(د) بلاشبہ ایک حدیث میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے شخص کو کافر کہے اور وہ در حقیقت کافر نہ ہو تو کفر اسی شخص کی طرف پلٹ جائے گا جس نےاسے کافر کہا تھا۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جو کوئی میری تکفیر کرے میں جواب میں اس کی تکفیر کر ڈالوں۔ یہ بات نہ حدیث کے الفاظ سے نکلتی ہے، اور نہ آنحضرت ﷺ کا یہ منشا ہو سکتا تھا کہ جھگڑالو شخصیتوں کو تکفیر بازی کےلئے ایک ہتھیار فراہم کر دیں۔ حدیث کا نشا صرف یہ ہے کہ تکفیر کا فتوی دیتےہوئے آدمی کو ڈرنا چاہئے،کہیں ایسا نہ ہو کہ جس کی وہ تکفیر کر رہا ہو وہ حقیقت میں کافر نہ ہو اور خدا کے ہاں الٹا یہ مفتی ہی کفر بانٹنے کے جرم میں پکڑا جائے۔
| کتاب | قادیانی مسئلہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |