قادیانی مسئلہ
قادیانی مسئله
گذشته ماه جنوری ۱۹۵۳ء میں پاکستان کے ۳۳ سر بر آوردہ علماء نے تازہ دستوری سفارشات پر غور و خوض کر کے جو اصلاحات اور جوابی تجاویز مرتب کی ہیں ان میں سے ایک اہم تجویز یہ بھی ہے کہ ان تمام لوگوں کو جو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو اپنا نہ ہی پیشوا مانتے ہیں، ایک جداگانہ اقلیت قرار دیا جائے اور ان کے لئے پنجاب سےمرکزی اسمبلی میں ایک نشست مخصوص کر دی جائے۔ جہاں تک علماء کی دوسری تجاویز کا تعلق ہے، ان کی معقولیت تو اتنی واضح ہے کہ علماء کے مخالفین کو بھی ان پر کچھ کہنے کی ہمت نہ ہو سکی اور اگر انہوں نے کچھ کہا بھی تو وہ جگر سوختہ کے دھوئیں سے زیادہ نہ تھا جس کا ملک کے پڑھے لکھے اور ذی فہم لوگوں کی نگاہ میں کوئی وزن نہیں ہو سکتا
لیکن اس خاص تجویز کے بارے میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ قادیانی مسئلے کا بہترین حل ہونے کے باوجود، تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ابھی تک اس کی صحت و معقولیت کی قائل نہیں ہو سکی ہے، اور پنجاب و بہاول پور کے ماسوا اور دوسرے علاقوں، خصوصاً بنگال میں، ابھی عوام الناس بھی پوری طرح اس کا وزن محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اس لئےہم چاہتے ہیں کہ ان صفحات میں پوری وضاحت کے ساتھ وہ دلائل بیان کر دیں جن کی بنا پر علماء نے بالاتفاق یہ تجویز پیش کی ہے۔
| کتاب |
قادیانی مسئلہ |
| مصنف |
مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت |
None |
| پبلشرز |
ادارہ |
| ٹیگ |
Qadyani
|