دینیات

باب چهارم - ایمان مفصل

ایمان مفصل خدا پر ایمان لا الہ الا اللہ کے معنی لا الہ الا الہ کی حقیقت انسان کی زندگی پر عقیدہ توحید کا اثر۔ خدا کے فرشتوں کےایمان - خدا کی کتابوں پرایمان۔ خدا کے رسولوں پر ایمان آخرت پر ایمان - عقیدہ آخرت کی ضرورت عقیدہ آخرت کی صداقت کلمہ طیبہ

آگے بڑھنے سے پہلے تم کو ایک مرتبہ پھر ان معلومات کا جائزہ لے لینا چاہیے جو تمھیں پچھلے ابواب میں حاصل ہوتی ہیں۔

(١) اگرچہ اسلام کے معنی خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کے ہیں۔ لیکن چونکہ خدا کی ذات وصفات اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ اور آخرت کی جزا و سزا کا صحیح حال صرف خدا کے پیغمبری کے ذریعہ سے معلوم ہو سکتا ہے اس لیے مذہب اسلام کی صحیح تعریف یہ ہوئی کہ پیغمبر کی تعلیم پر ایمان لانا اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ پرخدا کی بندگی کرنا اسلام ہے"۔جو شخص پیغمبر کےواسطے کو چھوڑ کر براہ راست خدا کی اطاعت و فرماں برداری کا دعوی کرےوہ مسلم نہیں ہے ۔

(٢) قدیم زمانہ میں الگ الگ قوموں کےلیےالگ الگ پیغمبر آتے تھےاور ایک ہی قوم میں یکے بعد دیگرے کئی پیغمبر آیاکرتےتھےاس وقت ہر قوم کےلیے"اسلام اُس مذہب کا نام تھاجو خاص اسی قوم کے پیغمبر یا پیغمبروں نےسکھایا۔اگرچہ اسلام کی حقیقت ہر ملک اورہرزمانےمیں ایک ہی تھی مگر شریعتیں یعنی قوانین اور عبادات کےطریقےکچھ مختلف تھےاس لیےایک قوم پر دوسری قوم کےپیغمبروں کی پیروی ضروری نہ تھی،اگر چہ ایمان لانا سب پر ضروری تھا۔

(٣) حضرت محمد مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم جب پیغمبر بنا کر بھیجےگئےتو آپکےذریعہ سےاسلام کی تعلیم کو مکمل کر دیاگیا۔ اور تمام دنیا کےلیےایک ہی شریعیت بھیجی گئی۔آپ کی نبوت کسی خاص ملک یا قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام اولاد آدم کےلیےہےاور ہمیشہ کےلیے ہے۔اسلام کی جو شریعتیں پچھلےپیغمبروں نےپیش کی تھیں وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر نسوخ کر دی گئیں اور اب قیامت تک نہ کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی دوسری شریعت خدا کی طرف سےاُترنےوالی ہے ۔ لہذا اب " اسلام "صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہے۔آپ کی نبوت کو تسلیم کرنا اور آپ کے اعتماد پر ان سب باتوں کو مانا جن پر ایمان لانے کی آپ نے تعلیم دی ہے اور آپ کے تمام احکام کوخدا کےاحکام سمجھ کر ان کی اطاعت کرنا اسلام ہے۔اب کوئی اور ایسی شخص خدا کی طرف سےآنے والا نہیں ہے جس کو مانا مسلمان ہونے کےلیےضروری ہوا اور جسےنہ ماننےسے آدمی کافر ہو جاتا ہو ۔

آؤ اب ہم تمھیں بتائیں کہحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کن کن باتوں پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے ، وہ کیسی بھی باتیں ہیں اور ان کو ماننے سے انسان کا درجہ کس قدر بلند ہو جاتا ہے ۔

خدا بر ایمان آنحضرت کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ اہم تعلیم یہ ہے : لا اله الا الله (اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے)

یہ کلمہ اسلام کی بنیاد ہے۔ جو چیز مسلم کو ایک کافر، ایک مشرک اور ایک دہریے سے الگ کرتی ہے وہ یہی ہے۔ اسی کلمہ کے اقرار و انکار سے انسان اور انسان کےدرمیان عظیم الشان فرق ہو جاتا ہے۔ اس کو ماننے والے ایک گروہ بن جاتے ہیں اور نہ ماننے والے دوسرا گروہ ۔ اس کے ماننے والوں کےلیے دنیا سے لے کر آخرت تک ترقی ، کامیابی اور سرفرازی ہے۔ اور نہ ماننے والوں کے لیے نامرادی ، ذلت اور پستی ۔

اتنا بڑا فرق جو انسان اور انسان کےدرمیان واقع ہو جاتا ہے ، یہ محض ل،اور لا سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سےجملے کو زبان سے ادا کر دینے کا تیجہ نہیں ہے۔زبان سے اگر تم دس لاکھ مرتبہ کو نین کو نین پکارتے رہو اور کھاؤ نہیں تو تمھارا بخار نہ اترےگا۔اسی طرح اگر زبان سےلا الہ الا اللہ کہہ دیامگر یہ نہ سمجھے کہ اس کے معنی کیا ہیں اور یہ الفاظ کہہ کر تم نے کتنی بڑی چیز کا اقرار کیا ہے، اور اس اقرار سے تم پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد ہو گئی ہے، تو ایسا بے سمجھی کا تلفظ کچھ بھی مفید نہیں۔ در اصل فرق تو اُسی وقت واقع ہو گا جبکہ لا الہ الا اللہ کے معنی تمھارے دل نہیں۔ در اصل فرق تو اُسی وقت واقع ہو گا جبکہ لا الہ الا اللہ کےمعنی تمھارے دل میں اُتر جائیں،اس کےمعنی پر تم کو کامل یقین ہو جائے ، اس کےخلاف جتنےاعتقادات میں ان سےتمھارا دل بالکل پاک ہو جائےاور اس کلمہ کا ا ثر تمھارےدل و دماغ پر کم از کم اتنا ہی گہرا ہو جتنا اس بات کا اثر ہےکہ آگ جلانے والی چیز ہےاور زہر مار ڈالنےوالی چیز ۔ یعنی جس طرح آگ کی خاصیت پر ایمان تم کوچھے میں ہاتھ ڈالنےسےروکتا ہے اور زہر کی خاصیت پر ایمان تم کو زہر کھانےسےباز رکھتا ہے اُسی طرح لا الہ الا اللہ پر ایمان تم کو شرک اور کفر اور دہریت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سے روک دے خواہ وہ اعتقاد میں ہو یا عمل میں ۔

لاالہ الا اللہ کے معنی سب سے پہلےیہ سمجھو کہ "الہ " کسےکہتےہیں٠ عربی زبان میں "الہ" کے معنی "مستحق عبادت" کے ہیں۔ یعنی ایسی ہستی جو اپنی شان اور جلال اور برتری کےلحاظ سے اس قابل ہو کہ اُس کی پرستش کی جائے اور بندگی اور عبادت میں اس کےآگے سر جھکا دیا جائے ۔ "الہ" کے معنی میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ بے انتہا قدرت کا مالک ہو،جس کی وسعت کو سمجھنےمیں انسان کی عقل حیران رہ جائے۔"الہ" کےمفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ خود کسی کا محتاج نہ ہو اور سب اپنی زندگی کے معاملات میں اُس کےمحتاج ہوں اور اس سےمدد مانگنےکےلیےمجبور ہوں۔"الہ"کےلفظ میں پوشیدگی کا مفہوم بھی پایا جاتا ہےیعنی "الہ" اس کو کہیں گےجس کی طاقتیں پراسرار ہوں۔فارسی زبان میں "خدا" اور ہندی میں "دیوتا"۔اور انگریزی میں "گاڈ"کےمعنی بھی اس سےملتےجلتےہیں اور دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی اس مطلب کے لیے مخصوص الفاظ پائے جاتے ہیں۔

لفظ اللہ در اصل خدائے وحدہ لاشریک کا اسم ذات ہے۔لا الہ الا اللہ کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ "کوئی الا نہیں ہےسوائےاس ذات خاص کےجس کا نام اللہ ہے"۔مطلب یہ ہےکہ تمام کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایک ہستی بھی ایسی نہیں جو پوجنےکےلائق ہو۔ اس کےسوا کوئی اس کا مستحق نہیں کہ عبادت اور بندگی و اطاعت میں اس کے آگےسرجھکایا جائے۔صرف وہی ایک ذات تمام جہان کی مالک اور حاکم ہے۔ تمام چیزیں اس کی محتاج ہیں ۔سب اسی سےمدد ما نگنےپر مجبور ہیں۔ وہ جو اس سےپوشیدہ ہے اور اس کی ہستی کو سمجھنے میں عقل دنگ ہے

لا الہ الا اللہ کی حقیقت یہ تو صرف الفاظ کا مفہوم تھا۔ اب اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔انسان کی قدیم سے قدیم تاریخ کےجو حالات ہم تک پہنچےہیں،اور پرانی سےپرانی قوموں کے جو آثار دیکھے گئے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہےکہ انسان نےہر زمانے میں کسی نہ کسی کو خدا مانا ہےاور کسی نہ کسی کی عبادت ضرور کی ہےاب بھی دنیا میں جتنی قومیں ہیں،خواہ وہ نہایت وحشی ہوں یا نہایت مہذب،ان سب میں یہ بات موجود ہےکہ وہ کسی کو خدا مانتی ہیں اور اس کی عبادت کرتی ہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ انسان کی فطرت میں خدا کا خیال بیٹھا ہوا ہے۔اس کے اندر کوئی ایسی چیز ہےجو اُسےمجبور کرتی ہے کہ کسی کو خدا مانے اور اس کی عبادت کرے ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ تم خود اپنی ہستی پر اور تمام انسانوں کی حالت پر نظر ڈال کر اس سوال کا جواب معلوم کر سکتے ہو۔

انسان در اصل بندہ ہی پیدا ہوا ہے۔وہ فطرتا محتاج ہے،کمزور ہے،فقیر ہے۔ بے شمار چیزیں ہیں جو اس کی ہستی کو برقرار رکھنےکےلیےضروری ہیں،مگر اس کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں، آپ سے آپ اس کو حاصل بھی ہوتی ہیں اور اس سے چھین بھی جاتی ہیں۔

بہت سی چیزیں ہیں جو اس کے لیے فائدہ مند ہیں۔ وہ ان کو حاصل کرنا چاهتا ہےمگر کبھی وہ اس کو مل جاتی ہیں اور کبھی نہیں ملتیں۔ کیونکہ ان کو حاصل کرنا بالکل اس کے اختیار میں نہیں ہے۔

بہت سی چیزیں ہیں جو اس کو نقصان پہنچاتی ہیں،اس کی عمر بھر کی محنتوں کو آن کی آن میں برباد کر دیتی ہیں،اس کی آرزووں کو خاک میں ملا دیتی ہیں،اس کو بیماری اور ہلاکت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔وہ ان کو دفع کرنا چاہتا ہے۔کبھی وہ دفع ہو جاتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتیں۔اس سےوہ جان لیتا ہے کہ ان کا آنا اور نہ آنا، دفع ہونا یا نہ ہونا اس کے اختیار سے باہر ہے۔

بہت سی چیزیں ہیں جن کی شان و شوکت اور بزرگی کو دیکھ کر دہ مرعوب ہو جاتا ہے۔پہاڑوں کو دیکھتا ہے ، دریاؤں کو دیکھتا ہے ، بڑے بڑے ہولناک جانور دیکھتا ہے،ہواؤں کےطوفان اور پانی کے سیلاب اور زمین کےزلزلےدیکھتا ہے،بادلوں کی گرج اور گھٹاؤں کی سیاہی اور بجلی کی کڑک چمک اور موسلا دھار بارش کےمناظر اس کےسامنےآتےہیں،سورج اور چاند اور تارےاس کو گردش کرتےدکھائی دیتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہےکہ سب چیزیں کتنی بڑی،کتنی طاقتور کتنی شان دار ہیں اور ان کےمقابلہ میں وہ خود کتنا ضعیف اور حقیر ہے۔

یہ مختلف نظارے اور خود اپنی مجبوریوں کے مختلف حالات دیکھ کر اس کےدل میں آپ سے آپ اپنی بندگی،محتاجی اور کمزوری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔اور جب یہ احساس پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی خود بخود الوبیت یعنی خدائی کا تصور بھی پیدا ہو جاتا ہے۔وہ اُن ہاتھوں کا خیال کرتا ہےجو اتنی بڑی طاقتوں کےمالک ہیں۔ان کی بزرگی کا احساس اسےمجبور کرتا ہےکہ وہ ان کی عبادت میں سرجھکا دے۔اُن کی قوت کا احساس اسےمجبور کرتا ہےکہ وہ اُن کےآگےاپنی عاجزی پیش کرےاُن کی نفع پہنچانے والی قوتوں کا احساس اسے مجبور کرتا ہےکہ وہ ان کے آگے مشکل کشائی کےلیےہاتھ پھیلاتے،اور ان کی نقصان پہنچانےوالی طاقتوں کا احساس اُسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اُن سے خوف کھائے اور اُن کےغضب سے بچے ۔

جہالت کےسب سےنیچےدرجہ میں انسان یہ سمجھتا ہےکہ جو چیزیں اس کو شان اور طاقت والی نظر آتی ہیں یا کسی طرح نفع یا نقصان پہنچاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں یہی خدا ہیں۔چنانچہ وہ جانوروں اور دریاؤں اور پہاڑوں کو پوجتا ہے،زمین کی پرستش کرتا ہے،آگ اور بارش اور ہوا اور چاند اور سورج کی عبادت کرنے لگتا ہے۔

یہ جہالت جب ذرا کم ہوتی ہے اور کچھ علم کی روشنی آتی ہےتو اسے معلوم ہوتا یہ سب چیزیں تو خود اسی کی طرح محتاج اور کمزور ہیں۔ بڑے سے بڑا جانور بھی ایک ادنی مچھر کی طرح مرتا ہے۔بڑے بڑے دریا خشک ہو جاتےہیں اور چڑھتےاُترتےرہتےہیں۔پہاڑوں کو خود انسان توڑتا پھوڑتا ہے۔زمین کا پھلنا پھولنا اور زمین کےاپنےاختیار میں نہیں،جب پانی اس کا ساتھ نہیں دیتا تو وہ خشک ہو جاتی ہے۔پانی بھی بے اختیار ہےاس کی آمد ہوا کی محتاج ہےہوا بھی اپنےاختیار میں نہیں۔اس کامفید یا غیرمفید ہوتا دوسرے اسباب کے تحت ہے۔ چاند اور سورج اور تارے بھی کسی قانون کے تابع ہیں۔اُس قانون کےخلاف وہ کوئی ادنی اجنبش بھی نہیں کرسکتے۔اب اُس کا ذہن مخفی اور پراسرار قوتوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔وہ خیال کرتا ہےکہ ان ظاہری چیزوں کی پشت پر کچھ پوشیدہ قوتیں ہیں جو ان پر حکومت کر رہی ہیں اور سب کچھ انھی کےاختیار میں ہے۔یہیں سےخداؤں اور دیوتاؤں کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے۔ روشنی اور ہو اور پانی اور بیماری و تندرستی اور مختلف دوسری چیزوں کے خدا الگ الگ مان لیے جاتے ہیں اور ان کی خیالی صورتیں بنا کر ان کی عبادتیں کی جاتی ہیں۔

اس کےبعد جب اور زیادہ علم کی روشنی آتی ہےتو انسان دیکھتا ہےکہ دنیا کےانتظام میں ایک زبردست قانون اور ایک بڑے ضابطہ کی پابندی پائی جاتی ہے۔ہواؤں کی رفتار ، بارش کی آمد،سیاروں کی گردش فصلوں اور موسموں کے تغیر میں کیسی باقاعدگی ہے؟ کس طرح بےشمار قوتیں ایک دوسرےکے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں ؟ کیسا زبر دست قانون ہے کہ جو وقت جس کام کےلیےمقرر کردیا گیا ہے، ٹھیک اسی وقت پر کائنات کےتمام اسباب جمع ہو جاتےہیں اور ایک دوسرےسےاشتراک عمل کرتےہیں۔انتظام عالم کی ہم آہنگی دیکھ کر شرک انسان یہ ماننےپر مجبور ہو جاتا ہےکہ ایک سب سےبڑا خدا بھی ہےجو ان تمام چھوٹےچھوٹےخداؤں پر حکومت کر رہا ہے،ورنہ اگر سب ایک دوسرےسےالگ اور بالکل خود مختار ہوں تو دنیا کا سارےکا سارا کارخانہ درہم برہم ہو جائے۔وہ اس بڑے خدا کو "اللہ" اور "پرمیشور" اور "خدائے خدائگاں" وغیرہ ناموں سے موسوم کرتا ہے مگر عبادت میں اس کے ساتھ چھوٹے خداؤں کو بھی شریک رکھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ خدائی بھی دنیوی بادشاہی کےنمونہ پر ہے۔جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے بہت سے وزیر اور عمد اور ناظم اور دوسرے با اختیار عہدہ دار ہوتے ہیں اسی طرح کائنات میں بھی ایک بڑا خدا ہے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کے ماتحت ہیں۔ جب تک چھوٹے خداؤں کو خوش نہ کیا جائے گابڑے خدا تک رسائی نہ ہو سکے گی۔ اس لیےان کی عبادت بھی کرو، ان کے آگے بھی ہاتھ پھیلاؤ ، ان کی ناراضی سے بھی ڈرو، ان کو بڑے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ اور مندروں اور نیازوں سے انھیں خوش رکھو ۔

پھر جب علم میں اور ترقی ہوتی ہےتو خداؤں کی تعداد گھٹنےلگتی ہےجتنےخیالی خدا جاہلوں نے بنارکھے ہیں ان میں سے ایک ایک کے متعلق غور کرنے سےانسان کو معلوم ہوتا چلا جاتا ہے کہ وہ خدا نہیں ہیں ہماری ہی طرح کےبندےہیں بلکہ ہم سےبھی زیادہ بےبس ہیں۔اس طرح وہ ان کو چھوڑتا چلا جاتا ہےیہاں تک کہ آخر میں صرف ایک خدا رہ جاتا ہے،مگر اس ایک کےمتعلق پھر بھی اس کے خیالات میں بہت کچھ جہالت باقی رہ جاتی ہے۔ کوئی یہ خیال کرتا ہےکہ خدا ہماری طرح جسم رکھتا ہےاور ایک جگہ بیٹھا ہوا خدائی کر رہا ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا بیوی بچےرکھتا ہے اور انسان کی طرح اس کے ہاں بھی اولاد کا سلسلہ چل رہا ہےکوئی یہ گمان کرتا ہےکہ خدا انسان کی صورت میں زمین پر اترتا ہےکوئی کہتا ہےکہ خدا اس دنیا کےکارخانےکو چلا کر خاموش بیٹھ گیا ہےاور اب کہیں آرام کر رہا ہے۔کوئی سمجھتا ہے کہ خدا کےہاں بزرگوں اور روحوں کی سفارش لےجانا ضروری ہےاور ان کو وسیلہ بنائےبغیر وہاں کام نہیں چلتا۔کوئی اپنےخیال میں خدا کی ایک صورت تجویز کرتا ہےاور عبادت کےلیےاس صورت کو سامنےرکھنا ضروری سمجھتا ہےاس طرح کی بہت سی غلط فہمیاں توحید کا اعتقاد رکھنےکےباوجود انسان کے ذہن میں باقی رہ جاتی ہیں جن کے سبب سے وہ شرک یا کفر میں مبتلا ہوتا ہے اور یہ سب جہالت کا نتیجہ ہیں ۔

سب سے اوپر لا الہ الا الہ کا درجہ ہے۔ یہ وہ علم ہے جو خود اللہ نے ہر زمانے میں اپنے نبیوں کے ذریعے سے انسان کے پاس بھیجا ہے۔یہی علم سب سے پہلے انسان حضرت آدم کو دے کر زمین پر اتارا گیا تھا۔ یہی علم حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح ،حضرت ابراہیم،حضرت موسی اور دوسرے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا۔پھر اسی علم کو لےکر سب سےآخر میں حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یہ خالص علم ہےجس میں جہالت کا شائبہ تک نہیں ۔ اور ہم نے شرک اور بت پرستی اور کفر کی جتنی صورتیں لکھی ہیں ، اُن سب میں انسان اسی وجہ سے مبتلا ہوا کہ اس نےپیغمبروں کی تعلیم سے منہ موڑ کر خود اپنے حواس اور اپنی عقل پر بھروسہ کیا۔ آو ہم بتائیں کہ اس چھوٹے سے فقرے میں کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

(١) سب سے پہلی چیز الوبیت یعنی خدائی کا تصور ہے۔ یہ وسیع کائنات جس کےآغاز اور انجام اور انتہا کا خیال کرنے سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے،جو نا معلوم زمانہ سے چلی آرہی ہے اور نا معلوم زمانہ تک چلی جارہی ہے،جس میں بےحد و حساب مخلوق پیدا ہوئی اور پیدا ہوئے چلی جارہی ہے،جس میں ایسےایسے حیرت انگیز کرشمے ہو رہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ، اس کائنات کی خدائی صرف وہی کر سکتا ہےجو غیر محدود ہو،ہمیشہ سے ہو ،اور ہمیشہ رہے،کسی کا محتاج نہ ہو، بے نیاز ہو ، قادر مطلق ہو ، حکیم اور دانا ہو، ہر چیز کاعلم رکھتا ہو اور کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو ، سب پر غالب ہو اور کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہ کر سکےبے حساب قوتوں کا مالک ہو اور کائنات کی ساری چیزوں کو اس سےزندگی اور رزق کا سامان بهم پہنچے،عیب و نقص اور کزوری کی تمام صفات سےپاک ہو،اور اس کے کاموں میں کوئی دخل نہ دے سکے ۔

(٢) خدائی کی یہ تمام صفات ایک ہی ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔ یہ ناممکن ہےکہ دو ہستیاں یہ صفات برابر رکھتی ہوں،کیونکہ سب پر غالب اور سب پر حاکم تو ایک ہی ہو سکتا ہےیہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات تقسیم ہو کر بہت سےخداؤں میں بٹ جائیں،کیونکہ اگر حاکم ایک ہو اورعالم دوسرا اور رازق تیسرا، تو ہر ایک خدا دوسرے کا محتاج ہوگا، اور اگر ایک نے دوسرے کا ساتھ نہ دیا تو ساری کائنات یک لخت فنا ہو جائےگی۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات ایک سےدوسرےکو متتقل ہوں یعنی کبھی ایک خدا میں پائی جائیں اور کبھی دوسرےمیں،کیونکہ جو خدا خود زندہ رہنے کی قوت نہ رکھتا ہو وہ ساری کائنات کو زندگی نہیں بخش سکتا، اور جو خدا خود اپنی خدائی کی حفاظت نہ کر سکتا ہو وہ اتنی بڑی کائنات پر حکومت نہیں کر سکتا۔پس تم کو علم کی جتنی زیادہ روشنی ملےگی اتنا ہی زیادہ تم کو یقین ہوتا جائے گا کہ خدائی کی صفات صرف ایک ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔

(٣) خدائی کےاِس کامل اور صحیح تصور کو نظر میں رکھو ، پھر ساری کائنات پر نظر ڈالو جتنی چیزیں تم دیکھتےہو،جتنی چیزوں کو کسی ذریعه سے محسوس کرتےہو،جتنی چیزوں تک تمھارے علم کی پہنچ ہے،ان میں سے ایک بھی ان صفات سے متصف نہیں ہے۔عالم کی ساری موجودات محتاج ہیں، محکوم ہیں بنتی اوربگڑتی ہیں،مرتی اور جیتی ہیں۔کسی کو ایک حال پر قیام نہیں کسی کو اپنےاختیار سےکچھ کرنےکی قدرت نہیں۔کسی کو ایک بالاتر قانون کےخلاف بال برابر حرکت کرنےکا اختیار نہیں۔اُن کےحالات خود گواہی دیتےہیں کہ ان میں سے کوئی خدا نہیں ہے،کسی میں خدائی کی ادنی جھلک بھی نہیں پائی جاتی۔ کسی کا خدائی میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے یہی معنی ہیں لاالہ کے۔

(٤) کائنات کی ساری چیزوں سے خدائی چھین لینے کے بعد تم کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ایک اور رہتی ہے جو سب سے بالاتر ہے۔ صرف وہی تمام خدائی صفات رکھتی ہے اور اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔ یہی معنی ہیں الا اللہ کے۔

سب سے بڑا علم ہے۔ تم جس قدر تحقیق اور جستجو کرو گے تم کو یہی معلوم ہو گا کہ میں علم کا سرا بھی ہےاور یہی علم کی آخری حد بھی طبیعیات، کیمیا ،هیئت،ریاضیات،حیاتیات،حیوانیات، انسانیات ، غرض کائنات کی حقیقتوں کا کھوج لگانےوالے جتنےعلوم ہیں ان میں سےخواہ کوئی علم لے لو اس کی تحقیق میں جس قدر تم آگے بڑھتے جاؤ گے لا الہ الا اللہ کی صداقت تم پر زیادہ کھلتی جائےگی اور اس پر تمھارا یقین بڑھتا جائے گا۔ تم کوعلمی تحقیقات کے میدان میں ہر ہر قدم پرمحسوس ہوگا کہ اس سب سے پہلی اور سب سے بڑی سچائی سے انکار کرنے کے بعد کائنات کی ہر چیز بے معنی ہو جاتی ہے۔

انسان کی زندگی پر عقیدہ توحید کا اثر اب ہم تمھیں بتائیں گے کہ لا الہ الا اللہ کے اقرار سے انسان کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس کو نہ ماننے والا دنیا اور آخرت میں کیوں نامراد ہو جاتا ہے۔

(١) اس کلمہ پر ایمان رکھنے والا کبھی تنگ نظر نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسے خدا کا قائل ہوتا ہے جو زمین و آسمان کا خالق ، مشرق و مغرب کا مالک اور تمام جہان کا پالنےپوسنے والا ہے۔اس ایمان کےبعد ساری کائنات میں کوئی چیز بھی اس کو غیر نظر نہیں آتی، وہ سب کو اپنی ذات کی طرح ایک ہی مالک کی ملکیت اور ایک ہی بادشاہ کی رقیت سمجھتا ہے ۔ اس کی ہمدردی اور محبت و خدمت کسی دائر نے کی پابند نہیں رہتی ، اس کی نظر ویسی ہی غیر محدود ہو جاتی ہے جیسی خود اللہ تعالیٰ کی بادشاہی غیر محدود ہے۔ یہ بات کسی ایسے شخص کو حاصل نہیں ہو سکتی جو بہت سے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا قاتل ہو، یا خدا میں انسان کی محدود اور ناقص صفات مانتا ہو، یا سرے سے خدا کا قاتل ہی نہ ہو۔

(٢) یہ کلمہ انسان میں انتہا درجہ کی خود داری اور عزت نفس پیدا کر دیتا ہے۔اس پر اعتقاد رکھنے والا جانتا ہےکہ صرف ایک خدا تمام طاقتوں کا مالک ہے۔اُس کےسوا کوئی نفع پہنچانےوالا نہیں، کوئی مارنے اور چلانے والا نہیں،کوئی صاحب اختیار اور با اثر ہیں۔ یہ علم اور یقین اس کو خدا کے سوا تمام قوتوں سےبے نیاز اور بے خوف کر دیتا ہے۔ اس کی گردن کسی مخلوق کے آگے نہیں تھکتی۔اس کا ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلتا۔ اس کے دل میں کسی کی بزرگی کا سکہ نہیں بیٹھتا۔ یہ صفت سورائے عقیدہ توحید کےاور کسی عقیدہ سے پیدا نہیں ہو سکتی۔شرک اور کفر اور دہریت کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ انسان مخلوقات کے آگے جھکے،ان کو نفع اور نقصان کا مالک سمجھے،ان سے خوف کھائے اور ان ہی سے امیدیں وابستہ رکھے ۔

(٣) خود داری کےساتھ یہ کلمہ انسان میں انکساری بھی پیدا کرتا ہےاس کا قاتل کبھی مغرور اور متکبر نہیں ہوسکتا، اپنی قوت اور دولت اور قابلیت کا گھمنڈ اُس کے دل میں سماہی نہیں سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہےخدا ہی کا دیا ہوا ہے ، اور خدا جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینےپر بھی قادر ہے۔اس کے مقابلہ میں عقیدہ الحاد کےساتھ جب انسان کو کسی قسم کا دنیوی کمال حاصل ہوتا ہے تو ہ متکبر ہو جاتا ہے،کیونکہ وہ اپنےکمال کو محض اپنی قابلیت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح شرک اور کفر کے ساتھ بھی غرور پیدا ہونا لازمی ہےکیونکہ مشرک اور کافر اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ خداؤں اور دیوتاؤں سے اس کا کوئی خاص تعلق ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں ۔

(٤) اس کلمه پر اعتقاد رکھنےوالا اچھی طرح سمجھتا ہےکہ نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی کے سوا اُس کے لیے نجاست اور فلاح کا کوئی ذریعہ نہیں، کیونکہ وہ ایک ایسےخدا پر اعتقاد رکھتا ہے جو بے نیاز ہے ، کسی سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ بے لاگ عمل کرنےوالا ہےاور کسی کو اس کی خدائی میں دخل یا اثر حاصل نہیں۔اس کےمقابلہ میں مشرکین اور کفار ہمیشہ جھوٹی توقعات پر زندگی بسر کرتے ہیں ان میں کوئی سمجھتا ہےکہ خدا کا بیٹا ہمارےلیےکفارہ بن گیا ہے۔کوئی خیال کرتا ہےکہ ہم خدا کے چہیتےہیں اور ہمیں سزا مل ہی نہیں سکتی۔کسی کا گمان یہ ہےکہ ہم اپنےبزرگوں سےخدا کے ہاں سفارش کرائیں گے۔کوئی اپنے دیوتاؤں کو نذر و نیازدےکرسمجھ لیتا ہےکہ اب اسے دنیا میں سب کچھ کرنےکا لائسنس مل گیا ہے۔اس قسم سےجھوٹےاعتقادات ان لوگوں کو ہمیشہ گناہوں اور بدکاریوں کےچکر میں پھنسائے رکھتےہیں اور وہ ان کےبھروسہ پر نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی سےغافل ہو جاتے ہیں۔رہے دہریے تو وہ سرے سے یہ اعتقاد ہی نہیں رکھتے کہ کوئی بالا ترہستی اُن سےبھلے یا بڑے کاموں کی باز پرس کرنے والی بھی ہے ۔ اس لیے وہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔ اُن کے نفس کی خواہش ان کی خدا ہوتی ہے اور وہ اس کے بندے ہوتے ہیں۔

(٥) اس کلمہ کا قاتل کسی حال میں مایوس اور دل شکستہ نہیں ہوتا۔وہ ایک ایسےخدا پر ایمان رکھتا ہے جو زمین و آسمان کےسارے خزانوں کا مالک ہے۔جس کا فضل و کرم بے حد و حساب ہے اور جس کی قوتیں بے پایاں ہیں ۔ یہ ایمان اُس کے دل کو غیر معمولی تسکین بخشتا ہے ۔ اس کو اطمینان سے بھر دیتا ہے اور ہمیشہ امیدوں سے لبریز رکھتا ہے۔ چاہے وہ تمام دنیا کے دروازوں سے ٹھکرا دیا جائے ، سارے اسباب کا رشتہ ٹوٹ جائےاور وسائل و ذرائع ایک ایک کر کےاس کا ساتھ چھوڑ دیں،پھر بھی ایک خدا کا سہارا کسی حال میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اسی کے بل بوتےپر وہ نئی امیدوں کے ساتھ کوشش پر کوشش کیے چلا جاتا ہے۔یہ اطمینان قلب عقیدہ توحید کے سوا اور کسی عقیدے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مشرکین اور کفار اور دہریے چھوٹےدل کےہوتے ہیں،ان کا بھروسہ محدود دطاقتوں پر ہوتا ہے، اس لیے مشکلات میں بہت جلدی مایویسی ان کو گھیر لیتی ہے اور اکثر ایسی حالتوں میں وہ خود کشی تک کر گزرتے ہیں ۔

(٦) اس کلمہ کا اعتقاد انسان میں عزم اور حوصلہ اور صبر توکل کی زبردست طاقت پیدا کر دیتا ہے ۔ وہ جب خدا کی خوشنودی کے لیے دنیا میں بڑے کام انجام دینے کےلیے اٹھتا ہے، تو اس کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ میری پشت پر زمین و آسمان کے بادشاہ کی قوت ہے ۔ یہ خیال اس میں پہاڑ کی سی مضبوطی پیدا کر دیتا ہے اور دنیا کی ساری مشکلات اور مصیبتیں اور مخالف طاقتیں مل کر بھی اس کو اپنے عزم سے نہیں ہٹا سکتیں۔

(٧) یہ کلمہ انسان کو بہادر بنا دیتا ہے۔دیکھو ! آدمی کو بزدل بنانےوالی دراصل دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک تو جان اور مال اور بال بچوں کی محبت،دوسرے یہ خیال کہ خدا کےسوا کوئی اور مارنے والا ہے اور یہ کہ آدمی اپنی تدبیر سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ لا الہ اللہ کا اعتقاد ان دونوں چیزوں کو دل سے نکال دیتا ہے۔پہلی چیز تو اس لیے نکل جاتی ہے کہ اس کا قائل اپنی جان و مال اور ہر چیز کا مالک خدا ہی کو سمجھتا ہےاور اس کی خوشنودی کے لیے سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔رہی دوسری چیز تو وہ اس وجہ سےباقی نہیں رہتی کہ لا الہ الا اللہ کہنےوالےکےنزدیک جان لینےکی قدرت کسی انسان یا حیوان یا توپ یا تلوار یا لکڑی یا پتھر میں نہیں ہے ۔ اس کا اختیار صرف خدا کو ہے اور اس نے موت کا جو وقت مقرر کر دیا ہے اس سے پہلے دنیا کی تمام قوتیں مل کر بھی چاہیں تو کسی کی جان نہیں لے سکتیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے سے زیادہ بہادر دنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں تلواروں کی باڑھ اور گولیوں کی بوچھاڑ اور فوجوں کی یورش سب ناکام ہو جاتی ہیں۔ جب وہ خدا کی راہ میں لڑنے کے لیے بڑھتا ہےتو اپنے سے دس گنی طاقت کا بھی منہ پھیر دیتا ہے۔ مشرکین اور کفار اور دہریےیہ قوت کہاں سے لائیں گے ؟ ان کو تو جان سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موت دشمن کے لانے سے آتی ہے اور ان کے بھاگنے سے بھاگ سکتی ہے۔

(٨) لا الہ الا الہ کا اعتقاد انسان میں قناعت اور بے نیازی کی شان پیدا کر دیتا ہے۔حرص ۔ ہوس اور رشک و حسد کےرکیک جذبات اس کےدل سےنکال دیتا ہےکامیابی حاصل کرنےکے ناجائز اور ذلیل طریقے اختیار کرنےکا خیال تک اس کےذہن میں نہیں آنے دیتا۔وہ سمجھتا ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہےزیادہ دے جس کو چاہےکم دے عزت اور طاقت اور ناموری اور حکومت سب کچھ خدا کےاختیار میں ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں کےلحاظ سےمیں کو جس قدر چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ہمارا کام صرف اپنی حد تک جائز کوشش کرنا ہے۔ کامیابی اور ناکامی خدا کے فضل پر موقوف ہے ۔ وہ اگر دینا چاہے تو دنیا کی کوئی قوت اُسےروک نہیں سکتی اور نہ دینا چاہے تو کوئی طاقت دلوا نہیں سکتی۔اس کے مقابلہ میں مشرکین اورکفاراوردہریےاپنی کامیابی اورنا کامی کو اپنی کوشش اور دنیوی طاقوں کی مدد یا مخالفت پر موقوف سمجھتےہیں،اس لیےان پر حرص اور ہوس مسلط رہتی ہےکامیابی حاصل کرنےکےلیے رشوت خوشامد،سازش اور ہر قسم کےبد ترین ذرائع اختیار کرنےمیں انھیں باک نہیں ہوتا۔دوسروں کی کامیابی پر رشک و حسد میں جلےمرتے ہیں اور ان کو نیچا دکھانےکی کوئی بڑی سےبڑی تدبیر بھی نہیں چھوڑتے۔

(٩) سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کا اعتقاد انسان کو خدا کے قانونکا پابند بناتا ہے ۔ اس کلمہ پر ایمان لانے والا یقین رکھتا ہے کہ خدا ہر چھپی او کھلی چیز سے باخبر ہے۔ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہےاگر ہم رات کےاندھیرے میں اور تنہائی کےگوشےمیں بھی کوئی گناہ کریں تو خدا کو اس کا علم ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارے دل کی گہرائی میں بھی کوئی برا ارادہ پیدا ہو تو خدا تک اس کی خبر پہنچ جاتی ہے۔ہم سب سےچھپا سکتےہیں مگر خدا سےنہیں چھپا سکتےسب سےبھاگ سکتےہیں مگر خدا کی سلطنت سےنہیں نکل سکتے۔سب سے بچ سکتےہیں مگر خدا کی پکڑ سے بچنا غیرممکن ہے۔ یہ یقین جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی زیادہ انسان اپنے خدا کے احکام کا مطلع ہوگا۔ جس چیز کو خدا نے حرام کیا ہے وہ اس کے پاس بھی نہ پھٹکےگا اور جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے وہ اس کو تنہائی اور تاریکی میں بھی بجا لائےگا۔کیونکہ اس کےساتھ ایک ایسی پولیس لگی ہوتی ہےجو کسی حال میں اسکا پیچھانہیں چھوڑتی،اور اس کو ایسی عدالت کا کھٹکا لگا رہتا ہے جس کے وارنٹ سے وہ کہیں بھاگ ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ہونےکےلیےسب سےپہلی اور ضروری شرط لا الہ الا پر ایمان لانا ہےمسلم کےمعنی جیسا کہ تم کو ابتدا میں بتایاجاچکا ہےخدا کےفرمانبردار بندے کے ہیں اور خدا کا فرماں بردار ہونا ممکن ہی نہیں جب تک کہ انسان اس بات پر یقین نہ لائے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں یہ ایمان باللہ سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔ یہ اسلام کا مرکز ہے،اس کی جڑ ہے،اس کی قوت کا منبع ہے۔اس کےسوا اسلام کے جتنےاعتقادات اور احکام اور قوانین ہیں سب اسی بنیاد پر قائم ہیں اور ان سب کو ایسی مرکز سےقوت پہنچتی ہےاس کو ہٹا دنے کے بعد اسلام کوئی چیز نہیں رہتا ۔

خدا کے فرشتوں پر ایمان ایمان باللہ کے بعد دوسری چیز جس پر آنحضرت نے ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے، وہ فرشتوں کی بستی ہے اور بڑا فائدہ اس تعلیم کا یہ ہےاس سےتوحید کا اقتصاد شرک کے تمام خطروں سے پاک ہو جاتا ہے۔

اوپر تم کو بتایا جاچکا ہےکہ مشرکین نے خدائی میں دو قسم کی مخلوقات کو شریک کیا ہے ۔ ایک قسم اُن مخلوقات کی ہے جو جسمانی وجود رکھتی ہیں اور نظر آتی ہیں ، مثلا سورج ، چاند اور تارے ، آگ اور پانی اور بزرگ انسان وغیرہ۔ دوسری قسم آن مخلوقات کی ہے جن کا وجود جسمانی نہیں ہے بلکہ وہ نظروں سے اوجھل ہیں اور پس پردہ کائیات کا انتظام کر رہی ہیں،مثلاً کوئی ہوا چلانے والی اور کوئی پانی برسانے والی اور کوئی روشنی بهم پہنچانے والی۔ ان میں سے پہلی قسم کی چیزیں تو انسان کی آنکھوں کےسامنےموجود ہیں۔ اس لیےان کی خدائی کی نفی خود لا الہ الا اللہ کےالفاظ ہی سےہو جاتی ہے۔ لیکن دوسری قسم کی مخلوقات پوشیده اور پراسرار ہیں مشرکین زیادہ تر انھی کے گرویدہ ہیں، انہی کو دیوتا اور خدا اور خدا کی اولاد سمجھتے ہیں ، انھی کی فرضی مورتیں بنا کر نذر و نیاز چڑھاتے ہیں۔ لهذا توحید الهی کو شرک کے اس دوسرے شعبے سے پاک کرنے کے لیے ایک مستقل عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ پوشیدہ نورانی ہستیاں جن کو تم دیوتا اور خدا اور اولاد خدا کہتےہو در اصل یہ خدا کےفرشتے ہیں۔ان کا خدائی میں کوئی دخل نہیں۔ یہ سب خدا کے تابع فرمان ہیں اور اس قدر طبع ہیں کہ حکم الہی سے بال برابر بھی سرتابی نہیں کر سکتے ۔ خدا ان کے ذریعہ سے اپنی سلطنت کی تدبیر کرتا ہے اور یہ ٹھیک ٹھیک اس کے فرمان بجالاتے ہیں۔ان کو خود اپنے اختیار سے کچھ کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ اپنی طرف سے خدا کے حضور میں کوئی تجویز پیش نہیں کر سکتے۔ ان کی اتنی مجال بھی نہیں کہ اس کےسامنے کسی کی سفارش کر دیں۔ ان کی عبادت کرتا اور ان سےمدد مانگنا تو انسان کے لیے ذلت ہے،کیونکہ روز اول میں اللہ تعالیٰ نےان سے آدم کو سجدہ کرایا تھا اور ان سے بڑھ کر آدم کوعلم عطاکیا تھا اور ان کو چھوڑ کر آدم کو زمین کی خلافت عطا کی تھی۔ پس جو انسان خود ان فرشتوں کا مسجود ہے اس کے لیےاس سے بڑھ کر کیا ذلت ہو سکتی ہے کہ وہ الٹا ان کے آگے سجدہ کرے اور ان سے بھیک مانگے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو ہم کو فرشتوں کی پرستش کرنےاور خدائی میں ان کو شریک ٹھیرانے سے روک دیا۔ دوسری طرف آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ فرشتے خداکی برگزیده مخلوق ہیں ، گناہوں سےپاک ہیں ، ان کی فطرت ایسی ہےکہ وہ خدا کے احکام کی نافرمانی کرہی نہیں سکتے۔وہ ہمیشہ خداکی بندگی و عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ اُنھی میں سے ایک برگزیدہ فرشتے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں پر وحی بھیجتا ہےجن کا نام جبریل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس جبرئیل علیہ السلام ہی کے ذریعہ سے قرآن کی آیتیں نازل ہوتی تھیں۔ انھی فرشتوں میں وہ فرشتےبھی ہیں جو ہر وقت تمھارےساتھ لگےہوتے ہیں۔تمھاری ہرا بھی اور بڑی حرکت کو ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں۔ تمھاری سہراچھی بڑی بات کو ہر وقت سُنتے اور نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس ہر شخص کی زندگی کا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے مرنے کے بعد جب تم خدا کے سامنے حاضر ہو گےتو یہ تمھارا نامہ اعمال پیش کر دیں گے اور تم دیکھو گے کہ عمر بھر تم نے چھینے اور کھلےجو بھی نیکیاں اور بدیاں کی تھیں وہ سب اس میں موجود ہیں ۔

خدا کی کتابوں پر ایمان تیسری چیز جس پر میان لانے کی تعلیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریع سےہم کو دی گئی ہے ۔ وہ اللہ کی کتابیں ہیں جو اس نے اپنے نبیوں پر نازل کیں۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل فرمایا ہےاسی طرح آپ سے پہلے جو رسول گزرے تھے ان کے پاس بھی اپنی کتابیں بھیجی تھیں۔ ان میں سے بعض کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں مثلا مصحف ابراہیم جو حضرت ابراہیم پر اتر ہے۔ تورات جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی۔ زبور جو حضرت داؤد کےپاس بھیجی گئی اور انجیل جو حضرت عیسی کو دی گئی۔ان کےسوا دوسری کتاہیں جو رسولوں کےپاس آئی تھیں ان کے نام ہم کو نہیں بتائے گئے۔اس لیےکسی اور مذہبی کتاب کے متعلق ہم یقین کے ساتھ نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ البته ہم ایمان لاتےہیں کہ جو کتا میں بھی خدا کی طرف سے آئی تھیں وہ سب برھق تھیں۔

جن کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں ان میں مصحف ابراہیم تو اب دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ رہیں تورات اور زبور اور انجیل تو وہ البتہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہیں۔ مگر قرآن شریف میں ہم کو بتایا گیا ہے کہ ان سب کتابوں میں لوگوں نے خدا کے کلام کو بدل ڈالا ہے اور اپنی طرف سے بہت سی باتیں ان کےاندر ملا دی ہیں۔خود عیسائی اور یہودی بھی تسلیم کرتےہیں کہ اصل کتابیں ان کے پاس نہیں ہیں،صرف ان کےترجمے باقی رہ گئےہیں جن میں صدیوں سےترمیم ہوتی رہی ہے اور اب تک ہوتی چلی جارہی ہے ۔ پھر ان کتابوں کے پڑھنےسے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو خدا کی طرف سےنہیں ہو سکتیں۔ اس لیےجو کتابیں موجود ہیں وہ ٹھیک ٹھیک خدا کی کتابیں نہیں ہیں،ان میں خدا کا کلام اور انسان کے کلام مل جل گئےہیں اور معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہےکہ خدا کا کلام کون سا ہےاور انسانوں کا کلام کون سا۔لہذا پچھلی کتابوں پر ایمان کا جو حکم ہم کو دیا گیا ہےوہ صرف اس حیثیت سے ہےکہ خدا نے قرآن سےپہلےبھی دنیا کی ہر قوم کےپاس اپنے احکام اپنے نبیوں کے ذریعہ بھیجےتھے،اور وہ سب اُسی ایک خدا کے احکام تھےجس کی طرف سےقرآن آیا ہے، اور قرآن کوئی نئی اور انوکھی کتاب نہیں ہے بلکہ اسی تعلیم کو زندہ کرنےکےلیے بھیجی گئی ہے جس کو پہلے زمانہ کے لوگوں نے پایا اور کھو دیا، یا بدل ڈالا،یا انسانی کلاموں سے غلط ملط کر دیا۔

قرآن شریف خدا کی سب سے آخری کتاب ہے ۔ اس میں اور پچھلی کتابوں میں کئی حیثیتوں سے فرق ہے۔

(١) پہلے جو کتابیں آئی تھیں ان میں سے اکثر کے اصلی نسخے دنیا سے گم ہوگئےاور ان کے صرف ترجمے رہ گئےہیں ،لیکن قرآن جن الفاظ میں اترا تھا،ٹھیک ٹھیک اُنھی الفاظ میں موجود ہے،اس کے ایک حرف بلکہ ایک شوشہ میں بھی تغیر نہیں ہوا۔

(٢) پچھلی کتابوں میں لوگوں نےکلام الہی کےساتھ اپنا کلام ملا دیا ہے۔ایک ہی کتاب میں کلام الہی بھی ہے،قومی تاریخ بھی ہے،بزرگوں کےحالات بھی ہیں۔تفسیر بھی ہے،فقیہوں کے نکالےہوئےشرعی مسئلےبھی ہیں۔ اور یہ سب چیزیں اس طرح گڈ مڈ ہیں کہ خدا کےکلام کو ان میں سےالگ چھانٹ لینا ممکن نہیں ہے۔مگر قرآن میں خالص کلام الہی ہمیں ملتا ہےاور اس کے اندر کسی دوسرے کے کلام کی ذرہ برابر بھی آمیزش نہیں ہے۔تفسیر،حدیث،فقه،سیرت رسول،سیرت صحابہ اور تاریخ اسلام مسلمانوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب قرآن سےبالکل الگ دوسری کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔قرآن میں ان کا ایک لفظ بھی ملنے نہیں پایا ہے ۔

(٣) جتنی مذہبی کتابیں دنیا کی مختلف قوموں کے پاس ہیں ان میں سے ایک کےمتعلق بھی تاریخی سند سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جس نبی کی طرف منسوب ہےواقعی اسی نبی کی ہے۔ بلکہ بعض مذہبی کتابیں ایسی بھی ہیں جن کے متعلق سرے سےیہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس زمانہ میں کسی نبی پر اتری تھیں۔ مگر قرآن کے متعلق اتنی زبردست تاریخی شہادت ہیں موجود ہیں کہ کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی سبت میں شک کر ہی نہیں سکتا۔ اس کی آیتوں تک کے متعلق یہ معلوم ہے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازل ہوئی ۔

(٤) پچھلی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئی تھیں وہ ایک مدت سے مردہ ہوچکی ہیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی ان کے بولنے والے باقی نہیں رہے ، اور ان کے سمجھنےوالے بھی بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ایسی کتابیں اگر اصلی اور صحیح حالت میں موجود بھی ہوں تو ان کے احکام کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ان کی پیروی کرنا ممکن نہیں۔لیکن قرآن میں زبان میں ہے وہ ایک زندہ زبان ہے،دنیا میں کروڑوں آدمی آج بھی اس کو بولتے ہیں،اور کروڑوں آدمی اسے جانتے اور سمجھتے ہیں۔اس کی تعلیم کا سلسلہ دنیا میں ہرجگہ جاری ہے۔ہرشخص اس کو سیکھ سکتا ہے اور جو اس کےسیکھنے کی فرصت نہیں رکھتا اس کو ہر جگہ ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو قرآن کےمعنی اسے سمجھانے کی قابلیت رکھتے ہوں۔

(٥) جتنی اسے سمجھانے کی قابلیت رکھتےہوں۔کتاب میں کسی خاص قوم کو مخاطب کیا گیا ہےاور ہر کتاب میں ایسےاحکام پائےجاتےہیں جو معلوم ہوتا ہےکہ صرف ایک خاص زمانےکےحالات اور ضروریات کےلیےتھےاگراب نہ ان کی ضرورت ہےاور نہ ان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔اس سےیہ بات خود بخود ظاہر ہو جاتی ہےکہ یہ سب کتابیں الگ الگ قوموں کےلیےمخصوص تھیں، ان میں سے کوئی کتاب بھی تمام دنیا کے لیے نہیں آئی تھی۔ پھر جن قوموں کےلیے یہ کتابیں آئی تھیں، ان کے لیے بھی یہ ہمیشہ ہمیشہ کےواسطے نہ تھیں،بلکه کسی خاص زمانے کےلیےتھیں۔اب قرآن کو دیکھو اس کتاب میں ہر جگہ انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کے کسی ایک فقرے سے بھی یہ شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ کسی خاص قوم کےلیےہے۔نیز اس کتاب میں جتنےاحکام دیے گئے ہیں وہ سب ایسےہیں جن پر ہر زمانے میں ہر جگہ عمل کیا جا سکتا ہے ، یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے ۔

(٦) پچھلی کتابوں میں سےہر ایک میں نیکی اور صداقت کی باتیں بیان کی گئی تھیں۔اخلاق اورراست بازی کےاصول سکھائےگئےتھے۔خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنےکےطریقےبتائےگئےتھےلیکن کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہ تھی جس میں ساری خوبیوں کوایک جگہ جمع کر دیا گیا ہو اور کوئی چیز چھوڑی نہ گئی ہو_____ یہ بات صرف قرآن میں ہےکہ جتنی خوبیاں پھیلی کتابوں میں الگ الگ تھیں وہ سب اس میں جمع کر دی گئی ہیں اور جو وریاں پھیلی کتابوں سے چھوٹ گئی تھیں وہ بھی اس کتاب میں آگئی ہیں۔

(٧) تمام مذہبی کتابوں میں انسان کےدخل در معقولات سےایسی باتیں لی گئی ہیں جو حقیقت کے خلاف میں عقل کےخلاف میں نظام اور بےانصافی پرمنی میں انسان کےعقیدےاور عمل دونوں کو خراب کرتی ہیں حتی کہ بہت سی کتابوں میں فخش اور بد اخلاقی کی باتیں بھی پائی جاتی ہیں قرآن ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جو عقل کے خلاف ہو یا جس کو دلیل یا تجربےسےغلط ثابت کیا جاتا ہو۔اس کے کسی حکم میں بےانصافی نہیں ہے ۔ اس کی کوئی بات انسان کو گمراہی مین ڈالنے والی نہیں ہے۔اس میں فحش اور بد اخلاقی کا نام ونشان تک نہیں ہے۔اول سے لے کر آخر تک سارا قرآن اعلی درجہ کی حکمت و دانائی اور عدل و انصاف کی تعلیم در راہ راست کی ہدایت اور بہترین احکام اور قوانین سے بھرا ہوا ہے۔

یہی خصوصیات ہیں جن کی بنا پر تمام دنیا کی قوموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرآن پر ایمان لائیں اور تمام کتابوں کو چھوڑ کر صرف اسی ایک کتاب کی پیروی کریں، کیونکہ انسان کو خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قدر ہدایات کی ضرورت ہے وہ سب اس میں بے کم وکاست بیان کر دی گئی ہیں۔ یہ کتاب آجانےکے بعد کسی دوسری کتاب کی حاجت ہی باقی نہیں رہی۔

جب تم کو یہ علوم ہو گیا کہ قرآن اور دوسری کتابوں میں کیا فرق ہے، تو یہ ہےتم خود سمجھ سکتے ہو کہ دوسری کتابوں پر ایمان اور قرآن پر ایمان میں کیا فرق ہونا چاہیے۔پچھلی کتابوں پر ایمان صرف تصدیق کی حد تک ہے،یعنی وہ سب خدا کی طرف سے تھیں، اور تھی تھیں،اور اسی غرض کےلیےآئی تھی جس کو پورا کرنےکےلیےقرآن آیا ہے۔ اور قرآن پر ایمان اس حیثیت سے ہے کہ یہ خدا کا خالص کلام ہےسراسر حق ہے ، اس کام لفظ محفوظ ہے،اس کی ہر بات پچھتی ہے ، اس کے ہر حکم کی پیروی فرض ہے اور ہر وہ بات رد کر دینے کے قابل ہے جو قرآن کے خلاف ہو۔

خدا کے رسولوں پر ایمان کتابوں کے بعد ہم کو خداکے تمام رسولوں پربھی ایمان لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ بات تم کو پچھلے باب میں بتائی جاچکی ہےکہ خدا کےرسول دنیا کی تمام توں سےپاس آئے تھےاور ان سب نے اسی اسلام کی تعلیم دی تھی جس کی تعلیم دینےکےلیےآخر میں حضرت محمد صلی الہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس لحاظ سے خدا کے تمام رسول ایک ہی گروہ کے لوگ تھے۔ اگر کوئی شخص ان میں سےکسی ایک کو بھی جھوٹا قرار د سے لوگو یا اس نے سب کو جھٹلا دیا اور کسی ایک کی بھی تصدیق کرے تو آپ سے آپ اس کےلیےلازم ہو جاتا ہےکہ سب کی تصدیق کرے۔فرض کرو کہ دس آدمی ایک ہی بات کہتے ہیں۔ جب تم نے ایک کو سنا تسلیم کیا تو وہ جو تم نے ہاتی زرکوبھی تا تسلیم کرلیا۔ گرتم ایک کو جھوٹا کہو گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے خود اس بات ہی کو جھوٹ قرار دے دیا جسے وہ بیان کر رہا ہے اور اس سے دسوں کی تکذیب لازم آئے گی۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام میں تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ جو شخص کسی رسول پر ایمان نہ لائے گا وہ کافر ہو گا خواہ وہ باقی رسولوں کو مانتا ہوں۔

روایات میں آیا ہےکہ دنیا کی مختلف قوموں میں جو نبی بھیجےگئےہیں ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ اگر تم خیال کرو کہ دنیا کب سےآباد ہےاور اس میں کتنی قومیں گزر چکی ہیں تو یہ تعداد کچھ بھی زیادہ علم نہ ہوگی۔ان سوالاکھ نبیوں میں سےجن کےنام ہم کو قرآن میں بتائےگئےہیں ان پر تو صراحت کےساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ باقی تمام کے متعلق ہم کوصرف یہ عقیدہ رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگ بھی خدا کی طرف سےاس کے بندوں کی ہدایت سے بےبھیجےگئےتھے وہ سب پیچھے تھے۔ ہندوستان، چین، ایران بمصر افریقہ، یورپ اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں جو نبی آئے ہوں گے ہم ان سب پر ایمان لاتےہیں،مگر ہم کسی خاص شخص کےمتعلق یہ نہیں کہ سکتےکہ وہ نبی تھا اورنہ یہ کہہ سکتےہیں کہ وہ نبی نہ تھا اس لیےکہ ہمیں اس کےمتعلق کچھ بتایانہیں گیا۔البتہ مختلف مذاہیب پیرو جن لوگوں کو اپنا پیشو مانتےہیں ان کےخلاف کچھ کہنا ہمارےلیےجائز نہیں-بہت ممکن ہےکہ درحقیقت وہ نبی ہوں اور بعد میں ان کےپیرؤوں نےان کےمذہب کو بگاڑ دیا ہو جس طرح حضرت موسی اور حضرت عیسی کےپیرووں نے بگاڑا۔لہذا ہم جو بھی کچھ اظہار رائےکریں گےان کےمذہب اور ان کی رسموں کے متعلق کریں گے اگر پیشواؤں کےحق میں خاموش رہیں گےتاکہ بغیر جانے بوجھے ہم سے کسی رسول کی شان میں گستاخی نہ ہو جائے ۔

پچھلےرسولوں میں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس لحاظ سےتو کوئی فرق نہیں کہ آپ کی طرح وہ بھی سچےتھے،خدا کےبھیجے ہوتےتھے،اسلام کا سیدھا راستہ بتانےوالےتھے اور ہمیں سب پر ایمان لانےکا حکم دیا گیا ہے۔مگر ان ساری حیثیتوں میں کیساں ہونےکےباوجود آپ میں اور دوسرے پیغمبروں میں تین باتوں کا فرق بھی ہے ۔

ایک یہ کہ پچھلے انبیاء خاص قوموں میں خاص زمانوں کے لیے آئے تھے اور حضرت محمد صلی الہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے اور ہمیشہ کے لیے نبی بنا کربھیجے گئے ہیں جیسا کہ ہم پیچھے باب میں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔

دوسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کی تعلیمات یا تو بالکل دنیا سےناپید ہو چکی ہیں،یا کسی قدر باقی بھی رہ گئی ہیں تو اپنی خالص صورت میں محفوظ نہیں رہی ہیں۔اسی طرح ان کےٹھیک ٹھیک حالات زندگی بھی آج دنیا میں کہیں نہیں ملتے ۔ جگہ ان پر بکثرت افسانوں کے ردے چڑھ گئے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کوئی ان کی پیروی کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتا بخلاف اس کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، آپ کی سیرت پاک،آپ کی زبانی ہدایات،آپ کےعملی طریقے ، آپ کے اخلاق،عادات خصائل بغرض ہر چیز دنیا میں بالکل محفوظ ہےاس لیےدرحقیقت تمام پیغمبروں میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک زندہ پیغمبر ہیں اور صرف آپ ہی کی پیروی کرناممکن ہے۔

تیسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کے ذریعہ سے اسلام کی جو تعلیم دی گئی تھی وہ مکمل نہیں تھی، ہر نبی کےبعد دوسرا نبی آ کر اس کے احکام اور قوانین اور هدایات میں ترمیم و اضافه کرتارہا،اور اصلاح و ترقی کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ اسی لیے ان نبیوں کی تعلیمات کو ان کا زمانہ گزر جانے کے بعداللہ تعالی نے محفوظ بھی نہیں رکھاکیونکہ ہرکامل تعلیم کےبعد پچھلی ناقص تعلیم کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ نام کےذریعےسےاسلام کی ایسی تعلیم دی گئی جوہر حیثیت سے مکمل تھی۔اس کےبعد تمام انبیاء آخر کی شریعتیں آپ سے آپ منسوخ ہوگئیں کیونکہ کامل کو چھوڑ کر ناقص کی پیروی کرنا عقل کے خلاف ہےجو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے گا اس نے گویا تمام نیوں کی پیروی کی۔اس لیے کہ تمام نبیوں کی تعلیم میں جو کچھ بھلائی تھی وہ سب آنحضرت کی تعلیم میں موجود ہےاور جو شخص آپ کی پیروی چھوڑ کر کسی پچھلےنبی کی پیروی کرےگا وہ بہت سی بھلائیوں سے محروم رہ جائے گا۔ اس لیے کہ جو بھلائیاں بعد میں آتی ہیں وہ اس پرانی تعلیم میں نہ تھیں ۔

ان وجوہ سے تمام دنیا کے انسانوں پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں ۔ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان آنحضرت پر تین حثیتیوں سے ایمان لائے ۔

ایک یہ کہ آپ خدا کے بچے پیغمبر ہیں ۔

دوسرے یہ کہ آپ کی ہدایت بالکل کامل ہے ۔ اس میں کوئی نقص نہیں اور وہ ہر غلطی سے پاک ہے۔

تیسرے یہ کہ آپ خدا کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی کسی قوم میں آنے والا نہیں ہے۔ نہ کوئی ایسا شخص آنے والا ہے میں پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے شرط ہیں جس کو نہ ماننے سے کوئی شخص کا فر ہو جاتے۔

آخرت پر ایمان پانچویں چیز جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ سلم نے ہم کو ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے وہ آخر ہے ۔ آخرت کے متعلق جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے وہ یہ ہیں :

(١) ایک دن اللہ تعالی تمام عالم اور اسکی مخلوقات کو مٹا دے گا۔ اس دن کا نام قیامت ہے۔ (٢) پھر وہ سب کو ایک دوسری زندگی بخشے گا اور سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ اس کو حشر کہتے ہیں ۔ (٣) تمام لوگوں نے اپنی دنیوی زندگی میں جو کچھ کیا ہے اس کا اچھا نامہ اعمال خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ (٤) اللہ تعالیٰ ہر شخص کےاچھےاور بڑےاعمال وزن فرمائےگا۔ جس کی بھلائی خدا کی میزان میں بُرائی سے زیادہ وزنی ہوگی اس کو بخش دے گا اور جس کی برائی کا پلہ بھاری رہے گا اسے سزا دے گا۔ (٥) جن لوگوں کی بخشش ہو جائے گی وہ جنت میں جائیں گے۔ اور جن کو سزا دی جائے گی وہ دوزخ میں جائیں گے۔

عقیدہ آخرت کی ضرورت آخرت کا یہ عقیدہ جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہےاسی طرح پچھلے تمام انبیاء بھی اسے پیش کرتے آتے ہیں اور ہر زمانے میں اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازمی شرط رہا ہےتمام نبیوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا ہےجو اس سےانکار کرےیا اس میں شک کرے کیونکہ اس عقیدہ کے بغیر خدا اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتا بالکل بے معنی ہو جاتا ہے اور انسان کی ساری زندگی خراب ہو جاتی ہے۔ اگر م غور کرو تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے تم سے جب کبھی کسی کام کے لیے کہا جا تا ہے تو ر ہے پہلا سوال جو تھا اسے دل میں پیدا ہوتا ہےوہ یہی ہے کہ اس سے کرنے کا فائدہ کیا ہے اور نہ کرنے کا نقصان کیا ہے ۔ یہ سوال کیوں پیدا ہوتا ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہر ایسے کام کو غو اور فضول بھی ہےجس کا کوئی حاصل نہ ہو تم کسی ایسے فعل پر کبھی آمادہ نہ ہو گے جس کے متعلق تم یقین ہو کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ۔ اور اسی طرح تم کسی ایسی چیز سے پرہیز کرنا بھی قبول نہ کر دگے جس کے متعلق تم کو یقین ہو کہ اس سے کوئی نقصان نہیں یہی حال شک کا بھی ہے۔ جس کام کا فائدہ مشکوک ہو اس میں تھا راجی ہر گز نہ لگے گا۔ اور میں کام کےنقصان دہ ہونے میں شک ہو اس سے بچنے کی بھی تم کوئی خاص کوشش نہ کرو گے۔بچوں کو دیکھو ، وہ آگ میں کہیں ہاتھ ڈال دیتے ہیں ہے اسی لیے نا کہ اُن کو اس ہےکا یقین نہیں ہے کہ آگ جلا دینے والی چیز ہے ۔ اور وہ پڑھنے سے کیوں بھاگتےہیں ، اسی وجہ سے ناک جو کچھ فائدے ان کے بڑے انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ ان کے دل کو نہیں لگتے۔ اب خیال کرو کہ جوشخص آخرت کو نہیں مانتا وہ خدا کو ماننے اور اس کی مرضی کےمطابق چلنےکو بے نتیجہ سمجھتا ہے۔ اس کےنزدیک نہ تو خدا کی فرمانبرداری کا کوئی فائدہ ہے اور نہ اس کی نافرمانی کا کوئی نقصان پھر کیوں کر ممکن ہےکہ وہ ان احکام کی اطاعت کرےجو خدا نے اپنے رسولوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے دیے ہیں ؟ بالفرض اگر اس نے خدا کو مان بھی لیا تو ایسا مانا بالکل بیکار ہوگا، کیونکہ وہ خدا کے قانون کی اطاعت نہ کرلے گا اور اس کی مرضی کے مطابق نہ چلے گا۔

لیکن یہ عالمہ نہیں تک نہیں رہتا۔ تم اور زیادہ غور کرو گے توتم کومعلوم ہوگا کہ آخرت کا انکار یا اقرار انسان کی زندگی میں فیصلہ کن اثر رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نےاوپر بیان کیا انسان کی فطرت ہی ایسی ہےکہ وہ ہر کام کےکرنےیا نہ کرنے کافیصلہ اس کے فائدے اور نقصان کےلحاظ سےکرتا ہے۔اب ایک شخص تو وہ ہےجس کی نظر صرف اسی دنیا کے فائدے اور نقصان پر ہے۔ وہ کسی ایسے نیک کام پر ہرگز آمادہ نہ ہو گا جس سےکوئی فائدہ اس دنیا میں حاصل ہونے کی امید نہ ہو۔ اور کسی ایسے برے کام سےپرہیز نہ کرے گا جس سے اس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔ ایک دوسرا شخص ہےجس کی نظر افعال کےآخری نتائج پر ہے۔وہ دنیا کےفائدے اور نقصان کو محض عارضی چیز سمجھے گا۔وہ آخرت کے دائمی فائدے یا نقصان کا لحاظ کر کے نیکی کو اختیار کرے گا اور بدی کو چھوڑ دے گا، نتھاہ اس دنیا میں نیکی سے کتنا ہی بڑا نقصان اور بدی سے کتنا ہی بڑا فائدہ ہوتا ہوں۔ دیکھو! دونوں میں کتنا بڑا فرق ہو گیا۔ایک کےنزدیک نیکی وہ ہےجس کا کوئی اچھا نتیجہ اس دنیا کی ذرا سی زندگی میں حاصل ہو جائےمثلاً کچھ روپیه لےکوئی زمین ہاتھ آجائےکوئی صد مل جائےکچھ نیک نامی اورشہرت ہو جائے،کچھ لوگ واہ وا کریں یاکچھ دست یا خوشی حاصل ہو جائے،کچھ خواہشات کی تسکین ہوں کچھ نفس کومزا آ جائے۔ اور بدی وہ ہے میں سے کوئی برا نتیجہ اِس زندگی میں ظاہر ہو یا ظاہر ہونے کا خوف ہو مثلاً جان ومال کا نقصان،صحت کی خرابی ، بدنامی حکومت کی سزا ، کسی قسم کی تکلیف یارنج یا بد مزگی۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے شخص کے نزدیک نیکی وہ ہے جس سےخدا خوش ہوا اور بدی در ہےجس سے خدا ناراض ہور نیکی اگر دنیا میں اس کوکسی قسم کا فائدہ نہ پہنچائے بلکہ الٹا نقصان ہی نقصان دےتب بھی وہ اس کو نیکی ہی سمجھتا ہے۔اور یقین رکھتا ہےکہ آخر کار خدا اس کو ہمیشہ باقی رہنےوالا فائدہ عطا کرےگا۔اور بدی سےخواہ یہاں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچےنہ نقصان کا خوف ہو،بلکہ سراسر فائدہ ہی فائدہ نظر آئے پھر بھی وہ اس کو بری ہی سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اگر میں دنیا کی اس مختصر زندگی میں سزا سے بچ گیا اور چند روز مزے لوشتار با تب بھی آخر کار خدا کے عذاب سے نہ بچوں گا۔

یہ دو مختلف خیالات ہیں جن کے اثر سے انسان دو مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کے لیے قطعی ناممکن ہے کہ وہ ایک قدم بھی اسلام کے طریقے پر چل سکے۔ اسلام کہتا ہےکہ خدا کی راہ میں غریبوں کو زکوۃ دو۔وہ جواب دیتا ہےزکوۃ سےمیری دولت گھٹ جائےگی، میں تو اپنےمال پر الٹا سود لوں گا اور سود کی ڈگری میں غریبوں کےگھر کا تنکا تک قرق کرالوں گا اسلام کہتا ہے ہمیشہ سچ بولو اور جھوٹ سے پرہیز کرو،خواہ سچائی میں کتنا ہی نقصان اور جھوٹ میں کتنا ہی فائدہ ہو۔ وہ جواب دیتا ہے کہ میں ایسی سچائی کو لےکر کیا کروں جس سےمجھےنقصان پہنچے اور فائدہ کچھ نہ ہو؟ اور ایسے جھوٹ سے پرهیز کیوں کروں جو فائدہ مند ہو اور جس میں بدنامی کا خوف تک نہ ہو ؟ وہ ایک سنسان راستہ سے گزرتا ہے،ایک قیمتی چیز پڑی ہوئی اس کو نظر آتی ہے،اسلام کہتا ہےکہ یہ تیرا مال نہیں ہے تو اس کو ہرگز نہ لے۔وہ جواب دیتا ہےکہ مفت آئی ہوئی چیز کو کیوں چھوڑوں ؟ یہاں کوئی دیکھنےوالا نہیں جو پولیس کو خبر کرےیا عدالت میں گواہی دہےیا لوگوں میں مجھےبدنام کرے۔پھر کیوں نہ میں اس مال سےفائدہ اٹھاؤں؟ایک شخص پوشیدہ طور پر اس کےپاس کوئی امانت رکھواتا ہے اور مرجاتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ امانت میں خیانت نہ کر۔ اس کا مال اس کے بچوں کو پہنچا دے ۔ وہ کہتا ہے کیوں ؟ کوئی شہادت اس بات کی نہیں کہ مرنے والے کا مال میرے پاس ہے ، خود اس کےبال بچوں کو اس کی خبر تک نہیں ،جب میں آسانی کے ساتھ اس کو کھا سکتا ہوں اور کسی دعوے یا کسی بدنامی کا خوف بھی نہیں تو کیوں نہ اسےکھا جاؤں بے غرض یہ ہےکہ زندگی کے راستہ میں ہر ہر قدم پر اسلام اس کو ایک طریقےپر چلنے کی ہدایت کرے گا، اور وہ اس کے بالکل خلاف دوسرا طریقہ اختیار کرے گا۔ کیونکہ اسلام میں ہر چیز کی قدر وقیمت آخرت کے دائمی نتائج کے لحاظ سے ہے مگر وہ شخص ہر معالم میں نظر صرف اُن نتائج پر لکھتا ہے جو اس دنیا کی چند روزہ زندگی میں حاصل ہوتے ہیں۔ اب تم سمجھ سکتے ہو کہ آخرت پر ایمان لائے بغیر انسان کیوں مسلمان نہیں ہو سکتا مسلمان تو خیر بڑی چیز ہے ، سچ یہ ہے کہ آخرت کا انکار انسان کو انسانیت سے گرا کر حیوانیت سے بھی بدتر درجہ میں لے جاتا ہے۔

عقیدہ آخرت کی صداقت عقیدہ آخرت کی ضرورت اور اس کی منفعت تم کو معلوم ہوگئی۔ اب ہم مختصر طور پر تھیں یہ بتاتے ہیں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جو عقیدہ آخرت کےمتعلق بیان فرمایا ہے عقل کی رو سے بھی وہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اگر چہ اس عقیدےپر ہمارا ایمان صرف سول خدا کے اعتماد پر ہےعقل پر اس کا مدار نہیں ہے لیکن جب ہم غور و فکر سےکام لیتےہیں تو ہم کو آخرت کے متعلق تمام عقیدوں میں رہےزیادہ یہی عقیدہ مطابق معقل معلوم ہوتا ہے ۔

آخرت کے متعلق دنیا میں تین مختلف عقیدے پائے جاتے ہیں :

ایک گروہ کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ دہریوں کا خیال ہے جو سائنسداں ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔

دوسرا گروہ کہتا ہے کہ انسان اپنےاعمال کا نتیجہ بھگتنےکےلیےبار بار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے۔اگر اس کے اعمال بڑے ہیں تو وہ دوسرے جنم میں کوئی جانور مثلا کتا یا بنی بن کر آئے گا، یا کوئی درخت بن کر پیدا ہوگا،یا کسی بدتر درجہ کےانسان کی شکل اختیار کرےگا۔اور اگر اچھے اعمال میں تو زیادہ اونچے درجے پر پہنچے گا۔یہ خیال بعض خام مذہبوں میں پایا جاتا ہے۔

تیسرا گروہ قیامت اور حشر اور خدا کی عدالت میں پیشی اور جزا اور سزا پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ تمام انبیاء کا متفقہ عقیدہ ہے ۔

اب پہلے گروہ کے عقیدے پر غور کرو۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے کے بعد کسی کو زندہ ہوتے ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ جو مرتا ہےوہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ لہذا مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں گر غور کرو کیا یہ کوئی دلیل ہے؟ مرنے کے بعد تم نے کسی کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتےہو کہ "ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا"۔اس سےآگےبڑھ کر تم یہ دعوی جو کرتے ہو کہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد کچھ نہ ہو گا۔اس کا تمھارے پاس کیا ثبوت ہے؟ ایک گنوار نے اگر ہوائی جہاز نہیں دیکھا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ "مجھے معلوم نہیں کہ ہوائی جہاز کیا چیز ہے" لیکن جب وہ کہے گا کہ "میں جانتا ہوں ہوائی جہاز کوئی چیز نہیں ہے" تو عقلمند اس کو احمق کہیں گے۔اس لیے کہ اس کا کسی چیز کو نہ دیکھنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ کوئی چیز ہےہی نہیں۔ایک آدمی کیا،اگر ساری دنیا کےلوگوں نےبھی کسی چیز کونہ دیکھا ہو تو یہ دھولی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نہیں ہےیا نہیں ہو سکتی۔

اس کے بعد دوسرے عقیدے کو لیجیے ۔ اس عقیدے کی رو سے ایک شخص جو اس وقت انسان ہے وہ اس لیے انسان ہو گیا کہ جب وہ جانور تھا تو اس نے اچھےعمل کیسےتھے۔اور ایک جانور جو اس وقت جانور ہے،وہ اس لیےجانور ہو گیا کہ انسان کی جون میں اُس نے بڑے عمل کیسے تھے ۔ دوسرے الفاظ میں میں کہو کہ انسان اور حیوان اور درخت ہو ناسب در اصل پہلے جنم کے اعمال کا نتیجہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پہلے کیا چیز تھی ہے اگر کہتے ہو کہ پہلے انسان تھا تو ماننا پڑےگا کہ اس سے پہلے حیوان یا درخت ہو، ورنہ پوچھا جائے گا کہ انسان کا قالب اس کو کس اچھے عمل کے بدلے میں ملا ہے اگر کہتے ہو کہ حیوان تھا یا درخت تھا تو مانا ہےگا کہ اس سےپہلےانسان ہو، ورنہ سوال ہو گا کہ درخت یا حیوان کا قالب اس کو کس بڑے عمل کی سزا میں ملا؟ غرض یہ ہے کہ اس عقیدے کے ماننے والے مخلوقات کی ابتدا کسی خون سے بھی قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ہر خون سے پہلےایک جون ہونی ضروری ہے تاکہ بعد والی جون کو پہلی جون کے عمل کا نتیجہ قرار دیا جائے ۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے۔

اب تیسرے عقید ےکو لو۔ اس میں سب سےپہلے یہ بیان کیا گیا ہےکہ ایک دن قیامت آئےگی،اور خدا اپنےاِس کارخانےکو توڑ پھوڑ کرنےسرےسےایک دوسرا زیادہ اعلیٰ درجہ کا پائیدار کارخانہ بنائےگا۔ یہ ایسی بات ہےکہ جس سے صحیح ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ دنیا کے اس کارخانے پر جتنا غور کیا جاتا ہےاتنا ہی زیادہ اس بات کا ثبوت ملتا ہےکہ یہ دائمی کارخانہ نہیں ہےکیونکہ جتنی قوتیں اس میں کام کر رہی ہیں وہ سب محدود ہیں اور ایک روز ان کا ختم ہو جانا یقینی ہے۔اس لیےتمام سائنسدان اس بات پرمتفق ہو چکے ہیں کہ ایک دن سورج ٹھنڈا اور بے نور ہو جائے گا، سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور دنیا تباہ ہو جائے گی ۔

دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ " انسان کو دوبارہ زندگی بخشی جائےگی" یا کیا یہ ناممکن ہے ؟ اگر ناممکن ہے تو اب جو زندگی انسان کو حاصل ہے یہ کیسے مکن ہوگئی ہے ظاہر ہے کہ جس خدا نے اس دنیا میں انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دنیا میں بھی پیدا کر سکتا ہے۔

تیسری بات یہ ہےکہ " انسان نے اِس دنیا کی زندگی میں جیتنے عمل کیےہیں اُن سب کا ریکارڈ محفوظ ہے اور وہ حشر کےدن پیش ہو گا ۔“ یہ ایسی چیز ہےجس کا ثبوت آج ہم کو اس دنیا میں بھی مل رہا ہے۔ پہلے سمجھ جاتاتھا کہ جو آواز ہارےمنہ سے نکلتی ہے وہ ہوا میں تھوڑی سی امر پیدا کر کے فنا ہو جاتی ہے ۔ مگر اب معلوم ہوا کہ ہر آواز اپنے گرد و پیش کی چیزوں پر اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے جس کو دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ گراموفون کا ریکارڈ اسی اصول پر بنا ہے۔ اسی سے ہی معلوم ہوا کہ ہماری ہر حرکت کا ریکارڈ ان تمام چیزوں پر منقوش ہو رہا ہے جن کےساتھ ایس حرکت کا کسی طور پر تصادم ہوتا ہے۔ جب حال یہ ہے تو یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ہمارا پورا نامہ اعمال محفوظ ہے اور دوبارہ اس کو حاضر کیا جاسکتا ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ " خدا حشر کے دن عدالت کرے گا، اور حق کے ساتھ ہمارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا اس کو کون ناممکن کہہ سکتا ہے ؟اس میں کون سی بات خلاف عقل ہے ؟ عقل تو خود یہ چاہتی ہےکہ کبھی خدا کی عدالت ہو اور ٹھیک ٹھیک حق کےساتھ فیصلےکیےجائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نیکی کرتا ہے اور اُس کا کوئی فائدہ اس کو دنیا میں حاصل نہیں ہوتا۔ ایک شخص بدی کرتا ہےاور اس سےکوئی نقصان اس کو نہیں پہنچتا۔یہی نہیں بلکہ ہم ہزاروں مثالیں ایسی دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نے نیکی کی اور اسے الٹا نقصان ہوا۔ ایک دوسر ہےشخص نے بدی کی اور وہ خوب مزےکرتا رہا۔اس قسم کےواقعات کو دیکھ کر عقل مطالبہ کرتی ہےکہ کہیں نہ کہیں نیک آدمی کو نیکی کا اور شریر آدمی کو شرارت کا پھل ملنا چاہیے ۔

آخری چیز جنت اور دوزخ ہے۔ان کا وجود بھی ناممکن نہیں۔اگر سورج اور چاند اور مریخ کو خدا بنا سکتا ہےتو آخر جنت اور دوزخ نہ بنا سکنے کی کیا وجہ ہے؟جب وہ عدالت کرے گا اور لوگوں کو جزاء سزا دے گا تو جزا پانے والوں کے لیےکوئی عزت اورلطف و مسرت کا مقام اور سزا پانےوالوں کےلیےکوئی ذلت اور رنج اور تکلیف کا مقام بھی ہونا چاہیے۔

ان باتوں پر جب تم غور کرو گے تو تمھاری عقل خود کہہ دے گی کہ انسان کےانجام کے متعلق جتنے عقید ے دنیا میں پائے جاتے ہیں ان میں سب سے زیادہ دل کو لگتا ہوا عقیدہ یہی ہے۔ اور اس میں کوئی چیز خلاف عقل یا نا ممکن نہیں ہے۔

پھر جب ایسی ایک بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسےسچےنبی نے بیان کی ہےاور اس میں سراسر ہماری بھلائی ہےتو عقلمندی یہ ہےکہ اس پر یقین کیا جائے، نہ یه که خواہ مخواہ بلا کسی دلیل کے شک کیا جائے۔

کلمئہ طیبہ یہ پانچ عقیدے ہیں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے۔ ان پانچوں عقیدوں کا خلاصہ صرف ایک کلمہ میں آجاتا ۔

جب تم لا الہ الا اللہ کہتے ہو تو تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کی بندگی کا اقرار کرتے ہوا اور جب محمد رسول اللہ "کہتے ہو تو اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں ۔ رسالت کی تصدیق کے ساتھ خود بخود یہ بات تم پر لازم ہو جاتی ہے کہ خدا کی ذات وصفات اور ملائکہ اور کتب آسمانی اور انبیا۔ اور آخرت کے متعلق جو کچھ اور جیسا کچھ آنحضرت نےتعلیم فرمایا ہےاس پر ایمان لاتا در خدا کی عبادت اور فرماں برداری کا جو طریقہ آپ نے بتایا ہے اس کی پیروی کرو ۔

(١) میں نے ایمانیات کی تعداد پانچ بتائی ہے۔ یہ پانچوں بنیادیں قرآن مجید کی آیت آمن الرسول بما انزِلَ إِلَيْهِ مِن رب الآله البقره رکوع ۴۰) اور وَمَنْ يَكْفُرُ بِاللهِ وَمَليكيه الآيہ (النساء رکوع ۲۰)سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ حدیث میں والْقَدْرِ خَيْرِهِ د شرم کو بھی ایمانیات میں شامل کیا گیا ہے اور اس طرح بنیادی عقائد پانچ کے بجائے چھ قرار پاتے ہیں لیکن در حقیقت ایمان بالقدر ایمان باللہ کا ایک جز ہے اور قرآن مجید میں اس حقید سےکر اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی لیے میں نے اس عقیدہ کو عقیدہ توحید کی تشریح میں بیان کرنے پر اکتفا کیا۔ بالکل اسی طرح بعض احادیث میں جنت اور دوزخ اور صراط اور میزان کو بھی الگ عقائد کی حیثیت سے بیان فرمایا گیا ہے،مگر درحقیقت یہ سب ایمان بالآخرہ کے اجزا ہیں۔

کتاب دینیات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Theology