برادران اسلام، پچھلےخطبات میں نماز روزہ اور زکوۃ کےمتعلق آپ کو تفصیل کےساتھ بنایا جا چکا ہےکہ یہ عبادتیں انسان کی زندگی کس طرح اسلام کےسانچےمیں ڈھالتی اور اس کو اللہ کی بندگی کےلیے تیارہ کرتی ہیں۔ اب اسلام کی فرض عبادتوں میں سےصرف حج باقی ہے،جس کےفائدے مجھے آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں۔
حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کھجے کی زیارت کا قصہ کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام بیچ یہ کھا گیا۔
سب سے پہلے اس کی ابتداء جس طرح ہوئی اس کا قصہ بڑا سبق آموز ہے۔اس قصے کو غور سےسنیے تاکہ حج کی حقیقت اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے۔پھر اس کے فائدوں کا سمجھنا آپ کے لیے آسان ہوگا۔
کون مسلمان، عیسانی یا یہودی ایسا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کےنام سے واقف نہ ہو ؟ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی اُن کو پیشوا مانتی ہے بعض موسی ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، تینوں انہی کی اولاد سے ہیں۔انہی کی روشن کی ہوئی شمع سے دنیا بھر میں ہدایت کا نور پھیلا ہے۔ چار ہزار برس سے زیادہ مدت گزری جب وہ عراق کی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے۔ اُس وقت ساری دنیا خدا کو بھولی ہوئی تھی۔رُوئے زمین پر کوئی ایسا انسان نہ تھا جو اپنےاصلی مالک کو پہچانتا ہو، اور صرف اُسی کے آگے اطاعت و بندگی میں سر جھکاتا ہو۔جس قوم میں انھوں نے آنکھیں کھولی تھیں وہ اگر چہ اُس زمانہ میں دنیا کی سب سے زیادہ صنعت ترقی یافتہ قوم تھی، لیکن گراہی میں بھی وہی سب سے آگے تھی۔ علوم وفنون اور و حرفت میں ترقی کر لینے کے باوجود اُن لوگوں کو اتنی ذرا سی بات نہ سوجھتی تھی کہ مخلوق کبھی معبود ہونے کا اہل نہیں ہو سکتا۔ ان کے ہاں ستاروں اور بتوں کی پینش ہوتی تھی۔ نجوم ، فال گیری ، غیب گوئی ، جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے کا خوب چرچا تھا۔ جیسے آج کل ہندؤوں میں پنڈت اور برہمن ہیں اسی طرح اُس زمانہ میں بھی بیچاریوں کا ایک طبقہ تھا جو مندروں کی محافظت بھی کرتا ، لوگوں کو لو جا بھی کراتا ، شادی اور غمی وغیرہ کی رسمیں بھی ادا کرتا، اور غیب کی خبریں بھی لوگوں کو بتانے کا ڈھونگ رچاتا تھا۔ عام لوگ ان کے پھندے میں ایسےپھنسےہوئے تھےکہ انہی کو اپنی اچھی اور بڑی قسمت کا مالک سمجھتے تھے،انہی کے اشاروں پر چلتے تھےاور بے چون و چرا ان کی خواہشات کی بندگی کرتے تھےکیوں کہ اُن کا گمان تھا کہ دیوتاؤں کے ہاں اُن پجاریوں کی پہنچے ہے۔یہ چاہیں تو ہم پر دیوتاؤں کی عنایت ہوگی،ورنہ ہم تباہ ہوتی ہیں گے۔پجاریوں کے اس گروہ کے ساتھ بادشاہوں کی ملی بھگت تھی ۔عام لوگوں کو اپنا ندہ بنا کر رکھنے میں بادشاہ پجاریوں کے مددگار تھے اور پجاری بادشاہوں کےایک طرف حکومت ان پجاریوں کی پشت پناہی کرتی تھی اور دوسری طرف یہ پجاری لوگوں کے عقیدےمیں یہ بات بٹھاتے تھےکہ بادشاہ وقت بھی خداؤں میں سےایک خدا ہے،ملک اور رعیت کا مالک ہے، اس کی زبان قانون ہے اور اس کو رعایا کی جان و مال پر ہر قسم کےاختیارات حاصل ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ بادشاہوں کے آگےپورے بندگی کےمراسم بجالائے جاتےتھے،تاکہ رعایا کےدل و دماغ پر ان کی خدائی کا خیال مسلط ہو جائے-
ایسے زمانے اور ایسی قوم میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے اور لطف یہ ہے کہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے وہ خود پجاریوں کا گھرانا تھا۔ ان کے باپ دادا اپنی قوم کے پنڈت اور برہمن تھے ۔ اس گھر میں وہی تعلیم اور وہی تربیت ان کو مل سکتی تھی بھو ایک پنڈت زادے کو ملا کرتی ہے۔اسی قسم کی باتیں بچپن سے کانوں میں پڑتی تھیں۔ وہی پیروں اور پیرزادوں کےرنگ ڈھنگ اپنےبھائی بندوں اور برادری کے لوگوں میں دیکھتے تھے۔ وہی مندر کی گڈی ان کے لیے تیار تھی جس پر بیٹھ کر وہ اپنی قوم کے پیشوا بن سکتے تھے۔ وہی نذر و نیاز اور چڑھاوے جن سے ان کا خاندان مالامال ہو رہا تھا اُن کے لیے بھی حاضر تھے ، اُسی طرح لوگ اُن کے سامنے بھی ہاتھ جوڑنے اور عقیدت سےسر جھکانےکےلیےموجود تھے۔اسی طرح دیوتاؤں سےزشتہ ملاکر اور غیب گوئی کا ڈھونگ رچا کر وہ اونی کسان سےلےکہ بادشاہ تک ہر ایک کو اپنی پیری کے پھندےمیں پھانس سکتے تھے۔اس اندھیرے میں جہاں کوئی ایک آدمی بھی حق کو جاننےاور ماننے والا موجود نہ تھا،نہ تو ان کو حق کی روشنی ہی کہیں سے مل سکتی تھی اور نہ کسی معمولی انسان کے بس کا یہ کام تھا کہ اس قدر زبر دست ذاتی اور خاندانی فائدوں کو لات مار کر محض سچائی کے پیچھے دنیا بھر کی مصیبتیں مول لینے پر آمادہ ہو جاتا ۔
مگر حضرت ابراہیم کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔کسی اور ہی مٹی سے ان کا خمیر بنا تھا۔ہوش سنبھالتےہی انھوں نےسوچنا شروع کر دیا کہ یہ سورج ، چاند اور تارےجو خود غلاموں کی طرح گردش کر رہے ہیں،اور یہ پتھر کے بت جن کو آدمی خود اپنےہاتھ سے بناتا ہے اور یہ بادشاہ جو ہم ہی جیسےانسان ہیں ، آخر یہ خدا کیسےہو سکتےہیں ؟ جو بیچارے خود اپنے اختیار سےجنبش نہیں کر سکتےہجن میں آپ اپنی مدد کرنےکی قدرت نہیں، جو اپنی موت اور زیست کے بھی مختار نہیں، ان کے پاس کیا دھرا ہے کہ انسان ان کےآگے عبادت میں سر جھکائے، اُن سے اپنی حاجتیں مانگےان کی طاقت سےخوف کھائےاور اُن کی خدمت گاری و فرمانبرداری کرےزمین اور آسمان کی مبنی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں،یا جن سےکسی طور پر ہم واقف ہیں،ان میں سےتو کوئی بھی ایسی نہیں جو خود محتاج نہ ہو،جو خود کسی طاقت سےدبی ہوئی نہ ہوا اور جس پر کبھی نہ کبھی زوال نہ آتا ہو۔ پھر جب ان سب کا یہ حال ہے تو ان میں سےکوئی رب کیسے ہو سکتا۔ جب ان میں سے کسی نے مجھ کو پیدا نہیں کیا ، نہ کسی کےہاتھ میں میری موت اور زیست کا اور نفع اور نقصان کا اختیار ہے، نہ کسی کےہاتھ میں رزق اور حاجت روائی کی کنجیاں ہیں،تو میں ان کو رب کیوں مانوں اور کیوں اُن کےآگے بندگی و اطاعت میں سر جھکاؤوں ؟ میرا رب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے اختیار میں سب کی موت و رسیت اور سب کا نفع و نقصان ہے۔یہ دیکھ کر حضرت ابرا نیم نے قطعہ فیصلہ کر لیا کہ جن معبودوں کو میری قوم پوجتی ہے اُن کو میں ہرگز نہ پوچوں گا اور اس فیصلہ پر پہنچنے کے بعد انھوں نےعلى الاعلان لوگوں سے کہہ دیا کہ :
إِنِّي وَجَهتُ وَجْهِيَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أنَا مِنَ الْمُشْرِكين_٢ "میں نے سب سے منہ موڑ کر اس ذات کو عبادت و بندگی کے لیے خاص کر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور میں هرگز شرک کرنے والا نہیں ہوں گے"-
اس اعلان کے بعد حضرت ابراہیم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے،باپ نےکہامیں عاق کہ دوں گا اور گھر سے نکال باہر کروں گا۔قوم نےکہا ہم میں سےکوئی تمھیں پناہ نہ دےگاحکومت بھی اُن کےپیچھےپڑگئی اور بادشاہ کےسامنے مقدمہ پیش ہوا۔مگروه یکه و تنہا انسان سب کے مقابلہ میں سچائی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ باپ کو ادب سےجواب دیا کہ جو علم میرےپاس ہےوہ تمھیں نہیں ملا،اس لیےبجائےاس کےکہ میں تمھاری پیروی کروں، تمھیں میری پیروی کرنی چاہیئے۔قوم کی دھمکیوں کےجواب میں اس کے بتوں کو اپنےہاتھ سےتور کر ثابت کر دیا کہ جنھیں تم پوجتےہو وہ خود کس قدر بے بس ہیں۔بادشاہ کے بھرےدربار میں جا کہ صاف کہہ دیا کہ تو میرارب نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کے ہاتھ میں میری اور تیری زندگی و موت ہے۔ اور جس کےقانون کی بندش میں سورج تک جکڑا ہوا ہے۔ آخری شاہی دربار میں فیصلہ ہوا کہ اس شخص کو زندہ جلا ڈالا جائے۔ مگر وہ پہاڑ سے زیادہ مضبوط دل رکھنے والا انسان جو خدائےواحد پر ایمان لا چکا تھا،اس ہولناک سزا کو بھگتنےکےلیے بھی تیار ہو گیا۔ پھر جب اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو آگ میں جلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر بار عزیز و اقارب ، قوم اور وطن سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی بیوی اور ایک بھتیجے کو لےکر غریب الوطنی میں ملک ملک کی خاک چھاننے کے لیے نکل کھڑا ہوا جس شخص کےلیے اپنے گھر میں مہنت کی گرمی موجود تھی، جو اس پر بیٹھ کر اپنی قوم کا ہیر بن سکتا تھا۔دولت و عزت دونوں جس کے قدم چومنے کے لیے تیار تھیں، اور جو اپنی اولاد کو بھی اس مہنتی کی گدی پر مزے ٹوٹنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا. اس نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے جلا وطنی اور بے سر و سامانی کی زندگی پسند کی ۔ کیوں کہ دنیا کے چھوٹےخداؤں کے جال میں پھانس کہ خودمہ سے کرنا اسے گوارا نہ تھا اور اس کے مقابلہ میں یہ گوارا تھا کہ ایک سچے خدا کی خلاف لوگوں کو بلائے اور اس جرم کی پاداش میں کہیں چین سے نہ بیٹھ سکے ۔
وطن سے نکل کر حضرت ابراہیم شام، فلسطین ،مصر اور عرب کے ملکوں میں پھرتے رہے۔خدا ہی جانتا ہےکہ اس مسافرت کی زندگی میں اُن پر کیا گزری ہوگی۔مال و زر کچھ ساتھ لے کر نہ نکلے تھے اور باہر نکل کر اپنی روٹی کمانے کی فکر میں نہیں پھر رہے تھے بلکہ رات دن فکرہ تھی تو یہ تھی کہ لوگوں کو ہر ایک کی بندگی سے نکال کر صرف ایک خدا کا بندہ بنائیں۔ اس خیال کے آدمی کو جب اس کے اپنے باپ نے اور اس کی اپنی کی اپنی قوم نےبرداشت نہ کیا تو اور کون برداشت کر سکتا تھا ؟کہاں اس کی آؤ بھگت ہو سکتی تھی؟ہر جگہ وہی مندروں کے مہنت اور وہی خدائی کے مدعی بادشاہ موجود تھے اور ہر جگہ وہی جاہل عوام لیتے تھے جو ان جھوٹے خداؤں کےپھندے میں پھنےہوئے تھے۔ ان لوگوں کے درمیان وہ شخص کہاں چین سے بیٹھ سکتا تھا جو نہ صرف خود ہی خدا کےسوا کسی کی خدائی کاننے کےلیے تیار نہ تھا بلکہ دوسروں سےبھی علانیہ کہتا پھرتا تھا کہ ایک اللہ کےسوا تمھارا کوئی مالک اور آقا نہیں ہے۔ سب کی آقائی و خداوندی کا تختہ الٹ دو، اور صرف اس ایک کےبندے بن کر رہو۔ یہی وجہ ہےکہ حضرت ابراہیم کو کسی جگہ قرار نصیب نہ ہوا۔ سالہا سال بے خانماں پھرتے رہےکبھی کنعان کی بستیوں میں ہیں تو کبھی مصر میں اور کبھی عرب کے ریگستان ہیں۔ اسی طرح ساری جوانی بیت گئی اور کالے بال سفید ہو گئے۔
اخیر عمر میں جب 9 برس پورے ہونے میں صرف چار سال باقی تھے اور اولاد سے مایوسی ہو چکی تھی، اللہ نے اولاد دی ۔ لیکن اس اللہ کے بندے کو اب بھی یہ فکر نہ ہوئی کہ خود خانماں برباد ہوا ہوں تو کم از کم اپنے بچوں ہی کو دنیا کمانے کےقابل بناؤں اور انھیں کسی ایسے کام پر لگا جاؤں کہ روٹی کا سہارا مل جائے۔نہیں،اس بوڑھے مسلمان کو فکر تھی تو یہ تھی کہ جس مشن کو پھیلانے میں خود اس نے اپنی عمر کھپا دی تھی، کاش کوئی ایسا ہو جو اس کے مرنے کے بعد بھی اسی مشن کو پھیلاتا ہے۔اسی غرض کے لیے وہ اللہ سے اولاد کا آرزومند تھا، اور جب اللہ نےاولاد دی تو اس نے یہی چاہا کہ اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے انھیں تیار کرے۔ اس ان ایک کامل کی زندگی ایک بچے اور اصلی مسلمان کی زندگی تھی۔ ابتدائے جوانی میں ہوش سنبھالنےکے بعد ہی جب اُس نے اپنے خدا کو پہچانا اور پالیا تو خدا نے اس سے کہا تھا کہ اَسْلَمْ (اسلام لے آ، اپنے آپ کو میرے سپرد کردے ، میرا ہو کر رہ ) اور اُس نےجواب میں قول دے دیا تھا کہ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ _١ میں نے اسلام قبول کیا، میں رب العالمین کا ہو گیا، میں نے اپنے آپ کو اُس کے سپرد کر دیا ،اس قول و قرار کو اُس بچتے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نباہ کر دکھا دیا اس نے رب العالمین کی خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا ، اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا ، اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتیں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ میں صرف کر دیا اور بڑھاپےمیں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لیے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا۔
مگر ان آزمائشوں کے بعد ایک اور آخری آزمائش باقی رہ گئی تھی جس کے بغیر یہ فیصلہ نہ ہو سکتا تھا کہ یہ شخص دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر رب العالمین سے محبت رکھتا ہے۔ اور وہ آزمائش یہ تھی کہ اس بڑھاپے میں جبکہ پوری مایوسی کے بعد اسےاولاد نصیب ہوئی ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو رب العالمین کی خاطر قربان کر سکتا ہے یا نہیں، چنانچہ یہ آزمائش بھی کر ڈالی گئی، اور جب اشارہ پاتے ہی وہ اپنے بیٹےکو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا، تب فیصلہ فرما دیا گیا کہ ہاں اب تم نےاپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل بچھا کر دکھایا۔ اب تم اس کے اہل ہو کہ تمھیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے ۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہےکہ :
"اور جب ابراهیم کوانوں نے سب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان میں پورا اتر کیا تو فرمایا کہ میں تجھ کو انسانوں کا امام ( پیشوا)، بناتا ہوں ۔اس نے عرض کیا اور میری اولاد کے متعلق کیا حکم ہے ؟ جواب دیا ان میں سے جو ظالم ہوں گے انھیں میرا عہد نہیں پہنچتا "-
اس عورت حضرت ابراہیم کو پیشیوانی سونپی گئی اور وہ اسلام کی عالمگیر تحریک کے لیڈر بنائے گئے، اب اُن کو اس تحریک کی اشاعت کے لیے ایسے آدمیوں کی ضرورت پیش آئی جو مختلف علاقوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں اور ان کے خلیفہ یا نائب کی حیثیت سے کام کریں ۔ اس کام میں تین آدمی ان کے لیے قوت بازو ثابت ہوتے۔ایک اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السّلام، دوسرے ان کے بڑے صاحبزادےحضرت اسمعیل علیہ السلام جنھوں نےیہ سن کر کہ رب العلمین ان کی جان کی قربانی چاہتا ہےخود اپنی گردن خوشی خوشی چھری کے نیچے رکھ دی تیسرے اُن کے چھوٹےصاحبزادے حضرت اسحق علیہ السلام
بھتیجے کو آپ نے سدوم کے علاقہ میں بٹھایا جس کو آج کل شرقی اردن ( ٹرانس جور ڈینیا ) کہتے ہیں۔ یہاں اس وقت کی سب سے زیادہ باجی قوم رہتی تھی، اس لیےاس کی اصلاح مقر نظر تھی اور ساتھ ہی دُور دراز کے علاقوں پر بھی اثر ڈالنا مقصود تھا۔ کیوں کہ ایران، عراق اور مصر کے درمیان آنے جانے والے سب تجارتی قافلے اسی علاقے سے گزرتے تھے اور یہاں بیٹھ کر دونوں صارف تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا جا سکتا تھا۔
چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحق کو کنعان کے علاقہ میں آباد کیا جس کو آجکل فلسطین کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ شام اور مصر کے درمیان واقع ہے، اور سمندر کےکنارے ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں پر بھی یہاں سے انٹر ڈالا جا سکتا ہے۔یہیں سے حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب (جن کا نام اسرائیل بھی تھا، اور ہوتے حضرت یوست کی بدولت اسلام کی تحریک مصر تک پہنچی۔
بڑے صاحبزادے حضرت اسمعیل کو حجاز میں سکتے کے مقام پر رکھا اور ایک مدت تک خود اُن کے ساتھ رہ کر عرب کے تمام گوشوں میں اسلام کی تعلیم پھیلائی۔
پھر یہیں دونوں باپ بیٹوں نےاسلامی تحریک کا وہ مرکز تعمیر کیا جو کعبہ کےنام سے آج ساری دنیا میں مشہور ہے۔اس مرکز کا انتخاب اللہ تعالیٰ نےخود فرمایا تھا اور خود ہی اس تعمیر کی جگہ تجویز کی تھی۔یہ عمارت محض ایک عبادت گاہ ہی نہ تھی جیسے مسجد میں ہوا کرتی ہیں ، بلکہ اقول روز ہی سے اس کو دین اسلام کی عالمگیر تحریک کامرکز تبلیغ و اشاعت قرار دیا گیا تھا ،اور اس کی غرض یہ تھی کہ ایک غلا کو ماننےوالے ہر جگہ سےکھینچ کھینچےکہ یہاں جمع ہوا کریں۔مل کر خدا کی عبادت کریں،اور اسلام کا پیغام لے کر پھر اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائیں۔ یہی اجتماع تھا جس کا نام حج رکھا گیا۔ اس کی پوری تفصیل کہ یہ مرکز کس طرح تعمیر ہوا، کن جذبات اور کن دُعاؤں کے ساتھ دونوں باپ بیٹوں نے اس عمارت کی دیواریں اُٹھائیں اور کیسے حج کی ابتداء ہوئی ، قرآن مجید میں یوں بیان کی گئی ہے:
"یقینا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا برکت والا گھر، اور سارے جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت ۔ اس میں اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ، مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہےاس کو امن مل جاتا ہے۔
"کیا لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کیسا پر امن حرم بنایا ہے، حالانکہ اس کے گردو پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں۔ (یعنی جب کہ عرب میں ہر طرف لوٹ مار قتل و غارتگری اور جنگ و جدل کا بانزالہ گرم تھا اس حرم میں ہمیشہ امن ہی رہا۔ حتی کہ وحشی بدو تک اس کے حدود میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ پاتے تو اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتے)" ۔
وَإِذْ جَعَلْنَا البَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى ، وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَوَاسْمَعِيلَ أَن طَهِرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ الْحَكِفِينَ والركح السُّجُودِه وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَل هذا بَلَدًا لا مِنَّا وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الأخِيط ........ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السميع المُ: رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةٌ مُّسْلِمَةٌ لَّكَ وَارِنَا مَنَا سِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَام إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُه رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُم يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَيْمُ (البقره : ۱۲۵ تا ۷۱۲۹)
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلُ هَذَا الْبَلَدَ امِنَّا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَهُ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّى وَ مَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمُه رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَ لا مِّنَ النَّاسِ تَهْوى إِلَيْهِمْ وَارزُقَهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ .(ابراهیم : ۳۵ تا ۳۷)
"اور جب کہ ابراہیم نے دعا کی کہ پروردگار یہ اس شہر کو پر امن شہر بنا اور مجھ کو اور میرے بچوں کو ثبت پرستی سے بچا۔ پروردگار، ان بتوں نے بہتیرےلوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جو کوئی میرے طریقہ کی پیروی کرے تو میرا ہے اور جو میرے طریقہ سے پھر جائے تو یقینا تو قصور اور رحیم ہے۔ پروردگار نہیں نے اپنی نسل کے ایک حصہ کو تیرے اس عزت والے گھر کے پاس اسس بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز کا نظام قائم کریں۔ نہیں اےرب اتو لوگوں کے دلوں میں ایسا شوق ڈال کر وہ ان کی طرف کھینچ کر آئیں اور ان کو پھلوں سے رزق پہنچا۔ امید ہے کہ یہ تیرے شکر گزار بنیں گے"-
واد بوانا لإبرهيم مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكُ في شَيْتُ وَطَاهِرُ بَيْتِيَ لِلطَّالِفِينَ وَالْقَايْمِينَ وَالتَّلع السُّجُورِه وَاذتُ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا عَلَى محل اور يا حِينَ مِن كُل تج عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَت عَلَى مَا رزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَ أَطْعِمُوا البَائِسَ الْفَقِيرة (الحج : ۳ تا ۲۰)
"اور جب کہ ہم نے ابراہیم کےلیے اس گھر کی جگہ مقرر کی اس ہدایت کے ساتھ کہ یہاں شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور کوچ اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھے اور لوگوں میں جج کی عام منادی کر دو کہ تمھارے پاس آئیں پنخواہ پیدل آئیں یا ہر دور دراز مقام سےڈیلی اونٹنیوں پر آئیں تا کہ یہاں آکر وہ دیکھیں کہ ان کے لیے کیسے کیسے دینی و دنیوی منافع ہیں اور ان چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر بھی اللہ نے ان کو دیے ہوں اللہ کا نام نہیں (یعنی قربانی کریں،) اور اس میں سےخود بھی کھائیں اور تنگدست و محتاج لوگوں کو بھی کهلائیں"-
برادران اسلام کا یہ ہےاُس حج کی ابتداء کا قصہ جسے اسلام کا پانچواں رکن قرار دیا گیا ہے۔اس سےآپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دنیا میں سب سےپہلےجس نبی کو اسلام کی عالم گیر دعوت پھیلانے پر مامور کیا گیا تھا،مکہ اس کے مشن کا صدر مقام تھا۔ کعبہ وہ مرکز تھا جہاں سے یہ تبلیغ دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچائی جاتی تھی، اور حج کا طریقہ اس یے مقرر کیا گیا تھا کہ جو لوگ خدائےواحد کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کی اطاعت ہیں داخل ہوں،خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، سکچے سب اس ایک مرکز سے وابستہ ہو جائیں اور ہر سال یہاں جمع ہو کہ اس مرکز کے گرد طواف کریں۔ گویا ظاہر میں اپنی اس باطنی کیفیت کا نقشہ جما لیں کہ ان کی زندگی اس پہیتے کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے دھرے کے گرد ہی گھومتا ہے۔
برادران اسلام، پچھلے خطبہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حج کی ابتداء کس طرح اور کس غرض کے لیے ہوئی تھی۔ یہ بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کتے کو اس اسلامی تحریک کا مرکز بنایا تھا اور یہاں اپنےسب سےبڑے بیٹےحضرت اسمعیل علیہ السلام کو بٹھایا تھا تا کہ آپ کےبعد وہ اس تحریک کو جاری رکھیں۔
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت اسمعیل کے بعد اُن کی اولاد کب تک اس دین پر قائم رہی جس پر اُن کے باپ اُن کو چھوڑ گئے تھے ۔ بہر حال چند صدیوں میں یہ لوگ اپنے بزرگوں کی تعلیم اور ان کے طریقے سب بھول بھال گئے اور رفتہ رفتہ ان میں وہ سب گمراہیاں پیدا ہو گئیں جو دوسری جاہل قوموں میں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اُسی کھجے میں جیسے ایک خدا کی پرستش کے لیے دعوت و تبلیغ کا مرکز بنایا گیا تھا ، سینکڑوں بت رکھ دیے گئے تھے اور غضب یہ ہے کہ خود حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کو بھی بہت بنا ڈالا گیا جن کی ساری زندگی مبتوں ہی کی پرستش مٹانے میں صرف ہوئی تھی۔ ابراہیم حنیف کی اولاد نے لات، منات ، سیل ، نشر، يَقُوت ، عربی، اسان نائلہ اور خدا جانے کس کس نام کے بت بنائے اور ان کو پوجا۔ چاند عطارد، زہرہ زمل، اور معلوم نہیں کس کس ستارے کو پوجا جن بھوت پریت ، فرشتوں اور اپنے مردہ بزرگوں کی روحوں کو پوجا ۔ جہالت کا زور یہاں تک بڑھا کہ جب گھر سے نکلتے اور اپنا خاندانی ثبت انھیں پوجنے کو نہ ملتا تو راستہ چلتے میں جو اچھا سا چکنا پتھر مل جاتا اُسی کو پوج ڈالتے ، اور پھر بھی نہ ملتا تو مٹی کو پانی سے گوندھ کر ایک پنڈا سا بنا لیتے اور بکری کا دودھ چھڑکتے ہی وہ بے جان پنڈا ان کا خدا ہو جا تا ہیں مینت گری اور پنڈ تائی کے خلاف ان کے باپ ابراہیم علیہ السّلام نے عراق میں لڑائی کی تھی وہ خود انہی کے گھر میں گھس آئی۔ کیسے کو اُنھوں نے ہر دوانہ یا بناریں بنا لیا خود وہاں کے مہنت بن کر بیٹھ گئے۔ حج کو تیر تھے جانتر ا بنا کر اس گھر سے جو توحید کی تبلیغ کے لیے بنا تھا بت پرستی کی تبلیغ کرنے لگے ، اور پجاریوں کےسارے ہتھکنڈے اختیار کر کے اُنھوں نے عرب کے دُور و نزدیک سے آنے والے جانریوں سےنذر چڑھاوے وصول کرنے شروع کر دیے۔ اس طرح وہ سارا کام برباد ہو گیا جو ابراہیم و اسمعیل علیہا السلام کر گئے تھے، اور جس مقصد کے لیے انھوں نے حج کا طریقہ جاری کیا تھا اس کی جگہ کچھ اور ہی کام ہونے لگے۔
اس جاہلیت کےزمانےمیں حج کی جو گت بنی اس کا اندازہ آپ اس سےکہ سکتےہیں کہ یہ ایک میلہ تھا جو سال کےسال لگتا تھا۔ بڑے بڑے قبیلے اپنے اپنےجتھوں کے ساتھ یہاں آتے اور اپنے اپنے پٹاؤ الگ ڈالتے ۔ ہر قبیلے کا شاعر یا بھاٹ اپنی اور اپنےقبیلے والوں کی بہادری، ناموری،سوات، طاقت اور سخاوت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا اور ہر ایک ڈینگیں مارتے ہیں دوسرےسے بڑھ جانے کی کوشش کرتا یہاں تک کہ دوسرے کی ہجو تک نوبت پہنچ جاتی۔
پھر فیاضی کا مقابلہ ہوتا۔ ہر قبیلے کے سردار اپنی بڑائی جتانے کے لیے دیگیں چچا تھےاور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اونٹ پر اونٹ کاٹتے چلے جاتے۔ اس فضول خرچی سے ان لوگوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس میلے کے موقع پر اُن کا نام سارے عرب میں اُونچا ہو جائے اور یہ چرچے ہوں کہ فلاں صاحب نےاتنے اونٹ ذبح کیے اور فلاں صاحب نے اتنوں کو کھانا کھلایا۔ ان مجلسوں میں لاگ ، رنگ ، شراب خوری از نا اور ہر قسم کی فحش کاری خوب دھڑتے سے ہوتی تھی اور عمدا کا خیال مشکل ہی سے کسی کو آتا تھا۔
کعبےکےگردطواف ہوتا تھا،مگر کس طرح؟عورت مرد سب تنگےہو کر گھومتےتھےاور کہتےتھےکہ ہم اس حالت میں خدا کے سامنے جائیں گے جس میں ہماری ماؤں نے ہمیں جنا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی مسجد میں عبادت ہوتی تھی،مگر کسی؟ تالیاں پیٹی جاتیں، سیٹیاں بجائی جاتیں اور نرسنگھےپھونکےجاتے۔خدا کا نام پکارا جاتا، مگر کس شان سے؟ کہتے تھے:
"یعنی میں حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو تیرا ہونے کی وجہ سے تیرا شریک ہے۔ تو اس کا بھی مالک ہے اور اس کی ملکیت کا بھی مالک ہے"-
خدا کے نام پر قربانیاں کرتے تھے، مگر کسی بد تمیزی کے ساتھ ؟ قربانی کا خون کیسے کی دیواروں سے لیتھڑا جاتا اور گوشت دروازے پر ڈالا جاتا ، اس خیال سے کہ نعوذ باللہ یہ خون اور گوشت خدا کو مطلوب ہے۔
حضرت ابراہیم نے حج کے چار مہینوں کو حرام ٹھیرایا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ان مہینوں میں کسی قسم کی بیجنگ و جدل نہ ہو۔ یہ لوگ اس حرمت کا کسی بعد تک خیال رکھتے تھے، مگر جب لڑنےکو جی چاہتا تو ڈھٹائی کے ساتھ ایک سال حرام مہینے کو حلال کر لیتے اور دوسرے سال اس کا بدلہ کر دیتے تھے۔
پھر جو لوگ اپنےمذہب میں نیک نیت تھے انھوں نے بھی جہالت کی وجہ سے عجیب عجیب طریقے ایجاد کر لیے تھے ۔ کچھ لوگ بغیر زادِ راہ لیے حج کو نکل کھڑےہوتے اور مانگتے کھاتے چلے جاتے تھے ۔ ان کے نزدیک یہ نیکی کا کام تھا۔کہتےتھےہم منتو حل ہیں،خدا کےگھر کی طرف جا رہے ہیں،پھر دنیا کا سامان کیوں لیں۔عمونا حج کے سفر میں تجارت کرنے یا کمائی کے لیے محنت مشقت کرنے کو ناجائز سمجھا جاتا تھا،بہت سے لوگ حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے اور اسے بھی داخل عبادت سمجھتےتھے ۔ بعض لوگ حج کو نکلتے تو بات چیت کرنا ترک کر دیتےاس کا نام بی مضمت،یعنی گونگا جج تھا۔ اسی قسم کی اور غلط رسمیں بے شمار تھیں جن کا حال بیان کرکے میں آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔
یہ حالت کم و بیش دو ہزار برس تک رہی۔ اس طویل مدت میں کوئی نبی عرب میں پیدا نہیں ہوا، نہ کسی نبی کی خالص تعلیم عرب کےلوگوں تک پہنچی۔آخر کار حضرت ابراهیم کی اُس دُعا کے پورا ہونےکا وقت آیا جو انھوں نےکعبے کی دیواریں اٹھاتے وقت اللہ سے مانگی تھی ، یعنی پروردگار، ان کےدرمیان ایک پیغمبر خود انہی کی قوم میں سے بھیجیں جو انھیں تیری آیات سُنائے اور کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے پھر ایک انسان کامل اٹھا جس کا نام پاک محمد بن عبد اللہ تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم -
جس طرح حضرت ابراہیم نے پنڈتوں اور مہنتوں کے خاندان میں آنکھ کھولی تھی،اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس خاندان میں آنکھ کھولی جو صدیوں سےکعبہ کےتیرتھ کا مہنت بنا ہوا تھا۔جس طرح حضرت ابراہیم نےاپنےہاتھ سےخود اپنےخاندان کی مہنتی پر ضرب لگائی،اسی طرح آنحضرت نےبھی اس پرضرب لگائی اور محض ضرب ہی نہیں لگائی بلکہ ہمیشہ کےلیےاس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔پھر جس طرح حضرت ابراہیم نے تمام باطل عقیدوں اور جھوٹے خداؤں کی خدائی مٹانے کےلیے جدوجہد کی تھی اور ایک خدا کی بندگی پھیلانے کی کوشش کی تھی ، بالکل وہی کام آنحضرت نے بھی کیا اور پھر اسی اصلی اور بے لوث دین کو تازہ کر دیا ہے حضرت ابراہیم لے کر آئے تھے۔ ۲۱ سال کی مدت میں جب یہ سارا کام آپ مکمل کر چکے تو اللہ کے حکم سے آپ نے پھر اسی طرح کھبے کو تمام دنیا کے خدا پرستوں کا مرکز بنانے کا اعلان کیا اور پھر وہی منادی کی کہ سب طرف سے حج کے لیے اس مرکز کی طرف آؤ۔
"اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو کوئی اس گھر تک آنے کی قدرت رکھتا ہو وہ حج کے لیے آئے ۔ پھر جو کوئی کفر کرے (یعنی قدرت کے باوجود نہ آئے) تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔"
اس طرح حج کا از سر نو آغاز کرنے کے ساتھ ہی جاہلیت کی وہ ساری رسمیں بھی یک قلم مٹادی گئیں جو پچھلے دو ہزار برس میں رواج پا گئی تھیں۔
کعبیے کے سارے بت توڑے گئے ، خدا کے سوا دوسروں کی جو پرستش وہاں ہو رہی تھی وہ قطعا روک دی گئی ، سب رسمیں مٹادی گئیں، میلے ٹھیلے اور تماشے بند کردیےگئے اور حکم دیا گیا کہ اب جو طریقہ عبادت کا بتایا جا رہا ہے اسی طریقے سے یہاں اللہ کی عبادت کرو۔
فیاضی کے مقابلے، جو محض دکھاوے اور ناموری کے لیے ہوتے تھے ان سب کا خاتمہ کر دیا گیا اور اس کی جگہ وہی حضرت ابراہیم کےزمانےکا طریقہ پھر زندہ کیا گیا کہ محض اللہ کے نام پر جانور ذبح کیےجائیں تا کہ خوشحال لوگوں کی قربانی سے غریب حاجیوں کو بھی کھانے کا موقع مل جائے۔
"ان جانوروں کو خالص اللہ کے لیے اسی کے نام پر قربان کرو، پھر جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹھہر جائیں (یعنی جب جان پوری طرح نکل چکے اور حرکت باقی نہ ر ہے)، تو خود بھی ان میں سے کھاؤ اور قانع کو بھی کھلاؤ اور حاجت مند سائل کو بھی"-
" نسی تو کفر میں اور زیادتی ہے (یعنی کفر کے ساتھ ڈھٹائی کا اضافہ ہے ) کافر لوگ اس طریقہ سے اور زیادہ گمراہی میں پڑتے ہیں ۔ایک سال ایک مہینہ کو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اُس کے بدلہ میں کوئی دوسرا مہینہ حرام کر دیتے ہیں تاکہ جتنے مہینے اللہ نے حرام ٹھہرائےہیں ان کی تعداد پوری کر دی جائے ۔ مگر اس بہانے سے در اصل اس چیز کو حلال کر لیا جائے جسے اللہ نے حرام کیا تھا ۔"
گونگے حج اور بھوکے پیاسے حج سے بھی روکا گیا ، اور اس طرح جاہلیت کی دوسری تمام رسموں کو مٹا کر حج کو تقوی ، خدا ترسی، پاکیزگی اور سادگی و درویشی کا مکمل نمونہ بنا دیا گیا۔
حاجیوں کو حکم دیا گیا کہ جب اپنے گھروں سے چھلو تو اپنے آپ کو تمام دنیوی آلائشوں سے پاک کر لو، شہوات کو چھوڑ دو، بیویوں کے ساتھ بھی اس زمانہ میں تعلق زن و شونہ رکھو۔ گالی گلوچ اور تمام بیہودہ اعمال سے پرهیز کرو۔
کعبہ کی طرف آنے والے بننے راستے ہیں، اُن سب پر بیسیوں میل دور سےایک ایک حد مقرر کر دی گئی کہ اس حد سے آگے بڑھنے سے پہلے سب لوگ اپنےاپنے لباس بدل کر احرام کا فقیرانہ لباس پہن لیں ، تاکہ سب امیر و غریب یکساں ہو جائیں، الگ الگ قوموں کے انتیازات مٹ جائیں، اور سب کے سب اللہ کےدربار میں ایک ہو کر فقیر بن کر عاجزانہ شان کے ساتھ حاضر ہوں۔
احرام باندھنے کے بعد انسان کا خون بہانا تو در کنار، جانور تک کا شکار کرنا حرام کر دیا گیا تا کہ امن پسندی پیدا ہو، بہیمیت دور ہو جائے اور طبیعتوں پر روحانیت کا غلبہ ہو۔ حج کےچار مہینےاس لیےحرام کیے گئے کہ اس مدت میں کوئی لڑائی نہ ہو،کعبہ کو جانے والے تمام راستوں میں امن رہے اور زائرین حرم کو کوئی نہ چھیڑے۔اس شان کے ساتھ جب سماجی تحریم میں پہنچیں تو ان کے لیے کوئی میلہ ٹھیلہ ، کھیل تماشا،ناچ رنگ وغیرہ نہیں ہے۔ قدم قدم پر خدا کا ذکر ہے ، نمازیں ہیں ، عبادتیں ہیں، قربانیاں ہیں ، کعبہ کا طواف ہے، اور کوئی پکار ہے تو بس یہ ہے کہ :
" حاضر ہوں ، میرے اللہ میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے ، نعمت سب تیری ہے ۔ ساری بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔"
" جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے ، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اُس نےحج نہ کیا ہو اور اسی حالت میں اُسے موت آجائے تو اُسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر"-
اور اسی کی تفسیر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی جب کہا کہ "جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے ، میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگا دوں وہ مسلمان نہیں ہیں، وہ مسلمان نہیں ہیں "۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول و خلیفہ رسول کی اس تشریح سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ یہ فرض ایسا فرض نہیں ہے کہ جی چاہے تو ادا کیجیے اور نہ چاہیےتو ٹال دیجیے بلکہ یہ ایسا فرض ہے کہ ہر اس مسلمان کو جو کہتےتک جانے آنے کا خرچ رکھتا ہو اور ہاتھ پاؤں سےمعذور نہ ہو،عمر میں ایک مرتبہ اسے لازما ادا کرنا چاہیے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو اور خواہ اس کے اوپر بال بچوں کی اور اپنےکاروبار یا ملازمت وغیرہ کی کیسی ہی ذمہ داریاں ہوں ۔ جو لوگ قدرت رکھنےکے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کر کہ کے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے ۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمہ ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں۔ کعبہ یورپ کو آتے جاتے حجاز کے ساحل سے بھی گزر جاتے ہیں جہاں سے مکتہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک اُن کے دل میں نہیں گزرتا ، وہ قطعا مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اور قرآن سے جاہل ہے جو انھیں مسلمان سمجھتا ہے۔ اُن کے دل میں اگر مسلمانوں کا درد اُٹھتا ہے تو اٹھا کرے، اللہ کی اطلاعات اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہر حال ان کے دل میں نہیں ہے۔
برادران اسلام، قرآن مجید میں جہاں یہ ذکر آیا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراهیم کو حج کی عام منادی کرنے کا حکم دیا تھا، وہاں اس حکم کی پہلی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ :
یعنی یہ سفر کر کےاور اس جگہ جمع ہو کر وہ خود اپنی آنکھوں سےمشاہدہ کہ لیں کہ یہ انہی کےنفع کےلیےہے اور اس میں جو فائدےپوشیدہ ہیں ان کا اندازہ کچھ اسی وقت ہو سکتا ہےجب کہ آدمی یہ کام کر کےخود دیکھ لے۔
حضرت امام ابو حنیفہ کے متعلق روایت ہے کہ جب تک انھوں نے حج نہ کیا تھا، اُنھیں اس معاملہ میں تردد تھا کہ اسلامی عبادات میں سب سےافضل کونسی عبادت ہے، مگر جب انھوں نے خود حج کر کے اُن بےحد و حساب فائدوں کو دیکھا جو اس عبادت میں پوشیدہ ہیں، تو بے قاتل پکار اٹھے کہ یقینا حج سب سے افضل ہے -
دنیا کے لوگ عمونا دو ہی قسموں کے سفروں سے واقف ہیں۔ایک مفروہ جو روٹی کمانےکےلیےکیا جاتا ہےدوسرا وہ جو سیر و تفریح کےلیےکیا جاتا ہےان دونوں قسم کےسفروں میں اپنی مرض اور اپنی خواہش آدمی کو باہر نکلنے پر آمادہ کرتی ہےگھر چھوڑتا ہے تو اپنی غرض کے لیے، بال بچوں اور عزیزوں سے جدا ہوتا ہےتو اپنی خاطر مال خرچ کرتا ہے یا وقت صرف کرتا ہےتو اپنےمطلب کےلیے۔لہذا اس میں قربانی کا کوئی سوال نہیں ہے۔ مگر یہ سفر جس کا نام حج ہے، اس کا معاملہ اور سب سفروں سے بالکل مختلف ہے۔یہ سفر اپنی کسی غرض کے لیے یا اپنےنفس کی خواہش کے لیے نہیں ہے ۔ بلکہ صرف اللہ کے لیے ہے اور اُس فرض کو ادا کرنےکے لیے ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔ اس سفر یہ کوئی شخص اُس وقت تک آماده ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کے دل میں اللہ کی محبت نہ ہو، اُس کا خوف نہ ہو، اور اس کے فرض کو فرض سمجھنے کا خیال نہ ہو۔ پس جو شخص اپنے گھر بار سے ایک لمبی مدت کےلیےعلیحدگی، اپنے عزیزوں سے جُدائی،اپنے کاروبار کا نقصان، اپنےمال کا خرج،اور سفر کی تکلیفیں گوارا کر کے حج کو نکلتا ہے ، اُس کا نکلنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے اندر خوف خدا اور محبت خدا بھی ہے اور فرض کا احساس بھی، اور اُس میں یہ طاقت بھی موجود ہے کہ اگر کسی وقت خدا کی راہ میں نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ نکل سکتا ہے ، تکلیفیں اٹھا سکتا ہے ، اپنے مال اور اپنی راحت کو خدا کی خوشنودی پہ قربان کر سکتا ہے۔
پھر جب وہ ایسے پاک ارادے سے سفر کے لیے تیار ہوتا ہے تو اس کی طبیعت کا حال کچھ اور ہی ہوتا ہے،جس دل میں خدا کی محبت کا شوق بھڑک اٹھا ہو اور جس کو اُدھر کی کو لگ گئی ہو اُس میں پھر نیک ہی نیک خیال آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ گناہوں سے تو یہ کرتا ہے اور لوگوں سے اپنا کہنا سُنا بخشوا تا ہے۔کسی کا حق اُس پر آتا ہو تو اُسے ادا کرنے کی فکر کرتا ہے تاکہ خدا کے دربار میں بندوں کے حقوق کا بوجھ لادے ہوئے نہ بھائے۔ بُرائی سےاس کےدل کو نفرت بندوں کے حقوق کا بوجھ لادے ہوئےنہ بھائے۔ بُرائی سے اس کےدل کو نفرت کے لیے نکلنے کےساتھ ہی جتنا جتنا وہ خدا کےگھر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہےاُتنا ہی اس کےاندر نیکی کا جذبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اُس کی کوشش یہ ہوتی ہےکہ کسی کو اس سے اذیت نہ پہنچے اور جس کی جتنی خدمت یا مدد ہو سکے کرے۔بد کلامی و بیہودگی،بےحیائی،بد دیانتی اور جھگڑا فساد کرنےسے خود اس کی اپنی طبیعت اندر سےرکھتی ہےکیونکہ وہ خدا کے راستے میں جا رہا ہے۔ تحریم الہی کا مسافر ہو اور پھر بڑے کام کرتا ہوا جائے، ایسی شرم کی بات کسی سے کیسے ہو ؟ اُس کا تو یہ سفر پورا کا پورا عبادت ہے ، اس عبادت کی حالت میں نظلم اور فسق کا کیا کام ؟ پس دوسرےتمام سفروں کےبرعکس یہ ایسا سفر ہےجو ہردم آدمی کےنفس کو پاک کر تا رہتا ہے؟اور یوں سمجھو کہ یہ ایک بہت بڑا اصلاحی کو رس ہے جس سے لا زنا ہر اس مسلمان کو گزرتا ہوتا ہے جو حج کے لیے جائے۔
سفر کا ایک حصہ ختم کر چکنے کے بعد ایک خاص بعد ایسی آتی ہے جس سے کوئی مسلمان جو مکہ جانا چاہتا ہو، احرام باندھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ احترام کیا ہے؟ایک فقیرانہ لباس جس میں ایک نہ بند، ایک چادر اور جوتی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک جو کچھ تم تھے سو تھے مگر اب جو تمھیں خدا کے دربار میں جانا ہے تو فقیر بن کر چلو۔ ظاہر میں بھی فقیر بنو اور دل کے فقیر بھی بلنے کی کوشش کرو۔ رنگین کپڑے اور آرایش کے لباس اُتارو۔ساده اور درویشانہ طرز کا لباس پہن لو۔ موزے نہ پہنو۔ سر کھلا رکھو۔ خوشبو نہ لگاؤ۔ بال نہ بناؤ۔ہر قسم کی زینت سےپرهیز کر و۔ عورت اور مرد کا تعلق بند کر دو، بلکہ ایسی حرکات و سکنات اور ایسی باتوں سےبھی پرہیز کروجو اس تعلق کا شوقی یا اس کی یاد دلانےوالی ہوں۔شکار نہ کرو،بلکہ شکاری کو شکار کا نشان دینے یا اس کا پتہ بتانے سے بھی اجتناب کرو۔ظاہر میں جب یہ رنگ اختیار کرو گے تو باطنی پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ اندر سےتمھارا دل بھی فقیر بنے گا، کبر و غرور نکلے گا، مسکینی اور امن پسندی پیدا ہو گی ، دنیا اور اس کی لذتوں میں پھٹنے سے جو کچھ آلائشیں تمہاری روح کو لگ گئی تھیں وہ صاف ہوں گی اور خدا پرستی کی کیفیت تمھارے اوپر بھی طاری ہوگی اور اندر بھی __
احرام باندھنے کے ساتھ ہو کلمات حاجی کی زبان سے نکلتے ہیں جن کو وہ ہر نماز کے بعد، اور ہر بلندی پر چڑھتے وقت، اور ہر پستی کی طرف اُترتے وقت اور ہر قافلے سے ملتے وقت اور ہر روز صبح نیند سے بیدار ہو کر بند آواز سے پکارتا ہے،وہ یہ ہیں :
" حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے نعمت سب تیری ہے اور ساری بادشاہی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں "
یہ در اصل حج کی اُس ندائے عام کا جواب ہےجو ساڑھے چار ہزار برس سےپہلے حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اللہ کےحکم سے کی تھی۔پینتالیس صدیاں گزر چکی ہیں جب پہلےپہل اللہ کے اُس منادی نے پکارا تھا کہ اللہ کےبندو، اللہ کےگھر کی طرف آؤ،زمین کےہر گوشےسے آؤ خواہ پیدل آؤ خواہ سواریوں پر آؤ جواب میں آج تک ترمیم پاک کا ہر مسافربلند آواز سے کہہ رہا ہے ” میں حاضر ہوں،میرےاللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، ہمیں صرف تیری طلبی پر حاضر ہوں، تعریف تیرے لیے ہے ، نعمت تیری ہے ، ملک تیرا ہے ، کسی چیز میں تیرا کوئی شریک نہیں۔اس طرح بیک کی ہر صدا کے ساتھ حاجی کا تعلق بچھی اور خالص خدا پرستی کی اس تحریک سے جڑ جاتا ہےجو حضرت ابراہیم اور اسمعیل کےوقت سےپہلی آرہی ہے۔ ساڑھےچار ہزار برس کا فاصلہ بیچ میں سے ہٹ جاتا ہے ۔ یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اُدھر اللہ کی طرف سے حضرت ابراہیم پکار رہے ہیں اور ادھر سے یہ جواب ہے رہا ہے۔ جواب دیتا جاتا ہے اور بڑھتا جاتا ہے ۔ جوں جوں آگے بڑھتا جاتا ہےشوق کی کیفیت اور زیادہ تیز ہوتی جاتی ہے۔ ہر چڑھاؤ اور انار پر اس کے کانوں میں اللہ کے منادی کی آواز گونجتی ہے اور یہ اُس پر لبیک کہتا ہوا آگے چلتا ہے۔ ہر قافلہ اُسے وہیں کا پیا میں معلوم ہوتا ہے اور ایک عاشق کی طرح یہ اُس کا پیام من کر پکارتا ہے ہیں حاضر ہیں حاضر"۔ہر نئی صبح اس کےلیے گویا پیغام دوست لاتی ہے اور نور کے تڑکے میں آنکھ کھولتے ہی یہ لبیک اللهم لبیک کی صدا لگانے لگتا ہے۔مفرض یہ بار بار کی صدا احرام کے اُس فقیرانہ لباس، سفر کی اُس حالت، اور منزل بمنزل کعبہ کے قریب تر ہوتے جانے کی اس کیفیت کے ساتھ مل کر کچھ ایسا سماں باندھ دیتی ہے کہ سماجی عشق الہی میں از خود رفتہ ہو جاتا ہے اور اس کے دل کی یہ حالت ہوتی ہے کہ بس ایک یا دو دوست کے سوا آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا ہے۔
اس شان سے حاجی مکہ پہنچتا ہے اور بجاتے ہی سیدھا اس آستانے کا رخ کرتا ہے جس کی طرف بلایا گیا تھا۔ آستان دوست کو چومتا ہے، پھر اپنے عقیدے،اپنے ایمان، اپنے دین و مذہب کے اُس مرکز کے گرد چکر لگاتا ہے اور ہر چکر آستانہ بوسی سے شروع اور آستانہ بوسی ہی پر ختم کرتا جاتا ہے_١،اس کے بعد مقام ابراہیم پر دورکعتیں سلامی کی پڑھتا ہے، پھر وہاں سے نکل کر کو وصفا پر چڑھتا
١- حجر اسود کے بوسے پر نادان لوگ اکثر اعتراض کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی تو ایک طرح کی بت پرستی ہے۔ حالانکہ دراصل یہ آستانہ بوسی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ خانہ کعبہ کا طواف حجر اسود کے سامنے سے شروع کیا جاتا ہے اور سات طواف کرنے کے دوران میں ہر طواف کے خاتمے پر محجر اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے یا اس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی کوئی شائبہ اس کالے پتھر کی پرستش کا نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول مشہور ہے کہ انھوں نے حجر اسود کو خطاب کر کے فرمایا تھا کہ میں جانتا ہوں تو محض ایک پتھر ہے۔ اگر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تجھے نہ چھوکا ہوتا تو میں ہر گز تجھے نہ چومتا" مقام ابراہیم پر دور کعتیں سلامی کی پڑھتا ہے، پھر وہاں سے نکل کر کو وصفا پر چڑھتا ہے اور وہاں سے جب کعبہ پر نظر پڑتی ہے تو پکار اٹھتا ہے:
پھر وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے ، گویا اپنی حالت سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ یونہی اپنے مالک کی خدمت میں اور یونہی اس کی خوشنودی کی طلب میں ہمیشہ سعی کرتا رہے گا۔ اس سعی کے دوران میں کبھی اس کی زبان سے نکلتا ہے :
" خدایا، مجھ سے کام لے اُسی طریقہ پر جو تیرے نبی کا طریقہ ہے،اور مجھے موت دے اسی راستہ پر جو تیرے نبی کا راستہ ہے، اور زندگی میں مجھے بچا ان فتنوں سے جو راہ راست سے بھٹکانے والے ہیں ۔۔"
"پروردگار، معاف کر اور رحم کہ میرے جن قصوروں کو تو جانتا ہےاُن سے درگزر کر تیری طاقت سب سے بڑھ کر ہے اور تیرا کرم بھی سب سے بڑھ کر"-
اس کے بعد وہ گویا اللہ کا سیا ہی بن جاتا ہے اور اب پانچ چھے روزہ اس کو کیمپ کی سی زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔ ایک دن منی میں پڑاؤ ہے، دوسرےدن عرفات میں کیمپ ہے اور خطبہ میں کمانڈر کی ہدایات سنی جارہی ہیں، رات مزدلفہ میں جا کر چھاؤنی ڈالی جاتی ہے ۔
دن نکلتا ہے تو منی کی طرف کوچ ہوتا ہے اور وہاں اُس ستون پر کنکریوں سے بچاند ماری کی جاتی ہے جہاں تک اصحاب فیل کی فوجیں کعبہ کو ڈھانےکےلیےپہنچ گئی تھیں۔ہر کنکری مارنے کےساتھ اللہ کا سپاہی کہتا جاتا ہے:
کنکریوں کی اس چاند ماری کا مطلب یہ ہے کہ خدایا جو تیرے دین کو مٹانےاور تیرا بول نیچا کرنے اُٹھے گا، میں اس کےمقابلے میں تیرا بول بالا کرنے کے لیےیوں لڑوں گا۔ پھر اسی جگہ قربانی کی جاتی ہے تاکہ راہ خدا میں خون بہانے کی نیت اور عزم کا اظہار عمل سےہو جائے۔ پھر وہاں سےکعبہ کا رخ کیا جاتا ہے، جیسےسپاہی اپنی ڈیوٹی ادا کر کے ہیڈ کوارٹر کی طرف سُرخ رو واپس آرہا ہے۔ طواف اور دو رکھتوں سے فارغ ہو کہ احرام کھل جاتا ہے۔جو کچھ حرام کیا گیا تھا وہ اب پھر حلال ہو جاتا ہےاور اب حاجی کی زندگی پھر معمولی طور پر شروع ہو جاتی ہے اس معمولی زندگی کی طرف پلٹنے کے بعد حاجی منی میں جا کر پھر کیمپ کرتا ہے اور دوسرے دن پتھر کے اُن تین ستونوں پر باری باری کنکریوں سےپھر چاند ماری کرتا ہے جن کو تجربات کہتےہیں اور جو در اصل اُس ہاتھی والی فوج کی پسپائی اور تباہی کی یاد گار ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال میں حج کے موقع پر اللہ کے گھر کو ڈھانےآئی تھی اور جسے اللہ کے حکم سے آسمانی چڑیوں نے کنکریاں مار مار کر تباہ کر دیا تھا_١ تیسرے دن پھر ان ستونوں پر سنگ باری کرنے کےبعد حاجی مکه پلٹتا ہےاور سات دفعہ اپنے دین کے مرکز کا طواف کرتا ہے ، یہ طواف وذاع ہے اور اس سے فارغ ہونے کے معنی حج سے فارغ ہو جانے کے ہیں ۔
یہ ساری تفصیل جھا آپ نے سُنی اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ حج کےارا دے اور اس کی تیاری سے لے کر اپنے گھر واپس آنےتک،دو تین مہینے کی مدت ہیں، کتنے زبر دست اثرات آدمی کے دل اور دماغ پر پڑتے ہیں۔ اس میں وقت کی قربانی ہے، مال کی قربانی ہے،آرام و آسائش کی قربانی ہے، بہت سے دنیوی تعلقات کی قربانی ہے، بہت سی نفسانی خواہشوں اور لذتوں کی قربانی ہے۔اور یہ سب کچھ اللہ کی خاطر ہےکوئی ذاتی غرض اس میں شامل نہیں۔ پھر اس سفر میں پرهیزگاری و تقوی کے ساتھ مسلسل خدا کی یاد اور خدا کی طرف شوق و عشق کی جو کیفیت آدمی پر گزرتی ہے وہ اپنا ایک مستقل نقش دل پر چھوڑ جاتی ہے جس کا اثر برسوں قائم کر تا ہے پھر حرم کی سرزمین میں پہنچ کر قدم قدم پر انسان اُن لوگوں کےآثار دیکھنا ہےجنھوں نےاللہ کی بندگی واطاعت میں اپنا سب کچھ قربان کیا۔ دنیا بھر سے لڑے،مصیبتیں اُٹھائیں، مجلا وطن ہوئے، ظلم پر ظلم سہے، مگر بالآخر اللہ کا کلمہ بلند کر کے چھوڑا اور ہر اس باطل قوت کا سر نیچا کر کے ہی دم لیا جو انسان سے اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرانا چاہتی تھی۔ ان آیات بینات اور ان آثار منتر کہ کو دیکھ کر ایک خدا پرست آدمی عزم و ہمت اور جہاد فی سبیل اللہ کا جو سبق لے سکتا ہے ، شاید کسی دوسری چیز سے نہیں لے سکتا۔ پھر طواف کعبہ سے اس مرکز دین کےساتھ جو وابستگی ہوتی ہےاور مناسک حج میں دوڑ دھوپ کوچ اور قیام سے لیا ہدانہ زندگی کی جو مشق کرائی جاتی ہے اسے اگر آپ نماز اور روزے اور زکوۃ کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو کہ یہ ساری چیزیں کسی بہت بڑے کام کی ٹریننگ ہیں جو اسلام مسلمانوں سےلینا چاہتا ہے۔ اسی لیے ہر اُس مسلمان پر جو کعبہ تک جانےآنے کی قدرت رکھتا ہو ، مج لازم کر دیا گیا ہے تاکہ جہاں تک ممکن ہو ہر زمانے میں زیادہ سے زیادہ مسلمان ایسے موجود رہیں جو اس پوری ٹرینینگ سے گزر چکے ہوں ۔
١- عام طور پر مشہور یہ ہے کہ کنکریاں مارنے کا یہ فعل اُس واقعہ کی یاد گار میں کیا جاتا ہےجو حضرت ابراہیم علیہ سلام کو پیش آیا تھا۔ یعنی حضرت اسمعیل علیہ سلام کی قربانی دیتے وقت شیطان نےآگر آپ کو بہکایا تھا اور آپ نے اسے کنکریاں ماری تھیں، یا جب حضرت اسمعیل کےفدیہ میں مینڈھا آپکو قربانی کے لیے دیا گیا تو وہ نکل کر بھاگا تھا اور اس کو آپ نےکنکریاں ماری تھیں ۔ لیکن کسی صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نہیں ہے کہ رمٹی جمار علت یہ ہے۔
لیکن حج کے فائدوں کا پورا اندازہ کرنے سے آپ قاصر رہیں گےجب تک یہ بات آپ کے پیش نظر نہ ہو کہ ایک ایک مسلمان اکیلا اکیلا حج نہیں کرتا ہےبلکہ تمام دنیا کےمسلمانوں کے لیے حج کا ایک ہی زمانہ رکھا گیا ہے اور ہزاروں لاکھوں مسلمان مل کر ایک وقت میں حج ادا کرتےہیں۔پہلےجو کچھ میں نے بیان کیا ہےاس سےتو آپ کے سامنے صرف اتنی بات آئی ہےکہ فردا فردا ایک ایک حاجی پر اس عبادت کا کیا اثر ہوتا ہے۔اب میں آئندہ مخطےمیں آپ کو یہ بتاؤں گا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے حج کا ایک ہی وقت مقرر کر کے ان فائدوں کو کس طرح لاکھوں درجےبڑھا دیا گیا ہےاسلام کا کمال یہی ہےکہ بیک کرشمہ دوکار نہیں بلکہ ہزار کار نکال لےجاتا ہےنماز علیحدہ پڑھنےہی میں کچھ کم فائدےنہ تھےمگر اس کےساتھ جماعت کی شرط لگا کر،اور امامت کا قاعدہ مقرر کرکے اور جمعہ و عیدین کی بڑی جماعتیں بنا کر اس کےفائدوں کو بے حد و حساب بڑھا دیا گیا۔ روزہ فردا فردا رکھنا بھی اصلاح اور تربیت کا بہت بڑا ذریعہ تھا مگر سب مسلمانوں کے لیے رمضان کا ایک ہی مہینہ مقرر کر کےاس کے فائدے اتنے بڑھا دیے گئے کہ شمار میں نہیں آسکتے ۔ نہ کواۃ الگ الگ دینےمیں بھی بہت خوبیاں تھیں،مگر اس کے لیے بیت المال کا نظام مقرر کر کے اس کی منفعت اتنی زیادہ کر دی گئی کہ آپ اس کا اندازہ اس وقت تک کہ ہی نہیں سکتےجب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہو، اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں کہ تمام مسلمانوں کی زکوۃ ایک جگہ جمع کر کے ایک انتظام کے ساتھ مستحقین میں تقسیم کرنے سے کتنی خیر و برکت ہوتی ہے۔ یہی معاملہ حج کا بھی ہے۔ اکیلا اکیلا آدمی حج کرے ، تب بھی اس کی زندگی میں بہت بڑا انقلاب ہو سکتا ہے، اگر تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ہی وقت میں مل کہ حج کرنے کا قاعدہ مقرر کر کے تو اس کے فائدوں کی کوئی حد باقی ہی نہیں رکھی گئی ۔ یہ مضمون ذرا تفصیل چاہتا ہے، اس لیے انشاء اللہ آئندہ شخطبے میں اس کو مفصل بیان کروں گا۔
برادران اسلام، آپ جانتے ہیں کہ ایسے مسلمان جن پر حج فرض ہے، یعنی جو کعبہ تک آنے جانے کی قدرت رکھتے ہیں، ایک دو تو ہوتے نہیں ہیں۔ ہر بستی میں ان کی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ ہر شہر میں ہزاروں اور ہر ملک میں لاکھوں ہی ہوتے ہیں۔ اور ہر سال اُن میں سے بہت لوگ حج کا ارادہ کر کے نکلتے ہیں۔ اردن ذرا تصور کیجیے کہ دنیا کے کونے کونےمیں جہاں جہاں بھی مسلمان بنتے ہیں، حج کا موسم آنے کے ساتھ ہی کسی طرح اسلام کی زندگی بجاگ اُٹھتی ہے ، کیسی کچھ حرکت پیدا ہوتی ہے اور کتنی دیر تک رہتی ہے۔ تقریبا رمضان کے مہینے سے لے کر ذی القعد تک دنیا کےمختلف حصوں سےمختلف لوگ حج کی تیاریاں کرکے نکلتےہیں اور اُدھر ذی الحج کے آخر سے صفر، ربیع الاول بلکہ ربیع الثانی تک واپسیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اس کچھ سات مہینہ کی مدت تک گویا مسلسل تمام روئے زمین کی مسلمان آبادیوں میں ایک طرح کی دینی حرکت جاری رہتی ہے ۔ جو لوگ حج کو جاتے اور حج سے واپس آتے ہیں، وہ تو دینی کیفیت میں سرشار ہوتے ہی ہیں، مگر جو نہیں جاتےان کو بھی حاجیوں کے رخصت کرنے اور ایک ایک بستی سے ان کے گنڈر نے اور پھر واپسی پر ان کا استقبال کرنے اور اُن سے حج کے حالات سننے کی وجہ سے تھوڑایا بہت اس کیفیت کا کچھ نہ کچھ حصہ مل ہی جاتا ہے۔
جب ایک ایک حاجی حج کی نیت کرتا ہے اور اس نیت کے ساتھ ہی اس پر خوف خدا اور پرهیزگاری اور توبه و استغفار اور نیک اخلاقی کے اثرات چھانےشروع ہوتے ہیں،اور وہ اپنے عزیزوں، دوستوں ، معاملہ داروں اور ہر قسم کےمتعلقین سےاس طرح رخصت ہونا اور اپنے معاملات صاف کرنا شروع کرتا ہےکہ گویا اب یہ وہ پہلا سا شخص نہیں ہے، بلکہ خدا کی طرف کو لگ جانےکی وجہ سےاس کا دل پاک صاف ہو رہا ہے،تو اندازہ کیجیے کہ ایک حاجی کی اس حالت کا کتنےکتنےلوگوں پر اثر پڑتا ہوگا۔ اور اگر ہر سال دنیا کے مختلف حصوں میں ایک لاکھ آدمی بھی اوسطاً اس طرح حج کےلیے تیار ہوتے ہوں تو ان کی تاثیر کتنےلاکھ آدمیوں کےاخلاق تک پہنچتی ہوگی۔پھر حاجیوں کے قافلے جہاں جہاں سے گزرتے ہوں گے وہاں ان کو دیکھ کر ان سے مل کر اُن کی لبیک لبیک کی آوازیں سن کر کتنوں کے دل گرما جاتے ہوں گے کتنوں کی توجہ اللہ کی طرف اور اللہ کے گھر کی طرف پھر جاتی ہوگی،اور کتنوں کی سوئی ہوئی روح میں حج کے شوق سے حرکت پیدا ہو جاتی ہوگی۔ پھر جب یہ لوگ اپنے مرکز سے پھر کر اپنی اپنی بستیوں کی طرف دنیا کے مختلف حصوں میں حج کی کیفیتوں کا خمار لیے ہوئے پلٹتے ہوں گے اور لوگ ان سےملاقات کرتےہوں گے تو ان کی زبان حال اور زبان قال سے اللہ کے گھر کا ذکر سن کر کتنے بے شمار حلقوں میں دینی جذبات تازہ ہو جاتے ہوں گے۔
پس اگر میں یہ کہوں تو بے جانہ ہوگا کہ جس طرح رمضان کا مہینہ تمام اسلامی دنیا میں تقوی کا موسم ہے، اسی طرح حج کا زمانہ تمام روئے زمین میں اسلام کی زندگی اور بیداری کا زمانہ ہےاس طریقہ سے شریعت بنانے والےحکم ددانا نےایسا بےغیر انتظام کر دیا ہےکہ انشاء اللہ قیامت تک اسلام کی عالم گیر تخریب مٹ نہیں سکتی ۔دنیا کے حالات خواہ کتنے ہی بگڑ جائیں اور زمانہ کتنا ہی خراب ہو جائے ، مگریہ کیسےکا مرکزہ۔ اسلامی دنیا کے جسم میں کچھ اس طرح رکھ دیا گیا ہے جیسے آدمی کے جسم میں دل ہوتا ہے۔ جب تک دل حرکت کرتا رہے، آدمی مر نہیں سکتا، چاہے بیماریوں کی وجہ سے وہ ہلنے تک کی طاقت نہ رکھتا ہو، بالکل اسی طرح دنیا کا یہ دل بھی ہر سال اس کی دور دراز رگوں تک سے خون کھینچتا رہتا ہے اور پھر اس کو رگ رگ تک پھیلا دیتا ہے ۔ جب تک اس دل کی یہ حرکت جاری ہے اور جب تک خون کے کھینچنےاور پھیلنے کا یہ سلسلہ چل رہا ہے، اس وقت تک یہ بالکل محال ہے کہ اس جسم کی زندگی ختم ہو جائے ، خواہ بیماریوں سے یہ کتنا ہی زار و نزار ہو۔
ذرا آنکھیں بند کر کے اپنے دل میں اس نقشے کا تصور تو کیجیے کہ ادھر مشرق سےاُدھر جنوب سے، ادھر مغرب سے،اُدھر شمال سےان گنت قوموں اور بےشمار ملکوں کے لوگ ہزاروں راستوں سے ایک ہی مرکزہ کی طرف پہلے آرہےہیں شکلیں اور صورتیں مختلف ہیں، رنگ مختلف ہیں،زبانیں مختلف ہیں،مگر مرکز کےقریب ایک خاص حدیں پہنچتےہی سب اپنے اپنے قومی لباس اُتار دیتے ہیں، اور سارے کےسارے ایک ہی طرز کا سادہ یونیفارم پہن لیتے ہیں۔ احرام کا یہ یونیفارم پہنے کےبعد علانیہ یہ معلوم ہونے لگتا ہے کہ سلطان عالم اور بادشاہ زمین و آسمان کی یہ فوج،جو دنیا کی ہزاروں قوموں سے بھرتی ہو کہ آرہی ہےایک ہی بادشاہ کی فوج ہےایک ہی اطاعت و بندگی کا نشان ان سب پر لگا ہوا ہے ، ایک ہی وفاداری کےرشتے میں یہ سب بندھے ہوئے ہیں، اور ایک ہی دارالسلطنت کی طرف اپنے بادشاہ کے ملاحظہ میں پیش ہونے کے لیے جا رہے ہیں۔ یہ یونیفارم پہنےہوئےسپاہی جب میقات سے آگے پھلتے ہیں تو ان سب کی زبانوں سے وہی ایک نعرہ بلند ہوتا ہے :
بولنے کی زبانیں سب کی مختلف ہیں، مگر نعرہ سب کا ایک ہی ہے۔ پھر جوں جوں مرکز قریب آتا جاتا ہے، دائرہ سمٹ کر چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے ۔ مختلف ملکوں کے قافلےملتے چلے جاتے ہیں، اور سب کے سب مل کر نمازیں ایک ہی طرفہ پر پڑھتے ہیں ۔سب کا ایک یونیفارم، سب کا ایک امام، سب کی ایک ہی حرکت ، سب کی ایک ہی زبان ، سب ایک اللہ اکبر کے ہی اشارے پر اُٹھتے اور بیٹھتے اور رکوع اور سجدہ کرتے ہیں، اور سب اسی ایک قرآن عربی کو پڑھتے اور سنتےہیں۔ یوں زبانوں اور قومیتوں اور وطنوں اور نسلوں کا اختلاف ٹوٹتا ہے اور یوں خدا پرستوں کی ایک عالمگیر جماعت بنتی ہےپھر جب یہ قافلےیک زبان ہو کہ لبیک لبیک کےنعرےبلند کرتےہوئے چلتے ہیں ، جب ہر بلندی اور ہر پستی پر یہی نعرے لگتے ہیں، جب قافلوں کے ایک دوسرے سے ملنے کے وقت دونوں طرف سے یہی صدائیں اٹھتی ہیں۔ جب نمازوں کے وقت اور صبح کے تڑکے میں یہی آوازیں گونجتی ہیں تو ایک عجیب فضا پیدا ہو جاتی ہے جس کے نشے میں آدمی سرشار ہو کر اپنی خودی کو بھول جاتا ہےاور اس بھیک کی کیفیت میں جذب ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر کیسے پہنچ کر تمام دنیا سےآئے ہوئے آدمیوں کا ایک لباس میں ایک مرکز کےگرد گھومنا،پھر سب کا ایک ساتھ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا،پھر سب کا منی میں کیمپ لگانا ، پھر سب کا عرفات کی طرف کوچ کرنا اور وہاں ایک امام سےخطبہ سننا ، پھر سب کا مزدلفہ میں رات کو چھاؤنی ڈالنا ، پھر سب کا ایک ساتھ منی کی طرف پلٹنا ، پھر سب کا متفق ہو کر جمرہ عقبہ پر کنکریوں کی چاند ماری کرنا ، پھر سب کا قربانیاں کرنا ، پھر سب کا ایک ساتھ کھے کی طرف پلٹ کر طواف کرنا ، پھر سب کا ایک ہی مرکز کے گردا گرد نماز پڑھنا، یہ اپنے اندر وہ کیفیت رکھتا ہے جس کی نظیر دنیا میں ناپید ہے۔
دنیا بھر کی قوموں سے نکلے ہوئے لوگوں کا ایک مرکز پر اجتماع ، اور وہ بھی ایسی یک دلی دیک بہتی کے ساتھ ، ایسی ہم خیالی و ہم آہنگی کے ساتھ ، ایسے پاک جذبات پاک مقاصد اور پاک اعمال کے ساتھ حقیقت میں اتنی بڑی نعمت ہےجو آدم کی اولاد کو اسلام کے سوا کسی نےنہیں دی۔دنیا کی قومیں ہمیشہ ایک دوسرے سےملتی رہی ہیں ، مگر کس طرح ؟ میدان جنگ میں گلے کاٹنے کے لیے ، یا صلح کا نفرنسوں میں،ملکوں کی تقسیم اور قوموں کے بٹوارے کے لیےیا مجلس اقوام متحدہ میں آتا کہ ہر قوم دوسری قوم کے خلاف دھو کے قریب ،سازش اور بےایمانیوں کےجال پھیلائےاور دوسروں کے نقصان سےاپنا فائدہ حاصل کرنےکی کوشش کرےتمام قوموں کے عام لوگوں کا صاف دلی کےساتھ ملنا،نیک اخلاق اور پاک خیالات کےساتھ ملتا،محبت اور خلوص کےساتھ ملنا ، قلبی و روحانی اتحاد کےساتھ ملناخیالات،اعمال،اور مقاصد کی ایک جہتی کےساتھ ملنا،اور صرف ایک ہی دفعہ مل کر نہ رہ جانابلکہ ہمیشہ ہمیشہ کےلیےہر سال ایک مرکز پراسی طرح اکٹھےہوتےرہنا،کیایہ نعمت اسلام کےسوا بنی نوع انسان کو اور بھی کہیں ملتی ہے؟دنیا میں امن قائم کرنےقوموں کی دشمنیوں کومٹانےاور لڑائی جھگڑوں کے بجائے محبت ، دوستی اور برادری کی فضا پیدا کرنے کے لیے اس سے بہتر نسخہ کس نے تجویز کیا ہے؟
اسلام صرف اتنا ہی نہیں کرتا۔ اس سےبڑھ کر یہاں اور بہت کچھ ہے۔اس نے لازم کیا ہے کہ سال کے چار مہینے جو حج اور عمرہ کےلیے مقرر کیےگئےہیں، ان میں کوشش کی جائے کہ کعبے کی طرف آنے والے تمام راستوں میں امن قائم رہے۔یہ دنیا میں امن قائم رکھنےکی سب سے بڑی دوامی تحریک ہے۔اور اگر دنیا کی سیاست کی باگیں اسلام کے ہاتھ میں ہوں تو مسلمانوں کی پوری کوشش یہ ہو گی کہ دنیا میں ایسی بد امنی برپا نہ ہونے پائے جس سے حج اور عمرے کا نظام معطل ہو جائے۔
اس نے دنیا کو ایک الیسا حرم دیا ہے جو قیامت تک کے لیے امن کا شہر ہےجس میں آدمی تو کیا جانور تک کا شکار نہیں کیا جا سکتا،جس میں گھاس تک کاٹنے کی اجازہ نہیں جس کی زمین کا کانٹا تک نہیں توڑا جا سکتا جس میں حکم ہے کہ کسی کی کوئی چیز گری پڑی ہو تو اسے ہاتھ تک نہ لگاؤ۔
اس نے دنیا کو ایک ایسا شہر دیا ہے جس میں ہتھیار لانے کی ممانعت ہےسجس میں غلے کو اور دوسری عام ضرورت کی چیزوں کو روک کر مہنگا کرنا "الحاد" کی حد تک پہنچ جاتا ہے جس میں ظلم کرنے والے کو اللہ نے دھمکی دی ہے کہ نذقہ من عناب الیم " ہم اُسے دردناک سزا دیں گے۔
اُس نےدنیا کو ایک ایسا مرکزہ دیا ہےجس کی تعریف یہ ہےکہ سوائدنِ الْعَاكِفُ فِیهِ وَالْبَادِ (الج : ۲۵) یعنی وہاں اُن تمام انسانوں کےحقوق بالکل برا بر ہیں جو خدا کی بادشاہی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی تسلیم کر کے اسلام کی برادری میں داخل ہو جائیں ، خواہ کوئی شخص امریکہ کا رہنے والا ہو یا افریقہ کا ، چین کا ہو یا ہندوستان کا اگر وہ مسلمان ہو جائےتو مکہ کی زمین پر اس کے وہی حقوق ہیں جو خود مکہ والوں کےہیں۔ پورے حرم کے علاقے کی حیثیت گویا مسجد کی سی حیثیت ہے کہ جو شخص مسجد،میں جا کہ کسی جگہ اپنا ڈیرہ جمادے وہ جگہ اسی کی ہے،کوئی اس کو وہاں سے اُٹھا نہیں سکتا،نہ اس سے کرایہ مانگ سکتا ہے۔مگر وہ اُس جگہ نماہ تمام عمر بیٹھا رہا ہو اسےیہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ یہ جگہ میری بالک ہے ، نہ وہ اس کو بیچ سکتا ہے ، نہ اس کا کہا یہ وصول کر سکتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ شخص اُس جگہ سے اُٹھ جائے تو دوسرےکو بھی وہاں ڈیرہ جمانے کا ویسا ہی حتی ہے جیسا اُس کو تھا ۔ بالکل یہی حال پورےمکہ کے حرم کا ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں کے لوگوں کو حکم دے دیا تھا کہ اپنے مکانات کے گرد معنوں پر دروازے نہ لگاؤ تا کہ جو چاہے تمھارے صحن میں آکر ٹھہر سکے بعض فقہاء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ شہر مکہ کے مکانات پر نہ کسی کی ملکیت ہے اور نہ وہ وراثت میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔
بھائیو ، یہ ہے وہ بچ جس کے متعلق فرمایا گیا تھا کہ اسے کر کے دیکھو، اس میں تمھارے لیے کتنے منافع ہیں۔ میری زبان میں اتنی قدرت نہیں کہ اس کے سائےمنافع گنا سکوں ، تاہم اس کے فائدوں کا یہ ذرا سا خاکہ جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے اسی سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔
مگر یہ سب کچھ سننےکےبعد ذرا میرے جلےدل کی کچھ باتیں بھی شٹن کو اتم نسلی مسلمانوں کا حال اُس بچے کا سا ہے جو ہیرے کی کان میں پیدا ہوا ہے ۔ ایسا بچہ جب ہر طرف ہیرے ہی میرے دیکھتا ہے اور پتھروں کی طرح ہیروں سے کھیلتا ہے تو ہیرے اس کی نگاہ میں ایسے ہی بے قدر ہو جاتےہیں جیسے پتھر ۔ یہی حالت تمھاری بھی ہے کہ دنیا جن نعمتوں سے محروم ہے جن سے محروم ہو کر سخت مصیبتیں اور لیں اٹھا رہی ہے اور یمن کی تلاش میں حیران و سرگردان ہے ، وہ نعمتیں تم کو مفت میں بغیر کسی تلاش و جستجو کے صرف اس وجہ سے مل گئیں کہ خوش قسمتی سے تم مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے ہو۔ وہ کلمہ توحید جو انسان کی زندگی کے تمام پیچیدہ مسئلوں کو سلجھا کر ایک صاف سیدھا راستہ بنا دیتا ہے ، بچپن سے تمھارے کانوں میں پڑا۔ نماز اور روزے کے وہ کیمیا سے زیادہ قیمتی نسخے جو آدمی کو جانور سے انسان بناتے ہیں، اور انسانوں کو خدا ترس اور ایک دوسرے کا بھائی ، ہمدرد اور دوست بنانے کے لیے جن سےبہتر نسخے آج تک دریافت نہیں ہو سکے ہیں تم کو آنکھ کھولتے ہی خود بخود باپ دادا کی میراث میں مل گئے ۔ زکواۃ کی وہ بے نظیر ترکیب جس سے محفی دلوں ہی کی ناپاکی دور نہیں ہوتی، بلکہ دنیا کے مالیات کا نظام بھی درست ہو جاتا ہے ، جس سے محروم ہو۔ کر تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ دنیا کے لوگ ایک دوسرے کا منہ نوچنے لگے ہیں تمھیں وہ اس طرح مل گئی ہے جیسے کسی حکیم حاذق کے بچے کو بغیر محنت کےوہ نسخے مل جاتے ہیں جنھیں دوسرے لوگ ڈھونڈتےپھرتے ہیں۔ اسی طرح حج کا وہ عظیم انسان طریقہ بھی جس کا آج دنیا بھر میں کہیں جواب نہیں ہے،جس سےزیادہ طاقتور ذریعہ کسی تحریک کو چہار دانگ عالم میں پھیلانےاور ابد الآباد تک زندہ رکھنےکےلیے آج تک دریافت نہیں ہو سکا ہے ، جس کے سوا آج دنیا میں کوئی عالم گیر طاقت ایسی موجود نہیں ہے کہ آدم کی ساری اولاد کو زمین کے گوشے گوشے سے کھینچ کر خدائے واحد کے نام پر ایک مرکز پر جمع کر دے، اور بے شمار نسلوں اور قوموں کو ایک خدا پرست، نیک نیت خیر خواہ برادری میں پیوست کر کے رکھ دے،ہاں ایسا بے نظیر طریقہ بھی تمھیں بغیر کسی جستجو کے بنا بنایا اور صدہا بروں سے چھلتا ہوا مل گیا ۔ مگر تم نے ان نعمتوں کی کوئی قدر نہ کی، کیونکہ آنکھ کھولتے ہی یہ تم کو اپنے گھر میں ہاتھ آگئیں ۔ اب تم اُن سے بالکل اسی طرح کھیل رہے ہو جس طرح ہیرے کی کان میں پیدا ہونے والا نادان بچہ ہیروں سے کھیلتا ہے اور انھیں کنکر پتھر سمجھنے لگتا ہے۔اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے جس بڑی طرح تم اس زبردست دولت اور طاقت کو منائع کر رہے ہو اس کا نظارہ دیکھ کر دل جل اُٹھتا ہے۔ کوئی کہاں سےاتنی قوت برداشت لائےکہ پتھر پھوڑوں کے ہاتھوں جواہرات کو برباد ہوتے دیکھ کر ضبط کر سکے؟
یعنی گدھا خواہ عیسی علیہ السّلام جیسے پیغمبر ہی کا کیوں نہ ہو مکہ کی زیارت سےکوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ اگر وہ وہاں ہو آئے تب بھی جیسا گدھا تھا ویسا ہی رہے گا۔
نماز روزہ ہو یا حج ، یہ سب چیزیں سمجھ بوجھ رکھنےوالے انسانوں کی تربیت.کے لیے ہیں ، جانوروں کو سدھانے کےلیے نہیں ہیں۔جو لوگ نہ ان کےمعنی مطلب کو سمجھیں،نہ ان کےمدعا سے کچھ غرض رکھیں،نہ اُس فائدے کو حاصل کرنےکا ارادہ ہی کریں جو ان عبادتوں بس پھرا ہوا ہےبلکہ جن کےدماغ میں ان عبادتوں کےمقصد و مطلب کا سرےسےکوئی تصور ہی نہ ہو،وہ اگر ان افعال کی نقل اس طرح انار دیا کریں کہ جیسا اگلوں کو کرتے دیکھا ویسا ہی خود بھی کر دیا ، تو اس سے آخر کس نتیجےکی توقع کی جاسکتی ہے ۔ بدقسمتی سے عموما آج کل کے مسلمان اسی طریقہ سے ان افعال کو ادا کر رہے ہیں۔ ہر عبادت کی ظاہری شکل جیسی مقرر کر دی گئی ہے ویسی ہی بنا کہ رکھ دیتے ہیں، مگر وہ شکل روح سے بالکل خالی ہوتی ہے۔تم دیکھتےہو کہ ہر سال ہزارہا زائرین مرکز اسلام کی طرف سجاتےہیں اور حج سے مشرف ہو کر پلٹتے ہیں، مگر یہ جاتےوقت ہی ان پر وہ اصلی کیفیت طاری ہوتی ہے جو ایک مسافر شدیم میں ہونی چاہیے،نہ وہاں سے واپس آکر ہی ان میں کوئی اثر حج کا پایا جاتا ہے،اور نہ اس سفر کے دوران میں وہ ان آبادیوں کےمسلمانوں اور غیر مسلموں پر اپنےاخلاق کا کوئی اچھا نقش بٹھائےہیں جن پر سےاُن کا گزر ہوتا ہےبلکہ اس کےبرعکس اُن میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہوتےہیں جو اپنی گندگی بے تمیزی اور اخلاقی پستی کی نمائش کر کے اسلام کی عزت کو بٹہ لگاتے ہیں۔ ان کی زندگی کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ دین کی بزرگی کا سکہ غیروں پر جمے،خود اپنوں کی نگاہوں میں بھی وہ بے وقعت ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہےکہ آج خودہماری اپنی قوم کےبہت سےنوجوان ہم سےپوچھتےہیں کہ ذرا اس حج کا فائدہ تو ہمیں سمجھاؤ حالانکہ یہ حج وہ چیز تھی کہ اگر اسےاس کی اصلی شان کےساتھ ادا کیا جاتا تو کافر تک اس کےفائدوں کو علانیہ دیکھ کر ایمان لے آتے کیسی تحریک کے ہزاروں لاکھوں ممبر ہر سال دنیا کے ہر حصےسےکھینچ کہ ایک جگہ جمع ہوں اور پھر اپنے اپنےملکوں کو واپس جائیں، ملک ملک اور شہر شہر سےگزرتے ہوئے اپنی پاکی وجود زندگی، پاکیزہ خیالات اور پاکیزہ اخلاق کا اظہار کرتے جائیں،جہاں جہاں ٹھیریں اور جہاں سے گزریں وہاں اپنی تحریک کے اُصولوں کا نہ صرف زبان سے پر چار کریں بلکہ اپنی عملی زندگی سے ان کا پورا پورا مظاہرہ بھی کر دیں، اور یہ سلسلہ دس بیس برس نہیں بلکہ صدیوں تک،سال بسال چلتا رہے،بھلا غور تو کیجیےکہ یہ بھی کوئی ایسی چیز تھی کہ اس کے فائدےپوچھنے کی کسی کو ضرورت پیش آتی ؟ خدا کی قسم، اگر یہ کام صیح طریقہ پر ہوتا تو اندر سے اس کےفائدےدیکھتے اور بہرے اُس کے فائدے سن لیتے۔ ہر سال کا حج کروڑوں مسلمانوں کو نیک بناتا۔ ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کے دائرے میں کھینچ لاتا، اور لاکھوں غیر مسلموں کے دلوں پر اسلام کی بزرگی کا سکہ بٹھا دیا۔ مگر برا ہو جہالت کا جاہلوں کےہا تھ پڑ کر کتنی پیش قیمت چیز کسی بڑی طرح ضائع ہو رہی ہے۔
حج کےپورے فائدےحاصل ہونے کےلیےضروری تھا کہ مرکز اسلام میں کوئی ایسا ہاتھ ہوتا جہ اس عالم گیر طاقت سے کام لیتا، کوئی ایسا دل ہوتا جو ہر سال تمام دنیا کے جسم میں خون صالح دوڑاتا رهتا،کوئی ایسا د دماغ ہوتا ہو ان ہزاروں لاکھوں خداداد قاصدوں کےواسطےسےدنیا بھر میں اسلام کےپیغام کو پھیلانےکی کوشش کرتا۔اور کچھ نہیں تو کم ازکم اتنا ہی ہوتا کہ وہاں خالص اسلامی زندگی کا ایک مکمل نمونہ موجود ہوتا اور ہر سال دنیا کےمسلمان وہاں سے صحیح دینداری کا تازہ سبق لے لے کر پیٹتے ۔ مگر وائے افسوس کہ وہاں کچھ بھی نہیں۔ ماہ تہائے دراز سے عرب میں جہالت پرورش پا رہی ہے۔ عباسیوں کے دور سے لے کر عثمانیوں کے دور تک ہر زمانے کے بادشاہ اپنی سیاسی اغراض کی خاطر عرب کو ترقی دینے کے بجائے صدیوں سے پیہم گرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ انھوں نے اہل عرب کو علم، اخلاق،تمدن،ہر چیز کے اعتبار سے پستی کی انتہا تک پہنچا کر چھوڑا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ سر زمین جہاں سے کبھی اسلام کا نور تمام عالم میں پھیلا تھا، آج اُسی جاہلیت کے قریب پہنچ گئی ہےجس میں وہ اسلام سے پہلے مبتلا تھی۔ اب نہ وہاں اسلام کا علم ہے ، نہ اسلامی اخلاق ہیں، نہ اسلامی زندگی ہے۔ لوگ دُور دُور سے بڑی گہری عقیدتیں لیے ہوئےتحرم پاک کا سفر کرتے ہیں، مگر اس علاقہ میں پہنچ کر جب ہر طرف ان کو جہالت، گندگی طمع، بیحیائی، دنیا پرستی، بد اخلاقی ، بد انتظامی اور عام باشندوں کی ہر طرح گری ہوئی بات نظر آتی ہے تو ان کی توقعات کا سارا طلسم پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے ۔ حتی کہ بہت سےلوگ حج کر کےاپنا ایمان بڑھانے کےبجائے اور اُلٹا کچھ کھو آتےہیں۔ وہی پرانی مهنت گری جو حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کےبعد جاہلیت کے زمانے میں کعبہ پر مسلط ہو گئی تھی اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے آکر ختم کیا تھا، اب پھر تازہ ہو گئی ہے۔ حرم کعبہ کے منظم پھر اسی طرح مہنت بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ خدا کا گھر ان کےلیے جائداد اور حج ان کے لیے تجارت بن گیا ہے۔ حج کرنے والوں کو وہ اپنا اسامی سمجھتے ہیں۔ مختلف ملکوں میں بڑی بڑی تنخواہیں پانے والے ایجنٹ مقرر ہیں تاکہ اسامیوں کو گھیر گھیر کر بھیجیں۔ ہر سال اجمیر کے خادموں کی طرح ایک لشکر کا لشکر دلالوں اور سفری ایجنٹوں کا مکہ سے نکلتا ہے تاکہ دنیا بھر کے ملکوں سے اسامیوں کو گھیر لائے۔ قرآن کی آیتیں اور حدیث کے احکام لوگوں کو سنائنا کہ حج پر آمادہ کیا جاتا ہے ، نہ اس لیے کہ انھیں خدا کا عاید کیا ہوا فرض یاد دلایا جائے، بلکہ صرف اس لیےکہ ان احکام کو سُن کر یہ لوگ حج کو نکلیں تو آمدنی کا دروازہ کھلے گویا اللہ اور اس کے رسول نے یہ سارا کارو بار انہی مہفتوں اور ان کے دلالوں کی پرورش کے لیے پھیلایا تھا۔ پھر جب اس فرض کو ادا کرنے کے لیے آدمی گھر سے نکلتا ہے تو سفر شروع کرنے سے لے کر واپسی تک ہر جگہ اس کو مذہبی مزدوروں اور دینی تاجروں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ معلم، معطوف وکیل موقت کلید بردار کعبہ اور خود حکومت حجاز، سب اس تجارت میں حصہ دار ہیں۔حج کے سارے مناسک معاوضہ لے کر ادا کرائے جاتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیےخانہ کعبہ کا دروازہ تک فیس کے بغیر نہیں کھل سکتا ۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ یہ بنارس اور ہردوار کےپنڈتوں کی سی حالت اُس دین کے نام نہاد خدمت گزاروں اور مرکزی عبادت گاہ کےمجاوروں نےاختیار کر رکھی ہےجس نے مہنت گری کےکاروبار کی جڑ کاٹ دی تھی۔بھلا جہاں عبادت کرانے کا کام مزدوری اور تجارت بن گیا ہوں جہاں عبادت گاہوں کو ذریعہ آمدنی بنا لیا گیا ہو، جہاں احکام الہی کو اس غرض کےلیےاستعمال کیا جاتا ہو کہ خدا کاحکم سن کر لوگ فرض بجالانےکےلیےمجبور ہوں اوراس طاقت کے بل پر اُن کی بیبیوں سے روپیہ گھسیٹا جائے ، جہاں آدمی کو عبادت کا ہر رکن ادا کرنے کے لیے معاوضہ دینا پڑتا ہو اور دینی سعادت ایک طرح سے خرید و فروخت کی جنس بن گئی ہو، ایسی جگہ عبادت کی روح باقی کہاں رہ سکتی ہے ؟ کس طرح آپ امید کر سکتے ہیں کہ حج کرنے والوں اور حج کرانے والوں کو اس عبادت کے تحقیقی و روحانی فائدے حاصل ہوں گے جبکہ یہ سارا کام سوداگری اور دوسری طرف خریداری کی ذہنیت سے ہو رہا ہو_١
اس ذکر سے میرا مقصد کسی کو الزام دینا نہیں ہے، بلکہ صرف آپ لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ حج جیسی عظیم الشان طاقت کو آج کن چیزوں نے قریب قریب بالکل بے اثر بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ غلط فہمی کسی کے دل میں نہ رہنی چاہیے کہ اسلام میں اور اس کے جاری کیسے ہوئے طریقوں میں کوئی کوتاہی ہے ۔ نہیں کو تا ہی دراصل اُن لوگوں میں ہے جو اسلام کی سیج پیروی نہیں کرتے۔ یہ تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے کہ تو طریقے تم کو انسانیت کا مکمل نمونہ بنانے والے تھے اور جن پر ٹھیک ٹھیک عمل کر کے تم تمام دنیا کےمصلح اور امام بن سکتے تھے، ان سے آج کوئی اچھا پھل ظاہر نہیں ہو رہا ہے، اور نوبتیہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگوں کو خود ان طریقوں کے مفید ہونے میں شک ہونے لگاہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک طبیب حاذق چند بہترین تیر بہدف نسخےمرتب کر کے چھوڑ گیا ہو اور بعد میں اس کے وہ نسخے اناڑی اور جاہل جانشینوں کے ہاتھ پڑ کر بیکار بھی ہو رہے ہوں اور بدنام بھی۔ نسخہ بجائے خود چاہے کتنا ہی صحیح ہو انگر بہر حال اس سے کام لینے کے لیے فن کی واقفیت اور سمجھ بوجھ ضروری ہے ۔ اناڑی اس سے کام لیں گے تو عجب نہیں کہ وہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر ہو جائے اور جاہل لوگ جو خود نسخے کو جانچنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ نسخہ خود ہی غلط ہے۔
١-واضح رہےکہ یہ خطبہ ۱۹۳۸ء کا ہےاس کےبعد سےاب تک حالات کی بہت کچھ اصلاح ہو پھیکی ہےاور سعودی عرب کی حکومت مزید اصلاح کے لیے کوشاں ہے۔ عرب میں تعلیم بھی پھیلائی جارہی ہے ریاض مکہ اجتہ، وغیرہ شہروں میں شریعت کی تعلیم کےلیےاعلیٰ درجہ کے ادابات قائم کیےگئےہیں۔مدینہ طیبہ میں ایک جامعہ اسلامیہ نےبڑےپیمانےپر کام شروع کر دیا ہے۔مکہ معظمہ میں رابطہ اسلامیہ کےنام سےعالم اسلامی کی ایک بین الاقوامی تنظیم قائم کی گئی ہے جو پوری کوشش کر رہی ہے کہ آج کےاجتماع سے فائدہ اٹھا کر تمام مسلمان قوموں میں دینی روح پیدا کی جائے ان پہلووں سے حالات بڑی حد تک قابل اطمینان ہیں۔ اب دو امور کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔ ایک یہ کہ حرمین شریفین کی سرزمین کو مغربی تہذیب کے سیلاب سے بچایا جائے ۔ دوسرے یہ کہ معلمین کے طریق کار کی اصلاح کی جائے ۔ خدا کرے کہ سعودی حکومت اس سلسلے میں صحیح تدابیر عمل میں لائے۔
| کتاب | خطبات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |