ابواب

قادیانی مسئلہ

لازمی نتیجه

٨- انگریزی دور میں مسلمان اس کی بہت کم امید رکھتے تھے کہ وہ قادیانیوں کو اپنےسے الگ کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو سکیں گے کیونکہ ایک بیرونی قوم سےقدرتی طور پر یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ مسلمانوں کے ایک معاشرتی مسئلہ کو ہمدردی کے ساتھ سمجھنےاور حل کرنے کی زحمت اٹھائے گی اور مسلمانوں کو یہ بھی احساس تھا کہ انگریز قادیانیوں کو قصداً مسلمانوں کے اندر شامل رکھنا چاہتےہیں تاکہ بوقت ضرورت مسلم مفاد کےخلاف ان کو آسانی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ مگر جب پاکستان ایک خود مختار ریاست کی حیثیت سے وجود میں آگیا تو مسلمانوں نے بجا طور پر اپنی قومی حکومت سے یہ توقع وابستہ کی کہ وہ دوسرے مسائل کی طرح قادیانیت کے مسئلہ کی طرف بھی توجہ کرے گی۔ جو پچاس برس سے ان کی ملت میں مسلسل تفرقہ بر پا کر رہی ہے اور جس کی بدولت ایک ہی قوم کےاندر دو ایسےعنصر پیدا ہو رہےہیں جو مذہبی معاشرتی،معاشی اور سیاسی حیثیت سے باہم متصادم اور نبرد آزما ہیں۔ پاکستان کی عمر کے ساتھ یہ توقع بڑھتی اور پھر بتدریج مایوسی اور بےچینی اور شکایت کی حد تک پہنچتی چلی گئی۔میں نے۱۹۵۰ ء اور ۱۹۵۱ء میں تقریبا پورے پنجاب کا دورہ کیا ہے اور شہروں کے علاوہ دیہاتی علاقوں تک بھی گیا ہوں۔ اس پورے دورے میں کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہا مجھ سےقادیانیت کےبارے میں سوال نہ کیا گیا ہو میں نے اس وقت یہ محسوس کر لیا تھا کہ جس مسئلہ کےمتعلق عام لوگوں کے دلوں میں یہ احساسات موجود ہوں اس کو اگر حل نہ کیا گیا تو وہ کبھی نہ کبھی ملک میں ایک فتنہ اٹھا کر رہے گا۔

کتاب قادیانی مسئلہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Qadyani