ابواب

قادیانی مسئلہ

سیاسی پهلو

اس کےبعد جب ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی قوی کشمکش بڑھی تو کانگرس کے نیشنلسٹ لیڈروں کی نگاہ بھی قادیانیت کے "امکانات" پر پڑنی شروع ہو گئی۔یہ ۱۹۳۰ء کے لگ بھگ زمانہ کی بات ہے جب کہ ایک بہت بڑے ہندو لیڈر نےقادیانیت کی حمایت میں ڈاکٹر اقبال مرحوم سے مباحثہ فرمایا تھا اور ایک دوسرے نامور لیڈر نے علانیہ کہا تھا کہ مسلمانوں میں ہمارے نقطۂ نظر سے سب سے زیادہ پسندیدہ عنصر قادیانی ہیں۔ کیونکہ ان کا نبی بھی دیسی (Indigenous) ہے اور ان کے مقدس مقامات بھی اسی دیس میں واقع ہیں۔غرض اپنےمسلک خاص کی وجہ سےقادیانیوں کا سیاسی موقف ہےہی کچھ اس قسم کا کہ غیر مسلم ان کو فطرتاً پر امید نگاہوں سےاور مسلمان اندیش ناک نگاہوں سےدیکھتے ہیں۔ مسلمانوں میں ہمیشہ یہ عام خیال موجود رہا ہے کہ ملت اسلامیہ کی تخریب کےلئےخود اس ملت کےاندر سے جو عصر سب سےبڑھ کر دشمنان اسلام کا آلہ کار بن سکتا ہے وہ قادیانی عصر ہے۔ اور اس خیال کو جن باتوں نےتقویت پہنچائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں جب بغداد، بیت المقدس اور قسطنطنیہ پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو پوری مسلم قوم کے اندر وہ صرف قادیانی تھےجنہوں نے اس پر خوشیاں منائیں اور چراغاں کئے۔یہی نہیں بلکہ قادیانیوں کے خلیفہ صاحب نے علی الاعلان یہ فرمایا کہ انگریزی حکومت کی ترقی سے ہماری ترقی وابستہ ہے۔ جہاں جہاں یہ پھیلے گی ہمارے لئے تبلیغ کا میدان نکلتا آئے گا۔ ان باتوں کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قادیانیوں کے متعلق مسلمانوں کی عام بد گمانی بے وجہ ہے۔

کتاب قادیانی مسئلہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Qadyani