خطبات

دیباچہ طبع ہشتم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ دیباچہ طبع ہشتم میرے خطبات جمعہ کا یہ مجموعہ سب سے پہلے نومبر ١٩٤٠ء میں شائع ہوا تھا۔نومبر١٩٥١ء تک گیارہ سال کی مدت میں اس کے سات ایڈیشن تقریباً ۲۰ ہزار کی تعداد میں شائع ہوئے، اور اس پوری مدت میں کسی کو اس کے اندر کوئی فتنہ نظر نہ آیا۔مگر جب علماء کرام کسی وجہ سے(جس کا علم یا اللہ کو ہےیا خود ان کو )مجھ سے اور حماعت اسلامی سے ناراض ہو گئے تو میری دوسری کتابوں کی طرح اس کتاب میں سے بھی اُن کی نگاہ فتنہ ہو نے کچھ فتنے ڈھونڈ نکالے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مفتی صاحبان نے خود پوری کتاب پڑھ کر دیکھی تھی یا کسی کو محض اس خدمت پر مامور فرما دیا تھا کہ اس کو پڑھ کر کچھ ایسے فقرے نکال دے جن پر فتوی جڑا جا سکے ۔ بہر حال جو صورت بھی ہو، اُن کی نگاہ پوری کتاب میں سے صرف چند فقروں پر بجا کر ٹھیری جو انیسویں اور کیسویں خطبے میں ان کو ملے ۔

انیسویں خطبے کے یہ فقرے ان کی توجہات کے ہدف بنے ہیں:

"اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ کے بغیر نماز، روزہ اور ایمان کی شہادت سب بیکار ہیں، کسی چیز کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا" (ص٢٠٢)

"ان دو ارکان اسلام (یعنی نماز و زکوۃ سے) جو لوگ رو گردانی کریں اُن کا دعوائے ایمان ہی جھوٹا ہے" ۔ ٢٠٧)

(قرآن کی رو سے کلمہ طیبہ کا اقرار نہیں بے معنی ہے اگر آدمی اس کےثبوت میں نماز اور زکواۃ کا پابند نہ ہو۔ "٢١١)

اور پچیسویں خطبے کے یہ فقرے انھوں نے فتوی لگانے کے لیے چھانٹے ہیں:

" رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ سچ بھی کوئی فرض اُن کے ذقے ہے، دنیا بھر کے سفر کرتےپھرتے ہیں،کعبہ یورپ کو آتےجائےحجاز کےساحل سے بھی گزر جاتےہیں جہاں سےمکہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے اور پھر بھی حج کا ارادہ تک اُن کے دل میں نہیں گزرتا ، وہ قطعاً مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنےآپ کو مسلمان کہتےہیں،اور قرآن سےجاہل ہےجو انھیں مسلمان سمجھتا ہے۔ (ص ٢٨٠- ٢٨١)

ان عبارات پر یہ فتوی لگایا گیا ہے کہ میں خارجی اور معتزلی ہوں ، مسلک اھلسنت کے خلاف، اعمال کو جزو ایمان قرار دیتا ہوں، اور بے عمل مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہوں۔

حیرت یہ ہے کہ ان فقروں سے متصل ہی دوسرے فقرے موجود تھے جن سےنہ صرف میرے اصل مدعا کی تو مسیح ہوتی تھی، بلکہ اس الزام کا جواب بھی ان سےمل سکتا تھا۔ مگر مفتی صاحبان کی اُن پر یا تو نگاہ نہ بڑی یا مفید مطلب نہ ہونے کی وجہ سے قصدا اُنھوں نے ان کو نظر انداز کر دیا۔ مثلاً پہلے فقرے کو اوپر کے فقرے سےملا کر پڑھے تو پوری عبارت یوں بنے گی :

"یہی وجہ ہے کہ سر کا یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب کے بعض قبیلوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اُن سے اُس طرح جنگ کی جیسے کافروں سےکی جاتی ہے۔حالانکہ وہ لوگ نماز پڑھتے تھے اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتےتھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ کےبغیر نماز،روزہ اور ایمان کی شہادت،سب بیکار ہیں کہ جس کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا"-

اسی طرح آخری فقرے سے اپہلے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حدیثیں اور حضرت عمر کا ایک قول بھی نقل کیا تھا جو میرے بیان کی توثیق کر رہا تھا،مگر نگاہ انتخاب اس پوری عبارت کو چھوڑ گئی۔ یہ کرتب ہیں اُن بزرگوں کے جو ہمارے ہاں علم دین کے معلم اور تزکیہ نفس کے ماہر بنے ہوئے ہیں۔

پھر اسی کتاب میں میرا ایک پورا خطبہ اس موضوع پر موجود ہے کہ میں اِس کتاب میں در اصل کسی اسلام و ایمان سے بحث کر رہا ہوں (ملاحظہ ہو خطبہ نمبر ۹)۔اس میں میں نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ ایک تو ہے وہ قانونی اسلام جس سےفقیہ اور متکلم بحث کرتے ہیں۔جس کا حاصل صرف یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اُس کی آخری سرحد کو پار نہ کر جائے اُس کو خارج از ملت ٹھیرا کر ان تمدنی و معاشرتی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا جو اسلام نےمسلمانوں کو دیےہیں۔دوسرا وہ حقیقی اسلام و ایمان ہےجس پر آخرت میں آدمی کے ایمان یا نفاق یا کفر کا فیصلہ ہو گا۔ میں نے ان دونوں کا فرق واضح کرتے ہوئے اس خطبے میں یہ بتایا ہے کہ انبیاء کی دعوت کا اصل مقصود صرف پہلی قسم کےمسلمان بنا بنا کر چھوڑ دینا نہ تھا، بلکہ اُن کے اندر وہ حقیقی ایمان پیدا کرنا تھا جس میں اخلاص اور اطاعت اور فدائیت کی روح پائی جاتی ہو۔ اس کے بعد میں نے مسلمانوں کو اس طرف تو جہ دلائی ہے کہ تم صرف اُس اسلام پر قانع نہ ہو جاؤ جس کی آخری سرحد پار کرنے سے پہلے کوئی مفتی تمھیں کا فرنہ کہہ سکے ، بلکہ اس اسلام و ایمان کو اپنے اندر پیدا کرنے کی فکر کرو جس سے خدا کے ہاں تم واقعی ایک مخلص اور وفادار مومن قرار پا سکو ۔ میری یہ ساری بحث اگر مفتی صاحبان پڑھ لیتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ کتاب میں نےدر اصل کسی غرض کےلیےلکھی ہے اور پھر اس کتاب کا ایک ایک لفظ شہادت دیتا کہ اول سےلےکر آخر تک اس کےسارے خطبوں میں یہی مرض میرے پیش نظر رہی ہے۔ مگر مفتیوں کو اس سے کیا بحث کہ کتاب اور اُس کے مصنف کا مدعا کیا ہے۔ ان کو تو تلاش ایسے فقروں کی تھی جنھیں سیاق و سباق سےالگ کر کے ایک فتوی لگایا جا سکے۔ان کے لیےفتوئی ایک دینی حکم نہیں ہےجیسے لگانےکےلیےتحقیق کی ضرورت ہو، بلکہ ایک لٹر ہے جس کو لوگوں سے ذاتی رنجشوں کا بخار نکالنےکے لیے وہ جب ضرورت محسوس کرتے ہیں استعمال کر لیتے ہیں۔

جس شخص کو علم سے کچھ بھی مکس ہو اسے کسی کتاب کی کسی عبارت کا مطلب مشخص کرنے سے پہلے کتاب کےموضوع کو سمجھنا چاہیے ۔ یہ کتاب فقہ یا علم کلام کےموضوع پر نہیں ہے۔ یہ فتوے کی زبان میں نہیں لکھی گئی ہے۔اس میں مسئلہ زیر بحث یہ نہیں ہے کہ دائرہ اسلام کی آخری سرحدیں کیا ہیں اور کن حالات میں ایک شخص مرتد۔با خارج از ملت قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ تو نصیحت کی ایک کتاب ہےجس کا مقصود خدا کے بندوں کو فرماں برداری پر اکسانا، نافرمانی سے روکنا اور اخلاص فی الطاعة کی تلقین کرتا ہے۔ کیا مفتی صاحبان یہ چاہتےتھےکہ میں اس طرح کی ایک کتاب میں مسلمانوں کو یہ یقین دلاتا کہ نماز، روزہ، حج، زکواۃ ،سب زوائد ہیں تم ان سب کو چھوڑ کر بھی مسلمان رہ سکتے ہو ؟ رہا بجائے خود ایمان اور عمل کے باہمی تعلق اور تکفیر مسلمین کا مسئلہ تو اس باب میں اپنا مسلک میں اپنے مضامین میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر چکا ہوں جو خاص اسی موضوع پر میں نے لکھے ہیں۔ اس مسلک کو میری کتاب تفہیمات حصہ دوم سے معلوم کرنے کے بجائے ”خطبات“ کےان منتشر فقروں سے مستقبط کرنا آخر کونسی دیانت تھی ؟ ابو الاعلیٰ ١٦ ا گست ٥٢ ء

کتاب خطبات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Sermons