خطبات

باب اول

ایمان

مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت

مسلم اور کافر کا اصلی فرق

سونچنے کی باتیں

کلمہ طیبہ کے معنی

کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ

کلمہ طیبہ پر ایمان لانے کا مقصد

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت

اللہ کا سب سے بڑا احسان

برادران اسلام با ہر مسلمان سچے دل سے یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں خدا کی سب سےبڑی نعمت اسلام ہے ۔ ہر مسلمان اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقت میں اس کو شامل کیا اور اسلام کی نعمت اُس کو عطا کی بخود اللہ تعالیٰ بھی اس کو اپنےبندوں پر اپنا سب سےبڑا انعام قرار دیتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا :

اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَى وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيناط والمائده ؛ ٣)

" آج میں نے تمھارا دین تمھارے لیے کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اس بات کو پسند کر لیا کہ تمھارا دین اسلام ہو۔"

احسان شناسی کا تقاضا

یہ احسان جو اللہ تعالیٰ نےآپ پر فرمایا ہےاس کا حق ادا کرنا آپ پر فرض ہےکیوں کہ جو شخص کسی کےاحسان کا حق ادا نہیں کرتا وہ احسان فراموش ہوتا ہے، اور سب سے بدتر احسان فراموشی یہ ہے کہ انسان اپنے خدا کے احسان کا حق بھول جائے۔اب آپ پوچھیں گےکہ خدا کےاحسان کا حق کس طرح ادا کیا جائے؟ میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ جب خدا نےآپ کو امت محمدیہ میں شامل کیا ہےتو اس کےاس احسان کا صحیح شکر یہ ہےکہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے پیرو نہیں جب خدا نے آپ کو مسلمانوں کی ملت میں شامل کیا ہے تو اس کی اس مهربانی کا ستی آپ اسی طرح ادا کر سکتےہیں کہ آپ پورے مسلمان نہیں۔ اس کےسوا خدا کے اس احسان عظیم کا حق آپ اور کسی طرح ادا نہیں کر سکتے۔ اور یہ حتی اگر آپ نے ادا نہ کیا تو جتنا بڑا خدا کا احسان ہے اتنا ہی بڑا اس کی احسان فراموشی کا وبال بھی ہو گا۔ خدا ہم سب کو اس وبال سے بچائے۔آمین۔

مسلمان بننے کے لیے پہلا قدم

اس کےبعد آپ دوسرا سوال یہ کریں گےکہ آدمی پورا مسلمان کس طرح بن سکتا ہے؟ اس کا جواب بہت تفصیل چاہتا ہے اور آئندہ جمعہ کے خطبوں میں اسی کا ایک ایک جزو آپ کے سامنے پوری تشریح کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔لیکن آج کے خطبہ میں، میں آپ کے سامنے وہ چیز بیان کرتا ہوں جو مسلمان بننے کےلیے سب سے مقدم ہے، جس کو اس راستہ کا سب سے پہلا قدم سمجھنا چاہیے۔

کیا مسلمان نسل کا نام ہے ؟

ذرا دماغ پر زور ڈال کر سونچیے کہ آپ مسلمان کا لفظ جو بولتے ہیں اس کا مطلب کیا ہے ؟ کیا انسان ماں کے پیٹ سے " اسلام" ساتھ لے کر آتا ہے ؟ کیا ایک شخص صرف اس بنا پر مسلمان ہوتا ہے کہ وہ مسلمان کا بیٹا اور مسلمان کا ہوتا ہے؟کیا مسلمان بھی اسی طرح مسلمان پیدا ہوتا ہے جس طرح ایک برہمن کا بچہ برہمن پیدا ہوتا ہے ، ایک راجپوت کا بیٹا راجپوت، اور ایک شو در کالڑ کا شو در؟ کیا مسلمان کسی نسل یا ذات برادری کا نام ہے کہ جس طرح ایک انگریز کسی انگریز کےگھر پیدا ہونے کی وجہ سے انگریز ہوتا ہے، اور ایک نجاٹ ، جاٹ قوم میں پیدا ہونے کی وجہ سے بھاٹ ہوتا ہے، اسی طرح ایک مسلمان،صرف اس وجہ سےمسلمان ہو کہ وہ مسلمان نامی قوم میں پیدا ہوا ہے؟ یہ سوالات جو میں آپ سے پوچھ رہا ہوں ان کا آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ یہی کہیں گےنا کہ نہیں صاحب! مسلمان اس کو نہیں کہتے،مسلمان نسل کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوتا بلکہ اسلام لانے سے مسلمان بنتا ہے، اور اگر وہ اسلام کو چھوڑ دے تو مسلمان نہیں رہتا۔ ایک شخص خواہ برہمن ہو یا راجپوت، انگریز ہو یا جاٹ، پنجابی ہو یا حبشی ، جب اُس نےاسلام قبول کیا تو مسلمانوں میں شامل ہو جائے گا۔ اور ایک دوسرا شخص بھی مسلمان کےگھر میں پیدا ہوا ہے،اگر وہ اسلام کی پیروی چھوڑ دےتو وہ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہو جائے گا، چاہے وہ سید کا بیٹا ہو یا پٹھان کا ۔

کیوں حضرات آپ میرے سوالات کا یہی جواب دیں گے نا ؟ اچھا تو اب خود آپ ہی کے جواب سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ خدا کی یہ سب سے بڑی نعمت یعنی مسلمان ہونے کی نعمت جو آپ کو حاصل ہے، یہ کوئی نسلی چیز نہیں ہےکہ ماں باپ سےوراثت میں یہ خود بخود آپ کو حاصل ہو جائے اور خود بخود تمام عمر آپ کے ساتھ لگی رہے ، خواہ آپ اس کی پروا کریں یا نہ کریں ۔ بلکہ ایسی نعمت ہےکہ اس کے حاصل کرنے کے لیے خود آپ کی کوشش شرط ہے۔ اگر آپ کوشش کر کے اسے حاصل کریں تو آپ کو مل سکتی ہے اور اگر آپ اس کی پروانہ کریں تو یہ آپ سے بھن بھی سکتی ہے ، معاذ اللہ۔

اسلام لانے کا مطلب

اب آگے بڑھیے ۔ آپ کہتے ہیں کہ اسلام لانے سے آدمی مسلمان بنتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اسلام لانے کا مطلب کیا ہے؟ کیا اسلام لانے کا یہ مطلب ہےکہ جو آدمی بس زبان سے کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمان بن گیا ہوں، وہ مسلمان ہے ؟ یا اسلام لانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک برہمن بیچاری بغیر سمجھے بو مجھے سنسکرت کے چند منتر پڑھتا ہے اسی طرح ایک شخص سونی کے چند فقرے بغیر سمجھے بوجھے زبان سے ادا کر دے اور میں وہ مسلمان ہو گیا ؟ آپ خود بتائیے کہ اس سوال کا آپ کیا جواب دیں گے ؟ آپ یہی کہیں گے تاکہ اسلام ہےکا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیم دی ہے اس کو آدھی جان کر ، سمجھ کر، دل سے قبول کرے، اور اس کے مطابق عمل کرے۔ جو ایسا کرےوہ مسلمان ہے اور جو ایسا نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔

پہلی ضرورت علم

یہ جواب جو آپ دیں گے، اس سے خود بخود یہ بات کھل گئی کہ اسلام پہلے علم کا نام ہے اور علم کے بعد عمل کا نام ہے ۔ ایک شخص علم کے بغیر بر یمین ہو سکتا ہے،کیوں کہ وہ بر سمن پیدا ہوا ہے اور برہمن ہی رہے گا۔ ایک شخص علم کے بغیر جاٹ ہو سکتا ہے، کیوں کہ وہ بات پیدا ہوا ہے اور بجاٹ ہی رہے گا۔ مگر ایک شخص علم کے بغیر مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ کیوں کہ مسلمان پیدائش سے مسلمان نہیں ہوا کرتا بلکہ علم سے ہوتا ہے ۔ جب تک اس کو یہ علم نہ ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا ہے ، وہ اُس پر ایمان کیسے لا سکتا ہےاور اس کےمطابق عمل کیسےکر سکتا ہے؟ اور جب وہ جان کر اور سمجھ کر ایمان ہی نہ لایا تو مسلمان کیسے ہو سکتا ہے؟پس معلوم ہوا کہ جہالت کےساتھ مسلمان ہونا اور مسلمان رہنا غیرممکن ہےبه شخص جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے جس کا نام مسلمانوں کا سا ہے، ہجو مسلمانوں کے سے کپڑے پہنتا ہے اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ، حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان در حقیقت صرف وہ شخص ہے جو اسلام کو جانتا ہو اور پھر جان بوجھ کر اس کو مانتا ہو۔ ایک کا فراور ایک مسلمان میں اصلی فرق نام کا نہیں کہ وہ رام پر شاد ہے اور یہ عبداللہ ہے، اس لیے وہ کافر ہے اور یہ مسلمان ۔ اسی طرح ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصلی فرق لباس کا بھی نہیں ہے کہ وہ دھوتی باندھتا ہےاور یہ پاجامہ پہنتا ہے، اس لیے وہ کافر ہےاور یہ مسلمان۔ بلکہ اصلی فرق ان دونوں کے درمیان علم کا ہے ۔ وہ کافر اس لیےہے کہ وہ نہیں جانتا کہ خدا وند عالم کا اس سے اور اس کا خدا وند عالم سے کیا تعلق ہے، اور خالق کی مرضی کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا راستہ کیا ہے۔اگر یہی حال ایک مسلمان کے بچے کا بھی ہو تو بتاؤ کہ اس میں اور ایک کا فریں کس چیز کی بنا پر فرق کرتے ہو، اور کیوں یہ کہتے ہو کہ وہ تو کافر ہے اور یہ مسلمان ہے۔

حضرات یہ بات جو ہیں کہ رہا ہوں اس کو ذرا کان لگا کر سُنیے اور ٹھنڈے دل سے اس پر غور کیجیے ۔ آپ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ خدا کی یہ سب سےبڑی نعمت ہیں پر آپ شکر اور احسان مندی کا اظہار کرتے ہیں، اس کا حاصل ہوتا اور حاصل نہ ہونا ، دونوں باتیں علم پر موقوف ہیں۔ اگر علم نہ ہو تو یہ نعمت آدمی کو حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر تھوڑی بہت حاصل ہو بھی جائے تو جہالت کی بنا پر ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ یہ عظیم الشان نعمت اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔محض نادانی کی بنا پر وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتا رہے گا کہ میں ابھی تک مسلمان ہوں،حالانکہ در حقیقت وہ مسلمان نہ ہوگا۔ جو شخص یہ جانتا ہی نہ ہو کہ اسلام اور کفر میں کیا فرق ہے،اور اسلام اور شرک میں کیا امتیاز ہے، اس کی مثال تو بالکل ایسی ہےجیسے کوئی شخص اندھیرے میں ایک پگڈنڈی پر چل رہا ہو۔ ہو سکتا ہےکہ سیدھی لکیر پر چلتےپھلتے خود اس کے قدم کسی دوسرے راستے کی طرف مڑ جائیں اور اس کو خبر بھی نہ ہو کہ میں سیدھی راہ سے ہٹ گیا ہوں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راستے میں کوئی دقبال کھڑا ہوا مل جائے اور اس سے کہے کہ ارے میاں یا تم اندھیرے میں راستہ بھول گئے، آؤ میں تمھیں منزل تک پہنچا دوں۔ بیچارہ اندھیرے کا مسافر خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا کہ سیدھا راستہ کونسا ہے۔ اس لیے نادانی کے ساتھ اپنا ہاتھ اس در قبال کے ہاتھ میں دے دے گا اور وہ اس کو بھٹکا کر کہیں سے کہیں لے جائے گا۔ یہ خطرات اس شخص کو اسی لیے تو پیش آتے ہیں کہ اس کے پاس خود کوئی روشنی نہیں ہے اور وہ خود اپنے راستے کے نشانات کو نہیں دیکھ سکتا اگر اس کے پاس روشنی موجود ہو تو ظاہر ہے کہ نہ وہ راستہ بھولے گا اور نہ کوئی دوسرا اس کو بھٹکا سکے گا۔ بس اسی پر قیاس کر لیجیےکہ مسلمان کے لیے سب سےبڑا خطرہ اگر کوئی ہے تو یہی کہ وہ خود اسلام کی تعلیم سے ناواقف ہو، خود یہ نہ جانتا ہو کہ قرآن کیا سکھاتا ہےاور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہدایت دے گئےہیں۔اس جہالت کی وجہ سے وہ خود بھی بھٹک سکتا ہےاور دوسرے دجال بھی اس کو بھٹکا سکتےہیں لیکن اگر اس کےپاس علم کی روشنی ہو تو وہ زندگی کے ہر قدم پر اسلام کے سیدھے راستے کو دیکھ سکے گا ، ہر قدم پر کفر اور شرک اور گمراہی اور فسق و فجور کے جو ٹیڑھے راستے بیچ میں آئیں گے ان کو پہچان کر ان سے بچ سکے گا، اور جو کوئی راستے میں اس کو بہکانے والا ملے گا تو اس کی دو چار باتیں ہی سن کر وہ خود سمجھ جائیگا کہ یہ بہکانے والا آدمی ہے، اس کی پیروی نہ کرنی چاہیے۔

علم کی اہمیت

بھائیو ، یہ علم جس کی ضرورت میں آپ سے بیان کر رہا ہوں، اس پر تمھارےاور تمھاری اولاد کے مسلمان ہونے اور مسلمان رہنے کا انحصار ہے۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ اس سےبے پروائی کی جائے۔ تم اپنی کھیتی باڑی کےکام میں غفلت نہیں کرتے، اپنی زراعت کو پانی دینے اور اپنی فصلوں کی حفاظت کرنے میں غفلت نہیں کرتے ، اپنے مویشیوں کو چارہ دینے میں غفلت نہیں کرتے۔ اپنے پیشے کےکاموں میں غفلت نہیں کرتے، محض اس لیے کہ اگر غفلت کرو گے تو ٹھو کے مر جاؤ گے اور جان جیسی عزیز چیز ضائع ہو جائے گی ۔ پھر مجھے بتاؤ کہ اس علم کےحاصل کرنے میں کیوں غفلت کرتے ہو جس پر تمھارے مسلمان بننےاور مسلمان رہنے کا دارومدار ہے ؟ کیا اس میں یہ خطرہ نہیں کہ ایمان جیسی عزیز چیز ضائع ہو جائےگی؟ کیا ایمان ، جان سے زیادہ عزیز بھیز نہیں ہے ؟ تم جان کی حفاظت کرنےوالی چیزوں کے لیے جتنا وقت اور جتنی محنت صرف کرتے ہو کیا اُس وقت اور محنت کا دسواں حصہ بھی ایمان کی حفاظت کرنے والی چیزوں کے لیے صرف نہیں کر سکتے ؟

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ہر شخص مولوی بنے ، بڑی بڑی کتابیں پڑھےاور اپنی عمر کے دس بارہ سال پڑھنے میں صرف کر دے۔ مسلمان بننے کے لیے اتنا پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں کا ہر شخص رات دن کےچھو نہیں گھنٹوں میں سےصرف ایک گھنٹہ علم دین سیکھنےمیں صرف کرے۔ کم از کم اتنا علم ہر مسلمان بچے اور بوڑھے اور جو ان کو حاصل ہونا چاہیے کہ قرآن جس مقصد کے لیےاور جو تعلیم لےکر آیا ہے اُس کا لب لباب جان لے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو مٹانےکے لیے اور اس کی جگہ جو چیز قائم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔اس کو خوب پہچان لے ، اور اُس خاص طریق زندگی سے واقف ہو جائے جو اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے مقرر کیا ہے ۔ اتنے علم کے لیے کچھ بہت زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر ایمان عزیز ہو تو اس کے لیے ایک گھنٹہ روز نکالنا کچھ مشکل نہیں۔

مسلم اور کافر کا اصلی فرق

مسلم اور کافر میں فرق کیوں؟ برادران اسلام کا ہر مسلمان اپنے نزدیک یہ سمجھتا ہے اور آپ بھی ضرور ایسا ہی سمجھتے ہوں گے کہ مسلمان کا درجہ کا فر سے اونچا ہے۔ مسلمان کو خدا پسند کرتا ہے اور کافر کو نا پسند کرتا ہے ۔ مسلمان خدا کے ہاں بخشا جائے گا اور کافر کی بخشش نہ ہوگی۔ مسلمان جنت میں بھائے گا اور کافر دوزخ میں جائے گا۔ آج میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بات پر غور کریں کہ مسلمان اور کافر میں اتنا بڑا فرق آخر کیوں ہوتا ہے ؟ کافر بھی آدم کی اولاد ہے اور تم بھی ۔ کافر بھی ایسا ہی انسان ہےجیسے تم ہو۔ وہ بھی تمھارے ہی جیسے ہاتھ پاؤں ، آنکھ، کان رکھتا ہے۔ وہ بھی اسی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہی پانی پیتا ہے۔ اسی زمین پر لیتا ہے۔ یہی پیداوار اتا ہے۔ اسی طرح پیدا ہوتا ہے اور اسی طرح مرتا ہے۔ اسی خدا نے اس کو بھی کھانا۔پیدا کیا ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے۔ پھر آخر کیوں اُس کا درجہ نیچا ہے اور تمھارا اونچا ؟ تمھیں کیوں جنت ملے گی اور وہ کیوں دوزخ میں ڈالا جائے گا ؟

کیا صرف نام کا فرق ہے؟ یہ بات ذرا سونچنے کی ہے ۔ آدمی اور آدمی میں اتنا بڑا فرق صرف اتنی سی بات سے تو نہیں بن سکتا کہ تم عبد اللہ اور عبدالرحمن اور ایسےہی دوسرے ناموں سےپکارے جاتےہو اور وہ دین دیال اور کرتار سنگھ اور ابرٹسن جیسے ناموں سے پکارا جب آتا ہے ۔ یاتم ختنہ کراتے ہو اور وہ نہیں کراتا۔ یاتم گوشت کھاتےہو اور وہ نہیں کھانا ۔ اللہ تعالیٰ جس نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے اور جو سب کا پروردگار ہے ایسا ظلم تو کبھی نہیں کر سکتا کہ ایسی چھوٹی پھوٹی باتوں پر اپنی مخلوقات میں فرق کرے اور ایک بندے کو جنت میں بھیجے اور دوسرے کو دروخ میں پہنچا دے۔

اصلی فرق _____ اسلام اور کفر جب یہ بات نہیں ہے تو پھر غور کرو کہ دونوں میں اصلی فرق کیا ہے؟اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ دونوں میں اصلی فرق اسلام اور کفر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسلام کے معنی خدا کی فرماں برداری کے ہیں، اور کفر کےمعنی خدا کی نافرمانی کے۔ مسلمان اور کافر دونوں انسان ہیں ، دونوں خدا کے بندےہیں۔ مگر ایک انسان اس لیے افضل ہو جاتا ہے کہ یہ اپنے مالک کو پہچانتا ہے،اس کے حکم کی اطاعت کرتا ہے اور اس کی نافرمانی کے انجام سے ڈرتا ہے۔ اور دوسرا انسان اس لیے اونچے درجہ سے گر جاتا ہے کہ وہ اپنے مالک کو نہیں پہچانتا اور اس کی فرماں برداری نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے مسلمان سے خدا خوش ہوتا ہےاور کافر سے ناراض۔ مسلمان کو جنت دینے کا وعدہ کرتا ہے اور کافر کو کہتا ہےکہ دوزخ میں ڈالوں گا۔

فرق کی وجہ ________ علم اور عمل اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو کافر سے جدا کرنے والی صرف دو چیزیں ہیں : ایک علم، اور دوسری عمل یعنی پہلے تو اسے یہ جاننا چاہیے کہ اس کا مالک کون ہے ؟ اس کے احکام کیا ہیں ؟ اس کی مرضی پر چلنے کا طریقہ کیا ہے ؟ کن کاموں سے وہ خوش ہوتا ہے اور کن کاموں سے ناراض ہوتا ہے ؟ پھر جب یہ باتیں معلوم ہو جائیں تو دوسری بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مالک کا غلام بنا دے ۔ جو مالک کی مرضی ہو اس پر پہلے اور جو اپنی مرضی ہو اس کو چھوڑ دے۔ اگر اس کا دل ایک کام کو چاہیے اور مالک کا حکم اس کے خلاف ہو تو اپنے دلی کی بات نہ مانے اور مالک کی بات مان لے۔ اگر ایک کام اس کو اچھا معلوم ہوتا ہے اور مالک کہے کہ وہ بنا ہے، تو اُسے بڑا ہی سمجھے۔ اور اگر دوسرا کام آئےبرا معلوم ہوتا ہے مگر مالک کہے کہ وہ اچھا ہے تو اُسے اچھا ہی سمجھے۔ اگر ایک کام میں اُسے نقصان نظر آتا ہو اور مالک کا حکم ہو کہ اسے کیا جائے تو چاہے اس میں جان اور مال کا کتنا ہی نقصان ہو ، وہ اس کو ضرور کر کے ہی پھوڑے۔ اگر دوسرےکام میں اس کو فائدہ نظر آتا ہو اور مالک کا حکم ہو کہ اُسے نہ کیا جائے ، تو خواہ دنیا بھر کی دولت ہی اس کام میں کیوں نہ ملتی ہو، وہ اس کام کو ہر گز نہ کرے۔

یہ علم اور یہ عمل ہے جس کی وجہ سے مسلمان خدا کا پیارا بندہ ہوتا ہے اور اس پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور خدا اس کو عزت عطا کرتا ہے ۔ کا فرید علم نہیں رکھتا اور علم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا عمل بھی یہ نہیں ہوتا ، اس لیے وہ خدا کا جاہل اور نافرمان بندہ ہوتا ہے اور خدا اس کو اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔

اب خود ہی انصاف سے کام لے کر سوچو کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، مگر ویسا ہی جاہل ہو جیسا ایک کا فر ہوتا ہے، اور ویسا ہی نا فرمان ہو جیسا ایک کافر ہوتا ہے تو محض نام اور لباس اور کھانے پینے کے فرق کی وجہ سےوہ کافر کےمقابلہ میں کسی طرح افضل ہو سکتا ہے اور کس بنا پر دنیا اور آخرت ہیں خدا کی رحمت کا حق دار ہو سکتا ہے؟ اسلام کسی نسل یا خاندان با برادری کا نام نہیں ہے کہ باپ سے بیٹے کو اور بیٹے سے پوتے کو آپ ہی آپ مل جائے۔یہاں یہ بات نہیں ہےکہ برہمن کا لڑکا چاہےکیسا ہی جاہل ہو اور کیسےہی بڑےکام کرےمگر وہ اونچا ہی ہوگا، کیوں کہ برہمن کےگھر پیدا ہوا ہےاور اونچی ذات کا ہے۔اور چمار کا لڑکا چاہےعلم اور عمل کے لحاظ سے ہر طرح اس سے بڑھ کر ہو مگر وہ نیچا ہی رہے گا ، کیوں کہ چار کے گھر پیدا ہوا ہے اور کمین ہے ۔ یہاں تو خدا نے اپنی کتاب میں صاف فرما دیا ہے کہ ان اكرمكم عند الله انفلو (الحجرات : ۱۳) یعنی جو خدا کو زیادہ پہچانتا ہے اور اس کی زیادہ فرماں برداری کرتا ہے ، وہی خدا کے نزدیک زیادہ عزت والا ہے ۔ حضرت ابراہیم ایک بت پرست کے گھر پیدا ہوئے ۔ مگر انھوں نے خدا کو پہچانا اور اس کی فرمانبرداری کی، اس لیے خدا نے ان کو ساری دنیا کا امام بنا دیا۔ حضرت نوح کا لڑکا ایک پیغمبر کے گھر پیدا ہوا، مگر اُس نے خدا کو نہ پہچانا اور اس کی نافرمانی کی، اس لیے خدانےاس کے خاندان کی کچھ پروا نہ کی اور اسے ایسا عذاب دیا جس پر دنیا عبرت کرتی ہے۔ پس خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ خدا کے نزدیک انسان اور انسان میں جو کچھ بھی فرق ہے وہ علم اور عمل کے لحاظ سے ہے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کی رحمت صرف انہی کے لیے ہے جو اس کو پہچانتے ہیں، اور اس کے بتائےہوئے سیدھے راستے کو جانتے ہیں، اور اس کی فرماں برداری کرتے ہیں۔ جن لوگوں میں یہ صفت نہیں ہے ان کے نام خواہ عبد اللہ اور عبد الرحمن ہوں، یا دین دیال اور کرتار سنگھ ، خدا کے نزدیک ان دونوں میں کوئی فرق نہیں اور ان کو اس کی رحمت سے کوئی حق نہیں پہنچتا۔

آج مسلمان ذلیل کیوں ؟

بھائیو کہ تم اپنےآپ کو مسلمان کہتےہو،اور تمھارا ایمان ہےکہ مسلمان پر خدا کی رحمت ہوتی ہےمگر ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو، کیا خدا کی رحمت تم پر نازل ہو رہی ہے ؟ آخرت میں جو کچھ ہو گا وہ تو تم بعد میں دیکھو گے ، مگر اس دنیا میں تمھارا جو حال ہےاس پر نظر ڈالو۔ اس ہندوستان میں تم نو کروڑ ہو۔ تمھاری اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر ایک ایک شخص ایک ایک کنکر ہی پھینکے تو پہاڑ بن جائے۔ لیکن جہاں اتنے مسلمان موجود ہیں وہاں کفارحکومت کر رہے ہیں ۔تمھاری گردنیں اُن کی مٹھی میں ہیں کہ جدھر چاہیں تمھیں موڑ دیں۔تمھارا سرجو خدا کےسوا کسی کے آگے نہ جھکتا تھا، اب انسانوں کے آگے ٹھیک رہا ہے تمھاری عزت جس پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی ہمت نہ کر سکتا تھا ، آج وہ خاک میں مل رہی ہے۔تمھارا ہاتھ ، جو ہمیشہ اونچا ہی رہتا تھا، اب وہ نیچا ہوتا ہے اور کافر کے آگے پھیلتا ہے۔ جہالت اور افلاس اور قرض داری نے ہر جگہ تم کو ذلیل و خوار کر رکھا ہے۔کیا یہ خدا کی رحمت ہے ؟ اگر یہ رحمت نہیں ہے، بلکہ کھلا ہوا غضب ہے،تو کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اور اس پر خدا کا غضب نازل ہو ! مسلمان اور ذلیل ہو ! مسلمان اور غلام ہو! یہ تو ایسی ناممکن بات ہے جیسے کوئی چیز سفید بھی ہو اور سیاہ بھی۔ جب مسلمان خدا کا محبوب ہوتا ہے تو خدا کا محبوب دنیا ہیں ذلیل و خوار کیسے ہو سکتا ہے ؟ کیا نعوذ باللہ تمھارا خدا ظالم ہے کہ تم تو اس کا حق پہچانو اور اس کی فرماں برداری کرو، اور وہ نا فرمانوں کو تم پر حاکم بنادے، اور تم کو فرماں برداری کے معاوضے میں سزا دے؟ اگر تمھارا ایمان ہےکہ خدا ظالم نہیں ہے،اور اگر تم یقین رکھتے ہو کہ خدا کی فرماں برداری کا بدلہ ذلت سے نہیں مل سکتا تو پھر تمھیں ماننا پڑے گا کہ مسلمان ہونے کا دعوئی جو تم کرتےہو اسی میں کوئی غلطی ہے۔ تمھارا نام سرکاری کا غذات میں تو ضرور مسلمان لکھا جاتا ہے،مگر خدا کےہاں انگریزی سرکار کےدفتر کی سند پر فیصلہ نہیں ہوتا۔ خدا اپنا دفتر الگ رکھتا ہے، وہاں تلاش کر دو کہ تمھارا نام فرماں برداروں میں لکھا ہوا ہے یا نا فرمانوں میں ؟


١- خیال رہے کہ یہ خطبات اس زمانے میں لکھے گئے تھے جب ہندوستان تقسیم نہ ہوا تھا۔

خدا نے تمھارے پاس کتاب بھیجی تا که تم اس کتاب کو پڑھ کر اپنے مالک کو پہچانو اور اس کی فرماں برداری کا طریقہ معلوم کرو۔ کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنےکی کوشش کی کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہے ؟ خدا نے اپنے نبی کو تمھارے پاس بھیجا تا کہ وہ تمھیں مسلمان بنے کا طریقہ سکھائے۔ کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی۔ کوشش کی کہ اُس کے نبی نے کیا سکھایا ہے ؟ خدا نے تم کو دنیا اور آخرت میں عزت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ۔ کیا تم اُس طریقے پر چلتے ہو ؟ خدا نے کھول کھول کر بتایا کہ کون سے کام ہیں جن سے انسان دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے۔ کیا تم ایسے کاموں سے بچتے ہو ؟ بتاؤ تمھارے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟ اگر تم مانتے ہو کہ نہ تو تم نے خدا کی کتاب اور اس کے نبی کی زندگی سے علم حاصل کیا اور نہ اس کےبتائے ہوئے طریقے کی پیروی کی ، تو تم مسلمان ہوئے کب کہ تمھیں اس کا اجر ملے ؟جیسے تم مسلمان ہو ویسا ہی اجر تمھیں مل رہا ہے اور ویسا ہی اجر آخرت میں بھی دیکھ لوگے۔

میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ مسلمان اور کا فرمیں علم اور حمل کے سوا کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کا علم اور عمل ویسا ہی ہے جیسا کا فر کا ہے، اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، تو بالکل جھوٹ کہتا ہے۔ کا فرقرآن کو نہیں پڑھتا اور نہیں جانتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ یہی حال اگر مسلمان کا بھی ہو تو وہ مسلمان کیوں کہلائے ؟ کافر نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تعلیم ہے اور آپؐ نے خدا تک پہنچنےکا سیدھا راستہ کیا بتایا ہےاگر مسلمان بھی اُسی کی طرح نا واقف ہو تو وہ مسلمان کیسےہوا؟ کا فرخدا کی مرضی پر چلنےکےبجائے اپنی مرضی پر چلتا ہے۔ مسلمان بھی اگر اُسی کی طرح خود سر اور آزاد ہو، اسی کی طرح اپنے ذاتی خیالات اور اپنی رائے پر چلنے والا ہو، اسی کی طرح خدا سے بے پروا اور اپنی خواہش کا بندہ ہو تو اسے اپنے آپ کو مسلمان دخدا کا فرماں بردار کہنے کا کیا حق ہے؟ کافر حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا اور جس کام میں اپنے نزدیک فائدہ یا لذت دیکھتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے،چاہیے خدا کے نزدیک وہ حلال ہو یا حرام ۔ یہی رویہ اگر مسلمان کا ہو تو اس میں اور کا فرمیں کیا فرق ہوا ؟ غرض یہ ہے کہ جب مسلمان بھی اسلام کے علم سے اتنا ہی کو را ہو جتنا کا فر ہوتا ہے، اور جب مسلمان بھی وہ سب کچھ کرے ہو کا فر کرتا ہے تو اس کو کافر کے مقابلہ میں کیوں فضیلت حاصل ہو، اور اس کا حشر بھی کافر جیسا کیوں نہ ہو ؟ یہ ایسی بات ہے جس پر ہم سب کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چا ہے ۔

غور کا مقام

میرے عزیز بھائیو ا کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ میں مسلمانوں کو کا فربنانے چلا ہوں۔نہیں، میرا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے ۔ میں خود بھی سوچتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ سونچے کہ ہم آخر خدا کی رحمت سے کیوں محروم ہو گئے ہیں ؟ ہم پر ہر طرف سے کیوں مصیبتیں نازل ہو رہی ہیں؟ جن کو ہم کافر، یعنی خدا کے نافرمان بندے کہتے ہیں وہ ہم پر ہر جگہ غالب کیوں ہیں ؟ اور ہم جو فرماں بردار ہونے کا دعوی کرتے ہیں، ہر جگہ مغلوب کیوں ہو رہے ہیں ؟ اس کی وجہ پر میں نے جتنا زیادہ غور کیا، اتنا ہی مجھے یقین ہوتا چلا گیا کہ ہم میں اور کفار میں بس نام کا فرق رہ گیا ہے، ورنہ ہم بھی خدا سے غفلت اور اس سے لیے خوفی اور اس کی نافرمانی میں کچھ اُن سے کم نہیں ہیں۔ تھوڑا سا فرق ہم میں اور ان میں ضرور ہے، مگر اس کی وجہ سے ہم کسی اجر کےمستحق نہیں ہیں، بلکہ سزا کے مستحق ہیں ۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور پھر اس کےساتھ وہ برتاؤ کرتے ہیں جو کا فر کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں، اور پھر اُن کی پیروی سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے کافر بھاگتا ہے ۔ ہم کو معلوم ہے کہ جھوٹے پر خدا نے لعنت کی ہے، رشوت کھانے اور کھلانے والے کو جہنم کا یقین دلایا ہے، سود کھانے اور کھلانے والےکو بد ترین مجرم قرار دیا ہے، غیبت کو اپنے بھائی کا گوشت کھانے کے برابر بتایا ہے ، محش اور بے حیائی اور بد کاری پر سخت عذاب کی دھمکی دی ہے، مگر یہ بنانےکے بعد بھی ہم کفارہ کی طرح یہ سب کام آزادی کے ساتھ کرتے ہیں ، گویا ہمیں خدا کا کوئی خوف ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جو کفار کے مقابلہ میں تھوڑے بہت مسلمان بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس پر ہمیں انعام نہیں ملتا بلکہ سزادی جاتی ہے۔کفار کا ہم پر حکمران ہوتا ، ہر جگہ ہمارا نذک اٹھانا اسی جرم کی سزا ہے کہ ہمیں اسلام کی نعمت دی گئی تھی اور پھر ہم نے اس کی قدر نہ کی۔

عزیز وہ آج کے خطبہ میں جو کچھ میں نے کہا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ تم کو ملامت کروں ۔ لیکن ملامت کرنے نہیں اُٹھا ہوں۔میرا مقصد یہ ہے کہ جو کچھ کھویا گیا ہےاس کو پھر سےحاصل کرنے کی کچھ فکر کی جائے۔کھوئے ہوئے کو پانے کی فکر اسی وقت ہوتی ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ اس کے پاس سے کیا چیز کھوئی گئی ہے اور وہ کیسی قیمتی چیز ہے۔ اسی لیے میں تم کو چونکانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اگر تم کو ہوش آ جائے اور تم سمجھ لو کہ حقیقت میں بہت قیمتی چیز تمھارے پاس تھی تو تم پھر سے اس کے حاصل کرنے کی فکر کرو گے ۔

حصولِ علم کی فکر

میں نے پچھلے خطبہ میں تم سے کہا تھا کہ مسلمان کو مسلمان ہونے کے لیےسب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسلام کا علم ہے ۔ ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کی تعلیم کیا ہے ، رسول پاک کا طریقہ کیا ہے ، اسلام کس کو کہتےہیں، اور کفر و اسلام میں اصلی فرق کن باتوں کی وجہ سےہے۔ اس علم کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔مگر افسوس ہے کہ تم اسی علم کو حاصل کرنےکی فکر نہیں کرتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک تم کو احساس نہیں ہوا کہ تم کتنی بڑی نعمت سے محروم ہو۔ میرے بھائیو ہو ماں اپنے بچے کو دودھ بھی اس وقت تک نہیں دیتی جب تک کہ وہ رو کر مانگتا نہیں۔ پیاسے کو جب پیاس لگتی ہے تو وہ خود پانی ڈھونڈتا ہے، اور خدا اس کے لیے پانی پیدا بھی کر دیتا ہے۔ جب تم کو خود ہی پیاس نہ ہو تو پانی سے بھرا ہوا کنواں بھی تمھارے پاس آجائے تو بیکار ہے۔ پہلے تم کو خود سمجھنا چاہیے کہ دین سے ناواقف رہنے میں تمھارا کتنا بڑا نقصان ہے ۔ خدا کی کتاب تمھارے پاس موجود ہے، مگر تم نہیں جانتے کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔ اس سے زیادہ نقصان کی بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ نماز تم پڑھتے ہو مگر تمھیں نہیں معلوم کہ اس نماز میں تم اپنے خدا کے سامنے کیا عرض کرتےہو۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نقصان ہو سکتا ہے ؟ کلمہ، جس کے ذریعہ سے تم اسلام میں داخل ہوتے ہو، اس کے معنی تک تم کو معلوم نہیں اور تم نہیں جانتےکہ اس کلمہ کو پڑھنے کے ساتھ ہی تم پر کیا ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی نقصان ہو سکتا ہے ؟ کھیتی کے جل جانےکا نقصان تم کو معلوم ہے، روزگار نہ ملنے کا نقصان تم کو معلوم ہے ، اپنے مال کےضائع ہو جانے کا نقصان تم کو معلوم ہے ، مگر اسلام سے ناواقف ہونے کا نقصان تمھیں معلوم نہیں۔ جب تم کو اس نقصان کا احساس ہوگا توتم خود آکر کہو گےکہ ہمیں اس نقصان سے بچاؤ۔ اور جب تم خود کہو گے تو انشاء اللہ تھیں اس نقصان سے بچانے کا بھی انتظام ہو جائے گا۔

سونچنے کی باتیں

برادرانِ اسلام دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کےپاس اللہ کا کلام بالکل محفوظ ،تمام تحریفات سےپاک، ٹھیک ٹھیک اپنی الفاظ میں موجود ہےجن الفاظ میں وہ اللہ کےرسول پر حق پر اُترا تھا۔ اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللہ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حد و حساب نعمتوں سے محروم ہیں۔ قرآن ان کےپاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں، اس کے مطابق عمل کریں،اور اس کو لے کر خدا کی زمین پر خدا کےقانون کی حکومت قائم کر دیں۔وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنےآیا تھا۔وہ انھیں زمین پر خدا کا اصلی خلیفہ بنانےآیا تھا۔ اور تا ریخ گواہ ہے کہ جب اُنھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نےان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا ۔ مگر اب ان کےہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں،اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گھول کر پییں، اور محض ثواب کے لیے بے سمجھے جو مجھے پڑھ لیا کریں۔ اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے ۔ اس سے نہیں پوچھتے کہ ہمارے عقاید کیا ہونے چاہئیں؟ ہمارے اعمال کیا ہونےچاہئیں؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں؟ ہم لین دین کس طرح کریں؟ دوستی اور دشمنی میں کسی قانون کی پابندی کریں ؟ خدا کے بندوں کے اور خود اپنے نفس کے حقوق ہم پر کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں؟ ہمارے لیے حق کیا ہےاور باطل کیا ؟ اطاعت ہمیں کس کی کرنی چاہیےاور نا فرمانی کس کی؟ تعلق کس سےرکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے ؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کیوں؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کسی چیز ہیں ؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی پچھوڑدی ہیں۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے ، گمراہ اور خود غرض لوگوں سے، اور خود اپنےنفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں اور انہی کے کہے پر چلتے ہیں۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو یہ آج ہندوستان میں بچین اور بجاوا میں ، فلسطین اور شام میں،الجزائر اور مراکش میں، ہر جگہ بری طرح مجھگت رہے ہیں۔ قرآن تو خیر کا سر چشمہ ہےجتنی اور عیسی خیر تم اس سے مانگو گےیہ تمھیں دے گا۔تم اس سےمحض جن بھوتےبھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمہ کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ذلیل وبے حقیقت چیزیں مانگتے ہو تو یہی تمھیں ملیں گی ۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو یہ تمھیں وہاں بھی پہنچا دے گا۔ یہ تمھارے اپنےظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے۔

حضرات ، جو ستم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللہ کی اس کتاب پاک کےساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکہ انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرےمعاملہ میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتےدیکھیں تو اس کی ہنسی اُڑائیں بلکہ اس کو پاگل قرار دیں۔بتائیے اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گلےمیں باندھ لے یا اسے پانی میں گھول کرپی بجائےتو اسےآپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی ؟ اور آپ اسے بیوقوف نہ سمجھیں گے ؟ مگر یہ ہےبڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بے نظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہو رہا ہےاور کسی کو اس پر سہنسی نہیں آتی۔ کوئی نہیں سونچتا کہ نسخہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے۔

فہم قرآن اور عمل با القرآن لازم ہے

بتائیے اگر کوئی شخص بیمار ہو اور علم طب کی کوئی کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ جائے اور یہ خیال کرے کہ محض اس کتاب کو پڑھ لینے سے بیماری دور ہو جائیگی تو آپ اسے کیا کہیں گے ؟ کیا آپ نہ کہیں کہ بھیجو اسے پاگل بنانے میں ، اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے؟مگر شافی مطلق نے جو کتاب آپ کے امراض کا علاج کرنے کےلیے بھیجی ہے اس کے ساتھ آپ کا یہی برتاؤ ہے۔ آپ اس کو پڑھتےہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ بس اس کے پڑھ لیتے ہی سے تمام امراض دور ہو جائیں گے،اس کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں،نہ ان چیزوں سےپرہیز کی ضرورت ہے جن کو یہ مضر بتا رہی ہے۔ پھر آپ خود اپنے اوپر بھی وہی حکم کیوں نہیں لگاتے جو اس شخص پر لگاتے ہیں جو بیماری دور کرنے کے لیے صرف علم طلب کی کتاب پڑھ لینے کو کافی سمجھتا ہے؟

آپ کے پاس اگر کوئی خط کسی ایسی زبان میں آتا ہے جیسے آپ نہ جانتے ہوں تو آپ دوڑے ہوئے جاتے ہیں کہ اس زبان کے جاننے والے سے اس کا مطلب پوچھیں ۔ جب تک آپ اس کا مطلب نہیں جان لیتے آپ کو چین نہیں آتا ۔ یہ معمولی کاروبار کے خطوط کے ساتھ آپ کا برتاؤ ہے جن میں زیادہ سےزیادہ چار پیسوں کا فائدہ ہو جاتا ہے ۔ مگر خداوند عالم کا جو خط آپ کے پاس آیا ہوا ہے اور جس میں آپ کے لیے دین و دنیا کے تمام فائدے ہیں ، اسے آپ اپنے پاس یو نہی رکھ چھوڑتے ہیں، اس کا مطلب سمجھنے کے لیے کوئی بے چینی آپ میں پیدا نہیں ہوتی۔ کیا یہ حیرت اور تعجب کا مقام نہیں ؟

اللہ کی کتاب پر ظلم کا نتیجہ

یہ باتیں میں ہنسی دل لگی کے لیے نہیں کر رہا ہوں ۔ آپ ان باتوں پر غور کریں گے تو آپ کا دل گواہی دے گا کہ دنیا میں سب سے بڑھ کر ظلم اللہ کی اس کتاب پاک کے ساتھ ہو رہا ہے، اور یہ ظلم کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پیشک وہ ایمان رکھتے ہیں اور اسے جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، مگر افسوس یہ ہےکہ وہی اس پر سب سے زیادہ ظلم کرتے ہیں۔ اور اللہ کی کتاب پر ظلم کرنےکا جو انجام ہےوہ ظاہر ہے۔خوب سمجھ لیجیے! اللہ کا کلام انسان کے پاس اس لیے نہیں آتا کہ وہ بدبختی اور نکبت و مصیبت میں مبتلا ہو : طلة مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقی_١ ہےیہ سعادت اور نیک بختی کا سرچشمہ ہے۔شقاوت اور بدبختی کا ذریعہ نہیں ہے۔یہ قطعی ناممکن ہےکہ کوئی قوم خدا کےکلام کی حامل ہو اور پھر دنیا میں ذلیل و خوار ہو،دوسروں کی محکوم ہو، پاؤں میں روندی اور جوتیوں سےٹھکرائی جائے، اس کےگلےمیں غلامی کا پھندا ہو اور غیروں کےہاتھ میں اس کی باگیں ہوں اور وہ اس کو اس طرح ہانگیں جیسے جانور ہانکے جاتے ہیں ۔ یہ انجام اس کا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ کے کلام پر ظلم کرتی ہے۔ بنی اسرائیل کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ اُن کے پاس توراۃ اور انجیل بھیجی گئی تھیں اور کہا گیا تھا :

ولو انهم أَقَامُوا التورية والاجيلَ وَمَا أُنْزِلَ الَيْهِمْ مِّن رَّبِّهِم لَا كَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِو ( المائدہ : ٦٦ )


١- طہ ۔ یہ قرآن ہم نے اس لیے تم پر نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ ( طہ : ١)

"اگر وہ توراۃ اور انجیل اور ان کتابوں کی پیروی پر قائم رہتے جو ان کےپاس بھیجی گئی تھیں تو ان پر آسمان سے رزق برسنا اور زمین سے رزق ابلتا ہے"-

مگر انھوں نے اللہ کی ان کتابوں پر ظلم کیا اور اس کا نتیجہ یہ دیکھا کہ :

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الله وَالمَسْكَنَةُ ، وبارو بِغَضَبٍ مِّنَ اللهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِايَتِ اللهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَالِكَ بِهَا عموا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ، (البقره : ٦١)

"ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ خدا کے غضب میں گھر گئے ۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے اور اس لیے کہ وہ اللہ کے نافرمان ہو گئےتھے اور حد سے گزر گئے تھے ۔"

پس جو قوم خدا کی کتاب رکھتی ہو اور پھر بھی ذلیل و خوار اور محکوم ومغلوب ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہ ضرور کتاب الہی پر ظلم کر رہی ہےاور اس پر یہ سارا وبال اسی ظلم کا ہے۔خدا کے اس غضب سے نجات پانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ اس کی کتاب کے ساتھ ظلم کرنا چھوڑ دیا جائے، اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر آپ اس گناہ عظیم سے باز نہ آئیں گےتو آپ کی حالت ہر گز نہ بدلے گی خواہ آپ گاؤں گاؤں کالج کھول دیں اور آپ کا بچہ بچہ گریجوایٹ ہو جائے اور آپ یہودیوں کی طرح سود خواری کر کے کروڑ پتی ہی کیوں نہ بن بھا گیا۔

مسلمان کسے کہتے ہیں

حضرات ہر مسلمان کو سب سے پہلے جو چیز جاننی چاہیے وہ یہ ہے کہ مسلمان کہتے کس کو ہیں اور مسلم کے معنی کیا ہیں۔ اگر انسان یہ نہ جانتا ہو کر انسانیت"کیا چیز ہے اور انسان و حیوان میں فرق کیا ہے تو وہ حیوانوں کی سی حرکات کریگا اور اپنے آدمی ہونے کی قدر نہ کر سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ نہ معلوم ہو کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور سلم اور غیر مسلم میں امتیاز کس طرح ہوتا ہے تو وہ غیر مسلموں کی سی حرکات کرے گا اور اپنے مسلمان ہونے کی قدر نہ کر سکے گا۔ لہذا مسلمان کو اور مسلمان کے ہر بچے کو اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ وہ جو اپنےآپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کے معنی کیا ہیں، مسلمان ہونے کے ساتھ ہی آدمی کی حیثیت میں کیا فرق واقع ہو جاتا ہے، اس پر کیا ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے، اور اسلام کے حدود کیا ہیں جن کے اندر رہنے سے آدمی مسلمان رہتا ہے اور جن کےباہر قدم رکھتے ہی وہ مسلمانیت سے خارج ہو جاتا ہے چاہے وہ زبان سے اپنےآپ کو مسلمان ہی کہتا جائے۔

اسلام کے معنی

"اسلام" کے معنی ہیں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کئے اپنے آپ کو بخدا کے سپرد کر دیتا اسلام ہے ۔ خدا کے مقابلہ میں اپنی آزادی و خود مختاری سےدست بردار ہو جانا " اسلام ہے۔ خدا کی بادشاہی و فرماں روائی کے آگے سرتسلیم تم کر دینا اسلام ہے۔جو شخص اپنےسارے معاملات کو خدا کے حوالہ کر دےوہ مسلمان ہے۔ اور جو اپنے معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھے یا خدا کے سوا کسی اور کے سپرد کر دے وہ مسلمان نہیں ہے۔خدا کے حوالہ کرنے یا خدا کے سپرد کرنےکا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کو قبول کیا جائے،اس میں پچون وچرانہ کی جائے۔ اور زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے اس میں صرف قرآن اور سنت رسول کی پیروی کی جائے۔ جو شخص اپنی عقل اور دنیا کے دستور اور خدا کے سوا ہر ایک کی بات کو پیچھے رکھتا ہے، اور ہر معاملہ میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول سے پوچھتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے،اور جو ہدایت وہاں سے ملے اس کو لے چون و چرا مان لیتا ہے اور اس کے خلاف ہر چیز کو رد کر دیتا ہے، وہ اور صرف وہی "مسلمان" ہے۔ اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو بالکل خدا کے سپرد کر دیا، اور اپنے کو خدا کے سپرد کرنا ہی مسلمان ہوتا ہے۔ اس کے بر خلاف جو شخص قرآن اور سنت رسول پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنے دل کا کہا کرتا ہے ، یا باپ دادا سےجو کچھ ہوتا چلا آتا ہو اس کی پیروی کرتا ہے، یا دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہو اُس کےمطابق چلتا ہے، اور اپنے معاملات میں قرآن اور سنت سے یہ دریافت کرنےکی ضرورت ہی نہیں سمجھتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے، یا اگر اسے معلوم ہو جائے کہ قرآن و سنت کی ہدایت یہ ہے اور پھر وہ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ میری عقل اسےقبول نہیں کرتی اس لیے ہیں اس بات کو نہیں مانتا، یا باپ دادا سےتو اس کے تعلاف عمل ہو رہا ہےلہذا میں اس کی پیروی نہ کروں گا،یا دنیا کا طریقہ اس کے خلاف ہے لہذا میں اُسی پرچلوں گا، تو ایسا شخص ہرگز مسلمان نہیں ہے۔ وہ سجھوٹ کہتا ہے اگر اپنے کو مسلمان کہتا ہے ۔

مسلمان کے فرائض

آپ جس وقت کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھتےہیں اور مسلمان ہونےکا اقرار کرتےہیں،اسی وقت گویا آپ اس بات کا اقرار کرتےہیں کہ آپ کےلیےقانون صرف خدا کا قانون ہے،آپ کا حاکم صرف خدا ہے،آپ کو اطاعت صرف خدا کی کرنی ہے، اور آپ کے نزدیک حق صرف وہ ہے جو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کے ذریعہ سے معلوم ہو۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ مسلمان ہوتے ہیں خدا کے حق میں اپنی آزادی سے دست بردار ہو گئے ۔ اب آپ کو یہ کہنےکا حقی ہی نہ رہا کہ میری رائے یہ ہے ، یا دنیا کا دستور یہ ہے،یا خاندان کا رواج یہ ہے، یا فلاں حضرت یا فلاں بزرگ یہ فرماتے ہیں۔خدا کے کلام اور اس کےرسول کی سنت کےمقابلہ میں اب ان میں سے کوئی بچی بھی آپ نہیں کر سکتےاب آپ کا کام یہ ہےکہ ہر چیز کو قرآن اور سنت کےسامنےپیش کریں جو کچھ اس کے مطابق ہو، قبول کریں،اور جو اس کےخلاف ہو اسےاٹھا کر پھینک دیں خواہ وہ کسی کی بات اور کسی کا طریقہ ہو۔ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہنا اورپھر قرآن و سنت کے مقابلہ میں اپنے خیال یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول یا عمل کو ترجیح دینا یہ دونوں ایک دوسرے کی مدہ ہیں۔ جس طرح کوئی اندھا اپنےآپ کو آنکھوں والا نہیں کہہ سکتا،اور کوئی نکٹا اپنےآپ کو ناک والا نہیں کہہ سکتا،اسی طرح کوئی ایسا شخص اپنےآپ کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا ہو اپنی زندگی کے سارےمعاملات کو قرآن اور سنت کا تابع بنانےسےانکار کرے ، اور خدا اور سول کےمقابلہ میں اپنی عقل یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول و عمل کو پیش کرے۔جو شخص مسلمان نہ رہنا چاہتا ہو اسے کوئی مسلمان رہنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔اسے اختیار ہے کہ جو مذہب چاہے اختیار کرے اور اپنا جو نام بچا ہے رکھ لے۔مگر جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مسلمان اُسی وقت تک رہ سکتا ہے جب تک وہ اسلام کی سرحد میں رہے۔ خدا کے کلام اور اس کے رسول کی سنت کو حق اور صداقت کا معیار تسلیم کرنا اور اس کےخلاف ہر چیز کو باطل سمجھنا اسلام کی سرحد ہے اس سرحد میں جو شخص رہے وہی مسلمان ہےاس سے باہر قدم رکھتے ہی آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اور اس کے بعد وہ اگر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اور مسلمان کہتا ہے تو خود وہ اپنے نفس کو بھی دھوکا دیتا ہے اور دنیا کو بھی ۔ وَمَن لم يَكُم بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَا واليك هم الكفرون ،( اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی کا فر ہیں ۔ المائدہ : ۴۴ -)

کلمہ طیبہ کے معنی

برادران اسلام ، آپ کو معلوم ہے کہ انسان دائرہ اسلام میں ایک کلمہ پڑھ کر داخل ہوتا ہے۔ اور وہ کلمہ بھی کچھ بہت زیادہ لمبا چوڑا نہیں ہے ، صرف چند لفظ ہیں :

لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ

"اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں ۔"

ان الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہی آدمی کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔ پہلے کافر تھا ، اب مسلمان ہو گیا ۔ پہلے ناپاک تھا ،اب پاک ہو گیا۔ پہلے خدا کے غضب کا مستحق تھا، اب اس کا پیارا ہو گیا۔ پہلے دوزخ میں جانے والا تھا، اب جنت کا دروازہ اس کےلیے کھل گیا۔ اور بات صرف اتنے ہی پر نہیں رہتی ۔ اسی کلمہ کی وجہ سے آدمی اور آدمی میں بڑا فرق ہو جاتا ہے۔ ہجو اس کلمے کے پڑھنے والےہیں وہ ایک امت ہوتے ہیں اور جو اس سے انکار کرتے ہیں وہ دوسری امت ہو جاتے ہیں۔باپ اگر کلمہ پڑھنے والا ہے اور بیٹا اس سے انکار کرتا ہے تو گویا باپ باپ نہ رہا اور بیٹا بیٹا نہ رہا۔باپ کی جائداد سےاس بیٹےکو ورثہ نہ ملےگا۔ماں اور بہنیں تک اس سےپردہ کرنےلگیں گی۔ غیر شخص اگر کلمہ پڑھنے والا ہےاور اس گھر کی بیٹی بیا بہتا ہے تو وہ اور اس کی اولاد تو اس گھر سے ورثہ پائے گی،مگر یہ اپنی صلب کا بیٹا صرف اس وجہ سے کہ کلمہ کو نہیں مانتا غیروں کا بغیر بن جائیگا۔گویا یہ کلمہ ایسی چیز ہے جو غیروں کو ایک دوسرے سےملا دیتی ہے اور اپنوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دیتی ہے۔ حتی کہ اس کلمہ کا زور اتنا ہے کہ خون اوررحم کے رشتے بھی اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں۔


١- یہ اگر چہ کوئی شرعی حکم نہیں ہے کہ کافر بیٹے سے ماں اور کافر بھائی سے بہن پردہ کرے، مگر عملا ایمانی غیرت رکھنے والی مسلمان خواتین اکثر ایسے بھائیوں اور بیٹوں کا منہ تک دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔

اتنا بڑا فرق کیوں

اب ذرا اس بات پر غور کرو کہ یہ اتنا بڑا فرق ہو آدمی اور آدمی میں ہو جاتا ہے، یہ آخر کیوں ہوتا ہے؟ کلمہ میں ہے کیا ؟ صرف پسند حرف ہی تو ہیں۔ لام،الف ، ہ ، م ، و ا س اور ایسے ہی دو چار حروف اور ۔ ان حرفوں کو ملا کر اگر منہ سے نکال دیا تو کیا کوئی جادو ہو جاتا ہے کہ آدمی کی کایا پلٹ جائے ؟ آدمی اور آدمی میں کیا بس اتنی کی بات سے زمین و آسمان کا فرق ہو سکتا ہے؟ میرےبھائیو ، تم ذرا سمجھ سے کام لوگے تو تمھاری عقل خود کہہ دے گی کہ فقط منہ کھولنےاور زبان ہلا کر چند حرف بول دینے کی اتنی بڑی تاثیر نہیں ہو سکتی۔ بت پرست مشرک تو ضرور سمجھتے ہیں کہ بس ایک منتر پڑھ دینے سے پہاڑ ہل جائے گا ، زمین شق ہو جائے گی اور شیشے اُبلنے لگیں گے ، چاہے منتر کے معنی کی کسی کو خبر نہ ہو۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ساری تاثیر بس حرفوں میں ہے۔ وہ زبان سے نکلے اور طلسمات کےدروازے کھل گئے ۔ مگر اسلام میں یہ بات نہیں ہے۔ یہاں اصل چیز معنی ہیں الفاظ کی تاثیر معنوں سےہے۔معنی اگر نہ ہوں اور وہ دل میں نہ اتریں، اور ان کے زور سے تمھارے خیالات، تمھارے اخلاق اور تمھارے اعمال نہ بدلیں، تو ترےالفاظ بول دینے سے کچھ بھی اثر نہ ہو گا۔

اس بات کو میں ایک موٹی سی مثال سے تمھیں سمجھاؤں ۔ فرض کرو تھیں سردی لگتی ہے۔ اگر تم زبان سے روٹی الحاف،روٹی لحاف پکارنا شروع کر دو، تو سردی لگنی بند نہ ہوگی،چاہے تم رات بھر میں ایک لاکھ تسبیحیں روٹی لحاف کی پڑھ ڈالو۔ہاں اگر لحاف میں روئی بھروا کر اوڑھ لو گے تو سردی لگتی بند ہو جائے گی۔ فرم کر دو کہ تمھیں پیاس لگ رہی ہے۔اگر تم صبح سےشام تک پانی پانی پکارتےرہو تو پیاس نہ بجھےگی۔ہاں پانی کا ایک گھونٹ لےکرپی لوگے تو کلیجے کی ساری آگ فورا ٹھنڈی ہو جائے گی ۔ فرض کرو کہ تم کو نزلہ بخار ہو جاتا ہے ۔ اس حال میں اگر بنفثہ گاؤ زبان ، بنفش گاؤ زبان کی تسبی میں تم پڑھنی شروع کر دو گے تو نزلے بخار میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ ان دواؤں کا جو شاندہ بنا کر پی لو گے تو نزار بخار خود بھاگ جائیگا۔بس یہی حال کلمہ طیبہ کا بھی ہے ۔ فقط چھ سات لفظ بول دینے سے اتنا بڑا فرق نہیں ہوتا کہ آدمی کا فر سے مسلمان ہو جائے، ناپاک سے پاک ہو جائے، مردود سے محبوب بن جائے، دوزخی سے جنتی بن جائے۔ یہ فرق صرف اس طرح ہو گا کہ پہلے ان الفاظ کا مطلب سمجھو اور وہ مطلب تمھارے دل میں اُتر جائے۔ پھر مطلب کو جان لو مجھ کر جب تم ان الفاظ کو زبان سےنکا لو تو تمھیں اچھی طرح یہ احساس ہو کہ تم اپنےخدا کےسامنےاور ساری دنیا کے سامنے کتنی بڑی بات کا اقرار کر رہے ہو اور اس اقرار سے تمھارے اوپر کتنی بڑی ذمہ داری آگئی ہے پھر یہ سمجھتے ہوئے جب تم نےاقرار کر لیا تو اس کےبعد تمھارےخیالات پر اور تمھاری ساری زندگی پر اس کلمہ کا قبضہ ہو جانا چاہیے۔ پھر تم کو اپنے دلو دماغ میں کسی ایسی بات کو جگہ نہ دینی چاہیے جو اس کلمہ کے خلاف ہو۔ پھر تم کو ہمیشہ کے لیے بالکل فیصلہ کر لینا چاہیے کہ جو بات اس کلمہ کے خلاف ہے وہ جھوٹی ہےاور یہ کلمہ سنتا ہے۔ پھر زندگی کےسارے معاملات میں یہ کلمہ تمھارا حاکم ہونا چاہیے۔اس کلمہ کا اقرار کرنے کے بعد تیم کافروں کے طرح آزاد نہیں رہے کہ جو بچا ہو کرو۔بلکہ اب تم اس کلمہ کے پابند ہو۔ جو وہ کہے اس کو کرنا پڑے گا اور جس سے وہ منع کرے اس کو چھوڑنا پڑے گا ۔ اس طرح کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان ہوتا ہے،اور اس طرح کلمہ پڑھنے کی وجہ سے آدمی اور آدمی میں اتنا بڑا فرق ہوتا ہے جس کا ذکر میں نے ابھی تم سے کیا۔

کلمہ کا مطلب

آؤ اب میں تمھیں بتاؤں کہ کلمہ کا مطلب کیا ہے اور اس کو پڑھ کر آدمی کسی چیز کا اقرار کرتا ہے اور اس کا اقرار کرتے ہی آدمی کس چیز کا پابند ہو جاتا ہے۔

کلمہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ کلمہ میں الہ کاجو لفظ آیا ہے اس کے معنی "خدا" کے ہیں۔ خدا اس کو کہتے ہیں جو مالک ہو، حاکم ہو، خالق ہو، پالنے اور پوسننے والا ہو، دُعاؤں کا سننے اور قبول کرنے والا ہو اور اس کا مستحق ہو کہ اس کی عبادت کی جائے ۔ اب جو تم نے لا الہ الا اللہ کہا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اقول تو تم نے یہ اقرار کیا کہ یہ دنیا نہ تو بے خدا کے بنی ہے، اور نہ ایسا ہی ہے کہ اس کے بہت سے خدا ہوں ۔ بلکہ دراصل اس کا خدا ہے، اور وہ خدا ایک ہی ہے، اور اس ایک ذات کے سوا خدائی کسی کی نہیں ہے ۔ دوسری بات جس کا تم نے کلمہ پڑھتےہی اقرار کیا وہ یہ ہے کہ وہی ایک خدا تمھارا اور سارے جہان کا مالک ہے۔ تم اور تمھاری ہر چیز اور دنیا کی ہر شے اس کی ہے ۔ خالق وہ ہے ، رازق وہ ہے،موت اور زندگی اس کی طرف سے ہے۔ مصیبت اور راحت بھی اسی کی طرف سے ہے،جو کچھ کسی کو ملتا ہےاس کو دینےوالا حقیقت میں وہ ہےاور جو کچھ کسی سےچھینا جاتا ہےاس کا چھیننے والا بھی حقیقت میں وہی ہے۔ڈرنا چاہیے تو اس سے مانگنا چاہیے تو اس سے سر جھکانا چاہیے تو اس کے سامنے، عبادت اور بندگی کی جائے تو اس کی۔ اس کے سوا ہم کسی کے بندے اور غلام نہیں اور اس کےسوا کوئی ہمارا آقا اور حاکم نہیں۔ ہمارا اصلی فرض یہ ہے کہ اسی کا حکم مانیں اور اسی کےقانون کی پیروی کریں ۔

اللہ سے عہد و پیمان

یہ عہد و پیمان ہے جو لا الہ الا اللہ بڑھتے ہی تم اپنے خدا سے کرتے ہو اور ساری دنیا کو گواہ بنا کر کرتے ہو۔ اس کی خلاف ورزی کرو گے تو تمھاری زبان تمھارے ہاتھ پاؤں ، تمھارا رونگٹا رونگٹا، اور زمین اور آسمان کا ایک ایک ذرہ نہیں کے سامنے تم نے جھوٹا اقرار کیا ، تمھارے خلاف خدا کی عدالت میں گواہی دیگا،اور تم ایسی لیے نبی کے عالم میں وہاں کھڑے ہو گے کہ ایک بھی گواہ تم کوصفائی نہیں کرنے کے لیے نہ ملے گا۔ کوئی وکیل یا بیرسٹر وہاں تمھاری طرف سے پیروی کرنےوالا نہ ہو گا، بلکہ خود وکیل صاحب اور بیرسٹر صاحب، جو دنیا کی عدالتوں میں قانون کی الٹ پھیر کرتے پھرتے ہیں ، یہ بھی وہاں تمھاری ہی طرح بے بسی کے عالم میں کھڑ کےہوں گے ۔ وہ عدالت ایسی نہیں ہے جہاں تم جھوٹی گواہیاں اور جعلی دستاویزیں پیش کر کے اور غلط پیروی کر کے بیچ جاؤ گے ۔ دنیا کی پولیس سےتم اپنا جرم چھپا سکتےہو، خدا کی پولیس سے نہیں چھپا سکتے ۔ دنیا کی پولیس رشوت کھا سکتی ہے،خدا کی پولیس رشوت کھانے والی نہیں ۔ دنیا کے گواہ جھوٹ بول سکتے ہیں ، خدا کے گواہ بالکل بیچتے ہیں۔دنیا کےحاکم بےانصافی کر سکتےہیں،خدا ایسا حاکم نہیں جو بےانصافی کرے۔ پھر خدا جس جیل میں ڈالےگا اس سے بیچ کر بھاگنےکی بھی کوئی صورت نہیں ہے۔خدا کےساتھ جھوٹا اقرار نامہ کرنا بہت بڑی بیوقوفی، سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ جب اقرار کرتے ہو تو خوب سونچ سمجھ کر کرو اور اس کو پورا کرو۔ ورنہ تم پر کوئی زبر دستی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ نہ بانی ہی اقرار کر لو ۔ کیونکہ خالی خولی زبانی اقرار محض بیکار ہے۔

رسول کی رہنمائی کا اقرار

لا الہ الا اللہ کہنےکےبعد تم محمد رسول اللہ کہتےہو۔ اس کےمعنی یہ ہیں کہ تم نے یہ تسلیم کرلیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ پیغمبر ہیں جن کے ذریعہ سے خدا نےاپنا قانون تمھارے پاس بھیجا ہے۔ خدا کو اپنا آقا اور شہنشاہ مان لینے کے بعد یہ معلوم ہونا ضروری تھا کہ اس شہنشاہ کے احکام کیا ہیں۔ ہم کون سے کام کریں جن سے وہ خوش ہوتا ہے اور کون سے کام نہ کریں جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔کس قانون پر چلنےسےوہ ہم کو بخشے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنےپر وہ ہم کو سزا دےگا۔یہ سب باتیں بنانے کےلیےخدا نےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پیغامبر مقرر کیا،آپؐ کےذریعہ سےاپنی کتاب ہمارے پاس بھیجی، اور آپ نے خدا کےحکم کے مطابق زندگی بسر کر کے ہم کو بتادیا کہ مسلمانوں کو اس طرح زندگی بسر کر نی چا ہے۔پس جب تم نے "محمد رسول اللہ کہا توگو یا اقرار کر لیا کہ جو قانون اور جو طریقہ حضور نے بتایا ہے تم اسی کی پیروی کرو گے، اور جو قانون اس کے خلاف ہےاس پر لعنت بھیجو گے۔ یہ اقرار کرنے کے بعد اگر تم نے حضور کے لائے ہوئے قانون کو چھوڑ دیا اور دنیا کے قانون کو مانتے رہے تو تم سے بڑھ کر جھوٹا اور بے ایمان کوئی نہ ہوگا، کیوں کہ تم یہی اقرار کر کے تو اسلام میں داخل ہوئے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ سلم ہی کا لایا ہوا قانون حق ہے اور اسی کی تم پیروی کرو گے۔ اسی اقرار کی بدولت تو تم مسلمانوں کے بھائی بنے ، اسی کی بدولت تم نے باپ سے ورنہ پایا، اسی کی بدت ایک مسلمان عورت سے تمھارا نکاح ہوا، اسی کی بدولت تمھاری اولاد تمھاری مائی اولادینی ، اسی کی بدولت تمھیں یہ حق ملا کہ تمام مسلمان تمھارےمددگار بنیں تمھیں زکوۃ دیں،تمھاری جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا ذمہ لیں، اور ان سب کے باوجود تم نے اپنا اقرار توڑ دیا۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں کون سی بے ایمانی ہو سکتی ہے؟ اگر تم لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحمد رسُولُ اللہ کے معنی جانتے ہو اور جان بوجھ کر اس کا اقرار کرتے ہو تو تم کو ہر حال میں خدا کےقانون کی پیروی کرنی چاہیےخواہ اس کی پیروی پر مجبور کرنےوالی کوئی پولیس اور عدالت اس دنیا میں نظر نہ آتی ہو ۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پولیس اور فوج اور عدالت اور جیل کہیں موجود نہیں ہے اس لیےاس کے قانون کو توڑنا آسان ہے، اور گورنمنٹ کی پولیس، فوج،عدالت اور جیل موجود ہےاس لیے اس کے قانون کو توڑنا مشکل ہے،ایسے شخص کے متعلق میں صاف کہتا ہوں کہ وہ لا إله إلا الله محمد رسول اللہ کا جھوٹا اقرار کرتا ہے ۔ اپنے خدا کو ، ساری دنیا کو ، تمام مسلمانوں کو اور خود اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے ۔

اقرار کی ذمہ داریاں

بھائیو اور دوستوں ابھی میں نے تمھارے سامنے کلمہ طیبہ کے معنی بیان کیسے ہیں۔ اب اسی سلسلہ میں ایک اور پہلو کی طرف تم کو توجہ دلاتا ہوں

تم اقرار کرتے ہو کہ اللہ تمھارا اور ہر چیز کا مالک ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں، اس کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری جان تمھاری اپنی نہیں، خدا کی ملک ہے۔ تمھارےہاتھ اپنے نہیں۔ تمھاری آنکھیں اور تمھارے کان اور تمھارے جسم کا کوئی عضو تمھارا اپنا نہیں ۔ یہ زمینیں جن کو تم جو تتےہو، یہ جانور بہن سے تم خدمت لیتے ہو، یہ مال اسباب جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو،ان میں سےبھی کوئی چیز تمھاری نہیں۔ ہر چیز خدا کی ملک ہے اور خدا کی طرف سے عطیہ کےطور پر تمھیں ملی ہے۔اس بات کا اقرار کرنے کے بعد تمھیں یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ بجان میری ہےجسم میرا ہے،مال میرا ہے ، اور فلاں چیز میری ہے اور فلاں چیز میری ہے۔ دوسرے کو مالک کہنا اور پھر اس کی چیز کو اپنی قرار دینا ، بالکل ایک لغو بات ہے۔ اگر در حقیقت یہ بات سچے دل سے مانتے ہو کہ ان سب چیزوں کا مالک خدا ہی ہےتو اس سےدو باتیں خود بخود تم پر لازم ہو جاتی ہیں۔ایک یہ کہ جب مالک خدا ہےاور اس نےاپنی ملکیت امانت کےطور پر تمھارےحوالہ کی ہے تو جس طرح مالک کہتا ہےکسی طرح تمھیں ان چیزوں سےکام لینا چاہیے۔اس کی مرضی کے خلاف ان سے کام لیتے ہو تو دھوکا بازی کرتے ہو۔ تم اپنے ان ہاتھوں اور پاؤں کو بھی اس کی پسند کےخلاف ہلانے کا حق نہیں رکھتے۔ تم ان آنکھوں سے بھی اس کی مرضی کے خلاف دیکھنے کا کام نہیں لےسکتے۔ تم کو اس پیٹ میں بھی کوئی ایسی چیز ڈالنے کا حق نہیں ہے جو اس کی مرضی کے خلاف ہو۔ تمھیں ان زمینوں اور ان جائدادوں پر بھی بالک کے نشا کے خلاف کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ تمھاری بیویاں جن کو تم اپنی کہتےہو، اور تمھاری اولاد جن کو تم اپنی کہتےہو،یہ بھی صرف اس لیے تمھاری ہیں کہ تمھارےمالک کی دی ہوئی ہیں، لہذا تم کو ان سےبھی اپنی خواہش کےمطابق نہیں بلکہ مالک کےحکم کےمطابق ہی برتاؤ کرنا چاہیے اگر اس کے خلاف کرو گے تو تمھاری حیثیت فاصب کی ہوگی۔ جس طرح دوسرے کی زمین پر قبضہ کرنے والے کو تم کہتے ہو کہ وہ بے ایمان ہے ، اسی طرح اگر بخدا کی دی ہوئی چیزوں کو تم اپنا سمجھ کہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرو گے ، یا خدا کے سوا کسی اور کی مرضی کے مطابق ان سے کام لو گے تو وہی بے ایمانی کا الزام تم پر بھی آئے گا۔اگر مالک کی مرضی کے مطابق کام کرنے میں کوئی نقصان ہوتا ہے تو ہوا کرے ۔ جان جاتی ہے تو جائے۔ ہاتھ پاؤں ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹیں۔ اولاد کا نقصان ہوتا ہے تو ہو ۔ مال و جائداد برباد ہو تو ہوا کرے، ہتھیں کیوں غم ہو ؟ جس کی چیز ہے وہی اگر نقصان پسند کرتا ہو تو اس کو حق ہے ۔ ہاں اگر مالک کی مرضی کے خلاف تم کام کرو اور اس میں کسی چیز کا نقصان ہو تو بلاشبہ تم مجرم ہو گے ، کیوں کہ دوسرے کے مال کو تم نے شراب کیا۔ تم خود اپنی جان کے مختار نہیں ہو۔ مالک کی مرضی کے مطابق جان دوگے تو مالک کا حق ادا کر دو گے ۔ اس کے خلاف کام کرنے میں جان دو گے تو یہ بے ایمانی ہوگی۔

اسلام لانا خدا پر احسان نہیں

دوسری بات یہ ہے کہ مالک نے جو چیز تمھیں دی ہے اس کو اگر تم مالک ہی کے کام میں صرف کرتے ہو تو کسی پر احسان نہیں کرتے ۔ نہ مالک پر احسان ہےنہ کسی اور پر ۔ تم نے اگر اس کی راہ میں کچھ دیا یاکچھ عورت کی، یا جان دے دی بجو تمھارے نزدیک بہت بڑی چیز ہے ، تب بھی کوئی احسان کسی پر نہیں کیا۔ زیادہ سے زیادہ جو کام تم نے کیا وہ بس اتنا ہی تو ہے کہ مالک کا حق ہو تم پر تھا وہ تم نےادا کر دیا ۔ یہ کون سی ایسی بات ہے جس پر کوئی پھولے اور فخر کرے اور یہ چاہےکہ اس کی تعریفیں کی جائیں اور یہ سمجھے کہ اس نے کوئی بہت بڑا کام کیا ہےجس پر اس کی بڑائی تسلیم کی جائے؟ یاد رکھو کہ سچا مسلمان مالک کی راہ میں کچھ صرف کرنے یا کچھ خدمت کرنے کے بعد پھولتا نہیں ہے، بلکہ خاکساری اختیار کرتا ہے۔فخر کرنا کار غیر کو برباد کر دیتا ہے۔ تعریف کی خواہش جس نے کی اور اس کی خاطرکوئی کار خیر کیا، وہ خدا کے ہاں کسی اج کا متفق نہ رہا، کیوں کہ اس نے تو اپنے کام کا معاوضہ دنیا ہی میں مانگا اور یہیں اس کو مل بھی گیا۔

اللہ کا احسان اور ہمارا رویہ

بھائیو، اپنے مالک کا احسان دیکھو کہ اپنی چیز تم سے لیتا ہے، اور پھر کہتا ہے کہ یہ چیز میں نے تم سے خریدی ہے اور اس کا معاوضہ میں تمھیں دوں گا، اللہ اکبر! اس شان جود و کرم کا بھی کوئی ٹھکانا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ :

إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُهُم وَ امو الهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ، (تو به : ١١١)

"اللہ نے ایمان داروں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اس معاوضہ میں کہ ان کے لیے جنت ہے"۔

یہ تو مالک کا برتاؤ تمھارے ساتھ ہے۔ اب ذرا اپنا برتاؤ بھی دیکھو ۔ جو چیز مالک نے تم کو دی تھی اور جس کو مالک نے پھر تم سے معاوضہ دے کر خرید بھی لیا،اس کو غیروں کے ہاتھ بیچتے ہو۔ نہایت ذلیل معاوضے لے لے کر بیچتے ہو۔ وہ مالک کی مرضی کے خلاف تم سے کام لیتے ہیںاورتم یہ مجھ کر ان کی خدمت کرتے ہو کہ گویا رازق وہ ہیں ۔ تم اپنے دماغ بیچتے ہو، اپنے ہاتھ پاؤں بیچتے ہو، اپنے جسم کی طاقتیں بیچتےہو، اور وہ سب کچھ بیچتے ہو جس کو خدا کے بانی خریدنا چاہتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر بداخلاقی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ بیچی ہوئی چیز کو بیچنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔ دنیا میں اس پر دفا بازی اور فریب دہی کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا کی عدالت میں اس پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا ؟

کلمہ طيبه اور کلمہ خبیثہ

برادران اسلام، پچھلے خطبے میں کلمہ طیبہ کے متعلق میں نے آپ سے کچھ کہا۔تھا۔ آج پھر اسی کلمہ کی کچھ اور تشریح میں آپ کے سامنے بیان کروں گا۔ اس لیے کہ یہ کلمہ ہی اسلام کی بنیاد ہے، اسی کے ذریعہ سے آدمی اسلام میں داخل ہوتا ہے،اور کوئی شخص حقیقت میں مسلمان بن نہیں سکتا جب تک کہ وہ اس کلمہ کو پوری طرح سمجھ نہ لے، اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق نہ بنا لے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مجید میں اس کلمہ کی تعریف اس طرح فرمائی ہے :

الم ترَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَارِه تُؤْتِي أَكلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا، وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَرُونَ ، وَمَثَلُ كَلِمَةٍ عبِيئَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيئَةِ اجْتُنَّتُ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارِه يُثْبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ امَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ من وَيَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءه ( ابراهیم : ٢٤ تا ۲۷)

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ، ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے ۔ یہ مثالیں اللہ اس لیےدیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق ہیں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درست کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔ ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے، جو چاہے کرے۔"

یعنی کلمہ طیبہ کی مثال ایسی ہے جیسےکوئی اچھی ذات کا درخت ہو جس کی جڑیں زمین میں خوب بھی ہوئی اور جس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہوں اور جو ہر وقت اپنے پروردگار کے حکم سے پھل پر پھل لائے پھیلا جاتا ہو۔ اس کےبرعکس کلمہ خبیثہ یعنی بڑا اعتقاد اور جھوٹا قول ایسا ہے جیسے ایک بد ذات خودرد پودا کہ وہ بس زمین کے اوپر ہی اُوپر ہوتا ہے، اور ایک اشارہ میں جوڑ پھوڑ دیتا ہے، کیوں کہ اس کی بجھ گہری جھی ہوئی نہیں ہوتی ۔

یہ ایسی بےنظیر مثال ہےکہ اگر تم اس پر غور کرو تو تمھیں اس سےبڑا سبق ملیگا۔دیکھو، تمھارے سامنے دونوں قسم کے درختوں کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک تو یہ آم کا در تخت ہے۔ کتنا گہرا جما ہوا ہے ۔ کتنی بلندی تک اٹھا ہوا ہے۔کتنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔کتنےاچھےپھل اس میں لگتےہیں۔ یہ بات اسےکیوں حاصل ہوئی ؟ اس لیے کہ اس کی گٹھلی زور دار تھی، اس کو درخت بننے کا حق حاصل تھا ، اور وہ حق اتنا سچا تھا کہ جب اس نے اپنےحق کا دعوی کیا تو زمین نے، پانی نے، ہوا نے ، دن کی گرمی اور رات کی ٹھنڈک نے ، غرض ہر چیز نے اس کے بھی کو تسلیم کیا۔اور اس نے جس سے جو کچھ مانگا ہر ایک نے اس کو دیا۔ اس طرح وہ اپنے حق کےزور سے اتنا بڑا درخت بن گیا اور اپنے میٹھے پھل دے کہ اس نے ثابت بھی کر دیا کہ حقیقت ہیں وہ اسی قابل تھا کہ ایسا درخت بنے ۔ اور زمین و آسمان کی ساری قوتوں نے مل کر اگر اس کا ساتھ دیا تو کچھ بے جا نہیں کیا ۔ بلکہ ان کو ایسا کرنا ہی چاہیے تھا، اس لیے کہ درختوں کو غذا دینے اور بڑھانے اور پکانے کی جو طاقت زمین اور پانی اور ہوا اور دوسری چیزوں کے پاس ہے وہ اسی کام کے لیے تو ہےکہ اچھی ذات والے درختوں کے کام آئے ۔

اس کے مقابلہ میں یہ جھاڑ جھنکار اور خود رو پودے ہیں۔ ان کی بساط ہی کیا ہے ؟ ذراسی بوڑ، کہ ایک بچہ اکھاڑے - نرم اور بودے اتنے کہ ہوا کے ایک جھونکے سے مرجھا جائیں۔ ہاتھ لگاؤ تو کانٹے سے تمھاری خبر لیں۔ سیکھو تو منہ کا مزہ خراب کر دیں۔ روز خدا جانے کتنے پیدا ہوتے ہیں اور کتنے اکھاڑے جاتے ہیں۔ان کا یہ حال کیوں ہے ؟ اس لیے کہ ان کے پاس حق کا وہ زور نہیں جو آم کے پاس ہے۔ جب اعلیٰ ذات کے درخت نہیں ہوتے تو زمین بیکار پڑے پڑے اُگتا جاتی ہے اور ان پودوں کو اپنے اندر جگہ دے دیتی ہے ۔ کچھ مدد پانی کر دیتا ہے۔ کچھ ہوا اپنے پاس سے سامان دے دیتی ہے۔ مگر زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی ایسے پودوں کا حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے نہ زمین اپنےاندر ان کی جڑیں پھیلنے دیتی ہے نہ پانی ان کو دل کھول کر غذا دیتا ہے اور نہ ہوا کھلےدل سے ان کو پروان چڑھاتی ہے۔ پھر جب اتنی سی بساط پر یہ خبیث پودے باز خار دار اور زہریلے بن کر اٹھتے ہیں تو واقع میں ثابت ہو جاتا ہے کہ زمین و آسمان کی طاقتیں ایسے پودے اُگانے کے لیے نہیں تھیں ۔ ان کو اتنی زندگی بھی ملی تو بہت ملی-

کلمہ طیب کیا ہے؟

کلمہ طیب کیا ہے،ایک سچی بات ہے۔ایسی سچی بات کہ دنیا میں اس سےزیادہ سچی بات کوئی ہو نہیں سکتی۔ سارے جہان کا خدا ایک اللہ ہے۔ اس چیز پر زمین اور آسمان کی ہر چیز گواہی دے رہی ہے۔ یہ انسان ، یہ جانور، یہ درخت،یہ پتھر، یہ ریت کے ذرے ، یہ بہتی ہوئی نہر، یہ چمکتا ہوا سورج ، یہ ساری چیزیں جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، ان میں سے کون سی چیز ہےجس کو اللہ کے سوا کسی اور نےپیدا کیا ہو ؟ جو اللہ کے سوا کسی اور کی مہربانی سے زندہ اور قائم رہ سکے آئیں کو اللہ کے سوا کوئی اور فنا کر سکتا ہو ؟ پس جب یہ سارا جہان اللہ کا پیدا کیا ہوا ہےاور اللہ ہی کی عنایت سے قائم ہے اور اللہ ہی اس کا مالک اور حاکم ہے،تو جس وقت تم کہو گےکہ اس جہان میں اس ایک اللہ کےسوا کسی اور کی خدائی نہیں ہےتو زمین و آسمان کی ایک ایک چیز پکارے گی کہ تو نےبالکل سچی بات کہی۔ہم سب تیرےاس قول کی صداقت پر گواہ ہیں۔جب تم اس کے آگے سر جھکاؤ گےتو کائنات کی ہر چیز تمھارےساتھ ٹھک جائےگی، کیوں کہ یہ ساری چیزیں بھی اسی کی عبادت گزار ہیں جب تم اس کے فرمان کی پیروی کرو گے تو زمین و آسمان کی ہر چیز تمھارا ساتھ دے گی، کیوں کہ یہ سب بھی تو اسی خدا کے فرماں بردار ہیں۔ جب تم اس کی راہ میں چلو گے تو تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ کائنات کا بے شمار لشکر تمھارےساتھ ملےگا کیوں کہ آسمان کے سورج سےلےکر زمین کےایک حقیر ذرے تک ہر چیز سر آن اسی کی راہ میں تو چل رہی ہےجب تم اس پر بھروسہ کرو گےتو کسی چھوٹی طاقت پر بھروسانہ کرو گےبلکہ اس عظیم الشان طاقت پر بھروسا کرو گے جو زمین اور آسمان کے سارے خزانوں کی مالک ہے۔ غرض اس حقیقت پر جب تم نظر رکھو گےتو تم کو معلوم ہو گا کہ کلمہ طیبہ پر ایمان لاکر جو انسان اپنی زندگی کو اسی کےمطابق بنائے گا زمین اور آسمان کی ساری طاقتیں اس کا ساتھ دیں گی۔دنیا سےلے کر آخرت تک وہ پھلتا اور پھولتا ہی چلا جائے گا۔ اور کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی ناکامی و نامرادی اس کے پاس نہ آئے گی۔ یہی چیز اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ یہ کلمہ ایسا درخت ہےجس کی جڑیں زمین میں جمی ہوئی ہیں اور شاخیں آسمان پر پھیلی ہوئی ہیں، اور ہر وقت یہ خدا کے حکم سے پھل لاتا رہتا ہے۔

کلامی خبیث کیا ہے؟

اس کے مقابلہ میں کلمہ نبیت کو دیکھو۔ کلمہ خبیث کیا چیز ہے؟ یہ کہ اس جہان کا کوئی خدا نہیں ۔ یا یہ کہ ایک اللہ کے سوا کسی اور کی خدائی بھی ہے۔ غور کرو اس سے بڑھ کر جھوٹی اور بے اصل بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ زمین اور آسمان کی کون سی چیز اس پر گواہی دیتی ہے ؟ وہر یہ کہتا ہے کہ خدا نہیں ہے۔ زمین اور آسمان کی ہر چیز کہتی ہے کہ تو جھوٹا ہے ۔ ہم کو اور تجھ کو خدا ہی نے پیدا کیا ہےاور اسی خدا نےتجھ کو وہ زبان دی ہے جس سے تو یہ جھوٹ بک رہا ہےمشرک کہتا ہےکہ خدائی میں دوسرےبھی اللہ کےشریک ہیں، دوسرےبھی رازق ہیں،دوسرےبھی مالک ہیں،دوسرےبھی قسمتیں بناتےاور بگاڑتےہیں،دوسرے بھی۔فائدہ اور نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں، دوسرے بھی دعائیں سننے والےہیں، دوسرے بھی مرادیں پوری کرنے والے ہیں، دوسرے بھی ڈرنے کےلائق ہیں، دوسرے بھی بھروسا کرنے کے قابل ہیں، اس خدائی میں دوسروں کا حکم بھی چلتا ہے، اور خدا کےسوا دوسروں کا فرمان اور قانون بھی پیروی کے لائق ہے۔ اس کےجواب میں زمین و آسمان کی ہر چیز کہتی ہے کہ تو بالکل جھوٹا ہے۔ہر ہر بات ہو تو کہہ رہا ہےیہ حقیقت کے خلاف ہے۔ اب غور کرو کہ یہ کلمہ جو شخص اختیار کرےگا اور اس کےمطابق جو شخص زندگی بسر کرےگا،دنیا اور آخرت میں وہ کیوں کر پھل پھول سکتا ہے ؟ اللہ نے اپنی مہربانی سے ایسے لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے اور رزق کا وعدہ ان سے کیا ہے، اس لیے زمین اور آسمان کی طاقتیں کسی نہ کسی طرح اس کو بھی پرورش کریں گی جس طرح وہ جھاڑ جھنکار اور خود رو پودوں کو بھی آخر پرورش کرتی ہی ہیں۔ لیکن کائنات کی کوئی چیز بھی اس کا حق سمجھ کر اس کا ساتھ نہ دے گی اور نہ پوری طاقت کے ساتھ اس کی مدد ہی کرے گی ۔ وہ انہی خودرو درختوں کی طرح ہو گا جن کی مثال ابھی آپ کے سامنے بیان ہوئی ہے۔

نتائج کا فرق

نتائج کا فرق

یہی فرق دونوں کے پھلوں میں ہے ۔ کلمہ طیب جب کبھی پھلے گا اس سےبیٹھے اور مفید پھل ہی پیدا ہوں گے ۔ دنیا میں اس سےامن قائم ہوگا۔ نیکی اور سچائی اور انصاف کا بول بالا ہو گا اور خلق خدا اس سےفائدہ ہی اٹھائے گی۔مگر کلمہ خبیث کی جتنی پرورش ہوگی اس سے خار دار شاخیں ہی نکلیں گی۔ اس میں کڑوے کسیلے ہی پھل آئیں گے۔اس کی رگ رگ میں زہر ہی بھرا ہوگا۔ دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔جہاں کفر اور شرک اور دہریت کا زور ہے وہاں کیا ہو رہا ہے ؟ آدمی کو آدمی پھاڑ کھانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ آبادیاں کی آبادیاں تباہ کرنے کے سامان ہو رہےہیں۔زہریلی گیسیں بن رہی ہیں۔ایک قوم دوسری قوم کو برباد کر دینے پر تلی ہوئی ہے۔جو طاقت ور ہےوہ کمزوروں کو غلام بناتا ہے،صرف اس لیے کہ اس کے حصے کی روٹی خود چھین کر کھا جائے۔ اور جو کمزور ہے وہ فوج اور پولیس اور جیل اور پھانسی کے زور سے دب کر رہنے اور طاقت ور کا ظلم سہنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ پھر ان قوموں کی اندرونی حالت کیا ہے ؟ اخلاق بد سے بدتر ہیں جن پر شیطان بھی شرمائے اذان وہ کام کر رہا ہے جو جانور بھی نہیں کرتے ۔ مائیں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے ہلاک کرتی ہیں کہ کہیں یہ بچے ان کے عیش میں خلل نہ ڈال دیں ۔ شوہر اپنی بیویوں کو خود غیروں کی بغل میں دیتے ہیں تاکہ اُن کی بیویاں ان کی بغل میں آئیں ۔ ننگوں کے کلب بنائے جاتے ہیں جن میں مرد اور عورت بجانوروں کی طرح بر سینہ ایک دوسرے کے سامنے پھرتے ہیں۔ امیر سود کے ذریعہ سے غریبوں کا خون چوسے لیتے ہیں، اور مال دار ناداروں سے اس طرح خدمت لیتے ہیں کہ گویا وہ ان کے غلام ہیں اور صرف ان کی خدمت ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ فرض اس کلمہ خبیث سے جو پورا بھی جہاں پیدا ہوا ہے کانٹوں سے بھرا ہوا ہے اور جو پھل بھی اس میں لگتا ہے کڑوا اور زہریلا ہی ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان دونوں شاموں کو بیان فرمانے کے بعد آخر میں فرماتا ہے کہ :

يثبت الله الذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْعَبُوةِ الدُّنْيَا وفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ (ابراہیم : ٢٧)

یعنی کلمہ طیب پر جو لوگ ایمان لائیں گے اللہ ان کو ایک مضبوط قول کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں ثبات اور جماؤ بخشے گا ۔ اور ان کے مقابلہ میں وہ ظالم لوگ جو کلمہ خبیث کو مانیں گے اللہ ان کی ساری کوششوں کو بھٹکا دے گا ، وہ کبھی کوئی سیدھا کام نہ کریں گے جس سے دنیا یا آخرت میں کوئی اچھا پھل پیدا ہو۔

کلمہ گو خوار کیوں؟

بھانیو، کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیث کا فرق اور دونوں کے نتیجے تم نے سن لیے، اب تم یہ سوال ضرور کرو گے کہ ہم تو کلمہ طیبہ کے ماننے والے ہیں ، پھر کیا بات ہےکہ ہم نہ پھلتے ہیں نہ پھولتے ہیں، اور کفار جو کلمہ شبینہ کے ماننے والے ہیں یہ کیوں پھل پھول رہے ہیں ۔

اس کا جواب میرے ذمہ ہے اور میں جواب دوں گا بشرطیکہ آپ میں سے کوئی میرے جواب پر بڑا نہ مانے بلکہ اپنے دل سے پوچھے کہ میرا جواب واقعی صحیح ہے یا نہیں۔

اول تو آپ کا یہی کہنا غلط ہےکہ آپ کلمہ طیبہ کو مانتےہیں اور پھر بھی نہ پھلتےہیں نہ پھولتے ہیں ۔ کلمہ طیبہ کو ماننےکےمعنی زبان سےکلمہ پڑھنے کے نہیں ہیں اس کے معنی دل سےماننے کے ہیں اور اس طرح ماننے کے ہیں کہ اس کےخلاف کوئی عقیدہ آپ کے دل میں نہ رہے اور اس کے خلاف کوئی کام آپ سے ہو نہ سکے۔میرے بھائیو، خدارا مجھےبتاؤ کیا تمھارا حقیقت میں یہی حال ہے؟ کیا سینکڑوں ایسےمشرکانہ اور کافرانہ خیالات تم میں نہیں پھیلے ہوئے ہیں جو کلمہ طیبہ کے بالکل خلافت ہیں؟ کیا مسلمان کا سر خدا کے سوا دوسروں کے آگے نہیں ٹھیک رہا ہے؟کیا مسلمان دوسروں سے خوف نہیں کرتا ؟ کیا وہ دوسروں کی مدد پر بھروسہ نہیں کرتا ؟ کیا وہ دوسروں کو رازق نہیں سمجھتا ؟ کیا وہ خدا کے قانون کو چھوڑ کر دوسری کے قانون کی خوشی خوشی پیروی نہیں کرتا ؟ کیا اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والےعدالتوں میں جا کہ یہ صاف نہیں کہتےکہ ہم شرع کو نہیں مانتے بلکہ رسم و رواج کو مانتےہیں؟ کیا تم میں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جن کو دنیوی فائدوں کےلیےخدا کے قانون کی کسی دفعہ کو توڑنے میں ذرا تامل نہیں ہوتا ؟ کیا تم میں وہ لوگ موجود نہیں ہیں جن کو کفار کے غضب کا ڈر ہے مگر خدا کے غضب کا ڈر نہیں ؟ جو کفار کی نظر عنایت حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں مگر خدا کی نظر عنایت حاصل کرنےکے لیے کچھ نہیں کر سکتے ؟ جو کفار کی حکومت کو حکومت سمجھتے ہیں اور خدا کی حکومت کے متعلق انھیں کبھی یاد بھی نہیں آتا کہ وہ بھی کہیں موجود ہے ؟ خدا را سچ بتاؤ کیا یہ واقعہ نہیں ہے ؟ اگر یہ واقعہ ہے تو پھر کس منہ سے تم کہتے ہو کہ ہم کلمہ طیبہ کو مانےوالے ہیں اور اس کے باوجود ہم نہ پھولتے پھلتے ہیں۔ پہلے سچے دل سے ایمان تو لاؤ اور کلمہ طیبہ کے مطابق زندگی اختیار تو کرو۔ پھر اگر وہ درخت نہ پیدا ہو جو زمین میں گہری جڑوں کےساتھ جمنےوالا اور آسمان تک چھا جانے والا ہے تو معاذ اللہ،معاذ اللہ، اپنے خدا کو جھوٹا سمجھ لینا کہ اس نے تمھیں غلط بات کا اطمینان دلایا۔

کیا کلمہ خبیث کو ماننے والے پھل پھول رہے ہیں ؟

پھر آپ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ جو کلمہ خبیثہ کو مانتے ہیں وہ واقعی دنیا میں پھل پھول رہے ہیں۔ کلمہ خبیثہ کو ماننے والے نہ کبھی پھولے پھلے ہیں نہ آج بھول.پھل رہے ہیں۔ تم دولت کی کثرت ، عیش و عشرت کے اسباب اور ظاہری شان شوکت کو دیکھ کر سمجھتے ہو کہ وہ پھل پھول رہے ہیں۔ مگر ان کے دلوں سے پوچھو کہ کتنے ہیں جن کو اطمینانِ قلب میتر ہے ؟ ان کے اوپر عیش کے سامان لدے ہوئےہیں مگر ان کے دلوں میں آگ کی بھٹیاں سُلگ رہی ہیں جو ان کو کسی وقت چین نہیں لینےدیتیں۔ خدا کے قانون کی خلاف ورزی نے ان کے گھروں کو دوزخ بنا رکھا ہے۔اخباروں میں دیکھو کہ یورپ اور امریکہ میں خود کشی کا کتنا زور ہےطلاق کی کیسی کثرت ہے۔نسلیں کسی طرح گھٹ رہی ہیں اور گھٹائی جا رہی ہیں۔امراض خبیثہ نےکسی طرح لاکھوں انسانوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔ مختلف طبقوں کے درمیان روٹی کے لیے کیسی سخت کش مکش برپا ہے۔ حسد اور بغض اور دشمنی نےکس طرح ایک ہی جنس کے آدمیوں کو آپس میں لڑا رکھا ہے۔ عیش پسندی نےلوگوں کے لیے زندگی کو کس قدر تلخ بنا دیا ہے ۔ اور یہ بڑے بڑے عظیم الشان شہر جن کو دور سے دیکھ کر آدمی رشک جنت سمجھتا ہے، ان کے اندر لاکھوں انسان کس مصیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیا اسی کو پھلنا اور پھولنا کہتے ہیں؟ کیا یہی وہ جنت ہے جس پر تم رشک کی نگاہیں ڈالتے ہو ؟

میرے بھائیو ، یاد رکھو کہ خدا کا قول کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا حقیقت میں کلمہ طیبہ کے سوا اور کوئی کلمه نہیں جس کی پیروی کر کےانسان کو دنیا میں راحت اور آخرت میں سرخروئی حاصل ہو سکےتم جس طرف چاہو نظر دوڑا کر دیکھ لو، اس کےخلاف تم کو کہیں کوئی چیز نہ مل سکے گی ۔

کلمہ طيبه پر ایمان لانے کا مقصد

برادران اسلام، اس سے پہلے دو خطبوں میں آپ کے سامنے کلمہ طیبہ کا مطلب بیان کر چکا ہوں ۔ آج میں اس سوال پر بحث کرنا چاہتا ہوں کہ اس کلمے پر ایمان لانے کا فائدہ اور اس کی ضرورت کیا ہے۔

ہر کام کا ایک مقصد ہے

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ آدمی جو کام بھی کرتا ہے کسی نہ کسی مفرض ، کسی نہ کسی فائدہ کے لیے کرتا ہے ۔ بے غرض ، بے مقصد ، بے فائدہ کوئی کام نہیں کیا کرتا ۔ آپ پانی کیوں پیتے ہیں ؟ اس لیے کہ پیاس بجھے۔ اگر پانی پینے کے بعد بھی آپ کا وہی حال رہےجو پینے سے پہلے ہوتا ہے تو آپ ہر گز پانی نہ پئیں۔ کیوں کہ یہ ایک بے نتیجہ کام ہو گا۔آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں ؟ اس لیے کہ بھوک رفع ہو اور آپ میں زندہ رہنے کی طاقت پیدا ہو۔ اگر کھانا کھانے اور نہ کھانے کا نتیجہ ایک ہی ہو تو آپ یہی کہیں کےکہ یہ بالکل ایک فضول کام ہے۔ بیماری میں آپ دوا کیوں پیتے ہیں ؟ اس لیے کہ بیماری دور ہو جائے اور تندرستی حاصل ہو۔ اگر دوا پی کر بھی بیمار کا وہی حال ہو جو دو اپنےسے پہلے تھا، تو آپ یہی کہیں گے کہ ایسی دوا پینا بے کار ہے ۔ آپ زراعت میں اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ اس لیے کہ زمین سے غلہ اور پھل اور ترکاریاں پیدا ہوں۔اگر بیج بونے پر بھی زمین سے کوئی چیز نہ آگئی تو آپ ہل چلانے اور تخم ریزی کرنے اور پانی دینے میں اتنی محنت ہر گز نہ کرتے ۔ غرض آپ دنیا میں جو کام بھی کرتے ہیں اس میں ضرور کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے ۔ اگر مقصد حاصل ہو تو آپ کہتے ہیں کہ کام ٹھیک ہوا ۔ اگر مقصد حاصل نہ ہو تو آپ کہتے ہیں کہ کام ٹھیک نہیں ہوتا۔

کلمہ پڑھنے کا مقصد

اس بات کو ذہن میں رکھیے اور میرے ایک ایک سوال کا جواب دیتے جائیے۔سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کلمہ کیوں پڑھا جاتا ہے ؟ اس کا جواب آپ اس کےسوا اور کچھ نہیں دےسکتے کہ کلمہ پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ کافر اور مسلمان میں فرق ہو جائے ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ فرق ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ کیا اس کا یہ مطلب ہےکہ کافر کی دو آنکھیں ہوتی ہیں تو مسلمان کی چار آنکھیں ہو جائیں؟ یا کافر کا ایک سر ہوتا ہےتو مسلمان کےدوسر ہو جائیں ؟ آپ کہیں گے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے فرق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کافر کے انجام اور مسلمان کے انجام میں فرق ہو۔ کافرکا انجام یہ ہے کہ آخرت میں وہ خدا کی رحمت سے محروم ہو جائے اور ناکام و نامراد رہے۔ اور مسلمان کا انجام یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی اسے حاصل ہوا اور آخرت میں وہ کامیاب اور بامر اور ہے۔

آخرت کی ناکامی و کامیابی

میں کہتا ہوں کہ یہ جواب آپ نے بالکل ٹھیک دیا۔ مگر مجھے یہ بتائیے کہ آخرت کیا چیز ہے؟ آخرت کی ناکامی و نامرادی سے کیا مطلب ہے ؟ اور وہاں کامیاب اور بامراد ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ جب تک میں اس بات کو نہ سمجھ لوں اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اس سوال کا جواب آپ کو دینے کی ضرورت نہیں۔ اس کا جواب پہلے ہی دیا جا چکا ہے کہ الدُّنْیا مزرعة الآخِرَہ ۔ یعنی دنیا اور آخرت دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سلسلہ ہے جس کی ابتدا دنیا ہے اور انتہا آخرت۔ ان دونوں میں وہی تعلق ہے جو کھیتی اور فصل میں ہوتا ہے۔ آپ زمین میں ہل جوتتےہیں، پھر بیج ہوتے ہیں، پھر پانی دیتے ہیں، پھر کھیتی کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں،یہاں تک کہ فصل تیار ہو جاتی ہے، اور اس کو کاٹ کہ آپ سال بھر تک مزےسے کھاتے رہتے ہیں۔ آپ زمین میں جس چیز کی کاشت کریں گے اسی کی فصل تیار ہوگی ۔ گیہوں بوئیں گے تو گیہوں پیدا ہوگا۔ کانٹے بوئیں گے تو کانٹے ہی پیدا ہوں گے کچھ نہ بوئیں گے تو کچھ نہ پیدا ہوگا ۔ ہل چلانے اور بیج بونے اور پانی دینے اور کھیتی کی رکھوالی کرنے میں جو جو غلطیاں اور کوتاہیاں آپ سے ہوں گی اُن سب کا بڑا اثر آپ کو فصل کاٹنے کے موقع پر معلوم ہوگا۔ اور اگر آپ نے یہ سب کام اچھی طرح کیسے ہیں تو ان کا فائدہ بھی آپ فصل ہی کاٹنے کے وقت دیکھیں گے۔ بالکل ہیں حال دنیا اور آخرت کا ہے۔ دنیا ایک کھیتی ہے۔اس کھیتی میں آدمی کو اس لیےبھیجا گیا ہے کہ اپنی محنت اور اپنی کوشش سے اپنے لیے فصل تیار کرے۔ پیرایش سے لے کر موت تک کے لیے آدمی کو اس کام کی مہلت دی گئی ہے۔ اس مہلت میں جیسی فصل آدمی نےتیار کی ہے ویسی ہی فصل وہ موت کے بعد دوسری زندگی میں کالے گا ۔ اور پھر جو فصل وہ کاٹے گا اسی پر آخرت کی زندگی میں اس کا گزر بسر ہو گا۔ اگر کسی نے عمر بھر دنیا کی کھیتی میں اچھے پھل ہوتے ہیں اور ان کو خوب پانی دیا ہے اور ان کی خوب رکھوالی کی ہے تو آخرت کی زندگی میں جب وہ قدم رکھے گا تو اپنی محنت کی کمائی ایک سرسبز شاداب باغ کی صورت میں تیار پائے گا اور اسےاپنی اس دوسری زندگی میں پھر کوئی محنت نہ کرنی پڑے گی،بلکہ دنیا میں عمر بھر محنت کر کے جو باغ اس نے لگایا تھا اسی باغ کے پھلوں پر آرام سےزندگی بسر کرے گا۔اسی چیز کا نام جنت ہےاور آخرت میں بامراد ہونےکا یہی مطلب ہے ۔ اس کےمقابلے میں جو شخص اپنی دنیا کی زندگی میں کانٹے اور کڑوے کیلے زہر یلے پھل ہوتا رہا ہے، اس کو آخرت کی زندگی میں اپنی پھلوں کی فصل تیار ملے گی۔ وہاں پھر اس کو دوبارہ اتنا موقع نہیں ملے گا کہ اپنی اس حماقت کی تلافی کر سکے اور اس خراب فصل کو جلا کر دوسری اچھی فصل تیار کر سکے ۔ پھر تو اس کو آخرت کی ساری زندگی اسی فصل پر بسر کرنی ہوگی جسے وہ دنیا میں تیار کر چکا ہے ۔ جو کانٹے اس نے بوٹے تھےانہی کے بستر ہما سے لیٹنا ہوگا ، اور ہو کڑوے کیلئے زہر یلے پھل اس نے لگائے تھےوہی اس کو کھانے پڑیں گے ۔ یہی مطلب ہے آخرت میں ناکام و نامراد ہونے کا ۔


١- یعنی "دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔"

آخرت کی یہ شرح جو میں نے بیان کی ہے ، حدیث اور قرآن سے بھی یہی شرح ثابت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کی زندگی میں انسان کا نا مراد یا بامراد ہونا اور اس کے انجام کا اچھا یا برا ہونا دراصل نتیجہ ہے دنیا کی زندگی میں اس کے علم اور عمل کے صحیح یا غلط ہونے کا۔

کافراور مسلمان کے انجام میں فرق کیوں ؟

یہ بات جب آپ نے سمجھ لی تو ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی خود بخود سمجھ میں آپ جاتی ہے کہ مسلمان اور کافر کے انجام کا فرق یونہی بلا وجہ نہیں ہو جاتا ۔ در اصل انجام کا فرق آغاز ہی کے فرق کا نتیجہ ہے۔ جب تک دنیا میں مسلمان اور کافر کےعلم و عمل کےدرمیان فرق نہ ہو گا ، آخرت میں بھی ان دونوں کے انجام کے درمیان فرق نہیں ہو سکتا۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں ایک شخص کا علم اور عمل وہی ہو جو کا فرکا علم اور عمل ہے ، اور پھر آخرت میں وہ اس انجام سے بچ جائے جو کافر کا انجام ہوتا ہے۔

کلمہ کا مقصد ________ علم و عمل کی درستی

اب پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کلمہ پڑھنےکا مقصد کیا ہے؟ پہلے آپ نے اس کا جواب یہ دیا تھا کہ کلمہ پڑھنے کا مقصد یہ ہےکہ کافر کے انجام اور مسلمان کےانجام میں فرق ہو۔اب انجام اور آخرت کی جو تشریح آپ نے سنی ہے،اس کےبعد آپ کو اپنےجواب پر پھر غور کرنا ہوگا ۔ اب آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ کلمہ پڑھنےکا مقصد دنیا میں انسان کے علم اور عمل کو درست کرنا ہےتا کہ آخرت میں اس کا انجام درست ہو۔ یہ کلمہ انسان کو دنیا میں وہ باغ لگانا سکھاتا ہےجس کےپھل آخرت میں اس کو توڑنےہیں۔اگر آدمی اس کلمہ کو نہیں مانتاتو اس کو باغ لگانے کا طریقہ ہی معلوم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ باغ لگائے گا کس طرح اور آخرت میں پھل کس چیز کے توڑیگا ؟ اور اگر آدمی اس کلمہ کو زبان سے پڑھ لیتا ہے، مگر اس کا علم بھی وہی رہتا ہے جو نہ پڑھنے والے کا علم تھا، اور اس کا عمل بھی ویسا ہی رہتا ہے جیسا کا فر کا عمل تھا تو آپ کی عقل خود کہہ دے گی کہ ایسا کلمہ پڑھنے سے کچھ حاصل نہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے شخص کا انجام کافر کے انجام سے مختلف ہو۔ زبان سے کلمہ پڑھ کہ اس نےخدا پر کوئی احسان نہیں کیا ہےکہ باغ لگانے کا طریقہ بھی وہ نہ سیکھے ، باغ لگائے بھی نہیں، ساری عمر کانٹے ہی ہوتا رہے،اور پھر بھی آخرت میں اس کو پھلوں سےلدا ہوا لہلہاتا باغ مل جائے ۔ جیسا کہ میں پہلے کئی مثالیں دےکر بیان کر چکا ہوں میں کام کےکرنے اور نہ کرنےکا نتیجہ ایک ہو وہ کام فضول اور بےمعنی ہےجس دوا کو پینے کے بعد بھی بیمار کا وہی حال رہے جو پینے سے پہلے تھا ، وہ دوا حقیقت میں دوا ہی نہیں ہے ۔ بالکل اسی طرح اگر کلمہ پڑھنےوالےآدمی کا علم اور عمل بھی وہی کا وہی رہے جو کلمہ نہ پڑھنے والے کا ہوتا ہے، تو ایسا کلمہ پڑھنا محض بے معنی ہے۔جب دنیا میں کا فراور مسلم کی زندگی میں فرق نہ ہوا تو آخرت میں ان کے انجام میں فرق کیسے ہو سکتا ہے ؟

کلمہ طیبہ کونسا علم سکھاتا ہے؟

اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ وہ کونسا علم ہے جو کلمہ طیبہ انسان کو سکھاتا ہے ؟ اور اس علم کو سیکھنے کے بعد مسلمان کے عمل اور کافر کے عمل میں کیا فرق ہو جاتا ہے؟

١- اللہ کی بندگی

دیکھیے پہلی بات جو اس کلمہ سے آپ کو معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آپاللہ کے بندے ہیں اور کسی کے بندے نہیں ہیں ۔ یہ بات جب آپ کو معلوم ہوگئی تو خود بخود آپ کو یہ بات بھی معلوم ہو ہو گئی کہ آپ جس کے بندے ہیں، دنیا میں آپ کو اسی کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کی مرضی کے خلاف اگر آپ چلیں گے تو یہ اپنے مالک سے بغاوت ہو گی۔

۲- محمد کی پیروی

اس علم کے بعد دوسرا علم آپ کو کلمہ سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ بات جب آپ کو معلوم ہوگئی، تو اس کےساتھ ہی یہ بات بھی آپ کو خود بخود معلوم ہو گئی کہ اللہ کے رسول نے دنیا کی کھیتی میں کانٹوں اور زہریلے پھلوں کے بجائے پھولوں اور میٹھے پھلوں کا باغ لگاتا جس طرح سکھایا ہےاسی طرح آپکو باغ لگانا چاہیے۔اگر آپ اس طریقہ کی پیروی کریں گےتو آخرت میں آپ کو اچھی فصل ملےگی ۔اور اگر اس کے خلاف عمل کریں گے تو دنیا میں کانٹےبوئیں گےاور آخرت میں کانٹےہی پائیں گے۔

علم کے مطابق عمل بھی ہو

یہ علم حاصل ہونے کے بعد لازم ہے کہ آپ کا عمل بھی اس کے مطابق ہو اگر آپ کو یقین ہے کہ ایک دن مرنا ہے ، اور مرنے کے بعد پھر ایک دوسری زندگی ہے، اور اُس زندگی میں آپ کو اسی فصل پر گزر کرنا ہو گا جسے آپ اس زندگی میں تیار کر کے جائیں گے، تو پر یہ ناممکن ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کر سکیں ۔ دنیا میں آپ کھیتی باڑی کیوں کرتے ہیں ؟ اسی لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ اگر کھیتی باڑی نہ کی تو غلہ پیدا نہ ہوگا،اور فلہ نہ پیدا ہوا تو بھوکےمرجائیں گے ۔ اگر آپ کو اس بات کا یقین نہ ہوتا اور آپ سمجھتے کہ کھیتی باڑی کے بغیر ہی غلہ پیدا ہو جائے گا، یا فلہ کےبغیر بھی آپ بھوک سے بچ جائیں گے، تو ہر گز آپ کھیتی باڑی میں یہ محنت نہ کرتے۔بس اسی پر اپنے حال کو بھی قیاس کر لیجیے ۔ جو شخص زبان سے یہ کہتا ہے کہ میں خدا کو اپنا مالک، اور رسول پاک کو خدا کا رسول مانتا ہوں ، اور آخرت کی زندگی کو بھی ماننا ہوں اگر عمل اس کا قرآن کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے، اس کے متعلق یہ سمجھ لیجیے کہ در حقیقت اس کا ایمان کمزور ہے ائیں کو جیسا یقین اپنی کھیتی میں کاشت نہ کرنے کے بڑے انجام کا ہے اگر ویسا ہی یقین آنتی کی فصیل تیار نہ کرنے کے بڑے انجام کا بھی ہو تو وہ کبھی اس کام میں غفلت نہ کرے۔ کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے حق میں کانٹے نہیں ہوتا ۔ کانٹے وہی ہوتا ہے جسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ جو چیز ہو رہا ہے اس سے کانٹے پیدا ہوں گے اور وہ کانٹے اس کو تکلیف دیں گے ۔ آپ جان بوجھ کر اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارہ نہیں اُٹھاتے۔کیوں کہ آپ کو یقین ہے کہ یہ جلا دے گا۔ مگر ایک بچہ آگ میں ہاتھ ڈال دیتا ہے،کیوں کہ اسے اچھی طرح معلوم نہیں ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔

Blank page

کتاب خطبات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Sermons