دین اور شریعت دین اور شریعت کا فرق ۔ احکام شریعت معلوم کرنے کے ذرائع ۔ فقہ تصوف
اب تک ہم نے تم کو جو کچھ باتیں بتائی ہیں وہ سب دین کی باتیں تھیں۔اب ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی "شریعیت" کے متعلق تم سے کچھ بیان کریں گے ۔ مگر سب سے پہلے تھیں یہ مجھ لینا چاہیے کہ شریعیت کسے کہتے ہیں اور شرعیت اور دین میں فرق کیا ہے ۔
دین اور شریعت کا فرق پچھلے ابواب میں تم کو بتایا جا چکا ہے کہ تمام انبیاء دینِ اسلام ہی کی تعلیم دیتےچلےآئے ہیں۔ اور دین اسلام یہ ہے کہ تم خدا کی ذات وصفات اور آخرت کی جزا و سزا پر اس طرح ایمان لاؤ جس طرح خدا کے پتے پیغمبروں نےتعلیم دی ہے۔ خدا کی کتابوں کو مانو اور تمام من مانے طریقے چھوڑ کراسی طریقے کوحق سمجھو جس کی طرف ان کتابوں میں راہ نمائی کی گئی ہے۔ خدا کے پیغمبروں کی اوقات کرو اور سب کو چھوڑ کر اُنھی کی پیروی کرو ۔خدا کی عبادت میں خدا کے سو کسی کو شریک نہ کرو۔ اسی ایمان اور عبادت کا نام دین ہے اور یہ چیز تمام انبیاء کی تعلیمات میں مشترک ہے۔
اس کے بعد ایک چیز دوسری بھی ہے جس کو شریعیت کہتے ہیں ۔ یعنی عیادت کے طریقے، معاشرت کے اصول ، باہمی معاملات اور تعلقات کےقوانین ، حرام اور حلال ، جائز اور ناجائز کے حدود وغیرہ ۔ ان امور کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں مختلف زمانوں اور مختلف قوموں کے حالات کا لحاظ کر کے اپنےپیغمبروں کےپاس مختلف شریعتیں بھیجی تھیں،تاکہ وہ ہر قوم کو الگ الگ شائستگی اور تهذیب و اخلاق کی تعلیم و تربیت دےکر ایک بڑے قانون کی پیروی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ جب یہ کام مکمل ہو گیا تو اللہ نےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بڑا قانون دےکر بھیج دیا جس کی تمام دفعات تمام دنیا کے لیے ہیں ۔ اب دین تو وہی ہے جو پچھلے انبیا نے سکھایا تھا مگر پرانی شریعتیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ان کی جگہ ایسی شریعت قائم کی گئی ہے جس میں تمام انسانوں کے لیے عبادت کے طریقے اور معاشرت کے اصول اور باہمی معاملات کے قانون اور حلال و حرام کے حدود یکساں ہیں ۔
احکام شریعت معلوم کرنے کے ذرائع شریعت محمدی کے اصول اور احکام معلوم کرنے کے لیے ہمارےپاس دو ذریعے ہیں۔ ایک قرآن مجید ، دوسرے حدیث۔ قرآن مجید کے متعلق توتم جانتے ہو کہ وہ الہ کا کلام ہے اور اس کا برلفظ الہ کی طرف سےہے۔رہی حدیث تو اس سےوہ روایتیں مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےہم تک پہنچی ہیں۔رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی قرآن کی تشریح تھی۔نبی ہونےکےبعد سے ۲۳ سال کی مدت تک آپ ہر وقت تعلیم اور ہدایت میں مشغول رہے اور اپنی زبان اور اپنے عمل سے لوگوں کو بتاتے رہےکہ اللہ کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنےکا طریقہ کیا ہے۔اس زبردست زندگی میں صحابی مرد اور صحابیہ عورتیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز رشتہ دار اور آپ کی بیویاں ، سب کے سب آپ کی ہر بات غور سےسنتےتھے۔ہر کام پر نگاہ رکھتےتھےاور مہر معاملہ میں جو ان کو پیش آتا تھا آپ سےشرعیت کا حکم دریافت کرتےتھےکبھی آپ فرماتےفلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو،جو لوگ حاضر ہوتےوہ اس فرمان کو یاد کر لیتےتھے۔اسی طرح کبھی آپ کوئی کام کسی خاص طریقے پر کیا کرتے تھے۔ دیکھنے والے اس کر بھی یاد رکھتے تھےاور نہ دیکھنے والوں سے بیان کر دیتے تھے کہ آپ نےفلاں کام فلاں طریقےپر کیا تھا۔اسی طرح کبھی کوئی شخص آپ کےسامنے کوئی کام کرتا تو آپ یاتو اس پر خاموش رہتےیا پسندیدگی کا اظہار فرماتےیا منع کر دیتےتھے۔ان سب باتوں کو بھی لوگ محفوظ رکھتے تھے۔ ایسی مبتنی باتیں صحابی مردوں اور صحابیہ عورتوں سے لوگوں نے نہیں، ان کو بعض نے حفظ یاد کر لیا اور بعض نے لکھ لیا اور یہ بھی یاد کر لیا کہ یہ خبر ہم کو کس سے پہنچی ہے ۔ پھر ان روایتوں کو رفتہ رفتہ کتابوں میں جمع کر لیا گیا۔ اس طرح حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ فراہم ہو گیا جس میں خصوصیت کے ساتھ امام مالک اور امام بخاری اور مسلم اور امام ترمذی اور امام ابو داود اور امام نسائی اور امام ابن ماجہ کی کتابیں بہت مستند خیال کی جاتی ہیں۔
فقہ قرآن اور حدیث کےاحکام پر خور کر کےبعض بزرگان دین نے عام لوگوں کی آسانی کے لیے مفصل قوانین مرتب کر دیے ہیں جن کو فقہ“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ چونکہ ہر شخص قرآن کی تمام باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا نہ شخص کے پاس حدیث کا ایسا علم ہے کہ وہ خود شریعت کے احکام معلوم کر سکتےاس لیے جن بزرگان دین نے برسوں کی محنت اور غور و تحقیق کے بعد فقہ کو تقریب کیا ہے ان کے بار احسان سے دنیا کے مسلمان کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ یہ انھی کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج کروڑوں مسلمان بغیر کسی زحمت کے شریعت کی پیروی کر رہے ہیں اور کسی کو خدا اور رسول کے احکام معلوم کرنے میں وقت نہیں پیش آتی ۔
یہ چاروں فقہیں رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد دو سو برس کے اندر اندر مرتب ہو گئی تھیں۔ ان میں جواختلافات پائےجاتےہیں وہ بالکل قدرتی اختلافات ہیں۔چند آدمی جب کسی معاملہ کی تحقیق کرتے ہیں یا کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں توان کی تحقیق اور سمجھ میں تھوڑا بہت اختلاف ضرور ہوتا ہےلیکن چونکہ یہ سب حق پسند اور نیک نیت اور مسلمانوں کےخیرخواہ بزرگ تھے،اس لیے تمام مسلمان ان چاروں فقہوں کو برحق مانتے ہیں۔
البتہ یہ ظاہر ہے کہ ایک معاملہ میں ایک ہی طریقہ کی پیروی کی جاسکتی ہے چار مختلف طریقوں کی پیروی نہیں کی جا سکتی،اس لیےاکثر علماء یہ کہتےہیں کہ مسلمانوں کو ان چاروں میں سے کسی ایک کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کےعلاوہ علماء کا ایک گروہ ایسا بھی ہےجو یہ کہتا ہے کہ کسی خاص فقہ کی پیری کرنےکی ضرورت نہیں ہے۔علم رکھنےوالےآدمی کو براہ راست قرآن اور حدیث سےاحکام معلوم کرنے چاہیں اور جو لوگ علم نہ رکھتے ہوں انہیں چاہیےکہ جس عالم پر بھی ان کا اطمینان ہو اس کی پیروی کریں۔ یہ لوگ اہل حدیث کہلاتے ہیں اور اوپر کے چار گروہوں کی طرح یہ بھی حق پر ہیں۔
تصوف فقہ کا تعلق انسان کے ظاہری عمل سے ہے ، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جیسا اور جس طرح حکم دیا گیا تھا اسکو تم بجا لائے یا نہیں۔اگر بجا لائے ہو تو فقہ کو اس سےکچھ بحث نہیں کہ تمھارے دل کا کیاحال تھا۔دل کےحال سےجو چیز بحث کرتی ہےاس کانام تصوف(١) ہےمثلاً تم نماز پڑھتےہو۔اس عبادت میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم نے وضو ٹھیک کیا ہے، قبلہ رو کھڑے ہونےہو، نماز کے تمام ارکان ادا کیےہیں،جو چیزیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں وہ سب پڑھ لی ہیں اور جس وقت جتنی رکعتیں مقرر کی گئی ہیں،ٹھیک اسی وقت اتنی ہی رکھتیں پڑھی ہیں۔جب یہ سب تم نےکر دیا تو فقہ کی رو سے تمھاری نماز پوری ہو گئی۔ لیکن تصوف یہ دیکھتا ہے کہ اس عبادت میں تمھارے دل کا کیا حال رہا ہے تم خدا کی طرف متوجہ ہوئے یا نہیں ہے تمھارا دل دنیا کے خیالات سے پاک ہوا یا نہیں ؟ تمھارے اندر نماز سے خدا کا خوف اور اس کےحاضر و ناظر ہونےکا یقین،اور صرف اسی کی خوشنودی چاہنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا یا نہیں؟ اس نماز نےتمھاری روح کو کس قدر پاک کیا؟تمھارے اخلاق کہاں تک درست کیے؟ تم کو کس حد تک سچا اور پکا عملی مسلمان بنادیا؟ یہ تمام باتیں جو نماز کےاصل مقصد سے تعلق رکھتی ہیں جس قدر کمال کے ساتھ حاصل ہوں گی تصوف کی نظر میں تمھاری نماز اتنی ہی زیادہ کامل ہوگی اور ان میں جتنا نقص رہے گا،اسی لحاظ سےوہ تمھاری نماز کو ناقص قرار دے گا۔ اسی طرح شریعت کےجتنےاحکام ہیں،ان سب میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جوحکم جس صورت میں دیا گیا تھا اسی صورت میں تم اسےبجا لائےیا نہیں،اور تصوف یہ دیکھتا ہےکہ اس حکم پر عمل کرنےمیں تمھارے اندر خلوص اور نیک نیتی اور سچی اطاعت کس قدر تھی۔
اس فرق کو تم ایک مثال سے اچھی طرح سمجھ سکتےہو۔جب کوئی شخص تم سےملتا ہےتو تم اس پر دو حیثتیوں سےنظر ڈالتےہو۔ایک حیثیت تو یہ ہوتی ہےکہ وہ صحیح و تندرست ہےیا نہیں۔اندھا،لنگڑا، لولا تو نہیں ہے۔خوبصورت ہےیا بد صورت۔اچھےکپڑے پہنے ہوئے ہےیا میلا کچھیلا ہے۔دوسری حیثیت یہ ہوتی ہےکہ اس کےاخلاق کیسےہیں۔اس کی عادات وخصائل کاحال کیا ہےاس کی عقل،سمجھ بوجھ کیسی ہے۔وہ عالم ہےیا جاہل،نیک ہےیابد-ان میں سےپہلی نظر گویا فقہ کی ہےاور دوسری نظر گویا تصوف کی ہے۔دوستی کےلیےجب تم کسی شخص کو پسند کرنا چاہو گےتو اس کی شخصیت کےدونوں پہلوؤں کو دیکھو گےتمھاری خواہش یہ ہےگی کہ اس کا ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا۔ اسی طرح اسلام میں بھی پسندیدہ زندگی ہی ہےجس میں شریعت کےاحکام کی پابندی ظاہر کےاعتبار سےبھی صحیح ہو اور باطن کےاعتبار سے بھی۔جس شخص کی ظاہری اطاعت درست ہےاگر باطن میں اطاعت کی روح نہیں ہے اس کےعمل کی مثال ایسی ہے جیسےکوئی آدمی خوبصورت ہو گر مردہ ہو۔ اور جس شخص کے عمل میں تمام باطنی خوبیاں موجود ہوں مگر ظاہری اطاعت درست نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص بہت شریف اور نیک ہو مگر بد صورت اور پاہچ ہو۔
اس مثال سےتم کو فقہ اور تصوف کا باہمی تعلق بھی معلوم ہوگیا ہوگا۔ مگر افسوس ہےکہ بعد کے زمانوں میں علم اور اخلاق کےزوال سےجہاں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں،تصوف کے پاک چشمے کو بھی گنا کر دیا گیا۔لوگوں نے طرح طرح کےغیراسلامی فلسفےگمراہ قوموں سےسیکھےاور ان کو تصوف کےنام سے اسلام میں داخل کر دیا۔عجیب عجیب قسم کےعقیدوں اور طریقوں پر تصوف کا نام چسپاں کیا جن کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں نہیں ہے۔پھر اس قسم کےلوگوں نےرفتہ رفتہ اپنےآپ کو شریعت کی پابندی سے بھی آزاد کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ تصوف کو شریعت سےکوئی واسطہ نہیں۔ یہ کوچہ ہی دوسرا ہے ۔ صوفی کو قانون اور قاعدے کی پابندی سے کیا سروکار۔اس قسم کی باتیں اکثر جاہل صوفیوں سے سُننے میں آتی ہیں مگر دراصل یہ بالکل غلط ہیں ، اسلام میں کسی ایسے تصوف کی گنجائش نہیں ہے جو شریعت کےاحکام سے بے تعلق ہو کسی صوفی کو یہ حق نہیں کہ وہ نماز اور روزےاور حج اور زکواۃ کی پابندی سےآزاد ہو جائے۔کوئی صوفی ان قوانین کےخلاف عمل کرنےکا حق نہیں رکھتا جو معاشرت اور معیشت اور اخلاق اور معاملات اور حقوق و فرائض اور حدود حلال و حرام کے متعلق خدا اور رسول نے بتاتے ہیں۔ کوئی ایسا شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح پیروی نہ کرتا ہو اور آپ کے مقرر کیے ہوتےطریقہ کا پابند نہ ہو، مسلمان صوفی کہلائے جانے کا مستحق ہی نہیں ہے۔ تصوف تو درحقیقت خدا اور رسول کی سچی محبت بلکہ عشق کا نام ہے اور عشق کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کے احکام اور اس کے رسول کی پیروی سے بال برابر بھی انحراف نہ کیا جائے۔ پس اسلامی تصوف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ شریعت کے احکام کو انتہائی خلوص اور نیک نیتی کےساتھ بجالانےاور اطاعت میں خدا کی محبت اور اس کےخوف کی روح بھر دینے ہی کا نام تصوف ہے۔
| کتاب | دینیات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |