خطبات

خطبات

سید ابوالاعلی مودودی

اسلامک پبلی کیشنز

خطبات

اسلام کے بنیادی ارکان کی اہمیت و ضرورت پر دل نشین اور آسان انداز میں یقین آفریں دلائل

سید ابوالاعلیٰ مودودی

اسلامك سليكيشنز (پرائیویٹ) پرائیویٹ لمٹیڈ

۱۳- ای، شاہ عالم مارکیٹ لاہور(پاکستان)

( جملہ حقوق محق ناشر محفوظ ہیں)

( جملہ حقوق محق ناشر محفوظ ہیں) نام کتاب : خطبات مصنف : سید ابوالاعلیٰ مودودی اشاعت : ایڈیشن تعداد ۱ تا ۷۱ ۔ ستمبر ۲۰۰۰ء ٤٧٣٠٠ ۷۲ - اکتوبر ۲۰۰۰ء ١١٠٠ اہتمام : پروفیسر محمد امین جاوید (مینجنگ ڈائریکٹر) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ۱۳۔ ای، شاہ عالم مارکیٹ لاہور (پاکستان) فون: 7669546-7664504 فیکس: 7658674 شوروم : منصورہ ملتان روڈ لاہور ۔ فون نمبر: 448022 ١٠ - چیر جی روڈ اردو بازار لاہور فون نمبر : 7248676 ١٠ بی شهر او پلازہ کالج روڈ بالمقابل نیوار دو بازار راولپنڈی www.Islamicpak.com مطبع : پاکستان پر نٹنگ ورکس، لاہور قیمت اعلی ایڈیشن 125 روپے پیپر بیک ایڈیشن - 90 روپے

فہرست ابواب

فہرست ابواب باب اول ______________________ ایمان ٢٧ باب دوم _____________________ اسلام ٧٩ باب سوم ____________________ نماز ١٢٩ باب چهارم ___________________ روزہ ١٨١ باب پنجم ___________________ زكوة ١٩٩ باب ششم __________________ حج ٢٥٥ باب هفتم __________________ جہاد ٣٠٥ ضمیمه ________ خطبہ جمعہ _____ أولى وثانیہ ٣٣١

فہرست موضوعات

فہرست موضوعات عرض ناشر ٣ دیباچہ طبع اول ٢٢ دیباچہ طبع هشتم ٢٣ باب اول ایمان ٢٧ مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت ٢٩ اللہ کا سب سے بڑا احسان ٢٩ احسان شناسی کا تقاضا ٢٩ مسلمان بننے کے لیے پہلا قدم ٣٠ کیا مسلمان نسل کا نام ہے ؟ ٣٠ اسلام لانے کا مطلب ٣١ پہلی ضرورت ___علم ٣٢ علم کی اہمیت ٣٤ _____ مسلمان اور کافر کا اصلی فرق ٣٦ مسلم اور کافر میں فرق کیوں ؟ ٣٦ کیا صرف نام کا فرق ہے؟ ٣٦ اصلی فرق ______ اسلام اور کفر ٣٧ فرق کی وجہ _________ علم اور عمل ٣٧ آج کا مسلمان ذلیل کیوں ؟ ٣٩ غور کا مقام ٤١ حصول علم کی تشکر ٤٣ ___ سوچنے کی باتیں ٤٥ قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک ٤٥ فہم قرآن اور عمل با قرآن لازم ہے ٤٧ اللہ کی کتاب پر ظلم کا نتیجہ ٤٨ مسلمان کسے کہتے ہیں ؟ ٤٩ اسلام کے معنی ٥٠ مسلمان کے فرائض ٥١ کلمہ طیبہ کے معنی ٥٣ اتنا بڑا فرق کیوں ؟ ٥٤ حکم کا مطلب ٥٦ اللہ سے عہد و پیمان ٥٦ رسول کی رہنمائی کا اقرار ٥٧ اقرار کی ذمه داریاں ٥٩ اسلام لانا خدا پر احسان نہیں ٦٠ اللہ کا احسان اور ہمارا رویہ ٦١ کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ ٦٢ کلمہ طیب کیا ہے؟ ٦٤ کلمہ خبیث کیا ہے ؟ ٦٦ نتائج کا فرق ٦٧ کلمہ گو خوار کیوں؟ ٦٨ کیا کلمہ خبیثہ کو ماننے والے پھل پھول رہے ہیں ؟ ٦٩ کلمہ طیبہ پر ایمان لانے کا مقصد ٧١ ہر کام کا ایک مقصد ہے ٧١ کلمہ پڑھنے کا مقصد ٧٢ آخرت کی ناکامی و کامیابی ٧٢ کافر اور مسلمان کے انجام میں فرق کیوں ؟ ٧٤ کلمہ کا مقصد ____ علم و عمل کی درستی ٧٤ کلمہ طیبہ کو سا علم سکھاتا ہے ؟ ٧٥ (١) اللہ کی بندگی ٧٥ (٢) رسول کی پیروی ٨٦ علم کے مطابق عمل بھی ہو۔ ٧٦ باب دوم _______ اسلام ٧٩ مسلمان کسے کہتے ہیں ؟ ٨١ کفر کیا ہے اور اسلام کیا ؟ ٨١ گمراہی کے تین راستے ؟ ٨٤ (١) نفس کی بندگی ٨٤ (۲) باپ دادا کی اندھی پیروی ٨٥ (۳) غیر اللہ کی اطاعت ٨٩ پنجابی مسلمانوں کی حالت ٩٠ ذات پات کا فرق ٩١ وراثت میں حق تلفی ٩١ ایمان کی کسوٹی ٩٣ مسلمان کی اصلی تعریف ٩٣ نفاق کی علامتیں ٩٤ ا۔ نفس کی بندگی ٩٤ ٢- رسم و رواج کی پابندی ٩٤ ۳- دوسری قوموں کی نقالی ٩٥ اللہ کی اطاعت کی چند مثالیں ٩٧ ترک شراب ٩٧ اقرار جرم ٩٧ قطع علائق ٩٨ پرانے رسم و رواج سے تو بہ ٩٩ خدا کی خوشنودی کا راستہ ١٠٠ آج کا مسلمان ١٠٠ اسلام کا اصلی معیار ١٠٢ قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق ١٠٣ حقیقی اسلام ١٠٤ مسلمانوں کی دو قسمیں ١٠٥ ا- جزوی مسلمان ١٠٥ ٢- پورے مسلمان ١٠٦ خدا کا مطلوب مسلمان ١٠٧ حقیقی پیروی غلبے کا سبب ١٠٧ مسلمان خالص اللہ کا وفادار ١٠٨ محاسبه نفس ١٠٩ خدا کی اطاعت کس لیے ؟ ١١١ اللہ کی اطاعت میں ہی انسان کی فلاح ہے ١١١ خیر اللہ کی اطاعت ________ گمراہی ١١٣ حقیقی ہدایت صرف اللہ کی طرف سے ١١٥ الہی ہدایت سے استفادہ کیسے؟ ١١٦ اللہ اور رسول کی اطاعت کا مطلب ١١٧ دین اور شریعت ١١٩ دین کے معانی ١١٩ شریعت کیا ہے ؟ ١٢٢ شریعتوں کے فرق کی نوعیت ١٢٣ فقہی مسلکوں کے فرق کی نوعیت ١٢٤ دین اور شریعت کا فرق نہ سمجھنے کی خرابیاں ١٢٦ فرقہ بندی کے نقصانات ١٢٧ باب سوم نماز ١٢٩ عبادت ١٣١ عبادت کا مطلب ١٣٢ عبارت کے غلط مفہوم کے نتائج ١٣٣ عبادت _____ پوری زندگی میں بندگی ١٣٦ نماز ١٣٩ عبادت کا وسیع مفہوم ١٣٩ نماز کے فوائد ١٤١ ا- احساس بندگی ١٤١ ۲- فرض شناسی ١٤٢ ٣- اطاعت کی مشق ١٤٢ ٤- خدا خوفی پیدا کرنا ١٤٤ ٥- قانونِ الہی سے واقفیت ١٤٥ ٦- اجتماعیت کی مشق ١٤٦ نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں ؟ ١٤٧ اذان اور اس کے اثرات ١٤٧ وضو ١٤٩ نیت ١٤٩ تسبیح ١٥٠ تعوذ ١٥٠ بسمله ١٥٠ حمد ١٥٠ قرآن مجید کی مختلف سورتیں ١٥١ والعصر ١٥١ الماعون ١٥٢ همزه ١٥٣ ركوع ١٥٤ سجدہ ١٥٤ التحیات ١٥٤ درود شریف ١٥٥ دعا ١٥٥ سلام ١٥٦ دعائے قنوت ١٥٦ نماز اور تعمیر سیرت ١٥٧ نماز با جماعت ١٥٩ نماز کن صفات کو پیدا کرتی ہے ١٥٩ مکمل بندگی تنہا ممکن نہیں ١٦٠ تنہا شیطان کا مقابلہ ممکن نہیں ١٦٠ حکم کی اطاعت مطلوب ہے ١٦١ نماز با جماعت کے فوائد ١٦١ ا۔ ایک آواز پر اکٹھا ہونا ١٦١ ۲- با مقصد اجتماع ١٦٢ ٣- باہمی ہمدردی ١٦٣ ٤- پاک مقصد کے لیے اجتماع ١٦٤ ٥- اخوات ١٦٤ ٦- حرکات میں یکسانیت ١٦٥ ٧- دُعائیں ١٦٥ امام کے بغیر جماعت نہیں ١٦٦ امامت کی نوعیت و حقیقت ١٦٧ امامت کے شرائط و آداب ١٦٧ ا۔ متقی اور پرهیزگار ١٦٧ ۲- اکثریت کا نمائندہ ١٦٧ ٣- مقتدیوں کا ہمدرد ١٦٨ ٤- معذوری میں جگہ خالی کر دے ١٦٨ ٥- امام کی کامل اطاعت ١٦٨ ٦- غلطی پر تنبیه ١٦٩ ٧- معصیت میں اطاعت نہیں ١٦٩ نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں؟ ١٧١ ایک مثال ١٧١ امت مسلمہ کا مقصد ١٧٣ اسلامی احکام آپس میں مربوط ہیں جیسے گھڑی کے پرزے ١٧٤ متفرق پرزوں کا جوڑ کار آمدہ نہیں ١٧٥ غیر متوقع نتائج کے طالب ١٧٦ عبادات بے اثر ہونے کی اصل وجہ ١٧٧ ہماری افسوسناک حالت ١٧٨ باب چهارم _______ روزه ١٨١ ہر امت پر روزہ فرض کیا گیا ١٨٣ روزہ کیوں فرض کیا گیا ؟ ١٨٣ مقصد زندگی _____ بندگی ١٨٤ عبادات _______ بندگی کی تربیت ١٨٤ روزہ، مخفی عبادت ہے. ١٨٥ روزہ ، ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے ١٨٥ ایک ماہ کی مستقل ٹریننگ ١٨٦ اطاعت کی طویل مشق ١٨٧ تربیت کے لیے سازگار اجتماعی ماحول ١٨٨ عبادات کے نتائج اب کہاں ہیں ؟ ١٨٩ روزہ کا اصل مقصد ١٩١ ہر کام کا ایک مقصد ١٩١ ظاہر کو حقیقت سمجھنے کے نتائج ١٩٢ رمضان کے بعد پھر بے قیدی ١٩٣ عبادت کے غلط تصویر کا نتیجہ ١٩٤ روزہ ______ متقی بننے کا ذریعہ ١٩٤ روزہ کے اصل مقاصد ١٩٥ ١- جھوٹ سے بچنا ١٩٥ ٢- ایمان و احتساب ١٩٦ ۳- گناہوں سے بچنے کی ڈھال ١٩٧ ۴۔ نیکی کی حرص ١٩٧ ہ- افطار کرانے کا ثواب ١٩٨ باب پنجم _______ زکواة ١٩٩ زکوۃ کی اہمیت ٢٠١ زکوۃ کے معنی ٢٠١ زکوۃ ، ایک امتحان ٢٠٢ تمام انبیاء کی امتوں پر زکوۃ کی فرضیت ٢٠٢ امت مسلمہ پر زکوۃ کی فرضیت ٢٠٥ اہل ایمان کی نشانی _____ نماز و زکوۃ ٢٠٧ اسلامی اخوت کی بنیادیں ٢٠٧ اللہ کی مدد کی شرائط ٢٠٩ مسلمان کو تنبیہہ ٢١٠ زکوۃ نہ دینے والے کا انجام ٢١١ زکوة کی حقیقت ٢١٣ اللہ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے ؟ ٢١٣ عقل و دانش کا امتحان ٢١٣ اخلاقی قوت کی آزمائش ٢١٥ اطاعت و فرماں برداری کی پرکھ ٢١٥ مال قربانی کی جانچ ٢١٦ حزب اللہ کے لیے مطلوبہ أوصاف ٢١٧ ا۔ تنگ دل نہ ہوں ٢١٨ ٢- فراخ حوصلہ ہوں ٢١٨ ٣- عالی ظرف ہوں ٢١٩ ٤- پاک دل ہوں ٢١٩ ٥- تنگدستی اور غربت میں بھی تخریج کریں ٢١٩ ٦- سخاوت پیشہ ہوں ٢٢٠ ٧- ہر حال میں خدا کو یاد رکھیں ٢٢٠ ٨- احسان نہ جتلائیں ٢٢١ ٩- مال جمع نہ کریں ٢٢٢ ١٠- اللہ کی راہ میں رخصت طلب نہ کریں ٢٢٢ ١١- راہ خدا میں خوشدلی سے آگے بڑھیں ٢٢٢ ١٢- انفاق فی سبیل اللہ کو چٹی نہ سمجھیں ٢٢٣ ١٣- بخیل نہ ہوں ٢٢٣ اجتماعی زندگی میں زکوۃ کا مقام ٢٢٥ اللہ کی شان کریمی ٢٢٥ اتفاق کی تلقین کیوں ؟ ٢٢٧ انسان خود عرض واقع ہوا ہے ٢٢٧ خود غرضانہ ذهنیت کے نتائج ٢٢٨ اجتماع کی فلاح میں فرد کی فلاح ہے ٢٢٩ مشکلات کا حل ٢٣٢ انفاق فی سبیل اللہ کے عام احکام ٢٣٣ احکام کی دو قسمیں _____ عام اور خاص ٢٣٣ اللہ کی یاد کا عام حکم ٢٣٣ اللہ کی یاد کا خاص حکم ٢٣٤ انفاق فی سبیل اللہ کا عام حکم ٢٣٥ انفاق فی سبیل اللہ کا خاص حکم ٢٣٥ انفاق کے عام حکم کی تشریح ٢٣٦ سیدھے راستہ پر چلنے کی تین شرطیں ٢٣٦ زندگی بسر کرنے کے دو طریقے ٢٣٨ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے طریقے ٢٣٨ ا- صرف خدا کی خوشنودی کے لیے ٢٣٨ ۲- احسان نہ جتایا جائے ٢٣٩ ٣- بہتر مال دیا جائے ٢٣٩ ٤- حتی الامکان چھپا کر دیا جائے ٢٤٠ ٥- نادانوں کو ضرورت سے زیادہ نہ دیا جائے ٢٤٠ ٦- مقروض کو پریشان نہ کیا جائے ٢٤١ ٧- خیرات میں اعتدال ٢٤١ امداد کے مستحقین ٢٤٢ زکوة کے خاص احکام ٢٤٥ زکوۃ کے متعلق تین احکام ٢٤٥ چند اشیاء کا نصاب زکوة ٢٤٨ زیورات پر زکوة ٢٤٨ زکواۃ کے آٹھ مستحقین ٢٤٩ ١- فقراء ٢٤٩ ٢- مساکین ٢٤٩ ٣- عالمين عليها ٢٤٩ ٤- مؤلفة القلوب ٢٤٩ ٥- في الرقاب ٢٥٠ ٦- الغارمين ٢٥٠ ٧- فی سبیل اللہ ٢٥١ ٨- ابن السبیل یعنی مسافر ٢٥١ ٩- زکوۃ کے دی جائے اور کسے نہ دی جائے ؟ ٢٥١ ١٠- زکوة کے لیے اجتماعی نظام کی ضرورت ٢٥٣ باب ششم _______ حج ٢٥٥ حج کے معنی ٢٥٧ حج کی ابتداء ٢٥٧ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں حالات ٢٥٧ حضرت ابراہیم کا گھرانا ٢٥٩ حضرت ابراہیم کا اعلان برات ٢٥٩ مصائب کے پہاڑ ٢٦٠ اولاد اور اس کی تربیت ٢٦٢ سب سے بڑی آزمائش ٢٦٣ امامت عالم پر سرفرازی ٢٦٤ حضرت لوط کو مشرق اُردن بھیجنا ٢٦٤ حضرت اسحاق کو فلسطین بھیجنا ٢٦٥ حضرت اسماعیل کو حجاز میں رکھنا ٢٦٥ تعمیر کعبه ٢٦٥ حضرت ابراہیم کی دعائیں ٢٦٦ حج کی تاریخ ٢٧٠ اولاد ابراہیم میں بت پرستی کا رواج ٢٧٠ حج میں بگاڑ کی شکلیں ٢٧١ شعراء کے مقابلے ٢٧١ جھوٹی سخاوت کے مظاہرے ٢٧١ برہنہ طواف ٢٧٢ قربانی کا تصور ٢٧٢ حرام مہینوں کی بے حرمتی ٢٧٢ چند خود ساختہ پابندیاں ٢٧٢ دعائے خلیل کی مقبولیت ٢٧٣ سنت ابراہیمی کا احیاء ٢٧٤ بت پرستی کا خاتمہ ٢٧٤ بیہودہ افعال کی ممانعت ٢٧٥ شاعری کے دنگل بند ٢٧٥ نمائشی فیاضی کا خاتمہ ٢٧٥ قربانی کا خون اور گوشت تقدیر نے کی رسم کا خاتمہ ٢٧٦ برہنہ طواف کی ممانعت ٢٧٦ حج کے مہینوں میں الٹ پھیر کی ممانعت ٢٧٧ زاد راہ لینے کا حکم ٢٧٧ حج میں روزی کمانے کی اجازت ٢٧٧ جاہلی ریموں کا خاتمہ ٢٧٨ میقات کا تعین ٢٧٨ پر امن ماحول کی ہدایت ٢٧٨ ایک ہی نعرہ تلبیہ ٢٧٨ فریضه حج کی اہمیت ٢٧٩ حج کے فائدے ٢٨٢ سفر حج کی نوعیت ٢٨٢ نیکی اور تقوی کی رغبت ٢٨٣ احرام اور اس کی شرائط ٢٨٤ طواف و زیارت ٢٨٦ سعی صفا و مروه . ٢٨٧ وقوف منی ، عرفات اور مزدلفہ ٢٨٨ رمئی جمار ٢٨٨ حج کی برکات و اثرات ٢٨٩ حج ایک اجتماعی عبادت ٢٩٠ حج کا عالم گیر اجتماع ٢٩٢ حج کے ثمرات ٢٩٢ عالم اسلام میں حرکت ٢٩٢ پرہیز گاری اور تقوی کی افزائش ٢٩٣ عالم اسلامی کی بیداری کا موسم ٢٩٣ وحدت ملت کاپر کیف نظارہ ٢٩٤ ایک مقصد ______ ایک مرکز پر اجتماع ٢٩٥ قیام امن کی سب سے بڑی تحریک ٢٩٦ دنیا کا واحد مرکز امن ٢٩٦ حقیقی مساوات کا مرکز ٢٩٧ ہماری قدر نا نشناسی ٢٩٨ حج سے پورے فائدے حاصل کرنے کے طریقے ٣٠١ باب هفتم _______ جہاد ٣٠٥ اسلام کا مقصود حقیقی ٣٠٧ خرابیوں کی اصل جڑ _______ حکومت کی خوابی ٣٠٨ اصلاح کے لیے پہلا قدم _______ اصلاح حکومت ٣١٠ حکومت کی خرابی کی بنیاد ____ انسان پر انسان کی حکمرانی ٣١١ اصلاح کی بنیاد _____ انسان پر خدا کی حکومت ہو ٣١٣ حکومت ایک کٹھن راستہ ٣١٤ عبادات _____ ایک تربیتی کورس ہیں ٣١٥ خداشناس حکومت کی برکات ٣١٦ جہاد کی اہمیت ٣١٩ دین کے معنی ٣١٩ انسان کے دو دین نہیں ہو سکتے ٣٢٠ ہر دین اقتدار چاہتا ہے ٣٢٢ چند مثالیں ٣٢٣ دین جمہوری ٣٢٣ دین ملوکیت ٣٢٣ دین فرنگ ٣٢٣ دین اسلام ٣٢٤ اسلام میں جہاد کی اہمیت ٣٢٦ مومن صادق کی پہچان جہاد ٣٢٩ تبدیلی بغیر کش مکش کے ممکن نہیں ٣٣٠ ضمیمه ________ خطبات جمعہ ٣٣١ خطبة أولى ٣٣١ خطبہ ثانیہ ٣٣٣

عرض ناشر

بسم الله الرحمن الرحیم عرض ناشر اسلام کو دل نشیں، مدلل اور جامع انداز میں پیش کرنےکا جو ملکہ اور خداداد صلاحیت سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ کو حاصل ہےوہ محتاج بیان نہیں۔ آپ کی تصانیف و تألیفات کی ایک ایک سطر جیسی یقین آفریں اور ایمان افزا ہے، اس کا ہر پڑھا لکھا شخص معترف و مداح ہے۔ کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد ، بوڑھے، جوان، بچے، مرد و عورت، ان تحریروں سے متاثر ہو کر اپنے سینوں کو نور ایمان سے منور کر چکے ہیں۔ ان کتابوں کی بدولت تشکیک و ریب کےمارےہوئےلا تعداد اشخاص ایمان و یقین کی دولت سےمالا مال ہوئے ہیں۔ اور کتنے ہی دہریت والحاد کے علمبردار، اسلام کے نقیب بنے ہیں۔ یوں تو اس ذہنی اور عملی انقلاب لانے میں مولانا محترم کی جملہ تصانیف ہی کو پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں سر فہرست یہ کتاب ”خطبات“ ہی ہے۔

یه کتاب دراصل مولانا کے ان خطبات کا مجموعہ ہے جو آپ نے دیہات کے عام لوگوں کے سامنے اجتماعات میں دیئے۔ان خطبات میں آپ نےاسلام کےبنیادی ارکان کو دل میں اتر جانے والے دلائل کے ساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہےاور کمال یہ ہے کہ اس کے باوجود معیاری زبان اور ادبیت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو عام و خاص، کم علم و اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہر ایک یکساں ذوق و شوق سے پڑھتا اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھنے کے لئے ہماری زبان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بلند پایہ زبانوں میں بھی اس کتاب کی نظیر نہیں ملتی۔ علم و حقانیت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جو ان صفحات میں بند کر دیا گیا ہے۔

اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک اس کے ۵۶ ایڈیشن طبع ہو کر ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو چکے ہیں۔ اس بلند پایہ کتاب کو اس کی شان کےمطابق اعلیٰ کتابت و طباعت میں، ایک نئے انداز، نئے سائز بہترین مضبوط جلد اور خوبصورت رنگین ٹائٹل کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امید ہے قارئین کرام اسے پسند فرمائیں گے۔

خطیب حضرات کی آسانی کے لئے کتاب کے آخر میں، خطبات جمعہ، خطبہ اولیٰ و خطبه ثانیه بزبان عربی کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔ ه ذی الحجہ ۱۴۱۹ ۲۴ اپریل ۱۹۹۶ء منیجنگ ڈائریکٹر اسلامک پبلیکیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور

دیباچہ طبع اول

بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . دیباچہ طبع اول ١٣٧٥ه (۱۹۳۸ء) میں جب میں پہلی مرتبہ پنجاب آیا اور "دارالاسلام" ( نزد پٹھانکوٹ مشرقی پنجاب) میں قیام پذیر ہوا تو میں نےوہاں کی مسجد میں جمعہ کی نماز کا سلسلہ شروع کیا اور گردو نواح کےدیہاتی مسلمانوں کو جمع کر کےاُنھیں دین اسلام سمجھانےکی کوشش کی ۔یہ مجموعہ انہی خطبات جمعہ پر مشتمل ہے جو میں نے اُس زمانے میں تیار کیے تھے۔ ان خطبات میں میرے مخاطب گاؤں کے لوگ تھے اور وہ بھی پنجاب کےجن کی مادری زبان اُردو نہیں ہے،اِس لیے مجھے زبان اور انداز بیان دونوں نہایت سہل اور عام فہم اختیار کرنے پڑے ۔ اس طرح ایک ایسا مجموعہ تیار ہو گیا ہے جو عوام کو دین کی تعلیم دینے کے لیے انشاء اللہ بہت مفید ثابت ہوگا۔

اس سے پہلے ہمیں اپنے رسالہ دینیات میں عقائد اسلام کی کافی تشریح کر چکا ہوں اور اسلام کے نظام شریعت کو بھی میں نے اختصار کے ساتھ وہاں بیان کر دیا ہے۔ اب اس مجموعے میں دو چیزیں اور ضروری شرح وبسط کےساتھ آگئی ہیں۔ایک روح دین ، دوسرے عبادت۔ مجھےامید ہےکہ جو لوگ رسالہ دینیات کے ساتھ ان خطبات کو ملا کر پڑھیں گے ان کے لیے دین کی راہ اچھی طرح روشن ہو جائے گی۔

وبالله التوفيق جو اصحاب ان خطبات کو جمعہ میں سُنانا چا ہیں وہ ہر خطبہ کی ابتدا میں خطبه مسنونہ پڑھیں۔ خطبہ ثانیہ کے انتخاب میں وہ آزاد ہیں مگر وہ لاز کا عربی میں ہونا چاہیے۔ ابو الاعلیٰ لاہور، ۱۵ رمضان ه

دیباچہ طبع ہشتم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ دیباچہ طبع ہشتم میرے خطبات جمعہ کا یہ مجموعہ سب سے پہلے نومبر ١٩٤٠ء میں شائع ہوا تھا۔نومبر١٩٥١ء تک گیارہ سال کی مدت میں اس کے سات ایڈیشن تقریباً ۲۰ ہزار کی تعداد میں شائع ہوئے، اور اس پوری مدت میں کسی کو اس کے اندر کوئی فتنہ نظر نہ آیا۔مگر جب علماء کرام کسی وجہ سے(جس کا علم یا اللہ کو ہےیا خود ان کو )مجھ سے اور حماعت اسلامی سے ناراض ہو گئے تو میری دوسری کتابوں کی طرح اس کتاب میں سے بھی اُن کی نگاہ فتنہ ہو نے کچھ فتنے ڈھونڈ نکالے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مفتی صاحبان نے خود پوری کتاب پڑھ کر دیکھی تھی یا کسی کو محض اس خدمت پر مامور فرما دیا تھا کہ اس کو پڑھ کر کچھ ایسے فقرے نکال دے جن پر فتوی جڑا جا سکے ۔ بہر حال جو صورت بھی ہو، اُن کی نگاہ پوری کتاب میں سے صرف چند فقروں پر بجا کر ٹھیری جو انیسویں اور کیسویں خطبے میں ان کو ملے ۔

انیسویں خطبے کے یہ فقرے ان کی توجہات کے ہدف بنے ہیں:

"اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ کے بغیر نماز، روزہ اور ایمان کی شہادت سب بیکار ہیں، کسی چیز کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا" (ص٢٠٢)

"ان دو ارکان اسلام (یعنی نماز و زکوۃ سے) جو لوگ رو گردانی کریں اُن کا دعوائے ایمان ہی جھوٹا ہے" ۔ ٢٠٧)

(قرآن کی رو سے کلمہ طیبہ کا اقرار نہیں بے معنی ہے اگر آدمی اس کےثبوت میں نماز اور زکواۃ کا پابند نہ ہو۔ "٢١١)

اور پچیسویں خطبے کے یہ فقرے انھوں نے فتوی لگانے کے لیے چھانٹے ہیں:

" رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ سچ بھی کوئی فرض اُن کے ذقے ہے، دنیا بھر کے سفر کرتےپھرتے ہیں،کعبہ یورپ کو آتےجائےحجاز کےساحل سے بھی گزر جاتےہیں جہاں سےمکہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے اور پھر بھی حج کا ارادہ تک اُن کے دل میں نہیں گزرتا ، وہ قطعاً مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنےآپ کو مسلمان کہتےہیں،اور قرآن سےجاہل ہےجو انھیں مسلمان سمجھتا ہے۔ (ص ٢٨٠- ٢٨١)

ان عبارات پر یہ فتوی لگایا گیا ہے کہ میں خارجی اور معتزلی ہوں ، مسلک اھلسنت کے خلاف، اعمال کو جزو ایمان قرار دیتا ہوں، اور بے عمل مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہوں۔

حیرت یہ ہے کہ ان فقروں سے متصل ہی دوسرے فقرے موجود تھے جن سےنہ صرف میرے اصل مدعا کی تو مسیح ہوتی تھی، بلکہ اس الزام کا جواب بھی ان سےمل سکتا تھا۔ مگر مفتی صاحبان کی اُن پر یا تو نگاہ نہ بڑی یا مفید مطلب نہ ہونے کی وجہ سے قصدا اُنھوں نے ان کو نظر انداز کر دیا۔ مثلاً پہلے فقرے کو اوپر کے فقرے سےملا کر پڑھے تو پوری عبارت یوں بنے گی :

"یہی وجہ ہے کہ سر کا یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب کے بعض قبیلوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اُن سے اُس طرح جنگ کی جیسے کافروں سےکی جاتی ہے۔حالانکہ وہ لوگ نماز پڑھتے تھے اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتےتھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ کےبغیر نماز،روزہ اور ایمان کی شہادت،سب بیکار ہیں کہ جس کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا"-

اسی طرح آخری فقرے سے اپہلے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حدیثیں اور حضرت عمر کا ایک قول بھی نقل کیا تھا جو میرے بیان کی توثیق کر رہا تھا،مگر نگاہ انتخاب اس پوری عبارت کو چھوڑ گئی۔ یہ کرتب ہیں اُن بزرگوں کے جو ہمارے ہاں علم دین کے معلم اور تزکیہ نفس کے ماہر بنے ہوئے ہیں۔

پھر اسی کتاب میں میرا ایک پورا خطبہ اس موضوع پر موجود ہے کہ میں اِس کتاب میں در اصل کسی اسلام و ایمان سے بحث کر رہا ہوں (ملاحظہ ہو خطبہ نمبر ۹)۔اس میں میں نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ ایک تو ہے وہ قانونی اسلام جس سےفقیہ اور متکلم بحث کرتے ہیں۔جس کا حاصل صرف یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اُس کی آخری سرحد کو پار نہ کر جائے اُس کو خارج از ملت ٹھیرا کر ان تمدنی و معاشرتی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا جو اسلام نےمسلمانوں کو دیےہیں۔دوسرا وہ حقیقی اسلام و ایمان ہےجس پر آخرت میں آدمی کے ایمان یا نفاق یا کفر کا فیصلہ ہو گا۔ میں نے ان دونوں کا فرق واضح کرتے ہوئے اس خطبے میں یہ بتایا ہے کہ انبیاء کی دعوت کا اصل مقصود صرف پہلی قسم کےمسلمان بنا بنا کر چھوڑ دینا نہ تھا، بلکہ اُن کے اندر وہ حقیقی ایمان پیدا کرنا تھا جس میں اخلاص اور اطاعت اور فدائیت کی روح پائی جاتی ہو۔ اس کے بعد میں نے مسلمانوں کو اس طرف تو جہ دلائی ہے کہ تم صرف اُس اسلام پر قانع نہ ہو جاؤ جس کی آخری سرحد پار کرنے سے پہلے کوئی مفتی تمھیں کا فرنہ کہہ سکے ، بلکہ اس اسلام و ایمان کو اپنے اندر پیدا کرنے کی فکر کرو جس سے خدا کے ہاں تم واقعی ایک مخلص اور وفادار مومن قرار پا سکو ۔ میری یہ ساری بحث اگر مفتی صاحبان پڑھ لیتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ کتاب میں نےدر اصل کسی غرض کےلیےلکھی ہے اور پھر اس کتاب کا ایک ایک لفظ شہادت دیتا کہ اول سےلےکر آخر تک اس کےسارے خطبوں میں یہی مرض میرے پیش نظر رہی ہے۔ مگر مفتیوں کو اس سے کیا بحث کہ کتاب اور اُس کے مصنف کا مدعا کیا ہے۔ ان کو تو تلاش ایسے فقروں کی تھی جنھیں سیاق و سباق سےالگ کر کے ایک فتوی لگایا جا سکے۔ان کے لیےفتوئی ایک دینی حکم نہیں ہےجیسے لگانےکےلیےتحقیق کی ضرورت ہو، بلکہ ایک لٹر ہے جس کو لوگوں سے ذاتی رنجشوں کا بخار نکالنےکے لیے وہ جب ضرورت محسوس کرتے ہیں استعمال کر لیتے ہیں۔

جس شخص کو علم سے کچھ بھی مکس ہو اسے کسی کتاب کی کسی عبارت کا مطلب مشخص کرنے سے پہلے کتاب کےموضوع کو سمجھنا چاہیے ۔ یہ کتاب فقہ یا علم کلام کےموضوع پر نہیں ہے۔ یہ فتوے کی زبان میں نہیں لکھی گئی ہے۔اس میں مسئلہ زیر بحث یہ نہیں ہے کہ دائرہ اسلام کی آخری سرحدیں کیا ہیں اور کن حالات میں ایک شخص مرتد۔با خارج از ملت قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ تو نصیحت کی ایک کتاب ہےجس کا مقصود خدا کے بندوں کو فرماں برداری پر اکسانا، نافرمانی سے روکنا اور اخلاص فی الطاعة کی تلقین کرتا ہے۔ کیا مفتی صاحبان یہ چاہتےتھےکہ میں اس طرح کی ایک کتاب میں مسلمانوں کو یہ یقین دلاتا کہ نماز، روزہ، حج، زکواۃ ،سب زوائد ہیں تم ان سب کو چھوڑ کر بھی مسلمان رہ سکتے ہو ؟ رہا بجائے خود ایمان اور عمل کے باہمی تعلق اور تکفیر مسلمین کا مسئلہ تو اس باب میں اپنا مسلک میں اپنے مضامین میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر چکا ہوں جو خاص اسی موضوع پر میں نے لکھے ہیں۔ اس مسلک کو میری کتاب تفہیمات حصہ دوم سے معلوم کرنے کے بجائے ”خطبات“ کےان منتشر فقروں سے مستقبط کرنا آخر کونسی دیانت تھی ؟ ابو الاعلیٰ ١٦ ا گست ٥٢ ء

باب اول

ایمان

مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت

مسلم اور کافر کا اصلی فرق

سونچنے کی باتیں

کلمہ طیبہ کے معنی

کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ

کلمہ طیبہ پر ایمان لانے کا مقصد

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت

اللہ کا سب سے بڑا احسان

برادران اسلام با ہر مسلمان سچے دل سے یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں خدا کی سب سےبڑی نعمت اسلام ہے ۔ ہر مسلمان اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقت میں اس کو شامل کیا اور اسلام کی نعمت اُس کو عطا کی بخود اللہ تعالیٰ بھی اس کو اپنےبندوں پر اپنا سب سےبڑا انعام قرار دیتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا :

اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَى وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيناط والمائده ؛ ٣)

" آج میں نے تمھارا دین تمھارے لیے کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اس بات کو پسند کر لیا کہ تمھارا دین اسلام ہو۔"

احسان شناسی کا تقاضا

یہ احسان جو اللہ تعالیٰ نےآپ پر فرمایا ہےاس کا حق ادا کرنا آپ پر فرض ہےکیوں کہ جو شخص کسی کےاحسان کا حق ادا نہیں کرتا وہ احسان فراموش ہوتا ہے، اور سب سے بدتر احسان فراموشی یہ ہے کہ انسان اپنے خدا کے احسان کا حق بھول جائے۔اب آپ پوچھیں گےکہ خدا کےاحسان کا حق کس طرح ادا کیا جائے؟ میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ جب خدا نےآپ کو امت محمدیہ میں شامل کیا ہےتو اس کےاس احسان کا صحیح شکر یہ ہےکہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے پیرو نہیں جب خدا نے آپ کو مسلمانوں کی ملت میں شامل کیا ہے تو اس کی اس مهربانی کا ستی آپ اسی طرح ادا کر سکتےہیں کہ آپ پورے مسلمان نہیں۔ اس کےسوا خدا کے اس احسان عظیم کا حق آپ اور کسی طرح ادا نہیں کر سکتے۔ اور یہ حتی اگر آپ نے ادا نہ کیا تو جتنا بڑا خدا کا احسان ہے اتنا ہی بڑا اس کی احسان فراموشی کا وبال بھی ہو گا۔ خدا ہم سب کو اس وبال سے بچائے۔آمین۔

مسلمان بننے کے لیے پہلا قدم

اس کےبعد آپ دوسرا سوال یہ کریں گےکہ آدمی پورا مسلمان کس طرح بن سکتا ہے؟ اس کا جواب بہت تفصیل چاہتا ہے اور آئندہ جمعہ کے خطبوں میں اسی کا ایک ایک جزو آپ کے سامنے پوری تشریح کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔لیکن آج کے خطبہ میں، میں آپ کے سامنے وہ چیز بیان کرتا ہوں جو مسلمان بننے کےلیے سب سے مقدم ہے، جس کو اس راستہ کا سب سے پہلا قدم سمجھنا چاہیے۔

کیا مسلمان نسل کا نام ہے ؟

ذرا دماغ پر زور ڈال کر سونچیے کہ آپ مسلمان کا لفظ جو بولتے ہیں اس کا مطلب کیا ہے ؟ کیا انسان ماں کے پیٹ سے " اسلام" ساتھ لے کر آتا ہے ؟ کیا ایک شخص صرف اس بنا پر مسلمان ہوتا ہے کہ وہ مسلمان کا بیٹا اور مسلمان کا ہوتا ہے؟کیا مسلمان بھی اسی طرح مسلمان پیدا ہوتا ہے جس طرح ایک برہمن کا بچہ برہمن پیدا ہوتا ہے ، ایک راجپوت کا بیٹا راجپوت، اور ایک شو در کالڑ کا شو در؟ کیا مسلمان کسی نسل یا ذات برادری کا نام ہے کہ جس طرح ایک انگریز کسی انگریز کےگھر پیدا ہونے کی وجہ سے انگریز ہوتا ہے، اور ایک نجاٹ ، جاٹ قوم میں پیدا ہونے کی وجہ سے بھاٹ ہوتا ہے، اسی طرح ایک مسلمان،صرف اس وجہ سےمسلمان ہو کہ وہ مسلمان نامی قوم میں پیدا ہوا ہے؟ یہ سوالات جو میں آپ سے پوچھ رہا ہوں ان کا آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ یہی کہیں گےنا کہ نہیں صاحب! مسلمان اس کو نہیں کہتے،مسلمان نسل کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوتا بلکہ اسلام لانے سے مسلمان بنتا ہے، اور اگر وہ اسلام کو چھوڑ دے تو مسلمان نہیں رہتا۔ ایک شخص خواہ برہمن ہو یا راجپوت، انگریز ہو یا جاٹ، پنجابی ہو یا حبشی ، جب اُس نےاسلام قبول کیا تو مسلمانوں میں شامل ہو جائے گا۔ اور ایک دوسرا شخص بھی مسلمان کےگھر میں پیدا ہوا ہے،اگر وہ اسلام کی پیروی چھوڑ دےتو وہ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہو جائے گا، چاہے وہ سید کا بیٹا ہو یا پٹھان کا ۔

کیوں حضرات آپ میرے سوالات کا یہی جواب دیں گے نا ؟ اچھا تو اب خود آپ ہی کے جواب سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ خدا کی یہ سب سے بڑی نعمت یعنی مسلمان ہونے کی نعمت جو آپ کو حاصل ہے، یہ کوئی نسلی چیز نہیں ہےکہ ماں باپ سےوراثت میں یہ خود بخود آپ کو حاصل ہو جائے اور خود بخود تمام عمر آپ کے ساتھ لگی رہے ، خواہ آپ اس کی پروا کریں یا نہ کریں ۔ بلکہ ایسی نعمت ہےکہ اس کے حاصل کرنے کے لیے خود آپ کی کوشش شرط ہے۔ اگر آپ کوشش کر کے اسے حاصل کریں تو آپ کو مل سکتی ہے اور اگر آپ اس کی پروانہ کریں تو یہ آپ سے بھن بھی سکتی ہے ، معاذ اللہ۔

اسلام لانے کا مطلب

اب آگے بڑھیے ۔ آپ کہتے ہیں کہ اسلام لانے سے آدمی مسلمان بنتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اسلام لانے کا مطلب کیا ہے؟ کیا اسلام لانے کا یہ مطلب ہےکہ جو آدمی بس زبان سے کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمان بن گیا ہوں، وہ مسلمان ہے ؟ یا اسلام لانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک برہمن بیچاری بغیر سمجھے بو مجھے سنسکرت کے چند منتر پڑھتا ہے اسی طرح ایک شخص سونی کے چند فقرے بغیر سمجھے بوجھے زبان سے ادا کر دے اور میں وہ مسلمان ہو گیا ؟ آپ خود بتائیے کہ اس سوال کا آپ کیا جواب دیں گے ؟ آپ یہی کہیں گے تاکہ اسلام ہےکا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیم دی ہے اس کو آدھی جان کر ، سمجھ کر، دل سے قبول کرے، اور اس کے مطابق عمل کرے۔ جو ایسا کرےوہ مسلمان ہے اور جو ایسا نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔

پہلی ضرورت علم

یہ جواب جو آپ دیں گے، اس سے خود بخود یہ بات کھل گئی کہ اسلام پہلے علم کا نام ہے اور علم کے بعد عمل کا نام ہے ۔ ایک شخص علم کے بغیر بر یمین ہو سکتا ہے،کیوں کہ وہ بر سمن پیدا ہوا ہے اور برہمن ہی رہے گا۔ ایک شخص علم کے بغیر جاٹ ہو سکتا ہے، کیوں کہ وہ بات پیدا ہوا ہے اور بجاٹ ہی رہے گا۔ مگر ایک شخص علم کے بغیر مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ کیوں کہ مسلمان پیدائش سے مسلمان نہیں ہوا کرتا بلکہ علم سے ہوتا ہے ۔ جب تک اس کو یہ علم نہ ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا ہے ، وہ اُس پر ایمان کیسے لا سکتا ہےاور اس کےمطابق عمل کیسےکر سکتا ہے؟ اور جب وہ جان کر اور سمجھ کر ایمان ہی نہ لایا تو مسلمان کیسے ہو سکتا ہے؟پس معلوم ہوا کہ جہالت کےساتھ مسلمان ہونا اور مسلمان رہنا غیرممکن ہےبه شخص جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے جس کا نام مسلمانوں کا سا ہے، ہجو مسلمانوں کے سے کپڑے پہنتا ہے اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ، حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان در حقیقت صرف وہ شخص ہے جو اسلام کو جانتا ہو اور پھر جان بوجھ کر اس کو مانتا ہو۔ ایک کا فراور ایک مسلمان میں اصلی فرق نام کا نہیں کہ وہ رام پر شاد ہے اور یہ عبداللہ ہے، اس لیے وہ کافر ہے اور یہ مسلمان ۔ اسی طرح ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصلی فرق لباس کا بھی نہیں ہے کہ وہ دھوتی باندھتا ہےاور یہ پاجامہ پہنتا ہے، اس لیے وہ کافر ہےاور یہ مسلمان۔ بلکہ اصلی فرق ان دونوں کے درمیان علم کا ہے ۔ وہ کافر اس لیےہے کہ وہ نہیں جانتا کہ خدا وند عالم کا اس سے اور اس کا خدا وند عالم سے کیا تعلق ہے، اور خالق کی مرضی کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا راستہ کیا ہے۔اگر یہی حال ایک مسلمان کے بچے کا بھی ہو تو بتاؤ کہ اس میں اور ایک کا فریں کس چیز کی بنا پر فرق کرتے ہو، اور کیوں یہ کہتے ہو کہ وہ تو کافر ہے اور یہ مسلمان ہے۔

حضرات یہ بات جو ہیں کہ رہا ہوں اس کو ذرا کان لگا کر سُنیے اور ٹھنڈے دل سے اس پر غور کیجیے ۔ آپ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ خدا کی یہ سب سےبڑی نعمت ہیں پر آپ شکر اور احسان مندی کا اظہار کرتے ہیں، اس کا حاصل ہوتا اور حاصل نہ ہونا ، دونوں باتیں علم پر موقوف ہیں۔ اگر علم نہ ہو تو یہ نعمت آدمی کو حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر تھوڑی بہت حاصل ہو بھی جائے تو جہالت کی بنا پر ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ یہ عظیم الشان نعمت اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔محض نادانی کی بنا پر وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتا رہے گا کہ میں ابھی تک مسلمان ہوں،حالانکہ در حقیقت وہ مسلمان نہ ہوگا۔ جو شخص یہ جانتا ہی نہ ہو کہ اسلام اور کفر میں کیا فرق ہے،اور اسلام اور شرک میں کیا امتیاز ہے، اس کی مثال تو بالکل ایسی ہےجیسے کوئی شخص اندھیرے میں ایک پگڈنڈی پر چل رہا ہو۔ ہو سکتا ہےکہ سیدھی لکیر پر چلتےپھلتے خود اس کے قدم کسی دوسرے راستے کی طرف مڑ جائیں اور اس کو خبر بھی نہ ہو کہ میں سیدھی راہ سے ہٹ گیا ہوں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راستے میں کوئی دقبال کھڑا ہوا مل جائے اور اس سے کہے کہ ارے میاں یا تم اندھیرے میں راستہ بھول گئے، آؤ میں تمھیں منزل تک پہنچا دوں۔ بیچارہ اندھیرے کا مسافر خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا کہ سیدھا راستہ کونسا ہے۔ اس لیے نادانی کے ساتھ اپنا ہاتھ اس در قبال کے ہاتھ میں دے دے گا اور وہ اس کو بھٹکا کر کہیں سے کہیں لے جائے گا۔ یہ خطرات اس شخص کو اسی لیے تو پیش آتے ہیں کہ اس کے پاس خود کوئی روشنی نہیں ہے اور وہ خود اپنے راستے کے نشانات کو نہیں دیکھ سکتا اگر اس کے پاس روشنی موجود ہو تو ظاہر ہے کہ نہ وہ راستہ بھولے گا اور نہ کوئی دوسرا اس کو بھٹکا سکے گا۔ بس اسی پر قیاس کر لیجیےکہ مسلمان کے لیے سب سےبڑا خطرہ اگر کوئی ہے تو یہی کہ وہ خود اسلام کی تعلیم سے ناواقف ہو، خود یہ نہ جانتا ہو کہ قرآن کیا سکھاتا ہےاور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہدایت دے گئےہیں۔اس جہالت کی وجہ سے وہ خود بھی بھٹک سکتا ہےاور دوسرے دجال بھی اس کو بھٹکا سکتےہیں لیکن اگر اس کےپاس علم کی روشنی ہو تو وہ زندگی کے ہر قدم پر اسلام کے سیدھے راستے کو دیکھ سکے گا ، ہر قدم پر کفر اور شرک اور گمراہی اور فسق و فجور کے جو ٹیڑھے راستے بیچ میں آئیں گے ان کو پہچان کر ان سے بچ سکے گا، اور جو کوئی راستے میں اس کو بہکانے والا ملے گا تو اس کی دو چار باتیں ہی سن کر وہ خود سمجھ جائیگا کہ یہ بہکانے والا آدمی ہے، اس کی پیروی نہ کرنی چاہیے۔

علم کی اہمیت

بھائیو ، یہ علم جس کی ضرورت میں آپ سے بیان کر رہا ہوں، اس پر تمھارےاور تمھاری اولاد کے مسلمان ہونے اور مسلمان رہنے کا انحصار ہے۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ اس سےبے پروائی کی جائے۔ تم اپنی کھیتی باڑی کےکام میں غفلت نہیں کرتے، اپنی زراعت کو پانی دینے اور اپنی فصلوں کی حفاظت کرنے میں غفلت نہیں کرتے ، اپنے مویشیوں کو چارہ دینے میں غفلت نہیں کرتے۔ اپنے پیشے کےکاموں میں غفلت نہیں کرتے، محض اس لیے کہ اگر غفلت کرو گے تو ٹھو کے مر جاؤ گے اور جان جیسی عزیز چیز ضائع ہو جائے گی ۔ پھر مجھے بتاؤ کہ اس علم کےحاصل کرنے میں کیوں غفلت کرتے ہو جس پر تمھارے مسلمان بننےاور مسلمان رہنے کا دارومدار ہے ؟ کیا اس میں یہ خطرہ نہیں کہ ایمان جیسی عزیز چیز ضائع ہو جائےگی؟ کیا ایمان ، جان سے زیادہ عزیز بھیز نہیں ہے ؟ تم جان کی حفاظت کرنےوالی چیزوں کے لیے جتنا وقت اور جتنی محنت صرف کرتے ہو کیا اُس وقت اور محنت کا دسواں حصہ بھی ایمان کی حفاظت کرنے والی چیزوں کے لیے صرف نہیں کر سکتے ؟

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ہر شخص مولوی بنے ، بڑی بڑی کتابیں پڑھےاور اپنی عمر کے دس بارہ سال پڑھنے میں صرف کر دے۔ مسلمان بننے کے لیے اتنا پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں کا ہر شخص رات دن کےچھو نہیں گھنٹوں میں سےصرف ایک گھنٹہ علم دین سیکھنےمیں صرف کرے۔ کم از کم اتنا علم ہر مسلمان بچے اور بوڑھے اور جو ان کو حاصل ہونا چاہیے کہ قرآن جس مقصد کے لیےاور جو تعلیم لےکر آیا ہے اُس کا لب لباب جان لے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو مٹانےکے لیے اور اس کی جگہ جو چیز قائم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔اس کو خوب پہچان لے ، اور اُس خاص طریق زندگی سے واقف ہو جائے جو اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے مقرر کیا ہے ۔ اتنے علم کے لیے کچھ بہت زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر ایمان عزیز ہو تو اس کے لیے ایک گھنٹہ روز نکالنا کچھ مشکل نہیں۔

مسلم اور کافر کا اصلی فرق

مسلم اور کافر میں فرق کیوں؟ برادران اسلام کا ہر مسلمان اپنے نزدیک یہ سمجھتا ہے اور آپ بھی ضرور ایسا ہی سمجھتے ہوں گے کہ مسلمان کا درجہ کا فر سے اونچا ہے۔ مسلمان کو خدا پسند کرتا ہے اور کافر کو نا پسند کرتا ہے ۔ مسلمان خدا کے ہاں بخشا جائے گا اور کافر کی بخشش نہ ہوگی۔ مسلمان جنت میں بھائے گا اور کافر دوزخ میں جائے گا۔ آج میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بات پر غور کریں کہ مسلمان اور کافر میں اتنا بڑا فرق آخر کیوں ہوتا ہے ؟ کافر بھی آدم کی اولاد ہے اور تم بھی ۔ کافر بھی ایسا ہی انسان ہےجیسے تم ہو۔ وہ بھی تمھارے ہی جیسے ہاتھ پاؤں ، آنکھ، کان رکھتا ہے۔ وہ بھی اسی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہی پانی پیتا ہے۔ اسی زمین پر لیتا ہے۔ یہی پیداوار اتا ہے۔ اسی طرح پیدا ہوتا ہے اور اسی طرح مرتا ہے۔ اسی خدا نے اس کو بھی کھانا۔پیدا کیا ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے۔ پھر آخر کیوں اُس کا درجہ نیچا ہے اور تمھارا اونچا ؟ تمھیں کیوں جنت ملے گی اور وہ کیوں دوزخ میں ڈالا جائے گا ؟

کیا صرف نام کا فرق ہے؟ یہ بات ذرا سونچنے کی ہے ۔ آدمی اور آدمی میں اتنا بڑا فرق صرف اتنی سی بات سے تو نہیں بن سکتا کہ تم عبد اللہ اور عبدالرحمن اور ایسےہی دوسرے ناموں سےپکارے جاتےہو اور وہ دین دیال اور کرتار سنگھ اور ابرٹسن جیسے ناموں سے پکارا جب آتا ہے ۔ یاتم ختنہ کراتے ہو اور وہ نہیں کراتا۔ یاتم گوشت کھاتےہو اور وہ نہیں کھانا ۔ اللہ تعالیٰ جس نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے اور جو سب کا پروردگار ہے ایسا ظلم تو کبھی نہیں کر سکتا کہ ایسی چھوٹی پھوٹی باتوں پر اپنی مخلوقات میں فرق کرے اور ایک بندے کو جنت میں بھیجے اور دوسرے کو دروخ میں پہنچا دے۔

اصلی فرق _____ اسلام اور کفر جب یہ بات نہیں ہے تو پھر غور کرو کہ دونوں میں اصلی فرق کیا ہے؟اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ دونوں میں اصلی فرق اسلام اور کفر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسلام کے معنی خدا کی فرماں برداری کے ہیں، اور کفر کےمعنی خدا کی نافرمانی کے۔ مسلمان اور کافر دونوں انسان ہیں ، دونوں خدا کے بندےہیں۔ مگر ایک انسان اس لیے افضل ہو جاتا ہے کہ یہ اپنے مالک کو پہچانتا ہے،اس کے حکم کی اطاعت کرتا ہے اور اس کی نافرمانی کے انجام سے ڈرتا ہے۔ اور دوسرا انسان اس لیے اونچے درجہ سے گر جاتا ہے کہ وہ اپنے مالک کو نہیں پہچانتا اور اس کی فرماں برداری نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے مسلمان سے خدا خوش ہوتا ہےاور کافر سے ناراض۔ مسلمان کو جنت دینے کا وعدہ کرتا ہے اور کافر کو کہتا ہےکہ دوزخ میں ڈالوں گا۔

فرق کی وجہ ________ علم اور عمل اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو کافر سے جدا کرنے والی صرف دو چیزیں ہیں : ایک علم، اور دوسری عمل یعنی پہلے تو اسے یہ جاننا چاہیے کہ اس کا مالک کون ہے ؟ اس کے احکام کیا ہیں ؟ اس کی مرضی پر چلنے کا طریقہ کیا ہے ؟ کن کاموں سے وہ خوش ہوتا ہے اور کن کاموں سے ناراض ہوتا ہے ؟ پھر جب یہ باتیں معلوم ہو جائیں تو دوسری بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مالک کا غلام بنا دے ۔ جو مالک کی مرضی ہو اس پر پہلے اور جو اپنی مرضی ہو اس کو چھوڑ دے۔ اگر اس کا دل ایک کام کو چاہیے اور مالک کا حکم اس کے خلاف ہو تو اپنے دلی کی بات نہ مانے اور مالک کی بات مان لے۔ اگر ایک کام اس کو اچھا معلوم ہوتا ہے اور مالک کہے کہ وہ بنا ہے، تو اُسے بڑا ہی سمجھے۔ اور اگر دوسرا کام آئےبرا معلوم ہوتا ہے مگر مالک کہے کہ وہ اچھا ہے تو اُسے اچھا ہی سمجھے۔ اگر ایک کام میں اُسے نقصان نظر آتا ہو اور مالک کا حکم ہو کہ اسے کیا جائے تو چاہے اس میں جان اور مال کا کتنا ہی نقصان ہو ، وہ اس کو ضرور کر کے ہی پھوڑے۔ اگر دوسرےکام میں اس کو فائدہ نظر آتا ہو اور مالک کا حکم ہو کہ اُسے نہ کیا جائے ، تو خواہ دنیا بھر کی دولت ہی اس کام میں کیوں نہ ملتی ہو، وہ اس کام کو ہر گز نہ کرے۔

یہ علم اور یہ عمل ہے جس کی وجہ سے مسلمان خدا کا پیارا بندہ ہوتا ہے اور اس پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور خدا اس کو عزت عطا کرتا ہے ۔ کا فرید علم نہیں رکھتا اور علم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا عمل بھی یہ نہیں ہوتا ، اس لیے وہ خدا کا جاہل اور نافرمان بندہ ہوتا ہے اور خدا اس کو اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔

اب خود ہی انصاف سے کام لے کر سوچو کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، مگر ویسا ہی جاہل ہو جیسا ایک کا فر ہوتا ہے، اور ویسا ہی نا فرمان ہو جیسا ایک کافر ہوتا ہے تو محض نام اور لباس اور کھانے پینے کے فرق کی وجہ سےوہ کافر کےمقابلہ میں کسی طرح افضل ہو سکتا ہے اور کس بنا پر دنیا اور آخرت ہیں خدا کی رحمت کا حق دار ہو سکتا ہے؟ اسلام کسی نسل یا خاندان با برادری کا نام نہیں ہے کہ باپ سے بیٹے کو اور بیٹے سے پوتے کو آپ ہی آپ مل جائے۔یہاں یہ بات نہیں ہےکہ برہمن کا لڑکا چاہےکیسا ہی جاہل ہو اور کیسےہی بڑےکام کرےمگر وہ اونچا ہی ہوگا، کیوں کہ برہمن کےگھر پیدا ہوا ہےاور اونچی ذات کا ہے۔اور چمار کا لڑکا چاہےعلم اور عمل کے لحاظ سے ہر طرح اس سے بڑھ کر ہو مگر وہ نیچا ہی رہے گا ، کیوں کہ چار کے گھر پیدا ہوا ہے اور کمین ہے ۔ یہاں تو خدا نے اپنی کتاب میں صاف فرما دیا ہے کہ ان اكرمكم عند الله انفلو (الحجرات : ۱۳) یعنی جو خدا کو زیادہ پہچانتا ہے اور اس کی زیادہ فرماں برداری کرتا ہے ، وہی خدا کے نزدیک زیادہ عزت والا ہے ۔ حضرت ابراہیم ایک بت پرست کے گھر پیدا ہوئے ۔ مگر انھوں نے خدا کو پہچانا اور اس کی فرمانبرداری کی، اس لیے خدا نے ان کو ساری دنیا کا امام بنا دیا۔ حضرت نوح کا لڑکا ایک پیغمبر کے گھر پیدا ہوا، مگر اُس نے خدا کو نہ پہچانا اور اس کی نافرمانی کی، اس لیے خدانےاس کے خاندان کی کچھ پروا نہ کی اور اسے ایسا عذاب دیا جس پر دنیا عبرت کرتی ہے۔ پس خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ خدا کے نزدیک انسان اور انسان میں جو کچھ بھی فرق ہے وہ علم اور عمل کے لحاظ سے ہے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کی رحمت صرف انہی کے لیے ہے جو اس کو پہچانتے ہیں، اور اس کے بتائےہوئے سیدھے راستے کو جانتے ہیں، اور اس کی فرماں برداری کرتے ہیں۔ جن لوگوں میں یہ صفت نہیں ہے ان کے نام خواہ عبد اللہ اور عبد الرحمن ہوں، یا دین دیال اور کرتار سنگھ ، خدا کے نزدیک ان دونوں میں کوئی فرق نہیں اور ان کو اس کی رحمت سے کوئی حق نہیں پہنچتا۔

آج مسلمان ذلیل کیوں ؟

بھائیو کہ تم اپنےآپ کو مسلمان کہتےہو،اور تمھارا ایمان ہےکہ مسلمان پر خدا کی رحمت ہوتی ہےمگر ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو، کیا خدا کی رحمت تم پر نازل ہو رہی ہے ؟ آخرت میں جو کچھ ہو گا وہ تو تم بعد میں دیکھو گے ، مگر اس دنیا میں تمھارا جو حال ہےاس پر نظر ڈالو۔ اس ہندوستان میں تم نو کروڑ ہو۔ تمھاری اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر ایک ایک شخص ایک ایک کنکر ہی پھینکے تو پہاڑ بن جائے۔ لیکن جہاں اتنے مسلمان موجود ہیں وہاں کفارحکومت کر رہے ہیں ۔تمھاری گردنیں اُن کی مٹھی میں ہیں کہ جدھر چاہیں تمھیں موڑ دیں۔تمھارا سرجو خدا کےسوا کسی کے آگے نہ جھکتا تھا، اب انسانوں کے آگے ٹھیک رہا ہے تمھاری عزت جس پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی ہمت نہ کر سکتا تھا ، آج وہ خاک میں مل رہی ہے۔تمھارا ہاتھ ، جو ہمیشہ اونچا ہی رہتا تھا، اب وہ نیچا ہوتا ہے اور کافر کے آگے پھیلتا ہے۔ جہالت اور افلاس اور قرض داری نے ہر جگہ تم کو ذلیل و خوار کر رکھا ہے۔کیا یہ خدا کی رحمت ہے ؟ اگر یہ رحمت نہیں ہے، بلکہ کھلا ہوا غضب ہے،تو کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اور اس پر خدا کا غضب نازل ہو ! مسلمان اور ذلیل ہو ! مسلمان اور غلام ہو! یہ تو ایسی ناممکن بات ہے جیسے کوئی چیز سفید بھی ہو اور سیاہ بھی۔ جب مسلمان خدا کا محبوب ہوتا ہے تو خدا کا محبوب دنیا ہیں ذلیل و خوار کیسے ہو سکتا ہے ؟ کیا نعوذ باللہ تمھارا خدا ظالم ہے کہ تم تو اس کا حق پہچانو اور اس کی فرماں برداری کرو، اور وہ نا فرمانوں کو تم پر حاکم بنادے، اور تم کو فرماں برداری کے معاوضے میں سزا دے؟ اگر تمھارا ایمان ہےکہ خدا ظالم نہیں ہے،اور اگر تم یقین رکھتے ہو کہ خدا کی فرماں برداری کا بدلہ ذلت سے نہیں مل سکتا تو پھر تمھیں ماننا پڑے گا کہ مسلمان ہونے کا دعوئی جو تم کرتےہو اسی میں کوئی غلطی ہے۔ تمھارا نام سرکاری کا غذات میں تو ضرور مسلمان لکھا جاتا ہے،مگر خدا کےہاں انگریزی سرکار کےدفتر کی سند پر فیصلہ نہیں ہوتا۔ خدا اپنا دفتر الگ رکھتا ہے، وہاں تلاش کر دو کہ تمھارا نام فرماں برداروں میں لکھا ہوا ہے یا نا فرمانوں میں ؟


١- خیال رہے کہ یہ خطبات اس زمانے میں لکھے گئے تھے جب ہندوستان تقسیم نہ ہوا تھا۔

خدا نے تمھارے پاس کتاب بھیجی تا که تم اس کتاب کو پڑھ کر اپنے مالک کو پہچانو اور اس کی فرماں برداری کا طریقہ معلوم کرو۔ کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنےکی کوشش کی کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہے ؟ خدا نے اپنے نبی کو تمھارے پاس بھیجا تا کہ وہ تمھیں مسلمان بنے کا طریقہ سکھائے۔ کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی۔ کوشش کی کہ اُس کے نبی نے کیا سکھایا ہے ؟ خدا نے تم کو دنیا اور آخرت میں عزت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ۔ کیا تم اُس طریقے پر چلتے ہو ؟ خدا نے کھول کھول کر بتایا کہ کون سے کام ہیں جن سے انسان دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے۔ کیا تم ایسے کاموں سے بچتے ہو ؟ بتاؤ تمھارے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟ اگر تم مانتے ہو کہ نہ تو تم نے خدا کی کتاب اور اس کے نبی کی زندگی سے علم حاصل کیا اور نہ اس کےبتائے ہوئے طریقے کی پیروی کی ، تو تم مسلمان ہوئے کب کہ تمھیں اس کا اجر ملے ؟جیسے تم مسلمان ہو ویسا ہی اجر تمھیں مل رہا ہے اور ویسا ہی اجر آخرت میں بھی دیکھ لوگے۔

میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ مسلمان اور کا فرمیں علم اور حمل کے سوا کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کا علم اور عمل ویسا ہی ہے جیسا کا فر کا ہے، اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، تو بالکل جھوٹ کہتا ہے۔ کا فرقرآن کو نہیں پڑھتا اور نہیں جانتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ یہی حال اگر مسلمان کا بھی ہو تو وہ مسلمان کیوں کہلائے ؟ کافر نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تعلیم ہے اور آپؐ نے خدا تک پہنچنےکا سیدھا راستہ کیا بتایا ہےاگر مسلمان بھی اُسی کی طرح نا واقف ہو تو وہ مسلمان کیسےہوا؟ کا فرخدا کی مرضی پر چلنےکےبجائے اپنی مرضی پر چلتا ہے۔ مسلمان بھی اگر اُسی کی طرح خود سر اور آزاد ہو، اسی کی طرح اپنے ذاتی خیالات اور اپنی رائے پر چلنے والا ہو، اسی کی طرح خدا سے بے پروا اور اپنی خواہش کا بندہ ہو تو اسے اپنے آپ کو مسلمان دخدا کا فرماں بردار کہنے کا کیا حق ہے؟ کافر حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا اور جس کام میں اپنے نزدیک فائدہ یا لذت دیکھتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے،چاہیے خدا کے نزدیک وہ حلال ہو یا حرام ۔ یہی رویہ اگر مسلمان کا ہو تو اس میں اور کا فرمیں کیا فرق ہوا ؟ غرض یہ ہے کہ جب مسلمان بھی اسلام کے علم سے اتنا ہی کو را ہو جتنا کا فر ہوتا ہے، اور جب مسلمان بھی وہ سب کچھ کرے ہو کا فر کرتا ہے تو اس کو کافر کے مقابلہ میں کیوں فضیلت حاصل ہو، اور اس کا حشر بھی کافر جیسا کیوں نہ ہو ؟ یہ ایسی بات ہے جس پر ہم سب کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چا ہے ۔

غور کا مقام

میرے عزیز بھائیو ا کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ میں مسلمانوں کو کا فربنانے چلا ہوں۔نہیں، میرا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے ۔ میں خود بھی سوچتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ سونچے کہ ہم آخر خدا کی رحمت سے کیوں محروم ہو گئے ہیں ؟ ہم پر ہر طرف سے کیوں مصیبتیں نازل ہو رہی ہیں؟ جن کو ہم کافر، یعنی خدا کے نافرمان بندے کہتے ہیں وہ ہم پر ہر جگہ غالب کیوں ہیں ؟ اور ہم جو فرماں بردار ہونے کا دعوی کرتے ہیں، ہر جگہ مغلوب کیوں ہو رہے ہیں ؟ اس کی وجہ پر میں نے جتنا زیادہ غور کیا، اتنا ہی مجھے یقین ہوتا چلا گیا کہ ہم میں اور کفار میں بس نام کا فرق رہ گیا ہے، ورنہ ہم بھی خدا سے غفلت اور اس سے لیے خوفی اور اس کی نافرمانی میں کچھ اُن سے کم نہیں ہیں۔ تھوڑا سا فرق ہم میں اور ان میں ضرور ہے، مگر اس کی وجہ سے ہم کسی اجر کےمستحق نہیں ہیں، بلکہ سزا کے مستحق ہیں ۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور پھر اس کےساتھ وہ برتاؤ کرتے ہیں جو کا فر کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں، اور پھر اُن کی پیروی سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے کافر بھاگتا ہے ۔ ہم کو معلوم ہے کہ جھوٹے پر خدا نے لعنت کی ہے، رشوت کھانے اور کھلانے والے کو جہنم کا یقین دلایا ہے، سود کھانے اور کھلانے والےکو بد ترین مجرم قرار دیا ہے، غیبت کو اپنے بھائی کا گوشت کھانے کے برابر بتایا ہے ، محش اور بے حیائی اور بد کاری پر سخت عذاب کی دھمکی دی ہے، مگر یہ بنانےکے بعد بھی ہم کفارہ کی طرح یہ سب کام آزادی کے ساتھ کرتے ہیں ، گویا ہمیں خدا کا کوئی خوف ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جو کفار کے مقابلہ میں تھوڑے بہت مسلمان بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس پر ہمیں انعام نہیں ملتا بلکہ سزادی جاتی ہے۔کفار کا ہم پر حکمران ہوتا ، ہر جگہ ہمارا نذک اٹھانا اسی جرم کی سزا ہے کہ ہمیں اسلام کی نعمت دی گئی تھی اور پھر ہم نے اس کی قدر نہ کی۔

عزیز وہ آج کے خطبہ میں جو کچھ میں نے کہا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ تم کو ملامت کروں ۔ لیکن ملامت کرنے نہیں اُٹھا ہوں۔میرا مقصد یہ ہے کہ جو کچھ کھویا گیا ہےاس کو پھر سےحاصل کرنے کی کچھ فکر کی جائے۔کھوئے ہوئے کو پانے کی فکر اسی وقت ہوتی ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ اس کے پاس سے کیا چیز کھوئی گئی ہے اور وہ کیسی قیمتی چیز ہے۔ اسی لیے میں تم کو چونکانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اگر تم کو ہوش آ جائے اور تم سمجھ لو کہ حقیقت میں بہت قیمتی چیز تمھارے پاس تھی تو تم پھر سے اس کے حاصل کرنے کی فکر کرو گے ۔

حصولِ علم کی فکر

میں نے پچھلے خطبہ میں تم سے کہا تھا کہ مسلمان کو مسلمان ہونے کے لیےسب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسلام کا علم ہے ۔ ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کی تعلیم کیا ہے ، رسول پاک کا طریقہ کیا ہے ، اسلام کس کو کہتےہیں، اور کفر و اسلام میں اصلی فرق کن باتوں کی وجہ سےہے۔ اس علم کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔مگر افسوس ہے کہ تم اسی علم کو حاصل کرنےکی فکر نہیں کرتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک تم کو احساس نہیں ہوا کہ تم کتنی بڑی نعمت سے محروم ہو۔ میرے بھائیو ہو ماں اپنے بچے کو دودھ بھی اس وقت تک نہیں دیتی جب تک کہ وہ رو کر مانگتا نہیں۔ پیاسے کو جب پیاس لگتی ہے تو وہ خود پانی ڈھونڈتا ہے، اور خدا اس کے لیے پانی پیدا بھی کر دیتا ہے۔ جب تم کو خود ہی پیاس نہ ہو تو پانی سے بھرا ہوا کنواں بھی تمھارے پاس آجائے تو بیکار ہے۔ پہلے تم کو خود سمجھنا چاہیے کہ دین سے ناواقف رہنے میں تمھارا کتنا بڑا نقصان ہے ۔ خدا کی کتاب تمھارے پاس موجود ہے، مگر تم نہیں جانتے کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔ اس سے زیادہ نقصان کی بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ نماز تم پڑھتے ہو مگر تمھیں نہیں معلوم کہ اس نماز میں تم اپنے خدا کے سامنے کیا عرض کرتےہو۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نقصان ہو سکتا ہے ؟ کلمہ، جس کے ذریعہ سے تم اسلام میں داخل ہوتے ہو، اس کے معنی تک تم کو معلوم نہیں اور تم نہیں جانتےکہ اس کلمہ کو پڑھنے کے ساتھ ہی تم پر کیا ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی نقصان ہو سکتا ہے ؟ کھیتی کے جل جانےکا نقصان تم کو معلوم ہے، روزگار نہ ملنے کا نقصان تم کو معلوم ہے ، اپنے مال کےضائع ہو جانے کا نقصان تم کو معلوم ہے ، مگر اسلام سے ناواقف ہونے کا نقصان تمھیں معلوم نہیں۔ جب تم کو اس نقصان کا احساس ہوگا توتم خود آکر کہو گےکہ ہمیں اس نقصان سے بچاؤ۔ اور جب تم خود کہو گے تو انشاء اللہ تھیں اس نقصان سے بچانے کا بھی انتظام ہو جائے گا۔

سونچنے کی باتیں

برادرانِ اسلام دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کےپاس اللہ کا کلام بالکل محفوظ ،تمام تحریفات سےپاک، ٹھیک ٹھیک اپنی الفاظ میں موجود ہےجن الفاظ میں وہ اللہ کےرسول پر حق پر اُترا تھا۔ اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللہ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حد و حساب نعمتوں سے محروم ہیں۔ قرآن ان کےپاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں، اس کے مطابق عمل کریں،اور اس کو لے کر خدا کی زمین پر خدا کےقانون کی حکومت قائم کر دیں۔وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنےآیا تھا۔وہ انھیں زمین پر خدا کا اصلی خلیفہ بنانےآیا تھا۔ اور تا ریخ گواہ ہے کہ جب اُنھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نےان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا ۔ مگر اب ان کےہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں،اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گھول کر پییں، اور محض ثواب کے لیے بے سمجھے جو مجھے پڑھ لیا کریں۔ اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے ۔ اس سے نہیں پوچھتے کہ ہمارے عقاید کیا ہونے چاہئیں؟ ہمارے اعمال کیا ہونےچاہئیں؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں؟ ہم لین دین کس طرح کریں؟ دوستی اور دشمنی میں کسی قانون کی پابندی کریں ؟ خدا کے بندوں کے اور خود اپنے نفس کے حقوق ہم پر کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں؟ ہمارے لیے حق کیا ہےاور باطل کیا ؟ اطاعت ہمیں کس کی کرنی چاہیےاور نا فرمانی کس کی؟ تعلق کس سےرکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے ؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کیوں؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کسی چیز ہیں ؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی پچھوڑدی ہیں۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے ، گمراہ اور خود غرض لوگوں سے، اور خود اپنےنفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں اور انہی کے کہے پر چلتے ہیں۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو یہ آج ہندوستان میں بچین اور بجاوا میں ، فلسطین اور شام میں،الجزائر اور مراکش میں، ہر جگہ بری طرح مجھگت رہے ہیں۔ قرآن تو خیر کا سر چشمہ ہےجتنی اور عیسی خیر تم اس سے مانگو گےیہ تمھیں دے گا۔تم اس سےمحض جن بھوتےبھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمہ کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ذلیل وبے حقیقت چیزیں مانگتے ہو تو یہی تمھیں ملیں گی ۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو یہ تمھیں وہاں بھی پہنچا دے گا۔ یہ تمھارے اپنےظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے۔

حضرات ، جو ستم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللہ کی اس کتاب پاک کےساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکہ انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرےمعاملہ میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتےدیکھیں تو اس کی ہنسی اُڑائیں بلکہ اس کو پاگل قرار دیں۔بتائیے اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گلےمیں باندھ لے یا اسے پانی میں گھول کرپی بجائےتو اسےآپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی ؟ اور آپ اسے بیوقوف نہ سمجھیں گے ؟ مگر یہ ہےبڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بے نظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہو رہا ہےاور کسی کو اس پر سہنسی نہیں آتی۔ کوئی نہیں سونچتا کہ نسخہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے۔

فہم قرآن اور عمل با القرآن لازم ہے

بتائیے اگر کوئی شخص بیمار ہو اور علم طب کی کوئی کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ جائے اور یہ خیال کرے کہ محض اس کتاب کو پڑھ لینے سے بیماری دور ہو جائیگی تو آپ اسے کیا کہیں گے ؟ کیا آپ نہ کہیں کہ بھیجو اسے پاگل بنانے میں ، اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے؟مگر شافی مطلق نے جو کتاب آپ کے امراض کا علاج کرنے کےلیے بھیجی ہے اس کے ساتھ آپ کا یہی برتاؤ ہے۔ آپ اس کو پڑھتےہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ بس اس کے پڑھ لیتے ہی سے تمام امراض دور ہو جائیں گے،اس کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں،نہ ان چیزوں سےپرہیز کی ضرورت ہے جن کو یہ مضر بتا رہی ہے۔ پھر آپ خود اپنے اوپر بھی وہی حکم کیوں نہیں لگاتے جو اس شخص پر لگاتے ہیں جو بیماری دور کرنے کے لیے صرف علم طلب کی کتاب پڑھ لینے کو کافی سمجھتا ہے؟

آپ کے پاس اگر کوئی خط کسی ایسی زبان میں آتا ہے جیسے آپ نہ جانتے ہوں تو آپ دوڑے ہوئے جاتے ہیں کہ اس زبان کے جاننے والے سے اس کا مطلب پوچھیں ۔ جب تک آپ اس کا مطلب نہیں جان لیتے آپ کو چین نہیں آتا ۔ یہ معمولی کاروبار کے خطوط کے ساتھ آپ کا برتاؤ ہے جن میں زیادہ سےزیادہ چار پیسوں کا فائدہ ہو جاتا ہے ۔ مگر خداوند عالم کا جو خط آپ کے پاس آیا ہوا ہے اور جس میں آپ کے لیے دین و دنیا کے تمام فائدے ہیں ، اسے آپ اپنے پاس یو نہی رکھ چھوڑتے ہیں، اس کا مطلب سمجھنے کے لیے کوئی بے چینی آپ میں پیدا نہیں ہوتی۔ کیا یہ حیرت اور تعجب کا مقام نہیں ؟

اللہ کی کتاب پر ظلم کا نتیجہ

یہ باتیں میں ہنسی دل لگی کے لیے نہیں کر رہا ہوں ۔ آپ ان باتوں پر غور کریں گے تو آپ کا دل گواہی دے گا کہ دنیا میں سب سے بڑھ کر ظلم اللہ کی اس کتاب پاک کے ساتھ ہو رہا ہے، اور یہ ظلم کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پیشک وہ ایمان رکھتے ہیں اور اسے جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، مگر افسوس یہ ہےکہ وہی اس پر سب سے زیادہ ظلم کرتے ہیں۔ اور اللہ کی کتاب پر ظلم کرنےکا جو انجام ہےوہ ظاہر ہے۔خوب سمجھ لیجیے! اللہ کا کلام انسان کے پاس اس لیے نہیں آتا کہ وہ بدبختی اور نکبت و مصیبت میں مبتلا ہو : طلة مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقی_١ ہےیہ سعادت اور نیک بختی کا سرچشمہ ہے۔شقاوت اور بدبختی کا ذریعہ نہیں ہے۔یہ قطعی ناممکن ہےکہ کوئی قوم خدا کےکلام کی حامل ہو اور پھر دنیا میں ذلیل و خوار ہو،دوسروں کی محکوم ہو، پاؤں میں روندی اور جوتیوں سےٹھکرائی جائے، اس کےگلےمیں غلامی کا پھندا ہو اور غیروں کےہاتھ میں اس کی باگیں ہوں اور وہ اس کو اس طرح ہانگیں جیسے جانور ہانکے جاتے ہیں ۔ یہ انجام اس کا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ کے کلام پر ظلم کرتی ہے۔ بنی اسرائیل کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ اُن کے پاس توراۃ اور انجیل بھیجی گئی تھیں اور کہا گیا تھا :

ولو انهم أَقَامُوا التورية والاجيلَ وَمَا أُنْزِلَ الَيْهِمْ مِّن رَّبِّهِم لَا كَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِو ( المائدہ : ٦٦ )


١- طہ ۔ یہ قرآن ہم نے اس لیے تم پر نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ ( طہ : ١)

"اگر وہ توراۃ اور انجیل اور ان کتابوں کی پیروی پر قائم رہتے جو ان کےپاس بھیجی گئی تھیں تو ان پر آسمان سے رزق برسنا اور زمین سے رزق ابلتا ہے"-

مگر انھوں نے اللہ کی ان کتابوں پر ظلم کیا اور اس کا نتیجہ یہ دیکھا کہ :

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الله وَالمَسْكَنَةُ ، وبارو بِغَضَبٍ مِّنَ اللهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِايَتِ اللهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَالِكَ بِهَا عموا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ، (البقره : ٦١)

"ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ خدا کے غضب میں گھر گئے ۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے اور اس لیے کہ وہ اللہ کے نافرمان ہو گئےتھے اور حد سے گزر گئے تھے ۔"

پس جو قوم خدا کی کتاب رکھتی ہو اور پھر بھی ذلیل و خوار اور محکوم ومغلوب ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہ ضرور کتاب الہی پر ظلم کر رہی ہےاور اس پر یہ سارا وبال اسی ظلم کا ہے۔خدا کے اس غضب سے نجات پانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ اس کی کتاب کے ساتھ ظلم کرنا چھوڑ دیا جائے، اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر آپ اس گناہ عظیم سے باز نہ آئیں گےتو آپ کی حالت ہر گز نہ بدلے گی خواہ آپ گاؤں گاؤں کالج کھول دیں اور آپ کا بچہ بچہ گریجوایٹ ہو جائے اور آپ یہودیوں کی طرح سود خواری کر کے کروڑ پتی ہی کیوں نہ بن بھا گیا۔

مسلمان کسے کہتے ہیں

حضرات ہر مسلمان کو سب سے پہلے جو چیز جاننی چاہیے وہ یہ ہے کہ مسلمان کہتے کس کو ہیں اور مسلم کے معنی کیا ہیں۔ اگر انسان یہ نہ جانتا ہو کر انسانیت"کیا چیز ہے اور انسان و حیوان میں فرق کیا ہے تو وہ حیوانوں کی سی حرکات کریگا اور اپنے آدمی ہونے کی قدر نہ کر سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ نہ معلوم ہو کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور سلم اور غیر مسلم میں امتیاز کس طرح ہوتا ہے تو وہ غیر مسلموں کی سی حرکات کرے گا اور اپنے مسلمان ہونے کی قدر نہ کر سکے گا۔ لہذا مسلمان کو اور مسلمان کے ہر بچے کو اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ وہ جو اپنےآپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کے معنی کیا ہیں، مسلمان ہونے کے ساتھ ہی آدمی کی حیثیت میں کیا فرق واقع ہو جاتا ہے، اس پر کیا ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے، اور اسلام کے حدود کیا ہیں جن کے اندر رہنے سے آدمی مسلمان رہتا ہے اور جن کےباہر قدم رکھتے ہی وہ مسلمانیت سے خارج ہو جاتا ہے چاہے وہ زبان سے اپنےآپ کو مسلمان ہی کہتا جائے۔

اسلام کے معنی

"اسلام" کے معنی ہیں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کئے اپنے آپ کو بخدا کے سپرد کر دیتا اسلام ہے ۔ خدا کے مقابلہ میں اپنی آزادی و خود مختاری سےدست بردار ہو جانا " اسلام ہے۔ خدا کی بادشاہی و فرماں روائی کے آگے سرتسلیم تم کر دینا اسلام ہے۔جو شخص اپنےسارے معاملات کو خدا کے حوالہ کر دےوہ مسلمان ہے۔ اور جو اپنے معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھے یا خدا کے سوا کسی اور کے سپرد کر دے وہ مسلمان نہیں ہے۔خدا کے حوالہ کرنے یا خدا کے سپرد کرنےکا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کو قبول کیا جائے،اس میں پچون وچرانہ کی جائے۔ اور زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے اس میں صرف قرآن اور سنت رسول کی پیروی کی جائے۔ جو شخص اپنی عقل اور دنیا کے دستور اور خدا کے سوا ہر ایک کی بات کو پیچھے رکھتا ہے، اور ہر معاملہ میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول سے پوچھتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے،اور جو ہدایت وہاں سے ملے اس کو لے چون و چرا مان لیتا ہے اور اس کے خلاف ہر چیز کو رد کر دیتا ہے، وہ اور صرف وہی "مسلمان" ہے۔ اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو بالکل خدا کے سپرد کر دیا، اور اپنے کو خدا کے سپرد کرنا ہی مسلمان ہوتا ہے۔ اس کے بر خلاف جو شخص قرآن اور سنت رسول پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنے دل کا کہا کرتا ہے ، یا باپ دادا سےجو کچھ ہوتا چلا آتا ہو اس کی پیروی کرتا ہے، یا دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہو اُس کےمطابق چلتا ہے، اور اپنے معاملات میں قرآن اور سنت سے یہ دریافت کرنےکی ضرورت ہی نہیں سمجھتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے، یا اگر اسے معلوم ہو جائے کہ قرآن و سنت کی ہدایت یہ ہے اور پھر وہ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ میری عقل اسےقبول نہیں کرتی اس لیے ہیں اس بات کو نہیں مانتا، یا باپ دادا سےتو اس کے تعلاف عمل ہو رہا ہےلہذا میں اس کی پیروی نہ کروں گا،یا دنیا کا طریقہ اس کے خلاف ہے لہذا میں اُسی پرچلوں گا، تو ایسا شخص ہرگز مسلمان نہیں ہے۔ وہ سجھوٹ کہتا ہے اگر اپنے کو مسلمان کہتا ہے ۔

مسلمان کے فرائض

آپ جس وقت کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھتےہیں اور مسلمان ہونےکا اقرار کرتےہیں،اسی وقت گویا آپ اس بات کا اقرار کرتےہیں کہ آپ کےلیےقانون صرف خدا کا قانون ہے،آپ کا حاکم صرف خدا ہے،آپ کو اطاعت صرف خدا کی کرنی ہے، اور آپ کے نزدیک حق صرف وہ ہے جو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کے ذریعہ سے معلوم ہو۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ مسلمان ہوتے ہیں خدا کے حق میں اپنی آزادی سے دست بردار ہو گئے ۔ اب آپ کو یہ کہنےکا حقی ہی نہ رہا کہ میری رائے یہ ہے ، یا دنیا کا دستور یہ ہے،یا خاندان کا رواج یہ ہے، یا فلاں حضرت یا فلاں بزرگ یہ فرماتے ہیں۔خدا کے کلام اور اس کےرسول کی سنت کےمقابلہ میں اب ان میں سے کوئی بچی بھی آپ نہیں کر سکتےاب آپ کا کام یہ ہےکہ ہر چیز کو قرآن اور سنت کےسامنےپیش کریں جو کچھ اس کے مطابق ہو، قبول کریں،اور جو اس کےخلاف ہو اسےاٹھا کر پھینک دیں خواہ وہ کسی کی بات اور کسی کا طریقہ ہو۔ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہنا اورپھر قرآن و سنت کے مقابلہ میں اپنے خیال یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول یا عمل کو ترجیح دینا یہ دونوں ایک دوسرے کی مدہ ہیں۔ جس طرح کوئی اندھا اپنےآپ کو آنکھوں والا نہیں کہہ سکتا،اور کوئی نکٹا اپنےآپ کو ناک والا نہیں کہہ سکتا،اسی طرح کوئی ایسا شخص اپنےآپ کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا ہو اپنی زندگی کے سارےمعاملات کو قرآن اور سنت کا تابع بنانےسےانکار کرے ، اور خدا اور سول کےمقابلہ میں اپنی عقل یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول و عمل کو پیش کرے۔جو شخص مسلمان نہ رہنا چاہتا ہو اسے کوئی مسلمان رہنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔اسے اختیار ہے کہ جو مذہب چاہے اختیار کرے اور اپنا جو نام بچا ہے رکھ لے۔مگر جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مسلمان اُسی وقت تک رہ سکتا ہے جب تک وہ اسلام کی سرحد میں رہے۔ خدا کے کلام اور اس کے رسول کی سنت کو حق اور صداقت کا معیار تسلیم کرنا اور اس کےخلاف ہر چیز کو باطل سمجھنا اسلام کی سرحد ہے اس سرحد میں جو شخص رہے وہی مسلمان ہےاس سے باہر قدم رکھتے ہی آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اور اس کے بعد وہ اگر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اور مسلمان کہتا ہے تو خود وہ اپنے نفس کو بھی دھوکا دیتا ہے اور دنیا کو بھی ۔ وَمَن لم يَكُم بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَا واليك هم الكفرون ،( اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی کا فر ہیں ۔ المائدہ : ۴۴ -)

کلمہ طیبہ کے معنی

برادران اسلام ، آپ کو معلوم ہے کہ انسان دائرہ اسلام میں ایک کلمہ پڑھ کر داخل ہوتا ہے۔ اور وہ کلمہ بھی کچھ بہت زیادہ لمبا چوڑا نہیں ہے ، صرف چند لفظ ہیں :

لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ

"اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں ۔"

ان الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہی آدمی کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔ پہلے کافر تھا ، اب مسلمان ہو گیا ۔ پہلے ناپاک تھا ،اب پاک ہو گیا۔ پہلے خدا کے غضب کا مستحق تھا، اب اس کا پیارا ہو گیا۔ پہلے دوزخ میں جانے والا تھا، اب جنت کا دروازہ اس کےلیے کھل گیا۔ اور بات صرف اتنے ہی پر نہیں رہتی ۔ اسی کلمہ کی وجہ سے آدمی اور آدمی میں بڑا فرق ہو جاتا ہے۔ ہجو اس کلمے کے پڑھنے والےہیں وہ ایک امت ہوتے ہیں اور جو اس سے انکار کرتے ہیں وہ دوسری امت ہو جاتے ہیں۔باپ اگر کلمہ پڑھنے والا ہے اور بیٹا اس سے انکار کرتا ہے تو گویا باپ باپ نہ رہا اور بیٹا بیٹا نہ رہا۔باپ کی جائداد سےاس بیٹےکو ورثہ نہ ملےگا۔ماں اور بہنیں تک اس سےپردہ کرنےلگیں گی۔ غیر شخص اگر کلمہ پڑھنے والا ہےاور اس گھر کی بیٹی بیا بہتا ہے تو وہ اور اس کی اولاد تو اس گھر سے ورثہ پائے گی،مگر یہ اپنی صلب کا بیٹا صرف اس وجہ سے کہ کلمہ کو نہیں مانتا غیروں کا بغیر بن جائیگا۔گویا یہ کلمہ ایسی چیز ہے جو غیروں کو ایک دوسرے سےملا دیتی ہے اور اپنوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دیتی ہے۔ حتی کہ اس کلمہ کا زور اتنا ہے کہ خون اوررحم کے رشتے بھی اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں۔


١- یہ اگر چہ کوئی شرعی حکم نہیں ہے کہ کافر بیٹے سے ماں اور کافر بھائی سے بہن پردہ کرے، مگر عملا ایمانی غیرت رکھنے والی مسلمان خواتین اکثر ایسے بھائیوں اور بیٹوں کا منہ تک دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔

اتنا بڑا فرق کیوں

اب ذرا اس بات پر غور کرو کہ یہ اتنا بڑا فرق ہو آدمی اور آدمی میں ہو جاتا ہے، یہ آخر کیوں ہوتا ہے؟ کلمہ میں ہے کیا ؟ صرف پسند حرف ہی تو ہیں۔ لام،الف ، ہ ، م ، و ا س اور ایسے ہی دو چار حروف اور ۔ ان حرفوں کو ملا کر اگر منہ سے نکال دیا تو کیا کوئی جادو ہو جاتا ہے کہ آدمی کی کایا پلٹ جائے ؟ آدمی اور آدمی میں کیا بس اتنی کی بات سے زمین و آسمان کا فرق ہو سکتا ہے؟ میرےبھائیو ، تم ذرا سمجھ سے کام لوگے تو تمھاری عقل خود کہہ دے گی کہ فقط منہ کھولنےاور زبان ہلا کر چند حرف بول دینے کی اتنی بڑی تاثیر نہیں ہو سکتی۔ بت پرست مشرک تو ضرور سمجھتے ہیں کہ بس ایک منتر پڑھ دینے سے پہاڑ ہل جائے گا ، زمین شق ہو جائے گی اور شیشے اُبلنے لگیں گے ، چاہے منتر کے معنی کی کسی کو خبر نہ ہو۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ساری تاثیر بس حرفوں میں ہے۔ وہ زبان سے نکلے اور طلسمات کےدروازے کھل گئے ۔ مگر اسلام میں یہ بات نہیں ہے۔ یہاں اصل چیز معنی ہیں الفاظ کی تاثیر معنوں سےہے۔معنی اگر نہ ہوں اور وہ دل میں نہ اتریں، اور ان کے زور سے تمھارے خیالات، تمھارے اخلاق اور تمھارے اعمال نہ بدلیں، تو ترےالفاظ بول دینے سے کچھ بھی اثر نہ ہو گا۔

اس بات کو میں ایک موٹی سی مثال سے تمھیں سمجھاؤں ۔ فرض کرو تھیں سردی لگتی ہے۔ اگر تم زبان سے روٹی الحاف،روٹی لحاف پکارنا شروع کر دو، تو سردی لگنی بند نہ ہوگی،چاہے تم رات بھر میں ایک لاکھ تسبیحیں روٹی لحاف کی پڑھ ڈالو۔ہاں اگر لحاف میں روئی بھروا کر اوڑھ لو گے تو سردی لگتی بند ہو جائے گی۔ فرم کر دو کہ تمھیں پیاس لگ رہی ہے۔اگر تم صبح سےشام تک پانی پانی پکارتےرہو تو پیاس نہ بجھےگی۔ہاں پانی کا ایک گھونٹ لےکرپی لوگے تو کلیجے کی ساری آگ فورا ٹھنڈی ہو جائے گی ۔ فرض کرو کہ تم کو نزلہ بخار ہو جاتا ہے ۔ اس حال میں اگر بنفثہ گاؤ زبان ، بنفش گاؤ زبان کی تسبی میں تم پڑھنی شروع کر دو گے تو نزلے بخار میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ ان دواؤں کا جو شاندہ بنا کر پی لو گے تو نزار بخار خود بھاگ جائیگا۔بس یہی حال کلمہ طیبہ کا بھی ہے ۔ فقط چھ سات لفظ بول دینے سے اتنا بڑا فرق نہیں ہوتا کہ آدمی کا فر سے مسلمان ہو جائے، ناپاک سے پاک ہو جائے، مردود سے محبوب بن جائے، دوزخی سے جنتی بن جائے۔ یہ فرق صرف اس طرح ہو گا کہ پہلے ان الفاظ کا مطلب سمجھو اور وہ مطلب تمھارے دل میں اُتر جائے۔ پھر مطلب کو جان لو مجھ کر جب تم ان الفاظ کو زبان سےنکا لو تو تمھیں اچھی طرح یہ احساس ہو کہ تم اپنےخدا کےسامنےاور ساری دنیا کے سامنے کتنی بڑی بات کا اقرار کر رہے ہو اور اس اقرار سے تمھارے اوپر کتنی بڑی ذمہ داری آگئی ہے پھر یہ سمجھتے ہوئے جب تم نےاقرار کر لیا تو اس کےبعد تمھارےخیالات پر اور تمھاری ساری زندگی پر اس کلمہ کا قبضہ ہو جانا چاہیے۔ پھر تم کو اپنے دلو دماغ میں کسی ایسی بات کو جگہ نہ دینی چاہیے جو اس کلمہ کے خلاف ہو۔ پھر تم کو ہمیشہ کے لیے بالکل فیصلہ کر لینا چاہیے کہ جو بات اس کلمہ کے خلاف ہے وہ جھوٹی ہےاور یہ کلمہ سنتا ہے۔ پھر زندگی کےسارے معاملات میں یہ کلمہ تمھارا حاکم ہونا چاہیے۔اس کلمہ کا اقرار کرنے کے بعد تیم کافروں کے طرح آزاد نہیں رہے کہ جو بچا ہو کرو۔بلکہ اب تم اس کلمہ کے پابند ہو۔ جو وہ کہے اس کو کرنا پڑے گا اور جس سے وہ منع کرے اس کو چھوڑنا پڑے گا ۔ اس طرح کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان ہوتا ہے،اور اس طرح کلمہ پڑھنے کی وجہ سے آدمی اور آدمی میں اتنا بڑا فرق ہوتا ہے جس کا ذکر میں نے ابھی تم سے کیا۔

کلمہ کا مطلب

آؤ اب میں تمھیں بتاؤں کہ کلمہ کا مطلب کیا ہے اور اس کو پڑھ کر آدمی کسی چیز کا اقرار کرتا ہے اور اس کا اقرار کرتے ہی آدمی کس چیز کا پابند ہو جاتا ہے۔

کلمہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ کلمہ میں الہ کاجو لفظ آیا ہے اس کے معنی "خدا" کے ہیں۔ خدا اس کو کہتے ہیں جو مالک ہو، حاکم ہو، خالق ہو، پالنے اور پوسننے والا ہو، دُعاؤں کا سننے اور قبول کرنے والا ہو اور اس کا مستحق ہو کہ اس کی عبادت کی جائے ۔ اب جو تم نے لا الہ الا اللہ کہا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اقول تو تم نے یہ اقرار کیا کہ یہ دنیا نہ تو بے خدا کے بنی ہے، اور نہ ایسا ہی ہے کہ اس کے بہت سے خدا ہوں ۔ بلکہ دراصل اس کا خدا ہے، اور وہ خدا ایک ہی ہے، اور اس ایک ذات کے سوا خدائی کسی کی نہیں ہے ۔ دوسری بات جس کا تم نے کلمہ پڑھتےہی اقرار کیا وہ یہ ہے کہ وہی ایک خدا تمھارا اور سارے جہان کا مالک ہے۔ تم اور تمھاری ہر چیز اور دنیا کی ہر شے اس کی ہے ۔ خالق وہ ہے ، رازق وہ ہے،موت اور زندگی اس کی طرف سے ہے۔ مصیبت اور راحت بھی اسی کی طرف سے ہے،جو کچھ کسی کو ملتا ہےاس کو دینےوالا حقیقت میں وہ ہےاور جو کچھ کسی سےچھینا جاتا ہےاس کا چھیننے والا بھی حقیقت میں وہی ہے۔ڈرنا چاہیے تو اس سے مانگنا چاہیے تو اس سے سر جھکانا چاہیے تو اس کے سامنے، عبادت اور بندگی کی جائے تو اس کی۔ اس کے سوا ہم کسی کے بندے اور غلام نہیں اور اس کےسوا کوئی ہمارا آقا اور حاکم نہیں۔ ہمارا اصلی فرض یہ ہے کہ اسی کا حکم مانیں اور اسی کےقانون کی پیروی کریں ۔

اللہ سے عہد و پیمان

یہ عہد و پیمان ہے جو لا الہ الا اللہ بڑھتے ہی تم اپنے خدا سے کرتے ہو اور ساری دنیا کو گواہ بنا کر کرتے ہو۔ اس کی خلاف ورزی کرو گے تو تمھاری زبان تمھارے ہاتھ پاؤں ، تمھارا رونگٹا رونگٹا، اور زمین اور آسمان کا ایک ایک ذرہ نہیں کے سامنے تم نے جھوٹا اقرار کیا ، تمھارے خلاف خدا کی عدالت میں گواہی دیگا،اور تم ایسی لیے نبی کے عالم میں وہاں کھڑے ہو گے کہ ایک بھی گواہ تم کوصفائی نہیں کرنے کے لیے نہ ملے گا۔ کوئی وکیل یا بیرسٹر وہاں تمھاری طرف سے پیروی کرنےوالا نہ ہو گا، بلکہ خود وکیل صاحب اور بیرسٹر صاحب، جو دنیا کی عدالتوں میں قانون کی الٹ پھیر کرتے پھرتے ہیں ، یہ بھی وہاں تمھاری ہی طرح بے بسی کے عالم میں کھڑ کےہوں گے ۔ وہ عدالت ایسی نہیں ہے جہاں تم جھوٹی گواہیاں اور جعلی دستاویزیں پیش کر کے اور غلط پیروی کر کے بیچ جاؤ گے ۔ دنیا کی پولیس سےتم اپنا جرم چھپا سکتےہو، خدا کی پولیس سے نہیں چھپا سکتے ۔ دنیا کی پولیس رشوت کھا سکتی ہے،خدا کی پولیس رشوت کھانے والی نہیں ۔ دنیا کے گواہ جھوٹ بول سکتے ہیں ، خدا کے گواہ بالکل بیچتے ہیں۔دنیا کےحاکم بےانصافی کر سکتےہیں،خدا ایسا حاکم نہیں جو بےانصافی کرے۔ پھر خدا جس جیل میں ڈالےگا اس سے بیچ کر بھاگنےکی بھی کوئی صورت نہیں ہے۔خدا کےساتھ جھوٹا اقرار نامہ کرنا بہت بڑی بیوقوفی، سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ جب اقرار کرتے ہو تو خوب سونچ سمجھ کر کرو اور اس کو پورا کرو۔ ورنہ تم پر کوئی زبر دستی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ نہ بانی ہی اقرار کر لو ۔ کیونکہ خالی خولی زبانی اقرار محض بیکار ہے۔

رسول کی رہنمائی کا اقرار

لا الہ الا اللہ کہنےکےبعد تم محمد رسول اللہ کہتےہو۔ اس کےمعنی یہ ہیں کہ تم نے یہ تسلیم کرلیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ پیغمبر ہیں جن کے ذریعہ سے خدا نےاپنا قانون تمھارے پاس بھیجا ہے۔ خدا کو اپنا آقا اور شہنشاہ مان لینے کے بعد یہ معلوم ہونا ضروری تھا کہ اس شہنشاہ کے احکام کیا ہیں۔ ہم کون سے کام کریں جن سے وہ خوش ہوتا ہے اور کون سے کام نہ کریں جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔کس قانون پر چلنےسےوہ ہم کو بخشے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنےپر وہ ہم کو سزا دےگا۔یہ سب باتیں بنانے کےلیےخدا نےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پیغامبر مقرر کیا،آپؐ کےذریعہ سےاپنی کتاب ہمارے پاس بھیجی، اور آپ نے خدا کےحکم کے مطابق زندگی بسر کر کے ہم کو بتادیا کہ مسلمانوں کو اس طرح زندگی بسر کر نی چا ہے۔پس جب تم نے "محمد رسول اللہ کہا توگو یا اقرار کر لیا کہ جو قانون اور جو طریقہ حضور نے بتایا ہے تم اسی کی پیروی کرو گے، اور جو قانون اس کے خلاف ہےاس پر لعنت بھیجو گے۔ یہ اقرار کرنے کے بعد اگر تم نے حضور کے لائے ہوئے قانون کو چھوڑ دیا اور دنیا کے قانون کو مانتے رہے تو تم سے بڑھ کر جھوٹا اور بے ایمان کوئی نہ ہوگا، کیوں کہ تم یہی اقرار کر کے تو اسلام میں داخل ہوئے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ سلم ہی کا لایا ہوا قانون حق ہے اور اسی کی تم پیروی کرو گے۔ اسی اقرار کی بدولت تو تم مسلمانوں کے بھائی بنے ، اسی کی بدولت تم نے باپ سے ورنہ پایا، اسی کی بدت ایک مسلمان عورت سے تمھارا نکاح ہوا، اسی کی بدولت تمھاری اولاد تمھاری مائی اولادینی ، اسی کی بدولت تمھیں یہ حق ملا کہ تمام مسلمان تمھارےمددگار بنیں تمھیں زکوۃ دیں،تمھاری جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا ذمہ لیں، اور ان سب کے باوجود تم نے اپنا اقرار توڑ دیا۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں کون سی بے ایمانی ہو سکتی ہے؟ اگر تم لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحمد رسُولُ اللہ کے معنی جانتے ہو اور جان بوجھ کر اس کا اقرار کرتے ہو تو تم کو ہر حال میں خدا کےقانون کی پیروی کرنی چاہیےخواہ اس کی پیروی پر مجبور کرنےوالی کوئی پولیس اور عدالت اس دنیا میں نظر نہ آتی ہو ۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پولیس اور فوج اور عدالت اور جیل کہیں موجود نہیں ہے اس لیےاس کے قانون کو توڑنا آسان ہے، اور گورنمنٹ کی پولیس، فوج،عدالت اور جیل موجود ہےاس لیے اس کے قانون کو توڑنا مشکل ہے،ایسے شخص کے متعلق میں صاف کہتا ہوں کہ وہ لا إله إلا الله محمد رسول اللہ کا جھوٹا اقرار کرتا ہے ۔ اپنے خدا کو ، ساری دنیا کو ، تمام مسلمانوں کو اور خود اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے ۔

اقرار کی ذمہ داریاں

بھائیو اور دوستوں ابھی میں نے تمھارے سامنے کلمہ طیبہ کے معنی بیان کیسے ہیں۔ اب اسی سلسلہ میں ایک اور پہلو کی طرف تم کو توجہ دلاتا ہوں

تم اقرار کرتے ہو کہ اللہ تمھارا اور ہر چیز کا مالک ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں، اس کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری جان تمھاری اپنی نہیں، خدا کی ملک ہے۔ تمھارےہاتھ اپنے نہیں۔ تمھاری آنکھیں اور تمھارے کان اور تمھارے جسم کا کوئی عضو تمھارا اپنا نہیں ۔ یہ زمینیں جن کو تم جو تتےہو، یہ جانور بہن سے تم خدمت لیتے ہو، یہ مال اسباب جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو،ان میں سےبھی کوئی چیز تمھاری نہیں۔ ہر چیز خدا کی ملک ہے اور خدا کی طرف سے عطیہ کےطور پر تمھیں ملی ہے۔اس بات کا اقرار کرنے کے بعد تمھیں یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ بجان میری ہےجسم میرا ہے،مال میرا ہے ، اور فلاں چیز میری ہے اور فلاں چیز میری ہے۔ دوسرے کو مالک کہنا اور پھر اس کی چیز کو اپنی قرار دینا ، بالکل ایک لغو بات ہے۔ اگر در حقیقت یہ بات سچے دل سے مانتے ہو کہ ان سب چیزوں کا مالک خدا ہی ہےتو اس سےدو باتیں خود بخود تم پر لازم ہو جاتی ہیں۔ایک یہ کہ جب مالک خدا ہےاور اس نےاپنی ملکیت امانت کےطور پر تمھارےحوالہ کی ہے تو جس طرح مالک کہتا ہےکسی طرح تمھیں ان چیزوں سےکام لینا چاہیے۔اس کی مرضی کے خلاف ان سے کام لیتے ہو تو دھوکا بازی کرتے ہو۔ تم اپنے ان ہاتھوں اور پاؤں کو بھی اس کی پسند کےخلاف ہلانے کا حق نہیں رکھتے۔ تم ان آنکھوں سے بھی اس کی مرضی کے خلاف دیکھنے کا کام نہیں لےسکتے۔ تم کو اس پیٹ میں بھی کوئی ایسی چیز ڈالنے کا حق نہیں ہے جو اس کی مرضی کے خلاف ہو۔ تمھیں ان زمینوں اور ان جائدادوں پر بھی بالک کے نشا کے خلاف کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ تمھاری بیویاں جن کو تم اپنی کہتےہو، اور تمھاری اولاد جن کو تم اپنی کہتےہو،یہ بھی صرف اس لیے تمھاری ہیں کہ تمھارےمالک کی دی ہوئی ہیں، لہذا تم کو ان سےبھی اپنی خواہش کےمطابق نہیں بلکہ مالک کےحکم کےمطابق ہی برتاؤ کرنا چاہیے اگر اس کے خلاف کرو گے تو تمھاری حیثیت فاصب کی ہوگی۔ جس طرح دوسرے کی زمین پر قبضہ کرنے والے کو تم کہتے ہو کہ وہ بے ایمان ہے ، اسی طرح اگر بخدا کی دی ہوئی چیزوں کو تم اپنا سمجھ کہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرو گے ، یا خدا کے سوا کسی اور کی مرضی کے مطابق ان سے کام لو گے تو وہی بے ایمانی کا الزام تم پر بھی آئے گا۔اگر مالک کی مرضی کے مطابق کام کرنے میں کوئی نقصان ہوتا ہے تو ہوا کرے ۔ جان جاتی ہے تو جائے۔ ہاتھ پاؤں ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹیں۔ اولاد کا نقصان ہوتا ہے تو ہو ۔ مال و جائداد برباد ہو تو ہوا کرے، ہتھیں کیوں غم ہو ؟ جس کی چیز ہے وہی اگر نقصان پسند کرتا ہو تو اس کو حق ہے ۔ ہاں اگر مالک کی مرضی کے خلاف تم کام کرو اور اس میں کسی چیز کا نقصان ہو تو بلاشبہ تم مجرم ہو گے ، کیوں کہ دوسرے کے مال کو تم نے شراب کیا۔ تم خود اپنی جان کے مختار نہیں ہو۔ مالک کی مرضی کے مطابق جان دوگے تو مالک کا حق ادا کر دو گے ۔ اس کے خلاف کام کرنے میں جان دو گے تو یہ بے ایمانی ہوگی۔

اسلام لانا خدا پر احسان نہیں

دوسری بات یہ ہے کہ مالک نے جو چیز تمھیں دی ہے اس کو اگر تم مالک ہی کے کام میں صرف کرتے ہو تو کسی پر احسان نہیں کرتے ۔ نہ مالک پر احسان ہےنہ کسی اور پر ۔ تم نے اگر اس کی راہ میں کچھ دیا یاکچھ عورت کی، یا جان دے دی بجو تمھارے نزدیک بہت بڑی چیز ہے ، تب بھی کوئی احسان کسی پر نہیں کیا۔ زیادہ سے زیادہ جو کام تم نے کیا وہ بس اتنا ہی تو ہے کہ مالک کا حق ہو تم پر تھا وہ تم نےادا کر دیا ۔ یہ کون سی ایسی بات ہے جس پر کوئی پھولے اور فخر کرے اور یہ چاہےکہ اس کی تعریفیں کی جائیں اور یہ سمجھے کہ اس نے کوئی بہت بڑا کام کیا ہےجس پر اس کی بڑائی تسلیم کی جائے؟ یاد رکھو کہ سچا مسلمان مالک کی راہ میں کچھ صرف کرنے یا کچھ خدمت کرنے کے بعد پھولتا نہیں ہے، بلکہ خاکساری اختیار کرتا ہے۔فخر کرنا کار غیر کو برباد کر دیتا ہے۔ تعریف کی خواہش جس نے کی اور اس کی خاطرکوئی کار خیر کیا، وہ خدا کے ہاں کسی اج کا متفق نہ رہا، کیوں کہ اس نے تو اپنے کام کا معاوضہ دنیا ہی میں مانگا اور یہیں اس کو مل بھی گیا۔

اللہ کا احسان اور ہمارا رویہ

بھائیو، اپنے مالک کا احسان دیکھو کہ اپنی چیز تم سے لیتا ہے، اور پھر کہتا ہے کہ یہ چیز میں نے تم سے خریدی ہے اور اس کا معاوضہ میں تمھیں دوں گا، اللہ اکبر! اس شان جود و کرم کا بھی کوئی ٹھکانا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ :

إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُهُم وَ امو الهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ، (تو به : ١١١)

"اللہ نے ایمان داروں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اس معاوضہ میں کہ ان کے لیے جنت ہے"۔

یہ تو مالک کا برتاؤ تمھارے ساتھ ہے۔ اب ذرا اپنا برتاؤ بھی دیکھو ۔ جو چیز مالک نے تم کو دی تھی اور جس کو مالک نے پھر تم سے معاوضہ دے کر خرید بھی لیا،اس کو غیروں کے ہاتھ بیچتے ہو۔ نہایت ذلیل معاوضے لے لے کر بیچتے ہو۔ وہ مالک کی مرضی کے خلاف تم سے کام لیتے ہیںاورتم یہ مجھ کر ان کی خدمت کرتے ہو کہ گویا رازق وہ ہیں ۔ تم اپنے دماغ بیچتے ہو، اپنے ہاتھ پاؤں بیچتے ہو، اپنے جسم کی طاقتیں بیچتےہو، اور وہ سب کچھ بیچتے ہو جس کو خدا کے بانی خریدنا چاہتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر بداخلاقی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ بیچی ہوئی چیز کو بیچنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔ دنیا میں اس پر دفا بازی اور فریب دہی کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا کی عدالت میں اس پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا ؟

کلمہ طيبه اور کلمہ خبیثہ

برادران اسلام، پچھلے خطبے میں کلمہ طیبہ کے متعلق میں نے آپ سے کچھ کہا۔تھا۔ آج پھر اسی کلمہ کی کچھ اور تشریح میں آپ کے سامنے بیان کروں گا۔ اس لیے کہ یہ کلمہ ہی اسلام کی بنیاد ہے، اسی کے ذریعہ سے آدمی اسلام میں داخل ہوتا ہے،اور کوئی شخص حقیقت میں مسلمان بن نہیں سکتا جب تک کہ وہ اس کلمہ کو پوری طرح سمجھ نہ لے، اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق نہ بنا لے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مجید میں اس کلمہ کی تعریف اس طرح فرمائی ہے :

الم ترَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَارِه تُؤْتِي أَكلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا، وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَرُونَ ، وَمَثَلُ كَلِمَةٍ عبِيئَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيئَةِ اجْتُنَّتُ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارِه يُثْبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ امَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ من وَيَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءه ( ابراهیم : ٢٤ تا ۲۷)

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ، ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے ۔ یہ مثالیں اللہ اس لیےدیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق ہیں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درست کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔ ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے، جو چاہے کرے۔"

یعنی کلمہ طیبہ کی مثال ایسی ہے جیسےکوئی اچھی ذات کا درخت ہو جس کی جڑیں زمین میں خوب بھی ہوئی اور جس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہوں اور جو ہر وقت اپنے پروردگار کے حکم سے پھل پر پھل لائے پھیلا جاتا ہو۔ اس کےبرعکس کلمہ خبیثہ یعنی بڑا اعتقاد اور جھوٹا قول ایسا ہے جیسے ایک بد ذات خودرد پودا کہ وہ بس زمین کے اوپر ہی اُوپر ہوتا ہے، اور ایک اشارہ میں جوڑ پھوڑ دیتا ہے، کیوں کہ اس کی بجھ گہری جھی ہوئی نہیں ہوتی ۔

یہ ایسی بےنظیر مثال ہےکہ اگر تم اس پر غور کرو تو تمھیں اس سےبڑا سبق ملیگا۔دیکھو، تمھارے سامنے دونوں قسم کے درختوں کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک تو یہ آم کا در تخت ہے۔ کتنا گہرا جما ہوا ہے ۔ کتنی بلندی تک اٹھا ہوا ہے۔کتنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔کتنےاچھےپھل اس میں لگتےہیں۔ یہ بات اسےکیوں حاصل ہوئی ؟ اس لیے کہ اس کی گٹھلی زور دار تھی، اس کو درخت بننے کا حق حاصل تھا ، اور وہ حق اتنا سچا تھا کہ جب اس نے اپنےحق کا دعوی کیا تو زمین نے، پانی نے، ہوا نے ، دن کی گرمی اور رات کی ٹھنڈک نے ، غرض ہر چیز نے اس کے بھی کو تسلیم کیا۔اور اس نے جس سے جو کچھ مانگا ہر ایک نے اس کو دیا۔ اس طرح وہ اپنے حق کےزور سے اتنا بڑا درخت بن گیا اور اپنے میٹھے پھل دے کہ اس نے ثابت بھی کر دیا کہ حقیقت ہیں وہ اسی قابل تھا کہ ایسا درخت بنے ۔ اور زمین و آسمان کی ساری قوتوں نے مل کر اگر اس کا ساتھ دیا تو کچھ بے جا نہیں کیا ۔ بلکہ ان کو ایسا کرنا ہی چاہیے تھا، اس لیے کہ درختوں کو غذا دینے اور بڑھانے اور پکانے کی جو طاقت زمین اور پانی اور ہوا اور دوسری چیزوں کے پاس ہے وہ اسی کام کے لیے تو ہےکہ اچھی ذات والے درختوں کے کام آئے ۔

اس کے مقابلہ میں یہ جھاڑ جھنکار اور خود رو پودے ہیں۔ ان کی بساط ہی کیا ہے ؟ ذراسی بوڑ، کہ ایک بچہ اکھاڑے - نرم اور بودے اتنے کہ ہوا کے ایک جھونکے سے مرجھا جائیں۔ ہاتھ لگاؤ تو کانٹے سے تمھاری خبر لیں۔ سیکھو تو منہ کا مزہ خراب کر دیں۔ روز خدا جانے کتنے پیدا ہوتے ہیں اور کتنے اکھاڑے جاتے ہیں۔ان کا یہ حال کیوں ہے ؟ اس لیے کہ ان کے پاس حق کا وہ زور نہیں جو آم کے پاس ہے۔ جب اعلیٰ ذات کے درخت نہیں ہوتے تو زمین بیکار پڑے پڑے اُگتا جاتی ہے اور ان پودوں کو اپنے اندر جگہ دے دیتی ہے ۔ کچھ مدد پانی کر دیتا ہے۔ کچھ ہوا اپنے پاس سے سامان دے دیتی ہے۔ مگر زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی ایسے پودوں کا حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے نہ زمین اپنےاندر ان کی جڑیں پھیلنے دیتی ہے نہ پانی ان کو دل کھول کر غذا دیتا ہے اور نہ ہوا کھلےدل سے ان کو پروان چڑھاتی ہے۔ پھر جب اتنی سی بساط پر یہ خبیث پودے باز خار دار اور زہریلے بن کر اٹھتے ہیں تو واقع میں ثابت ہو جاتا ہے کہ زمین و آسمان کی طاقتیں ایسے پودے اُگانے کے لیے نہیں تھیں ۔ ان کو اتنی زندگی بھی ملی تو بہت ملی-

کلمہ طیب کیا ہے؟

کلمہ طیب کیا ہے،ایک سچی بات ہے۔ایسی سچی بات کہ دنیا میں اس سےزیادہ سچی بات کوئی ہو نہیں سکتی۔ سارے جہان کا خدا ایک اللہ ہے۔ اس چیز پر زمین اور آسمان کی ہر چیز گواہی دے رہی ہے۔ یہ انسان ، یہ جانور، یہ درخت،یہ پتھر، یہ ریت کے ذرے ، یہ بہتی ہوئی نہر، یہ چمکتا ہوا سورج ، یہ ساری چیزیں جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، ان میں سے کون سی چیز ہےجس کو اللہ کے سوا کسی اور نےپیدا کیا ہو ؟ جو اللہ کے سوا کسی اور کی مہربانی سے زندہ اور قائم رہ سکے آئیں کو اللہ کے سوا کوئی اور فنا کر سکتا ہو ؟ پس جب یہ سارا جہان اللہ کا پیدا کیا ہوا ہےاور اللہ ہی کی عنایت سے قائم ہے اور اللہ ہی اس کا مالک اور حاکم ہے،تو جس وقت تم کہو گےکہ اس جہان میں اس ایک اللہ کےسوا کسی اور کی خدائی نہیں ہےتو زمین و آسمان کی ایک ایک چیز پکارے گی کہ تو نےبالکل سچی بات کہی۔ہم سب تیرےاس قول کی صداقت پر گواہ ہیں۔جب تم اس کے آگے سر جھکاؤ گےتو کائنات کی ہر چیز تمھارےساتھ ٹھک جائےگی، کیوں کہ یہ ساری چیزیں بھی اسی کی عبادت گزار ہیں جب تم اس کے فرمان کی پیروی کرو گے تو زمین و آسمان کی ہر چیز تمھارا ساتھ دے گی، کیوں کہ یہ سب بھی تو اسی خدا کے فرماں بردار ہیں۔ جب تم اس کی راہ میں چلو گے تو تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ کائنات کا بے شمار لشکر تمھارےساتھ ملےگا کیوں کہ آسمان کے سورج سےلےکر زمین کےایک حقیر ذرے تک ہر چیز سر آن اسی کی راہ میں تو چل رہی ہےجب تم اس پر بھروسہ کرو گےتو کسی چھوٹی طاقت پر بھروسانہ کرو گےبلکہ اس عظیم الشان طاقت پر بھروسا کرو گے جو زمین اور آسمان کے سارے خزانوں کی مالک ہے۔ غرض اس حقیقت پر جب تم نظر رکھو گےتو تم کو معلوم ہو گا کہ کلمہ طیبہ پر ایمان لاکر جو انسان اپنی زندگی کو اسی کےمطابق بنائے گا زمین اور آسمان کی ساری طاقتیں اس کا ساتھ دیں گی۔دنیا سےلے کر آخرت تک وہ پھلتا اور پھولتا ہی چلا جائے گا۔ اور کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی ناکامی و نامرادی اس کے پاس نہ آئے گی۔ یہی چیز اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ یہ کلمہ ایسا درخت ہےجس کی جڑیں زمین میں جمی ہوئی ہیں اور شاخیں آسمان پر پھیلی ہوئی ہیں، اور ہر وقت یہ خدا کے حکم سے پھل لاتا رہتا ہے۔

کلامی خبیث کیا ہے؟

اس کے مقابلہ میں کلمہ نبیت کو دیکھو۔ کلمہ خبیث کیا چیز ہے؟ یہ کہ اس جہان کا کوئی خدا نہیں ۔ یا یہ کہ ایک اللہ کے سوا کسی اور کی خدائی بھی ہے۔ غور کرو اس سے بڑھ کر جھوٹی اور بے اصل بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ زمین اور آسمان کی کون سی چیز اس پر گواہی دیتی ہے ؟ وہر یہ کہتا ہے کہ خدا نہیں ہے۔ زمین اور آسمان کی ہر چیز کہتی ہے کہ تو جھوٹا ہے ۔ ہم کو اور تجھ کو خدا ہی نے پیدا کیا ہےاور اسی خدا نےتجھ کو وہ زبان دی ہے جس سے تو یہ جھوٹ بک رہا ہےمشرک کہتا ہےکہ خدائی میں دوسرےبھی اللہ کےشریک ہیں، دوسرےبھی رازق ہیں،دوسرےبھی مالک ہیں،دوسرےبھی قسمتیں بناتےاور بگاڑتےہیں،دوسرے بھی۔فائدہ اور نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں، دوسرے بھی دعائیں سننے والےہیں، دوسرے بھی مرادیں پوری کرنے والے ہیں، دوسرے بھی ڈرنے کےلائق ہیں، دوسرے بھی بھروسا کرنے کے قابل ہیں، اس خدائی میں دوسروں کا حکم بھی چلتا ہے، اور خدا کےسوا دوسروں کا فرمان اور قانون بھی پیروی کے لائق ہے۔ اس کےجواب میں زمین و آسمان کی ہر چیز کہتی ہے کہ تو بالکل جھوٹا ہے۔ہر ہر بات ہو تو کہہ رہا ہےیہ حقیقت کے خلاف ہے۔ اب غور کرو کہ یہ کلمہ جو شخص اختیار کرےگا اور اس کےمطابق جو شخص زندگی بسر کرےگا،دنیا اور آخرت میں وہ کیوں کر پھل پھول سکتا ہے ؟ اللہ نے اپنی مہربانی سے ایسے لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے اور رزق کا وعدہ ان سے کیا ہے، اس لیے زمین اور آسمان کی طاقتیں کسی نہ کسی طرح اس کو بھی پرورش کریں گی جس طرح وہ جھاڑ جھنکار اور خود رو پودوں کو بھی آخر پرورش کرتی ہی ہیں۔ لیکن کائنات کی کوئی چیز بھی اس کا حق سمجھ کر اس کا ساتھ نہ دے گی اور نہ پوری طاقت کے ساتھ اس کی مدد ہی کرے گی ۔ وہ انہی خودرو درختوں کی طرح ہو گا جن کی مثال ابھی آپ کے سامنے بیان ہوئی ہے۔

نتائج کا فرق

نتائج کا فرق

یہی فرق دونوں کے پھلوں میں ہے ۔ کلمہ طیب جب کبھی پھلے گا اس سےبیٹھے اور مفید پھل ہی پیدا ہوں گے ۔ دنیا میں اس سےامن قائم ہوگا۔ نیکی اور سچائی اور انصاف کا بول بالا ہو گا اور خلق خدا اس سےفائدہ ہی اٹھائے گی۔مگر کلمہ خبیث کی جتنی پرورش ہوگی اس سے خار دار شاخیں ہی نکلیں گی۔ اس میں کڑوے کسیلے ہی پھل آئیں گے۔اس کی رگ رگ میں زہر ہی بھرا ہوگا۔ دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔جہاں کفر اور شرک اور دہریت کا زور ہے وہاں کیا ہو رہا ہے ؟ آدمی کو آدمی پھاڑ کھانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ آبادیاں کی آبادیاں تباہ کرنے کے سامان ہو رہےہیں۔زہریلی گیسیں بن رہی ہیں۔ایک قوم دوسری قوم کو برباد کر دینے پر تلی ہوئی ہے۔جو طاقت ور ہےوہ کمزوروں کو غلام بناتا ہے،صرف اس لیے کہ اس کے حصے کی روٹی خود چھین کر کھا جائے۔ اور جو کمزور ہے وہ فوج اور پولیس اور جیل اور پھانسی کے زور سے دب کر رہنے اور طاقت ور کا ظلم سہنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ پھر ان قوموں کی اندرونی حالت کیا ہے ؟ اخلاق بد سے بدتر ہیں جن پر شیطان بھی شرمائے اذان وہ کام کر رہا ہے جو جانور بھی نہیں کرتے ۔ مائیں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے ہلاک کرتی ہیں کہ کہیں یہ بچے ان کے عیش میں خلل نہ ڈال دیں ۔ شوہر اپنی بیویوں کو خود غیروں کی بغل میں دیتے ہیں تاکہ اُن کی بیویاں ان کی بغل میں آئیں ۔ ننگوں کے کلب بنائے جاتے ہیں جن میں مرد اور عورت بجانوروں کی طرح بر سینہ ایک دوسرے کے سامنے پھرتے ہیں۔ امیر سود کے ذریعہ سے غریبوں کا خون چوسے لیتے ہیں، اور مال دار ناداروں سے اس طرح خدمت لیتے ہیں کہ گویا وہ ان کے غلام ہیں اور صرف ان کی خدمت ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ فرض اس کلمہ خبیث سے جو پورا بھی جہاں پیدا ہوا ہے کانٹوں سے بھرا ہوا ہے اور جو پھل بھی اس میں لگتا ہے کڑوا اور زہریلا ہی ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان دونوں شاموں کو بیان فرمانے کے بعد آخر میں فرماتا ہے کہ :

يثبت الله الذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْعَبُوةِ الدُّنْيَا وفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ (ابراہیم : ٢٧)

یعنی کلمہ طیب پر جو لوگ ایمان لائیں گے اللہ ان کو ایک مضبوط قول کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں ثبات اور جماؤ بخشے گا ۔ اور ان کے مقابلہ میں وہ ظالم لوگ جو کلمہ خبیث کو مانیں گے اللہ ان کی ساری کوششوں کو بھٹکا دے گا ، وہ کبھی کوئی سیدھا کام نہ کریں گے جس سے دنیا یا آخرت میں کوئی اچھا پھل پیدا ہو۔

کلمہ گو خوار کیوں؟

بھانیو، کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیث کا فرق اور دونوں کے نتیجے تم نے سن لیے، اب تم یہ سوال ضرور کرو گے کہ ہم تو کلمہ طیبہ کے ماننے والے ہیں ، پھر کیا بات ہےکہ ہم نہ پھلتے ہیں نہ پھولتے ہیں، اور کفار جو کلمہ شبینہ کے ماننے والے ہیں یہ کیوں پھل پھول رہے ہیں ۔

اس کا جواب میرے ذمہ ہے اور میں جواب دوں گا بشرطیکہ آپ میں سے کوئی میرے جواب پر بڑا نہ مانے بلکہ اپنے دل سے پوچھے کہ میرا جواب واقعی صحیح ہے یا نہیں۔

اول تو آپ کا یہی کہنا غلط ہےکہ آپ کلمہ طیبہ کو مانتےہیں اور پھر بھی نہ پھلتےہیں نہ پھولتے ہیں ۔ کلمہ طیبہ کو ماننےکےمعنی زبان سےکلمہ پڑھنے کے نہیں ہیں اس کے معنی دل سےماننے کے ہیں اور اس طرح ماننے کے ہیں کہ اس کےخلاف کوئی عقیدہ آپ کے دل میں نہ رہے اور اس کے خلاف کوئی کام آپ سے ہو نہ سکے۔میرے بھائیو، خدارا مجھےبتاؤ کیا تمھارا حقیقت میں یہی حال ہے؟ کیا سینکڑوں ایسےمشرکانہ اور کافرانہ خیالات تم میں نہیں پھیلے ہوئے ہیں جو کلمہ طیبہ کے بالکل خلافت ہیں؟ کیا مسلمان کا سر خدا کے سوا دوسروں کے آگے نہیں ٹھیک رہا ہے؟کیا مسلمان دوسروں سے خوف نہیں کرتا ؟ کیا وہ دوسروں کی مدد پر بھروسہ نہیں کرتا ؟ کیا وہ دوسروں کو رازق نہیں سمجھتا ؟ کیا وہ خدا کے قانون کو چھوڑ کر دوسری کے قانون کی خوشی خوشی پیروی نہیں کرتا ؟ کیا اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والےعدالتوں میں جا کہ یہ صاف نہیں کہتےکہ ہم شرع کو نہیں مانتے بلکہ رسم و رواج کو مانتےہیں؟ کیا تم میں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جن کو دنیوی فائدوں کےلیےخدا کے قانون کی کسی دفعہ کو توڑنے میں ذرا تامل نہیں ہوتا ؟ کیا تم میں وہ لوگ موجود نہیں ہیں جن کو کفار کے غضب کا ڈر ہے مگر خدا کے غضب کا ڈر نہیں ؟ جو کفار کی نظر عنایت حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں مگر خدا کی نظر عنایت حاصل کرنےکے لیے کچھ نہیں کر سکتے ؟ جو کفار کی حکومت کو حکومت سمجھتے ہیں اور خدا کی حکومت کے متعلق انھیں کبھی یاد بھی نہیں آتا کہ وہ بھی کہیں موجود ہے ؟ خدا را سچ بتاؤ کیا یہ واقعہ نہیں ہے ؟ اگر یہ واقعہ ہے تو پھر کس منہ سے تم کہتے ہو کہ ہم کلمہ طیبہ کو مانےوالے ہیں اور اس کے باوجود ہم نہ پھولتے پھلتے ہیں۔ پہلے سچے دل سے ایمان تو لاؤ اور کلمہ طیبہ کے مطابق زندگی اختیار تو کرو۔ پھر اگر وہ درخت نہ پیدا ہو جو زمین میں گہری جڑوں کےساتھ جمنےوالا اور آسمان تک چھا جانے والا ہے تو معاذ اللہ،معاذ اللہ، اپنے خدا کو جھوٹا سمجھ لینا کہ اس نے تمھیں غلط بات کا اطمینان دلایا۔

کیا کلمہ خبیث کو ماننے والے پھل پھول رہے ہیں ؟

پھر آپ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ جو کلمہ خبیثہ کو مانتے ہیں وہ واقعی دنیا میں پھل پھول رہے ہیں۔ کلمہ خبیثہ کو ماننے والے نہ کبھی پھولے پھلے ہیں نہ آج بھول.پھل رہے ہیں۔ تم دولت کی کثرت ، عیش و عشرت کے اسباب اور ظاہری شان شوکت کو دیکھ کر سمجھتے ہو کہ وہ پھل پھول رہے ہیں۔ مگر ان کے دلوں سے پوچھو کہ کتنے ہیں جن کو اطمینانِ قلب میتر ہے ؟ ان کے اوپر عیش کے سامان لدے ہوئےہیں مگر ان کے دلوں میں آگ کی بھٹیاں سُلگ رہی ہیں جو ان کو کسی وقت چین نہیں لینےدیتیں۔ خدا کے قانون کی خلاف ورزی نے ان کے گھروں کو دوزخ بنا رکھا ہے۔اخباروں میں دیکھو کہ یورپ اور امریکہ میں خود کشی کا کتنا زور ہےطلاق کی کیسی کثرت ہے۔نسلیں کسی طرح گھٹ رہی ہیں اور گھٹائی جا رہی ہیں۔امراض خبیثہ نےکسی طرح لاکھوں انسانوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔ مختلف طبقوں کے درمیان روٹی کے لیے کیسی سخت کش مکش برپا ہے۔ حسد اور بغض اور دشمنی نےکس طرح ایک ہی جنس کے آدمیوں کو آپس میں لڑا رکھا ہے۔ عیش پسندی نےلوگوں کے لیے زندگی کو کس قدر تلخ بنا دیا ہے ۔ اور یہ بڑے بڑے عظیم الشان شہر جن کو دور سے دیکھ کر آدمی رشک جنت سمجھتا ہے، ان کے اندر لاکھوں انسان کس مصیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیا اسی کو پھلنا اور پھولنا کہتے ہیں؟ کیا یہی وہ جنت ہے جس پر تم رشک کی نگاہیں ڈالتے ہو ؟

میرے بھائیو ، یاد رکھو کہ خدا کا قول کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا حقیقت میں کلمہ طیبہ کے سوا اور کوئی کلمه نہیں جس کی پیروی کر کےانسان کو دنیا میں راحت اور آخرت میں سرخروئی حاصل ہو سکےتم جس طرف چاہو نظر دوڑا کر دیکھ لو، اس کےخلاف تم کو کہیں کوئی چیز نہ مل سکے گی ۔

کلمہ طيبه پر ایمان لانے کا مقصد

برادران اسلام، اس سے پہلے دو خطبوں میں آپ کے سامنے کلمہ طیبہ کا مطلب بیان کر چکا ہوں ۔ آج میں اس سوال پر بحث کرنا چاہتا ہوں کہ اس کلمے پر ایمان لانے کا فائدہ اور اس کی ضرورت کیا ہے۔

ہر کام کا ایک مقصد ہے

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ آدمی جو کام بھی کرتا ہے کسی نہ کسی مفرض ، کسی نہ کسی فائدہ کے لیے کرتا ہے ۔ بے غرض ، بے مقصد ، بے فائدہ کوئی کام نہیں کیا کرتا ۔ آپ پانی کیوں پیتے ہیں ؟ اس لیے کہ پیاس بجھے۔ اگر پانی پینے کے بعد بھی آپ کا وہی حال رہےجو پینے سے پہلے ہوتا ہے تو آپ ہر گز پانی نہ پئیں۔ کیوں کہ یہ ایک بے نتیجہ کام ہو گا۔آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں ؟ اس لیے کہ بھوک رفع ہو اور آپ میں زندہ رہنے کی طاقت پیدا ہو۔ اگر کھانا کھانے اور نہ کھانے کا نتیجہ ایک ہی ہو تو آپ یہی کہیں کےکہ یہ بالکل ایک فضول کام ہے۔ بیماری میں آپ دوا کیوں پیتے ہیں ؟ اس لیے کہ بیماری دور ہو جائے اور تندرستی حاصل ہو۔ اگر دوا پی کر بھی بیمار کا وہی حال ہو جو دو اپنےسے پہلے تھا، تو آپ یہی کہیں گے کہ ایسی دوا پینا بے کار ہے ۔ آپ زراعت میں اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ اس لیے کہ زمین سے غلہ اور پھل اور ترکاریاں پیدا ہوں۔اگر بیج بونے پر بھی زمین سے کوئی چیز نہ آگئی تو آپ ہل چلانے اور تخم ریزی کرنے اور پانی دینے میں اتنی محنت ہر گز نہ کرتے ۔ غرض آپ دنیا میں جو کام بھی کرتے ہیں اس میں ضرور کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے ۔ اگر مقصد حاصل ہو تو آپ کہتے ہیں کہ کام ٹھیک ہوا ۔ اگر مقصد حاصل نہ ہو تو آپ کہتے ہیں کہ کام ٹھیک نہیں ہوتا۔

کلمہ پڑھنے کا مقصد

اس بات کو ذہن میں رکھیے اور میرے ایک ایک سوال کا جواب دیتے جائیے۔سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کلمہ کیوں پڑھا جاتا ہے ؟ اس کا جواب آپ اس کےسوا اور کچھ نہیں دےسکتے کہ کلمہ پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ کافر اور مسلمان میں فرق ہو جائے ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ فرق ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ کیا اس کا یہ مطلب ہےکہ کافر کی دو آنکھیں ہوتی ہیں تو مسلمان کی چار آنکھیں ہو جائیں؟ یا کافر کا ایک سر ہوتا ہےتو مسلمان کےدوسر ہو جائیں ؟ آپ کہیں گے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے فرق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کافر کے انجام اور مسلمان کے انجام میں فرق ہو۔ کافرکا انجام یہ ہے کہ آخرت میں وہ خدا کی رحمت سے محروم ہو جائے اور ناکام و نامراد رہے۔ اور مسلمان کا انجام یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی اسے حاصل ہوا اور آخرت میں وہ کامیاب اور بامر اور ہے۔

آخرت کی ناکامی و کامیابی

میں کہتا ہوں کہ یہ جواب آپ نے بالکل ٹھیک دیا۔ مگر مجھے یہ بتائیے کہ آخرت کیا چیز ہے؟ آخرت کی ناکامی و نامرادی سے کیا مطلب ہے ؟ اور وہاں کامیاب اور بامراد ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ جب تک میں اس بات کو نہ سمجھ لوں اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اس سوال کا جواب آپ کو دینے کی ضرورت نہیں۔ اس کا جواب پہلے ہی دیا جا چکا ہے کہ الدُّنْیا مزرعة الآخِرَہ ۔ یعنی دنیا اور آخرت دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سلسلہ ہے جس کی ابتدا دنیا ہے اور انتہا آخرت۔ ان دونوں میں وہی تعلق ہے جو کھیتی اور فصل میں ہوتا ہے۔ آپ زمین میں ہل جوتتےہیں، پھر بیج ہوتے ہیں، پھر پانی دیتے ہیں، پھر کھیتی کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں،یہاں تک کہ فصل تیار ہو جاتی ہے، اور اس کو کاٹ کہ آپ سال بھر تک مزےسے کھاتے رہتے ہیں۔ آپ زمین میں جس چیز کی کاشت کریں گے اسی کی فصل تیار ہوگی ۔ گیہوں بوئیں گے تو گیہوں پیدا ہوگا۔ کانٹے بوئیں گے تو کانٹے ہی پیدا ہوں گے کچھ نہ بوئیں گے تو کچھ نہ پیدا ہوگا ۔ ہل چلانے اور بیج بونے اور پانی دینے اور کھیتی کی رکھوالی کرنے میں جو جو غلطیاں اور کوتاہیاں آپ سے ہوں گی اُن سب کا بڑا اثر آپ کو فصل کاٹنے کے موقع پر معلوم ہوگا۔ اور اگر آپ نے یہ سب کام اچھی طرح کیسے ہیں تو ان کا فائدہ بھی آپ فصل ہی کاٹنے کے وقت دیکھیں گے۔ بالکل ہیں حال دنیا اور آخرت کا ہے۔ دنیا ایک کھیتی ہے۔اس کھیتی میں آدمی کو اس لیےبھیجا گیا ہے کہ اپنی محنت اور اپنی کوشش سے اپنے لیے فصل تیار کرے۔ پیرایش سے لے کر موت تک کے لیے آدمی کو اس کام کی مہلت دی گئی ہے۔ اس مہلت میں جیسی فصل آدمی نےتیار کی ہے ویسی ہی فصل وہ موت کے بعد دوسری زندگی میں کالے گا ۔ اور پھر جو فصل وہ کاٹے گا اسی پر آخرت کی زندگی میں اس کا گزر بسر ہو گا۔ اگر کسی نے عمر بھر دنیا کی کھیتی میں اچھے پھل ہوتے ہیں اور ان کو خوب پانی دیا ہے اور ان کی خوب رکھوالی کی ہے تو آخرت کی زندگی میں جب وہ قدم رکھے گا تو اپنی محنت کی کمائی ایک سرسبز شاداب باغ کی صورت میں تیار پائے گا اور اسےاپنی اس دوسری زندگی میں پھر کوئی محنت نہ کرنی پڑے گی،بلکہ دنیا میں عمر بھر محنت کر کے جو باغ اس نے لگایا تھا اسی باغ کے پھلوں پر آرام سےزندگی بسر کرے گا۔اسی چیز کا نام جنت ہےاور آخرت میں بامراد ہونےکا یہی مطلب ہے ۔ اس کےمقابلے میں جو شخص اپنی دنیا کی زندگی میں کانٹے اور کڑوے کیلے زہر یلے پھل ہوتا رہا ہے، اس کو آخرت کی زندگی میں اپنی پھلوں کی فصل تیار ملے گی۔ وہاں پھر اس کو دوبارہ اتنا موقع نہیں ملے گا کہ اپنی اس حماقت کی تلافی کر سکے اور اس خراب فصل کو جلا کر دوسری اچھی فصل تیار کر سکے ۔ پھر تو اس کو آخرت کی ساری زندگی اسی فصل پر بسر کرنی ہوگی جسے وہ دنیا میں تیار کر چکا ہے ۔ جو کانٹے اس نے بوٹے تھےانہی کے بستر ہما سے لیٹنا ہوگا ، اور ہو کڑوے کیلئے زہر یلے پھل اس نے لگائے تھےوہی اس کو کھانے پڑیں گے ۔ یہی مطلب ہے آخرت میں ناکام و نامراد ہونے کا ۔


١- یعنی "دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔"

آخرت کی یہ شرح جو میں نے بیان کی ہے ، حدیث اور قرآن سے بھی یہی شرح ثابت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کی زندگی میں انسان کا نا مراد یا بامراد ہونا اور اس کے انجام کا اچھا یا برا ہونا دراصل نتیجہ ہے دنیا کی زندگی میں اس کے علم اور عمل کے صحیح یا غلط ہونے کا۔

کافراور مسلمان کے انجام میں فرق کیوں ؟

یہ بات جب آپ نے سمجھ لی تو ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی خود بخود سمجھ میں آپ جاتی ہے کہ مسلمان اور کافر کے انجام کا فرق یونہی بلا وجہ نہیں ہو جاتا ۔ در اصل انجام کا فرق آغاز ہی کے فرق کا نتیجہ ہے۔ جب تک دنیا میں مسلمان اور کافر کےعلم و عمل کےدرمیان فرق نہ ہو گا ، آخرت میں بھی ان دونوں کے انجام کے درمیان فرق نہیں ہو سکتا۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں ایک شخص کا علم اور عمل وہی ہو جو کا فرکا علم اور عمل ہے ، اور پھر آخرت میں وہ اس انجام سے بچ جائے جو کافر کا انجام ہوتا ہے۔

کلمہ کا مقصد ________ علم و عمل کی درستی

اب پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کلمہ پڑھنےکا مقصد کیا ہے؟ پہلے آپ نے اس کا جواب یہ دیا تھا کہ کلمہ پڑھنے کا مقصد یہ ہےکہ کافر کے انجام اور مسلمان کےانجام میں فرق ہو۔اب انجام اور آخرت کی جو تشریح آپ نے سنی ہے،اس کےبعد آپ کو اپنےجواب پر پھر غور کرنا ہوگا ۔ اب آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ کلمہ پڑھنےکا مقصد دنیا میں انسان کے علم اور عمل کو درست کرنا ہےتا کہ آخرت میں اس کا انجام درست ہو۔ یہ کلمہ انسان کو دنیا میں وہ باغ لگانا سکھاتا ہےجس کےپھل آخرت میں اس کو توڑنےہیں۔اگر آدمی اس کلمہ کو نہیں مانتاتو اس کو باغ لگانے کا طریقہ ہی معلوم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ باغ لگائے گا کس طرح اور آخرت میں پھل کس چیز کے توڑیگا ؟ اور اگر آدمی اس کلمہ کو زبان سے پڑھ لیتا ہے، مگر اس کا علم بھی وہی رہتا ہے جو نہ پڑھنے والے کا علم تھا، اور اس کا عمل بھی ویسا ہی رہتا ہے جیسا کا فر کا عمل تھا تو آپ کی عقل خود کہہ دے گی کہ ایسا کلمہ پڑھنے سے کچھ حاصل نہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے شخص کا انجام کافر کے انجام سے مختلف ہو۔ زبان سے کلمہ پڑھ کہ اس نےخدا پر کوئی احسان نہیں کیا ہےکہ باغ لگانے کا طریقہ بھی وہ نہ سیکھے ، باغ لگائے بھی نہیں، ساری عمر کانٹے ہی ہوتا رہے،اور پھر بھی آخرت میں اس کو پھلوں سےلدا ہوا لہلہاتا باغ مل جائے ۔ جیسا کہ میں پہلے کئی مثالیں دےکر بیان کر چکا ہوں میں کام کےکرنے اور نہ کرنےکا نتیجہ ایک ہو وہ کام فضول اور بےمعنی ہےجس دوا کو پینے کے بعد بھی بیمار کا وہی حال رہے جو پینے سے پہلے تھا ، وہ دوا حقیقت میں دوا ہی نہیں ہے ۔ بالکل اسی طرح اگر کلمہ پڑھنےوالےآدمی کا علم اور عمل بھی وہی کا وہی رہے جو کلمہ نہ پڑھنے والے کا ہوتا ہے، تو ایسا کلمہ پڑھنا محض بے معنی ہے۔جب دنیا میں کا فراور مسلم کی زندگی میں فرق نہ ہوا تو آخرت میں ان کے انجام میں فرق کیسے ہو سکتا ہے ؟

کلمہ طیبہ کونسا علم سکھاتا ہے؟

اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ وہ کونسا علم ہے جو کلمہ طیبہ انسان کو سکھاتا ہے ؟ اور اس علم کو سیکھنے کے بعد مسلمان کے عمل اور کافر کے عمل میں کیا فرق ہو جاتا ہے؟

١- اللہ کی بندگی

دیکھیے پہلی بات جو اس کلمہ سے آپ کو معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آپاللہ کے بندے ہیں اور کسی کے بندے نہیں ہیں ۔ یہ بات جب آپ کو معلوم ہوگئی تو خود بخود آپ کو یہ بات بھی معلوم ہو ہو گئی کہ آپ جس کے بندے ہیں، دنیا میں آپ کو اسی کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کی مرضی کے خلاف اگر آپ چلیں گے تو یہ اپنے مالک سے بغاوت ہو گی۔

۲- محمد کی پیروی

اس علم کے بعد دوسرا علم آپ کو کلمہ سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ بات جب آپ کو معلوم ہوگئی، تو اس کےساتھ ہی یہ بات بھی آپ کو خود بخود معلوم ہو گئی کہ اللہ کے رسول نے دنیا کی کھیتی میں کانٹوں اور زہریلے پھلوں کے بجائے پھولوں اور میٹھے پھلوں کا باغ لگاتا جس طرح سکھایا ہےاسی طرح آپکو باغ لگانا چاہیے۔اگر آپ اس طریقہ کی پیروی کریں گےتو آخرت میں آپ کو اچھی فصل ملےگی ۔اور اگر اس کے خلاف عمل کریں گے تو دنیا میں کانٹےبوئیں گےاور آخرت میں کانٹےہی پائیں گے۔

علم کے مطابق عمل بھی ہو

یہ علم حاصل ہونے کے بعد لازم ہے کہ آپ کا عمل بھی اس کے مطابق ہو اگر آپ کو یقین ہے کہ ایک دن مرنا ہے ، اور مرنے کے بعد پھر ایک دوسری زندگی ہے، اور اُس زندگی میں آپ کو اسی فصل پر گزر کرنا ہو گا جسے آپ اس زندگی میں تیار کر کے جائیں گے، تو پر یہ ناممکن ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کر سکیں ۔ دنیا میں آپ کھیتی باڑی کیوں کرتے ہیں ؟ اسی لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ اگر کھیتی باڑی نہ کی تو غلہ پیدا نہ ہوگا،اور فلہ نہ پیدا ہوا تو بھوکےمرجائیں گے ۔ اگر آپ کو اس بات کا یقین نہ ہوتا اور آپ سمجھتے کہ کھیتی باڑی کے بغیر ہی غلہ پیدا ہو جائے گا، یا فلہ کےبغیر بھی آپ بھوک سے بچ جائیں گے، تو ہر گز آپ کھیتی باڑی میں یہ محنت نہ کرتے۔بس اسی پر اپنے حال کو بھی قیاس کر لیجیے ۔ جو شخص زبان سے یہ کہتا ہے کہ میں خدا کو اپنا مالک، اور رسول پاک کو خدا کا رسول مانتا ہوں ، اور آخرت کی زندگی کو بھی ماننا ہوں اگر عمل اس کا قرآن کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے، اس کے متعلق یہ سمجھ لیجیے کہ در حقیقت اس کا ایمان کمزور ہے ائیں کو جیسا یقین اپنی کھیتی میں کاشت نہ کرنے کے بڑے انجام کا ہے اگر ویسا ہی یقین آنتی کی فصیل تیار نہ کرنے کے بڑے انجام کا بھی ہو تو وہ کبھی اس کام میں غفلت نہ کرے۔ کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے حق میں کانٹے نہیں ہوتا ۔ کانٹے وہی ہوتا ہے جسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ جو چیز ہو رہا ہے اس سے کانٹے پیدا ہوں گے اور وہ کانٹے اس کو تکلیف دیں گے ۔ آپ جان بوجھ کر اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارہ نہیں اُٹھاتے۔کیوں کہ آپ کو یقین ہے کہ یہ جلا دے گا۔ مگر ایک بچہ آگ میں ہاتھ ڈال دیتا ہے،کیوں کہ اسے اچھی طرح معلوم نہیں ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔

Blank page

باب دوم

اسلام

مسلمان کسے کہتے ہیں ؟

ایمان کی کسوٹی

اسلام کا اصل معیار

خدا کی اطاعت کس لیے ؟

دین اور شریعت

مسلمان کسے کہتے ہیں؟

برادران اسلام، آج میں آپ کے سامنے مسلمان کی صفات بیان کروں گا۔یعنی یہ بتاؤں گا کہ مسلمان ہونے کے لیے کم سے کم شرطیں کیا ہیں، آدمی کو کم از کم کیا ہو نا چا ہیے کہ وہ مسلمان کہلائے بجانے کے قابل ہو۔

کفر کیا ہے اور اسلام کیا ؟

اس بات کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو یہ جاننا چاہیےکہ کفر کیا ہےاور اسلام کیا ہے۔ کفریہ ہے کہ آدمی خدا کی فرماں برداری سے انکار کر دے، اور اسلام یہ ہے کہ آدمی صرف خدا کا فرماں بردار ہو اور ہر ایسے طریقے، یا قانون ، با حکم کو ماننے سے انکار کر دے جو خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کے خلاف ہو۔ اسلام اور کفر کا یہ فرق قرآن مجید میں صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

وَمَن لَّمْ يَحْكُمْ بِما ان الله فا واليك هم الطفِرُونَ ، (المائده : ۴۴)

" یعنی جو خدا کی اُتاری ہوئی ہدایت کے مطابق فیصلہ نہ کریں، ایسے ہی لوگ دراصل کافر ہیں "۔

فیصلہ کرنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ عدالت میں جو مقدمہ جائے بس اسی کا فیصلہ خدا کی کتاب کے مطابق ہو۔ بلکہ دراصل اس سےمراد وہ فیصلہ ہے جو ہر شخص اپنی زندگی میں ہر وقت کیا کرتا ہے۔ ہر موقع پر تمھارے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ فلاں کام کیا جائے یا نہ کیا جائے ؟ فلاں بات اس طرح کی جائے یا اس طرح کی بجائے ؟ فلاں معاملہ میں یہ طریقہ اختیار کیا جائے یا وہ طریقہ اختیار کیا جائے ؟ تمام ایسے موقعوں پر ایک طریقہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت بتاتی ہے، اور دوسرا طریقہ انسان کے اپنے نفس کی خواہشات، یا باپ دادا کی رسمیں، یا انسانوں کےبنائے ہوئے قانون بتاتے ہیں۔ اب جو شخص خدا کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کہ کیسی دوسرے طریقےکےمطابق کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہےوہ در اصل کفر کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اگر اس نے اپنی ساری زندگی ہی کے لیے یہی ڈھنگ اختیار کیا ہے تو وہ پورا کافر ہے ۔ اور اگر وہ بعض معاملات میں تو خدا کی ہدایت کو مانتا ہو اور بعض میں اپنے نفس کی خواہشات کو با رسم و رواج کو یا انسانوں کے قانون کو خدا کے قانون پر ترجیح دیتا ہو، تو جس قدر بھی وہ خدا کے قانون کی بغاوت کرتا ہے اسی قدر کفر میں مبتلا ہے۔ کوئی آدھا کا فر ہے ، کوئی چوتھائی کا فر ہے ، کسی میں دسواں حصّہ کفر کا ہے اور کسی میں بیسواں حصّہ ۔ غرض جنتی خدا کے قانون سے بغاوت ہے اتنا ہی کفر بھی ہے۔

اسلام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ آدمی صرف خدا کا بندہ ہو۔ نفس کا بندہ نہ باپ دادا کا بندہ ، نہ خاندان اور قبیلہ کا بندہ ، نہ مولوی صاحب اور پیر صاحب کا بندہ،نہ زمیندار صاحب اور تحصیلدار صاحب اور مجسٹریٹ صاحب کا بندہ، نہ خدا کے سوا کسی اور صاحب کا بندہ ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

قُل ياهل الكتب تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ، فَإِنْ تَوَلَّوا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران : ٦٤)

"یعنی اسے نبی ، اہل کتاب سے کہو کہ آؤ ہم تم ایک ایسی بات پر اتفاق کہ میں جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے ریعنی ہو تمھارے نبی بھی بتا گئےہیں، اور خدا کا نبی ہونےکی حیثیت سےمیں بھی وہی بات کہتا ہوں) وہ بات یہ ہے کہ ایک تو ہم اللہ کے سوا کسی کے بندے بن کر نہ رہیں دوسرے یہ کہ خدائی میں کسی کو شریک نہ کریں، اور تیسری بات یہ ہے کہ ہم میں کوئی انسان کسی انسان کو اللہ کےبجائے اپنا مالک اور اپنا آقا نہ بنائے۔ یہ تین باتیں اگر وہ نہیں مانتےتو ان سے کہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں ۔ یعنی ہم ان تینوں باتوں کو مانتے ہیں "

أَفَخَيرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَ كَرُهَا وَ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ . (آل عمران : ۸۳)

" یعنی کیا وہ خدا کی اطاعت کے سوا کسی اور کی اطاعت چاہتے ہیں؟ حالانکہ خدا وہ ہے کہ زمین اور آسمان کی ہر چیز چار و ناچار اسی کی اطاعت کر رہی ہے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے"-

ان دونوں آیتوں میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ اصلی دین خدا کی اطاعت اور فرماں برداری ہے ۔ خدا کی عبادت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بس پانچ وقت اس کے آگے سجدہ کر لو۔ بلکہ اس کی عبادت کے معنی یہ ہیں کہ رات دن میں ہر وقت اس کے احکام کی اطاعت کرو جس چیز سے اس نے منع کیا ہےاس سے رُک جاؤ ، جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے اس پر عمل کرو۔ ہر معاملہ میں یہ دیکھو کہ خدا کا حکم کیا ہے۔ یہ نہ دیکھو کہ تمھارا اپنا دل کیا کہتا ہے ، تمھاری عقل کیا کہتی ہے ، باپ دادا کیا کر گئے ہیں، خاندان اور برادری کی مرضی کیا ہے،جناب مولوی حساب قبلہ اور جناب پیر صاحب قبلہ کیا فرماتےہیں، اور فلاں صاحب کا کیا حکم ہے اور فلاں صاحب کی کیا مرضی ہے۔اگر تم نےخدا کے علم کو چھوڑ کر کسی کی بات بھی مانی تو خدائی میں اس کو شریک کیا۔ اُس کو وہ درجہ دیا جو صرف خدا کا درجہ ہے۔ حکم دینے والا تو صرف خدا ہے۔ DOWNLOAD DATE الا لله (الانعام : ۵۷) بندگی کے لائق تو صرف وہ ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور میں کے بل بوتے پر تم زندہ ہو۔ زمین اور آسمان کی ہر چیز اسی کی اطاعت کر رہی ہے۔کوئی پتھر کسی پتھر کی اطاعت نہیں کرتا،کوئی درخت کسی درخت کی اطاعت نہیں کرتا، کوئی جانور کسی جانور کی اطاعت نہیں کرتا۔ پھر کیا تم جانوروں اور درختوں اور پتھروں سے بھی گئے گزرے ہو گئے کہ وہ تو صرف خدا کی اطاعت کر یں اور تم خدا کو چھوڑ کر انسانوں کی اطاعت کرو ؟ یہ ہے وہ بات جو قرآن کی ان دونوں آیتوں میں بیان فرمائی گئی ہے۔

گمراہی کے تین راستے

اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کفر اور گمراہی در اصل نکلتی کہاں سےہے۔ قرآن مجید ہم کو بتاتا ہے کہ اس کم بخت بلا کے آنے کے تین راستے ہیں:

(١) نفس کی بندگی

پہلا راستہ انسان کے اپنے نفس کی خواہشات ہیں:

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَامَهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّن اللهِ إِنَّ اللهَ لا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ (القصص: ٥٠)

"یعنی اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا جس نے خدا کی ہدایات کے بجائےاپنے نفس کی خواہش کی پیروی کی۔ ایسے ظالم لوگوں کو خدا هدایت نہیں دیتا۔"

مطلب یہ ہےکہ سب سےبڑھ کر انسان کو گمراہ کرنےوالی چیز انسان کےاپنے نفس کی خواہشات ہیں۔ جو شخص خواہشات کا بندہ بن گیا، اس کے لیے خدا کا بندہ بننا ممکن ہی نہیں۔ وہ تو ہر وقت یہ دیکھے گا کہ مجھے روپیہ کسی کام میں ملتا ہے۔میری عزت اور شہرت کس کام میں ہوتی ہے مجھے لذت اور ملت کس کام میں حاصل ہوتا ہے، مجھے آرام اورآسائش کسی کام میں ملتی ہے۔ بس یہ چیزیں جس کام میں ہوں گی اسی کو وہ اختیار کرے گا، چاہے خدا اس سے منع کرے ۔ اور یہ چیزیں جس کام میں نہ ہوں اس کو وہ ہرگز نہ کرے گا اچھا ہے خدا اس کا حکم دے ۔ تو ایسے شخص کا خدا اللہ تبارک و تعالیٰ نہ ہوا ، اس کا اپنا نفس ہی اس کا خدا ہو گیا۔ اس کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے ؟ اسی بات کو دوسری جگہ قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے :

ازميْت مَنِ الحمد الهَهُ هَومَهُ ، أَفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيْلاهُ أَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يعْقِلُونَ إِن هُمُ الَّا كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيا (الفرقان : ۴۳ - ۴۴)

"یعنی اسے نبی کا تم نے اس شخص کے حال پر غور بھی کیا جس نے اپنےنفس کی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا ہے ؟ کیا تم ایسے شخص کی نگرانی کر سکتے ہو؟ کیا تم سمجھتےہو کہ ان میں سے بہت سے لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ ہر گز نہیں،یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے"-

نفس کےبندے کا جانوروں سے بدتر ہونا ایسی بات ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کوئی جانور آپ کو ایسا نہ ملے گا جو خدا کی مقررہ کی ہوئی تعد سے آگے بڑھتا ہو۔ ہر جانور وہی چیز کھاتا ہے جو خدا نے اس کے لیےمقرر کی ہے۔اسی قدر کھاتا ہے جس قدر اس کے لیے مقرر کی ہے۔ اور جتنےکام جس جانور کے لیے مقررہ ہیں بس اتنے ہی کرتا ہے۔مگر یہ انسان ایسا جانور ہےکہ جب یہ اپنی خواہش کا بندہ بنتا ہےتو وہ وہ حرکتیں کر گر کرتا ہے جن سےشیطان بھی پناہ مانگے ۔

(۳) باپ دادا کی اندھی پیروی

یہ تو گمراہی کےآنےکا پہلا راستہ ہے۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ باپ دادا سے جو رسم و رواج ، بجو عقیدے اور خیالات جو رنگ ڈھنگ چلے آرہے ہوں آدمی ان کا غلام بن جائےاور خدا کےحکم سےبڑھ کر ان کو مجھے، اور اگر ان کے خلاف خدا کا حکم اس کےسامنےپیش کیا جائےتو کہے کہ میں تو وہی کروں گا جو میرےباپ دادا کرتے تھے اور جو میرے خاندان اور قبیلے کا رواج ہے ۔ جو شخص اس مرض میں مبتلا ہے وہ خدا کا بندہ کب ہوا۔ اس کے خدا تو اس کے باپ دادا اور اس کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہیں۔ اس کو یہ جھوٹا دعوی کرنے کا کیا حق ہے کہ میں مسلمان ہوں ؟ قرآن کریم میں اس پر بھی بڑی سختی کے ساتھ تنبیہ کی گئی ہے:

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ . (البقره : ١٤٠)

" اور جب کبھی ان سے کہا گیا کہ جو حکم خدا نے بھیجا ہے اس کی پیروی کرو ، تو انھوں نے یہی کہا کہ ہم تو اُس بات کی پیروی کریں گے جو ہمیں باپ دادا سے ملی ہے۔ اگر ان کے باپ دادا کسی بات کو نہ سمجھتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہوں تو کیا یہ پھر بھی انہی کی پیروی کیسے چلے جائیں گے ؟"

دوسری جگہ فرمایا :

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلى مَا أَنْزَلَ اللهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ابَاءَنَاءِ أَوَلَوْ كان آبَاءهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَ لَا يَهْتَدُونَ ، يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُهُم لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ، (المائده : ۱۰۴ - ۱۰۵)

"اورجب اُن سےکہا گیا کہ آؤ اس فرمان کی طرف جو خدا نےبھیجا ہےاور آؤ رسول کے طریقہ کی طرف ، تو انھوں نےکہا کہ ہمارے لیےتو بس وہی طریقہ کافی ہےجس پر ہم نے اپنےباپ دادا کو پایا ہے۔کیا یہ باپ دادا ہی کی پیروی کیسے پہلے جائیں گے چاہے ان کو کسی بات کا علم نہ ہو اور وہ سیدھےراستے پر نہ ہوں ؟ اسے ایمان لانے والو ! تم کو تو اپنی فکر ہونی چاہیے۔اگر تم سیدھے راستے پر لگ جاؤ تو کسی دوسرے کی گمراہی سے تمھیں کوئی نقصان نہ ہو گا، پھر آخر کا رسب کو خدا کی طرف واپس جانا ہے۔ اس وقت خدا تم کو تمھارے اعمال کا نیک و بد سب کچھ تہا دے گا۔"

یہ ایسی گمراہی ہے جس میں تقریباً ہر زمانے کے جاہل لوگ مبتلا رہے ہیں، اور ہمیشہ خدا کے رسولوں کی ہدایت کو ماننے سے یہی چیز انسان کو روکتی ہے۔حضرت موسیٰ نے جب لوگوں کو خدا کی شریعت کی طرف بلایا تھا، اس وقت بھی لوگوں نے یہی کہا تھا :

اجِتُتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَ نار ( يونس : ٧٨)

"کیا تو ہمیں اس راستہ سے ہٹانا چاہتا ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔"

حضرت ابراہیم نے جب اپنے قبیلے والوں کو شرک سے روکا تو انھوں نے بھی یہی کہا تھا :

وجدنا الماءنَا لَهَا غيرين ، ( الأنبياء :۵۳)

"ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی خداؤں کی بندگی کرتے ہوئے پایا ہے"-

غرض اسی طرح ہر نبی کے مقابلے میں لوگوں نے یہی حجت پیش کی ہے کہ تم ہو کہتے ہو یہ ہمارے باپ دادا کے طریقہ کے خلاف ہے، اس لیے ہم اسے نہیں مانتے۔

چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے :

چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے :

وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ من نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدُنَا بَاوَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى اشْرِهِمْ مُّقْتَدُونَ ، قُل اَوَلَوْ جِئْتُكُو بِأَهْدَى مِمَّا وَجَدتُمْ عَلَيْهِ آبَاءَكُمْ قَالُوا إِنَّا بِمَا ارسلتُم به کفِرُونَ ، فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ نَا نُظُرُكَيف كان عاقِبَةُ الْمُكَة بينه (الزخرف : ۲۳ - ۲۵)

"یعنی ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ جب کبھی ہم نے کسی ہستی میں کسی ڈرانے والے یعنی پیغمبر کو بھیجا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نےیہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کےقدم بقدم چل رہے ہیں۔ پیغمبر نے ان سے کہا اگر میں اس سے بہتر بات بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے تو کیا پھر بھی تم باپ دادا ہی کی پیروی کیسے چلے جاؤ گے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم اُس بات کو نہیں مانتے جو تم لے کر آئے ہو۔ پس جب انھوں نے یہ جواب دیا تو ہم نے بھی ان کو خوب سزادی ۔ اور اب دیکھ لو کہ ہمارے احکام کو جھالے والوں کا کیا انجام ہوا ہے"-

یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یا تو باپ دادا ہی کی پیروی کر لو یا پھر ہمارے ہی حکم کی پیروی کرو ۔ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں۔ مسلمان ہونا چاہتے ہو تو سب کو چھوڑ کر صرف اُس بات کو مانو جو ہم نے بتائی ہے-

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا انْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ابَاءَنَا، أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطن يَدْعُوهُم إِلى عَذَابِ السَّعِيرِهِ وَمَنْ تُسْلِمُوجهة إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنَّ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الْوُثْقَى وَإِلَى اللهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَلا يَحْزُنُكَ عُفْرُه ، إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُواط (لقمان : ۲۱ تا ۲۳ )

"یعنی جب اُن سے کہا گیا کہ اس حکم کی پیروی کرو جو خدا نے بھیجا ہےتو انھوں نے کہا کہ نہیں ہم تو اس بات کی پیروی کریں گے جس پر ہم نےاپنے باپ دادا کو پایا ہے ، سچا ہے شیطان ان کو عذاب جہنم ہی کی طرف کیوں نہ بلا رہا ہو۔ جو کوئی اپنے آپ کو بالکل خدا کے سپرد کر دے اور نیکو کار ہو اس نے تو مضبوط رسی تھام لی اور آخر کار تمام معاملات خدا کے ہاتھ میں ہیں، اور جس نے اس سے انکار کیا تو اسے نبی تم کو اس کےانکار سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ وہ سب ہماری طرف واپس آنے والے ہیں پھر ہم انھیں ان کے اعمال کا نتیجہ دکھا دیں گئے"-

(۳) غیر اللہ کی اطاعت

یہ گمراہی کے آنے کا دوسرا راستہ تھا۔ تیسرا راستہ قرآن نے یہ بتایا ہے کہ انسان جب خدا کے حکم کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کے محکم ماننے لگتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ فلاں شخص بڑا آدمی ہے، اس کی بات پکی ہوگی ، یا فلاں شخص کے ہاتھ میں میری روٹی ہے اس لیے اس کی بات ماننی چاہیے۔ یا فلاں شخص بڑا صاحب اقتدار ہے اس لیے اس کی فرماں برداری کرنی چاہیے۔ یا فلاں صاحب اپنی بڑھا سے مجھے تباہ کر دیں گے یا اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے ؟ اس لیے جو وہ کہیں وہی صحیح ہے۔ یا فلاں قوم بڑی ترقی کہ رہی ہے، اس کے طریقے اختیار کرنےچاہئیں، تو ایسے شخص پر خدا کی ہدایت کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔

وَإِن تُطِحُ اكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ الله ط (الانعام : ۱۱٦)

"اگر تو نےان بہت سےلوگوں کی اطاعت کی جو زمین میں رہتےہیں تو وہ تجھ کو خدا کےراستہ سےبھٹکا دیں گے"۔

یعنی آدمی سیدھے راستہ پر اس وقت ہو سکتا ہے جب اس کا ایک خدا ہو۔سینکڑوں ہزاروں خدا جس نے بنا لیے ہوں اور جو کبھی اس خدا کے کہے پر اور کبھی اُس خدا کے کہے پر چلتا ہوا وہ داشتہ کہاں پاسکتا ہے۔

اپ آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ گمراہی کے تین بڑے بڑے سبب ہیں :

ایک نفس کی بندگی:

دوسرے ، باپ دادا اور خاندان اور قبیلے کے رواجوں کی بندگی،

تیسرے، عام طور پر دنیا کے لوگوں کی بندگی جس میں دولت مند لوگ اور حکام وقت اور بناؤٹی پیشوا، اور گمراہ قو میں سب ہی شامل ہیں۔

یہ تین بڑے بڑے ثبت ہیں جو خدائی کے دعویدار بنے ہوئے ہیں ۔ جو شخص مسلمان بنا چاہتا ہو اس کو سب سے پہلے ان تینوں منتوں کو توڑنا چاہیے۔ پھر وہ حقیقت میں مسلمان ہو جائے گا۔ ورنہ جس نے یہ تینوں بہت اپنےدل میں بٹھا رکھےہوں اس کا بندہ خدا ہونا مشکل ہے۔وہ دن میں پچاس وقت کی نمازیں پڑھ کر اور دکھاوے کے روزے رکھ کر اور مسلمانوں کی سی شکل بنا کر انسانوں کو دھوکا دےسکتا ہے خود اپنے نفس کو بھی دھوکا دے سکتا ہے کہ میں پکا مسلمان ہوں مگر خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔

پنجابی مسلمانوں کی حالت

بھائیو، آج میں نے آپ کے سامنے جن تین مینوں کا ذکر کیا ہے ان کی بندگی اصلی شرک ہے۔ آپ نے پتھر کے بت توڑ دیے، اینٹ اور ٹونے سے بنے ہوئےبت خانے ڈھا دیے ، مگر سینوں میں جو ثبت خانے بنے ہوئے ہیں ان کی طرف کم توجہ کی۔سب سے زیادہ ضروری،بلکہ مسلمان ہونے کےلیےاولین شرط ان متبوں کو توڑنا ہے۔اگرچه میرا خطاب تمام مسلمانوں سے ہے، اور مجھے یقین ہے کہ ساری دنیا اور تمام ہندوستان میں مسلمان جس قدر نقصان اُٹھا رہے ہیں وہ انہی تین منتوں کی پوجا کا نتیجہ ہے ۔ مگر چونکہ اس وقت میرے سامنے میرے پنجابی بھائی ہیں، اس لیےخاص طور پر ان سےکہتا ہوں کہ آپ کی تباہی اور آپ کی ذلت اور مصیبت کی جڑ یہ تین چیزیں ہیں جو آپ نے ابھی مجھ سےسُنی ہیں۔ آپ اس پنجاب کی سر زمین میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہیں۔ اس صوبہ کی آبادی میں آدھے سے زیادہ آپ ہیں اور آدھےسے کم میں دوسری قومیں ہیں۔ مگر اتنی بڑی قوم ہونے کے باوجود یہاں آپ کا کوئی وزن نہیں ہے۔ بعض نہایت قلیل التعداد قوموں کا وزن آپ سے بڑھ کر ہے۔ اس کی وجہ پر بھی آپ نےکبھی غور کیا ؟ اس کی وجہ صرف یہ ہےکہ نفس کی بندگی،خاندانی راجوں کی بندگی اور خدا کے سوا دوسرے انسانوں کی بندگی نے آپ کی طاقت کو انڈر سےکھوکھلا کر دیا ہے۔


١- خیال رہے کہ اسوقت مشرقی اور مغربی پنجاب ایک تھے اور ہندوستان میں شامل تھے ۔

ذات پات کا فرق

آپ میں راجپوت ہیں، لکھڑ ہیں ، مغل ہیں ، جاٹ ہیں اور بہت سی قومیں ہیں۔اسلام نے ان سب قوموں کو ایک قوم ایک دوسرے کا بھائی، ایک پختہ دیوار بننے کے لیے کہا تھا جس کی اینٹ سے اینٹ بجڑی ہوئی ہو، مگر آپ اب بھی وہی پرانےہندوانہ خیالات لیے ہوئے بیٹھے ہیں جس طرح ہندؤوں میں الگ انگ گوتیں ہیں، اسی طرح آپ میں بھی اب تک قبیلےقبیلےالگ ہیں۔آپس میں مسلمانوں کی طرح شادی بیاہ نہیں۔ایک دوسرےسےبرادری اور بھائی چارہ نہیں۔زبان سے آپ ایک دوسرے کو مسلمان بھائی کہتے ہیں مگر حقیقت میں آپ کے درمیان وہی سب امتیازات ہیں جو اسلام سے پہلے تھے۔ان امتیازات نےآپ کو ایک مضبوط دیوار نہیں بننے دیا۔ آپ کی ایک ایک اینٹ الگ ہے ۔ آپ نہ مل کر اُٹھ سکتے ہیں اور نہ مل کر کسی مصیبت کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ اگر اسلام کی تعلیمات کے مطابق آپ سے کہا جائے کہ تو ڑو ان امتیازات کو اور آپس میں پھر ایک ہو جاؤ،تو آپ کیا کہیں گے ؟ بس وہی ایک بات، یعنی ہمارے باپ دادا سے جو رواج چلےآر ہے ہیں ان کو ہم نہیں توڑ سکتے۔اس کا جواب خدا کی طرف سے کیا ملتا ہے میں یہی کہ تم نہ توڑو ان رواجوں کو نہ چھوڑو ہندوانہ رسموں کی تقلید کو، ہم بھی تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے اور تمھاری کثرت تعداد کے باوجود تم کوذلیل و خوار کر کے دکھائیں گے۔

وراثت میں حق تلفی

اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ تمھاری وراثت میں لڑکےاور لڑکیاں سب شریک ہیں۔آپ اس کا جواب کیا دیتے ہیں ؟ یہ کہ ہمارےباپ دادا کےقانون میں لڑکے اور لڑکیاں شریک نہیں ہیں،اور یہ کہ ہم خدا کےقانون کےبجائےباپے دادا کا قانون مانتے ہیں۔ خدا را مجھے بتائیے کیا اسلام اسی کا نام ہے ؟ آپ سےکہا جاتا ہے کہ اس خاندانی قانون کو توڑیے ۔ آپ میں سے ہر شخص کہتا ہےکہ جب سب توڑیں گے تو ہمیں بھی توڑ دوں گا۔ورنہ اگر دوسروں نے لڑکی کو حصہ نہ دیا اور میں نے دےدیا تو میرےگھر کی دولت تو دوسروں کےپاس چلی جائےگی، مگر دوسرے کے گھر کی دولت میرے گھر میں نہ آئے گی۔ غور کیجیے کہ اس جواب کے کیا معنی ہیں ؟کیا خدا کے قانون کی اطاعت اسی شرط سے کی جائےگی کہ دوسرے اطاعت کریں تو آپ بھی کریں گے ؟ کل آپ کہیں گے کہ دوسرے زنا کریں گےتو میں بھی کرونگا،دوسرےچوستی کریں گےتو میں بھی کروں گا۔غرض دوسرےجب تک سب گناہ نہ چھوڑیں گے نہیں بھی اس وقت تک سب گناہ کرتا رہوں گا۔ بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں تینوں مبتوں کی پرستش ہو رہی ہے ۔ نفس کی بندگی بھی ہے ، باپ دادا کی بندگی کبھی، اور مشرک قوموں کی بندگی بھی۔ اور تینوں کے ساتھ اسلام کا دعوئی بھی ہے۔

یہ صرف دو مثالیں ہیں۔ورنہ آنکھیں کھول کر دیکھا جائےتو بےشمار اسی قسم کےامراض آپ کےاندر پھیلے ہوئے نظر آئیں گے، اور ان سب میں آپ یہی دیکھیں گے کہ کہیں ایک بت کی پرستش ہے اور کہیں دوستوں کی اور کہیں تینوں بتوں کی یجب یہ بت پوجے جارہے ہوں اور ان کے ساتھ اسلام کا دعوئی بھی ہو تو آپ کیسے امید کر سکتے ہیں کہ آپ پر اُن رحمتوں کی بارش ہوگی جن کا وعدہ سچے مسلمانوں سے کیا گیا ہے؟

ایمان کی کسوٹی

برادران اسلام نہ پچھلے جمعہ کے خطبہ میں میں نے آپ کو بتایا تھا کہ قرآن کی رو سےانسان کی گمراہی کے تین سبب ہیں۔ایک یہ کہ وہ خدا کے قانون کو چھوڑ کر اپنےنفس کی خواہشات کا غلام بن جائے۔ دوسرے یہ کہ خدائی قانون کےمقابلہ میں اپنےخاندان کے رسم و رواج اور باپ دادا کے طریقے کو ترجیح دے۔ تیسرے یہ کہ خدا اور اس کےرسول نے جو طریقہ بتایا ہے اس کو بالائے طاق رکھ کر انسانوں کی پیروی کرنےلگے، چاہے وہ انسان خود اس کی اپنی قوم کے بڑے لوگ ہوں یا غیر قوموں کےلوگ-

مسلمان کی اصلی تعریف

مسلمان کی اصلی تعریف یہ ہے کہ وہ ان تینوں بیماریوں سے پاک ہو مسلمان کہتے ہی اُس کو میں جو خدا کے سوا کسی کا بندہ اور رسول کے سوا کسی کا پیرو نہ ہو مسلمان وہ ہے جو سچے دل سے اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ خدا اور اس کےرسول کی تعلیم سرا سرعتی ہے، اس کے خلاف جو کچھ ہے وہ باطل ہےاور انسان کے لیے دین و دنیا کی بھلائی جو کچھ بھی ہے صرف خدا اور اس کے رسول کی تعلیم میں ہے۔اس بات پر کامل یقین جس شخص کو ہو گا وہ اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں صرف یہ دیکھے گا کہ اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے۔ اور جب اسے حکم معلوم ہو جائے گا تو وہ سیدھی طرح سے اس کے آگے سر جھکا دے گا۔ پھر چاہے اس کا دل کتنا ہی تلملاتےاور خاندان کے لوگ کتنی ہی باتیں بنائیں،اور دنیا والےکتنی ہی مخالفت کریں وہ ان میں سے کسی کی پرواہ نہ کرے گا۔کیوں کہ ہر ایک کو اس کا صاف جواب یہی ہو گا کہ میں خدا کا بندہ ہوں، تمھارا بندہ نہیں ہوں ۔ اور میں رسول پر ایمان لایا ہوں تم پر ایمان نہیں لایا ہوں ۔

نفاق کی علامتیں

ا- نفس کی بندگی

اس کے بر خلاف اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ خدا اور رسول کا ارشاد یہ ہے تو ہوا کرے ، میرا دل تو اس کو نہیں مانتا، مجھے تو اس میں نقصان نظر آتا ہے، اس لیےمیں خدا اور رسول کی بات کو چھوڑ کر اپنی رائے پر چلوں گا ، تو ایسے شخص کا دل ایمان سے خالی ہو گا ، وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے کہ زبان سے تو کہتا ہے کہ میں خدا کا بندہ اور رسول کا پیرو ہوں ، مگر حقیقت میں اپنے نفس کا بندہ اور اپنی رائے کا پیرو بنا ہوا ہے۔

۲- رسم و رواج کی پابندی

اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ خدا اور رسول کا حکم کچھ بھی ہو، اگر فلاں بات تو باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے، اس کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے ، یا فلاں قاعدہ تو میرے خاندان یا برادری میں مقرر ہے،اسے کیوں کر توڑا جا سکتا ہے،تو ایسے شخص کا شمار بھی منافقوں میں ہو گا، خواہ نمازیں پڑھتے پڑھتے اس کی پیشانی پر کتنا ہی بڑا گٹا پڑ گیا ہو،اور ظاہر میں اس نے کتنی ہی تشریع صورت بنا رکھی ہو۔اس لیےکہ دین کی اصل حقیقت اس کے دل میں اُتری ہی نہیں۔ دین رکوع اور سجدے اور روزے اور رنج کا نام نہیں ہے، اور نہ دین انسان کی صورت اور اس کےلباس میں ہوتا ہے،بلکہ اصل میں دین نام ہے خدا اور رسول کی اطاعت کا جو شخص اپنے معاملات میں خدا اور رسول کی اطاعت سےانکار کرتا ہےاس کا دل حقیقت میں دین سے خالی ہے۔اس کی نمازہ اور اس کا روزہ اور اس کی تشریع صورت ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔

دوسری قوموں کی نقالی

اسی طرح اگر کوئی شخص خدا کی کتاب اور اس کےرسول کی ہدایت سے بےپروا ہو کہ کہتا ہے کہ فلاں بات اس لیےاختیار کی جائےکہ وہ انگریزوں ہیں رانج ہےاور فلاں بات اس لیےقبول کی سجائے کہ فلاں قوم اس کی وجہ سے ترقی کر رہی ہےاور فلان بات اس لیےمانی جائےکہ فلاں بڑا آدمی ایسا کہتا ہے، تو ایسے شخص کو بھی اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔یہ باتیں ایمان کےساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔مسلمان ہو اور مسلمان رہنا چاہتےہو تو ہر اُس بات کو اُٹھا کر دیوار پر دے مارو جو خدا اور رسول کی بات کے خلاف ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو اسلام کا دعوئی تمھیں زیب نہیں دیتا۔زبان سےکہنا کہ ہم خدا اور رسول کو مانتےہیں،مگر اپنی زندگی کےمعاملات میں ہر وقت دوسروں کی بات کے مقابلہ میں خدا اور رسول کی بات کو رد کرتے رہنا نہ ایمان ہے نہ اسلام، بلکہ اس کا نام منافقت ہے۔

قرآن مجید کے اٹھارویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف الفاظ میں فرما دیا ہے :

لَقَدْ اَنْزَلْنَا ايةٍ مُّبَيِّنَتٍ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يشار إلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِم ، وَيَقُولُونَ امَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّنْ بَعْدِ ذلِكَ ، وَمَا أُولئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمْ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ وَإِن يَكُن لَّهُمُ الحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَهُ انِي قُلُوبِهِمُ مَّرَضٌ أَوِ ارْتَابُوا امْهَا فُونَ أَنْ تَمِيفَ اللَّهُ عَلِيم وَرَسُولُهُ ، بَلْ أُولَيكَ هُمُ الظَّلِمُونَ، إِنَّمَا كَانَ قَول الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَاطَ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولُهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّفهِ فَأُولَئِكَ همُ الْفَائِزُونَ ، (النور : ۴٦ تا ۵۲ )

"یعنی ہم نےکھول کھول کر سنی اور باطل کا فرق بتانے والی آیتیں آثار دی ہیں ۔اللہ جس کو چاہتا ہےان آتیوں کے ذریعہ سے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت قبول کی۔ پھر اس کےبعد ان میں سےبعض لوگ اطاعت سےمنہ موڑ جاتےہیں۔ایسے لوگ ایمان دار نہیں ہیں۔ اور جب ان کو اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہےتاکہ رسول ان کے معاملات میں فیصلہ کرے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ موڑ جاتے ہیں۔البتہ جب بات ان کےمطلب کی ہو تو اسے مان لیتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کے دل میں ہماری ہے ؟ یا کیا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی کرے گا ؟ بہر حال وجہ کچھ بھی ہو یہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔ حقیقت میں جو ایمان دار ہیں ان کا طریقہ تو یہ ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ رسول ان کے معاملات کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریگا اور اللہ سے ڈرتا رہے گا اور اس کی نافرمانی سے پر ہیز کرے گا بس وہی کامیاب ہو گا "

ان آیات میں ایمان کی جو تعریف بیان کی گئی ہے اس پر غور کیجیے ۔ اصلی ایمان یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت کے سپرد کر دو۔جو سکم وہاں سے ملے اس کے آگے سرسٹھ کا دو، اور اس کے مقابلہ میں کسی کی نہ سنو۔نہ اپنے دل کی ، نہ خاندان والوں کی اور نہ دنیا والوں کی ۔ یہ کیفیت جس میں پیدا ہو جائے وہی مومن اور مسلم ہے۔ اور جو اس سے خالی ہو اس کی حیثیت منافق سےزیادہ نہیں ہے ۔

اللہ کی اطاعت کی چند مثالیں

ترک شراب

آپ نے سُنا ہوگا کہ عرب میں شراب خوری کا کتنا زور تھا۔ عورت اور مرد ،جوان اور بوڑھے شراب کے متوالے تھے۔ اُن کو دراصل اس چیز سے عشق تھا۔اس کی تعریفوں کے گیت گاتے تھے اور اس پر جان دیتے تھے ۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ شراب کی لت لگ جانے کے بعد اس کا چھوٹنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔آدمی جان دینا قبول کر لیتا ہے مگر شراب پچھوڑ نا قبول نہیں کر سکتا۔اگر شرابی کو شراب نہ ملےتو اس کی کیفیت بیمار سےبد تر ہو جاتی ہے۔لیکن آپ نے کبھی سنا ہے کہ جب قرآن شریف میں اس کی حرمت کا حکم آیا تو کیا ہوا؟ وہی عرب جو شراب پر جان دیتےتھےاس حکم کو سنتےہی انھوں نے اپنےہاتھ سےشراب کے مٹکےتوڑ ڈالے ۔ مدینہ کی گلیوں میں شراب اس طرح بہہ رہی تھی جیسے بارش کا پانی بہتا ہے۔ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھےشراب پی رہےتھےجس وقت انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےمنادی کی آواز شنی کہ شراب حرام کر دی گئی تو جس شخص کا ہاتھ جہاں تھا وہیں کا وہیں رہ گیا۔ جس کےمنہ سے پیالہ لگا ہوا تھا، اس نےفوراً اس کو ہٹا لیا، اور پھر ایک قطرہ حلق میں نہ جانے دیا۔یہ ہے ایمان کی شان۔اس کو کہتے ہیں خدا اور رسول کی اطاعت۔

اقرار جرم

آپ کو معلوم ہے کہ اسلام میں زنا کی سزا کتنی سخت رکھی گئی ہے؟ ننگی پیٹھ پر سو کوڑے ،جن کا خیال کرنے سے آدمی کےرونگٹے کھڑے ہو جائیں۔اور اگر شادی شدہ آدمی ہو تو اس کے لیے سنگساری کی سزا ہے ، یعنی اس کو پتھروں سےاتنا مارنا کہ وہ مر جائے۔ایسی سخت سزا کا نام ہی سن کم آدمی کانپ اٹھتا ہے۔مگر آپ نے یہ بھی سُنا کہ جن کے دل میں ایمان تھا ان کی کیا کیفیت تھی ؟ ایک شخصسے نہ نا کا فعل سرزد ہو گیا ۔ کوئی گواہ نہ تھا ۔ کوئی عدالت تک پکڑ کرلے جانیوالا نہ تھا۔ کوئی پولیس کو اطلاع دینے والا نہ تھا ۔ صرف دل میں ایمان تھا جس نے اس شخص سے کہا کہ جب تو نے خدا کے قانون کے خلاف اپنے نفس کی خواہش پوری کی ہے تو اب جو سزا خدا نے اس کے لیے مقرر کی ہے اس کو بھگتنے کےلیے تیار ہو جا۔ چنانچہ وہ شخص خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ، میں نے زنا کی ہے، مجھے سزا دیجیے۔آپ منہ پھیر لیتےہیں تو پھر دوسری طرف آکر یہی بات کہتا ہے۔آپؐ پھر منہ پھیر لیتےہیں تو وہ پھر سامنے آکر سزا کی درخواست کرتا ہے کہ جو گناہ میں نے کیا ہےاس کی سزا مجھے دی جائے ۔ یہ ہے ایمان جس کے دل میں ایمان موجود ہےاس کے لیے ننگی پیٹھ پر سو کوڑے کھانا بلکہ سنگسارہ تک کر دیا جانا آسان ہے، مگر نا فرمان بن کر خدا کے سامنے حاضر ہونا مشکل ۔

قطع علائق

آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ انسان کے لیے دنیا میں اپنے رشتہ داروں سےبڑھ کر کوئی عزیز نہیں ہوتا ۔ خصوصاً باپ، بھائی، بیٹے تو اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ ان پر سے سب کچھ قربان کر دنیا آدمی گوارا کر لیتا ہے ۔ مگر آپ ذرا بدر اور اُحد کی لڑائیوں پر غور کیجیے کہ ان میں کون کس کے خلاف لڑنے گیا تھا ؟ باپ مسلمانوں کی فوج میں ہے تو بیٹا کافروں کی فوج میں۔ یا بیٹا اس طرف ہے تو باپ اُس طرف ایک بھائی ادھر ہے تو دوسرا بھائی اُدھر۔ قریب سے قریب رشتہ دار ایک دوسرےکے مقابلہ میں آئے ہیں اور اس طرح لڑے ہیں کہ گویا یہ ایک دوسرے کو پہچانتےہی نہیں۔ اور یہ جوش ان میں کچھ روپے پیسےیا زمین کے لیے نہیں بھڑکا تھا، نہ کوئی ذاتی عداوت تھی، بلکہ صرف اس وجہ سے وہ اپنے خون اور اپنے گوشت پوست کے خلاف لڑ گئے کہ وہ خدا اور رسول پر باپ اور بیٹے اور بھائی اور سارے خاندان کو قربان کر دینے کی طاقت رکھتے تھے۔

پرانے رسم و رواج سے توبہ

آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ عرب میں جتنے پرانے رسم و رواج تھے ، اسلام نےقریب قریب ان سب ہی کو توڑ ڈالا تھا۔سب سے بڑی چیز تو بت پرستی تھی جس کا رواج سینکڑوں برس سےچلا آرہا تھا۔ اسلام نے کہا کہ ان مبتوں کو چھوڑ دو۔شراب، زنا ہوا چوری اور رہزنی عرب میں عام طور پر رائج تھی ۔اسلام نے کہا کہ ان سب کو ترک کرو۔ مور میں عرب میں کھلی پھرتی تھیں۔اسلام نےحکم دیا کہ پردہ کرو۔عورتوں کو وراثت میں کوئی حصہ نہ دیا جاتا تھا ۔اسلام نے کہا کہ ان کا بھی وراثت ہیں حصہ ہے۔ متبثی کو وہی حیثیت دی جاتی تھی ہو صلبی اولاد کی ہوتی ہے۔ اسلام نے کہا کہ وہ ملبی اولاد کی طرح نہیں ہے بلکہ متبنی اگر اپنی بیوی کو چھوڑ دے تو اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ فرض کون سی پرانی ریم ایسی تھی جس کو توڑنے کا حکم اسلام نے نہ دیا ہو۔ مگر آپ کو معلوم ہے کہ جو لوگ خدا اور رسول پر ایمان لائے تھےان کا کیا طرز عمل تھا ؟ صدیوں سے سجن بتوں کو وہ اور ان کے باپ دادا سجدہ کرتےاور نذریں چڑھایا کرتے تھے، ان کو ان ایمان داروں نے اپنے ہاتھ سے توڑا سینکڑوں برس سے جو خاندانی رسمیں چلی آتی تھیں ان سب کو انھوں نے مٹا کر رکھ دیا جن چیزوں کو وہ مقدس سمجھتے تھے خدا کا حکم پاکر انھیں پاؤں تلے روند ڈالا ۔ جن چیزوں کو وہ مکروہ سمجھتے تھے خدا کا حکم آتے ہی ان کو جائز سمجھنے لگے ۔ جو چیز یں صدیوں سے پاک سمجھی جاتی تھیں وہ ایک دم ناپاک ہو گئیں، اور جو صدیوں سے ناپاک خیال کی جاتی تھیں وہ یکا یک پاک ہو گئیں۔ کفر کے سجن طریقوں میں لذت اور فائدے کے سامان تھے ، خدا کا حکم پاتے ہی ان کو چھوڑ دیا گیا۔ اور اسلام کے جن احکام کی پابندی انسان پر شاق گزرتی ہے ان سب کو خوشی خوشی قبول کر لیا گیا ۔ اس کا نام ہےایمان اور اس کو کہتے ہیں اسلام ۔ اگر عرب کےلوگ اُس وقت کہتے کہ فلاں بات کو ہم اس لیے نہیں مانتے کہ ہمارا اس میں نقصان ہے، اور فلاں بات کو ہم اس لیے نہیں چھوڑتے کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے، اور فلاں کام کو تو ہم مزور کریں گے کیونکہ با پ دادا سے یہی ہوتا چلا آیا ہے، اور فلاں باتیں رومیوں کی ہمیں پسند ہیں اور فلاں ایرانیوں کی ہم کو مرغوب ہیں۔ غرض اگر عرب کے لوگ اسی طرح اسلام کی ایک ایک بات کو رو کر دیتے ، تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آج دنیا میں کوئی مسلمان نہ ہوتا۔

خدا کی خوشنودی کا راستہ

بھائیو، قرآن میں ارشاد ہوا کہ لَن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحبون ما آل عمران : ۹۲) یعنی نیکی کا مرتبہ تم کو نہیں مل سکتا جب تک کہ وہ سب چیزیں خدا کے لیے قربان نہ کر دو جو تم کو عزیز ہیں ۔ بس یہی آیت اسلام اور ایمان کی جان ہے ۔اسلام کی اصل شان یہی ہے کہ جو چیزیں تم کو عزیز ہیں ان کو خدا کی خاطر قربان کر دو۔ زندگی کے سارے معاملات میں تم دیکھتے ہو کہ خدا کا حکم ایک طرف بلاتا ہے اور نفس کی خواہشات دوسری طرف بلاتی ہیں۔خدا ایک کام کا حکم دیتا ہے، نفس کہتا ہے کہ اس میں تو تکلیف ہے یا نقصان۔خدا ایک بات سے منع کرتا ہے، نفس کہتا ہے کہ یہ تو بڑی مزے دار چیز ہے یا بڑی فائدےکی چیز ہے ۔ ایک طرف خدا کی خوشنودی ہوتی ہےاور دوسری طرف ایک دنیا کی دنیا کھڑی ہوتی ہے۔غرض زندگی میں ہر ہر قدم پر انسان کو دو راستے ملتے ہیں۔ایک راستہ اسلام کا ہے اور دوسرا کفر و نفاق کا جس نے دنیا کی ہر چیز کو ٹھکرا کہ خدا کے حکم کے آگے سر جھہ کا دیا، اس نے اسلام کا راستہ اختیار کیا ۔ اور جس نےخدا کے حکم کو چھوڑ کر اپنے دل کی یا دنیا کی خوشی پوری کی اس نے کفر یا نفاق کا راستہ اختیار کیا۔

آج کا مسلمان

آج کا مسلمان

آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ اسلام کی جو بات آسان ہے اسے تو بڑی خوشی کے ساتھ قبول کرتےہیں ، مگر یہاں کفر اور اسلام کا اصلی مقابلہ ہوتا ہے وہیں سےرخ بدل دیتے ہیں۔بڑے بڑے مدیکی اسلام لوگوں میں بھی یہ کمزوری موجود ہے۔وہ اسلام اسلام بہت پکاریں گے، اس کی تعریف کرتے کرتے ان کی زبان خشک ہو جائے گی، اس کے لیے کچھ نمائشی کام بھی کر دیں گے۔مگر ان سےکہیےکہ یہ اسلام جس کی آپ اس قدر تعریفیں فرما رہےہیں،آئیے ذرا اس کےقانون کو ہم آپ خود اپنے اوپر بھاری کریں تو وہ فورا کہیں گےکہ اس میں فلاں مشکل ہےاور فلاں وقت ہے، اور فی الحال تو اس کو نہیں رہنے ہی دیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک تھے بصورت کھلونا ہے، اس کو بس طاق پر رکھیے اور دُور سے بیٹھ کر اس کی تعریفیں کیسے جائیےمگر اسے خود اپنی ذات پر اور اپنے گھر والوں اور عزیزوں پر اور اپنے کاروبار اور معاملات پر ایک قانون کی حیثیت سے بھاری کرنے کا نام تک نہ کیجیے۔ یہ ہمارے آج کل کے دین داروں کا حال ہے۔ اب دنیا داروں کا تو ذکر ہی فضول ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نہ اب نمازوں نہیں وہ اثر ہےجو کبھی تھا، نہ روزوں میں ہے،نہ قرآن خوانی میں اور نہ شریعت کی ظاہری پابندیوں میں ۔ اس لیے کہ جب شرح ہی موجود نہیں تو نزا بے جان جسم کیا کہ امت دکھائے گا ؟

اسلام کا اصلی معیار

برادران اسلام، اللہ تعالیٰ اپنی کتاب پاک میں فرماتا ہے :

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَعَفْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ،لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (انعام : ١٦٢-١٦٣)

" یعنی (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کہو میری نماز اور میرے تمام مراسم عبودیت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے میں اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔"

اس آیت کی تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہوتی ہے :

مَنْ أَحَبَّ لِلهِ وَ أَبْغَضَ لِلَّهِ وَ أَعْطَى لِلَّهِ وَ مُنْعَ لِلهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ .

" جس نے کسی سے دوستی و محبت کی تو خدا کے لیے ، اور دشمنی کی تو خدا کے لیے، اور کسی کو دیا تو خدا کے لیے ، اور کسی سے روکا تو خدا کےلیے، اُس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا، یعنی وہ پورا مومن ہو گیا "

پہلے جو آیت میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہےکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی کو اور اپنے سینے اور مرنے کو صرف اللہ کے لیے خالص کرلے اور اللہ کے سوا کسی کو اس میں شریک نہ کرے۔ یعنی نہ اس کی بندگی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو اور نہ اس کا جینا اور مرنا۔

اس کی جو تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں نے آپ کو سُنائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور دشمنی ، اور اپنی دنیوی زندگی کےمعاملات میں اس کا لین دین خالصہ خدا کے لیے ہونا عین تقاضائے ایمان ہے۔اس کے بغیر ایمان ہی کی تکمیل نہیں ہوتی کجا کہ مراتب عالیہ کا دروازہ کھل سکے جیبنی کمی اس معاملہ میں ہوگی اتنا ہی نقص آدمی کے ایمان میں ہوگا ، اور جب اس حیثیت سے آدمی مکمل طور پر خدا کا ہو جائے تب کہیں اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی چیزیں صرف مراتب عالیہ کا دروازہ کھولتی ہیں ، ورنہ ایمان و اسلام کے لیے انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا ہونا شرط نہیں ہے۔یعنی بالفاظ دیگر اس کیفیت کے بغیر بھی انسان مومن و مسلم ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ ایک غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ فقہی اور قانونی اسلام اور اُس حقیقی اسلام میں جو خدا کے ہاں معتبر ہے، فرق نہیں کرتے۔

قانونی اور تحقیقی اسلام کا فرق

قانونی اسلام

فقہی اور قانونی اسلام میں آدمی کے قلب کا حال نہیں دیکھا جاتا اور نہیں دیکھا جا سکتا ، بلکہ صرف اُس کے اقرار زبانی کو اور اس امر کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر اُن لازمی علامات کو نمایاں کرتا ہے یا نہیں جو اقرارہ زبانی کی توثیق کےلیے ضروری ہیں۔ اگر کسی شخص نے زبان سے اللہ اور رسول اور قرآن اور آخرت اور دوسرے ایمانیات کو ماننےکا اقرار کر لیا اور اس کےبعد وہ ضروری شرائط بھی پوری کر دیں جن سےاُس کےماننےکا ثبوت ملتا ہےتو وہ دائرہ اسلام میں لےلیا جائےگا اور سارے معاملات اس کےساتھ مسلمان سمجھ کر کیےجائیں گے۔ لیکن یہ چیز صرف دنیا کے لیے ہے، اور دنیوی حیثیت سے وہ قانونی اور تمدنی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر مسلم سوسائٹی کی تعمیر کی گئی ہے۔اس کا حاصل اس کےسوا کچھ نہیں ہے کہ ایسے اقرار کے ساتھ جتنے لوگ مسلم سوسائٹی میں داخل ہوں وہ سب مسلمان مانے جائیں، ان میں سےکسی کی تکفیر نہ کی جائے ، ان کو ایک نئے سرےپر شرعی اور قانونی اور اخلاقی اور معاشرتی حقوق حاصل ہوں، اُن کے درمیان شادی بیاہ کے تعلقات قائم ہوں، میراث تقسیم ہو اور دوسرے تمدنی روابط وجود میں آئیں ۔

حقیقی اسلام

لیکن آخرت میں انسان کی نجات اور اس کا مسلم و مومن قرارہ دیا جانا اور اللہ کے مقبول بندوں میں شمار ہونا اس قانونی اقرار پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہاں اصل چیز آدمی کا قلبی اقرار ، اُس کے دل کا جھکاؤ اور اس کا برضا و رغبت اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے حوالے کر دیا ہے۔ دنیا میں جو زبانی اقرار کیا جاتا ہے وہ تو صرف قاضی شرع کے لیے اور عام انسانوں اور مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ وہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ مگر اللہ آدمی کے دل کو اور اس کے باطن کو دیکھتا ہےاور اس کے ایمان کو نا پتا ہے ۔ اس کے ہاں آدمی کو جس حیثیت سے جانچا جائیگا وہ یہ ہے کہ آیا اس کا جینا اور مرنا اور اس کی وفاداریاں اور اس کی اطاعت و بندگی اور اس کا پورا کارنامہ زندگی اللہ کے لیے تھا یا کسی اور کے لیے ؟ اگر اللہ کے لیے تھا تو وہ مسلم اور مومن قرار پائے گا ، اور اگر کسی اور کے لیے تھا تو نہ وہ مسلم ہو گا نہ مومن ۔ اس حیثیت سے جو جبلنا نام نکلے گا اتنا ہی اس کا ایمان اور اسلام خام ہو گا خواہ دنیا میں اس کا شمار کیسے ہی بڑے مسلمانوں میں ہوتا رہا ہو اور اس کو کتنے ہی بڑے مراتب دیے گئے ہوں ۔ اللہ کے ہاں قدر صرف اس چیز کی ہے کہ جو کچھ اس نے آپ کو دیا ہے وہ سب کچھ آپ نے اُس کی راہ میں لگا دیا یا نہیں ۔ اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کو وہی حق دیا جائے گا جو وفاداروں کو اور حق بندگی ادا کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔اور اگر آپ نے کسی چیز کو خدا کی بندگی سے مستثنی کر کے رکھا تو آپ کا یہ اقرار کہ آپ مسلم ہوئے ، یعنی یہ کہ آپ نےاپنے آپ کو بالکل خدا کے حوالے کر دیا، محض ایک جھوٹا اقرار ہو گا جس سے دنیا کےلوگ دھوکا کھا سکتے ہیں جس سے قریب کھا کر مسلم سوسائٹی آپ کو اپنے اندر جگہ دےسکتی ہے جس سے دنیا میں آپ کو مسلمانوں کے سے تمام حقوق مل سکتے ہیں لیکن اس سے فریب کھا کر خدا اپنے ہاں آپ کو وفاداروں میں جگہ نہیں دے سکتا۔

یہ قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق جوئیں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے،اگر آپ اس پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس کےنتائج صرف آخرت ہی میں مختلف نہیں ہوں گےبلکہ دنیا میں بھی ایک بڑی حد تک مختلف ہیں۔ دنیا میں جو مسلمان پائے گئے ہیں یا آج پائے جاتے ہیں ان سب کو دو قسموں پر منقسم کیا جا سکتا ہے:

مسلمانوں کی دو قسمیں

جزوی مسلمان

ایک قسم کے مسلمان وہ ہیں جو خدا اور رسول کا اقرار کر کےاسلام کو بحیثیت اپنےمذہب کےمان لیں،مگر اپنے اس مذہب کو اپنی کل زندگی کا محض ایک جز اور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھیں۔اس مخصوص جز اور شعبے ہیں تو اسلام کےساتھ عقیدت ہو، عبادت گزاریاں ہوں،تسبیح و مصلےہو،خدا کا ذکر ہو، کھانےپینے اور بعض معاشرتی معاملات میں پرہیز گاریاں ہوں اور وہ سب کچھ ہو جسے مذہبی طرفہ عمل کہا جاتا ہے ، مگر اس شعبے کے سوا ان کی زندگی کے دوسرے تمام پہلوان کے مسلم ہونےکی حیثیت سے مستثنیٰ ہوں۔ وہ محبت کریں تو اپنے نفس یا اپنے مفاد یا اپنے ملک و قوم یا کسی اور کی خاطر کریں ۔ وہ دشمنی کریں اور کسی سے جنگ کریں تو وہ بھی ایسےہی کسی دنیوی یا نفسانی تعلق کی بنا پر کریں۔ ان کے کاروبار، ان کے لین دین، ان کےمعاملات اور تعلقات، ان کا اپنے بال بچوں، اپنےخاندان، اپنی سوسائٹی اور اپنےاہل معامله کےساتھ برتاؤ سب کا سب ایک بڑی حد تک دین سے آزاد اور دنیوی حیثیتوں پر مبنی ہو۔ ایک زمیندار کی حیثیت سے،ایک تاجر کی حیثیت سے،ایک حکمراں کی حیثیت سے، ایک سپاہی کی حیثیت سے، ایک پیشہ ور کی حیثیت سے،ان کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہو جس کا ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ پھر اس قسم کے لوگ مل کر اجتماعی طور پر جو تمدنی، تعلیمی اور سیاسی ادارے قائم کریں وہ بھی ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے خواہ جوئی طور پر متاثر یا منسوب ہوں لیکن فی الواقع ان کو اسلام سے کوئی علاقہ نہ ہو۔

پورے مسلمان

دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارےوجود کو اسلام کے اندر پوری طرح دےدیں۔ان کی ساری چینی ان کےمسلمان ہونےکی حیثیت میں گم ہو جائیں ۔وہ باپ ہوں تو مسلمان کی حیثیت سےبیٹےہوں تو مسلمان ہونےکی حیثیت سے،شوہر یا بیوی ہوں تو مسلمان کی حیثیت سےتاجر، زمیندار، مزدور،ملازم یا پیشہ ور ہوں تو مسلمان کی حیثیت سےان کےجذبات، ان کی خواہشات،اُن کے نظریات،ان کے خیالات اور ان کی رائیں،ان کی نفرت اور رغبت،ان کی پسند اور ناپسند سب کچھ اسلام کے تابع ہو۔ان کےدل و دماغ پر،ان کی آنکھوں اور کانوں پہ ان کےپیٹ اور ان کی شرمگاہوں پر اور ان کےہاتھ پاؤں اور ان کےجسم و جان پر اسلام کا مکمل قبضہ ہو۔ مندان کی محبت اسلام سےآزاد ہو،نہ دشمنی جس سےملیں تو اسلام کےلیےمیں اور جس سےلڑیں تو اسلام کےلیےلڑیں۔کسی کو دیں تو اس لیےدیں کہ اسلام کا تقاضا یہی ہےکہ اسےدیا جائےاور کسی سےروکیں تو اس لیےروکیں کہ اسلام یہی کہتا ہےکہ اس سےروکا جائے۔اور ان کا یہ طرز عمل صرف انفرادی حد تک ہی نہ ہو بلکہ ان کی اجتماعی زندگی بھی سراسر اسلام کی بنیاد ہی پر قائم ہو۔ بحیثیت ایک جماعت کے ان کی بہتی صرف اسلام کے لیے قائم ہو اور ان کا سارا اجتماعی برتاؤ اسلام کے اصولوں ہی پر ملنی ہو۔

خدا کا مطلوب مسلمان

یہ دو قسم کے مسلمان حقیقت میں بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں بچا ہےقانونی حیثیت سے دونوں ایک ہی امت میں شامل ہوں اور دونوں پر لفظ مسلمان کا اطلاق یکساں ہوتا ہو۔ پہلی قسم کے مسلمانوں کا کوئی کارنامہ تاریخ اسلام میں قابلِ ذکر یا قابل فخر نہیں ہے۔ انھوں نے فی الحقیقت کوئی ایسا کام نہیں ہے جس نے تاریخ عالم پر کوئی اسلامی نقش چھوڑا ہو۔ زمین نے ایسے مسلمانوں کا بوجھ کبھی محسوس نہیں کیا ہے اسلام کو اگر تنزیل نصیب ہوا ہے تو ایسے ہی لوگوں کی بدولت ہوا ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کی کثرت مسلم سوسائٹی میں ہو جانے کا نتیجہ اس شکل میں رونما ہوا کہ دنیا کے نظام زندگی کی باگیں کفر کے قبضے میں چلی گئیں اور مسلمان اس کے ماتحت رہ کہ صرف ایک محدود مذہبی زندگی کی آزادی پر قانع ہو گئے ۔ خدا کو ایسے مسلمان ہرگز مطلوب نہ تھے۔ اس نے اپنے انبیاء کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا تھا ، نہ اپنی کتابیں اس لیے نازل کی تھیں کہ صرف اس طرز کے مسلمان دنیا میں بناڈالے جائیں۔ دنیا میں ایسے مسلمانوں کے نہ ہونے سے کسی حقیقی قدر و قیمت لکھنےوالی چیز کی کمی نہ تھی جسے پورا کرنے کے لیے سلسلہ وحی و نبوت کو جاری کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ در حقیقت جو مسلمان خدا کو مطلوب ہیں جنہیں تیار کرنے کے لیےانبیاء کی بعثت اور کتابوں کی تنزیل ہوئی ہے اور جنھوں نے اسلامی نقطہ نظر سےکبھی کوئی قابل قدر کام کیا ہے یا آج کر سکتے ہیں ، وہ صرف دوسری ہی قسم مسلمان ہیں ۔

حقیقی پیروی غلبے کا سبب ہے

یہ چیز صرف اسلام ہی کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ دنیا میں کسی مسالک کا جھنڈا بھی ایسے پیرؤوں کے ہاتھوں کبھی بلند نہیں ہوا ہے جنھوں نے اپنے مسلک کےاقرار اور اس کے اصولوں کی پابندی کو اپنی گل زندگی کے ساتھ صرف ضمیمہ بنا کر رکھا ہو اور جن کا جینا اور مرنا اپنےمسلک کے سوا کسی اور چیز کےلیے ہو۔ آج بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک مسلک کے حقیقی اور پتے پر و صرف وہی لوگ ہوتےہیں جو دل و جان سے اس کے وفادار ہیں، جنھوں نےاپنی پوری شخصیت کو اُس میں گم کر دیا ہےاور جو اپنی کسی چیز کو حتی کہ اپنی جان اور اپنی اولادہ تک کو اس کےمقابلہ میں عزیز تہ نہیں رکھتے۔دنیا کا ہر مسلک ایسےہی پیرو مانگتا ہےاور اگر کسی مسلک کو دنیا میں طلبہ نصیب ہو سکتا ہے تو وہ صرف ایسے ہی پیرووں کی بدولت ہو سکتا ہے۔

مسلمان خالص اللہ کا وفادار

البتہ اسلام میں اور دوسرے مسلکوں میں فرق یہ ہے کہ دوسرے مسلک اگر انسانوں سے اس طرز کی فنائیت اور فدائیت اور وفاداری مانگتے ہیں تویہ فی الواقع انسان پر ان کا حق نہیں ہے بلکہ یہ ان کا انسان سے ایک بے جا مطالبہ ہے۔ اس کے برعکس اسلام اگر انسان سے اس کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ اس کا عین حق ہے۔وہ جن چیزوں کی خاطر انسان سے کہتے ہیں کہ تو اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو اور اپنی پوری شخصیت کو اُن پر نیچ دے، اُن میں سےکوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کا فی الواقع انسان پر یہ حق ہو کہ اُس کی مخاطر انسان اپنی کسی شے کو قربان کرے۔لیکن اسلام جس خدا کےلیے انسان سے یہ قربانی مانگتا ہے وہ حقیقت میں اس کا حق رکھتا ہےکہ اس پر سب کچھ قربان کر دیا جائے ۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔انسان خود اللہ کا ہے جو کچھ انسان کے پاس ہے اور جو کچھ انسان کے اندر ہے سب اللہ کا ہے، اور جن چیزوں سے انسان دنیا میں کام لیتا ہے وہ سب بھی اللہ کی ہیں۔ اس لیے عین تقاضائے عدل اور عین مقتضائے عقل ہے کہ جو کچھ اللہ کا ہےوہ اللہ ہی کے لیے ہو۔ دوسروں کے لیے یا خود اپنے مفاد اور اپنے نفس کےمرطوبات کے لیے انسان جو قربانی بھی کرتا ہے وہ دراصل ایک خیانت ہے، الا یہ کہ وہ خدا کی اجازت سے ہو۔ اور خدا کے لیے جو قربانی کرتا ہے فی الحقیقت وہ لیکن اس پہلو سے قطع نظر کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے اُن لوگوں کے طرز عمل میں ایک بڑا سبق ہے جو اپنے باطل مسلکوں کی خاطر اور اپنے نفس کے جھوٹےمعبودوں کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر رہے ہیں اور اُس استقامت کا ثبوت دےرہے ہیں جس کی نظیر مشکل ہی سے تاریخ انسانی میں ملتی ہے۔ کس قدر عجیب بات ہوگی اگر باطل کے لیے انسانوں سے ایسی کچھ فدائیت اور فنائیت ظہور میں آئےاور حق کے لیے اس کا ہزارواں حصہ بھی نہ ہو سکے۔

محاسبہ نفس

ایمان و اسلام کا یہ معیار جو اس آیت اور اس حدیث میں بیان ہوا ہے،ائیں چاہتا ہوں کہ ہم سب اپنےآپ کو اس پر پرکھ کر دیکھیں اور اس کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں۔اگر آپ کہتےہیں کہ آپ نےاسلام قبول کیا اور ایمان لےآئےتو دیکھیےکہ آیا فی الواقع آپ کاجینا اورمرنا خدا کےلیےہے؟کیا آپ اسی لیےجی رہےہیں اور آپ کےدل اور دماغ کی ساری قابلیتیں،آپ کےجسم اور جان کی ساری قوتیں،آپ کےاوقات اور آپ کی محنتیں کیا اسی کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ خدا کی مرضی آپ کےہاتھوں پوری ہو اور آپ کےذریعہ سےوہ کام انجام پائےجو خدا اپنی مسلم امت سےلینا چاہتا ہے؟پھر کیا آپ نےاپنی اطاعت اور بندگی کو خدا ہی کےلیےمخصوص کر دیا ہے؟کیا نفس کی بندگی خاندان کی،برادری کی،دوستوں کی سوسائٹی کی اور حکومت کی بندگی آپ کی زندگی سےبالکل خارج ہو چکی ہے؟ کیا آپ نےاپنی پسند اور ناپسند کو سرا سر رضائےالہی کےتابع کر دیا ہے ؟ پھر دیکھیے کہ واقعی آپ جس سےمحبت کرتےہیں خدا کے لیے کرتے ہیں؟جس سے نفرت کرتے ہیں خدا کے لیے کرتے ہیں؟ اور اس نفرت اور محبت میں آپ کی نفسانیت کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے ؟ پھر کیا آپ کا دینا اور روکنا بھی خدا کی خاطر ہو چکا ہے ؟ اپنے پیٹ اور اپنے نفس سمیت دنیا میں آپ جس کو ہو کچھ دے رہے ہیں اسی لیے دے رہے ہیں کہ خدا نے اس کا حق مقررہ کیا ہےاور اس کو دینے سے صرف خدا کی رضا آپ کو مطلوب ہے ؟ اور اسی طرح جس سےآپ جو کچھ روک رہے ہیں وہ بھی اسی ہےاسی لیے روک رہے ہیں کہ خدا نے اسے روکنےکا حکم دیا ہے، اور اس کے روکنے میں آپ کو خدا کی خوشنودی حاصل ہونے کی تمنا ہے ؟ اگر آپ یہ کیفیت اپنے اندر پاتے ہیں تو اللہ کا شکر کیجیے کہ اس نے آپ پر نعمت ایمان کا اتمام کر دیا۔ اور اگر اس حیثیت سے آپ اپنے اندر کمی محسوس کرتےہیں تو ساری فکریں چھوڑ کر میں اسی کمی کو پورا کرنے کی فکر کیجیے اور اپنی تمام کوششوں اور محنتوں کو اسی پر مرکوز کر دیجیے، کیوں کہ اسی کسر کے پورے ہونے پر دنیا میں آپ کی فلاح اور آخرت میں آپ کی نجات کا مدار ہے۔ آپ دنیا میں خواہ کچھ بھی حاصل کر لیں اُس کے حصول سے اُس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی جو اس کسر کی بدولت آپ کو پہنچے گا۔ لیکن اگر یہ کسر آپ نے پوری کر لی تو خواہ آپ کو دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو پھر بھی آپ خسارے میں نہ رہیں گے۔

یہ کسوٹی اس مرض کے لیے نہیں ہے کہ اس پر آپ دوسروں کو پرکھیں اور ان کے مومن یا منافق اور مسلم یا کافر ہونے کا فیصلہ کریں۔ بلکہ یہ کسوٹی اس غرض کے لیےہے کہ آپ اس پر خود اپنے آپ کو پر کھیں، اور آخرت کی عدالت میں جانےسےپہلے اپنا کھوٹ معلوم کر کے یہیں اسے دور کرنے کی فکر فرمائیں۔ آپکو فکر اس بات کی نہ ہونی چاہیےکہ دنیا میں مفتی اور قاضی آپ کو کیا قرار دیتےہیں، بلکہ اس کی ہوئی چا ہیےکہ احکم الحاکمین اور علم الغیب والشہادۃ آپ کو کیا قرار دےگا۔آپ اس پر مطمئن نہ ہوں کہ یہاں آپ کا نام مسلمانوں کےرجسٹر میں لکھا ہے،فکر اس بات کی کیجیےکہ خدا کےدفتر میں آپ کیا لکھےجاتے ہیں۔ساری دنیا بھی آپ کو سند اسلام و ایمان دیدےتو کچھ حاصل نہیں۔ فیصلہ جس خدا کے ہاتھ میں ہے اُس کے ہاں منافق کےبجائے مومن ، نافرمان کے بجائے فرمانبردار اور بے وفا کی جگہ وفادار قرار پانا اصل کامیابی ہے ۔

خدا کی اطاعت کس لیے ؟

برادران اسلام ، پچھلے کئی خطبوں سے میں آپ کے سامنے بار بار ایک یہی بات بیان کر رہا ہوں کہ " اسلام" اللہ اور رسول کی اطاعت کا نام ہے، اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہشات کی ، رسم و رواج کی، دنیا کے لوگوں کی مغرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرے۔

آج میں آپ کے سامنےیہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ اور اس کےرسول کی اطاعت پر اس قدر زور آخر کیوں دیاجاتا ہے۔ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ کیا خدا ہماری اطاعت کا بھوکا ہے ، نعوذ باللہ، کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنےرسول" کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے؟ کیا نعوذ باللہ خدا بھی دنیا کےحاکموں کی طرح اپنی حکومت چلانےکی هوس رکھتا ہےکہ جیسے دنیا کےحاکم کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اسی طرح خدا بھی کہتا ہے کہ میری اطاعت کرو ؟ آج میں اسی کا جواب دینا چاہتا ہوں۔

اللہ کی اطاعت میں ہی انسان کی فلاح ہے

اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح و بہتری کے لیے کرتا ہے۔وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے۔ دنیا کےحاکم اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں ۔ مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے۔ اس کو آپ سے ٹیکس لینے کی حاجت نہیں ہے۔ اسےکو ٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنےاور آپ کی کمائی سےاپنےعیش کےسامان جمع کرنےکی حاجت نہیں ہے۔وہ پاک ہے ۔کسی کا محتاج نہیں ۔ دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے، اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے ۔ وہ آپ سے صرف اس لیےاطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کہ اسے آپ ہی کی بھلائی منظور ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہےیا کسی انسان کی غلام ہو، یا ذلیل ہستیوں کے سامنے سر جھکائے ۔وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نےزمین پر اپنی خلافت دی ہےوہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی پھرے،اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کر کےاسفل السافلین میں جا گرتے۔اس لیے وہ فرماتا ہے کہ تم ہماری اطاعت کرو،ہم نے اپنے رسولوں کےذریعہ سے جو روشنی بھیجی ہے اس کو لے کر چلو، پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائیگا اور تم اس راستہ پر چل کر دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی عزت حاصل کر سکو گے۔

لا إكراه في الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيم فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا، وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيده اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم من النُّورِ إِلَى الظُّلمتِ أُولئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمُ فِيهَا خُلِدُونَ ،( البقره : ۲۵۶-۲۵۷)

" یعنی دین میں کوئی کہ بر دستی نہیں ہے۔ہدایت کا سیدھا راستہ جہالت کےٹیڑھےراستوں سےالگ کر کے صاف صاف دکھا دیا گیا ہے۔اب تم میں سےجو کوئی جھوٹےخداؤں اور گمراہ کرنےوالے آقاؤں کو چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لے آیا اس نے ایسی مضبوط رسی تھامی جو ٹوٹنے والی نہیں ہے، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ جو لوگ ایمان لائیں ان کا نگہبان اللہ ہے ۔ وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔اور جو لوگ کفر کا طریقہ اختیار کریں ان کے نگهبانان کے جھوٹے خدا اور گمراہ کرنے والے آقا ہیں ۔ وہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں وہ دوزخ میں جانے والے ہیں جہاں ہمیشہ رہیں گے۔"

غیر اللہ کی اطاعت _______ گمراہی

اب دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی اطاعت سے آدمی اندھیرےمیں کیوں چلا جاتا ہے، اور اس کی کیا وجہ ہے کہ روشنی صرف اللہ ہی کی اطاعت سےمل سکتی ہے۔

آپ دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں آپ کی زندگی بے شمار تعلقات سے جکڑی ہوئی ہے۔ سب سے پہلا تعلق تو آپ کا اپنے جسم کےساتھ ہے۔ یہ ہاتھ ، یہ پاؤں ، یہ آنکھیں ، یہ کان، یہ نہ بان، یہ دل و دماغ ، یہ پیٹ، سب آپ کی خدمت کےلیےاللہ نےآپ کو دیے ہیں۔آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہےکہ ان سےکس طرح خدمت میں پیٹ کو کیا کھلائیں اور کیا نہ کھلائیں؟ہاتھوں سےکیا کام لیں اورکیا نہ لیں؟پاؤں کو کس راستہ پر چلائیں اور کس راستہ پرنہ چلائیں ؟ آنکھ اور کان سےکس قسم کےکام لیں اور کسی قسم کےنہ لیں ؟ زبان کو کن باتوں کےلیےاستعمال کریں ؟ دل میں کیسےخیالات لکھیں دماغ سےکیسی باتیں سوچیں؟ ان سب خادموں سےآپ اچھےکام بھی لےسکتے ہیں اور بڑےبھی۔یہ آپ کو بلند درجےکا انسان بھی بنا سکتےہیں اور جانوروں سےبھی بدتر درجےمیں پہنچا سکتے ہیں۔

پھر آپ کے تعلقات اپنے گھر کے لوگوں سے بھی ہیں۔ باپ، ماں، بہن، بھائی بیوی ، اولاد اور دوسرے رشتہ دار ہیں جن سے آپ کا رات دن کا تعلق ہے۔یہاں آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان سے آپ کسی طرح کا برتاؤ کریں ؟ ان پر آپ کےکیا حق ہیں اور آپ پر ان کے کیا حق ہیں؟ ان کے ساتھ ٹھیک ٹھیک برتاؤ کرنےہی پر دنیا اور آخرت میں آپ کی راحت، خوشی اور کامیابی کا انحصار ہے۔ اگر آپ غلط برتاؤ کریں گے تو دنیا کو اپنے لیے بہتم بنا لیں گے، اور دنیا ہی میں نہیں بلکہ آخرت میں خدا کے سامنے بھی سخت جواب دہی آپ کو کرنی ہوگی۔

پھر آپ کےتعلقات دنیا کے بےشمار لوگوں سے ہیں ۔ کچھ لوگ آپ کے ہمسائےہیں ۔ کچھ آپ کے دوست ہیں۔ کچھ آپ کےدشمن ہیں۔بہت سےوہ لوگ بھی ہیں جو آپ کی خدمت کرتے ہیں۔ کسی سے آپ کو کچھ لینا ہے اور کسی کو کچھ دینا۔کوئی آپ پر بھروسا کر کےاپنےکام آپ کےسپرد کرتا ہے۔کسی پر آپ خود بھروسا کر کےاپنے کام اُس کے سپرد کرتےہیں۔ کوئی آپ کا حاکم ہے اور کسی کے آپ حاکم ہیں۔غرض اتنے آدمیوں کے ساتھ آپ کو رات دن کسی نہ کسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہےجن کا آپ شمار نہیں کر سکتےدنیا میں آپ کی مسرت، آپ کی کامیابی آپ کی عزت اورنیک نامی کا سارا انحصار اس پر ہےکہ یہ سارےتعلقات جو میں نےآپ کےسامنےبیان کیےہیں صحیح اور درست ہوں ۔ اسی طرح آخریت میں خدا کے ہاں بھی آپ صرف اُسی وقت سرخرو ہو سکتے ہیں کہ جب اپنے مالک کےسامنےآپ حاضر ہوں تو اس حال میں نہ جائیں کہ کسی کا حق آپ نے مار رکھا ہو، کسی پر ظلم کیا ہو، کوئی آپ کےخلاف وہاں نائش کرے ، کسی کی زندگی خراب کرنے کا وہاں آپ کے سر پر ہو،کسی کی عزت یا جان یا مال کو آپ نے ناجائز طور پر نقصان پہنچایا ہو۔ لہذا آپ کو یہ فیصلہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ان بے شمار تعلقات کو درست کس طرح رکھا جائے، اور ان کو خراب کرنے والے طریقے کون سے ہیں جن سے پر ہیز کیا جائے۔

اب آپ غور کیجیے کہ اپنے جسم سے ، اپنے گھر والوں سے اور دوسرے تمام لوگوں سے صحیح تعلق رکھنے کے لیے آپ کو ہر ہر قدم پر علم کی روشنی درکار ہے۔ قدیم قدم پر آپ کو یہ معلوم ہونے کی ضرورت ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ؟ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ انصاف کیا ہے اور ظلم کیا ؟ کس کا حق آپ پر کتنا ہے اور کس پر آپ کا حق کتنا ہے؟ کس چیز میں حقیقی فائدہ ہے اور کس چیز میں حقیقی نقصان ہے ؟ یہ علم اگر آپ خود اپنے نفس کے پاس تلاش کر یں گے تو وہاں یہ نہ ملے گا۔اس لیے کہ نفس تو خود جاہل ہے ۔ اس کے پاس خواہشات کے سوا کیا دھرا ہے ؟وہ تو کہے گا کہ شراب پیو، زنا کرو ، حرام کھاؤ، کیوں کہ اس میں بڑا مزا ہے، وہ تو کہےگا کہ سب کا حق مار کھاؤ اور کسی کا حق ادا نہ کرو، کیوں کہ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے،لے لیا سب کچھ اور دیا کچھ نہیں۔ وہ تو کہےگا کہ سب سے اپنا مطلب نکالو اور کسی کےکچھ کام نہ آؤ،کیونکہ اس میں نفع بھی ہےاور آسائش بھی ۔ ایسے جاہل کےہاتھ میں جب آپ اپنے آپ کو دے دیں گے تو وہ آپ کو نیچے کی طرف لے جائیگا،یہاں تک کہ آپ انتہا درجہ کے خود غرض، بدنفس اور بد کار ہو جائیں گے، اور آپ کی دنیا اور دین دونوں خراب ہوں گے ۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ نفس کے بجائے اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں پر بھروسا کریں اور اپنی باگ اُن کے ہاتھ میں دے دیں کہ جدھر وہ چاہیں اُدھر لے جائیں۔اس صورت میں یہ خطرہ ہے کہ ایک خود غرض آدمی کہیں آپ کو خود اپنی خواہش کا فلام نہ بنا ہے ۔ یا ایک مباہل آدمی خود بھی گمراہ ہو اور آپ کو بھی گمراہ کر دے ۔ یا ایک ظالم آپ کو اپنا ہتھیار بنائے اور دوسروں پر ظلم کرنے کے لیے آپ سے کام ہے۔ غرض یہاں بھی آپ کو علم کی وہ روشنی نہیں مل سکتی جو آپ کو صحیح اور غلط کی تمیز بتا سکتی ہو، اور دنیا کی اس زندگی میں ٹھیک ٹھیک راستہ پر چلا سکے۔

حقیقی هدایت صرف اللہ کی طرف سے

اس کے بعد صرف ایک خدائے پاک کی وہ ذات رہ جاتی ہے جہاں سے یہ روشنی آپ کو مل سکتی ہے ۔ خدا علیم اور بصیر ہے۔ وہ ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے۔وہی ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہے کہ آپ کا حقیقی نفع کسی چیزیں ہے اور حقیقی نقصان کسی چیز ہیں ۔ آپ کے لیے کونسا کام حقیقت میں صحیح ہے اور کونسا غلط۔ پھر خداوند تعالیٰ بے نیازہ بھی ہے ۔ اس کی اپنی کوئی عرض ہے ہی نہیں۔ اسے اس کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ معاذ اللہ آپ کو دھوکا دے کر کچھ نفع حاصل کرے۔ اس لیے وہ پاک بے نیاز مالک جو کچھ بھی ہدایت دے گا بے غرض دے گا اور صرف آپ کےفائدے کے لیے دے گا۔ پھر خداوند تعالیٰ عادل بھی ہے۔ ظلم کا اس کی ذات پاک میں شائبہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے وہ سرا سر حق کی بنا پر حکم دے گا۔ اس کے حکم پر چلنے میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ آپ خود اپنے اوپر یا دوسرے لوگوں پر کسی قسم کا ظلم کہ جائیں ۔

الہی هدایت سے استفادہ کیسے ؟

یہ روشنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سےملتی ہے،اس سے فائدہ اٹھانے کے لیےدوباتوں کی ضرورت ہے۔ایک یہ کہ اللہ پر اور اس کےرسول پر جس کےواسطہ سےیہ روشنی آر ہی ہے، بیچتے دل سےایمان لائیں۔یعنی آپ کو پورا یقین ہو کہ خدا کی طرف سےاس کے رسول پاک نےجو کچھ ہدایت دی ہے وہ بالکل بر حق ہے،خواہ اس کی مصلحت آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے ۔ دوسرے یہ کہ ایمان لانے کےبعد آپ اُس کی اطاعت کریں، اس لیے کہ اطاعت کےبغیر کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ فرض کیجیےایک شخص آپ سے کہتا ہےکہ فلاں چیز نہ ہر ہے،مار ڈالنے والی چیز ہے، اسے نہ کھاؤ۔آپ کہتےہیں کہ بے شک تم نےسچ کہا، یہ زہر ہی ہے،مار ڈالنے والی چیز ہے۔مگر یہ جاننے اور ماننے کے باوجود آپ اس چیز کو کھا جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ وہی ہو گا جو نہ جانتے ہوئے کھانے کا ہوتا، ایسےجاننے اور ماننے سے کیا حاصل؟ اصلی فائدہ تو اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب آپ ایمان لانے کے ساتھ اطاعت بھی کریں ۔ جس بات کا حکم دیا گیا ہے اس پر فقط زبان ہی سے آمنا و صدقنا نہ کہیں بلکہ اس پر عمل بھی کریں ۔ اور جس بات سے روکا گیا ہے، اس سے پر ہیز کرنے کا زبانی اقرار ہی نہ کریں بلکہ اپنے اعمال میں اس سےپر ہیز بھی کریں ۔ اسی لیے حق تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ :

اطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (المائده : ۹۲)

"میری اطاعت کرو اور میرے رسول کی اطاعت کرو"-

دان تُطِيعُوهُ تَهْتَدُواء (النور : ۵۴)

"اگر میرے رسول کی اطاعت کرو گے تب ہی تم کو ہدایت ملے گی"-

فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ امْرِةٍ أن تُصِيبَهُم فِتْنَةٌ (النور : ۶۳)

" وہ لوگ جو ہمارے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی آفت میں نہ پڑ جائیں"۔

اللہ اور رسول کی اطاعت کا مطلب

برادران اسلام، یہ جو بار بار میں آپ سے کہتا ہوں کہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے اس کا مطلب آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ آپ کو کسی آدمی کی بات ماننی ہی نہیں چاہیے۔ نہیں، دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے نہ چلیں، بلکہ ہمیشہ یہ دیکھتے رہیں کہ جو شخص آپ سےکسی کام کو کہتا ہے وہ خدا اور رسول کے حکم کے مطابق کہتا ہے یا اس کے خلاف۔اگر مطابق کہتا ہے تو اس کی بات ضرور ماننی چاہیے، کیوں کہ اس صورت میں آپ اس کی اطاعت کب کہ رہے ہیں، یہ تو دراصل اللہ اور اس کے رسول ہی کی اطاعت ہے۔ اور اگر وہ حکم خدا و رسول کے خلاف کہتا ہے تو اس کی بات اس کے منہ پورے ماریے خواہ وہ کوئی ہو ۔ کیوں کہ آپ کے لیے سوائے خدا اور رسول کے کسی کے حکم کی اطاعت جائزہ نہیں ہے۔

یہ بات آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود تو آپ کے سامنے آکر حکم دینےسے ۔ !! اس کو جو کچھ احکام دینے تھے وہ اس نے اپنے رسول کے ذریعہ سےبھیج دیے۔ اب رہے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، تو آپ بھی ساڑھےتیرہ سو برس پہلے وفات پاچکے ہیں۔ آپ کے ذریعہ سے جو احکام خدا نے دیےتھے وہ قرآن اور حدیث میں ہیں۔لیکن قرآن اور حدیث خود بھی چلنےپھرنےاور بولنےاور حکم دینے والی چیزیں نہیں ہیں کہ آپ کے سامنے آئیں اور آکر کسی بات کا کم دیں اور کسی بات سے روکیں ۔ قرآن اور حدیث کے احکام کے مطابق آپ کو چلانے والے بہر حال انسان ہی ہوں گے۔اس لیے انسانوں کی اطاعت کےبغیر تو چارہ نہیں۔البته ضرورت جس بات کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ انسانوں کےپیچھے آنکھیں بند کر کے نہ چلیں بلکہ جیسا کہ میں نے ابھی آپ سے کہا، یہ دیکھیے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق چلا رہے ہیں یا نہیں۔ اگر قرآن وحدیث کے مطابق چلائی تو ان کی اطاعت آپ پر فرض ہے۔ اور اگر اس کے خلاف چلائیں تو ان کی اطلاعات حرام ہے-

دین اور شریعت

برادران اسلام، مذہب کی باتوں میں آپ اکثر دو لفظ سُنا کرتےہیں اوربولتےبھی ہیں۔ ایک دین دوسرے شریعت ۔ لیکن آپ میں سے بہت کم آدمی ہیں جن کو یہ معلوم ہو گا کہ دین کے کیا معنی ہیں اور شریعت کا کیا مطلب ہے ۔ بے پڑھےلکھے تو خیر مجبور ہیں، اچھے خاصے تعلیم یافتہ آدمی بلکہ بہت سے مولوی بھی یہ نہیں جانتے کہ ان دونوں لفظوں کا ٹھیک ٹھیک مطلب کیا ہے اور ان دونوں میں فرق کیا ہے۔ اس ناواقفیت کی وجہ سے اکثر دین کو شریعت سے اور شریعت کو دین سے گڈمڈ کر دیا جاتا ہے اور اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ آج میں بہت سادہ الفاظ میں آپ کو ان کا مطلب سمجھاتا ہوں۔

دین کے معانی

دین کے کئی معنی ہیں ۔ ایک معنی عزت، حکومت ، سلطنت ، بادشاہی اور فرماں روائی کے ہیں۔ دوسرے معنی اس کے بالکل بر عکس ہیں۔یعنی زیر دستی ، الامات غلامی،تابعداری اور بندگی- تیسرے معنی حساب کرنے اور فیصلہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کے ہیں۔ قرآن شریف میں لفظ دین انہی تین معنوں میں آیا ہے۔ فرمایا :

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (آل عمران : ١٩)

یعنی خدا کے نزدیک دین وہی ہے جس میں انسان صرف اللہ کو عزت والا مانے،اور اس کے سوا کسی کے آگے اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے، صرف اللہ کو آقااور مالک اور سلطان سمجھےاور اس کےسوا کسی کا غلام، فرماں بردار اور تابعدار بن کر نہ رہے۔ صرف اللہ کو حساب کرنے اور جزا و سزا دینے والا سمجھے اور اس کےسوا کسی کے حساب سے نہ ڈرے،کسی کی جزا کا لالچ نہ کرے اندر کسی کی سزا کا خوف نہ کھائے۔اسی دین کا نامہ اسلام ہے۔اگر اس کو چھوڑ کر آریا نے کسی اور کو اصلی عزت والاء اصلی حاکم، اصلی بادشاہ اور مالک ، اصلی جزا و سزا دینے والا سمجھا اور اس کے سامنے ذلت سے سر جھکایا، اس کی بندگی اور غلامی کی ، اس کا حکم مانا اور ایس کی جزا کا لالچ اور سزا کا خوف کھایا تو یہ جھوٹا دین ہوگا۔ الله ایسے دین کو ہر گز قبول نہیں کرتا ۔ کیوں کہ یہ حقیقت کے بالکل خلاف ہے ۔ خدا کے سوا کوئی دوسری ہستی اس تمام کائنات میں اصلی حرکت والی نہیں ہے، نہ کسی اور کی سلطنت اور پادشاہی ہےنہ کسی اور کی غلامی اور بندگی کےلیےانسان پیدا کیا گیا ہے،نہ اُس مالک حقیقی کے سوا کوئی اور جزا و سزا دینے والا ہے ۔ یہی بات دوسری آیتوں میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے :

وَمَنْ تَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ : (آل عمران : ۸۵)

یعنی جو شخص خدا کی سلطانی اور بادشاہی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مالک اور حاکم مانے گا اور اس کی بندگی اور غلامی اختیار کرے گا، اور اس کو جزا و سزا دینےوالا سمجھے گا،اس کے دین کو خدا ہر گز قبول کرنے والا نہیں ہے۔ اس لیے کہ :

و ما اُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء (البینه : ۵)

انسانوں کو تو خدا نےاپنا بندہ بنایا ہےاور اپنےسوا کسی اور کی بندگی کرنے کا انھیں حکم ہی نہیں دیا ہے۔ ان کا تو فرض یہ ہےکہ سب طرف سے منہ موڑ کہ صرف اللہ کےلیےاپنے دین، یعنی اپنی اطاعت اور غلامی کو مخصوص کر دیں،اور ریکسیئو ہو کر صرف اسی کی بندگی کریں اور صرف اُسی کے حساب سے ڈریں۔

افغرَ دِينِ اللهِ يَنْغُرُنَ وَلَةً اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَ كَرُهَا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (آل عمران : ۸۳)

کیا انسان خدا کے سوا کسی اور کی غلامی اور فرماں برداری کرنا چاہتا ہے۔حالانکہ زمین اور آسمان کی ساری چیزیں صرف خدا کی غلام اور فرماں بردار ہیں، اور ان ساری چیزوں کو اپنے حساب کتاب کے لیے خدا کے سوا کسی اور کی طرف نہیں جاتا ہے۔کیا انسان زمین اور آسمان کی ساری کائنات کےخلاف ایک نرالا راستہ اپنے لیے نکالنا چاہتا ہے ؟

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ، (التوبه : ۳۳)

اللہ نے اپنے رسول کو سچتےدین کا علم دےکہ اسی لیےبھیجا ہےکہ وہ سارےجھوٹےخداؤوں کی خدائی ختم کر دے اور انسان کو ایسا آزاد کر دے کہ وہ خداوند عالم کے سوا کسی کا بندہ بن کر نہ رہے بچا ہے کفار و مشرکین اس پر اپنی جہالت سےکتنا ہی واویلا مچائیں اور کتنی ہی ناک بھوں چڑھائیں۔

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُله لله (الأنفال : ٣٩)

اور تم جنگ کرو تا کہ دنیا سے غیر اللہ کی فرماں روائی کا فتنہ مٹ جائے،اور دنیا میں میں خدا آن کا تعنون مجھے خدا ہی کی بادشاہی تسلیم کی جائے اور انسان صرف خدا کی بندگی کرے ۔

اس تشریح سے آپ کو معلوم ہو گیا کہ دین کے کیا معنی ہیں ۔

خدا کو آقا اور مالک اور حاکم ماننا ،

خدا ہی کی غلامی ، بندگی اور تا بعداری کرنا ،

اور خدا کے حساب سے ڈرنا، اس کی سزا کا خوف کھانا، اور اسی کی جزا کا لالچ کرنا۔

پھر چونکہ خدا کا حکم انسانوں کو اُس کی کتاب اور اُس کےرسول کےذریعہ ہی سےپہنچتا ہےاس لیےرسول کو خدا کا رسول اور کتاب کو خدا کی کتاب ماننا اور اس کی اطاعت کرنا بھی دین ہی میں داخل ہے ، جیسا کہ فرمایا :

يبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُوا يَتِى فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ، (الأعراف : ۳۵)

"یعنی اے بنی آدم کا جب میرےرسول تمھارے پاس میرے احکام لے کر آئیں تو جو شخص تم میں سے ان احکام کو مان کر پرهیزگاری اختیار کریگا اور ان کے مطابق اپنا عمل درست کر لے گا،اس کےلیےڈر اور رنج کی کوئی بات نہیں ہے۔"

اس سےمعلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست ہر انسان کےپاس اپنے احکام نہیں بھیجتا بلکہ اپنے رسولوں کے واسطہ سے بھیجتا ہے، اس لیے جو شخص اللہ کو حاکم مانتا ہو، وہ اس کی فرماں برداری صرف اسی طرح کر سکتا ہے کہ اس کے رسولوں کی فرمان برداری کرے، اور رسول کے ذریعہ سے جو احکام آئیں ان کی اطاعت کرے۔ اسی کا نام دین ہے۔

شریعت کیا ہے؟

ب میں آپ کو بتاؤں گا کہ شریعت کسے کہتے ہیں۔ شریعت کے معنی طریقےاور راستے کے ہیں۔ جب تم نے خدا کو حاکم مان لیا اور اس کی بندگی قبول کر لی اور یہ تسلیم کر لیا کہ رسول اسی کی طرف سے حاکم مجاز ہے، اور کتاب اسی کی طرف سے ہے،تو تم دین میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد تم کو جس طریقے سے خدا کی بندگی کرتی ہے،اور اس کی فرمانبرداری میں جس راستہ پر چلنا ہے اس کا نام شریعت ہے۔ یہ طریقہ اور راستہ بھی خدا اپنےرسول ہی کےذریعہ سے بتانا ہے۔وہی یہ سکھاتا ہے کہ اپنےمالک کی عبادت اس طرح کرو ، طہارت اور پاکیزگی کا یہ طریقہ ہےنیکی اور نقوی کا یہ راستہ ہےحقوق اس طرح ادا کرنےبچا نہیں،معاملات یوں انجام دینے چاہیں۔اور زندگی اس طرح بسر کرنی چاہیے۔لیکن فرق یہ ہےکہ دین ہمیشہ سے ایک تھا ایک ہی رہا اور اب بھی ایک ہی ہے ۔ مگر شریعتیں بہت سی آئیں ، بہت سی منسوخ ہوئیں،بہت سی بدلی گئیں، اور کبھی ان کے بدلنے سے دین نہیں بدلا۔ حضرت نوح کا دین بھی وہی تھا جو حضرت ابراہیم کا تھا، حضرت موسیٰ اور عیسی کا تھا ، حضرت شعیب اور حضرت صالح اور حضرت ہود کا تھا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔مگر شریعتیں ان سب کی کچھ نہ کچھ مختلف رہی ہیں ۔ نمازہ اور روزے کے طریقے کسی میں کچھ تھے اور کسی میں کچھ حلال اور حرام کے احکام، طہارت کے قاعدے، نکاح اور طلاق اور وراثت کے قانون ہر شریعت میں دوسری شریعت سے کچھ نہ کچھ مختلف رہے ہیں۔ ان کے باوجود سب مسلمان تھے۔حضرت نوح کے پیرو بھی،حضرت ابراہیم کے پیرو بھی، حضرت موسیٰ کے پیرو بھی اور ہم بھی ۔ اس لیے کہ دین سب کا ایک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کے احکام میں فرق ہونےسے دین میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دین ایک ہی رہتا ہے، چاہے اس پر عمل کرتےکے طریقے مختلف ہوں۔

شریعتوں کے فرق کی نوعیت

اس فرق کو یوں سمجھو کہ ایک آقا کےبہت سےنوکرہ ہیں ۔جو شخص اس کو آقا ہی نہیں مانتا اور اس کے حکم کو اپنےلیے واجب التعمیل ہی نہیں سمجھتا، وہ تو نا فرمان ہے اور نوکری کے دائرے ہی سے خارج ہے۔ اور جو لوگ اس کو آقا تسلیم کرتے ہیں،اس کے حکم کو ماننا اپنا فرض جانتے ہیں اور اس کی نافرمانی سےڈرتے ہیں، وہ سب نوکروں کےزمرے میں داخل ہیں۔نوکری بجا لانےاور خدمت کرنےکےطریقے مختلف ہوں تو اس سے ان کے نوکر ہونے میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔اگر آقا نے کسی کو نوکری کا ایک طریقہ بتایا ہے اور دوسرے کو دوسرا طریقہ ، تو ایک نوکر کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ نہیں نوکر ہوں اور وہ نوکر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر آقا کا حکم سن کر ایک نو کہ اس کا منشا کچھ سمجھتا ہےاور دو سرا کچھ اور،اور دونوں اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں،تو نوکری میں دونوں برابر ہیں۔یہ ہو سکتا ہےکہ ایک نے مطلب سمجھنےمیں غلطی کی ہو، اور دوسرے نے صحیح مطلب سمجھا ہو۔ لیکن جب تک اطاعت سے کسی نے انکار نہ کیا ہو کسی کو کسی سے یہ کہنے کا حق نہیں کہ تو نا فرمان ہے یا تجھے آقا کی نوکری سے خارج کر دیا گیا ہے۔

اس مثال سے آپ دین اور شریعت کے فرق کو بڑی اچھی طرح سمجھ سکتےہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اللہ تعالیٰ مختلف رسولوں کےذریعہ سےمختلف شریعتیں بھیجتا رہا۔کسی کو نوکری کا ایک طریقہ بتایا اور کسی کو دوسرا طریقہ۔ ان سب طریقوں کےمطابق جن جن لوگوں نےمالک کی اطاعت کی وسب مسلمان تھے، اگر چہ ان کی نوکری کے طریقے مختلف تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آقا نے حکم دیا کہ اب پچھلے طریقوں کو ہم منسوخ کرتےہیں۔ آئندہ سے جس کو ہماری نوکری کرنی ہو وہ اس طریقے پر نوکری کرےجواب ہم اپنےآخری پیغمبر کے ذریعہ سےبتاتے ہیں۔ اس کے بعد کسی نوکر کو پچھلے طریقوں پر نوکری کرنے کا حق باقی نہیں رہا۔ کیوں کہ اب اگر وہ نئے طریقے کو نہیں مانتا،اور پرانے طریقوں پر پھیل رہا ہے تو وہ در اصل آقا کا حکم نہیں مانتا بلکہ اپنے دل کا کہا مان رہا ہے ، اس لیے وہ نوکری سے خارج ہے۔ یعنی مذہب کی زبان میں کافر ہو گیا ہے۔

فقہی مسلکوں کے فرق کی نوعیت

یہ تو پچھلے انبیاء کے ماننے والوں کے لیے ہے ۔ رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو، تو ان پر اس مثال کا دوسرا حصہ صادق آتا ہے ۔ اللہ نے جو شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہم کو بھیجی ہے اس کو خدا کی شریعت ماننے والےاور اسےواجب التعمیل سمجھنےوالےسب کےسب مسلمان ہیں۔اب اگر اس شریعت کے احکام کو ایک شخص کسی طرح سمجھتا ہے اور دوسرا کسی اور طرح ، اور دونوں اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس پر عمل کرتےہیں، تو چاہے ان کے عمل میں کتنا ہی فرق ہو، ان میں سے کوئی بھی نوکری سے خارج نہ ہوگا۔ اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک میں طریقہ پر چل رہا ہے یہی سمجھ کر تو چل رہا ہے کہ یہ آقا کا حکم ہے ۔ پھر ایک نوکر کو یہ کہنےکا کیا حق ہے کہ میں تو نوکر ہوں اور فلاں شخص نو کر نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ بس وہ یہی کہ سکتا ہےکہ میں نے آقا کےحکم کا صحیح مطلب سمجھا اور اس نےصحیح نہیں سمجھا۔مگر وہ اس کو نوکری سےخارج کر دینے کا مجاز کیسے ہو گیا ؟ جو شخص ایسی جرات کرتا ہے وہ گویا خود آقا کا منصب اختیار کرتا ہے۔ وہ گویا یہ کہتا ہےکہ تو جس طرح آقا کےحکم کو ماننے پر مجبور ہے اسی طرح میری سمجھ کو بھی ماننے پر مجود ہے۔ اگر تو میری سمجھ کو نہ مانے گا تو میں اپنے اختیار سے تجھ کو آقا کی نوکری سے خارج کر دوں گا۔ غور کرو یہ کتنی بڑی بات ہے۔ اسی لیےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مو جو شخص کسی مسلمان کو ناحق کافر کہےگا اُس کا قول خود اسی پر پلٹ جائےگائی کیوں کہ مسلمان کو تو خدا نےاپنےمحکم کا غلام بنایا ہے،مگر یہ شخص کہتا ہے کہ نہیں تم میری سمجھ اور میری رائے کی بھی غلامی کر و۔ یعنی صرف خدا ہی تمھارا خدا نہیں ہےبلکہ میں بھی چھوٹا خدا ہوں، اور میرا حکم نہ مانو گے تو میں اپنے اختیار سے تم کو خدا کی بندگی سے خارج کر دوں گا چاہے خدا خارج کرے یا نہ کرے ۔ ایسی بڑی بات جو شخص کہتا ہے اس کے کہنے سے چاہے دوسرا مسلمان کا فر ہو یا نہ ہوا مگر وہ خود تو اپنے آپ کو کفر کے خطرے میں ڈال ہی دیتا ہے۔

حاضرین ، آپ نے دین اور شریعت کا فرق اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا ، اور یہ بھی آپ نے جان لیا ہو گا کہ بندگی کےطریقوں میں اختلاف ہو جانےسےدین میں اختلاف نہیں ہوتا،بشرطیکہ آدمی جس طریقہ پر عمل کرے نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھ کر عمل کرے کہ خدا اور اس کے رسول نے وہی طریقہ بتایا ہے جس پر وہ عامل ہے، اور اُس کے پاس اپنے اس طرفہ عمل کے لیے خدا کی کتاب یا اس کے رسول کی سنت سے کوئی سند موجود ہو۔

دین اور شریعت کا فرق نہ سمجھنے کی خرابیاں

اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دین اور شریعت کے اس فرق کو نہ سمجھنےسے آپ کی جماعت میں کتنی خرابیاں واقع ہو رہی ہیں۔

مسلمانوں میں نماز پڑھنےکے مختلف طریقے ہیں۔ ایک شخص سینے پر ہاتھ باندھتا ہے اور دوسرا ناف پر باندھتا ہے ۔ ایک شخص امام کے پیچھے فاتحہ پڑھتا ہے اور دوسرا نہیں پڑھتا ۔ ایک شخص آمین زور سے کہتا ہے ، دوسرا آہستہ کہتا ہے۔ان میں سےہر شخص جس طریقہ پر چل رہا ہے یہی سمجھ کر چل رہا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور اس کےلیےوہ اپنی سند پیش کرتا ہے۔اس لیے نماز کی صورت میں مختلف ہونے کے باوجود دونوں حضور ہی کے پیرو ہیں۔مگر جن ظالموں نے شریعت کے ان مسائل کو دین سمجھ رکھا ہے انھوں نے محض انہی طریقوں کےاختلاف کو دین کا اختلاف سمجھ لیا۔اپنی جماعتیں الگ کر لیں،اپنی مسجدیں الگ کر لیں، ایک نے دوسرے کو گالیاں دیں، مسجدوں سے باربار کر نکال دیا ، مقدمے بازیاں کیں اور رسول اللہ کی امت کو ٹکڑے ٹکڑے کو ٹالا۔

اس سے بھی لڑنےاور لڑانےوالوں کے دل ٹھنڈےنہ ہوئےتو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک نےدوسرے کو کافر اور فاسق اور گمراہ کہنا شروع کر دیا۔ ایک شخص قرآن سے یا حدیث سے ایک بات اپنی سمجھے کے مطابق نکالتا ہےتو وہ اس کو کافی نہیں سمجھتا کہ جو کچھ اس نےسمجھا ہےاس پر عمل کرے،بلکہ یہ بھی ضروری سمجھتا ہے کہ دوسروں سے بھی اپنی سمجھ زبردستی تسلیم کرائے، اور اگر وہ اسے تسلیم نہ کریں تو ان کو خدا کے دین سے خارج کر دے۔

آپ مسلمانوں میں حنفی ، شافعی ، اہل حدیث وغیرہ جو مختلف مذہب دیکھ رہے ہیں یہ سب قرآن و حدیث کو آخری سند مانتے ہیں اور اپنی اپنی سمجھ کےمطابق وہیں سےاحکام نکالتےہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک کی سمجھ صحیح ہو اور دوسرےکی غلط ہو۔میں بھی ایک طریقہ کا پیرو ہوں اور اس کو صحیح سمجھتا ہوں،اور اس کے خلاف جو لوگ ہیں ان سےبحث بھی کرتا ہوں، تا کہ جو بات میرےنزدیک صحیح ہے وہ ان کو سمجھاؤں اور جس بات کو میں غلط سمجھتا ہوں اسےغلط ثابت کروں لیکن کسی شخص کی سمجھ کا غلط ہونا اور بات ہےاور اس کا دین سے خارج ہو جانا دوسری بات۔ اپنی اپنی سمجھ کے مطابق شریعت پر عمل کرنے کا ہر مسلمان کو حق ہے۔اگر دس مسلمان دس مختلف طریقوں پر عمل کریں تو جب تک وہ شریعت کو مانتے ہیں،وہ سب مسلمان ہی ہیں۔ ایک ہی امت ہیں، ان کی جماعتیں الگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ مگر جو لوگ اس چیز کو نہیں سمجھتے وہ اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر فرقے بناتے ہیں،ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں، اپنی نمازیں اور مسجدیں الگ کر لیتے ہیں، ایک دوسرے سے شادی بیاہ ، میل جول اور ربط و ضبط بند کر دیتے ہیں اور اپنے اپنےہم مذہبوں کے جتھے اس طرح بنا لیتے ہیں کہ گویا ہر جتھا ایک الگ امت ہے۔

فرقہ بندی کے نقصانات

آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس فرقہ بندی سے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ کہنے کو مسلمان ایک امت ہیں۔ ہندوستان میں ان کی آٹھ کروڑ کی تعداد ہے۔اتنی بڑی جماعت اگر واقعی ایک ہو اور پورے اتفاق کے ساتھ خدا کا کلم بلند کرنےکے لیے کام کرے تو دنیا میں کون اتنا دم رکھتا ہے جو اس کو نیچا دکھا سکے مگر حقیقت میں اس فرقہ بندی کی بدولت اس امت کے سینکڑوں ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ سخت سےسخت مصیبت کےوقت میں بھی مل کہ نہیں کھڑے ہو سکتے۔ایک فرقےکا مسلمان دوسرے فرقے والوں سے اتنا ہی تعصب رکھتا ہے جتنا ایک یہودی ایک عیسائی سے رکھتا ہے، بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر۔ ایسےواقعات دیکھنے میں آئے ہیں کہ ایک فرقے والے نے دوسرےفرقے والے کو نیچا دکھانے کے لیے کفار کا ساتھ دیا ہے۔ ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کو آپ مغلوب دیکھ رہے ہیں تو تعجب نہ کیجیے۔ یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ ان پر وہ عذاب نازل ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں اس طرح بیان کیا ہے کہ :


١- یاد ہے کہ یہ خطبات ۳۸ - ۱۹۳۷ء میں بستی دارالاسلام ( پٹھا نکوٹ) میں دیے گئے تھے۔

أوْ يَلْبِسَكُمْ شَبَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأسَ بَعْضٍ ( انعام: ۶۵)

" یعنی اللہ کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ تم کو مخالف فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم آپس میں ہی کٹ مرو"-

بھائیو ، یہ مذاب جس میں سارے ہندوستان کے مسلمان مبتلا ہیں ، اس کےآنا نہ مجھے پنجاب میں سب سے زیادہ نظر آ رہے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کے فرقوں کی لڑائیاں ہندوستان کے ہر خطہ سے زیادہ ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پنجاب کی آبادی میں کثیر التعداد ہونے کے باوجود آپ کی قوت بے اثر ہے۔ اگر آپ اپنی خیر چاہتے ہیں تو ان جتھوں کو توڑیے ۔ ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہیے اور ایک امت بن جائیے۔ خدا کی شریعت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر اہل حدیث ، حنفی دیوبندی، بریلوی ، شیعہ ، شئی وغیرہ الگ الگ اقتیں بن سکیں۔ یہ امتیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اللہ نے صرف ایک اُمت " امت مسلمہ" بنائی تھی۔

باب سوم

باب سوم

نماز

عبادت

نماز

نماز میں آپ کیا پڑهتے ہیں؟

نماز با جماعت

نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں ؟

عبادت

برادران اسلام، پچھلے خطبہ میں ہمیں نے آپ کو دین اور شریعت کا مطلب سمجھایا تھا۔ آج میں آپ کے سامنے ایک اور لفظ کی تشریح کروں گا مجھے مسلمان عام طور پر بولتے ہیں، مگر بہت کم آدمی اس کا صحیح مطلب جانتے ہیں ۔ یہ "عبادت" کا لفظ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں بیان فرمایا ہے کہ :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۶)

" یعنی میں نے تین اور انسان کو اس کے سوا اور کسی غرض کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔

اس آیت سےمعلوم ہوا کہ آپ کی پیدائش اور آپ کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت کےسوا اور کچھ نہیں ہے۔اب آپ اندازہ کر سکتےہیں کہ عبادت کا مطلب جاننا آپکے لیے کس قدر ضروری ہے۔ اگر آپ اس کے صحیح معنی سے ناواقف ہوں گے تو گویا اس مقصد ہی کو پورا نہ کر سکیں گے جس کے لیے آپ کو پیدا کیا گیا ہے، اور جو چیز اپنےمقصد کو پورا نہیں کرتی وہ ناکام ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر اگر مریض کو انتھا نہ کہ سکے تو کہتے ہیں کہ وہ علاج میں ناکام ہوا۔ کسان اگر فصل پیدا نہ کر سکے تو کہتے ہیں کہ وہ زراعت میں ناکام ہوا۔ اسی طرح اگر آپ اپنی زندگی کےاصل مقصد یعنی "عبادت" کو پورا نہ کر سکےتو کہنا چاہیے کہ آپ کی ساری زندگی ہی نا کامیاب ہو گئی۔ اس لیےہیں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ پورے غور کے ساتھ عبادت کا مطلب نہیں اور مجھیں ۔اور اُسے اپنے دل میں جگہ دیں، کیوں کہ اسی پر آپ کی زندگی کے کامیاب یا ناکام ہونے کا انحصار ہے۔

عبادت کا مطلب

عبادت کا لفظ "عبد" سے نکلا ہے۔ عبد کے معنی بندے اور غلام کے ہیں۔اس لیے عبادت کے معنی بندگی اور غلامی کےہوئے۔جو شخص کسی کا بندہ ہو،اگر وہ اس کی خدمت میں بندہ بن کر رہےاور اس کےساتھ اس طرح پیش آئے جس طرح آقا کے ساتھ پیش آنا چاہیے تو یہ بندگی اور عبادت ہے۔ اس کے برعکس جو شخص کسی کا بندہ ہو اور آقا سےتنخواہ بھی پوری پوری وصول کرتا ہو،مگر آقا کے حضور میں بندوں کا سا کام نہ کرے تو اسے نافرمانی اور سرکشی کہا جاتا ہے، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں اسے نمک حرامی کہتے ہیں۔

اب غور کیجیے کہ آقا کے مقابلہ میں بندوں کا سا طریقہ اختیار کرنے کی صورت کیا ہے۔

* بندے کا پہلا کام یہ ہے کہ آقا ہی کو آقا سمجھے اور یہ خیال کرے کہ جو میرا مالک ہے، جو مجھے رزق دیتا ہے، جو میری حفاظت اور نگهبانی کرتا ہے،اُسی کی وفاداری مجھ پر فرض ہے، اس کے سوا اور کوئی اس کا مستحق نہیں کہ میں اس کی وفاداری کریں-

بندے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ہر وقت آقا کی اطاعت کرے، اس کے حکم کو بجالائے،کبھی اس کی خدمت سےمنہ نہ موڑے،اور آقا کی مرضی کےخلاف نہ خود اپنے دل سے کوئی بات کرے، نہ کسی دوسرے شخص کی بات مانے۔ غلام ہر قوت ہر حال میں غلام ہے۔ اسے یہ کہنے کا حق ہی نہیں کہ آقا کی فلاں بات مانوں گا اورفلاں بات نہ مانوں گا ۔ یا اتنی دیر کے لیے میں آقا کا غلام ہوں اور باقی وقت میں اس کی غلامی سے آزاد ہوں ۔

بندے کا تیسرا کام یہ ہے کہ آقا کا ادب اور اس کی تعظیم کرےکرے ۔ جو طریقہ اوب اور تعظیم کرنے کا آقا نے مقرر کیا ہو اس کی پیروی کرے ۔ جو وقت اسلامی کے لیے حاضر ہونے کا آقا نے مقرر کیا ہو اس وقت ضرور حاضر ہو اور اس بات کا ثبوت دے کراس کی وفاداری اور اطاعت میں ثابت قدم ہوں ۔

بس یہی تین چیزیں ہیں جن سےمل کر عبادت بنتی ہے۔ایک آقا کی وفاداری دوسرے آقا کی اطاعت اور تیسرے اس کاادب اور اس کی تعظیم۔اللہ تعالےنےجو یہ فرمایا کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔تو اس کا مطلب دراصل یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے جن اور انس کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف اللہ کے وفادار ہوں، اس کے خلاف کسی اور کےوفادار نہ ہوں۔صرف اللہ کےاحکام کی اطاعت کریں ۔ اس کے خلاف کسی اور کا حکم نہ مائیں۔ اور صرف اس کے آگے ادب اور تعظیم سے سر جھکائیں کسی دوسرے کے آگے سر نہ جھکائیں۔انہی تین چیزوں کو اللہ نے عبادت کے جامع لفظ میں بیان کیا ہے ۔ یہی مطلب ان تمام آیتوں کا ہے جن میں اللہ نے اپنی عبادت کا حکم دیا ہے ۔ ہمارے نبی کریم اور آپ سے پہلے جتنے نبی خدا کی طرف سے آئے ہیں اُن سب کی تعلیم کا سارا است کہاہےیہی ہے کہ اَلا تَعْبُدُوا إِلا آیا اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یعنی مصرف ایک بادشاہ ہے جس کا تمھیں وفادار ہونا چاہیے، اور وہ بادشاہ اللہ ہے۔ صرف ایک قانون ہے جس کی تمھیں پیروی کرنی چاہیے، اور وہ قانون اللہ کا قانون ہے۔اور صرف ایک ہی مہستی ایسی ہے جس کی تمھیں پوجا اور پرستش کرنی چاہیے، اور وہ ہستی اللہ کی ہے۔

عبادت کے غلط مفہوم کے نتائج

عبادت کا یہ مطلب اپنے ذہن میں رکھیے، اور پھر ذرا میرے سوالات کا جواب دیتے جائیے۔

آپ اُس نوکر کےمتعلق کیا کہیں گے جو آقا کی مقرر کی ہوئی ڈیوٹی پر جانےکے بجائے ہر وقت بس اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ر ہے اور لاکھوں مرتبہ اس کا نام بہتا چلا جائے ؟ آقا اس سے کہتا ہے کہ جا کہ فلاں فلاں آدمیوں کے حق ادا کی۔ مگر یہ جانا نہیں بلکہ وہیں کھڑے کھڑے آقا کو ٹھیک ٹھیک کر دس سلام کرتا ہےاور پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔آقا اُسےحکم دیتا ہےکہ جا اور فلاں فلاں خرابیوں کو مٹادے، مگر یہ ایک انچ وہاں سے نہیں ہٹتا اور سجدے پر سجدےکیسے چلا جاتا ہے ۔آقا حکم دیتا ہےکہ چور کا ہاتھ کاٹ دے ۔ یہ حکم سن کر بس وہیں کاٹ دے بیسیوں مرتبہ پڑھتا رہتا ہے، اگر ایک دفعہ بھی اس نظام حکومت کےقیام کی کوشش نہیں کرتا جس میں چور کا ہاتھ کاٹا جا سکے۔کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ شخص حقیقت میں آقا کی بندگی کر رہا ہے ؟ اگر آپ کا کوئی ملازم یہ رویہ اختیار کرے تو میں نہیں جانتا ہوں کہ آپ اسے کیا کہیں گے ۔ مگر محیرت ہے آپ پر کہ خدا کا جو نوکر ایسا کرتا ہے آپ اُسے بڑا عبادت گزار کہتے ہیں ! یہ ظالم صبح سے شام تک خدا جانےکتنی مرتبہ قرآن شریف میں خدا کےاحکام پڑھتا ہےمگر ان احکام کو بجالانےکےلیےاپنی جگہ سےجنبش تک نہیں کرتا،بلکہ نفل پر نفل پڑھے جاتا ہے، ہزار دانہ تسبیح پر خدا کا نام بیتا ہےاور خوش الحانی کےساتھ قرآن کی تلاوت کرتا رہتا ہے۔آپ اس کی یہ حرکتیں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیسا نا ہر عابد بندہ ہے ! یہ غلط فہمی صرف اس تعبیر سے ہے کہ آپ عبادت کا صحیح مطلب نہیں جانتے۔


١-( یوسف : ۴۰)

ایک اور نوکر ہےجو رات دن ڈیوٹی تو غیروں کی انجام دیتا ہے، احکام غیروں کے سنتا اور ماننا ہے، قانون پر غیروں کےعمل کرتا ہےاور اپنےاصلی آقا کےفرمان کی ہر وقت خلاف ورزی کیا کرتا ہے، مگر سلامی کے وقت آقا کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے اور زبان سےآقا ہی کا نام جپتا رہتا ہے۔اگر آپ میں سےکسی شخص کا نوکر یہ طریقہ اختیار کرے تو آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ اس کی سلامی کو اس کےمنہ پر نہ مار دیں گے؟جب وہ زبان سے آپ کو آقا اور مالک کہے گا تو کیا آپ فورا یہ جواب نہ دیں گے کہ تو پرلے درجے کا جھوٹا اور بے ایمان ہے، تنخواہ مجھ سے لیتا ہے اور نوکری دوسروں کی کرتا ہے، زبان سے مجھے آقا کہتا ہے اور حقیقت میں میرے سوا ہر ایک کی خدمت کرتا پھرتا ہے ؟ یہ تو ایک معمولی عقل کی بات ہےجسے آپ میں سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے ۔ مگر کیسی حیرت کی بات ہےکہ جو لوگ رات دن خدا کےقانون کو توڑتےہیں،کفار و مشرکین کےاحکام پر عمل کرتےہیں اور اپنی زندگی کے معاملات میں خدا کے احکام کی کوئی پروا نہیں کرتے ، اُن کی نماز اور روزےاور تسبیح اور تلاوت قرآن اور حج و زکواۃ کو آپ خدا کی عبادت سمجھتےہیں۔ یہ غلط فہمی کبھی اسی وجہ سے ہےکہ آپ عبادت کے اصل مطلب سے ناواقف ہیں۔

ایک اور نوکر کی مثال لیجیے ۔ آقا نے اپنے نوکروں کے لیے جو وردی مقرر کی ہے ، یہ ٹھیک ناپ تول کے ساتھ اُس وردی کو پہنتا ہے ، بڑے ادب اور تعظیم کے ساتھ آقا کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے، ہر حکم کو سُن کر اس طرح جھک کر بسر چشم کہتا ہے کہ گویا اس سے بڑھ کر اطاعت گزار خادم کوئی نہیں ۔ سلامی کے وقت سب سے آگے جا کر کھڑا ہوتا ہے اور آقا کا نام جینے میں تمام نوکروں سے بازی لے جاتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہی شخص آقا کے دشمنوں اور باغیوں کی خدمت بجا لاتا ہے،آقا کے خلاف اُن کی سازشوں میں حصہ لیتا ہے اور آقا کے نام کو دنیا سے مٹانےمیں جو کوشش بھی وہ کرتے ہیں اُس میں یہ کمبخت اُن کا ساتھ دیتا ہے۔ رات کےاندھیرے میں تو آقا کے گھر میں نقب لگاتا ہے اور صبح بڑے وفادار ملازموں کی طرح ہاتھ باندھ کہ آقا کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہے،ایسےنوکر کے متعلق آپ کیا کہیں گے ؟ یہی نا کہ وہ منافق ہے، باطنی ہے ، نمک حرام ہے ۔ مگر خدا کے جو نوکر ایسےہیں ان کو آپ کیا کہا کرتے ہیں؟ کسی کو پیر صاحب اور کسی کو حضرت مولانا اور کسی کو دیندار منتقی اور عبادت گزار ۔ یہ صرف اس لیے کہ آپ ان کے منہ پر پورناپ کی ڈاڑھیاں دیکھ کر، ان کے ٹخنوں سے دو دو انچ اونچے پاجامے دیکھ کر،اُن کی پیشانیوں پر نماز کے گئے دیکھ کر اور ان کی لمبی لمبی نماز یں اور موٹی موٹی تسبیحیں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ بڑے دیندار اور عبادت گزار ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی اسی وجہ سےہے کہ آپ نے عبادت اور دینداری کا مطلب ہی غلط سمجھا ہے ۔

آپ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر قبلہ رو کھڑے ہونا ، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ٹھکنا،زمین پر ہاتھ ٹیک کر سجدہ کرنا اور چند مقرر الفاظ زبان سے ادا کرنا ، بس یہی چند افعال اور حرکات بجائے خود عبادت ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ سےشوال کا چاند نکلنے تک روزانہ صبح سےشام تک بھوکےپیاسےرہنےکا نام عبادت ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ قرآن کے چند رکوع زبان سے پڑھ دینے کا نام عبادت ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ مکہ معظمہ جا کر کتےکےگرد طواف کرنے کا نام عبادت ہے۔ فرض آپ نے چند افعال کی ظاہری شکلوں کا نام عبادت رکھ چھوڑا ہے،اور جب کوئی شخص ان شکلوں کے ساتھ ان افعال کو ادا کر دیتا ہے تو آپ خیال کرتے ہیں کہ اس نے خدا کی عبادت کر دی اور وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کا مقصد پورا ہو گیا۔ اب وہ اپنی زندگی میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے ۔

عبادت پوری زندگی میں بندگی

لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جس عبادت کےلیے آپ کو پیدا کیا ہے اور جس کا آپ کو حکم دیا ہے وہ کچھ اور ہی چیز ہے وہ عبادت یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جائیں جو قانونِ الہی کے خلاف ہو۔ آپ کی ہر جنبش اُس حد کے اندر ہو جو خدا نے آپ کے لیے مقرر کی ہے۔ آپ کا ہر فعل اس طریقہ کےمطابق ہو جو خدا نے بتا دیا ہے۔ اس طرز پر جو زندگی آپ بسر کریں گے وہ پوری کی پوری عبادت ہوگی ۔ ایسی زندگی میں آپ کا سونا بھی عبادت ہے اور جا گنا بھی، کھانا بھی عبادت ہے اور پینا بھی، چلنا پھرنا بھی عبادت ہے اور بات کرنا بھی۔حتی کہ اپنی بیوی کے پاس جانا اور اپنےبچےکو پیار کرنا بھی عبادت ہے۔جن کاموں کو آپ بالکل دنیا داری کہتےہیں وہ سب دینداری اور عبادت ہیں اگر آپ اُن کو انجام دینےمیں خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا لحاظ کریں اور زندگی میں ہر ہر قدم پر یہ دیکھ کر چلیں کہ خدا کےنزدیک جائز کیا ہےاور ناجائز کیا؟حلال کیا ہے اور خوش ہوتا ہے اور کس سے ناراض ہوتا ہے ؟ مثلاً آپ روزی کمانےکےلیےنکلتےہیں۔اس کام میں بہت سےمواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال کافی آسانی کےساتھ آپ کو مل سکتا ہے۔ اگر آپ نے خدا سے ڈر کر وہ مال نہ لیا اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو یہ جتنا وقت آپ نے روٹی کمانےپر صرف کیا یہ سب عبادت تھا اور یہ روٹی گھر لا کر جو آپ نے خود کھائی اور اپنی بیوی بچوں اور خدا کےمقرر کیےہوئےدوسرےحقداروں کو کھلائی،اس سب پر آپ اجر و ثواب کے مستحق ہو گئے۔ آپ نے اگر راستہ چلنے میں کوئی پتھر یا کانٹا ہٹا دیا ، اس خیال سے کہ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ ہو، تو یہ بھی عبادت ہے۔آپ نے اگر کسی بیمار کی خدمت کی، یا کسی اپنےکو راستہ چلایا ، یا کسی مصیبت زدہ کی مدد کی، تو یہ بھی عبادت ہے۔آپ نےاگر بات چیت کرنےمیں جھوٹ سےغیبت سے بد گوئی اور دل آزاری سے پر ہیز کیا، اور خدا سےڈر کر صرف حق بات کی،تو جتنا وقت آپ نےبات چیت میں صرف کیا وہ سب عبادت میں صرف ہوا۔

پس خدا کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے مرتے دم تک آپ خدا کے قانون پر ملیں اور اس کےاحکام کےمطابق زندگی بسر کریں۔اس عبادت کےلیےکوئی وقت مقرر نہیں ہےیہ عبادت ہر وقت ہونی چاہیےاس عبادت کی کوئی ایک شکل نہیں ہے، ہر کام اور ہر شکل میں اسی کی عبادت ہوئی چاہیے۔ جب آپ یہ نہیں کہہ سکتےکہ میں فلاں وقت خدا کا بندہ ہوں اور فلاں قوت اس کا بندہ نہیں ہوں، تو آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ فلاں وقت خدا کی بندگی و عبارات کے لیے ہے اور فلاں وقت اس کی بندگی و عبادت کے لیے نہیں ہے۔

بھائیوں،آپ کو عبادت کا مطلب معلوم ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کی بندگی و اطاعت کرنے کا نام ہی عبادت ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ نماز روزہ اور حج وغیرہ کیا چیزیں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہےکہ در اصل یہ عبادتیں نہیں جو اللہ نےآپ پر فرض کی ہیں،ان کا مقصد آپ کو اس بڑی عبادت کےلیےتیار کرتا ہے جو آپ کو زندگی میں ہر وقت ہر حال میں ادا کرنی چاہیے ۔ نمازہ آپ کو دن میں پانچ وقت یاد دلاتی ہےکہ تم اللہ کے بندے ہو، اسی کی بندگی تمھیں کرنی چاہیے۔روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینہ تک آپ کو اسی بندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔ زکواۃ آپ کو بار بارہ توجہ دلاتی ہے کہ یہ مال جو تم نے کمایا ہے یہ خدا کا عطیہ ہےاس کو صرف اپنے نفس کی خواہشات پر صرف نہ کر دو بلکہ اپنے مالک کا حق ادا کرو۔حج دل پر خدا کی محبت اور بزرگی کا ایسا نقش بٹھاتا ہے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بیٹھ جائے تو تمام عمر اس کا اثر دل سے دور نہیں ہو سکتا۔ان سب عبادتوں کو ادا کرنےکےبعد اگر آپ اس قابل ہو گئےکہ آپ کی ساری زندگی خدا کی عبادت بین جائےتو بلاشبہ آپ کی نماز نماز ہےاور روزہ روزہ ہے،زکوۃ زکوۃ ہے اور حج حج ہے۔ لیکن اگر یہ مقصد پورا نہ ہوا تو محض رکوع اور سجدہ کرنےاور بھوک پیاس کےساتھ دن گزارنےاور حج کی رسمیں ادا کر دینےاور زکواۃ کی رقم نکال دینےسے کچھ حاصل نہیں ۔ ان ظاہری طریقوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک جسم، کہ اگر اس میں بیان ہےاور وہ چلتا پھرتا اور کام کرتا ہے تو بلاشبہ ایک زندہ انسان ہے لیکن اگر اس میں جان ہی نہیں تو وہ ایک مردہ لاش ہےمردے کےہاتھ پاؤں، آنکھ ناک سب ہی کچھ ہوتے ہیں،مگر اس میں جان ہی نہیں ہوتی، اس لیے تم اسے مٹی میں دبا دیتے ہو۔ اسی طرح اگر نماز کے ارکان پورے ادا ہوں یا روزے کی شرطیں پوری ادا کر دی جائیں مگر خدا کا خوف، اس کی محبت اور اس کی وفاداری واطاعت نہ ہو جس کے لیے نماز اور روزہ فرض کیا گیا ہے تو وہ بھی ایک بے جان چیز ہو گی۔

آئندہ خطبات میں میں آپ کو تفصیل کے ساتھ بتاؤں گا کہ جو عبادتیں فرض کی گئی ہیں، ان میں سے ہر ایک کسی طرح اُس بڑی عبادت کے لیے انسان کو تیار کرتی ہے، اور اگر ان عبادتوں کو آپ سمجھ کر ادا کریں اور ان کا اصل مقصد پورا کرنے کی کوشش کریں تو اس سے آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

نماز

برادران اسلام، پچھلے خطبہ میں میں نے آپ کے سامنے عبادت کا اصل مطلب بیان کیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ اسلام میں جو عبادتیں فرض کی گئی ہیں ان کےمتعلق آپ کو بتاؤں گا کہ یہ عبادتیں کس طرح آدمی کو اُس بڑی اور اصلی عبادت کےلیے تیار کرتی ہیں جس کے لیے اللہ نے جن و انس کو پیدا کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑی اور سب سے اہم چیز نماز ہے، اور آج کے خطبے میں صرف اسی کے متعلق میں آپ سے کچھ بیان کروں گا۔

عبادت کا وسیع مفہوم

یہ تو آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ عبادت در اصل بندگی کو کہتے ہیں۔ اور جب آپ خدا کے بندے ہی پیدا ہوتے ہیں تو آپ کسی وقت کسی حال میں بھی اس کی بندگی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ جس طرح آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہیں اتنے گھنٹے یا اتنے منٹوں کے لیے خدا کا بندہ ہوں اور باقی وقت میں اس کا بندہ نہیں، اسی طرح آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں اتنا وقت خدا کی عبادت میں صرف کروں گا اور باقی اوقات میں مجھے آزادی ہے کہ جو چاہوں کروں ۔ آپ تو خدا کےپیدائشی غلام ہیں ۔ اس نے آپ کو بندگی ہی کے لیے پیدا کیا ہے ۔ لہذا آپ کی ساری زندگی اس کی عبادت میں صرف ہونی چاہیے اور کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی آپ کو اس کی عبادت سے غافل نہ ہونا چاہیے۔

یہ بھی میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ عبادت کے معنی دنیا کے کام کاج سےالگ ہو کر ایک کونے میں بیٹھ جانے اور اللہ اللہ کرنے کے نہیں ہیں، بلکہ در اصل عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آپ جو کچھ بھی کریں خدا کے قانون کے مطابق کریں ۔ آپ کا سونا اور بھاگنا ، آپ کا کھانا اور پینا، آپ کا پھلنا اور پھرنا غرض سب کچھ خدا کے قانون کی پابندی میں ہو۔ آپ جب اپنے گھر میں بیوی بچوں ، بھائی بہنوں اور عزیز رشتہ داروں کے پاس ہوں تو ان کے ساتھ اُس طرح پیش آئیں جس طرح خدا نے حکم دیا ہے ۔ جب اپنے دوستوں میں ہنسیں اور بولیں ، اُس وقت بھی آپ کو خیال رہے کہ ہم خدا کی بندگی سے آزاد نہیں ہیں۔ جب آپ روزی کمانے کےلیے نکلیں اور لوگوں سے لین دین کریں اُس وقت بھی ایک ایک بات اور ایک ایک کام میں خدا کے احکام کا خیال رکھیں اور کبھی اس حد سے نہ بڑھیں جو خدا نےمقرر کر دی ہے۔ جب آپ رات کے اندھیرے میں ہوں اور کوئی گناہ اس طرح کر سکتے ہوں کہ دنیا میں کوئی آپ کو دیکھنے والا نہ ہو، اُس وقت بھی آپ کو یاد رہےکہ خدا آپ کو دیکھ رہا ہے اور ڈرنے کے لائق وہ ہے نہ کہ دنیا کے لوگ جب آپ جنگل میں تنہا جار ہے ہوں اور وہاں کوئی جرم اس طرح کر سکتےہوں کہ کسی پولیس میں اور کسی گواہ کا کھٹکا نہ ہو اُس وقت بھی آپ خدا کو یاد کر کے ڈر جائیں اور جرم سےباز رہیں ۔ جب آپ جھوٹ اور بے ایمانی اور ظلم سے بہت سا فائدہ حاصل کر سکتےہوں اور کوئی آپ کو روکنےوالا نہ ہو،اُس وقت بھی آپ خدا سےڈریں اور اس فائدےکو اس لیےچھوڑ دیں کہ خدا اس سے ناراض ہوگا۔ اور جب سچائی اور ایمانداری میں سراسر آپ کو نقصان پہنچ رہا ہو اُس وقت بھی آپ نقصان اٹھانا قبول کر لیں صرف اس لیے کہ خدا اس سے خوش ہو گا۔ پس دنیا کو چھوڑ کر کونوں اور گوشوں میں جابیٹھنا اور تسبیح ہلانا عبادت نہیں ہےبلکہ دنیا کےدھندوں میں پھنس کر خدا کےقانون کی پابندی کرنا عبادت ہےذکر الہی کامطلب یہ نہیں ہےکہ زبان پر اللہ اللہ جاری ہو،بلکہ اصل ذکر الہی یہ ہےکہ دُنیا کےجھگڑوں اور بکھیڑوں ہیں پھنس کر بھی تمھیں ہر وقت خدا یاد رہے۔پھر چیزیں خدا سےغافل کرنےوالی ہیں ان میں مشغول ہو اور پھر خدا سےفاضل نہ ہو۔ دنیا کی زندگی میں جہاں خدائی قانون کو توڑنے کے بے شمار مواقع بڑے بڑے فائدوں کے لالچ اور نقصان کا خوف لیے ہوئے آتے ہیں وہاں خدا کو یاد کرو اور اس کے قانون کی پیروی پر قائم رہو۔ یہ ہے اصلی یا د خدا۔ اس کا نام ہے ذکر الہی۔اسی ذکر کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے کہ :

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَكُمْ تُفْلِحُونَ (الجمعه: ١٠ )

" یعنی جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ ، خدا کے فضل،یعنی رزق حلال کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرو اور خدا کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تمھیں فلاح نصیب ہو۔"

نماز کے فوائد

عبادت کا یہ مطلب ذہن میں رکھیے اور غور کیجیے کہ اتنی بڑی عبادت انجام دینے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے، اور نماز کسی طرح وہ سب چیزیں انسان میں پیدا کرتی ہے۔

احساس بندگی

سب سے پہلےتو اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ کو بار بار یہ یاد دلایا جاتا رہے کہ آپ خدا کے بندےہیں، اور اسی کی بندگی آپ کو ہر وقت ہر کام میں کرنی ہے۔ یہ یاد دلانےکی ضرورت اس لیے ہےکہ ایک شیطان آدمی کے نفس میں بیٹھا ہوا ہے جو ہر وقت کہتا رہتا ہے کہ تو میرا بندہ ہے ۔ اور لاکھوں کروڑوں شیطان ہر طرف دنیا میں پھیلے ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک یہی کہہ رہا ہے کہ تو میرا ہندہ ہے۔ ان شیطانوں کا ظلم اُس وقت تک ٹوٹ نہیں سکتا جب تک انسان کو دن میں کئی کئی بار یہ یاد نہ دلایا جائےکہ تو کسی کا بندہ نہیں، صرف خدا کا بندہ ہے۔یہی کام نما نہ کرتی ہے ۔ صبح اُٹھتے ہی سب کاموں سے پہلے وہ آپ کو یہی بات یاد دلاتی ہے۔ پھر جب آپ دن کو اپنے کام کاج میں مشغول ہوتے ہیں اس وقت پھر تین مرتبہ اسی یاد کو تازہ کرتی ہے۔ اور جب آپ رات کو سونے کےلیے جاتے ہیں تو آخری بار پھر اسی کا اعادہ کرتی ہے ۔ یہ نماز کا پہلا فائدہ ہے۔ اور قرآن میں اسی بنا پر نمازہ کو ذکر سے تعبیر کیا ہے ، یعنی یہ خدا کی یاد ہے۔

فرض شناسی

پھر چونکہ آپ کو اس زندگی میں ہر ہر قدم پر خدا کے احکام بجا لاتے ہیں، اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ میں اپنا فرض پہچاننے کی صفت پیدا ہو اور اس کےساتھ آپ کو اپنا فرض مستعدی سے انجام دینے کی عادت بھی ہو۔ جو شخص یہ جانتا ہی نہ ہو کہ فرض کے معنی کیا ہیں ، وہ تو کبھی احکام کی اطاعت کر ہی نہیں سکتا۔ اور جو شخص فرض کےمعنی تو جانتا ہو مگر اس کی تربیت اتنی خراب ہو کہ فرض کو فرض جاننے کے باوجود اسے ادا کرنےکی پروانہ کرے، اُس سےکبھی یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں جو ہزاروں احکام اُسے دیے جائیں گےان کو مستعدی کے ساتھ انجام دے گا۔

مشق اطاعت

جن لوگوں کو فوج یا پولیس میں ملازمت کرنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ ان دونوں ملازمتوں میں ڈیوٹی کو سمجھنے اور اسے ادا کرنے کی مشق کسی طرح کرائی جاتی ہے۔ رات دن میں کئی کئی بار بگل بجایا جاتا ہے۔ سپاہیوں کو ایک جگہ حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا ہے اور ان سے قواعد کرائی جاتی ہے۔ یہ سب اس لیے ہےکہ ان کو حکم بجالانے کی عادت ہو، اور ان میں سے جو لوگ ایسے سست اور نالائق ہوں کہ بگل کی آوازش کو بھی گھر بیٹھے رہیں یا قواعد میں حکم کے مطابق حرکت نہ کریں انھیں پہلے ہی ناکارہ سمجھ کر ملازمت سے الگ کر دیا جائے۔ بس اسی طرح نماز کبھی دن میں پانچ وقت بگل بجاتی ہے تاکہ اللہ کے سپاہی اُس کو سُن کر ہر طرف سےدوڑے چلے آئیں اور ثابت کریں کہ وہ اللہ کے احکام کو ماننے کے لیے مستعد ہیں جو مسلمان اس بگل کو سُن کر بھی بیٹھا رہتا ہے اور اپنی جگہ سے نہیں ہلتا وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ یا تو فرض کو پہچانتا ہی نہیں یا اگر پہچانتا ہے تو وہ اتنا نا لائق اور ناکارہ ہے کہ خدا کی فوج میں رہنے کے قابل نہیں۔

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ اذان کی آواز سُن کر اپنےگھروں سے نہیں نکلتے ، میرا جی چاہتا ہےکہ جا کر ان کےگھروں میں آگ لگا دوں۔اور یہی وجہ ہےکہ حدیث میں نماز کو کفر اوراسلام کےدرمیان وجہ تمیز قرار دیا گیا ہے۔ عہد رسالت اور عہد صحابہ میں کوئی ایسا شخص مسلمان ہی نہ سمجھا جاتا تھا جو نماز کےلیےجماعت میں حاضر نہ ہوتا ہو بھٹی کہ منافقین بھی جنھیں اس امر کی ضرورت ہوتی تھی کہ ان کو مسلمان سمجھا جائے،اس امر پر مجبور ہوتےتھے کہ نماز با جماعت میں شریک ہوں۔چنانچه قرآن میں جس چیز پر منافقین کو ملامت کی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتے ، بلکہ یہ ہے کہ بادلِ نا خواستہ نہایت بد دلی کے ساتھ نماز کےلیے اُٹھتے ہیں : وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوة قَامُوا كسالى (النساء : ۱۴۲)

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کسی ایسے شخص کے مسلمان سمجھے بجانے کی گنجائش نہیں ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو۔ اس لیےکہ اسلام محض ایک اعتقادی چیز نہیں ہے بلکہ عملی چیز ہےاور عملی چیز بھی ایسی کہ زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ایک مسلمان کو اسلام پر عمل کرنےاور کفر وفسق سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ایسی زبردست عملی زندگی کےلیے لازم ہےکہ مسلمان خدا کے احکام بجالانے کے لیے ہر وقت مستعد ہو۔ جو شخص اس قسم کی مستعدی نہیں رکھتا وہ اسلام کےلیےقطعا نا کارہ ہےاسی لیےدن میں پانچ وقت نماز فرض کی گئی تاکہ جو لوگ مسلمان ہونےکےمدستی ہیں ان کا بار بار امتحان لیا جاتا رہےکہ وہ فی الواقع مسلمان ہیں یا نہیں،اور فی الواقع اس عملی زندگی میں خدا کےاحکام بجالانےکےلیےمستعد ہیں یا نہیں۔اگر وہ خدائی پریڈ کا بگل سن کر جنبش نہیں کرتے تو صاف معلوم ہو جاتا ہےکہ وہ اسلام کی عملی زندگی کے لیے تیار نہیں ہیں ۔اس کے بعد ان کا خدا کو ماننا اور رسول کو ماننا محض بے معنی ہے۔ اسی بنا پر قرآن میں ارشاد ہے کہ :

إِنَّهَا لَكَبِيرة الا عَلَى الْخَشِعِينَ ، (البقره : ۴۵)

یعنی جو لوگ خدا کی اطاعت و بندگی کے لیے تیار نہیں ہیں صرف انہی پر نماز گراں گزرتی ہے، اور جس پر نمازہ گراں گزرے وہ خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ وہ خدا کی بندگی واطاعت کے لیے تیار نہیں ہے۔

خدا کا خوف پیدا کرنا

تیسری چیز خدا کا خوف ہے جس کے ہر آن دل میں تازہ رہنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اسلام کے مطابق عمل کر ہی نہیں سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہوکہ خدا ہر وقت ہر جگہ اسے دیکھ رہا ہے، اس کی ہر حرکت کا خدا کو علم ہے۔ بغدا اندھیرے میں بھی اس کو دیکھتا ہے، خدا تنہائی میں بھی اس کے ساتھ ہے، تمام دنیا سے چھپ جانا ممکن ہے مگر غذا سے چھپنا ممکن نہیں ۔ تمام دنیا کی سزاؤں سےآدمی بچ سکتا ہے مگر خدا کی سزا سے بچنا غیر ممکن ہے ۔ یہی یقین آدمی کو خدا کےاحکام کی خلاف ورزی سے روکتا ہے ۔ اسی یقین کے زور سے وہ حلال اور حرام کی اُن محدود کا لحاظ رکھنے پر مجبور ہوتا ہے جو اللہ نے زندگی کے معاملات میں قائم کی ہیں۔ اگر یہ یقین کمزور ہو جائے تو مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان کی طرح زندگی بسر کر ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے اللہ نے دن میں پانچ وقت نماز فرض کی ہے تاکہ وہ اس یقین کو دل میں بار بار مضبوط کرتی رہے ۔ چنانچہ قرآن میں خود اللہ ہی نے نماز کی اس مصلحت کو بیان کر دیا کہ :

إنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء والمنكر (العنكبوت : ۴۵)

"یعنی در نماز وہ چیز ہے جو انسان کو بدی اور بے حیائی سے روکتی ہے" -

اس کی وجہ آپ غور کر کے خود سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً آپ نماز کے لیے پاک ہو کر اور وضو کر کے آتے ہیں۔ اگر آپ ناپاک ہوں اور غسل کیسے بغیر آجائیں،یا آپ کے کپڑے ناپاک ہوں اور انہی کو پہنے ہوئے آجائیں ، یا آپ کو وضو نہ ہو اور آپ یہ کہہ دیں کہ میں وضو کر کے آیا ہوں ، تو دنیا میں کون آپ کو پکڑ سکتا ہے؟لیکن آپ ایسا نہیں کرتے۔کیوں؟ اس لیےکہ آپ کو یقین ہے کہ خدا سے یہ گناہ نہیں چھپ سکتا۔ اسی طرح نماز میں جو چیزیں اہستہ پڑھی جاتی ہیں اگر ان کو آپ نہ پڑھیں تو کسی کو خبر نہیں ہو سکتی ۔ مگر آپ کبھی ایسا نہیں کرتے ۔ یہ کس لیے ؟ اسی لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ خدا سب کچھ سُن رہا ہے اور آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اسی طرح آپ جنگل میں بھی نماز پڑھتے ہیں۔ اپنے گھر میں جب تنہا ہوتے ہیں اس وقت بھی نماز پڑھتے ہیں۔ حالانکہ کوئی آپ کو دیکھنے والا نہیں ہوتا ، اور کسی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ یہی کہ آپ چھپ کر بھی سدا کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے ڈرتےہیں، اور آپ کو یقین ہے کہ خدا سے کسی جرم کو چھپانا ممکن نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ نماز کس طرح خدا کا خوف اور اس کے حاضر و ناظر اور علیم وخبیر ہونے کا یقین آدمی کے دل میں بٹھائی اور تازہ کرتی رہتی ہے۔ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں آپ ہر وقت خدا کی عبادت اور بندگی کیسےکر سکتےہیں جب،تک کہ یہ خوف اور یہ یقین آپ کے دل میں تازہ نہ ہوتا رہے۔ اگر اس چیز سےآپ کا دل خالی ہو تو کیوں کر ممکن ہے کہ رات دن جو ہزاروں معاملات آپ کو دنیا میں پیش آتے ہیں، ان میں آپ خدا سے ڈر کر نیکی پر قائم رہیں گے اور بدی سے بچیں گے ۔

قانونِ الہی سے واقفیت

چوتھی چیز جو عبادت الہی کے لیے نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ خدا کے قانون سے واقف ہوں ۔ اس لیے کہ اگر آپ کو قانون کا علم ہی نہ ہو تو اس کی پابندی کیسےکر سکتے ہیں ؟ یہ کام بھی نماز انجام دیتی ہے۔نماز میں قرآن جو پڑھا جاتا ہے یہ اسی لیے ہے کہ روزانہ آپ خدا کے احکام اور اس کےقانون سے واقف ہوتے رہیں ۔ جمعہ کا خطبہ بھی اسی لیے ہے کہ آپ کو اسلام کی تعلیم سے واقفیت ہو نماز با جماعت اور جمعہ سےایک فائدہ یہ بھی ہے کہ عالم اور عامی بار بار ایک جگہ جمع ہوتے رہیں اور لوگوں کو ہمیشہ خدا کے احکام سے واقف ہونے کا موقع ملتا رہ ہے۔ اب یہ آپ کی بدقسمتی ہے کہ آپ نماز میں جو کچھ پڑھتےہیں اس سے واقف ہونے کی کوشش نہیں کرتے ۔ آپ کو جمعہ کے خطبے بھی ایسےکنائے جاتے ہیں جن سے آپ کو اسلام کا کوئی علم حاصل نہیں ہوتا۔ اور نماز کی جماعتوں میں آکر نہ آپ کے خاطر اپنے جاہل بھائیوں کو کچھ سکھاتے ہیں اور نہ جاہل اپنے بھائیوں سے کچھ پوچھتے ہیں۔نماز تو آپ کو ان سب فائدوں کا موقع دیتی ہے،آپ خود فائدہ نہ اُٹھائیں تو نماز کا کیا قصور؟

اجتماعیت کی مشق

پانچویں چیز یہ ہے کہ ہر مسلمان زندگی کے اس ہنگامے میں اکیلا نہ ہو، بلکہ سب مسلمان مل کر ایک مضبوط جماعت بنیں اور خدا کی عبادت، یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے اور اس کے قانون پر عمل کرنے اور اس کے قانون کو دنیا میں جاری کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس زندگی میں ایک طرف مسلمان یعنی خدا کےفرمانبردار بندے ہیں اور دوسری طرف کفار یعنی خدا کے باغی ندے ۔ رات دن فرمانبرداری اور بغاوت کےدرمیان کشمکش برپا ہے۔باقی خدا کےقانون کو توڑتےہیں اور اس کےخلاف دنیا میں شیطانی قوانین کو بھاری کرتے ہیں۔ان کے مقابلےمیں اگر ایک ایک مسلمان تنہا ہو تو کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ضرورت اس کی ہے کہ خدا کے فرمانبردار بند سے مل کر اجتماعی طاقت سےبغاوت کا مقابلہ کریں اور خدائی قانون کو نافذ کریں۔ یہ اجتماعی طاقت پیدا کرنےوالی پیر تمام چیزوں سےبڑھ کہ نماز ہے۔پانچ وقت کی جماعت، پھر جمعہ کا بڑا اجتماع ، پھر عیدین کے اجتماع ، یہ سب مل کر مسلمانوں کو ایک مضبوط دیوار کی طرح بنا دیتے ہیں اور ان میں وہ یک جہتی اور عملی اتحاد پیدا کر دیتےہیں جو روزمرہ کی عملی زندگی میں مسلمانوں کو ایک دوسرےکا مدد گار بنانے کے لیے ضروری ہے۔

نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟

برادرانِ اسلام، پچھلے خطبہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ نماز کس طرح انسان کو اللہ کی عبادت یعنی بندگی اور اطاعت کےلیےتیار کرتی ہےاس سلسلہ میں جو کچھ میں نے کہا تھا اس سےآپ نےاندازہ کر لیا ہوگا کہ جو شخص نماز کو محض فرض اور حکم الہی جان کر باقاعدگی کےساتھ ادا کرتار ہےوہ اگر نماز کی دعاؤں کا مطلب نہ سمجھتا ہو تب بھی اس کےاندر خدا کا خوف اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین اور اس کی عدالت میں ایک روز حاضر ہونے کا اعتقاد ہر وقت تازہ ہوتا رہتا ہے۔اُس کےدل میں یہ عقیدہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں اور خدا ہی اس کا اصلی بادشاہ اور حاکم ہے۔ اُس کے اندر فرض شناسی کی عادت اور خدا کے احکام بجالانے کےلیےمستعدی پیدا ہوتی ہے۔اس میں وہ صفات خود بخود پیدا ہونےلگتی ہیں جو انسان کی ساری زندگی کو خدا کی بندگی و عبادت بنا دینے کے لیےضروری ہیں۔

اب میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انسان اسی نماز کو سمجھ کر ادا کرےاور نماز پڑھتے وقت یہ بھی جانتا ر ہے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہےتو اس کے خیالات اور اس کی عادات اورخصائل پر کتنا زبردست اثر پڑے گا، اس کے ایمان کی قوت کس قدر بڑھتی چلی جائے گی، اور اس کی زندگی کا رنگ کیسا پلٹ جائے گا۔

اذان اور اس کے اثرات

سب سے پہلے اذان کو لیجیے ۔ دن میں پانچ وقت آپ کو یہ کہہ کر پکارا جاتا ہے؛

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ

" خدا سب سے بڑا ہے، خدا سب سے بڑا ہے۔"

اشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

" میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ، کوئی بندگی کا حق دار نہیں ۔"

اشهَدُ اَنَّ مُحَمَّد ارسُولُ اللهِ

"میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔"

حَى عَلَى الصَّلوة .

"آؤ نماز کے لیے ۔"

حَى عَلَى الْفَلَاحِ -

"آؤ اس کام کے لیے جس میں فلاح ہے"-

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ

"اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔"

لا اله الا الله

" اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"

دیکھو یہ کیسی زبر دست پکار ہے۔ ہر روز پانچ مرتبہ یہ آواز کسی طرح تمھیں یاد دلاتی ہے کہ زمین میں جتنے بڑے خدائی کے دعویدار نظر آتے ہیں سب جھوٹے ہیں۔زمین و آسمان میں ایک ہی ہستی ہے جس کے لیے بڑائی ہے، اور وہی عبادت کےلائق ہے۔آؤ اس کی عبادت کرو ۔اسی کی عبادت میں تمھارے لیےدنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ کون ہے جو اس آواز کو سُن کر ہل نہ جائے گا ؟ کیوں کر ممکن ہے کہ جس کے دل میں ایمان ہو وہ اتنی بڑی گواہی اور ایسی زبر دست پیکارسن کر اپنی جگہ بیٹھا رہے اور اپنے مالک کے آگےسرجھکانے کے لیے دوڑ نہ پڑے ؟

وضو

اس آواز کو سن کر تم اُٹھتےہو اور سب سے پہلے اپنا جائزہ لے کر دیکھتےہو کہ میں پاک ہوں یا ناپاک؟میرے کپڑے پاک ہیں یا نہیں ؟ مجھے وضو ہے یا نہیں ؟ گویا تمھیں اس بات کا احساس ہے کہ پادشاہ دو عالم کے دربار میں حاضری کا معاملہ دنیا کے دوسرے سب معاملات سے مختلف ہے۔ دوسرے کام تو ہر حال میں کیسے جا سکتے ہیں، مگر یہاں جسم اور لباس کی پاکی اور اس پاکی پر مزید طہارت (یعنی وضو) کے بغیر حاضری دینا سخت بے ادبی ہے۔ اس احساس کےساتھ تم پہلے اپنے پاک ہونے کا اطمینان کرتے ہو اور پھر وضو شروع کر دیتے ہو۔اس وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضاء دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر کرتے رہو اور فارغ ہو کر وہ دعا پڑھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے تو محض تمھارے اعضاء ہی نہ دُھلیں گے بلکہ ساتھ ساتھ تمھارا دل بھی دُکھل تھا یا۔اس دعاء کے الفاظ یہ ہیں :

اشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَكَ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه ، اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَرِينَ .

"میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ خدایا مجھے تو بہ کرنے والوں میں شامل کرہ اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا "-

نیت

اس کے بعد تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو۔ منہ قبلہ کے سامنے ہےپاک صاف ہو کر پادشاہ عالم کے دربار میں حاضر ہو۔ سب سے پہلے تمھاری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں : اللهُ اَكْبَرُ-" اللہ سب سے بڑا ہے"۔ اس زبردست حقیقت کا اقرار کرتے ہوئے تم کانوں تک ہاتھ اٹھاتےہو، گویا دنیا و ما فیہا سےدست بردار ہو رہے ہو۔ پھر ہاتھ باندھ لیتے ہو، گویا اب تم بالکل اپنےبادشاہ کے سامنےبا ادب دست بستہ کھڑے ہو ۔اس کے بعد تم کیا عرض معروض کرتےہو:

تسبیح

سُبحَنَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ

"تیری پاکی بیان کرتا ہوں اے اللہ، اور وہ بھی تیری تعریف کےساتھ ۔ بڑی برکت والا ہے تیرا نام ۔ سب سے بلند و بالا ہے تیری بزرگی اور کوئی معبود نہیں تیرے سوالا۔"

اعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ

" خدا کی پناہ مانگتا ہوں میں شیطان مردود کی در اندازی اور شرارت سے"-

بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

"شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔"

الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ.

"تعریف خدا کے لیے ہے جو سارے جہان والوں کا پروردگار ہے۔"

الرَّحْمنِ الرَّحیم

" نہایت رحمت والا بڑا مہربان ہے "-

مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ .

"روزہ آخرت کا مالک ہے۔"

( جس میں اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پھل ملیگا)۔

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ .

"مالک ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔"

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ .

" ہم کو سیدھا راستہ دکھایا"-

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُه

" ایسے لوگوں کا راستہ جن پر تو نے فضل کیا اور انعام فرمایا "-

غَيْرِ المَغضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ .

"جن پر تیرا غضب نازل نہیں ہوا اور جو بھٹکے ہوئے لوگ نہیں ہیں۔"

آمین

"خدایا ایسا ہی ہو۔ مالک ہماری اس دعا کو قبول فرما" (سورہ الفاتحہ)

اس کے بعد تم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے ہو، جن میں سے ہر ایک میں امرت بھرا ہوا ہے۔ نصیحت ہے، بحرت ہے ، سبق ہے اور اُسی راہ راست کی ہدایت ہے جس کے لیے سورہ فاتحہ میں تم دعا کر چکے تھے۔ مثلاً :

قرآن مجید کی مختلف سورتیں

والعصر

وَالْعَصْرِه إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍه

" زمانہ کی قسم ! انسان ٹوٹے میں ہے ۔"

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلحت

" مگر ٹوٹے سے بچے ہوئے صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ۔"

وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِه

" اور جنھوں نے ایک دوسرے کو حق پر چلنے کی ہدایت کی اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہے۔"

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تباہی اور نامرادی سے انسان بس اسی طرح بچ سکتا ہے کہ ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور صرف اتنا ہی کافی نہیں، بلکہ ایمان داروں کی ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو دین پر قائم ہونے اور قائم رہنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہے۔ (سورہ العصر)

یا مثلاً :

الماعون

اريت الذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ.

"تو نے دیکھا کہ جو شخص روز جزا کو نہیں مانتا وہ کیسا آدمی ہوتا ہے"-

فَذَلِكَ الَّذِي يَدُلُّ الْيَتِيمَ

"ایسا ہی آدمی تیم کو دھتکارتا ہے۔"

ولا يحضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ.

"اور مسکین کو آپ کھانا کھلانا تو درکنار، دوسروں سے بھی یہ کہنا پسند نہیں کرتا کہ غریب کو کھانا کھلا دو“

فَوَيلُ المُصَدِّينَ : الذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَارُونَ ، وَيَصْنَعُونَ الْمَاعُونَ

" تباہی ہے ایسے نمازیوں کے لیے جو د روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اس لیے نماز سے غفلت کرتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو محض دکھاوےکے لیے اور اُن کے دل ایسے چھوٹے ہیں کہ ذرا ذرا سی چیزیں حاجتمندوں کو دیتے ہوئے بھی اُن کا دل دُکھتا ہے" (سورہ ماعون)

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ آخرت کا یقین اسلام کی جان ہے۔ اس کےبغیر آدمی کبھی اُس راستہ پر چل ہی نہیں سکتا جو خدا کا سیدھا راستہ ہے۔

یا مثلاً:

هُمَزَةٍ

وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍه

"افسوس ہے اُس شخص کےحال پر جو لوگوں کی جیب چینی کرتا اور لوگوں پر آوازے کستا ہے۔"

والَّذِي جَمَعَ مَا لا وَعَدَّ دَهه

"روپیہ جمع کرتا اور گن گن کر رکھتا ہے"-

يَحْسَبُ أَنَّ مَا لَةٌ أَخْلَدَهُ.

" اپنے دل میں سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ رہے گا"-

كَلَّا لَيُنبَذَنَ فِي الْحُطَمَةِ .

كَلَّا لَيُنبَذَنَ فِي الْحُطَمَةِ .

"ہر گز نہیں ، وہ ایک دن ضرور دمرے گا اور محکمہ میں ڈالا جائے گا۔"

وما ادريكَ مَا الْحُطَمَةُ .

"اور تمھیں معلوم ہے کہ حطمہ کیا چیز ہے"-

نار الله الموقدة هُ الَّتِي تَظْلِمُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ .

"اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جس کی لپیٹیں دلوں پر چھا جاتی ہیں" ۔

إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُوصَدَةٌ فِي عَمَلٍ مُمَدَّ دَةٍ

" وہ اونچے اونچے ستون جیسے شعلوں کی صورت میں اُن کو گھیر لے گی"- (سورہ ہمزہ)

عرض تم قرآن پاک کی جتنی سورتیں یا آیتیں نماز میں پڑھتے ہو وہ کوئی نہ کوئی اعلی درجہ کی نصیحت یا ہدایت تم کو دیتی ہیں اور تمھیں بتاتی ہیں کہ خدا کے احکام کیا ہیں جن کے مطابق تمھیں دنیا میں عمل کرنا چاہیے ۔

رکوع

ان ہداتیوں کو پڑھنے کے بعد تم اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع کرتے ہو۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے مالک کے آگےجھکتے ہو اور بار بار کہتے ہو :

سُبْحَنَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ

"پاک ہے میرا پروردگار جو بڑا بزرگ ہے۔"

پھر سیدھے کھڑے ہو جاتے ہو اور کہتے ہو :

سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمدَة -

"اللہ نے سُن لی اُس شخص کی بات جس نے اُس کی تعریف بیان کی ہے"-

سجده

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں گر جاتے ہو اور بار بار کہتے ہو :

سُبْحَنَ رَبِّي الأعلى

"پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بالا و برتر ہے۔"

التحيات

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سراٹھاتے ہو اور نہایت ادب سے بیٹھ کر یہ پڑھتے ہو :

التَّحِيَّاتُ اللهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ واشهد ان محمدا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ -

"ہماری سلامیاں ، ہماری نمازیں ، اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ کےلیے ہیں ۔ سلام آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں "-

یہ شہادت دیتے وقت تم شہادت کی انگلی اٹھاتے ہو، کیوں کہ یہ نماز میں تمھارے عقیدے کا اعلان ہے اور اس کو زبان سے ادا کرتے وقت خاص طور پر توجہ اور زور دینے کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد تم درود پڑھتے ہو :

درود

اللهُمَّ صَلِّ عَلى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ يَجِيدُ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى ال ابراهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ -

"خدایا رحمت فرما ہمارے سردار اور مولی محمدؐ اور ان کی آل پر جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بهترین صفات والا اور بزرگ ہے۔ اور خدا یا برکت نازل فرما ہمارے سردار اور مولی محمد اور ان کی آٹی پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر"-

یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔

یہ درود پڑھنے کے بعد تم اللہ سے دُعا کرتے ہو:

دعا

اللهمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَالِ وَاَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَ الْمَمَاتِ واعوذُ بِكَ مِنَ الْمَاثِمِ وَ الْمَغْرِمِ

"خدایا میں تیری پناہ مانگا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں اُس گمراہ کرنے والے دجال کے فتنے سے جو زمین پر چھا جانے والا ہے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے خدایا ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں بُرے اعمال کی ذمہ داری اور قرض داری سے"۔

سلام

یہ دعا پڑھنے کے بعد تمھاری نماز پوری ہو گئی۔ اب تم مالک کے دربار سے واپس ہوتے ہو، اور واپس ہو کر پہلا کام کیا کرتے ہو؟ یہ کہ دائیں اور بائیں مڑکہ تمام حاضرین اور دنیا کی ہر چیز کے لیے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتے ہو ؛

السّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ -

"گویا یہ بشارت ہے جو خدا کے دربار سے پلٹتے ہوئے تم دنیا کے لیے اپنےلائےہو"-

یہ ہے وہ نماز جوتم صبح اٹھ کر دنیا کے کام کاج شروع کرنے سے پہلے پڑھتےہو۔ پھر چند گھنٹے کام کاج میں مشغول رہنے کے بعد دوپہر کو خدا کے دربار میں حاضر ہو کہ دوبارہ یہی نماز ادا کرتے ہو۔ پھر چند گھنٹوں کے بعد تیسرے پہر کو یہی نماز پڑھتےہو۔ پھر چند گھنٹے مشغول رہنے کے بعد شام کو اسی نماز کا اعادہ کرتے ہو۔نماز پھر دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر سونے سے پہلے آخری مرتبہ اپنے مالک کےسامنے جاتے ہو۔ اس آخری نماز کا خاتمہ وتر پر ہوتا ہے جس کی تیسری رکعت میں تم ایک عظیم الشان اقرار نامہ اپنے مالک کے سامنے پیش کرتے ہو۔ یہ دعائےقنوت ہے ۔ قنوت کے معنی ہیں خدا کے آگے ذلّت و انکساری، اطاعت اور بندگی کا اقرار۔ یہ اقرار تم کن الفاظ میں کرتے ہو، ذرا غور سے سنو :

دعائے قنوت

اللهمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَهْدِيَكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ كله - نَشْكُرُكَ وَلَا تَكْفُرُكَ وَعَلَم وَنَرُك من هول .اللهمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّ وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ ، نَرْجُوا رَحْمَتَكَ وَتَخْشَى عَذَابَكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِق .

"خدایا ، ہم تجھ سےمدد مانگتے ہیں، تجھ سے ہدایت طلب کرتے ہیں،تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں۔ تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تیرے ہی اوپر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور ساری تعریف تیرے ہی لیے خاص کرتے ہیں۔ ہم تیرا شکر ادا کرتےہیں ،ناشکری نہیں کرتے۔ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گےاور اس سےتعلق کاٹ دیں گےجو تیرا نا فرمان ہو۔ خدایا، ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز اور سجدہ کرتے ہیں . در ہماری ساری کوششیں اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینا تیرا سخت مذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں "۔

نماز اور تعمیر سیرت

برادران اسلام، بطور کہ واجو شخص دن میں پانچ مرتبہ اذان کی یہ آواز سنتا ہو اور سمجھتا ہو کہ کسی بڑی چیز کی شہادت دی جارہی ہے اور کیسےزبر دست بادشاہ کےحضور میں بلایا جارہا ہے۔اور جو شخص ہر مرتبہ اس پکار کوشن کہا اپنے سارے کام کاج چھوڑ دے اور اُس ذات پاک کی طرف دوڑے جیسے وہ اپنا اور تمام کائنات کا مالک جانتا ہے، اور جو شخص ہر نماز سے پہلے اپنے جسم اور دل کو وضو سے پاک کرے، اور جو شخص کئی کئی بار نماز میں وہ ساری باتیں سمجھ بو سمجھ کر ادا کرے جو ابھی آپ کے سامنے میں نے بیان کی ہیں، کیوں کر ممکن ہے کہ اس کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہ ہو؟ اس کو خدا کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شرم نہ آئے ؟ اس کی روح گنا ہوں اور بدکاریوں کےسیاہ دیتےلےکر بار بار خدا کے سامنے ہوتے ہوئے لرزنہ اُٹھے؟کس طرح ممکن ہےکہ آدمی نماز میں خدا کی بندگی کا اقرار، اس کی اطاعت کا اقرالہ اس کے مالک یوم الدین ہونےکا اقرار کر کے جب اپنے کام کاج کی طرف واپس آئےتو جھوٹ بولے؟ بے ایمانی کرے ؟ لوگوں کے حق مارے ؟ رشوت کھائے اور کھلائے؟سود کھائے اور کھلائے ، خدا کے بندوں کو آزار پہنچائے ؟ فحش اور بے حیائی اور بد کاری کرے؟ اور پھر ان سب اعمال کا بوجھ لاد کر دوبارہ خدا کے سامنے حاضر ہونے اور انہی سب باتوں کا اقرار کرنے کی جرات کر سکے ؟ ہاں ایہ کیسےممکن ہے کہ تم جان بوجھ کر خدا سے پچھتیس مرتبہ اقرار کرو کہ ہم تیری ہی بندگی کرتےہیں اور تجھ ہی سےمدد مانگتےہیں اور پھر خدا کے سوا دوسروں کی بندگی کرو اور دوسروں کے آگے بڑھ کےلیے ہاتھ پھیلاؤ ؟ ایک بار تم اقرار کر کےخلاف ورزی کرو گےتو دوسری مرتبہ خدا کےدربار میں جاتےہوئے تمھارا ضمیر ملامت کرے گا اور شرمندگی پیدا ہوگی۔ دوسری بار خلاف ورزی کرو گے تو اور زیادہ شرم آئے گی، اور زیادہ دل اندر سے لعنت بھیجے گا۔تمام نظریہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روزانہ پانچ پانچ مرتبہ زمانہ پڑھو اور پھر بھی تمھارے اعمال درست نہ ہوں ؟ تمھارے اخلاق کی اصلاح نہ ہو؟ اور تمھاری زندگی کی کایا نہ پلیٹے ؟اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نمازہ کی یہ خاصیت بیان فرمائی ہے کہ : اِنَّ الصَّلوة تنلی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ یقینا نماز انسان کو بے حیائی اور بد کاری سے روکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسا ہے کہ اتنی زیر دست اصلاح کرنے والی چیز سے بھی اس کی اصلاح نہیں ہوتی تو یہ اس کی طبیعت کی خرابی ہے، نمازہ کی خرابی نہیں۔ پانی اور صابن کا قصور نہیں ۔ اس کی وجہ کوئلے کی اپنی سیاہی ہے۔

بھائیو ، آپ کی نمازوں میں ایک بہت بڑی کمی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آپ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کو سمجھتے نہیں۔ اگر آپ تھوڑا سا وقت صرف کریں تو ان ساری دعاؤں کا مطلب اُردو میں، یا اپنی مادری زبان میں یاد کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جو کچھ آپ پڑھیں گے اسے سمجھتے بھی جائیں گے۔

نماز با جماعت

برادرانِ اسلام ، پچھلے خطبوں میں تو میں نے آپ کے سامنے صرف نماز کے فائدے بیان کیے تھے جن سے آپ نے اندازہ کیا ہوگا کہ یہ عبادت بجائےخود کیسی زبر دست چیز ہے، کسی طرح انسان میں بندگی کا کمال پیدا کرتی ہے اور کس طرح اس کو بندگی کا حق ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اب میں آپ کو نماز با جماعت کے فائدے بتانا چاہتا ہوں جنھیں سُن کر آپ اندازہ کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنےفضل و احسان سے کسی طرح ایک ہی چیز میں ہمارے لیےساری نعمتیں جمع کر دی ہیں۔اقول تو نماز خود ہی کیا کم تھی کہ اس کے ساتھ جماعت کا حکم دے کر اس کو دو آتشه کر دیا گیا ،اور اس کے اندر وہ طاقت بھر دی گئی جو انسان کی کایا پلٹ دینے میں اپنا جواب نہیں رکھتی۔

نماز کن صفات کو پیدا کرتی ہے؟

پہلے آپ سے یہ کہ چکا ہوں کہ زندگی میں ہر وقت اپنے آپ کو خدا کا بندہ سمجھنا اور فرمانبردار نام کی طرح مالک کی مرضی کا تابع بن کر رہنا، اور مالک کا حکم بجا لانے کے لیے ہر وقت تیار رہنا اصلی عبادت ہے، اور نماز اسی عبادت کے لیےانسان کو تیار کرتی ہے۔ یہ بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ اس عبادت کے لیے انسان میں جتنی صفات کی ضرورت ہے وہ سب نمازہ پیدا کرتی ہے ۔ بندگی کا احساس،خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان،آخرت کا یقین ، خدا کا خوف،خدا کو عالم الغیب جاننا اور اس کو ہر وقت اپنے سے قریب سمجھنا،خدا کی فرمانبرداری کے لیے ہر حال میں مستعد رہنا ، خدا کے احکام سے واقف ہوتا ، یہ اور ایسی تمام صفتیں نماز آدمی کے اندر پیدا کر دیتی ہے جو اس کو صحیح معنوں میں خدا کا بندہ بنانےکے لیے ضروری ہیں۔

مکمل بندگی تنها ممکن نہیں

مگر آپ ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ انسان اپنی جگہ خواہ کتنا ہی کامل ہو، وہ خدا کی بندگی کا پورا حق ادا نہیں کر سکتا جب تک کہ دوسرےبندے بھی اس کے مددگار نہ ہوں۔ خدا کے تمام احکام بجا نہیں لاسکتا جب تک کہ وہ بہت سے لوگ جن کے ساتھ رات دن اس کا رہنا سہنا ہے، جن سے ہر قوت اس کو معاملہ پیش آتا ہے، اس فرمانبرداری میں اس کا ساتھ نہ دیں۔ آدمی دنیا میں اکیلا تو پیدا نہیں ہوا ہے، نہ اکیلا رہ کر کوئی کام کر سکتا ہے ۔ اس کی ساری زندگی اپنے۔بھائی بندوں ، دوستوں اور ہمسایوں، معاملہ داروں اور زندگی کے بیشمار ساتھیوں سےہزاروں قسم کےتعلقات میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کے احکام بھی تنہا ایک آدمی کے لیے نہیں ہیں بلکہ انہی تعلقات کو درست کرنے کے لیے ہیں۔ اب اگر یہ سب لوگ خدا کے احکام بجالانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں، تو سب فرمانبردار بندے بن سکتے ہیں۔ اور اگر سب نافرمانی پر تلے ہوئے ہوں ، یا ان کے تعلقات اس قسم کے ہوں کہ خدا کے احکام بجالانےمیں ایک دوسرے کی مدد نہ کریں، تو اکیلے آدمی کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے قانون پر ٹھیک ٹھیک عمل کر سکے۔

تنہا ، شیطان کا مقابلہ ممکن نہیں

اس کے ساتھ جب آپ قرآن کو غور سے پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا کا حکم صرف یہی نہیں ہے کہ آپ خود اللہ کےمطیع و فرمانبردار بندے بنہیں ، بلکہ ساتھ ساتھ یہ حکم بھی ہے کہ دنیا کو خدا کا مطیع و فرمانبردار بنائیں۔دنیا میں خدا کےقانون کو پھیلائیں اور بھاری کریں۔شیطان کا قانون جہاں جہاں پھل رہا ہو اس کو مٹادیں اور اس کی جگہ الله وحده لا شریک لہ کے قانون کی حکومت قائم کریں ۔ یہ زبردست خدمت جو اللہ نے آپ کے سپرد کی ہے، اس کو ایک اکیلا مسلمان انجام نہیں دے سکتا۔ اور اگر کروڑوں مسلمان بھی ہوں مگر الگ الگ رہ کر کوشش کریں تب بھی وہ شیطان کےبندوں کی منظم طاقت کو نیچا نہیں دکھا سکتےاس کےلیے بھی ضرورت ہےکہ مسلمان ایک جتھا نہیں، ایک دوسرے کے مددگار ہوں، ایک دوسرے کی پشت پناہ بن جائیں، اور سب مل کر ایک ہی مقصد کے لیے جد و جهد کریں۔

حکم کی اطاعت مطلوب ہے

پھر زیادہ گہری نظر سےجب آپ دیکھیں گےتو یہ بات آپ پر کھلے گی کہ اتنےبڑے مقصد کے لیے فقط مسلمانوں کا مل جانا ہی کافی نہیں ہےبلکہ اس کی بھی ضرورت ہےکہ یہ مل جانا بالکل صحیح طریق پر ہو یعنی مسلمانوں کی جماعت اس طرح بنے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ان کے تعلقات ٹھیک ٹھیک جیسے ہونے چاہئیں ویسے ہی ہوں۔ ان کے آپس کے تعلق میں کوئی خرابی نہ رہنے پائے ۔ ان میں پوری یک جہتی ہو۔وہ ایک سردار کی اطاعت کریں۔ اس کے حکم پر حرکت کرنے کی عادت ان میں پیدا ہو۔ اور وہ یہ بھی سمجھے ہیں کہ اپنے سردار کی فرماں برداری انھیں کس طرح اور کہاں تک کرنی چاہیے اور نافرمانی کے مواقع کون سے ہیں۔

نماز با جماعت کے فوائد

ان سب باتوں کو نظر میں رکھ کر دیکھیے کہ نمازہ با جماعت کس طرح یہ سارےکام کرتی ہے۔

ایک آواز پر اکٹھا ہونا

حکم ہےکہ اذان کی آواز سن کر اپنے کام چھوڑ دو اور مسجد کی طرف آجاؤ۔یہ طلبی کی پکار سن کر ہر طرف سے مسلمانوں کا اٹھنا اور ایک مرکز پر جمع ہو جانا ان کےاندروہی کیفیت پیدا کرتا ہے جو فوج کی ہوتی ہے۔ فوجی سپاہی جہاں جہاں بھی ہوں ، جنگل کی آواز سُنتے ہی سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا کما نڈر بلا رہا ہے۔ اس طلبی پر سب کےدل میں ایک ہی کیفیت پیدا ہوتی ہے،یعنی کمانڈر کے حکم کی پیروی کا خیال ۔ اور اس خیال کے مطابق سب ایک ہی کام کرتے ہیں،یعنی اپنی اپنی جگہ سے اس آواز پر دوڑ پڑتے ہیں اور ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ فوج میں یہ طریقہ کسی لیے اختیار کیا گیا ہے ؟ اسی لیے کہ اول تو ہر ہر سپاہی میں الگ الگ حکم ماننےاور اس پر مستعدی کےساتھ عمل کرنےکی خصلت اور عادت پیدا ہو،اور پھر ساتھ ہی ساتھ ایسے تمام فرماں بردار سپاہی مل کر ایک گروہ ، ایک جھنتھا،ایک ٹیم بن جائیں اور ان میں یہ عادت پیدا ہو جائے کہ کمانڈر کےحکم پر ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ سب جمع ہو جایا کریں تا کہ جب کوئی مہم پیش آجائے تو ساری فوج ایک آواز پر ایک مقصد کےلیےاکٹھی ہو کر کام کر سکےایسا نہ ہو کہ سارےسپاہی اپنی اپنی جگہ تو بڑےنہیں مار خاں ہوں مگر جب کام کے موقع پر ان کو پکارا جائےتو وہ جمع ہو کر نہ لڑ سکیں، بلکہ ہر ایک اپنی اپنی مرضی کے مطابق جدھر منہ اُٹھےچلاجائےایسی حالت اگر کسی فوج کی ہو تو اس کےہزار بہادر سپاہیوں کو غنیم کےپچاس سپاہیوں کا ایک دستہ الگ الگ پکڑ کےختم کر سکتا ہے۔ بس اسی اُصول پر مسلمانوں کےلیے بھی یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ جو مسلمان جہاں اذان کی آواز سُنےسب کام چھوڑ کر اپنے قریب کی مسجد کا رخ کرے، تا کہ سب مسلمان مل کہ اللہ کی فوج بن جائیں۔ اس اجتماع کی مشق ان کو روزانہ پانچ وقت کرائی جاتی ہے۔کیونکہ دنیا کی ساری فوجوں سے بڑھ کر سخت ڈیوٹی اس خدائی فوج کی ہے۔ دوسری فوجوں کے لیے تو مدتوں میں کبھی ایک مہم پیش آتی ہے اور اس کی خاطر ان کو یہ ساری فوجی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ مگر اس خدائی فوج کو ہر وقت شیطانی طاقتوں کے ساتھ لڑنا ہے اور ہر وقت اپنے کمانڈر کے احکام کی تعمیل کرنی ہے ۔ اس لیے اس کے ساتھ یہ بھی بہت بڑی رعایت ہے کہ اسے روزانہ صرف پانچ مرتبہ خدائی بگل کی آواز پر دوڑنے اور خدائی چھاؤنی یعنی مسجد میں جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

با مقصد اجتماع

یہ تو محض اذان کا فائدہ تھا اب آپ مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور صرف اس جمع ہونے میں بے شمار فائدے ہیں۔ یہاں جو آپ جمع ہوئے تو آپ نے ایک دوسرے کو دیکھا، پہچانا ، ایک دوسرے سے واقف ہوئے ۔یہ دیکھنا، پر یہ دیکھنا، پہچاننا،واقف ہونا ، کسی حیثیت سےہے؟ اس حیثیت سے کہ آپ سب خدا کے بندےہیں ۔ ایک رسول کے پیرو ہیں۔ایک کتاب کے ماننے والے ہیں ۔ ایک ہی مقصد آپ سب کی زندگی کا مقصد ہے۔ اسی ایک مقصد کو پورا کرنے کےلیےآپ یہاں جمع ہوئے ہیں۔اور اسی مقصد کو یہاں سےواپس جا کہ بھی آپ کو پورا کرنا ہے۔اس قسم کی آشنائی، اس قسم کی واقفیت آپ میں خود بخود یہ خیال پیدا کردیتی ہےکہ آپ سب ایک قوم ہیں،ایک ہی فوج کے سپاہی ہیں، ایک دوسرے کےبھائی ہیں، دنیا میں آپ کی اغراض ، آپ کے مقاصد، آپ کے نقصانات اور آپ کے فوائد سب مشترک ہیں اور آپ کی زندگیاں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

باہمی ہمدردی

پھر آپ جو ایک دوسرے کو دیکھیں گےتو ظاہر ہےکہ آنکھیں کھول کر رہی دیکھیں گے،اور یہ دیکھنا بھی دشمن کا دشمن کو دیکھنا نہیں بلکہ دوست کادوست کو اور بھائی کا بھائی کو دیکھنا ہوگا۔اس نظر سےجب آپ دیکھیں گے کہ میرا کوئی بھائی پھٹے پرانے کپڑوں میں ہے، کوئی پریشان صورت ہے ، کوئی فاقہ زدہ چہرہ لیے ہوئے آیا ہے۔ کوئی معذور لنگڑا ، لولا یا اندھا ہے تو خواہ مخواہ آپ کےدل میں ہمدردی پیدا ہوگی۔ آپ میں سے جو خوشحال ہیں وہ غریبوں اور بے کسوں پر رحم کھائیں گے جو بد حال ہیں انھیں امیروں تک پہنچنے اور ان سے اپنا حال کہنے کی ہمت پیدا ہوگی۔کسی کے متعلق معلوم ہوگا کہ بیمار ہے یا کسی مصیبت میں بھینس گیا ہے اس لیے مسجد میں نہیں آیا تو اس کی عیادت کو جانے کا خیال پیدا ہو گا۔کسی کےمرنے کی خبر ملی تو سب مل کر اس کے لیے نماز جنازہ پڑھیں گےاور غمزده عزیزوں کے غم میں شریک ہوں گے ۔ یہ سب باتیں آپ کی باہمی محبت کو بڑھانے والی اور ایک دوسرے کی مدد گار بنانے والی ہیں۔

پاک مقصد کے لیے جمع ہونا

اس کے بعد اور ذرا غور کیجیے۔ یہاں جو آپ جمع ہوئے ہیں تو ایک پاک جگہ پاک مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ یہ چوروں اور شرابیوں اور جوئے بازوں کا اجتماع نہیں ہے کہ سب کے دل میں ناپاک ارادے بھرے ہوئے ہوں ۔ یہ تو اللہ کے بندوں کا اجتماع ہے، اللہ کی عبادت کے لیے، اللہ کے گھر میں سب اپنے خدا کے سامنے بندگی کا اقرار کرنے حاضر ہوئے ہیں۔ ایسے موقع پر اول تو ایمان دار آدمی میں خود ہی اپنے گناہوں پر شرمندگی کا احساس ہوتا ہے ۔ لیکن اگر اس نے کوئی گناہ اپنے دوسرے بھائی کے سامنے کیا تھا، اور وہ خود بھی یہاں مسجد میں موجود ہے تو محض اس کی نگاہوں کا سامنا ہو جانا ہی اس کے لیے کافی ہےکہ گناہ گار اپنے دل میں کٹ کٹ جائے۔ اور اگر کہیں مسلمانوں میں ایک دوسرےکو نصیحت کرنے کا جذبہ بھی موجود ہو اور وہ جانتےساتھ ایک دوسرے کی اصلاح کس طرح کرنی چاہیے، تو یقین جانیے کہ یہ اجتماعہوں کہ همدردی و محبت کےانتہائی رحمت و برکت کا موجب ہوگا۔ اس طرح سب مسلمان مل کر ایک دوسرےکی خرابیوں کو دور کریں گے، ایک دوسرے کی کمی پوری کریں گے اور پوری جماعت نیکوں اور صالحوں کی جماعت بنتی چلی جائے گی۔

اخوت

یہ صرف مسجد میں جمع ہونے کی برکتیں ہیں۔ اس کے بعد یہ دیکھیے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے میں کتنی برکات پوشیدہ ہیں۔ آپ سب ایک صف میں ایک دوسرے کےبرابر کھڑے ہوتے ہیں۔نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ نہ کوئی اونچےدرجے کا ہے نہ نیچےدرجےکا۔ خدا کےدربار میں خدا کے سامنے سب ایک درجےمیں ہیں۔ کسی کا ہاتھ لگنےاور کسی کےپچھو جانےسےکوئی ناپاک نہیں ہوتا۔ سب پاک ہیں، اس لیےکہ سب انسان ہیں،ایک خدا کے بندے ہیں اور ایک ہی دین کے ماننے والے ہیں۔ آپ میں خاندانوں اور قبیلوں اور ملکوں اور زبانوں کا بھی کوئی فرق نہیں۔ کوئی سید ہے، کوئی پٹھان ہے، کوئی را بچھوت ہے، کوئی بات ہے،کوئی کسی ملک کا رہنے والا ہے اور کوئی کسی ملک کا ۔ کسی کی زبان کچھ ہے اور کسی کی کچھ۔ مگر سب ایک صف میں کھڑے خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سب ایک قوم ہیں۔ یہ حسب نسب اور برادریوں اور قوموں کی تقسیم سب جھوٹی ہے۔ سب سے بڑا تعلق آپ کے درمیان خدا کی بندگی و عبادت کا تعلق ہے۔ اس میں جب آپ سب ایک ہیں تو پھر کسی معاملہ میں بھی کیوں الگ ہوں؟

حرکات میں یکسانیت

پھر جب آپ ایک صف میں کندھےسے کندھے ملا کر کھڑے ہوتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک فوج اپنے بادشاہ کےسامنے خدمت کےلیےکھڑی ہے۔صف باندھ کر کھڑے ہونےاور مل کر ایک ساتھ حرکت کرنےسےآپ کےدلوں میں یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ آپ کو یہ مشق کرائی جاتی ہے کہ خدا کی بندگی میں اس طرح ایک ہو جاؤ کہ سب کے ہاتھ ایک ساتھ اُٹھیں اور سب کے پاؤں ایک ساتھ چلیں۔ گویا آپ دس ہیں یا سویا ہزار آدمی نہیں ہیں بلکہ مل کر ایک آدمی کی طرح بن گئے ہیں ۔

دعائیں

اس جماعت اور اس صف بندی کے بعد آپ کیا کرتے ہیں ؟ ایک زبان ہو کر اپنے مالک سے عرض کرتے ہیں کہ :

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ .

"ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں" ۔

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

"ہم کو سیدھے راستے پر چلا"-

رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ

"ہمارے پروردگار تیرے ہی لیے حمد ہے"-

السَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ

"ہم سب پر سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر"-

پھر نماز ختم کر کے آپ ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور رحمت کی دُعا کرتے ہیں کہ :

السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ -

اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ سب ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں۔ سب مل کر ایک ہی مالک سے سب کے لیے بھلائی کی دُعا کرتے ہیں۔ آپ اکیلے اکیلےنہیں ہیں۔ آپ میں سے کوئی تنہا سب کچھ اپنے ہی لیے نہیں مانگتا ۔ ہر ایک کی یہی دعا ہے کہ سب پر خدا کا فضل ہو، سب کو ایک ہی سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق بخشی جائے، اور سب خدا کی سلامتی میں شامل ہوں ۔ اس طرح یہ نمازنہ آپ کے دلوں کو جوڑتی ہے، آپ کے خیالات میں یکسانی پیدا کرتی ہے اور آپ میں خیر خواہی کا تعلق پیدا کرتی ہے۔

امام کے بغیر جماعت نہیں

مگر دیکھ لیے کہ جماعت کی نمازہ آپ کبھی امام کے بغیر نہیں پڑھتے۔ دو آدمی بھی مل کر پڑھیں گے تو ایک امام ہوگا اور دوسرا مقتدی۔ جماعت کھڑی ہو جائےتو اس سے الگ ہو کر نماز پڑھنا سخت ممنوع ہے۔ بلکہ ایسی نماز ہوتی ہی نہیں۔حکم ہے کہ جو آنا جانے اُسی امام کے پیچھے جماعت میں شریک ہوتا جائے ۔ یہ سب چیزیں محض نماز ہی کےلیےنہیں ہیں،بلکہ ان میں دراصل آپ کو یہ سبق دیا گیا ہےکہ مسلمان کی حیثیت سےزندگی بسر کرنی ہے تو اس طرح جماعت بن کر رہو تمھاری جماعت ، جماعت ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ تمھارا کوئی امام نہ ہو، اور جماعت بن جائے تو اس سے الگ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری زندگی مسلمان کی زندگی نہیں رہی-

امامت کی نوعیت و حقیقت

صرف اسی پر میں نہیں کیا گیا بلکہ جماعت میں امام اور مقتدیوں کا تعلق اس طور پر قائم کیا گیا جس سے آپ کو معلوم ہو جائےکہ اس بچھوٹی مسجد کےباہر اس عظیم الشان مسجد میں جس کا نام زمین ہےآپ کےامام کی حیثیت کیا ہے۔اس کےفرائض کیا ہیں،اس کےحقوق کیا ہیں،آپ کو کس طرح اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور کن باتوں میں کرنی چاہیے، اگر وہ غلطی کرے تو آپ کیا کریں، کہاں تک آپ کو غلطی میں بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے ، کہاں آپ اس کو ٹوکنے کے مجازہ ہیں ، کہاں آپ اس سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ اپنی غلطی کی اصلاح کردے اور کس موقع پر آپ اس کو امامت سے ہٹا سکتے ہیں۔ یہ سب گویا چھوٹے پیمانے پر ایک بڑی سلطنت کو چلانے کی مشق ہے جو ہر روز پانچ مرتبہ آپ سے ہر چھوٹی مسجد میں کرائی جاتی ہے۔

امامت کے شرائط و آداب

یہاں اتنا موقع نہیں ہے کہ میں ان ساری تفصیلات کو بیان کروں مگر چند موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں :

ا۔ متقی اور پرهیزگار

حکم ہے کہ امام ایسےشخص کو بنایا جائے جو پرہیز گار ہو، علم میں زیادہ ہو، قرآن زیادہ جانتا ہو ، اور سن رسیدہ بھی ہو ۔حدیث میں ترتیب بھی بنا دی گئی ہےکہ ان صفات میں کونسی صفت کسی صفت پر مقدم ہے ۔ یہیں سے یہ تعلیم بھی دے دی گئی کہ سردارہ قوم کے انتخاب میں کن باتوں کا لحاظ کرنا چاہیے۔

۲- اکثریت کا نمائندہ

حکم ہے کہ امام ایسا شخص نہ ہو جس سے جماعت کی اکثریت ناراض ہو۔ یوں تو تھوڑے بہت مخالف کس کے نہیں ہوتے۔لیکن اگر جماعت میں زیادہ تر آدمی کسی شخص سےنفرت رکھتےہوں تو اسےامام نہ بنایا جائے ۔ یہاں پھر سردارہ قوم کے انتخاب کا ایک قاعدہ بنا دیا گیا۔

٣- مقتدیوں کا ہمدید

حکم ہے کہ جو شخص جماعت کا امام بنایا جائے وہ نماز ایسی پڑھائے کہ جماعت کے ضعیف ترین آدمی کو بھی تکلیف نہ ہو۔محض جوان، مضبوط ، تندرست اور فرصت والےآدمیوں کو ہی پیش نظر رکھ کر لمبی لمبی قرات اور لمبے لمبے رکوع اور سجدے نہ کرنے لگے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ جماعت میں بوڑھے بھی ہیں ، بیمار بھی ہیں. کمزور بھی ہیں اور ایسے مشغول بھی ہیں جو جلدی نماز پڑھ کر اپنے کام پر واپس جانا چاہتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاس معاملہ میں یہاں تک رحم اور شفقت کا نمونہ پیش فرمایا ہےکہ نماز پڑھاتے ہیں کسی بچے کے رونےکی آوانا آجاتی تو نماز مختصر کر دیتےتھے تاکہ اگر بچےکی ماں جماعت میں شریک ہے تو اسے تکلیف نہ ہو۔ یہ گویا سردار قوم کو تعلیم دی گئی ہےکہ وہ جب سردار بنایا جائےتو قوم کےاندراس کا طرز عمل کیسا ہونا چاہیے۔

۴۔ معذوری میں جگہ خالی کر دے۔

حکم ہے کہ امام کو اگر نماز پڑھاتے میں کوئی حادثہ پیش آجائے جس کی وجہ سے وہ نماز پڑھانے کے قابل نہ رہے تو فورا ہٹ جائےاور اپنی جگہ پیچھےکےآدمی کو کھڑا کر دے۔اس کےمعنی یہ ہیں کہ سردار قوم کا بھی یہی فرض ہے جب وہ سرداری کے قابل اپنے آپ کو نہ پائے تو اسے خود ہٹ جانا چاہیے اور دوسرےاہل آدمی کے لیے جگہ خالی کر دینی چاہیے۔ اس میں نہ شرم کا کچھ کام ہے اور نہ خود غرضی کا ۔

۵- امام کی کامل اطاعت

حکم ہےکہ امام کےفعل کی سختی کے ساتھ پابندی کرو۔اس کی حرکت سےپہلےحرکت کرنا سخت ممنوع ہے، یہاں تک کہ جو شخص امام سےپہلےرکوع یا سجد سےمیں جائےاس کےمتعلق حدیث میں آیا ہےکہ وہ گدھےکی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ یہاں گویا قوم کو سبق دیا گیا ہے کہ اسے اپنے سردار کی اطاعت کس طرح کرنی چاہیے۔

٦- غلطی پر تنبیہ

امام اگر نماز میں غلطی کرے، مثلاً جہاں اسے بیٹھنا چاہیے تھا وہاں کھڑا ہو جائے۔یا جہاں کھڑا ہونا چاہیے تھا وہاں بیٹھ جائے تو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہہ کر اسے غلطی پر متنبہ کر دو۔ سبحان اللہ کے معنی یہ ہیں اللہ پاک ہے ۔ امام کی غلطی پر سبحان الله کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ غلطی سے تو صرف اللہ ہی پاک ہے ۔ تم انسان ہو، تم سے بھول چوک ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ طریقہ ہے امام کو ٹوکنے کا۔ اور جب اس طرح اسے ٹوکا جائے تو اس کو لازم ہے کہ بلا کسی شرم و لحاظ کے اپنی غلطی کی اصلاح کرے۔ البته اگر ٹو کے جانے کے باوجود امام کو یقین ہو کہ اس نے صحیح فعل کیا ہے تو وہ اپنے یقین کے مطابق عمل کر سکتا ہے اور اس صورت میں جماعت کا کام یہ ہے کہ اس عمل کو غلط جاننے کے باوجود اُس کا ساتھ دے۔ نماز ختم ہونےکے بعد مقتدی حق رکھتے ہیں کہ امام پر اس کی غلطی ثابت کریں اور نماز دوبارہ پڑھائےکا اس سے مطالبہ کریں۔

٧- معصیت میں اطاعت نہیں

امام کے ساتھ جماعت کا یہ برتاؤ صرف اُن حالات کےلیے ہےجب کہ غلطی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہو۔ لیکن اگر امام سنت نبوتی کےخلاف نمازہ کی ترکیب بدل دے یا نماز میں قرآن کو جان بوجھ کر غلط پڑھےیا نماز پڑھاتے ہوئےکفر و شرک یا صریح گناہ کا ارتکاب کرے تو جماعت کا فرض ہے کہ اُسی وقت نماز توڑ کر اس امام سے الگ ہو جائے۔

یہ سب باتیں ایسی ہیں جن میں پوری تعلیم دے دی گئی ہے کہ تم کو اپنی قومی زندگی میں اپنے سردار کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔

برادرانِ اسلام یہ فوائد جو میں نے نمازہ با جماعت کےبیان کیے ہیں ان سےآپ نے اندازہ کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ایک عبادت میں، جو دن بھر میں پانچ مرتبہ صرف چند منٹ کے لیے ادا کی جاتی ہے، کسی طرح دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں آپ کے لیے جمع کر دی ہیں ۔ کس طرح یہی ایک چیز آپ کو تمام سعاد توں سے مالا مال کر دیتی ہے اور کس طرح یہ آپ کو اللہ کی غلامی اور دنیا کی حکمرانی کےلیے تیار کرتی ہے ۔ اب آپ ضرور سوال کریں گے کہ جب نماز ایسی چیز ہے تو جو فائدے تم اس کے بیان کرتے ہو یہ حاصل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کا جواب انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں دُوں گا۔

نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں ؟

برادرانِ اسلام، آج کے خطبہ میں مجھےآپ کو یہ بتانا ہے کہ جس نماز کےاس قدر فائدےمیں نے کئی خطبوں میں مسلسل آپ کےسامنےبیان کیےہیں وہ اب کیوں وہ فائدےنہیں دےرہی ہے؟ کیا بات ہے کہ آپ نمازیں پڑھتے ہیں اور پھر بھی آپ کی زندگی نہیں سدھرتی ؟ پھر بھی آپ کےاخلاق پاکیزہ نہیں ہوتے؟پھر بھی ایک زبر دست خدائی فوج نہیں بنتے؟ پھر بھی کفار آپ پر غالب ہیں ؟ پھر بھی آپ دنیا میں تباہ حال اور نکبت زدہ ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب تو یہ ہو سکتا ہےکہ اول تو آپ نماز پڑھتے ہی نہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو اس طریقہ سے نہیں پڑھتے ہو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ اس لیے اُن فائدوں کی توقع آپ نہیں کر سکتے جو مومن کو معراج کمال تک پہنچانے والی نماز سے پہنچنے چاہئیں ۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ صرف اتنا سا جواب آپ کو مطمئن نہیں کرسکتا، اس لیے ذرا تفصیل کے ساتھ آپ کو یہ بات سمجھاؤں گا۔

ایک مثال _______ گھڑی

یہ گھنٹہ_١ جو آپ کے سامنے لٹک رہا ہے ، آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں بہت سے پرزے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑے ہوئے ہیں ۔ جب اس کو کوک_٢ دی جاتی ہے تو سب پرزے اپنا اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور ان کے حرکت کرنےکے ساتھ ہی باہر کے سفید تختے پر ان کی حرکت کا نتیجہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یعنی گھنٹے کی دونوں سوئیاں چل کر ایک ایک سیکنڈا اور ایک ایک منٹ بتانے لگتی ہیں۔ اب آپ ذرا غور کی نگاہ سے دیکھیے - گھنٹے کے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ صحیح وقت بتائے۔ اسی مقصد کے لیے گھنٹے کی مشین میں وہ سب پرزے جمع کیےگئے جو صحیح وقت بتانے کے لیے ضروری تھے۔ پھر ان سب کو جوڑا گیا کہ سب مل کر باقاعدہ حرکت کریں اور ہر پرزہ وہی کام اور اتنا ہی کام کرتا چلا جائے جتنا صحیح وقت بتانے کے لیے اس کو کرنا چاہیے۔ پھر کوک دینے کا قاعدہ مقرر کیا گیا تا کہ ان پرزوں کو ٹھیرنے نہ دیا جائے اور تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد ان کو حرکت دی جاتی رہے ۔ اس طرح جب تمام پرزوں کو ٹھیک ٹھیک جوڑا گیا اور ان کو کوک دی گئی تب کہیں یہ گھنٹہ اس قابل ہوا کہ وہ مقصد پورا کرے جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے۔ اگر آپ اسے کوک نہ دیں تو یہ وقت نہیں بتائے گا۔ اگر آپ کو کے ہیں لیکن اس قاعدے کے مطابق نہ دیں جو کوک دینے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، تو یہ بند ہو جائے گا، یا چلے گا بھی تو صحیح وقت نہ بتائے گا۔ اگر آپ اس کے بعض پڑنےنکال ڈالیں اور پھر کوک دیں تو اس کوک سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اگر آپ اس کےبعض پرندوں کو نکال کہ اس کی جگہ سنگر میشین کے پرزے لگا دیں اور پھر کو کہتے ہیں تو یہ نہ وقت بتائے گا اور نہ کپڑا ہی بیٹے گا ۔ اگر آپ اس کے سارے پرزےاس کے اندرہی رہنے دیں لیکن ان کو کھول کر ایک دوسرے سے الگ کر دیں تو کوک دینے سے کوئی پرزہ بھی حرکت نہ کرے گا۔ کہنے کو سارے پرزےاس کےاندر موجود ہوں گےمگر محض پرزوں کے موجود رہنےسےوہ مقصد حاصل نہ ہو گا جس کے لیے گھنٹہ بنایا گیا ہے ۔ کیوں کہ ان کی ترتیب اور ان کا آیس کا تعلق آپ نے توڑ دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مل کر حرکت نہیں کر سکتے۔یہ سب صورتیں جو میں نے آپ سےبیان کی ہیں ان میں اگر چہ گھنٹےکی ہستی اور اس کو کوک دینے کا فعل دونوں بیکار ہو جاتے ہیں لیکن دُور سے دیکھنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ گھنٹہ نہیں ہے یا آپ کو ک نہیں دے رہے ہیں۔ وہ تو یہی کہے گا کہ صورت بالکل گھنٹے جیسی ہے اور یہی امید کرے گا کہ گھنٹے کا جو فائدہ ہے وہ اس سےحاصل ہونا چاہیے۔ اسی طرح دُور سے جب وہ آپ کو کوک دیتے ہوئے دیکھے گا تو یہی خیال کرے گا کہ آپ واقعی گھنٹے کو کوک دے رہے ہیں، اور یہی توقع کریگا کہ گھنٹے کو کوک دینے کا جو نتیجہ ہے وہ ظاہر ہونا چاہیے ۔ لیکن یہ توقع پوری کیسےہو سکتی ہے جبکہ یہ گھنٹہ بس دُور سے دیکھنے ہی کا گھنٹہ ہے اور حقیقت میں اس کے اندر گھنٹہ بین باقی نہیں رہا ہے۔


١- وقت بتانے والی گھڑی جو دیوار پر آویزاں کی جاتی ہے۔

٢- جسے عوام چابی دنیا کہتے ہیں۔

امت مسلمہ کا مقصد

یہ مثال جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے اس سے آپ سارا معاملہ سمجھ سکتے ہیں ۔ اسلام کو اسی گھنٹے پر قیاس کر لیجیے جس طرح گھنٹےکا مقصد صحیح وقت بتانا ہے اُسی طرح اسلام کا مقصد یہ ہے کہ زمین میں آپ خدا کےخلیفہ،خلق پر خدا کے گواہ اور دنیا میں دعوت حق کےعلمبردار بن کر رہیں خود خدا کے حکم پر چلیں، سب پر خدا کا حکم چلائیں ، اور سب کو خدا کے قانون کا تابع بنا کر رکھیں ۔

اس مقصد کو صاف طور پر قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے کہ :

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُونِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (آل عمران : ۱۱۰)

" تم وہ بہترین امت ہو جسے نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔تمھارا کام یہ ہے کہ سب انسانوں کو نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور اللہ پر ایمان رکھو۔"

وَكَذلِكَ جَعَلْنَكُمُ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ربقره : ۱۴۳)

" اور اس طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو-"

وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (نور : ٥٥)

"اللہ نے وعدہ کیا ہے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائیں اور نیک عمل کریں وہ ضرور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّين كله لله، رانفال : ۳۹)

"اور لوگوں سے جنگ کرو یہاں تک کہ بقیہ اللہ کی بندگی کا فتنہ مٹ جائے اور اطاعت پوری کی پوری صرف اللہ کے لیے ہوئے"-

اسلامی احکام باہم مربوط ہیں جیسے گھڑی کے پڑنے

اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھنٹے کے پرزوں کی طرح اسلام میں بھی وہ تمام پرزے جمع کیے گئے ہیں جو اس غرض کےلیے ضروری اور مناسب تھےدین کے عقاید و اخلاق کے اصول،معاملات کے قاعدے، خدا کے حقوق، بندی کےحقوق خود اپنےنفس کےحقوق دنیا کی ہر چیز کےحقوق سجس سےآپ کو واسطہ پیش آتا ہےکمانے کےقاعدے، اور خرچ کرنےکےطریقےجنگ کےقانون اور صلح کےقاعدے، حکومت کرنےکےقوانین اور حکومت اسلامی کی اطاعت کرنے کے ڈھنگ،یہ سب اسلام کےپرزے ہیں اور ان کو گھڑی کےپرزوں کی طرح ایک ایسی ترتیب سے ایک دوسرے کےساتھ کیا گیا ہےکہ جو نہی اس میں کوک دی جائے، ہر پرزہ دوسرے پرزوں کےساتھ مل کر حرکت کرنے لگے، اور ان سب کی حرکت سےاصل نتیجہ یعنی اسلام کا غلبہ اور دنیا پر خدائی قانون کا تسلط انطراح مسلسل ظاہر ہونا شروع ہو جائےجس طرح اس گھنٹےکو آپ دیکھ رہےہیں کہ اس کےپرزوں کی حرکت کےساتھ ہی باہر کے سفید تختے پر نتیجہ برابر ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ گھڑی میں پرزوں کو ایک دوسرں کےساتھ باندھےرکھنے کےلیےچند کیلیں اور چند پنیاں لگائی گئی ہیں اسی طرح اسلام کےتمام پرزوں کو ایک دوسرے کےساتھ جھڑا رکھنےاور ان کی صحیح ترتیب قائم رکھنےکےلیےوہ چیز رکھی گئی ہےجس کو نظام جماعت کہاجاتا ہےیعنی مسلمانوں کا ایک ایسا سردار جو دین کا صحیح علم اور تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔جماعت کے زماغ مل کر اس کی مدد کریں، جماعت کےہاتھ پاؤں اس کی اطاعت کریں،ان سب کی طاقت سے وہ اسلام کے قوانین نافذ کرے اور لوگوں کو اُن قوانین کی خلاف ورزی سے روکے ، اس طریقے سے جب سارے پرزے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں اور ان کی ترتیب ٹھیک ٹھیک قائم ہو جائے تو ان کو حرکت دینے اور دیتے رہنے کے لیے کوک کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہی کوک یہ نماز ہے جو ہر روز پانچ وقت پڑھی جاتی ہے ۔ پھر اس گھڑی کو صاف کرتے رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ صفائی یہ روزےہیں جو سال بھر میں تیس دن رکھےجاتے ہیں۔ اور اس گھڑی کو تیل دیتے رہنے کی بھی ضرورت ہے، سو زکواۃ وہ تیل ہے جو سال بھر میں ایک مرتبہ اس کے پرزوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ تیل کہیں باہر سے نہیں آتا بلکہ اسی گھڑی کے بعض پرزے تیل بناتے ہیں اور بعض سوکھے ہوئےپرزوں کو روغن دار کر کے آسانی کے ساتھ چلنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ پھر اسےکبھی کبھی اوور ہال کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، سو وہ اوور ہالنگ حج ہے جو عمر میں ایک مرتبہ کرنا ضروری ہے، اور اس سے زیادہ جتنا کیا جا سکے اتنا ہی بہتر ہے۔

متفرق پرزوں کا جوڑ کار آمد نہیں

اب آپ غور کیجیےکہ یہ کوک دنیا اور صفائی کرنا اور تیل دینا اور اورهال کرنا اسی وقت تو مفید ہو سکتا ہے جب اس فریم میں اسی گھڑی کے سارے پرزےموجود ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ اُسی ترتیب سے جوڑے ہوئے ہوں جس سے گھڑی ساز نے انھیں جوڑا تھا، اور ایسے تیار رہیں کہ کوک دیتے ہی اپنی مقررہ حرکت کرنے لگیں اور حرکت کرتے ہی نتیجه دکھانے لگیں۔ لیکن یہاں معام ہی کچھ دوسرا ہو گیا ہے۔ اول تو وہ نظام جماعت ہی باقی نہیں رہا جس سے اس گھڑی کےپرزوں کو باندھا گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارے بیچ ڈھیلے ہوگئےاور پردہ پرزہ الگ ہو کہ بکھر گیا۔ اب جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ، ہر شخص مختار ہے۔ اس کا دل چاہے تو اسلام کے قانون کی پیروی کرے اور نہ بچا ہے تو نہ کرے۔ اس پر بھی آپ لوگوں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا تو آپ نےاس گھڑی کےبہت سے پرزے نکال ڈالےاور ان کی جگہ ہر شخص نےاپنی اپنی پسند کےمطابق جس دوسری مشین کا پردہ چاہا لا کر اس میں فیٹ کر دیا۔ کوئی صاحب سنگر مشین کا پُرزہ پسند کر کےلےآئے،کسی صاحب کو آٹا پیسنے کی چکی کا کوئی پرزہ پسند آ گیا تو وہ اُسے اٹھا لائے۔ اور کسی صاحب نےموٹر لاری کی کوئی چیز پسند کی تو اسےلا کر اس گھڑی میں لگا دیا۔اب آپ مسلمان بھی ہیں اور بینک سےسودی کاروبار بھی چل رہا ہےانشورنس کمپنی میں ہیمیہ بھی کرا رکھا ہےعدالتوں میں جھوٹےمقدمےبھی کر رہےہیں۔کفر کی وفادار آ خدمت بھی ہو رہی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں اور بیویوں کو میم صاحب بھی بنایا جا رہا ہے۔ بچوں کو مادہ پرستانہ تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ گاندھی صاحب کی پیروی بھی ہو رہی ہے اور لین صاحب کے راگ بھی گانے جا رہے ہیں ۔غرض کوئی غیر اسلامی چیز ایسی نہیں رہی جسے ہمارے بھائی مسلمانوں نے لالا کر اسلام کی اس گھڑی کے فریم میں ٹھونس نہ دیا ہو۔

غیر متوقع نتائج کے مخاطب

یہ سب حرکتیں کرنے کے بعد اب آپ چاہتے ہیں کہ کوک دینے سےیہ گھڑی چلے اور وہی نتیجہ دکھائے جس کے لیے اس گھڑی کو بنایا گیا تھا۔اور صفائی کرنے اور تیل دینےاور اوور ہال کرنےسےوہی فائدےہوں جو ان کاموں کے لیے مقرر ہیں ۔ مگر ذرا عقل سے آپ کام لیں تو بآسانی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو حال آپ نے اس گھڑی کا کر دیا ہے اس میں تو عمر بھر کوک دینے اور صفائی کرنے اور تیل دیتے رہنے سے بھی کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ جب تک آپ باہر سےآئے ہوئے تمام پرزوں کو نکال کر اس کے اصلی پرزے اس میں نہ رکھیں گے اور پھر ان پرزوں کو اسی ترتیب کے ساتھ بھوڑ کر کسی نہ دیں گے میں طرح ابتدا میں انھیں جوڑا اور کیا گیا تھا، آپ ہر گنزان نتائج کی توقع نہیں کر سکتے جو اس سے کبھی ظاہر ہوئے تھے۔

عبادات بے اثر ہونے کی اصل وجہ

خوب سمجھ لیجیے کہ یہ اصلی وجہ ہے آپ کی نمازوں اور روزوں اور زکوۃ اور حج کے بے نتیجہ ہو جانے کی۔ اول تو آپ میں سے نمازیں پڑھنے والے اور روزےرکھنے والے اور زکوۃ اور حج ادا کرنے والے ہیں ہی کتنے ۔ نظام جماعت کے بکھر جانے سے ہر شخص مختار مطلق ہو گیا ہے. چاہے ان فرائض کو ادا کرے اچھا ہے نہ کرے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ پھر بجو لوگ انھیں ادا کرتے ہیں وہ بھی کس طرح کرتے ہیں؟ نماز میں جماعت کی پابندی نہیں، اور اگر کہیں جماعت کی پابندی ہےبھی تو مسجدوں کی امامت کے لیے اُن لوگوں کو چنا جاتا ہے جو دنیا میں کسی اور کام کے قابل نہیں ہوتے ۔ مسجد کی روٹیاں کھانے والے ، جاہل، کم حوصلہ اور پست اخلاق لوگوں کو آپ نے اُس نماز کا امام بنایا ہے جو آپ کو خدا کا خلیفہ اور دنیا میں خدائی فوجدار بنانے کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح روزے اور زکوۃ اور آج کا جو حال ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود آپ کہہ سکتےہیں کہ اب بھی بہت سے مسلمان اپنے فرائض دینی بجا لانے والے ضرور ہیں۔لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں گھڑی کا پُرزہ پرزہ الگ کر کے اور اس میں باہر کی بیسیوں چیزیں داخل کر کے آپ کا کوک دیتا اور نہ دینا ، صفائی کرنا اور نہ کرنا تیل دینا اور نہ دینا، دونوں بے نتیجہ ہیں۔ آپ کی یہ گھڑی دُور سے گھڑی ہی نظر آتی ہےدیکھنے والا یہی کہتا ہے کہ یہ اسلام ہے اور آپ مسلمان ہیں ۔ آپ جب اس گھڑی کو کوک دیتے اور صفائی کرتے ہیں تو دور سے دیکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ واقعی آپ کوک دے رہے اور صفائی کر رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ نماز نماز نہیں ہے ، یا یہ روزے، روزے نہیں ہیں۔ مگر دیکھنے والوں کو کیا خبر کہ اس ظاہری فریم کے اندر کیا کچھ کارستانیاں کی گئی ہیں۔

ہماری افسوس ناک حالت

برادران اسلام، میں نے آپ کو اصلی وجہ بتادی ہے کہ آپ کے یہ مذہبی اعمال آج کیوں بے نتیجہ ہور ہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ نمازیں پڑھنےاور روزے رکھنے کےبا وجود آپ خدائی فوجدار بننے کے بجائے کفار کے قیدی اور ہر ظالم کےتختہ مشق بنےہوئے ہیں۔لیکن آپ اگر برا نہ مانیں تو میں آپ کو اس سےبھی زیادہ افسوسناک بات بتاؤں آپ کو اپنی اس حالت کا رنج اور اپنی مصیبت کا احساس تو ضرور ہے مگر آپ کے اندر ہزار میں سے نو سو ننانوے بلکہ اس سےبھی زیادہ لوگ ایسےہیں جو اس حالت کو بدلنےکی صحیح صورت کے لیے راضی نہیں ہیں۔وہ اسلام کےاس گھنٹےکو جس کا پرزہ پرزہ اندر سےالگ کر دیا گیا ہےاور جس میں اپنی اپنی پسند کے مطابق ہر شخص نے کوئی نہ کوئی چیز ملا رکھی ہےاز سر نو مرتب کرنا برداشت نہیں کر سکتےکیونکہ جب اس میں سےبیرونی چیزیں نکالی جائیں گی تو لامحالہ ہر ایک کی پسند کی چیز نکالی جائےگی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ دوسروں کی پسند کی چیزیں تو نکال دی جائیں، مگر آپ نے خود باہر کا ہجو پرزہ لاکر لگا رکھا ہوا سے رہنے دیا جائے ۔اسی طرح جب اسے کیا جائےگا تو سب ہی اس کےساتھ کئےجائیں گےیہ ممکن نہیں ہےکہ اور سب تو کسی دیےجائیں مگر صرف ایک آپ ہی ایسے پرزے ہوں جسےڈھیلا چھوڑ دیا جائے۔ بس یہی وہ چیز ہے کہ جب اس کو کیا جائے گا تو وہ خود بھی اس کے ساتھ کئے جائیں گے، اور یہ ایسی مشقت ہے جسے برضا و رغبت گوارا کرنا لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ اس لیے وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ یہ گھنٹہ اسی حال نہیں دیوار کی زینت بنا ر ہے اور دُور سے لاکر کہ لوگوں کو اس کی زیارت کرائی جائے، اور انھیں بتایا جائے کہ اس گھنٹے میں ایسی اور ایسی کرامات چھپی ہوئی ہیں۔اس سے بڑھ کر جو لوگ کچھ زیادہ اس گھنٹے کے ہوا خواہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اسی حالت میں اس کو خوب دل لگا لگا کر کوک دی جائے اور نہایت تن دہی کے ساتھ اس کی صفائی کی جائے انگر بھاشا کہ اس کے پرزوں کو مرتب کرنے اور کہنے اور بیرونی پرزے نکال پھینکنے کا ارادہ نہ کیا جائے۔

کاش میں آپ کی ہاں میں ہاں ملا سکتا،مگر میں کیا کروں کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اس کے خلاف نہیں کہہ سکتا ۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس حالت میں آپ اس وقت ہیں اس میں پانچ وقت کی نمازوں کے ساتھ تہجد اور اشراق اور چاشت بھی آپ پڑھنے لگیں، اور پانچ پانچ گھنٹے روزانہ قرآن بھی پڑھیں ، اور رمضان شریف کے علاوہ گیارہ مہینوں میں ساڑھے پانچ مہینوں کے مزید روزے بھی رکھ لیا کریں تب بھی کچھ حاصل نہ ہو گا۔ گھڑی کے اندر اس کے اصلی پرزے رکھے ہوں اور نھیں کسی دیا جائے تب تو ذرا سی کوک بھی اس کو پلادے گی، تھوڑا سا صاف کرنااور ذرا سا تیل دینا بھی نتیجہ نعیز ہو گا۔ ورنہ عمر بھر کوک دیتے رہیے ، گھڑی نہ چلتی ہے نہ چلے گی ۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ -

Blank page

باب چهارم

روزہ

روزہ

روزہ کا اصل مقص

روزه

ہر امت پر روزہ فرض کیا گیا

برادران اسلام، دوسری عبادت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کی ہے روزہ ہے۔ روزے سے مُراد یہ ہے کہ صبح سے شام تک آدمی کھانے پینےاور مباشرت سےپرهیز کرے۔نماز کی طرح یہ عبادت بھی ابتدا سےتمام پیغمبروں کی شریعت میں فرض رہی ہے۔ پچھلی جتنی اُمتیں گزری ہیں سب اسی طرح روزے رکھتی تھیں جس طرح امت محمدی رکھتی ہے۔ البتہ روزے کے احکام اور روزوں کی تعداد اور روزے رکھنے کے زمانے میں شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے ۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مذاہب میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہے، اگر چہ لوگوں نے اپنی طرف سےبہت سی باتیں ملاکر اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ :

يايُّهَا الَّذِينَ مَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصّيَامُ كَمَا كُتب على الذِينَ مِن قَبْلِكُمْ (البقره ۱۸۳۱)

" یعنی اے مسلمانو، تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا۔"

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی شریعتیں آئی ہیں وہ کبھی روزے کی عبادت سے خالی نہیں رہی ہیں۔

روزہ کیوں فرض کیا گیا ؟

غور کیجیے کہ آخر روزے میں کیا بات ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عبادت کو ہر زمانے میں فرض کیا ہے؟

مقصد زندگی بندگی رب

اس سے پہلے کئی مرتبہ آپ سے بیان کر چکا ہوں کہ اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت بنا دیا ہے ۔ انسان عبد یعنی بندہ پیدا ہوا ہےاور عبدیت یعنی بندگی اس کی عین فطرت ہے۔ اس لیے عبادت یعنی خیال و عمل میں اللہ کی بندگی کرنے سے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو آزاد نہ ہونا چاہیے۔ اسے اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ہمیشہ اور ہر وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کسی چیز میں ہے اور اس کا غضب اور ناراضی کسی چیز ہیں ۔ پھر جس طرف اللہ کی رضا ہو اُدھر جانا چاہیے اور جس طرف اس کا غضب اور اس کی ناراضی ہو اس سے یوں بیچنا چاہیے جیسے آگ کے انگارے سے کوئی بچتا ہے ۔ جو طریقہ اللہ نے پسند کیا ہو اس پر چلنا چاہیے اور جس طریقے کو اُس نے پسند نہ کیا ہو اس سے بھاگنا چاہیے ۔جب انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں رنگ جائے تب سمجھو کہ اس نے اپنےمالک کی بندگی کا حق ادا کیا اور وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ_١ کا منشا پورا ہو گیا۔

عبادات _______ بندگی کی تربیت

یہ بات بھی اس سے پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ نماز ، روزے، حج اور زکوۃ کے نام سے جو عبادتیں ہم پر فرض کی گئی ہیں ان کا اصل مقصد اسی بڑی عبادت کےلیے ہم کو تیار کرنا ہے۔ ان کو فرض کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر تم نے دن میں پانچ وقت رکوع اور سجدہ کر لیا، اور رمضان میں تمہیں دن تک صبح سے شام تک ٹھوک پیاس برداشت کر لی اور مالدار ہونے کی صورت میں سالانہ زکواۃ اور عمر میں ایک مرتبہ حج ادا کر دیا، تو اللہ کا جوکچھ حق تم پر تھاوہ ادا ہو گیا اور اس کے بعد تم اس کی بندگی سے آزاد ہو گئے کہ جو چاہو کرتے پھرو، بلکہ در اصل ان عبادتوں کو فرض کرنے کی غرض یہی ہے کہ ان کے ذریعہ سے آدمی کی تربیت کی جائے اور اس کو اس قابل بنا دیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے ۔ آئیےاب اسی مقصد کو سامنے رکھ کر ہم دیکھیں کہ روزہ کس طرح آدمی کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتا ہے۔


١- میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا اسی لیے کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں (الداریات :٥٦)

روزہ مخفی عبادت ہے

روزے کے سوا دوسری جتنی عبادتیں ہیں وہ کسی نہ کسی ظاہری حرکت سےادا کی جاتی ہیں۔ مثلاً نماز میں آدمی اُٹھتا اور بیٹھتا اور رکوع اور سجدہ کرتا ہے جس کو شخص دیکھ سکتا ہے ۔ حج میں ایک لمبا سفر کر کے جاتا ہے اور پھر ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے ساتھ سفر کرتا ہے ۔ زکواۃ بھی کم از کم ایک شخص دیتا ہے اور دوسرا شخص لیتا ہے۔ ان سب عبادتوں کا حال چھپ نہیں سکتا ۔ اگر آپ ادا کرتےہیں تب بھی دوسروں کو معلوم ہو جاتا ہے، اگر ادا نہیں کرتے تب بھی لوگوں کو خبر ہو ہی جاتی ہے۔ اس کے بر خلاف روزہ ایسی عبادت ہے جس کا حال خدا اور بندےکےسوا کسی دوسرے پر نہیں کھل سکتا ۔ ایک شخص سب کے سامنے سحری کھائےاور افطار کے وقت تک ظاہر میں کچھ نہ کھائے پیے ، مگر چھپ کر پانی پی جائے، یا کچھ چوری چھپے کھا پی لے، تو خدا کے سوا کسی کو بھی اس کی خبر نہیں ہو سکتی۔ساری دنیا یہی سمجھتی رہےگی کہ وہ روزے سےہےاور وہ حقیقت میں روزے سے نہ ہوگا۔

روزہ ایمان کی مضبوطی کی علامت

روزے کی اس حیثیت کو سامنےرکھو، پھر غور کرو کہ جو شخص حقیقت میں روزےرکھتا ہےاور اس میں چوری کے بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا ، سخت گرمی کی حالت میں بھی جبکہ پیاس سے حلق بیٹھا جاتا ہو، پانی کا ایک قطرہ حلق سے نیچے نہیں اُنار تا سخت بھوک کی حالت میں بھی جبکہ آنکھوں میں دم آرہا ہو کوئی چیز کھانےکا ارادہ تک نہیں کرتا،اُسےاللہ تعالیٰ کےعالم الغیب ہونے پر کتنا ایمان ہے۔کس قدر زبر دست یقین کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی حرکت چاہے ساری دنیا سے چھپ جائے مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتی۔ کیسا خوب خدا اس کے دل میں ہے کہ بڑی سے بڑی تکلیف اُٹھاتا ہے مگر صرف اللہ کے خوف کی وجہ سےکوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اس کے روزے کو توڑنے والا ہو۔ کس قدر مضبوط اعتقاد ہے اُس کو آخرت کی جنہ او سزا پر کہ مہینہ بھر میں وہ کم از کم تین سو ساٹھ گھنٹے کے روزے رکھتا ہے اور اس دوران میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کےدل میں آخرت کے متعلق شک کا شائبہ تک نہیں آتا ۔ اگر اُسے اس بات میں ذرا سا بھی شک ہوتا کہ آخرت ہو گی یا نہ ہوگی اور اس میں مذاب و ثواب ہو گا یا نہ ہو گا تو وہ کبھی اپنا روزہ پورا نہیں کر سکتا۔تک آنے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی خدا کے حکم کی تعمیل میں کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کے ارادے پر قائم رہ جائے۔

ایک ماہ کی مسلسل ٹرینینگ

اس طرح اللہ تعالیٰ ہر سال کامل ایک مہینہ تک مسلمان کے ایمان کو مسلسل آزمائش میں ڈالتا ہے۔اور اس آزمائش میں جتنا جتنا آدمی پورا اترتا جاتا ہےاُتنا ہی اس کا ایمان مضبوط ہوتاجاتا ہےیہ گویا آزمائش کی آزمائش ہے اور ٹریننگ کی ٹریننگ ۔ آپ جب کسی شخص کے پاس امانت رکھواتے ہیں تو گویا اس کی ایمانداری کی آنہ مائش کرتےہیں۔اگر وہ اس آزمائش میں پورا اُترےاور امانت میں خیانت نہ کرے تو اس کے اندر امانتوں کا بوجھ سنبھالنے کی اور زیادہ طاقت پیدا ہو جاتی ہےاور وہ زیادہ امین بنتا چلا جاتا ہےاسی طرح اللہ تعالیٰ بھی مسلسل ایک مہینےتک روزانہ بارہ بارہ چودہ چودہ گھنٹےتک آپ کےایمان کو کڑی آزمائش میں ڈالتا ہےاور جب اس آزمائش میں آپ پورے اُترتےہیں تو آپ کےاندر اس بات پرہیز کریں، اللہ کو عالم الغیب جان کر چوری چھپے بھی اس کے قانون کو توڑنے سےبچیں اور ہر موقع پر قیامت کا وہ دن آپ کو یاد آجایا کرے جب سب کچھ کھل جائے گا اور بغیر کسی رو رعایت کے بھلائی کا بھلا اور بڑائی کا برا بدلہ ملےگا۔یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ :

يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. (بقره : ۱۸۳)

"اے اہلِ ایمان ، تمھارے اوپر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ شاید کہ تم پرهیزگار بن جائے۔

اطاعت کی طویل مشق

روزے کی ایک دوسری خصوصیت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک لمبی مدت تک شریعت کے احکام کی لگاتار اطاعت کراتا ہے۔ نماز کی مدت ایک وقت میں چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ زکواۃ ادا کرنے کا وقت سال بھر میں مرےایک وقت آتا ہے۔ حج میں البتہ لمبی مدت صرف ہوتی ہے مگر اس کا موقع عمر بھر میں ایک دفعہ آتا ہےاور وہ بھی سب کےلیےنہیں۔ ان سب کےبرخلاف روزه ہر سال پورےایک مہینےتک شب و روز شریعت محمدی کے اتباع کی مشق کرانا ہے ۔صبح سحری کے لیے اُٹھو، ٹھیک فلاں وقت پر کھانا پینا سب بند کر دو۔ دن پھر فلاں فلاں کام کر سکتے ہو اور فلاں فلاں کام نہیں کر سکتے۔ شام کو ٹھیک فلاں وقت پر افطار کرو، پھر کھانا کھا کہ آرام کہ لو، پھر تراویح کے لیے دوڑو۔اس طرح ہر سال کا مل مہینہ بھر صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مسلمان کو مسلسل فوجی سپاہیوں کی طرح پورے قاعدے اور ضابطے میں باندھ کر رکھا جاتا ہے اور پھر گیارہ مہینے کے لیے اُسے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ جو تربیت اس ایک مہینہ میں اس نے حاصل کی ہے اس کے اثرات ظاہر ہوں، اور جو کمی پائی جائے وہ پھر دوسرےسال کی ٹرینینگ میں پوری کی جائے۔

تربیت کے لیے سازگار اجتماعی ماحول

اس قسم کی تربیت کےلیےایک شخص کو الگ الگ لےکر تیار کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہوتا۔ فوج میں بھی آپ دیکھتےہیں کہ ایک ایک شخص کو الگ الگ قواعد نہیں کرائی جاتی بلکہ پوری فوج کی فوج ایک ساتھ قواعد کرتی ہے۔ سب کو ایک وقت نگل کی آواز پر اُٹھا اور منگل کی آواز پر کام کرنا ہوتا ہے تا کہ ان میں جماعت بن کر منفقہ کام کرنے کی عادت ہو، اور اس کے ساتھ ہی وہ سب ایک دوسرے کی تربیت میں مددگار بھی ہوں، یعنی ایک شخص کی تربیت میں جو کچھ نقصان رہ جائے اس کی کمی کو دوسرا اور دوسرے کی کمی کو تیرا پورا کر دے۔ اسی طرح اسلام میں بھی رمضان کا مہینہ روزے کی عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ایک وقت میں سب کےسب مل کر روزہ رکھیں۔اس حکم نےانفرادی عبادت کو اجتماعی عبادت بنا دیا ۔ جس طرح ایک کے عدد کو لاکھ سے ضرب دو تو لاکھ کا زبردست عدد بن جاتا ہے۔ اس طرح ایک ایک شخص کے روزہ رکھنے سے جو اخلاقی اور روحانی فائدے ہو سکتے ہیں، لاکھوں کروڑوں آدمیوں کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ لاکھوں کروڑوں گئےزیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ پوری فضا کو نیکی اور پرہیز گاری کی رُوح سےبھر دیتا ہے ۔ پوری قوم میں گویا تقوی کی کھیتی سرسبز ہو جاتی ہے۔ہر شخص نہ صرف خود گناہوں سے بچنےکی کوشش کرتا ہےبلکہ اگر اس میں کوئی کمزوری ہوتی ہے تو اس کے دوسرے بہت سے بھائی جو اسی کی طرح روزہ دار ہیں، اس کی پشت پناہ بن جائےہیں۔ ہر شخص کو روزہ رکھ کر گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے، اور ہر ایک کے دل میں خود بخود یہ خواہش ابھرتی ہے کہ کچھ بھلائی کے کام کرے، کسی غریب کو کھانا کھائے،کسی نگے کو کپڑا پہنائے، کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے، کسی جگہ اگر کوئی نیک کام ہو رہا ہو تو اس میں حصہ لے اور اگر کہیں علانیہ بری ہو رہی ہو تو اسے روکے۔ نیکی اور تقوی کا ایک عام ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور بھلائیوں کے پھلنے پھولنے کا موسم آجاتا ہے، جس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ ہر فلہ اپنا موسم آنے پر خوب پھلتا پھولتا ہے اور ہر طرف کھیتوں پر چھایا ہوا نظر آتا ہے۔

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

كُل عَمَلِ ابنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ امْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا الصَّومُ فَإِنَّهُ لِى وأنا أخرى به

"آدمی کا ہر عمل خدا کےہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہےایک نیکی دس گنی سےسات سو گنی تک پھلتی پھولتی ہےمگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ وہ خاص میرے ہےاور میں اس کا جتنا چاہتا ہوں بدلہ دیتا ہوں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کرنے والے کی نیت اور نیکی کے نتائج کےلحاظ سے تمام اعمال پھلتے پھولتے ہیں۔ اور ان کی ترقی کے لیے ایک حد ہے ۔ مگر روزے کی ترقی کے لیے کوئی سود نہیں۔ رمضان چونکہ خیر اور صلاح کے پھلنے اور پھولنے کا موسم ہے، اور اس موسم میں ایک شخص نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں مسلمان مل کہ اس نیکی کے باغ کو پانی دیتے ہیں اس لیے یہ بے حد و حساب بڑھ سکتا ہے۔جتنی زیادہ نیک نیتی کے ساتھ اس مہینہ میں عمل کرو گے جس قدر زیادہ برکتوں سےخود فائدہ اُٹھاؤ گے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو فائدہ پہنچاؤ گے اور پھر جس قدر زیادہ اس مہینہ کے اثرات بعد کے گیارہ مہینوں میں باقی رکھو گے، اتنا ہی یہ پھلے پھولے گا ، اور اس کے پھلنے اور پھولنے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ تم خود اپنے عمل سے اس کو محدود کر لو تو یہ تمھارا اپنا قصور ہے۔

عبادات کے نتائج اب کہاں ہیں ؟

روزے کے یہ اثرات اور یہ نتائج سن کر آپ میں سے ہر شخص کے دل نہیں یہ سوال پیدا ہو گا کہ یہ اثرات آج کہاں ہیں ؟ ہم روزے بھی رکھتے ہیں اور نما نہیں بھی پڑھتے ہیں مگر یہ نتیجھے جو تم بیان کرتے ہو ظاہر نہیں ہوتے اس کی وجہ تو میں آپ سےپہلے بیان کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے اجزاء کو الگ الگ کر دینے کے بعد اور بہت سی نئی چیزیں اس میں ملا دینے کے بعد آپ ان نتائج کی توقع نہیں کہ سکتے جو پورے نظام کی بندھی ہوئی صورت ہی میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری وجہ یہ ہے کہ عبادات کے متعلق آپ کا نقطہ نظر بدل گیا ہے ۔ اب آپ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ محض صبح سے شام تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کا نام عبادت ہے،اور جب یہ کام آپ نے کر لیا تو عبادت پوری ہو گئی۔اسی طرح دوسری عبادتوں کی بھی محض ظاہری شکل کو آپ عبادت سمجھتے ہیں، اور عبادت کی اصلی روح بجو آپ کے ہر عمل میں ہونی چاہیے اُس سے عام طور پر آپ کے 99 فی صد بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی فاضل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ عبادات اپنے پورے فائدے نہیں دکھائیں کیوں کہ اسلام میں تو نیت اور فہم اور سمجھ بوجھ ہی پر سب کچھ منحصر ہے۔

انشاء اللہ آیندہ شخطبے میں اس مضمون کی پوری تشریح کروں گا۔

روزہ کا اصل مقصد

ہر کام کا ایک مقصد

برادران اسلام، ہر کام جو انسان کرتا ہے، اس میں دو چیزیں لازمی طور پر ہوا کرتی ہیں۔ ایک چیز تو وہ مقصد ہے جس کےلیے کام کیا جاتا ہے، اور دوسری چیز اُس کام کی وہ خاص شکل ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ مثلاً کھانا کھانے کے فعل کو لیجیے ۔ کھانے سے آپ کا مقصد زندہ رہنا اور جسم کی طاقت کو بحال رکھنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی صورت یہ ہےکہ آپ تو الے بناتے ہیں، منہ میں لے جاتے ہیں، دانتوں سے چباتےہیں اور حلق کے نیچے اُتارتے ہیں۔ چونکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کےلیےسب سے زیادہ کارگر اور سب سے زیادہ مناسب طریقہ یہی ہو سکتا تھا، اس لیے آپ نے اسی کو اختیار کیا۔ لیکن آپ میں سے ہر شخص جانتا ہےکہ اصل چیز وہ مقصد ہے جس کےلیے کھانا کھایا جاتا ہے، نہ کہ کھانے کے فعل کی یہ صورت۔ اگر کوئی شخص لکڑی کا برادہ یا راکھ یا مٹی لے کر اس کے نوالے بنائے اور منہ میں لے جائے اور دانتوں سے چبا کر حلق سے نیچے اُتارے تو آپ اُسے کیا کہیں گے؟یہی ناکہ اس کا دماغ خراب ہے۔کیوں؟ اس لیے کہ وہ احمق کھانے کے اصل مقصد کو نہیں سمجھتا اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہےکہ بس فعل خوردن کےان چاروں ارکان کو ادا کر دیتےہی کا نام کھانا کھاتا ہے۔اسی طرح آپ اس شخص کو بھی پاگل قرار دیں گےجو روٹی کھانےکےبعد فورا ہی معلق میں انگلی ڈال کرتےکر دیتا ہو اور پھر شکایت کرتا ہو کہ روٹی کھانےکےجو فائد نےبیان کیےجاتے ہیں وہ مجھے حاصل ہی نہیں ہوتے ، بلکہ میں تو الٹا روز بروز دبلا ہوتا جا رہا ہوں اور مر جانے کی نوبت آگئی ہے ۔ یہ احمق اپنی اس کمزوری کا الزام روٹی اور کھانےپر رکھتا ہےحالانکہ حماقت اس کی اپنی ہے۔ اس نے اپنی نادانی سے یہ سمجھےلیا کہ کھانے کا فعل جتنےارکان سےمرکب ہے بس اُن کو ادا کر دینے ہی سے زندگی کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس لیے اُس نے سوچا کہ اب روٹی کا بو محمد اپنےمعدےمیں کیوں رکھو؟ کیوں نہ اُسے نکال پھینکا جائے تاکہ پیٹ ہلکا ہو جائے۔ کھانےکےارکان توئیں ادا کہ یہی چکا ہوں۔یہ احمقانہ خیال ہجو اس نے قائم کیا اور پھر اس کی پیروی کی، اس کی سزا بھی تو آخر اسی کو بھگتنی چاہیے۔ اُس کو جاننا چاہیے تھا کہ جب تک روٹی پیٹ میں جا کہ مہضم نہ ہو اور خون بن کر سارےجسم میں پھیل نہ جائےاُس وقت تک زندگی کی طاقت حاصل نہیں ہو سکتی۔کھانے کےظاہری ارکان بھی اگر چہ ضروری ہیں،کیوں کہ ان کےبغیر روٹی معدےتک نہیں پہنچ سکتی،مگر محض ان ظاہری ارکان کے ادرا کر دینے سے کام نہیں چل سکتا۔ ان ارکان میں کوئی جادو بھرا ہوا نہیں ہے کہ انھیں ادا کرنے سے بس طلسماتی طریقہ پر آدمی کی رگوں میں خون دوڑنےلگتا ہو خون پیدا کرنے کے لیے تو اللہ نے جو قانون بنایا ہے اسی کے مطابق وہ پیدا ہو گا۔ اس کو توڑو گے تو اپنے آپ کو خود ہلاک کرو گے۔

ظاہر کو حقیقت سمجھنے کے نتائج

یہ مثال جو اس تفصیل کے ساتھ میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے اس پر آپ خود کریں تو آپ کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ آج آپ کی عبادتیں کیوں بے اثر ہو گئی ہیں ۔ جیسا کہ میں پہلے بھی آپ سے بار ہا بیان کر چکا ہوں ۔ سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ آپ نے نماز روزے کے ارکان اور ان کی ظاہری صورتوں ہی کو اصل عبادت سمجھ رکھا ہے اور آپ اس خیالِ خام میں مبتلا ہو گئےہیں کہ جس نے یہ ارکان پوری طرح ادا کر دیے اس نے بس اللہ کی عبادت کر دی۔ آپ کی مثال اُسی شخص کی سی ہے جو کھانے کے چاروں ارکان، یعنی نوالے بنانا منہ میں رکھنا ، بچیانا حلق سےنیچے اتار دینا ، بس انہی چاروں کے مجموعے کو کھانا سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس نے یہ چار ارکان ادا کر دیےاُس نےکھا لیا اور کھانے کےفائدے اُس کو حاصل ہونے چاہیں،خواہ اس نےان ارکان کے ساتھ مٹی اور پتھر اپنے پیٹ ہیں اُتارے ہوں ، یا روٹی کھا کر فورا قے کر دی ہو۔ اگر حقیقت میں آپ لوگ اس حقیقت میں مبتلا نہیں ہو گئے ہیں تو مجھے بتائیے یہ کیا ماجرا ہے کہ جو روزہ دار صبح سے شام تک اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے وہ مین اس عبادت کی حالت میں جھوٹ کیسے بولتا ہے؟ غیبت کس طرح کرتا ہے؟ بات بات پر لڑتا کیوں ہے؟ اس کی زبان سے گالیاں کیوں نکلتی ہیں ؟ وہ لوگوں کا حق کیسے مار کھاتا ہے ، حرام کھانےاور حرام کھلانے کےکام کس طرح کر لیتا ہے؟ اور پھر یہ سب کام کر کے بھی اپنےنزدیک یہ کیسے سمجھتا ہے کہ میں نے خدا کی عبادت کی ہے ؟ کیا اس کی مثال اُس شخص کی سی نہیں ہے جو راکھ اور مٹی کھاتا ہے اور محض کھانے کے چار ارکان ادا کر دینے کو سمجھتا ہے کہ کھانا اس کو کہتے ہیں ؟

رمضان کے بعد پھر بے قیدی

پھر مجھے بتائیے یہ کیا ماجرا ہے کہ رمضان بھر میں تقریباً ۳۶۰ گھنٹے خدا کی عبادت کرنے کے بعد جب آپ فارغ ہوتے ہیں تو اس پوری عبادت کے تمام اثرات شوال کی پہلی تاریخ ہی کو کافور ہو جاتے ہیں ؟ ہندو اپنے تہواروں میں جو کچھ کرتےہیں وہی سب آپ عید کے زمانے میں کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ شہروں میں تو عید کےروز بدکاری اور شراب نوشی اور قمار بازی تک ہوتی ہے۔ اور بعض ظالم توئیں نےایسے دیکھے ہیں جو رمضان کے زمانے میں دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو شراب پیٹتے اور زنا کرتے ہیں۔ عام مسلمان خدا کے فضل سے اس قدر بگڑے ہوئے تو نہیں ہیں، مگر رمضان ختم ہونے کےبعد آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے اندر عید کے دوسرے دن بھی تقوئی اور پرہیز گاری کا کوئی اثر باقی رہ جاتا ہو؟خدا کےقوانین کی خلاف ورزی میں کونسی کسر اٹھا رکھی جاتی ہے ؟ نیک کاموں میں کتنا حصہ لیا جاتا ہے؟ اور نفسانیت میں کیا کمی آجاتی ہے؟

عبادت کے غلط تصور کا نتیجہ

سونچیے اور غور کیجیے کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں،اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم اور مطلب ہی غلط ہو گیا ہے ۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سحر سے لے کر مغرب تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینےکا نام روزہ ہے اور بس یہی عبادت ہےاس لیے روزے کی تو آپ پوری محفاظت کرتے ہیں۔ خدا کا خوف آپ کے دل میں اس قدر ہوتا ہے کہ جس چیز میں روزہ ٹوٹنے کا ذرا سا اندیشہ بھی ہو اس سے بھی آپ بچتے ہیں۔ اگر جان پر بھی بن جائے تب بھی آپ کو روزہ توڑنے میں تامل ہوتا ہے۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کی صورت ہے۔ اور یہ صورت مقرر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ آپ کے اندر خدا کا خوف اور خدا کی محبت پیدا ہو، اور آپ کے اندر اتنی طاقت پیدا ہو جائے کہ جس چیز میں دنیا بھر کے فائدے ہوں مگر بغدا ناراض ہوتا ہو اس سے اپنے نفس پر جبر کر کے بیچ سکیں، اور جس چیز میں ہر طرح کےخطرات اور نقصانات ہوں مگر خدا اس سے خوش ہوتا ہو، اس پر آپ اپنے نفس کو مجبور کر کے آمادہ کر سکیں، یہ طاقت اسی طرح پیدا ہو سکتی تھی کہ آپ روزے کےمقصد کو سمجھتے اور مہینہ بھر تک آپ نے خدا کے خوف اور خدا کی محبت میں اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے اور خدا کی رضا کے مطابق چلانے کی جو مشق کی ہے اس سے کام لیتے۔ مگر آپ تو رمضان کے بعد ہی اس مشق کو اور ان صفات کو جو اس مشق سے پیدا ہوتی ہیں اس طرح نکال پھینکتے ہیں جیسے کھانے کے بعد کوئی شخص حلق میں انگلی ڈال کر تھے کر دے بلکہ آپ میں سے بعض لوگ تو روزہ کھولنے کےبعد ہی دن بھر کی پرہیز گاری کو اگل دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتائیے کہ رمضان اور اُس کے روزےکوئی علم تو نہیں ہیں کہ بس اُن کی ظاہری شکل پوری کر دینےسےآپ کو وہ طاقت حاصل ہو جائےجو حقیقت میں روزے سےحاصل ہونی چاہیے۔جس طرح روٹی سے جسمانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ معدے میں جا کر ہضم نہ ہو اور خون بن کر جسم کی رگ رگ میں نہ پہنچ جائے،اسی طرح روزے سےبھی روحانی طاقت اُس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ آدمی روزہ کے مقصد کو پوری طرح سمجھے نہیں اور اپنے دل و دماغ کے اندر اس کو اُترنے اور خیال، نیت، ارادے اور عمل سب پر چھا جانے کا موقع نہ دے۔

روزہ ، متقی بننے کا ذریعہ

یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کا حکم دینے کے بعد فرمایا، لعلکم تتقون ، یعنی تم پر روزہ فرض کیا جاتا ہے، شاید کہ تم متقی و پرہیز گار بن جاؤ۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس سے ضرور متقی و پرہیز گار بن جاؤ گے۔ اس لیے کہ روزے کا یہ نتیجہ تو آدمی کی سمجھ بوجھ اور اس کے ارادے پر موقوف ہے ۔ جو اس کے مقصد کو سمجھے گا اور اس کے ذریعہ سے اصل مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا وہ تو تھوڑا یا بہت متقی بن جائے گا۔ مگر جو مقصد ہی کو نہ سمجھے گا اور اُسے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کرے گا اُسے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی امید نہیں۔

روزہ کے اصل مقاصد

ا- جھوٹ سے بچنا

بی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے روزے کے اصل مقصد کی طرف تو تبہ دلائی ہے اور یہ سمجھایا ہے کہ مقصد سے فاضل ہو کہ بھوکا پیاسا رہنا کچھ مفید نہیں ۔ چنانچہ فرمایا :

مَنْ لَحْيَدَعْ قَوْلَ النُّورِ وَ الْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ في أَن يَدَمَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ -

"جس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا ہی نہ چھوڑا تو اس کا کھانا اور پانی چھڑا دینے کی اللہ کو کوئی حاجت نہیں۔"

دوسری حدیث میں ہے کہ سرکار نے فرمایا :

كَمُ مِنْ صَائِهِ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ وَكَمْ مِنْ قَائِم لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ

" بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کےسوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا ، اور بہت سے راتوں کو کھڑے رہنے والےایسے ہیں کہ اس قیام سے رت جگے کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا "-

ان دونوں حدیثوں کا مطلب بالکل صاف ہے۔ ان سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ محض بھوکا اور پیاسا رہنا عبادت نہیں ہےبلکہ اصل عبادت کا ذریعہ ہے،اور اصل عبادت ہے خوف خدا کی وجہ سے خدا کے قانون کی خلاف ورزی نہ کرنا ، اور محبت الہی کی بنا پر ہر اس کام کےلیےشوق سےلپکنا جس میں محبوب کی خوشنودی ہو، اور نفسانیت سے بچنا ، جہاں تک بھی ممکن ہو۔ اس عبادت سےجو شخص فاضل رہا اس نے خواہ مخواہ اپنے پیٹ کو ٹھوک پیاس کی تکلیف دی ۔ اللہ تعالی کو اس کی حاجت کب تھی کہ بارہ چودہ گھنٹے کے لیے اس سے کھانا پینا چھڑا دیتا ؟

۲- ایمان و احتساب

روزے کے اصل مقصد کی طرف سر کا نہ اس طرح تو جہ دلاتے ہیں کہ :

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِم -

"یعنی جس نے روزہ رکھا ایمان اور احتساب کے ساتھے ، اس کےتمام پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ۔"

ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے متعلق ایک مسلمان کا جو عقیدہ ہونا چاہیےوہ عقیدہ ذہن میں پوری طرح تازہ رہے۔ اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ ہی کی رضا کا طالب ہو اور ہر وقت اپنے خیالات اور اپنے اعمال پر نظر رکھےکہ کہیں وہ اللہ کی رضا کے خلاف تو نہیں چل رہا ہے۔ ان دونوں چیزوں کے ساتھ جو شخص رمضان کے پورے روزے رکھ لےگا وہ اپنےپچھلےگناہ بخشوا لےجائے گا،اس لیے کہ اگر وہ کبھی سرکش و نا فرمان بندہ تھا بھی تو اب اس نےاپنےمالک کی طرف پوری طرح رجوع کر لیا،اور الثانبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَن لا ذنب له (گناہ سےتوبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا)۔

گناہوں سے بچنے کی ڈھال

دوسری حدیث میں آیا ہے :

الصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفتُ وَلَا يَصْحَبُ فَإِنْ سَابَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُ صَائم

روزے ڈھال کی طرح ہیں کہ جس طرح ڈھال دشمن کے وار سے بچنےکے لیے ہے اسی طرح روزہ بھی شیطان کے وار سے بچنے کے لیے ہے، لہذا جب کوئی شخص روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ (اس ڈھال کو استعمال کرے اور دنگے فساد سے پرهیز کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے،یا اس سےلڑے تو اس کو کہہ دینا چاہیے کہ بھائی میں روزے سے ہوں مجھ سے یہ توقع نہ رکھو کہ تمھارے اس مشغلے میں حصہ لوں گا۔)

نیکی کی حرص

دوسری احادیث میں حضور نے بتایا ہے کہ روزے کی حالت میں آدمی کو زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے چاہیں اور ہر بھلائی کا شوقین بن جانا چاہیےخصوصا اس حالت میں اس کے اندر اپنےدوسرے بھائیوں کی ہمدردی کا جذبہ تو پوری شدت کے ساتھ پیدا ہو جانا چاہیے، کیوں کہ وہ خود بھوک پیاس کی تکلیف میں مبتلا ہو کہ زیادہ اچھی طرح محسوس کر سکتا ہےکہ دوسرے بندگان خدا پر غریبی اور مصیبت میں کیا گزر کرتی ہوگی۔حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ خود سر کا رہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں عام دنوں سے زیادہ رحیم اور شفیق ہو جاتے تھے ۔ کوئی سائل اس زبانے میں حضور کےدروازے سے خالی نہ جانا تھا،اور کوئی قیدی اس زمانے میں قید نہ رہتا تھا۔

افطار کرانے کا ثواب

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضور نے فرمایا :

مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةٌ لِذُنُوبِهِ وَعِتْقُ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ وَكَانَ لَهُ مِثْلَ أَجْدِهِ مِنْ عيران يُنْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ شَى

"جس نے رمضان میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو یہ اس کے گناہوں کی بخشش کا اور اس کی گردن کو آگ سے چھڑانے کا ذریعہ ہوگا اور اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہوئی۔"

باب پنجم

باب پنجم

زكوة

زكوة

زکوة کی حقیقت

اجتماعی زندگی میں زکواۃ کا مقام

انفاق فی سبیل اللہ کے احکام

زکوۃ کے خاص احکام

زكوة

زکوۃ کی اہمیت

برادراں اسلام ، نماز کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن زکواۃ ہے۔عام طور پر چونکہ عبادات کے سلسلہ میں نماز کے بعد روزے کا نام لیا جاتا ہے، اس لیےلوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ نماز کے بعد روزے کا نمبر ہے ۔ مگہ قرآن مجید سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کے بعد سب سے بڑھ کر زکوۃ کی اہمیت ہے۔یہ دو بڑے ستون ہیں جن پر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ان کے ہٹنے کےبعد اسلام قائم نہیں رہ سکتا ۔

زکوة کے معنی

زکوۃ کے معنی ہیں پاکی اور صفائی کے۔ اپنے مال میں سے ایک حصہ حاجتمندوں اور مسکینوں کے لیے نکالنے کو زکواۃ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس طرح آدمی کا مال،اور اس مال کے ساتھ خود آدمی کا نفس بھی پاک ہو جاتا ہے ۔ جو شخص خدا کی بخشی ہوئی دولت میں سے خدا کے بندوں کا حق نہیں نکالنا اس کا مال ناپاک ہے، اور مان کے ساتھ اس کا نفس بھی ناپاک ہے۔ کیونکہ اُس کے نفس میں احسان فراموشی بھری ہوئی ہے۔ اس کا دل اتنا تنگ ہے،اتنا خود غرض ہے،اتنا زہر پرست ہےکہ جس خدا نے اس کو حقیقی ضروریات سےزیادہ دولت دے کر اس پر احسان کیا،اس کےاحسان کا حق ادا کرتےہوئےبھی اُس کا دل دُکھتا ہے ۔ایسے شخص سے کیا امید کی جاسکتی ہےکہ وہ دنیا میں کوئی نیکی بھی خدا کےواسطے کر سکے گا، کوئی قربانی بھی محض اپنے دین و ایمان کی خاطر برداشت کرے گا۔لہذا ایسے شخص کا دل بھی ناپاک اور اس کا وہ مال بھی ناپاک جسےوہ اس طرح جمع کرے ۔

زکوۃ ، ایک امتحان

اللہ تعالیٰ نے زکواۃ کا فرض عائدہ کر کے ہر شخص کو امتحان میں ڈالا ہے۔ جوشخص بخوشی اپنے ضرورت سے زیادہ مال میں سےخدا کا حق نکالتا ہے اور اس کے بندیں کی مدد کرتا ہے وہی اللہ کے کام کا آدمی ہے اور وہی اس لائق ہےکہ ایمانداروں کی جماعت میں اس کا شمار کیا جائے۔اور جس کا دل اتنا تنگ ہےکہ وہ اتنی ذرا سی قربانی بھی خداوند عالم کےلیےبرداشت نہیں کر سکتا،وہ اللہ کےکسی کام کا نہیں۔وہ ہرگزہ اس لائق نہیں کہ اہل ایمان کی جماعت میں داخل کیا جائے ۔ وہ تو ایک سڑا ہوا عضو ہے جسے جسم سے الگ ہی کہ دینا بہتر ہے ورنہ سارے جسم کو سڑا دے گا۔یہی وجہ ہے کہ سر کا یہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب کے بعض قبیلوں نے زکوۃ دینےسے انکار کیا تو جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نےاُن سے اُس طرح جنگ کی جیسےکافروں سے کی جاتی ہے،حالانکہ وہ لوگ نماز پڑھتےتھےاور خدا اور رسول کا اقرار کرتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کے بغیر نمازروزہ اور ایمان کی شہادت سب بیکار ہیں، کسی چیز کا بھی اختیار نہیں کیا جا سکتا۔

تمام انبیاء کی امتوں پر زکواۃ کی فرضیت

قرآن مجید اُٹھا کر دیکھیےآپ کو نظر آئےگا کہ قدیم زمانہ سےتمام انبیاء کی امتوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم لازمی طور پر دیا گیا ہےاور دین اسلام کبھی کسی نبی کےزمانےمیں بھی ان دو چیزوں سےخالی نہیں رہا۔سید نا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کے انبیاء کا ذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد ہوتا ہے:

وَجَعَلْتُهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعل الخيراتِ وَإِقَامَ الصَّلوة وإيتاء الزكوية وَكَانُوا لَنا عَبدِينَه (الانبياء : ۷۳)

"ہم نے اُن کو انسانوں کا پیشوا بنایا۔ وہ ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے ہم نے وحی کے ذریعہ سے ان کو نیک کام کرنےاور نماز پڑھنے اور زکواۃ دینے کی تعلیم دی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے"-

سیدنا اسمعیل علیہ السّلام کے متعلق ارشاد ہے :

وَكَانَ يَأْمُرُ اهْلَهُ بِالصَّلوةِ وَالزَّكوة وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيَّاه (مریم : ٥٥)

"وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اللہ کےنزدیک برگزیدہ تھے"

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اپنی قوم کے لیے دعا کی کہ خدایا ہمیں اس دنیا کی بھلائی بھی عطا کر اور آخرت کی بھلائی بھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ؟ جواب میں ارشاد ہوا :

عَذَابِي أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَارُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كل شي ، فَسَا كتبها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكوة وَالَّذِينَ هُمْ ما يَتِنَا يُؤْمِنُونَ . (الأعراف : ١٥٦)

"میں اپنےعذاب میں جیسےچاہوں گا گھیر لوں گا اگرچه میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔مگر اس رحمت کو میں انہی لوگوں کےحق میں نکھوں گاجو مجھ سےڈریں گےاور زکوٰۃ دیں گےاور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے"۔

حضرت موسیٰ کی قوم چونکہ چھوٹے دل کی تھی اور روپے پر جان دیتی تھی جیسا کہ آج بھی یہودیوں کا حال آپ دیکھتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اتنےجلیل القدر پیغمبر کی دعا کے جواب میں صاف فرما دیا کہ تمھاری امت اگر زکواۃ کی پابندی کرے گی تب تو اس کے لیے میری رحمت کا وعدہ ہے، ورنہ ابھی سےصاف سن رکھو کہ وہ میری رحمت سے محروم ہو جائے گی اور میرا مذاب اسے گھیر لیگا۔چنانچہ حضرت موسیٰ کے بعد بھی بار ہا بہ بنی اسرائیل کو اس بات پر تنبیہ کی جاتی رہی۔بار بار اُن سے عہد لیے گئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نماز و زکوۃ کی پابندی کریں (سورۂ بقرہ، رکوع ۱۰) یہاں تک کہ آخر میں صاف نوٹس دےدیا گیا کہ :

وَقَالَ اللهُ إِنِّي مَعَكُو لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلوة واتم الزعوةَ وَ مَنْتُمْ بِرُسُلِى وَعَذَر تُمُوهُم وَأَقْرَضُمُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّكَفَرَنَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُم (المائده : ۱۲)

" یعنی اللہ نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ، میں تمھارے ساتھ ہوں،اگر تم نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے رہو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور جو رسول آئیں ان کی مدد کرو اور اللہ کو قرض حسن دو تو میں تمھاری بُرائیاں تم سے دور کر دوں گا"-

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آخری نبی حضرت عیسی علیہ السّلام تھے۔ سو ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوۃ کا ساتھ ساتھ حکم دیا، جیسا کہ سورۃ مریم میں ہے :

وَجَعَلَنِي مُبْرَكا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْضَنِي بِالصَّلوة والزكوة مَا دُمْتُ حَيَّاه (مریم : ۳۱)

" اللہ تعالی نے مجھے برکت دی جہاں بھی میں ہوں اور مجھے ہدایت فرمائی کہ نماز پڑھوں اور زکواۃ دیتا رہوں جب تک زندہ رہوں ۔

اس سے معلوم ہو گیا کہ دین اسلام ابتدا سے ہر نبی کے زمانہ میں نماز اور زکواۃ کے ان دو بڑے ستونوں پر قائم ہوا ہےاور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا پر ایمان رکھنےوالی کسی امت کو بھی ان دو فرضوں سےمعاف کیا گیا ہو۔

امت مسلمہ پر زکواۃ کی فرضیت

اب دیکھیے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں یہ دونوں فرض کس طرح ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید کھولتے ہی سب سے پہلے جن آیات پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ کیا ہیں ؟ یہ کہ :

ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ ، (البقره: ۱ تا ۳ )

"یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ پرہیز گار کو دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتاتا ہے، اور پرہیز گار وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں"-

پھر فرمایا :

أو ليك على هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ.

" ایسے ہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے هدایت یافتہ ہیں اور فلاح ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے ۔"

یعنی جن میں ایمان نہیں اور جو نماز اور زکوۃ کے پابند نہیں وہ نہ ہدایت پر ہیں اور نہ انھیں فلاح نصیب ہو سکتی ہے۔

اس کے بعد اسی سورہ بقرہ کو پڑھتے جائیے۔ چند صفحوں کے بعد پھر حکم ہوتا ہے :

أقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكوة وَارْكَعُوا مَعَ الركعين . (البقره : ۱۴۳)

" نماز کی پابندی کرو اور زکواۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھو۔)"

پھر تھوڑی دور آگے چل کر اسی سورہ میں ارشاد ہوا :

لَيْسَ البران تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَالكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَب وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حبه ذوى القُربى واليَمى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ ، وَأَقَامَ الصَّلوة والى الذكور وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عُهَدُوا وَالصَّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقره: ١٧٧)

"نیکی محض اس کا نام نہیں ہےکہ مشرق یا مغرب کی طرف تم نےمنہ کر لیا بلکہ نیکی اُس شخص کی ہےجس نےاللہ اور آخرت اور ملائکہ اور کتاب الہی اور پیغمبروں پر ایمان رکھا اور اللہ کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سائلوں پر اپنا مال خرچ کیا اور (قرض یا اسیری) سے گردنیں چھڑانے میں مدد دی اور نماز کی پابندی کی اور زکواۃ ادا کی۔ اور نیک لوگ وہ ہیں جو عہد کرنے کےبعد اپنے عہد کو پورا کریں اور مصیبت اور نقصان اور جنگ کےموقع پر صبر کےساتھ راہ حق پر ڈٹ جائیں۔ایسے ہی لوگ نیچے مسلمان ہیں اور ایسے ہی لوگ متقی و پرهیزگار ہیں ۔"

پھر آگے دیکھیے، سورہ مائدہ میں کیا ارشاد ہوتا ہے :

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوٰةَ وَهُمُ ذَكِعُونَ ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الغَلِبُونَ (المائده : ۵۵-۵۶)

" مسلمانوں تمھارےحقیقی دوست اور مددگار صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگ ہیں۔ یعنی ایسے لوگ جو نماز پڑھتے اور زکواۃ دیتے اور خدا کے آگے جھکتے ہیں۔ پس جو شخص اللہ اور رسول اور ایماندار لوگوں کو دوست بنائے وہ اللہ کی پارٹی کا آدمی ہے اور اللہ کی پارٹی ہی غالب ہونےوالی ہے"

اہلِ ایمان کی نشانی ، نماز و زکواۃ

اس عظیم الشان آیت میں ایک بڑا قاعدہ بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو اس آیت سے آپ کو معلوم ہو گیا کہ اہل ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے ہیں۔ ان دو ارکان اسلام سے جو لوگ رو گردانی کریں اُن کا دعوائےایمان ہی جھوٹا ہے۔ پھر اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول اور اہل ایمان کی ایک پارٹی ہے اور ایماندار آدمی کا کام یہ ہے کہ سب سے الگ ہو کر اسی پارٹی میں شامل ہو جائے۔ جو مسلمان اس پارٹی سے باہر رہنے والے کسی شخص کو خواہ وہ باپ ہو، بھائی ہو، بیٹا ہو، ہمسایہ یا ہم وطن ہو یا کوئی بھی ہو، اگر وہ اس کو اپنا دوست بنائے گا اور اس سےمحبت اور مددگاری کا تعلق رکھے گا تو اسےیہ امید نہ رکھنی چاہیے کہ اللہ اس سے مدد گاری کا تعلق رکھنا پسند فرمائے گا۔ سب سے آخر میں اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو غلبہ اُسی وقت حاصل ہو سکتا ہےجب وہ یکسو ہو کر اللہ اور رسول اور صرف اہل ایمان ہی کو اپنا ولی، مددگار دوست اور ساتھی بنائیں۔

اسلامی اخوت کی بنیادیں

اب آگے چلیے۔ سوره توبه میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار و مشرکین سےجنگ کا حکم دیا ہے اور مسلسل کئی رکوعوں تک جنگ ہی کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے :

فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوة واتوا الزكولة والحوا نكم في الدِّينِ ،توبہ : ١١)

"پھر اگر وہ کفر و شرک سےتو بہ کریں، ایمان لےآئیں اور نماز پڑھیں اور زکواۃ دیں تو وہ تمھارےدینی بھائی ہیں۔"

یعنی محض کفر و شرک سے تو بہ کرنا اور ایمان کا اقرار کر لینا کافی نہیں ہےاس بات کا ثبوت کہ وہ واقعی کفر و شرک سےتائب ہو گئےہیں اور حقیقت میں ایمان لائے ہیں، صرف اسی طرح مل سکتا ہے کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور زکواۃ دیں۔لہذا اگر وہ اپنےاس عمل سےاپنےایمان کا ثبوت دےدیں تب تو تمھارے دینی بھائی ہیں، ورنہ ان کو بھائی نہ سمجھو اور ان سے جنگ بند نہ کرو۔

پھر آگے چل کر اسی سورے میں فرمایا :

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَا وبَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكُوةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أوليك سَيَرْحَمُهُمُ اللهُ ( توبہ : ٧١)

"مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں،اور ان مومن مردوں اور عورتوں کی صفات یہ ہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں،بدی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکواۃ دیتے ہیں، اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ رحمت کرے گا "

شن لیا آپ نے ، کوئی شخص مسلمانوں کا دینی بھائی بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اقراری ایمان کر کے عملاً نماز اور زکوۃ کی پابندی نہ کرے ۔ ایمان ، نماز اور زکوۃ یہ تین چیزیں مل کر ایمان داروں کی جماعت بناتی ہیں ۔ جو لوگ ان تینوں کے پابند ہیں وہ اس پاک جماعت کے اندر ہیں اور انہی کے درمیان دوستی، محبت، رضا اور مددگاری کا تعلق ہے، اور جو ان کے پابند نہیں ، وہ اس جماعت کے باہر ہیں،خواہ وہ نام کے مسلمان ہی کیوں نہ ہوں ۔ ان سے دوستی ، محبت اور رفاقت کا تعلق رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ تم نے اللہ کے قانون کو توڑ دیا اور اللہ کی پارٹی کو منتشر کر دیا، پھر تم دنیا میں غالب ہو کر رہنے کی امید کیسے کر سکتے ہو ؟

اور آگے چلیے۔ سورہ حج میں ارشاد ہوتا ہے کہ :

اللہ کی مدد کی شرائط

وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُهِ الَّذِينَ إِنْ مَّلَتُهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوة واتوا الزكوة وأمرُوا بِالْمَعْرُونِ وَنَهَوا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِه (الحج : ٤٠- ٤١)

" اللہ ضرور ان کی مدد کرےگا جو اس کی مدد کریں گے ، اور اللہ زبردست قوت والا اور سب پر غالب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں حکومت بخشیں تو یہ نماز قائم کریں گے،نہ کوۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے اور سب چیزوں کا انجام خدا کےہاتھ میں ہے "-

اس آیت میں مسلمانوں کو بھی وہی نوٹس دیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا۔ ابھی آپ کو سُنا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نےبنی اسرائیل کو کیا نوٹس دیا تھا،ان سےصاف فرما دیا تھا کہ ہمیں اسی وقت تک تمھارے ساتھ ہوں جب تک تم نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے رہو گے اور میرے نبیوں کے مشن میں ان کا ساتھ دو گے۔ یعنی میرے قانون کو دنیا میں جاری کرنے کی کوشش کرتے رہوگے۔جو نہی تم نے اس کام کو چھوڑا پھر میں اپنا ہاتھ تمھاری مدد سے کھینچ لوں گا۔ ٹھیک یہی بات اللہ نے مسلمانوں سے بھی فرمائی ہے۔ ان سے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر زمین میں طاقت حاصل کر کے تم نماز قائم کرو گے اور زکوۃ دو گے اور نیکیاں پھیلا ہےاور بدیوں کو مٹاؤ گے ، تب تو میں تمھارا مددگار ہوں، اور جس کا میں مددگار ہوں اسے کون دبا سکتا ہے۔ لیکن اگرتم نے زکوۃ سے منہ پھیرا اور زمین میں حکومت حاصل کر کے نیکیوں کے بجائے بلدیاں پھیلائیں اور بدیوں کے بجائے نیکیوں کو مٹانا شروع کیا اور میرا کلمہ بلند کرنے کے بجائے اپنا کلمہ بلند کرنے لگے، اور خراج وصول کر کےاپنے لیے زمین پر جنتیں بنانے ہی کو وراثت ارضی کا مقصود سمجھ لیا، تو سن رکھو کہ میری مدد تمھارے ساتھ نہ ہوگی۔ پھر شیطان ہی تمھارا مددگار رہ جائے گا۔

مسلمانوں کو تنبیہ

اللہ اکبر ! کتنا بڑا عبرت کا مقام ہے۔ جو دھمکی بنی اسرائیل کو دی گئی تھی،اس کو انھوں نے عالی تحولی زبانی دھمکی سمجھا اور اس کےخلاف عمل کر کےاپنا انجام دیکھ لیا کہ آج روئےزمین پر مارے مارے پھر رہے ہیں، جگہ جگہ سے نکالے جا رہے ہیں اور کہیں ٹھکانا نہیں پاتے ۔ کروڑہا کر وڑ روپے کے کھتے ان کے پاس پھرےپڑے ہیں، دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند قوم ہیں، مگر یہ روپیہ ان کے کسی کام نہیں آتا۔ نمازہ کے بجائے بدکاری اور زکواۃ کے بجائے سود خواری کا ملعون طریقہ انتیار کر کے انھوں نے خود بھی خدا کی لعنت اپنے اوپر مسلط کرالی اور اب اس لعنت کو لیے ہوئے طاعون کے بچوہوں کی طرح دنیا بھر میں اسے پھیلاتے پھر رہے ہیں ۔پھر یہی دھمکی مسلمانوں کو دی گئی اور مسلمانوں نےاس کی کچھ پروانہ کر کےنماز اور زکوۃ سےغفلت کی ، اور خدا کی بخشی ہوئی طاقت کو نیکیاں پھیلانےاور بدیوں کو مٹانے میں استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ دیکھ لو کہ حکومت کے تخت سےاتار کر پھینک دیے گئے ، دنیا بھر میں ظالموں کا تختہ مشق بن رہے ہیں اور روئے زمین،میں ہر جگہ ضعیف اور مغلوب ہیں۔نماز اور زکوۃ کو چھوڑنےکا انجام بد تو دیکھ چکے۔اب ان میں ایک جماعت ایسی پیدا ہوئی ہےجو مسلمانوں کو بے حیائی،فحش اور بدکاری میں مبتلا کرنا چاہتی ہے، اور ان سے کہہ رہی ہے کہ تمھارے افلاس کا علاج یہ ہےکہ بینک اور انشورنس کمپنیاں قائم کرو اور سود خواری شروع کر دو۔خدا کی قسم اگر انھوں نےیہ کیا تو وہی ذلت اور خواری ان پر مسلط ہو کر رہےگی جس میں یہودی مبتلا ہوئےہیں اور یہ بھی خدا کی اُس لعنت میں گرفتار ہو جائیں گے جس نے بنی اسرائیل کو گھیر رکھا ہے۔

زکوۃ نہ دینے والوں کا انجام

برادرانِ اسلام ، آئندہ خطبوں میں میں آپ کو بتاؤں گا کہ زکواۃ کیا چیز ہے،کتنی بڑی طاقت اللہ نے اس چیز میں بھر دی ہے، اور آج سجس رحمت خداوندی کو مسلمان ایک معمولی چیز سمجھ رہے ہیں وہ حقیقت میں کتنی بڑی برکتیں رکھتی ہے۔آج کے خطبے میں میرا مقصد آپ کو صرف یہ بتانا تھا کہ نماز اور زکوۃ کا اسلام میں کیا درجہ ہے ۔ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں اور ان کے مولوی ان کو رات دن یہ اطمینان دلاتے رہتے ہیں کہ نماز نہ پڑھ کر اور زکوۃ نہ دےکر بھی وہ مسلمان رہتےہیں۔ مگر قرآن اس کی صاف الفاظ میں تردید کرتا ہے۔ قرآن کی رو سے کلمہ طیبہ کا اقرار ہی بے معنی ہے اگر آدمی اس کے ثبوت میں نمازہ اور زکوۃ کا پابند نہ ہو اسی بنا پر حضرت ابو بکرؓ نے زکواۃ سے انکار کرنے والوں کو کافر سمجھ کر ان کے خلاف تلوار اٹھائی تھی جیسا کہ میں ابھی آپ سے بیان کر چکا ہوں ۔ صحابہ کرام کو ابتدا میں شبہ تھا کہ آیا وہ مسلمان جو خدا اور رسول کا اقرار کرتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے،اُن لوگوں کےزمرہ میں شامل کیا جا سکتا ہے یا نہیں جن پر تلوار اُٹھانے کا حکم ہے۔مگر جب حضرت ابو بکر جن کو اللہ نے مقام نبوت کےقریب درجہ عطا فرمایا تھا۔اپنی بات پر اڑ گئے اور انھوں نے اصرار کے ساتھ فرمایا کہ خدا کی قسم اگر یہ لوگ اس زکوۃ میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیا کرتے تھے،اونٹ باندی نےکی ایک رستی بھی روکیں گےتو ئیں ان پر تلوار اٹھاؤں گا،تو بالآخر تمام صحابہ کےدلوں کو اللہ نے حق کے لیے کھول دیا اور سب نے یہ بات تسلیم کر لی کہ زکوۃ سے انکار کرنے والے پر جہاد کرنا چاہیے۔ قرآن مجید تو صاف کہتا ہے کہ زکوۃ نہ دینا ان مشرکین کا کام ہے جو آخرت کے منکر ہیں۔

وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ اللَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكوة وَهُم بِالآخِرَةِ هُمْ كَفَرُونَ ، (حم سجدہ: ٦- ٧)

"تباہی ہے ان مشرکین کے لیے جو زکواۃ نہیں دیتے اور آخرت سے منکر ہیں ۔"

زکوة کی حقیقت

برادران اسلام، پچھلے خطبے میں بیان کر چکا ہوں کہ نماز کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن زکواۃ ہے اور یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ جس طرح نماز سے انکار کر نیوالےکو کافر ٹھیرایا گیا ہے اسی طرح زکواۃ سے انکار کرنے والوں کو بھی نہ صرف کا فر ٹھیرایا گیا بلکہ ان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بالاتفاق جہاد کیا۔

اب میں آج کے خطبے میں آپ کے سامنے زکواۃ کی حقیقت بیان کروں گا تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ زکوۃ دراصل ہے کیا چیز ، اور اسلام میں اس کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے۔

اللہ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے

عقل و دانش کا امتحان

آپ میں سے بعض لوگ تو ایسے سیدھے سادھے ہوتے ہیں جو ہر کسی ناکس کو دوست بنا لیتے ہیں، اور کبھی دوست بناتے وقت آدمی کو پرکھتے نہیں کہ وہ واقع میں دوست بنانے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ ایسے لوگ دوستی میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں اور بعد میں ان کو بڑی مایوسیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن جو عقلمند لوگ ہیں وہ جن لوگوں سے ملتے ہیں اُن کو خوب پرکھ کر ہر طریقہ سے جانچ پڑتال کر کے دیکھتے ہیں، پھر جو کوئی ان میں سے سچا، مخلص، وفادار آدمی ملتا ہے صرف اسی کو دوست بناتے ہیں، اور بیکار آدمیوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر حکیم و دانا ہے۔ اس سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کو اپنا دوست بنالےگا،اپنی پارٹی میں شامل کر لیگا اور اپنےدربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا جب انسانوں کی دانائی و عقلم بھی کا تقاضا یہ ہےکہ وہ بغیر بھانچےاور پرکھےکسی کو دوست نہیں بناتےتو اللہ جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے، ناممکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنےکےبغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے۔یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلےہوئےہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ، اچھے اور بڑے سب کےسب اس قابل نہیں ہو سکتےکہ اللہ کی اُس پارٹی ہیں، اس محب اللہ میں شامل کر لیے بھائیں جیسے اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہےاللہ نےکمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان، چند آزمائشیں، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترک وہ تو اللہ کی پارٹی میں آجائےاور جو ان پر پورا نہ اترے وہ خود بخود اس پارٹی سےالگ ہو کر رہ جائے، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کےقابل نہیں ہوں۔

اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر حکیم و دانا ہے۔ اس سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کو اپنا دوست بنالےگا،اپنی پارٹی میں شامل کر لیگا اور اپنےدربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا جب انسانوں کی دانائی و عقلم بھی کا تقاضا یہ ہےکہ وہ بغیر بھانچےاور پرکھےکسی کو دوست نہیں بناتےتو اللہ جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے، ناممکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنےکےبغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے۔یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلےہوئےہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ، اچھے اور بڑے سب کےسب اس قابل نہیں ہو سکتےکہ اللہ کی اُس پارٹی ہیں، اس محب اللہ میں شامل کر لیے بھائیں جیسے اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہےاللہ نےکمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان، چند آزمائشیں، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترک وہ تو اللہ کی پارٹی میں آجائےاور جو ان پر پورا نہ اترے وہ خود بخود اس پارٹی سےالگ ہو کر رہ جائے، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کےقابل نہیں ہوں۔

یہ معیار کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ چونکہ حکیم و دانا ہے اس لیے سب سے پہلا امتحان وہ آدمی کی حکمت و دانائی کا ہی لیتا ہے۔ یہ دیکھتا ہے کہ اس میں سمجھ بوجھ بھی ہے یا نہیں ؟ نرا احمق تو نہیں ہے ؟ اس لیے کہ جاہل اور بیوقوف کبھی دانا اور حکیم کا دوست نہیں بن سکتا۔ جو شخص اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر پہچان لے کہ وہی میرا مالک اور خالق ہے، اس کے سوا کوئی معبود کوئی پروردگار کوئی دعائیں سننےاور مدد کرنے والا نہیں ہے، اور جو شخص اللہ کے کلام کو سن کر جان لے کہ یہ میرےمالک ہی کا کلام ہے کسی اور کا کلام نہیں ہو سکتا، اور جو شخص سچےنبی اور سجھوٹےمدعیوں کی زندگی،ان کے اخلاق، ان کےمعاملات، ان کی تعلیمات، ان کےکارناموں کے فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور پہچان جائے کہ نبوت کا دعوی کرنےوالوں میں سےفلاں ذات پاک تو حقیقت میں خدا کی طرف سے ہدایت بخشنےکے لیے آئی ہے، اور فلاں وقال ہے، دھوکا دینے والا ہے، ایسا شخص دانائی کےامتحان میں پاس ہو جاتا ہے۔ اور اس کو انسانوں کی بھیڑ بھاڑ سے الگ کر کے اللہ تعالیٰ اپنے پارٹی کے منتخب امیدواروں میں شامل کر لیتا ہے، باقی لوگ جو پہلے ہی امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ بعد ھر چاہیں بھٹکتے پھریں۔

اخلاقی قوت کی آزمائش

اس پہلے امتحان میں جو امیدوار کامیاب ہو جاتے ہیں، انھیں پھر دوسرےامتحان میں شریک ہونا پڑتا ہے۔ اس دوسرے امتحان میں آدمی کی عقل کے ساتھ اس کی اخلاقی طاقت کو بھی پر کھا جاتا ہے ، یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس آدمی میں سچائی اور نیکی کو جان کر اسے قبول کر لینے اور اس پر عمل کرنے کی، اور جھوٹ اور بدی کو جان کر اسےچھوڑ دینےکی طاقت بھی ہے یا نہیں ؟ یہ اپنے نفس کی خواہشات کا،باپ دادا کی تقلید کا ، خاندانی رسموں کا، دنیا کے عام خیالات اور طور طریقوں کا غلام تو نہیں ہے؟ اس میں یہ کمزوری تو نہیں ہے کہ ایک چیز کو خدا کی ہدایت کےخلاف پاتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ بڑی ہے،مگر پھر بھی اسی کےچکر میں پڑا رہتا ہے،اور دوسری چیز کو جانتا ہے کہ خدا کے نزدیک وہی حق اور پسندیدہ ہے مگر اس پر بھی اسے قبول نہیں کرتا ؟ اس امتحان میں جو لوگ فیل ہو جاتے ہیں، انھیں بھی اللہ تعالیٰ اپنی پارٹی میں لینےسےانکار کر دیتا ہے، اور صرف اُن لوگوں کو چنتا ہےجن کی تعریف یہ ہے کہ فَمَن يَكْفُرُ بالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ استمسك بِالْعُرْوَةِ الوثى لَا انفِصَامَ لماط را لبقرہ : ۲۵۶ ) یعنی خدا کی ہدایت کے خلاف جو راستہ اور جو طریقہ بھی ہو، اسے وہ جرات کے ساتھ چھوڑ دیں، کسی چیز کی پروا نہ کریں، اور صرف اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہو جائیں خواہ اُس پر کوئی ناراض ہو یا خوش۔

اطاعت و فرمانبرداری کی پرکھ

اس امتحان میں جو لوگ کامیاب نکلتے ہیں ان کو پھر تیسرے مرتبےکا امتحان دینا پڑتا ہےاس درجےمیں اطاعت اور فرمانبرداری کا امتحان ہے۔ یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ جب ہماری طرف سے ڈیوٹی کی پکار بلند ہو تو اپنی نیند قربان کرو اور حاضر ہو۔ اپنے کام کاج کا حرج کرو اور آؤ۔ اپنی دلچسپیوں کو، اپنے فائدوں کو ،اپنے لطف اور تفریح کو چھوڑو اور اگر فرض بجالاؤ ۔ گرمی ہو، جاڑا ہو، کچھ ہو، بہالجب فرض کے لیے پکارا جائے تو ہر شقت کو قبول کرو اور دوڑتے ہوئے آؤ پھر جب ہم حکم دیں کہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہو اور اپنے نفس کی خواہشات کو روکو،تو اس حکم کی پوری پوری تعمیل ہونی چاہیےخواہ بھوک پیاس کی کیسی ہی تکلیف ہو اور چاہے لطیف کھانوں اور مزیدار شہر بتوں کے ڈھیر ہی سامنے کیوں نہ لگے ہوئے ہوں ۔ جو لوگ اس امتحان میں کچے نکلتے ہیں ان سے بھی کہ دیا جاتا ہےکہ تم ہمارے کام کے نہیں ہو۔ انتخاب صرف ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اس تیسرے امتحان میں پکتےثابت ہوتےہیں۔کیوں کہ صرف انہی سےیہ توقع کی جاسکتی ہےکہ خدا کی طرف سے جو قوانین ان کے لیے بنائے جائیں گے اور جو ہدایات اُن کو دی جائیں گی، وہ خفیہ اور علانیہ فائدے اور نقصان، راحت اور تکلیف ہر حال میں ان کی پابندی کر سکیں گے ۔

مالی قربانی کی جانچ

اس کے بعد چوتھا امتحان مال کی قربانی کا لیا جاتا ہے۔ تیسرے امتحان کےکامیاب امید وارا بھی اس قابل نہیں ہوئے کہ خدا کی ملازمت میں باقاعدہ لے لیےجائیں ۔ ابھی یہ دیکھنا ہے کہ کہیں وہ چھوٹے دل کے بہت ہمت، کم حوصلہ تنگ خرف تو نہیں ہیں ؟ ان لوگوں میں سے تو نہیں ہیں جو محبت اور دوستی کے دعوےتو لمبے چوڑے کرتے ہیں مگر اپنے محبوب اور دوست کی خاطر جب گرہ سے کچھ خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں کہ " گر ز ر طلبی سخن دریں ست ؟ ان کا حال اُس شخص کا سا تو نہیں ہے جو زبان سے تو ماتا جی ماتا جی کہتا ہے، اور ماتا جی کی خاطر دنیا بھر سے جھگڑ بھی لیتا ہے، مگر جب وہی ماتا جی اس کے خلے کی ٹوکری یا اس کی سبزی کے ڈھیر پر منہ مارتی ہیں تو لٹھ لے کر ان کے پیچھے دوڑتا ہے، اور مار مار کر ان کی کھال اُڑا دیتا ہے ؟ ایسے خود غرض، زر پرست، تنگ دل آدمی کو تو معمولی درجہ کا عقل مند انسان بھی دوست نہیں بنانا اور ایک بڑے دل والا انسان اس قسم کے ذلیل آدمی کو اپنے پاس جگہ دینا بھی پسند نہیں کرتا۔ پھر پھلاوہ بزرگ برتر خدا، جو اپنےخزانےہر آن اپنی بےحد و حساب مخلوق پر بےحد و حساب طریقہ سےلٹا رہا ہے،ایسے شخص کو اپنی دوستی کے قابل کب سمجھ سکتا ہے جو خدا کےدیے ہوئے مال کو بخدا کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے بھی جی بھراتا ہو؟ اور وہ خدا، جس کی دانائی و حکمت سب سے بڑھ کر ہے، کس طرح اُس انسان کو اپنی پارٹی میں شامل کر سکتا ہے جس کی دوستی و محبت فقط زبانی جمع خرچ تک ہو، اور جس پر کبھی بھروسہ نہ کیا جا سکتا ہو ؟ پس جو لوگ اس چوتھے امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں ان کو بھی صاف جواب دے دیا جاتا ہے کہ جاؤ، تمھارے لیے اللہ کی پارٹی میں جگہ نہیں ہے تم بھی ناکارہ ہو، اور تم اس عظیم الشان خدمت کا بار سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جو خلیفہ الہی کے سپرد کی بھاتی ہے۔ اس پارٹی میں تو صرف وہ لوگ شامل کیے جا سکتے ہیں جو اللہ کی محبت پر جان، مال، اولاد، خاندان، وطن، ہر چیز کی محبت کو قربان کر دیں۔

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : ۹۲)

"تم نیکی کےمقام کو نہیں پاسکتےجب تک کہ وہ چیزیں خدا کی راہ میں قربان نہ کرو جن سےتم کو محبت ہے"

حزب اللہ کے لیے مطلوبہ اوصاف

١- تنگ دل نہ ہوں

اس پارٹی میں تنگ دلوں کے لیے جگہ نہیں ہے ۔ اس میں تو صرف وہی لوگ داخل ہو سکتے ہیں جن کے دل بڑے ہیں۔

وَمَنْ يَوقَ شُحَ نَفْسِهِ فَا وَالئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ والحشر: ٩)

" جو لوگ دل کی تنگی سے بچ گئے وہی فلاح پانے والے ہیں ۔"

۲- فراخ حوصلہ ہوں

یہاں تو ایسے فراخ حوصلہ لوگوں کی ضرورت ہے کہ اگر کسی شخص نے ان کےساتھ دشمنی بھی کی ہو، ان کو نقصان اور رنج بھی پہنچایا ہو، اُن کے دل کے ٹکڑے بھی اٹا دیے ہوں، تب بھی وہ خدا کی خاطر اس کے پیٹ کو روٹی اور اس کے تن کو کپڑا دینے سے انکار نہ کریں، اور اس کی مصیبت کے وقت میں اس کی مدد سے دریغ نہ کریں۔

وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أولي القُربى وَالمُسْكِينَ وَالمُهْجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُواء الاتُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُم وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمه (النور : ٢٢)

" تم میں سے جو خو شحال اور صاحب مقدرت لوگ ہیں، وہ اپنے عزیز ہےاور مساکین اور خدا کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچ نہیں، بلکہ چاہیے کہ ان کو معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخشے ؟ حالانکہ اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔"_١


١- یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی تھی جب حضرت ابو بکر کے ایک عزیز نے آپ کی صاحب زادی حضرت عائشہ پر الزام لگانےمیں حصہ لیا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نےاس تاروا حرکت سےناراض ہو کر اس کی مالی مدد بند کر دی تھی ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کانپ اُٹھے اور انھوں نے کہا کہ میں اپنے خدا کی بخشش چاہتا ہوں اور اُس شخص کی پھر مدد شروع کر دی جس نے کو اس قدر سخت روحانی اذیت پہنچائی تھی۔

٣- عالی ظرف ہوں

یہاں ان عالی ظرف لوگوں کی ضرورت ہے جو :

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِيْنا وَ يَتِيما وَاسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ يوجد اللهِ لا نُرِيدُ مِنكُم جزاء ولا شكوراه (الدھر: ۸-۹)

" محض خدا کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم صرف خدا کے لیے تھیں کھلا ر ہے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔"

٤- پاک دل ہوں

یہاں اُن پاک دل والوں کی ضرورت ہے جو خدا کی دی ہوئی دولت میں سےخدا کی راہ میں بہتر سے بہتر مال چھانٹ کر دیں-

ياَيُّهَا الَّذِينَ مَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كسبم ومما أخرجنا لكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الخَبيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ (البقره : ۲۶۷)

"اے ایمان والو تم نے جو مال کماتے ہیں اور جو رزق تمھارے لیےہم نے زمین سے نکالا ہے اس میں سے اچھا مال راہ خدا میں صرف کروا بڑے سے بڑا چھانٹ کرنہ دو"-

٥- تنگ دستی اور غربت میں بھی خرچ کریں

"یہاں اُن بڑی ہمت والوں کی ضرورت ہے جو تنگدستی اور غربت و افلاس کی حالت میں بھی اپنا پیٹ کاٹ کر خدا کے دین کی خدمت اور خدا کے بندوں کی مدد میں روپیہ صرف کرنے سے دریغ نہیں کرتے :

وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السموتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ . الَّذِينَ يُنْفِقُونَ في السراء والضراء ( آل عمران : ۱۳۳)

"اپنےپروردگار کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف لپکو جس کی وسعت زمین و آسمان کےبرابر ہےاور جوتیارکر کے رکھی گئی ہےاُن پرہیز گاروں کےلیےجو خوش حالی اور تنگ عالی،دونوں حالتوں میں خدا کے لیے خرچ کرتے ہیں ۔"

٦- سخاوت پیشہ ہوں

یہاں اُن ایمان داروں کی ضرورت ہے جو نیچے دل سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ خدا کی راہ میں خرچ کیا جائےگا وہ ضائع نہ ہوگا بلکہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کا بہترین بدل عطا فرمائےگا،اس لیے وہ محض خدا کی خوشنودی کی خاطر خرچ کرتےہیں۔اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتےکہ لوگوں کو ان کی فیاضی سخاوت کا حال معلوم ہوا یا نہیں اور کسی نے ان کی بخشش کا شکریہ ادا کیا یا نہیں۔

وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ فَلا نُفُسِكُم وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ اللَّهِ ، وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ تُونَ إِلَيْكُمْ وَانْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (بقره: ۲۷۲)

"تم کہ کچھ یہی را وحی میں خرچ کرو گے وہ تمھارے ہی لیے بھلائی ہے جب کہ تم اپنے اس خرچ میں خدا کے سوا کسی اور کی خوشنودی نہیں چاہتے ۔ اس طرح ہو کچھ بھی تم کار خیر میں صرف کرو گے اس کا پورا پورا فائر تم کو ملے گا اور تمھارے ساتھ ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا یے"-

٧- ہر حال میں خدا کو یاد رکھیں

یہاں اُن بہادروں کی ضرورت ہے جو دولت مندی اور خوش حالی میں بھی خدا کو نہیں بھولتے جن کو محلوں میں بیٹھ کر اور ناز و نعمت میں رہ کر بھی خدا یا د رہتا ہے۔

وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ فا والئِكَ هُمُ الخسِرُونَ ، ( المنافقون : ٩)

"اے ایمان والو، مال اور اولاد کی محبت تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کر دے ۔ جو ایسا کرے گا خود وہ ٹوٹے میں رہنے والا ہے۔"

یہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہونے والوں کی لازمی صفات ہیں۔ ان کے بغیر کوئی شخص خدا کے دوستوں میں شامل نہیں ہو سکتا۔دراصل یہ انسان کےاخلاق ہی کا نہیں بلکہ اس کےایمان کا بھی بہت کڑا اور سخت امتحان ہے۔جو شخص خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے جی چراتا ہے،اس خرچ کو اپنےاور پر سیٹی اور جرمانہ سمجھتا ہے، سھیلوں اور بہانوں سے بچاؤ کی صورتیں نکالتا ہے، اور اگر خرچ کرتا ہے تو اپنی تکلیف کا بخار لوگوں پر احسان رکھ کر نکالنے کی کوشش کرتا ہے، یا یہ چاہتا ہے کہ اس کی سخاوت کا دنیا میں اشتہار دیا جائے ، وہ در اصل خدا اور آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی راہ میں جو کچھ گیا وہ ضائع ہو گیا۔ اس کو اپنا عیش ، اپنا آرام ، اپنی لذتیں، اپنے فائدے اور اپنی ناموری ، ندا سے اور اس کی خوشنودی سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہے یہی دنیا کی زندگی ہے۔ اگر روپیہ صرف کیا جائے تو اسی دنیا میں ناموری اور شہرت ہوئی چاہیے تاکہ اس روپے کی قیمت یہیں وصول ہو جائے ۔ ورنہ اگر روپیہ بھی گیا اور کسی کو یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ نوں صاحب نے فلاں کا زنجیر میں اتنا مال صرف کیا ہے تو گویا سب مٹی میں مل گیا۔ قرآن مجید میں صاف فرما دیا گیا ہے کہ اس قسم کا آدمی خدا کے کام کا نہیں ، وہ اگر ایمان کا دعوی کرتا ہے تو منافق ہے۔ چنانچہ آیات ذیل ملاحظہ ہوں :

٨- احسان نہ جتلائیں

يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَنِ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَا لَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِط (البقره : ۲۶۴)

" اے ایمان لانے والو، اپنی خیرات کو احسان رکھ کر اور اذیت پہنچا کر ضائع نہ کر دو اُس شخص کی طرح جو محض لوگوں کو دکھانے اور نام چاہنے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا"-

۹- مال جمع نہ کریں

وَالَّذِينَ يَلْفِرُونَ النَّ هَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَها في سَبِيلِ اللهِ فَبَشِّرُهُم بِعَذَابِ اکبره (التوبہ : ٣٤ ) -

"جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے کے رکھتے ہیں اور اُسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں سخت سزا کی بشارت دے دو "-

١٠- اللہ کی راہ میں رخصت طلب نہ کریں

لا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخر ان تُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ وَاللَّهُ عَلِيه بِالْمُتَّقِينَ إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَار تَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَبِّهِمْ يَتَرَدَّدُونَ (التوبه :۴۴-۴۵)

"اے نبی جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی نہ چاہیں گے کہ انھیں اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد میں حصہ لینے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ اپنے متقی بندوں کو خوب جانتا ہے ۔ معذرت صرف وہ لوگ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے جن کے دلوں میں شک ہے، اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں"-

١١- راہ خدا میں خوشدلی سے اطاعت کریں

وَمَا مَنَعَهُمْرانُ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَتُهُم الا انهم كَفَرُوا بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمُ کسالی وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ (التوبه : ۵۴)

"راہ خدا میں ان کے خرچ کیے ہوئے مال صرف اس لیے قبول نہیں کیے جاسکتے کہ وہ دراصل اللہ اور رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔نماز کو آتے ہیں تو دل برداشتہ ہو کر اور مال خرچ کرتے ہیں تو ناک بھوں چڑھا کر"-

المتفوقون والمتوقتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَا مُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُما نَسُوا اللهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ هُمُ الفَسِقُونَ ، (التوبه : ۶۷)

" منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ وہ بدی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ہاتھ روکتے ہیں۔ وہ خدا کو بھول گئے اور خدا نے ان کو بھلا دیا، یقینا یہی منافقین فاسق ہیں۔"

۱۲- انفاق فی سبیل اللہ کو چٹی نہ سمجھیں

وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَما - (التوبه : ٩٨)

"ان اعراب ( یعنی منافقین) میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو راہ خدا میں خرچ کرتے بھی ہیں تو زبر دستی کی بھٹی سمجھ کر"-

۱۳ بخیل نہ ہوں

هانتُم هُوَ لا تُدعَونَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنكُو مَن يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ، وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاسْتُمُ الْفُقَرَارُ وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَ كُو ثمَّ لَا يَكُونُوا آمنا لكم (محمد : ۳۸)

"سن رکھو تم لوگ ایسے ہو کہ تم کو راہ خدا میں خرچ کرنے کے لیے کہاجاتا ہے تو تم میں سے بہت لوگ بخل کرتے ہیں۔ اور جو کوئی اس کام میں بخل کرتا ہےوہ خود اپنے ہی لیے مجمل کرتا ہے۔ اللہ تو غنی ہے تم ہی اس کےمحتاج ہو۔ اگر تم نے خدا کے کام میں خرچ کرنے سے منہ موڑا تو وہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے ۔"

برادرانِ اسلام، یہ ہے اس زکوۃ کی حقیقت جو آپ کے دین کا ایک رکن ہے۔ اس کو دنیا کی حکومتوں کے ٹیکسوں کی طرح محض ایک ٹیکس نہ سمجھے ۔ بلکہ در اصل یہ اسلام کی روح اور اس کی جان ہے ۔ یہ حقیقت میں ایمان کا امتحان ہے بھی طرح درجہ بدرجہ امتحانات دے کہ آدمی ترقی کرتا ہے ، یہاں تک کہ آخری امتحان دے کر گریجویٹ بنتا ہے،اسی طرح خدا کے ہاں بھی کئی امتحان ہیں جن سے آدمی کو گزرنا پڑتا ہے۔ اور جب وہ چوتھا امتحان یعنی مال کی قربانی کا امتحان کامیابی کے ساتھ دےدیتا ہےتب وہ پورا مسلمان بنتا ہے۔ اگر چہ یہ آخری امتحان نہیں ہے،اس کےبعد زیادہ سخت امتحان جان کی قربانی کا آتا ہےجسے میں آگے چل کر بیان کروں گا لیکن اسلام کے دائرے میں یا بالفاظ دیگر اللہ کی پارٹی نہیں آنے کے لیے داخلہ کے جو امتحانات مقرر کیے گئے ہیں ان میں سے یہ آخری امتحان ہے ۔ آج کل بعض لوگ کہتے ہیں کہ خرچ کرنےاور روپیہ بہانے کے وعظ تو مسلمانوں کو بہت سُنائے جاچکے، اب اس غربت و افلاس کی حالت میں تو ان کو کمانے اور جمع کرنے کے وعظ سُنانے چاہیں۔ مگر انھیں معلوم نہیں کہ یہ چیز جس پر وہ ناک بھوں چڑھاتےنہیں،دراصل یہی اسلام کی روح ہےاور مسلمانوں کو جس چیز نےپستی وذلت کے گڑھے میں گرایا ہے وہ دراصل اسی روح کی کمی ہے۔ مسلمان اس لیے نہیں گرے کہ اس روح نے ان کو گرا دیا ، بلکہ اس لیے گرےہیں کہ یہ روح ان سے نکل گئی ہے۔

آئندہ خطبات میں آپ کو بتاؤں گا کہ زکواۃ اور صدقات حقیقت میں ہماری جماعتی زندگی کی جان ہیں، اور ان میں ہمارے لیے آخرت ہی کی نہیں بلکہ دنیا کی بھی ساری نعمتیں جمع کر دی گئی ہیں۔

اجتماعی زندگی میں زکوۃ کا مقام

برادران اسلام، اس سے پہلے دو خطبوں میں آپ کے سامنے زکواۃ کی حقیقت بیان کر چکا ہوں ۔ اب میں آپ کے سامنے اس کے ایک دوسرے پہلو پر روشنی ڈالوں گا۔

اللہ کی شان کریمی

قرآن مجید میں زکوۃ اور صدقات کے لیے جگہ جگہ انفاق فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی "خدا کی راہ میں خرچ کرنا ۔ بعض بعض مقامات پر یہ بھی فرمایا گیا ہےکہ جو کچھ تم راہ خدا میں صرف کرتے ہو یہ اللہ کےذمہ قرضہ حسنہ ہے،گو یا تم اللہ کو فرض یتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارا قرض دار ہو جاتا ہے۔بکثرت مقامات پر یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم دو گے اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے اور وہ صرف اتنا ہی تم کو واپس نہ کرے گا بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ دے گا۔اس مضمون پر غور کیجیے۔کیا زمین و آسمان کا مالک، نعوذ بالله آپ کا محتاج ہے؟ کیا اس ذاتِ پاک کو آپ سے قرض لینے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ پادشاہوں کا پادشاہ، وہ بجید حساب ختنہ انوں کا مالک، اپنے لیے آپ سے کچھ مانگتا ہے ؟ معاذ اللہ، معاذ اللہ اُسی کی بخشش پر تو آپ پل رہے ہیں۔ اُسی کا دیا ہوا رزق تو آپ کھاتے ہیں۔آپ میں سے ہر امیر اور غریب کے پاس جو کچھ ہے سب اُسی کا تو عطیہ ہے ۔ آپ کے ایک فقیر سے نے کہ ایک کروڑ پتی اور ارب پتی تک ہر شخص اس کے کرم کا محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کو کیا ضرورت کہ آپ سے قرض مانگےاور اپنی ذات کے لیے آپ کے آگے ہاتھ پھیلائے ؟ در اصل یہ بھی اس کی شانِ کریمی ہے کہ وہ آپ سے خود آپ ہی کے فائدے کے لیے آپ ہی کی بھلائی کےلیے، آپ ہی کے کام میں خرچ کرنےکو فرماتا ہے اور کہتا ہےکہ یہ تخریج میری راہ میں ہےمجھ پر قرض ہے، میرے ذمہ اس کا بدلہ ہے اور میں تمھارا احسان مانتا ہوں۔تم اپنی قوم کے محتاجوں اور مسکینوں کو دو۔ اس کا بدلہ وہ غریب کہاں سےدیں گئے۔ان کی طرف سےمیں دُوں گا۔ تم اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد کرو۔ اُس کا احسان ان پر نہیں مجھ پر ہے،لیکن تمھارے اس احسان کو اُتاروں گا۔ تم اپنےیتیموں ، اپنی بیواؤں ، اپنے معذوروں، اپنے مسافروں،اپنےمصیبت زدہ بھائیوں کو جو کچھ دو اُسےمیرے حساب میں لکھ لو ۔تمھارا مطالبہ اُن کےذمہ نہیں میرےذمہ ہےاور میں اس کو ادا کر دوں گا۔تم اپنے پریشان حال بھائیوں کو قرض دو اور اُن سےسود نه مانگو، ان کو تنگ نہ کرو، اگر وہ ادا کرنےکےقابل نہ ہوں تو اُن کو سول جیل نہ بھجواؤ، ان کےکپڑےاور گھر کےبرتن فروخت نہ کراؤ، ان کےبال بچوں کو گھر سےبے گھر نہ کر دو۔ تمھارا قرض ان کے ذمہ نہیں، میرے ذمہ ہے۔ اگر وہ اصل ادا کر دیں گے تو ان کی طرف سے سود میں ادا کر دوں گا، اور اگر وہ اصل بھی ادا نہ کر سکیں گےتو میں اصل اور سود دونوں تمھیں دُوں گا۔ اسی طرح اپنی جماعتی فلاح کے کاموں میں،اپنے ابنائے نوع کی بھلائی اور بہتری کے لیے جو کچھ تم خرچ کرو گے، اس کا فائدہ اگر چہ تمہی کو ملے گا ، مگر اس کا احسان مجھ پر ہو گا۔ میں اس کی پائی پائی منافع سمیت تمھیں۔واپس دوں گا۔

یہ ہے اس کریموں کے کریم، اس پادشاہوں کےپادشاہ کی شان۔ تمھارے پاس جو کچھ ہے اسی کا بخث ہوا ہے ۔ تم کہیں اور سےنہیں لاتےاسی کےخزانوں سےلیتےہو، اور پھر جو کچھ دیتے ہو، اس کو نہیں دیتے،اپنے ہی رشتہ داروں ،اپنےہی بھائی بندوں اپنی ہی قوم کے لوگوں کو دیتے ہو، یا اپنی اجتماعی فلاح پر صرف کرتے ہو جس کا فائدہ آخر کارتم ہی کو پہنچتا ہے۔ مگر اس قیام حقیقی کو دیکھو کہ جو کچھ تم اس سے لے لے کر انہوں کو دیتے ہو، اسے وہ فرماتا ہے کہ تم نے مجھے دیا۔ میری راہ میں دنیا مجھے قرض دیا میں اس کا اجر تھیں دوں گا۔ اللہ اکبر !خداوند عالم ہی کو یہ شان کریمی زیب دیتی ہے۔اُسی بے نیازہ بادشاہ کا یہ مقام ہے کہ فیاضی اور بود و کریم کے اس بلند ترین کمال کا اظہار کرے۔ کوئی انسان اس بلند خیالی کا تصویر بھی نہیں کر سکتا۔

انفاق کی تلقین کیوں ؟

اچھا اب اس بات پر غور کیجیےکہ اللہ تعالی نےانسان کو نیکی اور فیاضی پر ابھارنےکا یہ طریقہ کیوں اختیار فرمایا ؟ اس سوال پر جتنا زیادہ آپ غور کریں گے اُسی قدر زیادہ آپ پر اسلامی تعلیمات کی پاکیزگی کا حال کھلے گا،اور آپ کا دل گواہی دیتا چلا جائیگا کہ ایسی بےنظیر تعلیم خدا کےسوا کسی اور کی طرف سےنہیں ہو سکتی ۔

انسان خود غرض واقع ہوا ہے

آپ جانتے ہیں کہ انسان کچھ اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے ظلوم و ببول واقع ہوا ہے۔ اِس کی نظر تنگ ہے ۔ یہ زیادہ دُور تک نہیں دیکھ سکتا۔ اس کا دل چھوٹا ہے۔ زیادہ بڑے اور اونچے خیالات اُس میں کم ہی سما سکتے ہیں۔ یہ خود غرض واقع ہوا ہے، اور اپنی غرض کا بھی کوئی وسیع تصور اس کے دماغ میں پیدا نہیں ہوتا یہ جلد باز بھی ہے۔

خلِقَ الإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ( الانبياء : ۳۷)

یہ ہر چیز کا نتیجہ اور فائدہ جلدی دیکھنا چاہتا ہےاور اُسی نتیجہ کو نتیجه اور اسی فائدےکو فائدہ سمجھتا ہےجو جلدی سے اس کے سامنے آجائے اور اس کو محسوس ہو جائے۔ دور رس نتائج تک اس کی نگاہ نہیں پہنچتی ، اور بڑے پیمانے پر جو فائدےحاصل ہوتےہیں، جن فائدوں کا سلسلہ بہت دُور تک چلتا ہے،ان کا ادراک تو اسے مشکل ہی سےہوتا ہے،بلکہ بسا اوقات ہوتا ہی نہیں۔ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے۔ اور اس کمزوری کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز میں یہ اپنے ذاتی فائدےکو دیکھتا ہے، اور فائدہ بھی وہ جو بہت چھوٹے پیمانے پر ہو۔ جلدی سے حاصل ہو جائے اور اس کو محسوس ہو جائے۔ یہ کہتا ہے کہ جو کچھ میں نے کمایا ہے، یا جو کچھ مجھے اپنے باپ دادا سے ملا ہے وہ میرا ہے، اس میں کسی کا حصہ نہیں۔ اس کو میری ضروریات پر، میری خواہشات پر، میری آسائش پر اور میری لذت نفس ہی پر خرچ ہونا چاہیے،یاکم انہ کم یہی ہو کہ میرا نام بڑھے،میری شہرت ہو، میری عزت بڑھے، مجھےکوئی خطاب ملے ، اونچی کرسی ملے ، لوگ میرے سامنے جھکیں، اور زبانوں پر میرا چرچا ہو۔ اگر ان باتوں میں سے کچھ بھی مجھے حاصل نہیں ہوتا تو آخر میں کیوں اپنا مال اپنےہاتھ سے دُوں ؟ قریب میں کوئی یتیم بھوکا مر رہا ہے یا آوارہ پھر رہا ہےتو میں کیوں اس کی خبر گیری کروں ؟ اُس کا حق اُس کے باپ پر تھا، اُسے اپنی اولاد کےلیےکچھ چھوڑ کر جانا چاہیےتھا یا انشورنس کرانا چاہیے تھا۔ کوئی بیوہ اگر میرے محلہ میں مصیبت کے دن کاٹ رہی ہے تو مجھے کیا ؟ اس کے شوہر کو اس کی فکر کرنی چاہیے تھی ۔ کوئی مسافر اگر بھٹکتا پھر رہا ہےتو مجھ سے کیا تعلق؟ وہ بیوقوف اپنا انتظام کیسے بغیر گھر سے کیوں نکل کھڑا ہوا؟ کوئی شخص اگر پریشان حال ہے تو ہٹوا کرے۔اسےبھی اللہ نے میری ہی طرح ہاتھ پاؤں دیےہیں، اپنی ضرورتیں اسے خود پوری کرنی چاہیں، میں اس کی کیوں مدد کروں؟ میں اسےدوں گا تو قرض دُوں گا اور اصل کےساتھ سود بھی وصول کروں گا۔ کیوں کہ میرا رویہ کچھ بیکار تو ہے نہیں۔ میں اس سےمکان بنوانا، یا موٹر خریدتا ، یا کسی نفع کے کام پر لگاتا ۔ یہ بھی اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہی اُٹھائے گا۔ پھر کیوں نہیں اس فائدے میں سے اپنا حصہ وصول کروں؟

خود غرضانه ذهنیت کے نتائج

اس خود غرضانه ذهنیت کےساتھ اول تو روپے والا آدمی خزانےکا سانپ بن کر رہے گا۔ یا خرچ کرے گا تو اپنے ذاتی فائدے کے لیے کرے گا۔ جہاں اس کو اپنا فائدہ نظر نہ آئےگا وہاں ایک پیسہ بھی اس کی جیب سے نہ نکلے گا۔ اگر کسی غريب آدمی کی اس نے مدد کی بھی تو دراصل اس کی مدد نہ کرے گا ، بلکہ اُس کو لوٹے گا اور جو کچھ اُسے دے گا اُس سے زیادہ وصول کرلے گا ۔ اگر کسی مسکین کو کچھ دے گا تو اس پر ہزاروں احسان رکھ کر اس کی آدھی جان نکال لے گا اور اس کی اتنی تذلیل و تحقیر کرے گا کہ اس میں کوئی نخود داری باقی نہ رہ سکے گی۔ اگر کسی قومی کام میں حصہ لے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھ لے گا کہ اس میں میرا ذاتی فائدہ کس قدر ہے جین کاموں میں اس کی اپنی ذات کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ سب اُس کی مدد سے محروم رہ جائیں گے۔

اس ذهنیت کے نتائج کیا ہیں ؟ اس کے نتائج صرف اجتماعی زندگی ہی کے لیے مہلک نہیں ہیں بلکہ آخر کار خود اس شخص کے لیے بھی نقصان دہ ہیں جو تنگ نظری اور جہالت کی وجہ سےاس کو اپنےلیےفائدہ مند سمجھتا ہے۔جب لوگوں میں یہ ذہنیت کام کر رہی ہو تو تھوڑے اشخاص کےپاس دولت سمٹ سمٹ کہ اکٹھی ہوتی چلی جاتی ہے اور بے شمار اشخاص بے وسیلہ ہوتے پہلےجاتے ہیں۔ دولت مند لوگ روپے کے زور سے روپیه کھینچتے رہتے ہیں اور غریب لوگوں کی زندگی روز بروز تنگ ہوتی جاتی ہے۔ افلاس جس سوسائٹی میں عام ہو وہ طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلا ہوتی ہے۔ اُس کی جسمانی صحت خراب ہوتی ہے۔اُس میں بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اُس میں کام کرنے اور دولت پیدا کرنےکی قوت کر ہوتی چلی جاتی ہےاُس میں جہالت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ اُس کے اخلاق گرنےلگتےہیں۔وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جرائم کا ارتکاب کرنےلگتی ہےاور آخر کار یہاں تک نوبت پہنچتی ہےکہ وہ لوٹ مار پر اتر آتی ہے۔عام بلوےہوتے ہیں۔دولت مند لوگ قتل کیےجاتے ہیں۔ اُن کے گھر بار کوٹے اور جلائے جاتے ہیں، اور وہ اس طرح تباہ و برباد ہوتے ہیں کہ ان کا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہیں رہتا۔

اجتماع کی فلاح میں فرد کی فلاح ہے

اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ در حقیقت ہر شخص کی بھلائی اس جماعت کی بھلائی کے ساتھ وابستہ ہے جس کے دائرے میں وہ رہتا ہے آپ کے پاس جو دولت ہے اگر آپ اس میں سے اپنے دوسرے بھائیوں کی مدد کریں تو یہ دولت چکر لگاتی ہوئی بہت سے فائدوں کے ساتھ پھر آپ کے پاس پلٹ آئے گی۔ اور اگر آپ تنگ نظری کے ساتھ اس کو اپنے پاس جمع رکھیں گے یا صرف اپنے ہی ذاتی فائدے پر خرچ کریں گے تو یہ بالآخر گھٹتی چلی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے ایک نیم بچے کی پرورش کی اور اُسے تعلیم دے کر اس قابل بنا دیا کہ وہ آپ کی جماعت کا ایک کمانے والا فرد بن جائے تو گویا آپ نے جماعت کی دولت میں اضافہ کیا، اور ظاہر ہے کہ جب جماعت کی دولت بڑھے گی تو آپ جو جماعت کے ایک فرد ہیں، آپ کو بھی اس دولت میں سے بہر حال حصہ ملے گا خواہ آپ کو کسی حساب سے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ حصہ آپ کو اُس خاص یہ ہو کہ یہ یتیم کی قابلیت سے پہنچا ہےجس کی آپ نے مدد کی تھی۔لیکن اگر آپ نےخود غرضی اور تنگ نظری سے کام لےکہ یہ کہا کہ میں اس کی مدد کیوں کروں ، اس کے باپ کو اس کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑنا چاہیے تھا، تو وہ آوارہ پھرے گا،ایک بیکار آدمی بن کر کہ بھائے گا۔ اس میں یہ قابلیت ہی پیدا نہ ہو سکےگی کہ اپنی محنت سے جماعت کی دولت میں کوئی اضافہ کر سکے۔ بلکہ کچھ عجب نہیں کہ وہ جرائم پیشہ بن جائے اور ایک روز خود آپ کے گھر میں نقب لگائے ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ نے اپنی جماعت کے ایک شخص کو بیکار اور آوارہ اور جرائم پیشہ بنا کہ اس کا ہی نہیں خود اپنا بھی نقصان کیا۔ اس ایک مثال پر قیاس کر کے آپ ذرا وسیع نظر سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ جو شخص بے غرضی کے ساتھ جماعت کی بھلائی کے لیے روپیہ صرف کرتا ہے، اس کا روپیہ ظاہر میں تو اس کی جیب سے نکل جاتا ہے ، مگر باہر وہ بڑھتا اور پھلتا پھولتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر میں وہ بے شمار فائدوں کے ساتھ اُسی کی جیب میں واپس آتا ہے جس سے وہ کبھی نکلا تھا۔ اور جو شخص خود غرضی اور تنگ نظری کے ساتھ روپے کو اپنے پاس روک رکھتا ہے اور جماعت کی بھلائی پر خرچ نہیں کرتا ، وہ ظاہر میں تو اپنا روپیہ محفوظ رکھتا ہے،یا سود کھا کر اُسے اور بڑھاتا ہے۔مگر حقیقت میں اپنی حماقت سے اپنی دولت گھٹاتا ہے اور اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا سامان کرتا ہے ۔ یہی راز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انش طرح بیان فرمایا ہے کہ :

يَمْحَقُ الله الربو ويرني الصدقتِ ط (البقره : ۲۷۶)

"اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔"

وَمَا آتَيْتُم مِّن رِبَا لِيَرْبُونِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللهِ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكوةٍ تُرِيدُونَ وجه اللهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ (الروم : ٣٩)

"تم جو سود دیتے ہو اس غرض کے لیے کہ یہ لوگوں کی دولت بڑھائےتو دراصل اللہ کے نزدیک اس سے دولت نہیں بڑھتی، البتہ جو زکوۃ تم محض خدا کی رضاجویی کے لیے دو، وہ دو گنی چو گنی ہوتی چلی جاتی ہے ۔"

لیکن اس راز کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے میں انسان کی تنگ نظری اور اس کی جہالت مانع ہے۔ یہ محسوسات کا بندہ ہے جو روپیہ اس کی جیب میں ہے اُس کو تو یہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کی جیب میں ہے ۔ جو روپیہ اس کے بہی کھاتےکی رُو سے بڑھ رہا ہے، اس کو بھی یہ جانتا ہے کہ واقعی بڑھ رہا ہے، مگر جو روپیہ اُس کے پاس سے چلا جاتا ہے اس کو یہ نہیں دیکھ سکتا کہ وہ کہاں بڑھ رہا ہے کس طرح بڑھ رہا ہے ، کتنا بڑھ رہا ہے، اور کب اس کے پاس فائدوں اور منافع کےساتھ واپس آتا ہے۔ یہ تو بس یہی سمجھتا ہے کہ اس قدر روپیہ میرے پاس سے گیا اور ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔

اس جہالت کے بند کو آج تک انسان اپنی عقل یا اپنی کوشش سے نہیں کروں سکا۔ تمام دنیا میں یہی حال ہے۔ ایک طرف سرمایہ داروں کی دنیا ہے جہاں سارےکام شود خواری پر مسل رہےہیں اور دولت کی کثرت کے باوجود روز بروز مصیبتوں اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایک ایسا گروہ پیدا ہو چکا ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ جس کے دل میں حسد کی آگ جل رہی ہےاور جو سرمایہ داروں کے خزانوں پر ڈاکہ مارنے کے ساتھ انسانی تہذیب و تمدن کی ساری بساط بھی اُلٹ دینا چاہتا ہے۔

مشکلات کا حل

اس پیچیدگی کو اس حکیم و دانا مہستی نے حل کیا ہے جس کی کتاب پاک کا نام قرآن ہے ۔ اس قفل کی کبھی ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر ہے۔ اگر آدمی خدا پر ایمان لے آئے اور یہ جان لے کہ زمین و آسمان کے خزانوں کا اصل مالک خدا ہے، اور انسانی معاملات کا انتظام اصل میں خدا ہی کے ہاتھ میں ہے ، اور خدا کےپاس ایک ایک ذرے کا حساب ہے، اور انسان کی ساری بھلائیوں اور برائیوں کی آخری جز او سزا ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق آخرت میں ملے گی، تو اس کےلیے یہ بالکل آسان ہو جائے گا کہ اپنی نظر پر بھروسہ کرنے کے بجائے خدا پر بھروسہ کرے اور اپنی دولت کو خدا کی ہدایت کے مطابق خرج کرے، اور اس کے نفع و نقصان کو خدا پر چھوڑ دے۔ اس ایمان کے ساتھ وہ جو کچھ خرچ کرے گا وہ دراصل خدا کو دے گا۔ اُس کا حساب کتاب بھی خدا کے بہی کھاتے میں لکھا جائے گا۔خواہ دنیا میں کسی کو اس کے احسان کا علم ہو یا نہ ہو، مگر خدا کے علم میں وہ ضرور آئیگا۔ اور خواہ کوئی اس کا احسان مانے یا نہ مانے خدا اس کے احسان کو ضرور مانے اور جانے گا ۔ اور خدا کا جب یہ وعدہ ہو چکا ہے کہ وہ اس کا بدلہ دے گا تو یقین ہے کہ وہ اس کا بدلہ ضرور دے گا، خواہ آخرت میں دے، یا دنیا اور آخرت دونوں میں دے ۔

انفاق فی سبیل اللہ کے عام احکام

احکام کی دو قسمیں _________ عام اور خاص

برادرانِ اسلام، اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کا یہ قاعدہ رکھا ہے کہ پہلے تو نیکی اور بھلائی کے کاموں کا ایک عام حکم دیا جاتا ہے تاکہ لوگ اپنی زندگی میں عموما بھلائی کا طریقہ اختیار کریں۔ پھر اسی بھلائی کی ایک خاص صورت بھی تجویز کر دی جاتی ہے تاکہ اس کی خاص طور پر پابندی کی بجائے۔

اللہ کی یاد کا عام حکم

مثال کے طور پر دیکھیے ، اللہ کی یاد ایک بھلائی ہے ، سب سے بڑی بھلائی اور تمام بھلائیوں کا سر چشمہ۔ اس کے لیے عام حکم ہے کہ اللہ کو ہمیشہ ہر حال میں وقت یاد رکھو اور کبھی اس سے غافل نہ ہو :

فَاذْكُرُوا اللهَ فِيمَا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُم (النساء : ۱۳)

"کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے اللہ کی یاد میں لگے رہو"-

وَاذكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الأنفال: ۴۵)

"اور اللہ کو بہت یاد کرو تا کہ تم کو فلاح نصیب ہو "

إِنَّ فِي خَلقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاعْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت لِأُولِي الألْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ الله قيما وَقُعُودًا وَعَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلا (آل عمران : ۱۹۰-۱۹۱)

" بے شک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھتےہیں، جو خدا کو کھڑے اور بیٹھے اور بیٹے یاد کرتے رہتے ہیں اور جو آسمانوں اور زمین کی بناوٹ پر غور کر کے بے اختیار بول اُٹھتے ہیں کہ پروردگار ہے تو نے یہ کارخانہ بیکارہ نہیں بنایا۔

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَامَهُ وكان أمره فرطاه (کہف : ٢٨)

"اور اُس شخص کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل پایا اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ گیا ہے اور جس کے سارے کام حد سے گزرے ہوئے ہیں ۔"

یہ اور بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں حکم دیا گیا ہے کہ ہمیشہ ہر حال میں خدا کی یاد جاری رکھو، کیونکہ خدا کی یاد ہی وہ چیز ہےجو آدمی کے معاملات کو درست رکھتی ہے اور اس کو سید سےراستے پر قائم رکھتی ہے۔ جہاں آدمی اس کی یاد سےفافل ہوا،اور میں نفسانی خواہشوں اور شیطانی وسوسوں نے اس پر قابو پا لیا۔ اس کالازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ راہ راست سے بھٹک کر اپنی زندگی کے معاملات میں حد سے گزرنے لگے گا۔

اللہ کی یاد کا خاص حکم

دیکھیے یہ تو تا جام حکم ۔ اب اسی یاد الہی کی ایک خاص صورت تجویز کی گئی ۔ نماز، اور نماز میں بھی پانچ وقت میں چند رکعتیں فرض کر دی گئیں جن میں بیک وقت پانچ دس منٹ سے زیادہ صرف نہیں ہوتے۔ اس طرح چند منٹ اس وقت اور چند منٹ اُس وقت یاد الہی کو فرض کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بس آپ اتنی ہی دیر کے لیے خدا کو یاد کریں اور باقی وقت اس کو بھول جائیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم اتنی دیر کے لیے توتم کو بالکل خدا کی یاد میں لگ جانا چاہیے اس کے بعد اپنے کام بھی کرتے رہو اور ان کو کرتے ہوئے خدا کو بھی یاد کرو۔

انفاق فی سبیل اللہ کا عام حکم

بس ایسا ہی معاملہ زکوۃ کا بھی ہے۔یہاں بھی ایک حکم عام ہےاور ایک خاص۔ایک طرف تو یہ ہےکہ بخل اور تنگ دلی سے بچو کہ یہ برائیوں کی جڑ اور بادیوں کی ماں ہے ۔ اپنے اخلاق میں اللہ کا رنگ اختیار کرو جو ہر وقت بے حد و حساب مخلوق پر اپنے فیض کے دریا بہا رہا ہے ، حالانکہ کسی کا اس پر کوئی حق اور دعوی نہیں ہے۔ راہ خدا میں جو کچھ خرچ کر سکتے ہو کر و۔ اپنی ضرورتوں سے جتنا بچا سکتےہو بچاؤ اور اس سے خدا کے دوسرے ضرورت مند بندوں کی ضرور ہیں پوکری کرو۔ دین کی خدمت میں اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے میں بہان اور مال سے کبھی دریغ نہ کرو۔اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو مال کی محبت کو خدا کی محبت پر قربان کر دو۔ یہ تو ہے عام حکم ۔

انفاق کا خاص حکم

اور اس کے ساتھ ہی خاص حکم یہ ہے کہ اس قدر مال اگر تمھارے پاس جمع ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا بخدا کی راہ میں ضرور صرف کرو، اور اتنی پیداوار تمھاری زمین میں ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا حصہ تو ضرور خدا کی نذر کر دو ۔ پھر جس طرح چند رکعت نماز فرض کرنےکا مطلب یہ نہیں ہےکہ بس یہ رکعتیں پڑھتے وقت ہی خدا کو یاد کرو اور باقی سارےوقتوں میں اس کو بھول جاؤ، اسی طرح مال کی ایک چھوٹی سی مقدار راہ خدا میں صرف کرنا جو فرض کیا گیا ہے، اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اتنا مال ہو بس انہی کو راہِ خدا میں صرف کرنا چاہیے، اور جو اس سے کم مال رکھتے ہوں انھیں اپنی مٹھیاں بھینچ لینی چاہیں ۔ اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مالدار لوگوں پر مبنی نہ کواۃ فرض کی گئی ہے بس وہ اتنا ہی خدا کی راہ میں صرف کریں، اور اس کے بعد کوئی ضرورت مند آئے تو اسے جھڑک دیں ۔یا دین کی خدمت کا کوئی موقع آئے تو کہہ دیں کہ ہم تو زکوۃ دے سکے۔ اب ہم سے ایک پانی کی بھی اُمید نہ رکھو۔ زکوۃ فرض کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا مطلب در اصل یہ ہے کہ کم از کم اتنا مال تو ہر سال دار کو راہ خدا میں دنیا ہی پڑے گا، اور اس سے زیادہ جس شخص سے جو کچھ بن آئے وہ اس کو صرف کرنا چاہیے۔

انفاق کے عام حکم کی مختصر تشریح

اب میں آپ کے سامنے پہلے عام حکم کی تھوڑی سی تشریح کروں گا، پھر دوسرے خطبے میں خاص حکم بیان کروں گا ۔

قرآن مجید کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے اس کی حکمتیں اور مصلحتیں بھی خود ہی بتا دیتا ہے تا کہ محکوم کوحکم کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ یہ حکم کیوں دیا گیا ہے اور اس کا فائدہ کیا ہے ۔ قرآن مجید کھولتے ہی سب سے پہلےجس آیت پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ یہ ہے :

سیدھے راستے پر چلنے کی تین شرطیں

ذلِكَ الكِتبُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ، (البقره : ٢-٣)

"یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں، یہ ان پرهبزگار لوگوں کو زندگی کا سیدھا راستہ بتاتا ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتےہیں۔"

اس آیت میں یہ اصل الاصول بیان کر دیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں سیدهےراستے پر چلنے کے لیے تین چیزیں لازمی طور پر شرط ہیں :

ایک ایمان بالغیب _١

دوسرے نماز قائم کرنا۔

تیسرے جو رزق بھی اللہ نے دیا ہو اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرنا۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ :

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ( آل عمران : ۹۲)

"تم نیکی کا مقام یا ہی نہیں سکتےجب تک کہ خدا کی راہ میں وہ چیزیں نہ شریح کرو جن سےتم کو محبت ہے"-

پھر فرمایا :

الشَّيْطنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ( البقره : ۲۶۸)

" شیطان تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرو گے تو فقیر ہو جاؤ گے وہ تمھیں شرمناک چیز یعنی بخیلی کی تعلیم دیتا ہے۔"

اس کے بعد ارشاد ہوا :

وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُم إلى التهلكة: (البقرة : ١٩٥)

"اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کہ را و خدا میں خرچ نہ کرنے کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں)۔

آخر میں فرمایا :

وَمَنْ يُوقَ شُحّ نَفْسِهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر: ۹)

"اور جو تنگ دلی سے بچ گئے وہی فلاح پانے والے ہیں"-


١- بس میں خدا اور آخرت اور وحی ، سب ہی امور غیب پر ایمان لانا شامل ہے-

زندگی بسر کرنے کے دو طریقے

ان سب آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی بسر کرنے کے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ تو خدا کا ہے جس میں نیکی اور بھلائی اور فلاح اور کامیابی ہے، اور اس راستےکا قاعدہ یہ ہے کہ آدمی کا دل کھلا ہوا ہو، ہو رزق بھی تھوڑا یا بہت اللہ نےدیا ہو اس سےخود اپنی ضرورتیں بھی پوری کرےاپنےبھائیوں کی بھی مدد کرے، اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے بھی خرچ کرے۔دوسرا راستہ شیطان کا ہے جس میں بظاہر تو آدمی کو فائدہ ہی فائدہ نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ہلاکت اور بر بادی کے سوا کچھ نہیں، اور اس راستہ کا قاعدہ یہ ہے کہ آدمی دولت سمیٹنے کی کوشش کرے،پیسے پیسے پر جان دے اور اس کو دانتوں سےپکڑ پکڑ کر رکھے تاکہ شریج نہ ہونے پائے اور خرچ ہو بھی تو میں اپنے ذاتی فائدےاور اپنے نفس کی خواہشات ہی پر ہو۔

خُدا کی راہ میں خرچ کے طریقے

اب دیکھیے کہ خدائی راستہ پر چلنے والوں کے لیے راہ خدا میں خرچ کرنے کےکیا طریقے بیان ہوئے ہیں ان سب کو نمبر وار بیان کرتا ہوں :

ا- صرف خدا کی خوشنودی کے لیے

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خرچ کرنے میں صرف خدا کی رضا اور اُس کی خوشنودی مطلوب ہو، کسی کو احسان مند بنانے یا دنیا میں نام پیدا کرنے کے لیے خرچ نہ کیا جائے۔

وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغاو وجدِ اللهِ (البقره : ۲۷۲)

"تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اس سے اللہ کی رضا کے سوا تمھارا اور کوئی مقصود نہیں ہوتا ".

يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُم بِالمَن وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَا لَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْخَخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابُ فَاصَابَهُ وَابِل فَتَرَكَهُ صَلدَاط (البقره : ۲۶۴)

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کہ اس شخص کی طرح ضائع نہ کر دو بجو لوگوں کے دکھا دے کو خروج کرتا ہے اور روزہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کے طرح کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک پھٹان پر مٹی پڑی ہو اور اس پر نور کا مینہ برسے تو ساری مٹی بہ جائے اور بیس صاف بچٹان کی پٹان کرو جائے"-

۲- احسان نہ بتایا جائے

دوسری بات یہ ہے کہ کسی کو پیسہ دے کر یا روٹی کھلا کر یا کپڑا پہنا کیا احسان نہ جتایا جائے اور ایسا برتاؤ نہ کیا جائے جس سے اس کے دل کو تکلیف ہو۔

الذِينَ يُنْفِقُونَ أَموالهم في سَبِيلِ اللهِ تو لا يُتَّبِعُونَ مَا انْفَقُوا مَنَّا وَ لَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَونَ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ، قَول معْرُونٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيرَتِينُ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى (البقره : ۲۶۲-۲۶۳)

"جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر خرچ کر کے احسان نہیں بجتاتے اور تکلیف نہیں پہنچاتے ، ان کے لیےخدا کےہاں اجر ہےاور انھیں کسی نقصان کا خوف یا رنج نہیں۔یہی وہ خیرات جس کےبعد تکلیف پہنچائی جائے،تو اس سےتو یہی بہتر ہےکہ سائل کو نرمی سےٹال دیا جائےاور اس سےکہہ دیا جائےکہ بھائی معاف کرو"

٣- بہتر مال دیا جائے

تیسرا قاعدہ یہ ہے کہ خدا کی راہ میں انتھا مال دیا جائے، بڑا چھانٹ کر یہ دیا جائے۔جو لوگ کسی غریب کو دینے کے لیے پھٹے پرانے کپڑے تلاش کرتے ہیں، یا کسی فقیر کو کھلانے کے لیے بدتر سے بد تر کھانا نکالتے ہیں، ان کو بس ایسے ہی اجہ کی خدا سےبھی توقع رکھنی چاہیے ۔

ياتها الذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبَم وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ (البقره : ۲۶۷)

"اے ایمان لانے والو ، جو کچھ تم نے کمایا ہے اور جو کچھ ہم نےتمھارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے اچھا مال خدا کی راہ میں دو۔ یہ نہ کرو کہ خدا کی راہ میں دینے کے لیے بڑے سے برا تلاش کرنے لگو"-

٤- حتی الامکان چھپا کر دیا جائے

چوتھا قا عدہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو چھپا کرخرج کیا جائے تاکہ ریا اور نمود کی آمیزش نہ ہونے پائے ۔ اگرچہ کھلے طریقہ سے خرچ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، مگر ڈھانک چھپا کر دینا زیادہ بہتر ہے۔

إن تُبْدُوا الصَّدَقَتِ فَنَعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاء فَهُوَ خَيْرٌ لَكُم، وَيُكَفِّرُ عَنْكُم منْ سَيَاتِكُم (البقرة :٢٧١)

"اگر کھلے طریقہ سے خیرات کرو تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر غریب لوگوں کو دو تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اس سے تمھارےگناہ ڈھلتے ہیں"-

٥- نادانوں کو ضرورت سے زیادہ نہ دیا جائے

پانچواں قاعدہ یہ ہے کہ کم عقل اور نادان لوگوں کو ان کی ضرورت سے نہ یاد نہ دیا جائے کہ بگڑ جائیں اور بری عادتوں میں پڑ جائیں ، بلکہ ان کو جو کچھ دیا جائےان کی حیثیت کے مطابق دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ پیٹ کو روٹی اور پہنے کو کپڑا تو ہر بڑے سے بڑے اور بد کار سے بد کار کو بھی ملنا چاہیے، اگر شراب نوشی اور چانڈو اور گانجھے اور جوئے بازی کے لیے لفنگے آدمیوں کو یہ نہ دینا چاہیے۔

وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاء أَمْوَالكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللهُ لَكُمْ قِيمًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَالسُوهُمُ (النساء :۵)

"اپنے اموال جن کو اللہ نے تمھارے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو۔ البتہ ان اموال میں سے ان کو کھانےاور پہننے کے لیے دو "-

٦- مقروض کو پریشان نہ کیا جائے

چھٹا قاعدہ یہ بیان ہوا ہے کہ اگر کسی غریب آدمی کی ضرورت پوری کرنےکے لیے اس کو قرض حسن دیا جائے تو تھامنےکر کے اسےپریشان نہ کیا جائےبلکہ اس کو اتنی مہلت دی جائےکہ وہ آسانی سے ادا کر سکے ۔ اور اگر واقعی یہ معلوم ہو کہ وہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اور تم اتنا مال رکھتے ہو کہ اس کو آسانی کےساتھ معاف کر سکتے ہو تو بہتر یہ ہے کہ معاف کر دو۔

وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إلى مَيْسَرَةٍ وَ انْ تَصَدَّقُوا خَيْر لَكُم إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (البقره : ۲۸۰)

"اور اگر قرضدار تنگ دست ہو تو اسے خوشحال ہونے تک مہلت دو۔ اور صدقہ کر دینا تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم اس کا فائدہ جانو"

٧- خیرات میں اعتدال

ساتواں قاعدہ یہ ارشاد ہوا ہےکہ آدمی کو خیرات کرنےمیں بھی حد سےنہ گزرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا یہ مقصد نہیں ہےکہ اپنا اور اپنےبال بچوں کا پیٹ کاٹ کر سب کچھ خیرات میں دےڈالا جائےبلکہ وہ چاهتا ہےکہ سیدھےسادھے طریقہ سے زندگی بسر کرنے کےلیےجتنی ضرورت انسان کو ہوتی ہے اتنا اپنی ذرات پھر اور اپنے بال بچوں پر صرف کرے اور جو باقی بچے اسے خدا کی راہ میں دے۔

وَيَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفُوط (البقره: ٢١٩)

"پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں ؟ اے نبی ، کہہ دو کہ جو ضرورت سےزیادہ ہو"

وَالَّذِينَ إِذَا انْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذلِكَ فَوَامَّاه (الفرقان : ۶۷)

"اللہ کے نیک بندے وہ ہیں کہ جب خرچ کریں تو نہ فضول خرچی کریں، اور نہ بہت تنگی کر جائیں بلکہ ان کا طریقہ ان دونوں انتہاؤں کےبیچ میں ہو"-

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورا (بنی اسرائیل : ۲۹)

"اور نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ لو کہ گویا گردن سے بندھا ہوا ہے اور نہ اتنا کھول دو کہ حسرت زدہ بیٹھے رہو اور لوگ بھی تم کو ملامت کریں "-

امداد کے مستحقین

آخر میں یہ بھی سن لیجیےکہ اللہ تعالیٰ نےمستحقین کی پوری فہرست بنادی ہے جس کو دیکھ کر آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ کون کون لوگ آپ کی مدد کے متقی ہیں اور کن کا حق اللہ نے آپ کی کمائی میں رکھا ہے :

وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ (بنی اسرائیل : ۲۶)

"اپنے قریب رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین کو اور مسافر کو "-

واتى المال على حبه ذوى القُربى وَالْيَتى والمسكين وابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ (البقره: ۱۷۷) .

"اور نیک وہ ہے جو خدا کی محبت میں مال دے اپنے غریب رشتہ داروں کو اور تیمیوں اور مسکینوں کو اور مسافر کو اور ایسے لوگوں کو جن کی گردنیں غلامی اور اسیری میں پھنسی ہوئی ہوں"

وبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنَّبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَا نكم (النساء : ۳۶)

"نیک سلوک کیا جائے اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں سے اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسیوں اور اجنبی پڑوسیوں اور پاس کے بیٹھنے والوں اور مسافروں اور اپنے لونڈی غلاموں سے"-

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيما واسيراه إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُم جَزَاء وَلَا شُكُورًا هِ إِنَّا نَخَافُ مِنْ ذَتِنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَنطَرِيرا ( الدهر : ۸ تا ۱۰)

"اور نیک لوگ ال کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھتےہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو محض خدا کے لیے کھلا رہے ہیں۔ تم سے کوئی بدلہ یا شکر یہ نہیں چاہتے ۔ ہم کو تو اپنے خدا سے اُس دن کا ڈر لگا ہوا ہے جس کی شدت کی وجہ سے لوگوں کے منہ سکڑ جائیں گے اور تیوریاں چڑھ جائیں گی ( یعنی قیامت)"-

وَفِي امْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِه (ذاریات : ١٩)

"اور ان کے مالوں میں حق ہے مدد مانگنے والوں کا اور اُس شخص کا جو محروم ہو"

لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أغْنِيَاة مِنَ التَّعَفُّفِ : نَعْرِفُهُمْ بِسِيمَهُم لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ فَانَّ اللَّهَ بِهِ عَلِیم کا (ابقرہ : ۲۷۳)

"خیرات ان حاجت مندوں کےلیےہےجو اپنا سارا وقت خدا کےکام میں دے کر ایسےگھر گئےہیں کہ اپنی روٹی کمانے کےلیے دوڑ دھوپ نہیں کر سکتےان کی خود داری کو دیکھ کر نا واقف لوگ گمان کرتےہیں کہ وہ غنی ہیں مگر ان کی صورت دیکھ کر تم پہچان سکتے ہو کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔ وہ ایسےلوگ نہیں ہیں کہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر مانگتے پھریں۔ جو کچھ بھی تم خیرات دو گے اللہ کو اس کی خبر ہوگی، اور وہ اس کا بدلہ دے گا "

زکوۃ کے خاص احکام

برادران اسلام، پچھلے خطے میں آپ کے سامنے انفاق فی سبیل اللہ ریعنی را و خدا میں خرچ کرنے کے عام احکام بیان کر چکا ہوں ۔اب میں اس حکم کے دوسرےحصےکی تفصیلات بیان کرتا ہوں جو نہ کوہ سے متعلق ہے، یعنی جسے فرض کیا گیا ہے۔

زکوۃ کے متعلق تین احکام

زکوۃ کے متعلق اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں تین جگہ الگ الگ احکام بیان فرماتے ہیں :-

(١) سورۂ بقرہ میں فرمایا :

أنْفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِنَ الْأَرْضِ - (البقره : ۲۶۷)

"جو پاک مال تم نے کمائے ہیں اور جو پیدا وار ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو"-

(۲) اور سورہ انعام میں فرمایا کہ ہم نے تمھارے لیے زمین سے باغ آگائےہیں اور کھیتیاں پیدا کی ہیں لہذا :

كُلُوا مِن ثَمرة إِذا اثْمَرُوا تُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِ ( الأنعام : ٤١)

" اس کی پیداوار جب نکلے تو اس میں سے کھاؤ اور فصل کٹنے کے دن اللہ کا حق نکال دو"-

یہ دونوں آیتیں زمین کی پیداوار کےمتعلق ہیں،اور فقہائے حنفیه فرماتے ہیں خود رو پیداوار مثلاً لکڑی اور گھاس اور بانس کےسوا باقی جتنی چیزیں غلہ، ترکاری،اور پھلوں کی قسم سےنکلیں ان سب میں سے اللہ کا حق نکالنا چاہیے۔حدیث میں آتا ہے کہ جو پیداوار آسمانی بارش سے ہو اس میں اللہ کا حق دسواں حصہ ہے اور جو پیدا وار انسان کی اپنی کوشش یعنی آبپاشی سے ہو اس میں اللہ کا حتی بیسواں حصہ ہے۔ اور یہ حصہ پیدا وار کٹنے کے ساتھ ہی واجب ہو جاتا ہے۔

(۳) اس کے بعد سورہ توبہ میں آتا ہے کہ :

وَالَّذِينَ يَكْبِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّة ولا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَبَشِّرُهُمْ بِعَذَابِ اليمة يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَلَم فَتُكُوى بِهَا جِبَاهُهُمُ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُوط هذَا مَا كَنَزُتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُم تَكْنِزُونَ ، (التوبه : ۳۴-۳۵)

"جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس میں سےراہ خدا میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک مذاب کی خبر دے دو۔ اس دن کے عذاب کی جب اُن کے اس سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائےگا اور اس سے ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور پیٹھوں پر داغا جائیگا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ اب اپنےان خزانوں کا مزہ سیکھو "-

پھر فرمایا :

إِنَّمَا الصَّدَقَتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُم وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُه (التوبه : ٦۰)

"صدقات (یعنی زکوۃ) اللہ کی طرف سے مقرر کر دہ فرض ہے فقراء کے لیے اور مساکین کے لیے اور اُن لوگوں کے لیے جو نہ کوۃ وصول کرنےپر مقرر ہوں اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب منظور ہو اور گردنیں چھڑانےکے لیے اور قرض داروں کے لیے اور راہ خدا میں اور مسافروں کے لیے،اللہ بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے ۔"

اس کے بعد فرمایا :

خُذُ مِنْ أَمْوَالِهِ صَدَقَةٌ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَليهِم بھا۔ (التوبہ : ۱۰۳)

" ان کے مالوں میں سے زکوۃ وصول کر کے ان کو پاک اور صاف کر دو"-

ان تینوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ جو مال جمع کیا جائے اور بڑھایا جائے،اور اس میں سے راہ خدا میں صرف نہ کیا جائے وہ ناپاک ہوتا ہے۔ اس کے پاک کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ اس میں سے خدا کا حق نکال کر اس کے بندوں کو دیا جائے۔

حدیث میں آتا ہے کہ جب سونا اور چاندی جمع کرنے والوں پر عذاب کی دھمکی آئی تو مسلمان سخت پریشان ہوئے۔ کیوں کہ اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ ایک درہم بھی اپنے پاس نہ رکھو، اسب خرچ کر ڈالو۔ آخر کار حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قوم کی پریشانی کا حال عرض کیا۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کو تم پر اسی لیے فرض کیا ہے کہ باقی اموال تمھارے لیے پاک ہو جائیں۔

ایسی ہی روایت حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا کہ جب تو نے اپنے مال میں سے زکواۃ نکال دی تو جو حق تجھ پر واجب تھا وہ ادا ہو گیا۔

آیات مذکورہ بالا میں توصرف زمین کی پیداوار اور سونے اور چاندی کی زکوۃ کا حکم ملتا ہے ۔ لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارتی مال، اونٹ، گائے اور بکریوں میں بھی زکوۃ ہے۔

چند اشیاء کا نصاب زکوة

چاندی کا نصاب دو سو درہم یعنی ۵۲ ١/٢ تولہ کے قریب ہے۔

سونے کا نصاب، ٧ ١/٢ تولہ۔

اونٹ کا نصاب ۵ اونٹ ۔

بکریوں کا نصاب ٤٠ بکریاں ۔

گائے کا نصاب ۳۰ گائیں۔

اور تجارتی مال کا نصاب ۵۲ ١/٢ تولے چاندی کے بقدر مالیت۔

جس شخص کےپاس اتنا مال موجود ہو اور اس پر سال گزر جائےتو اس میں سےچالیسواں حصہ زکوۃ کا نکالنا واجب ہےچاندی اورسونےکےمتعلق حنفیه فرماتےہیں کہ اگر یہ دونوں الگ الگ بقدر یہ نصاب نہ ہوں لیکن دونوں مل کر کسی ایک کےنصاب کی حد تک ان کی قیمت پہنچ جائے تو ان میں سے بھی زکوۃ نکالنی واجب ہے۔

زیورات پر زکوة

سونا اور چاندی اگر زیور کی صورت میں ہوں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک انکی زکوۃ ادا کرنا فرض ہے اور امام ابو حنیفہ نے یہی قول لیا ہے۔ساری میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےدو عورتوں کے ہاتھ میں سونےاللہ کے سونےکےکنگن دیکھےاور پوچھا کہ کیا تم زکوۃ نکالتی ہو؟ ایک نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تو اسےپسند کرےگی کہ قیامت کے روز اس کےبدلے آگ کے کنگن تجھے پہنائے جائیں ؟ اسی طرح حضرت اُم سلمہ نہ سے مروی ہے کہ میرے پاس سونےکی پازیب تھی۔ ہمیں نے حضور سے پوچھا کیا یہ کنز ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر اس میں ہونے کی مقدار نصاب زکواۃ تک پہنچتی ہے اور اس میں سے زکواۃ نکال دی گئی ہے تو یہ کنز نہیں ہے ۔ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سونا چاندی اگر زیور کی شکل میں ہوں تب بھی اسی طرح زکوۃ فرض ہے جس طرح نقد کی صورت میں ہونےپر ہے ۔ البته جواہر اور نگینوں پر زکوۃ نہیں ہے۔

زکوۃ کے مستحقین

قرآن مجید میں زکواۃ کے آٹھے حق دار بیان کیے گئے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے :

ا- فقراء

یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس کچھ نہ کچھ مال تو ہے مگر ان کی ضرورت کے لیےکافی نہ ہو ۔ تنگ دستی میں گزر بسر کرتے ہوں اور کسی سے مانگتے نہ ہوں ۔ امام زہرہی امام ابو حنیفہ، ابن عباس حسن بصری، ابوالحسن کہ ٹی اور دوسرے بزرگوں نے فقیر کی یہی تعریف فرمائی ہے۔

۲- مساکین

یہ بہت ہی تباہ حال لوگ ہیں جن کے پاس اپنے تن کی ضروریات پوری کرنےکے لیے بھی کچھ نہ ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسے لوگوں کو بھی مساکین میں شمار فرماتےہیں جو کمانے کی طاقت رکھتے ہوں مگر انھیں روز گار نہ ملتا ہو۔

عاملین علیها

ان سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں اسلامی حکومت زکوۃ وصول کرنے کے لیےمقرر کرے۔ ان کو زکوۃ کی مکہ سے تنخواہ دی جائے گی۔

مؤلفة القلوب

ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام کی حمایت کے لیے، یا اسلام کی مخالفت سے روکنے کے لیے روپیہ دینے کی ضرورت پیش آئے۔ نیز ان میں وہ نو مسلم بھی داخل ہیں جنھیں مطمئن کرنے کی ضرورت ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی کا فرقوم کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملنے کی وجہ سے بے روزگار یا تباہ حال ہو گیا ہو تب تو اس کی مدد کرنا مسلمانوں پر ویسے ہی فرض ہے۔ لیکن اگر وہ مالدار ہو تب بھی اُسے زکوۃ دی جا سکتی ہے تاکہ اس کا دل اسلام پر حجم جائے ۔ جنگ حنین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت میں سے تو مسلموں کو بہت مال دیا بھٹی کہ ایک شخص کے حصہ میں نشونشو اونٹ آئے۔ انصار نے اس کی شکایت کی تو حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ ابھی ابھی کفر سے اسلام میں آئے ہیں۔میں ان کےدل کو خوش کرنا چاہتا ہوں۔اسی بنا پر امام زہری نے مولفۃ القلوب کی تعریف یوں بیان کی ہے کہ جو عیسائی یا یہودی یا غیر مسلم اسلام میں داخل ہوا ہو اگر چہ مالدار ہی کیوں نہ ہو

٥- في الرقاب

اس سے مطلب یہ ہے کہ جو شخص غلامی کے بند سے چھوٹنا چاہتا ہو اس کوزکوۃ دی جائے تاکہ وہ اپنے مالک کو روپیہ دے کر اپنی گردن غلامی سےبچھڑا لے۔آج کل کےزمانہ میں غلامی کا رواج نہیں ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ جو لوگ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے قید بھگت رہے ہوں اُن کو زکوۃ دے کر رہائی حاصل کرنےمیں مدد دی جا سکتی ہے۔ یہ بھی فی الرقاب کی تعریف میں آجاتا ہے۔

٦- الغارمین

ان سے مُراد وہ لوگ ہیں جو قرضدار ہوں ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی کےپاس ہزار روپیہ ہو اور وہ سو روپے کا قرضدار ہو تو بھی اس کو زکوۃ دی جا سکتی ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس پر اتنا قرض ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد اس کے پاس مقدار نصاب سے کم مال بچتا ہوا سے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ۔ فقہائے کرام نےیہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی فضول خرچیوں اور بدکاریوں کی وجہ سے قرضدار ہوا ہو اس کو زکوۃ دینا مکروہ ہے۔ کیونکہ پھر وہ اس بھوسے پر اور زیادہ جرات کےساتھ بدکاریاں اور فضول خرچیاں کرے گا کہ زکوۃ لے کر قرض ادا کر دوں گا۔


١- اس مسئلے میں جو فقہی بحثیں پیدا ہوتی ہیں ان پر گفتگو کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے، ان پر ہم نے اپنی کتاب تفہیم القرآن جلد دوم میں بسلسلہ تفسیر سورہ تو یہ مفصل کلام کیا ہے۔

٧- فی سبیل اللہ

یہ عام لفظ ہے جو تمام نیک کاموں پر استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن خاص طور پر اس سے مراد دین حق کا جھنڈا بلند کرنےکی جد و جہد میں مدد کرنا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زکوۃ لینا کسی مالدار آدمی کے لیے جائزہ نہیں۔لیکن اگر ماندار آدمی جہاد کےلیےمدد کا حاجت مند ہو تو اُسے زکواۃ دینی چاہیے۔اس لیےکہ ایک شخص اپنی جگہ مالدار سہی لیکن جہاد کے لیے جو غیر معمولی مصارف ہوتے ہیں اُن کو وہ محض اپنے مال سے کس طرح پورا کر سکتا ہے۔ اس کام میں زکوۃ سے اس کی مدد کرنی چاہیے۔

٨- ابن السبیل یعنی مسافر

اگر چہ مسافر کے پاس اس کے وطن میں کتنا ہی مال ہو لیکن حالت مسافرت میں اگر وہ محتاج ہے تو اُسے زکوۃ دینی چاہیے۔

زکوۃ کسے دی جائے اور کسے نہیں ؟

آب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ یہ آٹھ گروہ جو بیان ہوئے ہیں ان میں سے کس،شخص کو کسی حال میں زکوۃ دینی چاہیے اور کس حال میں نہ دینی چاہیے۔ اس کی بھی تھوڑی سی تفصیل آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں ۔

(١) کوئی شخص اپنے باپ یا اپنے بیٹے کو زکوۃ نہیں دے سکتا۔ شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو بھی نہ کواۃ نہیں دے سکتی ۔ اس میں فقہاء کا اتفاق ہے۔ بعض فقہاء یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایسے قریبی عزیزوں کو نہ کوہ نہیں دینی چاہیےجن کا نفقه تم پر واجب ہو یا ہو تمھارےشرعی وارث ہوں،البته دور کےعزیز زکوۃ کے حقدار ہیں۔ بلکہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہیں ۔ مگر امام اوزاعی فرماتےہیں کہ زکوۃ نکال کر اپنے ہی عزیزوں کو نہ ڈھونڈتے پھرو۔

(۲) زکواۃ صرف مسلمان کا حق ہے ، غیر مسلم کا حق نہیں ہے ۔

حدیث میں زکوۃ کی تعریف یہ آتی ہے کہ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنَاء كُمْ وَتُرَدُّ في فقراء كرید یعنی وہ تمھارے مالداروں سے لی جائے گی اور تمھارے ہی فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی"-

البته غیرمسلم کو عام خیرات میں سے حصہ دیا جا سکتا ہے ، بلکہ عام خیرات ہیں کو عام یہ تمیز کرنا اچھا نہیں ہے کہ مسلمان کو دی جائے اور کوئی غیر مسلم مرد کا محتاج ہو تو اس سے ہاتھ روک لیا جائے۔

(۳) امام ابو حنیفہ، امام ابویوست اور امام محمد فرماتے ہیں کہ ہر بستی کی زکوۃ انسی بستی کے غریبوں میں صرف ہونی چاہیے۔ایک بستی سےدوسری بستی ہیں بھیجنا اچھا نہیں ہے۔ الا یہ کہ وہاں کوئی مقدار نہ ہو یا دوسری جگہ کوئی ایسی مصیبت آگئی ہو کہ دور و نزدیک کی بستیوں سےمدد پہنچنی ضروری ہو جیسےسیلاب یا قحط وغیرہ ۔ قریب قریب یہی رائے امام مالک اور امام سفیان ثوری کی بھی ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ زکوۃ بھیجنا نا جائز ہے۔

(٤) بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ جس شخص کے پاس دو وقت کے کھانےکا سامان ہوا سے زکواۃ نہ لینی چاہیے۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے پاس دنی روپے، اور بعض فرماتے ہیں کہ جس کے پاس ۱۲ پا رو پے موجود ہوں اسے زکوۃ نہ لینی چاہیے۔ لیکن امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور تمام حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ جس کےپاس پچاس روپے سے کم ہوں وہ زکواۃ لے سکتا ہے۔ اس میں مکان اور گھر کا سامان اور گھوڑا اور خادم شامل نہیں ہیں۔ یعنی یہ سب سامان رکھتے ہوئے بھی جو شخص پچاس روپے سے کم مال رکھتا ہو وہ زکواۃ لینے کا حق دار ہےاس معاملہ میں ایک چیز تو ہے قانون،اور دوسری چیز ہےدرجہ فضیلت،ان دونوں میں فرق ہے۔ دور و فضیلت تو یہ ہے کہ حضور نے فرمایا جو شخص صبح و شام کی روٹی کا سامان رکھتا ہو وہ اگر سوال کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اپنے حق میں آگ جمع کرتا ہےدوسری حدیث میں ہےکہ آپ نے فرمایا کہ میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ ایک شخص لکڑیاں کاٹےاور اپنا پیٹ بھرے یہ نسبت اس کے کہ سوال کے لیے ہاتھ پھیلاتا پھرے ۔ تیسری حدیث میں ہےکہ میں کے پاس کھانے کو ہو یا جو کمانے کی طاقت رکھتا ہو اس کا یہ کام نہیں ہے کہ زکواۃ ہے۔ لیکن یہ اولوالعزمی کی تعلیم ہے۔ رہا قانون تو اس میں ایک آخری حد بتائی مزوری ہے کہ کہاں تک آدمی زکوۃ لینے کا حقدار ہو سکتا ہے۔ سوزہ ، وسری حدیثوں میں ملتا ہے۔ مثلا

آپ نے فرمایا کہ

لِلسَّائِلِ حَتَّى وَإِن جَاءَ عَلَی الْفَرَسِ ۔ یعنی سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آیا ہو۔

ایک شخص نے حضور سے عرض کیا کہ میرے پاس دس روپے ہیں ، کیا میں مسکین ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔

ایک مرتبہ دو آدمیوں نے آکر حضور سے زکوۃ مانگی ۔ آپؐ نے نظر اٹھا کر انھیں غور سے دیکھا، پھر فرمایا ، اگر تم لینا چاہتے ہو تو میں دے دوں گا لیکن اس مال میں غنی اور کمانے کے قابل ہٹے کٹے لوگوں کا حصہ نہیں ہے۔

ان سب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص بقدر نصاب مال سے کم رکھتا ہو وہ مقرار کے ذیل میں آجاتا ہے اور اُسے زکواۃ دی جا سکتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ زکوۃ لینے کا سفق در اصل اصلی حاجت مندوں ہی کو پہنچتا ہے۔

زکوۃ کے لیے اجتماعی نظام کی ضرورت

زکوۃ کے ضروری احکام میں نے بیان کر دیے ہیں۔ لیکن ان سب کے ساتھ ایک اہم اور ضروری چیز اور بھی ہے جس کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور مسلمان آج کل اس کو بھول گئے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اسلام میں تمام کام نظامِ جماعت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ انفرادیت کو اسلام پسند نہیں کرتا۔ آپ مسجد سے دور ہوں اور الگ نماز پڑھ لیں تو ہو جائے گی، مگر شریعت تو یہی چاہتی ہے کہ جماعت کےساتھ نماز پڑھیں۔ اسی طرح نظام جماعت نہ ہو تو الگ الگ زکوۃ نکالنا اور خرچ کرنا بھی صحیح ہے،لیکن کوشش یہی ہونی چاہیےکہ زکوۃ کو ایک مرکز پر جمع کیا جائےتاکہ وہاں سے وہ ایک ضابطہ کے ساتھ خرچ ہو۔ اسی چیز کی طرف قرآن مجید میں اشارہ فرمایا گیا ہے ۔

مثلاً فرمایا خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَمِرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمُها -

یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے فرمایا کہ آپکے ان سے زکواۃ وصول کریں،مسلمانوں سے یہ نہیں فرمایا کہ تم زکوۃ نکال کر الگ الگ خرچ کر دو۔

اسی طرح عاملین زکواة کا حق مقررہ کرنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا امام اس کو باقاعده وصول کرے اور باقاعده خرچ کرے-

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

امرت ان اخذ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَاءِ كُمْ وَاردُهَا في فقراء كم

" یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے مال داروں سے زکواۃ وصول کروں اور تمھارے فقراء میں تقسیم کر دوں "

اسی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےراشدین کا عمل بھی تھا۔تمام زکوۃ حکومت اسلامی کے کارکن جمع کرتے تھے اور مرکز کی طرف سے اس کو تقسیم کیا جاتا تھا۔آج اگر اسلامی حکومت نہیں ہے اور زکوۃ جمع کر کےبا ضابطہ تقسیم کرنے کا انتظام بھی نہیں ہے تو آپ علیحدہ علیحدہ اپنی زکوۃ نکال کہ شرعی مصارف میں خرچ کر سکتے ہیں،مگر تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ زکوۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے ایک اجتماعی نظام بنانے کی فکر کریں ، کیوں کہ اس کے بغیر زکواۃ کی فرضیت کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں ۔

باب ششم

باب ششم

حج

حج کی تاریخ

حج کے فائدے -

حج کا عالم گیر اجتماع

حج

برادران اسلام، پچھلےخطبات میں نماز روزہ اور زکوۃ کےمتعلق آپ کو تفصیل کےساتھ بنایا جا چکا ہےکہ یہ عبادتیں انسان کی زندگی کس طرح اسلام کےسانچےمیں ڈھالتی اور اس کو اللہ کی بندگی کےلیے تیارہ کرتی ہیں۔ اب اسلام کی فرض عبادتوں میں سےصرف حج باقی ہے،جس کےفائدے مجھے آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں۔

حج کے معنی

حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کھجے کی زیارت کا قصہ کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام بیچ یہ کھا گیا۔

حج کی ابتداء

سب سے پہلے اس کی ابتداء جس طرح ہوئی اس کا قصہ بڑا سبق آموز ہے۔اس قصے کو غور سےسنیے تاکہ حج کی حقیقت اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے۔پھر اس کے فائدوں کا سمجھنا آپ کے لیے آسان ہوگا۔

حضرت ابراہیم کے زمانے میں حالات

کون مسلمان، عیسانی یا یہودی ایسا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کےنام سے واقف نہ ہو ؟ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی اُن کو پیشوا مانتی ہے بعض موسی ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، تینوں انہی کی اولاد سے ہیں۔انہی کی روشن کی ہوئی شمع سے دنیا بھر میں ہدایت کا نور پھیلا ہے۔ چار ہزار برس سے زیادہ مدت گزری جب وہ عراق کی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے۔ اُس وقت ساری دنیا خدا کو بھولی ہوئی تھی۔رُوئے زمین پر کوئی ایسا انسان نہ تھا جو اپنےاصلی مالک کو پہچانتا ہو، اور صرف اُسی کے آگے اطاعت و بندگی میں سر جھکاتا ہو۔جس قوم میں انھوں نے آنکھیں کھولی تھیں وہ اگر چہ اُس زمانہ میں دنیا کی سب سے زیادہ صنعت ترقی یافتہ قوم تھی، لیکن گراہی میں بھی وہی سب سے آگے تھی۔ علوم وفنون اور و حرفت میں ترقی کر لینے کے باوجود اُن لوگوں کو اتنی ذرا سی بات نہ سوجھتی تھی کہ مخلوق کبھی معبود ہونے کا اہل نہیں ہو سکتا۔ ان کے ہاں ستاروں اور بتوں کی پینش ہوتی تھی۔ نجوم ، فال گیری ، غیب گوئی ، جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے کا خوب چرچا تھا۔ جیسے آج کل ہندؤوں میں پنڈت اور برہمن ہیں اسی طرح اُس زمانہ میں بھی بیچاریوں کا ایک طبقہ تھا جو مندروں کی محافظت بھی کرتا ، لوگوں کو لو جا بھی کراتا ، شادی اور غمی وغیرہ کی رسمیں بھی ادا کرتا، اور غیب کی خبریں بھی لوگوں کو بتانے کا ڈھونگ رچاتا تھا۔ عام لوگ ان کے پھندے میں ایسےپھنسےہوئے تھےکہ انہی کو اپنی اچھی اور بڑی قسمت کا مالک سمجھتے تھے،انہی کے اشاروں پر چلتے تھےاور بے چون و چرا ان کی خواہشات کی بندگی کرتے تھےکیوں کہ اُن کا گمان تھا کہ دیوتاؤں کے ہاں اُن پجاریوں کی پہنچے ہے۔یہ چاہیں تو ہم پر دیوتاؤں کی عنایت ہوگی،ورنہ ہم تباہ ہوتی ہیں گے۔پجاریوں کے اس گروہ کے ساتھ بادشاہوں کی ملی بھگت تھی ۔عام لوگوں کو اپنا ندہ بنا کر رکھنے میں بادشاہ پجاریوں کے مددگار تھے اور پجاری بادشاہوں کےایک طرف حکومت ان پجاریوں کی پشت پناہی کرتی تھی اور دوسری طرف یہ پجاری لوگوں کے عقیدےمیں یہ بات بٹھاتے تھےکہ بادشاہ وقت بھی خداؤں میں سےایک خدا ہے،ملک اور رعیت کا مالک ہے، اس کی زبان قانون ہے اور اس کو رعایا کی جان و مال پر ہر قسم کےاختیارات حاصل ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ بادشاہوں کے آگےپورے بندگی کےمراسم بجالائے جاتےتھے،تاکہ رعایا کےدل و دماغ پر ان کی خدائی کا خیال مسلط ہو جائے-

حضرت ابراہیم کا گھرانا

ایسے زمانے اور ایسی قوم میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے اور لطف یہ ہے کہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے وہ خود پجاریوں کا گھرانا تھا۔ ان کے باپ دادا اپنی قوم کے پنڈت اور برہمن تھے ۔ اس گھر میں وہی تعلیم اور وہی تربیت ان کو مل سکتی تھی بھو ایک پنڈت زادے کو ملا کرتی ہے۔اسی قسم کی باتیں بچپن سے کانوں میں پڑتی تھیں۔ وہی پیروں اور پیرزادوں کےرنگ ڈھنگ اپنےبھائی بندوں اور برادری کے لوگوں میں دیکھتے تھے۔ وہی مندر کی گڈی ان کے لیے تیار تھی جس پر بیٹھ کر وہ اپنی قوم کے پیشوا بن سکتے تھے۔ وہی نذر و نیاز اور چڑھاوے جن سے ان کا خاندان مالامال ہو رہا تھا اُن کے لیے بھی حاضر تھے ، اُسی طرح لوگ اُن کے سامنے بھی ہاتھ جوڑنے اور عقیدت سےسر جھکانےکےلیےموجود تھے۔اسی طرح دیوتاؤں سےزشتہ ملاکر اور غیب گوئی کا ڈھونگ رچا کر وہ اونی کسان سےلےکہ بادشاہ تک ہر ایک کو اپنی پیری کے پھندےمیں پھانس سکتے تھے۔اس اندھیرے میں جہاں کوئی ایک آدمی بھی حق کو جاننےاور ماننے والا موجود نہ تھا،نہ تو ان کو حق کی روشنی ہی کہیں سے مل سکتی تھی اور نہ کسی معمولی انسان کے بس کا یہ کام تھا کہ اس قدر زبر دست ذاتی اور خاندانی فائدوں کو لات مار کر محض سچائی کے پیچھے دنیا بھر کی مصیبتیں مول لینے پر آمادہ ہو جاتا ۔

حضرت ابراہیم کا اعلان برأت

مگر حضرت ابراہیم کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔کسی اور ہی مٹی سے ان کا خمیر بنا تھا۔ہوش سنبھالتےہی انھوں نےسوچنا شروع کر دیا کہ یہ سورج ، چاند اور تارےجو خود غلاموں کی طرح گردش کر رہے ہیں،اور یہ پتھر کے بت جن کو آدمی خود اپنےہاتھ سے بناتا ہے اور یہ بادشاہ جو ہم ہی جیسےانسان ہیں ، آخر یہ خدا کیسےہو سکتےہیں ؟ جو بیچارے خود اپنے اختیار سےجنبش نہیں کر سکتےہجن میں آپ اپنی مدد کرنےکی قدرت نہیں، جو اپنی موت اور زیست کے بھی مختار نہیں، ان کے پاس کیا دھرا ہے کہ انسان ان کےآگے عبادت میں سر جھکائے، اُن سے اپنی حاجتیں مانگےان کی طاقت سےخوف کھائےاور اُن کی خدمت گاری و فرمانبرداری کرےزمین اور آسمان کی مبنی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں،یا جن سےکسی طور پر ہم واقف ہیں،ان میں سےتو کوئی بھی ایسی نہیں جو خود محتاج نہ ہو،جو خود کسی طاقت سےدبی ہوئی نہ ہوا اور جس پر کبھی نہ کبھی زوال نہ آتا ہو۔ پھر جب ان سب کا یہ حال ہے تو ان میں سےکوئی رب کیسے ہو سکتا۔ جب ان میں سے کسی نے مجھ کو پیدا نہیں کیا ، نہ کسی کےہاتھ میں میری موت اور زیست کا اور نفع اور نقصان کا اختیار ہے، نہ کسی کےہاتھ میں رزق اور حاجت روائی کی کنجیاں ہیں،تو میں ان کو رب کیوں مانوں اور کیوں اُن کےآگے بندگی و اطاعت میں سر جھکاؤوں ؟ میرا رب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے اختیار میں سب کی موت و رسیت اور سب کا نفع و نقصان ہے۔یہ دیکھ کر حضرت ابرا نیم نے قطعہ فیصلہ کر لیا کہ جن معبودوں کو میری قوم پوجتی ہے اُن کو میں ہرگز نہ پوچوں گا اور اس فیصلہ پر پہنچنے کے بعد انھوں نےعلى الاعلان لوگوں سے کہہ دیا کہ :

إنِّي بَرِى مِمَّا تُشْرِكُونَ _١ "جن کو تم خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، ان سےمیرا کوئی واسطہ نہیں۔"

إِنِّي وَجَهتُ وَجْهِيَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أنَا مِنَ الْمُشْرِكين_٢ "میں نے سب سے منہ موڑ کر اس ذات کو عبادت و بندگی کے لیے خاص کر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور میں هرگز شرک کرنے والا نہیں ہوں گے"-

مصائب کے پہاڑ

اس اعلان کے بعد حضرت ابراہیم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے،باپ نےکہامیں عاق کہ دوں گا اور گھر سے نکال باہر کروں گا۔قوم نےکہا ہم میں سےکوئی تمھیں پناہ نہ دےگاحکومت بھی اُن کےپیچھےپڑگئی اور بادشاہ کےسامنے مقدمہ پیش ہوا۔مگروه یکه و تنہا انسان سب کے مقابلہ میں سچائی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ باپ کو ادب سےجواب دیا کہ جو علم میرےپاس ہےوہ تمھیں نہیں ملا،اس لیےبجائےاس کےکہ میں تمھاری پیروی کروں، تمھیں میری پیروی کرنی چاہیئے۔قوم کی دھمکیوں کےجواب میں اس کے بتوں کو اپنےہاتھ سےتور کر ثابت کر دیا کہ جنھیں تم پوجتےہو وہ خود کس قدر بے بس ہیں۔بادشاہ کے بھرےدربار میں جا کہ صاف کہہ دیا کہ تو میرارب نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کے ہاتھ میں میری اور تیری زندگی و موت ہے۔ اور جس کےقانون کی بندش میں سورج تک جکڑا ہوا ہے۔ آخری شاہی دربار میں فیصلہ ہوا کہ اس شخص کو زندہ جلا ڈالا جائے۔ مگر وہ پہاڑ سے زیادہ مضبوط دل رکھنے والا انسان جو خدائےواحد پر ایمان لا چکا تھا،اس ہولناک سزا کو بھگتنےکےلیے بھی تیار ہو گیا۔ پھر جب اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو آگ میں جلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر بار عزیز و اقارب ، قوم اور وطن سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی بیوی اور ایک بھتیجے کو لےکر غریب الوطنی میں ملک ملک کی خاک چھاننے کے لیے نکل کھڑا ہوا جس شخص کےلیے اپنے گھر میں مہنت کی گرمی موجود تھی، جو اس پر بیٹھ کر اپنی قوم کا ہیر بن سکتا تھا۔دولت و عزت دونوں جس کے قدم چومنے کے لیے تیار تھیں، اور جو اپنی اولاد کو بھی اس مہنتی کی گدی پر مزے ٹوٹنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا. اس نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے جلا وطنی اور بے سر و سامانی کی زندگی پسند کی ۔ کیوں کہ دنیا کے چھوٹےخداؤں کے جال میں پھانس کہ خودمہ سے کرنا اسے گوارا نہ تھا اور اس کے مقابلہ میں یہ گوارا تھا کہ ایک سچے خدا کی خلاف لوگوں کو بلائے اور اس جرم کی پاداش میں کہیں چین سے نہ بیٹھ سکے ۔


١- الانعام : ۷۸ -

٢- الانعام: ۷۹ -

بجرت

وطن سے نکل کر حضرت ابراہیم شام، فلسطین ،مصر اور عرب کے ملکوں میں پھرتے رہے۔خدا ہی جانتا ہےکہ اس مسافرت کی زندگی میں اُن پر کیا گزری ہوگی۔مال و زر کچھ ساتھ لے کر نہ نکلے تھے اور باہر نکل کر اپنی روٹی کمانے کی فکر میں نہیں پھر رہے تھے بلکہ رات دن فکرہ تھی تو یہ تھی کہ لوگوں کو ہر ایک کی بندگی سے نکال کر صرف ایک خدا کا بندہ بنائیں۔ اس خیال کے آدمی کو جب اس کے اپنے باپ نے اور اس کی اپنی کی اپنی قوم نےبرداشت نہ کیا تو اور کون برداشت کر سکتا تھا ؟کہاں اس کی آؤ بھگت ہو سکتی تھی؟ہر جگہ وہی مندروں کے مہنت اور وہی خدائی کے مدعی بادشاہ موجود تھے اور ہر جگہ وہی جاہل عوام لیتے تھے جو ان جھوٹے خداؤں کےپھندے میں پھنےہوئے تھے۔ ان لوگوں کے درمیان وہ شخص کہاں چین سے بیٹھ سکتا تھا جو نہ صرف خود ہی خدا کےسوا کسی کی خدائی کاننے کےلیے تیار نہ تھا بلکہ دوسروں سےبھی علانیہ کہتا پھرتا تھا کہ ایک اللہ کےسوا تمھارا کوئی مالک اور آقا نہیں ہے۔ سب کی آقائی و خداوندی کا تختہ الٹ دو، اور صرف اس ایک کےبندے بن کر رہو۔ یہی وجہ ہےکہ حضرت ابراہیم کو کسی جگہ قرار نصیب نہ ہوا۔ سالہا سال بے خانماں پھرتے رہےکبھی کنعان کی بستیوں میں ہیں تو کبھی مصر میں اور کبھی عرب کے ریگستان ہیں۔ اسی طرح ساری جوانی بیت گئی اور کالے بال سفید ہو گئے۔

اولاد اور اس کی تربیت

اخیر عمر میں جب 9 برس پورے ہونے میں صرف چار سال باقی تھے اور اولاد سے مایوسی ہو چکی تھی، اللہ نے اولاد دی ۔ لیکن اس اللہ کے بندے کو اب بھی یہ فکر نہ ہوئی کہ خود خانماں برباد ہوا ہوں تو کم از کم اپنے بچوں ہی کو دنیا کمانے کےقابل بناؤں اور انھیں کسی ایسے کام پر لگا جاؤں کہ روٹی کا سہارا مل جائے۔نہیں،اس بوڑھے مسلمان کو فکر تھی تو یہ تھی کہ جس مشن کو پھیلانے میں خود اس نے اپنی عمر کھپا دی تھی، کاش کوئی ایسا ہو جو اس کے مرنے کے بعد بھی اسی مشن کو پھیلاتا ہے۔اسی غرض کے لیے وہ اللہ سے اولاد کا آرزومند تھا، اور جب اللہ نےاولاد دی تو اس نے یہی چاہا کہ اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے انھیں تیار کرے۔ اس ان ایک کامل کی زندگی ایک بچے اور اصلی مسلمان کی زندگی تھی۔ ابتدائے جوانی میں ہوش سنبھالنےکے بعد ہی جب اُس نے اپنے خدا کو پہچانا اور پالیا تو خدا نے اس سے کہا تھا کہ اَسْلَمْ (اسلام لے آ، اپنے آپ کو میرے سپرد کردے ، میرا ہو کر رہ ) اور اُس نےجواب میں قول دے دیا تھا کہ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ _١ میں نے اسلام قبول کیا، میں رب العالمین کا ہو گیا، میں نے اپنے آپ کو اُس کے سپرد کر دیا ،اس قول و قرار کو اُس بچتے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نباہ کر دکھا دیا اس نے رب العالمین کی خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا ، اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا ، اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتیں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ میں صرف کر دیا اور بڑھاپےمیں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لیے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا۔

سب سے بڑی آزمائش

مگر ان آزمائشوں کے بعد ایک اور آخری آزمائش باقی رہ گئی تھی جس کے بغیر یہ فیصلہ نہ ہو سکتا تھا کہ یہ شخص دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر رب العالمین سے محبت رکھتا ہے۔ اور وہ آزمائش یہ تھی کہ اس بڑھاپے میں جبکہ پوری مایوسی کے بعد اسےاولاد نصیب ہوئی ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو رب العالمین کی خاطر قربان کر سکتا ہے یا نہیں، چنانچہ یہ آزمائش بھی کر ڈالی گئی، اور جب اشارہ پاتے ہی وہ اپنے بیٹےکو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا، تب فیصلہ فرما دیا گیا کہ ہاں اب تم نےاپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل بچھا کر دکھایا۔ اب تم اس کے اہل ہو کہ تمھیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے ۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہےکہ :


١- البقره : ١٣١ -

امامت عالم پر سرفرازی

فاذِ ابْتَلَى إِبْراهِيمَ رَبَّهُ بِكَلِمَةٍ فَانْتَهُنَّ قَالَ لا يَنَالَ عَهْدِى الظَّلِمِينَ ، (البقره : ۱۲۴)

"اور جب ابراهیم کوانوں نے سب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان میں پورا اتر کیا تو فرمایا کہ میں تجھ کو انسانوں کا امام ( پیشوا)، بناتا ہوں ۔اس نے عرض کیا اور میری اولاد کے متعلق کیا حکم ہے ؟ جواب دیا ان میں سے جو ظالم ہوں گے انھیں میرا عہد نہیں پہنچتا "-

اس عورت حضرت ابراہیم کو پیشیوانی سونپی گئی اور وہ اسلام کی عالمگیر تحریک کے لیڈر بنائے گئے، اب اُن کو اس تحریک کی اشاعت کے لیے ایسے آدمیوں کی ضرورت پیش آئی جو مختلف علاقوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں اور ان کے خلیفہ یا نائب کی حیثیت سے کام کریں ۔ اس کام میں تین آدمی ان کے لیے قوت بازو ثابت ہوتے۔ایک اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السّلام، دوسرے ان کے بڑے صاحبزادےحضرت اسمعیل علیہ السلام جنھوں نےیہ سن کر کہ رب العلمین ان کی جان کی قربانی چاہتا ہےخود اپنی گردن خوشی خوشی چھری کے نیچے رکھ دی تیسرے اُن کے چھوٹےصاحبزادے حضرت اسحق علیہ السلام

حضرت لوط کو شرق اردن بھیجا

بھتیجے کو آپ نے سدوم کے علاقہ میں بٹھایا جس کو آج کل شرقی اردن ( ٹرانس جور ڈینیا ) کہتے ہیں۔ یہاں اس وقت کی سب سے زیادہ باجی قوم رہتی تھی، اس لیےاس کی اصلاح مقر نظر تھی اور ساتھ ہی دُور دراز کے علاقوں پر بھی اثر ڈالنا مقصود تھا۔ کیوں کہ ایران، عراق اور مصر کے درمیان آنے جانے والے سب تجارتی قافلے اسی علاقے سے گزرتے تھے اور یہاں بیٹھ کر دونوں صارف تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا جا سکتا تھا۔

حضرت اسحق علیہ سلام کو فلسطین بھیجا

چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحق کو کنعان کے علاقہ میں آباد کیا جس کو آجکل فلسطین کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ شام اور مصر کے درمیان واقع ہے، اور سمندر کےکنارے ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں پر بھی یہاں سے انٹر ڈالا جا سکتا ہے۔یہیں سے حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب (جن کا نام اسرائیل بھی تھا، اور ہوتے حضرت یوست کی بدولت اسلام کی تحریک مصر تک پہنچی۔

حضرت اسمعیل کو حجاز میں رکھا

بڑے صاحبزادے حضرت اسمعیل کو حجاز میں سکتے کے مقام پر رکھا اور ایک مدت تک خود اُن کے ساتھ رہ کر عرب کے تمام گوشوں میں اسلام کی تعلیم پھیلائی۔

تعمیر کعبہ

پھر یہیں دونوں باپ بیٹوں نےاسلامی تحریک کا وہ مرکز تعمیر کیا جو کعبہ کےنام سے آج ساری دنیا میں مشہور ہے۔اس مرکز کا انتخاب اللہ تعالیٰ نےخود فرمایا تھا اور خود ہی اس تعمیر کی جگہ تجویز کی تھی۔یہ عمارت محض ایک عبادت گاہ ہی نہ تھی جیسے مسجد میں ہوا کرتی ہیں ، بلکہ اقول روز ہی سے اس کو دین اسلام کی عالمگیر تحریک کامرکز تبلیغ و اشاعت قرار دیا گیا تھا ،اور اس کی غرض یہ تھی کہ ایک غلا کو ماننےوالے ہر جگہ سےکھینچ کھینچےکہ یہاں جمع ہوا کریں۔مل کر خدا کی عبادت کریں،اور اسلام کا پیغام لے کر پھر اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائیں۔ یہی اجتماع تھا جس کا نام حج رکھا گیا۔ اس کی پوری تفصیل کہ یہ مرکز کس طرح تعمیر ہوا، کن جذبات اور کن دُعاؤں کے ساتھ دونوں باپ بیٹوں نے اس عمارت کی دیواریں اُٹھائیں اور کیسے حج کی ابتداء ہوئی ، قرآن مجید میں یوں بیان کی گئی ہے:

ان اولَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَلَةَ مُبرَكا وَهُدًى لِلعَلَمِينَ ، فِيهِ التَا بَيْنَتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كانَ امناء (آل عمران : ۹۶-۹۷)

"یقینا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا برکت والا گھر، اور سارے جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت ۔ اس میں اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ، مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہےاس کو امن مل جاتا ہے۔

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا أَمِنَّا وَ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَول لوط (عنكبوت : ۶۷)

"کیا لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کیسا پر امن حرم بنایا ہے، حالانکہ اس کے گردو پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں۔ (یعنی جب کہ عرب میں ہر طرف لوٹ مار قتل و غارتگری اور جنگ و جدل کا بانزالہ گرم تھا اس حرم میں ہمیشہ امن ہی رہا۔ حتی کہ وحشی بدو تک اس کے حدود میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ پاتے تو اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتے)" ۔

حضرت ابراہیم کی دعائیں

وَإِذْ جَعَلْنَا البَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى ، وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَوَاسْمَعِيلَ أَن طَهِرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ الْحَكِفِينَ والركح السُّجُودِه وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَل هذا بَلَدًا لا مِنَّا وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الأخِيط ........ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السميع المُ: رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةٌ مُّسْلِمَةٌ لَّكَ وَارِنَا مَنَا سِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَام إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُه رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُم يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَيْمُ (البقره : ۱۲۵ تا ۷۱۲۹)

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلُ هَذَا الْبَلَدَ امِنَّا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَهُ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّى وَ مَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمُه رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَ لا مِّنَ النَّاسِ تَهْوى إِلَيْهِمْ وَارزُقَهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ .(ابراهیم : ۳۵ تا ۳۷)

"اور جب کہ ابراہیم نے دعا کی کہ پروردگار یہ اس شہر کو پر امن شہر بنا اور مجھ کو اور میرے بچوں کو ثبت پرستی سے بچا۔ پروردگار، ان بتوں نے بہتیرےلوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جو کوئی میرے طریقہ کی پیروی کرے تو میرا ہے اور جو میرے طریقہ سے پھر جائے تو یقینا تو قصور اور رحیم ہے۔ پروردگار نہیں نے اپنی نسل کے ایک حصہ کو تیرے اس عزت والے گھر کے پاس اسس بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز کا نظام قائم کریں۔ نہیں اےرب اتو لوگوں کے دلوں میں ایسا شوق ڈال کر وہ ان کی طرف کھینچ کر آئیں اور ان کو پھلوں سے رزق پہنچا۔ امید ہے کہ یہ تیرے شکر گزار بنیں گے"-

واد بوانا لإبرهيم مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكُ في شَيْتُ وَطَاهِرُ بَيْتِيَ لِلطَّالِفِينَ وَالْقَايْمِينَ وَالتَّلع السُّجُورِه وَاذتُ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا عَلَى محل اور يا حِينَ مِن كُل تج عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَت عَلَى مَا رزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَ أَطْعِمُوا البَائِسَ الْفَقِيرة (الحج : ۳ تا ۲۰)

"اور جب کہ ہم نے ابراہیم کےلیے اس گھر کی جگہ مقرر کی اس ہدایت کے ساتھ کہ یہاں شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور کوچ اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھے اور لوگوں میں جج کی عام منادی کر دو کہ تمھارے پاس آئیں پنخواہ پیدل آئیں یا ہر دور دراز مقام سےڈیلی اونٹنیوں پر آئیں تا کہ یہاں آکر وہ دیکھیں کہ ان کے لیے کیسے کیسے دینی و دنیوی منافع ہیں اور ان چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر بھی اللہ نے ان کو دیے ہوں اللہ کا نام نہیں (یعنی قربانی کریں،) اور اس میں سےخود بھی کھائیں اور تنگدست و محتاج لوگوں کو بھی کهلائیں"-

برادران اسلام کا یہ ہےاُس حج کی ابتداء کا قصہ جسے اسلام کا پانچواں رکن قرار دیا گیا ہے۔اس سےآپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دنیا میں سب سےپہلےجس نبی کو اسلام کی عالم گیر دعوت پھیلانے پر مامور کیا گیا تھا،مکہ اس کے مشن کا صدر مقام تھا۔ کعبہ وہ مرکز تھا جہاں سے یہ تبلیغ دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچائی جاتی تھی، اور حج کا طریقہ اس یے مقرر کیا گیا تھا کہ جو لوگ خدائےواحد کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کی اطاعت ہیں داخل ہوں،خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، سکچے سب اس ایک مرکز سے وابستہ ہو جائیں اور ہر سال یہاں جمع ہو کہ اس مرکز کے گرد طواف کریں۔ گویا ظاہر میں اپنی اس باطنی کیفیت کا نقشہ جما لیں کہ ان کی زندگی اس پہیتے کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے دھرے کے گرد ہی گھومتا ہے۔

حج کی تاریخ

برادران اسلام، پچھلے خطبہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حج کی ابتداء کس طرح اور کس غرض کے لیے ہوئی تھی۔ یہ بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کتے کو اس اسلامی تحریک کا مرکز بنایا تھا اور یہاں اپنےسب سےبڑے بیٹےحضرت اسمعیل علیہ السلام کو بٹھایا تھا تا کہ آپ کےبعد وہ اس تحریک کو جاری رکھیں۔

اولاد ابراہیم میں بت پرستی کا رواج

خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت اسمعیل کے بعد اُن کی اولاد کب تک اس دین پر قائم رہی جس پر اُن کے باپ اُن کو چھوڑ گئے تھے ۔ بہر حال چند صدیوں میں یہ لوگ اپنے بزرگوں کی تعلیم اور ان کے طریقے سب بھول بھال گئے اور رفتہ رفتہ ان میں وہ سب گمراہیاں پیدا ہو گئیں جو دوسری جاہل قوموں میں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اُسی کھجے میں جیسے ایک خدا کی پرستش کے لیے دعوت و تبلیغ کا مرکز بنایا گیا تھا ، سینکڑوں بت رکھ دیے گئے تھے اور غضب یہ ہے کہ خود حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کو بھی بہت بنا ڈالا گیا جن کی ساری زندگی مبتوں ہی کی پرستش مٹانے میں صرف ہوئی تھی۔ ابراہیم حنیف کی اولاد نے لات، منات ، سیل ، نشر، يَقُوت ، عربی، اسان نائلہ اور خدا جانے کس کس نام کے بت بنائے اور ان کو پوجا۔ چاند عطارد، زہرہ زمل، اور معلوم نہیں کس کس ستارے کو پوجا جن بھوت پریت ، فرشتوں اور اپنے مردہ بزرگوں کی روحوں کو پوجا ۔ جہالت کا زور یہاں تک بڑھا کہ جب گھر سے نکلتے اور اپنا خاندانی ثبت انھیں پوجنے کو نہ ملتا تو راستہ چلتے میں جو اچھا سا چکنا پتھر مل جاتا اُسی کو پوج ڈالتے ، اور پھر بھی نہ ملتا تو مٹی کو پانی سے گوندھ کر ایک پنڈا سا بنا لیتے اور بکری کا دودھ چھڑکتے ہی وہ بے جان پنڈا ان کا خدا ہو جا تا ہیں مینت گری اور پنڈ تائی کے خلاف ان کے باپ ابراہیم علیہ السّلام نے عراق میں لڑائی کی تھی وہ خود انہی کے گھر میں گھس آئی۔ کیسے کو اُنھوں نے ہر دوانہ یا بناریں بنا لیا خود وہاں کے مہنت بن کر بیٹھ گئے۔ حج کو تیر تھے جانتر ا بنا کر اس گھر سے جو توحید کی تبلیغ کے لیے بنا تھا بت پرستی کی تبلیغ کرنے لگے ، اور پجاریوں کےسارے ہتھکنڈے اختیار کر کے اُنھوں نے عرب کے دُور و نزدیک سے آنے والے جانریوں سےنذر چڑھاوے وصول کرنے شروع کر دیے۔ اس طرح وہ سارا کام برباد ہو گیا جو ابراہیم و اسمعیل علیہا السلام کر گئے تھے، اور جس مقصد کے لیے انھوں نے حج کا طریقہ جاری کیا تھا اس کی جگہ کچھ اور ہی کام ہونے لگے۔

حج میں بگاڑ کی شکلیں

شعراء کے مقابلے

اس جاہلیت کےزمانےمیں حج کی جو گت بنی اس کا اندازہ آپ اس سےکہ سکتےہیں کہ یہ ایک میلہ تھا جو سال کےسال لگتا تھا۔ بڑے بڑے قبیلے اپنے اپنےجتھوں کے ساتھ یہاں آتے اور اپنے اپنے پٹاؤ الگ ڈالتے ۔ ہر قبیلے کا شاعر یا بھاٹ اپنی اور اپنےقبیلے والوں کی بہادری، ناموری،سوات، طاقت اور سخاوت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا اور ہر ایک ڈینگیں مارتے ہیں دوسرےسے بڑھ جانے کی کوشش کرتا یہاں تک کہ دوسرے کی ہجو تک نوبت پہنچ جاتی۔

جھوٹی سخاوت کے مظاہرے

پھر فیاضی کا مقابلہ ہوتا۔ ہر قبیلے کے سردار اپنی بڑائی جتانے کے لیے دیگیں چچا تھےاور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اونٹ پر اونٹ کاٹتے چلے جاتے۔ اس فضول خرچی سے ان لوگوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس میلے کے موقع پر اُن کا نام سارے عرب میں اُونچا ہو جائے اور یہ چرچے ہوں کہ فلاں صاحب نےاتنے اونٹ ذبح کیے اور فلاں صاحب نے اتنوں کو کھانا کھلایا۔ ان مجلسوں میں لاگ ، رنگ ، شراب خوری از نا اور ہر قسم کی فحش کاری خوب دھڑتے سے ہوتی تھی اور عمدا کا خیال مشکل ہی سے کسی کو آتا تھا۔

برہنہ طواف

کعبےکےگردطواف ہوتا تھا،مگر کس طرح؟عورت مرد سب تنگےہو کر گھومتےتھےاور کہتےتھےکہ ہم اس حالت میں خدا کے سامنے جائیں گے جس میں ہماری ماؤں نے ہمیں جنا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی مسجد میں عبادت ہوتی تھی،مگر کسی؟ تالیاں پیٹی جاتیں، سیٹیاں بجائی جاتیں اور نرسنگھےپھونکےجاتے۔خدا کا نام پکارا جاتا، مگر کس شان سے؟ کہتے تھے:

لبيك اللهم لبيك لا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكَا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ.

"یعنی میں حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو تیرا ہونے کی وجہ سے تیرا شریک ہے۔ تو اس کا بھی مالک ہے اور اس کی ملکیت کا بھی مالک ہے"-

قربانی کا تصور

خدا کے نام پر قربانیاں کرتے تھے، مگر کسی بد تمیزی کے ساتھ ؟ قربانی کا خون کیسے کی دیواروں سے لیتھڑا جاتا اور گوشت دروازے پر ڈالا جاتا ، اس خیال سے کہ نعوذ باللہ یہ خون اور گوشت خدا کو مطلوب ہے۔

حرام مہینوں کی بے حرمتی

حضرت ابراہیم نے حج کے چار مہینوں کو حرام ٹھیرایا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ان مہینوں میں کسی قسم کی بیجنگ و جدل نہ ہو۔ یہ لوگ اس حرمت کا کسی بعد تک خیال رکھتے تھے، مگر جب لڑنےکو جی چاہتا تو ڈھٹائی کے ساتھ ایک سال حرام مہینے کو حلال کر لیتے اور دوسرے سال اس کا بدلہ کر دیتے تھے۔

چند خود ساختہ پابندیاں

پھر جو لوگ اپنےمذہب میں نیک نیت تھے انھوں نے بھی جہالت کی وجہ سے عجیب عجیب طریقے ایجاد کر لیے تھے ۔ کچھ لوگ بغیر زادِ راہ لیے حج کو نکل کھڑےہوتے اور مانگتے کھاتے چلے جاتے تھے ۔ ان کے نزدیک یہ نیکی کا کام تھا۔کہتےتھےہم منتو حل ہیں،خدا کےگھر کی طرف جا رہے ہیں،پھر دنیا کا سامان کیوں لیں۔عمونا حج کے سفر میں تجارت کرنے یا کمائی کے لیے محنت مشقت کرنے کو ناجائز سمجھا جاتا تھا،بہت سے لوگ حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے اور اسے بھی داخل عبادت سمجھتےتھے ۔ بعض لوگ حج کو نکلتے تو بات چیت کرنا ترک کر دیتےاس کا نام بی مضمت،یعنی گونگا جج تھا۔ اسی قسم کی اور غلط رسمیں بے شمار تھیں جن کا حال بیان کرکے میں آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔

دُعائے خلیل کی قبولیت

یہ حالت کم و بیش دو ہزار برس تک رہی۔ اس طویل مدت میں کوئی نبی عرب میں پیدا نہیں ہوا، نہ کسی نبی کی خالص تعلیم عرب کےلوگوں تک پہنچی۔آخر کار حضرت ابراهیم کی اُس دُعا کے پورا ہونےکا وقت آیا جو انھوں نےکعبے کی دیواریں اٹھاتے وقت اللہ سے مانگی تھی ، یعنی پروردگار، ان کےدرمیان ایک پیغمبر خود انہی کی قوم میں سے بھیجیں جو انھیں تیری آیات سُنائے اور کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے پھر ایک انسان کامل اٹھا جس کا نام پاک محمد بن عبد اللہ تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم -

جس طرح حضرت ابراہیم نے پنڈتوں اور مہنتوں کے خاندان میں آنکھ کھولی تھی،اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس خاندان میں آنکھ کھولی جو صدیوں سےکعبہ کےتیرتھ کا مہنت بنا ہوا تھا۔جس طرح حضرت ابراہیم نےاپنےہاتھ سےخود اپنےخاندان کی مہنتی پر ضرب لگائی،اسی طرح آنحضرت نےبھی اس پرضرب لگائی اور محض ضرب ہی نہیں لگائی بلکہ ہمیشہ کےلیےاس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔پھر جس طرح حضرت ابراہیم نے تمام باطل عقیدوں اور جھوٹے خداؤں کی خدائی مٹانے کےلیے جدوجہد کی تھی اور ایک خدا کی بندگی پھیلانے کی کوشش کی تھی ، بالکل وہی کام آنحضرت نے بھی کیا اور پھر اسی اصلی اور بے لوث دین کو تازہ کر دیا ہے حضرت ابراہیم لے کر آئے تھے۔ ۲۱ سال کی مدت میں جب یہ سارا کام آپ مکمل کر چکے تو اللہ کے حکم سے آپ نے پھر اسی طرح کھبے کو تمام دنیا کے خدا پرستوں کا مرکز بنانے کا اعلان کیا اور پھر وہی منادی کی کہ سب طرف سے حج کے لیے اس مرکز کی طرف آؤ۔

وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سبيلا، وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ ( آل عمران : ۹۷ )

"اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو کوئی اس گھر تک آنے کی قدرت رکھتا ہو وہ حج کے لیے آئے ۔ پھر جو کوئی کفر کرے (یعنی قدرت کے باوجود نہ آئے) تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔"

سنت ابراہیمی کا احیاء

اس طرح حج کا از سر نو آغاز کرنے کے ساتھ ہی جاہلیت کی وہ ساری رسمیں بھی یک قلم مٹادی گئیں جو پچھلے دو ہزار برس میں رواج پا گئی تھیں۔

بت پرستی کا خاتمہ

کعبیے کے سارے بت توڑے گئے ، خدا کے سوا دوسروں کی جو پرستش وہاں ہو رہی تھی وہ قطعا روک دی گئی ، سب رسمیں مٹادی گئیں، میلے ٹھیلے اور تماشے بند کردیےگئے اور حکم دیا گیا کہ اب جو طریقہ عبادت کا بتایا جا رہا ہے اسی طریقے سے یہاں اللہ کی عبادت کرو۔

واذْكُرُوهُ كَما هَدَ كُو وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ (بقره : ١٩٨)

"اللہ کو یاد کرو اس طرح بیسی تمھیں اللہ نے ہدایت کی ہے ورنہ اس سے پہلے تو تم گمراہ لوگ تھے"-

بیہودہ افعال کی ممانعت

تمام بیهوده افعال کی سخت ممانعت کر دی گئی:

فَلَا رَفَتْ وَلا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَمِ (بقره : ١٩٤)

"سچ میں نہ شہوانی افعال کیے جائیں، نہ فسق و فجور ہو، نہ لڑائی جھگڑےہوں "-

شاعری کے دنگل بند

شاعری کے دنگل، باپ دادا کے کارناموں پر فخر ، بھٹی اور ہجو گوئی کے مقابلےسب بند کر دیے گئے :

فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَا لَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ الباكر أو أَشَدَّ ذِكرَاط (بقره : ۲۰۰ )

"پھر جب اپنے مناسک حج ادا کر چکو تو جس طرح تم اپنے باپ دادا کا ذکر کیا کرتے تھے اب اللہ کو یاد کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر "-

نمائشی فیاضی کا خاتمہ

فیاضی کے مقابلے، جو محض دکھاوے اور ناموری کے لیے ہوتے تھے ان سب کا خاتمہ کر دیا گیا اور اس کی جگہ وہی حضرت ابراہیم کےزمانےکا طریقہ پھر زندہ کیا گیا کہ محض اللہ کے نام پر جانور ذبح کیےجائیں تا کہ خوشحال لوگوں کی قربانی سے غریب حاجیوں کو بھی کھانے کا موقع مل جائے۔

وَكُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّكَ تَحِبُّ الْمُسْرِفِينَ. (الاعراف:۳۱)

"کھاؤ پیونگر اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرنا"-

فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَاتَ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُها فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَطَ (الج :۳۶)

"ان جانوروں کو خالص اللہ کے لیے اسی کے نام پر قربان کرو، پھر جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹھہر جائیں (یعنی جب جان پوری طرح نکل چکے اور حرکت باقی نہ ر ہے)، تو خود بھی ان میں سے کھاؤ اور قانع کو بھی کھلاؤ اور حاجت مند سائل کو بھی"-

قربانی کا خون اور گوشت لتھیڑنا موقوف

قربانی کے خون کعبہ کی دیواروں سے لتھیڑنا اور گوشت لاکر ڈالنا موقوف کیا گیا اور ارشاد ہوا :

لن ينال الله تحومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَالكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُوط (الحج : ۳۷)

"اللہ کو ان جانوروں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ تمھاری پرهیزگاری و خداترسی پہنچتی ہے"-

برہنہ طواف کی ممانعت

برہنہ ہو کر طواف کرنے کی قطعی ممانعت کر دی گئی اور فرمایا گیا :

قُل مَن حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّذِي أَخْرَجَ لِعِبَادِي (اعرات : ۳۲)

" اے نبی، ان سے کہو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی تھی (یعنی لباس ) ؟"

قد ان الله لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ (اعراف : ۲۸)

"اے نبی ، کہو کہ اللہ تو ہر گز بے حیائی کا حکم نہیں دیتا "

يبي الدم خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (اعراف : ۳۱)

اے آدم نادو، ہر عبادت کے وقت اپنی زینت (یعنی لباس ) پہنے رہا کرو"-

حج کے مہینوں میں الٹ پھیر کی ممانعت

حج کے مہینوں کا الٹ پھیر کرنے اور حرام مہینوں کو لڑائی کے لیے حلال کر لینےسے سختی کے ساتھ روک دیا گیا :

إِنَّمَا النَّسِي وَ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُصَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَكَ عَامًا وَحدمُونَ عَامَّا لِيُوا طِنُّوا عِدَّةَ مَا حرم الله فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللهُ (التوبه : ٣٤)

" نسی تو کفر میں اور زیادتی ہے (یعنی کفر کے ساتھ ڈھٹائی کا اضافہ ہے ) کافر لوگ اس طریقہ سے اور زیادہ گمراہی میں پڑتے ہیں ۔ایک سال ایک مہینہ کو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اُس کے بدلہ میں کوئی دوسرا مہینہ حرام کر دیتے ہیں تاکہ جتنے مہینے اللہ نے حرام ٹھہرائےہیں ان کی تعداد پوری کر دی جائے ۔ مگر اس بہانے سے در اصل اس چیز کو حلال کر لیا جائے جسے اللہ نے حرام کیا تھا ۔"

زاد راہ لینے کا حکم

زاد راہ لیے بغیر حج کے لیے نکلنے کو ممنوع ٹھہرایا گیا اور ارشاد ہوا :

وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيرُ الزَّادِ التَّقوى (البقرة : ١٩)

" زاد راہ ضرور لو کیوں کہ (دنیا میں زاد راہ نہ لینا زاد آخرت نہیں ہے)بہترین زاد آخرت تو تقوی ہے۔"

حج میں روزی کمانے کی اجازت

سفر حج میں کمائی نہ کرنے کو جو نیکی کا کام سمجھا جاتا تھا ، اور روزی کمانے کو ناجائز خیال کیا جاتا تھا اس کی تردید کی گئی:

ليس عليكو جناح أن تَبْتَغُوا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّكُمْ (بقره : ۱۹۸ )

" کوئی مضائقہ نہیں اگر تم کا روبار کے ذریعہ سے اپنے رب کا فضل تلاش کر تے جاؤ"-

جاہلی رسموں کا خاتمہ

گونگے حج اور بھوکے پیاسے حج سے بھی روکا گیا ، اور اس طرح جاہلیت کی دوسری تمام رسموں کو مٹا کر حج کو تقوی ، خدا ترسی، پاکیزگی اور سادگی و درویشی کا مکمل نمونہ بنا دیا گیا۔

حاجیوں کو حکم دیا گیا کہ جب اپنے گھروں سے چھلو تو اپنے آپ کو تمام دنیوی آلائشوں سے پاک کر لو، شہوات کو چھوڑ دو، بیویوں کے ساتھ بھی اس زمانہ میں تعلق زن و شونہ رکھو۔ گالی گلوچ اور تمام بیہودہ اعمال سے پرهیز کرو۔

میقات کا تعین

کعبہ کی طرف آنے والے بننے راستے ہیں، اُن سب پر بیسیوں میل دور سےایک ایک حد مقرر کر دی گئی کہ اس حد سے آگے بڑھنے سے پہلے سب لوگ اپنےاپنے لباس بدل کر احرام کا فقیرانہ لباس پہن لیں ، تاکہ سب امیر و غریب یکساں ہو جائیں، الگ الگ قوموں کے انتیازات مٹ جائیں، اور سب کے سب اللہ کےدربار میں ایک ہو کر فقیر بن کر عاجزانہ شان کے ساتھ حاضر ہوں۔

پرامن ماحول کی ہدایت

احرام باندھنے کے بعد انسان کا خون بہانا تو در کنار، جانور تک کا شکار کرنا حرام کر دیا گیا تا کہ امن پسندی پیدا ہو، بہیمیت دور ہو جائے اور طبیعتوں پر روحانیت کا غلبہ ہو۔ حج کےچار مہینےاس لیےحرام کیے گئے کہ اس مدت میں کوئی لڑائی نہ ہو،کعبہ کو جانے والے تمام راستوں میں امن رہے اور زائرین حرم کو کوئی نہ چھیڑے۔اس شان کے ساتھ جب سماجی تحریم میں پہنچیں تو ان کے لیے کوئی میلہ ٹھیلہ ، کھیل تماشا،ناچ رنگ وغیرہ نہیں ہے۔ قدم قدم پر خدا کا ذکر ہے ، نمازیں ہیں ، عبادتیں ہیں، قربانیاں ہیں ، کعبہ کا طواف ہے، اور کوئی پکار ہے تو بس یہ ہے کہ :

ایک ہی نعرہ ، تلبیہ

لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إِنَّ الحَمدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ

" حاضر ہوں ، میرے اللہ میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے ، نعمت سب تیری ہے ۔ ساری بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔"

ایسے ہی پاک صاف ، بے لوث اور مخلصانہ حج کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرُفُتُ وَلَمْ يَفْسُقُ رَجَعَ كَيَومٍ ولدته امه -

" جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق و فجور سےپرهیز کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔"

فریضه حج کی اہمیت

اب قبل اس کے کہ آپ کے سامنے حج کے فائدے بیان کیے جائیں، یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ یہ فرض کیسا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِج الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْل وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمينَ . (آل عمران : ۱۹۷)

" اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جس نے کفر کیا تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔"

اس آیت میں قدرت رکھنے کے باوجود قصداً حج نہ کرنے کو کفر کے لفظ سےتعبیر کیا گیا ہے، اور اس کی شرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو حدیثیوں سے ہوتی ہے:

نْ مَلَكَ زَادًا وَ رَاحِلَةُ تُبَلِّغُهُ إِلى بَيْتِ اللهِ وَلَم یحج فَلَا عَلَيْهِ أَن تَمُوتَ يَهُودِيًا أَوْ نَصْرَانِيًّا -

" جو شخص زاد راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو اور پھر حج نہ کرے تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کہ مرنا یکساں ہے۔"

مَنْ لَّمْ يَمْنَعُهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةً ظَاهِرَةً أَوْ سُلْطَان جَائِرُ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتٌ وَلَويجم فَلْمتُ إِن شَاءَ يَهُودِيَّا وَ إِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا -

" جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے ، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اُس نےحج نہ کیا ہو اور اسی حالت میں اُسے موت آجائے تو اُسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر"-

اور اسی کی تفسیر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی جب کہا کہ "جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے ، میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگا دوں وہ مسلمان نہیں ہیں، وہ مسلمان نہیں ہیں "۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول و خلیفہ رسول کی اس تشریح سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ یہ فرض ایسا فرض نہیں ہے کہ جی چاہے تو ادا کیجیے اور نہ چاہیےتو ٹال دیجیے بلکہ یہ ایسا فرض ہے کہ ہر اس مسلمان کو جو کہتےتک جانے آنے کا خرچ رکھتا ہو اور ہاتھ پاؤں سےمعذور نہ ہو،عمر میں ایک مرتبہ اسے لازما ادا کرنا چاہیے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو اور خواہ اس کے اوپر بال بچوں کی اور اپنےکاروبار یا ملازمت وغیرہ کی کیسی ہی ذمہ داریاں ہوں ۔ جو لوگ قدرت رکھنےکے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کر کہ کے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے ۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمہ ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں۔ کعبہ یورپ کو آتے جاتے حجاز کے ساحل سے بھی گزر جاتے ہیں جہاں سے مکتہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک اُن کے دل میں نہیں گزرتا ، وہ قطعا مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اور قرآن سے جاہل ہے جو انھیں مسلمان سمجھتا ہے۔ اُن کے دل میں اگر مسلمانوں کا درد اُٹھتا ہے تو اٹھا کرے، اللہ کی اطلاعات اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہر حال ان کے دل میں نہیں ہے۔

حج کے فائدے

برادران اسلام، قرآن مجید میں جہاں یہ ذکر آیا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراهیم کو حج کی عام منادی کرنے کا حکم دیا تھا، وہاں اس حکم کی پہلی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ :

ليَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ (الحج : ۲۸)

" تا کہ لوگ یہاں آکر دیکھیں کہ اس حج میں اُن کے لیے کیسے فائدے ہیں۔"

یعنی یہ سفر کر کےاور اس جگہ جمع ہو کر وہ خود اپنی آنکھوں سےمشاہدہ کہ لیں کہ یہ انہی کےنفع کےلیےہے اور اس میں جو فائدےپوشیدہ ہیں ان کا اندازہ کچھ اسی وقت ہو سکتا ہےجب کہ آدمی یہ کام کر کےخود دیکھ لے۔

حضرت امام ابو حنیفہ کے متعلق روایت ہے کہ جب تک انھوں نے حج نہ کیا تھا، اُنھیں اس معاملہ میں تردد تھا کہ اسلامی عبادات میں سب سےافضل کونسی عبادت ہے، مگر جب انھوں نے خود حج کر کے اُن بےحد و حساب فائدوں کو دیکھا جو اس عبادت میں پوشیدہ ہیں، تو بے قاتل پکار اٹھے کہ یقینا حج سب سے افضل ہے -

آئیے اب میں آپ کو مختصر الفاظ میں اس کے فائدے بتاؤں :

سفر حج کی نوعیت

دنیا کے لوگ عمونا دو ہی قسموں کے سفروں سے واقف ہیں۔ایک مفروہ جو روٹی کمانےکےلیےکیا جاتا ہےدوسرا وہ جو سیر و تفریح کےلیےکیا جاتا ہےان دونوں قسم کےسفروں میں اپنی مرض اور اپنی خواہش آدمی کو باہر نکلنے پر آمادہ کرتی ہےگھر چھوڑتا ہے تو اپنی غرض کے لیے، بال بچوں اور عزیزوں سے جدا ہوتا ہےتو اپنی خاطر مال خرچ کرتا ہے یا وقت صرف کرتا ہےتو اپنےمطلب کےلیے۔لہذا اس میں قربانی کا کوئی سوال نہیں ہے۔ مگر یہ سفر جس کا نام حج ہے، اس کا معاملہ اور سب سفروں سے بالکل مختلف ہے۔یہ سفر اپنی کسی غرض کے لیے یا اپنےنفس کی خواہش کے لیے نہیں ہے ۔ بلکہ صرف اللہ کے لیے ہے اور اُس فرض کو ادا کرنےکے لیے ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔ اس سفر یہ کوئی شخص اُس وقت تک آماده ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کے دل میں اللہ کی محبت نہ ہو، اُس کا خوف نہ ہو، اور اس کے فرض کو فرض سمجھنے کا خیال نہ ہو۔ پس جو شخص اپنے گھر بار سے ایک لمبی مدت کےلیےعلیحدگی، اپنے عزیزوں سے جُدائی،اپنے کاروبار کا نقصان، اپنےمال کا خرج،اور سفر کی تکلیفیں گوارا کر کے حج کو نکلتا ہے ، اُس کا نکلنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے اندر خوف خدا اور محبت خدا بھی ہے اور فرض کا احساس بھی، اور اُس میں یہ طاقت بھی موجود ہے کہ اگر کسی وقت خدا کی راہ میں نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ نکل سکتا ہے ، تکلیفیں اٹھا سکتا ہے ، اپنے مال اور اپنی راحت کو خدا کی خوشنودی پہ قربان کر سکتا ہے۔

نیکی اور تقوی کی رغبت

پھر جب وہ ایسے پاک ارادے سے سفر کے لیے تیار ہوتا ہے تو اس کی طبیعت کا حال کچھ اور ہی ہوتا ہے،جس دل میں خدا کی محبت کا شوق بھڑک اٹھا ہو اور جس کو اُدھر کی کو لگ گئی ہو اُس میں پھر نیک ہی نیک خیال آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ گناہوں سے تو یہ کرتا ہے اور لوگوں سے اپنا کہنا سُنا بخشوا تا ہے۔کسی کا حق اُس پر آتا ہو تو اُسے ادا کرنے کی فکر کرتا ہے تاکہ خدا کے دربار میں بندوں کے حقوق کا بوجھ لادے ہوئے نہ بھائے۔ بُرائی سےاس کےدل کو نفرت بندوں کے حقوق کا بوجھ لادے ہوئےنہ بھائے۔ بُرائی سے اس کےدل کو نفرت کے لیے نکلنے کےساتھ ہی جتنا جتنا وہ خدا کےگھر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہےاُتنا ہی اس کےاندر نیکی کا جذبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اُس کی کوشش یہ ہوتی ہےکہ کسی کو اس سے اذیت نہ پہنچے اور جس کی جتنی خدمت یا مدد ہو سکے کرے۔بد کلامی و بیہودگی،بےحیائی،بد دیانتی اور جھگڑا فساد کرنےسے خود اس کی اپنی طبیعت اندر سےرکھتی ہےکیونکہ وہ خدا کے راستے میں جا رہا ہے۔ تحریم الہی کا مسافر ہو اور پھر بڑے کام کرتا ہوا جائے، ایسی شرم کی بات کسی سے کیسے ہو ؟ اُس کا تو یہ سفر پورا کا پورا عبادت ہے ، اس عبادت کی حالت میں نظلم اور فسق کا کیا کام ؟ پس دوسرےتمام سفروں کےبرعکس یہ ایسا سفر ہےجو ہردم آدمی کےنفس کو پاک کر تا رہتا ہے؟اور یوں سمجھو کہ یہ ایک بہت بڑا اصلاحی کو رس ہے جس سے لا زنا ہر اس مسلمان کو گزرتا ہوتا ہے جو حج کے لیے جائے۔

احرام اور اس کے شرائط

سفر کا ایک حصہ ختم کر چکنے کے بعد ایک خاص بعد ایسی آتی ہے جس سے کوئی مسلمان جو مکہ جانا چاہتا ہو، احرام باندھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ احترام کیا ہے؟ایک فقیرانہ لباس جس میں ایک نہ بند، ایک چادر اور جوتی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک جو کچھ تم تھے سو تھے مگر اب جو تمھیں خدا کے دربار میں جانا ہے تو فقیر بن کر چلو۔ ظاہر میں بھی فقیر بنو اور دل کے فقیر بھی بلنے کی کوشش کرو۔ رنگین کپڑے اور آرایش کے لباس اُتارو۔ساده اور درویشانہ طرز کا لباس پہن لو۔ موزے نہ پہنو۔ سر کھلا رکھو۔ خوشبو نہ لگاؤ۔ بال نہ بناؤ۔ہر قسم کی زینت سےپرهیز کر و۔ عورت اور مرد کا تعلق بند کر دو، بلکہ ایسی حرکات و سکنات اور ایسی باتوں سےبھی پرہیز کروجو اس تعلق کا شوقی یا اس کی یاد دلانےوالی ہوں۔شکار نہ کرو،بلکہ شکاری کو شکار کا نشان دینے یا اس کا پتہ بتانے سے بھی اجتناب کرو۔ظاہر میں جب یہ رنگ اختیار کرو گے تو باطنی پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ اندر سےتمھارا دل بھی فقیر بنے گا، کبر و غرور نکلے گا، مسکینی اور امن پسندی پیدا ہو گی ، دنیا اور اس کی لذتوں میں پھٹنے سے جو کچھ آلائشیں تمہاری روح کو لگ گئی تھیں وہ صاف ہوں گی اور خدا پرستی کی کیفیت تمھارے اوپر بھی طاری ہوگی اور اندر بھی __

تلبیہ

احرام باندھنے کے ساتھ ہو کلمات حاجی کی زبان سے نکلتے ہیں جن کو وہ ہر نماز کے بعد، اور ہر بلندی پر چڑھتے وقت، اور ہر پستی کی طرف اُترتے وقت اور ہر قافلے سے ملتے وقت اور ہر روز صبح نیند سے بیدار ہو کر بند آواز سے پکارتا ہے،وہ یہ ہیں :

لبيك اللهم لبيك ، لبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ .

" حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے نعمت سب تیری ہے اور ساری بادشاہی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں "

یہ در اصل حج کی اُس ندائے عام کا جواب ہےجو ساڑھے چار ہزار برس سےپہلے حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اللہ کےحکم سے کی تھی۔پینتالیس صدیاں گزر چکی ہیں جب پہلےپہل اللہ کے اُس منادی نے پکارا تھا کہ اللہ کےبندو، اللہ کےگھر کی طرف آؤ،زمین کےہر گوشےسے آؤ خواہ پیدل آؤ خواہ سواریوں پر آؤ جواب میں آج تک ترمیم پاک کا ہر مسافربلند آواز سے کہہ رہا ہے ” میں حاضر ہوں،میرےاللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، ہمیں صرف تیری طلبی پر حاضر ہوں، تعریف تیرے لیے ہے ، نعمت تیری ہے ، ملک تیرا ہے ، کسی چیز میں تیرا کوئی شریک نہیں۔اس طرح بیک کی ہر صدا کے ساتھ حاجی کا تعلق بچھی اور خالص خدا پرستی کی اس تحریک سے جڑ جاتا ہےجو حضرت ابراہیم اور اسمعیل کےوقت سےپہلی آرہی ہے۔ ساڑھےچار ہزار برس کا فاصلہ بیچ میں سے ہٹ جاتا ہے ۔ یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اُدھر اللہ کی طرف سے حضرت ابراہیم پکار رہے ہیں اور ادھر سے یہ جواب ہے رہا ہے۔ جواب دیتا جاتا ہے اور بڑھتا جاتا ہے ۔ جوں جوں آگے بڑھتا جاتا ہےشوق کی کیفیت اور زیادہ تیز ہوتی جاتی ہے۔ ہر چڑھاؤ اور انار پر اس کے کانوں میں اللہ کے منادی کی آواز گونجتی ہے اور یہ اُس پر لبیک کہتا ہوا آگے چلتا ہے۔ ہر قافلہ اُسے وہیں کا پیا میں معلوم ہوتا ہے اور ایک عاشق کی طرح یہ اُس کا پیام من کر پکارتا ہے ہیں حاضر ہیں حاضر"۔ہر نئی صبح اس کےلیے گویا پیغام دوست لاتی ہے اور نور کے تڑکے میں آنکھ کھولتے ہی یہ لبیک اللهم لبیک کی صدا لگانے لگتا ہے۔مفرض یہ بار بار کی صدا احرام کے اُس فقیرانہ لباس، سفر کی اُس حالت، اور منزل بمنزل کعبہ کے قریب تر ہوتے جانے کی اس کیفیت کے ساتھ مل کر کچھ ایسا سماں باندھ دیتی ہے کہ سماجی عشق الہی میں از خود رفتہ ہو جاتا ہے اور اس کے دل کی یہ حالت ہوتی ہے کہ بس ایک یا دو دوست کے سوا آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا ہے۔

طواف زیارت

اس شان سے حاجی مکہ پہنچتا ہے اور بجاتے ہی سیدھا اس آستانے کا رخ کرتا ہے جس کی طرف بلایا گیا تھا۔ آستان دوست کو چومتا ہے، پھر اپنے عقیدے،اپنے ایمان، اپنے دین و مذہب کے اُس مرکز کے گرد چکر لگاتا ہے اور ہر چکر آستانہ بوسی سے شروع اور آستانہ بوسی ہی پر ختم کرتا جاتا ہے_١،اس کے بعد مقام ابراہیم پر دورکعتیں سلامی کی پڑھتا ہے، پھر وہاں سے نکل کر کو وصفا پر چڑھتا


١- حجر اسود کے بوسے پر نادان لوگ اکثر اعتراض کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی تو ایک طرح کی بت پرستی ہے۔ حالانکہ دراصل یہ آستانہ بوسی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ خانہ کعبہ کا طواف حجر اسود کے سامنے سے شروع کیا جاتا ہے اور سات طواف کرنے کے دوران میں ہر طواف کے خاتمے پر محجر اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے یا اس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی کوئی شائبہ اس کالے پتھر کی پرستش کا نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول مشہور ہے کہ انھوں نے حجر اسود کو خطاب کر کے فرمایا تھا کہ میں جانتا ہوں تو محض ایک پتھر ہے۔ اگر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تجھے نہ چھوکا ہوتا تو میں ہر گز تجھے نہ چومتا" مقام ابراہیم پر دور کعتیں سلامی کی پڑھتا ہے، پھر وہاں سے نکل کر کو وصفا پر چڑھتا ہے اور وہاں سے جب کعبہ پر نظر پڑتی ہے تو پکار اٹھتا ہے:

لا إله إلا الله وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّي وتوكرة الطفِرُونَ.

" کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا، کسی دوسرے کی ہم بندگی نہیں کرتے ہماری اطاعت صرف اللہ کے لیے خاص ہے خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہوں۔"

سعی صفا و مروه

پھر وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے ، گویا اپنی حالت سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ یونہی اپنے مالک کی خدمت میں اور یونہی اس کی خوشنودی کی طلب میں ہمیشہ سعی کرتا رہے گا۔ اس سعی کے دوران میں کبھی اس کی زبان سے نکلتا ہے :

اللهُمَّ اسْتَعْمِلْنِي بِسُنَّةِ نَبِيِّكَ وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِهِ وَاعِذْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ -

" خدایا، مجھ سے کام لے اُسی طریقہ پر جو تیرے نبی کا طریقہ ہے،اور مجھے موت دے اسی راستہ پر جو تیرے نبی کا راستہ ہے، اور زندگی میں مجھے بچا ان فتنوں سے جو راہ راست سے بھٹکانے والے ہیں ۔۔"

اور کبھی کہتا ہے :

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزَعَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنتَ الامر الا كرم

"پروردگار، معاف کر اور رحم کہ میرے جن قصوروں کو تو جانتا ہےاُن سے درگزر کر تیری طاقت سب سے بڑھ کر ہے اور تیرا کرم بھی سب سے بڑھ کر"-

وقوف منی ، عرفات اور مزدلفہ

اس کے بعد وہ گویا اللہ کا سیا ہی بن جاتا ہے اور اب پانچ چھے روزہ اس کو کیمپ کی سی زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔ ایک دن منی میں پڑاؤ ہے، دوسرےدن عرفات میں کیمپ ہے اور خطبہ میں کمانڈر کی ہدایات سنی جارہی ہیں، رات مزدلفہ میں جا کر چھاؤنی ڈالی جاتی ہے ۔

رمی جمار

دن نکلتا ہے تو منی کی طرف کوچ ہوتا ہے اور وہاں اُس ستون پر کنکریوں سے بچاند ماری کی جاتی ہے جہاں تک اصحاب فیل کی فوجیں کعبہ کو ڈھانےکےلیےپہنچ گئی تھیں۔ہر کنکری مارنے کےساتھ اللہ کا سپاہی کہتا جاتا ہے:

الله الكبرُ رَغْمَا لِلشَّيْطَنِ وَحِزْبِهِ .

اور

اللهم تَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ وَاتَّبَا عَا لِسُنَّةِ نَبِيكَ -

کنکریوں کی اس چاند ماری کا مطلب یہ ہے کہ خدایا جو تیرے دین کو مٹانےاور تیرا بول نیچا کرنے اُٹھے گا، میں اس کےمقابلے میں تیرا بول بالا کرنے کے لیےیوں لڑوں گا۔ پھر اسی جگہ قربانی کی جاتی ہے تاکہ راہ خدا میں خون بہانے کی نیت اور عزم کا اظہار عمل سےہو جائے۔ پھر وہاں سےکعبہ کا رخ کیا جاتا ہے، جیسےسپاہی اپنی ڈیوٹی ادا کر کے ہیڈ کوارٹر کی طرف سُرخ رو واپس آرہا ہے۔ طواف اور دو رکھتوں سے فارغ ہو کہ احرام کھل جاتا ہے۔جو کچھ حرام کیا گیا تھا وہ اب پھر حلال ہو جاتا ہےاور اب حاجی کی زندگی پھر معمولی طور پر شروع ہو جاتی ہے اس معمولی زندگی کی طرف پلٹنے کے بعد حاجی منی میں جا کر پھر کیمپ کرتا ہے اور دوسرے دن پتھر کے اُن تین ستونوں پر باری باری کنکریوں سےپھر چاند ماری کرتا ہے جن کو تجربات کہتےہیں اور جو در اصل اُس ہاتھی والی فوج کی پسپائی اور تباہی کی یاد گار ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال میں حج کے موقع پر اللہ کے گھر کو ڈھانےآئی تھی اور جسے اللہ کے حکم سے آسمانی چڑیوں نے کنکریاں مار مار کر تباہ کر دیا تھا_١ تیسرے دن پھر ان ستونوں پر سنگ باری کرنے کےبعد حاجی مکه پلٹتا ہےاور سات دفعہ اپنے دین کے مرکز کا طواف کرتا ہے ، یہ طواف وذاع ہے اور اس سے فارغ ہونے کے معنی حج سے فارغ ہو جانے کے ہیں ۔

حج کی برکات و اثرات

یہ ساری تفصیل جھا آپ نے سُنی اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ حج کےارا دے اور اس کی تیاری سے لے کر اپنے گھر واپس آنےتک،دو تین مہینے کی مدت ہیں، کتنے زبر دست اثرات آدمی کے دل اور دماغ پر پڑتے ہیں۔ اس میں وقت کی قربانی ہے، مال کی قربانی ہے،آرام و آسائش کی قربانی ہے، بہت سے دنیوی تعلقات کی قربانی ہے، بہت سی نفسانی خواہشوں اور لذتوں کی قربانی ہے۔اور یہ سب کچھ اللہ کی خاطر ہےکوئی ذاتی غرض اس میں شامل نہیں۔ پھر اس سفر میں پرهیزگاری و تقوی کے ساتھ مسلسل خدا کی یاد اور خدا کی طرف شوق و عشق کی جو کیفیت آدمی پر گزرتی ہے وہ اپنا ایک مستقل نقش دل پر چھوڑ جاتی ہے جس کا اثر برسوں قائم کر تا ہے پھر حرم کی سرزمین میں پہنچ کر قدم قدم پر انسان اُن لوگوں کےآثار دیکھنا ہےجنھوں نےاللہ کی بندگی واطاعت میں اپنا سب کچھ قربان کیا۔ دنیا بھر سے لڑے،مصیبتیں اُٹھائیں، مجلا وطن ہوئے، ظلم پر ظلم سہے، مگر بالآخر اللہ کا کلمہ بلند کر کے چھوڑا اور ہر اس باطل قوت کا سر نیچا کر کے ہی دم لیا جو انسان سے اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرانا چاہتی تھی۔ ان آیات بینات اور ان آثار منتر کہ کو دیکھ کر ایک خدا پرست آدمی عزم و ہمت اور جہاد فی سبیل اللہ کا جو سبق لے سکتا ہے ، شاید کسی دوسری چیز سے نہیں لے سکتا۔ پھر طواف کعبہ سے اس مرکز دین کےساتھ جو وابستگی ہوتی ہےاور مناسک حج میں دوڑ دھوپ کوچ اور قیام سے لیا ہدانہ زندگی کی جو مشق کرائی جاتی ہے اسے اگر آپ نماز اور روزے اور زکوۃ کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو کہ یہ ساری چیزیں کسی بہت بڑے کام کی ٹریننگ ہیں جو اسلام مسلمانوں سےلینا چاہتا ہے۔ اسی لیے ہر اُس مسلمان پر جو کعبہ تک جانےآنے کی قدرت رکھتا ہو ، مج لازم کر دیا گیا ہے تاکہ جہاں تک ممکن ہو ہر زمانے میں زیادہ سے زیادہ مسلمان ایسے موجود رہیں جو اس پوری ٹرینینگ سے گزر چکے ہوں ۔


١- عام طور پر مشہور یہ ہے کہ کنکریاں مارنے کا یہ فعل اُس واقعہ کی یاد گار میں کیا جاتا ہےجو حضرت ابراہیم علیہ سلام کو پیش آیا تھا۔ یعنی حضرت اسمعیل علیہ سلام کی قربانی دیتے وقت شیطان نےآگر آپ کو بہکایا تھا اور آپ نے اسے کنکریاں ماری تھیں، یا جب حضرت اسمعیل کےفدیہ میں مینڈھا آپکو قربانی کے لیے دیا گیا تو وہ نکل کر بھاگا تھا اور اس کو آپ نےکنکریاں ماری تھیں ۔ لیکن کسی صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نہیں ہے کہ رمٹی جمار علت یہ ہے۔

حج ایک اجتماعی عبادت

لیکن حج کے فائدوں کا پورا اندازہ کرنے سے آپ قاصر رہیں گےجب تک یہ بات آپ کے پیش نظر نہ ہو کہ ایک ایک مسلمان اکیلا اکیلا حج نہیں کرتا ہےبلکہ تمام دنیا کےمسلمانوں کے لیے حج کا ایک ہی زمانہ رکھا گیا ہے اور ہزاروں لاکھوں مسلمان مل کر ایک وقت میں حج ادا کرتےہیں۔پہلےجو کچھ میں نے بیان کیا ہےاس سےتو آپ کے سامنے صرف اتنی بات آئی ہےکہ فردا فردا ایک ایک حاجی پر اس عبادت کا کیا اثر ہوتا ہے۔اب میں آئندہ مخطےمیں آپ کو یہ بتاؤں گا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے حج کا ایک ہی وقت مقرر کر کے ان فائدوں کو کس طرح لاکھوں درجےبڑھا دیا گیا ہےاسلام کا کمال یہی ہےکہ بیک کرشمہ دوکار نہیں بلکہ ہزار کار نکال لےجاتا ہےنماز علیحدہ پڑھنےہی میں کچھ کم فائدےنہ تھےمگر اس کےساتھ جماعت کی شرط لگا کر،اور امامت کا قاعدہ مقرر کرکے اور جمعہ و عیدین کی بڑی جماعتیں بنا کر اس کےفائدوں کو بے حد و حساب بڑھا دیا گیا۔ روزہ فردا فردا رکھنا بھی اصلاح اور تربیت کا بہت بڑا ذریعہ تھا مگر سب مسلمانوں کے لیے رمضان کا ایک ہی مہینہ مقرر کر کےاس کے فائدے اتنے بڑھا دیے گئے کہ شمار میں نہیں آسکتے ۔ نہ کواۃ الگ الگ دینےمیں بھی بہت خوبیاں تھیں،مگر اس کے لیے بیت المال کا نظام مقرر کر کے اس کی منفعت اتنی زیادہ کر دی گئی کہ آپ اس کا اندازہ اس وقت تک کہ ہی نہیں سکتےجب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہو، اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں کہ تمام مسلمانوں کی زکوۃ ایک جگہ جمع کر کے ایک انتظام کے ساتھ مستحقین میں تقسیم کرنے سے کتنی خیر و برکت ہوتی ہے۔ یہی معاملہ حج کا بھی ہے۔ اکیلا اکیلا آدمی حج کرے ، تب بھی اس کی زندگی میں بہت بڑا انقلاب ہو سکتا ہے، اگر تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ہی وقت میں مل کہ حج کرنے کا قاعدہ مقرر کر کے تو اس کے فائدوں کی کوئی حد باقی ہی نہیں رکھی گئی ۔ یہ مضمون ذرا تفصیل چاہتا ہے، اس لیے انشاء اللہ آئندہ شخطبے میں اس کو مفصل بیان کروں گا۔

حج کا عالمگیر اجتماع

حج کے ثمرات

عالم اسلام میں حرکت

برادران اسلام، آپ جانتے ہیں کہ ایسے مسلمان جن پر حج فرض ہے، یعنی جو کعبہ تک آنے جانے کی قدرت رکھتے ہیں، ایک دو تو ہوتے نہیں ہیں۔ ہر بستی میں ان کی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ ہر شہر میں ہزاروں اور ہر ملک میں لاکھوں ہی ہوتے ہیں۔ اور ہر سال اُن میں سے بہت لوگ حج کا ارادہ کر کے نکلتے ہیں۔ اردن ذرا تصور کیجیے کہ دنیا کے کونے کونےمیں جہاں جہاں بھی مسلمان بنتے ہیں، حج کا موسم آنے کے ساتھ ہی کسی طرح اسلام کی زندگی بجاگ اُٹھتی ہے ، کیسی کچھ حرکت پیدا ہوتی ہے اور کتنی دیر تک رہتی ہے۔ تقریبا رمضان کے مہینے سے لے کر ذی القعد تک دنیا کےمختلف حصوں سےمختلف لوگ حج کی تیاریاں کرکے نکلتےہیں اور اُدھر ذی الحج کے آخر سے صفر، ربیع الاول بلکہ ربیع الثانی تک واپسیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اس کچھ سات مہینہ کی مدت تک گویا مسلسل تمام روئے زمین کی مسلمان آبادیوں میں ایک طرح کی دینی حرکت جاری رہتی ہے ۔ جو لوگ حج کو جاتے اور حج سے واپس آتے ہیں، وہ تو دینی کیفیت میں سرشار ہوتے ہی ہیں، مگر جو نہیں جاتےان کو بھی حاجیوں کے رخصت کرنے اور ایک ایک بستی سے ان کے گنڈر نے اور پھر واپسی پر ان کا استقبال کرنے اور اُن سے حج کے حالات سننے کی وجہ سے تھوڑایا بہت اس کیفیت کا کچھ نہ کچھ حصہ مل ہی جاتا ہے۔

پرہیز گاری اور تقویٰ کی افزائش

جب ایک ایک حاجی حج کی نیت کرتا ہے اور اس نیت کے ساتھ ہی اس پر خوف خدا اور پرهیزگاری اور توبه و استغفار اور نیک اخلاقی کے اثرات چھانےشروع ہوتے ہیں،اور وہ اپنے عزیزوں، دوستوں ، معاملہ داروں اور ہر قسم کےمتعلقین سےاس طرح رخصت ہونا اور اپنے معاملات صاف کرنا شروع کرتا ہےکہ گویا اب یہ وہ پہلا سا شخص نہیں ہے، بلکہ خدا کی طرف کو لگ جانےکی وجہ سےاس کا دل پاک صاف ہو رہا ہے،تو اندازہ کیجیے کہ ایک حاجی کی اس حالت کا کتنےکتنےلوگوں پر اثر پڑتا ہوگا۔ اور اگر ہر سال دنیا کے مختلف حصوں میں ایک لاکھ آدمی بھی اوسطاً اس طرح حج کےلیے تیار ہوتے ہوں تو ان کی تاثیر کتنےلاکھ آدمیوں کےاخلاق تک پہنچتی ہوگی۔پھر حاجیوں کے قافلے جہاں جہاں سے گزرتے ہوں گے وہاں ان کو دیکھ کر ان سے مل کر اُن کی لبیک لبیک کی آوازیں سن کر کتنوں کے دل گرما جاتے ہوں گے کتنوں کی توجہ اللہ کی طرف اور اللہ کے گھر کی طرف پھر جاتی ہوگی،اور کتنوں کی سوئی ہوئی روح میں حج کے شوق سے حرکت پیدا ہو جاتی ہوگی۔ پھر جب یہ لوگ اپنے مرکز سے پھر کر اپنی اپنی بستیوں کی طرف دنیا کے مختلف حصوں میں حج کی کیفیتوں کا خمار لیے ہوئے پلٹتے ہوں گے اور لوگ ان سےملاقات کرتےہوں گے تو ان کی زبان حال اور زبان قال سے اللہ کے گھر کا ذکر سن کر کتنے بے شمار حلقوں میں دینی جذبات تازہ ہو جاتے ہوں گے۔

عالم اسلامی کی بیداری کا موسم

پس اگر میں یہ کہوں تو بے جانہ ہوگا کہ جس طرح رمضان کا مہینہ تمام اسلامی دنیا میں تقوی کا موسم ہے، اسی طرح حج کا زمانہ تمام روئے زمین میں اسلام کی زندگی اور بیداری کا زمانہ ہےاس طریقہ سے شریعت بنانے والےحکم ددانا نےایسا بےغیر انتظام کر دیا ہےکہ انشاء اللہ قیامت تک اسلام کی عالم گیر تخریب مٹ نہیں سکتی ۔دنیا کے حالات خواہ کتنے ہی بگڑ جائیں اور زمانہ کتنا ہی خراب ہو جائے ، مگریہ کیسےکا مرکزہ۔ اسلامی دنیا کے جسم میں کچھ اس طرح رکھ دیا گیا ہے جیسے آدمی کے جسم میں دل ہوتا ہے۔ جب تک دل حرکت کرتا رہے، آدمی مر نہیں سکتا، چاہے بیماریوں کی وجہ سے وہ ہلنے تک کی طاقت نہ رکھتا ہو، بالکل اسی طرح دنیا کا یہ دل بھی ہر سال اس کی دور دراز رگوں تک سے خون کھینچتا رہتا ہے اور پھر اس کو رگ رگ تک پھیلا دیتا ہے ۔ جب تک اس دل کی یہ حرکت جاری ہے اور جب تک خون کے کھینچنےاور پھیلنے کا یہ سلسلہ چل رہا ہے، اس وقت تک یہ بالکل محال ہے کہ اس جسم کی زندگی ختم ہو جائے ، خواہ بیماریوں سے یہ کتنا ہی زار و نزار ہو۔

وحدت ملت کا پُر کیف نظارہ

ذرا آنکھیں بند کر کے اپنے دل میں اس نقشے کا تصور تو کیجیے کہ ادھر مشرق سےاُدھر جنوب سے، ادھر مغرب سے،اُدھر شمال سےان گنت قوموں اور بےشمار ملکوں کے لوگ ہزاروں راستوں سے ایک ہی مرکزہ کی طرف پہلے آرہےہیں شکلیں اور صورتیں مختلف ہیں، رنگ مختلف ہیں،زبانیں مختلف ہیں،مگر مرکز کےقریب ایک خاص حدیں پہنچتےہی سب اپنے اپنے قومی لباس اُتار دیتے ہیں، اور سارے کےسارے ایک ہی طرز کا سادہ یونیفارم پہن لیتے ہیں۔ احرام کا یہ یونیفارم پہنے کےبعد علانیہ یہ معلوم ہونے لگتا ہے کہ سلطان عالم اور بادشاہ زمین و آسمان کی یہ فوج،جو دنیا کی ہزاروں قوموں سے بھرتی ہو کہ آرہی ہےایک ہی بادشاہ کی فوج ہےایک ہی اطاعت و بندگی کا نشان ان سب پر لگا ہوا ہے ، ایک ہی وفاداری کےرشتے میں یہ سب بندھے ہوئے ہیں، اور ایک ہی دارالسلطنت کی طرف اپنے بادشاہ کے ملاحظہ میں پیش ہونے کے لیے جا رہے ہیں۔ یہ یونیفارم پہنےہوئےسپاہی جب میقات سے آگے پھلتے ہیں تو ان سب کی زبانوں سے وہی ایک نعرہ بلند ہوتا ہے :

لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك -

بولنے کی زبانیں سب کی مختلف ہیں، مگر نعرہ سب کا ایک ہی ہے۔ پھر جوں جوں مرکز قریب آتا جاتا ہے، دائرہ سمٹ کر چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے ۔ مختلف ملکوں کے قافلےملتے چلے جاتے ہیں، اور سب کے سب مل کر نمازیں ایک ہی طرفہ پر پڑھتے ہیں ۔سب کا ایک یونیفارم، سب کا ایک امام، سب کی ایک ہی حرکت ، سب کی ایک ہی زبان ، سب ایک اللہ اکبر کے ہی اشارے پر اُٹھتے اور بیٹھتے اور رکوع اور سجدہ کرتے ہیں، اور سب اسی ایک قرآن عربی کو پڑھتے اور سنتےہیں۔ یوں زبانوں اور قومیتوں اور وطنوں اور نسلوں کا اختلاف ٹوٹتا ہے اور یوں خدا پرستوں کی ایک عالمگیر جماعت بنتی ہےپھر جب یہ قافلےیک زبان ہو کہ لبیک لبیک کےنعرےبلند کرتےہوئے چلتے ہیں ، جب ہر بلندی اور ہر پستی پر یہی نعرے لگتے ہیں، جب قافلوں کے ایک دوسرے سے ملنے کے وقت دونوں طرف سے یہی صدائیں اٹھتی ہیں۔ جب نمازوں کے وقت اور صبح کے تڑکے میں یہی آوازیں گونجتی ہیں تو ایک عجیب فضا پیدا ہو جاتی ہے جس کے نشے میں آدمی سرشار ہو کر اپنی خودی کو بھول جاتا ہےاور اس بھیک کی کیفیت میں جذب ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر کیسے پہنچ کر تمام دنیا سےآئے ہوئے آدمیوں کا ایک لباس میں ایک مرکز کےگرد گھومنا،پھر سب کا ایک ساتھ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا،پھر سب کا منی میں کیمپ لگانا ، پھر سب کا عرفات کی طرف کوچ کرنا اور وہاں ایک امام سےخطبہ سننا ، پھر سب کا مزدلفہ میں رات کو چھاؤنی ڈالنا ، پھر سب کا ایک ساتھ منی کی طرف پلٹنا ، پھر سب کا متفق ہو کر جمرہ عقبہ پر کنکریوں کی چاند ماری کرنا ، پھر سب کا قربانیاں کرنا ، پھر سب کا ایک ساتھ کھے کی طرف پلٹ کر طواف کرنا ، پھر سب کا ایک ہی مرکز کے گردا گرد نماز پڑھنا، یہ اپنے اندر وہ کیفیت رکھتا ہے جس کی نظیر دنیا میں ناپید ہے۔

ایک مقصد ایک مرکز پر اجتماع

دنیا بھر کی قوموں سے نکلے ہوئے لوگوں کا ایک مرکز پر اجتماع ، اور وہ بھی ایسی یک دلی دیک بہتی کے ساتھ ، ایسی ہم خیالی و ہم آہنگی کے ساتھ ، ایسے پاک جذبات پاک مقاصد اور پاک اعمال کے ساتھ حقیقت میں اتنی بڑی نعمت ہےجو آدم کی اولاد کو اسلام کے سوا کسی نےنہیں دی۔دنیا کی قومیں ہمیشہ ایک دوسرے سےملتی رہی ہیں ، مگر کس طرح ؟ میدان جنگ میں گلے کاٹنے کے لیے ، یا صلح کا نفرنسوں میں،ملکوں کی تقسیم اور قوموں کے بٹوارے کے لیےیا مجلس اقوام متحدہ میں آتا کہ ہر قوم دوسری قوم کے خلاف دھو کے قریب ،سازش اور بےایمانیوں کےجال پھیلائےاور دوسروں کے نقصان سےاپنا فائدہ حاصل کرنےکی کوشش کرےتمام قوموں کے عام لوگوں کا صاف دلی کےساتھ ملنا،نیک اخلاق اور پاک خیالات کےساتھ ملتا،محبت اور خلوص کےساتھ ملنا ، قلبی و روحانی اتحاد کےساتھ ملناخیالات،اعمال،اور مقاصد کی ایک جہتی کےساتھ ملنا،اور صرف ایک ہی دفعہ مل کر نہ رہ جانابلکہ ہمیشہ ہمیشہ کےلیےہر سال ایک مرکز پراسی طرح اکٹھےہوتےرہنا،کیایہ نعمت اسلام کےسوا بنی نوع انسان کو اور بھی کہیں ملتی ہے؟دنیا میں امن قائم کرنےقوموں کی دشمنیوں کومٹانےاور لڑائی جھگڑوں کے بجائے محبت ، دوستی اور برادری کی فضا پیدا کرنے کے لیے اس سے بہتر نسخہ کس نے تجویز کیا ہے؟

قیام امن کی سب سے بڑی تحریک

اسلام صرف اتنا ہی نہیں کرتا۔ اس سےبڑھ کر یہاں اور بہت کچھ ہے۔اس نے لازم کیا ہے کہ سال کے چار مہینے جو حج اور عمرہ کےلیے مقرر کیےگئےہیں، ان میں کوشش کی جائے کہ کعبے کی طرف آنے والے تمام راستوں میں امن قائم رہے۔یہ دنیا میں امن قائم رکھنےکی سب سے بڑی دوامی تحریک ہے۔اور اگر دنیا کی سیاست کی باگیں اسلام کے ہاتھ میں ہوں تو مسلمانوں کی پوری کوشش یہ ہو گی کہ دنیا میں ایسی بد امنی برپا نہ ہونے پائے جس سے حج اور عمرے کا نظام معطل ہو جائے۔

دنیا میں واحد مرکز امن

اس نے دنیا کو ایک الیسا حرم دیا ہے جو قیامت تک کے لیے امن کا شہر ہےجس میں آدمی تو کیا جانور تک کا شکار نہیں کیا جا سکتا،جس میں گھاس تک کاٹنے کی اجازہ نہیں جس کی زمین کا کانٹا تک نہیں توڑا جا سکتا جس میں حکم ہے کہ کسی کی کوئی چیز گری پڑی ہو تو اسے ہاتھ تک نہ لگاؤ۔

اس نے دنیا کو ایک ایسا شہر دیا ہے جس میں ہتھیار لانے کی ممانعت ہےسجس میں غلے کو اور دوسری عام ضرورت کی چیزوں کو روک کر مہنگا کرنا "الحاد" کی حد تک پہنچ جاتا ہے جس میں ظلم کرنے والے کو اللہ نے دھمکی دی ہے کہ نذقہ من عناب الیم " ہم اُسے دردناک سزا دیں گے۔

حقیقی مساوات کا مرکز

اُس نےدنیا کو ایک ایسا مرکزہ دیا ہےجس کی تعریف یہ ہےکہ سوائدنِ الْعَاكِفُ فِیهِ وَالْبَادِ (الج : ۲۵) یعنی وہاں اُن تمام انسانوں کےحقوق بالکل برا بر ہیں جو خدا کی بادشاہی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی تسلیم کر کے اسلام کی برادری میں داخل ہو جائیں ، خواہ کوئی شخص امریکہ کا رہنے والا ہو یا افریقہ کا ، چین کا ہو یا ہندوستان کا اگر وہ مسلمان ہو جائےتو مکہ کی زمین پر اس کے وہی حقوق ہیں جو خود مکہ والوں کےہیں۔ پورے حرم کے علاقے کی حیثیت گویا مسجد کی سی حیثیت ہے کہ جو شخص مسجد،میں جا کہ کسی جگہ اپنا ڈیرہ جمادے وہ جگہ اسی کی ہے،کوئی اس کو وہاں سے اُٹھا نہیں سکتا،نہ اس سے کرایہ مانگ سکتا ہے۔مگر وہ اُس جگہ نماہ تمام عمر بیٹھا رہا ہو اسےیہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ یہ جگہ میری بالک ہے ، نہ وہ اس کو بیچ سکتا ہے ، نہ اس کا کہا یہ وصول کر سکتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ شخص اُس جگہ سے اُٹھ جائے تو دوسرےکو بھی وہاں ڈیرہ جمانے کا ویسا ہی حتی ہے جیسا اُس کو تھا ۔ بالکل یہی حال پورےمکہ کے حرم کا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :

ملة مُنَا لِمَنْ سَبَقَ ، یعنی "جو شخص اس شہر میں کسی جگہ آکر پہلے اُتر جائے وہ جگہ اُسی کی ہے"-

وہاں کے مکانوں کا کیا یہ لینا جائنہ نہیں ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں کے لوگوں کو حکم دے دیا تھا کہ اپنے مکانات کے گرد معنوں پر دروازے نہ لگاؤ تا کہ جو چاہے تمھارے صحن میں آکر ٹھہر سکے بعض فقہاء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ شہر مکہ کے مکانات پر نہ کسی کی ملکیت ہے اور نہ وہ وراثت میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔

کیا اسلام کے سوا یہ نعمتیں انسان کو کہیں اور بھی مل سکتی ہیں ؟

بھائیو ، یہ ہے وہ بچ جس کے متعلق فرمایا گیا تھا کہ اسے کر کے دیکھو، اس میں تمھارے لیے کتنے منافع ہیں۔ میری زبان میں اتنی قدرت نہیں کہ اس کے سائےمنافع گنا سکوں ، تاہم اس کے فائدوں کا یہ ذرا سا خاکہ جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے اسی سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔

ہماری قدر ناشناسی

مگر یہ سب کچھ سننےکےبعد ذرا میرے جلےدل کی کچھ باتیں بھی شٹن کو اتم نسلی مسلمانوں کا حال اُس بچے کا سا ہے جو ہیرے کی کان میں پیدا ہوا ہے ۔ ایسا بچہ جب ہر طرف ہیرے ہی میرے دیکھتا ہے اور پتھروں کی طرح ہیروں سے کھیلتا ہے تو ہیرے اس کی نگاہ میں ایسے ہی بے قدر ہو جاتےہیں جیسے پتھر ۔ یہی حالت تمھاری بھی ہے کہ دنیا جن نعمتوں سے محروم ہے جن سے محروم ہو کر سخت مصیبتیں اور لیں اٹھا رہی ہے اور یمن کی تلاش میں حیران و سرگردان ہے ، وہ نعمتیں تم کو مفت میں بغیر کسی تلاش و جستجو کے صرف اس وجہ سے مل گئیں کہ خوش قسمتی سے تم مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے ہو۔ وہ کلمہ توحید جو انسان کی زندگی کے تمام پیچیدہ مسئلوں کو سلجھا کر ایک صاف سیدھا راستہ بنا دیتا ہے ، بچپن سے تمھارے کانوں میں پڑا۔ نماز اور روزے کے وہ کیمیا سے زیادہ قیمتی نسخے جو آدمی کو جانور سے انسان بناتے ہیں، اور انسانوں کو خدا ترس اور ایک دوسرے کا بھائی ، ہمدرد اور دوست بنانے کے لیے جن سےبہتر نسخے آج تک دریافت نہیں ہو سکے ہیں تم کو آنکھ کھولتے ہی خود بخود باپ دادا کی میراث میں مل گئے ۔ زکواۃ کی وہ بے نظیر ترکیب جس سے محفی دلوں ہی کی ناپاکی دور نہیں ہوتی، بلکہ دنیا کے مالیات کا نظام بھی درست ہو جاتا ہے ، جس سے محروم ہو۔ کر تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ دنیا کے لوگ ایک دوسرے کا منہ نوچنے لگے ہیں تمھیں وہ اس طرح مل گئی ہے جیسے کسی حکیم حاذق کے بچے کو بغیر محنت کےوہ نسخے مل جاتے ہیں جنھیں دوسرے لوگ ڈھونڈتےپھرتے ہیں۔ اسی طرح حج کا وہ عظیم انسان طریقہ بھی جس کا آج دنیا بھر میں کہیں جواب نہیں ہے،جس سےزیادہ طاقتور ذریعہ کسی تحریک کو چہار دانگ عالم میں پھیلانےاور ابد الآباد تک زندہ رکھنےکےلیے آج تک دریافت نہیں ہو سکا ہے ، جس کے سوا آج دنیا میں کوئی عالم گیر طاقت ایسی موجود نہیں ہے کہ آدم کی ساری اولاد کو زمین کے گوشے گوشے سے کھینچ کر خدائے واحد کے نام پر ایک مرکز پر جمع کر دے، اور بے شمار نسلوں اور قوموں کو ایک خدا پرست، نیک نیت خیر خواہ برادری میں پیوست کر کے رکھ دے،ہاں ایسا بے نظیر طریقہ بھی تمھیں بغیر کسی جستجو کے بنا بنایا اور صدہا بروں سے چھلتا ہوا مل گیا ۔ مگر تم نے ان نعمتوں کی کوئی قدر نہ کی، کیونکہ آنکھ کھولتے ہی یہ تم کو اپنے گھر میں ہاتھ آگئیں ۔ اب تم اُن سے بالکل اسی طرح کھیل رہے ہو جس طرح ہیرے کی کان میں پیدا ہونے والا نادان بچہ ہیروں سے کھیلتا ہے اور انھیں کنکر پتھر سمجھنے لگتا ہے۔اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے جس بڑی طرح تم اس زبردست دولت اور طاقت کو منائع کر رہے ہو اس کا نظارہ دیکھ کر دل جل اُٹھتا ہے۔ کوئی کہاں سےاتنی قوت برداشت لائےکہ پتھر پھوڑوں کے ہاتھوں جواہرات کو برباد ہوتے دیکھ کر ضبط کر سکے؟

میرے عزیز و ، تم نے شاعر کا یہ شعر تو سُنا ہی ہوگا کہ :

شیر جیسے اگر بمکه رود چون بیاید هنوز خر باشد

یعنی گدھا خواہ عیسی علیہ السّلام جیسے پیغمبر ہی کا کیوں نہ ہو مکہ کی زیارت سےکوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ اگر وہ وہاں ہو آئے تب بھی جیسا گدھا تھا ویسا ہی رہے گا۔

نماز روزہ ہو یا حج ، یہ سب چیزیں سمجھ بوجھ رکھنےوالے انسانوں کی تربیت.کے لیے ہیں ، جانوروں کو سدھانے کےلیے نہیں ہیں۔جو لوگ نہ ان کےمعنی مطلب کو سمجھیں،نہ ان کےمدعا سے کچھ غرض رکھیں،نہ اُس فائدے کو حاصل کرنےکا ارادہ ہی کریں جو ان عبادتوں بس پھرا ہوا ہےبلکہ جن کےدماغ میں ان عبادتوں کےمقصد و مطلب کا سرےسےکوئی تصور ہی نہ ہو،وہ اگر ان افعال کی نقل اس طرح انار دیا کریں کہ جیسا اگلوں کو کرتے دیکھا ویسا ہی خود بھی کر دیا ، تو اس سے آخر کس نتیجےکی توقع کی جاسکتی ہے ۔ بدقسمتی سے عموما آج کل کے مسلمان اسی طریقہ سے ان افعال کو ادا کر رہے ہیں۔ ہر عبادت کی ظاہری شکل جیسی مقرر کر دی گئی ہے ویسی ہی بنا کہ رکھ دیتے ہیں، مگر وہ شکل روح سے بالکل خالی ہوتی ہے۔تم دیکھتےہو کہ ہر سال ہزارہا زائرین مرکز اسلام کی طرف سجاتےہیں اور حج سے مشرف ہو کر پلٹتے ہیں، مگر یہ جاتےوقت ہی ان پر وہ اصلی کیفیت طاری ہوتی ہے جو ایک مسافر شدیم میں ہونی چاہیے،نہ وہاں سے واپس آکر ہی ان میں کوئی اثر حج کا پایا جاتا ہے،اور نہ اس سفر کے دوران میں وہ ان آبادیوں کےمسلمانوں اور غیر مسلموں پر اپنےاخلاق کا کوئی اچھا نقش بٹھائےہیں جن پر سےاُن کا گزر ہوتا ہےبلکہ اس کےبرعکس اُن میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہوتےہیں جو اپنی گندگی بے تمیزی اور اخلاقی پستی کی نمائش کر کے اسلام کی عزت کو بٹہ لگاتے ہیں۔ ان کی زندگی کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ دین کی بزرگی کا سکہ غیروں پر جمے،خود اپنوں کی نگاہوں میں بھی وہ بے وقعت ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہےکہ آج خودہماری اپنی قوم کےبہت سےنوجوان ہم سےپوچھتےہیں کہ ذرا اس حج کا فائدہ تو ہمیں سمجھاؤ حالانکہ یہ حج وہ چیز تھی کہ اگر اسےاس کی اصلی شان کےساتھ ادا کیا جاتا تو کافر تک اس کےفائدوں کو علانیہ دیکھ کر ایمان لے آتے کیسی تحریک کے ہزاروں لاکھوں ممبر ہر سال دنیا کے ہر حصےسےکھینچ کہ ایک جگہ جمع ہوں اور پھر اپنے اپنےملکوں کو واپس جائیں، ملک ملک اور شہر شہر سےگزرتے ہوئے اپنی پاکی وجود زندگی، پاکیزہ خیالات اور پاکیزہ اخلاق کا اظہار کرتے جائیں،جہاں جہاں ٹھیریں اور جہاں سے گزریں وہاں اپنی تحریک کے اُصولوں کا نہ صرف زبان سے پر چار کریں بلکہ اپنی عملی زندگی سے ان کا پورا پورا مظاہرہ بھی کر دیں، اور یہ سلسلہ دس بیس برس نہیں بلکہ صدیوں تک،سال بسال چلتا رہے،بھلا غور تو کیجیےکہ یہ بھی کوئی ایسی چیز تھی کہ اس کے فائدےپوچھنے کی کسی کو ضرورت پیش آتی ؟ خدا کی قسم، اگر یہ کام صیح طریقہ پر ہوتا تو اندر سے اس کےفائدےدیکھتے اور بہرے اُس کے فائدے سن لیتے۔ ہر سال کا حج کروڑوں مسلمانوں کو نیک بناتا۔ ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کے دائرے میں کھینچ لاتا، اور لاکھوں غیر مسلموں کے دلوں پر اسلام کی بزرگی کا سکہ بٹھا دیا۔ مگر برا ہو جہالت کا جاہلوں کےہا تھ پڑ کر کتنی پیش قیمت چیز کسی بڑی طرح ضائع ہو رہی ہے۔

حج سے پورے فائدے حاصل کرنے کا طریقہ

حج کےپورے فائدےحاصل ہونے کےلیےضروری تھا کہ مرکز اسلام میں کوئی ایسا ہاتھ ہوتا جہ اس عالم گیر طاقت سے کام لیتا، کوئی ایسا دل ہوتا جو ہر سال تمام دنیا کے جسم میں خون صالح دوڑاتا رهتا،کوئی ایسا د دماغ ہوتا ہو ان ہزاروں لاکھوں خداداد قاصدوں کےواسطےسےدنیا بھر میں اسلام کےپیغام کو پھیلانےکی کوشش کرتا۔اور کچھ نہیں تو کم ازکم اتنا ہی ہوتا کہ وہاں خالص اسلامی زندگی کا ایک مکمل نمونہ موجود ہوتا اور ہر سال دنیا کےمسلمان وہاں سے صحیح دینداری کا تازہ سبق لے لے کر پیٹتے ۔ مگر وائے افسوس کہ وہاں کچھ بھی نہیں۔ ماہ تہائے دراز سے عرب میں جہالت پرورش پا رہی ہے۔ عباسیوں کے دور سے لے کر عثمانیوں کے دور تک ہر زمانے کے بادشاہ اپنی سیاسی اغراض کی خاطر عرب کو ترقی دینے کے بجائے صدیوں سے پیہم گرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ انھوں نے اہل عرب کو علم، اخلاق،تمدن،ہر چیز کے اعتبار سے پستی کی انتہا تک پہنچا کر چھوڑا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ سر زمین جہاں سے کبھی اسلام کا نور تمام عالم میں پھیلا تھا، آج اُسی جاہلیت کے قریب پہنچ گئی ہےجس میں وہ اسلام سے پہلے مبتلا تھی۔ اب نہ وہاں اسلام کا علم ہے ، نہ اسلامی اخلاق ہیں، نہ اسلامی زندگی ہے۔ لوگ دُور دُور سے بڑی گہری عقیدتیں لیے ہوئےتحرم پاک کا سفر کرتے ہیں، مگر اس علاقہ میں پہنچ کر جب ہر طرف ان کو جہالت، گندگی طمع، بیحیائی، دنیا پرستی، بد اخلاقی ، بد انتظامی اور عام باشندوں کی ہر طرح گری ہوئی بات نظر آتی ہے تو ان کی توقعات کا سارا طلسم پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے ۔ حتی کہ بہت سےلوگ حج کر کےاپنا ایمان بڑھانے کےبجائے اور اُلٹا کچھ کھو آتےہیں۔ وہی پرانی مهنت گری جو حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کےبعد جاہلیت کے زمانے میں کعبہ پر مسلط ہو گئی تھی اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے آکر ختم کیا تھا، اب پھر تازہ ہو گئی ہے۔ حرم کعبہ کے منظم پھر اسی طرح مہنت بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ خدا کا گھر ان کےلیے جائداد اور حج ان کے لیے تجارت بن گیا ہے۔ حج کرنے والوں کو وہ اپنا اسامی سمجھتے ہیں۔ مختلف ملکوں میں بڑی بڑی تنخواہیں پانے والے ایجنٹ مقرر ہیں تاکہ اسامیوں کو گھیر گھیر کر بھیجیں۔ ہر سال اجمیر کے خادموں کی طرح ایک لشکر کا لشکر دلالوں اور سفری ایجنٹوں کا مکہ سے نکلتا ہے تاکہ دنیا بھر کے ملکوں سے اسامیوں کو گھیر لائے۔ قرآن کی آیتیں اور حدیث کے احکام لوگوں کو سنائنا کہ حج پر آمادہ کیا جاتا ہے ، نہ اس لیے کہ انھیں خدا کا عاید کیا ہوا فرض یاد دلایا جائے، بلکہ صرف اس لیےکہ ان احکام کو سُن کر یہ لوگ حج کو نکلیں تو آمدنی کا دروازہ کھلے گویا اللہ اور اس کے رسول نے یہ سارا کارو بار انہی مہفتوں اور ان کے دلالوں کی پرورش کے لیے پھیلایا تھا۔ پھر جب اس فرض کو ادا کرنے کے لیے آدمی گھر سے نکلتا ہے تو سفر شروع کرنے سے لے کر واپسی تک ہر جگہ اس کو مذہبی مزدوروں اور دینی تاجروں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ معلم، معطوف وکیل موقت کلید بردار کعبہ اور خود حکومت حجاز، سب اس تجارت میں حصہ دار ہیں۔حج کے سارے مناسک معاوضہ لے کر ادا کرائے جاتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیےخانہ کعبہ کا دروازہ تک فیس کے بغیر نہیں کھل سکتا ۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ یہ بنارس اور ہردوار کےپنڈتوں کی سی حالت اُس دین کے نام نہاد خدمت گزاروں اور مرکزی عبادت گاہ کےمجاوروں نےاختیار کر رکھی ہےجس نے مہنت گری کےکاروبار کی جڑ کاٹ دی تھی۔بھلا جہاں عبادت کرانے کا کام مزدوری اور تجارت بن گیا ہوں جہاں عبادت گاہوں کو ذریعہ آمدنی بنا لیا گیا ہو، جہاں احکام الہی کو اس غرض کےلیےاستعمال کیا جاتا ہو کہ خدا کاحکم سن کر لوگ فرض بجالانےکےلیےمجبور ہوں اوراس طاقت کے بل پر اُن کی بیبیوں سے روپیہ گھسیٹا جائے ، جہاں آدمی کو عبادت کا ہر رکن ادا کرنے کے لیے معاوضہ دینا پڑتا ہو اور دینی سعادت ایک طرح سے خرید و فروخت کی جنس بن گئی ہو، ایسی جگہ عبادت کی روح باقی کہاں رہ سکتی ہے ؟ کس طرح آپ امید کر سکتے ہیں کہ حج کرنے والوں اور حج کرانے والوں کو اس عبادت کے تحقیقی و روحانی فائدے حاصل ہوں گے جبکہ یہ سارا کام سوداگری اور دوسری طرف خریداری کی ذہنیت سے ہو رہا ہو_١

اس ذکر سے میرا مقصد کسی کو الزام دینا نہیں ہے، بلکہ صرف آپ لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ حج جیسی عظیم الشان طاقت کو آج کن چیزوں نے قریب قریب بالکل بے اثر بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ غلط فہمی کسی کے دل میں نہ رہنی چاہیے کہ اسلام میں اور اس کے جاری کیسے ہوئے طریقوں میں کوئی کوتاہی ہے ۔ نہیں کو تا ہی دراصل اُن لوگوں میں ہے جو اسلام کی سیج پیروی نہیں کرتے۔ یہ تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے کہ تو طریقے تم کو انسانیت کا مکمل نمونہ بنانے والے تھے اور جن پر ٹھیک ٹھیک عمل کر کے تم تمام دنیا کےمصلح اور امام بن سکتے تھے، ان سے آج کوئی اچھا پھل ظاہر نہیں ہو رہا ہے، اور نوبتیہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگوں کو خود ان طریقوں کے مفید ہونے میں شک ہونے لگاہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک طبیب حاذق چند بہترین تیر بہدف نسخےمرتب کر کے چھوڑ گیا ہو اور بعد میں اس کے وہ نسخے اناڑی اور جاہل جانشینوں کے ہاتھ پڑ کر بیکار بھی ہو رہے ہوں اور بدنام بھی۔ نسخہ بجائے خود چاہے کتنا ہی صحیح ہو انگر بہر حال اس سے کام لینے کے لیے فن کی واقفیت اور سمجھ بوجھ ضروری ہے ۔ اناڑی اس سے کام لیں گے تو عجب نہیں کہ وہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر ہو جائے اور جاہل لوگ جو خود نسخے کو جانچنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ نسخہ خود ہی غلط ہے۔


١-واضح رہےکہ یہ خطبہ ۱۹۳۸ء کا ہےاس کےبعد سےاب تک حالات کی بہت کچھ اصلاح ہو پھیکی ہےاور سعودی عرب کی حکومت مزید اصلاح کے لیے کوشاں ہے۔ عرب میں تعلیم بھی پھیلائی جارہی ہے ریاض مکہ اجتہ، وغیرہ شہروں میں شریعت کی تعلیم کےلیےاعلیٰ درجہ کے ادابات قائم کیےگئےہیں۔مدینہ طیبہ میں ایک جامعہ اسلامیہ نےبڑےپیمانےپر کام شروع کر دیا ہے۔مکہ معظمہ میں رابطہ اسلامیہ کےنام سےعالم اسلامی کی ایک بین الاقوامی تنظیم قائم کی گئی ہے جو پوری کوشش کر رہی ہے کہ آج کےاجتماع سے فائدہ اٹھا کر تمام مسلمان قوموں میں دینی روح پیدا کی جائے ان پہلووں سے حالات بڑی حد تک قابل اطمینان ہیں۔ اب دو امور کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔ ایک یہ کہ حرمین شریفین کی سرزمین کو مغربی تہذیب کے سیلاب سے بچایا جائے ۔ دوسرے یہ کہ معلمین کے طریق کار کی اصلاح کی جائے ۔ خدا کرے کہ سعودی حکومت اس سلسلے میں صحیح تدابیر عمل میں لائے۔

باب هفتم

باب هفتم

جہاد

جہاد کی اہمیت

جہاد

برادران اسلام، پچھلے خطبوں میں بار بار میں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔کہ یہ نماز، روزہ اور یہ حج اور زکوۃ جنھیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کیا ہے، اور اسلام کا رکن قرار دیا ہے ، یہ ساری چیزیں دوسرے مذہبوں کی عبادات کی طرح پوجاپاٹ اور نذرونیاز اور جاترا کی رسمیں نہیں ہیں کہ بس آپ ان کو ادا کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہو جائے۔ بلکہ در اصل یہ ایک بڑے مقصد کے لیے آپ کو تیار کرنے اور ایک بڑے کام کے لیے آپ کی تربیت کرنے کی خاطر فرض کی گئی ہیں۔اب چونکہ میں اس تربیت اور اس تیاری کے ڈھنگ کو کافی تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں ، اس لیےوقت آگیا ہے کہ آپ کو یہ بتایا جائے کہ وہ مقصد کیا ہے جس کےلیے یہ ساری تیاری ہے۔

اسلام کا مقصود حقیقی

مختصر الفاظ میں تو صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ وہ مقصد انسان پر سےانسان کی حکومت مٹا کر خدائے واحد کی حکومت قائم کرنا ہےاور اس مقصد کے لیےسردهر کی بازی لگا دینےاور جان توڑ کوشش کرنے کا نام جہاد ہے، اور نماز، روزہ، حج،زکوۃ سب کے سب اسی کام کی تیاری کے لیے ہیں ۔ لیکن چونکہ آپ لوگ مدتہائےدراز سے اس مقصد کو اور اس کام کو بھول چکے ہیں اور ساری عبادتیں آپ کے لیےمحض تصوف بن کر رہ گئی ہیں، اس لیےمیں سمجھتا ہوں کہ اس ذرا سے فقرے میں جو مطلب میں نے ادا کیا ہے اُسے آپ ایک معمے سے زیادہ کچھ نہ سمجھے ہوں گے۔اچھا تو آئیے اب میں آپ کے سامنے اس مقصد کی تشریح کروں ۔

خرابیوں کی اصل جڑ________ حکومت کی خرابی

دنیا میں آپ جتنی خرابیاں دیکھتےہیں اُن سب کی جڑ در اصل حکومت کی خرابی ہے۔طاقت اور دولت حکومت کےہاتھ میں ہوتی ہے۔ قانون حکومت بناتی ہےانتظام کےسارے اختیارات حکومت کے قبضہ میں ہوتےہیں۔ پولیس اور فوج کا زور حکومت کےپاس ہوتا ہے۔لہذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہےوہ یا تو خود حکومت کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہےیا اس کی مدد سےپھیلتی ہے۔کیونکہ کسی چیز کو پھیلنےکےلیےجس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہےخیال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ زنا دھڑتے سے ہو رہا ہے اور علانیہ کو ٹھوں پر یہ کاروبار جاری ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومت کے اختیارات جن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ان کی نگاہ میں زناکوئی جرم نہیں ہے۔ وہ خود اس کام کو کرتےہیں اور دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ ورنہ وہ اسے بند کرنا چاہیں تو یہ کام اس دھڑتےسےنہیں چل سکتا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سود خواری کا بازار خوب گرم ہو رہا ہےاور بالدار لوگ غریبوں کا خون پٹو سے چلے جاتے ہیں۔ یہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ حکومت خود شود کھاتی ہےاور کھانے والوں کو مدد دیتی ہے۔ اس کی عدالتیں سود خواروں کو ڈگریاں دیتی ہیں اور اس کی حمایت ہی کے بل پر یہ بڑے بڑے ساہوکارے اور بینک پھل رہے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں بیحیائی اور بداخلاقی روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہ کس لیے ؟ محض اس لیے کہ حکومت نے لوگوں کی تعلیم و تربیت کا ایسا ہی انتظام کیا ہےاور اس کو اخلاق اور انسانیت کے وہی نمونے پسند ہیں جو آپ کو نظر آر ہے ہیں۔ کسی دوسرے طرز کی تعلیم و تربیت سےآپ کسی اور نمونے کےانسان تیار کرنا چاہیں تو ذرائع کہاں سے لائیں گے ؟ اور تھوڑے بہت تیار کر بھی دیں تو وہ کھیں گے کہاں؟ رزق کےدروازے اور کھپت کےمیدان تو سارے کےسارےبگڑی ہوئی حکومت کے قبضہ میں ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بیحد و حساب خونریزی ہو رہی ہے۔ انسان کا علم اس کی تباہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انسان کی محنت کے پھل آگ کی نذر کیے جا رہے ہیں اور بیش قیمت جانیں مٹی کے ٹھیکزوں سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ مائع کی جارہی ہیں۔ یہ کس وجہ سے ؟ صرف اس وجہ سےکہ آدم کی اولاد میں جو لوگ سب سے زیادہ شہری اور با نفس تھے وہ دنیا کی قوموں کے رہنما اور اقتدار کی باگوں کے مالک ہیں ۔ قوت اُن کے ہاتھ میں ہے، اس لیے وہ دنیا کو جدھر چلا رہے ہیں اسی طرف دنیا پھل رہی ہے ۔ علم، دولت، محنت، جان ، ہر چینی کا جو مصرف انھوں نے تجویز کیا ہے اُسی میں ہر چیز صرف ہو رہی ہےآپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف ظلم ہو رہا ہے ، کمزور کے لیے کہیں انصاف نہیں ، غریب کی زندگی دشوار ہے، عدالتیں بنیےکی دوکان بنی ہوئی ہیں جہاں سے صرف روپے کے عوض ہی انصاف خریدا جا سکتا ہے، لوگوں سے بے حساب ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور افسروں کی شاہانہ تنخواہوں پر بڑی بڑی عمارتوں پر، لڑائی کے گولہ بارود پر اور ایسی ہی دوسری فضول خرچیوں پر اڑا دیےجاتے ہیں۔ساہو کا لہ، نہ بلیندار،راجہ اور رئیں،خطاب یافتہ اور خطاب کےامیدوار عمادین،گدی نشین پیر اور مہنت،سینما کمپنیوں کے مالک، شراب کے تاجر، فحش کتا بیں اور رسالے شائع کرنے والے،جوئے کا کاربار چلانے والے اور ایسےہی بہت سے لوگ خلق خدا کی جان، مال، عزت، اخلاق، ہر چیز کو تباہ کر رہےہیں اور کوئی اُن کو روکنےوالا نہیں۔یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ صرف اس لیےکہ حکومت کی کل بگڑی ہوئی ہے۔ طاقت جن ہاتھوں میں ہے وہ خراب ہیں۔ وہ خود بھی ظلم کرتے ہیں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔ اور جو ظلم بھی ہوتا ہے اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اس کے ہونے کے خواہشمند یا کم از کم روادار ہیں ۔

ان مثالوں سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔ لوگوں کے خیالات کا گمراہ ہونا ، اخلاق کا بگڑنا ، انسانی قوتوں اور قابلیتوں کا غلط راستوں میں صرف ہوتا ، کاروبار اور معاملات کی غلط صورتوں اور زندگی کےمیرے طور طریق کا رواج پانا ، ظلم و ستم اور بد افعالیوں کا پھیلنا اور خلق خدا کا تمام برای پیر سب کچھ نتیجہ ہے اس ایک بات کا کہ اختیارات اور اقتدار کی کنجیاں غلط ہاتھوں میں ہیں۔ظاہر ہےکہ جب طاقت بگڑے ہوئے لوگوں کےہاتھوں میں ہو گی اور جب خلق خدا کا رزق انہی کے تصرف میں ہو گا تو وہ نہ صرف خود بگاڑ کو پھیلائیں گے بلکہ بگاڑ کی ہر صورت ان کی مدد اور حمایت سے پھیلے گی اور جب تک اختیارات اُن کے قبضہ میں رہیں گے ، کسی چیز کی اصلاح نہ ہو سکے گی۔

اصلاح کے لیے پہلا قدم _________ اصلاح حکومت

یہ بات جب آپ کے ذہن نشین ہو گئی تو یہ سمجھنا آپ کے لیے آسان ہے کہ خلق خدا کی اصلاح کرنے اور لوگوں کو تباہی کے راستوں سے بچا کر فلاح اور سعادت کےراستےپر لانےکےلیے اس کےسوا کوئی چارہ نہیں ہےکہ حکومت کے بگاڑ کو درست کیا جائے۔ معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جہاں لوگوں کو زنا کی آزادی حاصل ہو، وہاں زنا کے خلاف خواہ کتنا ہی وعظ کیا جائے نہ نا کا بند ہونا محال ہے۔ لیکن اگر حکومت کے اختیارات پر قبضہ کر کےزبر دستی زنا کو بند کر دیا جائےتو لوگ خود بخود حرام کےراستےکو چھوڑ کر حلال کا راستہ اختیار کر لیں گے شراب،جوا، شود، رشوت، فحش تماشے، بے حیائی کے لباس، بد اخلاق بنانے والی تعلیم، اور ایسی ہی دوسری چیزیں اگر آپ وعظوں سے دُور کرنا چاہیں تو کامیابی ناممکن ہے البتہ حکومت کے زور سے یہ سب بلائیں دور کی جا سکتی ہیں۔ جو لوگ خلق خدا کو ٹوٹتےاور اخلاق کو تباہ کرتے ہیں، اُن کو آپ محض پند و نصیحت سے چاہیں کہ اپنے فائدوں سے ہاتھ دھو لیں تو یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ ہاں اقتدار ہاتھ میں لے کر آپ بزور اُن کی شرارتوں کا خاتمہ کر دیں تو ان ساری خرابیوں کا انسداد ہو سکتا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ بندگان خدا کی محنت، دولت، ذہانت و قابلیت غلط راستوں میں ضائع ہونے سےبچے اور صحیح راستوں میں صرف ہو، اگر آپ چاہیں کہ ظلم مئے اور انصاف ہو، اگر آپ چاہیں کہ زمین میں فساد نہ ہو، انسان انسان کا خون نہ پٹو سے نہ بہائے ، دبے اور گےہوئے انسان اٹھائے جائیں اور تمام انسانوں کو یکساں عرقت، امن ، خوش حالی اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں ، تو محض تبلیغ و تلقین کے زور سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ البتہ حکومت کا دور آپ کے پاس ہو تو یہ سب کچھ ہونا ممکن ہے۔ پس یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے جس کو سمجھنے کے لیے کچھ بہت زیادہ غور و فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ اصلاح خلق کی کوئی اسکیم بھی حکومت کے اختیارات پر قبضہ کیے بغیر نہیں چل سکتی ۔ جو کوئی حقیقت میں خدا کی زمین سے فتنہ و فساد کو مٹانا چاہتا ہو اور واقعی یہ چاہتا ہو کہ خلق خدا کی اصلاح ہو تو اس کے لیے محض واعظ اور ناصح بن کر کام کرنا فضولی ہے۔ اسے اٹھنا چاہیے اور غلط اصول کی حکومت کا خاتمہ کر کے غلط کار لوگوں کےہاتھ سے اقتدار چھین کر صحیح اصول اور صحیح طریقے کی حکومت قائم کرنی چاہیے۔

حکومت کی خرابی کی بنیاد انسان پر انسان کی حکمرانی

یہ نکتہ سمجھ لینے کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھیے۔آپ کو یہ تو معلوم ہو گیا کہ بندگان خدا کی زندگی میں جو خرابیاں پھیلتی ہیں اُن کی جڑ حکومت کی خرابی ہے، اور اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اس جڑ کی اصلاح کی جائے ۔ مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود حکومت کی خوابی کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس خرابی کی جڑ کہاں ہے؟ اور اس میں کون سی بنیادی اصلاح کی بجائے کہ وہ برائیاں پیدا نہ ہوں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جڑ در اصل انسان پر انسان کی حکومت ہے اور اصلاح کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہےکہ انسان پر خدا کی حکومت ہو۔اتنےبڑےسوال کا اتنا مختصر سا جواب سن کر آپ تعجب نہ کریں،اس سوال کی تحقیق میں جتنا کھوچ آپ لگائیں گے یہی جواب آپ کو ملے گا۔

ذرا غور تو کیجیے، یہ زمین جس پر آپ رہتے ہیں یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے یا کسی اور کی ؟ یہ انسان جو زمین پر بسنتے ہیں ان کو خدا نے پیدا کیا ہے یا کسی اور نے ؟ یہ بیشمار اسباب زندگی جن کے بل پر سب انسان جی رہے ہیں انھیں خدا نے مہیا کیا ہے یا کسی اور نے ؟ اگر ان سب سوالات کا جواب یہی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں کہ زمین اور انسان اور یہ تمام سامان خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ملک خدا کا ہے ، دولت خدا کی ہے اور رعیت بھی خدا کی ہے ۔ پھر جب معاملہ یہ ہے تو آخر کوئی اس کا حقدار کیسے ہو گیا کہ خدا کے ملک میں اپنا حکم چلائے؟ آخر یہ کسی طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ خدا کی رعیت پر خدا کے سوا کسی دوسرے کا قانون با خود رعیت کا اپنا بنا یا ہوا قانون جاری ہو؟ ملک کسی کا ہو اور حکم دوسرے کا چلے۔ملکیت کسی کی ہو اور بالک کوئی دوسرا بن جائے ، رعیت کسی کی ہو اور اس پر فرمانروائی دوسرا کرے ، یہ بات آپ کی عقل کیسے قبول کر سکتی ہے ؟ ایسا ہوتا تو صریح حقی کےخلاف ہے۔ اور چونکہ یہ حق کے خلاف ہے اس لیے جہاں کہیں اور جب کبھی ایسا ہوتا ہے نتیجہ بڑا ہی نکلتا ہے۔ جن انسانوں کے ہاتھ میں قانون بنانے اور حکم چلانے کےاختیارات آتےہیں وہ کچھ تو اپنی جہالت کی وجہ سےمجبورا غلطیاں کرتے ہیں،اور کچھ اپنی نفسانی خواہشات کی وجہ سے قصدا ظلم اور بے انصافی کا ارتکاب کرنےلگتے ہیں۔ کیونکہ اول تو ان کے پاس اتنا علم نہیں ہوتا کہ انسانی معاملات کو چلانے کےلیے صحیح قاعدے اور قانون بنا سکیں، اور پھر اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہےکہ خدا کے خوف اور خدا کے سامنے جواب دہی سے غافل ہو کر لا محالہ وہ شتر بے مہار بن جاتے ہیں۔ ذراسی عقل اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ جو انسان خدا سےبے خوف ہو، جسے یہ فکر ہو ہی نہیں کہ کسی کو حساب دینا ہے ، جو اپنی جگہ یہ سمجھ رہا ہو کہ اوپر کوئی نہیں جو مجھ سے پوچھ کچھ کرنے والا ہو، وہ طاقت اور اختیارات پاکر شتر بے مہار نہ بنے گا تو اور کیا بنے گا؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے شخص کے ہاتھ میں جب لوگوں کے رزق کی کنجیاں ہوں، جب لوگوں کی جانیں اور ان کے مال اس کی مٹھی میں ہوں ، جب ہزاروں لاکھوں سر اس کے حکم کے آگے ٹھیک رہے ہوں، تو کیا وہ راستی اور انصاف پر قائم رہ جائے گا ؟ کیا آپ توقع کرتے ہیں کہ وہ خزانوں کا امین ثابت ہو گا ؟ کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ وہ حق مارنے احرام کھانے اور بندگان خدا کو اپنا خواہ است کا غلام بنانےسےباز رہے گا؟ کیا آپ کےنزدیک یہ ممکن ہے کہ ایسا شخص خود بھی سیدھے راستے پر چلے اور دوسروں کو بھی سیدھا چلائے ؟ ہرگز نہیں، ہرگز ہرگز نہیں ، ایسا ہونا عقل کے خلاف ہے ، ہزار ہا برس کا تجربہ اس کے خلاف شہادت دیتا ہے، آج اپنی آنکھوں سے آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ خدا سے بے خوف اور آخرت کی جواب دہی سے غافل ہیں وہ اختیارات پاکر کس قدر ظالم بھائی ، اور بد راہ ہو جاتے ہیں۔

اصلاح کی بنیاد________ انسان پر خدا کی حکومت ہو

لہذا حکومت کی بنیاد میں جس اصلاح کی ضرورت ہے ،وہ یہ ہے کہ انسان پر انسان کی حکومت نہ ہو بلکہ خدا کی حکومت ہو۔اس حکومت کو چلانےوالےخود مالک الملک نہ نہیں بلکہ خدا کو بادشاہ تسلیم کر کےاس کےنائب اور امین کی حیثیت سے کام کریں اور یہ سمجھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں کہ آخر کار اس امانت کا حساب اُس بادشاہ کو دینا ہے جو کھلےاور چھپےکا جاننےوالا ہے ۔ قانون اُس خدا کی ہدایت پر مبنی. ہو جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہےاور دانائی کا سرچشمه ہےاس قانون کو بدلنےیا اس میں ترمیم و تنسیخ کرنےکے اختیارات کسی کو نہ ہوں، تاکہ وہ انسانوں کی جہالت یا خود فرضی اور ناروانخو اہشات کے دخل پاجانے سے بگڑ نہ جائے۔

یہی وہ بنیادی اصلاح ہے جس کو اسلام بھاری کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ خدا کو اپنا بادشاہ رمحض خیالی نہیں بلکہ واقعی بادشاہ تسلیم کر لیں اور اُس قانون پر جو خدا نےاپنے نبی کے ذریعےسےبھیجا ہے،ایمان لےآئیں،اُن سےاسلام یہ مطالبہ کرتا ہےکہ وہ اپنے بادشاہ کےملک میں اُس کا قانون مباری کرنے کے لیے اٹھیں،اس کی رعیت میں سے جو لوگ باغی ہو گئےہیں اور خود مالک الملک بن بیٹھےہیں اُن کازور توڑدیں اور اللہ کی رعیت کو دوسروں کی رعیت بننے سے بچائیں ۔ اسلام کی نگاہ میں یہ بات ہرگز کافی نہیں ہے کہ تم نے خدا کو خدا اور اس کے قانون کو قانون برحق مان لیا ۔ نہیں اس کو ماننے کے ساتھ ہی آپ سے آپ یہ فرض تم پر عائد ہو جاتا ہےکہ یہاں بھی تم ہو، جس سرزمین میں بھی تمھاری سکونت ہو وہاں خلق خدا کی اصلاح کےلیے اٹھو، حکومت کے غلط اصول کو صحیح اصول سے بدلنے کی کوشش کرو، ناخدا ترس اور شتر بے مہار قسم کے لوگوں سے قانون سازی اور فرماں روائی کا اقتدار چھین لو،اور جو بندگان خدا کی راهنمائی و سربراہ کاری اپنےہاتھ میں لےکر خدا کےقانون کے مطابق، آخرت کی ذمہ داری و جوابدہ ہی کا اور خدا کےعالم الغیب ہونےکا یقین رکھتے ہوئے حکومت کے معاملات انجام دو۔ اسی کوشش اور اسی جدوجہد کا نام جہاد ہے۔

حکومت ایک کٹھن راستہ

لیکن حکومت اور فرماں روائی جیسی بدبلا ہےہر شخص اُس کو جانتا ہےاس کےحاصل ہونےکا خیال آتے ہی انسان کےاندر لالچ کے طوفان اٹھنےلگتےہیں خوابتا اےنفسانی یہ چاہتی ہیں کہ زمین کے خزانے اور خلق خدا کی گرد میں اپنے ہاتھ میں آئیں تو دل کھول کر خدائی کی جائے۔ حکومت کے اختیارات پر قبضہ کر لینا اتنا مشکل نہیں جتنا ان اختیارات کے ہاتھ میں آجانے کے بعد خدا بننے سے بچنا اور بنده خدا بن کر کام کرنا مشکل ہے،پھر بھلا فائدہ ہی کیا ہوا اگر فرعون کو مٹا کر تم خود فرعون بن گئے؟ لہذا اس شدید آزمائش کے کام کی طرف بلانے سے پہلے اسلام تم کو اس کے لیے تیار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ تم کو حکومت کا دھونی لے کر اٹھنے اور دنیا سے لڑنے کا حق اُس وقت تک ہرگز نہیں پہنچتا جب تک تمھارے دل سےخود غرضی اور نفسانیت نہ نکل جائےجب تک تم میں اتنی پاک نفسی پیدا نہ ہو جائے کہ تمھاری لڑائی اپنی ذاتی یا قومی اغراض کے لیے نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی رضا اور خلق اللہ کی اصلاح کےلیے ہو۔ اور جب تک تم میں یہ صلاحیت مستحکم نہ ہو جائے کہ حکومت بہا کر تم اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو بلکہ خدا کے قانون کی پیروی پر ثابت قدیم رہ سکو محض یہ بات کہ تم کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئےہو ، تمھیں اس کا مستقتی نہیں بنا دیتی کہ اسلام تمھیں تعلق خدا پر ٹوٹ پڑنےکا حکم دے دے، اور پھر تم خدا اور رسول کا نام لے لے کر وہی سب حرکتیں کرنے لگو جو خدا کے باغی اور ظالم لوگ کرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ انتی بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے تم کو حکم دیا جائے ، اسلام یہ ضروری سمجھتا ہے کہ تم میں وہ طاقت پیدا کی جائے جس سے تم اس بو مجھ کو سہار سکو ۔

عبادات _____ ایک تربیتی کورس ہیں

یہ نمازہ اور روزہ اور یہ زکواۃ اور حج در اصل اسی تیاری اور تربیت کےلیےہیں جس طرح تمام دنیا کی سلطنتیں اپنی فوج ،پولیس اور سول سروس کے لیےآدمیوں کو پہلےخاص قسم کی ٹرینینگ دیتی ہیں پھر ان سے کام لیتی ہیں،اسی طرح اللہ کا دین (اسلام)بھی ان تمام آدمیوں کو اجوہ اس کی ملازمت میں بھرتی ہوں،پہلےخاص طریقےسےتربیت دیتا ہےپھر ان سےجہاد اور حکومت الہی کی خدمت لینا چاہتا ہےفرق یہ ہےکہ دنیا کی سلطنتوں کو اپنےآدمیوں سےجو کام لینا ہوتا ہےاُس میں اخلاق اور نیک نفسی اور بعدا ترسی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے وہ انھیں صرف کا ررواں بنانےکی کوشش کرتی ہیں،خواہ وہ کیسے ہی زانی، شرابی،بے ایمان اور بد نفس ہوں۔ مگر دین الہی کو جو کام اپنے آدمیوں سے لیتا ہے وہ چونکہ سارا کا سارا ہے ہی اخلاقی کام اس لیے وہ انھیں کاررواں بنانےسےزیادہ اہم اس بات کو سمجھتا ہےکہ انھیں خدا ترس اور نیک نفس بنائے۔ وہ ان میں اتنی طاقت پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جب وہ زمین میں خدا کی خلافت قائم کرنے کا دعولی لے کر اٹھیں تو اپنے دعوے کو سچا کہ کے دکھا سکیں۔ وہ لڑیں تو اس لیے نہ لڑیں کہ انھیں خود اپنے واسطے مال و دوست اور زمین درکار ہے ، بلکہ ان کے عمل سے ثابت ہو جائے کہ ان کی لڑائی خالص خدا کی رضا کے لیے اور اس کے بندوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے وہ فتح پائیں تو متکبر و سرکش نہ ہوں بلکہ ان کے سر خدا کے آگے مجھکے ہوئے رہیں ۔ وہ حاکم بنیں تو لوگوں کو اپنا غلام نہ بنائیں بلکہ خود بھی خدا کے غلام بن کر رہیں اور دوسروں کو بھی خدا کے سوا کسی کا غلام نہ رہنے دیں ۔ وہ زمین کے خزانوں پر قابض ہوں تو اپنی یا اپنےخاندان والوں یا اپنی قوم کے لوگوں کی جیبیں نہ بھر نے لگیں، بلکہ خدا کے رزق کو اس کے بندوں پر انصاف کے ساتھ تقسیم کریں اور ایک سچے امانتدار کی طرح یہ سمجھتےہوئے کام کریں کہ کوئی آنکھ ہمیں ہر حال میں دیکھ رہی ہے اور اوپر کوئی ہے جیسے ہم کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ہےاس تربیت کےلیے ان عبادتوں کے سوا اور کوئی دوسرا طریقہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اور جب اسلام اس طرح اپنے آدمیوں کو تیار کر لیتا ہےتب وہ ان سےکہتا ہے کہ ہاں ، اب تم روئے زمین پر خدا کےسب سےزیادہ صالح بندے ہو، لہذا آگے بڑھو، لڑ کر خدا کے باغیوں کو حکومت سے بیدخل کر دو اور خلافت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لو۔

كنم خير امة أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُونِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ ط (آل عمران : ١١٠)

" دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جیسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کےلیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بلدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو"-

خداشناس حکومت کی برکات

آپ سمجھ سکتےہیں کہ جہاں فوج، پولیس،عدالت،جیل، تحصیلداری، ٹیکسی کلکڑی اور تمام دوسرے سرکاری کام ایسے اہلکاروں اور عہدہ داروں کے ہاتھ میں ہوں جو سب کے سب خدا سے ڈرنے والے اور آخرت کی جوابدهی کا خیال رکھنےوالےہوں، اور جہاں حکومت کے سارے قاعدے اور سارے ضابطے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر قائم ہوں، ہمیں میں بے انصافی اور نادانی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے،اور جہاں بری و بدکاری کی ہر صورت کا بر وقت تدارک کر دیا جائے اور نیکی و نیکو کاری کی ہر بات کو حکومت اپنے روپے اور اپنی طاقت سے پروان چڑھانے کے لیے متعدد ہے ، ایسی جگہ خلق خدا کی بہتری کا کیا حال ہو گا۔ پھر آپ ذرا غور کریں تو یہ بات بھی آسانی کے ساتھ آپ کی سمجھ میں آجائے گی کہ ایسی حکومت جب کچھ مدت تک کام کر کے لوگوں کی بگڑی ہوئی عادتوں کو درست کر دے گی جب وہ حرام خوری بل کاری، ظلم، بے حیائی اور بڑا اخلاقی کے سارے رستے بند کر دے گی ، جب وہ غلط قسم کی تعلیم و تربیت کا انسداد کر کے صحیح تعلیم و تربیت سے لوگوں کے خیالات ٹھیک کر دے گی، اور جب اس کے ماتحت عدل و انصاف، امن و امان اور نیک اطواری و خوش اخلاقی کی پاک صاف فضا میں لوگوں کو زندگی بسر کرنے کا موقع ملے گا ، تو وہ آنکھیں جو بد کار اور ناخدا ترس لوگوں کی سرداری میں مدت ہائے دراز تک رہنے کی وجہ سے اندھی ہو گئی تھیں، رفتہ رفتہ خود ہی حق کو دیکھنے اور پہچاننے کے قابل ہو جائیں گی۔ وہ دل جن پر صدیوں تک بد اخلاقیوں کے درمیان گھرے رہنے کی وجہ سےزنگ کی تہیں چڑھ گئی تھیں، آہستہ آہستہ خود ہی آئینے کی طرح صاف ہوتے چلے جائیں گے اور ان میں سچائی کا عکس قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔ اُس وقت لوگوں کے لیے اس سیدھی سی بات کا سمجھنا اور مان لینا کچھ بھی مشکل نہ رہے گا کہ حقیقت میں اللہ ہی اُن کا خدا ہے اور اُس کے سوا کوئی اس کا مستحق نہیں کہ وہ اس کی بندگی کریں اور یہ کہ واقعی وہ پیغمبر سچے تھے جن کے ذریعے سے ایسے صحیح قوانین ہم کو ملے ۔ آج جس بات کو لوگوں کے دماغ میں اُتارنا سخت مشکل نظر آتا ہے، اس وقت وہ بات خود دماغوں میں اُترنے لگے گی۔ آج تقریروں اور کتابوں کے ذریعہ سے جس بات کو نہیں سمجھایا جا سکتا اُس وقت وہ ایسی آسانی سے سمجھ میں آئے گی کہ گویا اس میں کوئی پیچیدگی تھی ہی نہیں۔ جو لوگ اپنی آنکھوں سے اس فرق کو دیکھ لیں گے کہ انسان کے خود گھڑے ہوئے طریقوں پر دنیا کا کاروبار چلتا ہے تو کیا حال ہوتا ہے اور خدا کے بتائے ہوئے طریقوں پر اسی دنیا کے کام چلائے جاتے ہیں تب کیا کیفیت ہوتی ہے۔ ان کےلیے خدا کی توحید اور اس کے پیغمبر کی صداقت پر ایمان لانا آسان اور ایمان نہ لانا مشکل ہو جائے گا۔ بالکل اُسی طرح جیسے پھول اور کانٹوں کا فرق محسوس کر لینے کے بعد پھول کا انتخاب کرنا آسان اور کانٹوں کا پھٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اُس وقت اسلام کی سچائی سے انکار کرنے اور کفر و شرک پر اڑے رہنے کے لیے بہت ہی زیادہ ہٹ دھرمی کی ضرورت ہوگی اور مشکل سے ہزار میں دس پانچ ہی آدمی ایسے نکلیں گے، جن میں زیادہ ہٹ دھرمی موجود ہو-

بھائیو اب مجھے امید ہے کہ تم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہو گا کہ یہ نماز اور روزہ اور یر حج اور زکوۃ کس غرض کےلیےہیں۔ تم اب تک یہ سمجھے رہے ہو اور مدتوں سےتم کو اس غلط فہمی میں مبتلا رکھا گیا ہے کہ یہ عبادتیں محض پوجا پاٹ قسم کی چیزیں ہیں۔ تمھیں یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ یہ ایک بڑی خدمت کی تیاری کے لیے ہیں۔ اسی وجہ سے تم بغیر کسی مقصد کے ان رسموں کو ادا کرتے رہے اور اس کام کے لیے کبھی تیار ہونے کا خیال تک تمھارے دلوں میں نہ آیا جس کے لیے در اصل انھیں مقرر کیا گیا تھا۔ مگر اب میں تمھیں بتاتا ہوں کہ جس دل میں جہاد کی نیت نہ ہو اور جس کے پیش نظر جہاد کا مقصد نہ ہو اس کی ساری عبادتیں بے معنی ہیں ۔ ان بے معنی عبادت گزاریوں سے اگر تم گمان رکھتے ہو کہ خدا کا تقرب نصیب ہوتا ہے تو خدا کے ہاں بجا کر تم خود دیکھ لو گے کہ انھوں نے تم کو اس سے کتنا قریب کیا۔

جہاد کی اہمیت

برادران اسلام نے اس سے پہلے ایک مرتبہ میں آپ کو دین اور شریعت اور عبادت کے معنی بتا چکا ہوں ۔ اب ذرا پھر اس مضمون کو اپنے دماغ میں تازہ کر لیجیے-

دین کے معنی اطاعت کے ہیں۔

شریعت قانون کو کہتے ہیں۔

عبادت سے مراد بندگی ہے۔

دین کے معنی

جب آپ کسی کی اطاعت میں داخل ہوئے اور اس کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا تو گویا آپ نے اس کا دین قبول کیا۔ پھر جب وہ آپ کا حاکم ہوا اور آپ اُس کی رعایا بن گئے تو اس کے احکام اور اس کے مقرر کیے ہوئے ضابطے آپ کے لیے قانون یا شریعت ہوں گے اور جب آپ اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں گے ، جو کچھ وہ طلب کرے گا حاضر کر دیں گے ، جس بات کا وہ حکم دے گا اسے بجا لائیں گے جن کاموں سے منع کرے گا اُن سے رُک جائیں گے،جن حدود کے اندر رہ کر کام کرنا وہ آپ کے لیے جائز ٹھیرائے گا اپنی حدود کےاندر آپ رہیں گے، اور اپنے آپس کے تعلقات و معاملات اور مقدموں اور قضیوں میں اُسی کی ہدایات پر چلیں گے اور اسی کے فیصلہ پر سر جھکا ئیں گے تو آپ کے اس رویہ کا نام بندگی یا عبادت ہوگا۔

اس تشریح سےیہ بات صاف ہو جاتی ہےکہ دین در اصل حکومت کا نام ہے۔شریعت اس حکومت کا قانون ہے اور عبادت اس کے قانون اور ضابطہ کی پابندی ہےآپ جس کسی کو حاکم مان کر اس کی محکومی قبول کرتے ہیں، دراصل آپ اُس کےدین میں داخل ہوتےہیں۔اگر آپ کا وہ حاکم اللہ ہےتو آپ دین اللہ میں داخل ہوئے، اگر وہ کوئی بادشاہ ہے تو آپ دین بادشاہ میں داخل ہوئے،اگر وہ کوئی خاص قوم ہے تو آپ اُسی قوم کے دین میں داخل ہوئے، اور اگر وہ خود آپ کی اپنی قوم یا آپ کےوطن کے جمہور ہیں تو آپ دین جمہور میں داخل ہوئے۔ غرض جس کی اطاعت کا قلادہ آپ کی گردن میں ہے فی الواقع اُسی کے دین میں آپ ہیں، اور میں کے قانون پر آپ عمل کر رہے ہیں در اصل اُسی کی عبادت کر رہے ہیں ۔

انسان کے دو دین نہیں ہو سکتے

یہ بات جب آپ نے سمجھ لی تو بغیر کسی وقت کے یہ سیدھی سی بات بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کے دو دین کسی طرح نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ مختلف حکمرانوں میں سے بہر حال ایک ہی کی اطاعت آپ کر سکتے ہیں۔ مختلف قانونوں میں سے پہر حال ایک ہی قانون آپ کی زندگی کا منابطہ بن سکتا ہے۔ اور مختلف معبودوں میں سےایک ہی کی عبادت کرنا آپ کے لیے ممکن ہے۔ آپ کہیں گے کہ ایک صورت یہ بھی تو ہو سکتی ہے کہ عقیدے میں ہم ایک کو حاکم مانیں اور واقعہ میں اطاعت دوسرےکی کریں ، پوجا اور پرستش ایک کے آگے کریں اور بندگی دوسرے کی بجالائیں، اپنےدل میں عقیدہ ایک قانون پر رکھیں اور واقعہ میں ہماری زندگی کے سارے معاملات دوسرے قانون کے مطابق چلتے رہیں ۔ یہی اس کے جواب میں عرض کروں گا، بیشک یہ ہو تو سکتا ہے، اور سکتا کیا معنی ہو ہی رہا ہے ، مگر یہ ہے شرک۔ اور یہ شرک سر سے پاؤں تک جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ حقیقت میں تو آپ اُسی کے دین پر ہیں جس کی اطاعت واقعی آپ کو رہے ہیں۔ پھر یہ جھوٹ نہیں تو کیا ہے کہ جس کی اطاعت آپ نہیں کر رہے ہیں اُس کو اپنا حاکم اور اُس کے دین کو اپنا دین کہیں ؟اور اگر زبان سے آپ کہتے بھی ہیں یا دل میں ایسا سمجھتے بھی ہیں تو اس کا فائدہ اور اثر کیا ہے؟ آپ کا یہ کہنا کہ ہم اس کی شریعت پر ایمان لاتے ہیں بالکل ہی بے معنی ہےجبکہ آپ کی زندگی کے معاملات اس کی شریعت کے دائرے سے نکل گئے ہوں اور کسی دوسری شریعت پر چل رہے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ ہم فلاں کو معبود مانتے ہیں اور آپ کا اپنے ان سروں کو جو گردنوں پر رکھے ہوئے ہیں ، سجدے میں اس کے آگےزمین پر ٹیک دینا ، بالکل ایک مصنوعی فعل بن کر رہ جاتا ہے جبکہ آپ واقع میں بندگی دوسرے کی کر رہے ہوں۔ حقیقت میں آپ کا معبود تو وہ ہے اور آپ دراصل عبادت اسی کی کر رہے ہیں جس کےحکم کی آپ تعمیل کرتے ہیں۔ جس کےمنع کرنےسےآپ رُکتے ہیں، جس کی قائم کی ہوئی حدود کےاندر رہ کر آپ کام کرتے ہیں ہیں کے مقرر کیے ہوئے طریقوں پر آپ چلتے ہیں، جس کے ضابطے کے مطابق آپ دوسری کا مال لیتے اور اپنا مال دوسروں کو دیتےہیں ، جس کےفیصلوں کی طرف آپ اپنے معاملہ میں رجوع کرتے ہیں، جس کی شریعت پر آپ کے باہمی تعلقات کی تعظیم اور آپ کےدرمیان حقوق کی تقسیم ہوتی ہے۔ اور جس کی طلبی پر آپ اپنے دل و دماغ اور ہاتھ پاؤں کی ساری قوتیں ، اور اپنے کمائے ہوئے مال اور آخر کار اپنی جانیں تک پیش کر دیتے ہیں۔ پس اگر آپ کا عقیدہ کچھ ہو اور واقعہ اس کے خلاف ہو، تو اصل چیز واقعہ ہی ہوگا ، عقیدے کے لیےاس صورت میں سرےسے کوئی جگہ نہ ہو گی، نہ ایسےعقیدے کا کوئی وزن ہی ہوگا اگر واقعہ میں آپ دین بادشاہ پر ہوں تو اس میں دین اللہ کے لیےکوئی جگہ نہ ہوگی، اگر واقعہ میں آپ دین جمہور پر ہوں یا دین انگریز یا دین جرمن یا دین ملک و وطن پر ہوں تو اس میں بھی دین اللہ کے لیے کوئی جگہ نہ ہو گی اور اگر فی الواقعہ آپ دین اللہ پر ہوں تو اسی طرح اس میں بھی کسی دوسرےدین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ بہر حال یہ خوب سمجھ لیجیے کہ شرک جہاں بھی ہو گا جھوٹ ہی ہوگا۔

ہر دین اقتدار چاہتا ہے

یہ نکتہ بھی جب آپ کےذہن نشین ہو گیا تو بغیر کسی لمبی چوڑی بحث کے آپ کا دماغ خود اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ دین خواہ کوئی سا بھی ہو، لامحالہ اپنی حکومت چاہتا ہے دینِ جمهوری ہو یا دین بادشاہی، دین اشتراکی ہو یا دینِ الہی،یا کوئی اور دین،بہر حال ہر دین کو اپنے قیام کے لیے خود اپنی حکومت کی ضرورت ہوتی ہے حکومت کے بغیر دین بالکل ایسا ہے جیسے ایک عمارت کا نقشہ آپ کے دماغ میں ہوں، مگر عمارت زمین پر موجود نہ ہو۔ ایسے دماغی نقشے کے ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے جبکہ آپ رہیں گئے اس عمارت میں جو فی الواقع موجود ہوگی ؟ اُسی کے دروازے ہیں آپ داخل ہوں گے اور اسی کے دروازے سے نکلیں گے۔اُسی کی ہمت اور اسی کی دیواروں کا سایہ آپ پر ہو گا۔اُسی کےنقشےپر آپ کو اپنی سکونت کا سارا انتظام کرنا ہوگا۔پھر بھلا ایک نقشہ کی عمارت میں رہتے ہوئے آپ کا کسی دوسرے طرز یا دوسرےنقشے کی عمارت اپنے ذہن میں رکھنا ، یا اس کا محض معتقد ہو جانا آخر معنی ہی کیا رکھتا ہے؟ وہ خیالی عمارت تو محض آپ کے ذہن میں ہوگی مگر آپ خود اس واقعی عمارت کے اندر ہوں گے جو زمین پر بنی ہوئی ہے۔ عمارت کا لفظ دماغ والی عمارت کے لیے تو کوئی بولتا نہیں ہے، نہ ایسی عمارت میں کوئی رہ سکتا ہے۔ عمارت تو کہتےہی اس کو ہیں اور آدمی رہ اسی عمارت میں سکتا ہے جس کی بنیادیں زمین میں ہوں اور جس کی چھت اور دیواریں زمین پر قائم ہوں ۔ بالکل اسی مثال کےمطابق کسی دین کےحق ہونے کا محض اعتقاد کوئی معنی نہیں رکھتا، اور ایسا اعتقاد لا حاصل ہےجبکہ لوگ عملاً ایک دوسرےدین میں زندگی بسر کر رہےہوں۔جس طرح خیالی نقشےکا نام عمارت نہیں ہے اسی طرح خیالی دین کا نام بھی دین نہیں ہے۔ اور خیالی عمارت کی طرح کوئی شخص خیالی دین میں بھی نہیں رہ سکتا۔ دین وہی ہے جس کا اقتدار زمین پر قائم ہو، جس کا قانون پہلے جس کے ضابطے پر زندگی کے معاملات کا انتظام ہو۔ لہذا ہردین مین اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے اپنی حکومت کا تقاضا کرتا ہے، اور دین ہوتا ہی اسی لیے ہے کہ جس اقتدار کو وہ تسلیم کرنا چاہتا ہے اسی کی عبادت اور بندگی ہو اور اسی کی شریعت نافذ ہو۔

چند مثالیں

مثال کے طور پر دیکھیے :

دین جمهوری

دین جمہوری کا کیا مفہوم ہے ؟ یہی ناکہ ایک ملک کےعام لوگ خود اپنے اقتدار کے مالک ہوں، ان پر خود انہی کی بنائی ہوئی شریعت پہلےاور ملک کے سب باشند ہےاپنے جمہوری اقتدار کی اطاعت و بندگی کریں ۔ بتائیے یہ دین کیوں کہ قائم ہو سکتا ہےجب تک کہ ملک کا قبضہ واقعی جمہوری اقتدار کو حاصل نہ ہو جائےاور جمہوری شریعت نافذ نہ ہونےلگے؟ اگر جمہور کےبجائےکسی قوم کا یا کسی بادشاہ کا اقتدار ملک میں قائم ہو اور اسی کی شریعت چلے تو دین جمہوری کہاں رہا ؟ کوئی شخص دین جمہوری پر اعتقاد رکھتا ہو تو رکھا کرے، جب تک بادشاہ کا یا غیر قوم کا دین قائم ہے ، دین جمہوری کی پیروی تو وہ نہیں کر سکتا۔

دین ملوکیت

دین پادشاہی کو لیجیے۔ یہ دین جس بادشاہ کو بھی معا کی اعلیٰ قرار دیتا ہے اسی لیےتو قرار دیتا ہے کہ اطاعت اُس کی ہو اور شریعت اُس کی نافذ ہو۔اگر یہی بات نہ ہوئی تو بادشاہ کو بادشاہ ماننے اور اُسےحاکم اعلیٰ تسلیم کرنےکےمعنی ہی کیا ہوئے؟دین جمہور سپل پڑا ہو یا کسی دوسری قوم کی حکومت قائم ہو گئی ہو تو دین بادشاہی رہا کب کہ کوئی اس کی پیروی کر سکے۔

دین فرنگ

دُور نہ جائیے اسی دین انگریز کو دیکھ لیجے جو اس وقت ہندوستان کا دین ہے_١ یہ دین اسی وجہ سے تو چل رہا ہے کہ تعزیرات ہند اور ضابطہ دیوانی انگریزی طاقت سے نافذ ہے ۔ آپ کی زندگی کے سارے کا روبارہ انگریز کے مقرر کردہ طریقے پر اس کی لگائی ہوئی سعد بندیوں کے اندر انجام پاتے ہیں ، اور آپ سب اسی کے محکم کے آگے سر اطاعت مجھکا رہے ہیں۔ جب تک یہ دین اس قوت کے ساتھ قائم ہے،آپ خواہ کسی دین کے معتقد ہوں، بہر حال اُس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے لیکن اگر تعزیرات ہند اور ضابطہ دیوانی چلنا بند ہو جائے اور انگریز کے حکم کی اطاعت بندگی نہ ہو تو بتائیے کہ دین انگریز کا کیا مفہوم باقی رہ جاتا ہے ؟


١- یاد رہے کہ یہ خطبات ٣٩- ١٩٣٨ کے ہیں جبکہ ہندوستان انگریزوں کے زیر حکومت تھا۔

دین اسلام

ایسا ہی معاملہ دین اسلام کا بھی ہےاس دین کی بنا یہ ہےکہ زمین کا مالک اور انسانوں کا بادشاہ صرف اللہ تعالیٰ ہے، لہذا اسی کی اطاعت اور بندگی ہوئی چاہیے اور کسی کی شریعت پر انسانی زندگی کے سارے معاملات چلنے چاہییں۔یہ اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا انمول ہو اسلام پیش کرتا ہے یہ بھی اس غرض کے لیے ہے۔اور اس کے سوا کوئی دوسری غرض اس کی نہیں ہے کہ زمین میں صرف اللہ کا حکم ملےعدالت میں فیصلہ اسی کی شریعت پر ہو ، پولیس اسی کے احکام جاری کرے، لین دین اسی کے ضابطے کی پیروی میں ہو، ٹیکس اسی کی مرضی کے مطابق لگائے جائیں اور انہی مصارف میں صرف ہوں ہو اس نے مقرر کیے ہیں، سول سروس اور فوج اسی کےزیر حکم ہو، لوگوں کی قوتیں اور قابلیتیں،محنتیں اور کوششیں اسی کی راہ میں ہوں ، تقولی اور خوف اسی سے کیا جائے، رعیت اسی کی مطبع ہو، اور فی الجملہ انسان اُس کے سوا کسی کےبندے بن کر نہ رہیں۔ظاہر بات ہے کہ یہ غرض پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ خالص اپنی حکومت نہ ہو ۔کسی دوسرے دین کے ساتھ یہ دین شرکت کہاں قبول کر سکتا ہے؟ اور کونسا دین ہے جو دوسرے دین کی شرکت قبول کرتا ہو ؟ہر دین کی طرح یہ دین بھی یہی کہتا ہے کہ اقتدار خالصا و مخلصا میرا ہونا چاہیے اور ہر دوسرا دین میرے مقابلہ میں مغلوب ہو جانا چاہیےورنہ میری پیروی نہیں ہو سکتی۔میں ہوں گا تو دین جمہوری نہ ہوگا ، دین بادشاہی نہ ہوگا،دین اشترا کی نہ ہوگا، کوئی بھی دوسرا دین نہ ہوگا، اور اگر کوئی دوسرا دین ہوگا تو میں نہ ہوں گا ، اور اس صورت میں محض مجھے سحق مان لینے کا کوئی نتیجہ نہیں ۔ یہی بات ہے جس کو قرآن بار بار دہراتا ہے۔ مثلاً:

وما أمروا إلا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حنفاء -( البينة : ٥)

"لوگوں کو اس کے سوا کسی بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ سب طرف سےمنہ موڑ کر اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی عبادت کریں۔"

هو الذي ارسل رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوبه: ۳۳)

"و ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو پوری ہنس دین پر غالب کر دے خواہ شرک کرنے والوں کو ایسا کرنا کتنا ہی ناگوار ہو"-

وقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّين حمد لله بو : (الا نقال : ٣٩)

"اور اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا کا سات اللہ کے لیے ہو جائے۔"

ان الحکم الا للهِ ، اَمَرَ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُم (یوسف : ۴۰)

"حکم اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اُس کا فرمان ہے کہ خود اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو"

فمن كان يرجو القادَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا ولا يُشْرِكَ بِعِبَادَةِ ربة احداه ( الكهف : ١١٠).

"تو جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اس کو چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی دوسرے کی عبادت شریک نہ کرے"-

الم تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمُ المَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَنْهَا كَبُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ تَكْفُرُوا بِه ...... وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَامَ بِإِذْنِ الله (النساء : ۲۰-۶۴)

"تو نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعوئی تو یہ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس ہدایت پر جو تیری طرف اور تجھ سے پہلےکےنبیوں کی طرف اُتاری گئی تھی اور پھر ارادہ یہ کرتے ہیں کہ فیصلے کے لیے اپنے مقدمات طاغوت کے پاس لے جائیں ، حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ...... ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے تو بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے"-

اوپر میں عبادت اور دین اور شریعت کی جو تشریح کر چکا ہوں اس کےبعد آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی وقت نہ ہوگی کہ ان آیات میں قرآن کیا کہہ رہا ہے۔

اسلام میں جہاد کی اہمیت

اب یہ بات بالکل صاف ہو گئی کہ اسلام میں جہاد کی اس قدر اہمیت کیوں ہے، دوسرے تمام دینوں کی طرح دین اللہ بھی محض اس بات پر مطمئن نہیں ہو سکتا کہ آپ میں اس کے حق ہونے کو مان لیں اور اپنےاس اعتقاد کی علامت کے طور پر محض رسمی پوجا پاٹ کر لیا کریں ۔ کسی دوسرے دین کے ماتحت رہ کہ آپ اس دین کی پیروی کر یہی نہیں سکتے ۔ کسی دوسرے دین کی شرکت میں بھی اس کی پیروی نا ممکن ہے ۔ لہذا اگر آپ واقعی اس دین کو حق سمجھتے ہیں تو آپ کے لیے اس کےسوا کوئی چارہ نہیں کہ اس دین کو زمین میں قائم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا نہ درگاہیں اور یا تو اسے قائم کر کے چھوڑیں یا اسی کوشش میں جان دے دیں ۔ یہی کسوٹی ہےجس پر آپ کے ایمان و اعتقاد کی صداقت پر لکھی جا سکتی ہے۔ آپ کا اعتقاد سچا ہو گا تو آپ کو کسی دوسرے دین کے اندر رہتے ہوئےآرام کی نیند تک نہ آسکے گی۔کھا کہ آپ اُس کی خدمت کر یں اور اس خدمت کی روٹی مزے سےکھائیں اور آرام سے پاؤں پھیلا کر سوئیں۔ اس دین کو حق مانتے ہوئے تو جو لمحہ بھی آپ پر کسی دوسرےدین کی ماتحتی میں گزرے گا اس طرح گزرے گا کہ بستر آپ کے لیے کانٹوں کا بستر ہوگا،کھانا زہر اور حنظل کا کھانا ہوگا اور دین حق کو قائم کرنے کی کوشش کیسے بغیر آپ کو کسی کل چین نہ آسکے گا۔ لیکن اگر آپ کو دین اللہ کے سوا کسی دوسرے دین کے اندر رہنے میں چین آتا ہو اور آپ اس حالت پر راضی ہوں تو آپ مومن ہی نہیں ہیں،خواہ آپ کتنی ہی دل لگا لگا کر نمازیں پڑھیں ، کتنے ہی لمبے لمبے مراقبے کریں، کتنی ہی قرآن و حدیث کی شرح فرمائیں، اور کتنا ہی اسلام کا فلسفہ بگھا رہیں۔یہ تو ان لوگوں کا معاملہ ہےجو دوسرے دین پر راضی ہوں۔ رہے وہ منافقین جو دوسرےدین کی وفادارانہ خدمت کرتے ہوں یا کسی اور دین (مثلاً دین جمہوں کو لانے کےلیےجہاد کرتے ہوں تو ان کے متعلق میں کیا کہوں؟ موت کچھ دُور نہیں ہے، وہ وقت جب آئے گا تو جو کچھ کمائی انھوں نے دنیا کی زندگی میں کی ہے خدا خود ہی ان کے سامنے رکھ دے گا۔ یہ لوگ اگر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو سخت حماقت میں مبتلا ہیں۔ عقل ہوتی تو ان۔کی سمجھ میں خود آجاتا کہ ایک دین کو برحق بھی ماننا اور پھر اس کے خلاف کسی دوسرےدین کے قیام پر راضی ہونا ، یا اس کے قیام میں حصہ لینا یا اس کو قائم کرنے کی کوشش کرنا، با الکل ایک دوسرے کی مند ہیں، آگ اور پانی جمع ہو سکتے ہیں، مگر ایمان باللہ کے ساتھ یہ عمل قطعا جمع نہیں ہو سکتا۔

قرآن اس سلسلہ میں جو کچھ کہتا ہے وہ سب کا سب تو اس خطبہ میں کہاں نقل کیا جا سکتا ہے، مگر صرف چند آیتیں آپ کو سناتا ہوں :

أَحَسِبَ النَّاسُ أَن تُرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الكنيين (العنكبوت: ۴۲)

"کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض یہ کہہ کر کہ ہم ایمان لائے چھور دیے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟ حالانکہ ان سے پہلے جس نےبھی ایمان کا دعوی کیا ہے اس کو ہم نے آزمایا ہے ، پس ضرور ہے کہ اللہ دیکھے کہ ایمان کے دعوے میں سچھے کون ہیں اور جھوٹے کون "-

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُودِى فِي اللهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ لَعَذَابِ اللهِ وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرُ مِن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَ إِنَّا كُنَّا مَعَكُوطُ أَوَلَيْسَ اللهُ بِأَعْلَمَم بِمَا فِي صُدُورِ العَلَمِينَ، وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنْفِقِينَ (العنكبوت : ۱۰-۱۱)

"اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائےاللہ ہی، مگر جب اللہ کےرستے ہیں وہ شایا گیا تو انسانوں کی سزا سےایسا ڈرا جیسےاللہ کےعذاب سےڈرنا چاہیے۔حالانکہ اگر تیرے رب کی طرف سے فتح آ جائے تو دیہی آکر کہے گا کہ ہم تو تمھارے ہی ساتھی تھے ۔ کیا اللہ جانتا نہیں سمجھو کچھ لوگوں کے دلوں میں ہے ؟ مگر وہ ضرور دیکھ کر رہے گا کہ مومن کون ہے اور منافق کون "

مَا كَانَ اللهُ لِيَدَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنتُم عَلَيْهِ حَتَّى مير الخَبيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ( آل عمران : ۱۷۹)

"اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ مومنوں کو اسی طرح رہنے دےجس طرح وہ اب ہیں دکر (سچتے اور جھوٹے مدعیان ایمان خلط ملط ہیں)، وہ باز نہ رہے گا جب تک طبیت اور طیب کو چھانٹ کر الگ الگ نہ کر دے۔"

أمْ حَسِبتُم أن تتركُوا وَلَمَّا يَعْلَمُ اللهُ الَّذِينَ جهَدُوا مِنكُرُ وَلَمْ تَخِذُوا مِن دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِم ولا المُؤْمِنِينَ وَلِيجَةٌ (التوبه : ۱٦)

"کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ نہیں دیکھا کہ تم میں سے کون ہیں جنھوں نے جہاد کیا اور کون ہیں جنھوں نے اللہ اور رسول اور مومنوں کو چھوڑ کر دوسروں سے اندرونی تعلق رکھا"-

الم تر الى الذِينَ تَوَلَّوا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُم... أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَنِ الرانَ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخَسِرُونَ ، إِنَّ الَّذِينَ يُجَادُونَ اللهَ وَرَسُولَة أولئِكَ فِي الْأَذَلِينَ كَتَبَ الله لا غلِبَنَّ انَا وَ رُسُلِي طَ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزُه (المجادلة : ۱۴ - ۱۹ تا ۲۱)

"تو نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو ساتھ دیتے ہیں اُس گروہ کا جس سے اللہ ناراض ہے ! یہ لوگ نہ تمھارے ہی ہیں نہ انہی کے ہیں ..... یے تو شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں اور خبردار رہو کہ شیطان کی پارٹی والے ہی نامراد رہنے والے ہیں ۔ یقینا جو لوگ اللہ اور رسول کا مقابلہ کرتے ہیں دیعنی دین حق کے قیام کے خلاف کام کرتے ہیں، وہ شکست کھانے والوں میں ہوں گے۔ اللہ کا فیصلہ ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گئے،یقینا اللہ طاقت ور اور زبردست ہے۔"

مومن صادق کی پہچان ________ جہاد

ان آیات سے یہ بات صاف معلوم ہوگئی کہ جب اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین زمین میں قائم ہو اور کوئی مسلمان اپنے آپ کو اس حالت میں مبتلا پائےتو اس کے مومن صادق ہونےکی پہچان یہ ہے کہ وہ اُس دین باطل کو مٹا کر اس کی جگہ دین بھی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں ۔ اگر کرتا ہے اور کوشش میں اپنا پورا زور صرف کر دیتا ہے، اپنی جان لڑا دیتا ہے اور ہر طرح کے نقصانات انگیز کیےجاتا ہے تو وہ سچا مومن ہے خواہ اس کی یہ کوششیں کامیاب ہوں یا نا کام۔ لیکن اگر وہ دین باطل کے غلبے پر راضی ہے یا اس کو غالب رکھنے میں خود حصہ لے رہا ہے تو وہ اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہے۔

تبدیلی بغیر کش مکش کے ممکن نہیں

پھر ان آیات میں قرآن مجید نے ان لوگوں کو بھی جواب دے دیا ہے جو دین حق کو قائم کرنے کی مشکلات عذر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دین حق کو جب کبھی قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی، کوئی نہ کوئی دین باطل قوت اور زور کے ساتھ قائم شدہ تو پہلےسےموجود ہو گا ہی۔طاقت بھی اس کے پاس ہوگی،رزق کے خزانے بھی اسی کے قبضےمیں ہوں گےاور زندگی کےسارےمیدان پر وہی مسلط ہوگا۔ ایسے ایک قائم شدہ دین کی جگہ کسی دوسرےدین کو قائم کرنےکا معاملہ بہرحال پھولوں کی سیج تو نہیں ہو سکتا۔آرام اور سہولت کےساتھ بیٹھے بیٹھے قدم ملک یہ کام نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔آپ چاہیں کہ جو کچھ فائد ے دین باطل کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہوئےحاصل ہوتے ہیں یہ بھی ہاتھ سےنہ جائیں اور دین بھی بھی قائم ہو جائے،تو یہ قطعا محال ہےیہ کام تو جب بھی ہوگا اسی طرح ہو گا کہ آپ اُن تمام حقوق کو، ان تمام فائدوں کو،اور اُن تمام آسائشوں کو لات مارنے کے لیے تیار ہو جائیں جو دین باطل کے ماتحت آپ کو حاصل ہوں، اور جو نقصان بھی اس مجاہدے میں پہنچ سکتا ہے اس کو ہمت کے ساتھ انگیز کریں۔ جن لوگوں میں یہ کھکھیڑ اُٹھانے کی ہمت ہو، جہاد فی سبیل اللہ انہی کا کام ہے، اور ایسے لوگ ہمیشہ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دین حق کی پیروی کرنا تو چاہتےہیں مگر آرام کے ساتھ۔ تو ان کے لیے بڑھ بڑھ کر بولنا مناسب نہیں ۔ ان کا کام تو یہی ہے کہ آرام سے بیٹھے اپنے نفس کی خدمت کرتے رہیں اور جب خدا کی راہ میں مصیبتیں اٹھانےوالے آخر کار اپنی قربانیوں سے دین حق کو قائم کر دیں تو وہ آکر کہیں إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ یعنی ہم تو تمھاری ہی جماعت کے آدمی ہیں، لاؤ اب ہمارا حصہ دو۔

ضميمه

ضميمه

الخطية الاولى

الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَ نُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَا لِنَلَمَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ - وَنَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولِية. أَرسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَاهْتَدَى وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ قَدْ غَوَى وَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ الَّا نَفْسَهُ وَ لَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ إِنَّ خَيْرَ الأُمُورِ عَوَازِمُهَا وَشَرِّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدُعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ أمَّا بَعْدُ فَاعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الْمَجِيدِ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوا إلى ذِكْرِ اللهِ وَذَرُ والبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُواِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ . فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَإِذَا سَ أَو تِجَارَةً اَوْ لَهْوَاءِ انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمَاء قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُ من الله ومن الجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ . صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَنَفَعَنِي وَإِيَّاكُمْ يانته والذكر الحكيمِ إِنَّهُ تَعَالَى جَوَادٌ كَرِيمٌ مَلِكُ بَرُّ

الخطبة الثانية

الحَمدُ لِلهِ رَاتِ الْعَلِمِينَ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى وَرَسُولِهِ الْآمِينِ - أَمَّا بَعْدُ فَيَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ - أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الكَرِيمِ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمَانُ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ بِعَدَادِ مَنْ صَلَّى وَ صَامَ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ قَعَدَ وَقَامَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى جَمِيعِ الْانْتِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَعَلَى سَائِرِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَعَلَى عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ اللَّهُمَّ آتِدِ الإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ انْصُرُ مَنْ نَصَرَدِينَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ وَاخْذُلُ مَنْ خَذَلَ دِينَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْهُم اللهم آرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتَّبَاعَةَ وَارِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلا وَرْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ اللهُم نَبْتَنَا عَلَى الْإِسْلَامِ اللَّهُمَّ نَورُ قُلُوبَنَا بِنُورِ الْإِيمَانِ - اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ الْأَحْيَاءِ مِنْهُم وَ الْاَمْوَاتِ .

عِبَادَ اللهِ - رَحِمَكُمُ اللهُ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَرُونَ - أَذْكُرُوا اللهَ يَنكُركم وَادْعُوهُ يَسْتَجِبْ لَكُمْ وَلَذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى أَعْلَى وَأَوْلَى وَاعَةُ وَاجَلُ وَانْمُ وَاهَمُ وَاكْبَرُ 0

تحریک اسلامی کا ایمان افروز سدا بہار لٹرلیچر

محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم __________________ نعیم صدیقی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ______________________ عنایت اللہ سجانی حیات طیبہ ____________________________________ محمد عبد الحی داعی ااعظیم __________________________________ محمد یوسف اصلاحی زاد راه ______________________________________ مولانا جلیل احسن ندوی راہ عمل ____________________________________ مولانا جلیل احسن ندوی انتخاب حدیث _______________________________ مولانا عبد الغفار حسن ترجمان الحدیث اول، دوم _______________________ سید ابوالاعلی مودودی اسلامی ریاست ___________________________ سید ابوالاعلی مودودی تضیمات اول تا سوم _______________________ سید ابوالاعلی مودودی رسائل و مسائل اول تا چهارم _________________ سید ابوالاعلی مودودی تجدید و احیائے دین _______________________ سید ابوالاعلی مودودی خطبات ______________________________ سید ابوالاعلی مودودی اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات __ سید ابوالاعلی مودودی اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی ______ سید ابوالاعلی مودودی قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں _____________ سید ابوالاعلی مودودی پرده _______________________________ سید ابوالاعلی مودودی اسلام اور ضبط ولادت _________________ سید ابوالاعلی مودودی معرکہ اسلام اور جاہمیت _______________ مولانا صدر الدین اصلاحی اساس دین کی تعمیر _________________ مولانا صدر الدین اصلاحی آداب زندگی _______________________ محمد یوسف اصلاحی حسن معاشرت ____________________ محمد یوسف اصلاحی اسلام ایک نظر میں _________________ مولانا صدر الدین اصلاحی فريضه اقامت دین ________________ مولانا صدرالدین اصلاحی اسلام میں عدل اجتماعی ____________ سید قطب شہید جادہ و منزل _____________________ سید قطب شہید اسلامک پبلیکیشنز (پرائیوٹ) لمیٹڈ ۱۳ ای شاہ عالم مارکیٹ لاہور (پاکستان)

فکر افروز معلومات افزا نئی مطبوعات

توحید اور شرک (مذاہب کا تقابلی مطالعہ) ______ سید حامد علی حج کیا ہے؟____________________________ سید حامد علی مسلمان سائنسدان اور ان کی خدمات ______________ ابراہیم عمادی مولانا مودودی کے انٹرویو (حصہ دوم) _____ مرتبہ _____ ابو طارق ایم اے ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ ( حصہ پنجم _________ ثروت صولت اسلامی تہذیب کی تفہیم جدید __________________ ڈاکٹر محمد علی ضناری فکری تربیت کے اہم تقاضے _____________________ ڈاکٹر یوسف القرضاوی اسلام کا تصور مساوات _______________________ سلطان احمد اصلاحی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی اسکیم _____ عبد الباری ایم اے شاہ عبد القادر کی قرآن فہمی __________________ محمد فاروق خاں مشرقی ترکستان ___________________________ ثروت صولت شہید بالاکوٹ ___________________________ حسین حسنی اسلامی قیادت ___________________________ خرم مراد قرآن اور سائنس _________________________ سید قطب شہید خواتین اور دینی مسائل ___________________ سید ابوالاعلیٰ مودودی خواتین اور اسلام _______________________ متین طارق اسلام اور رواداری ______________________ متین طارق اسلام کا معاشیاتی نظام _________________ حیدر زمان صدیقی اسلام کی دعوت ______________________ سید جلال الدین عمری اسلامی توحید ______________________ محمد یوسف اصلاحی حضرت ابن مبارک __________________ محمد یوسف اصلاحی اسلامک پبلیکیشنز (پرائیوٹ) لمیٹڈ ۱۳- ای شاه عالم مارکیٹ، لاہور پاکستان)

خطبات

مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی وہ شہرہ آفاق تصنیف ہے جسے نیل کے ساحل سے لے کر کا شعر کی سرحدوں تک قبول عام حاصل ہوا ہے ۔ اس کتاب نے کفر کے ظلمات میں ایمان کے اُجالے پھیلائے ہیں۔ لاکھوں گم کردہ راہ انسانوں کو راہ ہدایت سے نوازا ہے ۔ فکر و نظر کے زاویے درست کئےہیں، دل و دماغ کو منور کیا ہے اور عمل کی راہیں نکھار دی ہیں۔ یہ کتاب بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہوکر دنیا کے کونے کونے میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی شمعیں فروزاں کر رہی ہے ۔ دنیا میں شاید ہی کوئی کتاب اس پائے کی ہو کہ جو عام فہم بھی ہو اور مدلل انداز بیان کے ساتھ ادب کی چاشنی بھی رکھتی ہو ۔ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والی اس کتاب کے اب تک ۱۰۰ سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔

اللہ تعالے مصنف کو اس کا عظیم پر بہترین اجر سے نوازے۔

(اداره )

اسلامک پبلیکیشنز (پرائیوٹ) لمیٹڈ

لاهور (پاکستان)

کتاب خطبات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Sermons