برادران اسلام، آج میں آپ کے سامنے مسلمان کی صفات بیان کروں گا۔یعنی یہ بتاؤں گا کہ مسلمان ہونے کے لیے کم سے کم شرطیں کیا ہیں، آدمی کو کم از کم کیا ہو نا چا ہیے کہ وہ مسلمان کہلائے بجانے کے قابل ہو۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو یہ جاننا چاہیےکہ کفر کیا ہےاور اسلام کیا ہے۔ کفریہ ہے کہ آدمی خدا کی فرماں برداری سے انکار کر دے، اور اسلام یہ ہے کہ آدمی صرف خدا کا فرماں بردار ہو اور ہر ایسے طریقے، یا قانون ، با حکم کو ماننے سے انکار کر دے جو خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کے خلاف ہو۔ اسلام اور کفر کا یہ فرق قرآن مجید میں صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
فیصلہ کرنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ عدالت میں جو مقدمہ جائے بس اسی کا فیصلہ خدا کی کتاب کے مطابق ہو۔ بلکہ دراصل اس سےمراد وہ فیصلہ ہے جو ہر شخص اپنی زندگی میں ہر وقت کیا کرتا ہے۔ ہر موقع پر تمھارے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ فلاں کام کیا جائے یا نہ کیا جائے ؟ فلاں بات اس طرح کی جائے یا اس طرح کی بجائے ؟ فلاں معاملہ میں یہ طریقہ اختیار کیا جائے یا وہ طریقہ اختیار کیا جائے ؟ تمام ایسے موقعوں پر ایک طریقہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت بتاتی ہے، اور دوسرا طریقہ انسان کے اپنے نفس کی خواہشات، یا باپ دادا کی رسمیں، یا انسانوں کےبنائے ہوئے قانون بتاتے ہیں۔ اب جو شخص خدا کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کہ کیسی دوسرے طریقےکےمطابق کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہےوہ در اصل کفر کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اگر اس نے اپنی ساری زندگی ہی کے لیے یہی ڈھنگ اختیار کیا ہے تو وہ پورا کافر ہے ۔ اور اگر وہ بعض معاملات میں تو خدا کی ہدایت کو مانتا ہو اور بعض میں اپنے نفس کی خواہشات کو با رسم و رواج کو یا انسانوں کے قانون کو خدا کے قانون پر ترجیح دیتا ہو، تو جس قدر بھی وہ خدا کے قانون کی بغاوت کرتا ہے اسی قدر کفر میں مبتلا ہے۔ کوئی آدھا کا فر ہے ، کوئی چوتھائی کا فر ہے ، کسی میں دسواں حصّہ کفر کا ہے اور کسی میں بیسواں حصّہ ۔ غرض جنتی خدا کے قانون سے بغاوت ہے اتنا ہی کفر بھی ہے۔
اسلام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ آدمی صرف خدا کا بندہ ہو۔ نفس کا بندہ نہ باپ دادا کا بندہ ، نہ خاندان اور قبیلہ کا بندہ ، نہ مولوی صاحب اور پیر صاحب کا بندہ،نہ زمیندار صاحب اور تحصیلدار صاحب اور مجسٹریٹ صاحب کا بندہ، نہ خدا کے سوا کسی اور صاحب کا بندہ ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :
قُل ياهل الكتب تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ، فَإِنْ تَوَلَّوا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران : ٦٤)
"یعنی اسے نبی ، اہل کتاب سے کہو کہ آؤ ہم تم ایک ایسی بات پر اتفاق کہ میں جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے ریعنی ہو تمھارے نبی بھی بتا گئےہیں، اور خدا کا نبی ہونےکی حیثیت سےمیں بھی وہی بات کہتا ہوں) وہ بات یہ ہے کہ ایک تو ہم اللہ کے سوا کسی کے بندے بن کر نہ رہیں دوسرے یہ کہ خدائی میں کسی کو شریک نہ کریں، اور تیسری بات یہ ہے کہ ہم میں کوئی انسان کسی انسان کو اللہ کےبجائے اپنا مالک اور اپنا آقا نہ بنائے۔ یہ تین باتیں اگر وہ نہیں مانتےتو ان سے کہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں ۔ یعنی ہم ان تینوں باتوں کو مانتے ہیں "
" یعنی کیا وہ خدا کی اطاعت کے سوا کسی اور کی اطاعت چاہتے ہیں؟ حالانکہ خدا وہ ہے کہ زمین اور آسمان کی ہر چیز چار و ناچار اسی کی اطاعت کر رہی ہے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے"-
ان دونوں آیتوں میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ اصلی دین خدا کی اطاعت اور فرماں برداری ہے ۔ خدا کی عبادت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بس پانچ وقت اس کے آگے سجدہ کر لو۔ بلکہ اس کی عبادت کے معنی یہ ہیں کہ رات دن میں ہر وقت اس کے احکام کی اطاعت کرو جس چیز سے اس نے منع کیا ہےاس سے رُک جاؤ ، جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے اس پر عمل کرو۔ ہر معاملہ میں یہ دیکھو کہ خدا کا حکم کیا ہے۔ یہ نہ دیکھو کہ تمھارا اپنا دل کیا کہتا ہے ، تمھاری عقل کیا کہتی ہے ، باپ دادا کیا کر گئے ہیں، خاندان اور برادری کی مرضی کیا ہے،جناب مولوی حساب قبلہ اور جناب پیر صاحب قبلہ کیا فرماتےہیں، اور فلاں صاحب کا کیا حکم ہے اور فلاں صاحب کی کیا مرضی ہے۔اگر تم نےخدا کے علم کو چھوڑ کر کسی کی بات بھی مانی تو خدائی میں اس کو شریک کیا۔ اُس کو وہ درجہ دیا جو صرف خدا کا درجہ ہے۔ حکم دینے والا تو صرف خدا ہے۔ DOWNLOAD DATE الا لله (الانعام : ۵۷) بندگی کے لائق تو صرف وہ ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور میں کے بل بوتے پر تم زندہ ہو۔ زمین اور آسمان کی ہر چیز اسی کی اطاعت کر رہی ہے۔کوئی پتھر کسی پتھر کی اطاعت نہیں کرتا،کوئی درخت کسی درخت کی اطاعت نہیں کرتا، کوئی جانور کسی جانور کی اطاعت نہیں کرتا۔ پھر کیا تم جانوروں اور درختوں اور پتھروں سے بھی گئے گزرے ہو گئے کہ وہ تو صرف خدا کی اطاعت کر یں اور تم خدا کو چھوڑ کر انسانوں کی اطاعت کرو ؟ یہ ہے وہ بات جو قرآن کی ان دونوں آیتوں میں بیان فرمائی گئی ہے۔
اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کفر اور گمراہی در اصل نکلتی کہاں سےہے۔ قرآن مجید ہم کو بتاتا ہے کہ اس کم بخت بلا کے آنے کے تین راستے ہیں:
"یعنی اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا جس نے خدا کی ہدایات کے بجائےاپنے نفس کی خواہش کی پیروی کی۔ ایسے ظالم لوگوں کو خدا هدایت نہیں دیتا۔"
مطلب یہ ہےکہ سب سےبڑھ کر انسان کو گمراہ کرنےوالی چیز انسان کےاپنے نفس کی خواہشات ہیں۔ جو شخص خواہشات کا بندہ بن گیا، اس کے لیے خدا کا بندہ بننا ممکن ہی نہیں۔ وہ تو ہر وقت یہ دیکھے گا کہ مجھے روپیہ کسی کام میں ملتا ہے۔میری عزت اور شہرت کس کام میں ہوتی ہے مجھے لذت اور ملت کس کام میں حاصل ہوتا ہے، مجھے آرام اورآسائش کسی کام میں ملتی ہے۔ بس یہ چیزیں جس کام میں ہوں گی اسی کو وہ اختیار کرے گا، چاہے خدا اس سے منع کرے ۔ اور یہ چیزیں جس کام میں نہ ہوں اس کو وہ ہرگز نہ کرے گا اچھا ہے خدا اس کا حکم دے ۔ تو ایسے شخص کا خدا اللہ تبارک و تعالیٰ نہ ہوا ، اس کا اپنا نفس ہی اس کا خدا ہو گیا۔ اس کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے ؟ اسی بات کو دوسری جگہ قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے :
ازميْت مَنِ الحمد الهَهُ هَومَهُ ، أَفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيْلاهُ أَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يعْقِلُونَ إِن هُمُ الَّا كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيا (الفرقان : ۴۳ - ۴۴)
"یعنی اسے نبی کا تم نے اس شخص کے حال پر غور بھی کیا جس نے اپنےنفس کی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا ہے ؟ کیا تم ایسے شخص کی نگرانی کر سکتے ہو؟ کیا تم سمجھتےہو کہ ان میں سے بہت سے لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ ہر گز نہیں،یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے"-
نفس کےبندے کا جانوروں سے بدتر ہونا ایسی بات ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کوئی جانور آپ کو ایسا نہ ملے گا جو خدا کی مقررہ کی ہوئی تعد سے آگے بڑھتا ہو۔ ہر جانور وہی چیز کھاتا ہے جو خدا نے اس کے لیےمقرر کی ہے۔اسی قدر کھاتا ہے جس قدر اس کے لیے مقرر کی ہے۔ اور جتنےکام جس جانور کے لیے مقررہ ہیں بس اتنے ہی کرتا ہے۔مگر یہ انسان ایسا جانور ہےکہ جب یہ اپنی خواہش کا بندہ بنتا ہےتو وہ وہ حرکتیں کر گر کرتا ہے جن سےشیطان بھی پناہ مانگے ۔
یہ تو گمراہی کےآنےکا پہلا راستہ ہے۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ باپ دادا سے جو رسم و رواج ، بجو عقیدے اور خیالات جو رنگ ڈھنگ چلے آرہے ہوں آدمی ان کا غلام بن جائےاور خدا کےحکم سےبڑھ کر ان کو مجھے، اور اگر ان کے خلاف خدا کا حکم اس کےسامنےپیش کیا جائےتو کہے کہ میں تو وہی کروں گا جو میرےباپ دادا کرتے تھے اور جو میرے خاندان اور قبیلے کا رواج ہے ۔ جو شخص اس مرض میں مبتلا ہے وہ خدا کا بندہ کب ہوا۔ اس کے خدا تو اس کے باپ دادا اور اس کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہیں۔ اس کو یہ جھوٹا دعوی کرنے کا کیا حق ہے کہ میں مسلمان ہوں ؟ قرآن کریم میں اس پر بھی بڑی سختی کے ساتھ تنبیہ کی گئی ہے:
" اور جب کبھی ان سے کہا گیا کہ جو حکم خدا نے بھیجا ہے اس کی پیروی کرو ، تو انھوں نے یہی کہا کہ ہم تو اُس بات کی پیروی کریں گے جو ہمیں باپ دادا سے ملی ہے۔ اگر ان کے باپ دادا کسی بات کو نہ سمجھتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہوں تو کیا یہ پھر بھی انہی کی پیروی کیسے چلے جائیں گے ؟"
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلى مَا أَنْزَلَ اللهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ابَاءَنَاءِ أَوَلَوْ كان آبَاءهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَ لَا يَهْتَدُونَ ، يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُهُم لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ، (المائده : ۱۰۴ - ۱۰۵)
"اورجب اُن سےکہا گیا کہ آؤ اس فرمان کی طرف جو خدا نےبھیجا ہےاور آؤ رسول کے طریقہ کی طرف ، تو انھوں نےکہا کہ ہمارے لیےتو بس وہی طریقہ کافی ہےجس پر ہم نے اپنےباپ دادا کو پایا ہے۔کیا یہ باپ دادا ہی کی پیروی کیسے پہلے جائیں گے چاہے ان کو کسی بات کا علم نہ ہو اور وہ سیدھےراستے پر نہ ہوں ؟ اسے ایمان لانے والو ! تم کو تو اپنی فکر ہونی چاہیے۔اگر تم سیدھے راستے پر لگ جاؤ تو کسی دوسرے کی گمراہی سے تمھیں کوئی نقصان نہ ہو گا، پھر آخر کا رسب کو خدا کی طرف واپس جانا ہے۔ اس وقت خدا تم کو تمھارے اعمال کا نیک و بد سب کچھ تہا دے گا۔"
یہ ایسی گمراہی ہے جس میں تقریباً ہر زمانے کے جاہل لوگ مبتلا رہے ہیں، اور ہمیشہ خدا کے رسولوں کی ہدایت کو ماننے سے یہی چیز انسان کو روکتی ہے۔حضرت موسیٰ نے جب لوگوں کو خدا کی شریعت کی طرف بلایا تھا، اس وقت بھی لوگوں نے یہی کہا تھا :
غرض اسی طرح ہر نبی کے مقابلے میں لوگوں نے یہی حجت پیش کی ہے کہ تم ہو کہتے ہو یہ ہمارے باپ دادا کے طریقہ کے خلاف ہے، اس لیے ہم اسے نہیں مانتے۔
وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ من نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدُنَا بَاوَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى اشْرِهِمْ مُّقْتَدُونَ ، قُل اَوَلَوْ جِئْتُكُو بِأَهْدَى مِمَّا وَجَدتُمْ عَلَيْهِ آبَاءَكُمْ قَالُوا إِنَّا بِمَا ارسلتُم به کفِرُونَ ، فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ نَا نُظُرُكَيف كان عاقِبَةُ الْمُكَة بينه (الزخرف : ۲۳ - ۲۵)
"یعنی ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ جب کبھی ہم نے کسی ہستی میں کسی ڈرانے والے یعنی پیغمبر کو بھیجا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نےیہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کےقدم بقدم چل رہے ہیں۔ پیغمبر نے ان سے کہا اگر میں اس سے بہتر بات بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے تو کیا پھر بھی تم باپ دادا ہی کی پیروی کیسے چلے جاؤ گے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم اُس بات کو نہیں مانتے جو تم لے کر آئے ہو۔ پس جب انھوں نے یہ جواب دیا تو ہم نے بھی ان کو خوب سزادی ۔ اور اب دیکھ لو کہ ہمارے احکام کو جھالے والوں کا کیا انجام ہوا ہے"-
یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یا تو باپ دادا ہی کی پیروی کر لو یا پھر ہمارے ہی حکم کی پیروی کرو ۔ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں۔ مسلمان ہونا چاہتے ہو تو سب کو چھوڑ کر صرف اُس بات کو مانو جو ہم نے بتائی ہے-
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا انْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ابَاءَنَا، أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطن يَدْعُوهُم إِلى عَذَابِ السَّعِيرِهِ وَمَنْ تُسْلِمُوجهة إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنَّ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الْوُثْقَى وَإِلَى اللهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَلا يَحْزُنُكَ عُفْرُه ، إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُواط (لقمان : ۲۱ تا ۲۳ )
"یعنی جب اُن سے کہا گیا کہ اس حکم کی پیروی کرو جو خدا نے بھیجا ہےتو انھوں نے کہا کہ نہیں ہم تو اس بات کی پیروی کریں گے جس پر ہم نےاپنے باپ دادا کو پایا ہے ، سچا ہے شیطان ان کو عذاب جہنم ہی کی طرف کیوں نہ بلا رہا ہو۔ جو کوئی اپنے آپ کو بالکل خدا کے سپرد کر دے اور نیکو کار ہو اس نے تو مضبوط رسی تھام لی اور آخر کار تمام معاملات خدا کے ہاتھ میں ہیں، اور جس نے اس سے انکار کیا تو اسے نبی تم کو اس کےانکار سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ وہ سب ہماری طرف واپس آنے والے ہیں پھر ہم انھیں ان کے اعمال کا نتیجہ دکھا دیں گئے"-
یہ گمراہی کے آنے کا دوسرا راستہ تھا۔ تیسرا راستہ قرآن نے یہ بتایا ہے کہ انسان جب خدا کے حکم کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کے محکم ماننے لگتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ فلاں شخص بڑا آدمی ہے، اس کی بات پکی ہوگی ، یا فلاں شخص کے ہاتھ میں میری روٹی ہے اس لیے اس کی بات ماننی چاہیے۔ یا فلاں شخص بڑا صاحب اقتدار ہے اس لیے اس کی فرماں برداری کرنی چاہیے۔ یا فلاں صاحب اپنی بڑھا سے مجھے تباہ کر دیں گے یا اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے ؟ اس لیے جو وہ کہیں وہی صحیح ہے۔ یا فلاں قوم بڑی ترقی کہ رہی ہے، اس کے طریقے اختیار کرنےچاہئیں، تو ایسے شخص پر خدا کی ہدایت کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔
یعنی آدمی سیدھے راستہ پر اس وقت ہو سکتا ہے جب اس کا ایک خدا ہو۔سینکڑوں ہزاروں خدا جس نے بنا لیے ہوں اور جو کبھی اس خدا کے کہے پر اور کبھی اُس خدا کے کہے پر چلتا ہوا وہ داشتہ کہاں پاسکتا ہے۔
یہ تین بڑے بڑے ثبت ہیں جو خدائی کے دعویدار بنے ہوئے ہیں ۔ جو شخص مسلمان بنا چاہتا ہو اس کو سب سے پہلے ان تینوں منتوں کو توڑنا چاہیے۔ پھر وہ حقیقت میں مسلمان ہو جائے گا۔ ورنہ جس نے یہ تینوں بہت اپنےدل میں بٹھا رکھےہوں اس کا بندہ خدا ہونا مشکل ہے۔وہ دن میں پچاس وقت کی نمازیں پڑھ کر اور دکھاوے کے روزے رکھ کر اور مسلمانوں کی سی شکل بنا کر انسانوں کو دھوکا دےسکتا ہے خود اپنے نفس کو بھی دھوکا دے سکتا ہے کہ میں پکا مسلمان ہوں مگر خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔
بھائیو، آج میں نے آپ کے سامنے جن تین مینوں کا ذکر کیا ہے ان کی بندگی اصلی شرک ہے۔ آپ نے پتھر کے بت توڑ دیے، اینٹ اور ٹونے سے بنے ہوئےبت خانے ڈھا دیے ، مگر سینوں میں جو ثبت خانے بنے ہوئے ہیں ان کی طرف کم توجہ کی۔سب سے زیادہ ضروری،بلکہ مسلمان ہونے کےلیےاولین شرط ان متبوں کو توڑنا ہے۔اگرچه میرا خطاب تمام مسلمانوں سے ہے، اور مجھے یقین ہے کہ ساری دنیا اور تمام ہندوستان میں مسلمان جس قدر نقصان اُٹھا رہے ہیں وہ انہی تین منتوں کی پوجا کا نتیجہ ہے ۔ مگر چونکہ اس وقت میرے سامنے میرے پنجابی بھائی ہیں، اس لیےخاص طور پر ان سےکہتا ہوں کہ آپ کی تباہی اور آپ کی ذلت اور مصیبت کی جڑ یہ تین چیزیں ہیں جو آپ نے ابھی مجھ سےسُنی ہیں۔ آپ اس پنجاب کی سر زمین میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہیں۔ اس صوبہ کی آبادی میں آدھے سے زیادہ آپ ہیں اور آدھےسے کم میں دوسری قومیں ہیں۔ مگر اتنی بڑی قوم ہونے کے باوجود یہاں آپ کا کوئی وزن نہیں ہے۔ بعض نہایت قلیل التعداد قوموں کا وزن آپ سے بڑھ کر ہے۔ اس کی وجہ پر بھی آپ نےکبھی غور کیا ؟ اس کی وجہ صرف یہ ہےکہ نفس کی بندگی،خاندانی راجوں کی بندگی اور خدا کے سوا دوسرے انسانوں کی بندگی نے آپ کی طاقت کو انڈر سےکھوکھلا کر دیا ہے۔
آپ میں راجپوت ہیں، لکھڑ ہیں ، مغل ہیں ، جاٹ ہیں اور بہت سی قومیں ہیں۔اسلام نے ان سب قوموں کو ایک قوم ایک دوسرے کا بھائی، ایک پختہ دیوار بننے کے لیے کہا تھا جس کی اینٹ سے اینٹ بجڑی ہوئی ہو، مگر آپ اب بھی وہی پرانےہندوانہ خیالات لیے ہوئے بیٹھے ہیں جس طرح ہندؤوں میں الگ انگ گوتیں ہیں، اسی طرح آپ میں بھی اب تک قبیلےقبیلےالگ ہیں۔آپس میں مسلمانوں کی طرح شادی بیاہ نہیں۔ایک دوسرےسےبرادری اور بھائی چارہ نہیں۔زبان سے آپ ایک دوسرے کو مسلمان بھائی کہتے ہیں مگر حقیقت میں آپ کے درمیان وہی سب امتیازات ہیں جو اسلام سے پہلے تھے۔ان امتیازات نےآپ کو ایک مضبوط دیوار نہیں بننے دیا۔ آپ کی ایک ایک اینٹ الگ ہے ۔ آپ نہ مل کر اُٹھ سکتے ہیں اور نہ مل کر کسی مصیبت کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ اگر اسلام کی تعلیمات کے مطابق آپ سے کہا جائے کہ تو ڑو ان امتیازات کو اور آپس میں پھر ایک ہو جاؤ،تو آپ کیا کہیں گے ؟ بس وہی ایک بات، یعنی ہمارے باپ دادا سے جو رواج چلےآر ہے ہیں ان کو ہم نہیں توڑ سکتے۔اس کا جواب خدا کی طرف سے کیا ملتا ہے میں یہی کہ تم نہ توڑو ان رواجوں کو نہ چھوڑو ہندوانہ رسموں کی تقلید کو، ہم بھی تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے اور تمھاری کثرت تعداد کے باوجود تم کوذلیل و خوار کر کے دکھائیں گے۔
اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ تمھاری وراثت میں لڑکےاور لڑکیاں سب شریک ہیں۔آپ اس کا جواب کیا دیتے ہیں ؟ یہ کہ ہمارےباپ دادا کےقانون میں لڑکے اور لڑکیاں شریک نہیں ہیں،اور یہ کہ ہم خدا کےقانون کےبجائےباپے دادا کا قانون مانتے ہیں۔ خدا را مجھے بتائیے کیا اسلام اسی کا نام ہے ؟ آپ سےکہا جاتا ہے کہ اس خاندانی قانون کو توڑیے ۔ آپ میں سے ہر شخص کہتا ہےکہ جب سب توڑیں گے تو ہمیں بھی توڑ دوں گا۔ورنہ اگر دوسروں نے لڑکی کو حصہ نہ دیا اور میں نے دےدیا تو میرےگھر کی دولت تو دوسروں کےپاس چلی جائےگی، مگر دوسرے کے گھر کی دولت میرے گھر میں نہ آئے گی۔ غور کیجیے کہ اس جواب کے کیا معنی ہیں ؟کیا خدا کے قانون کی اطاعت اسی شرط سے کی جائےگی کہ دوسرے اطاعت کریں تو آپ بھی کریں گے ؟ کل آپ کہیں گے کہ دوسرے زنا کریں گےتو میں بھی کرونگا،دوسرےچوستی کریں گےتو میں بھی کروں گا۔غرض دوسرےجب تک سب گناہ نہ چھوڑیں گے نہیں بھی اس وقت تک سب گناہ کرتا رہوں گا۔ بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں تینوں مبتوں کی پرستش ہو رہی ہے ۔ نفس کی بندگی بھی ہے ، باپ دادا کی بندگی کبھی، اور مشرک قوموں کی بندگی بھی۔ اور تینوں کے ساتھ اسلام کا دعوئی بھی ہے۔
یہ صرف دو مثالیں ہیں۔ورنہ آنکھیں کھول کر دیکھا جائےتو بےشمار اسی قسم کےامراض آپ کےاندر پھیلے ہوئے نظر آئیں گے، اور ان سب میں آپ یہی دیکھیں گے کہ کہیں ایک بت کی پرستش ہے اور کہیں دوستوں کی اور کہیں تینوں بتوں کی یجب یہ بت پوجے جارہے ہوں اور ان کے ساتھ اسلام کا دعوئی بھی ہو تو آپ کیسے امید کر سکتے ہیں کہ آپ پر اُن رحمتوں کی بارش ہوگی جن کا وعدہ سچے مسلمانوں سے کیا گیا ہے؟
برادران اسلام نہ پچھلے جمعہ کے خطبہ میں میں نے آپ کو بتایا تھا کہ قرآن کی رو سےانسان کی گمراہی کے تین سبب ہیں۔ایک یہ کہ وہ خدا کے قانون کو چھوڑ کر اپنےنفس کی خواہشات کا غلام بن جائے۔ دوسرے یہ کہ خدائی قانون کےمقابلہ میں اپنےخاندان کے رسم و رواج اور باپ دادا کے طریقے کو ترجیح دے۔ تیسرے یہ کہ خدا اور اس کےرسول نے جو طریقہ بتایا ہے اس کو بالائے طاق رکھ کر انسانوں کی پیروی کرنےلگے، چاہے وہ انسان خود اس کی اپنی قوم کے بڑے لوگ ہوں یا غیر قوموں کےلوگ-
مسلمان کی اصلی تعریف یہ ہے کہ وہ ان تینوں بیماریوں سے پاک ہو مسلمان کہتے ہی اُس کو میں جو خدا کے سوا کسی کا بندہ اور رسول کے سوا کسی کا پیرو نہ ہو مسلمان وہ ہے جو سچے دل سے اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ خدا اور اس کےرسول کی تعلیم سرا سرعتی ہے، اس کے خلاف جو کچھ ہے وہ باطل ہےاور انسان کے لیے دین و دنیا کی بھلائی جو کچھ بھی ہے صرف خدا اور اس کے رسول کی تعلیم میں ہے۔اس بات پر کامل یقین جس شخص کو ہو گا وہ اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں صرف یہ دیکھے گا کہ اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے۔ اور جب اسے حکم معلوم ہو جائے گا تو وہ سیدھی طرح سے اس کے آگے سر جھکا دے گا۔ پھر چاہے اس کا دل کتنا ہی تلملاتےاور خاندان کے لوگ کتنی ہی باتیں بنائیں،اور دنیا والےکتنی ہی مخالفت کریں وہ ان میں سے کسی کی پرواہ نہ کرے گا۔کیوں کہ ہر ایک کو اس کا صاف جواب یہی ہو گا کہ میں خدا کا بندہ ہوں، تمھارا بندہ نہیں ہوں ۔ اور میں رسول پر ایمان لایا ہوں تم پر ایمان نہیں لایا ہوں ۔
اس کے بر خلاف اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ خدا اور رسول کا ارشاد یہ ہے تو ہوا کرے ، میرا دل تو اس کو نہیں مانتا، مجھے تو اس میں نقصان نظر آتا ہے، اس لیےمیں خدا اور رسول کی بات کو چھوڑ کر اپنی رائے پر چلوں گا ، تو ایسے شخص کا دل ایمان سے خالی ہو گا ، وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے کہ زبان سے تو کہتا ہے کہ میں خدا کا بندہ اور رسول کا پیرو ہوں ، مگر حقیقت میں اپنے نفس کا بندہ اور اپنی رائے کا پیرو بنا ہوا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ خدا اور رسول کا حکم کچھ بھی ہو، اگر فلاں بات تو باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے، اس کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے ، یا فلاں قاعدہ تو میرے خاندان یا برادری میں مقرر ہے،اسے کیوں کر توڑا جا سکتا ہے،تو ایسے شخص کا شمار بھی منافقوں میں ہو گا، خواہ نمازیں پڑھتے پڑھتے اس کی پیشانی پر کتنا ہی بڑا گٹا پڑ گیا ہو،اور ظاہر میں اس نے کتنی ہی تشریع صورت بنا رکھی ہو۔اس لیےکہ دین کی اصل حقیقت اس کے دل میں اُتری ہی نہیں۔ دین رکوع اور سجدے اور روزے اور رنج کا نام نہیں ہے، اور نہ دین انسان کی صورت اور اس کےلباس میں ہوتا ہے،بلکہ اصل میں دین نام ہے خدا اور رسول کی اطاعت کا جو شخص اپنے معاملات میں خدا اور رسول کی اطاعت سےانکار کرتا ہےاس کا دل حقیقت میں دین سے خالی ہے۔اس کی نمازہ اور اس کا روزہ اور اس کی تشریع صورت ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔
اسی طرح اگر کوئی شخص خدا کی کتاب اور اس کےرسول کی ہدایت سے بےپروا ہو کہ کہتا ہے کہ فلاں بات اس لیےاختیار کی جائےکہ وہ انگریزوں ہیں رانج ہےاور فلاں بات اس لیےقبول کی سجائے کہ فلاں قوم اس کی وجہ سے ترقی کر رہی ہےاور فلان بات اس لیےمانی جائےکہ فلاں بڑا آدمی ایسا کہتا ہے، تو ایسے شخص کو بھی اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔یہ باتیں ایمان کےساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔مسلمان ہو اور مسلمان رہنا چاہتےہو تو ہر اُس بات کو اُٹھا کر دیوار پر دے مارو جو خدا اور رسول کی بات کے خلاف ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو اسلام کا دعوئی تمھیں زیب نہیں دیتا۔زبان سےکہنا کہ ہم خدا اور رسول کو مانتےہیں،مگر اپنی زندگی کےمعاملات میں ہر وقت دوسروں کی بات کے مقابلہ میں خدا اور رسول کی بات کو رد کرتے رہنا نہ ایمان ہے نہ اسلام، بلکہ اس کا نام منافقت ہے۔
لَقَدْ اَنْزَلْنَا ايةٍ مُّبَيِّنَتٍ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يشار إلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِم ، وَيَقُولُونَ امَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّنْ بَعْدِ ذلِكَ ، وَمَا أُولئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمْ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ وَإِن يَكُن لَّهُمُ الحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَهُ انِي قُلُوبِهِمُ مَّرَضٌ أَوِ ارْتَابُوا امْهَا فُونَ أَنْ تَمِيفَ اللَّهُ عَلِيم وَرَسُولُهُ ، بَلْ أُولَيكَ هُمُ الظَّلِمُونَ، إِنَّمَا كَانَ قَول الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَاطَ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولُهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّفهِ فَأُولَئِكَ همُ الْفَائِزُونَ ، (النور : ۴٦ تا ۵۲ )
"یعنی ہم نےکھول کھول کر سنی اور باطل کا فرق بتانے والی آیتیں آثار دی ہیں ۔اللہ جس کو چاہتا ہےان آتیوں کے ذریعہ سے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت قبول کی۔ پھر اس کےبعد ان میں سےبعض لوگ اطاعت سےمنہ موڑ جاتےہیں۔ایسے لوگ ایمان دار نہیں ہیں۔ اور جب ان کو اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہےتاکہ رسول ان کے معاملات میں فیصلہ کرے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ موڑ جاتے ہیں۔البتہ جب بات ان کےمطلب کی ہو تو اسے مان لیتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کے دل میں ہماری ہے ؟ یا کیا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی کرے گا ؟ بہر حال وجہ کچھ بھی ہو یہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔ حقیقت میں جو ایمان دار ہیں ان کا طریقہ تو یہ ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ رسول ان کے معاملات کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریگا اور اللہ سے ڈرتا رہے گا اور اس کی نافرمانی سے پر ہیز کرے گا بس وہی کامیاب ہو گا "
آپ نے سُنا ہوگا کہ عرب میں شراب خوری کا کتنا زور تھا۔ عورت اور مرد ،جوان اور بوڑھے شراب کے متوالے تھے۔ اُن کو دراصل اس چیز سے عشق تھا۔اس کی تعریفوں کے گیت گاتے تھے اور اس پر جان دیتے تھے ۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ شراب کی لت لگ جانے کے بعد اس کا چھوٹنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔آدمی جان دینا قبول کر لیتا ہے مگر شراب پچھوڑ نا قبول نہیں کر سکتا۔اگر شرابی کو شراب نہ ملےتو اس کی کیفیت بیمار سےبد تر ہو جاتی ہے۔لیکن آپ نے کبھی سنا ہے کہ جب قرآن شریف میں اس کی حرمت کا حکم آیا تو کیا ہوا؟ وہی عرب جو شراب پر جان دیتےتھےاس حکم کو سنتےہی انھوں نے اپنےہاتھ سےشراب کے مٹکےتوڑ ڈالے ۔ مدینہ کی گلیوں میں شراب اس طرح بہہ رہی تھی جیسے بارش کا پانی بہتا ہے۔ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھےشراب پی رہےتھےجس وقت انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےمنادی کی آواز شنی کہ شراب حرام کر دی گئی تو جس شخص کا ہاتھ جہاں تھا وہیں کا وہیں رہ گیا۔ جس کےمنہ سے پیالہ لگا ہوا تھا، اس نےفوراً اس کو ہٹا لیا، اور پھر ایک قطرہ حلق میں نہ جانے دیا۔یہ ہے ایمان کی شان۔اس کو کہتے ہیں خدا اور رسول کی اطاعت۔
آپ کو معلوم ہے کہ اسلام میں زنا کی سزا کتنی سخت رکھی گئی ہے؟ ننگی پیٹھ پر سو کوڑے ،جن کا خیال کرنے سے آدمی کےرونگٹے کھڑے ہو جائیں۔اور اگر شادی شدہ آدمی ہو تو اس کے لیے سنگساری کی سزا ہے ، یعنی اس کو پتھروں سےاتنا مارنا کہ وہ مر جائے۔ایسی سخت سزا کا نام ہی سن کم آدمی کانپ اٹھتا ہے۔مگر آپ نے یہ بھی سُنا کہ جن کے دل میں ایمان تھا ان کی کیا کیفیت تھی ؟ ایک شخصسے نہ نا کا فعل سرزد ہو گیا ۔ کوئی گواہ نہ تھا ۔ کوئی عدالت تک پکڑ کرلے جانیوالا نہ تھا۔ کوئی پولیس کو اطلاع دینے والا نہ تھا ۔ صرف دل میں ایمان تھا جس نے اس شخص سے کہا کہ جب تو نے خدا کے قانون کے خلاف اپنے نفس کی خواہش پوری کی ہے تو اب جو سزا خدا نے اس کے لیے مقرر کی ہے اس کو بھگتنے کےلیے تیار ہو جا۔ چنانچہ وہ شخص خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ، میں نے زنا کی ہے، مجھے سزا دیجیے۔آپ منہ پھیر لیتےہیں تو پھر دوسری طرف آکر یہی بات کہتا ہے۔آپؐ پھر منہ پھیر لیتےہیں تو وہ پھر سامنے آکر سزا کی درخواست کرتا ہے کہ جو گناہ میں نے کیا ہےاس کی سزا مجھے دی جائے ۔ یہ ہے ایمان جس کے دل میں ایمان موجود ہےاس کے لیے ننگی پیٹھ پر سو کوڑے کھانا بلکہ سنگسارہ تک کر دیا جانا آسان ہے، مگر نا فرمان بن کر خدا کے سامنے حاضر ہونا مشکل ۔
آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ انسان کے لیے دنیا میں اپنے رشتہ داروں سےبڑھ کر کوئی عزیز نہیں ہوتا ۔ خصوصاً باپ، بھائی، بیٹے تو اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ ان پر سے سب کچھ قربان کر دنیا آدمی گوارا کر لیتا ہے ۔ مگر آپ ذرا بدر اور اُحد کی لڑائیوں پر غور کیجیے کہ ان میں کون کس کے خلاف لڑنے گیا تھا ؟ باپ مسلمانوں کی فوج میں ہے تو بیٹا کافروں کی فوج میں۔ یا بیٹا اس طرف ہے تو باپ اُس طرف ایک بھائی ادھر ہے تو دوسرا بھائی اُدھر۔ قریب سے قریب رشتہ دار ایک دوسرےکے مقابلہ میں آئے ہیں اور اس طرح لڑے ہیں کہ گویا یہ ایک دوسرے کو پہچانتےہی نہیں۔ اور یہ جوش ان میں کچھ روپے پیسےیا زمین کے لیے نہیں بھڑکا تھا، نہ کوئی ذاتی عداوت تھی، بلکہ صرف اس وجہ سے وہ اپنے خون اور اپنے گوشت پوست کے خلاف لڑ گئے کہ وہ خدا اور رسول پر باپ اور بیٹے اور بھائی اور سارے خاندان کو قربان کر دینے کی طاقت رکھتے تھے۔
آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ عرب میں جتنے پرانے رسم و رواج تھے ، اسلام نےقریب قریب ان سب ہی کو توڑ ڈالا تھا۔سب سے بڑی چیز تو بت پرستی تھی جس کا رواج سینکڑوں برس سےچلا آرہا تھا۔ اسلام نے کہا کہ ان مبتوں کو چھوڑ دو۔شراب، زنا ہوا چوری اور رہزنی عرب میں عام طور پر رائج تھی ۔اسلام نے کہا کہ ان سب کو ترک کرو۔ مور میں عرب میں کھلی پھرتی تھیں۔اسلام نےحکم دیا کہ پردہ کرو۔عورتوں کو وراثت میں کوئی حصہ نہ دیا جاتا تھا ۔اسلام نے کہا کہ ان کا بھی وراثت ہیں حصہ ہے۔ متبثی کو وہی حیثیت دی جاتی تھی ہو صلبی اولاد کی ہوتی ہے۔ اسلام نے کہا کہ وہ ملبی اولاد کی طرح نہیں ہے بلکہ متبنی اگر اپنی بیوی کو چھوڑ دے تو اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ فرض کون سی پرانی ریم ایسی تھی جس کو توڑنے کا حکم اسلام نے نہ دیا ہو۔ مگر آپ کو معلوم ہے کہ جو لوگ خدا اور رسول پر ایمان لائے تھےان کا کیا طرز عمل تھا ؟ صدیوں سے سجن بتوں کو وہ اور ان کے باپ دادا سجدہ کرتےاور نذریں چڑھایا کرتے تھے، ان کو ان ایمان داروں نے اپنے ہاتھ سے توڑا سینکڑوں برس سے جو خاندانی رسمیں چلی آتی تھیں ان سب کو انھوں نے مٹا کر رکھ دیا جن چیزوں کو وہ مقدس سمجھتے تھے خدا کا حکم پاکر انھیں پاؤں تلے روند ڈالا ۔ جن چیزوں کو وہ مکروہ سمجھتے تھے خدا کا حکم آتے ہی ان کو جائز سمجھنے لگے ۔ جو چیز یں صدیوں سے پاک سمجھی جاتی تھیں وہ ایک دم ناپاک ہو گئیں، اور جو صدیوں سے ناپاک خیال کی جاتی تھیں وہ یکا یک پاک ہو گئیں۔ کفر کے سجن طریقوں میں لذت اور فائدے کے سامان تھے ، خدا کا حکم پاتے ہی ان کو چھوڑ دیا گیا۔ اور اسلام کے جن احکام کی پابندی انسان پر شاق گزرتی ہے ان سب کو خوشی خوشی قبول کر لیا گیا ۔ اس کا نام ہےایمان اور اس کو کہتے ہیں اسلام ۔ اگر عرب کےلوگ اُس وقت کہتے کہ فلاں بات کو ہم اس لیے نہیں مانتے کہ ہمارا اس میں نقصان ہے، اور فلاں بات کو ہم اس لیے نہیں چھوڑتے کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے، اور فلاں کام کو تو ہم مزور کریں گے کیونکہ با پ دادا سے یہی ہوتا چلا آیا ہے، اور فلاں باتیں رومیوں کی ہمیں پسند ہیں اور فلاں ایرانیوں کی ہم کو مرغوب ہیں۔ غرض اگر عرب کے لوگ اسی طرح اسلام کی ایک ایک بات کو رو کر دیتے ، تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آج دنیا میں کوئی مسلمان نہ ہوتا۔
بھائیو، قرآن میں ارشاد ہوا کہ لَن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحبون ما آل عمران : ۹۲) یعنی نیکی کا مرتبہ تم کو نہیں مل سکتا جب تک کہ وہ سب چیزیں خدا کے لیے قربان نہ کر دو جو تم کو عزیز ہیں ۔ بس یہی آیت اسلام اور ایمان کی جان ہے ۔اسلام کی اصل شان یہی ہے کہ جو چیزیں تم کو عزیز ہیں ان کو خدا کی خاطر قربان کر دو۔ زندگی کے سارے معاملات میں تم دیکھتے ہو کہ خدا کا حکم ایک طرف بلاتا ہے اور نفس کی خواہشات دوسری طرف بلاتی ہیں۔خدا ایک کام کا حکم دیتا ہے، نفس کہتا ہے کہ اس میں تو تکلیف ہے یا نقصان۔خدا ایک بات سے منع کرتا ہے، نفس کہتا ہے کہ یہ تو بڑی مزے دار چیز ہے یا بڑی فائدےکی چیز ہے ۔ ایک طرف خدا کی خوشنودی ہوتی ہےاور دوسری طرف ایک دنیا کی دنیا کھڑی ہوتی ہے۔غرض زندگی میں ہر ہر قدم پر انسان کو دو راستے ملتے ہیں۔ایک راستہ اسلام کا ہے اور دوسرا کفر و نفاق کا جس نے دنیا کی ہر چیز کو ٹھکرا کہ خدا کے حکم کے آگے سر جھہ کا دیا، اس نے اسلام کا راستہ اختیار کیا ۔ اور جس نےخدا کے حکم کو چھوڑ کر اپنے دل کی یا دنیا کی خوشی پوری کی اس نے کفر یا نفاق کا راستہ اختیار کیا۔
آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ اسلام کی جو بات آسان ہے اسے تو بڑی خوشی کے ساتھ قبول کرتےہیں ، مگر یہاں کفر اور اسلام کا اصلی مقابلہ ہوتا ہے وہیں سےرخ بدل دیتے ہیں۔بڑے بڑے مدیکی اسلام لوگوں میں بھی یہ کمزوری موجود ہے۔وہ اسلام اسلام بہت پکاریں گے، اس کی تعریف کرتے کرتے ان کی زبان خشک ہو جائے گی، اس کے لیے کچھ نمائشی کام بھی کر دیں گے۔مگر ان سےکہیےکہ یہ اسلام جس کی آپ اس قدر تعریفیں فرما رہےہیں،آئیے ذرا اس کےقانون کو ہم آپ خود اپنے اوپر بھاری کریں تو وہ فورا کہیں گےکہ اس میں فلاں مشکل ہےاور فلاں وقت ہے، اور فی الحال تو اس کو نہیں رہنے ہی دیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک تھے بصورت کھلونا ہے، اس کو بس طاق پر رکھیے اور دُور سے بیٹھ کر اس کی تعریفیں کیسے جائیےمگر اسے خود اپنی ذات پر اور اپنے گھر والوں اور عزیزوں پر اور اپنے کاروبار اور معاملات پر ایک قانون کی حیثیت سے بھاری کرنے کا نام تک نہ کیجیے۔ یہ ہمارے آج کل کے دین داروں کا حال ہے۔ اب دنیا داروں کا تو ذکر ہی فضول ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نہ اب نمازوں نہیں وہ اثر ہےجو کبھی تھا، نہ روزوں میں ہے،نہ قرآن خوانی میں اور نہ شریعت کی ظاہری پابندیوں میں ۔ اس لیے کہ جب شرح ہی موجود نہیں تو نزا بے جان جسم کیا کہ امت دکھائے گا ؟
" یعنی (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کہو میری نماز اور میرے تمام مراسم عبودیت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے میں اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔"
" جس نے کسی سے دوستی و محبت کی تو خدا کے لیے ، اور دشمنی کی تو خدا کے لیے، اور کسی کو دیا تو خدا کے لیے ، اور کسی سے روکا تو خدا کےلیے، اُس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا، یعنی وہ پورا مومن ہو گیا "
پہلے جو آیت میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہےکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی کو اور اپنے سینے اور مرنے کو صرف اللہ کے لیے خالص کرلے اور اللہ کے سوا کسی کو اس میں شریک نہ کرے۔ یعنی نہ اس کی بندگی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو اور نہ اس کا جینا اور مرنا۔
اس کی جو تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں نے آپ کو سُنائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور دشمنی ، اور اپنی دنیوی زندگی کےمعاملات میں اس کا لین دین خالصہ خدا کے لیے ہونا عین تقاضائے ایمان ہے۔اس کے بغیر ایمان ہی کی تکمیل نہیں ہوتی کجا کہ مراتب عالیہ کا دروازہ کھل سکے جیبنی کمی اس معاملہ میں ہوگی اتنا ہی نقص آدمی کے ایمان میں ہوگا ، اور جب اس حیثیت سے آدمی مکمل طور پر خدا کا ہو جائے تب کہیں اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی چیزیں صرف مراتب عالیہ کا دروازہ کھولتی ہیں ، ورنہ ایمان و اسلام کے لیے انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا ہونا شرط نہیں ہے۔یعنی بالفاظ دیگر اس کیفیت کے بغیر بھی انسان مومن و مسلم ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ ایک غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ فقہی اور قانونی اسلام اور اُس حقیقی اسلام میں جو خدا کے ہاں معتبر ہے، فرق نہیں کرتے۔
فقہی اور قانونی اسلام میں آدمی کے قلب کا حال نہیں دیکھا جاتا اور نہیں دیکھا جا سکتا ، بلکہ صرف اُس کے اقرار زبانی کو اور اس امر کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر اُن لازمی علامات کو نمایاں کرتا ہے یا نہیں جو اقرارہ زبانی کی توثیق کےلیے ضروری ہیں۔ اگر کسی شخص نے زبان سے اللہ اور رسول اور قرآن اور آخرت اور دوسرے ایمانیات کو ماننےکا اقرار کر لیا اور اس کےبعد وہ ضروری شرائط بھی پوری کر دیں جن سےاُس کےماننےکا ثبوت ملتا ہےتو وہ دائرہ اسلام میں لےلیا جائےگا اور سارے معاملات اس کےساتھ مسلمان سمجھ کر کیےجائیں گے۔ لیکن یہ چیز صرف دنیا کے لیے ہے، اور دنیوی حیثیت سے وہ قانونی اور تمدنی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر مسلم سوسائٹی کی تعمیر کی گئی ہے۔اس کا حاصل اس کےسوا کچھ نہیں ہے کہ ایسے اقرار کے ساتھ جتنے لوگ مسلم سوسائٹی میں داخل ہوں وہ سب مسلمان مانے جائیں، ان میں سےکسی کی تکفیر نہ کی جائے ، ان کو ایک نئے سرےپر شرعی اور قانونی اور اخلاقی اور معاشرتی حقوق حاصل ہوں، اُن کے درمیان شادی بیاہ کے تعلقات قائم ہوں، میراث تقسیم ہو اور دوسرے تمدنی روابط وجود میں آئیں ۔
لیکن آخرت میں انسان کی نجات اور اس کا مسلم و مومن قرارہ دیا جانا اور اللہ کے مقبول بندوں میں شمار ہونا اس قانونی اقرار پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہاں اصل چیز آدمی کا قلبی اقرار ، اُس کے دل کا جھکاؤ اور اس کا برضا و رغبت اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے حوالے کر دیا ہے۔ دنیا میں جو زبانی اقرار کیا جاتا ہے وہ تو صرف قاضی شرع کے لیے اور عام انسانوں اور مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ وہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ مگر اللہ آدمی کے دل کو اور اس کے باطن کو دیکھتا ہےاور اس کے ایمان کو نا پتا ہے ۔ اس کے ہاں آدمی کو جس حیثیت سے جانچا جائیگا وہ یہ ہے کہ آیا اس کا جینا اور مرنا اور اس کی وفاداریاں اور اس کی اطاعت و بندگی اور اس کا پورا کارنامہ زندگی اللہ کے لیے تھا یا کسی اور کے لیے ؟ اگر اللہ کے لیے تھا تو وہ مسلم اور مومن قرار پائے گا ، اور اگر کسی اور کے لیے تھا تو نہ وہ مسلم ہو گا نہ مومن ۔ اس حیثیت سے جو جبلنا نام نکلے گا اتنا ہی اس کا ایمان اور اسلام خام ہو گا خواہ دنیا میں اس کا شمار کیسے ہی بڑے مسلمانوں میں ہوتا رہا ہو اور اس کو کتنے ہی بڑے مراتب دیے گئے ہوں ۔ اللہ کے ہاں قدر صرف اس چیز کی ہے کہ جو کچھ اس نے آپ کو دیا ہے وہ سب کچھ آپ نے اُس کی راہ میں لگا دیا یا نہیں ۔ اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کو وہی حق دیا جائے گا جو وفاداروں کو اور حق بندگی ادا کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔اور اگر آپ نے کسی چیز کو خدا کی بندگی سے مستثنی کر کے رکھا تو آپ کا یہ اقرار کہ آپ مسلم ہوئے ، یعنی یہ کہ آپ نےاپنے آپ کو بالکل خدا کے حوالے کر دیا، محض ایک جھوٹا اقرار ہو گا جس سے دنیا کےلوگ دھوکا کھا سکتے ہیں جس سے قریب کھا کر مسلم سوسائٹی آپ کو اپنے اندر جگہ دےسکتی ہے جس سے دنیا میں آپ کو مسلمانوں کے سے تمام حقوق مل سکتے ہیں لیکن اس سے فریب کھا کر خدا اپنے ہاں آپ کو وفاداروں میں جگہ نہیں دے سکتا۔
یہ قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق جوئیں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے،اگر آپ اس پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس کےنتائج صرف آخرت ہی میں مختلف نہیں ہوں گےبلکہ دنیا میں بھی ایک بڑی حد تک مختلف ہیں۔ دنیا میں جو مسلمان پائے گئے ہیں یا آج پائے جاتے ہیں ان سب کو دو قسموں پر منقسم کیا جا سکتا ہے:
ایک قسم کے مسلمان وہ ہیں جو خدا اور رسول کا اقرار کر کےاسلام کو بحیثیت اپنےمذہب کےمان لیں،مگر اپنے اس مذہب کو اپنی کل زندگی کا محض ایک جز اور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھیں۔اس مخصوص جز اور شعبے ہیں تو اسلام کےساتھ عقیدت ہو، عبادت گزاریاں ہوں،تسبیح و مصلےہو،خدا کا ذکر ہو، کھانےپینے اور بعض معاشرتی معاملات میں پرہیز گاریاں ہوں اور وہ سب کچھ ہو جسے مذہبی طرفہ عمل کہا جاتا ہے ، مگر اس شعبے کے سوا ان کی زندگی کے دوسرے تمام پہلوان کے مسلم ہونےکی حیثیت سے مستثنیٰ ہوں۔ وہ محبت کریں تو اپنے نفس یا اپنے مفاد یا اپنے ملک و قوم یا کسی اور کی خاطر کریں ۔ وہ دشمنی کریں اور کسی سے جنگ کریں تو وہ بھی ایسےہی کسی دنیوی یا نفسانی تعلق کی بنا پر کریں۔ ان کے کاروبار، ان کے لین دین، ان کےمعاملات اور تعلقات، ان کا اپنے بال بچوں، اپنےخاندان، اپنی سوسائٹی اور اپنےاہل معامله کےساتھ برتاؤ سب کا سب ایک بڑی حد تک دین سے آزاد اور دنیوی حیثیتوں پر مبنی ہو۔ ایک زمیندار کی حیثیت سے،ایک تاجر کی حیثیت سے،ایک حکمراں کی حیثیت سے، ایک سپاہی کی حیثیت سے، ایک پیشہ ور کی حیثیت سے،ان کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہو جس کا ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ پھر اس قسم کے لوگ مل کر اجتماعی طور پر جو تمدنی، تعلیمی اور سیاسی ادارے قائم کریں وہ بھی ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے خواہ جوئی طور پر متاثر یا منسوب ہوں لیکن فی الواقع ان کو اسلام سے کوئی علاقہ نہ ہو۔
دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارےوجود کو اسلام کے اندر پوری طرح دےدیں۔ان کی ساری چینی ان کےمسلمان ہونےکی حیثیت میں گم ہو جائیں ۔وہ باپ ہوں تو مسلمان کی حیثیت سےبیٹےہوں تو مسلمان ہونےکی حیثیت سے،شوہر یا بیوی ہوں تو مسلمان کی حیثیت سےتاجر، زمیندار، مزدور،ملازم یا پیشہ ور ہوں تو مسلمان کی حیثیت سےان کےجذبات، ان کی خواہشات،اُن کے نظریات،ان کے خیالات اور ان کی رائیں،ان کی نفرت اور رغبت،ان کی پسند اور ناپسند سب کچھ اسلام کے تابع ہو۔ان کےدل و دماغ پر،ان کی آنکھوں اور کانوں پہ ان کےپیٹ اور ان کی شرمگاہوں پر اور ان کےہاتھ پاؤں اور ان کےجسم و جان پر اسلام کا مکمل قبضہ ہو۔ مندان کی محبت اسلام سےآزاد ہو،نہ دشمنی جس سےملیں تو اسلام کےلیےمیں اور جس سےلڑیں تو اسلام کےلیےلڑیں۔کسی کو دیں تو اس لیےدیں کہ اسلام کا تقاضا یہی ہےکہ اسےدیا جائےاور کسی سےروکیں تو اس لیےروکیں کہ اسلام یہی کہتا ہےکہ اس سےروکا جائے۔اور ان کا یہ طرز عمل صرف انفرادی حد تک ہی نہ ہو بلکہ ان کی اجتماعی زندگی بھی سراسر اسلام کی بنیاد ہی پر قائم ہو۔ بحیثیت ایک جماعت کے ان کی بہتی صرف اسلام کے لیے قائم ہو اور ان کا سارا اجتماعی برتاؤ اسلام کے اصولوں ہی پر ملنی ہو۔
یہ دو قسم کے مسلمان حقیقت میں بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں بچا ہےقانونی حیثیت سے دونوں ایک ہی امت میں شامل ہوں اور دونوں پر لفظ مسلمان کا اطلاق یکساں ہوتا ہو۔ پہلی قسم کے مسلمانوں کا کوئی کارنامہ تاریخ اسلام میں قابلِ ذکر یا قابل فخر نہیں ہے۔ انھوں نے فی الحقیقت کوئی ایسا کام نہیں ہے جس نے تاریخ عالم پر کوئی اسلامی نقش چھوڑا ہو۔ زمین نے ایسے مسلمانوں کا بوجھ کبھی محسوس نہیں کیا ہے اسلام کو اگر تنزیل نصیب ہوا ہے تو ایسے ہی لوگوں کی بدولت ہوا ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کی کثرت مسلم سوسائٹی میں ہو جانے کا نتیجہ اس شکل میں رونما ہوا کہ دنیا کے نظام زندگی کی باگیں کفر کے قبضے میں چلی گئیں اور مسلمان اس کے ماتحت رہ کہ صرف ایک محدود مذہبی زندگی کی آزادی پر قانع ہو گئے ۔ خدا کو ایسے مسلمان ہرگز مطلوب نہ تھے۔ اس نے اپنے انبیاء کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا تھا ، نہ اپنی کتابیں اس لیے نازل کی تھیں کہ صرف اس طرز کے مسلمان دنیا میں بناڈالے جائیں۔ دنیا میں ایسے مسلمانوں کے نہ ہونے سے کسی حقیقی قدر و قیمت لکھنےوالی چیز کی کمی نہ تھی جسے پورا کرنے کے لیے سلسلہ وحی و نبوت کو جاری کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ در حقیقت جو مسلمان خدا کو مطلوب ہیں جنہیں تیار کرنے کے لیےانبیاء کی بعثت اور کتابوں کی تنزیل ہوئی ہے اور جنھوں نے اسلامی نقطہ نظر سےکبھی کوئی قابل قدر کام کیا ہے یا آج کر سکتے ہیں ، وہ صرف دوسری ہی قسم مسلمان ہیں ۔
یہ چیز صرف اسلام ہی کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ دنیا میں کسی مسالک کا جھنڈا بھی ایسے پیرؤوں کے ہاتھوں کبھی بلند نہیں ہوا ہے جنھوں نے اپنے مسلک کےاقرار اور اس کے اصولوں کی پابندی کو اپنی گل زندگی کے ساتھ صرف ضمیمہ بنا کر رکھا ہو اور جن کا جینا اور مرنا اپنےمسلک کے سوا کسی اور چیز کےلیے ہو۔ آج بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک مسلک کے حقیقی اور پتے پر و صرف وہی لوگ ہوتےہیں جو دل و جان سے اس کے وفادار ہیں، جنھوں نےاپنی پوری شخصیت کو اُس میں گم کر دیا ہےاور جو اپنی کسی چیز کو حتی کہ اپنی جان اور اپنی اولادہ تک کو اس کےمقابلہ میں عزیز تہ نہیں رکھتے۔دنیا کا ہر مسلک ایسےہی پیرو مانگتا ہےاور اگر کسی مسلک کو دنیا میں طلبہ نصیب ہو سکتا ہے تو وہ صرف ایسے ہی پیرووں کی بدولت ہو سکتا ہے۔
البتہ اسلام میں اور دوسرے مسلکوں میں فرق یہ ہے کہ دوسرے مسلک اگر انسانوں سے اس طرز کی فنائیت اور فدائیت اور وفاداری مانگتے ہیں تویہ فی الواقع انسان پر ان کا حق نہیں ہے بلکہ یہ ان کا انسان سے ایک بے جا مطالبہ ہے۔ اس کے برعکس اسلام اگر انسان سے اس کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ اس کا عین حق ہے۔وہ جن چیزوں کی خاطر انسان سے کہتے ہیں کہ تو اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو اور اپنی پوری شخصیت کو اُن پر نیچ دے، اُن میں سےکوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کا فی الواقع انسان پر یہ حق ہو کہ اُس کی مخاطر انسان اپنی کسی شے کو قربان کرے۔لیکن اسلام جس خدا کےلیے انسان سے یہ قربانی مانگتا ہے وہ حقیقت میں اس کا حق رکھتا ہےکہ اس پر سب کچھ قربان کر دیا جائے ۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔انسان خود اللہ کا ہے جو کچھ انسان کے پاس ہے اور جو کچھ انسان کے اندر ہے سب اللہ کا ہے، اور جن چیزوں سے انسان دنیا میں کام لیتا ہے وہ سب بھی اللہ کی ہیں۔ اس لیے عین تقاضائے عدل اور عین مقتضائے عقل ہے کہ جو کچھ اللہ کا ہےوہ اللہ ہی کے لیے ہو۔ دوسروں کے لیے یا خود اپنے مفاد اور اپنے نفس کےمرطوبات کے لیے انسان جو قربانی بھی کرتا ہے وہ دراصل ایک خیانت ہے، الا یہ کہ وہ خدا کی اجازت سے ہو۔ اور خدا کے لیے جو قربانی کرتا ہے فی الحقیقت وہ لیکن اس پہلو سے قطع نظر کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے اُن لوگوں کے طرز عمل میں ایک بڑا سبق ہے جو اپنے باطل مسلکوں کی خاطر اور اپنے نفس کے جھوٹےمعبودوں کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر رہے ہیں اور اُس استقامت کا ثبوت دےرہے ہیں جس کی نظیر مشکل ہی سے تاریخ انسانی میں ملتی ہے۔ کس قدر عجیب بات ہوگی اگر باطل کے لیے انسانوں سے ایسی کچھ فدائیت اور فنائیت ظہور میں آئےاور حق کے لیے اس کا ہزارواں حصہ بھی نہ ہو سکے۔
ایمان و اسلام کا یہ معیار جو اس آیت اور اس حدیث میں بیان ہوا ہے،ائیں چاہتا ہوں کہ ہم سب اپنےآپ کو اس پر پرکھ کر دیکھیں اور اس کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں۔اگر آپ کہتےہیں کہ آپ نےاسلام قبول کیا اور ایمان لےآئےتو دیکھیےکہ آیا فی الواقع آپ کاجینا اورمرنا خدا کےلیےہے؟کیا آپ اسی لیےجی رہےہیں اور آپ کےدل اور دماغ کی ساری قابلیتیں،آپ کےجسم اور جان کی ساری قوتیں،آپ کےاوقات اور آپ کی محنتیں کیا اسی کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ خدا کی مرضی آپ کےہاتھوں پوری ہو اور آپ کےذریعہ سےوہ کام انجام پائےجو خدا اپنی مسلم امت سےلینا چاہتا ہے؟پھر کیا آپ نےاپنی اطاعت اور بندگی کو خدا ہی کےلیےمخصوص کر دیا ہے؟کیا نفس کی بندگی خاندان کی،برادری کی،دوستوں کی سوسائٹی کی اور حکومت کی بندگی آپ کی زندگی سےبالکل خارج ہو چکی ہے؟ کیا آپ نےاپنی پسند اور ناپسند کو سرا سر رضائےالہی کےتابع کر دیا ہے ؟ پھر دیکھیے کہ واقعی آپ جس سےمحبت کرتےہیں خدا کے لیے کرتے ہیں؟جس سے نفرت کرتے ہیں خدا کے لیے کرتے ہیں؟ اور اس نفرت اور محبت میں آپ کی نفسانیت کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے ؟ پھر کیا آپ کا دینا اور روکنا بھی خدا کی خاطر ہو چکا ہے ؟ اپنے پیٹ اور اپنے نفس سمیت دنیا میں آپ جس کو ہو کچھ دے رہے ہیں اسی لیے دے رہے ہیں کہ خدا نے اس کا حق مقررہ کیا ہےاور اس کو دینے سے صرف خدا کی رضا آپ کو مطلوب ہے ؟ اور اسی طرح جس سےآپ جو کچھ روک رہے ہیں وہ بھی اسی ہےاسی لیے روک رہے ہیں کہ خدا نے اسے روکنےکا حکم دیا ہے، اور اس کے روکنے میں آپ کو خدا کی خوشنودی حاصل ہونے کی تمنا ہے ؟ اگر آپ یہ کیفیت اپنے اندر پاتے ہیں تو اللہ کا شکر کیجیے کہ اس نے آپ پر نعمت ایمان کا اتمام کر دیا۔ اور اگر اس حیثیت سے آپ اپنے اندر کمی محسوس کرتےہیں تو ساری فکریں چھوڑ کر میں اسی کمی کو پورا کرنے کی فکر کیجیے اور اپنی تمام کوششوں اور محنتوں کو اسی پر مرکوز کر دیجیے، کیوں کہ اسی کسر کے پورے ہونے پر دنیا میں آپ کی فلاح اور آخرت میں آپ کی نجات کا مدار ہے۔ آپ دنیا میں خواہ کچھ بھی حاصل کر لیں اُس کے حصول سے اُس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی جو اس کسر کی بدولت آپ کو پہنچے گا۔ لیکن اگر یہ کسر آپ نے پوری کر لی تو خواہ آپ کو دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو پھر بھی آپ خسارے میں نہ رہیں گے۔
یہ کسوٹی اس مرض کے لیے نہیں ہے کہ اس پر آپ دوسروں کو پرکھیں اور ان کے مومن یا منافق اور مسلم یا کافر ہونے کا فیصلہ کریں۔ بلکہ یہ کسوٹی اس غرض کے لیےہے کہ آپ اس پر خود اپنے آپ کو پر کھیں، اور آخرت کی عدالت میں جانےسےپہلے اپنا کھوٹ معلوم کر کے یہیں اسے دور کرنے کی فکر فرمائیں۔ آپکو فکر اس بات کی نہ ہونی چاہیےکہ دنیا میں مفتی اور قاضی آپ کو کیا قرار دیتےہیں، بلکہ اس کی ہوئی چا ہیےکہ احکم الحاکمین اور علم الغیب والشہادۃ آپ کو کیا قرار دےگا۔آپ اس پر مطمئن نہ ہوں کہ یہاں آپ کا نام مسلمانوں کےرجسٹر میں لکھا ہے،فکر اس بات کی کیجیےکہ خدا کےدفتر میں آپ کیا لکھےجاتے ہیں۔ساری دنیا بھی آپ کو سند اسلام و ایمان دیدےتو کچھ حاصل نہیں۔ فیصلہ جس خدا کے ہاتھ میں ہے اُس کے ہاں منافق کےبجائے مومن ، نافرمان کے بجائے فرمانبردار اور بے وفا کی جگہ وفادار قرار پانا اصل کامیابی ہے ۔
برادران اسلام ، پچھلے کئی خطبوں سے میں آپ کے سامنے بار بار ایک یہی بات بیان کر رہا ہوں کہ " اسلام" اللہ اور رسول کی اطاعت کا نام ہے، اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہشات کی ، رسم و رواج کی، دنیا کے لوگوں کی مغرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرے۔
آج میں آپ کے سامنےیہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ اور اس کےرسول کی اطاعت پر اس قدر زور آخر کیوں دیاجاتا ہے۔ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ کیا خدا ہماری اطاعت کا بھوکا ہے ، نعوذ باللہ، کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنےرسول" کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے؟ کیا نعوذ باللہ خدا بھی دنیا کےحاکموں کی طرح اپنی حکومت چلانےکی هوس رکھتا ہےکہ جیسے دنیا کےحاکم کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اسی طرح خدا بھی کہتا ہے کہ میری اطاعت کرو ؟ آج میں اسی کا جواب دینا چاہتا ہوں۔
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح و بہتری کے لیے کرتا ہے۔وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے۔ دنیا کےحاکم اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں ۔ مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے۔ اس کو آپ سے ٹیکس لینے کی حاجت نہیں ہے۔ اسےکو ٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنےاور آپ کی کمائی سےاپنےعیش کےسامان جمع کرنےکی حاجت نہیں ہے۔وہ پاک ہے ۔کسی کا محتاج نہیں ۔ دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے، اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے ۔ وہ آپ سے صرف اس لیےاطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کہ اسے آپ ہی کی بھلائی منظور ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہےیا کسی انسان کی غلام ہو، یا ذلیل ہستیوں کے سامنے سر جھکائے ۔وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نےزمین پر اپنی خلافت دی ہےوہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی پھرے،اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کر کےاسفل السافلین میں جا گرتے۔اس لیے وہ فرماتا ہے کہ تم ہماری اطاعت کرو،ہم نے اپنے رسولوں کےذریعہ سے جو روشنی بھیجی ہے اس کو لے کر چلو، پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائیگا اور تم اس راستہ پر چل کر دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی عزت حاصل کر سکو گے۔
لا إكراه في الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيم فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا، وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيده اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم من النُّورِ إِلَى الظُّلمتِ أُولئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمُ فِيهَا خُلِدُونَ ،( البقره : ۲۵۶-۲۵۷)
" یعنی دین میں کوئی کہ بر دستی نہیں ہے۔ہدایت کا سیدھا راستہ جہالت کےٹیڑھےراستوں سےالگ کر کے صاف صاف دکھا دیا گیا ہے۔اب تم میں سےجو کوئی جھوٹےخداؤں اور گمراہ کرنےوالے آقاؤں کو چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لے آیا اس نے ایسی مضبوط رسی تھامی جو ٹوٹنے والی نہیں ہے، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ جو لوگ ایمان لائیں ان کا نگہبان اللہ ہے ۔ وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔اور جو لوگ کفر کا طریقہ اختیار کریں ان کے نگهبانان کے جھوٹے خدا اور گمراہ کرنے والے آقا ہیں ۔ وہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں وہ دوزخ میں جانے والے ہیں جہاں ہمیشہ رہیں گے۔"
اب دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی اطاعت سے آدمی اندھیرےمیں کیوں چلا جاتا ہے، اور اس کی کیا وجہ ہے کہ روشنی صرف اللہ ہی کی اطاعت سےمل سکتی ہے۔
آپ دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں آپ کی زندگی بے شمار تعلقات سے جکڑی ہوئی ہے۔ سب سے پہلا تعلق تو آپ کا اپنے جسم کےساتھ ہے۔ یہ ہاتھ ، یہ پاؤں ، یہ آنکھیں ، یہ کان، یہ نہ بان، یہ دل و دماغ ، یہ پیٹ، سب آپ کی خدمت کےلیےاللہ نےآپ کو دیے ہیں۔آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہےکہ ان سےکس طرح خدمت میں پیٹ کو کیا کھلائیں اور کیا نہ کھلائیں؟ہاتھوں سےکیا کام لیں اورکیا نہ لیں؟پاؤں کو کس راستہ پر چلائیں اور کس راستہ پرنہ چلائیں ؟ آنکھ اور کان سےکس قسم کےکام لیں اور کسی قسم کےنہ لیں ؟ زبان کو کن باتوں کےلیےاستعمال کریں ؟ دل میں کیسےخیالات لکھیں دماغ سےکیسی باتیں سوچیں؟ ان سب خادموں سےآپ اچھےکام بھی لےسکتے ہیں اور بڑےبھی۔یہ آپ کو بلند درجےکا انسان بھی بنا سکتےہیں اور جانوروں سےبھی بدتر درجےمیں پہنچا سکتے ہیں۔
پھر آپ کے تعلقات اپنے گھر کے لوگوں سے بھی ہیں۔ باپ، ماں، بہن، بھائی بیوی ، اولاد اور دوسرے رشتہ دار ہیں جن سے آپ کا رات دن کا تعلق ہے۔یہاں آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان سے آپ کسی طرح کا برتاؤ کریں ؟ ان پر آپ کےکیا حق ہیں اور آپ پر ان کے کیا حق ہیں؟ ان کے ساتھ ٹھیک ٹھیک برتاؤ کرنےہی پر دنیا اور آخرت میں آپ کی راحت، خوشی اور کامیابی کا انحصار ہے۔ اگر آپ غلط برتاؤ کریں گے تو دنیا کو اپنے لیے بہتم بنا لیں گے، اور دنیا ہی میں نہیں بلکہ آخرت میں خدا کے سامنے بھی سخت جواب دہی آپ کو کرنی ہوگی۔
پھر آپ کےتعلقات دنیا کے بےشمار لوگوں سے ہیں ۔ کچھ لوگ آپ کے ہمسائےہیں ۔ کچھ آپ کے دوست ہیں۔ کچھ آپ کےدشمن ہیں۔بہت سےوہ لوگ بھی ہیں جو آپ کی خدمت کرتے ہیں۔ کسی سے آپ کو کچھ لینا ہے اور کسی کو کچھ دینا۔کوئی آپ پر بھروسا کر کےاپنےکام آپ کےسپرد کرتا ہے۔کسی پر آپ خود بھروسا کر کےاپنے کام اُس کے سپرد کرتےہیں۔ کوئی آپ کا حاکم ہے اور کسی کے آپ حاکم ہیں۔غرض اتنے آدمیوں کے ساتھ آپ کو رات دن کسی نہ کسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہےجن کا آپ شمار نہیں کر سکتےدنیا میں آپ کی مسرت، آپ کی کامیابی آپ کی عزت اورنیک نامی کا سارا انحصار اس پر ہےکہ یہ سارےتعلقات جو میں نےآپ کےسامنےبیان کیےہیں صحیح اور درست ہوں ۔ اسی طرح آخریت میں خدا کے ہاں بھی آپ صرف اُسی وقت سرخرو ہو سکتے ہیں کہ جب اپنے مالک کےسامنےآپ حاضر ہوں تو اس حال میں نہ جائیں کہ کسی کا حق آپ نے مار رکھا ہو، کسی پر ظلم کیا ہو، کوئی آپ کےخلاف وہاں نائش کرے ، کسی کی زندگی خراب کرنے کا وہاں آپ کے سر پر ہو،کسی کی عزت یا جان یا مال کو آپ نے ناجائز طور پر نقصان پہنچایا ہو۔ لہذا آپ کو یہ فیصلہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ان بے شمار تعلقات کو درست کس طرح رکھا جائے، اور ان کو خراب کرنے والے طریقے کون سے ہیں جن سے پر ہیز کیا جائے۔
اب آپ غور کیجیے کہ اپنے جسم سے ، اپنے گھر والوں سے اور دوسرے تمام لوگوں سے صحیح تعلق رکھنے کے لیے آپ کو ہر ہر قدم پر علم کی روشنی درکار ہے۔ قدیم قدم پر آپ کو یہ معلوم ہونے کی ضرورت ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ؟ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ انصاف کیا ہے اور ظلم کیا ؟ کس کا حق آپ پر کتنا ہے اور کس پر آپ کا حق کتنا ہے؟ کس چیز میں حقیقی فائدہ ہے اور کس چیز میں حقیقی نقصان ہے ؟ یہ علم اگر آپ خود اپنے نفس کے پاس تلاش کر یں گے تو وہاں یہ نہ ملے گا۔اس لیے کہ نفس تو خود جاہل ہے ۔ اس کے پاس خواہشات کے سوا کیا دھرا ہے ؟وہ تو کہے گا کہ شراب پیو، زنا کرو ، حرام کھاؤ، کیوں کہ اس میں بڑا مزا ہے، وہ تو کہےگا کہ سب کا حق مار کھاؤ اور کسی کا حق ادا نہ کرو، کیوں کہ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے،لے لیا سب کچھ اور دیا کچھ نہیں۔ وہ تو کہےگا کہ سب سے اپنا مطلب نکالو اور کسی کےکچھ کام نہ آؤ،کیونکہ اس میں نفع بھی ہےاور آسائش بھی ۔ ایسے جاہل کےہاتھ میں جب آپ اپنے آپ کو دے دیں گے تو وہ آپ کو نیچے کی طرف لے جائیگا،یہاں تک کہ آپ انتہا درجہ کے خود غرض، بدنفس اور بد کار ہو جائیں گے، اور آپ کی دنیا اور دین دونوں خراب ہوں گے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آپ نفس کے بجائے اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں پر بھروسا کریں اور اپنی باگ اُن کے ہاتھ میں دے دیں کہ جدھر وہ چاہیں اُدھر لے جائیں۔اس صورت میں یہ خطرہ ہے کہ ایک خود غرض آدمی کہیں آپ کو خود اپنی خواہش کا فلام نہ بنا ہے ۔ یا ایک مباہل آدمی خود بھی گمراہ ہو اور آپ کو بھی گمراہ کر دے ۔ یا ایک ظالم آپ کو اپنا ہتھیار بنائے اور دوسروں پر ظلم کرنے کے لیے آپ سے کام ہے۔ غرض یہاں بھی آپ کو علم کی وہ روشنی نہیں مل سکتی جو آپ کو صحیح اور غلط کی تمیز بتا سکتی ہو، اور دنیا کی اس زندگی میں ٹھیک ٹھیک راستہ پر چلا سکے۔
اس کے بعد صرف ایک خدائے پاک کی وہ ذات رہ جاتی ہے جہاں سے یہ روشنی آپ کو مل سکتی ہے ۔ خدا علیم اور بصیر ہے۔ وہ ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے۔وہی ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہے کہ آپ کا حقیقی نفع کسی چیزیں ہے اور حقیقی نقصان کسی چیز ہیں ۔ آپ کے لیے کونسا کام حقیقت میں صحیح ہے اور کونسا غلط۔ پھر خداوند تعالیٰ بے نیازہ بھی ہے ۔ اس کی اپنی کوئی عرض ہے ہی نہیں۔ اسے اس کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ معاذ اللہ آپ کو دھوکا دے کر کچھ نفع حاصل کرے۔ اس لیے وہ پاک بے نیاز مالک جو کچھ بھی ہدایت دے گا بے غرض دے گا اور صرف آپ کےفائدے کے لیے دے گا۔ پھر خداوند تعالیٰ عادل بھی ہے۔ ظلم کا اس کی ذات پاک میں شائبہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے وہ سرا سر حق کی بنا پر حکم دے گا۔ اس کے حکم پر چلنے میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ آپ خود اپنے اوپر یا دوسرے لوگوں پر کسی قسم کا ظلم کہ جائیں ۔
یہ روشنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سےملتی ہے،اس سے فائدہ اٹھانے کے لیےدوباتوں کی ضرورت ہے۔ایک یہ کہ اللہ پر اور اس کےرسول پر جس کےواسطہ سےیہ روشنی آر ہی ہے، بیچتے دل سےایمان لائیں۔یعنی آپ کو پورا یقین ہو کہ خدا کی طرف سےاس کے رسول پاک نےجو کچھ ہدایت دی ہے وہ بالکل بر حق ہے،خواہ اس کی مصلحت آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے ۔ دوسرے یہ کہ ایمان لانے کےبعد آپ اُس کی اطاعت کریں، اس لیے کہ اطاعت کےبغیر کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ فرض کیجیےایک شخص آپ سے کہتا ہےکہ فلاں چیز نہ ہر ہے،مار ڈالنے والی چیز ہے، اسے نہ کھاؤ۔آپ کہتےہیں کہ بے شک تم نےسچ کہا، یہ زہر ہی ہے،مار ڈالنے والی چیز ہے۔مگر یہ جاننے اور ماننے کے باوجود آپ اس چیز کو کھا جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ وہی ہو گا جو نہ جانتے ہوئے کھانے کا ہوتا، ایسےجاننے اور ماننے سے کیا حاصل؟ اصلی فائدہ تو اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب آپ ایمان لانے کے ساتھ اطاعت بھی کریں ۔ جس بات کا حکم دیا گیا ہے اس پر فقط زبان ہی سے آمنا و صدقنا نہ کہیں بلکہ اس پر عمل بھی کریں ۔ اور جس بات سے روکا گیا ہے، اس سے پر ہیز کرنے کا زبانی اقرار ہی نہ کریں بلکہ اپنے اعمال میں اس سےپر ہیز بھی کریں ۔ اسی لیے حق تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ :
برادران اسلام، یہ جو بار بار میں آپ سے کہتا ہوں کہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے اس کا مطلب آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ آپ کو کسی آدمی کی بات ماننی ہی نہیں چاہیے۔ نہیں، دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے نہ چلیں، بلکہ ہمیشہ یہ دیکھتے رہیں کہ جو شخص آپ سےکسی کام کو کہتا ہے وہ خدا اور رسول کے حکم کے مطابق کہتا ہے یا اس کے خلاف۔اگر مطابق کہتا ہے تو اس کی بات ضرور ماننی چاہیے، کیوں کہ اس صورت میں آپ اس کی اطاعت کب کہ رہے ہیں، یہ تو دراصل اللہ اور اس کے رسول ہی کی اطاعت ہے۔ اور اگر وہ حکم خدا و رسول کے خلاف کہتا ہے تو اس کی بات اس کے منہ پورے ماریے خواہ وہ کوئی ہو ۔ کیوں کہ آپ کے لیے سوائے خدا اور رسول کے کسی کے حکم کی اطاعت جائزہ نہیں ہے۔
یہ بات آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود تو آپ کے سامنے آکر حکم دینےسے ۔ !! اس کو جو کچھ احکام دینے تھے وہ اس نے اپنے رسول کے ذریعہ سےبھیج دیے۔ اب رہے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، تو آپ بھی ساڑھےتیرہ سو برس پہلے وفات پاچکے ہیں۔ آپ کے ذریعہ سے جو احکام خدا نے دیےتھے وہ قرآن اور حدیث میں ہیں۔لیکن قرآن اور حدیث خود بھی چلنےپھرنےاور بولنےاور حکم دینے والی چیزیں نہیں ہیں کہ آپ کے سامنے آئیں اور آکر کسی بات کا کم دیں اور کسی بات سے روکیں ۔ قرآن اور حدیث کے احکام کے مطابق آپ کو چلانے والے بہر حال انسان ہی ہوں گے۔اس لیے انسانوں کی اطاعت کےبغیر تو چارہ نہیں۔البته ضرورت جس بات کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ انسانوں کےپیچھے آنکھیں بند کر کے نہ چلیں بلکہ جیسا کہ میں نے ابھی آپ سے کہا، یہ دیکھیے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق چلا رہے ہیں یا نہیں۔ اگر قرآن وحدیث کے مطابق چلائی تو ان کی اطاعت آپ پر فرض ہے۔ اور اگر اس کے خلاف چلائیں تو ان کی اطلاعات حرام ہے-
برادران اسلام، مذہب کی باتوں میں آپ اکثر دو لفظ سُنا کرتےہیں اوربولتےبھی ہیں۔ ایک دین دوسرے شریعت ۔ لیکن آپ میں سے بہت کم آدمی ہیں جن کو یہ معلوم ہو گا کہ دین کے کیا معنی ہیں اور شریعت کا کیا مطلب ہے ۔ بے پڑھےلکھے تو خیر مجبور ہیں، اچھے خاصے تعلیم یافتہ آدمی بلکہ بہت سے مولوی بھی یہ نہیں جانتے کہ ان دونوں لفظوں کا ٹھیک ٹھیک مطلب کیا ہے اور ان دونوں میں فرق کیا ہے۔ اس ناواقفیت کی وجہ سے اکثر دین کو شریعت سے اور شریعت کو دین سے گڈمڈ کر دیا جاتا ہے اور اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ آج میں بہت سادہ الفاظ میں آپ کو ان کا مطلب سمجھاتا ہوں۔
دین کے کئی معنی ہیں ۔ ایک معنی عزت، حکومت ، سلطنت ، بادشاہی اور فرماں روائی کے ہیں۔ دوسرے معنی اس کے بالکل بر عکس ہیں۔یعنی زیر دستی ، الامات غلامی،تابعداری اور بندگی- تیسرے معنی حساب کرنے اور فیصلہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کے ہیں۔ قرآن شریف میں لفظ دین انہی تین معنوں میں آیا ہے۔ فرمایا :
یعنی خدا کے نزدیک دین وہی ہے جس میں انسان صرف اللہ کو عزت والا مانے،اور اس کے سوا کسی کے آگے اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے، صرف اللہ کو آقااور مالک اور سلطان سمجھےاور اس کےسوا کسی کا غلام، فرماں بردار اور تابعدار بن کر نہ رہے۔ صرف اللہ کو حساب کرنے اور جزا و سزا دینے والا سمجھے اور اس کےسوا کسی کے حساب سے نہ ڈرے،کسی کی جزا کا لالچ نہ کرے اندر کسی کی سزا کا خوف نہ کھائے۔اسی دین کا نامہ اسلام ہے۔اگر اس کو چھوڑ کر آریا نے کسی اور کو اصلی عزت والاء اصلی حاکم، اصلی بادشاہ اور مالک ، اصلی جزا و سزا دینے والا سمجھا اور اس کے سامنے ذلت سے سر جھکایا، اس کی بندگی اور غلامی کی ، اس کا حکم مانا اور ایس کی جزا کا لالچ اور سزا کا خوف کھایا تو یہ جھوٹا دین ہوگا۔ الله ایسے دین کو ہر گز قبول نہیں کرتا ۔ کیوں کہ یہ حقیقت کے بالکل خلاف ہے ۔ خدا کے سوا کوئی دوسری ہستی اس تمام کائنات میں اصلی حرکت والی نہیں ہے، نہ کسی اور کی سلطنت اور پادشاہی ہےنہ کسی اور کی غلامی اور بندگی کےلیےانسان پیدا کیا گیا ہے،نہ اُس مالک حقیقی کے سوا کوئی اور جزا و سزا دینے والا ہے ۔ یہی بات دوسری آیتوں میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے :
یعنی جو شخص خدا کی سلطانی اور بادشاہی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مالک اور حاکم مانے گا اور اس کی بندگی اور غلامی اختیار کرے گا، اور اس کو جزا و سزا دینےوالا سمجھے گا،اس کے دین کو خدا ہر گز قبول کرنے والا نہیں ہے۔ اس لیے کہ :
انسانوں کو تو خدا نےاپنا بندہ بنایا ہےاور اپنےسوا کسی اور کی بندگی کرنے کا انھیں حکم ہی نہیں دیا ہے۔ ان کا تو فرض یہ ہےکہ سب طرف سے منہ موڑ کہ صرف اللہ کےلیےاپنے دین، یعنی اپنی اطاعت اور غلامی کو مخصوص کر دیں،اور ریکسیئو ہو کر صرف اسی کی بندگی کریں اور صرف اُسی کے حساب سے ڈریں۔
کیا انسان خدا کے سوا کسی اور کی غلامی اور فرماں برداری کرنا چاہتا ہے۔حالانکہ زمین اور آسمان کی ساری چیزیں صرف خدا کی غلام اور فرماں بردار ہیں، اور ان ساری چیزوں کو اپنے حساب کتاب کے لیے خدا کے سوا کسی اور کی طرف نہیں جاتا ہے۔کیا انسان زمین اور آسمان کی ساری کائنات کےخلاف ایک نرالا راستہ اپنے لیے نکالنا چاہتا ہے ؟
اللہ نے اپنے رسول کو سچتےدین کا علم دےکہ اسی لیےبھیجا ہےکہ وہ سارےجھوٹےخداؤوں کی خدائی ختم کر دے اور انسان کو ایسا آزاد کر دے کہ وہ خداوند عالم کے سوا کسی کا بندہ بن کر نہ رہے بچا ہے کفار و مشرکین اس پر اپنی جہالت سےکتنا ہی واویلا مچائیں اور کتنی ہی ناک بھوں چڑھائیں۔
اور تم جنگ کرو تا کہ دنیا سے غیر اللہ کی فرماں روائی کا فتنہ مٹ جائے،اور دنیا میں میں خدا آن کا تعنون مجھے خدا ہی کی بادشاہی تسلیم کی جائے اور انسان صرف خدا کی بندگی کرے ۔
پھر چونکہ خدا کا حکم انسانوں کو اُس کی کتاب اور اُس کےرسول کےذریعہ ہی سےپہنچتا ہےاس لیےرسول کو خدا کا رسول اور کتاب کو خدا کی کتاب ماننا اور اس کی اطاعت کرنا بھی دین ہی میں داخل ہے ، جیسا کہ فرمایا :
"یعنی اے بنی آدم کا جب میرےرسول تمھارے پاس میرے احکام لے کر آئیں تو جو شخص تم میں سے ان احکام کو مان کر پرهیزگاری اختیار کریگا اور ان کے مطابق اپنا عمل درست کر لے گا،اس کےلیےڈر اور رنج کی کوئی بات نہیں ہے۔"
اس سےمعلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست ہر انسان کےپاس اپنے احکام نہیں بھیجتا بلکہ اپنے رسولوں کے واسطہ سے بھیجتا ہے، اس لیے جو شخص اللہ کو حاکم مانتا ہو، وہ اس کی فرماں برداری صرف اسی طرح کر سکتا ہے کہ اس کے رسولوں کی فرمان برداری کرے، اور رسول کے ذریعہ سے جو احکام آئیں ان کی اطاعت کرے۔ اسی کا نام دین ہے۔
ب میں آپ کو بتاؤں گا کہ شریعت کسے کہتے ہیں۔ شریعت کے معنی طریقےاور راستے کے ہیں۔ جب تم نے خدا کو حاکم مان لیا اور اس کی بندگی قبول کر لی اور یہ تسلیم کر لیا کہ رسول اسی کی طرف سے حاکم مجاز ہے، اور کتاب اسی کی طرف سے ہے،تو تم دین میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد تم کو جس طریقے سے خدا کی بندگی کرتی ہے،اور اس کی فرمانبرداری میں جس راستہ پر چلنا ہے اس کا نام شریعت ہے۔ یہ طریقہ اور راستہ بھی خدا اپنےرسول ہی کےذریعہ سے بتانا ہے۔وہی یہ سکھاتا ہے کہ اپنےمالک کی عبادت اس طرح کرو ، طہارت اور پاکیزگی کا یہ طریقہ ہےنیکی اور نقوی کا یہ راستہ ہےحقوق اس طرح ادا کرنےبچا نہیں،معاملات یوں انجام دینے چاہیں۔اور زندگی اس طرح بسر کرنی چاہیے۔لیکن فرق یہ ہےکہ دین ہمیشہ سے ایک تھا ایک ہی رہا اور اب بھی ایک ہی ہے ۔ مگر شریعتیں بہت سی آئیں ، بہت سی منسوخ ہوئیں،بہت سی بدلی گئیں، اور کبھی ان کے بدلنے سے دین نہیں بدلا۔ حضرت نوح کا دین بھی وہی تھا جو حضرت ابراہیم کا تھا، حضرت موسیٰ اور عیسی کا تھا ، حضرت شعیب اور حضرت صالح اور حضرت ہود کا تھا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔مگر شریعتیں ان سب کی کچھ نہ کچھ مختلف رہی ہیں ۔ نمازہ اور روزے کے طریقے کسی میں کچھ تھے اور کسی میں کچھ حلال اور حرام کے احکام، طہارت کے قاعدے، نکاح اور طلاق اور وراثت کے قانون ہر شریعت میں دوسری شریعت سے کچھ نہ کچھ مختلف رہے ہیں۔ ان کے باوجود سب مسلمان تھے۔حضرت نوح کے پیرو بھی،حضرت ابراہیم کے پیرو بھی، حضرت موسیٰ کے پیرو بھی اور ہم بھی ۔ اس لیے کہ دین سب کا ایک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کے احکام میں فرق ہونےسے دین میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دین ایک ہی رہتا ہے، چاہے اس پر عمل کرتےکے طریقے مختلف ہوں۔
اس فرق کو یوں سمجھو کہ ایک آقا کےبہت سےنوکرہ ہیں ۔جو شخص اس کو آقا ہی نہیں مانتا اور اس کے حکم کو اپنےلیے واجب التعمیل ہی نہیں سمجھتا، وہ تو نا فرمان ہے اور نوکری کے دائرے ہی سے خارج ہے۔ اور جو لوگ اس کو آقا تسلیم کرتے ہیں،اس کے حکم کو ماننا اپنا فرض جانتے ہیں اور اس کی نافرمانی سےڈرتے ہیں، وہ سب نوکروں کےزمرے میں داخل ہیں۔نوکری بجا لانےاور خدمت کرنےکےطریقے مختلف ہوں تو اس سے ان کے نوکر ہونے میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔اگر آقا نے کسی کو نوکری کا ایک طریقہ بتایا ہے اور دوسرے کو دوسرا طریقہ ، تو ایک نوکر کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ نہیں نوکر ہوں اور وہ نوکر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر آقا کا حکم سن کر ایک نو کہ اس کا منشا کچھ سمجھتا ہےاور دو سرا کچھ اور،اور دونوں اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں،تو نوکری میں دونوں برابر ہیں۔یہ ہو سکتا ہےکہ ایک نے مطلب سمجھنےمیں غلطی کی ہو، اور دوسرے نے صحیح مطلب سمجھا ہو۔ لیکن جب تک اطاعت سے کسی نے انکار نہ کیا ہو کسی کو کسی سے یہ کہنے کا حق نہیں کہ تو نا فرمان ہے یا تجھے آقا کی نوکری سے خارج کر دیا گیا ہے۔
اس مثال سے آپ دین اور شریعت کے فرق کو بڑی اچھی طرح سمجھ سکتےہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اللہ تعالیٰ مختلف رسولوں کےذریعہ سےمختلف شریعتیں بھیجتا رہا۔کسی کو نوکری کا ایک طریقہ بتایا اور کسی کو دوسرا طریقہ۔ ان سب طریقوں کےمطابق جن جن لوگوں نےمالک کی اطاعت کی وسب مسلمان تھے، اگر چہ ان کی نوکری کے طریقے مختلف تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آقا نے حکم دیا کہ اب پچھلے طریقوں کو ہم منسوخ کرتےہیں۔ آئندہ سے جس کو ہماری نوکری کرنی ہو وہ اس طریقے پر نوکری کرےجواب ہم اپنےآخری پیغمبر کے ذریعہ سےبتاتے ہیں۔ اس کے بعد کسی نوکر کو پچھلے طریقوں پر نوکری کرنے کا حق باقی نہیں رہا۔ کیوں کہ اب اگر وہ نئے طریقے کو نہیں مانتا،اور پرانے طریقوں پر پھیل رہا ہے تو وہ در اصل آقا کا حکم نہیں مانتا بلکہ اپنے دل کا کہا مان رہا ہے ، اس لیے وہ نوکری سے خارج ہے۔ یعنی مذہب کی زبان میں کافر ہو گیا ہے۔
یہ تو پچھلے انبیاء کے ماننے والوں کے لیے ہے ۔ رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو، تو ان پر اس مثال کا دوسرا حصہ صادق آتا ہے ۔ اللہ نے جو شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہم کو بھیجی ہے اس کو خدا کی شریعت ماننے والےاور اسےواجب التعمیل سمجھنےوالےسب کےسب مسلمان ہیں۔اب اگر اس شریعت کے احکام کو ایک شخص کسی طرح سمجھتا ہے اور دوسرا کسی اور طرح ، اور دونوں اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس پر عمل کرتےہیں، تو چاہے ان کے عمل میں کتنا ہی فرق ہو، ان میں سے کوئی بھی نوکری سے خارج نہ ہوگا۔ اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک میں طریقہ پر چل رہا ہے یہی سمجھ کر تو چل رہا ہے کہ یہ آقا کا حکم ہے ۔ پھر ایک نوکر کو یہ کہنےکا کیا حق ہے کہ میں تو نوکر ہوں اور فلاں شخص نو کر نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ بس وہ یہی کہ سکتا ہےکہ میں نے آقا کےحکم کا صحیح مطلب سمجھا اور اس نےصحیح نہیں سمجھا۔مگر وہ اس کو نوکری سےخارج کر دینے کا مجاز کیسے ہو گیا ؟ جو شخص ایسی جرات کرتا ہے وہ گویا خود آقا کا منصب اختیار کرتا ہے۔ وہ گویا یہ کہتا ہےکہ تو جس طرح آقا کےحکم کو ماننے پر مجبور ہے اسی طرح میری سمجھ کو بھی ماننے پر مجود ہے۔ اگر تو میری سمجھ کو نہ مانے گا تو میں اپنے اختیار سے تجھ کو آقا کی نوکری سے خارج کر دوں گا۔ غور کرو یہ کتنی بڑی بات ہے۔ اسی لیےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مو جو شخص کسی مسلمان کو ناحق کافر کہےگا اُس کا قول خود اسی پر پلٹ جائےگائی کیوں کہ مسلمان کو تو خدا نےاپنےمحکم کا غلام بنایا ہے،مگر یہ شخص کہتا ہے کہ نہیں تم میری سمجھ اور میری رائے کی بھی غلامی کر و۔ یعنی صرف خدا ہی تمھارا خدا نہیں ہےبلکہ میں بھی چھوٹا خدا ہوں، اور میرا حکم نہ مانو گے تو میں اپنے اختیار سے تم کو خدا کی بندگی سے خارج کر دوں گا چاہے خدا خارج کرے یا نہ کرے ۔ ایسی بڑی بات جو شخص کہتا ہے اس کے کہنے سے چاہے دوسرا مسلمان کا فر ہو یا نہ ہوا مگر وہ خود تو اپنے آپ کو کفر کے خطرے میں ڈال ہی دیتا ہے۔
حاضرین ، آپ نے دین اور شریعت کا فرق اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا ، اور یہ بھی آپ نے جان لیا ہو گا کہ بندگی کےطریقوں میں اختلاف ہو جانےسےدین میں اختلاف نہیں ہوتا،بشرطیکہ آدمی جس طریقہ پر عمل کرے نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھ کر عمل کرے کہ خدا اور اس کے رسول نے وہی طریقہ بتایا ہے جس پر وہ عامل ہے، اور اُس کے پاس اپنے اس طرفہ عمل کے لیے خدا کی کتاب یا اس کے رسول کی سنت سے کوئی سند موجود ہو۔
اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دین اور شریعت کے اس فرق کو نہ سمجھنےسے آپ کی جماعت میں کتنی خرابیاں واقع ہو رہی ہیں۔
مسلمانوں میں نماز پڑھنےکے مختلف طریقے ہیں۔ ایک شخص سینے پر ہاتھ باندھتا ہے اور دوسرا ناف پر باندھتا ہے ۔ ایک شخص امام کے پیچھے فاتحہ پڑھتا ہے اور دوسرا نہیں پڑھتا ۔ ایک شخص آمین زور سے کہتا ہے ، دوسرا آہستہ کہتا ہے۔ان میں سےہر شخص جس طریقہ پر چل رہا ہے یہی سمجھ کر چل رہا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور اس کےلیےوہ اپنی سند پیش کرتا ہے۔اس لیے نماز کی صورت میں مختلف ہونے کے باوجود دونوں حضور ہی کے پیرو ہیں۔مگر جن ظالموں نے شریعت کے ان مسائل کو دین سمجھ رکھا ہے انھوں نے محض انہی طریقوں کےاختلاف کو دین کا اختلاف سمجھ لیا۔اپنی جماعتیں الگ کر لیں،اپنی مسجدیں الگ کر لیں، ایک نے دوسرے کو گالیاں دیں، مسجدوں سے باربار کر نکال دیا ، مقدمے بازیاں کیں اور رسول اللہ کی امت کو ٹکڑے ٹکڑے کو ٹالا۔
اس سے بھی لڑنےاور لڑانےوالوں کے دل ٹھنڈےنہ ہوئےتو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک نےدوسرے کو کافر اور فاسق اور گمراہ کہنا شروع کر دیا۔ ایک شخص قرآن سے یا حدیث سے ایک بات اپنی سمجھے کے مطابق نکالتا ہےتو وہ اس کو کافی نہیں سمجھتا کہ جو کچھ اس نےسمجھا ہےاس پر عمل کرے،بلکہ یہ بھی ضروری سمجھتا ہے کہ دوسروں سے بھی اپنی سمجھ زبردستی تسلیم کرائے، اور اگر وہ اسے تسلیم نہ کریں تو ان کو خدا کے دین سے خارج کر دے۔
آپ مسلمانوں میں حنفی ، شافعی ، اہل حدیث وغیرہ جو مختلف مذہب دیکھ رہے ہیں یہ سب قرآن و حدیث کو آخری سند مانتے ہیں اور اپنی اپنی سمجھ کےمطابق وہیں سےاحکام نکالتےہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک کی سمجھ صحیح ہو اور دوسرےکی غلط ہو۔میں بھی ایک طریقہ کا پیرو ہوں اور اس کو صحیح سمجھتا ہوں،اور اس کے خلاف جو لوگ ہیں ان سےبحث بھی کرتا ہوں، تا کہ جو بات میرےنزدیک صحیح ہے وہ ان کو سمجھاؤں اور جس بات کو میں غلط سمجھتا ہوں اسےغلط ثابت کروں لیکن کسی شخص کی سمجھ کا غلط ہونا اور بات ہےاور اس کا دین سے خارج ہو جانا دوسری بات۔ اپنی اپنی سمجھ کے مطابق شریعت پر عمل کرنے کا ہر مسلمان کو حق ہے۔اگر دس مسلمان دس مختلف طریقوں پر عمل کریں تو جب تک وہ شریعت کو مانتے ہیں،وہ سب مسلمان ہی ہیں۔ ایک ہی امت ہیں، ان کی جماعتیں الگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ مگر جو لوگ اس چیز کو نہیں سمجھتے وہ اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر فرقے بناتے ہیں،ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں، اپنی نمازیں اور مسجدیں الگ کر لیتے ہیں، ایک دوسرے سے شادی بیاہ ، میل جول اور ربط و ضبط بند کر دیتے ہیں اور اپنے اپنےہم مذہبوں کے جتھے اس طرح بنا لیتے ہیں کہ گویا ہر جتھا ایک الگ امت ہے۔
آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس فرقہ بندی سے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ کہنے کو مسلمان ایک امت ہیں۔ ہندوستان میں ان کی آٹھ کروڑ کی تعداد ہے۔اتنی بڑی جماعت اگر واقعی ایک ہو اور پورے اتفاق کے ساتھ خدا کا کلم بلند کرنےکے لیے کام کرے تو دنیا میں کون اتنا دم رکھتا ہے جو اس کو نیچا دکھا سکے مگر حقیقت میں اس فرقہ بندی کی بدولت اس امت کے سینکڑوں ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ سخت سےسخت مصیبت کےوقت میں بھی مل کہ نہیں کھڑے ہو سکتے۔ایک فرقےکا مسلمان دوسرے فرقے والوں سے اتنا ہی تعصب رکھتا ہے جتنا ایک یہودی ایک عیسائی سے رکھتا ہے، بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر۔ ایسےواقعات دیکھنے میں آئے ہیں کہ ایک فرقے والے نے دوسرےفرقے والے کو نیچا دکھانے کے لیے کفار کا ساتھ دیا ہے۔ ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کو آپ مغلوب دیکھ رہے ہیں تو تعجب نہ کیجیے۔ یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ ان پر وہ عذاب نازل ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں اس طرح بیان کیا ہے کہ :
" یعنی اللہ کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ تم کو مخالف فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم آپس میں ہی کٹ مرو"-
بھائیو ، یہ مذاب جس میں سارے ہندوستان کے مسلمان مبتلا ہیں ، اس کےآنا نہ مجھے پنجاب میں سب سے زیادہ نظر آ رہے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کے فرقوں کی لڑائیاں ہندوستان کے ہر خطہ سے زیادہ ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پنجاب کی آبادی میں کثیر التعداد ہونے کے باوجود آپ کی قوت بے اثر ہے۔ اگر آپ اپنی خیر چاہتے ہیں تو ان جتھوں کو توڑیے ۔ ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہیے اور ایک امت بن جائیے۔ خدا کی شریعت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر اہل حدیث ، حنفی دیوبندی، بریلوی ، شیعہ ، شئی وغیرہ الگ الگ اقتیں بن سکیں۔ یہ امتیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اللہ نے صرف ایک اُمت " امت مسلمہ" بنائی تھی۔
| کتاب | خطبات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |