دینیات

باب ہفتم - شریعت کے احکام

شریعت کے احکام شریعت کے اصول حقوق کی چار قسمیں۔خدا کےحقوق- نفس کے حقوق ۔ بندوں کے حقوق۔ تمام مخلوقات کے حقوق ۔ عالمگیر اور دائمی شریعت ۔

اس آخری باب میں ہم شریعیت کے اصول اور خاص خاص احکام بیان کریں گے جن سے تم کو علم ہوگا کہ اسلامی شرعیت انسان کی زندگی کو کس طرح ایک بهترین ضابطہ کا پابند بناتی ہے۔ اور ا ضابطہ میں کیسی کیسی حکمتیں رکھی گئی ہیں۔

شریعت کے اصول تم اپنی حالت پر غور کرو گے توتم کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں تم بہت سی قوتیں لےکر آئےہو اور ہر قوت کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے کام لیا جائے۔تم میں عقل ہے ، ارادہ ہے ، خواہش ہے، بنائی ہے ، سماعت ہے ، ذائقہ ہے،ہاتھ پاؤں کی طاقت ہے،نفرت اور غضب ہے،شوق اور محبت ہے، خوف اور لالچی ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔ ہر چیز تم کو اس لیے دی گئی ہےکہ تم کو اس کی ضرورت ہے۔ دنیا میں تمھاری زندگی اور زندگی کی کامیابی اسی پر موقوف ہےکہ تمھاری طبیعت اور فطرت جو کچھ مانگتی ہے اس کو پورا کرو، اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ تم ان تمام قوتوں سے کام لوجو خدا نے تم کر دی ہیں۔

پھر تم دیکھو گے کہ متبنی قوتیں تمھارے اندر رکھی گئی ہیں ان سب سے کام لینے کے ذرائع بھی تم کو دیے گئےہیں۔سب سے پہلے تو خود تمھارا اپنا جسم ہے ہیں میں تمام ضروری آلات موجود ہیں ۔ اس کے بعد تمھارے گرد در پیش کی دنیا ہے میں میں ہر طرح کے بےشمار ذرائع پھیلے ہوتےہیں۔ تمھاری مدد کے لیےخود تمھاری اپنی جنس کے انسان موجود ہیں۔تمھاری خدمت کے لیےجانور ہیں،نباتات اورجمادات ہیں،زمین اور پانی اور ہوا اور حرارت اور روشنی اور ایسی ہی بےحدو حساب چیزیں ہیں۔خدا نے ان سب کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ تم ان سےکام لو اور زندگی بسر کرنےمیں ان سے مدد حاصل کرو۔

اب ایک دوسری حیثیت سےدیکھو۔ تم کو جو قوتیں دی گئی ہیں وہ فائدہ کے لیے دی گئی ہیں، نقصان کے لیے نہیں دی گئیں۔ ان کے استعمال کی صحیح صورت وہی ہو سکتی ہے جس سے صرف فائدہ ہو اور نقصان یا تو بالکل نہ ہو یا اگر ہو بھی تک سے کم و ناگزیر ہوں اس کے سوا جتنی صورتیں ہیں عقل کہتی ہے کہ وہ سب غلط ہونی چاہیں۔ مثلا اگرتم کوئی ایسا کام کر جس خود تم کو نقصان پہنچے تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ اگر تم اپنی کسی قوت سے ایسا کام لو جس سے دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچے تویہ بھی غلطی ہوگی ۔ اگر تم کسی قوت کو اس طرح استعمال کرو کہ جو وسائل تمھیں دیے گئے ہیں وہ فضول ضائع ہوں تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ تمھاری عقل خود بھی اس بات کی گواہی دے سکتی ہے کہ نقصان خواہ کسی قسم کا ہو بچنےکے لائق چیز ہے۔اور اس کو اگر گوارا کیا جا سکتا ہے تو صرف اسی صورت میں جب کہ اس سے بچنا یا تو ممکن ہی نہ ہو یا اس کے مقابلہ میں کوئی بہت بڑا فائدہ ہو۔

اس کے بعد اور آگے بڑھو۔ دنیا میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ جو قصداً اپنی لبعض قوتوں کو اس طرح استعمال کرتے ہیں جن سے یا تو خود انھی کی بعض دوسری قوتوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے، یا دوسرے انسانوں کو پہنچتا ہے، یا ان کے ہاتھوں وہ چیزیں فضول ضائع ہوتی ہیں جو محض فائدہ اٹھانے کےلیے ان کو دی گئی ہیں نہ کہ ضائع کرنے کے لیے ۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو قصداً تو ایسا نہیں کرتے مگر نا واقفیت کی وجہ سے ایسی غلطیاں ان سے ہو جاتی ہیں۔پہلی قسم کے لوگ شریر ہیں اور ان کے لیے ایسے قانون اور ضابطہ کی ضرور رہی ہےجوان کو قابو میں رکھے، اور دوسری قسم کےلوگ ناواقف ہیں اور ان کےلیےایسےعلم کی ضرورت ہےجس سے انھیں اپنی قوتوں کے استعمال کی صحیح صورت معلوم ہو جائے۔

خدا نےجو شریعت اپنے پیغمبر کےپاس بھیجی ہےوہ اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔وہ تمھاری کسی قوت کو ضائع کرنانہیں چاہتی، نہ کسی خواہش کو مٹانا چاہتی ہے،نہ کسی جذبہ کو فنا کرنا چاہتی ہے۔ وہ تم سے نہیں کہتی کہ دنیا کو چھوڑ دو جنگوں اور پہاڑوں میں جار ہو، بھوکے مرد اور ننگے پھر نفس کشی کر کے اپنےآپ کو تکلیفوں میں ڈالو اور دنیا کی راحت و آسائش کو اپنےاوپر حرام کرلو۔ ہرگز نہیں۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی شریعت ہےاور خدا وہی ہےجس نےیہ دنیا انسان کےلیےبنائی ہےوہ اپنےاس کارخانه کومٹانا اور بے رونق کرتا کیسے پسند کرے گا ؟ اس نے انسان کے اندر کوئی قوت بے کار و بے ضرورت نہیں رکھی ہے۔ نہ زمین و آسمان میں کوئی چیز اس لیے پیدا کی ہے کہ اس سے کوئی کام نہ لیا جائے۔ وہ تو خود یہ چاہتا ہے کہ دنیا کا یہ کارخانہ پوری رونق کے ساتھ چلے۔ ہر قوت سے انسان پورا پورا کام ہے۔ دنیا کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائے۔ اور ان تمام ذرائع کواستعمال کرے جو زمین و آسمان میں مهیا کیے گئے ہیں۔ مگر اس طرح کہ جہالت یا شرارت سے نہ خود اپنا نقصان کرے، نہ دوسروں کو نقصان پہنچائے۔خدا نےشریعت کےتمام ضابطے اسی غرض کےلیے بناتے ہیں۔ جتنی چیزیں انسان کے لیے نقصان دہ ہیں ان سب کو شریعت میں حرام کر دیا گیا ہے، اور جو چیزیں مفید میں ان کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ جن کاموں سے انسان خود اپنا یا دوسروں کا نقصان کرتا ہے ان کو شریعت ممنوع ٹھراتی ہے۔ اور ایسے تمام کاموں کی اجازت دیتی ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہوں اور کسی کے لیے نقصان دہ نہ ہوں اس کے تمام قوانین اس اصول پڑنی ہیں کہ انسان کو دنیا میں تمام خواہشیں اور ضرورتیں پوری کرنے اور اپنے فائدے کےلیےہر قسم کی کوشش کرنے کا حق ہے۔مگر اس حق سے اس کو اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے کہ جہالت اور شرارت سے وہ دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے بلکہ جہاں تک ممکن ہو دوسروں کے لیے معاون اور مددگار ہو۔ پھر جن کاموں میں ایک پہلو فائدے کا اور دوسرا پہلو نقصان کا ہو ان میں شریعیت کا اصول یہ ہے کہ بڑےفائدے کے لیے چھوٹے نقصان کو قبول کیا جائے ، اور بڑے نقصان سے بچنےکے لیے چھوٹے فائدے کو چھوڑ دیا جائے ۔

چونکہ ہر شخص ہر زمانے میں ہر چیز اور ہر کام کے متعلق یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا فائدہ اور کیا نقصان ہے،اس لیے خدا نے میں کے علم سے کائنات کا کوئی راز چھپا ہوا نہیں ہے، انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک صحیح ضابطہ بنا دیا ہے۔ اس ضابطہ کی بہت سی مصلحتیں اب سے صدیوں پہلے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں مگر اب علم کی ترقی نےان پر سےپردہ اٹھا دیا ہے۔ بہت سی مصلحتوں کو اب بھی لوگ نہیں سمجھتے، مگر جتنا لم ترقی کرے گا وہ ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔ جولوگ خود اپنےناقص علم اور اپنی ناقص عقل پر بھروسہ رکھتےہیں وہ صدیوں تک غلطیاں کرنےاور ٹھوکریں کھانے کےبعد آخر کار اسی شریعیت کےکسی نہ کسی قاعدے کو اختیار کرنےپر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے خدا کے رسول پر بھروسہ کیا ہے وہ جہالت اور ناواقفیت کے نقصانات سےمحفوظ ہیں، کیونکہ ان کو خواہ مصلحتوں کا علم ہو یا نہ ہو وہ ہر حال میں محض رسول خدا کے اعتماد پر ایک ایسےقانون کی پابندی کرتےہیں جو خالص اور صحیح علم کے مطابق بنایا گیا ہے ۔

حقوق کی چار قسمیں شریعت کی رو سے ہر انسان پر چار قسم کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ ایک خدا کے حقوق، دوسرے خود اس کے نفس اور جسم کے حقوق ، تیسرے بندوں کے حقوق،چوتھے ان چیزوں کے حقوق جن کو خدا نے اس کے اختیار میں دیا ہے تاکہ وہ ان سے کام لے اور قائدہ اٹھا ئے۔ ابھی چار حقوق کو سمجھنا اور ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ایک پیچھےمسلمان کا فرض ہے۔ شریعت ان تمام حقوق کو الگ الگ بیان کرتی ہےاور ان کو ادا کرنے کے لیے ایسے طریقے مقرر کرتی ہے کہ ایک ساتھ سب حقوق ادا ہوں اور حتی الامکان کوئی حق تلف نہ ہونے پائے ۔

خدا کے حقوق خدا کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ انسان صرف اسی کو خدا مانے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔یہ حق کلمہ لا الہ الا اللہ پر ایمان لانے سےادا ہو جاتا ہے، جیساکہ ہم پہلے تم کو بتا چکے ہیں۔

خدا کا دوسرا حق یہ ہےکہ جو ہدایت اس کی طرف سےآئےاس کو سچےدل سے تسلیم کیا جائے ۔ یہ حق محمد رسول اللہ پر ایمان لانے سے ادا ہوتا ہے اور اس کی تفصیل بھی ہم نے تم کو پہلے بتادی ہے ۔

خدا کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے ۔ یہ حق اس قانون کی پیروی سے ادا ہوتا ہے جو خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں بیان ہوا ہےاس کی طرف بھی ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔

خدا کا چوتھا حق یہ ہےکہ اس کی عبادت کی جائے۔اسی حق کو ادا کرنے کےلیے وہ فرائض انسان پر عائد کیے گئے ہیں جن کا ذکر پچھلےباب میں کیا گیا ہے۔چونکہ یہ حق تمام حقوق پر مقدم ہے اس لیے اس کو ادا کرنے میں دوسرے حقوق کی قربانی کسی نہ کسی حد تک ضروری ہے۔ مثلا نماز روزہ وغیرہ فرائض کو ادا کھنےمیں انسان خود اپنے نفس اور حجیم کےبہت سےحقوق قربان کرتا ہےنماز کے لیےانسان صبح اٹھتا ہے اور ٹھنڈے پانی سے وضو کرتا ہے۔ دن اور رات میں کئی بار اپنے ضروری کام اور اپنی دلچسپ تفریحات کو چھوڑتا ہے۔ رمضان میں مہینہ بھر بھوک پیاس اور خواہشات کو روکنےکی تکلیف اٹھاتا ہے۔ زکواۃ ادا کرنے میں اپنےمال کی محبت کو خدا کی محبت پر قربان کرتا ہے۔ حج میں سفر کی تکلیف اور مال کی قربانی گوارا کرتا ہے۔جہاد میں خود اپنی جان اور مال قربان کر دیتا ہے۔اسی طرح دوسرےلوگوں کےحقوق بھی خدا کے حق پر کم وبیش قربان کیے جاتے ہیں۔ مثلا نماز میں ایک لازم اپنے آن کا کام چھوڑ کر اپنے بڑے آقا کی عبادت کے لیے جاتا ہے۔ حج میں ایک شخص سارے کارو بار ترک کرکے مکہ معظمہ کا سفرکرتا ہے اور اس میں بہت سےلوگوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ جہاد میں انسان محض خدا کی خاطر جان لیتا ہےاور جان دیتا ہے ۔ اسی طرح بہت سی وہ چیزیں بھی اللہ کے حق پر خدا کی جاتی ہیں جو انسان کے اختیار میں میں مثلا جانوروں کی قربانی اور مال کا صرفہ ۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنےحقوق کےلیےایسی حدیں مقرر کر دی ہیں کہ اس کےجس حق کو ادا کرنے کے لیے دوسرے حقوق کی جتنی قربانی ضروری ہے اُس سے زیادہ نہ کی جائے مثلا نماز کو لو۔خدا نے جو نمازیں تم پر فرض کر دی ہیں ان کو اداکرنےمیں ہر طرح کی سہولتیں رکھی ہیں۔وضو کےلیےپانی نہ ملےیا ہیمار ہو تو تیمم کرلو۔سفر میں ہوتو نماز قص کر دو۔ پیار ہوتو بیٹھ کر بالٹ کر پڑھ لو پھر نمازمیں جوکچھ پڑھا جاتا ہےوہ بھی اتنا زیادہ نہیں ہے کہ ایک وقت کی نماز میں چند منٹ سے زیادہ صرف ہوں۔سکون کے اوقات میں انسان چاہے تو پوری سورہ بقرہ پڑھ لے مگر کاروبار کےاوقات میں لمبی نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ہے ۔ پھر فرض نمازوں سے بڑھ کر اگر کوئی شخص نفل نمازیں پڑھنا چاہے تو خدا اس سے خوش ہوتا ہے ۔ مگر خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم راتوں کی نیند اور دن کا آرام اپنے اوپر حرام کرلو، یا اپنی روزی کمانے کےاوقات کو نمازیں پڑھنے میں صرف کر دو ، یا بندگان خدا کے حقوق تلف کر کےنمازیں پڑھتے چلے جاؤ۔

اس طرح روزے میں بھی ہرقسم کی آسانیاں کی گئی ہیں۔ صرف سال میں ایک مہینہ کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ وہ بھی سفر کی حالت میں اور بیماری میں قضا کیے جا سکتے ہیں۔ اگر روزہ دار بیمار ہو جائےاور جان کا خوف ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے۔روزے کےلیےجتنا وقت مقرر کیا گیا ہے اس میں ایک منٹ کا اضافہ کرنا بھی درست نہیں۔ سحری کےآخری وقت تک کھانےکی اجازت ہے اور افطار کا وقت آتے ہی فورا روزہ کھول لینےکا حکم ہے۔فرض روزوں کےعلاوہ اگر کوئی شخص نفل روزےرکھےتو یہ خدا کی مزید خوشنودی کاسب ہوگا مگر خدا اس کو پسند نہیں کرتا کہ تم پےدر پےروزے رکھتےچلےجاؤ اور اپنےآپ کو اتنا کمزور کر لو کہ دنیا کے کام کاج نہ کر سکوں۔

زکواۃ کےلیے بھی خدا نےکم سے کم مقدار مقرر کی ہے۔اور وہ بھی اُن لوگوں پر فرض ہےجو بقدر نصاب مال رکھتےہیں۔اس سےزیادہ اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں صدقہ و خیرات کرے توخدا اس سے خوش ہوگا مگر خدا یہ ہیں چاہتا کہ تم اپنے نفس اور اپنے متعلقین کے حقوق کو قربان کر کے سب کچھ صدقہ و خیرات میں دےڈالو اور خود تنگ دست ہو کر بیٹھ رہو۔اس میں بھی اعتدال برتنےکا حکم ہے ۔

پھر حج کو دیکھو۔ اول تویہ فرض ہی ان لوگوں پر کیا گیا ہےزاد راہ رکھتےہوں اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے قابل ہوں ۔ پھر اس میں مزید آسانی یہ رکھی گئی ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ جب سہولت ہو جا سکتےہو۔ اور اگر راستہ میں لڑائی ہو رہی ہو یا بدامنی ہو کہ جان کا خطرہ غالب ہو تو حج کا ارادہ ملتوی کر سکتے ہو۔ اس کے ساتھ والدین کی اجازت بھی ضروری قرار دی گئی ہے تا کہ بوڑھے ماں باپ کو تمھاری غیر موجودگی میں تکلیف نہ ہو۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق میں دوسروں کے حقوق کا کس قدر لحاظ رکھا ہے۔

اللہ کے حق پر انسانی حقوق کی سب سے بڑی قربانی جہاد میں کی جاتی ہے کیونکہ اس میں انسان اپنی جان اور مال بھی خدا کی راہ میں فدا کرتا ہے اور دوسروں کی جان ومال کو بھی قربان کر دیتا ہے مگر جیسا کہ ہم نےاوپر تھیں بتایا ہے، اسلام کا اصول یہ ہےکہ بڑے نقصان سےبچنےکےلیےچھوٹے نقصان کو گوارا کرنا چاہیے۔اس اصول کو پیش نظر کھو اور پھر دیکھو کہ چند سویاچند بزار یا چند لاکھ آدمیوں کےہلاک ہو جانے کی بہ نسبت بدر ہا زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ حق کے مقابلہ میں باطل کو فروغ ہو، خدا کا دین کفر و شرک اور دہریت کے مقابلہ میں دب کر رہے اور دنیا میں گمراہیاں اور بد اخلاقیاں پھیلیں۔ لہذا اس بڑے نقصان سےبچنےکےلیے اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو حکم دیا کہ جان و مال کےکم تر نقصان کو ہماری خوشنودی کے لیے گوارا کرلو ، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جتنی خونریزی ضروری ہے اس سے زیادہ نہ کرو ۔ بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں اور زخمیوں اور بیماروں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ ، صرف ان لوگوں سےلڑو جو باطل کی حمایت میں تلوار اٹھاتےہیں۔دشمن کےملک میں بلا ضرورت تباہی و بربادی نہ پھیلاؤ دشمنوں پر فتح پاؤ تو ان کےساتھ انصاف کرد کسی بات پر ان سےمعاہدہ ہو جائےتو اس کی پابندی کرو ۔جب وہ حق کی دشمنی سے باز آجائیں تو لڑائی بند کر دو۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ خدا کاحق ادا کرنے کے لیے انسانی حقوق کی جتنی قربانی ضروری ہے اس سے زیادہ قربانی کو جائز نہیں رکھا گیا۔

نفس کے حقوق اب دوسری قسم کے حقوق کولو ، لعینی انسان پر خود اس کے اپنےنفس اور جسم کے حقوق ۔

شاید تم کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ انسان سب سےبڑھ کر خود اپنےاوپر ظلم کرتا ہے۔یہ واقعی حیرت انگیز ہے بھی۔کیونکہ ظاہر میں تو ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ اپنے آپ سے محبت ہے اور شاید کوئی شخص بھی اس بات کا اقرار نہ کرے گا کہ وہ اپنا آپ ہی دشمن ہے۔ لیکن تم ذرا غور کرو گے تو اس کی حقیقت تم کو معلوم ہو جائے گی۔

انسان میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس پر جب کوئی خواہش غالب ہو جاتی ہے تو وہ اس کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی خاطر جان بوجھ کر، یا بے پینےبو مجھے اپنا بہت کچھ نقصان کر لیتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ ایک شخص کو نشہ کی چاٹ لگ گئی ہےتو وہ اس کےپیچھےدیوانہ ہو رہا ہےاور صحت کا نقصان؟ روپے کانقصان ، عزت کا نقصان،غرض ہر چیز کا نقصان گوارا کیے جاتا ہے۔ایک دوسرا شخص کھانے کی لذت کا ایسا دلدادہ ہے کہ ہرقسم کی الا بل کھا جاتا ایک دوسرا شخص کھانے کی لذت کا ایسا دلدادہ ہےکہ ہرقسم کی الا بل کھا جاتا کا بندہ بن گیا ہے اور ایسی حرکتیں کر رہا ہے جن کا لازمی نتیجہ اس کی تباہی ہے۔ایک چوتھے شخص کو روحانی ترقی کی دھن سمائی ہے تو وہ اپنی جان کے پیچھےہاتھ دھو کر پڑ گیا ہے ، اپنے نفس کی تمام خواہشات کو دبارہا ہے ، اپنے جسم کی ضروریات کو پورا کرنے سے انکار کر رہا ہے ، شادی سے بچتا ہے، کھانے پینےسے پر ہیز کرتا ہے، کپڑے پہنے سے انکار کرتا ہے حتی کہ سانس لینے پر بھی ماضی نہیں ۔ جنگوں اور پہاڑوں میں جابیٹھتا ہےاور یہ سمجھتا ہے کہ دنیا اس کے لیےبنائی ہی نہیں گئی ہے۔ ہم نے محض مثال کے طور پر انسان کی انتہا پسندی کےیہ چند نمونے پیش کیے ہیں، اور نہ اس کی بے شمار صورتیں ہیں جن کو ہم رات دن اپنے گردو پیش دیکھ رہے ہیں ۔

اسلامی شریعت چونکہ انسان کی فلاح و بہبود چاہتی ہے اس لیے وہ اس کو خبر دار کرتی ہے کہ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق (تیرے اوپر خود تیرے اپنےبھی حقوق ہیں)۔

وہ ان تمام چیزوں سےاس کو روکتی ہے جو اس کو نقصان پہنچانےوالی ہیں۔مثلاً شراب،تاڑی، افیون اور دوسری نشہ آور چیزیں ، سور کا گوشت درندے اور زہریلے جانور، ناپاک حیوانات ، خون اور مردار جانور وغیرہ،کیوں کہ انسان کی صحت اور اخلاق اور عقلی و روحانی قوتوں پران چیزوں کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ان کےمقابلہ میں وہ پاک اور مفید چیزوں کو اس کےلیےحلال کرتی ہےاور اس سے کہتی ہے کہ تو اپنے جسم کو پاک غذاؤں سے محروم نہ کر کیونکہ تیرے جسم کا تیرے اوپر حق ہے ۔

وہ اس کو ننگا رہنے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ خدا نےتیرے جسم کے لیے جو زینت (لباس) اتاری ہے اس سے فائدہ اٹھا،اور اپنے جسم کے ان حصوں کو ڈھانک کر رکھ جنھیں کھولنا بے شرمی ہے۔

وہ اس کو روزی کمانے کا حکم دیتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ بیکار نہ بیٹھ ، بھیک نہ مانگ، بھوکانه مرا خدا نے جو قو تیں تجھے دی ہیں اُن سے کام لے اور جس قدر ذرائع زمین و آسمان میں تیری پرورش اور آسائش کے لیےپیدا کیے گئے ہیں ان کو جائز طریقوں سے حاصل کر ۔

وہ اس کو نفسانی خواہشات کے دہانے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نکاح کر۔

وہ اس کو نفس کشی سےمنع کرتی ہےاور اسےکہتی ہےکہ تو آرام آسانش اور زندگی کےلطف کو اپنے اوپر حرام نہ کرےاگر تو روحانی ترقی اور خدا سےقربت اور آخرت کی نجات چاهتا ہےتو اس کےلیےدنیاچھوڑنے کی ضرورت نہیں،اسی دنیا میں پوری اور پنکی دنیا داری کرتےہوئےخدا کو یاد کرنا اور اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور اس کےبنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرنا دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔

وہ خود کشی کو حرام کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تیری جان دراصل خدا کی ملک ہے اور یہ امانت سمجھے اس لیے دی گئی ہے کہ تو خدا کی مقدر کی ہوئی مدت تک اس سے کام لے،نہ اس لیے کہ اس کو ضائع کردیے۔

بندوں کے حقوق ایک طرف شریعت نے انسان کو اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرتےکا حکم دیا ہے ، تو دوسری طرف یہ بھی قید لگادی ہے کہ ان حقوق کو ادا کرنےمیں وہ کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کرےجس سے دوسرے لوگوں کےحقوق متاثر ہوں۔کیونکہ اسطرح اپنی خواہشات اور ضرورتیں پوری کرنےسےانسان کا اپنانفس بھی گندہ ہوتا ہےاور دوسروں کو بھی طرح طرح کےنقصانات پہنچتےہیں۔چنانچه شریعت نےچوری،لوٹ مار،رشوت،خیانت سود خواری اور جعلسازی کو حرام کیا ہےکیونکہ ان ذرائع سےانسان جو کچھ بھی فائدہ اٹھاتا ہے وہ دراصل دوسروں کے نقصان سے حاصل ہوتا ہے۔جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور بہتان تراشی کو بھی حرام کیا ہے۔کیونکہ یہ سب افعال دوسروں کےلیےنقصان رساں ہیں۔جوئےسنتےاور لاٹری کو بھی حرام کیا ہے۔کیونکہ اس میں ایک شخص کا فائدہ ہزاروں آدمیوں کےنقصان پر مبنی ہوتا ہے دھوکےاور فریب کےلین دین اورایسےتمام تجارتی معاہدات کو بھی حرام کیا ہےجن میں کسی ایک فریق کو نقصان پہنچنےکا امکان ہو۔ قتل اور فتنہ و فساد و بھی حرام کیا ہے۔کیونکہ ایک شخص کو اپنےکسی فائدے یا اپنی کسی خواہش کی تسکین کے لیے دوسروں کی جان لینے یا ان کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے ۔ زنا اور عمل قوم لوط کو بھی حرام کیا ہے،کیونکہ یہ افعال ایک طرف خود اُس شخص کی صحت کو خراب اور اس کے اخلاق کو گندہ کرتے ہیں جو ان کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسری طرف ان سے تمام سوسائٹی میں بےحیائی اور بد اخلاقی پھیلتی ہے،گندی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،نسلیں خراب ہوتی ہیں،فتنے برپا ہوتے ہیں،انسانی تعلقات بگڑتے ہیں،اور تہذیب و تمدن کی جڑ کٹ جاتی ہے۔

یہ تو وہ پابندیاں ہیں جو شریعیت نے اس غرض سے لگاتی ہیں کہ ایک شخص اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے۔ عمر انسانی تمدن کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو نقصان نہ پہنچائے ۔ بلکہ اس کےلیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں میں باہمی تعلقات اس طرح قائم کیے جائیں کہ وہ سب ایک دوسرے کی بہتری میں مدد گار ہوں۔ اس غرض کے لیےشریعت نے جو قوانین بناتے ہیں ان کا محض ایک خلاصہ ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔

انسانی تعلقات کی ابتدا خاندان سے ہوتی ہے۔اس لیےسب سےپہلےاس پر نظر ڈالو۔خاندان در اصل اس مجموعہ کو کہتےہیں جو شوہر بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اس کےلیےاسلامی قاعدہ یہ ہےکہ روزی کمانا اور خاندان کی ضروریات مہیا کرنا اور اپنےبیوی بچوں کی حفاظت کرنا مرد کا فرض ہے۔اور عورت کافرض یہ ہےکہ مرد جو کچھ کما کر لائےاس سےوہ گھر کا انتظام کرے،شوہر اور بچوں کو زیادہ سےزیادہ آسائش بہم پہنچائےاور بچوں کی تربیت کر ہے۔اور بچوں کا فرض یہ ہےکہ ماں باپ کی اطاعت کریں ان کا ادب ملحوظ رکھیں اور جب بڑےہوں تو ان کی خدمت کریں۔خاندان کے اس انتظام کو درست رکھنے کےلیےاسلام نے دو تدبیریں اختیار کی ہیں۔ایک یہ کہ شوہر اور باپ کوگھر کا حاکم مقرر کردیا ہے،کیونکہ جس طرح ایک شہر کاانتظام ایک حاکم کےبغیر اور ایک مدرسہ کا انتظام ایک ہیڈ ماسٹر کےبغیر درست نہیں رہ سکتا،اسی طرح گھر کا انتظام بھی ایک حاکم کےبغیر درست نہیں رہ سکتا جس گھر میں ہر ایک اپنی مرضی کا مختار ہوگا، اس گھر میں خواہ مخواہ افراتفری پیچھےگی۔ آسائش اور خوشی نام کو نہ رہے گی۔ شوہر ایک طرف تشریف لےجائیں گےبیوی دوسری طرفت کا راستہ لے گی اور بچوں کی مٹی پلید ہوگی۔ ان سب خرابیوں کو دور کرنے کے لیے گھر کا ایک حاکم ہونا ضروری ہے،اور وہ مرد ہی ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ گھروالوں کی پرورش اور حفاظت کا ذمہ دار ہے۔دوسری تدبیر یہ ہےکہ گھر سےباہر کے سب کاموں کا بوجھ مرد پر ڈال کر عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ بلاضرورت گھر سے باہر نہ جائے۔اس کو بیرون خانہ کے فرائض سےاسی لیےسبکدوش کیا گیا ہےکہ وہ اندرون خانہ کے فرائض انجام وے اور اس کے باہر نکلنےسےگھر کی آسائش اور بچوں کی تربیت میں خلل نہ واقع ہو۔اس کا مطلب نہیں ہے کہ عورتیں بالکل گھر سے باہر قدم ہی نہ نکالیں۔ضرورت پیش آنےپر ان کو جانےکی اجازت ہے۔مگر شریعت کا منشا یہ ہےکہ ان کے فرائض کا اصلی دائرہ ان کا گھر ہونا چاہیے اور ان کی قوت تمام تو گھر کی زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہونی چاہیے۔

خون کے رشتوں اور شادی بیاہ کے تعلقات سے خاندان کا دائرہ پھیلتا ہے۔ اس دائرے میں جو لوگ ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں ان کے تعلقات درست رکھنےاور ان کو ایک دوسرے کا مددگار بنانےکے لیے شریعیت نے مختلف قاعدے مقرر کیے ہیں جو بڑی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے چند قاعدے یہ ہیں :

(١) جن مردوں اور عورتوں کو فطرتاً ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہنا پڑتا ہے ان کو ایک دوسرے کے لیے حرام کر دیا ہے مثلا ماں اور بیٹا،باپ اور بیٹی، سوتیلی بیٹی اور سوتیلا باپ ، سوتیلی ماں اور سوتیلا بیٹا ، بھائی اور بہن ، دودھ شریک بھائی اور بہن، چچا اور بھتیجی ، پھوپھی اور بھتیجا ، ماموں اور بھانجی، خالہ اور بھانجا ، ساس اور داماد ، خسر اور بہو ۔ ان سب رشتوں کو حرام کرنے کے بے شمار فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایسےمرد اور عورتوں کےتعلقات نہایت پاک رہتے ہیں اور وہ خالص محبت کے ساتھ بے اول اور بے تکلفت ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔

(٢) حرام رشتوں کے علاوہ کہنے کے دوسرے مردوں اور عورتوں کےدرمیان شادی بیاہ کو جائز قرار دیا گیا تاکہ آپس کےتعلقات اور زیادہ بڑھیں۔جو لوگ ایک دوسرےکی عادتوں اور خصلتوں سے واقف ہوتے ہیں اُن کےدرمیان شادی بیاہ کا تعلق زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔اجنبی گھرانوں میں جوڑ لگانےسےاکثر نا موافقت کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے اسلام میں گف والے کو غیر کف پر ترجیح دی گئی ہے۔

(٣) کنبےمیں غریب اور امیر، خوشحال اور بد حال سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ہر شخص پر سب سے زیادہ حق اس کےرشتہ داروں کا ہے۔اس کا نام شریعت میں صلہ رحمی ہے جس کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رشتہ داروں سے بے وفائی کرنے کو قطع رحمی کہتے ہیں اور یہ اسلام میں بہت بڑا گناہ ہےکوئی قرابت دار مفلس ہو یا اس پر کوئی مصیبت آئےتو خوشحال عزیزوں کافرض ہےکہ اس کی مدد کریں۔ صدقہ و خیرات ہیں بھی خاص طور پر رشتہ داروں کے حق کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

(٤) وراثت کا قانون بھی اس طرح بنایا گیا ہےکہ جو شخص کچھ مال چھوڑ کر مرےخواہ وہ کم ہو یا زیادہ،ہر حال وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائےبلکہ اس کے رشتہ داروں کو تھوڑا یا بہت حصہ پہنچ جائے۔ بیٹا،بیٹی،بیوی،شوہر،ماں،باپ، بھائی،بہن،انسان کےسب سےزیادہ قریبی قدار ہیں۔اس لیے وراثت میں پہلے ان ہی کے حصے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوں تو ان کے بعد جو رشتہ دار قریب تر ہوں ان کو حصہ پہنچا ہے ، اور اس طرح ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی دولت بہت سےعزیزوں کے کام آتی ہے۔ اسلام کا یہ قانون دنیا میں بےنظیر قانون ہے اور اب دوسری قومیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں۔ مگر افسوس کہ مسلمان اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اکثر اس قانون کی خلاف ورزی کرنےلگےہیں۔خصوصاً لڑکیوں کا حصہ نہ دینےکی رسم پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت پھیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور قرآن کے صریح احکام کی مخالفت ہے۔

خاندان کے بعد انسان کے تعلقات اپنے دوستوں ، ہمسایوں ، اہل محلہ،اہل شہر اور اُن لوگوں کے ساتھ ہوتےہیں جن سے اس کو کسی نہ کسی طرح کےمعاملات پیش آتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ راستبازی انصاف اور حسین اخلاق بر تو کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ کسی کی دل آزاری نہ کرو۔ فحش گوئی اور بدکلامی سےبچو۔ایک دوسرے کی مدد کرو۔بیماروں کی عیادت کےلیے جاؤ۔کوئی مرجائے تو اس کےجنازے میں شریک ہو کسی پر مصیبت آئےتو اس سے ہمدردی کرو.جو غریب محتاج ، معذور لوگ ہوں ان کو ڈھانک چھپ کر مدد پہنچاؤ۔قیموں اور بیواؤں کی خبرگیری کرو،بھوکوں کو کھانا کھلاؤ بنوں کو کپڑے پہناؤ بےکاروں کو کام پر لگانے میں مدد دو ۔اگرتم کو خدا نےدولت دی ہےتو اس کو صرف اپنے عیش میں نہ اڑا دو ۔ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنا اور ریشمی لباس پہننا اور اپنے روپے کو فضول تفریحوں، آسائشوں میں ضائع کرنا اسی لیے اسلام میں ممنوع ہے کہ جو دولت ہزاروں بندگان خدا کو رزق ہم پہنچا سکتی ہے اسے کوئی شخص صرف اپنے ہی اوپر خرچ نہ کردے۔یہ ایک ظلم ہے کہ جس روپےسےبہتوں کےپیٹ پل سکتےہوں وہ محض ایک زیور کی شکل میں تمھارےجسم پر لٹکا ر ہے، یا ایک برتن کی شکل میں تمھاری میز پر سجا کرے ، یا ایک قالین بنا ہوا تمھارے کمرے میں پڑا رہے ، یا آتشبازی بن کر آگی میں مل جائے۔اسلام تم سےتمھاری دولت چھینا نہیں چاہتا۔جو کچھ تم نے کمایا ہے یا ورثہ میں پایا ہے اس کے وارث تم ہی ہو۔ وہ تمھیں اس بات کا پوراحتی دیتا ہے کہ اپنی دولت سے لطف اٹھاؤ،وہ اس کو بھی جائز رکھتا ہے کہ جو نعمت خدا نے تم کو دی ہے اس کا اثر تمھارے لباس اور مکان اور سواری میں ظاہر ہو۔مگر اس کی تعلیم کا مقصد یہ ہےکہ تم ایک سادہ اور معتدل زندگی اختیار کرو۔اپنی ضرورتوں کو حد سے نہ بڑھاؤ اور اپنے نفس کے ساتھ اپنے عزیزوں،دوستوں ، ہمسایوں، اہل قوم اور اہل ملک اور عام انسانوں کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔

ان چھوٹے دائروں سے نکل کر اب بڑے دائرے پر نظر ڈالو، جو تمام دنیا کے مسلمانوں پر عادی ہے ۔ اس دائرے میں اسلام نے ایسے قوانین اور ضابطے مقرر کیے ہیں جن سے مسلمان ایک دوسرے کی بھلائی میں مددگار ہوں اور برائیاں رونما ہونے کی صورتیں جہاں تک ممکن ہو پیدا ہی نہ ہونے دی جائیں۔مثال کے طور پر ان میں سے چند کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں۔

(١) قومی اخلاق کی حفاظت کےلیےیہ قاعدہ مقرر کیا ہےکہ جن عورتوں اور مردوں کےدرمیان حرام رشتے نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سےآزادانہ میل جول نہ رکھیں۔عورتوں کی سوسائٹی الگ رہےاور مردوں کی انگ عورتیں زیادہ تر خانگی زندگی کےفرائض کی طرف متوجہ رہیں۔اگر ضرورتاً باہر نکلیں تو بناؤ سنگھار کےساتھ نہ نکلیں۔سادہ کپڑےپہن کر آئیں۔جسم کو اچھی طرح ڈھانگیں چہرہ اور ہاتھ اگر کھولنےکی شدید ضرورت نہ ہو توان کو بھی چھپائیں۔اور اگر واقعی کوئی ضرورت پیش آجائے تو صرف اس کو پورا کرنےکےلیےہاتھ منہ کھولیں۔اس کےساتھ مردوں کو حکم دیا کہ غیر عورتوں کی طرف دیکھنےسےپر ہیز کریں ۔ اچانک نظر پڑ جائے تو نظر ہٹا لیں۔ دوبارہ دیکھنےکی کوشش کرنا معیوب ہے اور ان سےملنے کی کوشش معیوب تر۔ہر مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی حفاظت کرے اور خدا نے خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کےلیےنکاح کا ہو دائرہ مقرر کر دیا ہےاس سےباہر نکلنےکی کوشش کیا معنی، خواہش بھی اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں۔

(٢) قومی اخلاق ہی کی حفاظت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ کوئی مرد گھٹنےاور ناف کے درمیان کا حصہ،اور کوئی عورت چہرے اور ہاتھ کےسوا اپنے جسم کا کوئی حصہ کسی کے سامنے نہ کھولے خواہ وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس کو شریعت کی زبان میں ستر کہتےہیں اور اس کا چھپانا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہےکہ لوگوں میں حیا کا مادہ پیدا ہو اور وہ بے حیائیاں نہ پھیل سکیں جن سے آخر کار بد اخلاقی پیدا ہوتی ہے ۔

(٣) اسلام ایسی تفریحوں اور شغلوں کو بھی پسند نہیں کرتا جو اخلاق کو خراب کرنے والے اور بڑی خواہشات کو ابھارنے والے اور وقت اور صحت اورروپے کو ضائع کرنے والے ہوں ۔ تفریح بجائے خود نہایت ضروری چیز ہےانسان میں زندگی کی روح اور عمل کی طاقت پیدا کرنے کے لیے کام اور محنت کے ساتھ اس کا ہونا بھی لازم ہے۔ مگر وہ ایسی ہونی چاہیے جوروح کو تازہ کرنے والی ہو نہ کہ اور زیادہ غلیظ اور کثیف بنانے والی۔ بیہودہ تفریحیں جن میں ہزاروں آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر جرائم کے فرضی واقعات اور بے شرمی کے نظارے دیکھتے ہیں، تمام قوموں کے اخلاق و عادات کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں ، خواہ بظا ہر کیسی ہی خوش نما ہوں ۔

(٤) قومی اتحاد اور فلاح و بہبود کےلیےمسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ آپس کی مخالفت سےبچیں۔فرقہ بندی سےپرہیز کریں۔ کسی معاملہ میں اختلاف اپنےہو تو نیک نیتی کےساتھ قرآن اور حدیث سے اس کا فیصلہ کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر تصفیہ نہ ہو سکے تو آپس میں لڑنے کے بجائے خدا پر اس کا فیصلہ چھوڑ دیں۔قومی فلاح و بہبود کےکاموں میں ایک دوسرےکی معاونت کریں۔اپنی قوم کے سرداروں کی اطاعت کرتے رہیں جھگڑے برپا کرنےوالوں سے الگ ہو جائیں اور آپس کی لڑائیوں سے اپنی طاقت کو برباد اور اپنی قوم کو رسوا نہ کریں۔

(٥) مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں سے علوم و فنون حاصل کرنے اور ان کے کارآمد طریقے سیکھنے کی پوری اجازت ہے، مگر زندگی میں ان کی نقالی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی نقالی اسی وقت کرتی ہے جب وہ اپنی ذلت اور کتری تسلیم کرلیتی ہے ۔ یہ غلامی کی بدترین قسم ہے، اپنی شکست کا کھلا ہوا اعلان ہے،اور اس کا آخری نتیجه یہ ہےکہ نقالی کرنےوالی قوم کی تہذیب فنا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے رسول الل صل اللہ علیہ وسلم نے غیر قوموں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔یہ بات معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی قوم کی طاقت اس کےلباس یا اس کےطرز زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے علم اور اس کی تنظیم اور اس کی قوت عمل کے سبب سے ہوتی ہے۔ پس اگر طاقت حاصل کرنا چاہتےہو تو وہ چیزیں لوجن سےقومیں طاقت حاصل کرتی ہیں، نہ کہ وہ چیزیں جن سے قومیں غلام ہوتی ہیں ، اور آخر کار دوسروں میں جذب ہو کر اپنی قومی ہستی ہی فنا کر دیتی ہیں۔

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں مسلمانوں کو تعصب اور تنگ نظری کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ ان کے بزرگوں کو برا کہنے یا ان کے مذہب کی توہین کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ان سے خود جھگڑا نکالنے سےبھی روکا گیا ہے ۔ وہ اگر ہمارے ساتھ صلح و آشتی رکھیں اور ہمارے حقوق پر دست درازی نہ کریں تو ہم کو بھی ان کے ساتھ صلح رکھنے اور دوستی کا برتاؤ کرنے اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ ہماری اسلامی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور خوش اخلاقی برتیں۔ کج خلقی اور ظلم اور تنگ دلی مسلمان کی شان سےبعید ہے۔مسلمان دنیا میں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ حسن اخلاق اور شرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنےاصولوں سے دلوں کی تسخیر کرے ۔

تمام مخلوقات کے حقوق اب ہم مختصر ابو تھی قسم کے حقوق بیان کریں گے ۔

خدا نے اپنی بے شمار مخلوق پر انسان کو اختیارات عطا کیے ہیں۔ انسان اپنی قوت سے ان کو تابع کرتا ہے ، ان سے کام لیتا ہے ، ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ بالاتر مخلوق ہونے کی حیثیت سے اس کو ایسا کرنے کا پوراحق حاصل ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کے حقوق بھی انسان پر ہیں اور وہ حقوق یہ ہیں کہ انسان ان کو فضول ضائع نہ کرے ، ان کو بلا ضرورت نقصان یا تکلیف نہ پہنچائے ، اپنے فائدے کے لیے ان کو کم سے کم اور اتنا نقصان پہنچائے جو ضروری ہو ، اور ان کو استعمال کرنے کے لیے بہتر سے بہتر طریقے اختیار کرے۔

شریعت میں اس کےمتعلق بکثرت احکام بیان ہوئے ہیں مثلا جانوروں کو صرف ان کےنقصان سے بچنے کےلیے یا غذا کےلیے ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے،مگر بلا ضرورت کھیل اور تفریح کے لیے ان کی جان لینےسے روکا گیا ہے۔ کھانے کے جانوروں کو ہلاک کرنے کے لیے ذبح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے جو حیوان سے سفید گوشت حاصل کرنے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔ اس کےسوا جو طریقے ہیں وہ اگرکم تکلیف دہ ہیں تو گوشت کےبہت سےفائدے ان میں منائع ہو جاتےہیں۔ اور اگر گوشت کےفائدے محفوظ رکھنے والے ہیں تو ذبح کے طریقے سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ اسلام ان دونوں پہلووں سے بچنا چاہتا ہے ۔ اسلام میں جانوروں کو تکلیف دے دے کر بے رحمی کے ساتھ مارنا سخت مکروہ ہے ۔ وہ زہریلےجانوروں اور درندوں کو صرف اس لیے مارنے کی اجازت دیتا ہے کہ انسانی جان اُن کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر ان کو بھی عذاب دے کر مارنا جائز نہیں رکھتا۔جو حیوانات سواری اور باربرداری کے کام آتے ہیں ان کو بھوکا رکھنے اوران سے سخت مشقت لینے اور ان کو بے رحمی کے ساتھ مارنے پیٹنے سے منع کرتا ہے۔ پرندوں کو خواہ مخواہ قید کرنا بھی مکروہ قرار دیتا ہے ۔ جانور تو جانور اسلام اس کو بھی پسند نہیں کہ تا کہ درختوں کو بے فائدہ نقصان پہنچایا جائے۔ تم ان کےپھل پھول توڑ سکتے ہو ۔ مگر انھیں خواہ مخواہ برباد کرنے کا تمھیں کوئی حق نہیں۔نباتات تو پھر بھی جان رکھتے ہیں ، اسلام کسی بے جان چیز کو بھی فضول ضائع کرنا جائز نہیں رکھتا، حتی کہ پانی کو بھی خواہ مخواہ بہانے سے منع کرتا ہے۔

عالمگیر اور دائمی شریعت یہ اُس شریعیت کے احکام اور قوانین کا ایک بہت ہی سرسری خلاصہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمام دنیا کےلیے اور ہمیشہ کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس شریعت میں انسان اور انسان کےدر میان بجز ع قید سے اور عمل کے کسی اور چیز کی بنا پر فرق نہیں کیا گیا ہے جن مذہبوں اور شریعتوں میں نسل اور ملک اور رنگ کے لحاظ سے انسانوں میں امتیاز کیا گیا ہے وہ کبھی عالمیگر نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ ایک نسل کا انسان دوسری نسل کا انسان نہیں بن سکتا، نہ ساری دنیا سمٹ کر ایک ملک میں سما سکتی ہے ، نہ حبشی کی سیاہی اور چینی کی زردی اور فرنگی کی پلیدی کبھی بدل سکتی ہے۔ اس لیے اس قسمہ کے مذاہب اور قوانین لازمی طور پر ایک ہی قوم میں رہتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اسلام کی شریعت ایک عالمگیر شریعت ہے۔ہر شخص جو لا إله إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پر ایمان لائےوہ شریعت کی رو سے مسلمانوں کی قوم میں بالکل مساوی حقوق کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے ۔ یہاں نسل ، زبان ، ملک ، وطن ، رنگ کسی چیز کا بھی کوئی امتیاز نہیں۔

پھر یہ شریعت ایک دائمی شریعت بھی ہے ۔ اس کے قوانین کسی مخصوص قوم اور مخصوص زمانے کے رسم و رواج پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس فطرت کے اصول پر مبنی ہیں جس پر انسان پیدا کیا گیا ہے ۔ جب یہ فطرت ہر زمانے اور ہر حال میں قائم ہے تو وہ قوانین بھی ہر زمانے اور ہر حال میں قائم رہنے چاہییں جو اس پر مبنی ہوں ____________________________

کتاب دینیات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Theology