دینیات

باب پنجم - عبادات

عبادات عیادت کا مفہوم ، نماز ، روزہ ، زکواۃ، حج ، حمایت اسلام پچھلے باب میں تم کو بتایا گیا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ امور پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے : (١) خدائے وحده لا شریک پر ، (٢) خدا کے فرشتوں پر ، (٣) خدا کی کتابوں پر ، اور بالخصوص قرآن مجید پر ، (٤) خدا کے رسولوں پر، اور بالخصوص اس کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر (٥) آخرت کی زندگی پر ۔

یہ اسلام کی بنیاد ہے۔ جب تم ان پانچ چیزوں پر ایمان لے آئے تومسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ لیکن ابھی پورے مسلم نہیں ہوئے ۔ پورا مسلم انسان اس وقت ہوتا ہے جب وہ ان احکام کی اطاعت کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی طرف سے دیے ہیں۔ کیونکہ ایمان لانے کے ساتھ ہی اطاعت تم پر لازم ہو جاتی ہے اور اطاعت ہی کا نام اسلام ہے۔ دیکھو ! تم نے اقرار کیاکہ خدا ہی تمھارا خدا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمھارا آقا ہے اور تم اس کے غلام ہوں۔وہ تمھارا فرماں روا ہے اور تم اس کے فرماں بردار - اب اگر اس کو آقا اور فرماں روا مان کر تم نے نافرمانی کی تو تم خود اپنے اقرار کے موجب باغی اور مجرم ہوئے۔ پھر تم نےاقرار کیا کہ قرآن مجید خدا کی کتاب ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں جو کچھ ہے تم نے تسلیم کر لیا کہ وہ خدا ہی کا فرمان ہے۔ اب تم پر لازم آگیا کہ اس کی ہر بات کو مانو اور ہر حکم پر سر جھکا دو پھر تم نےیہ بھی اقرار کیا کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کےرسول ہیں۔یہ در اصل اس بات کا اقرار ہےکہ آنحضرت جس چیز کا حکم دیتےہیں اور جس چیز سےروکتےہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔اب اس اقرار کےبعد آنحضرت کی اطاعت تم پر فرض ہو گئی ۔ لہذا تم پورے "مسلم " اسی وقت ہو گےجب تمھارا عمل تمھارے ایمان کے مطابق ہو ، ورنہ جس قدر تمھارے ایمان اور تمھارے عمل میں فرق رہے گا اتنا ہی تمھارا ایمان ناقص رہے گا۔

آؤ، اب ہم تھیں بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسرکرنے کا کیا طریقہ سکھایا ہے، کن چیزوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہےاور کن چیزوں سے منع فرمایا ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز وہ عبادات ہیں جو تم پر فرض کی گئی ہیں۔

عبادت کا مفہوم عبادت کےمعنی در اصل بندگی کےہیں۔تم عبد (بندہ) ہو،اللہ تمھارا معبود ہے۔عبد اپنےمعبود کی اطاعت میں جو کچھ کرے،عبادت ہے مثلا تم لوگوں سےباتیں کرتے ہو۔ ان باتوں کے دوران میں اگر تم نے جھوٹ سےغیبت سے،فحش گوئی سے اس لیےپرہیز کیا کہ خدا نے ان چیزوں سے منع کیا ہے اور ہمیشہ سچائی انصاف،نیکی اور پاکیزگی کی باتیں کیں،اس لیےکہ خدا ان کو پسند کرتا ہے،تو تمھاری یہ سب باتیں عبادت ہوں گی،خواہ وہ سب دنیا کےمعاملات ہی میں کیوں نہ ہوں تم لوگوں سےلین دین کرتےہو، بازار میں خرید و فروخت کرتے ہو،اپنےگھر میں ماں باپ اور بھائی بہنوں کےساتھ رہتےسہتےہو، اپنے دوستوں اور عزیزوں سےملتےجلتے ہو، اگر اپنی زندگی کے ان سارے معاملات میں تم نے خدا کے احکام کو اور اس کے قوانین کو ملحوظ رکھا،ہر ایک کے حقوق ادا کیے، یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے اور کس کی حق تلفی نہ کی یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس سےروکا ہےتو گیا تھاری یہ ساری زندگی خدا کی عیادت ہی میں گزری۔ تم نے کسی غریب کی مد کی کسی بھوکےکر کھانا کھلایا، کسی بیمار کی خدمت کی، اور ان سب کاموں میں تم نے اپنے کسی ذاتی فائدہ یا عزت یا ناموری کو نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی کو پیش نظر رکھا، تو یہ سب کچھ عبادت میں شمار ہو گا۔ تم نے تجارت یا صنعت یا مزدوری کی اور اس میں خدا کا خوف کر کے پوری دیانت اور ایمانداری سے کام لیا،حلال کی روٹی کمائی،اور حرام سے بیچے، تو یہ روٹی کہانا بھی خدا کی عبادت میں لکھا جائے گا،حالانکہ تم نےاپنی روزی کمانے کے لیے یہ کام کیے تھے۔غرض یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہر وقت ہر معامل میں خدا سے خوف کرنا ، اس کی خوشنودی کو پیش نظر رکھنا،اس کےقانون کی پیروی کرنا،ہر ایسےفائدےکو ٹھکرا دیا جو اس کی نافرمانی سے حاصل ہوتا ہو،اور ہر ایسےنقصان کو گوارا کرلیا جو اس کی فرمانبرداری میں پہنچےیا پہنچنےکا خون ہو، یہ خدا کی عبادت ہےاس طریقہ کی زندگی سراسر عبادت ہی عبادت ہےحتی کہ ایسی زندگی میں کھانا، پینا، چلنا پھرنا، سونا ، جاگنا، بات چیت کرنا سب کچھ داخل عبادت ہے ۔

یہ عبادت کا اصلی مفہوم ہے ۔ اور اسلام کا اصل مقصد مسلمان کو ایسا ہی-عبادت گزار بندہ بنانا ہے۔ اس غرض کے لیے اسلام میں چند ایسی عبادتیں فرض کی گئیں ہیں جو انسان کو اس بڑی عبادت کے لیےتیار کرتی ہیں۔گویا یوا کےجھو کہ یہ خاص عبادتیں اس بڑی عبادت کےلیےٹریننگ کورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔جو شخص یہ ریٹنگ متبنی اچھی طرح لے گا وہ اس بڑی اور اصلی عبادت کو اتنی ہی اچھی طرح ادا کر سکےگا۔ اسی لیےان خاص عبادتوں کو فرض عین قرار دیا گیا ہے اور انھیں ارکان دین یعینی دین کےستون" کہا گیا ہے۔جس طرح ایک عمارت چند ستونوں پر قائم ہوتی ہےاسی طرح اسلامی زندگی کی عمارت بھی ان ستونوں پر قائم ہے۔ ان کو توڑ دو گے تو اسلام کی عمارت کو گرا دو گے۔

نماز ان فرائض میں سب سے پہلا فرض نماز ہے۔یہ نماز کیا ہے؟ دن میں پانچ وقت زبان اور عمل سے انھی چیزوں کا اعادہ جن پرتم ایمان لائے ہو تم صبح اٹھے اور اسے پہلے پاک صاف ہو کر اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو گئے ۔ اس کے سامنےکھڑے ہو کر، بیٹھ کر جھک کر زمین پر سر ٹیک کر اپنی بندگی کا اقرار کیا، اس سےمدد مانگی، اس سےہدایت طلب کی،اس سےاطاعت کا عہد تازہ کیا،اس کی خوشنودی چاہنے اور اس کے غصہ سے بچنے کی خواہش کا بار بار اعادہ کیا، اس کی کتاب کا سبق دہرایا اس کے رسول کی سچائی پرگواہی دی اور اس دن کو بھی یاد کر لیا جب تم اس کی عدالت میں اپنےاعمال کی جواب دہی کے لیے حاضر ہو گے ۔ اس طرح تمھارا دن شروع ہوا چند گھنٹے تم اپنے کاموں میں لگے رہے پھر ظہر کے وقت موذن نے تم کو یاد دلایا کہ آؤ اور چند منٹ کے لیے اس سبق کو پھر دہرالو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو بھول کر تم خدا سے غافل ہو جاؤ تم اٹھے اور ایمان تازہ کر کے پھر دنیا اور اس کے کاموں کی طرف پلٹ آئے ۔ چند گھنٹوں کے بعد پھر عصر کے وقت تمھاری طیبی ہوتی اور تم نے پھر ایمان تازہ کر لیا ۔ اس کے بعد مغرب ہوئی اور رات شروع ہوگئی صبح کو تم نے دن کا آغاز جس عبادت کے ساتھ کیا تھا رات کا آغاز بھی اسی سے کیا،تا کہ رات کو بھی تم اس سب کو نہ بھولنے پاؤ اور اسے بھول کر بھیک نہ جاد چند گھنٹوں کے بعد عشا ہوئی اور سونے کا وقت آگیا۔ اب آخری بارتم کو ایمان کی سری تعلیم یاد دلادی گئی کیونکہ یہ سکون کا وقت ہے ، دن کے ہنگامے میں اگر تم کو پوری توجہ کا موقع نہ ملا ہو تو اس وقت اطمینان کے ساتھ توجہ کر سکتے ہو۔

دیکھو ! یہ وہ چیز ہےجو ہر روز دن میں پانچ وقت تمھارےاسلام کی بنیاد کو مضبوط کرتی رہتی ہے ۔ یہ بار بار تم کو اس بڑی عبادت کےلیےتیار کرتی ہےجس کا مفہوم ہم نےابھی چند سطور پلےتم کو بجھادیا ہے۔یہ ان تمام عقیدوں کو تازہ کرتی رہتی ہےجن پر تمھارےنفس کی پاکیز کی، روح کی ترقی ، اخلاق کی درستی اور عمل کی اصلاح موقوف ہے ۔ غور کرو : وضو میں تم اس طریقہ کی کیوں پیروی کرتےہو جو رسول اللہ نے بتایا ہے،اور نماز میں وہ سب چیزیں کیوں پڑھتے ہو جو آپ نے تعلیم کی ہیں یہ اسی لیے تاکہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہو۔ قرآن کر تم قصد غلط کیوں نہیں پڑھتے ؟ اسی لیے تاکہ تمھیں اس کے کلام الہی ہونے کا یقین ہے۔ نماز میں جو چیزیں خاموشی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں اگر تم ان کو نہ پڑھو یا انکی جگہ اور کچھ پڑھ دو تو تھی کس کا خوف ہے ؟کوئی انسان تو سُننے والا نہیں۔ ظاہر ہے کہ تم یہی سمجھتے ہو کہ خاموشی کے ساتھ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں اسےبھی خدا سن رہا ہےاور ہماری کسی ڈھکی چھپی حرکت سےبھی وہ بےخبر نہیں۔ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا وہاں کون سی چیز تھیں نماز کے لیے اُٹھاتی ہے ؟ وہ یہی اعتقاد تو ہے کہ خدا تم کو دیکھ رہا ہے۔ نماز کےوقت ضروری سے ضروری کام چھڑا کر کون سی چیز تھیں نماز کی طرف لے جاتی ہے ؟ وہ یہی احساس تو ہےکہ نماز خدا نےفرض کی ہے ۔ جاڑے میں صبح کےوقت اور گرمی میں دوپہر کے وقت ، اور روزانہ شام کی دلچسپ تفریحوں میں مغرب کے وقت کون سی چیز تم کونماز پڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے ؟ وہ فرض شناسی نہیں تو اور کیا ہے ؟ پھر نماز نہ پڑھنے یا نماز میں جان بوجھ کر غلطی کرنے سےتم کیوں ڈرتےہو ؟ اسی لیےتاکہ تم کو خدا کا خون ہےاور تم جانتے ہو کہ ایک دن اُس کی عدالت میں حاضر ہونا ہےاب بتاؤ کہ نماز سےبہتر اور کون سی ایسی ٹرینگ ہو سکتی ہےجوتم کو پورا اور سچا مسلمان بنانےوالی ہو؟ مسلمان کےلیےاس سےاچھی تربیت کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ہر روز کئی کئی مرتبہ خدا کی یاد اور اس کے خوف اور اس کےحاضر و ناظر ہونےکے یقین ، اور عدالت الہی میں پیش ہونے کے اعتقاد کو تازہ کرتا رہے،اور روزانہ کتنی بار لازمی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے اور صبح سےلےکر رات تک ہر چند گھنٹوں کےبعد اس کو فرض بجالانےکی مشق کرائی جاتی رہے؟ ایسے شخص سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ جب وہ نماز سے فارغ ہو کر دنیا کے کاموں میں مشغول ہو گا تو وہاں بھی وہ خدا سےڈرے گا اور اس کے قانون کی پیری کرے گا اور ہر گناہ کے موقع پر اس کو یاد آجائے گا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر کوئی اتنی اعلیٰ درجہ کی ٹرینینگ کے بعد بھی خدا سے بے خوف ہو اور اس کےاحکام کی خلاف در زمی نہ چھوڑےتو یہ نماز کا قصور نہیں، بلکہ خود اس شخص کے نفس کی خرابی ہے۔

پھر دیکھو! اللہ تعالیٰ نے نماز کو باجماعت پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے، اور خاص طور پر ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز جماعت کےساتھ پڑھنا فرض کر دیا ہےپر مسلمانوں میں اتحاد اور برادری پیدا کرنے والی چیز ہے۔اُن کو ملا کر ایک مضبوط جتھا بناتی ہے۔ جب وہ سب مل کر ایک ہی خدا کی عبادت کرتےہیں،ایک ساتھ اُٹھتےاور بیٹھتےہیں تو آپ سے آپ اُن کےدل ایک دوسرےسےجڑ جاتےہیں اور اُن میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہےکہ ہم سب بھائی بھائی ہیں۔پھر یہی چیز اُن میں ایک سردار کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہےاور ان کو باضاتگی کا سبق سکھاتی ہےاسی سےان میں آپس کی ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ مساوات اور یگانگت پیدا ہوتی ہے۔امیر اور غریب، بڑے اور چھوٹےاعلیٰ عہد دار اور ادنی چپر اسی سب ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی نہ اورینی ذات ہوتا ہے نہ نیچ ذات۔

یہ اُن بےشمار فائدوں میں سےچند فائدےہیں جو تمھاری نماز سےخدا کو نہیں بلکہ خود تھی کو حاصل ہوتےہیں۔خدا نےتمھارے فائدے کےلیےاس چیز کو فرض کیا ہے،اور نہ پڑھنے پر اس کی ناراضی اس لیے نہیں ہےکہ تم نےاس کا کوئی نقصان کیا بلکہ اس لیےہےکہ تم نےخود اپنےآپ کو نقصان پہنچایا کیسی زبر دست طاقت نماز کے ذریعہ سے خدا تم کو دے رہا ہے اور تم اس کو لینےسے جی چراتے ہو۔ کس قدر شرم کا مقام ہے کہ تم زبان سے تو خدا کی خدائی اور رسول کی اطاعت اور آخرت کی باز پرس کا اقرار کرو اور تمھارا عمل یہ ہوکہ خدا اور رسول نے سب سے بڑا فرض جو تم پر عائد کیا ہے اس کو ادا نہ کرو تمھارا یہ عمل دو حال سےخالی نہیں ہو سکتا۔یاتو تم و نماز کےفرض ہونے سے انکار ہے یا تم اسے فرض مانتے ہو اور پھر ادا کرنے سے بچتے ہو ۔ اگر فرضیت سے انکار ہےتو تم قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو جھٹلاتےہو اور پھران دونوں پر ایمان لانےکا جھوٹا ھوئی کرتےہو۔اور اگر تم اسےفرض مان کر پھر ادا نہیں کرتے تو تم سخت نا قابل اعتبار آدمی ہو تم پر دنیا کے کسی معاملہ میں بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ جب تم خدا کی ڈیوٹی میں چوری کر سکتے ہوتو کوئی یا امید کرسکتا ہے کہ انسانوں کی ڈیوٹی میں چوری نہ کرو گے ؟

روزه دوسرا فرض روزہ ہے۔ یہ روزہ کیا ہے ؟ جس سبق کو نماز روزانہ پانچ وقت یاد دلاتی ہے ، اُسے روزہ سال میں ایک مرتبہ پورےایک مہینہ تک ہروقت یاد دلاتا رہتا ہےرمضان آیا اور صبح سےلےکر شام تک تمھارا کھانا پینا بند ہوا۔ سحری کے وقت تم کھا پی رہے تھے ، یکایک اذان ہوئی اور تم نےفورا ہاتھ روک لیا۔ اب کیسی ہی مرغوب غذا سامنےآئےکیسی ہی بھوک پیاس ہو،کتنا ہی دل چاہے،تم شام تک کچھ نہیں کھاتے۔یہی نہیں کہ لوگوں کےسامنے نہیں کھاتے،نہیں تنہائی میں بھی یہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا، ایک قطرہ پانی پینا یا ایک دانہ نکل جانا بھی تمھارےلیےناممکن ہوتا ہے۔پھر یہ ساری رکاوٹ ایک خاص وقت تک رہتی ہے ۔ ادھر مغرب کی اذان ہوتی اور تم افطار کے لیے لیکے ۔ اب رات بھر بے خوف و خطر تم جب اور ہر چیز چاہتے ہو کھاتے ہو۔ غور کرو، یہ کیا چیز ہے ؟ اس کی تہ میں خدا کا خوف ہے۔ اس کے حاضر و ناظر ہونےکا یقین ہے۔آخرت کی زندگی اور خدا کی عدالت پر ایمان ہےقرآن اور رسول کی سخت اطاعت ہے۔ فرض کا زبردست احساس ہے صبر اور مصائب کے مقابلہ کی مشق ہے۔ خدا کی خوشنودی کےمقابلہ میں خواہشات نفس کو روکنےاور دبانےکی طاقت ہےہر سال رمضان کا مہینہ آتا ہے تاکہ پورے تیس دن تک یہ روزےتمھاری تربیت کریں اور تمھارے اندر یہ تمام اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں تا کہ تم پورے اور پکے مسلمان بنو، اور یہ اوصاف تمھیں اُس عبادت کے قابل بنائیں جو ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں ہر وقت بجالانی چاہیے۔

پھر دیکھو، اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کے لیے روزہ ایک ہی مہینہ میں فرض کیا تاکہ سب مل کر روزہ رکھیں ، علیحدہ علیحدہ نہ رکھیں۔ اس کے بے شمار دوسرے فائدے بھی ہیں۔ نہاری اسلامی آبادی میں پورا ایک مہینہ پاکیزگی کا مہینہ ہوتا ہے ساری فضا پر ایمان اور خوف خدا اور اطاعت احکام اور پاکیزگی اخلاق اور حسن عمل چھا جاتا ہے۔ اس فضا میں برائیاں دب جاتی ہیں اور نیکیاں ابھرتی ہیں۔ میں ایک دوسرےکی مدد کرتے ہیں۔بڑے لوگ اچھےلوگ نیک بدی کے کام کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ امیروں میں غریبوں کی امداد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ خدا کی راہ میں مال صرف کیا جاتا ہے ۔ سارہ سے مسلمان ایک حال میں ہوتےہیں۔اور یہ ایک حال میں ہونا ان کےاندر یہ احساس پیدا کرتا ہےکہ ہم سب ایک جماعت ہیں۔ ان میں برادری،ہمدردی اور باہمی اتحاد پیدا کرنے کے لیے یہ ایک کارگر نسخہ ہے ۔

یہ سب ہمارے ہی فائدے ہیں۔ ہمیں بھوکا رکھنے سے خدا کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے ہماری بھلائی ہی کےلیےرمضان کے روزے ہم پر فرض کیے ہیں ۔ اس فرض کو جو لوگ بغیر کسی معقول وجہ کے ادا نہیں کرتے، وہ اپنےاوپر خود ظلم کرتے ہیں اور سب سے زیادہ شرمناک طریقہ ان کا ہے جو رمضان میں علانیہ کھاتے پیتے ہیں۔ وہ گویا اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسمانوں کی جماعت میں سے نہیں ہیں، ہم کو اسلام کے احکام کی کوئی پروا نہیں ہے ، اور ہم ایسے بے باک ہیں کہ جس کوخدا مانتے ہیں اس کی اطاعت سے بھی کھلم کھلا منہ موڑ جاتے ہیں۔ بتاؤ ، جن لوگوں کے لیے اپنی جماعت سے الگ ہونا ایک آسان بات ہو ، جن کو اپنے خالق و رازق کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ذرا شرم نہ آئے، اور جو اپنے دین کے سب سے بڑے پیشوا کے مقرر کیے ہوئے قانون کو علانیہ توڑ دیں، ان سے کوئی شخص کس و فاداری، کسی نیک مینی اور امانت داری کس فرض شناسی اور پابندی قانون کی امید کر سکتا ہے ؟

زكوة تیسرا فرض زکواۃ سے اللہ تعالیٰ نے(١) ہر مسلمان مال دار پر فرض کیا ہےکہ اگر اس کےپاس کم سے کم چالیس روپےہوں اور ان پر پورا ایک سال گزر جائے تو وہ ان میں سے ایک روپیہ کسی غریب رشتہ دار یا کسی محتاج، کسی مسکین، کسی نو مسلم کسی مسافر یا کسی قرض دار شخص کو دے دے۔

اس طرح اللہ نےامیروں کی دولیت میں غریبوں کےلیے کم از کم ڈھائی فی صد حصہ مقرر کر دیا ہے(٢) اس سے زیادہ اگر کوئی کچھ دے تو یہ احسان ہےجس کا ثواب اور زیادہ ہو گا ۔

(١) زكوة صرف روپے میں نہیں بلکہ سونے اور چاندی اور تجارتی مال اور مویشیوں اور زمین کی پیداوار میں بھی ہے ۔ ان سب چیزوں میں کتنی مقدار میں کتنی زکرہ ہے ، یہ تم کوفتہ کی کتابوں سے معلوم ہو سکتا ہے۔ یہاں محض ذکراہ کی مصلحت اور اس کے فائدے سمجھانا مقصود ہے۔ اس لیے صرف روپے کو مثال کے طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔

(٢) یہ بات یاد رکھنےکےقابل ہےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےخاندان کےلوگوں یعنی سیدوں اور ہاشمیوں کےلیےذکراہ حرام کر دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سادات بنی ہاشم پر زکاۃ دینا تو فرض ہے مگر ذکراہ لینا اُن کے لیے جائز نہیں جو شخص کسی غریب سید ہاشمی کی مد کرنا چاہتا ہو وہ ہدیہ یا تحفہ دے سکتا ہے، صدقہ خیرات اور زکواۃ نہیں لے سکتا۔

دیکھو ! یہ حصہ اللہ کو نہیں پہنچتا۔ وہ تمھاری کسی چیز کا محتاج نہیں ہے لیکن وہ فرماتا ہے کہ تم نے اگر خوش دلی کے ساتھ میری خاطر اپنے کسی غریب بھائی کو کچھ دیا تو گویا مجھ کو دیا ، اس کی طرف سے میں تم کوکئی گنا زیادہ ہدایہ ہوں گا۔ البتہ شرط یہ ہے کہ اس کو دے کر تم کوئی احسان نہ جتاؤ ، اس کو ذلیل و حقیر نه کرو، اس سے شکریہ کی بھی خواہش نہ رکھو، یہ بھی کوشش نہ کرو کہ تمھاری اس بخشش کا لوگوں میں چرچا ہو اور لوگ تمھاری تعریف کریں کہ فلاں صاحب بڑے سخی داتا ہیں۔ اگر ان تمام نا پاک خیالات سے اپنے دل کو پاک رکھو گے اور محض میری خوشنودی کے لیے اپنی دولت میں سے غریبوں کو حصہ دو گے تو میں اپنی بے پایاں دولت میں سے تم کو وہ حصہ دوں گا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نےاس زکواۃ کو بھی ہم پراسی طرح فرض کیا ہےجس طرح نماز روزےکو فرض کیا ہےیہ اسلام کا بہت بڑا رکن ہےاور اس کو رکن اس لیےقرار دیا گیا ہےکہ یہ مسلمانوں میں خدا کی خاطر قربانی اور ایثار کرنےکی صفت پیدا کرتا ہے،اور خود غرضی،تنگ دلی اور زرپرستی کی بڑی صفات کو دُور کرتا ہے۔ کچھی کی پوجا کرنےوالا اور روپےپر جان دینےوالا حریص اور بخیل آدمی اسلام کےکسی کام کا نہیں۔جو شخص خدا کےحکم پر اپنی گاڑھی محنت سےکمایا ہوا مال اپنی کسی ذاتی غرض کےبغیر قربان کر سکتا ہو وہی اسلام کےسیدھے راستے پر چل سکتا ہے ۔ زکواۃ مسلمان کو اس قربانی کی مشق کراتی ہے اور اس کو اس قابل بناتی ہےکہ خدا کی راہ میں جیب مال صرف کرنےکی ضرورت ہو تو وہ اپنی دولت کو سینے سے چھٹائے نہ بیٹھا رہے بلکہ دل کھول کر خرچ کرے۔

لوگوں یعنی سیدوں اور ہاشمیوں کے لیے ذکراہ حرام کر دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سادات بنی ہاشم پر زکاۃ دینا تو فرض ہے مگر ذکراہ لینا اُن کے لیے جائز نہیں جو شخص کسی غریب سید ہاشمی کی مد کرنا چاہتا ہو وہ ہدیہ یا تحفہ دے سکتا ہے، صدقہ خیرات اور زکواۃ نہیں لے سکتا۔

زکواۃ کا دنیوی فائدہ یہ ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کوئی مسلمان تنگا بھوکا اور ذلیل و خوار نہ ہو ۔ جو امیر ہیں وہ غریبوں کو سنبھال لیں ۔ اور جو غریب ہیں وہ بھیک مانگتے نہ پھریں۔ کوئی شخص اپنی دولت کو صرف اپنے عیش و آرام اور اپنی شان و شوکت ہی پر نہ اڑا دےبکہ یہ بھی یاد رکھے کہ اس میں اس کی قوم کے مقیموں اور بیواؤں اور تھا جوں کا بھی حتی ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی حق ہےجو کام کرنےکی قابلیت رکھتےہیں مگر سرمایہ نہ ہونےکی وجہ سےنہیں کر سکتے اس میں اُن بچوں کا بھی حق ہےجو قدرت سےدماغ اور ذہانت لائےہیں مگر غریب ہونےکی وجہ سے تعلیم نہیں پاسکتےاس میں ان کا بھی حتی ہے جو معذور ہو گئےہیں اور کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔جو شخص اس حق کو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہوگا کہ تم اپنے پاس روپے کے کھتےکے کھتے بھرے بیٹھے رہو ، کوٹھیوں میں عیش کرو ، سوٹوں میں چڑھے پڑھےپھرو اور تمھاری قوم کے ہزاروں آدمی روٹیوں کے محتاج ہوں اور ہزاروں کام کے آدمی بیکار مارے مارے پھریں ۔ اسلام ایسی خود غرضی کا دشمن ہے۔کافروں کو ان کی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ جو کچھ دولت ان کے ہاتھ لگے اس کو سمیٹ سمیٹ کر رکھیں اور اُسے سود پر چلا کر اس پاس کے لوگوں کی کہانی بھی اپنے پاس کھینچ لیں۔ لیکن مسلمانوں کو اُن کا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ اگر خدا تمھیں اس قدر رزق دے جو تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو تو اس کو سمیٹ کر نہ رکھو، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کو دو، تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہوں اور تمھاری طرح وہ بھی کچھ کمانے اور کام کرنے کے قابل ہو جائیں۔

حج چوتھا فرض حج ہے ، یہ عمر میں صرف ایک مرتبہ ادا کرناضروری ہےاور وہ بھی صرف اُن کےلیےجو مکہ معظمہ تک جانے کا خرج برداشت کر سکتے ہیں۔

جہاں اب مکہ معظمہ آباد ہےیہاں اب سے ہزاروں برس پہلےحضرت ابراھیم علیہ السلام نےایک چھوٹا سا گھر اللہ کی عبادت کےلیےبنایا تھا۔اللہ نے ان کے خلوص اور محبت کی یہ قدر فرمائی کہ اس کو اپنا ھر قرار دیا اور فرمایا کہ جس کو ہماری عبادت کرنی ہو وہ اسی گھر کی طرف رخ کر کے عبادت کرے۔ اور فرمایا کہ ہر مسلمان خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو ، بشرط استطاعت عمر میں کم از کم ایک مرتبہ اس گھر کی زیارت کےلیےآئےاور اسی محبت کےساتھ ہمارےاس گھر کا طواف کرےجس کے ساتھ ہمارا پیارا بندہ ابراہیم طواف کرتا تھا۔ پھر یہ بھی حکم دیا کہ جب ہمارے گھر کی طرف آؤ تو اپنے دلوں کو پاک کرو۔ نفسانی خواهشات کو ردکرو خونریزی اور بدکاری اور بد زبانی سے بچو۔ اُسی ادب و احترام اور عاجزی کے ساتھ آؤ جس کے ساتھ تم کو اپنے مالک کےدربار میں حاضر ہونا چاہیے ۔ یہ سمجھو کہ ہم اس بادشاہ کی خدمت میں جارہےہیں جو زمین اور آسمان کا حاکم ہے اور جس کے مقابلہ میں سب انسان فقیر ہیں۔اس عاجزی کے ساتھ جب آؤ گے اور خلوص دل کے ساتھ ہماری عبادت کرو گے تو ہم تمھیں اپنی نوازشوں سے مالا مال کر دیں گے۔

ایک لحاظ سےدیکھو تو حج سب سےبڑی عبادت ہےخدا کی محبت اگرانسان کےدل میں نہ ہو تو وہ اپنے کاروبار چھوڑ کر اپنےعزیزوں اور دوستوں سےجُدا ہو کر اتنےلمبےسفر کی زحمت ہی کیوں برداشت کرے گا ہےاس لیےحج کا ارادہ خود ہی محبت اور اخلاص کی دلیل ہےپھر جب انسان اس سفر کےلیے نکلتا ہے تو اس کی کیفیت عام سفروں جیسی نہیں ہوتی ۔ اس سفر میں زیادہ تر اس کی توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔اس کےدل میں شوق اور ولولہ پڑھتا چلا جاتا ہے۔جوں جوں کعبہ قریب آتا جاتا ہے محبت کی آگ اور زیادہ بھڑکتی ہےگناہوں اور نافرمانیوں سے دل خود بخو نفرت کرتا ہےپچھلےگناہوں پر شرمندگی ہوتی ہے۔آئندہ کےلیےخدا سےدعا کرتا ہے کہ فرماں برداری کی توفیق بخشے۔عبادت اور ذکر الہی میں مزہ آنےلگتا ہے۔سجدے لمبےلمبےہونے لگتےہیں اور دیر تک سراٹھانے کو جی نہیں چاہتا۔ قرآن پڑھتا ہے تو اس میں کچھ لطف ہی اور آتا ہے روزہ رکھتا ہے تو اس کی حلاوت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔پھر جب وہ حجاز کی سرزمین پر قدم رکھتا ہےتو اسلام کی ساری ابتدائی تاریخ اس کی آنکھوں کےسامنےپھر جاتی ہے۔چپےچپے پر خدا سےمحبت کرنےوالوں اور اس کےنام پر جان نثار کرنےوالوں کےآثار دکھائی دیتےہیں۔وہاں کی ریت کا ایک ایک ذرہ اسلام کی عظمت پر گواہی دیتا ہےاور وہاں کی ہر کنگری پکارتی ہےکہ یہ ہے وہ سر زمین جہاں اسلام پیدا ہوا اور جہاں سےخدا کا کلم بلند ہوا ۔ اس طرح مسلمان کا دل خدا کے عشق اور اسلام کی محبت سےبھرجاتا ہےاور وہاں سےوہ ایسا گہرا انٹر لےکر آتا ہےجو مرتےدم تک دل سےمحو نہیں ھوتا-

دین کےساتھ اللہ نےحج میں دنیا کےبھی بےشمار فائدےرکھےہیں۔حج کی وجہ سےمکہ دنیا کےمسلمانوں کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔زمین کے ہر کونے سےاللہ کا نام لینے والے ایک ہی زمانے میں وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرےسےملتےہیں،آپس میں اسلامی محبت قائم ہوتی ہےاور یہ نقش دلوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ مسلمان خواہ کسی ملک اور کسی نسل کےہوں،سب ایک دوسرے کےبھائی ہیں اور ایک ہی قوم ہیں۔ اس بنا پر حج ایک طرف خدا کی عبادت ہےتو اس کے ساتھ ہی وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی کانفرنس بھی ہے اور مسلمانوں کی حالگیر برادری میں اتحاد پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔

حمایت اسلام آخری فرض جو خدا کی طرف سے تم پر عائد کیا گیا ہے ، حمایت اسلام ہے۔اگرچہ یہ ارکان اسلام میں سے نہیں ہے مگر یہ اسلامی فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے اور قرآن وحدیث میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔

حمایت اسلام کیا چیز ہے اور کیوں فرض کی گئی ہے ؟ اس کو تم ایک مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہو۔ فرض کرو کہ ایک شخص تم سے دوستی کرتا ہے،مگر ہر آزمائش کے موقع پر ثابت ہوتا ہے کہ اس کو تم سے کوئی ہمدردی نہیں۔وہ تمھارے فائدے اور نقصان کی کوئی پروانہیں کرتا۔ جس کام میں تمھارا نقصان ہوتا ہو اس کو وہ اپنے ذاتی فائد ے کی خاطر بے تکلف کر گزرتا ہے جیس کام میں تمھارا فائدہ ہوتا ہےاس میں تمھارا ساتھ دینے سے وہ صرف اس لیےپرہیز کرتا ہےکہ اس میں خود اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم پر کوئی مصیبت آئےتو وہ تمھاری کوئی مدد نہیں کرتا۔ کہیں تمھاری برائی کی جارہی ہو تو وہ خود بھی بڑائی کرنےوالوں میں شریک ہو جاتا ہے،یاکم از کم تھاری برائی کو خاموشی کےساتھ سنتا ہے۔ تمھارے دشمن تمھارےخلاف کوئی کام کریں تو وہ ان کےساتھ شریک ہوجاتا ہےیا کم از کم تھیں اُن کی شرارتوں سے بچانے کی ذرا کوشش نہیں کرتا۔ بتاؤ ! کیا تم ایسے شخص کو اپنا دوست سمجھو گے؟ تم یقینا کہو گےہرگز نہیں۔ اس لیے کہ وہ محض زبان سے دوستی کا دعوی کرتا ہے۔مگر در حقیقت دوستی اس کے دل میں نہیں ہے۔ دوستی کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان جس کا دوست ہو اس سے محبت اور خلوص رکھے۔اس کا ہمدر دو خیر خواہ ہو۔ وقت پر اس کےکام آئے۔دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی مدد کرے۔اس کی بڑائی سننےتک کا روا دار نہ ہو ۔جب یہ بات اس میں نہیں تو وہ منافق ہے اس کا دوستی کا دعوی جھوٹا ہے۔

اسی مثال پر قیاس کر لو کہ جب تم مسلمان ہونےکا دھوٹی کرتےہو تو تم پر کیا فرض عائد ہوتا ہے مسلمان ہونےکےمعنی یہ ہیں کہ تم میں اسلامی حمیت ہو، ایمانی غیرت ہو،اسلام کی محبت اور اپنے مسلمان بھائیوں کی سچی خیر خواہی ہو۔تم خواہ نیا کا کوئی کام کرد،اس میں اسلام کا مفاد اور مسلمانوں کی بھلائی ہمیشہ تمھارےپیش نظر رہےاپنے ذاتی فائدے کی خاطر یا اپنے کسی ذاتی نقصان سے بچنےکی خاطر تم سے کبھی کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اسلام کے مقاصد اور مسلمانوں کی فلاح کے خلاف ہو ، اور ہر اس کام میں دال اور جان اور مال سے حصہ لو جو اسلام اور سلمانوں کے لیے قید ہو، اور ہر اس کام سے الگ رہو جو اسلام اورمسلمانوں کےلیے نقصان دہ ہو۔ اپنے دین اور اپنی دینی جماعت کی عزت کو اپنی عزت سمجھو ۔جس طرح تم خود اپنی توہین برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کی تو ہین بھی برداشت نہ کرو جس طرح تم خود اپنے خلاف اپنے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیتے اسی طرح اسلام اور سمانوں کے دشمنوں کا بھی ساتھ نہ دو۔ جس طرح تم اپنی جان مال اور عزت کی حفاظت کےلیےہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جاتےہو ، اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھی ہر قربانی پر آمادہ رہو۔یہ صفات ہر اس شخص میں ہونی چاہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، ورنہ اس کا شمار منافقوں میں ہوگا ، اور اس کا عمل خود ہی اس کے زبانی دعوے کو جھوٹا ثابت کر دے گا۔

اسی حمایت اسلام کا ایک شعبه وہ ہےجس کو شریعیت کی زبان میں ”جہاد“ کہتےہیں۔ جہاد کے لفظی معنی ہیںکسی کام میں اپنی انتہائی طاقت صرف کر دینا۔اس معنی کے لحاظ سے جو شخص خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے روپے سے،زبان ہےقلم سے، ہاتھ پاؤوں سے کوشش کرتا ہے وہ بھی جہاد ہی کرتا ہے۔ مگر خاص طور پر جہاد کا لفظ اس جنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو تمام دنیوی اعراض سےپاک ہو کر محض خدا کےلیے اسلام کے دشمنوں سےکی جائے۔شریعیت میں اس جہاد کو فرض کفایہ کہتے ہیں۔ یعنی یہ ایسا فرض ہے جو تمام مسلمانوں پر عاند تو ہوتا ہےلیکن اگر ایک جماعت اس کو ادا کر دے تو باقی لوگوں پرسےاس کوادا کرنےکی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہےالبتہ اگرکسی اسلامی ملک پر دشمنوں کا حملہ ہو تو اس صورت میں جہاد اس ملک کے تمام باشندوں پر نماز اور روزہ کی طرح فرض عین ہو جاتا ہےاور اگروہ مقابلہ کی طاقت نہ رکھتےہوں توان کےقریب جوملک واقع ہوں وہاں کےبھی ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہےکہ جان اور مال سےان کی مدد کرے اور اگر ان کی مدد سے بھی دشمن کا حملہ دفع نہ ہو تو تمام دنیا کےمسلمانوں پر ان کی حمایت اسی طرح فرض ہو جاتی ہےجس طرح نماز اور روزہ فرض ہے۔یعنی اگر کوئی ایک شخص بھی یہ فرض ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا تو گنہگار ہو گا ایسی صورتوں میں جہاد کی اہمیت نماز اور روزے سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے،اس لیے کہ وہ وقت ایمان کے امتحان کا ہوتا ہے۔ جوشخص مصیبت کے وقت اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ نہ دے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے ۔ پھر اس کی نماز کسی کام کی اور اس کے روزے کی کیا وقعت ہے اور اگر کوئی بدبخت ایسا ہو کہ اُس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دے تو وہ یقینی منافق ہے۔اس کی نماز اور اس کا روزہ اور اس کی زکواۃ اور اس کا حج سب کچھ بیکار ہے۔

کتاب دینیات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Theology