خطبات

باب سوم

باب سوم

نماز

عبادت

نماز

نماز میں آپ کیا پڑهتے ہیں؟

نماز با جماعت

نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں ؟

عبادت

برادران اسلام، پچھلے خطبہ میں ہمیں نے آپ کو دین اور شریعت کا مطلب سمجھایا تھا۔ آج میں آپ کے سامنے ایک اور لفظ کی تشریح کروں گا مجھے مسلمان عام طور پر بولتے ہیں، مگر بہت کم آدمی اس کا صحیح مطلب جانتے ہیں ۔ یہ "عبادت" کا لفظ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں بیان فرمایا ہے کہ :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۶)

" یعنی میں نے تین اور انسان کو اس کے سوا اور کسی غرض کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔

اس آیت سےمعلوم ہوا کہ آپ کی پیدائش اور آپ کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت کےسوا اور کچھ نہیں ہے۔اب آپ اندازہ کر سکتےہیں کہ عبادت کا مطلب جاننا آپکے لیے کس قدر ضروری ہے۔ اگر آپ اس کے صحیح معنی سے ناواقف ہوں گے تو گویا اس مقصد ہی کو پورا نہ کر سکیں گے جس کے لیے آپ کو پیدا کیا گیا ہے، اور جو چیز اپنےمقصد کو پورا نہیں کرتی وہ ناکام ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر اگر مریض کو انتھا نہ کہ سکے تو کہتے ہیں کہ وہ علاج میں ناکام ہوا۔ کسان اگر فصل پیدا نہ کر سکے تو کہتے ہیں کہ وہ زراعت میں ناکام ہوا۔ اسی طرح اگر آپ اپنی زندگی کےاصل مقصد یعنی "عبادت" کو پورا نہ کر سکےتو کہنا چاہیے کہ آپ کی ساری زندگی ہی نا کامیاب ہو گئی۔ اس لیےہیں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ پورے غور کے ساتھ عبادت کا مطلب نہیں اور مجھیں ۔اور اُسے اپنے دل میں جگہ دیں، کیوں کہ اسی پر آپ کی زندگی کے کامیاب یا ناکام ہونے کا انحصار ہے۔

عبادت کا مطلب

عبادت کا لفظ "عبد" سے نکلا ہے۔ عبد کے معنی بندے اور غلام کے ہیں۔اس لیے عبادت کے معنی بندگی اور غلامی کےہوئے۔جو شخص کسی کا بندہ ہو،اگر وہ اس کی خدمت میں بندہ بن کر رہےاور اس کےساتھ اس طرح پیش آئے جس طرح آقا کے ساتھ پیش آنا چاہیے تو یہ بندگی اور عبادت ہے۔ اس کے برعکس جو شخص کسی کا بندہ ہو اور آقا سےتنخواہ بھی پوری پوری وصول کرتا ہو،مگر آقا کے حضور میں بندوں کا سا کام نہ کرے تو اسے نافرمانی اور سرکشی کہا جاتا ہے، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں اسے نمک حرامی کہتے ہیں۔

اب غور کیجیے کہ آقا کے مقابلہ میں بندوں کا سا طریقہ اختیار کرنے کی صورت کیا ہے۔

* بندے کا پہلا کام یہ ہے کہ آقا ہی کو آقا سمجھے اور یہ خیال کرے کہ جو میرا مالک ہے، جو مجھے رزق دیتا ہے، جو میری حفاظت اور نگهبانی کرتا ہے،اُسی کی وفاداری مجھ پر فرض ہے، اس کے سوا اور کوئی اس کا مستحق نہیں کہ میں اس کی وفاداری کریں-

بندے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ہر وقت آقا کی اطاعت کرے، اس کے حکم کو بجالائے،کبھی اس کی خدمت سےمنہ نہ موڑے،اور آقا کی مرضی کےخلاف نہ خود اپنے دل سے کوئی بات کرے، نہ کسی دوسرے شخص کی بات مانے۔ غلام ہر قوت ہر حال میں غلام ہے۔ اسے یہ کہنے کا حق ہی نہیں کہ آقا کی فلاں بات مانوں گا اورفلاں بات نہ مانوں گا ۔ یا اتنی دیر کے لیے میں آقا کا غلام ہوں اور باقی وقت میں اس کی غلامی سے آزاد ہوں ۔

بندے کا تیسرا کام یہ ہے کہ آقا کا ادب اور اس کی تعظیم کرےکرے ۔ جو طریقہ اوب اور تعظیم کرنے کا آقا نے مقرر کیا ہو اس کی پیروی کرے ۔ جو وقت اسلامی کے لیے حاضر ہونے کا آقا نے مقرر کیا ہو اس وقت ضرور حاضر ہو اور اس بات کا ثبوت دے کراس کی وفاداری اور اطاعت میں ثابت قدم ہوں ۔

بس یہی تین چیزیں ہیں جن سےمل کر عبادت بنتی ہے۔ایک آقا کی وفاداری دوسرے آقا کی اطاعت اور تیسرے اس کاادب اور اس کی تعظیم۔اللہ تعالےنےجو یہ فرمایا کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔تو اس کا مطلب دراصل یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے جن اور انس کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف اللہ کے وفادار ہوں، اس کے خلاف کسی اور کےوفادار نہ ہوں۔صرف اللہ کےاحکام کی اطاعت کریں ۔ اس کے خلاف کسی اور کا حکم نہ مائیں۔ اور صرف اس کے آگے ادب اور تعظیم سے سر جھکائیں کسی دوسرے کے آگے سر نہ جھکائیں۔انہی تین چیزوں کو اللہ نے عبادت کے جامع لفظ میں بیان کیا ہے ۔ یہی مطلب ان تمام آیتوں کا ہے جن میں اللہ نے اپنی عبادت کا حکم دیا ہے ۔ ہمارے نبی کریم اور آپ سے پہلے جتنے نبی خدا کی طرف سے آئے ہیں اُن سب کی تعلیم کا سارا است کہاہےیہی ہے کہ اَلا تَعْبُدُوا إِلا آیا اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یعنی مصرف ایک بادشاہ ہے جس کا تمھیں وفادار ہونا چاہیے، اور وہ بادشاہ اللہ ہے۔ صرف ایک قانون ہے جس کی تمھیں پیروی کرنی چاہیے، اور وہ قانون اللہ کا قانون ہے۔اور صرف ایک ہی مہستی ایسی ہے جس کی تمھیں پوجا اور پرستش کرنی چاہیے، اور وہ ہستی اللہ کی ہے۔

عبادت کے غلط مفہوم کے نتائج

عبادت کا یہ مطلب اپنے ذہن میں رکھیے، اور پھر ذرا میرے سوالات کا جواب دیتے جائیے۔

آپ اُس نوکر کےمتعلق کیا کہیں گے جو آقا کی مقرر کی ہوئی ڈیوٹی پر جانےکے بجائے ہر وقت بس اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ر ہے اور لاکھوں مرتبہ اس کا نام بہتا چلا جائے ؟ آقا اس سے کہتا ہے کہ جا کہ فلاں فلاں آدمیوں کے حق ادا کی۔ مگر یہ جانا نہیں بلکہ وہیں کھڑے کھڑے آقا کو ٹھیک ٹھیک کر دس سلام کرتا ہےاور پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔آقا اُسےحکم دیتا ہےکہ جا اور فلاں فلاں خرابیوں کو مٹادے، مگر یہ ایک انچ وہاں سے نہیں ہٹتا اور سجدے پر سجدےکیسے چلا جاتا ہے ۔آقا حکم دیتا ہےکہ چور کا ہاتھ کاٹ دے ۔ یہ حکم سن کر بس وہیں کاٹ دے بیسیوں مرتبہ پڑھتا رہتا ہے، اگر ایک دفعہ بھی اس نظام حکومت کےقیام کی کوشش نہیں کرتا جس میں چور کا ہاتھ کاٹا جا سکے۔کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ شخص حقیقت میں آقا کی بندگی کر رہا ہے ؟ اگر آپ کا کوئی ملازم یہ رویہ اختیار کرے تو میں نہیں جانتا ہوں کہ آپ اسے کیا کہیں گے ۔ مگر محیرت ہے آپ پر کہ خدا کا جو نوکر ایسا کرتا ہے آپ اُسے بڑا عبادت گزار کہتے ہیں ! یہ ظالم صبح سے شام تک خدا جانےکتنی مرتبہ قرآن شریف میں خدا کےاحکام پڑھتا ہےمگر ان احکام کو بجالانےکےلیےاپنی جگہ سےجنبش تک نہیں کرتا،بلکہ نفل پر نفل پڑھے جاتا ہے، ہزار دانہ تسبیح پر خدا کا نام بیتا ہےاور خوش الحانی کےساتھ قرآن کی تلاوت کرتا رہتا ہے۔آپ اس کی یہ حرکتیں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیسا نا ہر عابد بندہ ہے ! یہ غلط فہمی صرف اس تعبیر سے ہے کہ آپ عبادت کا صحیح مطلب نہیں جانتے۔


١-( یوسف : ۴۰)

ایک اور نوکر ہےجو رات دن ڈیوٹی تو غیروں کی انجام دیتا ہے، احکام غیروں کے سنتا اور ماننا ہے، قانون پر غیروں کےعمل کرتا ہےاور اپنےاصلی آقا کےفرمان کی ہر وقت خلاف ورزی کیا کرتا ہے، مگر سلامی کے وقت آقا کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے اور زبان سےآقا ہی کا نام جپتا رہتا ہے۔اگر آپ میں سےکسی شخص کا نوکر یہ طریقہ اختیار کرے تو آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ اس کی سلامی کو اس کےمنہ پر نہ مار دیں گے؟جب وہ زبان سے آپ کو آقا اور مالک کہے گا تو کیا آپ فورا یہ جواب نہ دیں گے کہ تو پرلے درجے کا جھوٹا اور بے ایمان ہے، تنخواہ مجھ سے لیتا ہے اور نوکری دوسروں کی کرتا ہے، زبان سے مجھے آقا کہتا ہے اور حقیقت میں میرے سوا ہر ایک کی خدمت کرتا پھرتا ہے ؟ یہ تو ایک معمولی عقل کی بات ہےجسے آپ میں سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے ۔ مگر کیسی حیرت کی بات ہےکہ جو لوگ رات دن خدا کےقانون کو توڑتےہیں،کفار و مشرکین کےاحکام پر عمل کرتےہیں اور اپنی زندگی کے معاملات میں خدا کے احکام کی کوئی پروا نہیں کرتے ، اُن کی نماز اور روزےاور تسبیح اور تلاوت قرآن اور حج و زکواۃ کو آپ خدا کی عبادت سمجھتےہیں۔ یہ غلط فہمی کبھی اسی وجہ سے ہےکہ آپ عبادت کے اصل مطلب سے ناواقف ہیں۔

ایک اور نوکر کی مثال لیجیے ۔ آقا نے اپنے نوکروں کے لیے جو وردی مقرر کی ہے ، یہ ٹھیک ناپ تول کے ساتھ اُس وردی کو پہنتا ہے ، بڑے ادب اور تعظیم کے ساتھ آقا کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے، ہر حکم کو سُن کر اس طرح جھک کر بسر چشم کہتا ہے کہ گویا اس سے بڑھ کر اطاعت گزار خادم کوئی نہیں ۔ سلامی کے وقت سب سے آگے جا کر کھڑا ہوتا ہے اور آقا کا نام جینے میں تمام نوکروں سے بازی لے جاتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہی شخص آقا کے دشمنوں اور باغیوں کی خدمت بجا لاتا ہے،آقا کے خلاف اُن کی سازشوں میں حصہ لیتا ہے اور آقا کے نام کو دنیا سے مٹانےمیں جو کوشش بھی وہ کرتے ہیں اُس میں یہ کمبخت اُن کا ساتھ دیتا ہے۔ رات کےاندھیرے میں تو آقا کے گھر میں نقب لگاتا ہے اور صبح بڑے وفادار ملازموں کی طرح ہاتھ باندھ کہ آقا کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہے،ایسےنوکر کے متعلق آپ کیا کہیں گے ؟ یہی نا کہ وہ منافق ہے، باطنی ہے ، نمک حرام ہے ۔ مگر خدا کے جو نوکر ایسےہیں ان کو آپ کیا کہا کرتے ہیں؟ کسی کو پیر صاحب اور کسی کو حضرت مولانا اور کسی کو دیندار منتقی اور عبادت گزار ۔ یہ صرف اس لیے کہ آپ ان کے منہ پر پورناپ کی ڈاڑھیاں دیکھ کر، ان کے ٹخنوں سے دو دو انچ اونچے پاجامے دیکھ کر،اُن کی پیشانیوں پر نماز کے گئے دیکھ کر اور ان کی لمبی لمبی نماز یں اور موٹی موٹی تسبیحیں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ بڑے دیندار اور عبادت گزار ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی اسی وجہ سےہے کہ آپ نے عبادت اور دینداری کا مطلب ہی غلط سمجھا ہے ۔

آپ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر قبلہ رو کھڑے ہونا ، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ٹھکنا،زمین پر ہاتھ ٹیک کر سجدہ کرنا اور چند مقرر الفاظ زبان سے ادا کرنا ، بس یہی چند افعال اور حرکات بجائے خود عبادت ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ سےشوال کا چاند نکلنے تک روزانہ صبح سےشام تک بھوکےپیاسےرہنےکا نام عبادت ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ قرآن کے چند رکوع زبان سے پڑھ دینے کا نام عبادت ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ مکہ معظمہ جا کر کتےکےگرد طواف کرنے کا نام عبادت ہے۔ فرض آپ نے چند افعال کی ظاہری شکلوں کا نام عبادت رکھ چھوڑا ہے،اور جب کوئی شخص ان شکلوں کے ساتھ ان افعال کو ادا کر دیتا ہے تو آپ خیال کرتے ہیں کہ اس نے خدا کی عبادت کر دی اور وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کا مقصد پورا ہو گیا۔ اب وہ اپنی زندگی میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے ۔

عبادت پوری زندگی میں بندگی

لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جس عبادت کےلیے آپ کو پیدا کیا ہے اور جس کا آپ کو حکم دیا ہے وہ کچھ اور ہی چیز ہے وہ عبادت یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جائیں جو قانونِ الہی کے خلاف ہو۔ آپ کی ہر جنبش اُس حد کے اندر ہو جو خدا نے آپ کے لیے مقرر کی ہے۔ آپ کا ہر فعل اس طریقہ کےمطابق ہو جو خدا نے بتا دیا ہے۔ اس طرز پر جو زندگی آپ بسر کریں گے وہ پوری کی پوری عبادت ہوگی ۔ ایسی زندگی میں آپ کا سونا بھی عبادت ہے اور جا گنا بھی، کھانا بھی عبادت ہے اور پینا بھی، چلنا پھرنا بھی عبادت ہے اور بات کرنا بھی۔حتی کہ اپنی بیوی کے پاس جانا اور اپنےبچےکو پیار کرنا بھی عبادت ہے۔جن کاموں کو آپ بالکل دنیا داری کہتےہیں وہ سب دینداری اور عبادت ہیں اگر آپ اُن کو انجام دینےمیں خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا لحاظ کریں اور زندگی میں ہر ہر قدم پر یہ دیکھ کر چلیں کہ خدا کےنزدیک جائز کیا ہےاور ناجائز کیا؟حلال کیا ہے اور خوش ہوتا ہے اور کس سے ناراض ہوتا ہے ؟ مثلاً آپ روزی کمانےکےلیےنکلتےہیں۔اس کام میں بہت سےمواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال کافی آسانی کےساتھ آپ کو مل سکتا ہے۔ اگر آپ نے خدا سے ڈر کر وہ مال نہ لیا اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو یہ جتنا وقت آپ نے روٹی کمانےپر صرف کیا یہ سب عبادت تھا اور یہ روٹی گھر لا کر جو آپ نے خود کھائی اور اپنی بیوی بچوں اور خدا کےمقرر کیےہوئےدوسرےحقداروں کو کھلائی،اس سب پر آپ اجر و ثواب کے مستحق ہو گئے۔ آپ نے اگر راستہ چلنے میں کوئی پتھر یا کانٹا ہٹا دیا ، اس خیال سے کہ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ ہو، تو یہ بھی عبادت ہے۔آپ نے اگر کسی بیمار کی خدمت کی، یا کسی اپنےکو راستہ چلایا ، یا کسی مصیبت زدہ کی مدد کی، تو یہ بھی عبادت ہے۔آپ نےاگر بات چیت کرنےمیں جھوٹ سےغیبت سے بد گوئی اور دل آزاری سے پر ہیز کیا، اور خدا سےڈر کر صرف حق بات کی،تو جتنا وقت آپ نےبات چیت میں صرف کیا وہ سب عبادت میں صرف ہوا۔

پس خدا کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے مرتے دم تک آپ خدا کے قانون پر ملیں اور اس کےاحکام کےمطابق زندگی بسر کریں۔اس عبادت کےلیےکوئی وقت مقرر نہیں ہےیہ عبادت ہر وقت ہونی چاہیےاس عبادت کی کوئی ایک شکل نہیں ہے، ہر کام اور ہر شکل میں اسی کی عبادت ہوئی چاہیے۔ جب آپ یہ نہیں کہہ سکتےکہ میں فلاں وقت خدا کا بندہ ہوں اور فلاں قوت اس کا بندہ نہیں ہوں، تو آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ فلاں وقت خدا کی بندگی و عبارات کے لیے ہے اور فلاں وقت اس کی بندگی و عبادت کے لیے نہیں ہے۔

بھائیوں،آپ کو عبادت کا مطلب معلوم ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کی بندگی و اطاعت کرنے کا نام ہی عبادت ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ نماز روزہ اور حج وغیرہ کیا چیزیں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہےکہ در اصل یہ عبادتیں نہیں جو اللہ نےآپ پر فرض کی ہیں،ان کا مقصد آپ کو اس بڑی عبادت کےلیےتیار کرتا ہے جو آپ کو زندگی میں ہر وقت ہر حال میں ادا کرنی چاہیے ۔ نمازہ آپ کو دن میں پانچ وقت یاد دلاتی ہےکہ تم اللہ کے بندے ہو، اسی کی بندگی تمھیں کرنی چاہیے۔روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینہ تک آپ کو اسی بندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔ زکواۃ آپ کو بار بارہ توجہ دلاتی ہے کہ یہ مال جو تم نے کمایا ہے یہ خدا کا عطیہ ہےاس کو صرف اپنے نفس کی خواہشات پر صرف نہ کر دو بلکہ اپنے مالک کا حق ادا کرو۔حج دل پر خدا کی محبت اور بزرگی کا ایسا نقش بٹھاتا ہے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بیٹھ جائے تو تمام عمر اس کا اثر دل سے دور نہیں ہو سکتا۔ان سب عبادتوں کو ادا کرنےکےبعد اگر آپ اس قابل ہو گئےکہ آپ کی ساری زندگی خدا کی عبادت بین جائےتو بلاشبہ آپ کی نماز نماز ہےاور روزہ روزہ ہے،زکوۃ زکوۃ ہے اور حج حج ہے۔ لیکن اگر یہ مقصد پورا نہ ہوا تو محض رکوع اور سجدہ کرنےاور بھوک پیاس کےساتھ دن گزارنےاور حج کی رسمیں ادا کر دینےاور زکواۃ کی رقم نکال دینےسے کچھ حاصل نہیں ۔ ان ظاہری طریقوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک جسم، کہ اگر اس میں بیان ہےاور وہ چلتا پھرتا اور کام کرتا ہے تو بلاشبہ ایک زندہ انسان ہے لیکن اگر اس میں جان ہی نہیں تو وہ ایک مردہ لاش ہےمردے کےہاتھ پاؤں، آنکھ ناک سب ہی کچھ ہوتے ہیں،مگر اس میں جان ہی نہیں ہوتی، اس لیے تم اسے مٹی میں دبا دیتے ہو۔ اسی طرح اگر نماز کے ارکان پورے ادا ہوں یا روزے کی شرطیں پوری ادا کر دی جائیں مگر خدا کا خوف، اس کی محبت اور اس کی وفاداری واطاعت نہ ہو جس کے لیے نماز اور روزہ فرض کیا گیا ہے تو وہ بھی ایک بے جان چیز ہو گی۔

آئندہ خطبات میں میں آپ کو تفصیل کے ساتھ بتاؤں گا کہ جو عبادتیں فرض کی گئی ہیں، ان میں سے ہر ایک کسی طرح اُس بڑی عبادت کے لیے انسان کو تیار کرتی ہے، اور اگر ان عبادتوں کو آپ سمجھ کر ادا کریں اور ان کا اصل مقصد پورا کرنے کی کوشش کریں تو اس سے آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

نماز

برادران اسلام، پچھلے خطبہ میں میں نے آپ کے سامنے عبادت کا اصل مطلب بیان کیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ اسلام میں جو عبادتیں فرض کی گئی ہیں ان کےمتعلق آپ کو بتاؤں گا کہ یہ عبادتیں کس طرح آدمی کو اُس بڑی اور اصلی عبادت کےلیے تیار کرتی ہیں جس کے لیے اللہ نے جن و انس کو پیدا کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑی اور سب سے اہم چیز نماز ہے، اور آج کے خطبے میں صرف اسی کے متعلق میں آپ سے کچھ بیان کروں گا۔

عبادت کا وسیع مفہوم

یہ تو آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ عبادت در اصل بندگی کو کہتے ہیں۔ اور جب آپ خدا کے بندے ہی پیدا ہوتے ہیں تو آپ کسی وقت کسی حال میں بھی اس کی بندگی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ جس طرح آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہیں اتنے گھنٹے یا اتنے منٹوں کے لیے خدا کا بندہ ہوں اور باقی وقت میں اس کا بندہ نہیں، اسی طرح آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں اتنا وقت خدا کی عبادت میں صرف کروں گا اور باقی اوقات میں مجھے آزادی ہے کہ جو چاہوں کروں ۔ آپ تو خدا کےپیدائشی غلام ہیں ۔ اس نے آپ کو بندگی ہی کے لیے پیدا کیا ہے ۔ لہذا آپ کی ساری زندگی اس کی عبادت میں صرف ہونی چاہیے اور کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی آپ کو اس کی عبادت سے غافل نہ ہونا چاہیے۔

یہ بھی میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ عبادت کے معنی دنیا کے کام کاج سےالگ ہو کر ایک کونے میں بیٹھ جانے اور اللہ اللہ کرنے کے نہیں ہیں، بلکہ در اصل عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آپ جو کچھ بھی کریں خدا کے قانون کے مطابق کریں ۔ آپ کا سونا اور بھاگنا ، آپ کا کھانا اور پینا، آپ کا پھلنا اور پھرنا غرض سب کچھ خدا کے قانون کی پابندی میں ہو۔ آپ جب اپنے گھر میں بیوی بچوں ، بھائی بہنوں اور عزیز رشتہ داروں کے پاس ہوں تو ان کے ساتھ اُس طرح پیش آئیں جس طرح خدا نے حکم دیا ہے ۔ جب اپنے دوستوں میں ہنسیں اور بولیں ، اُس وقت بھی آپ کو خیال رہے کہ ہم خدا کی بندگی سے آزاد نہیں ہیں۔ جب آپ روزی کمانے کےلیے نکلیں اور لوگوں سے لین دین کریں اُس وقت بھی ایک ایک بات اور ایک ایک کام میں خدا کے احکام کا خیال رکھیں اور کبھی اس حد سے نہ بڑھیں جو خدا نےمقرر کر دی ہے۔ جب آپ رات کے اندھیرے میں ہوں اور کوئی گناہ اس طرح کر سکتے ہوں کہ دنیا میں کوئی آپ کو دیکھنے والا نہ ہو، اُس وقت بھی آپ کو یاد رہےکہ خدا آپ کو دیکھ رہا ہے اور ڈرنے کے لائق وہ ہے نہ کہ دنیا کے لوگ جب آپ جنگل میں تنہا جار ہے ہوں اور وہاں کوئی جرم اس طرح کر سکتےہوں کہ کسی پولیس میں اور کسی گواہ کا کھٹکا نہ ہو اُس وقت بھی آپ خدا کو یاد کر کے ڈر جائیں اور جرم سےباز رہیں ۔ جب آپ جھوٹ اور بے ایمانی اور ظلم سے بہت سا فائدہ حاصل کر سکتےہوں اور کوئی آپ کو روکنےوالا نہ ہو،اُس وقت بھی آپ خدا سےڈریں اور اس فائدےکو اس لیےچھوڑ دیں کہ خدا اس سے ناراض ہوگا۔ اور جب سچائی اور ایمانداری میں سراسر آپ کو نقصان پہنچ رہا ہو اُس وقت بھی آپ نقصان اٹھانا قبول کر لیں صرف اس لیے کہ خدا اس سے خوش ہو گا۔ پس دنیا کو چھوڑ کر کونوں اور گوشوں میں جابیٹھنا اور تسبیح ہلانا عبادت نہیں ہےبلکہ دنیا کےدھندوں میں پھنس کر خدا کےقانون کی پابندی کرنا عبادت ہےذکر الہی کامطلب یہ نہیں ہےکہ زبان پر اللہ اللہ جاری ہو،بلکہ اصل ذکر الہی یہ ہےکہ دُنیا کےجھگڑوں اور بکھیڑوں ہیں پھنس کر بھی تمھیں ہر وقت خدا یاد رہے۔پھر چیزیں خدا سےغافل کرنےوالی ہیں ان میں مشغول ہو اور پھر خدا سےفاضل نہ ہو۔ دنیا کی زندگی میں جہاں خدائی قانون کو توڑنے کے بے شمار مواقع بڑے بڑے فائدوں کے لالچ اور نقصان کا خوف لیے ہوئے آتے ہیں وہاں خدا کو یاد کرو اور اس کے قانون کی پیروی پر قائم رہو۔ یہ ہے اصلی یا د خدا۔ اس کا نام ہے ذکر الہی۔اسی ذکر کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے کہ :

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَكُمْ تُفْلِحُونَ (الجمعه: ١٠ )

" یعنی جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ ، خدا کے فضل،یعنی رزق حلال کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرو اور خدا کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تمھیں فلاح نصیب ہو۔"

نماز کے فوائد

عبادت کا یہ مطلب ذہن میں رکھیے اور غور کیجیے کہ اتنی بڑی عبادت انجام دینے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے، اور نماز کسی طرح وہ سب چیزیں انسان میں پیدا کرتی ہے۔

احساس بندگی

سب سے پہلےتو اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ کو بار بار یہ یاد دلایا جاتا رہے کہ آپ خدا کے بندےہیں، اور اسی کی بندگی آپ کو ہر وقت ہر کام میں کرنی ہے۔ یہ یاد دلانےکی ضرورت اس لیے ہےکہ ایک شیطان آدمی کے نفس میں بیٹھا ہوا ہے جو ہر وقت کہتا رہتا ہے کہ تو میرا بندہ ہے ۔ اور لاکھوں کروڑوں شیطان ہر طرف دنیا میں پھیلے ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک یہی کہہ رہا ہے کہ تو میرا ہندہ ہے۔ ان شیطانوں کا ظلم اُس وقت تک ٹوٹ نہیں سکتا جب تک انسان کو دن میں کئی کئی بار یہ یاد نہ دلایا جائےکہ تو کسی کا بندہ نہیں، صرف خدا کا بندہ ہے۔یہی کام نما نہ کرتی ہے ۔ صبح اُٹھتے ہی سب کاموں سے پہلے وہ آپ کو یہی بات یاد دلاتی ہے۔ پھر جب آپ دن کو اپنے کام کاج میں مشغول ہوتے ہیں اس وقت پھر تین مرتبہ اسی یاد کو تازہ کرتی ہے۔ اور جب آپ رات کو سونے کےلیے جاتے ہیں تو آخری بار پھر اسی کا اعادہ کرتی ہے ۔ یہ نماز کا پہلا فائدہ ہے۔ اور قرآن میں اسی بنا پر نمازہ کو ذکر سے تعبیر کیا ہے ، یعنی یہ خدا کی یاد ہے۔

فرض شناسی

پھر چونکہ آپ کو اس زندگی میں ہر ہر قدم پر خدا کے احکام بجا لاتے ہیں، اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ میں اپنا فرض پہچاننے کی صفت پیدا ہو اور اس کےساتھ آپ کو اپنا فرض مستعدی سے انجام دینے کی عادت بھی ہو۔ جو شخص یہ جانتا ہی نہ ہو کہ فرض کے معنی کیا ہیں ، وہ تو کبھی احکام کی اطاعت کر ہی نہیں سکتا۔ اور جو شخص فرض کےمعنی تو جانتا ہو مگر اس کی تربیت اتنی خراب ہو کہ فرض کو فرض جاننے کے باوجود اسے ادا کرنےکی پروانہ کرے، اُس سےکبھی یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں جو ہزاروں احکام اُسے دیے جائیں گےان کو مستعدی کے ساتھ انجام دے گا۔

مشق اطاعت

جن لوگوں کو فوج یا پولیس میں ملازمت کرنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ ان دونوں ملازمتوں میں ڈیوٹی کو سمجھنے اور اسے ادا کرنے کی مشق کسی طرح کرائی جاتی ہے۔ رات دن میں کئی کئی بار بگل بجایا جاتا ہے۔ سپاہیوں کو ایک جگہ حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا ہے اور ان سے قواعد کرائی جاتی ہے۔ یہ سب اس لیے ہےکہ ان کو حکم بجالانے کی عادت ہو، اور ان میں سے جو لوگ ایسے سست اور نالائق ہوں کہ بگل کی آوازش کو بھی گھر بیٹھے رہیں یا قواعد میں حکم کے مطابق حرکت نہ کریں انھیں پہلے ہی ناکارہ سمجھ کر ملازمت سے الگ کر دیا جائے۔ بس اسی طرح نماز کبھی دن میں پانچ وقت بگل بجاتی ہے تاکہ اللہ کے سپاہی اُس کو سُن کر ہر طرف سےدوڑے چلے آئیں اور ثابت کریں کہ وہ اللہ کے احکام کو ماننے کے لیے مستعد ہیں جو مسلمان اس بگل کو سُن کر بھی بیٹھا رہتا ہے اور اپنی جگہ سے نہیں ہلتا وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ یا تو فرض کو پہچانتا ہی نہیں یا اگر پہچانتا ہے تو وہ اتنا نا لائق اور ناکارہ ہے کہ خدا کی فوج میں رہنے کے قابل نہیں۔

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ اذان کی آواز سُن کر اپنےگھروں سے نہیں نکلتے ، میرا جی چاہتا ہےکہ جا کر ان کےگھروں میں آگ لگا دوں۔اور یہی وجہ ہےکہ حدیث میں نماز کو کفر اوراسلام کےدرمیان وجہ تمیز قرار دیا گیا ہے۔ عہد رسالت اور عہد صحابہ میں کوئی ایسا شخص مسلمان ہی نہ سمجھا جاتا تھا جو نماز کےلیےجماعت میں حاضر نہ ہوتا ہو بھٹی کہ منافقین بھی جنھیں اس امر کی ضرورت ہوتی تھی کہ ان کو مسلمان سمجھا جائے،اس امر پر مجبور ہوتےتھے کہ نماز با جماعت میں شریک ہوں۔چنانچه قرآن میں جس چیز پر منافقین کو ملامت کی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتے ، بلکہ یہ ہے کہ بادلِ نا خواستہ نہایت بد دلی کے ساتھ نماز کےلیے اُٹھتے ہیں : وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوة قَامُوا كسالى (النساء : ۱۴۲)

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کسی ایسے شخص کے مسلمان سمجھے بجانے کی گنجائش نہیں ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو۔ اس لیےکہ اسلام محض ایک اعتقادی چیز نہیں ہے بلکہ عملی چیز ہےاور عملی چیز بھی ایسی کہ زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ایک مسلمان کو اسلام پر عمل کرنےاور کفر وفسق سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ایسی زبردست عملی زندگی کےلیے لازم ہےکہ مسلمان خدا کے احکام بجالانے کے لیے ہر وقت مستعد ہو۔ جو شخص اس قسم کی مستعدی نہیں رکھتا وہ اسلام کےلیےقطعا نا کارہ ہےاسی لیےدن میں پانچ وقت نماز فرض کی گئی تاکہ جو لوگ مسلمان ہونےکےمدستی ہیں ان کا بار بار امتحان لیا جاتا رہےکہ وہ فی الواقع مسلمان ہیں یا نہیں،اور فی الواقع اس عملی زندگی میں خدا کےاحکام بجالانےکےلیےمستعد ہیں یا نہیں۔اگر وہ خدائی پریڈ کا بگل سن کر جنبش نہیں کرتے تو صاف معلوم ہو جاتا ہےکہ وہ اسلام کی عملی زندگی کے لیے تیار نہیں ہیں ۔اس کے بعد ان کا خدا کو ماننا اور رسول کو ماننا محض بے معنی ہے۔ اسی بنا پر قرآن میں ارشاد ہے کہ :

إِنَّهَا لَكَبِيرة الا عَلَى الْخَشِعِينَ ، (البقره : ۴۵)

یعنی جو لوگ خدا کی اطاعت و بندگی کے لیے تیار نہیں ہیں صرف انہی پر نماز گراں گزرتی ہے، اور جس پر نمازہ گراں گزرے وہ خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ وہ خدا کی بندگی واطاعت کے لیے تیار نہیں ہے۔

خدا کا خوف پیدا کرنا

تیسری چیز خدا کا خوف ہے جس کے ہر آن دل میں تازہ رہنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اسلام کے مطابق عمل کر ہی نہیں سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہوکہ خدا ہر وقت ہر جگہ اسے دیکھ رہا ہے، اس کی ہر حرکت کا خدا کو علم ہے۔ بغدا اندھیرے میں بھی اس کو دیکھتا ہے، خدا تنہائی میں بھی اس کے ساتھ ہے، تمام دنیا سے چھپ جانا ممکن ہے مگر غذا سے چھپنا ممکن نہیں ۔ تمام دنیا کی سزاؤں سےآدمی بچ سکتا ہے مگر خدا کی سزا سے بچنا غیر ممکن ہے ۔ یہی یقین آدمی کو خدا کےاحکام کی خلاف ورزی سے روکتا ہے ۔ اسی یقین کے زور سے وہ حلال اور حرام کی اُن محدود کا لحاظ رکھنے پر مجبور ہوتا ہے جو اللہ نے زندگی کے معاملات میں قائم کی ہیں۔ اگر یہ یقین کمزور ہو جائے تو مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان کی طرح زندگی بسر کر ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے اللہ نے دن میں پانچ وقت نماز فرض کی ہے تاکہ وہ اس یقین کو دل میں بار بار مضبوط کرتی رہے ۔ چنانچہ قرآن میں خود اللہ ہی نے نماز کی اس مصلحت کو بیان کر دیا کہ :

إنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء والمنكر (العنكبوت : ۴۵)

"یعنی در نماز وہ چیز ہے جو انسان کو بدی اور بے حیائی سے روکتی ہے" -

اس کی وجہ آپ غور کر کے خود سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً آپ نماز کے لیے پاک ہو کر اور وضو کر کے آتے ہیں۔ اگر آپ ناپاک ہوں اور غسل کیسے بغیر آجائیں،یا آپ کے کپڑے ناپاک ہوں اور انہی کو پہنے ہوئے آجائیں ، یا آپ کو وضو نہ ہو اور آپ یہ کہہ دیں کہ میں وضو کر کے آیا ہوں ، تو دنیا میں کون آپ کو پکڑ سکتا ہے؟لیکن آپ ایسا نہیں کرتے۔کیوں؟ اس لیےکہ آپ کو یقین ہے کہ خدا سے یہ گناہ نہیں چھپ سکتا۔ اسی طرح نماز میں جو چیزیں اہستہ پڑھی جاتی ہیں اگر ان کو آپ نہ پڑھیں تو کسی کو خبر نہیں ہو سکتی ۔ مگر آپ کبھی ایسا نہیں کرتے ۔ یہ کس لیے ؟ اسی لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ خدا سب کچھ سُن رہا ہے اور آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اسی طرح آپ جنگل میں بھی نماز پڑھتے ہیں۔ اپنے گھر میں جب تنہا ہوتے ہیں اس وقت بھی نماز پڑھتے ہیں۔ حالانکہ کوئی آپ کو دیکھنے والا نہیں ہوتا ، اور کسی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ یہی کہ آپ چھپ کر بھی سدا کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے ڈرتےہیں، اور آپ کو یقین ہے کہ خدا سے کسی جرم کو چھپانا ممکن نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ نماز کس طرح خدا کا خوف اور اس کے حاضر و ناظر اور علیم وخبیر ہونے کا یقین آدمی کے دل میں بٹھائی اور تازہ کرتی رہتی ہے۔ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں آپ ہر وقت خدا کی عبادت اور بندگی کیسےکر سکتےہیں جب،تک کہ یہ خوف اور یہ یقین آپ کے دل میں تازہ نہ ہوتا رہے۔ اگر اس چیز سےآپ کا دل خالی ہو تو کیوں کر ممکن ہے کہ رات دن جو ہزاروں معاملات آپ کو دنیا میں پیش آتے ہیں، ان میں آپ خدا سے ڈر کر نیکی پر قائم رہیں گے اور بدی سے بچیں گے ۔

قانونِ الہی سے واقفیت

چوتھی چیز جو عبادت الہی کے لیے نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ خدا کے قانون سے واقف ہوں ۔ اس لیے کہ اگر آپ کو قانون کا علم ہی نہ ہو تو اس کی پابندی کیسےکر سکتے ہیں ؟ یہ کام بھی نماز انجام دیتی ہے۔نماز میں قرآن جو پڑھا جاتا ہے یہ اسی لیے ہے کہ روزانہ آپ خدا کے احکام اور اس کےقانون سے واقف ہوتے رہیں ۔ جمعہ کا خطبہ بھی اسی لیے ہے کہ آپ کو اسلام کی تعلیم سے واقفیت ہو نماز با جماعت اور جمعہ سےایک فائدہ یہ بھی ہے کہ عالم اور عامی بار بار ایک جگہ جمع ہوتے رہیں اور لوگوں کو ہمیشہ خدا کے احکام سے واقف ہونے کا موقع ملتا رہ ہے۔ اب یہ آپ کی بدقسمتی ہے کہ آپ نماز میں جو کچھ پڑھتےہیں اس سے واقف ہونے کی کوشش نہیں کرتے ۔ آپ کو جمعہ کے خطبے بھی ایسےکنائے جاتے ہیں جن سے آپ کو اسلام کا کوئی علم حاصل نہیں ہوتا۔ اور نماز کی جماعتوں میں آکر نہ آپ کے خاطر اپنے جاہل بھائیوں کو کچھ سکھاتے ہیں اور نہ جاہل اپنے بھائیوں سے کچھ پوچھتے ہیں۔نماز تو آپ کو ان سب فائدوں کا موقع دیتی ہے،آپ خود فائدہ نہ اُٹھائیں تو نماز کا کیا قصور؟

اجتماعیت کی مشق

پانچویں چیز یہ ہے کہ ہر مسلمان زندگی کے اس ہنگامے میں اکیلا نہ ہو، بلکہ سب مسلمان مل کر ایک مضبوط جماعت بنیں اور خدا کی عبادت، یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے اور اس کے قانون پر عمل کرنے اور اس کے قانون کو دنیا میں جاری کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس زندگی میں ایک طرف مسلمان یعنی خدا کےفرمانبردار بندے ہیں اور دوسری طرف کفار یعنی خدا کے باغی ندے ۔ رات دن فرمانبرداری اور بغاوت کےدرمیان کشمکش برپا ہے۔باقی خدا کےقانون کو توڑتےہیں اور اس کےخلاف دنیا میں شیطانی قوانین کو بھاری کرتے ہیں۔ان کے مقابلےمیں اگر ایک ایک مسلمان تنہا ہو تو کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ضرورت اس کی ہے کہ خدا کے فرمانبردار بند سے مل کر اجتماعی طاقت سےبغاوت کا مقابلہ کریں اور خدائی قانون کو نافذ کریں۔ یہ اجتماعی طاقت پیدا کرنےوالی پیر تمام چیزوں سےبڑھ کہ نماز ہے۔پانچ وقت کی جماعت، پھر جمعہ کا بڑا اجتماع ، پھر عیدین کے اجتماع ، یہ سب مل کر مسلمانوں کو ایک مضبوط دیوار کی طرح بنا دیتے ہیں اور ان میں وہ یک جہتی اور عملی اتحاد پیدا کر دیتےہیں جو روزمرہ کی عملی زندگی میں مسلمانوں کو ایک دوسرےکا مدد گار بنانے کے لیے ضروری ہے۔

نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟

برادرانِ اسلام، پچھلے خطبہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ نماز کس طرح انسان کو اللہ کی عبادت یعنی بندگی اور اطاعت کےلیےتیار کرتی ہےاس سلسلہ میں جو کچھ میں نے کہا تھا اس سےآپ نےاندازہ کر لیا ہوگا کہ جو شخص نماز کو محض فرض اور حکم الہی جان کر باقاعدگی کےساتھ ادا کرتار ہےوہ اگر نماز کی دعاؤں کا مطلب نہ سمجھتا ہو تب بھی اس کےاندر خدا کا خوف اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین اور اس کی عدالت میں ایک روز حاضر ہونے کا اعتقاد ہر وقت تازہ ہوتا رہتا ہے۔اُس کےدل میں یہ عقیدہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں اور خدا ہی اس کا اصلی بادشاہ اور حاکم ہے۔ اُس کے اندر فرض شناسی کی عادت اور خدا کے احکام بجالانے کےلیےمستعدی پیدا ہوتی ہے۔اس میں وہ صفات خود بخود پیدا ہونےلگتی ہیں جو انسان کی ساری زندگی کو خدا کی بندگی و عبادت بنا دینے کے لیےضروری ہیں۔

اب میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انسان اسی نماز کو سمجھ کر ادا کرےاور نماز پڑھتے وقت یہ بھی جانتا ر ہے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہےتو اس کے خیالات اور اس کی عادات اورخصائل پر کتنا زبردست اثر پڑے گا، اس کے ایمان کی قوت کس قدر بڑھتی چلی جائے گی، اور اس کی زندگی کا رنگ کیسا پلٹ جائے گا۔

اذان اور اس کے اثرات

سب سے پہلے اذان کو لیجیے ۔ دن میں پانچ وقت آپ کو یہ کہہ کر پکارا جاتا ہے؛

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ

" خدا سب سے بڑا ہے، خدا سب سے بڑا ہے۔"

اشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

" میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ، کوئی بندگی کا حق دار نہیں ۔"

اشهَدُ اَنَّ مُحَمَّد ارسُولُ اللهِ

"میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔"

حَى عَلَى الصَّلوة .

"آؤ نماز کے لیے ۔"

حَى عَلَى الْفَلَاحِ -

"آؤ اس کام کے لیے جس میں فلاح ہے"-

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ

"اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔"

لا اله الا الله

" اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"

دیکھو یہ کیسی زبر دست پکار ہے۔ ہر روز پانچ مرتبہ یہ آواز کسی طرح تمھیں یاد دلاتی ہے کہ زمین میں جتنے بڑے خدائی کے دعویدار نظر آتے ہیں سب جھوٹے ہیں۔زمین و آسمان میں ایک ہی ہستی ہے جس کے لیے بڑائی ہے، اور وہی عبادت کےلائق ہے۔آؤ اس کی عبادت کرو ۔اسی کی عبادت میں تمھارے لیےدنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ کون ہے جو اس آواز کو سُن کر ہل نہ جائے گا ؟ کیوں کر ممکن ہے کہ جس کے دل میں ایمان ہو وہ اتنی بڑی گواہی اور ایسی زبر دست پیکارسن کر اپنی جگہ بیٹھا رہے اور اپنے مالک کے آگےسرجھکانے کے لیے دوڑ نہ پڑے ؟

وضو

اس آواز کو سن کر تم اُٹھتےہو اور سب سے پہلے اپنا جائزہ لے کر دیکھتےہو کہ میں پاک ہوں یا ناپاک؟میرے کپڑے پاک ہیں یا نہیں ؟ مجھے وضو ہے یا نہیں ؟ گویا تمھیں اس بات کا احساس ہے کہ پادشاہ دو عالم کے دربار میں حاضری کا معاملہ دنیا کے دوسرے سب معاملات سے مختلف ہے۔ دوسرے کام تو ہر حال میں کیسے جا سکتے ہیں، مگر یہاں جسم اور لباس کی پاکی اور اس پاکی پر مزید طہارت (یعنی وضو) کے بغیر حاضری دینا سخت بے ادبی ہے۔ اس احساس کےساتھ تم پہلے اپنے پاک ہونے کا اطمینان کرتے ہو اور پھر وضو شروع کر دیتے ہو۔اس وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضاء دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر کرتے رہو اور فارغ ہو کر وہ دعا پڑھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے تو محض تمھارے اعضاء ہی نہ دُھلیں گے بلکہ ساتھ ساتھ تمھارا دل بھی دُکھل تھا یا۔اس دعاء کے الفاظ یہ ہیں :

اشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَكَ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه ، اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَرِينَ .

"میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ خدایا مجھے تو بہ کرنے والوں میں شامل کرہ اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا "-

نیت

اس کے بعد تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو۔ منہ قبلہ کے سامنے ہےپاک صاف ہو کر پادشاہ عالم کے دربار میں حاضر ہو۔ سب سے پہلے تمھاری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں : اللهُ اَكْبَرُ-" اللہ سب سے بڑا ہے"۔ اس زبردست حقیقت کا اقرار کرتے ہوئے تم کانوں تک ہاتھ اٹھاتےہو، گویا دنیا و ما فیہا سےدست بردار ہو رہے ہو۔ پھر ہاتھ باندھ لیتے ہو، گویا اب تم بالکل اپنےبادشاہ کے سامنےبا ادب دست بستہ کھڑے ہو ۔اس کے بعد تم کیا عرض معروض کرتےہو:

تسبیح

سُبحَنَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ

"تیری پاکی بیان کرتا ہوں اے اللہ، اور وہ بھی تیری تعریف کےساتھ ۔ بڑی برکت والا ہے تیرا نام ۔ سب سے بلند و بالا ہے تیری بزرگی اور کوئی معبود نہیں تیرے سوالا۔"

اعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ

" خدا کی پناہ مانگتا ہوں میں شیطان مردود کی در اندازی اور شرارت سے"-

بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

"شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔"

الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ.

"تعریف خدا کے لیے ہے جو سارے جہان والوں کا پروردگار ہے۔"

الرَّحْمنِ الرَّحیم

" نہایت رحمت والا بڑا مہربان ہے "-

مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ .

"روزہ آخرت کا مالک ہے۔"

( جس میں اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پھل ملیگا)۔

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ .

"مالک ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔"

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ .

" ہم کو سیدھا راستہ دکھایا"-

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُه

" ایسے لوگوں کا راستہ جن پر تو نے فضل کیا اور انعام فرمایا "-

غَيْرِ المَغضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ .

"جن پر تیرا غضب نازل نہیں ہوا اور جو بھٹکے ہوئے لوگ نہیں ہیں۔"

آمین

"خدایا ایسا ہی ہو۔ مالک ہماری اس دعا کو قبول فرما" (سورہ الفاتحہ)

اس کے بعد تم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے ہو، جن میں سے ہر ایک میں امرت بھرا ہوا ہے۔ نصیحت ہے، بحرت ہے ، سبق ہے اور اُسی راہ راست کی ہدایت ہے جس کے لیے سورہ فاتحہ میں تم دعا کر چکے تھے۔ مثلاً :

قرآن مجید کی مختلف سورتیں

والعصر

وَالْعَصْرِه إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍه

" زمانہ کی قسم ! انسان ٹوٹے میں ہے ۔"

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلحت

" مگر ٹوٹے سے بچے ہوئے صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ۔"

وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِه

" اور جنھوں نے ایک دوسرے کو حق پر چلنے کی ہدایت کی اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہے۔"

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تباہی اور نامرادی سے انسان بس اسی طرح بچ سکتا ہے کہ ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور صرف اتنا ہی کافی نہیں، بلکہ ایمان داروں کی ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو دین پر قائم ہونے اور قائم رہنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہے۔ (سورہ العصر)

یا مثلاً :

الماعون

اريت الذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ.

"تو نے دیکھا کہ جو شخص روز جزا کو نہیں مانتا وہ کیسا آدمی ہوتا ہے"-

فَذَلِكَ الَّذِي يَدُلُّ الْيَتِيمَ

"ایسا ہی آدمی تیم کو دھتکارتا ہے۔"

ولا يحضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ.

"اور مسکین کو آپ کھانا کھلانا تو درکنار، دوسروں سے بھی یہ کہنا پسند نہیں کرتا کہ غریب کو کھانا کھلا دو“

فَوَيلُ المُصَدِّينَ : الذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَارُونَ ، وَيَصْنَعُونَ الْمَاعُونَ

" تباہی ہے ایسے نمازیوں کے لیے جو د روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اس لیے نماز سے غفلت کرتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو محض دکھاوےکے لیے اور اُن کے دل ایسے چھوٹے ہیں کہ ذرا ذرا سی چیزیں حاجتمندوں کو دیتے ہوئے بھی اُن کا دل دُکھتا ہے" (سورہ ماعون)

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ آخرت کا یقین اسلام کی جان ہے۔ اس کےبغیر آدمی کبھی اُس راستہ پر چل ہی نہیں سکتا جو خدا کا سیدھا راستہ ہے۔

یا مثلاً:

هُمَزَةٍ

وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍه

"افسوس ہے اُس شخص کےحال پر جو لوگوں کی جیب چینی کرتا اور لوگوں پر آوازے کستا ہے۔"

والَّذِي جَمَعَ مَا لا وَعَدَّ دَهه

"روپیہ جمع کرتا اور گن گن کر رکھتا ہے"-

يَحْسَبُ أَنَّ مَا لَةٌ أَخْلَدَهُ.

" اپنے دل میں سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ رہے گا"-

كَلَّا لَيُنبَذَنَ فِي الْحُطَمَةِ .

كَلَّا لَيُنبَذَنَ فِي الْحُطَمَةِ .

"ہر گز نہیں ، وہ ایک دن ضرور دمرے گا اور محکمہ میں ڈالا جائے گا۔"

وما ادريكَ مَا الْحُطَمَةُ .

"اور تمھیں معلوم ہے کہ حطمہ کیا چیز ہے"-

نار الله الموقدة هُ الَّتِي تَظْلِمُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ .

"اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جس کی لپیٹیں دلوں پر چھا جاتی ہیں" ۔

إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُوصَدَةٌ فِي عَمَلٍ مُمَدَّ دَةٍ

" وہ اونچے اونچے ستون جیسے شعلوں کی صورت میں اُن کو گھیر لے گی"- (سورہ ہمزہ)

عرض تم قرآن پاک کی جتنی سورتیں یا آیتیں نماز میں پڑھتے ہو وہ کوئی نہ کوئی اعلی درجہ کی نصیحت یا ہدایت تم کو دیتی ہیں اور تمھیں بتاتی ہیں کہ خدا کے احکام کیا ہیں جن کے مطابق تمھیں دنیا میں عمل کرنا چاہیے ۔

رکوع

ان ہداتیوں کو پڑھنے کے بعد تم اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع کرتے ہو۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے مالک کے آگےجھکتے ہو اور بار بار کہتے ہو :

سُبْحَنَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ

"پاک ہے میرا پروردگار جو بڑا بزرگ ہے۔"

پھر سیدھے کھڑے ہو جاتے ہو اور کہتے ہو :

سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمدَة -

"اللہ نے سُن لی اُس شخص کی بات جس نے اُس کی تعریف بیان کی ہے"-

سجده

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں گر جاتے ہو اور بار بار کہتے ہو :

سُبْحَنَ رَبِّي الأعلى

"پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بالا و برتر ہے۔"

التحيات

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سراٹھاتے ہو اور نہایت ادب سے بیٹھ کر یہ پڑھتے ہو :

التَّحِيَّاتُ اللهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ واشهد ان محمدا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ -

"ہماری سلامیاں ، ہماری نمازیں ، اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ کےلیے ہیں ۔ سلام آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں "-

یہ شہادت دیتے وقت تم شہادت کی انگلی اٹھاتے ہو، کیوں کہ یہ نماز میں تمھارے عقیدے کا اعلان ہے اور اس کو زبان سے ادا کرتے وقت خاص طور پر توجہ اور زور دینے کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد تم درود پڑھتے ہو :

درود

اللهُمَّ صَلِّ عَلى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ يَجِيدُ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى ال ابراهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ -

"خدایا رحمت فرما ہمارے سردار اور مولی محمدؐ اور ان کی آل پر جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بهترین صفات والا اور بزرگ ہے۔ اور خدا یا برکت نازل فرما ہمارے سردار اور مولی محمد اور ان کی آٹی پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر"-

یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔

یہ درود پڑھنے کے بعد تم اللہ سے دُعا کرتے ہو:

دعا

اللهمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَالِ وَاَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَ الْمَمَاتِ واعوذُ بِكَ مِنَ الْمَاثِمِ وَ الْمَغْرِمِ

"خدایا میں تیری پناہ مانگا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں اُس گمراہ کرنے والے دجال کے فتنے سے جو زمین پر چھا جانے والا ہے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے خدایا ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں بُرے اعمال کی ذمہ داری اور قرض داری سے"۔

سلام

یہ دعا پڑھنے کے بعد تمھاری نماز پوری ہو گئی۔ اب تم مالک کے دربار سے واپس ہوتے ہو، اور واپس ہو کر پہلا کام کیا کرتے ہو؟ یہ کہ دائیں اور بائیں مڑکہ تمام حاضرین اور دنیا کی ہر چیز کے لیے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتے ہو ؛

السّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ -

"گویا یہ بشارت ہے جو خدا کے دربار سے پلٹتے ہوئے تم دنیا کے لیے اپنےلائےہو"-

یہ ہے وہ نماز جوتم صبح اٹھ کر دنیا کے کام کاج شروع کرنے سے پہلے پڑھتےہو۔ پھر چند گھنٹے کام کاج میں مشغول رہنے کے بعد دوپہر کو خدا کے دربار میں حاضر ہو کہ دوبارہ یہی نماز ادا کرتے ہو۔ پھر چند گھنٹوں کے بعد تیسرے پہر کو یہی نماز پڑھتےہو۔ پھر چند گھنٹے مشغول رہنے کے بعد شام کو اسی نماز کا اعادہ کرتے ہو۔نماز پھر دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر سونے سے پہلے آخری مرتبہ اپنے مالک کےسامنے جاتے ہو۔ اس آخری نماز کا خاتمہ وتر پر ہوتا ہے جس کی تیسری رکعت میں تم ایک عظیم الشان اقرار نامہ اپنے مالک کے سامنے پیش کرتے ہو۔ یہ دعائےقنوت ہے ۔ قنوت کے معنی ہیں خدا کے آگے ذلّت و انکساری، اطاعت اور بندگی کا اقرار۔ یہ اقرار تم کن الفاظ میں کرتے ہو، ذرا غور سے سنو :

دعائے قنوت

اللهمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَهْدِيَكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ كله - نَشْكُرُكَ وَلَا تَكْفُرُكَ وَعَلَم وَنَرُك من هول .اللهمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّ وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ ، نَرْجُوا رَحْمَتَكَ وَتَخْشَى عَذَابَكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِق .

"خدایا ، ہم تجھ سےمدد مانگتے ہیں، تجھ سے ہدایت طلب کرتے ہیں،تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں۔ تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تیرے ہی اوپر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور ساری تعریف تیرے ہی لیے خاص کرتے ہیں۔ ہم تیرا شکر ادا کرتےہیں ،ناشکری نہیں کرتے۔ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گےاور اس سےتعلق کاٹ دیں گےجو تیرا نا فرمان ہو۔ خدایا، ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز اور سجدہ کرتے ہیں . در ہماری ساری کوششیں اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینا تیرا سخت مذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں "۔

نماز اور تعمیر سیرت

برادران اسلام، بطور کہ واجو شخص دن میں پانچ مرتبہ اذان کی یہ آواز سنتا ہو اور سمجھتا ہو کہ کسی بڑی چیز کی شہادت دی جارہی ہے اور کیسےزبر دست بادشاہ کےحضور میں بلایا جارہا ہے۔اور جو شخص ہر مرتبہ اس پکار کوشن کہا اپنے سارے کام کاج چھوڑ دے اور اُس ذات پاک کی طرف دوڑے جیسے وہ اپنا اور تمام کائنات کا مالک جانتا ہے، اور جو شخص ہر نماز سے پہلے اپنے جسم اور دل کو وضو سے پاک کرے، اور جو شخص کئی کئی بار نماز میں وہ ساری باتیں سمجھ بو سمجھ کر ادا کرے جو ابھی آپ کے سامنے میں نے بیان کی ہیں، کیوں کر ممکن ہے کہ اس کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہ ہو؟ اس کو خدا کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شرم نہ آئے ؟ اس کی روح گنا ہوں اور بدکاریوں کےسیاہ دیتےلےکر بار بار خدا کے سامنے ہوتے ہوئے لرزنہ اُٹھے؟کس طرح ممکن ہےکہ آدمی نماز میں خدا کی بندگی کا اقرار، اس کی اطاعت کا اقرالہ اس کے مالک یوم الدین ہونےکا اقرار کر کے جب اپنے کام کاج کی طرف واپس آئےتو جھوٹ بولے؟ بے ایمانی کرے ؟ لوگوں کے حق مارے ؟ رشوت کھائے اور کھلائے؟سود کھائے اور کھلائے ، خدا کے بندوں کو آزار پہنچائے ؟ فحش اور بے حیائی اور بد کاری کرے؟ اور پھر ان سب اعمال کا بوجھ لاد کر دوبارہ خدا کے سامنے حاضر ہونے اور انہی سب باتوں کا اقرار کرنے کی جرات کر سکے ؟ ہاں ایہ کیسےممکن ہے کہ تم جان بوجھ کر خدا سے پچھتیس مرتبہ اقرار کرو کہ ہم تیری ہی بندگی کرتےہیں اور تجھ ہی سےمدد مانگتےہیں اور پھر خدا کے سوا دوسروں کی بندگی کرو اور دوسروں کے آگے بڑھ کےلیے ہاتھ پھیلاؤ ؟ ایک بار تم اقرار کر کےخلاف ورزی کرو گےتو دوسری مرتبہ خدا کےدربار میں جاتےہوئے تمھارا ضمیر ملامت کرے گا اور شرمندگی پیدا ہوگی۔ دوسری بار خلاف ورزی کرو گے تو اور زیادہ شرم آئے گی، اور زیادہ دل اندر سے لعنت بھیجے گا۔تمام نظریہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روزانہ پانچ پانچ مرتبہ زمانہ پڑھو اور پھر بھی تمھارے اعمال درست نہ ہوں ؟ تمھارے اخلاق کی اصلاح نہ ہو؟ اور تمھاری زندگی کی کایا نہ پلیٹے ؟اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نمازہ کی یہ خاصیت بیان فرمائی ہے کہ : اِنَّ الصَّلوة تنلی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ یقینا نماز انسان کو بے حیائی اور بد کاری سے روکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسا ہے کہ اتنی زیر دست اصلاح کرنے والی چیز سے بھی اس کی اصلاح نہیں ہوتی تو یہ اس کی طبیعت کی خرابی ہے، نمازہ کی خرابی نہیں۔ پانی اور صابن کا قصور نہیں ۔ اس کی وجہ کوئلے کی اپنی سیاہی ہے۔

بھائیو ، آپ کی نمازوں میں ایک بہت بڑی کمی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آپ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کو سمجھتے نہیں۔ اگر آپ تھوڑا سا وقت صرف کریں تو ان ساری دعاؤں کا مطلب اُردو میں، یا اپنی مادری زبان میں یاد کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جو کچھ آپ پڑھیں گے اسے سمجھتے بھی جائیں گے۔

نماز با جماعت

برادرانِ اسلام ، پچھلے خطبوں میں تو میں نے آپ کے سامنے صرف نماز کے فائدے بیان کیے تھے جن سے آپ نے اندازہ کیا ہوگا کہ یہ عبادت بجائےخود کیسی زبر دست چیز ہے، کسی طرح انسان میں بندگی کا کمال پیدا کرتی ہے اور کس طرح اس کو بندگی کا حق ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اب میں آپ کو نماز با جماعت کے فائدے بتانا چاہتا ہوں جنھیں سُن کر آپ اندازہ کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنےفضل و احسان سے کسی طرح ایک ہی چیز میں ہمارے لیےساری نعمتیں جمع کر دی ہیں۔اقول تو نماز خود ہی کیا کم تھی کہ اس کے ساتھ جماعت کا حکم دے کر اس کو دو آتشه کر دیا گیا ،اور اس کے اندر وہ طاقت بھر دی گئی جو انسان کی کایا پلٹ دینے میں اپنا جواب نہیں رکھتی۔

نماز کن صفات کو پیدا کرتی ہے؟

پہلے آپ سے یہ کہ چکا ہوں کہ زندگی میں ہر وقت اپنے آپ کو خدا کا بندہ سمجھنا اور فرمانبردار نام کی طرح مالک کی مرضی کا تابع بن کر رہنا، اور مالک کا حکم بجا لانے کے لیے ہر وقت تیار رہنا اصلی عبادت ہے، اور نماز اسی عبادت کے لیےانسان کو تیار کرتی ہے۔ یہ بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ اس عبادت کے لیے انسان میں جتنی صفات کی ضرورت ہے وہ سب نمازہ پیدا کرتی ہے ۔ بندگی کا احساس،خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان،آخرت کا یقین ، خدا کا خوف،خدا کو عالم الغیب جاننا اور اس کو ہر وقت اپنے سے قریب سمجھنا،خدا کی فرمانبرداری کے لیے ہر حال میں مستعد رہنا ، خدا کے احکام سے واقف ہوتا ، یہ اور ایسی تمام صفتیں نماز آدمی کے اندر پیدا کر دیتی ہے جو اس کو صحیح معنوں میں خدا کا بندہ بنانےکے لیے ضروری ہیں۔

مکمل بندگی تنها ممکن نہیں

مگر آپ ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ انسان اپنی جگہ خواہ کتنا ہی کامل ہو، وہ خدا کی بندگی کا پورا حق ادا نہیں کر سکتا جب تک کہ دوسرےبندے بھی اس کے مددگار نہ ہوں۔ خدا کے تمام احکام بجا نہیں لاسکتا جب تک کہ وہ بہت سے لوگ جن کے ساتھ رات دن اس کا رہنا سہنا ہے، جن سے ہر قوت اس کو معاملہ پیش آتا ہے، اس فرمانبرداری میں اس کا ساتھ نہ دیں۔ آدمی دنیا میں اکیلا تو پیدا نہیں ہوا ہے، نہ اکیلا رہ کر کوئی کام کر سکتا ہے ۔ اس کی ساری زندگی اپنے۔بھائی بندوں ، دوستوں اور ہمسایوں، معاملہ داروں اور زندگی کے بیشمار ساتھیوں سےہزاروں قسم کےتعلقات میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کے احکام بھی تنہا ایک آدمی کے لیے نہیں ہیں بلکہ انہی تعلقات کو درست کرنے کے لیے ہیں۔ اب اگر یہ سب لوگ خدا کے احکام بجالانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں، تو سب فرمانبردار بندے بن سکتے ہیں۔ اور اگر سب نافرمانی پر تلے ہوئے ہوں ، یا ان کے تعلقات اس قسم کے ہوں کہ خدا کے احکام بجالانےمیں ایک دوسرے کی مدد نہ کریں، تو اکیلے آدمی کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے قانون پر ٹھیک ٹھیک عمل کر سکے۔

تنہا ، شیطان کا مقابلہ ممکن نہیں

اس کے ساتھ جب آپ قرآن کو غور سے پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا کا حکم صرف یہی نہیں ہے کہ آپ خود اللہ کےمطیع و فرمانبردار بندے بنہیں ، بلکہ ساتھ ساتھ یہ حکم بھی ہے کہ دنیا کو خدا کا مطیع و فرمانبردار بنائیں۔دنیا میں خدا کےقانون کو پھیلائیں اور بھاری کریں۔شیطان کا قانون جہاں جہاں پھل رہا ہو اس کو مٹادیں اور اس کی جگہ الله وحده لا شریک لہ کے قانون کی حکومت قائم کریں ۔ یہ زبردست خدمت جو اللہ نے آپ کے سپرد کی ہے، اس کو ایک اکیلا مسلمان انجام نہیں دے سکتا۔ اور اگر کروڑوں مسلمان بھی ہوں مگر الگ الگ رہ کر کوشش کریں تب بھی وہ شیطان کےبندوں کی منظم طاقت کو نیچا نہیں دکھا سکتےاس کےلیے بھی ضرورت ہےکہ مسلمان ایک جتھا نہیں، ایک دوسرے کے مددگار ہوں، ایک دوسرے کی پشت پناہ بن جائیں، اور سب مل کر ایک ہی مقصد کے لیے جد و جهد کریں۔

حکم کی اطاعت مطلوب ہے

پھر زیادہ گہری نظر سےجب آپ دیکھیں گےتو یہ بات آپ پر کھلے گی کہ اتنےبڑے مقصد کے لیے فقط مسلمانوں کا مل جانا ہی کافی نہیں ہےبلکہ اس کی بھی ضرورت ہےکہ یہ مل جانا بالکل صحیح طریق پر ہو یعنی مسلمانوں کی جماعت اس طرح بنے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ان کے تعلقات ٹھیک ٹھیک جیسے ہونے چاہئیں ویسے ہی ہوں۔ ان کے آپس کے تعلق میں کوئی خرابی نہ رہنے پائے ۔ ان میں پوری یک جہتی ہو۔وہ ایک سردار کی اطاعت کریں۔ اس کے حکم پر حرکت کرنے کی عادت ان میں پیدا ہو۔ اور وہ یہ بھی سمجھے ہیں کہ اپنے سردار کی فرماں برداری انھیں کس طرح اور کہاں تک کرنی چاہیے اور نافرمانی کے مواقع کون سے ہیں۔

نماز با جماعت کے فوائد

ان سب باتوں کو نظر میں رکھ کر دیکھیے کہ نمازہ با جماعت کس طرح یہ سارےکام کرتی ہے۔

ایک آواز پر اکٹھا ہونا

حکم ہےکہ اذان کی آواز سن کر اپنے کام چھوڑ دو اور مسجد کی طرف آجاؤ۔یہ طلبی کی پکار سن کر ہر طرف سے مسلمانوں کا اٹھنا اور ایک مرکز پر جمع ہو جانا ان کےاندروہی کیفیت پیدا کرتا ہے جو فوج کی ہوتی ہے۔ فوجی سپاہی جہاں جہاں بھی ہوں ، جنگل کی آواز سُنتے ہی سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا کما نڈر بلا رہا ہے۔ اس طلبی پر سب کےدل میں ایک ہی کیفیت پیدا ہوتی ہے،یعنی کمانڈر کے حکم کی پیروی کا خیال ۔ اور اس خیال کے مطابق سب ایک ہی کام کرتے ہیں،یعنی اپنی اپنی جگہ سے اس آواز پر دوڑ پڑتے ہیں اور ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ فوج میں یہ طریقہ کسی لیے اختیار کیا گیا ہے ؟ اسی لیے کہ اول تو ہر ہر سپاہی میں الگ الگ حکم ماننےاور اس پر مستعدی کےساتھ عمل کرنےکی خصلت اور عادت پیدا ہو،اور پھر ساتھ ہی ساتھ ایسے تمام فرماں بردار سپاہی مل کر ایک گروہ ، ایک جھنتھا،ایک ٹیم بن جائیں اور ان میں یہ عادت پیدا ہو جائے کہ کمانڈر کےحکم پر ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ سب جمع ہو جایا کریں تا کہ جب کوئی مہم پیش آجائے تو ساری فوج ایک آواز پر ایک مقصد کےلیےاکٹھی ہو کر کام کر سکےایسا نہ ہو کہ سارےسپاہی اپنی اپنی جگہ تو بڑےنہیں مار خاں ہوں مگر جب کام کے موقع پر ان کو پکارا جائےتو وہ جمع ہو کر نہ لڑ سکیں، بلکہ ہر ایک اپنی اپنی مرضی کے مطابق جدھر منہ اُٹھےچلاجائےایسی حالت اگر کسی فوج کی ہو تو اس کےہزار بہادر سپاہیوں کو غنیم کےپچاس سپاہیوں کا ایک دستہ الگ الگ پکڑ کےختم کر سکتا ہے۔ بس اسی اُصول پر مسلمانوں کےلیے بھی یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ جو مسلمان جہاں اذان کی آواز سُنےسب کام چھوڑ کر اپنے قریب کی مسجد کا رخ کرے، تا کہ سب مسلمان مل کہ اللہ کی فوج بن جائیں۔ اس اجتماع کی مشق ان کو روزانہ پانچ وقت کرائی جاتی ہے۔کیونکہ دنیا کی ساری فوجوں سے بڑھ کر سخت ڈیوٹی اس خدائی فوج کی ہے۔ دوسری فوجوں کے لیے تو مدتوں میں کبھی ایک مہم پیش آتی ہے اور اس کی خاطر ان کو یہ ساری فوجی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ مگر اس خدائی فوج کو ہر وقت شیطانی طاقتوں کے ساتھ لڑنا ہے اور ہر وقت اپنے کمانڈر کے احکام کی تعمیل کرنی ہے ۔ اس لیے اس کے ساتھ یہ بھی بہت بڑی رعایت ہے کہ اسے روزانہ صرف پانچ مرتبہ خدائی بگل کی آواز پر دوڑنے اور خدائی چھاؤنی یعنی مسجد میں جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

با مقصد اجتماع

یہ تو محض اذان کا فائدہ تھا اب آپ مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور صرف اس جمع ہونے میں بے شمار فائدے ہیں۔ یہاں جو آپ جمع ہوئے تو آپ نے ایک دوسرے کو دیکھا، پہچانا ، ایک دوسرے سے واقف ہوئے ۔یہ دیکھنا، پر یہ دیکھنا، پہچاننا،واقف ہونا ، کسی حیثیت سےہے؟ اس حیثیت سے کہ آپ سب خدا کے بندےہیں ۔ ایک رسول کے پیرو ہیں۔ایک کتاب کے ماننے والے ہیں ۔ ایک ہی مقصد آپ سب کی زندگی کا مقصد ہے۔ اسی ایک مقصد کو پورا کرنے کےلیےآپ یہاں جمع ہوئے ہیں۔اور اسی مقصد کو یہاں سےواپس جا کہ بھی آپ کو پورا کرنا ہے۔اس قسم کی آشنائی، اس قسم کی واقفیت آپ میں خود بخود یہ خیال پیدا کردیتی ہےکہ آپ سب ایک قوم ہیں،ایک ہی فوج کے سپاہی ہیں، ایک دوسرے کےبھائی ہیں، دنیا میں آپ کی اغراض ، آپ کے مقاصد، آپ کے نقصانات اور آپ کے فوائد سب مشترک ہیں اور آپ کی زندگیاں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

باہمی ہمدردی

پھر آپ جو ایک دوسرے کو دیکھیں گےتو ظاہر ہےکہ آنکھیں کھول کر رہی دیکھیں گے،اور یہ دیکھنا بھی دشمن کا دشمن کو دیکھنا نہیں بلکہ دوست کادوست کو اور بھائی کا بھائی کو دیکھنا ہوگا۔اس نظر سےجب آپ دیکھیں گے کہ میرا کوئی بھائی پھٹے پرانے کپڑوں میں ہے، کوئی پریشان صورت ہے ، کوئی فاقہ زدہ چہرہ لیے ہوئے آیا ہے۔ کوئی معذور لنگڑا ، لولا یا اندھا ہے تو خواہ مخواہ آپ کےدل میں ہمدردی پیدا ہوگی۔ آپ میں سے جو خوشحال ہیں وہ غریبوں اور بے کسوں پر رحم کھائیں گے جو بد حال ہیں انھیں امیروں تک پہنچنے اور ان سے اپنا حال کہنے کی ہمت پیدا ہوگی۔کسی کے متعلق معلوم ہوگا کہ بیمار ہے یا کسی مصیبت میں بھینس گیا ہے اس لیے مسجد میں نہیں آیا تو اس کی عیادت کو جانے کا خیال پیدا ہو گا۔کسی کےمرنے کی خبر ملی تو سب مل کر اس کے لیے نماز جنازہ پڑھیں گےاور غمزده عزیزوں کے غم میں شریک ہوں گے ۔ یہ سب باتیں آپ کی باہمی محبت کو بڑھانے والی اور ایک دوسرے کی مدد گار بنانے والی ہیں۔

پاک مقصد کے لیے جمع ہونا

اس کے بعد اور ذرا غور کیجیے۔ یہاں جو آپ جمع ہوئے ہیں تو ایک پاک جگہ پاک مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ یہ چوروں اور شرابیوں اور جوئے بازوں کا اجتماع نہیں ہے کہ سب کے دل میں ناپاک ارادے بھرے ہوئے ہوں ۔ یہ تو اللہ کے بندوں کا اجتماع ہے، اللہ کی عبادت کے لیے، اللہ کے گھر میں سب اپنے خدا کے سامنے بندگی کا اقرار کرنے حاضر ہوئے ہیں۔ ایسے موقع پر اول تو ایمان دار آدمی میں خود ہی اپنے گناہوں پر شرمندگی کا احساس ہوتا ہے ۔ لیکن اگر اس نے کوئی گناہ اپنے دوسرے بھائی کے سامنے کیا تھا، اور وہ خود بھی یہاں مسجد میں موجود ہے تو محض اس کی نگاہوں کا سامنا ہو جانا ہی اس کے لیے کافی ہےکہ گناہ گار اپنے دل میں کٹ کٹ جائے۔ اور اگر کہیں مسلمانوں میں ایک دوسرےکو نصیحت کرنے کا جذبہ بھی موجود ہو اور وہ جانتےساتھ ایک دوسرے کی اصلاح کس طرح کرنی چاہیے، تو یقین جانیے کہ یہ اجتماعہوں کہ همدردی و محبت کےانتہائی رحمت و برکت کا موجب ہوگا۔ اس طرح سب مسلمان مل کر ایک دوسرےکی خرابیوں کو دور کریں گے، ایک دوسرے کی کمی پوری کریں گے اور پوری جماعت نیکوں اور صالحوں کی جماعت بنتی چلی جائے گی۔

اخوت

یہ صرف مسجد میں جمع ہونے کی برکتیں ہیں۔ اس کے بعد یہ دیکھیے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے میں کتنی برکات پوشیدہ ہیں۔ آپ سب ایک صف میں ایک دوسرے کےبرابر کھڑے ہوتے ہیں۔نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ نہ کوئی اونچےدرجے کا ہے نہ نیچےدرجےکا۔ خدا کےدربار میں خدا کے سامنے سب ایک درجےمیں ہیں۔ کسی کا ہاتھ لگنےاور کسی کےپچھو جانےسےکوئی ناپاک نہیں ہوتا۔ سب پاک ہیں، اس لیےکہ سب انسان ہیں،ایک خدا کے بندے ہیں اور ایک ہی دین کے ماننے والے ہیں۔ آپ میں خاندانوں اور قبیلوں اور ملکوں اور زبانوں کا بھی کوئی فرق نہیں۔ کوئی سید ہے، کوئی پٹھان ہے، کوئی را بچھوت ہے، کوئی بات ہے،کوئی کسی ملک کا رہنے والا ہے اور کوئی کسی ملک کا ۔ کسی کی زبان کچھ ہے اور کسی کی کچھ۔ مگر سب ایک صف میں کھڑے خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سب ایک قوم ہیں۔ یہ حسب نسب اور برادریوں اور قوموں کی تقسیم سب جھوٹی ہے۔ سب سے بڑا تعلق آپ کے درمیان خدا کی بندگی و عبادت کا تعلق ہے۔ اس میں جب آپ سب ایک ہیں تو پھر کسی معاملہ میں بھی کیوں الگ ہوں؟

حرکات میں یکسانیت

پھر جب آپ ایک صف میں کندھےسے کندھے ملا کر کھڑے ہوتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک فوج اپنے بادشاہ کےسامنے خدمت کےلیےکھڑی ہے۔صف باندھ کر کھڑے ہونےاور مل کر ایک ساتھ حرکت کرنےسےآپ کےدلوں میں یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ آپ کو یہ مشق کرائی جاتی ہے کہ خدا کی بندگی میں اس طرح ایک ہو جاؤ کہ سب کے ہاتھ ایک ساتھ اُٹھیں اور سب کے پاؤں ایک ساتھ چلیں۔ گویا آپ دس ہیں یا سویا ہزار آدمی نہیں ہیں بلکہ مل کر ایک آدمی کی طرح بن گئے ہیں ۔

دعائیں

اس جماعت اور اس صف بندی کے بعد آپ کیا کرتے ہیں ؟ ایک زبان ہو کر اپنے مالک سے عرض کرتے ہیں کہ :

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ .

"ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں" ۔

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

"ہم کو سیدھے راستے پر چلا"-

رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ

"ہمارے پروردگار تیرے ہی لیے حمد ہے"-

السَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ

"ہم سب پر سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر"-

پھر نماز ختم کر کے آپ ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور رحمت کی دُعا کرتے ہیں کہ :

السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ -

اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ سب ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں۔ سب مل کر ایک ہی مالک سے سب کے لیے بھلائی کی دُعا کرتے ہیں۔ آپ اکیلے اکیلےنہیں ہیں۔ آپ میں سے کوئی تنہا سب کچھ اپنے ہی لیے نہیں مانگتا ۔ ہر ایک کی یہی دعا ہے کہ سب پر خدا کا فضل ہو، سب کو ایک ہی سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق بخشی جائے، اور سب خدا کی سلامتی میں شامل ہوں ۔ اس طرح یہ نمازنہ آپ کے دلوں کو جوڑتی ہے، آپ کے خیالات میں یکسانی پیدا کرتی ہے اور آپ میں خیر خواہی کا تعلق پیدا کرتی ہے۔

امام کے بغیر جماعت نہیں

مگر دیکھ لیے کہ جماعت کی نمازہ آپ کبھی امام کے بغیر نہیں پڑھتے۔ دو آدمی بھی مل کر پڑھیں گے تو ایک امام ہوگا اور دوسرا مقتدی۔ جماعت کھڑی ہو جائےتو اس سے الگ ہو کر نماز پڑھنا سخت ممنوع ہے۔ بلکہ ایسی نماز ہوتی ہی نہیں۔حکم ہے کہ جو آنا جانے اُسی امام کے پیچھے جماعت میں شریک ہوتا جائے ۔ یہ سب چیزیں محض نماز ہی کےلیےنہیں ہیں،بلکہ ان میں دراصل آپ کو یہ سبق دیا گیا ہےکہ مسلمان کی حیثیت سےزندگی بسر کرنی ہے تو اس طرح جماعت بن کر رہو تمھاری جماعت ، جماعت ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ تمھارا کوئی امام نہ ہو، اور جماعت بن جائے تو اس سے الگ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری زندگی مسلمان کی زندگی نہیں رہی-

امامت کی نوعیت و حقیقت

صرف اسی پر میں نہیں کیا گیا بلکہ جماعت میں امام اور مقتدیوں کا تعلق اس طور پر قائم کیا گیا جس سے آپ کو معلوم ہو جائےکہ اس بچھوٹی مسجد کےباہر اس عظیم الشان مسجد میں جس کا نام زمین ہےآپ کےامام کی حیثیت کیا ہے۔اس کےفرائض کیا ہیں،اس کےحقوق کیا ہیں،آپ کو کس طرح اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور کن باتوں میں کرنی چاہیے، اگر وہ غلطی کرے تو آپ کیا کریں، کہاں تک آپ کو غلطی میں بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے ، کہاں آپ اس کو ٹوکنے کے مجازہ ہیں ، کہاں آپ اس سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ اپنی غلطی کی اصلاح کردے اور کس موقع پر آپ اس کو امامت سے ہٹا سکتے ہیں۔ یہ سب گویا چھوٹے پیمانے پر ایک بڑی سلطنت کو چلانے کی مشق ہے جو ہر روز پانچ مرتبہ آپ سے ہر چھوٹی مسجد میں کرائی جاتی ہے۔

امامت کے شرائط و آداب

یہاں اتنا موقع نہیں ہے کہ میں ان ساری تفصیلات کو بیان کروں مگر چند موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں :

ا۔ متقی اور پرهیزگار

حکم ہے کہ امام ایسےشخص کو بنایا جائے جو پرہیز گار ہو، علم میں زیادہ ہو، قرآن زیادہ جانتا ہو ، اور سن رسیدہ بھی ہو ۔حدیث میں ترتیب بھی بنا دی گئی ہےکہ ان صفات میں کونسی صفت کسی صفت پر مقدم ہے ۔ یہیں سے یہ تعلیم بھی دے دی گئی کہ سردارہ قوم کے انتخاب میں کن باتوں کا لحاظ کرنا چاہیے۔

۲- اکثریت کا نمائندہ

حکم ہے کہ امام ایسا شخص نہ ہو جس سے جماعت کی اکثریت ناراض ہو۔ یوں تو تھوڑے بہت مخالف کس کے نہیں ہوتے۔لیکن اگر جماعت میں زیادہ تر آدمی کسی شخص سےنفرت رکھتےہوں تو اسےامام نہ بنایا جائے ۔ یہاں پھر سردارہ قوم کے انتخاب کا ایک قاعدہ بنا دیا گیا۔

٣- مقتدیوں کا ہمدید

حکم ہے کہ جو شخص جماعت کا امام بنایا جائے وہ نماز ایسی پڑھائے کہ جماعت کے ضعیف ترین آدمی کو بھی تکلیف نہ ہو۔محض جوان، مضبوط ، تندرست اور فرصت والےآدمیوں کو ہی پیش نظر رکھ کر لمبی لمبی قرات اور لمبے لمبے رکوع اور سجدے نہ کرنے لگے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ جماعت میں بوڑھے بھی ہیں ، بیمار بھی ہیں. کمزور بھی ہیں اور ایسے مشغول بھی ہیں جو جلدی نماز پڑھ کر اپنے کام پر واپس جانا چاہتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاس معاملہ میں یہاں تک رحم اور شفقت کا نمونہ پیش فرمایا ہےکہ نماز پڑھاتے ہیں کسی بچے کے رونےکی آوانا آجاتی تو نماز مختصر کر دیتےتھے تاکہ اگر بچےکی ماں جماعت میں شریک ہے تو اسے تکلیف نہ ہو۔ یہ گویا سردار قوم کو تعلیم دی گئی ہےکہ وہ جب سردار بنایا جائےتو قوم کےاندراس کا طرز عمل کیسا ہونا چاہیے۔

۴۔ معذوری میں جگہ خالی کر دے۔

حکم ہے کہ امام کو اگر نماز پڑھاتے میں کوئی حادثہ پیش آجائے جس کی وجہ سے وہ نماز پڑھانے کے قابل نہ رہے تو فورا ہٹ جائےاور اپنی جگہ پیچھےکےآدمی کو کھڑا کر دے۔اس کےمعنی یہ ہیں کہ سردار قوم کا بھی یہی فرض ہے جب وہ سرداری کے قابل اپنے آپ کو نہ پائے تو اسے خود ہٹ جانا چاہیے اور دوسرےاہل آدمی کے لیے جگہ خالی کر دینی چاہیے۔ اس میں نہ شرم کا کچھ کام ہے اور نہ خود غرضی کا ۔

۵- امام کی کامل اطاعت

حکم ہےکہ امام کےفعل کی سختی کے ساتھ پابندی کرو۔اس کی حرکت سےپہلےحرکت کرنا سخت ممنوع ہے، یہاں تک کہ جو شخص امام سےپہلےرکوع یا سجد سےمیں جائےاس کےمتعلق حدیث میں آیا ہےکہ وہ گدھےکی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ یہاں گویا قوم کو سبق دیا گیا ہے کہ اسے اپنے سردار کی اطاعت کس طرح کرنی چاہیے۔

٦- غلطی پر تنبیہ

امام اگر نماز میں غلطی کرے، مثلاً جہاں اسے بیٹھنا چاہیے تھا وہاں کھڑا ہو جائے۔یا جہاں کھڑا ہونا چاہیے تھا وہاں بیٹھ جائے تو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہہ کر اسے غلطی پر متنبہ کر دو۔ سبحان اللہ کے معنی یہ ہیں اللہ پاک ہے ۔ امام کی غلطی پر سبحان الله کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ غلطی سے تو صرف اللہ ہی پاک ہے ۔ تم انسان ہو، تم سے بھول چوک ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ طریقہ ہے امام کو ٹوکنے کا۔ اور جب اس طرح اسے ٹوکا جائے تو اس کو لازم ہے کہ بلا کسی شرم و لحاظ کے اپنی غلطی کی اصلاح کرے۔ البته اگر ٹو کے جانے کے باوجود امام کو یقین ہو کہ اس نے صحیح فعل کیا ہے تو وہ اپنے یقین کے مطابق عمل کر سکتا ہے اور اس صورت میں جماعت کا کام یہ ہے کہ اس عمل کو غلط جاننے کے باوجود اُس کا ساتھ دے۔ نماز ختم ہونےکے بعد مقتدی حق رکھتے ہیں کہ امام پر اس کی غلطی ثابت کریں اور نماز دوبارہ پڑھائےکا اس سے مطالبہ کریں۔

٧- معصیت میں اطاعت نہیں

امام کے ساتھ جماعت کا یہ برتاؤ صرف اُن حالات کےلیے ہےجب کہ غلطی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہو۔ لیکن اگر امام سنت نبوتی کےخلاف نمازہ کی ترکیب بدل دے یا نماز میں قرآن کو جان بوجھ کر غلط پڑھےیا نماز پڑھاتے ہوئےکفر و شرک یا صریح گناہ کا ارتکاب کرے تو جماعت کا فرض ہے کہ اُسی وقت نماز توڑ کر اس امام سے الگ ہو جائے۔

یہ سب باتیں ایسی ہیں جن میں پوری تعلیم دے دی گئی ہے کہ تم کو اپنی قومی زندگی میں اپنے سردار کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔

برادرانِ اسلام یہ فوائد جو میں نے نمازہ با جماعت کےبیان کیے ہیں ان سےآپ نے اندازہ کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ایک عبادت میں، جو دن بھر میں پانچ مرتبہ صرف چند منٹ کے لیے ادا کی جاتی ہے، کسی طرح دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں آپ کے لیے جمع کر دی ہیں ۔ کس طرح یہی ایک چیز آپ کو تمام سعاد توں سے مالا مال کر دیتی ہے اور کس طرح یہ آپ کو اللہ کی غلامی اور دنیا کی حکمرانی کےلیے تیار کرتی ہے ۔ اب آپ ضرور سوال کریں گے کہ جب نماز ایسی چیز ہے تو جو فائدے تم اس کے بیان کرتے ہو یہ حاصل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کا جواب انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں دُوں گا۔

نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں ؟

برادرانِ اسلام، آج کے خطبہ میں مجھےآپ کو یہ بتانا ہے کہ جس نماز کےاس قدر فائدےمیں نے کئی خطبوں میں مسلسل آپ کےسامنےبیان کیےہیں وہ اب کیوں وہ فائدےنہیں دےرہی ہے؟ کیا بات ہے کہ آپ نمازیں پڑھتے ہیں اور پھر بھی آپ کی زندگی نہیں سدھرتی ؟ پھر بھی آپ کےاخلاق پاکیزہ نہیں ہوتے؟پھر بھی ایک زبر دست خدائی فوج نہیں بنتے؟ پھر بھی کفار آپ پر غالب ہیں ؟ پھر بھی آپ دنیا میں تباہ حال اور نکبت زدہ ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب تو یہ ہو سکتا ہےکہ اول تو آپ نماز پڑھتے ہی نہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو اس طریقہ سے نہیں پڑھتے ہو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ اس لیے اُن فائدوں کی توقع آپ نہیں کر سکتے جو مومن کو معراج کمال تک پہنچانے والی نماز سے پہنچنے چاہئیں ۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ صرف اتنا سا جواب آپ کو مطمئن نہیں کرسکتا، اس لیے ذرا تفصیل کے ساتھ آپ کو یہ بات سمجھاؤں گا۔

ایک مثال _______ گھڑی

یہ گھنٹہ_١ جو آپ کے سامنے لٹک رہا ہے ، آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں بہت سے پرزے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑے ہوئے ہیں ۔ جب اس کو کوک_٢ دی جاتی ہے تو سب پرزے اپنا اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور ان کے حرکت کرنےکے ساتھ ہی باہر کے سفید تختے پر ان کی حرکت کا نتیجہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یعنی گھنٹے کی دونوں سوئیاں چل کر ایک ایک سیکنڈا اور ایک ایک منٹ بتانے لگتی ہیں۔ اب آپ ذرا غور کی نگاہ سے دیکھیے - گھنٹے کے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ صحیح وقت بتائے۔ اسی مقصد کے لیے گھنٹے کی مشین میں وہ سب پرزے جمع کیےگئے جو صحیح وقت بتانے کے لیے ضروری تھے۔ پھر ان سب کو جوڑا گیا کہ سب مل کر باقاعدہ حرکت کریں اور ہر پرزہ وہی کام اور اتنا ہی کام کرتا چلا جائے جتنا صحیح وقت بتانے کے لیے اس کو کرنا چاہیے۔ پھر کوک دینے کا قاعدہ مقرر کیا گیا تا کہ ان پرزوں کو ٹھیرنے نہ دیا جائے اور تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد ان کو حرکت دی جاتی رہے ۔ اس طرح جب تمام پرزوں کو ٹھیک ٹھیک جوڑا گیا اور ان کو کوک دی گئی تب کہیں یہ گھنٹہ اس قابل ہوا کہ وہ مقصد پورا کرے جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے۔ اگر آپ اسے کوک نہ دیں تو یہ وقت نہیں بتائے گا۔ اگر آپ کو کے ہیں لیکن اس قاعدے کے مطابق نہ دیں جو کوک دینے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، تو یہ بند ہو جائے گا، یا چلے گا بھی تو صحیح وقت نہ بتائے گا۔ اگر آپ اس کے بعض پڑنےنکال ڈالیں اور پھر کوک دیں تو اس کوک سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اگر آپ اس کےبعض پرندوں کو نکال کہ اس کی جگہ سنگر میشین کے پرزے لگا دیں اور پھر کو کہتے ہیں تو یہ نہ وقت بتائے گا اور نہ کپڑا ہی بیٹے گا ۔ اگر آپ اس کے سارے پرزےاس کے اندرہی رہنے دیں لیکن ان کو کھول کر ایک دوسرے سے الگ کر دیں تو کوک دینے سے کوئی پرزہ بھی حرکت نہ کرے گا۔ کہنے کو سارے پرزےاس کےاندر موجود ہوں گےمگر محض پرزوں کے موجود رہنےسےوہ مقصد حاصل نہ ہو گا جس کے لیے گھنٹہ بنایا گیا ہے ۔ کیوں کہ ان کی ترتیب اور ان کا آیس کا تعلق آپ نے توڑ دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مل کر حرکت نہیں کر سکتے۔یہ سب صورتیں جو میں نے آپ سےبیان کی ہیں ان میں اگر چہ گھنٹےکی ہستی اور اس کو کوک دینے کا فعل دونوں بیکار ہو جاتے ہیں لیکن دُور سے دیکھنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ گھنٹہ نہیں ہے یا آپ کو ک نہیں دے رہے ہیں۔ وہ تو یہی کہے گا کہ صورت بالکل گھنٹے جیسی ہے اور یہی امید کرے گا کہ گھنٹے کا جو فائدہ ہے وہ اس سےحاصل ہونا چاہیے۔ اسی طرح دُور سے جب وہ آپ کو کوک دیتے ہوئے دیکھے گا تو یہی خیال کرے گا کہ آپ واقعی گھنٹے کو کوک دے رہے ہیں، اور یہی توقع کریگا کہ گھنٹے کو کوک دینے کا جو نتیجہ ہے وہ ظاہر ہونا چاہیے ۔ لیکن یہ توقع پوری کیسےہو سکتی ہے جبکہ یہ گھنٹہ بس دُور سے دیکھنے ہی کا گھنٹہ ہے اور حقیقت میں اس کے اندر گھنٹہ بین باقی نہیں رہا ہے۔


١- وقت بتانے والی گھڑی جو دیوار پر آویزاں کی جاتی ہے۔

٢- جسے عوام چابی دنیا کہتے ہیں۔

امت مسلمہ کا مقصد

یہ مثال جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے اس سے آپ سارا معاملہ سمجھ سکتے ہیں ۔ اسلام کو اسی گھنٹے پر قیاس کر لیجیے جس طرح گھنٹےکا مقصد صحیح وقت بتانا ہے اُسی طرح اسلام کا مقصد یہ ہے کہ زمین میں آپ خدا کےخلیفہ،خلق پر خدا کے گواہ اور دنیا میں دعوت حق کےعلمبردار بن کر رہیں خود خدا کے حکم پر چلیں، سب پر خدا کا حکم چلائیں ، اور سب کو خدا کے قانون کا تابع بنا کر رکھیں ۔

اس مقصد کو صاف طور پر قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے کہ :

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُونِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (آل عمران : ۱۱۰)

" تم وہ بہترین امت ہو جسے نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔تمھارا کام یہ ہے کہ سب انسانوں کو نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور اللہ پر ایمان رکھو۔"

وَكَذلِكَ جَعَلْنَكُمُ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ربقره : ۱۴۳)

" اور اس طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو-"

وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (نور : ٥٥)

"اللہ نے وعدہ کیا ہے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائیں اور نیک عمل کریں وہ ضرور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّين كله لله، رانفال : ۳۹)

"اور لوگوں سے جنگ کرو یہاں تک کہ بقیہ اللہ کی بندگی کا فتنہ مٹ جائے اور اطاعت پوری کی پوری صرف اللہ کے لیے ہوئے"-

اسلامی احکام باہم مربوط ہیں جیسے گھڑی کے پڑنے

اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھنٹے کے پرزوں کی طرح اسلام میں بھی وہ تمام پرزے جمع کیے گئے ہیں جو اس غرض کےلیے ضروری اور مناسب تھےدین کے عقاید و اخلاق کے اصول،معاملات کے قاعدے، خدا کے حقوق، بندی کےحقوق خود اپنےنفس کےحقوق دنیا کی ہر چیز کےحقوق سجس سےآپ کو واسطہ پیش آتا ہےکمانے کےقاعدے، اور خرچ کرنےکےطریقےجنگ کےقانون اور صلح کےقاعدے، حکومت کرنےکےقوانین اور حکومت اسلامی کی اطاعت کرنے کے ڈھنگ،یہ سب اسلام کےپرزے ہیں اور ان کو گھڑی کےپرزوں کی طرح ایک ایسی ترتیب سے ایک دوسرے کےساتھ کیا گیا ہےکہ جو نہی اس میں کوک دی جائے، ہر پرزہ دوسرے پرزوں کےساتھ مل کر حرکت کرنے لگے، اور ان سب کی حرکت سےاصل نتیجہ یعنی اسلام کا غلبہ اور دنیا پر خدائی قانون کا تسلط انطراح مسلسل ظاہر ہونا شروع ہو جائےجس طرح اس گھنٹےکو آپ دیکھ رہےہیں کہ اس کےپرزوں کی حرکت کےساتھ ہی باہر کے سفید تختے پر نتیجہ برابر ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ گھڑی میں پرزوں کو ایک دوسرں کےساتھ باندھےرکھنے کےلیےچند کیلیں اور چند پنیاں لگائی گئی ہیں اسی طرح اسلام کےتمام پرزوں کو ایک دوسرے کےساتھ جھڑا رکھنےاور ان کی صحیح ترتیب قائم رکھنےکےلیےوہ چیز رکھی گئی ہےجس کو نظام جماعت کہاجاتا ہےیعنی مسلمانوں کا ایک ایسا سردار جو دین کا صحیح علم اور تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔جماعت کے زماغ مل کر اس کی مدد کریں، جماعت کےہاتھ پاؤں اس کی اطاعت کریں،ان سب کی طاقت سے وہ اسلام کے قوانین نافذ کرے اور لوگوں کو اُن قوانین کی خلاف ورزی سے روکے ، اس طریقے سے جب سارے پرزے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں اور ان کی ترتیب ٹھیک ٹھیک قائم ہو جائے تو ان کو حرکت دینے اور دیتے رہنے کے لیے کوک کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہی کوک یہ نماز ہے جو ہر روز پانچ وقت پڑھی جاتی ہے ۔ پھر اس گھڑی کو صاف کرتے رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ صفائی یہ روزےہیں جو سال بھر میں تیس دن رکھےجاتے ہیں۔ اور اس گھڑی کو تیل دیتے رہنے کی بھی ضرورت ہے، سو زکواۃ وہ تیل ہے جو سال بھر میں ایک مرتبہ اس کے پرزوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ تیل کہیں باہر سے نہیں آتا بلکہ اسی گھڑی کے بعض پرزے تیل بناتے ہیں اور بعض سوکھے ہوئےپرزوں کو روغن دار کر کے آسانی کے ساتھ چلنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ پھر اسےکبھی کبھی اوور ہال کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، سو وہ اوور ہالنگ حج ہے جو عمر میں ایک مرتبہ کرنا ضروری ہے، اور اس سے زیادہ جتنا کیا جا سکے اتنا ہی بہتر ہے۔

متفرق پرزوں کا جوڑ کار آمد نہیں

اب آپ غور کیجیےکہ یہ کوک دنیا اور صفائی کرنا اور تیل دینا اور اورهال کرنا اسی وقت تو مفید ہو سکتا ہے جب اس فریم میں اسی گھڑی کے سارے پرزےموجود ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ اُسی ترتیب سے جوڑے ہوئے ہوں جس سے گھڑی ساز نے انھیں جوڑا تھا، اور ایسے تیار رہیں کہ کوک دیتے ہی اپنی مقررہ حرکت کرنے لگیں اور حرکت کرتے ہی نتیجه دکھانے لگیں۔ لیکن یہاں معام ہی کچھ دوسرا ہو گیا ہے۔ اول تو وہ نظام جماعت ہی باقی نہیں رہا جس سے اس گھڑی کےپرزوں کو باندھا گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارے بیچ ڈھیلے ہوگئےاور پردہ پرزہ الگ ہو کہ بکھر گیا۔ اب جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ، ہر شخص مختار ہے۔ اس کا دل چاہے تو اسلام کے قانون کی پیروی کرے اور نہ بچا ہے تو نہ کرے۔ اس پر بھی آپ لوگوں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا تو آپ نےاس گھڑی کےبہت سے پرزے نکال ڈالےاور ان کی جگہ ہر شخص نےاپنی اپنی پسند کےمطابق جس دوسری مشین کا پردہ چاہا لا کر اس میں فیٹ کر دیا۔ کوئی صاحب سنگر مشین کا پُرزہ پسند کر کےلےآئے،کسی صاحب کو آٹا پیسنے کی چکی کا کوئی پرزہ پسند آ گیا تو وہ اُسے اٹھا لائے۔ اور کسی صاحب نےموٹر لاری کی کوئی چیز پسند کی تو اسےلا کر اس گھڑی میں لگا دیا۔اب آپ مسلمان بھی ہیں اور بینک سےسودی کاروبار بھی چل رہا ہےانشورنس کمپنی میں ہیمیہ بھی کرا رکھا ہےعدالتوں میں جھوٹےمقدمےبھی کر رہےہیں۔کفر کی وفادار آ خدمت بھی ہو رہی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں اور بیویوں کو میم صاحب بھی بنایا جا رہا ہے۔ بچوں کو مادہ پرستانہ تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ گاندھی صاحب کی پیروی بھی ہو رہی ہے اور لین صاحب کے راگ بھی گانے جا رہے ہیں ۔غرض کوئی غیر اسلامی چیز ایسی نہیں رہی جسے ہمارے بھائی مسلمانوں نے لالا کر اسلام کی اس گھڑی کے فریم میں ٹھونس نہ دیا ہو۔

غیر متوقع نتائج کے مخاطب

یہ سب حرکتیں کرنے کے بعد اب آپ چاہتے ہیں کہ کوک دینے سےیہ گھڑی چلے اور وہی نتیجہ دکھائے جس کے لیے اس گھڑی کو بنایا گیا تھا۔اور صفائی کرنے اور تیل دینےاور اوور ہال کرنےسےوہی فائدےہوں جو ان کاموں کے لیے مقرر ہیں ۔ مگر ذرا عقل سے آپ کام لیں تو بآسانی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو حال آپ نے اس گھڑی کا کر دیا ہے اس میں تو عمر بھر کوک دینے اور صفائی کرنے اور تیل دیتے رہنے سے بھی کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ جب تک آپ باہر سےآئے ہوئے تمام پرزوں کو نکال کر اس کے اصلی پرزے اس میں نہ رکھیں گے اور پھر ان پرزوں کو اسی ترتیب کے ساتھ بھوڑ کر کسی نہ دیں گے میں طرح ابتدا میں انھیں جوڑا اور کیا گیا تھا، آپ ہر گنزان نتائج کی توقع نہیں کر سکتے جو اس سے کبھی ظاہر ہوئے تھے۔

عبادات بے اثر ہونے کی اصل وجہ

خوب سمجھ لیجیے کہ یہ اصلی وجہ ہے آپ کی نمازوں اور روزوں اور زکوۃ اور حج کے بے نتیجہ ہو جانے کی۔ اول تو آپ میں سے نمازیں پڑھنے والے اور روزےرکھنے والے اور زکوۃ اور حج ادا کرنے والے ہیں ہی کتنے ۔ نظام جماعت کے بکھر جانے سے ہر شخص مختار مطلق ہو گیا ہے. چاہے ان فرائض کو ادا کرے اچھا ہے نہ کرے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ پھر بجو لوگ انھیں ادا کرتے ہیں وہ بھی کس طرح کرتے ہیں؟ نماز میں جماعت کی پابندی نہیں، اور اگر کہیں جماعت کی پابندی ہےبھی تو مسجدوں کی امامت کے لیے اُن لوگوں کو چنا جاتا ہے جو دنیا میں کسی اور کام کے قابل نہیں ہوتے ۔ مسجد کی روٹیاں کھانے والے ، جاہل، کم حوصلہ اور پست اخلاق لوگوں کو آپ نے اُس نماز کا امام بنایا ہے جو آپ کو خدا کا خلیفہ اور دنیا میں خدائی فوجدار بنانے کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح روزے اور زکوۃ اور آج کا جو حال ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود آپ کہہ سکتےہیں کہ اب بھی بہت سے مسلمان اپنے فرائض دینی بجا لانے والے ضرور ہیں۔لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں گھڑی کا پُرزہ پرزہ الگ کر کے اور اس میں باہر کی بیسیوں چیزیں داخل کر کے آپ کا کوک دیتا اور نہ دینا ، صفائی کرنا اور نہ کرنا تیل دینا اور نہ دینا، دونوں بے نتیجہ ہیں۔ آپ کی یہ گھڑی دُور سے گھڑی ہی نظر آتی ہےدیکھنے والا یہی کہتا ہے کہ یہ اسلام ہے اور آپ مسلمان ہیں ۔ آپ جب اس گھڑی کو کوک دیتے اور صفائی کرتے ہیں تو دور سے دیکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ واقعی آپ کوک دے رہے اور صفائی کر رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ نماز نماز نہیں ہے ، یا یہ روزے، روزے نہیں ہیں۔ مگر دیکھنے والوں کو کیا خبر کہ اس ظاہری فریم کے اندر کیا کچھ کارستانیاں کی گئی ہیں۔

ہماری افسوس ناک حالت

برادران اسلام، میں نے آپ کو اصلی وجہ بتادی ہے کہ آپ کے یہ مذہبی اعمال آج کیوں بے نتیجہ ہور ہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ نمازیں پڑھنےاور روزے رکھنے کےبا وجود آپ خدائی فوجدار بننے کے بجائے کفار کے قیدی اور ہر ظالم کےتختہ مشق بنےہوئے ہیں۔لیکن آپ اگر برا نہ مانیں تو میں آپ کو اس سےبھی زیادہ افسوسناک بات بتاؤں آپ کو اپنی اس حالت کا رنج اور اپنی مصیبت کا احساس تو ضرور ہے مگر آپ کے اندر ہزار میں سے نو سو ننانوے بلکہ اس سےبھی زیادہ لوگ ایسےہیں جو اس حالت کو بدلنےکی صحیح صورت کے لیے راضی نہیں ہیں۔وہ اسلام کےاس گھنٹےکو جس کا پرزہ پرزہ اندر سےالگ کر دیا گیا ہےاور جس میں اپنی اپنی پسند کے مطابق ہر شخص نے کوئی نہ کوئی چیز ملا رکھی ہےاز سر نو مرتب کرنا برداشت نہیں کر سکتےکیونکہ جب اس میں سےبیرونی چیزیں نکالی جائیں گی تو لامحالہ ہر ایک کی پسند کی چیز نکالی جائےگی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ دوسروں کی پسند کی چیزیں تو نکال دی جائیں، مگر آپ نے خود باہر کا ہجو پرزہ لاکر لگا رکھا ہوا سے رہنے دیا جائے ۔اسی طرح جب اسے کیا جائےگا تو سب ہی اس کےساتھ کئےجائیں گےیہ ممکن نہیں ہےکہ اور سب تو کسی دیےجائیں مگر صرف ایک آپ ہی ایسے پرزے ہوں جسےڈھیلا چھوڑ دیا جائے۔ بس یہی وہ چیز ہے کہ جب اس کو کیا جائے گا تو وہ خود بھی اس کے ساتھ کئے جائیں گے، اور یہ ایسی مشقت ہے جسے برضا و رغبت گوارا کرنا لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ اس لیے وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ یہ گھنٹہ اسی حال نہیں دیوار کی زینت بنا ر ہے اور دُور سے لاکر کہ لوگوں کو اس کی زیارت کرائی جائے، اور انھیں بتایا جائے کہ اس گھنٹے میں ایسی اور ایسی کرامات چھپی ہوئی ہیں۔اس سے بڑھ کر جو لوگ کچھ زیادہ اس گھنٹے کے ہوا خواہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اسی حالت میں اس کو خوب دل لگا لگا کر کوک دی جائے اور نہایت تن دہی کے ساتھ اس کی صفائی کی جائے انگر بھاشا کہ اس کے پرزوں کو مرتب کرنے اور کہنے اور بیرونی پرزے نکال پھینکنے کا ارادہ نہ کیا جائے۔

کاش میں آپ کی ہاں میں ہاں ملا سکتا،مگر میں کیا کروں کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اس کے خلاف نہیں کہہ سکتا ۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس حالت میں آپ اس وقت ہیں اس میں پانچ وقت کی نمازوں کے ساتھ تہجد اور اشراق اور چاشت بھی آپ پڑھنے لگیں، اور پانچ پانچ گھنٹے روزانہ قرآن بھی پڑھیں ، اور رمضان شریف کے علاوہ گیارہ مہینوں میں ساڑھے پانچ مہینوں کے مزید روزے بھی رکھ لیا کریں تب بھی کچھ حاصل نہ ہو گا۔ گھڑی کے اندر اس کے اصلی پرزے رکھے ہوں اور نھیں کسی دیا جائے تب تو ذرا سی کوک بھی اس کو پلادے گی، تھوڑا سا صاف کرنااور ذرا سا تیل دینا بھی نتیجہ نعیز ہو گا۔ ورنہ عمر بھر کوک دیتے رہیے ، گھڑی نہ چلتی ہے نہ چلے گی ۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ -

Blank page

کتاب خطبات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Sermons