سید ابو الاعلیٰ مودودی اسلامک پبلی کیشنز قادیانی مسئله سید ابو الاعلیٰ مودودی اسلامک پبلیکیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ۱۳- ای شاه عالم مارکیٹ، لاہور (پاکستان)
(جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں) طابع :_______________ پروفیسر محمد امین جاوید، مینجنگ ڈائرکٹر ناشر:- ______________ اسلامک پبلیکیشنز ( پرائیویٹ) لمیٹڈ ۱۳ برای شاه عالم مارکیٹ لاہور مطبع: _____________ ماذن پرنٹرز ، لاہور اشاعت : ١ تا ١٧ جولائی ١٩٩٦ ء تک ٧٨٩٠٠ ١٨ مارچ ١٩٩٨ ء تک ١١٠٠ " " " پیپربیک ١١٠٠ قیمت : اعلی ایڈیشن مجلد /٤٥ روپے " پیپربیک /٣٦ "
جو حضرات اس سے زیادہ تفصیلات کے خواہاں ہوں ان کو ہم اپنی کتاب ”قادیانی مسئلہ اور اس کے سیاسی، دینی اور ترنی پہلو " مصنفہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مطالعہ کا مشورہ دیتے ہیں۔ وما توفیقی الا بالله العلى العظيم- نیازمند منیجنگ ڈائریکٹر اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ،لاہور (پاکستان) لاہور - ۱۳ جمادی الاول ۱۳۸۷ھ مطابق ۲۱ اگست ۱۹۶۷ء
جمہوری نظام کا یہ مسلم قاعدہ ہے کہ یا تو دلیل سے بات مانو یا دلیل سے منواؤ۔ محض طاقت کے بل پر ایک معقول و مد تل بات کو رد کر دینا جمہوریت نہیں ہے۔ اس لئےہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے آئین ساز حضرات یا تو دلیل سے ہماری بات مانیں، یا نہیں تو سامنے آکر اپنے وہ دلائل پیش کریں جن کی بنا پر وہ ہماری اس بات کو نہیں مانتے۔ محض اس بھروسے پر کہ مجلس آئین ساز میں انہیں اکثریت حاصل ہے اگر وہ ایک معقول عوامی مطالبے کو بلا دلیل رد کریں گے تو یہ ان کے اپنے ہی حق میں نقصان دہ ہو گا۔ عوای مطالبه آخر کار پورا ہو کر ہی رہے گا۔ ابو الاعلیٰ مودودی
"اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئےگا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے، آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں"۔ (انوار خلافت ص ۶۵)
"پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سےحضرت صاحب (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) هرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں"۔ (حقیقة النبوت، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفه قادیان ص ۱۷۴)
ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا انکار بھی کفر ہے غیر احمدی کافر ہیں"۔ "بیان مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب با جلاس سب حجج عدالت گورداسپور، مندرجہ اخبار الفضل مورخه ۲۶/۲۹ جون ۱۹۲۲)
"یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوۃ ، غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے"۔
حقیقت یہ ہے کہ قادیانی تحریک نے ختم نبوت کی ان حکمتوں اور مصلحتوں کو اب تجربے سے ثابت کر دیا ہے جنہیں پہلے محض نظری حیثیت سے سمجھنا لوگوں کے لئےمشکل تھا۔ پہلے ایک شخص یہ سوال کر سکتا تھا کہ آخر کیوں محمد عربی ﷺ کی نبوت کےبعد دنیا سےہمیشہ کے لئے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔لیکن اب اس قادیانی تجربےنےعملاً یہ ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ کی وحدت اور استحکام کےلئے ایک نبی کی متابعت پر تمام کلمہ گویان توحید کو مجتمع کر دینا اللہ تعالی کی کتنی بڑی رحمت ہے اور نئی نئی نبوتوں کے دعوے کس طرح ایک امت کو پھاڑ کر اس کے اندر مزید امتیں بنانےاور اس کےاجزاء کو پارہ پارہ کر دینےکےموجب ہوتے ہیں۔اب اگر یہ تجربہ ہماری آنکھیں کھول دے اور ہم اس نئی امت کو مسلمانوں سے کاٹ کر الگ کر دیں تو پھر کسی کو نبوت کا دعوئی لے کر اٹھنے اور امت مسلمہ کے اندر پھر سے قطع و برید کا سلسلہ شروع کرنے کی ہمت نہ ہوگی ورنہ ہمارے اس ایک قطع و برید کو برداشت کر لینے کے معنی یہ ہوں گےکہ ہم ایسے ہی دوسرے بہت سے حوصلہ مندوں کی ہمت افزائی کر رہے ہیں۔ ہمارا آج کا محل کل دوسروں کے لئے نظیر بن جائے گا اور معاملہ ایک قطع و برید پر ختم نہ ہو گا۔بلکہ آئے دن ہمارے معاشرے کو نئی نئی پراگندگیوں کے خطرے سے دوچار ہونا پڑے گا۔
اور آخر میں اب یہ بات بھی بڑے معتبر ذرائع سے سننے میں آئی ہے کہ قادیانیوں کے خلاف یہ قدم اٹھانا ہمارے ذمہ داران حکومت کے نزدیک پاکستان کےلئے سیاسی حیثیت سے بہت نقصان دہ ہے۔ کیونکہ ان کی رائے میں قادیانی وزیر خارجہ کا ذاتی اثر انگلستان اور امریکہ میں بہت زیادہ ہے اور ہم کو ان ملکوں سے جو کچھ بھی مل سکتا ہے ان ہی کے توسط سے مل سکتا ہے۔
ثالثاً، قادیانیوں کی تکفیر کا معاملہ دوسرے گروہوں کی باہمی تکفیر بازی سے بالکل مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ قادیانی ایک نئی نبوت لے کر اٹھے ہیں جو لازماً ان تمام لوگوں کو ایک امت بناتی ہے جو اس نبوت پر ایمان لےآئیں اور ان تمام لوگوں کو کافر بنا دیتی ہےجو اس پر ایمان نہ لائیں۔اسی بنا پر قادیانی تمام مسلمانوں کی تکفیر پر متفق ہیں اور تمام مسلمان ان کی تکفیر پر متفق۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت بڑا بنیادی اختلاف ہےجس کو مسلمانوں کےباہمی فروعی اختلافات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
ان گروہوں کا مسئلہ ہمارے لئے صرف ایک دینیاتی مسئلہ ہے کہ آیا اپنےمخصوص عقائد کی بنا پر وہ اسلام کے پیرو سمجھے جاسکتے ہیں یا نہیں۔ اگر بالفرض وہ اسلام کے پیرو نہ بھی مانے جائیں تو جس جمود کی حالت میں وہ ہیں اس کی وجہ سےان کا مسلمانوں میں شامل رہتا ہمارےلئےنہ خطرہ ایمان ہے اور نہ کوئی معاشرتی،معاشی یا سیاسی مسئلہ ہی پیدا کرتا ہے۔ لیکن مسلمانوں میں قادیانی مسلک کی مسلسل تبلیغ ایک طرف لاکھوں ناواقف دین مسلمانوں کے لئے ایمان کا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اور دوسری طرف جس خاندان میں بھی ان کی یہ تبلیغ کارگر ہو جاتی ہے وہاں فورا ایک معاشرتی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ کہیں شوہر اور بیوی میں جدائی پڑ رہی ہے، کہیں باپ اور بیٹےایک دوسرے سے کٹ رہے ہیں، اور کہیں بھائی اور بھائی کے درمیان شادی و غم کی شرکت تک کے تعلقات منقطع ہو رہے ہیں، اس پر مزید یہ کہ قادیانیوں کی جتھے بندی سرکاری دفتروں میں، تجارت میں، صنعت میں، زراعت میں، غرض زندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہے جس سے معاشرتی مسئلے کے علاوہ اور دوسرے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ عبارات اپنی زبان سےخود کہہ رہی ہیں کہ کفار کی غلامی،جو مسلمانوں کےلئےسب سےبڑی مصیبت ہے ، مدعیان نبوت اور ان کے پیروؤں کے لئے وہی عین رحمت اور فضل ایزدی ہے، کیونکہ اس کے زیر سایہ ان لوگوں کو اسلام میں نئی نئی نبوتوں کے فتنے اٹھانے اور مسلم معاشرے کی قطع و برید کرنے کی آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔ اور اس کےبرعکس مسلمانوں کی اپنی آزاد حکومت،جو مسلمانوں کے لئے ایک رحمت ہے ، ان لوگوں کے لئے وہی ایک آفت ہے کیونکہ با اختیار مسلمان بہر حال اپنےہی دین کی تخریب اور اپنے ہی معاشرے کی قطع و برید کو بخوشی برداشت نہیں کر سکتے۔
یہ تقریر کسی تشریح کی محتاج نہیں ہےسوال یہ ہےکہ دوسرے گروہ جن کی موجودگی کا حوالہ دے کر قادیانیوں کو برداشت کرنےکا ہمیں مشورہ دیا جاتا ہےکیا ان میں سےبھی کوئی ایسا ہےجو اپنے مذہب کے لئے غیر مسلم اقتدار کو مفید سمجھتا ہو، اور مسلم اقتدار قائم ہوتے ہی ریاست کے اندر اپنی ایک ریاست بنانے کی فکر میں لگ گیا ہو ؟ اگر نہیں ہے تو پھر ان کی مثال قادیانیوں پر کیوں چسپاں کی جاتی ہے ؟
علیحدگی کے اسباب اکثریت نے نہیں بلکہ خود اقلیت نے پیدا کئے۔ عملاً اپنا الگ معاشرہ اس نے خود بنایا۔ اکثریت سے مذہبی و معاشرتی روابط اس نے خود توڑے۔ اس روش کا فطری تقاضا یہ تھا کہ وہ خود اس علیحدگی کو تسلیم کر لیتی جو اس نے فی الواقع اختیار کی ہے۔ اسے اگر تسلیم کرنے سے وہ گریز کرتی ہے تو یہ اس سے پوچھئے کہ کیوں گریز کرتی ہے۔ اور خدا نے آپ کو دیکھنے والی آنکھیں دی ہیں تو خود دیکھئے کہ آخر اپنے ہی عمل کے لازمی نتائج قبول کرنے سے اسے کیوں گریز ہے۔ اس کی نیت اگر دعا اور فریب سے کام چلانے کی ہے تو آپ کی عقل کہاں چلی گئی ہے۔ کہ آپ خود اپنی قوم کو اس کی دغابازی کا شکار بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
پھر چند سطور کے بعد لکھتے ہیں : "ہو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے۔کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجے کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں عمول درجے پر بٹھا دیا ہے۔ (1) اول والد مرحوم کے اثر نے(۲) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (۳) تیسرے خدا تعالی کے الہام نے ۔ ( ص ۳۰۹-۳۱۰)
آگے چل کر پھر لکھتے ہیں : "اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مزید بڑھیں گےویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے نیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لیتا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرتا ہے"۔ (ص ہے)
"سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ ہے جو تعلق ہے وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائدایک ہو گئے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔اور اس کو خدا نخواسته اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمے سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ (خلیفہ قادیان کا اعلان مندرجہ اخبار الفضال، ۲۷ جولائی ۱۹۱۸ء)
٥- اب یہ گروہ اپنے اس گہرے احساس کی بنا پر کہ پاکستان کا مسلم معاشرہ آزاد ہونےکے بعد زیادہ دیر تک اسے برداشت نہ کرے گا بہت تیوری کے ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ ایک طرف اس کے تمام وہ افراد جون ذمہ دار سرکاری عہدوں پر ہیں حکومت کے ہر شعبے میں اپنے آدمی بھر رہے ہیں،اور معاشی وسائل و ذرائع پر بھی قادیانیوں کا زیادہ سے زیادہ قبضہ کرا رہے ہیں تاکہ تھوڑی مدت ہی میں ان کی طاقت اتنی مضبوط ہو جائے کہ پاکستان کے مسلمان آزاد و مختار ہونے کے باوجود ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ دوسری طرف وہ اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ کم از کم بلوچستان پر قبضہ کر کے پاکستان کے اندر اپنی ایک ریاست بنالیں۔
تیسرےیہ کہ ان کا مسلمانوں کےاندر شامل رہ کر اسلام کےنام سےتبلیغ کرنا جس کی وجہ سے مسلمان یہ سمجھتے ہوئے بآسانی ان کے مذہب میں داخل ہو جاتے ہیں کہ وہ ملت اسلامیہ سے نکل کر کسی اور ملت میں نہیں جا رہے ہیں۔ یہ چیز قدرتی طور پر مسلمانوں میں اس سے زیادہ غصہ پیدا کرتی ہے جو عیسائیوں یا کسی دوسرے مذہب والے کی تبلیغ سے کسی مسلمان کے مرتد ہو جانے پر پیدا ہوتا ہے کیونکہ ان کی تبلیغ کسی مسلمان کو اس دھوکے میں مبتلا نہیں کرتی کہ وہ مسلمانوں میں سے نکل کر بھی مسلمانوں میں ہی شامل ہے۔
اس کےبعد جب ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی قوی کشمکش بڑھی تو کانگرس کے نیشنلسٹ لیڈروں کی نگاہ بھی قادیانیت کے "امکانات" پر پڑنی شروع ہو گئی۔یہ ۱۹۳۰ء کے لگ بھگ زمانہ کی بات ہے جب کہ ایک بہت بڑے ہندو لیڈر نےقادیانیت کی حمایت میں ڈاکٹر اقبال مرحوم سے مباحثہ فرمایا تھا اور ایک دوسرے نامور لیڈر نے علانیہ کہا تھا کہ مسلمانوں میں ہمارے نقطۂ نظر سے سب سے زیادہ پسندیدہ عنصر قادیانی ہیں۔ کیونکہ ان کا نبی بھی دیسی (Indigenous) ہے اور ان کے مقدس مقامات بھی اسی دیس میں واقع ہیں۔غرض اپنےمسلک خاص کی وجہ سےقادیانیوں کا سیاسی موقف ہےہی کچھ اس قسم کا کہ غیر مسلم ان کو فطرتاً پر امید نگاہوں سےاور مسلمان اندیش ناک نگاہوں سےدیکھتے ہیں۔ مسلمانوں میں ہمیشہ یہ عام خیال موجود رہا ہے کہ ملت اسلامیہ کی تخریب کےلئےخود اس ملت کےاندر سے جو عصر سب سےبڑھ کر دشمنان اسلام کا آلہ کار بن سکتا ہے وہ قادیانی عصر ہے۔ اور اس خیال کو جن باتوں نےتقویت پہنچائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں جب بغداد، بیت المقدس اور قسطنطنیہ پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو پوری مسلم قوم کے اندر وہ صرف قادیانی تھےجنہوں نے اس پر خوشیاں منائیں اور چراغاں کئے۔یہی نہیں بلکہ قادیانیوں کے خلیفہ صاحب نے علی الاعلان یہ فرمایا کہ انگریزی حکومت کی ترقی سے ہماری ترقی وابستہ ہے۔ جہاں جہاں یہ پھیلے گی ہمارے لئے تبلیغ کا میدان نکلتا آئے گا۔ ان باتوں کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قادیانیوں کے متعلق مسلمانوں کی عام بد گمانی بے وجہ ہے۔
٨- انگریزی دور میں مسلمان اس کی بہت کم امید رکھتے تھے کہ وہ قادیانیوں کو اپنےسے الگ کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو سکیں گے کیونکہ ایک بیرونی قوم سےقدرتی طور پر یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ مسلمانوں کے ایک معاشرتی مسئلہ کو ہمدردی کے ساتھ سمجھنےاور حل کرنے کی زحمت اٹھائے گی اور مسلمانوں کو یہ بھی احساس تھا کہ انگریز قادیانیوں کو قصداً مسلمانوں کے اندر شامل رکھنا چاہتےہیں تاکہ بوقت ضرورت مسلم مفاد کےخلاف ان کو آسانی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ مگر جب پاکستان ایک خود مختار ریاست کی حیثیت سے وجود میں آگیا تو مسلمانوں نے بجا طور پر اپنی قومی حکومت سے یہ توقع وابستہ کی کہ وہ دوسرے مسائل کی طرح قادیانیت کے مسئلہ کی طرف بھی توجہ کرے گی۔ جو پچاس برس سے ان کی ملت میں مسلسل تفرقہ بر پا کر رہی ہے اور جس کی بدولت ایک ہی قوم کےاندر دو ایسےعنصر پیدا ہو رہےہیں جو مذہبی معاشرتی،معاشی اور سیاسی حیثیت سے باہم متصادم اور نبرد آزما ہیں۔ پاکستان کی عمر کے ساتھ یہ توقع بڑھتی اور پھر بتدریج مایوسی اور بےچینی اور شکایت کی حد تک پہنچتی چلی گئی۔میں نے۱۹۵۰ ء اور ۱۹۵۱ء میں تقریبا پورے پنجاب کا دورہ کیا ہے اور شہروں کے علاوہ دیہاتی علاقوں تک بھی گیا ہوں۔ اس پورے دورے میں کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہا مجھ سےقادیانیت کےبارے میں سوال نہ کیا گیا ہو میں نے اس وقت یہ محسوس کر لیا تھا کہ جس مسئلہ کےمتعلق عام لوگوں کے دلوں میں یہ احساسات موجود ہوں اس کو اگر حل نہ کیا گیا تو وہ کبھی نہ کبھی ملک میں ایک فتنہ اٹھا کر رہے گا۔
کلیدی مناسب کا مفہوم اور مطالبہ علیحدگی کے لئے دلائل (ھ) قادیانیوں کو کلیدی مناصب سے ہٹانے کا جو مطالبہ کیا گیا ہے اس کی بنیاد بھی صرف یہ نظریہ نہیں ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلمانوں کو کلیدی مناصب پر مامور نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ مطالبہ اس بنا پر کیا گیا ہےکہ (۱) پچھلےدور میں انگریزوں کی غیر معمولی عنایات سے اور موجودہ دور میں پاکستان کےحکمرانوں کی غفلت اور بے حسی سے فائدہ اٹھا کر اس چھوٹے سے گروہ نے اپنی آبادی کےتناست سے بدرجہا زیادہ ملازمتوں پر قبضہ کر لیا ہے(۲) اس گروہ کاجو شخص بھی کسی اہم عہدے پر پہنچ گیا ہےاس نےاپنےہم مذہبوں کو بھرتی کرنےمیں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے(۳) اس گروہ کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اعلانیہ اپنے پیروؤں کو ہدایت کی ہے کہ ایک منصوبہ بنا کر تمام سرکاری محکموں میں گھنے کی کوشش کریں۔ (۴) اس گروہ کےبا اثر عمدہ داروں نے اکثر اپنے مذہب کی تبلیغ اس کی طرح کی ہے کہ جو ان کے دائرہ اثر میں ملازمت حاصل کرنا چاہے وہ قادیانیت قبول کر لے اور (۵) اب ان کےحوصلےیہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ اس راستے سے وہ پاکستان کی حکومت پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر مجبور ا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو کلیدی مناصب سےہٹایا جائےاس مطالبے کے سیاق و سباق میں کلیدی مناصب کا مفہوم وہ نہیں ہے جو غیر مسلمانوں کو کلیدی مناصب نہ دینےکے اسلامی نظریے میں ہے۔ بلکہ یہاں کلیدی منصب سے ہر وہ اہم عہدہ مراد ہے جس پر فائز ہو کر قادیانی گروہ کا کوئی شخص اپنے گروہ کو اسی طرح کےناجائز فائدے پہنچا سکتا ہو جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہےدر حقیقت جیسی کچھ صورت حال اس گروہ نے اپنی روش سے پیدا کر دی ہے اور اس کو اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو محسوس ہو گا کہ یہ مطالبہ اصلی ضرورت سےبہت کم ہے۔مطالبہ تو اس کے ساتھ یہ بھی ہونا چاہئے تھا کہ آئندہ دس سال کے لئےتمام محکموں میں قادیانیوں کی بھرتی بالکل بند کر دی جائے تاکہ موجودہ عدم توازن کی کیفیت دور ہو سکے۔
(د) بلاشبہ ایک حدیث میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے شخص کو کافر کہے اور وہ در حقیقت کافر نہ ہو تو کفر اسی شخص کی طرف پلٹ جائے گا جس نےاسے کافر کہا تھا۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جو کوئی میری تکفیر کرے میں جواب میں اس کی تکفیر کر ڈالوں۔ یہ بات نہ حدیث کے الفاظ سے نکلتی ہے، اور نہ آنحضرت ﷺ کا یہ منشا ہو سکتا تھا کہ جھگڑالو شخصیتوں کو تکفیر بازی کےلئے ایک ہتھیار فراہم کر دیں۔ حدیث کا نشا صرف یہ ہے کہ تکفیر کا فتوی دیتےہوئے آدمی کو ڈرنا چاہئے،کہیں ایسا نہ ہو کہ جس کی وہ تکفیر کر رہا ہو وہ حقیقت میں کافر نہ ہو اور خدا کے ہاں الٹا یہ مفتی ہی کفر بانٹنے کے جرم میں پکڑا جائے۔
(١) واضح رہے کہ دمشق کے لفظ پر مرزا صاحب سے پہلے کسی صاحب علم کو حیرانی نہیں پیش آئی۔ علم حدیث کے جتنے شارحین ہیں ان میں سے کسی کے کلام میں بھی حیرانی کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ البتہ مرزا صاحب کو ضرور یہ حیرانی لاحق رہی ہو گی کہ حدیث میں ایک مشہور و معروف مقام کی تصریح ہونے کے باوجود وہ کس طرح مسیح موجود نہیں ۔
٢٢- "حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازی الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سےسے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہوتا ہے۔ اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے، تو میں کہتا ہوں نصاری کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کہا جاتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے"۔ (کلمہ الفصل، صفحہ ۱۶۹)
| کتاب | قادیانی مسئلہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |