برادراں اسلام ، نماز کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن زکواۃ ہے۔عام طور پر چونکہ عبادات کے سلسلہ میں نماز کے بعد روزے کا نام لیا جاتا ہے، اس لیےلوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ نماز کے بعد روزے کا نمبر ہے ۔ مگہ قرآن مجید سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کے بعد سب سے بڑھ کر زکوۃ کی اہمیت ہے۔یہ دو بڑے ستون ہیں جن پر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ان کے ہٹنے کےبعد اسلام قائم نہیں رہ سکتا ۔
زکوۃ کے معنی ہیں پاکی اور صفائی کے۔ اپنے مال میں سے ایک حصہ حاجتمندوں اور مسکینوں کے لیے نکالنے کو زکواۃ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس طرح آدمی کا مال،اور اس مال کے ساتھ خود آدمی کا نفس بھی پاک ہو جاتا ہے ۔ جو شخص خدا کی بخشی ہوئی دولت میں سے خدا کے بندوں کا حق نہیں نکالنا اس کا مال ناپاک ہے، اور مان کے ساتھ اس کا نفس بھی ناپاک ہے۔ کیونکہ اُس کے نفس میں احسان فراموشی بھری ہوئی ہے۔ اس کا دل اتنا تنگ ہے،اتنا خود غرض ہے،اتنا زہر پرست ہےکہ جس خدا نے اس کو حقیقی ضروریات سےزیادہ دولت دے کر اس پر احسان کیا،اس کےاحسان کا حق ادا کرتےہوئےبھی اُس کا دل دُکھتا ہے ۔ایسے شخص سے کیا امید کی جاسکتی ہےکہ وہ دنیا میں کوئی نیکی بھی خدا کےواسطے کر سکے گا، کوئی قربانی بھی محض اپنے دین و ایمان کی خاطر برداشت کرے گا۔لہذا ایسے شخص کا دل بھی ناپاک اور اس کا وہ مال بھی ناپاک جسےوہ اس طرح جمع کرے ۔
اللہ تعالیٰ نے زکواۃ کا فرض عائدہ کر کے ہر شخص کو امتحان میں ڈالا ہے۔ جوشخص بخوشی اپنے ضرورت سے زیادہ مال میں سےخدا کا حق نکالتا ہے اور اس کے بندیں کی مدد کرتا ہے وہی اللہ کے کام کا آدمی ہے اور وہی اس لائق ہےکہ ایمانداروں کی جماعت میں اس کا شمار کیا جائے۔اور جس کا دل اتنا تنگ ہےکہ وہ اتنی ذرا سی قربانی بھی خداوند عالم کےلیےبرداشت نہیں کر سکتا،وہ اللہ کےکسی کام کا نہیں۔وہ ہرگزہ اس لائق نہیں کہ اہل ایمان کی جماعت میں داخل کیا جائے ۔ وہ تو ایک سڑا ہوا عضو ہے جسے جسم سے الگ ہی کہ دینا بہتر ہے ورنہ سارے جسم کو سڑا دے گا۔یہی وجہ ہے کہ سر کا یہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب کے بعض قبیلوں نے زکوۃ دینےسے انکار کیا تو جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نےاُن سے اُس طرح جنگ کی جیسےکافروں سے کی جاتی ہے،حالانکہ وہ لوگ نماز پڑھتےتھےاور خدا اور رسول کا اقرار کرتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کے بغیر نمازروزہ اور ایمان کی شہادت سب بیکار ہیں، کسی چیز کا بھی اختیار نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن مجید اُٹھا کر دیکھیےآپ کو نظر آئےگا کہ قدیم زمانہ سےتمام انبیاء کی امتوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم لازمی طور پر دیا گیا ہےاور دین اسلام کبھی کسی نبی کےزمانےمیں بھی ان دو چیزوں سےخالی نہیں رہا۔سید نا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کے انبیاء کا ذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
"ہم نے اُن کو انسانوں کا پیشوا بنایا۔ وہ ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے ہم نے وحی کے ذریعہ سے ان کو نیک کام کرنےاور نماز پڑھنے اور زکواۃ دینے کی تعلیم دی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے"-
"وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اللہ کےنزدیک برگزیدہ تھے"
حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اپنی قوم کے لیے دعا کی کہ خدایا ہمیں اس دنیا کی بھلائی بھی عطا کر اور آخرت کی بھلائی بھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ؟ جواب میں ارشاد ہوا :
"میں اپنےعذاب میں جیسےچاہوں گا گھیر لوں گا اگرچه میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔مگر اس رحمت کو میں انہی لوگوں کےحق میں نکھوں گاجو مجھ سےڈریں گےاور زکوٰۃ دیں گےاور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے"۔
حضرت موسیٰ کی قوم چونکہ چھوٹے دل کی تھی اور روپے پر جان دیتی تھی جیسا کہ آج بھی یہودیوں کا حال آپ دیکھتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اتنےجلیل القدر پیغمبر کی دعا کے جواب میں صاف فرما دیا کہ تمھاری امت اگر زکواۃ کی پابندی کرے گی تب تو اس کے لیے میری رحمت کا وعدہ ہے، ورنہ ابھی سےصاف سن رکھو کہ وہ میری رحمت سے محروم ہو جائے گی اور میرا مذاب اسے گھیر لیگا۔چنانچہ حضرت موسیٰ کے بعد بھی بار ہا بہ بنی اسرائیل کو اس بات پر تنبیہ کی جاتی رہی۔بار بار اُن سے عہد لیے گئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نماز و زکوۃ کی پابندی کریں (سورۂ بقرہ، رکوع ۱۰) یہاں تک کہ آخر میں صاف نوٹس دےدیا گیا کہ :
" یعنی اللہ نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ، میں تمھارے ساتھ ہوں،اگر تم نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے رہو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور جو رسول آئیں ان کی مدد کرو اور اللہ کو قرض حسن دو تو میں تمھاری بُرائیاں تم سے دور کر دوں گا"-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آخری نبی حضرت عیسی علیہ السّلام تھے۔ سو ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوۃ کا ساتھ ساتھ حکم دیا، جیسا کہ سورۃ مریم میں ہے :
" اللہ تعالی نے مجھے برکت دی جہاں بھی میں ہوں اور مجھے ہدایت فرمائی کہ نماز پڑھوں اور زکواۃ دیتا رہوں جب تک زندہ رہوں ۔
اس سے معلوم ہو گیا کہ دین اسلام ابتدا سے ہر نبی کے زمانہ میں نماز اور زکواۃ کے ان دو بڑے ستونوں پر قائم ہوا ہےاور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا پر ایمان رکھنےوالی کسی امت کو بھی ان دو فرضوں سےمعاف کیا گیا ہو۔
اب دیکھیے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں یہ دونوں فرض کس طرح ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید کھولتے ہی سب سے پہلے جن آیات پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ کیا ہیں ؟ یہ کہ :
"یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ پرہیز گار کو دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتاتا ہے، اور پرہیز گار وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں"-
یعنی جن میں ایمان نہیں اور جو نماز اور زکوۃ کے پابند نہیں وہ نہ ہدایت پر ہیں اور نہ انھیں فلاح نصیب ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد اسی سورہ بقرہ کو پڑھتے جائیے۔ چند صفحوں کے بعد پھر حکم ہوتا ہے :
" نماز کی پابندی کرو اور زکواۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھو۔)"
پھر تھوڑی دور آگے چل کر اسی سورہ میں ارشاد ہوا :
لَيْسَ البران تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَالكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَب وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حبه ذوى القُربى واليَمى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ ، وَأَقَامَ الصَّلوة والى الذكور وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عُهَدُوا وَالصَّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقره: ١٧٧)
"نیکی محض اس کا نام نہیں ہےکہ مشرق یا مغرب کی طرف تم نےمنہ کر لیا بلکہ نیکی اُس شخص کی ہےجس نےاللہ اور آخرت اور ملائکہ اور کتاب الہی اور پیغمبروں پر ایمان رکھا اور اللہ کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سائلوں پر اپنا مال خرچ کیا اور (قرض یا اسیری) سے گردنیں چھڑانے میں مدد دی اور نماز کی پابندی کی اور زکواۃ ادا کی۔ اور نیک لوگ وہ ہیں جو عہد کرنے کےبعد اپنے عہد کو پورا کریں اور مصیبت اور نقصان اور جنگ کےموقع پر صبر کےساتھ راہ حق پر ڈٹ جائیں۔ایسے ہی لوگ نیچے مسلمان ہیں اور ایسے ہی لوگ متقی و پرهیزگار ہیں ۔"
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوٰةَ وَهُمُ ذَكِعُونَ ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الغَلِبُونَ (المائده : ۵۵-۵۶)
" مسلمانوں تمھارےحقیقی دوست اور مددگار صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگ ہیں۔ یعنی ایسے لوگ جو نماز پڑھتے اور زکواۃ دیتے اور خدا کے آگے جھکتے ہیں۔ پس جو شخص اللہ اور رسول اور ایماندار لوگوں کو دوست بنائے وہ اللہ کی پارٹی کا آدمی ہے اور اللہ کی پارٹی ہی غالب ہونےوالی ہے"
اس عظیم الشان آیت میں ایک بڑا قاعدہ بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو اس آیت سے آپ کو معلوم ہو گیا کہ اہل ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے ہیں۔ ان دو ارکان اسلام سے جو لوگ رو گردانی کریں اُن کا دعوائےایمان ہی جھوٹا ہے۔ پھر اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول اور اہل ایمان کی ایک پارٹی ہے اور ایماندار آدمی کا کام یہ ہے کہ سب سے الگ ہو کر اسی پارٹی میں شامل ہو جائے۔ جو مسلمان اس پارٹی سے باہر رہنے والے کسی شخص کو خواہ وہ باپ ہو، بھائی ہو، بیٹا ہو، ہمسایہ یا ہم وطن ہو یا کوئی بھی ہو، اگر وہ اس کو اپنا دوست بنائے گا اور اس سےمحبت اور مددگاری کا تعلق رکھے گا تو اسےیہ امید نہ رکھنی چاہیے کہ اللہ اس سے مدد گاری کا تعلق رکھنا پسند فرمائے گا۔ سب سے آخر میں اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو غلبہ اُسی وقت حاصل ہو سکتا ہےجب وہ یکسو ہو کر اللہ اور رسول اور صرف اہل ایمان ہی کو اپنا ولی، مددگار دوست اور ساتھی بنائیں۔
اب آگے چلیے۔ سوره توبه میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار و مشرکین سےجنگ کا حکم دیا ہے اور مسلسل کئی رکوعوں تک جنگ ہی کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے :
"پھر اگر وہ کفر و شرک سےتو بہ کریں، ایمان لےآئیں اور نماز پڑھیں اور زکواۃ دیں تو وہ تمھارےدینی بھائی ہیں۔"
یعنی محض کفر و شرک سے تو بہ کرنا اور ایمان کا اقرار کر لینا کافی نہیں ہےاس بات کا ثبوت کہ وہ واقعی کفر و شرک سےتائب ہو گئےہیں اور حقیقت میں ایمان لائے ہیں، صرف اسی طرح مل سکتا ہے کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور زکواۃ دیں۔لہذا اگر وہ اپنےاس عمل سےاپنےایمان کا ثبوت دےدیں تب تو تمھارے دینی بھائی ہیں، ورنہ ان کو بھائی نہ سمجھو اور ان سے جنگ بند نہ کرو۔
"مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں،اور ان مومن مردوں اور عورتوں کی صفات یہ ہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں،بدی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکواۃ دیتے ہیں، اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ رحمت کرے گا "
شن لیا آپ نے ، کوئی شخص مسلمانوں کا دینی بھائی بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اقراری ایمان کر کے عملاً نماز اور زکوۃ کی پابندی نہ کرے ۔ ایمان ، نماز اور زکوۃ یہ تین چیزیں مل کر ایمان داروں کی جماعت بناتی ہیں ۔ جو لوگ ان تینوں کے پابند ہیں وہ اس پاک جماعت کے اندر ہیں اور انہی کے درمیان دوستی، محبت، رضا اور مددگاری کا تعلق ہے، اور جو ان کے پابند نہیں ، وہ اس جماعت کے باہر ہیں،خواہ وہ نام کے مسلمان ہی کیوں نہ ہوں ۔ ان سے دوستی ، محبت اور رفاقت کا تعلق رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ تم نے اللہ کے قانون کو توڑ دیا اور اللہ کی پارٹی کو منتشر کر دیا، پھر تم دنیا میں غالب ہو کر رہنے کی امید کیسے کر سکتے ہو ؟
وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُهِ الَّذِينَ إِنْ مَّلَتُهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوة واتوا الزكوة وأمرُوا بِالْمَعْرُونِ وَنَهَوا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِه (الحج : ٤٠- ٤١)
" اللہ ضرور ان کی مدد کرےگا جو اس کی مدد کریں گے ، اور اللہ زبردست قوت والا اور سب پر غالب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں حکومت بخشیں تو یہ نماز قائم کریں گے،نہ کوۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے اور سب چیزوں کا انجام خدا کےہاتھ میں ہے "-
اس آیت میں مسلمانوں کو بھی وہی نوٹس دیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا۔ ابھی آپ کو سُنا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نےبنی اسرائیل کو کیا نوٹس دیا تھا،ان سےصاف فرما دیا تھا کہ ہمیں اسی وقت تک تمھارے ساتھ ہوں جب تک تم نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے رہو گے اور میرے نبیوں کے مشن میں ان کا ساتھ دو گے۔ یعنی میرے قانون کو دنیا میں جاری کرنے کی کوشش کرتے رہوگے۔جو نہی تم نے اس کام کو چھوڑا پھر میں اپنا ہاتھ تمھاری مدد سے کھینچ لوں گا۔ ٹھیک یہی بات اللہ نے مسلمانوں سے بھی فرمائی ہے۔ ان سے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر زمین میں طاقت حاصل کر کے تم نماز قائم کرو گے اور زکوۃ دو گے اور نیکیاں پھیلا ہےاور بدیوں کو مٹاؤ گے ، تب تو میں تمھارا مددگار ہوں، اور جس کا میں مددگار ہوں اسے کون دبا سکتا ہے۔ لیکن اگرتم نے زکوۃ سے منہ پھیرا اور زمین میں حکومت حاصل کر کے نیکیوں کے بجائے بلدیاں پھیلائیں اور بدیوں کے بجائے نیکیوں کو مٹانا شروع کیا اور میرا کلمہ بلند کرنے کے بجائے اپنا کلمہ بلند کرنے لگے، اور خراج وصول کر کےاپنے لیے زمین پر جنتیں بنانے ہی کو وراثت ارضی کا مقصود سمجھ لیا، تو سن رکھو کہ میری مدد تمھارے ساتھ نہ ہوگی۔ پھر شیطان ہی تمھارا مددگار رہ جائے گا۔
اللہ اکبر ! کتنا بڑا عبرت کا مقام ہے۔ جو دھمکی بنی اسرائیل کو دی گئی تھی،اس کو انھوں نے عالی تحولی زبانی دھمکی سمجھا اور اس کےخلاف عمل کر کےاپنا انجام دیکھ لیا کہ آج روئےزمین پر مارے مارے پھر رہے ہیں، جگہ جگہ سے نکالے جا رہے ہیں اور کہیں ٹھکانا نہیں پاتے ۔ کروڑہا کر وڑ روپے کے کھتے ان کے پاس پھرےپڑے ہیں، دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند قوم ہیں، مگر یہ روپیہ ان کے کسی کام نہیں آتا۔ نمازہ کے بجائے بدکاری اور زکواۃ کے بجائے سود خواری کا ملعون طریقہ انتیار کر کے انھوں نے خود بھی خدا کی لعنت اپنے اوپر مسلط کرالی اور اب اس لعنت کو لیے ہوئے طاعون کے بچوہوں کی طرح دنیا بھر میں اسے پھیلاتے پھر رہے ہیں ۔پھر یہی دھمکی مسلمانوں کو دی گئی اور مسلمانوں نےاس کی کچھ پروانہ کر کےنماز اور زکوۃ سےغفلت کی ، اور خدا کی بخشی ہوئی طاقت کو نیکیاں پھیلانےاور بدیوں کو مٹانے میں استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ دیکھ لو کہ حکومت کے تخت سےاتار کر پھینک دیے گئے ، دنیا بھر میں ظالموں کا تختہ مشق بن رہے ہیں اور روئے زمین،میں ہر جگہ ضعیف اور مغلوب ہیں۔نماز اور زکوۃ کو چھوڑنےکا انجام بد تو دیکھ چکے۔اب ان میں ایک جماعت ایسی پیدا ہوئی ہےجو مسلمانوں کو بے حیائی،فحش اور بدکاری میں مبتلا کرنا چاہتی ہے، اور ان سے کہہ رہی ہے کہ تمھارے افلاس کا علاج یہ ہےکہ بینک اور انشورنس کمپنیاں قائم کرو اور سود خواری شروع کر دو۔خدا کی قسم اگر انھوں نےیہ کیا تو وہی ذلت اور خواری ان پر مسلط ہو کر رہےگی جس میں یہودی مبتلا ہوئےہیں اور یہ بھی خدا کی اُس لعنت میں گرفتار ہو جائیں گے جس نے بنی اسرائیل کو گھیر رکھا ہے۔
برادرانِ اسلام ، آئندہ خطبوں میں میں آپ کو بتاؤں گا کہ زکواۃ کیا چیز ہے،کتنی بڑی طاقت اللہ نے اس چیز میں بھر دی ہے، اور آج سجس رحمت خداوندی کو مسلمان ایک معمولی چیز سمجھ رہے ہیں وہ حقیقت میں کتنی بڑی برکتیں رکھتی ہے۔آج کے خطبے میں میرا مقصد آپ کو صرف یہ بتانا تھا کہ نماز اور زکوۃ کا اسلام میں کیا درجہ ہے ۔ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں اور ان کے مولوی ان کو رات دن یہ اطمینان دلاتے رہتے ہیں کہ نماز نہ پڑھ کر اور زکوۃ نہ دےکر بھی وہ مسلمان رہتےہیں۔ مگر قرآن اس کی صاف الفاظ میں تردید کرتا ہے۔ قرآن کی رو سے کلمہ طیبہ کا اقرار ہی بے معنی ہے اگر آدمی اس کے ثبوت میں نمازہ اور زکوۃ کا پابند نہ ہو اسی بنا پر حضرت ابو بکرؓ نے زکواۃ سے انکار کرنے والوں کو کافر سمجھ کر ان کے خلاف تلوار اٹھائی تھی جیسا کہ میں ابھی آپ سے بیان کر چکا ہوں ۔ صحابہ کرام کو ابتدا میں شبہ تھا کہ آیا وہ مسلمان جو خدا اور رسول کا اقرار کرتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے،اُن لوگوں کےزمرہ میں شامل کیا جا سکتا ہے یا نہیں جن پر تلوار اُٹھانے کا حکم ہے۔مگر جب حضرت ابو بکر جن کو اللہ نے مقام نبوت کےقریب درجہ عطا فرمایا تھا۔اپنی بات پر اڑ گئے اور انھوں نے اصرار کے ساتھ فرمایا کہ خدا کی قسم اگر یہ لوگ اس زکوۃ میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیا کرتے تھے،اونٹ باندی نےکی ایک رستی بھی روکیں گےتو ئیں ان پر تلوار اٹھاؤں گا،تو بالآخر تمام صحابہ کےدلوں کو اللہ نے حق کے لیے کھول دیا اور سب نے یہ بات تسلیم کر لی کہ زکوۃ سے انکار کرنے والے پر جہاد کرنا چاہیے۔ قرآن مجید تو صاف کہتا ہے کہ زکوۃ نہ دینا ان مشرکین کا کام ہے جو آخرت کے منکر ہیں۔
برادران اسلام، پچھلے خطبے میں بیان کر چکا ہوں کہ نماز کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن زکواۃ ہے اور یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ جس طرح نماز سے انکار کر نیوالےکو کافر ٹھیرایا گیا ہے اسی طرح زکواۃ سے انکار کرنے والوں کو بھی نہ صرف کا فر ٹھیرایا گیا بلکہ ان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بالاتفاق جہاد کیا۔
اب میں آج کے خطبے میں آپ کے سامنے زکواۃ کی حقیقت بیان کروں گا تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ زکوۃ دراصل ہے کیا چیز ، اور اسلام میں اس کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے۔
آپ میں سے بعض لوگ تو ایسے سیدھے سادھے ہوتے ہیں جو ہر کسی ناکس کو دوست بنا لیتے ہیں، اور کبھی دوست بناتے وقت آدمی کو پرکھتے نہیں کہ وہ واقع میں دوست بنانے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ ایسے لوگ دوستی میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں اور بعد میں ان کو بڑی مایوسیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن جو عقلمند لوگ ہیں وہ جن لوگوں سے ملتے ہیں اُن کو خوب پرکھ کر ہر طریقہ سے جانچ پڑتال کر کے دیکھتے ہیں، پھر جو کوئی ان میں سے سچا، مخلص، وفادار آدمی ملتا ہے صرف اسی کو دوست بناتے ہیں، اور بیکار آدمیوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر حکیم و دانا ہے۔ اس سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کو اپنا دوست بنالےگا،اپنی پارٹی میں شامل کر لیگا اور اپنےدربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا جب انسانوں کی دانائی و عقلم بھی کا تقاضا یہ ہےکہ وہ بغیر بھانچےاور پرکھےکسی کو دوست نہیں بناتےتو اللہ جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے، ناممکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنےکےبغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے۔یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلےہوئےہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ، اچھے اور بڑے سب کےسب اس قابل نہیں ہو سکتےکہ اللہ کی اُس پارٹی ہیں، اس محب اللہ میں شامل کر لیے بھائیں جیسے اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہےاللہ نےکمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان، چند آزمائشیں، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترک وہ تو اللہ کی پارٹی میں آجائےاور جو ان پر پورا نہ اترے وہ خود بخود اس پارٹی سےالگ ہو کر رہ جائے، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کےقابل نہیں ہوں۔
اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر حکیم و دانا ہے۔ اس سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کو اپنا دوست بنالےگا،اپنی پارٹی میں شامل کر لیگا اور اپنےدربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا جب انسانوں کی دانائی و عقلم بھی کا تقاضا یہ ہےکہ وہ بغیر بھانچےاور پرکھےکسی کو دوست نہیں بناتےتو اللہ جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے، ناممکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنےکےبغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے۔یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلےہوئےہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ، اچھے اور بڑے سب کےسب اس قابل نہیں ہو سکتےکہ اللہ کی اُس پارٹی ہیں، اس محب اللہ میں شامل کر لیے بھائیں جیسے اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہےاللہ نےکمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان، چند آزمائشیں، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترک وہ تو اللہ کی پارٹی میں آجائےاور جو ان پر پورا نہ اترے وہ خود بخود اس پارٹی سےالگ ہو کر رہ جائے، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کےقابل نہیں ہوں۔
یہ معیار کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ چونکہ حکیم و دانا ہے اس لیے سب سے پہلا امتحان وہ آدمی کی حکمت و دانائی کا ہی لیتا ہے۔ یہ دیکھتا ہے کہ اس میں سمجھ بوجھ بھی ہے یا نہیں ؟ نرا احمق تو نہیں ہے ؟ اس لیے کہ جاہل اور بیوقوف کبھی دانا اور حکیم کا دوست نہیں بن سکتا۔ جو شخص اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر پہچان لے کہ وہی میرا مالک اور خالق ہے، اس کے سوا کوئی معبود کوئی پروردگار کوئی دعائیں سننےاور مدد کرنے والا نہیں ہے، اور جو شخص اللہ کے کلام کو سن کر جان لے کہ یہ میرےمالک ہی کا کلام ہے کسی اور کا کلام نہیں ہو سکتا، اور جو شخص سچےنبی اور سجھوٹےمدعیوں کی زندگی،ان کے اخلاق، ان کےمعاملات، ان کی تعلیمات، ان کےکارناموں کے فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور پہچان جائے کہ نبوت کا دعوی کرنےوالوں میں سےفلاں ذات پاک تو حقیقت میں خدا کی طرف سے ہدایت بخشنےکے لیے آئی ہے، اور فلاں وقال ہے، دھوکا دینے والا ہے، ایسا شخص دانائی کےامتحان میں پاس ہو جاتا ہے۔ اور اس کو انسانوں کی بھیڑ بھاڑ سے الگ کر کے اللہ تعالیٰ اپنے پارٹی کے منتخب امیدواروں میں شامل کر لیتا ہے، باقی لوگ جو پہلے ہی امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ بعد ھر چاہیں بھٹکتے پھریں۔
اس پہلے امتحان میں جو امیدوار کامیاب ہو جاتے ہیں، انھیں پھر دوسرےامتحان میں شریک ہونا پڑتا ہے۔ اس دوسرے امتحان میں آدمی کی عقل کے ساتھ اس کی اخلاقی طاقت کو بھی پر کھا جاتا ہے ، یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس آدمی میں سچائی اور نیکی کو جان کر اسے قبول کر لینے اور اس پر عمل کرنے کی، اور جھوٹ اور بدی کو جان کر اسےچھوڑ دینےکی طاقت بھی ہے یا نہیں ؟ یہ اپنے نفس کی خواہشات کا،باپ دادا کی تقلید کا ، خاندانی رسموں کا، دنیا کے عام خیالات اور طور طریقوں کا غلام تو نہیں ہے؟ اس میں یہ کمزوری تو نہیں ہے کہ ایک چیز کو خدا کی ہدایت کےخلاف پاتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ بڑی ہے،مگر پھر بھی اسی کےچکر میں پڑا رہتا ہے،اور دوسری چیز کو جانتا ہے کہ خدا کے نزدیک وہی حق اور پسندیدہ ہے مگر اس پر بھی اسے قبول نہیں کرتا ؟ اس امتحان میں جو لوگ فیل ہو جاتے ہیں، انھیں بھی اللہ تعالیٰ اپنی پارٹی میں لینےسےانکار کر دیتا ہے، اور صرف اُن لوگوں کو چنتا ہےجن کی تعریف یہ ہے کہ فَمَن يَكْفُرُ بالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ استمسك بِالْعُرْوَةِ الوثى لَا انفِصَامَ لماط را لبقرہ : ۲۵۶ ) یعنی خدا کی ہدایت کے خلاف جو راستہ اور جو طریقہ بھی ہو، اسے وہ جرات کے ساتھ چھوڑ دیں، کسی چیز کی پروا نہ کریں، اور صرف اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہو جائیں خواہ اُس پر کوئی ناراض ہو یا خوش۔
اس امتحان میں جو لوگ کامیاب نکلتے ہیں ان کو پھر تیسرے مرتبےکا امتحان دینا پڑتا ہےاس درجےمیں اطاعت اور فرمانبرداری کا امتحان ہے۔ یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ جب ہماری طرف سے ڈیوٹی کی پکار بلند ہو تو اپنی نیند قربان کرو اور حاضر ہو۔ اپنے کام کاج کا حرج کرو اور آؤ۔ اپنی دلچسپیوں کو، اپنے فائدوں کو ،اپنے لطف اور تفریح کو چھوڑو اور اگر فرض بجالاؤ ۔ گرمی ہو، جاڑا ہو، کچھ ہو، بہالجب فرض کے لیے پکارا جائے تو ہر شقت کو قبول کرو اور دوڑتے ہوئے آؤ پھر جب ہم حکم دیں کہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہو اور اپنے نفس کی خواہشات کو روکو،تو اس حکم کی پوری پوری تعمیل ہونی چاہیےخواہ بھوک پیاس کی کیسی ہی تکلیف ہو اور چاہے لطیف کھانوں اور مزیدار شہر بتوں کے ڈھیر ہی سامنے کیوں نہ لگے ہوئے ہوں ۔ جو لوگ اس امتحان میں کچے نکلتے ہیں ان سے بھی کہ دیا جاتا ہےکہ تم ہمارے کام کے نہیں ہو۔ انتخاب صرف ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اس تیسرے امتحان میں پکتےثابت ہوتےہیں۔کیوں کہ صرف انہی سےیہ توقع کی جاسکتی ہےکہ خدا کی طرف سے جو قوانین ان کے لیے بنائے جائیں گے اور جو ہدایات اُن کو دی جائیں گی، وہ خفیہ اور علانیہ فائدے اور نقصان، راحت اور تکلیف ہر حال میں ان کی پابندی کر سکیں گے ۔
اس کے بعد چوتھا امتحان مال کی قربانی کا لیا جاتا ہے۔ تیسرے امتحان کےکامیاب امید وارا بھی اس قابل نہیں ہوئے کہ خدا کی ملازمت میں باقاعدہ لے لیےجائیں ۔ ابھی یہ دیکھنا ہے کہ کہیں وہ چھوٹے دل کے بہت ہمت، کم حوصلہ تنگ خرف تو نہیں ہیں ؟ ان لوگوں میں سے تو نہیں ہیں جو محبت اور دوستی کے دعوےتو لمبے چوڑے کرتے ہیں مگر اپنے محبوب اور دوست کی خاطر جب گرہ سے کچھ خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں کہ " گر ز ر طلبی سخن دریں ست ؟ ان کا حال اُس شخص کا سا تو نہیں ہے جو زبان سے تو ماتا جی ماتا جی کہتا ہے، اور ماتا جی کی خاطر دنیا بھر سے جھگڑ بھی لیتا ہے، مگر جب وہی ماتا جی اس کے خلے کی ٹوکری یا اس کی سبزی کے ڈھیر پر منہ مارتی ہیں تو لٹھ لے کر ان کے پیچھے دوڑتا ہے، اور مار مار کر ان کی کھال اُڑا دیتا ہے ؟ ایسے خود غرض، زر پرست، تنگ دل آدمی کو تو معمولی درجہ کا عقل مند انسان بھی دوست نہیں بنانا اور ایک بڑے دل والا انسان اس قسم کے ذلیل آدمی کو اپنے پاس جگہ دینا بھی پسند نہیں کرتا۔ پھر پھلاوہ بزرگ برتر خدا، جو اپنےخزانےہر آن اپنی بےحد و حساب مخلوق پر بےحد و حساب طریقہ سےلٹا رہا ہے،ایسے شخص کو اپنی دوستی کے قابل کب سمجھ سکتا ہے جو خدا کےدیے ہوئے مال کو بخدا کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے بھی جی بھراتا ہو؟ اور وہ خدا، جس کی دانائی و حکمت سب سے بڑھ کر ہے، کس طرح اُس انسان کو اپنی پارٹی میں شامل کر سکتا ہے جس کی دوستی و محبت فقط زبانی جمع خرچ تک ہو، اور جس پر کبھی بھروسہ نہ کیا جا سکتا ہو ؟ پس جو لوگ اس چوتھے امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں ان کو بھی صاف جواب دے دیا جاتا ہے کہ جاؤ، تمھارے لیے اللہ کی پارٹی میں جگہ نہیں ہے تم بھی ناکارہ ہو، اور تم اس عظیم الشان خدمت کا بار سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جو خلیفہ الہی کے سپرد کی بھاتی ہے۔ اس پارٹی میں تو صرف وہ لوگ شامل کیے جا سکتے ہیں جو اللہ کی محبت پر جان، مال، اولاد، خاندان، وطن، ہر چیز کی محبت کو قربان کر دیں۔
یہاں تو ایسے فراخ حوصلہ لوگوں کی ضرورت ہے کہ اگر کسی شخص نے ان کےساتھ دشمنی بھی کی ہو، ان کو نقصان اور رنج بھی پہنچایا ہو، اُن کے دل کے ٹکڑے بھی اٹا دیے ہوں، تب بھی وہ خدا کی خاطر اس کے پیٹ کو روٹی اور اس کے تن کو کپڑا دینے سے انکار نہ کریں، اور اس کی مصیبت کے وقت میں اس کی مدد سے دریغ نہ کریں۔
وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أولي القُربى وَالمُسْكِينَ وَالمُهْجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُواء الاتُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُم وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمه (النور : ٢٢)
" تم میں سے جو خو شحال اور صاحب مقدرت لوگ ہیں، وہ اپنے عزیز ہےاور مساکین اور خدا کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچ نہیں، بلکہ چاہیے کہ ان کو معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخشے ؟ حالانکہ اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔"_١
١- یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی تھی جب حضرت ابو بکر کے ایک عزیز نے آپ کی صاحب زادی حضرت عائشہ پر الزام لگانےمیں حصہ لیا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نےاس تاروا حرکت سےناراض ہو کر اس کی مالی مدد بند کر دی تھی ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کانپ اُٹھے اور انھوں نے کہا کہ میں اپنے خدا کی بخشش چاہتا ہوں اور اُس شخص کی پھر مدد شروع کر دی جس نے کو اس قدر سخت روحانی اذیت پہنچائی تھی۔
" محض خدا کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم صرف خدا کے لیے تھیں کھلا ر ہے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔"
"اے ایمان والو تم نے جو مال کماتے ہیں اور جو رزق تمھارے لیےہم نے زمین سے نکالا ہے اس میں سے اچھا مال راہ خدا میں صرف کروا بڑے سے بڑا چھانٹ کرنہ دو"-
"یہاں اُن بڑی ہمت والوں کی ضرورت ہے جو تنگدستی اور غربت و افلاس کی حالت میں بھی اپنا پیٹ کاٹ کر خدا کے دین کی خدمت اور خدا کے بندوں کی مدد میں روپیہ صرف کرنے سے دریغ نہیں کرتے :
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السموتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ . الَّذِينَ يُنْفِقُونَ في السراء والضراء ( آل عمران : ۱۳۳)
"اپنےپروردگار کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف لپکو جس کی وسعت زمین و آسمان کےبرابر ہےاور جوتیارکر کے رکھی گئی ہےاُن پرہیز گاروں کےلیےجو خوش حالی اور تنگ عالی،دونوں حالتوں میں خدا کے لیے خرچ کرتے ہیں ۔"
یہاں اُن ایمان داروں کی ضرورت ہے جو نیچے دل سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ خدا کی راہ میں خرچ کیا جائےگا وہ ضائع نہ ہوگا بلکہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کا بہترین بدل عطا فرمائےگا،اس لیے وہ محض خدا کی خوشنودی کی خاطر خرچ کرتےہیں۔اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتےکہ لوگوں کو ان کی فیاضی سخاوت کا حال معلوم ہوا یا نہیں اور کسی نے ان کی بخشش کا شکریہ ادا کیا یا نہیں۔
"تم کہ کچھ یہی را وحی میں خرچ کرو گے وہ تمھارے ہی لیے بھلائی ہے جب کہ تم اپنے اس خرچ میں خدا کے سوا کسی اور کی خوشنودی نہیں چاہتے ۔ اس طرح ہو کچھ بھی تم کار خیر میں صرف کرو گے اس کا پورا پورا فائر تم کو ملے گا اور تمھارے ساتھ ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا یے"-
یہاں اُن بہادروں کی ضرورت ہے جو دولت مندی اور خوش حالی میں بھی خدا کو نہیں بھولتے جن کو محلوں میں بیٹھ کر اور ناز و نعمت میں رہ کر بھی خدا یا د رہتا ہے۔
یہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہونے والوں کی لازمی صفات ہیں۔ ان کے بغیر کوئی شخص خدا کے دوستوں میں شامل نہیں ہو سکتا۔دراصل یہ انسان کےاخلاق ہی کا نہیں بلکہ اس کےایمان کا بھی بہت کڑا اور سخت امتحان ہے۔جو شخص خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے جی چراتا ہے،اس خرچ کو اپنےاور پر سیٹی اور جرمانہ سمجھتا ہے، سھیلوں اور بہانوں سے بچاؤ کی صورتیں نکالتا ہے، اور اگر خرچ کرتا ہے تو اپنی تکلیف کا بخار لوگوں پر احسان رکھ کر نکالنے کی کوشش کرتا ہے، یا یہ چاہتا ہے کہ اس کی سخاوت کا دنیا میں اشتہار دیا جائے ، وہ در اصل خدا اور آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی راہ میں جو کچھ گیا وہ ضائع ہو گیا۔ اس کو اپنا عیش ، اپنا آرام ، اپنی لذتیں، اپنے فائدے اور اپنی ناموری ، ندا سے اور اس کی خوشنودی سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہے یہی دنیا کی زندگی ہے۔ اگر روپیہ صرف کیا جائے تو اسی دنیا میں ناموری اور شہرت ہوئی چاہیے تاکہ اس روپے کی قیمت یہیں وصول ہو جائے ۔ ورنہ اگر روپیہ بھی گیا اور کسی کو یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ نوں صاحب نے فلاں کا زنجیر میں اتنا مال صرف کیا ہے تو گویا سب مٹی میں مل گیا۔ قرآن مجید میں صاف فرما دیا گیا ہے کہ اس قسم کا آدمی خدا کے کام کا نہیں ، وہ اگر ایمان کا دعوی کرتا ہے تو منافق ہے۔ چنانچہ آیات ذیل ملاحظہ ہوں :
يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَنِ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَا لَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِط (البقره : ۲۶۴)
" اے ایمان لانے والو، اپنی خیرات کو احسان رکھ کر اور اذیت پہنچا کر ضائع نہ کر دو اُس شخص کی طرح جو محض لوگوں کو دکھانے اور نام چاہنے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا"-
وَالَّذِينَ يَلْفِرُونَ النَّ هَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَها في سَبِيلِ اللهِ فَبَشِّرُهُم بِعَذَابِ اکبره (التوبہ : ٣٤ ) -
"جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے کے رکھتے ہیں اور اُسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں سخت سزا کی بشارت دے دو "-
لا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخر ان تُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ وَاللَّهُ عَلِيه بِالْمُتَّقِينَ إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَار تَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَبِّهِمْ يَتَرَدَّدُونَ (التوبه :۴۴-۴۵)
"اے نبی جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی نہ چاہیں گے کہ انھیں اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد میں حصہ لینے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ اپنے متقی بندوں کو خوب جانتا ہے ۔ معذرت صرف وہ لوگ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے جن کے دلوں میں شک ہے، اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں"-
وَمَا مَنَعَهُمْرانُ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَتُهُم الا انهم كَفَرُوا بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمُ کسالی وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ (التوبه : ۵۴)
"راہ خدا میں ان کے خرچ کیے ہوئے مال صرف اس لیے قبول نہیں کیے جاسکتے کہ وہ دراصل اللہ اور رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔نماز کو آتے ہیں تو دل برداشتہ ہو کر اور مال خرچ کرتے ہیں تو ناک بھوں چڑھا کر"-
المتفوقون والمتوقتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَا مُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُما نَسُوا اللهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ هُمُ الفَسِقُونَ ، (التوبه : ۶۷)
" منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ وہ بدی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ہاتھ روکتے ہیں۔ وہ خدا کو بھول گئے اور خدا نے ان کو بھلا دیا، یقینا یہی منافقین فاسق ہیں۔"
وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَما - (التوبه : ٩٨)
"ان اعراب ( یعنی منافقین) میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو راہ خدا میں خرچ کرتے بھی ہیں تو زبر دستی کی بھٹی سمجھ کر"-
هانتُم هُوَ لا تُدعَونَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنكُو مَن يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ، وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاسْتُمُ الْفُقَرَارُ وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَ كُو ثمَّ لَا يَكُونُوا آمنا لكم (محمد : ۳۸)
"سن رکھو تم لوگ ایسے ہو کہ تم کو راہ خدا میں خرچ کرنے کے لیے کہاجاتا ہے تو تم میں سے بہت لوگ بخل کرتے ہیں۔ اور جو کوئی اس کام میں بخل کرتا ہےوہ خود اپنے ہی لیے مجمل کرتا ہے۔ اللہ تو غنی ہے تم ہی اس کےمحتاج ہو۔ اگر تم نے خدا کے کام میں خرچ کرنے سے منہ موڑا تو وہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے ۔"
برادرانِ اسلام، یہ ہے اس زکوۃ کی حقیقت جو آپ کے دین کا ایک رکن ہے۔ اس کو دنیا کی حکومتوں کے ٹیکسوں کی طرح محض ایک ٹیکس نہ سمجھے ۔ بلکہ در اصل یہ اسلام کی روح اور اس کی جان ہے ۔ یہ حقیقت میں ایمان کا امتحان ہے بھی طرح درجہ بدرجہ امتحانات دے کہ آدمی ترقی کرتا ہے ، یہاں تک کہ آخری امتحان دے کر گریجویٹ بنتا ہے،اسی طرح خدا کے ہاں بھی کئی امتحان ہیں جن سے آدمی کو گزرنا پڑتا ہے۔ اور جب وہ چوتھا امتحان یعنی مال کی قربانی کا امتحان کامیابی کے ساتھ دےدیتا ہےتب وہ پورا مسلمان بنتا ہے۔ اگر چہ یہ آخری امتحان نہیں ہے،اس کےبعد زیادہ سخت امتحان جان کی قربانی کا آتا ہےجسے میں آگے چل کر بیان کروں گا لیکن اسلام کے دائرے میں یا بالفاظ دیگر اللہ کی پارٹی نہیں آنے کے لیے داخلہ کے جو امتحانات مقرر کیے گئے ہیں ان میں سے یہ آخری امتحان ہے ۔ آج کل بعض لوگ کہتے ہیں کہ خرچ کرنےاور روپیہ بہانے کے وعظ تو مسلمانوں کو بہت سُنائے جاچکے، اب اس غربت و افلاس کی حالت میں تو ان کو کمانے اور جمع کرنے کے وعظ سُنانے چاہیں۔ مگر انھیں معلوم نہیں کہ یہ چیز جس پر وہ ناک بھوں چڑھاتےنہیں،دراصل یہی اسلام کی روح ہےاور مسلمانوں کو جس چیز نےپستی وذلت کے گڑھے میں گرایا ہے وہ دراصل اسی روح کی کمی ہے۔ مسلمان اس لیے نہیں گرے کہ اس روح نے ان کو گرا دیا ، بلکہ اس لیے گرےہیں کہ یہ روح ان سے نکل گئی ہے۔
آئندہ خطبات میں آپ کو بتاؤں گا کہ زکواۃ اور صدقات حقیقت میں ہماری جماعتی زندگی کی جان ہیں، اور ان میں ہمارے لیے آخرت ہی کی نہیں بلکہ دنیا کی بھی ساری نعمتیں جمع کر دی گئی ہیں۔
برادران اسلام، اس سے پہلے دو خطبوں میں آپ کے سامنے زکواۃ کی حقیقت بیان کر چکا ہوں ۔ اب میں آپ کے سامنے اس کے ایک دوسرے پہلو پر روشنی ڈالوں گا۔
قرآن مجید میں زکوۃ اور صدقات کے لیے جگہ جگہ انفاق فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی "خدا کی راہ میں خرچ کرنا ۔ بعض بعض مقامات پر یہ بھی فرمایا گیا ہےکہ جو کچھ تم راہ خدا میں صرف کرتے ہو یہ اللہ کےذمہ قرضہ حسنہ ہے،گو یا تم اللہ کو فرض یتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارا قرض دار ہو جاتا ہے۔بکثرت مقامات پر یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم دو گے اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے اور وہ صرف اتنا ہی تم کو واپس نہ کرے گا بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ دے گا۔اس مضمون پر غور کیجیے۔کیا زمین و آسمان کا مالک، نعوذ بالله آپ کا محتاج ہے؟ کیا اس ذاتِ پاک کو آپ سے قرض لینے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ پادشاہوں کا پادشاہ، وہ بجید حساب ختنہ انوں کا مالک، اپنے لیے آپ سے کچھ مانگتا ہے ؟ معاذ اللہ، معاذ اللہ اُسی کی بخشش پر تو آپ پل رہے ہیں۔ اُسی کا دیا ہوا رزق تو آپ کھاتے ہیں۔آپ میں سے ہر امیر اور غریب کے پاس جو کچھ ہے سب اُسی کا تو عطیہ ہے ۔ آپ کے ایک فقیر سے نے کہ ایک کروڑ پتی اور ارب پتی تک ہر شخص اس کے کرم کا محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کو کیا ضرورت کہ آپ سے قرض مانگےاور اپنی ذات کے لیے آپ کے آگے ہاتھ پھیلائے ؟ در اصل یہ بھی اس کی شانِ کریمی ہے کہ وہ آپ سے خود آپ ہی کے فائدے کے لیے آپ ہی کی بھلائی کےلیے، آپ ہی کے کام میں خرچ کرنےکو فرماتا ہے اور کہتا ہےکہ یہ تخریج میری راہ میں ہےمجھ پر قرض ہے، میرے ذمہ اس کا بدلہ ہے اور میں تمھارا احسان مانتا ہوں۔تم اپنی قوم کے محتاجوں اور مسکینوں کو دو۔ اس کا بدلہ وہ غریب کہاں سےدیں گئے۔ان کی طرف سےمیں دُوں گا۔ تم اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد کرو۔ اُس کا احسان ان پر نہیں مجھ پر ہے،لیکن تمھارے اس احسان کو اُتاروں گا۔ تم اپنےیتیموں ، اپنی بیواؤں ، اپنے معذوروں، اپنے مسافروں،اپنےمصیبت زدہ بھائیوں کو جو کچھ دو اُسےمیرے حساب میں لکھ لو ۔تمھارا مطالبہ اُن کےذمہ نہیں میرےذمہ ہےاور میں اس کو ادا کر دوں گا۔تم اپنے پریشان حال بھائیوں کو قرض دو اور اُن سےسود نه مانگو، ان کو تنگ نہ کرو، اگر وہ ادا کرنےکےقابل نہ ہوں تو اُن کو سول جیل نہ بھجواؤ، ان کےکپڑےاور گھر کےبرتن فروخت نہ کراؤ، ان کےبال بچوں کو گھر سےبے گھر نہ کر دو۔ تمھارا قرض ان کے ذمہ نہیں، میرے ذمہ ہے۔ اگر وہ اصل ادا کر دیں گے تو ان کی طرف سے سود میں ادا کر دوں گا، اور اگر وہ اصل بھی ادا نہ کر سکیں گےتو میں اصل اور سود دونوں تمھیں دُوں گا۔ اسی طرح اپنی جماعتی فلاح کے کاموں میں،اپنے ابنائے نوع کی بھلائی اور بہتری کے لیے جو کچھ تم خرچ کرو گے، اس کا فائدہ اگر چہ تمہی کو ملے گا ، مگر اس کا احسان مجھ پر ہو گا۔ میں اس کی پائی پائی منافع سمیت تمھیں۔واپس دوں گا۔
یہ ہے اس کریموں کے کریم، اس پادشاہوں کےپادشاہ کی شان۔ تمھارے پاس جو کچھ ہے اسی کا بخث ہوا ہے ۔ تم کہیں اور سےنہیں لاتےاسی کےخزانوں سےلیتےہو، اور پھر جو کچھ دیتے ہو، اس کو نہیں دیتے،اپنے ہی رشتہ داروں ،اپنےہی بھائی بندوں اپنی ہی قوم کے لوگوں کو دیتے ہو، یا اپنی اجتماعی فلاح پر صرف کرتے ہو جس کا فائدہ آخر کارتم ہی کو پہنچتا ہے۔ مگر اس قیام حقیقی کو دیکھو کہ جو کچھ تم اس سے لے لے کر انہوں کو دیتے ہو، اسے وہ فرماتا ہے کہ تم نے مجھے دیا۔ میری راہ میں دنیا مجھے قرض دیا میں اس کا اجر تھیں دوں گا۔ اللہ اکبر !خداوند عالم ہی کو یہ شان کریمی زیب دیتی ہے۔اُسی بے نیازہ بادشاہ کا یہ مقام ہے کہ فیاضی اور بود و کریم کے اس بلند ترین کمال کا اظہار کرے۔ کوئی انسان اس بلند خیالی کا تصویر بھی نہیں کر سکتا۔
اچھا اب اس بات پر غور کیجیےکہ اللہ تعالی نےانسان کو نیکی اور فیاضی پر ابھارنےکا یہ طریقہ کیوں اختیار فرمایا ؟ اس سوال پر جتنا زیادہ آپ غور کریں گے اُسی قدر زیادہ آپ پر اسلامی تعلیمات کی پاکیزگی کا حال کھلے گا،اور آپ کا دل گواہی دیتا چلا جائیگا کہ ایسی بےنظیر تعلیم خدا کےسوا کسی اور کی طرف سےنہیں ہو سکتی ۔
آپ جانتے ہیں کہ انسان کچھ اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے ظلوم و ببول واقع ہوا ہے۔ اِس کی نظر تنگ ہے ۔ یہ زیادہ دُور تک نہیں دیکھ سکتا۔ اس کا دل چھوٹا ہے۔ زیادہ بڑے اور اونچے خیالات اُس میں کم ہی سما سکتے ہیں۔ یہ خود غرض واقع ہوا ہے، اور اپنی غرض کا بھی کوئی وسیع تصور اس کے دماغ میں پیدا نہیں ہوتا یہ جلد باز بھی ہے۔
یہ ہر چیز کا نتیجہ اور فائدہ جلدی دیکھنا چاہتا ہےاور اُسی نتیجہ کو نتیجه اور اسی فائدےکو فائدہ سمجھتا ہےجو جلدی سے اس کے سامنے آجائے اور اس کو محسوس ہو جائے۔ دور رس نتائج تک اس کی نگاہ نہیں پہنچتی ، اور بڑے پیمانے پر جو فائدےحاصل ہوتےہیں، جن فائدوں کا سلسلہ بہت دُور تک چلتا ہے،ان کا ادراک تو اسے مشکل ہی سےہوتا ہے،بلکہ بسا اوقات ہوتا ہی نہیں۔ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے۔ اور اس کمزوری کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز میں یہ اپنے ذاتی فائدےکو دیکھتا ہے، اور فائدہ بھی وہ جو بہت چھوٹے پیمانے پر ہو۔ جلدی سے حاصل ہو جائے اور اس کو محسوس ہو جائے۔ یہ کہتا ہے کہ جو کچھ میں نے کمایا ہے، یا جو کچھ مجھے اپنے باپ دادا سے ملا ہے وہ میرا ہے، اس میں کسی کا حصہ نہیں۔ اس کو میری ضروریات پر، میری خواہشات پر، میری آسائش پر اور میری لذت نفس ہی پر خرچ ہونا چاہیے،یاکم انہ کم یہی ہو کہ میرا نام بڑھے،میری شہرت ہو، میری عزت بڑھے، مجھےکوئی خطاب ملے ، اونچی کرسی ملے ، لوگ میرے سامنے جھکیں، اور زبانوں پر میرا چرچا ہو۔ اگر ان باتوں میں سے کچھ بھی مجھے حاصل نہیں ہوتا تو آخر میں کیوں اپنا مال اپنےہاتھ سے دُوں ؟ قریب میں کوئی یتیم بھوکا مر رہا ہے یا آوارہ پھر رہا ہےتو میں کیوں اس کی خبر گیری کروں ؟ اُس کا حق اُس کے باپ پر تھا، اُسے اپنی اولاد کےلیےکچھ چھوڑ کر جانا چاہیےتھا یا انشورنس کرانا چاہیے تھا۔ کوئی بیوہ اگر میرے محلہ میں مصیبت کے دن کاٹ رہی ہے تو مجھے کیا ؟ اس کے شوہر کو اس کی فکر کرنی چاہیے تھی ۔ کوئی مسافر اگر بھٹکتا پھر رہا ہےتو مجھ سے کیا تعلق؟ وہ بیوقوف اپنا انتظام کیسے بغیر گھر سے کیوں نکل کھڑا ہوا؟ کوئی شخص اگر پریشان حال ہے تو ہٹوا کرے۔اسےبھی اللہ نے میری ہی طرح ہاتھ پاؤں دیےہیں، اپنی ضرورتیں اسے خود پوری کرنی چاہیں، میں اس کی کیوں مدد کروں؟ میں اسےدوں گا تو قرض دُوں گا اور اصل کےساتھ سود بھی وصول کروں گا۔ کیوں کہ میرا رویہ کچھ بیکار تو ہے نہیں۔ میں اس سےمکان بنوانا، یا موٹر خریدتا ، یا کسی نفع کے کام پر لگاتا ۔ یہ بھی اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہی اُٹھائے گا۔ پھر کیوں نہیں اس فائدے میں سے اپنا حصہ وصول کروں؟
اس خود غرضانه ذهنیت کےساتھ اول تو روپے والا آدمی خزانےکا سانپ بن کر رہے گا۔ یا خرچ کرے گا تو اپنے ذاتی فائدے کے لیے کرے گا۔ جہاں اس کو اپنا فائدہ نظر نہ آئےگا وہاں ایک پیسہ بھی اس کی جیب سے نہ نکلے گا۔ اگر کسی غريب آدمی کی اس نے مدد کی بھی تو دراصل اس کی مدد نہ کرے گا ، بلکہ اُس کو لوٹے گا اور جو کچھ اُسے دے گا اُس سے زیادہ وصول کرلے گا ۔ اگر کسی مسکین کو کچھ دے گا تو اس پر ہزاروں احسان رکھ کر اس کی آدھی جان نکال لے گا اور اس کی اتنی تذلیل و تحقیر کرے گا کہ اس میں کوئی نخود داری باقی نہ رہ سکے گی۔ اگر کسی قومی کام میں حصہ لے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھ لے گا کہ اس میں میرا ذاتی فائدہ کس قدر ہے جین کاموں میں اس کی اپنی ذات کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ سب اُس کی مدد سے محروم رہ جائیں گے۔
اس ذهنیت کے نتائج کیا ہیں ؟ اس کے نتائج صرف اجتماعی زندگی ہی کے لیے مہلک نہیں ہیں بلکہ آخر کار خود اس شخص کے لیے بھی نقصان دہ ہیں جو تنگ نظری اور جہالت کی وجہ سےاس کو اپنےلیےفائدہ مند سمجھتا ہے۔جب لوگوں میں یہ ذہنیت کام کر رہی ہو تو تھوڑے اشخاص کےپاس دولت سمٹ سمٹ کہ اکٹھی ہوتی چلی جاتی ہے اور بے شمار اشخاص بے وسیلہ ہوتے پہلےجاتے ہیں۔ دولت مند لوگ روپے کے زور سے روپیه کھینچتے رہتے ہیں اور غریب لوگوں کی زندگی روز بروز تنگ ہوتی جاتی ہے۔ افلاس جس سوسائٹی میں عام ہو وہ طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلا ہوتی ہے۔ اُس کی جسمانی صحت خراب ہوتی ہے۔اُس میں بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اُس میں کام کرنے اور دولت پیدا کرنےکی قوت کر ہوتی چلی جاتی ہےاُس میں جہالت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ اُس کے اخلاق گرنےلگتےہیں۔وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جرائم کا ارتکاب کرنےلگتی ہےاور آخر کار یہاں تک نوبت پہنچتی ہےکہ وہ لوٹ مار پر اتر آتی ہے۔عام بلوےہوتے ہیں۔دولت مند لوگ قتل کیےجاتے ہیں۔ اُن کے گھر بار کوٹے اور جلائے جاتے ہیں، اور وہ اس طرح تباہ و برباد ہوتے ہیں کہ ان کا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہیں رہتا۔
اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ در حقیقت ہر شخص کی بھلائی اس جماعت کی بھلائی کے ساتھ وابستہ ہے جس کے دائرے میں وہ رہتا ہے آپ کے پاس جو دولت ہے اگر آپ اس میں سے اپنے دوسرے بھائیوں کی مدد کریں تو یہ دولت چکر لگاتی ہوئی بہت سے فائدوں کے ساتھ پھر آپ کے پاس پلٹ آئے گی۔ اور اگر آپ تنگ نظری کے ساتھ اس کو اپنے پاس جمع رکھیں گے یا صرف اپنے ہی ذاتی فائدے پر خرچ کریں گے تو یہ بالآخر گھٹتی چلی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے ایک نیم بچے کی پرورش کی اور اُسے تعلیم دے کر اس قابل بنا دیا کہ وہ آپ کی جماعت کا ایک کمانے والا فرد بن جائے تو گویا آپ نے جماعت کی دولت میں اضافہ کیا، اور ظاہر ہے کہ جب جماعت کی دولت بڑھے گی تو آپ جو جماعت کے ایک فرد ہیں، آپ کو بھی اس دولت میں سے بہر حال حصہ ملے گا خواہ آپ کو کسی حساب سے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ حصہ آپ کو اُس خاص یہ ہو کہ یہ یتیم کی قابلیت سے پہنچا ہےجس کی آپ نے مدد کی تھی۔لیکن اگر آپ نےخود غرضی اور تنگ نظری سے کام لےکہ یہ کہا کہ میں اس کی مدد کیوں کروں ، اس کے باپ کو اس کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑنا چاہیے تھا، تو وہ آوارہ پھرے گا،ایک بیکار آدمی بن کر کہ بھائے گا۔ اس میں یہ قابلیت ہی پیدا نہ ہو سکےگی کہ اپنی محنت سے جماعت کی دولت میں کوئی اضافہ کر سکے۔ بلکہ کچھ عجب نہیں کہ وہ جرائم پیشہ بن جائے اور ایک روز خود آپ کے گھر میں نقب لگائے ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ نے اپنی جماعت کے ایک شخص کو بیکار اور آوارہ اور جرائم پیشہ بنا کہ اس کا ہی نہیں خود اپنا بھی نقصان کیا۔ اس ایک مثال پر قیاس کر کے آپ ذرا وسیع نظر سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ جو شخص بے غرضی کے ساتھ جماعت کی بھلائی کے لیے روپیہ صرف کرتا ہے، اس کا روپیہ ظاہر میں تو اس کی جیب سے نکل جاتا ہے ، مگر باہر وہ بڑھتا اور پھلتا پھولتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر میں وہ بے شمار فائدوں کے ساتھ اُسی کی جیب میں واپس آتا ہے جس سے وہ کبھی نکلا تھا۔ اور جو شخص خود غرضی اور تنگ نظری کے ساتھ روپے کو اپنے پاس روک رکھتا ہے اور جماعت کی بھلائی پر خرچ نہیں کرتا ، وہ ظاہر میں تو اپنا روپیہ محفوظ رکھتا ہے،یا سود کھا کر اُسے اور بڑھاتا ہے۔مگر حقیقت میں اپنی حماقت سے اپنی دولت گھٹاتا ہے اور اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا سامان کرتا ہے ۔ یہی راز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انش طرح بیان فرمایا ہے کہ :
وَمَا آتَيْتُم مِّن رِبَا لِيَرْبُونِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللهِ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكوةٍ تُرِيدُونَ وجه اللهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ (الروم : ٣٩)
"تم جو سود دیتے ہو اس غرض کے لیے کہ یہ لوگوں کی دولت بڑھائےتو دراصل اللہ کے نزدیک اس سے دولت نہیں بڑھتی، البتہ جو زکوۃ تم محض خدا کی رضاجویی کے لیے دو، وہ دو گنی چو گنی ہوتی چلی جاتی ہے ۔"
لیکن اس راز کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے میں انسان کی تنگ نظری اور اس کی جہالت مانع ہے۔ یہ محسوسات کا بندہ ہے جو روپیہ اس کی جیب میں ہے اُس کو تو یہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کی جیب میں ہے ۔ جو روپیہ اس کے بہی کھاتےکی رُو سے بڑھ رہا ہے، اس کو بھی یہ جانتا ہے کہ واقعی بڑھ رہا ہے، مگر جو روپیہ اُس کے پاس سے چلا جاتا ہے اس کو یہ نہیں دیکھ سکتا کہ وہ کہاں بڑھ رہا ہے کس طرح بڑھ رہا ہے ، کتنا بڑھ رہا ہے، اور کب اس کے پاس فائدوں اور منافع کےساتھ واپس آتا ہے۔ یہ تو بس یہی سمجھتا ہے کہ اس قدر روپیہ میرے پاس سے گیا اور ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔
اس جہالت کے بند کو آج تک انسان اپنی عقل یا اپنی کوشش سے نہیں کروں سکا۔ تمام دنیا میں یہی حال ہے۔ ایک طرف سرمایہ داروں کی دنیا ہے جہاں سارےکام شود خواری پر مسل رہےہیں اور دولت کی کثرت کے باوجود روز بروز مصیبتوں اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایک ایسا گروہ پیدا ہو چکا ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ جس کے دل میں حسد کی آگ جل رہی ہےاور جو سرمایہ داروں کے خزانوں پر ڈاکہ مارنے کے ساتھ انسانی تہذیب و تمدن کی ساری بساط بھی اُلٹ دینا چاہتا ہے۔
اس پیچیدگی کو اس حکیم و دانا مہستی نے حل کیا ہے جس کی کتاب پاک کا نام قرآن ہے ۔ اس قفل کی کبھی ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر ہے۔ اگر آدمی خدا پر ایمان لے آئے اور یہ جان لے کہ زمین و آسمان کے خزانوں کا اصل مالک خدا ہے، اور انسانی معاملات کا انتظام اصل میں خدا ہی کے ہاتھ میں ہے ، اور خدا کےپاس ایک ایک ذرے کا حساب ہے، اور انسان کی ساری بھلائیوں اور برائیوں کی آخری جز او سزا ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق آخرت میں ملے گی، تو اس کےلیے یہ بالکل آسان ہو جائے گا کہ اپنی نظر پر بھروسہ کرنے کے بجائے خدا پر بھروسہ کرے اور اپنی دولت کو خدا کی ہدایت کے مطابق خرج کرے، اور اس کے نفع و نقصان کو خدا پر چھوڑ دے۔ اس ایمان کے ساتھ وہ جو کچھ خرچ کرے گا وہ دراصل خدا کو دے گا۔ اُس کا حساب کتاب بھی خدا کے بہی کھاتے میں لکھا جائے گا۔خواہ دنیا میں کسی کو اس کے احسان کا علم ہو یا نہ ہو، مگر خدا کے علم میں وہ ضرور آئیگا۔ اور خواہ کوئی اس کا احسان مانے یا نہ مانے خدا اس کے احسان کو ضرور مانے اور جانے گا ۔ اور خدا کا جب یہ وعدہ ہو چکا ہے کہ وہ اس کا بدلہ دے گا تو یقین ہے کہ وہ اس کا بدلہ ضرور دے گا، خواہ آخرت میں دے، یا دنیا اور آخرت دونوں میں دے ۔
برادرانِ اسلام، اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کا یہ قاعدہ رکھا ہے کہ پہلے تو نیکی اور بھلائی کے کاموں کا ایک عام حکم دیا جاتا ہے تاکہ لوگ اپنی زندگی میں عموما بھلائی کا طریقہ اختیار کریں۔ پھر اسی بھلائی کی ایک خاص صورت بھی تجویز کر دی جاتی ہے تاکہ اس کی خاص طور پر پابندی کی بجائے۔
مثال کے طور پر دیکھیے ، اللہ کی یاد ایک بھلائی ہے ، سب سے بڑی بھلائی اور تمام بھلائیوں کا سر چشمہ۔ اس کے لیے عام حکم ہے کہ اللہ کو ہمیشہ ہر حال میں وقت یاد رکھو اور کبھی اس سے غافل نہ ہو :
إِنَّ فِي خَلقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاعْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت لِأُولِي الألْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ الله قيما وَقُعُودًا وَعَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلا (آل عمران : ۱۹۰-۱۹۱)
" بے شک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھتےہیں، جو خدا کو کھڑے اور بیٹھے اور بیٹے یاد کرتے رہتے ہیں اور جو آسمانوں اور زمین کی بناوٹ پر غور کر کے بے اختیار بول اُٹھتے ہیں کہ پروردگار ہے تو نے یہ کارخانہ بیکارہ نہیں بنایا۔
"اور اُس شخص کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل پایا اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ گیا ہے اور جس کے سارے کام حد سے گزرے ہوئے ہیں ۔"
یہ اور بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں حکم دیا گیا ہے کہ ہمیشہ ہر حال میں خدا کی یاد جاری رکھو، کیونکہ خدا کی یاد ہی وہ چیز ہےجو آدمی کے معاملات کو درست رکھتی ہے اور اس کو سید سےراستے پر قائم رکھتی ہے۔ جہاں آدمی اس کی یاد سےفافل ہوا،اور میں نفسانی خواہشوں اور شیطانی وسوسوں نے اس پر قابو پا لیا۔ اس کالازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ راہ راست سے بھٹک کر اپنی زندگی کے معاملات میں حد سے گزرنے لگے گا۔
دیکھیے یہ تو تا جام حکم ۔ اب اسی یاد الہی کی ایک خاص صورت تجویز کی گئی ۔ نماز، اور نماز میں بھی پانچ وقت میں چند رکعتیں فرض کر دی گئیں جن میں بیک وقت پانچ دس منٹ سے زیادہ صرف نہیں ہوتے۔ اس طرح چند منٹ اس وقت اور چند منٹ اُس وقت یاد الہی کو فرض کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بس آپ اتنی ہی دیر کے لیے خدا کو یاد کریں اور باقی وقت اس کو بھول جائیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم اتنی دیر کے لیے توتم کو بالکل خدا کی یاد میں لگ جانا چاہیے اس کے بعد اپنے کام بھی کرتے رہو اور ان کو کرتے ہوئے خدا کو بھی یاد کرو۔
بس ایسا ہی معاملہ زکوۃ کا بھی ہے۔یہاں بھی ایک حکم عام ہےاور ایک خاص۔ایک طرف تو یہ ہےکہ بخل اور تنگ دلی سے بچو کہ یہ برائیوں کی جڑ اور بادیوں کی ماں ہے ۔ اپنے اخلاق میں اللہ کا رنگ اختیار کرو جو ہر وقت بے حد و حساب مخلوق پر اپنے فیض کے دریا بہا رہا ہے ، حالانکہ کسی کا اس پر کوئی حق اور دعوی نہیں ہے۔ راہ خدا میں جو کچھ خرچ کر سکتے ہو کر و۔ اپنی ضرورتوں سے جتنا بچا سکتےہو بچاؤ اور اس سے خدا کے دوسرے ضرورت مند بندوں کی ضرور ہیں پوکری کرو۔ دین کی خدمت میں اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے میں بہان اور مال سے کبھی دریغ نہ کرو۔اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو مال کی محبت کو خدا کی محبت پر قربان کر دو۔ یہ تو ہے عام حکم ۔
اور اس کے ساتھ ہی خاص حکم یہ ہے کہ اس قدر مال اگر تمھارے پاس جمع ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا بخدا کی راہ میں ضرور صرف کرو، اور اتنی پیداوار تمھاری زمین میں ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا حصہ تو ضرور خدا کی نذر کر دو ۔ پھر جس طرح چند رکعت نماز فرض کرنےکا مطلب یہ نہیں ہےکہ بس یہ رکعتیں پڑھتے وقت ہی خدا کو یاد کرو اور باقی سارےوقتوں میں اس کو بھول جاؤ، اسی طرح مال کی ایک چھوٹی سی مقدار راہ خدا میں صرف کرنا جو فرض کیا گیا ہے، اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اتنا مال ہو بس انہی کو راہِ خدا میں صرف کرنا چاہیے، اور جو اس سے کم مال رکھتے ہوں انھیں اپنی مٹھیاں بھینچ لینی چاہیں ۔ اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مالدار لوگوں پر مبنی نہ کواۃ فرض کی گئی ہے بس وہ اتنا ہی خدا کی راہ میں صرف کریں، اور اس کے بعد کوئی ضرورت مند آئے تو اسے جھڑک دیں ۔یا دین کی خدمت کا کوئی موقع آئے تو کہہ دیں کہ ہم تو زکوۃ دے سکے۔ اب ہم سے ایک پانی کی بھی اُمید نہ رکھو۔ زکوۃ فرض کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا مطلب در اصل یہ ہے کہ کم از کم اتنا مال تو ہر سال دار کو راہ خدا میں دنیا ہی پڑے گا، اور اس سے زیادہ جس شخص سے جو کچھ بن آئے وہ اس کو صرف کرنا چاہیے۔
اب میں آپ کے سامنے پہلے عام حکم کی تھوڑی سی تشریح کروں گا، پھر دوسرے خطبے میں خاص حکم بیان کروں گا ۔
قرآن مجید کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے اس کی حکمتیں اور مصلحتیں بھی خود ہی بتا دیتا ہے تا کہ محکوم کوحکم کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ یہ حکم کیوں دیا گیا ہے اور اس کا فائدہ کیا ہے ۔ قرآن مجید کھولتے ہی سب سے پہلےجس آیت پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ یہ ہے :
"یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں، یہ ان پرهبزگار لوگوں کو زندگی کا سیدھا راستہ بتاتا ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتےہیں۔"
اس آیت میں یہ اصل الاصول بیان کر دیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں سیدهےراستے پر چلنے کے لیے تین چیزیں لازمی طور پر شرط ہیں :
"اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کہ را و خدا میں خرچ نہ کرنے کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں)۔
١- بس میں خدا اور آخرت اور وحی ، سب ہی امور غیب پر ایمان لانا شامل ہے-
ان سب آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی بسر کرنے کے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ تو خدا کا ہے جس میں نیکی اور بھلائی اور فلاح اور کامیابی ہے، اور اس راستےکا قاعدہ یہ ہے کہ آدمی کا دل کھلا ہوا ہو، ہو رزق بھی تھوڑا یا بہت اللہ نےدیا ہو اس سےخود اپنی ضرورتیں بھی پوری کرےاپنےبھائیوں کی بھی مدد کرے، اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے بھی خرچ کرے۔دوسرا راستہ شیطان کا ہے جس میں بظاہر تو آدمی کو فائدہ ہی فائدہ نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ہلاکت اور بر بادی کے سوا کچھ نہیں، اور اس راستہ کا قاعدہ یہ ہے کہ آدمی دولت سمیٹنے کی کوشش کرے،پیسے پیسے پر جان دے اور اس کو دانتوں سےپکڑ پکڑ کر رکھے تاکہ شریج نہ ہونے پائے اور خرچ ہو بھی تو میں اپنے ذاتی فائدےاور اپنے نفس کی خواہشات ہی پر ہو۔
اب دیکھیے کہ خدائی راستہ پر چلنے والوں کے لیے راہ خدا میں خرچ کرنے کےکیا طریقے بیان ہوئے ہیں ان سب کو نمبر وار بیان کرتا ہوں :
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خرچ کرنے میں صرف خدا کی رضا اور اُس کی خوشنودی مطلوب ہو، کسی کو احسان مند بنانے یا دنیا میں نام پیدا کرنے کے لیے خرچ نہ کیا جائے۔
"تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اس سے اللہ کی رضا کے سوا تمھارا اور کوئی مقصود نہیں ہوتا ".
يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُم بِالمَن وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَا لَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْخَخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابُ فَاصَابَهُ وَابِل فَتَرَكَهُ صَلدَاط (البقره : ۲۶۴)
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کہ اس شخص کی طرح ضائع نہ کر دو بجو لوگوں کے دکھا دے کو خروج کرتا ہے اور روزہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کے طرح کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک پھٹان پر مٹی پڑی ہو اور اس پر نور کا مینہ برسے تو ساری مٹی بہ جائے اور بیس صاف بچٹان کی پٹان کرو جائے"-
دوسری بات یہ ہے کہ کسی کو پیسہ دے کر یا روٹی کھلا کر یا کپڑا پہنا کیا احسان نہ جتایا جائے اور ایسا برتاؤ نہ کیا جائے جس سے اس کے دل کو تکلیف ہو۔
الذِينَ يُنْفِقُونَ أَموالهم في سَبِيلِ اللهِ تو لا يُتَّبِعُونَ مَا انْفَقُوا مَنَّا وَ لَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَونَ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ، قَول معْرُونٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيرَتِينُ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى (البقره : ۲۶۲-۲۶۳)
"جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر خرچ کر کے احسان نہیں بجتاتے اور تکلیف نہیں پہنچاتے ، ان کے لیےخدا کےہاں اجر ہےاور انھیں کسی نقصان کا خوف یا رنج نہیں۔یہی وہ خیرات جس کےبعد تکلیف پہنچائی جائے،تو اس سےتو یہی بہتر ہےکہ سائل کو نرمی سےٹال دیا جائےاور اس سےکہہ دیا جائےکہ بھائی معاف کرو"
تیسرا قاعدہ یہ ہے کہ خدا کی راہ میں انتھا مال دیا جائے، بڑا چھانٹ کر یہ دیا جائے۔جو لوگ کسی غریب کو دینے کے لیے پھٹے پرانے کپڑے تلاش کرتے ہیں، یا کسی فقیر کو کھلانے کے لیے بدتر سے بد تر کھانا نکالتے ہیں، ان کو بس ایسے ہی اجہ کی خدا سےبھی توقع رکھنی چاہیے ۔
"اے ایمان لانے والو ، جو کچھ تم نے کمایا ہے اور جو کچھ ہم نےتمھارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے اچھا مال خدا کی راہ میں دو۔ یہ نہ کرو کہ خدا کی راہ میں دینے کے لیے بڑے سے برا تلاش کرنے لگو"-
چوتھا قا عدہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو چھپا کرخرج کیا جائے تاکہ ریا اور نمود کی آمیزش نہ ہونے پائے ۔ اگرچہ کھلے طریقہ سے خرچ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، مگر ڈھانک چھپا کر دینا زیادہ بہتر ہے۔
"اگر کھلے طریقہ سے خیرات کرو تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر غریب لوگوں کو دو تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اس سے تمھارےگناہ ڈھلتے ہیں"-
پانچواں قاعدہ یہ ہے کہ کم عقل اور نادان لوگوں کو ان کی ضرورت سے نہ یاد نہ دیا جائے کہ بگڑ جائیں اور بری عادتوں میں پڑ جائیں ، بلکہ ان کو جو کچھ دیا جائےان کی حیثیت کے مطابق دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ پیٹ کو روٹی اور پہنے کو کپڑا تو ہر بڑے سے بڑے اور بد کار سے بد کار کو بھی ملنا چاہیے، اگر شراب نوشی اور چانڈو اور گانجھے اور جوئے بازی کے لیے لفنگے آدمیوں کو یہ نہ دینا چاہیے۔
"اپنے اموال جن کو اللہ نے تمھارے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو۔ البتہ ان اموال میں سے ان کو کھانےاور پہننے کے لیے دو "-
چھٹا قاعدہ یہ بیان ہوا ہے کہ اگر کسی غریب آدمی کی ضرورت پوری کرنےکے لیے اس کو قرض حسن دیا جائے تو تھامنےکر کے اسےپریشان نہ کیا جائےبلکہ اس کو اتنی مہلت دی جائےکہ وہ آسانی سے ادا کر سکے ۔ اور اگر واقعی یہ معلوم ہو کہ وہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اور تم اتنا مال رکھتے ہو کہ اس کو آسانی کےساتھ معاف کر سکتے ہو تو بہتر یہ ہے کہ معاف کر دو۔
"اور اگر قرضدار تنگ دست ہو تو اسے خوشحال ہونے تک مہلت دو۔ اور صدقہ کر دینا تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم اس کا فائدہ جانو"
ساتواں قاعدہ یہ ارشاد ہوا ہےکہ آدمی کو خیرات کرنےمیں بھی حد سےنہ گزرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا یہ مقصد نہیں ہےکہ اپنا اور اپنےبال بچوں کا پیٹ کاٹ کر سب کچھ خیرات میں دےڈالا جائےبلکہ وہ چاهتا ہےکہ سیدھےسادھے طریقہ سے زندگی بسر کرنے کےلیےجتنی ضرورت انسان کو ہوتی ہے اتنا اپنی ذرات پھر اور اپنے بال بچوں پر صرف کرے اور جو باقی بچے اسے خدا کی راہ میں دے۔
"اللہ کے نیک بندے وہ ہیں کہ جب خرچ کریں تو نہ فضول خرچی کریں، اور نہ بہت تنگی کر جائیں بلکہ ان کا طریقہ ان دونوں انتہاؤں کےبیچ میں ہو"-
"اور نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ لو کہ گویا گردن سے بندھا ہوا ہے اور نہ اتنا کھول دو کہ حسرت زدہ بیٹھے رہو اور لوگ بھی تم کو ملامت کریں "-
آخر میں یہ بھی سن لیجیےکہ اللہ تعالیٰ نےمستحقین کی پوری فہرست بنادی ہے جس کو دیکھ کر آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ کون کون لوگ آپ کی مدد کے متقی ہیں اور کن کا حق اللہ نے آپ کی کمائی میں رکھا ہے :
"اور نیک وہ ہے جو خدا کی محبت میں مال دے اپنے غریب رشتہ داروں کو اور تیمیوں اور مسکینوں کو اور مسافر کو اور ایسے لوگوں کو جن کی گردنیں غلامی اور اسیری میں پھنسی ہوئی ہوں"
"نیک سلوک کیا جائے اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں سے اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسیوں اور اجنبی پڑوسیوں اور پاس کے بیٹھنے والوں اور مسافروں اور اپنے لونڈی غلاموں سے"-
"اور نیک لوگ ال کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھتےہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو محض خدا کے لیے کھلا رہے ہیں۔ تم سے کوئی بدلہ یا شکر یہ نہیں چاہتے ۔ ہم کو تو اپنے خدا سے اُس دن کا ڈر لگا ہوا ہے جس کی شدت کی وجہ سے لوگوں کے منہ سکڑ جائیں گے اور تیوریاں چڑھ جائیں گی ( یعنی قیامت)"-
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أغْنِيَاة مِنَ التَّعَفُّفِ : نَعْرِفُهُمْ بِسِيمَهُم لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ فَانَّ اللَّهَ بِهِ عَلِیم کا (ابقرہ : ۲۷۳)
"خیرات ان حاجت مندوں کےلیےہےجو اپنا سارا وقت خدا کےکام میں دے کر ایسےگھر گئےہیں کہ اپنی روٹی کمانے کےلیے دوڑ دھوپ نہیں کر سکتےان کی خود داری کو دیکھ کر نا واقف لوگ گمان کرتےہیں کہ وہ غنی ہیں مگر ان کی صورت دیکھ کر تم پہچان سکتے ہو کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔ وہ ایسےلوگ نہیں ہیں کہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر مانگتے پھریں۔ جو کچھ بھی تم خیرات دو گے اللہ کو اس کی خبر ہوگی، اور وہ اس کا بدلہ دے گا "
برادران اسلام، پچھلے خطے میں آپ کے سامنے انفاق فی سبیل اللہ ریعنی را و خدا میں خرچ کرنے کے عام احکام بیان کر چکا ہوں ۔اب میں اس حکم کے دوسرےحصےکی تفصیلات بیان کرتا ہوں جو نہ کوہ سے متعلق ہے، یعنی جسے فرض کیا گیا ہے۔
یہ دونوں آیتیں زمین کی پیداوار کےمتعلق ہیں،اور فقہائے حنفیه فرماتے ہیں خود رو پیداوار مثلاً لکڑی اور گھاس اور بانس کےسوا باقی جتنی چیزیں غلہ، ترکاری،اور پھلوں کی قسم سےنکلیں ان سب میں سے اللہ کا حق نکالنا چاہیے۔حدیث میں آتا ہے کہ جو پیداوار آسمانی بارش سے ہو اس میں اللہ کا حق دسواں حصہ ہے اور جو پیدا وار انسان کی اپنی کوشش یعنی آبپاشی سے ہو اس میں اللہ کا حتی بیسواں حصہ ہے۔ اور یہ حصہ پیدا وار کٹنے کے ساتھ ہی واجب ہو جاتا ہے۔
وَالَّذِينَ يَكْبِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّة ولا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَبَشِّرُهُمْ بِعَذَابِ اليمة يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَلَم فَتُكُوى بِهَا جِبَاهُهُمُ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُوط هذَا مَا كَنَزُتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُم تَكْنِزُونَ ، (التوبه : ۳۴-۳۵)
"جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس میں سےراہ خدا میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک مذاب کی خبر دے دو۔ اس دن کے عذاب کی جب اُن کے اس سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائےگا اور اس سے ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور پیٹھوں پر داغا جائیگا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ اب اپنےان خزانوں کا مزہ سیکھو "-
"صدقات (یعنی زکوۃ) اللہ کی طرف سے مقرر کر دہ فرض ہے فقراء کے لیے اور مساکین کے لیے اور اُن لوگوں کے لیے جو نہ کوۃ وصول کرنےپر مقرر ہوں اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب منظور ہو اور گردنیں چھڑانےکے لیے اور قرض داروں کے لیے اور راہ خدا میں اور مسافروں کے لیے،اللہ بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے ۔"
ان تینوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ جو مال جمع کیا جائے اور بڑھایا جائے،اور اس میں سے راہ خدا میں صرف نہ کیا جائے وہ ناپاک ہوتا ہے۔ اس کے پاک کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ اس میں سے خدا کا حق نکال کر اس کے بندوں کو دیا جائے۔
حدیث میں آتا ہے کہ جب سونا اور چاندی جمع کرنے والوں پر عذاب کی دھمکی آئی تو مسلمان سخت پریشان ہوئے۔ کیوں کہ اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ ایک درہم بھی اپنے پاس نہ رکھو، اسب خرچ کر ڈالو۔ آخر کار حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قوم کی پریشانی کا حال عرض کیا۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کو تم پر اسی لیے فرض کیا ہے کہ باقی اموال تمھارے لیے پاک ہو جائیں۔
ایسی ہی روایت حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا کہ جب تو نے اپنے مال میں سے زکواۃ نکال دی تو جو حق تجھ پر واجب تھا وہ ادا ہو گیا۔
آیات مذکورہ بالا میں توصرف زمین کی پیداوار اور سونے اور چاندی کی زکوۃ کا حکم ملتا ہے ۔ لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارتی مال، اونٹ، گائے اور بکریوں میں بھی زکوۃ ہے۔
جس شخص کےپاس اتنا مال موجود ہو اور اس پر سال گزر جائےتو اس میں سےچالیسواں حصہ زکوۃ کا نکالنا واجب ہےچاندی اورسونےکےمتعلق حنفیه فرماتےہیں کہ اگر یہ دونوں الگ الگ بقدر یہ نصاب نہ ہوں لیکن دونوں مل کر کسی ایک کےنصاب کی حد تک ان کی قیمت پہنچ جائے تو ان میں سے بھی زکوۃ نکالنی واجب ہے۔
سونا اور چاندی اگر زیور کی صورت میں ہوں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک انکی زکوۃ ادا کرنا فرض ہے اور امام ابو حنیفہ نے یہی قول لیا ہے۔ساری میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےدو عورتوں کے ہاتھ میں سونےاللہ کے سونےکےکنگن دیکھےاور پوچھا کہ کیا تم زکوۃ نکالتی ہو؟ ایک نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تو اسےپسند کرےگی کہ قیامت کے روز اس کےبدلے آگ کے کنگن تجھے پہنائے جائیں ؟ اسی طرح حضرت اُم سلمہ نہ سے مروی ہے کہ میرے پاس سونےکی پازیب تھی۔ ہمیں نے حضور سے پوچھا کیا یہ کنز ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر اس میں ہونے کی مقدار نصاب زکواۃ تک پہنچتی ہے اور اس میں سے زکواۃ نکال دی گئی ہے تو یہ کنز نہیں ہے ۔ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سونا چاندی اگر زیور کی شکل میں ہوں تب بھی اسی طرح زکوۃ فرض ہے جس طرح نقد کی صورت میں ہونےپر ہے ۔ البته جواہر اور نگینوں پر زکوۃ نہیں ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس کچھ نہ کچھ مال تو ہے مگر ان کی ضرورت کے لیےکافی نہ ہو ۔ تنگ دستی میں گزر بسر کرتے ہوں اور کسی سے مانگتے نہ ہوں ۔ امام زہرہی امام ابو حنیفہ، ابن عباس حسن بصری، ابوالحسن کہ ٹی اور دوسرے بزرگوں نے فقیر کی یہی تعریف فرمائی ہے۔
یہ بہت ہی تباہ حال لوگ ہیں جن کے پاس اپنے تن کی ضروریات پوری کرنےکے لیے بھی کچھ نہ ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسے لوگوں کو بھی مساکین میں شمار فرماتےہیں جو کمانے کی طاقت رکھتے ہوں مگر انھیں روز گار نہ ملتا ہو۔
ان سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں اسلامی حکومت زکوۃ وصول کرنے کے لیےمقرر کرے۔ ان کو زکوۃ کی مکہ سے تنخواہ دی جائے گی۔
ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام کی حمایت کے لیے، یا اسلام کی مخالفت سے روکنے کے لیے روپیہ دینے کی ضرورت پیش آئے۔ نیز ان میں وہ نو مسلم بھی داخل ہیں جنھیں مطمئن کرنے کی ضرورت ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی کا فرقوم کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملنے کی وجہ سے بے روزگار یا تباہ حال ہو گیا ہو تب تو اس کی مدد کرنا مسلمانوں پر ویسے ہی فرض ہے۔ لیکن اگر وہ مالدار ہو تب بھی اُسے زکوۃ دی جا سکتی ہے تاکہ اس کا دل اسلام پر حجم جائے ۔ جنگ حنین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت میں سے تو مسلموں کو بہت مال دیا بھٹی کہ ایک شخص کے حصہ میں نشونشو اونٹ آئے۔ انصار نے اس کی شکایت کی تو حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ ابھی ابھی کفر سے اسلام میں آئے ہیں۔میں ان کےدل کو خوش کرنا چاہتا ہوں۔اسی بنا پر امام زہری نے مولفۃ القلوب کی تعریف یوں بیان کی ہے کہ جو عیسائی یا یہودی یا غیر مسلم اسلام میں داخل ہوا ہو اگر چہ مالدار ہی کیوں نہ ہو
اس سے مطلب یہ ہے کہ جو شخص غلامی کے بند سے چھوٹنا چاہتا ہو اس کوزکوۃ دی جائے تاکہ وہ اپنے مالک کو روپیہ دے کر اپنی گردن غلامی سےبچھڑا لے۔آج کل کےزمانہ میں غلامی کا رواج نہیں ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ جو لوگ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے قید بھگت رہے ہوں اُن کو زکوۃ دے کر رہائی حاصل کرنےمیں مدد دی جا سکتی ہے۔ یہ بھی فی الرقاب کی تعریف میں آجاتا ہے۔
ان سے مُراد وہ لوگ ہیں جو قرضدار ہوں ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی کےپاس ہزار روپیہ ہو اور وہ سو روپے کا قرضدار ہو تو بھی اس کو زکوۃ دی جا سکتی ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس پر اتنا قرض ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد اس کے پاس مقدار نصاب سے کم مال بچتا ہوا سے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ۔ فقہائے کرام نےیہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی فضول خرچیوں اور بدکاریوں کی وجہ سے قرضدار ہوا ہو اس کو زکوۃ دینا مکروہ ہے۔ کیونکہ پھر وہ اس بھوسے پر اور زیادہ جرات کےساتھ بدکاریاں اور فضول خرچیاں کرے گا کہ زکوۃ لے کر قرض ادا کر دوں گا۔
١- اس مسئلے میں جو فقہی بحثیں پیدا ہوتی ہیں ان پر گفتگو کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے، ان پر ہم نے اپنی کتاب تفہیم القرآن جلد دوم میں بسلسلہ تفسیر سورہ تو یہ مفصل کلام کیا ہے۔
یہ عام لفظ ہے جو تمام نیک کاموں پر استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن خاص طور پر اس سے مراد دین حق کا جھنڈا بلند کرنےکی جد و جہد میں مدد کرنا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زکوۃ لینا کسی مالدار آدمی کے لیے جائزہ نہیں۔لیکن اگر ماندار آدمی جہاد کےلیےمدد کا حاجت مند ہو تو اُسے زکواۃ دینی چاہیے۔اس لیےکہ ایک شخص اپنی جگہ مالدار سہی لیکن جہاد کے لیے جو غیر معمولی مصارف ہوتے ہیں اُن کو وہ محض اپنے مال سے کس طرح پورا کر سکتا ہے۔ اس کام میں زکوۃ سے اس کی مدد کرنی چاہیے۔
آب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ یہ آٹھ گروہ جو بیان ہوئے ہیں ان میں سے کس،شخص کو کسی حال میں زکوۃ دینی چاہیے اور کس حال میں نہ دینی چاہیے۔ اس کی بھی تھوڑی سی تفصیل آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں ۔
(١) کوئی شخص اپنے باپ یا اپنے بیٹے کو زکوۃ نہیں دے سکتا۔ شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو بھی نہ کواۃ نہیں دے سکتی ۔ اس میں فقہاء کا اتفاق ہے۔ بعض فقہاء یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایسے قریبی عزیزوں کو نہ کوہ نہیں دینی چاہیےجن کا نفقه تم پر واجب ہو یا ہو تمھارےشرعی وارث ہوں،البته دور کےعزیز زکوۃ کے حقدار ہیں۔ بلکہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہیں ۔ مگر امام اوزاعی فرماتےہیں کہ زکوۃ نکال کر اپنے ہی عزیزوں کو نہ ڈھونڈتے پھرو۔
(۲) زکواۃ صرف مسلمان کا حق ہے ، غیر مسلم کا حق نہیں ہے ۔
حدیث میں زکوۃ کی تعریف یہ آتی ہے کہ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنَاء كُمْ وَتُرَدُّ في فقراء كرید یعنی وہ تمھارے مالداروں سے لی جائے گی اور تمھارے ہی فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی"-
البته غیرمسلم کو عام خیرات میں سے حصہ دیا جا سکتا ہے ، بلکہ عام خیرات ہیں کو عام یہ تمیز کرنا اچھا نہیں ہے کہ مسلمان کو دی جائے اور کوئی غیر مسلم مرد کا محتاج ہو تو اس سے ہاتھ روک لیا جائے۔
(۳) امام ابو حنیفہ، امام ابویوست اور امام محمد فرماتے ہیں کہ ہر بستی کی زکوۃ انسی بستی کے غریبوں میں صرف ہونی چاہیے۔ایک بستی سےدوسری بستی ہیں بھیجنا اچھا نہیں ہے۔ الا یہ کہ وہاں کوئی مقدار نہ ہو یا دوسری جگہ کوئی ایسی مصیبت آگئی ہو کہ دور و نزدیک کی بستیوں سےمدد پہنچنی ضروری ہو جیسےسیلاب یا قحط وغیرہ ۔ قریب قریب یہی رائے امام مالک اور امام سفیان ثوری کی بھی ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ زکوۃ بھیجنا نا جائز ہے۔
(٤) بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ جس شخص کے پاس دو وقت کے کھانےکا سامان ہوا سے زکواۃ نہ لینی چاہیے۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے پاس دنی روپے، اور بعض فرماتے ہیں کہ جس کے پاس ۱۲ پا رو پے موجود ہوں اسے زکوۃ نہ لینی چاہیے۔ لیکن امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور تمام حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ جس کےپاس پچاس روپے سے کم ہوں وہ زکواۃ لے سکتا ہے۔ اس میں مکان اور گھر کا سامان اور گھوڑا اور خادم شامل نہیں ہیں۔ یعنی یہ سب سامان رکھتے ہوئے بھی جو شخص پچاس روپے سے کم مال رکھتا ہو وہ زکواۃ لینے کا حق دار ہےاس معاملہ میں ایک چیز تو ہے قانون،اور دوسری چیز ہےدرجہ فضیلت،ان دونوں میں فرق ہے۔ دور و فضیلت تو یہ ہے کہ حضور نے فرمایا جو شخص صبح و شام کی روٹی کا سامان رکھتا ہو وہ اگر سوال کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اپنے حق میں آگ جمع کرتا ہےدوسری حدیث میں ہےکہ آپ نے فرمایا کہ میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ ایک شخص لکڑیاں کاٹےاور اپنا پیٹ بھرے یہ نسبت اس کے کہ سوال کے لیے ہاتھ پھیلاتا پھرے ۔ تیسری حدیث میں ہےکہ میں کے پاس کھانے کو ہو یا جو کمانے کی طاقت رکھتا ہو اس کا یہ کام نہیں ہے کہ زکواۃ ہے۔ لیکن یہ اولوالعزمی کی تعلیم ہے۔ رہا قانون تو اس میں ایک آخری حد بتائی مزوری ہے کہ کہاں تک آدمی زکوۃ لینے کا حقدار ہو سکتا ہے۔ سوزہ ، وسری حدیثوں میں ملتا ہے۔ مثلا
ایک مرتبہ دو آدمیوں نے آکر حضور سے زکوۃ مانگی ۔ آپؐ نے نظر اٹھا کر انھیں غور سے دیکھا، پھر فرمایا ، اگر تم لینا چاہتے ہو تو میں دے دوں گا لیکن اس مال میں غنی اور کمانے کے قابل ہٹے کٹے لوگوں کا حصہ نہیں ہے۔
ان سب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص بقدر نصاب مال سے کم رکھتا ہو وہ مقرار کے ذیل میں آجاتا ہے اور اُسے زکواۃ دی جا سکتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ زکوۃ لینے کا سفق در اصل اصلی حاجت مندوں ہی کو پہنچتا ہے۔
زکوۃ کے ضروری احکام میں نے بیان کر دیے ہیں۔ لیکن ان سب کے ساتھ ایک اہم اور ضروری چیز اور بھی ہے جس کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور مسلمان آج کل اس کو بھول گئے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اسلام میں تمام کام نظامِ جماعت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ انفرادیت کو اسلام پسند نہیں کرتا۔ آپ مسجد سے دور ہوں اور الگ نماز پڑھ لیں تو ہو جائے گی، مگر شریعت تو یہی چاہتی ہے کہ جماعت کےساتھ نماز پڑھیں۔ اسی طرح نظام جماعت نہ ہو تو الگ الگ زکوۃ نکالنا اور خرچ کرنا بھی صحیح ہے،لیکن کوشش یہی ہونی چاہیےکہ زکوۃ کو ایک مرکز پر جمع کیا جائےتاکہ وہاں سے وہ ایک ضابطہ کے ساتھ خرچ ہو۔ اسی چیز کی طرف قرآن مجید میں اشارہ فرمایا گیا ہے ۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے فرمایا کہ آپکے ان سے زکواۃ وصول کریں،مسلمانوں سے یہ نہیں فرمایا کہ تم زکوۃ نکال کر الگ الگ خرچ کر دو۔
اسی طرح عاملین زکواة کا حق مقررہ کرنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا امام اس کو باقاعده وصول کرے اور باقاعده خرچ کرے-
اسی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےراشدین کا عمل بھی تھا۔تمام زکوۃ حکومت اسلامی کے کارکن جمع کرتے تھے اور مرکز کی طرف سے اس کو تقسیم کیا جاتا تھا۔آج اگر اسلامی حکومت نہیں ہے اور زکوۃ جمع کر کےبا ضابطہ تقسیم کرنے کا انتظام بھی نہیں ہے تو آپ علیحدہ علیحدہ اپنی زکوۃ نکال کہ شرعی مصارف میں خرچ کر سکتے ہیں،مگر تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ زکوۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے ایک اجتماعی نظام بنانے کی فکر کریں ، کیوں کہ اس کے بغیر زکواۃ کی فرضیت کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں ۔
| کتاب | خطبات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |