خطبات

باب چهارم

روزہ

روزہ

روزہ کا اصل مقص

روزه

ہر امت پر روزہ فرض کیا گیا

برادران اسلام، دوسری عبادت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کی ہے روزہ ہے۔ روزے سے مُراد یہ ہے کہ صبح سے شام تک آدمی کھانے پینےاور مباشرت سےپرهیز کرے۔نماز کی طرح یہ عبادت بھی ابتدا سےتمام پیغمبروں کی شریعت میں فرض رہی ہے۔ پچھلی جتنی اُمتیں گزری ہیں سب اسی طرح روزے رکھتی تھیں جس طرح امت محمدی رکھتی ہے۔ البتہ روزے کے احکام اور روزوں کی تعداد اور روزے رکھنے کے زمانے میں شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے ۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مذاہب میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہے، اگر چہ لوگوں نے اپنی طرف سےبہت سی باتیں ملاکر اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ :

يايُّهَا الَّذِينَ مَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصّيَامُ كَمَا كُتب على الذِينَ مِن قَبْلِكُمْ (البقره ۱۸۳۱)

" یعنی اے مسلمانو، تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا۔"

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی شریعتیں آئی ہیں وہ کبھی روزے کی عبادت سے خالی نہیں رہی ہیں۔

روزہ کیوں فرض کیا گیا ؟

غور کیجیے کہ آخر روزے میں کیا بات ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عبادت کو ہر زمانے میں فرض کیا ہے؟

مقصد زندگی بندگی رب

اس سے پہلے کئی مرتبہ آپ سے بیان کر چکا ہوں کہ اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت بنا دیا ہے ۔ انسان عبد یعنی بندہ پیدا ہوا ہےاور عبدیت یعنی بندگی اس کی عین فطرت ہے۔ اس لیے عبادت یعنی خیال و عمل میں اللہ کی بندگی کرنے سے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو آزاد نہ ہونا چاہیے۔ اسے اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ہمیشہ اور ہر وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کسی چیز میں ہے اور اس کا غضب اور ناراضی کسی چیز ہیں ۔ پھر جس طرف اللہ کی رضا ہو اُدھر جانا چاہیے اور جس طرف اس کا غضب اور اس کی ناراضی ہو اس سے یوں بیچنا چاہیے جیسے آگ کے انگارے سے کوئی بچتا ہے ۔ جو طریقہ اللہ نے پسند کیا ہو اس پر چلنا چاہیے اور جس طریقے کو اُس نے پسند نہ کیا ہو اس سے بھاگنا چاہیے ۔جب انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں رنگ جائے تب سمجھو کہ اس نے اپنےمالک کی بندگی کا حق ادا کیا اور وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ_١ کا منشا پورا ہو گیا۔

عبادات _______ بندگی کی تربیت

یہ بات بھی اس سے پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ نماز ، روزے، حج اور زکوۃ کے نام سے جو عبادتیں ہم پر فرض کی گئی ہیں ان کا اصل مقصد اسی بڑی عبادت کےلیے ہم کو تیار کرنا ہے۔ ان کو فرض کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر تم نے دن میں پانچ وقت رکوع اور سجدہ کر لیا، اور رمضان میں تمہیں دن تک صبح سے شام تک ٹھوک پیاس برداشت کر لی اور مالدار ہونے کی صورت میں سالانہ زکواۃ اور عمر میں ایک مرتبہ حج ادا کر دیا، تو اللہ کا جوکچھ حق تم پر تھاوہ ادا ہو گیا اور اس کے بعد تم اس کی بندگی سے آزاد ہو گئے کہ جو چاہو کرتے پھرو، بلکہ در اصل ان عبادتوں کو فرض کرنے کی غرض یہی ہے کہ ان کے ذریعہ سے آدمی کی تربیت کی جائے اور اس کو اس قابل بنا دیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے ۔ آئیےاب اسی مقصد کو سامنے رکھ کر ہم دیکھیں کہ روزہ کس طرح آدمی کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتا ہے۔


١- میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا اسی لیے کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں (الداریات :٥٦)

روزہ مخفی عبادت ہے

روزے کے سوا دوسری جتنی عبادتیں ہیں وہ کسی نہ کسی ظاہری حرکت سےادا کی جاتی ہیں۔ مثلاً نماز میں آدمی اُٹھتا اور بیٹھتا اور رکوع اور سجدہ کرتا ہے جس کو شخص دیکھ سکتا ہے ۔ حج میں ایک لمبا سفر کر کے جاتا ہے اور پھر ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے ساتھ سفر کرتا ہے ۔ زکواۃ بھی کم از کم ایک شخص دیتا ہے اور دوسرا شخص لیتا ہے۔ ان سب عبادتوں کا حال چھپ نہیں سکتا ۔ اگر آپ ادا کرتےہیں تب بھی دوسروں کو معلوم ہو جاتا ہے، اگر ادا نہیں کرتے تب بھی لوگوں کو خبر ہو ہی جاتی ہے۔ اس کے بر خلاف روزہ ایسی عبادت ہے جس کا حال خدا اور بندےکےسوا کسی دوسرے پر نہیں کھل سکتا ۔ ایک شخص سب کے سامنے سحری کھائےاور افطار کے وقت تک ظاہر میں کچھ نہ کھائے پیے ، مگر چھپ کر پانی پی جائے، یا کچھ چوری چھپے کھا پی لے، تو خدا کے سوا کسی کو بھی اس کی خبر نہیں ہو سکتی۔ساری دنیا یہی سمجھتی رہےگی کہ وہ روزے سےہےاور وہ حقیقت میں روزے سے نہ ہوگا۔

روزہ ایمان کی مضبوطی کی علامت

روزے کی اس حیثیت کو سامنےرکھو، پھر غور کرو کہ جو شخص حقیقت میں روزےرکھتا ہےاور اس میں چوری کے بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا ، سخت گرمی کی حالت میں بھی جبکہ پیاس سے حلق بیٹھا جاتا ہو، پانی کا ایک قطرہ حلق سے نیچے نہیں اُنار تا سخت بھوک کی حالت میں بھی جبکہ آنکھوں میں دم آرہا ہو کوئی چیز کھانےکا ارادہ تک نہیں کرتا،اُسےاللہ تعالیٰ کےعالم الغیب ہونے پر کتنا ایمان ہے۔کس قدر زبر دست یقین کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی حرکت چاہے ساری دنیا سے چھپ جائے مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتی۔ کیسا خوب خدا اس کے دل میں ہے کہ بڑی سے بڑی تکلیف اُٹھاتا ہے مگر صرف اللہ کے خوف کی وجہ سےکوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اس کے روزے کو توڑنے والا ہو۔ کس قدر مضبوط اعتقاد ہے اُس کو آخرت کی جنہ او سزا پر کہ مہینہ بھر میں وہ کم از کم تین سو ساٹھ گھنٹے کے روزے رکھتا ہے اور اس دوران میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کےدل میں آخرت کے متعلق شک کا شائبہ تک نہیں آتا ۔ اگر اُسے اس بات میں ذرا سا بھی شک ہوتا کہ آخرت ہو گی یا نہ ہوگی اور اس میں مذاب و ثواب ہو گا یا نہ ہو گا تو وہ کبھی اپنا روزہ پورا نہیں کر سکتا۔تک آنے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی خدا کے حکم کی تعمیل میں کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کے ارادے پر قائم رہ جائے۔

ایک ماہ کی مسلسل ٹرینینگ

اس طرح اللہ تعالیٰ ہر سال کامل ایک مہینہ تک مسلمان کے ایمان کو مسلسل آزمائش میں ڈالتا ہے۔اور اس آزمائش میں جتنا جتنا آدمی پورا اترتا جاتا ہےاُتنا ہی اس کا ایمان مضبوط ہوتاجاتا ہےیہ گویا آزمائش کی آزمائش ہے اور ٹریننگ کی ٹریننگ ۔ آپ جب کسی شخص کے پاس امانت رکھواتے ہیں تو گویا اس کی ایمانداری کی آنہ مائش کرتےہیں۔اگر وہ اس آزمائش میں پورا اُترےاور امانت میں خیانت نہ کرے تو اس کے اندر امانتوں کا بوجھ سنبھالنے کی اور زیادہ طاقت پیدا ہو جاتی ہےاور وہ زیادہ امین بنتا چلا جاتا ہےاسی طرح اللہ تعالیٰ بھی مسلسل ایک مہینےتک روزانہ بارہ بارہ چودہ چودہ گھنٹےتک آپ کےایمان کو کڑی آزمائش میں ڈالتا ہےاور جب اس آزمائش میں آپ پورے اُترتےہیں تو آپ کےاندر اس بات پرہیز کریں، اللہ کو عالم الغیب جان کر چوری چھپے بھی اس کے قانون کو توڑنے سےبچیں اور ہر موقع پر قیامت کا وہ دن آپ کو یاد آجایا کرے جب سب کچھ کھل جائے گا اور بغیر کسی رو رعایت کے بھلائی کا بھلا اور بڑائی کا برا بدلہ ملےگا۔یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ :

يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. (بقره : ۱۸۳)

"اے اہلِ ایمان ، تمھارے اوپر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ شاید کہ تم پرهیزگار بن جائے۔

اطاعت کی طویل مشق

روزے کی ایک دوسری خصوصیت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک لمبی مدت تک شریعت کے احکام کی لگاتار اطاعت کراتا ہے۔ نماز کی مدت ایک وقت میں چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ زکواۃ ادا کرنے کا وقت سال بھر میں مرےایک وقت آتا ہے۔ حج میں البتہ لمبی مدت صرف ہوتی ہے مگر اس کا موقع عمر بھر میں ایک دفعہ آتا ہےاور وہ بھی سب کےلیےنہیں۔ ان سب کےبرخلاف روزه ہر سال پورےایک مہینےتک شب و روز شریعت محمدی کے اتباع کی مشق کرانا ہے ۔صبح سحری کے لیے اُٹھو، ٹھیک فلاں وقت پر کھانا پینا سب بند کر دو۔ دن پھر فلاں فلاں کام کر سکتے ہو اور فلاں فلاں کام نہیں کر سکتے۔ شام کو ٹھیک فلاں وقت پر افطار کرو، پھر کھانا کھا کہ آرام کہ لو، پھر تراویح کے لیے دوڑو۔اس طرح ہر سال کا مل مہینہ بھر صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مسلمان کو مسلسل فوجی سپاہیوں کی طرح پورے قاعدے اور ضابطے میں باندھ کر رکھا جاتا ہے اور پھر گیارہ مہینے کے لیے اُسے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ جو تربیت اس ایک مہینہ میں اس نے حاصل کی ہے اس کے اثرات ظاہر ہوں، اور جو کمی پائی جائے وہ پھر دوسرےسال کی ٹرینینگ میں پوری کی جائے۔

تربیت کے لیے سازگار اجتماعی ماحول

اس قسم کی تربیت کےلیےایک شخص کو الگ الگ لےکر تیار کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہوتا۔ فوج میں بھی آپ دیکھتےہیں کہ ایک ایک شخص کو الگ الگ قواعد نہیں کرائی جاتی بلکہ پوری فوج کی فوج ایک ساتھ قواعد کرتی ہے۔ سب کو ایک وقت نگل کی آواز پر اُٹھا اور منگل کی آواز پر کام کرنا ہوتا ہے تا کہ ان میں جماعت بن کر منفقہ کام کرنے کی عادت ہو، اور اس کے ساتھ ہی وہ سب ایک دوسرے کی تربیت میں مددگار بھی ہوں، یعنی ایک شخص کی تربیت میں جو کچھ نقصان رہ جائے اس کی کمی کو دوسرا اور دوسرے کی کمی کو تیرا پورا کر دے۔ اسی طرح اسلام میں بھی رمضان کا مہینہ روزے کی عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ایک وقت میں سب کےسب مل کر روزہ رکھیں۔اس حکم نےانفرادی عبادت کو اجتماعی عبادت بنا دیا ۔ جس طرح ایک کے عدد کو لاکھ سے ضرب دو تو لاکھ کا زبردست عدد بن جاتا ہے۔ اس طرح ایک ایک شخص کے روزہ رکھنے سے جو اخلاقی اور روحانی فائدے ہو سکتے ہیں، لاکھوں کروڑوں آدمیوں کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ لاکھوں کروڑوں گئےزیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ پوری فضا کو نیکی اور پرہیز گاری کی رُوح سےبھر دیتا ہے ۔ پوری قوم میں گویا تقوی کی کھیتی سرسبز ہو جاتی ہے۔ہر شخص نہ صرف خود گناہوں سے بچنےکی کوشش کرتا ہےبلکہ اگر اس میں کوئی کمزوری ہوتی ہے تو اس کے دوسرے بہت سے بھائی جو اسی کی طرح روزہ دار ہیں، اس کی پشت پناہ بن جائےہیں۔ ہر شخص کو روزہ رکھ کر گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے، اور ہر ایک کے دل میں خود بخود یہ خواہش ابھرتی ہے کہ کچھ بھلائی کے کام کرے، کسی غریب کو کھانا کھائے،کسی نگے کو کپڑا پہنائے، کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے، کسی جگہ اگر کوئی نیک کام ہو رہا ہو تو اس میں حصہ لے اور اگر کہیں علانیہ بری ہو رہی ہو تو اسے روکے۔ نیکی اور تقوی کا ایک عام ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور بھلائیوں کے پھلنے پھولنے کا موسم آجاتا ہے، جس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ ہر فلہ اپنا موسم آنے پر خوب پھلتا پھولتا ہے اور ہر طرف کھیتوں پر چھایا ہوا نظر آتا ہے۔

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

كُل عَمَلِ ابنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ امْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا الصَّومُ فَإِنَّهُ لِى وأنا أخرى به

"آدمی کا ہر عمل خدا کےہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہےایک نیکی دس گنی سےسات سو گنی تک پھلتی پھولتی ہےمگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ وہ خاص میرے ہےاور میں اس کا جتنا چاہتا ہوں بدلہ دیتا ہوں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کرنے والے کی نیت اور نیکی کے نتائج کےلحاظ سے تمام اعمال پھلتے پھولتے ہیں۔ اور ان کی ترقی کے لیے ایک حد ہے ۔ مگر روزے کی ترقی کے لیے کوئی سود نہیں۔ رمضان چونکہ خیر اور صلاح کے پھلنے اور پھولنے کا موسم ہے، اور اس موسم میں ایک شخص نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں مسلمان مل کہ اس نیکی کے باغ کو پانی دیتے ہیں اس لیے یہ بے حد و حساب بڑھ سکتا ہے۔جتنی زیادہ نیک نیتی کے ساتھ اس مہینہ میں عمل کرو گے جس قدر زیادہ برکتوں سےخود فائدہ اُٹھاؤ گے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو فائدہ پہنچاؤ گے اور پھر جس قدر زیادہ اس مہینہ کے اثرات بعد کے گیارہ مہینوں میں باقی رکھو گے، اتنا ہی یہ پھلے پھولے گا ، اور اس کے پھلنے اور پھولنے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ تم خود اپنے عمل سے اس کو محدود کر لو تو یہ تمھارا اپنا قصور ہے۔

عبادات کے نتائج اب کہاں ہیں ؟

روزے کے یہ اثرات اور یہ نتائج سن کر آپ میں سے ہر شخص کے دل نہیں یہ سوال پیدا ہو گا کہ یہ اثرات آج کہاں ہیں ؟ ہم روزے بھی رکھتے ہیں اور نما نہیں بھی پڑھتے ہیں مگر یہ نتیجھے جو تم بیان کرتے ہو ظاہر نہیں ہوتے اس کی وجہ تو میں آپ سےپہلے بیان کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے اجزاء کو الگ الگ کر دینے کے بعد اور بہت سی نئی چیزیں اس میں ملا دینے کے بعد آپ ان نتائج کی توقع نہیں کہ سکتے جو پورے نظام کی بندھی ہوئی صورت ہی میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری وجہ یہ ہے کہ عبادات کے متعلق آپ کا نقطہ نظر بدل گیا ہے ۔ اب آپ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ محض صبح سے شام تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کا نام عبادت ہے،اور جب یہ کام آپ نے کر لیا تو عبادت پوری ہو گئی۔اسی طرح دوسری عبادتوں کی بھی محض ظاہری شکل کو آپ عبادت سمجھتے ہیں، اور عبادت کی اصلی روح بجو آپ کے ہر عمل میں ہونی چاہیے اُس سے عام طور پر آپ کے 99 فی صد بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی فاضل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ عبادات اپنے پورے فائدے نہیں دکھائیں کیوں کہ اسلام میں تو نیت اور فہم اور سمجھ بوجھ ہی پر سب کچھ منحصر ہے۔

انشاء اللہ آیندہ شخطبے میں اس مضمون کی پوری تشریح کروں گا۔

روزہ کا اصل مقصد

ہر کام کا ایک مقصد

برادران اسلام، ہر کام جو انسان کرتا ہے، اس میں دو چیزیں لازمی طور پر ہوا کرتی ہیں۔ ایک چیز تو وہ مقصد ہے جس کےلیے کام کیا جاتا ہے، اور دوسری چیز اُس کام کی وہ خاص شکل ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ مثلاً کھانا کھانے کے فعل کو لیجیے ۔ کھانے سے آپ کا مقصد زندہ رہنا اور جسم کی طاقت کو بحال رکھنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی صورت یہ ہےکہ آپ تو الے بناتے ہیں، منہ میں لے جاتے ہیں، دانتوں سے چباتےہیں اور حلق کے نیچے اُتارتے ہیں۔ چونکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کےلیےسب سے زیادہ کارگر اور سب سے زیادہ مناسب طریقہ یہی ہو سکتا تھا، اس لیے آپ نے اسی کو اختیار کیا۔ لیکن آپ میں سے ہر شخص جانتا ہےکہ اصل چیز وہ مقصد ہے جس کےلیے کھانا کھایا جاتا ہے، نہ کہ کھانے کے فعل کی یہ صورت۔ اگر کوئی شخص لکڑی کا برادہ یا راکھ یا مٹی لے کر اس کے نوالے بنائے اور منہ میں لے جائے اور دانتوں سے چبا کر حلق سے نیچے اُتارے تو آپ اُسے کیا کہیں گے؟یہی ناکہ اس کا دماغ خراب ہے۔کیوں؟ اس لیے کہ وہ احمق کھانے کے اصل مقصد کو نہیں سمجھتا اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہےکہ بس فعل خوردن کےان چاروں ارکان کو ادا کر دیتےہی کا نام کھانا کھاتا ہے۔اسی طرح آپ اس شخص کو بھی پاگل قرار دیں گےجو روٹی کھانےکےبعد فورا ہی معلق میں انگلی ڈال کرتےکر دیتا ہو اور پھر شکایت کرتا ہو کہ روٹی کھانےکےجو فائد نےبیان کیےجاتے ہیں وہ مجھے حاصل ہی نہیں ہوتے ، بلکہ میں تو الٹا روز بروز دبلا ہوتا جا رہا ہوں اور مر جانے کی نوبت آگئی ہے ۔ یہ احمق اپنی اس کمزوری کا الزام روٹی اور کھانےپر رکھتا ہےحالانکہ حماقت اس کی اپنی ہے۔ اس نے اپنی نادانی سے یہ سمجھےلیا کہ کھانے کا فعل جتنےارکان سےمرکب ہے بس اُن کو ادا کر دینے ہی سے زندگی کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس لیے اُس نے سوچا کہ اب روٹی کا بو محمد اپنےمعدےمیں کیوں رکھو؟ کیوں نہ اُسے نکال پھینکا جائے تاکہ پیٹ ہلکا ہو جائے۔ کھانےکےارکان توئیں ادا کہ یہی چکا ہوں۔یہ احمقانہ خیال ہجو اس نے قائم کیا اور پھر اس کی پیروی کی، اس کی سزا بھی تو آخر اسی کو بھگتنی چاہیے۔ اُس کو جاننا چاہیے تھا کہ جب تک روٹی پیٹ میں جا کہ مہضم نہ ہو اور خون بن کر سارےجسم میں پھیل نہ جائےاُس وقت تک زندگی کی طاقت حاصل نہیں ہو سکتی۔کھانے کےظاہری ارکان بھی اگر چہ ضروری ہیں،کیوں کہ ان کےبغیر روٹی معدےتک نہیں پہنچ سکتی،مگر محض ان ظاہری ارکان کے ادرا کر دینے سے کام نہیں چل سکتا۔ ان ارکان میں کوئی جادو بھرا ہوا نہیں ہے کہ انھیں ادا کرنے سے بس طلسماتی طریقہ پر آدمی کی رگوں میں خون دوڑنےلگتا ہو خون پیدا کرنے کے لیے تو اللہ نے جو قانون بنایا ہے اسی کے مطابق وہ پیدا ہو گا۔ اس کو توڑو گے تو اپنے آپ کو خود ہلاک کرو گے۔

ظاہر کو حقیقت سمجھنے کے نتائج

یہ مثال جو اس تفصیل کے ساتھ میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے اس پر آپ خود کریں تو آپ کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ آج آپ کی عبادتیں کیوں بے اثر ہو گئی ہیں ۔ جیسا کہ میں پہلے بھی آپ سے بار ہا بیان کر چکا ہوں ۔ سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ آپ نے نماز روزے کے ارکان اور ان کی ظاہری صورتوں ہی کو اصل عبادت سمجھ رکھا ہے اور آپ اس خیالِ خام میں مبتلا ہو گئےہیں کہ جس نے یہ ارکان پوری طرح ادا کر دیے اس نے بس اللہ کی عبادت کر دی۔ آپ کی مثال اُسی شخص کی سی ہے جو کھانے کے چاروں ارکان، یعنی نوالے بنانا منہ میں رکھنا ، بچیانا حلق سےنیچے اتار دینا ، بس انہی چاروں کے مجموعے کو کھانا سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس نے یہ چار ارکان ادا کر دیےاُس نےکھا لیا اور کھانے کےفائدے اُس کو حاصل ہونے چاہیں،خواہ اس نےان ارکان کے ساتھ مٹی اور پتھر اپنے پیٹ ہیں اُتارے ہوں ، یا روٹی کھا کر فورا قے کر دی ہو۔ اگر حقیقت میں آپ لوگ اس حقیقت میں مبتلا نہیں ہو گئے ہیں تو مجھے بتائیے یہ کیا ماجرا ہے کہ جو روزہ دار صبح سے شام تک اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے وہ مین اس عبادت کی حالت میں جھوٹ کیسے بولتا ہے؟ غیبت کس طرح کرتا ہے؟ بات بات پر لڑتا کیوں ہے؟ اس کی زبان سے گالیاں کیوں نکلتی ہیں ؟ وہ لوگوں کا حق کیسے مار کھاتا ہے ، حرام کھانےاور حرام کھلانے کےکام کس طرح کر لیتا ہے؟ اور پھر یہ سب کام کر کے بھی اپنےنزدیک یہ کیسے سمجھتا ہے کہ میں نے خدا کی عبادت کی ہے ؟ کیا اس کی مثال اُس شخص کی سی نہیں ہے جو راکھ اور مٹی کھاتا ہے اور محض کھانے کے چار ارکان ادا کر دینے کو سمجھتا ہے کہ کھانا اس کو کہتے ہیں ؟

رمضان کے بعد پھر بے قیدی

پھر مجھے بتائیے یہ کیا ماجرا ہے کہ رمضان بھر میں تقریباً ۳۶۰ گھنٹے خدا کی عبادت کرنے کے بعد جب آپ فارغ ہوتے ہیں تو اس پوری عبادت کے تمام اثرات شوال کی پہلی تاریخ ہی کو کافور ہو جاتے ہیں ؟ ہندو اپنے تہواروں میں جو کچھ کرتےہیں وہی سب آپ عید کے زمانے میں کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ شہروں میں تو عید کےروز بدکاری اور شراب نوشی اور قمار بازی تک ہوتی ہے۔ اور بعض ظالم توئیں نےایسے دیکھے ہیں جو رمضان کے زمانے میں دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو شراب پیٹتے اور زنا کرتے ہیں۔ عام مسلمان خدا کے فضل سے اس قدر بگڑے ہوئے تو نہیں ہیں، مگر رمضان ختم ہونے کےبعد آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے اندر عید کے دوسرے دن بھی تقوئی اور پرہیز گاری کا کوئی اثر باقی رہ جاتا ہو؟خدا کےقوانین کی خلاف ورزی میں کونسی کسر اٹھا رکھی جاتی ہے ؟ نیک کاموں میں کتنا حصہ لیا جاتا ہے؟ اور نفسانیت میں کیا کمی آجاتی ہے؟

عبادت کے غلط تصور کا نتیجہ

سونچیے اور غور کیجیے کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں،اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم اور مطلب ہی غلط ہو گیا ہے ۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سحر سے لے کر مغرب تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینےکا نام روزہ ہے اور بس یہی عبادت ہےاس لیے روزے کی تو آپ پوری محفاظت کرتے ہیں۔ خدا کا خوف آپ کے دل میں اس قدر ہوتا ہے کہ جس چیز میں روزہ ٹوٹنے کا ذرا سا اندیشہ بھی ہو اس سے بھی آپ بچتے ہیں۔ اگر جان پر بھی بن جائے تب بھی آپ کو روزہ توڑنے میں تامل ہوتا ہے۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کی صورت ہے۔ اور یہ صورت مقرر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ آپ کے اندر خدا کا خوف اور خدا کی محبت پیدا ہو، اور آپ کے اندر اتنی طاقت پیدا ہو جائے کہ جس چیز میں دنیا بھر کے فائدے ہوں مگر بغدا ناراض ہوتا ہو اس سے اپنے نفس پر جبر کر کے بیچ سکیں، اور جس چیز میں ہر طرح کےخطرات اور نقصانات ہوں مگر خدا اس سے خوش ہوتا ہو، اس پر آپ اپنے نفس کو مجبور کر کے آمادہ کر سکیں، یہ طاقت اسی طرح پیدا ہو سکتی تھی کہ آپ روزے کےمقصد کو سمجھتے اور مہینہ بھر تک آپ نے خدا کے خوف اور خدا کی محبت میں اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے اور خدا کی رضا کے مطابق چلانے کی جو مشق کی ہے اس سے کام لیتے۔ مگر آپ تو رمضان کے بعد ہی اس مشق کو اور ان صفات کو جو اس مشق سے پیدا ہوتی ہیں اس طرح نکال پھینکتے ہیں جیسے کھانے کے بعد کوئی شخص حلق میں انگلی ڈال کر تھے کر دے بلکہ آپ میں سے بعض لوگ تو روزہ کھولنے کےبعد ہی دن بھر کی پرہیز گاری کو اگل دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتائیے کہ رمضان اور اُس کے روزےکوئی علم تو نہیں ہیں کہ بس اُن کی ظاہری شکل پوری کر دینےسےآپ کو وہ طاقت حاصل ہو جائےجو حقیقت میں روزے سےحاصل ہونی چاہیے۔جس طرح روٹی سے جسمانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ معدے میں جا کر ہضم نہ ہو اور خون بن کر جسم کی رگ رگ میں نہ پہنچ جائے،اسی طرح روزے سےبھی روحانی طاقت اُس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ آدمی روزہ کے مقصد کو پوری طرح سمجھے نہیں اور اپنے دل و دماغ کے اندر اس کو اُترنے اور خیال، نیت، ارادے اور عمل سب پر چھا جانے کا موقع نہ دے۔

روزہ ، متقی بننے کا ذریعہ

یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کا حکم دینے کے بعد فرمایا، لعلکم تتقون ، یعنی تم پر روزہ فرض کیا جاتا ہے، شاید کہ تم متقی و پرہیز گار بن جاؤ۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس سے ضرور متقی و پرہیز گار بن جاؤ گے۔ اس لیے کہ روزے کا یہ نتیجہ تو آدمی کی سمجھ بوجھ اور اس کے ارادے پر موقوف ہے ۔ جو اس کے مقصد کو سمجھے گا اور اس کے ذریعہ سے اصل مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا وہ تو تھوڑا یا بہت متقی بن جائے گا۔ مگر جو مقصد ہی کو نہ سمجھے گا اور اُسے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کرے گا اُسے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی امید نہیں۔

روزہ کے اصل مقاصد

ا- جھوٹ سے بچنا

بی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے روزے کے اصل مقصد کی طرف تو تبہ دلائی ہے اور یہ سمجھایا ہے کہ مقصد سے فاضل ہو کہ بھوکا پیاسا رہنا کچھ مفید نہیں ۔ چنانچہ فرمایا :

مَنْ لَحْيَدَعْ قَوْلَ النُّورِ وَ الْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ في أَن يَدَمَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ -

"جس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا ہی نہ چھوڑا تو اس کا کھانا اور پانی چھڑا دینے کی اللہ کو کوئی حاجت نہیں۔"

دوسری حدیث میں ہے کہ سرکار نے فرمایا :

كَمُ مِنْ صَائِهِ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ وَكَمْ مِنْ قَائِم لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ

" بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کےسوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا ، اور بہت سے راتوں کو کھڑے رہنے والےایسے ہیں کہ اس قیام سے رت جگے کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا "-

ان دونوں حدیثوں کا مطلب بالکل صاف ہے۔ ان سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ محض بھوکا اور پیاسا رہنا عبادت نہیں ہےبلکہ اصل عبادت کا ذریعہ ہے،اور اصل عبادت ہے خوف خدا کی وجہ سے خدا کے قانون کی خلاف ورزی نہ کرنا ، اور محبت الہی کی بنا پر ہر اس کام کےلیےشوق سےلپکنا جس میں محبوب کی خوشنودی ہو، اور نفسانیت سے بچنا ، جہاں تک بھی ممکن ہو۔ اس عبادت سےجو شخص فاضل رہا اس نے خواہ مخواہ اپنے پیٹ کو ٹھوک پیاس کی تکلیف دی ۔ اللہ تعالی کو اس کی حاجت کب تھی کہ بارہ چودہ گھنٹے کے لیے اس سے کھانا پینا چھڑا دیتا ؟

۲- ایمان و احتساب

روزے کے اصل مقصد کی طرف سر کا نہ اس طرح تو جہ دلاتے ہیں کہ :

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِم -

"یعنی جس نے روزہ رکھا ایمان اور احتساب کے ساتھے ، اس کےتمام پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ۔"

ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے متعلق ایک مسلمان کا جو عقیدہ ہونا چاہیےوہ عقیدہ ذہن میں پوری طرح تازہ رہے۔ اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ ہی کی رضا کا طالب ہو اور ہر وقت اپنے خیالات اور اپنے اعمال پر نظر رکھےکہ کہیں وہ اللہ کی رضا کے خلاف تو نہیں چل رہا ہے۔ ان دونوں چیزوں کے ساتھ جو شخص رمضان کے پورے روزے رکھ لےگا وہ اپنےپچھلےگناہ بخشوا لےجائے گا،اس لیے کہ اگر وہ کبھی سرکش و نا فرمان بندہ تھا بھی تو اب اس نےاپنےمالک کی طرف پوری طرح رجوع کر لیا،اور الثانبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَن لا ذنب له (گناہ سےتوبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا)۔

گناہوں سے بچنے کی ڈھال

دوسری حدیث میں آیا ہے :

الصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفتُ وَلَا يَصْحَبُ فَإِنْ سَابَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُ صَائم

روزے ڈھال کی طرح ہیں کہ جس طرح ڈھال دشمن کے وار سے بچنےکے لیے ہے اسی طرح روزہ بھی شیطان کے وار سے بچنے کے لیے ہے، لہذا جب کوئی شخص روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ (اس ڈھال کو استعمال کرے اور دنگے فساد سے پرهیز کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے،یا اس سےلڑے تو اس کو کہہ دینا چاہیے کہ بھائی میں روزے سے ہوں مجھ سے یہ توقع نہ رکھو کہ تمھارے اس مشغلے میں حصہ لوں گا۔)

نیکی کی حرص

دوسری احادیث میں حضور نے بتایا ہے کہ روزے کی حالت میں آدمی کو زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے چاہیں اور ہر بھلائی کا شوقین بن جانا چاہیےخصوصا اس حالت میں اس کے اندر اپنےدوسرے بھائیوں کی ہمدردی کا جذبہ تو پوری شدت کے ساتھ پیدا ہو جانا چاہیے، کیوں کہ وہ خود بھوک پیاس کی تکلیف میں مبتلا ہو کہ زیادہ اچھی طرح محسوس کر سکتا ہےکہ دوسرے بندگان خدا پر غریبی اور مصیبت میں کیا گزر کرتی ہوگی۔حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ خود سر کا رہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں عام دنوں سے زیادہ رحیم اور شفیق ہو جاتے تھے ۔ کوئی سائل اس زبانے میں حضور کےدروازے سے خالی نہ جانا تھا،اور کوئی قیدی اس زمانے میں قید نہ رہتا تھا۔

افطار کرانے کا ثواب

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضور نے فرمایا :

مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةٌ لِذُنُوبِهِ وَعِتْقُ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ وَكَانَ لَهُ مِثْلَ أَجْدِهِ مِنْ عيران يُنْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ شَى

"جس نے رمضان میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو یہ اس کے گناہوں کی بخشش کا اور اس کی گردن کو آگ سے چھڑانے کا ذریعہ ہوگا اور اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہوئی۔"

کتاب خطبات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Sermons