حقیقت یہ ہے کہ قادیانی تحریک نے ختم نبوت کی ان حکمتوں اور مصلحتوں کو اب تجربے سے ثابت کر دیا ہے جنہیں پہلے محض نظری حیثیت سے سمجھنا لوگوں کے لئےمشکل تھا۔ پہلے ایک شخص یہ سوال کر سکتا تھا کہ آخر کیوں محمد عربی ﷺ کی نبوت کےبعد دنیا سےہمیشہ کے لئے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔لیکن اب اس قادیانی تجربےنےعملاً یہ ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ کی وحدت اور استحکام کےلئے ایک نبی کی متابعت پر تمام کلمہ گویان توحید کو مجتمع کر دینا اللہ تعالی کی کتنی بڑی رحمت ہے اور نئی نئی نبوتوں کے دعوے کس طرح ایک امت کو پھاڑ کر اس کے اندر مزید امتیں بنانےاور اس کےاجزاء کو پارہ پارہ کر دینےکےموجب ہوتے ہیں۔اب اگر یہ تجربہ ہماری آنکھیں کھول دے اور ہم اس نئی امت کو مسلمانوں سے کاٹ کر الگ کر دیں تو پھر کسی کو نبوت کا دعوئی لے کر اٹھنے اور امت مسلمہ کے اندر پھر سے قطع و برید کا سلسلہ شروع کرنے کی ہمت نہ ہوگی ورنہ ہمارے اس ایک قطع و برید کو برداشت کر لینے کے معنی یہ ہوں گےکہ ہم ایسے ہی دوسرے بہت سے حوصلہ مندوں کی ہمت افزائی کر رہے ہیں۔ ہمارا آج کا محل کل دوسروں کے لئے نظیر بن جائے گا اور معاملہ ایک قطع و برید پر ختم نہ ہو گا۔بلکہ آئے دن ہمارے معاشرے کو نئی نئی پراگندگیوں کے خطرے سے دوچار ہونا پڑے گا۔
| کتاب | قادیانی مسئلہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |