح فرمائیں، اور کتنا ہی اسلام کا فلسفہ بگھا رہیں۔یہ تو ان لوگوں کا معاملہ ہےجو دوسرے دین پر راضی ہوں۔ رہے وہ منافقین جو دوسرےدین کی وفادارانہ خدمت کرتے ہوں یا کسی اور دین (مثلاً دین جمہوں کو لانے کےلیےجہاد کرتے ہوں تو ان کے متعلق میں کیا کہوں؟ موت کچھ دُور نہیں ہے، وہ وقت جب آئے گا تو جو کچھ کمائی انھوں نے دنیا کی زندگی میں کی ہے خدا خود ہی ان کے سامنے رکھ دے گا۔ یہ لوگ اگر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو سخت حماقت میں مبتلا ہیں۔ عقل ہوتی تو ان۔کی سمجھ میں خود آجاتا کہ ایک دین کو برحق بھی ماننا اور پھر اس کے خلاف کسی دوسرےدین کے قیام پر راضی ہونا ، یا اس کے قیام میں حصہ لینا یا اس کو قائم کرنے کی کوشش کرنا، با الکل ایک دوسرے کی مند ہیں، آگ اور پانی جمع ہو سکتے ہیں، مگر ایمان باللہ کے ساتھ یہ عمل قطعا جمع نہیں ہو سکتا۔
قرآن اس سلسلہ میں جو کچھ کہتا ہے وہ سب کا سب تو اس خطبہ میں کہاں نقل کیا جا سکتا ہے، مگر صرف چند آیتیں آپ کو سناتا ہوں :
"کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض یہ کہہ کر کہ ہم ایمان لائے چھور دیے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟ حالانکہ ان سے پہلے جس نےبھی ایمان کا دعوی کیا ہے اس کو ہم نے آزمایا ہے ، پس ضرور ہے کہ اللہ دیکھے کہ ایمان کے دعوے میں سچھے کون ہیں اور جھوٹے کون "-
"اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائےاللہ ہی، مگر جب اللہ کےرستے ہیں وہ شایا گیا تو انسانوں کی سزا سےایسا ڈرا جیسےاللہ کےعذاب سےڈرنا چاہیے۔حالانکہ اگر تیرے رب کی طرف سے فتح آ جائے تو دیہی آکر کہے گا کہ ہم تو تمھارے ہی ساتھی تھے ۔ کیا اللہ جانتا نہیں سمجھو کچھ لوگوں کے دلوں میں ہے ؟ مگر وہ ضرور دیکھ کر رہے گا کہ مومن کون ہے اور منافق کون "
"اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ مومنوں کو اسی طرح رہنے دےجس طرح وہ اب ہیں دکر (سچتے اور جھوٹے مدعیان ایمان خلط ملط ہیں)، وہ باز نہ رہے گا جب تک طبیت اور طیب کو چھانٹ کر الگ الگ نہ کر دے۔"
"کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ نہیں دیکھا کہ تم میں سے کون ہیں جنھوں نے جہاد کیا اور کون ہیں جنھوں نے اللہ اور رسول اور مومنوں کو چھوڑ کر دوسروں سے اندرونی تعلق رکھا"-
الم تر الى الذِينَ تَوَلَّوا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُم... أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَنِ الرانَ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخَسِرُونَ ، إِنَّ الَّذِينَ يُجَادُونَ اللهَ وَرَسُولَة أولئِكَ فِي الْأَذَلِينَ كَتَبَ الله لا غلِبَنَّ انَا وَ رُسُلِي طَ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزُه (المجادلة : ۱۴ - ۱۹ تا ۲۱)
"تو نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو ساتھ دیتے ہیں اُس گروہ کا جس سے اللہ ناراض ہے ! یہ لوگ نہ تمھارے ہی ہیں نہ انہی کے ہیں ..... یے تو شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں اور خبردار رہو کہ شیطان کی پارٹی والے ہی نامراد رہنے والے ہیں ۔ یقینا جو لوگ اللہ اور رسول کا مقابلہ کرتے ہیں دیعنی دین حق کے قیام کے خلاف کام کرتے ہیں، وہ شکست کھانے والوں میں ہوں گے۔ اللہ کا فیصلہ ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گئے،یقینا اللہ طاقت ور اور زبردست ہے۔"
ان آیات سے یہ بات صاف معلوم ہوگئی کہ جب اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین زمین میں قائم ہو اور کوئی مسلمان اپنے آپ کو اس حالت میں مبتلا پائےتو اس کے مومن صادق ہونےکی پہچان یہ ہے کہ وہ اُس دین باطل کو مٹا کر اس کی جگہ دین بھی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں ۔ اگر کرتا ہے اور کوشش میں اپنا پورا زور صرف کر دیتا ہے، اپنی جان لڑا دیتا ہے اور ہر طرح کے نقصانات انگیز کیےجاتا ہے تو وہ سچا مومن ہے خواہ اس کی یہ کوششیں کامیاب ہوں یا نا کام۔ لیکن اگر وہ دین باطل کے غلبے پر راضی ہے یا اس کو غالب رکھنے میں خود حصہ لے رہا ہے تو وہ اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہے۔
پھر ان آیات میں قرآن مجید نے ان لوگوں کو بھی جواب دے دیا ہے جو دین حق کو قائم کرنے کی مشکلات عذر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دین حق کو جب کبھی قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی، کوئی نہ کوئی دین باطل قوت اور زور کے ساتھ قائم شدہ تو پہلےسےموجود ہو گا ہی۔طاقت بھی اس کے پاس ہوگی،رزق کے خزانے بھی اسی کے قبضےمیں ہوں گےاور زندگی کےسارےمیدان پر وہی مسلط ہوگا۔ ایسے ایک قائم شدہ دین کی جگہ کسی دوسرےدین کو قائم کرنےکا معاملہ بہرحال پھولوں کی سیج تو نہیں ہو سکتا۔آرام اور سہولت کےساتھ بیٹھے بیٹھے قدم ملک یہ کام نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔آپ چاہیں کہ جو کچھ فائد ے دین باطل کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہوئےحاصل ہوتے ہیں یہ بھی ہاتھ سےنہ جائیں اور دین بھی بھی قائم ہو جائے،تو یہ قطعا محال ہےیہ کام تو جب بھی ہوگا اسی طرح ہو گا کہ آپ اُن تمام حقوق کو، ان تمام فائدوں کو،اور اُن تمام آسائشوں کو لات مارنے کے لیے تیار ہو جائیں جو دین باطل کے ماتحت آپ کو حاصل ہوں، اور جو نقصان بھی اس مجاہدے میں پہنچ سکتا ہے اس کو ہمت کے ساتھ انگیز کریں۔ جن لوگوں میں یہ کھکھیڑ اُٹھانے کی ہمت ہو، جہاد فی سبیل اللہ انہی کا کام ہے، اور ایسے لوگ ہمیشہ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دین حق کی پیروی کرنا تو چاہتےہیں مگر آرام کے ساتھ۔ تو ان کے لیے بڑھ بڑھ کر بولنا مناسب نہیں ۔ ان کا کام تو یہی ہے کہ آرام سے بیٹھے اپنے نفس کی خدمت کرتے رہیں اور جب خدا کی راہ میں مصیبتیں اٹھانےوالے آخر کار اپنی قربانیوں سے دین حق کو قائم کر دیں تو وہ آکر کہیں إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ یعنی ہم تو تمھاری ہی جماعت کے آدمی ہیں، لاؤ اب ہمارا حصہ دو۔
| کتاب | خطبات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |