دینیات

دینیات

تأليف سید ابو الاعلیٰ مودودی

فهرست مضامین

باب اول _________ اسلام ٩ وجہ تسمیہ ٩ لفظ اسلام کے معنی ١٠ اسلام کی حقیقت ١٠ کفر کی حقیقت ١٤ کفر کے نقصانات ١٥ اسلام کے قائد سے ٢٠ باب دوم _________ ایمان اور اطاعت ٢٨ اطاعت کے لیے علم اور یقین کی ضرورت ٢٨ ایمان کی تعریف ٣١ علم حاصل ہونے کا ذریعہ ٣٣ ایمان بالغیب ٣٦ باب سوم ________ نبوت ٣٨ پیغمبری کی حقیقت ٣٩ پیغمبر کی پہچان ٤٣ پیغمبر کی اطاعت ٤٤ پیغمبر پر ایمان لانے کی ضرورت ٤٧ پغمبری کی مختصر تاریخ ٥٠ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ٥٧ نبوت محمدی کا ثبوت ٦٠ ختم نبوت ٧١ ختم نبوت کے دلائل ٧٢ باب چهارم _________ ایمان مفصل ٧٦ خدا پر ایمان ٧٨ لا الہ الا اللہ کے معنی ٧٩ لا الہ الا اللہ کی حقیقت ٨١ انسانی زندگی پر عقیدہ توحید کا اثر ٨٩ خدا کے فرشتوں پر ایمان ٩٦ خدا کی کتابوں پر ایمان ٩٩ خدا کے رسولوں پر ایمان ١٠٤ آخرت پر ایمان ١٠٨ عقیدہ آخرت کی ضرورت ١٠٩ عقیدہ آخرت کی صداقت ١١٣ کلمه طیبه ١١٨ باب پنجم ___________ عبادات ١٢٠ عبادت کا مفہوم ١٢٢ نماز ١٢٤ روزه ١٢٨ زكوة ١٣١ حج ١٣٤ حمایت اسلام ١٣٧ باب ششم _________ دین اور شریعیت ١٤١ دین اور شریعت کا فرق ١٤٢ احکام شریعت معلوم کرنے کے ذرائع ١٤٣ فقہ ١٤٤ تصوف ١٤٦ باب ہفتم ________ شریعت کے احکام ١٥٠ شریعت کے اصول ١٥٠ حقوق کی چار قسمیں ١٥٥ خدا کے حقوق ١٥٥ نفس کے حقوق ١٦٠ بندوں کے حقوق ١٦٣ تمام مخلوقات کے حقوق ١٧٣ عالمگیر اور دائمی شریعت ١٧٥

عرض ناشر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

یہ کتاب سب سے پہلے ١٩٣٧ء میں شائع ہوئی تھی ۔ اسلام کو سمجھنےکے لیے اس کو اس قدر مفید پایا گیا کہ بہت جلدی اسےبرصغیر ہند میں عام مقبولیت حاصل ہوگئی،یہاں تک کہ اب اس کا تینتیسواں ایڈیشن شائع ہو رہا ہے۔اس کی جامعیت،اختصار اور عام فہمی کی وجہ سے عام تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی مقبول ہوتی ہے اور بکثرت اسکولوں اور کالجوں میں اس کو شریک نصاب بھی کیا گیا ہے۔

اُردو زبان کے علاوہ دنیا کی بہت سی دوسری زبانوں میں بھی اس کےترجمے ہو چکے ہیں اور مزید ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اس وقت تک جن زبانوں میں اس کے تراجم ہمارے علم میں آئے ہیں وہ یہ ہیں :

عربی۔ فارسی - ترکی۔ انڈو نیشی - سواحلی - ہاؤسا ، انگریزی -فرانسیسی جرمن ہسپانوی ۔ جاپانی ۔ تھائی - سنہالی - بنگلہ ۔ سندھی -پشتو-گجراتی - ہندی ۔ ٹامل - مالا باری ، ڈفیش پرنگالی۔

اس کو مسلمانوں ہی نے نہیں بلکہ غیر مسلموں نے بھی پسند کیا ہے اور بہت سے غیر مسلموں کو اس کے مطالعہ سے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ بعض مسلم ممالک میں اس کا ترجمہ مدارس میں بطور نصاب بھی پڑھایا جاتا ہے۔

حسین فاروق مودودی

إدارة ترجمان القرآن

اچھرہ ۔ لاہور

باب اول - اسلام

اسلام وجہ تسمیہ۔ لفظ اسلام کے معنی : اسلام کی حقیقت کفر کی حقیقت - کفر کے نقصانات اسلام کے فوائد

وجیه تسمیہ دنیا میں جتنے مذاہب ہیں ان میں سے ہر ایک کا نام یا تو کسی خاص شخص کے نام پر رکھا گیا ہے یا اُس قوم کے نام پر جس میں وہ مذہب پیدا ہوا ۔مثلاً عیسائیت کا نام اس لیے عیسائیت ہے کہ اس کی نسبت حضرت عیسی کی طرف ہے ۔ بوده مت کا نام اس لیے بود جو مت ہے کہ اس کے بانی مہاتما ہےتھے ۔زردشتی مذہب کا نام اپنے بانی زردشت کے نام پر ہے ۔یہودی مذہب ایک خاص قبیلہ میں پیدا ہوا جس کا نام یہوداہ تھا۔ ایسا ہی حال دوسرے مذاہب کےناموں کا بھی ہے۔ مگر اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی شخص یا قوم کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اس کا نام ایک خاص صفت کو ظاہر کرتا ہے جو لفظ اسلام" کے معنی میں پائی جاتی ہے ۔ یہ نام خود ظاہر کرتا ہے کہ ی کسی ایک شخص کی ایجاد نہیں ہے ۔ کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس کو شخص یا مک با قوم سے کوئی علاقہ نہیں ۔ صرف اسلام" کی صفت لوگوں میں پیدا کرنا اس کا مقصد ہے ۔ ہر زمانے اور ہر قوم کے جن بچے اور نیک لوگوں میں یہ صفت پائی گئی ہے وہ سب "مسلم " تھے "مسلم" ہیں اور آئندہ بھی ہوں گئے۔

لفظ اسلام کے معنی اسلام کے معنی عربی زبان میں اطاعت اور فرمانبرداری کے ہیں۔ مذہب اسلام کا نام "اسلام" اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری ہے۔

اسلام کی حقیقت تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں سب ایک قاعدے اور قانون کی تابع ہیں۔ چاند اور تارے سب ایک زبر دست قاعدے میں بندھے ہوئےہیں جس کے خلاف وہ بال برابر جنبش نہیں کر سکتے ۔ زمین اپنی خاص رفتار کےساتھ گھوم رہی ہے۔ اس کے لیے جو وقت اور رفتار اور راستہ مقرر کیا گیا ہے اُس میں ذرا فرق نہیں آتا ۔ پانی اور ہوا ، روشنی اور حرارت ، سب ایک ضابطےکے پابند ہیں۔ جمادات ، نباتات اور حیوانات میں سے ہر ایک کے لیے جو قانون مقرر ہے اُسی کے مطابق یہ سب پیدا ہوتے ہیں ، بڑھتے ہیں اور کاجیتے ہیں اور مرتے ہیں۔ خود انسان کی حالت پر بھی تم غور کر دئے تو تم کو معلوم ہوگا کہ وہ بھی قانون قدرت کا تابع ہے ۔ جو قاعدہ اس کی زندگی کے لیے مقر کیا گیا ہے اُسی کے مطابق نس لیتا ہے ، پانی اور غذا اور حرارت اور روشنی حاصل کرتا ہے۔ اس کے دل کی حرکت ، اس کے خون کی گردش، اس کے سانس کی آمد ورفت اسی ضابطے کی پابند ہے ۔ اس کا دماغ ، اس کا معدہ ، اس کے پھیپھڑے ، اس کے اعصاب اور عضلات ، اس کے ہاتھ پاؤں ، زبان ، آنکھیں ، کان اور ناک غرض اس کے جسم کا ایک ایک حصہ وہی کام کر رہا ہے جو اس کے لیے مقرر ہے اور اسی طریقہ پر کر رہا ہے جو اس کو بتا دیا گیا ہے۔

یہ زبر دست قانون جس کی بندش میں بڑےبڑے سیاروں سے لے کر زمین کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ذرہ تک جکڑا ہوا ہے،ایک بڑے حاکم کا بنایا ہوا قانون ہےساری کائنات اور کائنات کی ہر چیز اس حاکم کی مطیع اور فرماں بردار ہے،کیونکہ وہ اسی کےبنائے ہوئے قانون کی اطاعت و فرماں برداری کر رہی ہے۔ اس لحاظ سےساری کائنات کا مذہب اسلام ہےکیونکہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ خدا کی اطاعت اور فرماں برداری ہی کو اسلام کہتے ہیں۔ سورج ،چاند اور تار سب مسلم ہیں۔زمین بھی مسلم ہے۔ ہوا اور پانی اور روشنی بھی مسلم ہیں۔درخت اور پتھر اور جانور بھی مسلم ہیں اور وہ انسان بھی جو خدا کو نہیں پہچانتا اور خدا کا انکار کرتا ہےیا جو خدا کےسوا دوسروں کو پوجتا ہےاور خدا کےساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہےہاں وہ بھی اپنی فطرت اور طبیعیت کے لحاظ سے مسلم ہی ہے کیونکہ اس کا پیدا ہونا، زندہ رہنا اور مرنا سب کچھ خدائی قانون ہی کے ماتحت ہے ۔ اس کے تمام اعضاء اور اس کے جسم کے ایک ایک رونگٹے کا مذہب اسلام ہے ۔ کیونکہ وہ سب خدائی قانون کے مطابق بنتے اور بڑھتے اور حرکت کرتے ہیں۔ حتی کہ اس کی وہ زبان بھی اصل میں کلم ہے جس سے دو نادانی کے ساتھ شرک اور کفر کے خیالات ظاہر کرتا ہے۔اس کا وہ سر بھی پیدائشی مسلم ہےجس کو وہ زبر دستی خدا کے سوا دوسروں کے سامنے جھکاتا ہے ۔ اس کا وہ دل بھی خطرہ مسلم ہے جس میں وہ بے علمی کی وجہ سےخدا کے سوا دوسروں کی عزت اور محبت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہ سب چیزیں خدائی قانون کی فرماں بردار میں اور ان کی ہر جنبش خدا ہی کے قانون کے ماتحت ہوتی ہے


انسان کی ایک حیثیت تو یہ ہے کہ وہ دیگر مخلوقات کی طرح قانون قدرت کے زبر دست قاعدوں سے جکڑا ہوا ہے اور ان کی پابندی پر مجبور ہے

۔دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ عقل رکھتا ہے۔ سوچنے،سمجھنے اور برائےقائم کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ اور اپنے اختیار سے ایک بات کو مانتا ہےدوسری بات کو نہیں مانتا۔ ایک طریقہ کو پسند کرتا ہے ، دوسرے طریقہ کو پسند نہیں کرتا۔ زندگی کے معاملات میں اپنے ارادے سے خود ایک ضابطہ بناتا ہے یا دوسروں کے بناتے ہوئے ضابطہ کو اختیار کرتا ہےاس حیثیت میں دہ دنیا کی دوسری چیزوں کے مانند کسی مقر قانون کا پابند نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ اس کو اپنے خیال، اپنی رائے اور عمل میں انتخاب کی آزادی بخشی گئی ہے۔


پہلی حیثیت میں وہ دنیا کی تمام دوسری چیز ان کے ساتھ پیدایشی مسلم ہےاور مسلم ہونے پر مجبور ہے۔ جیسا کہ ابھی تم کومعلوم ہوچکا ہے۔

دوسری حیثیت میں مل ہونایا نہ ہونا اس کے اختیار میں ہے اور اسی اختیار کی بنا پر انسان دو طبقوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔

ایک انسان وہ ہے جو اپنے خالق کو پہچانتا ہے ۔ اس کو اپنا آقا اور مالک تسلیم کرتا ہے اور اپنی زندگی کے اختیاری کاموں میں بھی اسی کے پسند کیے ہوئےقانون کی فرماں برداری کرتا ہے۔ یہ پورا مسلم ہے ۔ اس کا اسلام مکمل ہو گیا ۔کیونکہ اب اس کی زندگی سراسر اسلام ہے۔ اب وہ جان بوجھ کر بھی اُسی کا فرماں بردار بن گیا جس کی فرماں برداری وہ بغیر جانے تو مجھے کر رہا تھا۔ اب وہ اپنےارادے سے بھی اسی خدا کا مطلع ہے جس کا مطیع وہ بلا ارادہ تھا۔ اب اس کا علم سچا ہے کیونکہ وہ اس خدا کو جان گیا جس نے اس کو جاننے اور علم حاصل کرنےکی قوت دی ہے ۔ اب اس کی عقل اور رائے درست ہے کیونکہ اس نے سوچ سمجھ کر اُسی خدا کی اطاعت کا فیصلہ کیا جس نے اسے سوچنے سمجھنے اور رائے قائم کرنے کی قابلیت بخشی ہے۔ اب اس کی زبان صادق ہے ، کیونکہ وہ اسی خدا کا اقرار کر رہی ہے جس نے اس کو بولنے کی قوت عطا کی ہے ۔ اب اس کی ساری زندگی میں راستی ہی راستی ہے کیونکہ وہ اختیار و بے اختیاری دونوں حالتوں میں خدا کے قانون کا پابند ہے ۔ اب ساری کائنات سے اس کی آشتی ہو گئی۔ کیونکہ کائنات کی ساری چیزیں جس کی بندگی کر رہی ہیں اسی کی بندگی وہ بھی کر رہا ہے۔اب وہ زمین پر خدا کا خلیفہ (نائب) ہے ، ساری دنیا اس کی ہے اور وہ خدا کا ہے-

کفر کی حقیقت اس کے مقابلہ میں دوسرا انسان وہ ہے جو سلم پیدا ہوا اور اپنی زندگی بھر ہے ہےمجھے قسم ہی رہا، مگر اپنے علم اور قل کی قوت سے کام لے کر اس نے خدا کو پہچا اور اپنے اختیار کی مد میں اس نے خدا کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ پیشخص کافر ہے۔ کفر کے اصلی معنی چھپانے اور پردہ ڈالنے کے ہیں۔ ایسے شخص کو کافر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی فطرت پر نادانی کا پردہ ڈال رکھا ہے ۔وہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔اس کا سارا جسم اورجسم کا ہر حصہ اسلام کی فطرت پر کام کر رہا ہے۔اس کے گرد و پیش ساری دنیا اسلام پر چل رہی ہے۔مگر اس کی عقل پر پرڈ پڑ گیا ہے۔تمام دنیا کی اور خود اپنی فطرت اس سے چھپ گئی ہے۔ وہ اس کےتےخلاف سوچتا ہے ۔ اس کے خلاف چلنے کی کوشش کرتا ہے ۔

اب تم سمجھ ہو کہ جو شخص کا فر ہے وہ کتنی بڑی گمراہی میں مبتلا ہے۔

کفر کے نقصانات کفر ایک جہالت ہے ، بلکہ اصلی جہالت کفر ہی ہے۔اس سےبڑھ کر اور کیا جہالت ہو سکتی ہے کہ انسان خدا سے ناواقف ہو ۔ ایک شخص کائنات کے اتنے بڑے کارخانے کو رات دن چلتے ہوئے دیکھتا ہے، گر نہیں جانتا کہ اس کارخانےکو بنانےاور چلانے والا کون ہے ۔ وہ کون کا ریگر ہے جس نےکو کئے اور لوہے اور تسلیم اور سوڈیم اور ایسی ہی چند چیزوں کو لاکر انسان جیسی لاجواب مخلوق پیدا کر دی۔ ایک شخص دنیا میں ہر طرف ایسی چیزیں اور ایسے کام دیکھتا ہے جن میں بے نظیر انجینیری،ریاضی دانی کیمیا دانی اور ساری دانائیوں کےکمالات نظر آتےہیں مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ علم در حکمت اور دانش والی ہستی کونسی ہےمیں نے کائنات میں یہ سارےکام انجام دیےہیں۔ سوچو اور غور کروا لیےشخص کے لیے صحیح علم کے دروازے کیسےکھل سکتےہیں جس کوعلم کا پہلا سراہی نہ ملا ہو ؟ خواہ کتنا ہی غور و فکر کرے اور کتنی ہی تلاش وجس میں سرکھپائے اس کو کسی شعبے میں علم کا سیدھا اور عینی راستہ نہ ملے گا ، کیونکہ اس کو شروع میں بھی جہالت کا اندھیرا نظر آئے گا اور آخر میں بھی وہ اندھیرے کے سوا کچھ ن دیکھے گا۔ کفر ایک فلم ہے بلکہ سب سے بڑا ظلم کفر ہی ہے۔ تم جانتے ہو کہ ظلم کسے کہتے ہیں ہے ظلم یہ ہے کہ کسی چیز سےاس کی طبیعت اور فطرت کےخلاف زیر دستی کام لیا جائے۔تم کو معلوم ہو چکا ہےکہ دنیا میں مبتنی چیزیں ہیں سب اللہ کی تابع فرمان میں اور ان کی فطرت ہی "اسلام" یعنی قانون خداوندی کی اطاعت ہے۔ خود انسان کا پورا جسم اور اس کا ہر حصہ اسی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔خدا نے ان چیزوں پر انسان کو حکومت کرنے کا تھوڑا سا اختیار تو ضرور دیا ہے مگر ہر چیز کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس سے خدا کی مرضی کے مطابق کام لیا جائے۔لیکن جو شخص کفر کرتا ہے وہ ان سب چیزوں سے ان کی فطرت کے خلاف کام لیتا ہے۔ وہ اپنے دل میں دوسروں کی بزرگی اور محبت اور خون کے بہت بٹھاتا ہے۔ حالانکہ دل کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس میں خدا کی بزرگی اور محبت اور خوف ہو۔ وہ اپنے تمام اعضاء سے اور دنیا کی اُن سب چیزوں سے جو اس کے اختیار میں ہیں ، خدا کی مرضی کے خلاف کام لیتا ہے ، حالانکہ ہر چیز کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ اس سے قانون خداوندی کے مطابق کام لیا جائے۔بتاؤ ، ایسے شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو اپنی زندگی میں ہر وقت ہر چیز پرحتی کہ خود اپنے وجود پر بھی ظلم کرتا رہے ؟

کفر صرف ظلم ہی نہیں ، بغاوت اور ناشکری اور نمک حرامی بھی ہے۔ ذرا غور کرو ،انسان کے پاس خود اپنی کیا چیز ہے؟ اپنےدماغ کو اس نے پیدا کیا ہے یا خُدا نے ؟ اپنے دل ، اپنی آنکھوں اور اپنی زبان اور اپنے ہاتھ پاؤں اور اپنےتمام اعضا کا وہ خود خالق ہےیا خدا ہےاس کےگرد و پیش مبنی چیزیں میں ان کو پیدا کرنے والا خود انسان ہے یا خدا ہے ان سب چیزوں کو انسان کے لیےمفید اور کارآمد بنانا اور انسان کو ان کے استعمال کی قوت دینا انسان کا اپنا کام ہے یا خدا کا بہ تم کہو گے یہ سب چیزیں خدا کی ہیں۔ خدا ہی نےان کو پیدا کیا ہے،خدا ہی ان کا مالک ہےاور خدا ہی کی بخشش سےیہ انسان کو حاصل ہوئی ہیں ۔ جب اصل حقیقت یہ ہے تو اس سے بڑا باغی کون ہوگا جو خدا کے دیے ہوئےدماغ سے خدا ہی کے خلاف سوچنے کی خدمت لے ؟ خدا کے بخشے ہوئے دل میں خدا ہی کےخلاف خیالات رکھے ؟ خدا نے جو آنکھیں ہو زبان،جو ہاتھ پاؤں اور جو دوسری چیزیں اس کو عطا کی ہیں ان کو خدا ہی کی پسند اور اس کی مرضی کےخلاف استعمال کرے ؟ اگر کرتی ملازم اپنے آقا کا نمک کھا کر اس سےبےو فائی کرتا ہے تو تم اس کو نمک حرام کہتے ہو۔ اگر کوئی سرکاری افسر حکومت کے دیے ہوئےاختیارات کو خود حکومت ہی کے خلاف استعمال کرتا ہے تو تم اُسےباغی کہتےہو۔اگر کوئی اپنےمحسن سےوفا کرتا ہےتو تم اسے احسان فراموش کہتے ہو۔ لیکن انسان کے مقابلہ میں انسان کی نمک حرامی ، غداری اور احسان فراموشی کی کیا حقیقت ہے ؟ انسان ، انسان کو کہاں سےرزق دیتا ہے ؟ وہ خدا کا دیا ہوا رزق ہی تو ہے۔ حکومت اپنے ملازموں کو جو اختیار دیتی ہے وہ کہاں سے آئےہیں بے خدا ہی نے تو اس کو فرماں روائی کی طاقت دی ہے ۔ کوئی احسان کرے والا دوسرے شخص پر کہاں سے احسان کرتا ہے ؟ سب کچھ خدا کا تو بخشا ہوا ہے۔انسان پر سب سے بڑا حق اس کے ماں باپ کا ہے۔ مگر ماں اور باپ کےدل میں اولاد کے لیے محبت کس نے پیدا کی ہے ماں کے سینےمیں دودھ کس نےاتارا ؟ باپ کے دل میں یہ بات کس نے ڈالی کہ اپنے گاڑھے پیسنےکی کمائی گوشت پوست کےایک بیکار لوتھڑےپر خوشی خوشی لٹادے اور اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں اپنا وقت،اپنی دولت،اپنی آسائش سب کچھ قربان کر دیےاب بتاؤ کہ جو خدا انسان کا اصلی محسن ہےحقیقی بادشاہ ہےسب سے بڑا پروردگار ہے اگر اسی کےساتھ انسان کفر کرے ، اس کو خدا نہ مانےاس کی بندگی سےانکار کرے اور اس کی اطاعت سے منہ موڑے،تو یہ کیسی سخت بغاوت ہے یہ کتنی بڑی احسان فراموشی اور نمک حرامی ہے؟

کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کفر سے انسان خدا کا کچھ بگاڑتا ہے۔ جس بادشاہ کی سلطنت اتنی بڑھی ہے کہ ہم بڑی سے بڑی دُور مین لگا کر بھی اب تک یہ معلوم نہ کر سکے کہ وہ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے ، جس بادشاہ کی طاقت اتنی زبر دست ہے کہ ہماری زمین اور سورج اور مریخ اور ہےہی کروڑوں سیارے اس کےاشاروں پر گیند کی طرح پھر رہےہیں،جس بادشاہ کی دولت ایسی بے پایاں ہے کہ ساری کائنات میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اس میں کوئی حصہ دار نہیں ، جو بادشاہ ایسا بے نیاز ہے کہ سب اس کے محتاج نہیں،بھلا انسان کی کیا ہستی ہےکہ اس کےماننےیا نہ ماننے سے ایسے بادشاہ کو کوئی نقصان ہو ؟اس سے کفر اور سرکشی اختیار کر کےانسان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑتا البتہ خود اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے ۔

کفر اور نافرمانی کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ کے لیے ناکام ونامراد ہویا۔ایسے شخص کو علم کا سیدھا راستہ کبھی نہ مل سکے گا۔ کیونکہ جو علم خود اپنے خالق کو نہ جانےو کس چیز کو صحیح جان سکتا ہے ؟ اس کی عقل ہمیشہ ٹیڑھے راستہ پر چلے گی ۔ کیونکہ بو عقل خود اپنے بنانے والے کو پہچاننے میں غلطی کرے وہ اور کس چیز کو صحیح سمجھ سکتی ہے ؟ وہ اپنی زندگی کے سارے معاملات میں ٹھوکوں پر ٹھوکریں کھائے گا۔ اس کے اخلاق خراب ہوں گے ۔ اس کا تمدن خراب ہوگا۔ اس کی معاشرت خراب ہو گی۔ اس کی معیشت خراب ہو گی۔ اس کی حکومت اور سیاست خراب ہوگی ۔ وہ دنیا میں بدامنی پھیلائے گا۔ کشت و خون کرے گا۔ دوسروں کے حقوق چھینے گا۔ فظلم وستم کرے گا۔ خود اپنی زندگی کو اپنے بڑے خیالات اور اپنی شرارت اور بد اعمالی سےاپنے لیے تلخ کرلے گا۔ پھر جب وہ اس دنیا سے گزر کر آخرت کے عالم میں پہنچے گا وہ سب چیزیں جن پردہ تمام مرظلم کرتارہا تھا اس کے خلاف نائش کریں گی۔ اس کا دماغ ، اس کا دل ، اس کی آنکھیں ہیں کے کان ، اس کے ہاتھ پاؤں ، غرض اس کا رونگٹا رونگٹا خدا کی عدالت میں اس کے خلاف استغاثہ کرے گا کہ اس ظالم نے تیرے خلاف بغاوت کی اور اس بغاوت میں ہم سے زبر دستی کام لیا۔ وہ زمین جس پر وہ نافرمانی کے ساتھ چلا اور بہا، وہ رزق میں کو اس نے ناجائز طریقوں سے کہا یا، اور وہ دولت ہو حرام ہے آئی اور حرام پر خرچ کی گئی ، وہ سب چیزیں جن پر اس نے باقی بن کر نا منا تصرف کیا ، وہ سب آلات و اسباب جن سے اُس نے اس بغاوت میں کام لیا، اس کے مقابلہ میں فریادی بن کر آئیں گے اور خدا جو حقیقی منصف ہے ان مظلوم کی داد رسی میں اس باغی کو ذلت کی سزا دے گا۔

اسلام کے فائدے یہ ہیں کفر کے نقصانات - آداب ایک نظریہ بھی دیکھو کہ اسلام کا طریق اختیا کرنے میں کیا فائدہ ہے۔ اور تم کو معلوم ہو چکا ہےکہ اس جہان میں ہر طرف خدا کی خدائی کے نشانات پھیلے ہوتے ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم الشان کارخانہ جو ایک متحمل نظام اور ایک اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے خود اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا بنانے والا اور چلانے والا ایک زبر دست فرماں روا ہے جس کی حکومت سے کوئی چیز سرتابی نہیں کر سکتی ۔ تمام کائنات کی طرح خود انسان کی فطرت بھی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کرے۔ چنانچہ بے سمجھے وہ رات دن اس کی اطاعت کر ہی رہا ہےکیونکہ اس کےقانون قدرت کی خلاف ورزی کر کے وہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔

لیکن خدا نےانسان کو علم کی قابلیت،سوچنےاور سمجھنےکی قوت اور نیک و بد کی تمیز دےکر ارادے اور اختیار میں تھوڑی سی آزادی بخش دی ہے۔اس آزادی میں در اصل انسان کا امتحان ہےاس کی عقل کا امتحان ہے۔اس کی تمیز کا امتحان ہے۔اور اس بات کا امتحان ہےکہ اسےجو آزادی عطا کی گئی ہے اس کو وہ کسی طرح استعمال کرتا ہےاس امتحان میں کوئی ایک طریقہ اختیار کرنےپر انسان کو مجبور نہیں کیا گیا ہے کیونکہ بھٹور کرنےسےامتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہےتم سمجھ سکتےہو کہ امتحان میں سوالات کا پرچہ دینےکےبعد اگر تم کو ایک خاص جواب دینےپر مجبور کر دیا جائے تو ایسے استمان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔تمهاری مثل قابلیت تو اسی وقت کھلے گی جب تم کو تقسیم کا جواب دینے کا اختیار حاصل ہو۔ اگر تم نے صحیح جواب دیا تو کامیاب ہوگئےاور آئندہ ترقیوں کا دروازہ تمھارے لیے کھل جائے گا ۔ اور اگر غلط جواب دیا تو نا کام ہو گے اور اپنی ناقابیت سے خود ہی اپنی ترقی کا رستہ روک لو گےبالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے امتحان میں انسان کو آزاد رکھا ہے کہ جو طریقہ چاہے اختیار کرے ۔

اب ایک شخص تو وہ ہے جو خود اپنی اور کا نات کی فطرت کو نہیں سمجھتا۔اپنے خالق کی ذات وصفات کو پہچاننے میں غلطی کرتا ہے۔ اور اختیار کی جو آزادی سے دی گئی ہے،اس سے فائدہ اٹھا کر نا فرمانی اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتا ہےیہ شخص علم اور عقل اور تمیز اور فرض شناسی کے امتحان میں ناکام ہو گیا۔اس نے خود ثابت کر دیا کہ وہ ہر حیثیت سے ادنی درجے کا آدمی ہے ۔ لہذا اس کا رہی انجام ہونا چاہیے ہو تم نے اوپر دیکھ لیا۔

اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص ہےجو اس امتحان میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے علم اور عقل سے صحیح کام لےکرخدا کو جانا اور مانا،حالانکہ وہ ایسا کرنےپر مجبور نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نیک وبد کی تمیز میں بھی غلطی نہ کی اور اپنےآزاد انتخاب سےنیکی ہی کو پسند کیا۔حالانکہ وہ بدی کی طرف بھی مائل ہونے کا اختیار رکھتا تھا۔ اس نے اپنی فطرت کو سمجھا، اپنے خدا کو پہچانا اور نافرمانی کا اختیار رکھنےکےباوجود خدا کی فرماں برداری ہی اختیار کی۔اس شخص کو امتحان میں اسی وجہ سےتو کامیابی نصیب ہوئی کہ اس نے اپنی عقل سے ٹھیک کام لیا، آنکھوں سے ٹھیک دیکھا، کانوں سے ٹھیک سنا، دماغ سےٹھیک رائےقائم کی اور دل سےاُسی بات کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا جو ٹھیک تھی۔ اس نےحق کو پہچان کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ حق شناس ہےاور حق کےآگےسرجھکا کر یہ بھی دکھا دیا کہ وہ حق پرست ہے ۔

ظاہر ہے کہ جس شخص میں یہ صفات موجود ہوں،اس کو دنیا اور آخرتدونوں میں کامیاب ہونا ہی چاہیے ۔

وہ علم اور عمل کے ہر میدان میں صحیح راستہ اختیار کرے گا۔ اس لیے کہ جو شخص ذات خداوندی سےواقف ہےاور اس کی صفات کو پہچانتا ہےوہ در اصل علم کی ابتداء کو بھی جانتا ہے اور اس کی انتہا کو بھی۔ ایسا شخص کبھی غلط راستای میں بھٹک نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کا پہلا قدم بھی صحیح پڑا ہےاور میں آخری منزل پر اسےجانا ہےاس کو بھی وہ یقین کےساتھ جانتا ہےاب وہ فلسفیانہ غور و خوض سےکائنات کےاسرار سمجھنےکی کوشش کرےگا،مگر ایک کا فر فلسفی کی طرح کبھی شکوک و شبہات کی بھول بھلیوں میں گم نہ ہو گا۔ وہ سائنس کےذریعہ سے قدرت کے قوانین کو معلوم کرنے کی کوش کریگا۔ کائنات کے چھپے ہوئےخزانوں کو نکالے گا۔ خدا نے جو تو میں دنیا میں اور خود انسانوں کے وجود میں پیدا کی ہیں،ان سب کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کرمعلوم کرےگا۔زمین و آسمان میں متبنی چیزیں ہیں ان سب سے کام لینے کے بہتر سے بہتر طریقے دریافت کرے گا۔مگر خداشناسی ہر موقع پر اس کو سائنس کا غلط استعمال کرنے سےروکےگی ۔وہ کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑے گا کہ میں ان چیزوں کا مالک ہوں،میں نےفطرت پر فتح پالی ہے ، میں اپنے نفع کے لیے سائنس سے مددنوں گا، دنیا کو زیر و زبر کر دوں گا ، لوٹ مار اور گشت و خون کر کے اپنی طاقت کا سکہ سارےجہان میں بجھا دوں گا۔ یہ ایک کافرسائنٹسٹ کا کام ہے مسلم سائنٹسٹ جتنا زیادہ سائنس پر عبور حاصل کرے گا، اتنا ہی زیادہ خدا پر اس کا یقین بڑھے گا،اور اتنا ہی زیادہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے گا۔ اس کا عقیدہ یہ ہوگا کہ میرےمالک نے میری قوت اور میرے علم میں جو اضافہ کیا ہے اس سے میں اپنی اور تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے کوشش کروں گا۔ اور یہی اس کا صحیح شکل ہے۔

اسی طرح تاریخ ، معاشیات ، سیاسیات ، قانون اور دوسرے علوم و فنون میں بھی ایک مسلم اپنی تحقیق اور جدو جہد کے لحاظ سے ایک کافر کے مقابلہ میں کم نہ رہے گا۔ مگر دونوں کی نظر میں بڑا فرق ہوگا مسلم ہر علم کا مطالعہ صحیح نظر سےکرےگا،صحیح مقصد کےلیے کرے گا، اورصحیح نتیجه پر پہنچےگا۔ تاریخ میں وہ انسان کےگزشتہ تجربوں سےٹھیک ٹھیک سبق لےگا۔قوموں کی ترقی و تنزل کے صحیح اسباب معلوم کر لے گا۔ اُن کی تہذیب و تمدن کی مفید چیزیں دریافت کرے گا۔ان کے نیک دل لوگوں کے حالات سے فائدہ اٹھائے گا۔ اور ان تمام چیزوں سے بچے گا جن کی بدولت پچھلی قومیں تباہ ہو گئیں ۔معاشیات میں دولت کمانےاور خرچ کرنےکےایسےطریقےمعلوم کرنےگا جن سےتمام انسانوں کا بھلا ہو۔نہ یہ کہ ایک کا فائدہ اور بہتوں کا نقصان ہو۔ سیاسیات میں اس کی تمام توجہ اس طرف صرف ہو گی کہ دنیا میں امن ،عدل اور انصاف اور نیکی و شرافت کی حکومت ہو کوئی شخص یا کوئی جماعت خدا کے بندوں کو اپنا بندہ نہ بنائے۔حکومت اور اُس کی تمام طاقتوں کو خدا کی امانت سمجھا جائے اور بندگان خدا کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔ قانون میں وہ اس نظر سے غور کرے گا کہ عدل وانصاف کے ساتھ لوگوں کے حقوق مقرر کیے جائیں اور کسی صورت سے کسی پر ظلم نہ ہونے پائے ۔

مسلم کے اخلاق میں خدا ترسی حق شناسی اور راست بازی ہوگی۔ وہ دنیا میں یہ سمجھ کر رہے گا کہ سب چیزوں کا مالک خُدا ہے ۔ میرے پاس اور سب انسانوں کے پاس جو کچھ ہے خدا ہی کا دیا ہوا ہے ۔ میں کسی چیز کا جشی کہ خود اپنے جسم اور جسمانی قوتوں کا بھی مالک نہیں ہوں ۔ سب کچھ خدا کی امانت ہےاور اس امانت میں تصرف کرنے کا جو اختیار مجھ کو دیا گیا ہے ، اس کو خُدا ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ ایک دن خدا مجھ سے اپنی یہ امانت واپس لے گا، اور اس وقت مجھ کو ایک ایک چیز کا حساب دینا ہو گا۔

یہ سمجھ کر جو شخص دنیا میں رہے اس کے اخلاق کا اندازہ کرو۔ وہ اپنے دل کو بڑے خیالات سے پاک رکھے گا۔ وہ اپنے دماغ کو بڑائی کی فکر سے بچائے گا۔ وہ اپنی آنکھوں کو بری نگاہ سے روکے گا۔ وہ اپنے کانوں کو برائی سننے سے باز رکھے گا۔وہ اپنی زبان کی حفاظت کرےگا تا کہ اس سےحق کے خلاف کوئی بات نہ نکلے ۔ وہ اپنے پیٹ کو حرام کے رزق سے بھرنے کے بجائے بھوکا رہنا زیادہ پسند کرے گا۔ وہ اپنے ہاتھوں کو ظلم کے لیے کبھی نہ اٹھائے گا۔ وہ اپنے پاؤوں کو برائی کے راستے پر کبھی نہ چلائے گا۔ وہ اپنے سر کو باطل سےسامنے کبھی نہ جھکائے گا، خواہ وہ کاٹ ہی کیوں نہ ڈالا جائے۔ وہ اپنی کسی خواہش اور کسی ضرورت کو ظلم اور ناحق کے راستہ سےکبھی نہ پورا کرے گا۔ وہ نیکی اور شرافت کا مجسمہ ہو گا۔ حق اور صداقت کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھے گا اور اس کے لیے اپنی ذات کے ہر فائدے اور اپنے دل کی ہر خواہش کو بلکہ اپنی ذات کو بھی قربان کر دےگا۔ وہ ظلم اور ناراستی کو ہر چیز سے زیادہ ناپسند کرے گا اور کسی نقصان کے خون سے یا کسی فائدے کے لالچ میں اس کا ساتھ دینےپر آمادہ نہ ہوگا۔ دنیا کی کامیابی بھی ایسے ہی شخص کا حصہ ہے ۔

اُس سےبڑھ کر دنیا میں کوئی معرزا در شریف نہ ہو گا۔کیونکہ اس کا سر خدا کےسوا کسی کےسامنے جھکنے والا نہیں ۔ اور اس کا ہاتھ خدا کے سوا کسی کے آگےپھیلنے والا نہیں ۔ ذلت ایسے شخص کے پاس کیوں کر پھٹک سکتی ہے ؟

اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی طاقتور بھی نہ ہوگا۔ کیونکہ ان کے دل میں خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں اور اس کو خدا کے سوا کسی سے بخشش اور انعام کا لالچ بھی نہیں ۔ کون سی طاقت ہے جو ایسے شخص کر حق اور راستی سے بٹا سکتی ہو ؟ اور کون سی دولت ہے جو اس کا ایمان خرید سکتی ہو ؟

اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی غنی اور دولت مند بھی نہ ہوگا۔کیونکہ وہ عیش پرست نہیں خواہشات نفس کا بندہ نہیں ، حریص اور لالچی نہیں۔ اپنی جائز محنت سے جو کچھ کماتا ہے اُسی پر قناعت کرتا ہے اور ناجائز دولت کے ڈھیر بھی اگر اس کے سامنے لگا دیےجائیں تو ان کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے۔ یہ اطمینان کی دولت ہے جس سے بڑی کوئی دولت انسان کے لیے نہیں ہوسکتی۔

اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی محبوب اور ہر دلعزیز بھی نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہر شخص کا حق ادا کرے گا اور کسی کا حق نہ مارے گا۔ ہر شخص سے نیکی کرے گا اور اس کے بدلے میں اپنے لیے کچھ نہ چاہے گا۔ لوگوں کے دل آپ سےآپ اس کی طرف کھینچیں گے اور ہر شخص اس کی عزت اور محبت کرنے پر مجبور ہو گا۔

اس سے بڑھ کر دنیا میں کسی کا اعتبار بھی نہ ہو گا۔کیونکہ وہ امانت میں خیانت نہ کرےگا۔ صداقت سے منہ نہ موڑے گا۔ وعدہ کا سچا اور معاملہ کا بھرا ہو گا۔ اور ہر کام میں یہ مجھ کر ایمانداری برتے گا کہ کوئی اور دیکھنےوالا ہو یا نہ ہوں،مرند ترسب کچھ دیکھ رہا ہے۔ایسے شخص کی ساکھ کا کیا پوچھنا ؟ کون ہے جو اس پر بھروسہ نہ کرے گا ؟

ایک مسلم کی سیرت کو اچھی طرح سمجھ لو توتم کو یقین آجائے گا کرمسلم کبھی دنیا میں ذلیل اور محکوم اور مغلوب بن کر نہیں رہ سکتا۔ وہ ہمیشہ غالب اور حاکم ہی رہے گا۔ کیونکہ اسلام جو صفات اس میں پیدا کرتا ہے اس پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی ۔

اس طرح دنیا میں عزت اور بزرگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد جب و اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو گا تو اس پر خدا اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کرے گا،کیونکہ جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اُس کا پورا پورا حق اس نےادا کر دیا،اور جس امتحان میں خُدا نےاس کو ڈالا تھا اُس میں وہ پورے پورے نمبروں کےساتھ کامیاب ہوا۔ یہ ابدی کامیابی ہےجو دنیا سے لےکر آخرت تک مسلسل ملی جاتی ہے اور کہیں اس کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔

یہ اسلام ہے انسان کا فطری مذہب یہ کسی قوم اور ملک کے ساتھ خاص نہیں۔ہر زمانے اور ہر قوم اور ہر ملک میں جو خداشناس اور حق پسند لوگ گزرےہیں ان سب کا یہی مذہب تھا۔وہ سب مسلم تھے۔ خواہ ان کی زبان میں اس مذہب کا نام اسلام ہو یا کچھ اور -

باب دوم - ایمان اور اطاعت

باب دوم ایمان اور طاعت اطاعت کے لیے علم اور یقین کی ضرورت۔ ایمان کی تعریف علم حاصل ہونے کا ذریعہ ایمان بالغیب اطاعت کے لیے علم و یقین کی ضرورت پچھلے باب میں تم کومعلوم ہو چکا ہے کہ اسلام در اصل پروردگار کی اطاعت کا نام ہےاب ہم بتانا چاہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اُس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک اسے چند باتوں کا علم نہ ہو اور وہ علم یقین کی حدتک پہنچا ہوا نہ ہو۔

سب سے پہلے تو انسان کو خدا کی ہستی کا پورا یقین ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر اسے ہی یقین نہ ہو کہ خدا ہے ، تو وہ اس کی اطاعت کیسے کرے گا ؟

اس کے ساتھ خدا کی صفات کا علم بھی ضروری ہے۔ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ خدا ایک ہے اور خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں ، وہ دوسروں کےسامنے سر جھکانے اور ہاتھ پھیلانے سے کیونکر بیچ سکتا ہے ؟ جس شخص کو اِس بات کا یقین نہ ہو کہ خدا سب کچھ دیکھنے اور ملنے والا ہے اور ہر چیز کی خبر رکھتا ہے، وہ اپنے آپ کو خدا کی نافرمانی سے کیسے روک سکتا ہے ؟ اس بات پر جب تم غور کرو گے ، توتم کومعلوم ہوگا کہ خیالات اور اخلاق اور اعمال میں اسلام کے رستے پر چلنے کے لیے انسان میں جن صفات کا ہونا ضروری ہے وہ صفات اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس کو خدا کی صفات کا ٹھیک ٹھیک علم ہو۔ اور یہ علم بھی محض جان لینے کی حد تک نہ رہے ، بلکہ اسکو یقین کےساتھ دل میں بیٹھ جانا چاہیے تاکہ انسان کا دل اُس کے مخالف خیالات سے اور اس کی زندگی اس علم کے خلاف عمل کرنے سے محفوظ رہے۔

اس کےبعد انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنےکا صحیح طریقہ کیا ہے۔ کسی بات کو خدا پسند کرتا ہے،تاکہ اسےاختیار کیا جائے۔ اور کس بات کو خدا ناپسند کرتا ہے،تاکہ اس سے پر ہیز کیا جائےاس غرض کےلیےضروری ہے کہ انسان کو خدائی قانون اور خدائی ضابطه سےپوری واقعیت ہو۔اس کےمتعلق دو پورا یقین رکھتا ہو کہ یہی خدائی قانون اور خدائی ضابطہ ہے،اور اسی کی پیروی سے خدا کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے۔کیونکہ اگر اس کو سرے سے علم ہی نہ ہو تو وہ اطاعت کسی چیز کی کرے گا ؟ اور اگر علم تو برلیکن پر یقین نہ ہو ، یا دل میں یہ خیال ہو کہ اس قانون اور اس ضابطہ کے سوا دوسرا قانون اور ضابطہ بھی درست ہو سکتا ہے ، تو اس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کیسے کر سکتا ہے ؟

پھر انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیےکہ خدا کی مرضی کےخلاف چلنےاور اس کےپسند کیےہوئے ضابطہ کی اطاعت نہ کرنےکا انجام کیا ہےاور اس کی فرماں برداری کرنےکا انعام کیا ہے۔اس غرض کےلیے ضروری ہے کہ اُسے آخرت کی زندگی کا ، خدا کی عدالت میں پیش ہونے کا ، نافرمانی کی سنز پانے کا،اور فرماں برداری پر انعام پانےکا پورا علم اور یقین ہو جو شخص آخرت کی زندگی سےناواقف ہےوہ اطاعت اور نافرمانی دونوں کو بے نتیجہ سمجھتا ہے ۔اس کا خیال تو یہ ہے کہ آخر میں اطاعت کرنے والا اور نہ کرنے والا دونوں برابر ہی رہیں گے ، کیونکہ دونوں خاک ہو جائیں گے ۔ پھر اُس سے کینو فکر امید کی جاسکتی ہےکہ وہ اطاعت کی پابندیاں اور تکلیفیں برداشت کرنا قبول کرلےگا،اور ان گناہوں سےپرهیز کرے گا جن سےاس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنےکا اس کو اندیشہ نہیں ہےایسےعقیدے کہ ساتھ انسان خدائی قانون کا کبھی مطیع نہیں ہو سکتا۔اسی طرح وہ شخص بھی اطاعت میں ثابت قدم نہیں ہو سکتا جسےآخرت کی زندگی اور خدائی عدالت کی پیشی کا علم تو ہےمگر یقین نہیں۔اس لیےکہ شک اور تردد کےساتھ انسان کسی بات پر جم نہیں سکتا تم ایک کام کو دل لگا کر اسی وقت کرسکے گےجب تم کو یقین ہو کہ یہ کام فائدہ بخش ہے اور دوسرے کام سے پرہیز کرنےمیں بھی اسی وقت مستقل رہ سکتے ہو جب تمھیں پورا یقین ہو کہ یہ کام نقصان ده ہے۔لہذا معلوم ہوا کہ ایک طریقہ کی پیروی کے لیے اس کے انجام اور نتیجہ کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔اور یہ علم ایسا ہونا چاہیے جو یقین کی حد تک پہنچا ہوا ہوں-

ایمان کی تعریف اوپر کے بیان میں جس چیز کو ہم نے علم اور یقین سے تعبیر کیا ہےاسی کا نام ایمان ہے ۔ایمان کے معنی جاننےاور ماننےکے ہیں ۔ جو شخص خدا کی رانیت اور اس کی حقیقی صفات اور اس کے قانون اور اس کی جزا و سزا کو جانتا ہو اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو اس کو مومن کہتے ہیں۔ اور ایمان کا نتیجہ ہے کہ انسان مسلم یعنی خدا کا مطیع و فرماں بردار ہو جاتا ہے۔

ایمان کی اس تعریف سےتم خود سمجھ سکتےہو کہ ایمان کےبغیر کوئی انسان علم نہیں ہو سکتا اسلام اور ایمان کا تعلق رہی ہے جو درخت کا تعلق بیج سےہوتا ہے۔ بیج کے بغیر تو درخت پیدا ہی نہیں ہوتا البتہ ہو سکتا ہے کہ بیج زمین میں بویا جائے مگر زمین خراب ہونے کی وجہ سے۔ یا آپ زہرا اچھی نہ ملنےکی وجہ سے درخت ناقص نکلے ۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص سرے سے ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ "مسلم" ہو۔البتہ یہ ضرور ممکن ہےکہ کسی شخص کےدل میں ایمان ہو گر اپنے ارادے کی کمزوری یا ناقص تعلیم و تربیت اور بری محبت کے اثر سے وہ پورا اور پکا مسلم نہ ہو ۔

ایمان اور اسلام کے لحاظ سے تمام انسانوں کے چار درجے ہیں ؟

(١) جو ایمان رکھتے ہیں اور ان کا ایمان انھیں خدا کے احکام کا پورا مطیع بنا دیتا ہے ۔ جس بات کو خُدا نا پسند کرتا ہے اس سےوہ اس طرح بچتےہیں جیسےکوئی شخص آگ کو ہاتھ لگانےسےبچتا ہے۔ اور جس بات کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کو ایسےشوق سےکرتے ہیں جیسےکوئی شخص دولت کمانے کےلیے شوق سے کام کرتا ہے۔ یہ اصلی مسلمان ہیں ۔

(٢) جو ایمان تو رکھتے ہیں مگر ان کا ایمان اتنا طاقتور نہیں ہے کہ انہیں پوری طرح خدا کا فرماں بردار بنا دے۔ یہ اگرچہ کمتر درجہ کےلوگ ہیں لیکن بہر حال مسلم ہیں۔ یہ اگر نافرمانی کرتے ہیں تو اپنے جرم کےلحاظ سےسزا کے مستحق ہیں۔مگر ان کی حیثیت مجرم کی ہے باغی کی نہیں ہےاس لیےکہ یہ بادشاہ کی بادشاہ مانتے ہیں اور اس کے قانون کو قانون تسلیم کرتے ہیں ۔

(٣) وہ جو ایمان نہیں رکھتے مگر بظاہر ایسے عمل کرتے ہیں جو خدائی قانون کے مطابق نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل باغی ہیں۔ ان کا ظاہری نیک عمل حقیقت میں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری نہیں ہے، اس لیےاس کا کچھ اعتبار نہیں۔ان کی مثال ایسےشخص کی سی ہےجو بادشاہ کو بادشاہ نہیں مانتا اوراس کے قانون کو قانون ہی نہیں تسلیم کرتا۔یہ شخص اگر بظاہر ایسا عمل کر رہا ہو جو قانون کےخلاف نہ ہو تو تم یہ نہیں کہہ سکتےکہ وہ بادشاہ کا وفادار اور اس کےقانون کا پیرو ہےاس کاشمار تو بہر حال باغیوں ہی میں ہوگا۔

(٤) وہ جو ایمان بھی نہیں رکھتے اور عمل کے لحاظ سے بھی شریر اور بدکار ہیں۔یہ سب سے بد تر درجہ کے لوگ ہیں،کیونکہ یہ باغی بھی ہیں اور مفسد بھی۔

انسانی طبقوں کی اس تقسیم سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ایمان ہی پر در اصل انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔اسلام خواہ وہ کامل ہو یا ناقص صرف ایمان کے بیج سے پیدا ہوتا ہے ۔ جہاں ایمان نہ ہوگا وہاں ایمان کی جگہ کفر ہوگا،جس کے دوسرے معنی خدا سے بغاوت کے ہیں،خواہ وہ بد تر درجہ کی بغاوت ہو یا کم تر درجہ کی۔

علم حاصل ہونے کا ذریعہ اطاعت کے لیے ایمان کی ضرورت تو تم کو معلوم ہو گئی۔اب سوال یہ ہے کہ خدا کی صفات اور اس کے پسندیدہ قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق صحیح علم جس پر یقین کیا جاسکے کس ذریعہ سے حاصل ہو سکتا ہے ؟

پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ کائنات میں ہر طرف خدا کی کاریگری کے آثار پھیلےہوئے ہیں،جو اس بات پر گواہی دےرہےہیں کہ اس کارخانے کو ایک ہی کاریگر نے بتایا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ان آثار میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے جلوے نظر آتے ہیں۔اس کی حکمت،اس کا علم ،اس کی قدرت،اس کا رحم، اس کی پروردگاری،اس کا قہر،غرض کون سی صفت ہےجس کی شان اس کے کاموں میں نمایاں نہیں ہے ۔ مگر انسان کی عقل اور اس کی قابیت نے ان چیزوں کےدیکھنےاور سمجھنےمیں اکثر غلطی کی ہے۔ یہ سب آثار آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور ان کے باوجود کسی نے کہا خدا دو ہیں اور کسی نے کہا کہ تین ہیں۔کسی نے بے شمار خدا مان لیے۔کسی نےخدائی کے ٹکڑے ٹکڑےکر دیے اور کہا ایک بارش کا خدا ہے،ایک ہوا کا خدا ہے،ایک آگ کا خدا ہےغرض ایک ایک قوت کے الگ الگ خدا ہیں اور ایک خدا ان سب کا سردار ہے۔اس طرح خدا کی ذات وصفات کو سمجھنےمیں لوگوں کی عقل نےبہت دھو کے کھاتے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ۔

آخرت کی زندگی کے متعلق بھی لوگوں نے بہت سے غلط خیالات قائم کیےکسی نے کہا کہ انسان مر کر مٹی ہو جائے گا،پھر اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔کسی نے کہا کہ انسان بار بار اسی دنیا میں جنم لے گا اور اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے گا۔

خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قانون کی پابندی ضروری ہے اس کو تو خود اپنی عقل سے بنانا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔

اگر انسان بہت صحیح عقل رکھتا ہو اور اس کی علمی قابلیت نہایت اعلیٰ درجہ کی ہو،تب بھی سالہا سال کے تجر ہے اور غور و خوض کےبعد وہ کسی حد تک ان باتوں کےمتعلق رائے قائم کر سکے گا اور پھر بھی اس کو کامل یقین نہ ہوگا کہ اس نےپورا پوراحق معلوم کر لیا ہےاگر چہ علم اور عقل کا پورا امتحان تو اسی طرح ہو سکتا تلف کہ انسان کو بغیر کسی ہدایت کےچھوڑ دیا جاتا۔پھر جولوگ اپنی کوشش اور قابلیت سےحق اور صداقت تک پہنچ جاتے،وہی کامیاب ہوتے اور جو نہ پہنچتے وہ ناکام رہتے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے سخت امتحان میں نہیں ڈالا۔ اس نےاپنی مہربانی سے خود انسانوں ہی میں ایسےانسان پیدا کیےجن کو اپنی صفات کا صحیح علم دیا۔وہ طریقہ بھی بتایا جس سےانسان دنیا میں خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کر سکتا ہے۔آخرت کی زندگی کےمتعلق بھی صحیح واقفیت بخشی۔اور ان کو بدولت کی کہ دوسرےانسانوں کو یہ علم پہنچا دیں۔ یہ اللہ کےپیغمبر ہیں۔جس ذریعہ سےخدا نے ان کو علم دیا ہےاس کا نام وحی ہے۔اور جس کتاب میں ان کو یہ علم دیا ہے اس کو اللہ کی کتاب اور اللہ کا کلام کہتے ہیں۔ اب انسان کی عقل اور اس کی قابلیت کا امتحان اس میں ہے کہ وہ پیغمبر کی پاک زندگی کو دیکھنےاور اس کی اعلی تعلیم پر غور کرنےکے بعد اس پر ایمان لاتا ہےیا نہیں ۔ اگر وہ حق شناس اور حق پرست ہے تو سچی بات اور سچے انسان کی تعلیم کو مان لےکا اور امتحان میں کامیاب ہو جائے گا۔ اور اگر اس نے نہ مانا تو انکار کےمعنی یہی ہوں گے کہ اس نے حق اور صداقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔ یہ انکار اس کو امتحان میں ناکام کر دے گا ، اور خدا اور اس کے قانون اور آخرت کی زندگیکے متعلق وہ کبھی کوئی صحیح علم حاصل نہ کرسکےگا-

ایمان بالغیب دیکھو ، جب تم کو کسی چیز کا علم حاصل نہیں ہوتا تو تم علم رکھنےوالے کو تلاش کرتے ہو اور اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہو۔تم بیمار ہوتےہو تو خود اپنا علاج نہیں کر لیتے،بلکہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو۔ ڈاکٹر کا سند یافتہ ہوتا،اس کا تجربہ کار ہوتا،اس کےہاتھ سےبہت سےمریضوں کا شفایاب ہونا،یہ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سےتم ایمان لےآتے ہو کہ تمھارے علاج کےلیے جس لیاقت کی ضرورت ہے وہ اس ڈاکٹر میں موجود ہے۔اسی ایمان کی بنا پر وہ جس دوا کر جس طریقہ سےاستعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہےاس کو تم استعمال کرتے ہو اور جس چیز سےپرہیز کا حکم دیتا ہے،اس سے پر ہیز کرتے ہو اسی طرح قانون کے معاملہ میں تم وکیل پر ایمان لاتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو۔ تعلیم کےمسلہ میں استاد پر ایمان لاتے ہو اور جو کچھ د نھیں بتا تا ہے اس کو مانتے چلےجاتے ہو۔ تمھیں کہیں جانا ہو اور راستہ علم نہ ہو تو کسی واقف کار پر ایمان لاتےہو اور جو راستہ وہ تمھیں بتاتا ہے اسی پر چلتے ہو غرض دنیا کے ہر معاملہ میں تم کو واقفیت اور علم حاصل کرنے کے لیے کسی جاننے والے آدمی پر ایمان لانا پڑتا ہے اور اس کی اطاعت کرنے پر تم مجبور ہوتے ہو ۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے ۔

ایمان بالغیب کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ تم کومعلوم نہیں اس کا علم تم جانے والےسے حاصل کرو اور اس پر یقین کر لو۔خداوند تعالیٰ کی ذات و صفات سے تم واقف نہیں ہو۔ تم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے فرشتے اس کے حکم کے ماتحت تمام عالم کا کام کر رہے ہیں اور تم کو ہر طرف سے گھیرے ہوتے ہیں ۔ تم کو یہ بھی خبر نہیں کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنےکا طریقہ کیا ہے۔تم کو آخرت کی زندگی کا بھی صحیح حال معلوم نہیں ۔ ان سب باتوں کا علم تم کو ایک ایسے انسان ہےحاصل ہوتا ہے جس کی صداقت،راست بازی ، خداترسی،نهایت پاک زندگی اور نهایت محکمانہ باتوں کو دیکھ کر تم تسلیم کرلیتےہو کہ وہ جوکچھ کہتا ہےسچ کہتا ہےاور اس کی سب باتیں یقین لانے کے قابل ہیں۔ یہی ایمان بالغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کے لیے ایمان بالغیب ضروری ہے۔کیونکہ پیغمبر کے سوکسی اور ذریعہ سے تم کو صحیح علم حاصل ہو نہیں سکتا اور صحیح علم کے بغیر تم اسلام کے طریقہ پرٹھیک ٹھیک چل نہیں سکتے ۔

باب سوم - نبوت

باب سوم نبوت پیغمبری کی حقیقت۔پیغمبر کی پہچان ۔ پیغمبر کی اطاعت- پیغمبر پر ایمان لانےکی ضرورت پیغمبری کی مختصر تاریخ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت۔ نبوت محمدی کا ثبوت ختم نبوت ختم نبوت کے دلائل -

پچھلے باب میں تم کو تین باتیں بتائی گئی ہیں :

ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کے لیے خدا کی ذات وصفات اور اس کےپسندیدہ طریقے اور آخرت کی جزا و سزا کےمتعلق صحیح علم کی ضرورت ہے ۔ اور یہ علم ایسا ہونا چاہیےکہ جس پر تم کو یقین کامل یعنی ایمان حاصل ہو ۔

دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنے سخت امتحان میں نہیں ڈالا ہےکہ وہ فرد اپنی کوشش سے یہ علم حاصل کرلےجکہ اس نے خود انسانوں ہی میں سےبعض برگزیده بندوں (یعنی پیغمیوں) کو وحی کے ذریعہ سے یہ علم عطا کیا اور ان کو حکم دیا کہ دوسرے بندوں تک اس علم کو پہنچادیں۔

تیسرے یہ کہ عام انسانوں پر اب صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ خدا کےسچے پیغمبروں کو پہچائیں۔ جب ان کو معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص حقیقت میں خدا کا سچا پیغمبر ہےتو ان کا فرض ہےکہ جو کچھ وہ تعلیم دے اس پر ایمان لائیں اور جو کچھ وہ حکم دےاس کو تسلیم کریں اور جس طریقہ پر وہ چلے اس کی پیروی کریں۔

اب سب سے پہلے ہم تمھیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پیغمبری کی حقیقت کیا ہےاور پہچانے کی صورت کیا ہے۔

پیغمبری کی حقیقت تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں انسان کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہےاللہ نے ان سب کا انتظام خود ہی کر دیا ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو دیکھو کنا سامان اس کو دے کر دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں ، سُننےکے لیے کان ، سونگھنے اور سانس لینے کے لیے تاک، محسوس کرنے کے لیےسارے جسم کی کھال میں قوت لامسہ ، چلنے کے لیے پاؤں ، کام کرنے کے لیےہاتھ،سوچنےکےلیے دماغ اور ایسی ہی بے شمار دوسری چیزیں جو پہلےسے اس کی سب ضرورتوں کا لحاظ کر کے اس کے چھوٹے سے جسم میں لپیٹ کر رکھ دی گئی ہیں۔پھر جب وہ دنیا میں قدم رکھتا ہے تو زندگی بسر کرنےکے لیے اتنا سامان اس کو ملتا ہےجس کا تم شمار بھی نہیں کر سکتے۔ہوا ہے،روشنی ہے،حرارت ہے،پانی ہے، زمین ہے،ماں کے سینے میں پہلے سے دُودھ موجود ہے،ماں اور باپ اور عزیزوں حتیٰ کہ غیروں کے دلوں میں بھی اس کی محبت اور شفقت پیدا کر دی گئی ہے جین سےاس کو پالا پوسا جاتا ہے۔پھر جتنا جتنا وہ بڑھتا جاتا ہے ، اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہر قسم کا سامان اس کو ملتا جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا زمین و آسمان کی ساری قوتیں اس کی پرورش اور خدمت کے لیے کام کر رہی ہیں ۔

اس کے بعد اور آگے بڑھو۔ دنیا میں کام کرنے کے لیے متبنی قابلیتوں کی ضرورت ہے وہ سب انسان کو دی گئی ہیں۔ جسمانی قوت عقل سمجھ بوجھ، گریائی اور ایسی ہی بہت سی قابلیتیں تھوڑی یا بہت ہر انسان میں موجود ہیں ۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے عجیب انتظام کیا ہے۔ساری قابلیتیں سب انسانوں کو یکساں نہیں دیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی کسی کا محتاج نہ ہوتا۔ نہ کوئی کسی کی پروا کرتا۔اس لیے اللہ نے تمام انسانوں کی مجموعی ضرورتوں کے لحاظ سے سب قابلیتیں پیدا تو انسانوں ہی میں کیں ، مگر اس طرح کر کسی کو ایک قابلیت زیادہ دے دی اور دوسرے کو دوسری قائیت۔ تم دیکھتے ہو کہ بعض لوگ جسمانی محنت کی قوتیں دوسروں سےزیادہ لےکر آتےہیں۔بعض لوگوں میں کسی خاص هنر یا پیشه کی پیدائشی قابلیت ہوتی ہےجس سےدوسرےمحروم ہوتےہیں۔اور بعض لوگوں میں ذہانت اور عقل کی قوت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ بعض پیدائشی سپہ سالا ہوتے ہیں۔ بعض میں حکمرانی کی خاص قابلیت ہوتی ہے۔بعض تقریر کی غیر معمولی قوت لےکر پیدا ہوتےہیں۔بعض میں انشا پردازی کا فطری ملکہ ہوتا ہے۔کوئی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے کہ اس کا دماغ ریاضی میں خوب لڑتا ہے حتی کہ اس فن کےبڑے بڑے پیچیدہ سوالات اس طرح حل کر دیتا ہے کہ دوسروں کے ذہن ہاں تک نہیں پہنچتے ۔ ایک دوسرا شخص ایسا ہوتا ہے جو مجیب عجیب چیزیں ایجاد کرتا ہے اور اس کی ایجادوں کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک اور شخص ایسا بے نظیر قانونی دماغ لے کر آتا ہے کہ قانون کے جو سکتے برسوں غور کرنے کےبعد بھی دوسروں کی سمجھ میں نہیں آتے ، اس کی نظر خود بخود ان تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ خدا کی دین ہے ۔ کوئی شخص اپنے اندر خود یہ قابلیتیں پیدا نہیں کرسکتا۔تعلیم و تربیت سے یہ چیزمان پیدا ہوتی ہیں۔ دراصل یہ پیدائشی قابلیتیں ہیں اور خدا اپنی حکمت سے جس کو جو قابلیت چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے۔

خدا کی اس خیشش پر بھی غور کر دگے تو تم کو معلوم ہوگا کہ انسانی تمدن کے لیےجن قابلیتوں کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے،وہ زیادہ انسانوں میں پیدا کی جاتی ہیں اور جن کی ضرورت جس قدر کم ہوتی ہے ، وہ اسی قدر کم آدمیوں میں پیدا کی جاتی ہیں ۔ سپاہی بہت پیدا ہوتے ہیں۔ کسان اور بڑھتی اور لوہار اور ایسےہی دوسرے کاموں کے آدمی کثرت سے پیدا ہوتے ہیں گر علی و دماغی تو میں نےوالے اور سیاست اور سپہ سالاری کی قابلیتیں رکھنے والے کم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہ لوگ اور بھی زیادہ کم یاب ہوتے ہیں جو کسی خاص فن میں غیرمعولی قابلیت کےمالک ہوں۔ کیونکہ ان کے کارنامے صدیوں کے لیے انسانوں کو اپنے جیسےماہر فن کی ضرورت سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔

اب سوچنا چاہیے کہ دنیا میں انسانی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے میرےیہی ایک ضرورت تو نہیں ہے کہ انسانوں میں انجینیر، ریاضی دان،سائنسدان قانون دان،سیاست کے ماہر، معاشیات کے باکمال اور مختلف پیشوں کی قابلیت رکھنے والے لوگ ہی پیدا ہوں۔ ان سب سے بڑھ کر ایک اور ضرورت بھی تو ہے اور وہ یہ کہ کوئی ایسا ہو جو انسان کو خدا کا راستہ بنتا ہے۔ دوسرے لوگ تو صرف یہ بتانے والے ہیں کہ اس دنیا میں انسان کے لیے کیا ہے اور اس کو کس کس طرح برتا جا سکتا ہے۔ مگر کوئی یہ بتانے والا بھی تو ہونا چاہیے کہ انسان خود کس کے لیے ہے ؟ اور انسان کو دنیا میں یہ سب سامان کس نے دیا ہے؟ اور اس دینے والےکی مرضی کیا ہے تاکہ انسان اسی کے مطابق دنیا میں زندگی بسرکر کے یقینی اور دائمی کامیابی حاصل کرے ۔ یہ انسان کی اصلی اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اور عقل یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ جس خدا نے ہماری چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا ہے اُس نے ایسی اہم ضرورت کو پورا کرنے سے غفلت برتی ہوگی ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ خدا نے جس طرح ایک ایک مہنر اور ایک ایک علم و فن کی خاص تابعیت رکھنے والے انسان پیدا کیسے ہیں، اسی طرح ایسے انسان بھی پیدا کیے ہیں جن میں خود خدا کے پہچاننے کی اعلیٰ قابلیت تھی ۔ اس نے ان کو دین اور اخلاق اور شریعیت کا علم اپنے پاس سے عطا کیا ، اور ان کو اس خدمت پر مقرر کیا کہ دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کی تعلیم دیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہماری زبان میں نبی یا رسول یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔

پیغمبر کی پہچان جس طرح دوسرے علوم و فنون کے باکمال لوگ ایک خاص قسم کا ذہین اور ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر پیدا ہوتے ہیں ، اسی طرح پیغمبر بھی ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر آتے ہیں۔

ایک پیدائشی شاعر کا کلام سنتے ہی ہم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شاعری کی ناس قابلیت لے کر پیدا ہوا ہے کیونکہ دوسرے لوگ خواہ کتنی ہی کوشش کریں دیسا شعر نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح ایک پیدایشی مقرر،ایک پیدایشی انشا پرداز ایک پیدایشی موجد،ایک پیدائشی لیڈر بھی اپنے کارناموں سے صاف پہچان لیا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے کام میں غیرمعمولی قابلیت کا اظہار کرتا ہے جو دوسروں میں نہیں ہوتی۔ایسا ہی حال پیغمبر کا بھی ہے۔اس کے ذہن میں وہ باتیں آتی ہیں جو دوسرے لوگوں کےوہم وگمان میں بھی نہیں ہوتیں۔وہ ایسے مضامین بیان کرتا ہے جو اس کے سوا کوئی دوسرا انسان بیان نہیں کر سکتا۔اس کی نظر ایسی باریک باتوں ہم خود بخود پہنچ جاتی ہے،جن تک دوسروں کی نظر برسوں کے غور و فکر کے بعد بھی نہیں پہنچتی۔ وہ جو کچھ کہتا ہے ہماری عقل اس کو قبول کرتی ہے ، ہمارا دل گواہی دیتا ہے کہ ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے ، دنیا کےتجربات اور کائنات کے مشاہدوں سےاس کی ایک ایک بات بھی ثابت ہوتی ہے۔لیکن اگر ہم خود ویسی بات کہنا چاہیں تو نہیں کہ سکتے۔پھر اس کی طبیعت ایسی پاکیزہ ہوتی ہےکہ وہ ہر معاملہ میں سنچا، سیدھا اور شریفانہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔کوئی غلط بات نہیں کہتا۔ کوئی برا کام نہیں کرتا۔ ہمیشہ نیک اور صداقت کی تعلیم دیتا ہےاور جو کچھ دوسروں سے کہتا ہے اس پر خود عمل کر کے دکھاتا ہے ۔ اس کی زندگی میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ وہ جو کچھ کہے اس کے خلاف عمل کرے ۔ اس کے قول یا عمل میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہوتی ۔ وہ دوسروں کے پھیلے کی خاطر خود نقصان اٹھاتا ہے اور اپنے بھلے کے لیے کسی کا نقصان نہیں کرتا۔ اس کی ساری زندگی سچائی ، شرافت ، پاک طینتی ، بند خیالی اور اعلیٰ درجہ کی انسانیت کا نور ہوتی ہے جس میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ انھی چیزوں کو دیکھ کر صاف پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے ۔

پیغمبر کی اطاعت جب یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے تو اس کی بات ماننا،اس کی اطاعت کرنا اور اس کےطریقہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔یہ بات با لکل خلاف عقل ہےکہ تم ایک شخص کو پنیر بھی تسلیم کرو اور پھر اس کی بات بھی نہ مانوں اس لیےکہ پنیر تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تم نے مان لیا کہ وہ جو کچھ کہ رہا ہےخدا کی طرف سےکر رہا ہے اور جو کچھ کر رہا ہے خدا کی مرضی کے مطابق کر رہا ہے۔اب تم جو کچھ اس کے خلاف کرو گے یا کر دو گے وہ خدا کے خلاف ہوگا۔ اور جو بات خدا کے خلاف ہو وہ کبھی حق نہیں ہوسکتی۔ امن کسی کو پینی تسلیم کرنے سے یہ بات خود بود لازم ہو جاتی ہے کہ اس کی بات کو بےچون و چرا مان لیا جائےاور اس کےحکم کےآگےسرخی کا دیا جائے،خواہ اس کی حکمت اور اس کا فائدہ تمھاری سمجھ میں آنے یا نہ آئے۔ جو بات پیغمبر کی طرف سے ہے ، اس کا پیغمبر کی طرف سےہوتا ہی اس بات کی دلیل ہےکہ وہ بچی ہے اور تمام صلحتیں اور سکتیں اس میں موجود ہیں۔ اگر تمھاری سمجھ میں کسی بات کی مصلحت نہیں آتی ، تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس بات میں کوئی خرابی ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خود تمھاری سمجھ میں کوئی خرابی ہے ۔

جو شخص کسی فن کا ماہر نہیں ہے ظاہر ہے وہ کسی فن کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا لیکن وہ کتنا بے وقوف ہوگا اگر وہ ماہر فن کی بات کو محض اس وجہ سےنہ مانے کہ اس کی سمجھ میں وہ بات نہیں آتی ۔ دیکھو دنیا کے ہر کام میں اس کےماہر کی ضرورت ہوتی ہے اور ماہر کی طرف رجوع کرنے کےبعد اس پر پورا بھروسہ کیا جاتا ہے اور اس کے کام میں دخل نہیں دیا جاتا۔ کیوں کہ سب لوگ سب کاموں کے ماہر نہیں ہو سکتےاور نہ دنیا بھرکی تمام چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں تمھیں اپنی تمام عقل اور هوشیاری صرف اس بات میں صرف کرنی چاہیے کہ ایک بہترین ماہر فن کو تلاش کرو جب کسی کے متعلق تمھیں یقین ہو جائے کہ وہ بہترین ماہر فن ہے تو اس پر تم کو کامل بھروسہ کرنا چاہیے ، پھر اس کے کاموں میں دخل دینا اور ایک ایک بات کے متعلق یہ کہنا کہ پہلے نہیں سمجھا دو ورنہ ہم نہ مانیں گے ، عقلمندی نہیں بلکہ سراسر بے وقوفی ہے سکسی وکیل کو مقدمہ سپرد کرنے کے بعد تم ایسی تحقیں کروگے تو نہیں اپنے دفتر سے نکال دے گا۔ کسی ڈاکٹر سے تم اس کی ایک ایک ہدایت پر دلیل پوچھو گے تو وہ تمھارا علاج چھوڑ دے گا۔ ایسا ہی معاملہ مذہب کا بھی ہے تم کو خدا کا علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تم یہ جانا چاہتے ہو کہ خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے تمھارے پاس خود ان چیزوں کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اب تھارا فرض ہے کہ خدا کے پیچھے پیغمبر کی تلاش کرو۔ اس تلاش میں تم کو نہایت ہوشیاری اور سمجھ بوجہ سے کام لینا چاہیے ۔ کیونکہ اگر کسی غلط آدمی کوتم نے تغیر سمجھ لیا تو وہ تمہیں غلط راستہ پر لگا دے گا۔ مگر جب تمھیں خوب جانچ پڑتال کرنے کے بعد یہ یقین ہو جائے کہ فلاں شخص خدا کا نچا پیغمبر ہے تو اس پر تم کو پر اعتماد کہ نا چاہیے اور اس کے ہر حکم کی اطاعت کرنی چاہیے۔

پیغمبروں پر ایمان لانے کی ضرورت جب تمھیں معلوم ہو گیا کہ اسلام کا سچا اور سیدھا راستہ وہی ہے جو خدا کی طرف سےخدا کا پیغمبر بتائے،تو یہ بات تم خود سمجھ سکتے ہو کہ پیغمبر پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت اور پیروی کرنا تمام انسانوں کےلیے ضروری ہے اور جو شخص پیغمبر کے طریقے کو چھوڑ کر خود اپنی عقل سے کوئی طریقہ نکالتا ہے وہ یقینا گمراہ ہے۔

اس معاملہ میں لوگ عجیب عجیب غلطیاں کرتے ہیں بعض لوگ ایسے ہیں جو پیغمبر کی صداقت کو تسلیم کرتے ہیں،مگر نہ اس پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کی پیروی قبول کرتے ہیں۔یہ صرف کا فر ہی نہیں احمق بھی ہیں۔کیونکہ پیر کو سچا پیغمبر ماننےکے بعد اس کی پیروی نہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی جان بوجھ کر جھوٹ کی پیروی کرے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں ہو سکتی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں پیغمبر کی پیروی کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ہم خود اپنی عقل سے حق کا راستہ معلوم کرلیں گے۔یہ بھی سخت غلطی ہے۔تم نےریاضی پڑھی ہے اور تم یہ جانتے ہو کہ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک سیدھا خط صرف ایک ہی ہو سکتا ہے،اس کے سوا جتنے بھی خط کھینچے جائیں گے وہ سب یا تو ٹیڑھے ہوں گےیا اس دوسرے نقطےتک نہ پہنچیں گے۔ایسی ہی کیفیت حق کے راستے کی بھی ہے۔ جس کو اسلام کی زبان میں صراط مستقیم دبینی سیدھا راستہ) کہا جاتا ہے ۔ یہ راستہ انسان سے شروع ہو کر خدا تک جاتا ہے۔ اور ریاضی کے اسی قاعدہ کے مطابق یہ بھی ایک ہی راستہ ہو سکتا ہے۔ اس کےسوا جتنے راستے بھی ہوں گے یا تو سب ٹیڑھے ہوں گے یا خدا تک نہ پہنچیں گےاب غور کرو کہ جو سیدھا راستہ ہے وہ تو پیغمبر نے بتا دیا، اور اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ صراط مستقیم ہے ہی نہیں۔ اس راستہ کو چھوڑ کر جو شخص خود کوئی راستہ تلاش کرے گا اس کو دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ضرور پیش آئے گی۔یا تو اس کو خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ ملے گا ہی نہیں یا اگر ملا بھی تو بہت پھیر کا راستہ ہوگا،خط مستقیم نہ ہوگا بلکہ خط مشخنی ہوگا۔پہلی صورت میں تو اس کی تباہی ظاہر ہے۔رہی دوسری صورت تو اس کے بھی حماقت ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔ ایک بے عقل جانور بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے خط مسخنی کو چھوڑ کر خط مستقیم ہی کو اختیار کرتا ہے۔پھر اس انسان کو تم کیا کہو گے جس کو خدا کا ایک نیک بندہ سیدھا راستہ بنائے اور وہ کھے کہ نہیں میں تیرے بتائےہوئےراستے پر نہیں چلوں گا بلکہ خود ٹیٹرھے راستوں پر بھٹک بھٹکا کر منزل مقصود تلاش کرلوں گا۔

یہ تو وہ بات ہے جو سرسری نظر میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے ۔ لیکن اگر تم زیادہ غور کر کے دیکھو گےتو تمھیں معلوم ہوگا جو شخص پیغمبر پر ایمان لانے سےانکار کرتا ہے اس کو خدا تک پہنچنےکا کوئی راستہ نہیں مل سکتا ، نہ ٹیڑھا نہ سیدھا اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص سچے آدمی کی بات ماننے سےانکار کرتا ہے اس کےدماغ میں ضرور کوئی ایسی خرابی ہوگی جس کے سبب سے وہ سچائی سے منہ موڑتا ہے۔یا تو اس کی سمجھ بوجھ ناقص ہوگی،یا اس کے دل میں تکبیر ہوگا،یا اس کی طبیعت ایسی ٹیڑھی ہوگی کہ وہ نیکی اور صداقت کی باتوں کو قبول کرنےپر آمادہ ہی نہ ہوگی،یادہ باپ دادا کی اندھی تقلید میں گرفتار ہوگا اور جو غلط باتیں رسم کےطور سےپہلےسےچلی آتی ہیں ان کے خلاف کسی بات کو ماننے پر تیار نہ ہو گا، یادہ اپنی خواہشات کا نہ ہوگا اور پیر کی تسلی کو منانے سے اس لیے انکار کرے کیا اس کےمان لینےکےبعد گناہوں اور ناجائز باتوں کی آزادی باقی نہیں رہتی۔ یہ تمام اسباب ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک سبب بھی کسی شخص میں موجود نہ تو اس کو خدا کا راستہ بنا خیر سکن ہے ۔ اور اگر کوئی سبب بھی موجود نہ ہو تو یہ نکن ہے کہ ایک سچا ، غیر متعصب اور نیک آدمی ایک بہتے پیغمبر کی تعلیم قبول کرنے سے انکار کردئے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوتا ہےاور خدا ہی کا یہ حکم ہے کہ اس پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو ۔ اب جو کوئی پیغمبر پر ایمان نہیں لاتا وہ خدا کے خلاف بغاوت کرتا ہے ۔ دیکھو ، تم جس سلطنت کی رعیت ہو اس کی طرف سے جو حاکم بھی مقر ہو گا تمھیں اُس کی اطاعت کرنی پڑے گی۔ اگر تم اس کو حاکم تسلیم کرنے سے انکار کر دو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے خود سلطنت کے خلاف بغاوت کی ہے۔سلطنت کو ماننا اور اس کے مقرر کیے ہوئے حاکم کو نہ مانا دونوں بالکل متصف باتیں ہیں۔ ایسی ہی مثال خدا اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر کی بھی ہے۔ خدا تمام انسانوں کا حقیقی بادشاہ ہے۔ جس شخص کو اس نے انسان کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو اور جس کی اطاعت کا حکم دیا ہو ، ہر انسان کا فرض ہے کہ اس کو پیغم تسلیم کرے اور ہر دوسری چیز کی پیروی چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی اختیار کرے ۔ اس سے منہ موڑنے والا بہر حال کا فر ہے خواہ وہ خدا کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو۔

پیغمبری کی مختصر تاریخ اب ہم تم کو بتاتے ہیں کہ نوع انسانی میں پیغمبری کاسلسلہ کس طرح شروع ہوا اور کس طرح ترقی کرتے کرتے ایک آخری اور سب سے بڑے پیغمبر پر ختم ہوا-

تم نے سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ایک انسان کو پیدا کیا۔ پھر اسی انسان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور اس جوڑے کی نسل چلائی، جو بے شمار صدیوں میں پھیلتے پھیلتے تمام روئے زمین پر چھا گئی۔ دنیا میں جتنے انسان بھی پیدا ہوتے ہیں وہ سب اسی ایک جوڑے کی اولاد ہیں ۔ تمام قوموں کی مذہبی اور تاریخی روایات متفق ہیں کہ نوع انسانی کی ابتدا ایک ہی انسان سےہوتی ہے۔سائنس کی تحقیقات سےبھی ثابت نہیں ہوا کہ زمین کے مختلف حصوں میں الگ الگ انسان بنائے گئے تھے،بلکہ سائنس کےاکثر علماء بھی یہی قیاس کرتےہیں کہ پہلےایک ہی انسان پیدا ہوا ہوگااور انسان کی موجودہ نسل دنیا میں جہاں کہیں بھی پائی جاتی ہے اسی ایک شخص کی اولاد ہے ۔

ہماری زبان میں اس پہلے انسان کو آدم کہتے ہیں۔ اسی سے لفظ آدمی نکلا ہے جو انسان کا ہم معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےسب سے پہلا پیغمبر حضرت آدم ہی کو بتایا، اور انکو حکم دیاکہ وہ اپنی اولاد کواسلام کی تعلیم دیں یعنی ان کر یہ بتائیں کہ تھارا اورتمام دنیا کا خدا ایک ہے۔ اسی کی تم عبادت کرو۔اسی کےآگےسرجھکاؤ۔اسی سے مدد مانگر اور اسی کی مرضی کےمطابق دنیا میں نیکی اور انصاف کی زندگی بسر کہ وہ اگرتم ایسا کرو گے توتم کو اچھا انعام ملے گا اور اگر اس کی اطاعت سے منہ موڑو گے تو بڑی سزا پاؤ گے۔

حضرت آدم کی اولاد میں جولوگ اچھے تھے وہ اپنے باپ کے بتائے پہنچےسیدھے رستے پر چلتے رہے ، مگر جولوگ بڑے تھے انھوں سے اُسے چھوڑ دیا۔تہ رفته ہر قسم کی بانیاں پیدا ہوئیں کسی نے سورج اور چاند اور تاروں کو رہنا شروع کر دیا۔ کسی نے درختوں اور جانوروں اور دریاؤں کی پرستش شروع کر دی۔کسی نے خیال کیا کہ ہوا اور پانی اور آگ اور بیماری و تندرستی اور قدرت کی دوسری نعمتوں اور قوتوں کے خدا الگ الگ ہیں ، ہر ایک کی پرستش کرنی چاہیے تاکہ سب خوش ہو کر ہم پر مہربان ہوں۔ اسی طرح جہالت کی وجہ سےمشرک اور بت پرستی کی بہت سی صورت میں پیدا ہو گئیں جن سےبیسیوں مذہب نکل آئے۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ حضرت آدم کی نسل دنیا کےمختلف حصوں میں پھیل چکی تھی- مختلف قومیں بن گئی تھیں۔ہر قوم نے اپنا ایک نیا مذہب بنالیا تھا اور ہر ایک کی رہیں الگ تھیں۔ خدا کو بھولنےکےساتھ لوگ اس قانون کو بھی بھول گئےتھےجو حضرت آدم نےاپنی اولاد کو سکھایا تھا۔ لوگوں نے خود اپنی خواہشات کی پیروی شروع کردی۔ہر قسم کی بڑی رسمیں پیدا ہوئیں۔ ہر قسم کے جاہلانہ خیالات پھیلےاچھے اور بڑے کی تمیز میں غلطیاں کی گئیں ۔بہت سی بڑی چیزیں اچھی سمجھ لی گئیں ۔ اور بہت سی اچھی چیزوں کو برا ٹھیرا لیا گیا ۔

اب اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں پیغمبر بھیجنےشروع کیےجو لوگوں کو اسی اسلام کی تعلیم دینےلگے جس کی تعلیم اول اول حضرت آدم نےانسانوں کو دی تھی۔ ان پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا، انھیں ایک خدا کی پرستش سکھائی، شرک اور بت پرستی سے روکا ، جاہلانہ رسموں کو توڑا، خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ بتایا اور صحیح قوانین بنا کر اُن کی پیروی کی ہدایت کی ہندوستان ، چین ، عراق، ایران، مصر، افریقہ ، یورپ ، غرض دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں خدا کی طرف سے اس کے پتے پیغمبر نہ آئے ہوں ۔ ان سب کا مذہب ایک ہی تھا اور وہ یہی مذہب تھا جس کو ہم اپنی زبان میں اسلام ہیں۔(١) البته تعلیم کے طریقے اور زندگی کے قوانین ذرا مختلف تھے۔ ہر قوم میں جس قسم کی جہالت پھیلی ہوئی تھی اسی کو دور کرنے پر زور دیا گیا۔ جس قسم کے غلط خیالات رائج تھے اُنھی کی اصلاح پر زیادہ توجہ صرف کی گئی۔ تہذیب و تمدن اور علم وعقل کے لحاظ سے جب قومیں ابتدائی درجہ میں تھیں تو اُن کو سادہ تعلیم اور سادہ شریعیت دی گئی۔جیسی جیسی ترقی ہوتی گئی تعلیم اور شرعیت کو بھی وسیع کیا جاتا رہا۔مگر یہ اختلافات صرف ظاہری شکل کے تھے ، رُوح سب کی ایک تھی بینی اعتقاد میں توحید،اعمال میں نیکی و سلامت روی ، اور آخرت کی جزا و سزا پر یقین-

١- عام طور پرلوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اسلام کی ابتدا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سےہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ آنحضرت کو پانی اسلام تک کہ دیا جاتا ہے۔ در اصل بی ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جسے طالب علم کے ذہن سے قطعی طور پر نکل جانا چاہیے۔ہر طالب علم کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ اسلام ہمیشہ سے نوع انسانی کا ایک ہی حقیقی مذہب ہے اور دنیا میں جب اور جہاں بھی کوئی پیغمبر خدا کی طرف سےآیا ہے وہ یہی مذہب لے کر آیا ہے۔

پیغمبروں کے ساتھ بھی انسان نے مجیب معاملہ کیا پہلے تو ان کو تکلیفیں دی گئیں ۔ ان کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا گیا۔ کسی کو وطن سے نکالا گیا۔کسی کو قتل کیا گیا۔ کسی کو ربر کی تعلیم متقین کے بعد مشکل سے پانچ دس پیر و بستر آسکے۔ مگر خدا کے یہ برگزیدہ بندے برابر اپنا کام کیے چلے گئے،یہاں تک کہ ان کی تعلیمات نے اثر کیا اور بڑی بڑی تو میں ان کی پیروبن گئیں۔ اس کے بعد گمراہی نے دوسری صورت اختیار کی۔ پیغمبروں کی وفات کے بعد اُن کی امتوں نے اُن کی تعلیمات کو بدل ڈالا۔ ان کی لائی ہوئی کتابوں میں اپنی طرف سے ہر قسم کےخیالات ملا دی ہے۔ جہادتوں کے سنتے سنئے طریقےاختیار کیے۔ بعضوں نےخود پیغمبروں کی پرستش شروع کر دی کسی نے اپنے پیغمبر کوخدا کا اوتار قرار دیا (یعنی یہ کہ خدا خود انسان کی صورت میں اُتر آیا تھا)کسی نےاپنےپیغمبر کوخدا کا بیٹا کا کیسی نےاپنے پیر کرنائی میں شریک ٹھیرایا۔ فرض انسان نےعجیب ستم ظریفی کی کہ جن لوگوں نے بہتوں کو توڑا تھا، انسان نےخود ان ہی کو بت بنالیا۔ پھر جو شریعتیں یہ پیغمبر اپنی امتوں کو دے گئے تھےان کو بھی طرح طرح سے بگاڑا گیا۔ان میں ہر قسم کی اہانہ میں ملادی گئیں۔افسانوں اور جھوٹی روایتوں کی آمیزش کردی گئی۔انسانوں کے بناتے ہوئے قوانین کو ان کے ساتھ غلط ملط کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ چند صدیوں کے بعد یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہا کہ پنیر کی اصلی تعلیم اور اصلی شریعت کیا تھی، اور بعد والوں نے اس میں کیا کیا ملادیا۔(١) خود پیغمبروں کی زندگی کے حالات بھی روایتوں میں ایسے گم ہوگئے کہ ان کے متعلق کوئی چیز بھی قابل اعتبار نہ رہی ۔ تاہم پیغمبروں کی کوششیں سب کی سب رانگاں نہیں گئیں۔تمام ملاوٹوں کے باوجود کچھ نہ کچھ اصلی صداقت ہر قوم میں باقی رہ گئی ۔ خدا کا نیال اور آخرت کی زندگی کا خیال کسی نہ کسی صورت میں تمام قوموں کے اندر پھیل گیا ۔نیکی اور صداقت اور اخلاق کے چند اصول عام طور پر دنیا میں تسلیم کر لیے گئے اور تمام قوموں کے پیغمبروں نے الگ الگ ایک ایک قوم کو اس حد تک تیار کردیا کہ دنیا میں ایک ایسے مذہب کی تعلیم پھیلائی جاسکے جو با امتیاز ساری نوع انسانی کا مذہب ہو۔

(١) یہاں یہ بات طالب علم کے ذہن نشین ہو جانی چاہیے کہ پیغمبروں کی اقتوں نے اسی طرح اپنے اہل مذہب یعنی اسلام کو بگاڑ کر وہ مذہب بنائےہیں جو اس وقت مختلف ناموں سےدنیا میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً عیسی علیہ السلام نے جس مذہب کی تعلیم دی تھی وہ تو اسلام ہی تھا ، گمر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت عیسی کو معبود بنا ڈالا اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے ساتھ کچھ دوسری باتیں ملا جلا کر وہ مذہب ایجاد کر لیا جس کا نام آج عیسائیت ہے۔

جیسا کہ ہم نے تم کو اوپر بتایا ہے ابتداء مہر قوم میں الگ الگ پیغمبر آتے تھے اور ان کی تعلیم ان کی قوم ہی کے اندر محدود رہتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت سب قومیں ایک دوسرے سے الگ تھیں۔ ان کےدرمیان زیادہ میل جول نہ تھا۔ ہر قوم اپنے وطن کی حدود میں گویا مقید تھی۔ایسی حالت میں کوتی عام اور مشترک تعلیم تمام قوموں میں پھیلینی بہت مشکل تھی۔اس کےعلاوہ مختلف قوموں کے حالات ایک دوسرےسےبالکل مختلف تھے۔ جہالت زیادہ بڑھی ہوئی تھی اور اس جہالت کی بدولت اعتقاد اور اخلاق کی جو خرابیاں پیدا ہوئی تھیں وہ ہر جگہ مختلف صورت کی تھیں۔اس لیے ضروری تھا کہ خدا کے پیغمبر ہر قوم کو الگ جنگ تعلیم و ہدایت دیں۔ آہستہ آہستہ غلط خیالات کو مشاکر صحیح خیالات کو پھیلائیں۔رفتہ رفتہ جاہلانہ طریقوں کو چھوڑ کر اعلی درجہ کے قوانین کی پیروی سکھائیں اور اس طرح ان کی تربیت کریں جیسے بچوں کی کی جاتی ہے۔خدا ہی جانتا ہے کہ اس طریقہ سے قوموں کی تعلیم میں کتنے ہزار برس صرف ہوئے ہوں گے۔ بہر حال ترقی کرتے کرتے آخر کار وہ وقت آیا جب نوع انسانی بچپن کی حالت سےگزر کر سن بلوغ کو پہنچنےلگی۔تجارت و صنعت وحرفت کی ترقی کے ساتھ ساتھ قوموں کے تعلقات ایک دوسرے سے قائم ہو گئے۔چین د جاپان سے لے کر یورپ و افریقہ کےدور دراز ملکوں تک جہاز رانی اور خشکی کے سفروں کا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اکثر قوموں میں تحریر کا رواج ہوا۔علوم و فنون پھیلےاور قوموں کےدر میان خیالات اور علمی مضامین کا تبادلہ ہونےلگا۔ بڑے بڑے فاتح پیدا ہوتےاور انھوں نے بڑی بڑی لطفقتیں قائم کر کے کئی کئی ملکوں اور کئی کئی قوموں کو ایک سیاسی نظام میں ملا دیا۔ اس طرح وہ دُوری اور جدائی جو پہلے انسانی قوموں میں ائی جاتی تھی رفتہ رفتہ ہوتی چلی گئی اور ایک ہوگیا کہ اسلام کی ایک تعلیم او ایک ہی شریعیت تمام دنیا کے لیے بھیجی جائے۔اب سے ڈھائی ہزار برس پہلے انسان کی حالت اس حد تک ترقی کر چکی تھی کہ گویا وہ خود ہی ایک مشترک مذہب مانگ رہا تھا۔بودھ مت اگرچہ کوئی پورا مذہب نہ تھا اور اس میں محض چند اخلاقی اصول ہی تھےمگر ہندوستان سےنکل کر وہ ایک طرف جاپان اور منگولیا تک اور دوسری طرف افغانستان اور بخار ایک پھیل گیا اور اس کی تبلیغ کرنےوالےدُور دُور ملکوں یک جاپہنچے۔ اس کے چند صدی بعد میسائی مذہب پیدا ہوا ۔ اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام اسلام کی تعلیم لے کر آئے تھے مگر ان کے بعد عیسائیت کےنام سےایک ناقص مذہب بنا لیا گیا اور عیسائیوں نے اس مذہب کو ایران سےلے کر افریقہ اور یورپ کے دور دراز ملکوں میں پھیلا دیا۔یہ واقعات بتا رہےہیں کہ اس وقت دنیا خود ایک عام انسانی مذہب مانگ رہی تھی اور اس کے لیے یہاں تک تیار ہو گئی تھی کہ جب اُسے کوئی پورا اور صحیح مذہب نہ ملا تو اس نےکچھے اور نا تمام مذہبوں ہی کو انسانی قوموں میں پھیلانا شروع کر دیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت یہ تھا وہ وقت جب تمام دنیا اور تمام انسانی قوموں کے لیے ایک پیغمبر یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب کی سرزمین میں پیدا کیا گیا اور ان کو اسلام کی پوری تعلیم اور تحمل قانون دےکر اس خدمت پر مامور کیا گیا کہ اسےاور سارےجہان میں پھیلا دیں۔

دنیا کا جغرافیہ اٹھاکر دیکھو، تم ایک ہی نظر میں محسوس کر لو گے کہ تمام جہان کی پیغمبری کے لیےروئےزمین پر عرب سےزیادہ موزوں مقام او کوئی نہیں ہےکیا یہ ملک ایشیا اور افریقہ کےعین وسط میں واقع ہے،اور یورپ بھی یہاں سےبہت قریب ہے۔خصوصاً اس زمانہ میں یورپ کی متمدن قومیں زیادہ تر یورپ کےجنوبی حصہ میں آباد تھیں اور یہ حصہ عرب سےاتنا ہی قریب ہےبنا ہندوستان ہے ۔

پر اس زمانہ کی تاریخ پڑھو تم کوسلام ہو گاکر اس نبوت کے لیے اس زمانہ میں عربی قوم سے زیادہ موزوں کوئی قوم نہ تھی۔ دوسری بڑی بڑی قومیں اپنا اپنا زور دکھا کر و یا بے دم ہو چکی تھی اور عربی قوم تازہ دم تھی۔ تمدن کی ترقی سے دوسری قوموں کی عادتیں بگڑ گئی تھیں اور عربی قوم میں اس وقت کوئی ایسا تمدن نہیں تھا جو اس کو آرام طلب اور عیش پسند اور رذیل بنا دیتا۔ چھٹی صدی عیسوی کےعرب اُس زمانےکی متمدن قوموں کےبڑے اثرات سےبالکل پاک تھے۔ ان میں وه تمام انسانی خوبیاں موجود تھیں جو ایک ایسی قوم میں ہوسکتی ہیں میں کو تمدن کی ہوا نہ لگی ہو۔ وہ بہادر تھے ، بے خوف تھے ، فیاض تھے ، حد کے پابند تھےآزاد خیال اور آزادی کو پسند کرنے والے تھے، کسی قوم کے غلام نہ تھے،اپنی عزت پر جان دے دینا ان کےلیے آسان تھا ، نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور عیش و عشرت سےبیگانہ تھے۔اس میں شک نہیں کہ ان میں بہت سی برائیاں بھی تھیں جیسا کہ آگےمل کر تم کو معلوم ہو گا مگر یہ بولیاں اس لیےتھیں کہ ڈھائی ہزار برس سےان کے ہاں کوئی پیغبر ہ آیا تھا۔(١) نہ کوئی ایسا رہنما پیدا ہوا تھا جو ان کے اخلاق درست کرتا اور انہیں تہذیب سکھاتا صدیوں تک ریگستان میں آزادی کی زندگی بسر کرنےکےسبب سےان میں جہالت پھیل گئی تھی،اور وہ اپنی جہالت میں اس قدر سخت ہو گئے تھے کہ ان کو آدمی بنانا کسی معمولی انسان کے بس کا کام نہ تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ان میں یہ قابلیت ضرور موجود تھی کہ اگر کوئی زبر دست انسان ان کی اصلاح کر دے اور اس کی تعلیم کے اثر سے وہ کسی اعلیٰ درجہ کے مقصد کو لے کر اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کو زیر و زیر کر ڈالیں۔پیغمبر عالم کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے ایسی ہی جوان اور طاقتور قوم کی ضرورت تھی۔

اس کے بعد عربی زبان کو دیکھو۔ تم جب اس زبان کو پڑھو گے اور اس کے علم ادب کا مطالعہ کرو گے توتم کو معلوم ہوگا کہ بند خیالات کو ادا کرنے اور خدائی علم کی نهایت نازک اور باریک باتیں کرنے اور دلوں میں اثر پیدا کرنےکےلیےاس سےزیادہ موزوں کوئی زبان نہیں ہے ۔ اس زبان کے مخصہ حملوں میں بڑےبڑےمضامین ادا ہو جاتےہیں۔اور پھر ان میں ایسا زور ہوتا ہےکہ دلوں میں تیر و نشتر کی طرح اثر کرتے ہیں۔ ایسی شیرینی ہوتی ہے کہ کانوں میں رس پڑتا معلوم ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہوتا ہے کہ آدمی بے اختیار جھومنے لگتا ہے۔قرآن جیسی کتاب کے لیے ایسی ہی بان کی ضرورت تھی۔

(١)حضرت ابراہیم اور حضرت امیل علیها السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دھاتی ہزار برس پہلے گزر چکا تھا۔ اس لمبی مدت کے اندر کوئی پیغمبر عرب میں پیدا نہیں ہوا۔

پس اللہ تعالیٰ کی یہ بہت بڑی حکمت تھی کہ اس نے تمام جہان کی پیغمبری کے لیے عرب کے مقام کو منتخب کیا۔ آؤ اب ہم تمھیں بتائیں کہ میں ذات مبارک کو اس کام کے لیے پسند کیا گیا وہ کیسی بے نظیر تھی ۔

نبوت محمدی کا ثبوت ذرا ایک ہزار چار سو برس پیچھے پلٹ کر دیکھو، دنیا میں نہ تار برقی تھی ،نہ ٹیلیفون تھے ، نہ ریل تھی، نہ چھاپے خانے تھے، نہ اخبار اور رسالے شائع ہوتےتھے،نہ کتابیں چھپتی تھیں ، نہ سفر اور سیاحت کی وہ آسانیاں تھیں جو آج کل پائی جاتی ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک تک جانے میں مہینوں کی مسافت طے کرنی پڑتی تھی۔ ان حالات میں دنیا کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے ارد گرد ایران ، روم اور مصر کے ملک تھے جن میں کچھ علوم و فنون کا چرچا تھا۔ مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نےعرب کو ان سب سے جدا کر رکھا تھا۔عرب سود اگر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کر کے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے۔ مگر یہ تعلق صرف مال کی خرید و فروخت کی حد تک تھا۔ خود عرب میں کوئی اعلیٰ درجہ کا تمدن نہ تھا،نہ کوئی مدرسہ تھا، نہ کوئی کتب خانہ تھا نہ لوگوں میں تعلیم کا چرچاتھا۔تمام ملک میں گنتی کے چند لوگ تھے جن کو کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اُس زمانے کےعلوم وفنون سے آشنا ہوتے۔ وہاں کوئی باقاعدہ حکومت بھی نہ تھی۔ کوئی قانون بھی نہ تھا۔ ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا ۔ آزادی کے ساتھ لوٹ مار ہوتی تھی ۔آئےدن خونریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔آدمی کی جان کوئی قیمت ہی نہ رکھتی تھی جس کا جس پریس چلتا اُسے مار ڈالتا اور اس کے مال پر قبضہ کر لیتا۔ اخلاق اور تہذیب کی اُن کو ہوا تک نہ گئی تھی ۔ بدکاری اور شراب خوری اور جوئے بازی کا بازار گرم تھا۔لوگ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف بر ہنہ ہو جاتے تھے۔ اور تہیں تک نگی ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ حرام وحلال کی کوئی تیز تھی۔ عربوں کی آزادی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی قاعدے ، کسی قانون، کسی منابطہ کی پابندی کےلیے تیار نہ تھا ، نہ کسی حاکم کی اطاعت قبول کر سکتا تھا۔ اس پر جہالت کی یہ کیفیت کہ ساری قوم پتھر کے بتوں کو پوجتی تھی۔ راستہ چلتے ہیں کوئی اچھا سا چکنا پتھرمل جاتا تو اسی کو سامنے رکھ کر پرستش کر لیتے تھے۔ یعنی جو گرد میں کسی کےسامنے نہ جھکتی تھیں وہ پتھروں کے سامنے جھک جاتی تھیں ، اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ پتھر ان کی حاجت روائی کریں گے۔

ایسی قوم اور ایسےحالات میں ایک شخص پیدا ہوتا ہےبچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہےاس لیےاس گئی گزری حالت میں جو تربیت مل سکتی تھی وہ بھی اس کو نہیں ملتی- ہوش سنبھالتا ہےتو عرب لڑکوں کے ساتھ بکریاں چرانے لگتا ہے ۔ جوان ہوتا ہے تو سوداگری میں لگ جاتا ہے۔اٹھنا بیٹھنا ، ملنا جلنا سب انھی عربوں کے ساتھ ہے جن کی حالت تم نے اوپر دیکھی ہے تعلیم کا نام تک ہیں حتی کہ پڑھنا بھی نہیں آتا۔ مگراس کے باوجود اس کی عادتیں، اس کے اخلاق،اس کے خیالات سب سے جدا ہیں۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں ہوتا۔ کسی سے بدکلامی نہیں کرتا۔ اس کی زبان میں سختی کےبجائے شیرینی ہے اور وہ بھی ایسی کہ لوگ اس کے گردیدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ کسی کا ایک پیسہ بھی نا جائز طریقہ سےنہیں لیتا، اس کی ایمانداری کا حال یہ ہےکہ لوگ اپنےقیمتی مال اس کےپاس حفاظت کےلیےرکھواتےہیں اور وہ ہر ایک کےمال کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرتا ہےساری قوم اس کی دیانت پر بھروسہ کرتی ہےاور اسےامین کے نام سے پکارتی ہےاس کی شرم وحیا کا یہ حال ہےکہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے اس کو برہنہ نہیں دیکھا۔ اس کی شائستگی کا یہ حال ہے کہ ہر تمیز اور گندے لوگوں میں پلنے اور رہنے کے باوجود ہر بد تمیزی اور ہر گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں صفائی اور ستھرائی پائی جاتی ہے۔ اس کے خیالات اتنے پاکیزہ ہیں کہ اپنی قوم کو لوٹ مار اور خونریزی کرتے دیکھ کر اس کا دل دکھتا ہےاور وہ لڑائیوں کےکےقع پر صلح و صفائی کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ دل ایسا نرم ہے کہ ہر ایک کے دُکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔ یتمیوں اور بیواؤں کی مدد کرتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ مسافروں کی میزبانی کرتا ہےکسی کو اس سےدکھ نہیں پہنچتا اور وہ خود دوسروں کی خاطر دکھ اٹھاتا ہے ۔ پھر عقل ایسی صحیح ہے کہ بت پرستوں کی اس قوم میں رہ کر بھی وہ بہتوں سے نفرت کرتا ہے کبھی کس مخلوق کے آگے سر نہیں جھکاتا۔ اس کے اندر سے خود بخود آواز آتی ہے کہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں نظر آتی ہیں ، ان میں سے کوئی پوچھنے کے لائق نہیں۔ اس کا دل آپ سے آپ کہتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہو سکتا ہے اور ایک ہی ہے ۔ اس جاہل قوم میں یہ شخص ایسا ممتاز نظر آتا ہے گویا پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا چمک رہا ہے۔یا گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک شمع روشن ہے ۔

چالیس برس کے قریب اس طرح پاک،صاف اور اعلی درجه کی شریفانہ زندگی بسر کرنے کے بعد یہ شخص اُس تاریکی سے جو اس کےچاروں طرف پھیلی ہوئی تھی گھبرا اٹھتا ہے۔جہالت. بداخلاقی،بد کرداری،بد نظمی اور شرک و بت پرستی کا یہ ہولناک سمندر جو اس کے گھیرےہوئےتھا،اس سےوہ نکل جانا چاہتا ہےکیونکہ یہاں کوئی چیز بھی اس کی طبیعت کےمناسب نہیں۔آخر وہ آبادی سےدور ایک پہاڑ کے فار میں جاجا کر تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارنے لگتا ہے۔ فاقے کر کر کے اپنی روح اور اپنےدل و دماغ کو اور زیادہ پاک صاف کرتا ہےسوچتا ہے،غور و فکر کرتا ہے اور کوئی روشنی ڈھونڈھتا ہےجس سےوہ اس چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی کو دور کر دےایسی قوت و طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اس بگڑی ہوئی دُنیا کو تو پھوڑ کر پھر سے سنوار دے ۔

یکایک اس کی حالت میں ایک عظیم الشان تغییر رونما ہوتا ہے۔ ایک دم سے اس کے دل میں وہ روشنی آجاتی ہےجیس کو اس کی فطرت مانگ رہی تھی۔اچانک اس کےاندر وہ طاقت بھر جاتی ہےجس کا ظہور اس سےپہلےکبھی نہ ہوا تھا۔وہ غار کی تنہائی سےنکل آتا ہےاپنی قوم کےپاس آتا ہےاس سے کہتا ہےکہ یہ بت کسی کام کے نہیں،انھیں چھوڑ دو۔یہ زمین،یہ چاند،یہ سورج یہ تارے،یہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ وہی تمھارا پیدا کرنےوالا ہے۔وہی رزق دینے والا ہے ۔ وہی مارنے اور جلانے والا ہے۔سب کو چھوڑ کر اسی کو پوچھو۔ سب کو چھوڑ کر اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو ۔ یہ چوری ، یہ ٹوٹ مار، یہ شراب خوری ، یہ جوڑا ، یہ بدکاریاں جو تم کرتے ہو سب گناہ ہیں۔ انہیں چھوڑ دو،خدا انھیں پسند نہیں کرتا۔سچ بولو ، انصاف کرو ، نہ کسی کی جان لو ، نہ کسی کامل چیز جو کچھ وقت کے ساتھ لو، جوکچھ دین کے ساتھ دو۔ تم سب انسان ہو ،انسان اور انسان سب برابر ہیں، بزرگی اور شرافت انسان کی نسل اور نسب میں نہیں، رنگ روپ اور مال و دولت میں نہیں ، خدا پرستی نیکی اور پاکیزگی میں ہے ۔ جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور نیک اورپاک ہے وہی اعلی درجہ کا انسان ہے اور جو ایسا نہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ مرنے کے بعد تم سب کو اپنےخدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس عادل حقیقی کے ہاں نہ کوئی سفارش کام آئےگی، نہ رشوت چلے گی ، نہ کسی کا نسب پوچھا جائے گا۔ وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہو گی۔ جس کے پاس یہ سامان ہو گا ، وہ جنت میں جائے گا اور جس کے پاس ان میں سےکچھ نہ ہو گا وہ نامراد دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

جاہل قوم نے اُس نیک انسان کو محض اس تصویر میں سنانا شروع کیا کہ وہ یہی باتوں کو برا کیوں کہتا ہے جو باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی چلی آرہی ہیں اور اُن باتوں کی تعلیم کیوں دیتا ہے جو بزرگوں کےطریقے کے خلاف ہیں۔ اسی قصور پر انھوں نے اسے گالیاں دیں ، پتھر مارے ، اس کے لیے مینا مشکل کردیا اس کےقتل کی سازشیں کیں۔ ایک دن دو دن نہیں ، اکٹھے تیرہ برس تک سخت سے سخت ظلم توڑے ، یہاں تک کہ اسے وطن چھوڑنے پرمجبور کرایا۔اور پھر وطن سے نکال کر بھی دم نہ لیا۔ جہاں اس نے پناہ لی تھی وہاں بھی کتنی برس اس کو پریشان کرتے رہے ۔

یہ سب تکلیفیں اُس نیک انسان نے کس لیے اٹھائیں ؟ صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کو سیدھا راستہ بتانا چاہتا تھا۔ اس کی قوم اسے بادشاہی دینےکےلیےتیار تھی،دولت کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈالنے پر آمادہ تھی، بیٹی کےوہ اپنی اس تعلیم سے باز آجائے ۔ مگر اس نے سب چیزوں کو ٹھکرا دیا اور اپنی بات پر قائم رہا۔کیا اس سے بڑھ کر نیک دلی اور صداقت تمھارےخیال میں آسکتی ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدے کی خاطر نہیں محض دوسروں کے بھلےکی خاطر تخلیفیں اٹھا ئے ؟ وہی لوگ جن کے فائدے کے لیے وہ کوشش کر رہا ہے اس کو پتھر مارتے ہیں اور وہ ان کے لیے دُعائے خیر کرتا ہے ۔ انسان تو کیا فرشتے بھی اس کی نیکی پر قربان جائیں۔

پھر دیکھو،شخص اپنے فار سے یہ تعلیم لےکر نکلا تو اس میں کتنا بڑا انقلاب ہو گیا۔اب جو کلام وہ منا رہا تھا، وہ ایسا فصیح و بلیغ تھا کہ کسی نے نہ اس سے پہلے ایسا کلام کہا نہ اس کے بعد کوئی کہہ سکا۔ عرب والوں کو اپنی شاعری اپنی خطابت ، اپنی فصاحت پر بڑا ناز تھا۔ اس نے عربوں سے کہا کہ تم ایک ہی شورت اس کلام کے مانند بنا لاؤ۔ مگر سب کی گردنیں عاجزی سے جھک گئیں۔حد یہ ہے کہ خود اس شخص کی اپنی بول چال اور تقریر کی زبان بھی اتنی اعلیٰ درجہ کی نہ تھی جتنی اس خاص کلام کی تھی۔ چنانچہ آج بھی جب ہم اس کی دوسری تقریروں کا مقابلہ اُس کلام سے کرتے ہیں تو دونوں میں نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔

اس نے ، اُس ان پڑھ صحرانشین انسان نے حکمت اور دانائی کی ایسی باتیں کنی شروع کیں کہ نہ اس سے پہلے کسی انسان نے کسی تھیں ، نہ اس کے بعد آج تک کوئی کہ سکا ، نہ چالیس برس کی عمر سے پہلے خود اس کی زبان سے وہ کبھی سنی گئی تھیں۔

اس آمی نےاخلاق ،معاشرت، معیشت ، سیاست اور انسانی زندگی کےتمام معاملات کے متعلق ایسے قانون بناتےکہ بڑے بڑے عالم اور عاقل برسوں کےغور و خوف اور ساری عمر کے تجربات کے بعد مشکل ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتےہیں اور دنیا کے تجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔تیرہ سو برس سےزیادہ مدت گزر چکی ہےمگر آج بھی اس کےبنائےہوئےقانون ہیں کسی ترسیم کی گنجائش نظر نہیں آتی ۔ دنیا کے قانون ہزاروں مرتبہ بنے اور نیڑے،ہر آزمائش میں ناکام ہوئے اور ہر بار اُن میں ترمیم کرنی پڑی۔ مگر اس صحرانشین امی نے تن تنہا بغیر کسی دوسرے انسان کی مدد کے جو قانون بنا دیے ان کی کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں جو اپنی جگہ سے ہٹائی جا سکتی ہو۔

اُس نے تیس برس کی مدت میں اپنے اخلاق ، اپنی نیکی و شرافت اور اپنی اعلیٰ تعلیم کے زور سے اپنے دشمنوں کو دوست بنایا ، اپنے مخالفوں کو موافق بنایا،بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلہ میں اٹھیں اور آخر کار شکست کھا کر اس کے قدموں میں آرہیں۔ اس نے جب فتح پائی تو کسی دشمن سے بدلہ نہ لیا۔ کسی پر سختی نہ کی۔ جنھوں نے اس کے حقیقی چا کو قتل کیا تھا اور اس کا کلیجہ نکال کر چھا گئے تھے، ان کو بھی فتح پاکر اس نے معاف کر دیا۔جنھوں نے اس کو پتھر مارے تھے،اس کو وطن سے نکالا تھا،ان کو فتح پا کر اس نےبخش دیا۔اس نےکبھی کسی سےدغانہ کی عهد کر کےکبھی نہ توڑا،جنگ میں بھی کسی پر زیادتی نہ کی، اس کے سخت سےسخت دشمن بھی کبھی اس پر کسی گناہ یا ظلم کا الزام نہ رکھ سکے۔ یہی نیکی تھی جس نےبالآخر تمام عرب کا دل موہ لیا۔ پھر اس نے اپنی تعلیم و ہدایت سے اُنھی عربوں کو جن کا حال تم او پر پڑھ چکے ہو،وحشت اور جہالت سے نکال کر اعلی درجہ کی مہذب قوم بنا دیا۔ جو عرب کسی قانون کی پابندی پر تیار نہ تھے ، ان کو اس نے ایسا پابند قانون بنا دیا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی قوم ایسی پابند قانون نظر نہیں آتی۔جو عرب کسی کی اطاعت پر آمادہ نہ تھے ، اس نے ان کو ایک عظیم الشان سلطنت کا تابع بنا دیا۔ جن لوگوں کو اخلاق کی ہو ا تک نہ لگی تھی ان کے اخلاق ایسے پاکیزہ بنا ہےکہ آج ان کے حالات پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے ۔ جو عرب اُس وقت دنیا کی قوموں میں سب سے زیادہ پست تھے وہ اس تنہا انسان کے اثر سے ٹھیکیں برس کے اندریکا یک ایسے زبردست ہو گئے کہ انھوں نےایران ، روم اور مصر کی عظیم الشان سلطنتوں کے تختے الٹ دیئے۔ دنیا کو تمدن ، تہذیب ، اخلاق اور انسانیت کا سبق دیا اور اسلام کی ایک تعلیم اور ایک شریعیت کو لے کر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے دور دراز گوشوں تک پھیلتے چلے گئے۔

یہ تو وہ اثرات ہیں جو عرب قوم پر ہوئے ۔ اس سے زیادہ حیرت انگیز اثرات اس آنتی کی تعلیم سے تمام دنیا پر ہوئےاس نے ساری دنیا کےخیالات،عادات اور قوانین میں انقلاب پیدا کر دیا۔اُن کو چھوڑو جنھوں نے اس کو اپنا رہنما ہی مان لیا ہے۔ مگر حیرت یہ ہے کہ جنھوں نے اس کی پیروی سے انکار گیا، جو اس کے مخالف ہیں، اس کے دشمن ہیں ، وہ بھی اس کے اثرات سےنہ بچ سکے۔ دنیا توحید کا سبق بھول گئی تھی ، اُس نے یہ سبق پھر سے یاد دلایا اور اتنے زور کے ساتھ اس کا صور پھونکا کہ آج بت پرستوں اور مشرکوں کے مذہب بھی توحید کا دعوی کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اس نے اخلاق کی ایسی زبر دست تعلیم دی کہ اس کے بنائے ہوئے اصول تمام دنیا کے اخلاقیات میں پھیل گئے اور پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ اس نے قانون اور سیاست اور تہذیب و معاشرت کے جو اصول بتاتے وہ ایسے بچے اور بچے اصول تھے کہ مخالفوں نے بھی چپکے چپکے ان کی خوشہ چینی شروع کردی اور آج تک کیے جارہے ہیں۔

جیسا کہ تم کو اوپر بتایا جاچکا ہے ، یہ شخص ایک جاہل قوم اور ایک نہایت تاریک ملک میں پیدا ہوا تھا۔ چالیس برس کی عمر تک گلہ بانی اور سوداگری کےسوا اس نے کوئی کام نہ کیا تھا۔ کسی قسم کی تعلیم وتربیت بھی اس نے نہ پائی تھی۔گر غور کرو ، چالیس برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد کہاں سے اس کے اندر یکایک اتنے کمالات جمع ہو گئے ؟ کہاں سے اس کے پاس ایسا علم آگیا ؟ کہاں ہےاس میں یہ طاقت پیدا ہو گئی ؟ ایک اکیلا انسان ہے اور ایک ہی وقت ہیں بے نظیر سپہ سالار بھی ہے،ایک اعلی درجہ کا حج بھی ہے ، ایک زبر دست متفنن بھی ہےایک بے مثل فلاسفر بھی ہے ، ایک لاجواب مصلح اخلاق و تمدن بھی ہے، ایک غیرت انگیز ماہر سیاست بھی ہے۔پھر اتنی مصروفیتوں کےباوجود وہ راتوں کو گھنٹوں اپنے خدا کی عبادت بھی کرتا ہے ۔اپنی بیویوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہے ۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت بھی کرتا ہے ۔ ایک بڑے ملک کی بادشاہی مل جانے پر بھی وہ ایک فقیر کی سی زندگی بسر کرتا ہے ۔ بوریے پر سوتا ہے۔ موٹا جھوٹا پہنتا ہے۔ غریبوں کی سی غذا کھاتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی فاقے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔

یہ حیرت انگیز کمالات دکھا کر اگر وہ کہتا کہ میں انسان سے بالا تر ہستی ہوں تب بھی کوئی اس کے دعوے کی تردید نہ کرسکتا تھا۔ مگر جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ؟ اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب میرے اپنے کمالات ہیں ۔ ہنس نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں ، سب کچھ خدا کا ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے جو کلام پیش کیا ہے ، جس کی نظیر لانے سے سب انسان عاجز ہیں ، یہ میرا کلام نہیں ہےنہ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ ہے۔یہ خدا کا کلام ہے اور اس کی ساری تعریف خدا کےلیے ہے۔ میرے جتنے کام ہیں یہ بھی میری اپنی قابلیت سے نہیں ہیں، محض خدا کی ہدایت سے ہیں ادھر سے جو کچھ اشارہ ہوتا ہے وہی کرتا ہوں اور وہی کہتا ہوں ۔ اب بتاؤ کہ ایسے سچےانسان کو خدا کا پیغمبر کیسےنہ مانا جائےہےاس کےکمالات ایسےہیں کہ تمام دنیا میں ابتدا سے لے کر آج تک ایک انسان بھی اس کےمانند نہیں تھا۔مگر اس کی سچائی ایسی ہےکہ وہ ان کمالات پر فخر نہیں کرتا۔ان کی تعریف خود حاصل نہیں کرنا چاہتا۔بلکہ میں نے یہ سب کچھ دیا ہے صاف صاف اسی کا حوالہ دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں ؟ جب وہ خود اپنی خوبیوں کےمتعلق کہتا ہے کہ یہ خدا کی دی ہوئی ہیں،تو ہم کیوں کہیں کہ نہیں یہ سب کیسےاپنےدماغ کی پیداوار ہیں؟جھوٹا آدمی تو دوسروں کی خوبیوں کو بھی اپنی طرف خوب کرنےکی کوشش کرتا ہے۔مگر یہ شخص ان خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جنھیں وہ آسانی کے ساتھ اپنی خوبیاں کہ سکتا تھا،جن کے حل ہونے کا ذریعہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہو سکتا ، جن کی بنا پر اگر وہ انسان سے بالاتر ہونے کا بھی دعوی کرتا تو کوئی اس کی تردید نہ کر سکتا تھا۔ پھر بتاؤ کہ اس سے زیادہ سچا انسان کون ہوگا۔

دیکھو ، یہ ہیں ہمارے سرکار ، تمام جہان کے پیغمبر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیغمبری کی دلیل خود ان کی سچائی ہے۔ ان کے عظیم الشان کارنامےان کےاخلاق،ان کی پاک زندگی کے واقعات،سب تاریخوں سے ثابت ہیں جو شخص صاف دل سے حقی پسندی اور انصاف کے ساتھ ان کو پڑھے گا اس کا دل خود گواہی دے گا کہ وہ ضرو ر خدا کے پیغمبر ہیں۔ وہ کلام جو انھوں نے پیش کیا وہ یہی قرآن ہے جسے تم پڑھتے ہو ۔ اس بے نظیر کتاب کو جو شخص بھی سمجھ کر کھلے دل سے پڑھے گا ، اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ ضرور خدا کی کتاب ہے۔کوئی انسان ایسی کتاب تصنیف نہیں کر سکتا۔

ختم نبوت اب تم کو جانا چاہیےکہ اس زمانہ میں اسلام کا سچا اور سیدھا راستہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ محمد مصطفے صلی الہ علیہ وسلم کی تعلیم اور قرآن مجید کےسوا نہیں ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام نوع انسانی کےلیےخدا کے پغمبر ہیں۔ ان پر پیغمبری کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو جس قدر ہدایت دینا چاہتا تھا ،وہ سب کی سب اس نے اپنےآخری پیغمبر کے ذریعہ بھیج دی۔اب جو شخص حق کا طالب ہو اور خدا کا مسلم بندہ بنا چاہتا ہو اس پر لازم ہےکہ خدا کےآخری پیغمبر پر ایمان لائےجو کچھ تعلیم انھوں نے دی ہے اس کو مانے اور جو طریقہ انھوں نے بتایا ہےاس کی پیروی کرے ۔

ختم نبوت پر دلائل پیغمبری کی حقیقت ہم نےتم کو پہلےبتادی ہے۔اس کو سمجھنےاور اس پر غور کرنےسےتم کو خود معلوم ہو جائےگا کہ پیغمبر روز روز پیدا نہیں ہوتے،نہ یہ.ضروری ہے کہ ہر قوم کے لیے ہر وقت ایک پیغمبر ہو۔ پیغمبر کی زندگی در اصل اس کی تعلیم و ہدایت کی زندگی ہے۔جب تک اس کی تعلیم اور ہدایت زندہ ہے،اس وقت تک گویا وہ خود زندہ ہے۔پچھلےپیغمبر مرگئے،کیونکہ جو تعلیم انھوں نےدی تھی دنیا نےاس کو بدل ڈالا۔جو کتاہیں وہ لائےتھےان میں سے ایک بھی آج اصلی صورت میں موجود نہیں۔ خود ان کے پیرو بھی یہ دعوئی نہیں کرسکتےکہ ہمارےپاس پیغمبروں کی دی ہوئی اصلی کتابیں موجود ہیں انھوں نے اپنےپیغمبروں کی سیرتوں کو بھی بھلا دیا۔پچھلےپیغمبروں میں سےایک کےبھی صحیح اور معتبر حالات آج کہیں نہیں ملتےبھی یقین کےساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کسی زمانہ میں پیدا ہوتے ہو کہاں پیدا ہوئے ؟ کیا کام انھوں نے کیے؟ کس طرح زندگی بسر کی بہ کن باتوں کی تعلیم دی اور کن باتوں سے روکا ؟ یہی ان کی موت ہے۔ گر تو صلی للہ علیہ وسلم زندہ ہیں ، کیونکہ ان کی تعلیم وہدایت زندہ ہے۔ جو قرآن انھوں نےدیا تھا وہ اپنےاصلی الفاظ کےساتھ موجود ہے۔اس میں ایک حرف، ایک نقطہ،ایک زیر و زبر کا بھی فرق نہیں آیا۔ اُن کی زندگی کےحالات ، اُن کے اقوال ، اُن کے افعال سب کے سب محفوظ ہیں۔ اور تیرہ سو برس سےزیادہ مدت گزر جانےکےبعد بھی تاریخ میں ان کا نقشہ ایسا صاف نظر آتا ہے کہ گویا ہم خود آنحضرت کو دیکھ رہےہیں۔دنیا کےکسی شخص کی زندگی بھی اتنی محفوظ نہیں معنی آنحضرت کی زندگی محفوظ ہے۔ہم اپنی زندگی کےہر معاملہ میں ہر وقت آنحضرت کی زندگی سے سبق لے سکتے ہیں۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت کے بعد کسی دوسرے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔

ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آنے کی صرف تین وجہیں ہو سکتی ہیں : (١) یا تو پہلے پیر کی تعلیم وہدایت مٹ گئی ہو اور اس کو پھر پیش کرنےکی ضرورت ہو۔ (٢) یا پہلے پیغمبر کی تعلیم مکمل نہ ہو اوراس میں ترمیم یا اضافہ کی ضرورت ہوں۔ (٣) یا پہلے پیغمبر کی تعلیم ایک خاص قوم تک محدود ہو اور دوسری قوم یا قوموں کے لیے دوسرے پیغمبر کی ضرورت ہو(١)٠

یہ تینوں وجہیں اب باقی نہیں رہیں ۔ (١) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسل کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے اور وہ ذرائع پوری طرح محفوظ ہیں جن سے ہر وقت یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ حضور کا دین کیا تھا کیا ہدایت لے کر آپ آئے تھے ، کس طریق زندگی کو آپ نے رائج کیا اور کن طریقوں کو آپ نے مٹانے اور بند کرنے کی کوشش فرمائی پیش جب کہ آپ کی تعلیم و ہدایت مٹی ہی نہیں تو اس کو از سر نو پیش کرنے سےلیے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

(٢) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دنیا کو اسلام کی مکمل تعلیم دی جاچکی ہے۔اب نہ اس میں کچھ گھٹا نے بڑھانے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی ایسا نقص باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لیے کسی نبی کے آنے کی حاجت ہو ۔ لهذا دوسری وجہ بھی دُور ہو گئی ۔

(١) ایک چوتھی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک پیغمبر کی موجودگی میں اس کی مدد کےلیے دوسرا پیغمبر بھیجا جائے۔لیکن ہم نےاس کا ذکر اس لیےنہیں کیاکہ قرآن مجید میں اس کی صرف دو مثالیں مذکور ہیں۔اور ان مستنثنی مثالوں سےیہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مددگار پیغمبر بھیجنےکا کوئی عام قاعدہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔

(٣) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کےلیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور تمام انسانوں کے لیے آپ کی تعلیم کافی ہے۔لهذا اب کسی خاص قوم کے لیے الگ نبی آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔اس طرح تیسری وجہ بھی دور ہو گئی ۔

اسی بنا پر آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو خاتم النبین کہا گیا ہےیعنی سلسله نبوت کو ختم کر دینے والا۔ اب دنیا کو کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہیں ہےبلکہ صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقہ پر خود چلیں اور دوسروں کو چلائیں۔آپ کی تعلیمات کو سمجھیں،ان پر عمل کریں اور دنیا میں اس قانون کی حکومت قائم کریں جس کو لے کر آنحضرت تشریف لاتے تھے ۔

باب چهارم - ایمان مفصل

ایمان مفصل خدا پر ایمان لا الہ الا اللہ کے معنی لا الہ الا الہ کی حقیقت انسان کی زندگی پر عقیدہ توحید کا اثر۔ خدا کے فرشتوں کےایمان - خدا کی کتابوں پرایمان۔ خدا کے رسولوں پر ایمان آخرت پر ایمان - عقیدہ آخرت کی ضرورت عقیدہ آخرت کی صداقت کلمہ طیبہ

آگے بڑھنے سے پہلے تم کو ایک مرتبہ پھر ان معلومات کا جائزہ لے لینا چاہیے جو تمھیں پچھلے ابواب میں حاصل ہوتی ہیں۔

(١) اگرچہ اسلام کے معنی خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کے ہیں۔ لیکن چونکہ خدا کی ذات وصفات اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ اور آخرت کی جزا و سزا کا صحیح حال صرف خدا کے پیغمبری کے ذریعہ سے معلوم ہو سکتا ہے اس لیے مذہب اسلام کی صحیح تعریف یہ ہوئی کہ پیغمبر کی تعلیم پر ایمان لانا اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ پرخدا کی بندگی کرنا اسلام ہے"۔جو شخص پیغمبر کےواسطے کو چھوڑ کر براہ راست خدا کی اطاعت و فرماں برداری کا دعوی کرےوہ مسلم نہیں ہے ۔

(٢) قدیم زمانہ میں الگ الگ قوموں کےلیےالگ الگ پیغمبر آتے تھےاور ایک ہی قوم میں یکے بعد دیگرے کئی پیغمبر آیاکرتےتھےاس وقت ہر قوم کےلیے"اسلام اُس مذہب کا نام تھاجو خاص اسی قوم کے پیغمبر یا پیغمبروں نےسکھایا۔اگرچہ اسلام کی حقیقت ہر ملک اورہرزمانےمیں ایک ہی تھی مگر شریعتیں یعنی قوانین اور عبادات کےطریقےکچھ مختلف تھےاس لیےایک قوم پر دوسری قوم کےپیغمبروں کی پیروی ضروری نہ تھی،اگر چہ ایمان لانا سب پر ضروری تھا۔

(٣) حضرت محمد مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم جب پیغمبر بنا کر بھیجےگئےتو آپکےذریعہ سےاسلام کی تعلیم کو مکمل کر دیاگیا۔ اور تمام دنیا کےلیےایک ہی شریعیت بھیجی گئی۔آپ کی نبوت کسی خاص ملک یا قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام اولاد آدم کےلیےہےاور ہمیشہ کےلیے ہے۔اسلام کی جو شریعتیں پچھلےپیغمبروں نےپیش کی تھیں وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر نسوخ کر دی گئیں اور اب قیامت تک نہ کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی دوسری شریعت خدا کی طرف سےاُترنےوالی ہے ۔ لہذا اب " اسلام "صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہے۔آپ کی نبوت کو تسلیم کرنا اور آپ کے اعتماد پر ان سب باتوں کو مانا جن پر ایمان لانے کی آپ نے تعلیم دی ہے اور آپ کے تمام احکام کوخدا کےاحکام سمجھ کر ان کی اطاعت کرنا اسلام ہے۔اب کوئی اور ایسی شخص خدا کی طرف سےآنے والا نہیں ہے جس کو مانا مسلمان ہونے کےلیےضروری ہوا اور جسےنہ ماننےسے آدمی کافر ہو جاتا ہو ۔

آؤ اب ہم تمھیں بتائیں کہحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کن کن باتوں پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے ، وہ کیسی بھی باتیں ہیں اور ان کو ماننے سے انسان کا درجہ کس قدر بلند ہو جاتا ہے ۔

خدا بر ایمان آنحضرت کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ اہم تعلیم یہ ہے : لا اله الا الله (اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے)

یہ کلمہ اسلام کی بنیاد ہے۔ جو چیز مسلم کو ایک کافر، ایک مشرک اور ایک دہریے سے الگ کرتی ہے وہ یہی ہے۔ اسی کلمہ کے اقرار و انکار سے انسان اور انسان کےدرمیان عظیم الشان فرق ہو جاتا ہے۔ اس کو ماننے والے ایک گروہ بن جاتے ہیں اور نہ ماننے والے دوسرا گروہ ۔ اس کے ماننے والوں کےلیے دنیا سے لے کر آخرت تک ترقی ، کامیابی اور سرفرازی ہے۔ اور نہ ماننے والوں کے لیے نامرادی ، ذلت اور پستی ۔

اتنا بڑا فرق جو انسان اور انسان کےدرمیان واقع ہو جاتا ہے ، یہ محض ل،اور لا سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سےجملے کو زبان سے ادا کر دینے کا تیجہ نہیں ہے۔زبان سے اگر تم دس لاکھ مرتبہ کو نین کو نین پکارتے رہو اور کھاؤ نہیں تو تمھارا بخار نہ اترےگا۔اسی طرح اگر زبان سےلا الہ الا اللہ کہہ دیامگر یہ نہ سمجھے کہ اس کے معنی کیا ہیں اور یہ الفاظ کہہ کر تم نے کتنی بڑی چیز کا اقرار کیا ہے، اور اس اقرار سے تم پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد ہو گئی ہے، تو ایسا بے سمجھی کا تلفظ کچھ بھی مفید نہیں۔ در اصل فرق تو اُسی وقت واقع ہو گا جبکہ لا الہ الا اللہ کے معنی تمھارے دل نہیں۔ در اصل فرق تو اُسی وقت واقع ہو گا جبکہ لا الہ الا اللہ کےمعنی تمھارے دل میں اُتر جائیں،اس کےمعنی پر تم کو کامل یقین ہو جائے ، اس کےخلاف جتنےاعتقادات میں ان سےتمھارا دل بالکل پاک ہو جائےاور اس کلمہ کا ا ثر تمھارےدل و دماغ پر کم از کم اتنا ہی گہرا ہو جتنا اس بات کا اثر ہےکہ آگ جلانے والی چیز ہےاور زہر مار ڈالنےوالی چیز ۔ یعنی جس طرح آگ کی خاصیت پر ایمان تم کوچھے میں ہاتھ ڈالنےسےروکتا ہے اور زہر کی خاصیت پر ایمان تم کو زہر کھانےسےباز رکھتا ہے اُسی طرح لا الہ الا اللہ پر ایمان تم کو شرک اور کفر اور دہریت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سے روک دے خواہ وہ اعتقاد میں ہو یا عمل میں ۔

لاالہ الا اللہ کے معنی سب سے پہلےیہ سمجھو کہ "الہ " کسےکہتےہیں٠ عربی زبان میں "الہ" کے معنی "مستحق عبادت" کے ہیں۔ یعنی ایسی ہستی جو اپنی شان اور جلال اور برتری کےلحاظ سے اس قابل ہو کہ اُس کی پرستش کی جائے اور بندگی اور عبادت میں اس کےآگے سر جھکا دیا جائے ۔ "الہ" کے معنی میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ بے انتہا قدرت کا مالک ہو،جس کی وسعت کو سمجھنےمیں انسان کی عقل حیران رہ جائے۔"الہ" کےمفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ خود کسی کا محتاج نہ ہو اور سب اپنی زندگی کے معاملات میں اُس کےمحتاج ہوں اور اس سےمدد مانگنےکےلیےمجبور ہوں۔"الہ"کےلفظ میں پوشیدگی کا مفہوم بھی پایا جاتا ہےیعنی "الہ" اس کو کہیں گےجس کی طاقتیں پراسرار ہوں۔فارسی زبان میں "خدا" اور ہندی میں "دیوتا"۔اور انگریزی میں "گاڈ"کےمعنی بھی اس سےملتےجلتےہیں اور دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی اس مطلب کے لیے مخصوص الفاظ پائے جاتے ہیں۔

لفظ اللہ در اصل خدائے وحدہ لاشریک کا اسم ذات ہے۔لا الہ الا اللہ کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ "کوئی الا نہیں ہےسوائےاس ذات خاص کےجس کا نام اللہ ہے"۔مطلب یہ ہےکہ تمام کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایک ہستی بھی ایسی نہیں جو پوجنےکےلائق ہو۔ اس کےسوا کوئی اس کا مستحق نہیں کہ عبادت اور بندگی و اطاعت میں اس کے آگےسرجھکایا جائے۔صرف وہی ایک ذات تمام جہان کی مالک اور حاکم ہے۔ تمام چیزیں اس کی محتاج ہیں ۔سب اسی سےمدد ما نگنےپر مجبور ہیں۔ وہ جو اس سےپوشیدہ ہے اور اس کی ہستی کو سمجھنے میں عقل دنگ ہے

لا الہ الا اللہ کی حقیقت یہ تو صرف الفاظ کا مفہوم تھا۔ اب اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔انسان کی قدیم سے قدیم تاریخ کےجو حالات ہم تک پہنچےہیں،اور پرانی سےپرانی قوموں کے جو آثار دیکھے گئے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہےکہ انسان نےہر زمانے میں کسی نہ کسی کو خدا مانا ہےاور کسی نہ کسی کی عبادت ضرور کی ہےاب بھی دنیا میں جتنی قومیں ہیں،خواہ وہ نہایت وحشی ہوں یا نہایت مہذب،ان سب میں یہ بات موجود ہےکہ وہ کسی کو خدا مانتی ہیں اور اس کی عبادت کرتی ہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ انسان کی فطرت میں خدا کا خیال بیٹھا ہوا ہے۔اس کے اندر کوئی ایسی چیز ہےجو اُسےمجبور کرتی ہے کہ کسی کو خدا مانے اور اس کی عبادت کرے ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ تم خود اپنی ہستی پر اور تمام انسانوں کی حالت پر نظر ڈال کر اس سوال کا جواب معلوم کر سکتے ہو۔

انسان در اصل بندہ ہی پیدا ہوا ہے۔وہ فطرتا محتاج ہے،کمزور ہے،فقیر ہے۔ بے شمار چیزیں ہیں جو اس کی ہستی کو برقرار رکھنےکےلیےضروری ہیں،مگر اس کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں، آپ سے آپ اس کو حاصل بھی ہوتی ہیں اور اس سے چھین بھی جاتی ہیں۔

بہت سی چیزیں ہیں جو اس کے لیے فائدہ مند ہیں۔ وہ ان کو حاصل کرنا چاهتا ہےمگر کبھی وہ اس کو مل جاتی ہیں اور کبھی نہیں ملتیں۔ کیونکہ ان کو حاصل کرنا بالکل اس کے اختیار میں نہیں ہے۔

بہت سی چیزیں ہیں جو اس کو نقصان پہنچاتی ہیں،اس کی عمر بھر کی محنتوں کو آن کی آن میں برباد کر دیتی ہیں،اس کی آرزووں کو خاک میں ملا دیتی ہیں،اس کو بیماری اور ہلاکت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔وہ ان کو دفع کرنا چاہتا ہے۔کبھی وہ دفع ہو جاتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتیں۔اس سےوہ جان لیتا ہے کہ ان کا آنا اور نہ آنا، دفع ہونا یا نہ ہونا اس کے اختیار سے باہر ہے۔

بہت سی چیزیں ہیں جن کی شان و شوکت اور بزرگی کو دیکھ کر دہ مرعوب ہو جاتا ہے۔پہاڑوں کو دیکھتا ہے ، دریاؤں کو دیکھتا ہے ، بڑے بڑے ہولناک جانور دیکھتا ہے،ہواؤں کےطوفان اور پانی کے سیلاب اور زمین کےزلزلےدیکھتا ہے،بادلوں کی گرج اور گھٹاؤں کی سیاہی اور بجلی کی کڑک چمک اور موسلا دھار بارش کےمناظر اس کےسامنےآتےہیں،سورج اور چاند اور تارےاس کو گردش کرتےدکھائی دیتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہےکہ سب چیزیں کتنی بڑی،کتنی طاقتور کتنی شان دار ہیں اور ان کےمقابلہ میں وہ خود کتنا ضعیف اور حقیر ہے۔

یہ مختلف نظارے اور خود اپنی مجبوریوں کے مختلف حالات دیکھ کر اس کےدل میں آپ سے آپ اپنی بندگی،محتاجی اور کمزوری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔اور جب یہ احساس پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی خود بخود الوبیت یعنی خدائی کا تصور بھی پیدا ہو جاتا ہے۔وہ اُن ہاتھوں کا خیال کرتا ہےجو اتنی بڑی طاقتوں کےمالک ہیں۔ان کی بزرگی کا احساس اسےمجبور کرتا ہےکہ وہ ان کی عبادت میں سرجھکا دے۔اُن کی قوت کا احساس اسےمجبور کرتا ہےکہ وہ اُن کےآگےاپنی عاجزی پیش کرےاُن کی نفع پہنچانے والی قوتوں کا احساس اسے مجبور کرتا ہےکہ وہ ان کے آگے مشکل کشائی کےلیےہاتھ پھیلاتے،اور ان کی نقصان پہنچانےوالی طاقتوں کا احساس اُسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اُن سے خوف کھائے اور اُن کےغضب سے بچے ۔

جہالت کےسب سےنیچےدرجہ میں انسان یہ سمجھتا ہےکہ جو چیزیں اس کو شان اور طاقت والی نظر آتی ہیں یا کسی طرح نفع یا نقصان پہنچاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں یہی خدا ہیں۔چنانچہ وہ جانوروں اور دریاؤں اور پہاڑوں کو پوجتا ہے،زمین کی پرستش کرتا ہے،آگ اور بارش اور ہوا اور چاند اور سورج کی عبادت کرنے لگتا ہے۔

یہ جہالت جب ذرا کم ہوتی ہے اور کچھ علم کی روشنی آتی ہےتو اسے معلوم ہوتا یہ سب چیزیں تو خود اسی کی طرح محتاج اور کمزور ہیں۔ بڑے سے بڑا جانور بھی ایک ادنی مچھر کی طرح مرتا ہے۔بڑے بڑے دریا خشک ہو جاتےہیں اور چڑھتےاُترتےرہتےہیں۔پہاڑوں کو خود انسان توڑتا پھوڑتا ہے۔زمین کا پھلنا پھولنا اور زمین کےاپنےاختیار میں نہیں،جب پانی اس کا ساتھ نہیں دیتا تو وہ خشک ہو جاتی ہے۔پانی بھی بے اختیار ہےاس کی آمد ہوا کی محتاج ہےہوا بھی اپنےاختیار میں نہیں۔اس کامفید یا غیرمفید ہوتا دوسرے اسباب کے تحت ہے۔ چاند اور سورج اور تارے بھی کسی قانون کے تابع ہیں۔اُس قانون کےخلاف وہ کوئی ادنی اجنبش بھی نہیں کرسکتے۔اب اُس کا ذہن مخفی اور پراسرار قوتوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔وہ خیال کرتا ہےکہ ان ظاہری چیزوں کی پشت پر کچھ پوشیدہ قوتیں ہیں جو ان پر حکومت کر رہی ہیں اور سب کچھ انھی کےاختیار میں ہے۔یہیں سےخداؤں اور دیوتاؤں کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے۔ روشنی اور ہو اور پانی اور بیماری و تندرستی اور مختلف دوسری چیزوں کے خدا الگ الگ مان لیے جاتے ہیں اور ان کی خیالی صورتیں بنا کر ان کی عبادتیں کی جاتی ہیں۔

اس کےبعد جب اور زیادہ علم کی روشنی آتی ہےتو انسان دیکھتا ہےکہ دنیا کےانتظام میں ایک زبردست قانون اور ایک بڑے ضابطہ کی پابندی پائی جاتی ہے۔ہواؤں کی رفتار ، بارش کی آمد،سیاروں کی گردش فصلوں اور موسموں کے تغیر میں کیسی باقاعدگی ہے؟ کس طرح بےشمار قوتیں ایک دوسرےکے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں ؟ کیسا زبر دست قانون ہے کہ جو وقت جس کام کےلیےمقرر کردیا گیا ہے، ٹھیک اسی وقت پر کائنات کےتمام اسباب جمع ہو جاتےہیں اور ایک دوسرےسےاشتراک عمل کرتےہیں۔انتظام عالم کی ہم آہنگی دیکھ کر شرک انسان یہ ماننےپر مجبور ہو جاتا ہےکہ ایک سب سےبڑا خدا بھی ہےجو ان تمام چھوٹےچھوٹےخداؤں پر حکومت کر رہا ہے،ورنہ اگر سب ایک دوسرےسےالگ اور بالکل خود مختار ہوں تو دنیا کا سارےکا سارا کارخانہ درہم برہم ہو جائے۔وہ اس بڑے خدا کو "اللہ" اور "پرمیشور" اور "خدائے خدائگاں" وغیرہ ناموں سے موسوم کرتا ہے مگر عبادت میں اس کے ساتھ چھوٹے خداؤں کو بھی شریک رکھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ خدائی بھی دنیوی بادشاہی کےنمونہ پر ہے۔جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے بہت سے وزیر اور عمد اور ناظم اور دوسرے با اختیار عہدہ دار ہوتے ہیں اسی طرح کائنات میں بھی ایک بڑا خدا ہے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کے ماتحت ہیں۔ جب تک چھوٹے خداؤں کو خوش نہ کیا جائے گابڑے خدا تک رسائی نہ ہو سکے گی۔ اس لیےان کی عبادت بھی کرو، ان کے آگے بھی ہاتھ پھیلاؤ ، ان کی ناراضی سے بھی ڈرو، ان کو بڑے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ اور مندروں اور نیازوں سے انھیں خوش رکھو ۔

پھر جب علم میں اور ترقی ہوتی ہےتو خداؤں کی تعداد گھٹنےلگتی ہےجتنےخیالی خدا جاہلوں نے بنارکھے ہیں ان میں سے ایک ایک کے متعلق غور کرنے سےانسان کو معلوم ہوتا چلا جاتا ہے کہ وہ خدا نہیں ہیں ہماری ہی طرح کےبندےہیں بلکہ ہم سےبھی زیادہ بےبس ہیں۔اس طرح وہ ان کو چھوڑتا چلا جاتا ہےیہاں تک کہ آخر میں صرف ایک خدا رہ جاتا ہے،مگر اس ایک کےمتعلق پھر بھی اس کے خیالات میں بہت کچھ جہالت باقی رہ جاتی ہے۔ کوئی یہ خیال کرتا ہےکہ خدا ہماری طرح جسم رکھتا ہےاور ایک جگہ بیٹھا ہوا خدائی کر رہا ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا بیوی بچےرکھتا ہے اور انسان کی طرح اس کے ہاں بھی اولاد کا سلسلہ چل رہا ہےکوئی یہ گمان کرتا ہےکہ خدا انسان کی صورت میں زمین پر اترتا ہےکوئی کہتا ہےکہ خدا اس دنیا کےکارخانےکو چلا کر خاموش بیٹھ گیا ہےاور اب کہیں آرام کر رہا ہے۔کوئی سمجھتا ہے کہ خدا کےہاں بزرگوں اور روحوں کی سفارش لےجانا ضروری ہےاور ان کو وسیلہ بنائےبغیر وہاں کام نہیں چلتا۔کوئی اپنےخیال میں خدا کی ایک صورت تجویز کرتا ہےاور عبادت کےلیےاس صورت کو سامنےرکھنا ضروری سمجھتا ہےاس طرح کی بہت سی غلط فہمیاں توحید کا اعتقاد رکھنےکےباوجود انسان کے ذہن میں باقی رہ جاتی ہیں جن کے سبب سے وہ شرک یا کفر میں مبتلا ہوتا ہے اور یہ سب جہالت کا نتیجہ ہیں ۔

سب سے اوپر لا الہ الا الہ کا درجہ ہے۔ یہ وہ علم ہے جو خود اللہ نے ہر زمانے میں اپنے نبیوں کے ذریعے سے انسان کے پاس بھیجا ہے۔یہی علم سب سے پہلے انسان حضرت آدم کو دے کر زمین پر اتارا گیا تھا۔ یہی علم حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح ،حضرت ابراہیم،حضرت موسی اور دوسرے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا۔پھر اسی علم کو لےکر سب سےآخر میں حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یہ خالص علم ہےجس میں جہالت کا شائبہ تک نہیں ۔ اور ہم نے شرک اور بت پرستی اور کفر کی جتنی صورتیں لکھی ہیں ، اُن سب میں انسان اسی وجہ سے مبتلا ہوا کہ اس نےپیغمبروں کی تعلیم سے منہ موڑ کر خود اپنے حواس اور اپنی عقل پر بھروسہ کیا۔ آو ہم بتائیں کہ اس چھوٹے سے فقرے میں کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

(١) سب سے پہلی چیز الوبیت یعنی خدائی کا تصور ہے۔ یہ وسیع کائنات جس کےآغاز اور انجام اور انتہا کا خیال کرنے سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے،جو نا معلوم زمانہ سے چلی آرہی ہے اور نا معلوم زمانہ تک چلی جارہی ہے،جس میں بےحد و حساب مخلوق پیدا ہوئی اور پیدا ہوئے چلی جارہی ہے،جس میں ایسےایسے حیرت انگیز کرشمے ہو رہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ، اس کائنات کی خدائی صرف وہی کر سکتا ہےجو غیر محدود ہو،ہمیشہ سے ہو ،اور ہمیشہ رہے،کسی کا محتاج نہ ہو، بے نیاز ہو ، قادر مطلق ہو ، حکیم اور دانا ہو، ہر چیز کاعلم رکھتا ہو اور کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو ، سب پر غالب ہو اور کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہ کر سکےبے حساب قوتوں کا مالک ہو اور کائنات کی ساری چیزوں کو اس سےزندگی اور رزق کا سامان بهم پہنچے،عیب و نقص اور کزوری کی تمام صفات سےپاک ہو،اور اس کے کاموں میں کوئی دخل نہ دے سکے ۔

(٢) خدائی کی یہ تمام صفات ایک ہی ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔ یہ ناممکن ہےکہ دو ہستیاں یہ صفات برابر رکھتی ہوں،کیونکہ سب پر غالب اور سب پر حاکم تو ایک ہی ہو سکتا ہےیہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات تقسیم ہو کر بہت سےخداؤں میں بٹ جائیں،کیونکہ اگر حاکم ایک ہو اورعالم دوسرا اور رازق تیسرا، تو ہر ایک خدا دوسرے کا محتاج ہوگا، اور اگر ایک نے دوسرے کا ساتھ نہ دیا تو ساری کائنات یک لخت فنا ہو جائےگی۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات ایک سےدوسرےکو متتقل ہوں یعنی کبھی ایک خدا میں پائی جائیں اور کبھی دوسرےمیں،کیونکہ جو خدا خود زندہ رہنے کی قوت نہ رکھتا ہو وہ ساری کائنات کو زندگی نہیں بخش سکتا، اور جو خدا خود اپنی خدائی کی حفاظت نہ کر سکتا ہو وہ اتنی بڑی کائنات پر حکومت نہیں کر سکتا۔پس تم کو علم کی جتنی زیادہ روشنی ملےگی اتنا ہی زیادہ تم کو یقین ہوتا جائے گا کہ خدائی کی صفات صرف ایک ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔

(٣) خدائی کےاِس کامل اور صحیح تصور کو نظر میں رکھو ، پھر ساری کائنات پر نظر ڈالو جتنی چیزیں تم دیکھتےہو،جتنی چیزوں کو کسی ذریعه سے محسوس کرتےہو،جتنی چیزوں تک تمھارے علم کی پہنچ ہے،ان میں سے ایک بھی ان صفات سے متصف نہیں ہے۔عالم کی ساری موجودات محتاج ہیں، محکوم ہیں بنتی اوربگڑتی ہیں،مرتی اور جیتی ہیں۔کسی کو ایک حال پر قیام نہیں کسی کو اپنےاختیار سےکچھ کرنےکی قدرت نہیں۔کسی کو ایک بالاتر قانون کےخلاف بال برابر حرکت کرنےکا اختیار نہیں۔اُن کےحالات خود گواہی دیتےہیں کہ ان میں سے کوئی خدا نہیں ہے،کسی میں خدائی کی ادنی جھلک بھی نہیں پائی جاتی۔ کسی کا خدائی میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے یہی معنی ہیں لاالہ کے۔

(٤) کائنات کی ساری چیزوں سے خدائی چھین لینے کے بعد تم کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ایک اور رہتی ہے جو سب سے بالاتر ہے۔ صرف وہی تمام خدائی صفات رکھتی ہے اور اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔ یہی معنی ہیں الا اللہ کے۔

سب سے بڑا علم ہے۔ تم جس قدر تحقیق اور جستجو کرو گے تم کو یہی معلوم ہو گا کہ میں علم کا سرا بھی ہےاور یہی علم کی آخری حد بھی طبیعیات، کیمیا ،هیئت،ریاضیات،حیاتیات،حیوانیات، انسانیات ، غرض کائنات کی حقیقتوں کا کھوج لگانےوالے جتنےعلوم ہیں ان میں سےخواہ کوئی علم لے لو اس کی تحقیق میں جس قدر تم آگے بڑھتے جاؤ گے لا الہ الا اللہ کی صداقت تم پر زیادہ کھلتی جائےگی اور اس پر تمھارا یقین بڑھتا جائے گا۔ تم کوعلمی تحقیقات کے میدان میں ہر ہر قدم پرمحسوس ہوگا کہ اس سب سے پہلی اور سب سے بڑی سچائی سے انکار کرنے کے بعد کائنات کی ہر چیز بے معنی ہو جاتی ہے۔

انسان کی زندگی پر عقیدہ توحید کا اثر اب ہم تمھیں بتائیں گے کہ لا الہ الا اللہ کے اقرار سے انسان کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس کو نہ ماننے والا دنیا اور آخرت میں کیوں نامراد ہو جاتا ہے۔

(١) اس کلمہ پر ایمان رکھنے والا کبھی تنگ نظر نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسے خدا کا قائل ہوتا ہے جو زمین و آسمان کا خالق ، مشرق و مغرب کا مالک اور تمام جہان کا پالنےپوسنے والا ہے۔اس ایمان کےبعد ساری کائنات میں کوئی چیز بھی اس کو غیر نظر نہیں آتی، وہ سب کو اپنی ذات کی طرح ایک ہی مالک کی ملکیت اور ایک ہی بادشاہ کی رقیت سمجھتا ہے ۔ اس کی ہمدردی اور محبت و خدمت کسی دائر نے کی پابند نہیں رہتی ، اس کی نظر ویسی ہی غیر محدود ہو جاتی ہے جیسی خود اللہ تعالیٰ کی بادشاہی غیر محدود ہے۔ یہ بات کسی ایسے شخص کو حاصل نہیں ہو سکتی جو بہت سے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا قاتل ہو، یا خدا میں انسان کی محدود اور ناقص صفات مانتا ہو، یا سرے سے خدا کا قاتل ہی نہ ہو۔

(٢) یہ کلمہ انسان میں انتہا درجہ کی خود داری اور عزت نفس پیدا کر دیتا ہے۔اس پر اعتقاد رکھنے والا جانتا ہےکہ صرف ایک خدا تمام طاقتوں کا مالک ہے۔اُس کےسوا کوئی نفع پہنچانےوالا نہیں، کوئی مارنے اور چلانے والا نہیں،کوئی صاحب اختیار اور با اثر ہیں۔ یہ علم اور یقین اس کو خدا کے سوا تمام قوتوں سےبے نیاز اور بے خوف کر دیتا ہے۔ اس کی گردن کسی مخلوق کے آگے نہیں تھکتی۔اس کا ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلتا۔ اس کے دل میں کسی کی بزرگی کا سکہ نہیں بیٹھتا۔ یہ صفت سورائے عقیدہ توحید کےاور کسی عقیدہ سے پیدا نہیں ہو سکتی۔شرک اور کفر اور دہریت کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ انسان مخلوقات کے آگے جھکے،ان کو نفع اور نقصان کا مالک سمجھے،ان سے خوف کھائے اور ان ہی سے امیدیں وابستہ رکھے ۔

(٣) خود داری کےساتھ یہ کلمہ انسان میں انکساری بھی پیدا کرتا ہےاس کا قاتل کبھی مغرور اور متکبر نہیں ہوسکتا، اپنی قوت اور دولت اور قابلیت کا گھمنڈ اُس کے دل میں سماہی نہیں سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہےخدا ہی کا دیا ہوا ہے ، اور خدا جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینےپر بھی قادر ہے۔اس کے مقابلہ میں عقیدہ الحاد کےساتھ جب انسان کو کسی قسم کا دنیوی کمال حاصل ہوتا ہے تو ہ متکبر ہو جاتا ہے،کیونکہ وہ اپنےکمال کو محض اپنی قابلیت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح شرک اور کفر کے ساتھ بھی غرور پیدا ہونا لازمی ہےکیونکہ مشرک اور کافر اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ خداؤں اور دیوتاؤں سے اس کا کوئی خاص تعلق ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں ۔

(٤) اس کلمه پر اعتقاد رکھنےوالا اچھی طرح سمجھتا ہےکہ نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی کے سوا اُس کے لیے نجاست اور فلاح کا کوئی ذریعہ نہیں، کیونکہ وہ ایک ایسےخدا پر اعتقاد رکھتا ہے جو بے نیاز ہے ، کسی سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ بے لاگ عمل کرنےوالا ہےاور کسی کو اس کی خدائی میں دخل یا اثر حاصل نہیں۔اس کےمقابلہ میں مشرکین اور کفار ہمیشہ جھوٹی توقعات پر زندگی بسر کرتے ہیں ان میں کوئی سمجھتا ہےکہ خدا کا بیٹا ہمارےلیےکفارہ بن گیا ہے۔کوئی خیال کرتا ہےکہ ہم خدا کے چہیتےہیں اور ہمیں سزا مل ہی نہیں سکتی۔کسی کا گمان یہ ہےکہ ہم اپنےبزرگوں سےخدا کے ہاں سفارش کرائیں گے۔کوئی اپنے دیوتاؤں کو نذر و نیازدےکرسمجھ لیتا ہےکہ اب اسے دنیا میں سب کچھ کرنےکا لائسنس مل گیا ہے۔اس قسم سےجھوٹےاعتقادات ان لوگوں کو ہمیشہ گناہوں اور بدکاریوں کےچکر میں پھنسائے رکھتےہیں اور وہ ان کےبھروسہ پر نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی سےغافل ہو جاتے ہیں۔رہے دہریے تو وہ سرے سے یہ اعتقاد ہی نہیں رکھتے کہ کوئی بالا ترہستی اُن سےبھلے یا بڑے کاموں کی باز پرس کرنے والی بھی ہے ۔ اس لیے وہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔ اُن کے نفس کی خواہش ان کی خدا ہوتی ہے اور وہ اس کے بندے ہوتے ہیں۔

(٥) اس کلمہ کا قاتل کسی حال میں مایوس اور دل شکستہ نہیں ہوتا۔وہ ایک ایسےخدا پر ایمان رکھتا ہے جو زمین و آسمان کےسارے خزانوں کا مالک ہے۔جس کا فضل و کرم بے حد و حساب ہے اور جس کی قوتیں بے پایاں ہیں ۔ یہ ایمان اُس کے دل کو غیر معمولی تسکین بخشتا ہے ۔ اس کو اطمینان سے بھر دیتا ہے اور ہمیشہ امیدوں سے لبریز رکھتا ہے۔ چاہے وہ تمام دنیا کے دروازوں سے ٹھکرا دیا جائے ، سارے اسباب کا رشتہ ٹوٹ جائےاور وسائل و ذرائع ایک ایک کر کےاس کا ساتھ چھوڑ دیں،پھر بھی ایک خدا کا سہارا کسی حال میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اسی کے بل بوتےپر وہ نئی امیدوں کے ساتھ کوشش پر کوشش کیے چلا جاتا ہے۔یہ اطمینان قلب عقیدہ توحید کے سوا اور کسی عقیدے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مشرکین اور کفار اور دہریے چھوٹےدل کےہوتے ہیں،ان کا بھروسہ محدود دطاقتوں پر ہوتا ہے، اس لیے مشکلات میں بہت جلدی مایویسی ان کو گھیر لیتی ہے اور اکثر ایسی حالتوں میں وہ خود کشی تک کر گزرتے ہیں ۔

(٦) اس کلمہ کا اعتقاد انسان میں عزم اور حوصلہ اور صبر توکل کی زبردست طاقت پیدا کر دیتا ہے ۔ وہ جب خدا کی خوشنودی کے لیے دنیا میں بڑے کام انجام دینے کےلیے اٹھتا ہے، تو اس کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ میری پشت پر زمین و آسمان کے بادشاہ کی قوت ہے ۔ یہ خیال اس میں پہاڑ کی سی مضبوطی پیدا کر دیتا ہے اور دنیا کی ساری مشکلات اور مصیبتیں اور مخالف طاقتیں مل کر بھی اس کو اپنے عزم سے نہیں ہٹا سکتیں۔

(٧) یہ کلمہ انسان کو بہادر بنا دیتا ہے۔دیکھو ! آدمی کو بزدل بنانےوالی دراصل دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک تو جان اور مال اور بال بچوں کی محبت،دوسرے یہ خیال کہ خدا کےسوا کوئی اور مارنے والا ہے اور یہ کہ آدمی اپنی تدبیر سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ لا الہ اللہ کا اعتقاد ان دونوں چیزوں کو دل سے نکال دیتا ہے۔پہلی چیز تو اس لیے نکل جاتی ہے کہ اس کا قائل اپنی جان و مال اور ہر چیز کا مالک خدا ہی کو سمجھتا ہےاور اس کی خوشنودی کے لیے سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔رہی دوسری چیز تو وہ اس وجہ سےباقی نہیں رہتی کہ لا الہ الا اللہ کہنےوالےکےنزدیک جان لینےکی قدرت کسی انسان یا حیوان یا توپ یا تلوار یا لکڑی یا پتھر میں نہیں ہے ۔ اس کا اختیار صرف خدا کو ہے اور اس نے موت کا جو وقت مقرر کر دیا ہے اس سے پہلے دنیا کی تمام قوتیں مل کر بھی چاہیں تو کسی کی جان نہیں لے سکتیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے سے زیادہ بہادر دنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں تلواروں کی باڑھ اور گولیوں کی بوچھاڑ اور فوجوں کی یورش سب ناکام ہو جاتی ہیں۔ جب وہ خدا کی راہ میں لڑنے کے لیے بڑھتا ہےتو اپنے سے دس گنی طاقت کا بھی منہ پھیر دیتا ہے۔ مشرکین اور کفار اور دہریےیہ قوت کہاں سے لائیں گے ؟ ان کو تو جان سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موت دشمن کے لانے سے آتی ہے اور ان کے بھاگنے سے بھاگ سکتی ہے۔

(٨) لا الہ الا الہ کا اعتقاد انسان میں قناعت اور بے نیازی کی شان پیدا کر دیتا ہے۔حرص ۔ ہوس اور رشک و حسد کےرکیک جذبات اس کےدل سےنکال دیتا ہےکامیابی حاصل کرنےکے ناجائز اور ذلیل طریقے اختیار کرنےکا خیال تک اس کےذہن میں نہیں آنے دیتا۔وہ سمجھتا ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہےزیادہ دے جس کو چاہےکم دے عزت اور طاقت اور ناموری اور حکومت سب کچھ خدا کےاختیار میں ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں کےلحاظ سےمیں کو جس قدر چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ہمارا کام صرف اپنی حد تک جائز کوشش کرنا ہے۔ کامیابی اور ناکامی خدا کے فضل پر موقوف ہے ۔ وہ اگر دینا چاہے تو دنیا کی کوئی قوت اُسےروک نہیں سکتی اور نہ دینا چاہے تو کوئی طاقت دلوا نہیں سکتی۔اس کے مقابلہ میں مشرکین اورکفاراوردہریےاپنی کامیابی اورنا کامی کو اپنی کوشش اور دنیوی طاقوں کی مدد یا مخالفت پر موقوف سمجھتےہیں،اس لیےان پر حرص اور ہوس مسلط رہتی ہےکامیابی حاصل کرنےکےلیے رشوت خوشامد،سازش اور ہر قسم کےبد ترین ذرائع اختیار کرنےمیں انھیں باک نہیں ہوتا۔دوسروں کی کامیابی پر رشک و حسد میں جلےمرتے ہیں اور ان کو نیچا دکھانےکی کوئی بڑی سےبڑی تدبیر بھی نہیں چھوڑتے۔

(٩) سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کا اعتقاد انسان کو خدا کے قانونکا پابند بناتا ہے ۔ اس کلمہ پر ایمان لانے والا یقین رکھتا ہے کہ خدا ہر چھپی او کھلی چیز سے باخبر ہے۔ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہےاگر ہم رات کےاندھیرے میں اور تنہائی کےگوشےمیں بھی کوئی گناہ کریں تو خدا کو اس کا علم ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارے دل کی گہرائی میں بھی کوئی برا ارادہ پیدا ہو تو خدا تک اس کی خبر پہنچ جاتی ہے۔ہم سب سےچھپا سکتےہیں مگر خدا سےنہیں چھپا سکتےسب سےبھاگ سکتےہیں مگر خدا کی سلطنت سےنہیں نکل سکتے۔سب سے بچ سکتےہیں مگر خدا کی پکڑ سے بچنا غیرممکن ہے۔ یہ یقین جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی زیادہ انسان اپنے خدا کے احکام کا مطلع ہوگا۔ جس چیز کو خدا نے حرام کیا ہے وہ اس کے پاس بھی نہ پھٹکےگا اور جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے وہ اس کو تنہائی اور تاریکی میں بھی بجا لائےگا۔کیونکہ اس کےساتھ ایک ایسی پولیس لگی ہوتی ہےجو کسی حال میں اسکا پیچھانہیں چھوڑتی،اور اس کو ایسی عدالت کا کھٹکا لگا رہتا ہے جس کے وارنٹ سے وہ کہیں بھاگ ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ہونےکےلیےسب سےپہلی اور ضروری شرط لا الہ الا پر ایمان لانا ہےمسلم کےمعنی جیسا کہ تم کو ابتدا میں بتایاجاچکا ہےخدا کےفرمانبردار بندے کے ہیں اور خدا کا فرماں بردار ہونا ممکن ہی نہیں جب تک کہ انسان اس بات پر یقین نہ لائے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں یہ ایمان باللہ سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔ یہ اسلام کا مرکز ہے،اس کی جڑ ہے،اس کی قوت کا منبع ہے۔اس کےسوا اسلام کے جتنےاعتقادات اور احکام اور قوانین ہیں سب اسی بنیاد پر قائم ہیں اور ان سب کو ایسی مرکز سےقوت پہنچتی ہےاس کو ہٹا دنے کے بعد اسلام کوئی چیز نہیں رہتا ۔

خدا کے فرشتوں پر ایمان ایمان باللہ کے بعد دوسری چیز جس پر آنحضرت نے ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے، وہ فرشتوں کی بستی ہے اور بڑا فائدہ اس تعلیم کا یہ ہےاس سےتوحید کا اقتصاد شرک کے تمام خطروں سے پاک ہو جاتا ہے۔

اوپر تم کو بتایا جاچکا ہےکہ مشرکین نے خدائی میں دو قسم کی مخلوقات کو شریک کیا ہے ۔ ایک قسم اُن مخلوقات کی ہے جو جسمانی وجود رکھتی ہیں اور نظر آتی ہیں ، مثلا سورج ، چاند اور تارے ، آگ اور پانی اور بزرگ انسان وغیرہ۔ دوسری قسم آن مخلوقات کی ہے جن کا وجود جسمانی نہیں ہے بلکہ وہ نظروں سے اوجھل ہیں اور پس پردہ کائیات کا انتظام کر رہی ہیں،مثلاً کوئی ہوا چلانے والی اور کوئی پانی برسانے والی اور کوئی روشنی بهم پہنچانے والی۔ ان میں سے پہلی قسم کی چیزیں تو انسان کی آنکھوں کےسامنےموجود ہیں۔ اس لیےان کی خدائی کی نفی خود لا الہ الا اللہ کےالفاظ ہی سےہو جاتی ہے۔ لیکن دوسری قسم کی مخلوقات پوشیده اور پراسرار ہیں مشرکین زیادہ تر انھی کے گرویدہ ہیں، انہی کو دیوتا اور خدا اور خدا کی اولاد سمجھتے ہیں ، انھی کی فرضی مورتیں بنا کر نذر و نیاز چڑھاتے ہیں۔ لهذا توحید الهی کو شرک کے اس دوسرے شعبے سے پاک کرنے کے لیے ایک مستقل عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ پوشیدہ نورانی ہستیاں جن کو تم دیوتا اور خدا اور اولاد خدا کہتےہو در اصل یہ خدا کےفرشتے ہیں۔ان کا خدائی میں کوئی دخل نہیں۔ یہ سب خدا کے تابع فرمان ہیں اور اس قدر طبع ہیں کہ حکم الہی سے بال برابر بھی سرتابی نہیں کر سکتے ۔ خدا ان کے ذریعہ سے اپنی سلطنت کی تدبیر کرتا ہے اور یہ ٹھیک ٹھیک اس کے فرمان بجالاتے ہیں۔ان کو خود اپنے اختیار سے کچھ کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ اپنی طرف سے خدا کے حضور میں کوئی تجویز پیش نہیں کر سکتے۔ ان کی اتنی مجال بھی نہیں کہ اس کےسامنے کسی کی سفارش کر دیں۔ ان کی عبادت کرتا اور ان سےمدد مانگنا تو انسان کے لیے ذلت ہے،کیونکہ روز اول میں اللہ تعالیٰ نےان سے آدم کو سجدہ کرایا تھا اور ان سے بڑھ کر آدم کوعلم عطاکیا تھا اور ان کو چھوڑ کر آدم کو زمین کی خلافت عطا کی تھی۔ پس جو انسان خود ان فرشتوں کا مسجود ہے اس کے لیےاس سے بڑھ کر کیا ذلت ہو سکتی ہے کہ وہ الٹا ان کے آگے سجدہ کرے اور ان سے بھیک مانگے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو ہم کو فرشتوں کی پرستش کرنےاور خدائی میں ان کو شریک ٹھیرانے سے روک دیا۔ دوسری طرف آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ فرشتے خداکی برگزیده مخلوق ہیں ، گناہوں سےپاک ہیں ، ان کی فطرت ایسی ہےکہ وہ خدا کے احکام کی نافرمانی کرہی نہیں سکتے۔وہ ہمیشہ خداکی بندگی و عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ اُنھی میں سے ایک برگزیدہ فرشتے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں پر وحی بھیجتا ہےجن کا نام جبریل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس جبرئیل علیہ السلام ہی کے ذریعہ سے قرآن کی آیتیں نازل ہوتی تھیں۔ انھی فرشتوں میں وہ فرشتےبھی ہیں جو ہر وقت تمھارےساتھ لگےہوتے ہیں۔تمھاری ہرا بھی اور بڑی حرکت کو ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں۔ تمھاری سہراچھی بڑی بات کو ہر وقت سُنتے اور نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس ہر شخص کی زندگی کا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے مرنے کے بعد جب تم خدا کے سامنے حاضر ہو گےتو یہ تمھارا نامہ اعمال پیش کر دیں گے اور تم دیکھو گے کہ عمر بھر تم نے چھینے اور کھلےجو بھی نیکیاں اور بدیاں کی تھیں وہ سب اس میں موجود ہیں ۔

خدا کی کتابوں پر ایمان تیسری چیز جس پر میان لانے کی تعلیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریع سےہم کو دی گئی ہے ۔ وہ اللہ کی کتابیں ہیں جو اس نے اپنے نبیوں پر نازل کیں۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل فرمایا ہےاسی طرح آپ سے پہلے جو رسول گزرے تھے ان کے پاس بھی اپنی کتابیں بھیجی تھیں۔ ان میں سے بعض کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں مثلا مصحف ابراہیم جو حضرت ابراہیم پر اتر ہے۔ تورات جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی۔ زبور جو حضرت داؤد کےپاس بھیجی گئی اور انجیل جو حضرت عیسی کو دی گئی۔ان کےسوا دوسری کتاہیں جو رسولوں کےپاس آئی تھیں ان کے نام ہم کو نہیں بتائے گئے۔اس لیےکسی اور مذہبی کتاب کے متعلق ہم یقین کے ساتھ نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ البته ہم ایمان لاتےہیں کہ جو کتا میں بھی خدا کی طرف سے آئی تھیں وہ سب برھق تھیں۔

جن کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں ان میں مصحف ابراہیم تو اب دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ رہیں تورات اور زبور اور انجیل تو وہ البتہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہیں۔ مگر قرآن شریف میں ہم کو بتایا گیا ہے کہ ان سب کتابوں میں لوگوں نے خدا کے کلام کو بدل ڈالا ہے اور اپنی طرف سے بہت سی باتیں ان کےاندر ملا دی ہیں۔خود عیسائی اور یہودی بھی تسلیم کرتےہیں کہ اصل کتابیں ان کے پاس نہیں ہیں،صرف ان کےترجمے باقی رہ گئےہیں جن میں صدیوں سےترمیم ہوتی رہی ہے اور اب تک ہوتی چلی جارہی ہے ۔ پھر ان کتابوں کے پڑھنےسے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو خدا کی طرف سےنہیں ہو سکتیں۔ اس لیےجو کتابیں موجود ہیں وہ ٹھیک ٹھیک خدا کی کتابیں نہیں ہیں،ان میں خدا کا کلام اور انسان کے کلام مل جل گئےہیں اور معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہےکہ خدا کا کلام کون سا ہےاور انسانوں کا کلام کون سا۔لہذا پچھلی کتابوں پر ایمان کا جو حکم ہم کو دیا گیا ہےوہ صرف اس حیثیت سے ہےکہ خدا نے قرآن سےپہلےبھی دنیا کی ہر قوم کےپاس اپنے احکام اپنے نبیوں کے ذریعہ بھیجےتھے،اور وہ سب اُسی ایک خدا کے احکام تھےجس کی طرف سےقرآن آیا ہے، اور قرآن کوئی نئی اور انوکھی کتاب نہیں ہے بلکہ اسی تعلیم کو زندہ کرنےکےلیے بھیجی گئی ہے جس کو پہلے زمانہ کے لوگوں نے پایا اور کھو دیا، یا بدل ڈالا،یا انسانی کلاموں سے غلط ملط کر دیا۔

قرآن شریف خدا کی سب سے آخری کتاب ہے ۔ اس میں اور پچھلی کتابوں میں کئی حیثیتوں سے فرق ہے۔

(١) پہلے جو کتابیں آئی تھیں ان میں سے اکثر کے اصلی نسخے دنیا سے گم ہوگئےاور ان کے صرف ترجمے رہ گئےہیں ،لیکن قرآن جن الفاظ میں اترا تھا،ٹھیک ٹھیک اُنھی الفاظ میں موجود ہے،اس کے ایک حرف بلکہ ایک شوشہ میں بھی تغیر نہیں ہوا۔

(٢) پچھلی کتابوں میں لوگوں نےکلام الہی کےساتھ اپنا کلام ملا دیا ہے۔ایک ہی کتاب میں کلام الہی بھی ہے،قومی تاریخ بھی ہے،بزرگوں کےحالات بھی ہیں۔تفسیر بھی ہے،فقیہوں کے نکالےہوئےشرعی مسئلےبھی ہیں۔ اور یہ سب چیزیں اس طرح گڈ مڈ ہیں کہ خدا کےکلام کو ان میں سےالگ چھانٹ لینا ممکن نہیں ہے۔مگر قرآن میں خالص کلام الہی ہمیں ملتا ہےاور اس کے اندر کسی دوسرے کے کلام کی ذرہ برابر بھی آمیزش نہیں ہے۔تفسیر،حدیث،فقه،سیرت رسول،سیرت صحابہ اور تاریخ اسلام مسلمانوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب قرآن سےبالکل الگ دوسری کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔قرآن میں ان کا ایک لفظ بھی ملنے نہیں پایا ہے ۔

(٣) جتنی مذہبی کتابیں دنیا کی مختلف قوموں کے پاس ہیں ان میں سے ایک کےمتعلق بھی تاریخی سند سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جس نبی کی طرف منسوب ہےواقعی اسی نبی کی ہے۔ بلکہ بعض مذہبی کتابیں ایسی بھی ہیں جن کے متعلق سرے سےیہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس زمانہ میں کسی نبی پر اتری تھیں۔ مگر قرآن کے متعلق اتنی زبردست تاریخی شہادت ہیں موجود ہیں کہ کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی سبت میں شک کر ہی نہیں سکتا۔ اس کی آیتوں تک کے متعلق یہ معلوم ہے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازل ہوئی ۔

(٤) پچھلی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئی تھیں وہ ایک مدت سے مردہ ہوچکی ہیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی ان کے بولنے والے باقی نہیں رہے ، اور ان کے سمجھنےوالے بھی بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ایسی کتابیں اگر اصلی اور صحیح حالت میں موجود بھی ہوں تو ان کے احکام کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ان کی پیروی کرنا ممکن نہیں۔لیکن قرآن میں زبان میں ہے وہ ایک زندہ زبان ہے،دنیا میں کروڑوں آدمی آج بھی اس کو بولتے ہیں،اور کروڑوں آدمی اسے جانتے اور سمجھتے ہیں۔اس کی تعلیم کا سلسلہ دنیا میں ہرجگہ جاری ہے۔ہرشخص اس کو سیکھ سکتا ہے اور جو اس کےسیکھنے کی فرصت نہیں رکھتا اس کو ہر جگہ ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو قرآن کےمعنی اسے سمجھانے کی قابلیت رکھتے ہوں۔

(٥) جتنی اسے سمجھانے کی قابلیت رکھتےہوں۔کتاب میں کسی خاص قوم کو مخاطب کیا گیا ہےاور ہر کتاب میں ایسےاحکام پائےجاتےہیں جو معلوم ہوتا ہےکہ صرف ایک خاص زمانےکےحالات اور ضروریات کےلیےتھےاگراب نہ ان کی ضرورت ہےاور نہ ان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔اس سےیہ بات خود بخود ظاہر ہو جاتی ہےکہ یہ سب کتابیں الگ الگ قوموں کےلیےمخصوص تھیں، ان میں سے کوئی کتاب بھی تمام دنیا کے لیے نہیں آئی تھی۔ پھر جن قوموں کےلیے یہ کتابیں آئی تھیں، ان کے لیے بھی یہ ہمیشہ ہمیشہ کےواسطے نہ تھیں،بلکه کسی خاص زمانے کےلیےتھیں۔اب قرآن کو دیکھو اس کتاب میں ہر جگہ انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کے کسی ایک فقرے سے بھی یہ شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ کسی خاص قوم کےلیےہے۔نیز اس کتاب میں جتنےاحکام دیے گئے ہیں وہ سب ایسےہیں جن پر ہر زمانے میں ہر جگہ عمل کیا جا سکتا ہے ، یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے ۔

(٦) پچھلی کتابوں میں سےہر ایک میں نیکی اور صداقت کی باتیں بیان کی گئی تھیں۔اخلاق اورراست بازی کےاصول سکھائےگئےتھے۔خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنےکےطریقےبتائےگئےتھےلیکن کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہ تھی جس میں ساری خوبیوں کوایک جگہ جمع کر دیا گیا ہو اور کوئی چیز چھوڑی نہ گئی ہو_____ یہ بات صرف قرآن میں ہےکہ جتنی خوبیاں پھیلی کتابوں میں الگ الگ تھیں وہ سب اس میں جمع کر دی گئی ہیں اور جو وریاں پھیلی کتابوں سے چھوٹ گئی تھیں وہ بھی اس کتاب میں آگئی ہیں۔

(٧) تمام مذہبی کتابوں میں انسان کےدخل در معقولات سےایسی باتیں لی گئی ہیں جو حقیقت کے خلاف میں عقل کےخلاف میں نظام اور بےانصافی پرمنی میں انسان کےعقیدےاور عمل دونوں کو خراب کرتی ہیں حتی کہ بہت سی کتابوں میں فخش اور بد اخلاقی کی باتیں بھی پائی جاتی ہیں قرآن ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جو عقل کے خلاف ہو یا جس کو دلیل یا تجربےسےغلط ثابت کیا جاتا ہو۔اس کے کسی حکم میں بےانصافی نہیں ہے ۔ اس کی کوئی بات انسان کو گمراہی مین ڈالنے والی نہیں ہے۔اس میں فحش اور بد اخلاقی کا نام ونشان تک نہیں ہے۔اول سے لے کر آخر تک سارا قرآن اعلی درجہ کی حکمت و دانائی اور عدل و انصاف کی تعلیم در راہ راست کی ہدایت اور بہترین احکام اور قوانین سے بھرا ہوا ہے۔

یہی خصوصیات ہیں جن کی بنا پر تمام دنیا کی قوموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرآن پر ایمان لائیں اور تمام کتابوں کو چھوڑ کر صرف اسی ایک کتاب کی پیروی کریں، کیونکہ انسان کو خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قدر ہدایات کی ضرورت ہے وہ سب اس میں بے کم وکاست بیان کر دی گئی ہیں۔ یہ کتاب آجانےکے بعد کسی دوسری کتاب کی حاجت ہی باقی نہیں رہی۔

جب تم کو یہ علوم ہو گیا کہ قرآن اور دوسری کتابوں میں کیا فرق ہے، تو یہ ہےتم خود سمجھ سکتے ہو کہ دوسری کتابوں پر ایمان اور قرآن پر ایمان میں کیا فرق ہونا چاہیے۔پچھلی کتابوں پر ایمان صرف تصدیق کی حد تک ہے،یعنی وہ سب خدا کی طرف سے تھیں، اور تھی تھیں،اور اسی غرض کےلیےآئی تھی جس کو پورا کرنےکےلیےقرآن آیا ہے۔ اور قرآن پر ایمان اس حیثیت سے ہے کہ یہ خدا کا خالص کلام ہےسراسر حق ہے ، اس کام لفظ محفوظ ہے،اس کی ہر بات پچھتی ہے ، اس کے ہر حکم کی پیروی فرض ہے اور ہر وہ بات رد کر دینے کے قابل ہے جو قرآن کے خلاف ہو۔

خدا کے رسولوں پر ایمان کتابوں کے بعد ہم کو خداکے تمام رسولوں پربھی ایمان لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ بات تم کو پچھلے باب میں بتائی جاچکی ہےکہ خدا کےرسول دنیا کی تمام توں سےپاس آئے تھےاور ان سب نے اسی اسلام کی تعلیم دی تھی جس کی تعلیم دینےکےلیےآخر میں حضرت محمد صلی الہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس لحاظ سے خدا کے تمام رسول ایک ہی گروہ کے لوگ تھے۔ اگر کوئی شخص ان میں سےکسی ایک کو بھی جھوٹا قرار د سے لوگو یا اس نے سب کو جھٹلا دیا اور کسی ایک کی بھی تصدیق کرے تو آپ سے آپ اس کےلیےلازم ہو جاتا ہےکہ سب کی تصدیق کرے۔فرض کرو کہ دس آدمی ایک ہی بات کہتے ہیں۔ جب تم نے ایک کو سنا تسلیم کیا تو وہ جو تم نے ہاتی زرکوبھی تا تسلیم کرلیا۔ گرتم ایک کو جھوٹا کہو گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے خود اس بات ہی کو جھوٹ قرار دے دیا جسے وہ بیان کر رہا ہے اور اس سے دسوں کی تکذیب لازم آئے گی۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام میں تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ جو شخص کسی رسول پر ایمان نہ لائے گا وہ کافر ہو گا خواہ وہ باقی رسولوں کو مانتا ہوں۔

روایات میں آیا ہےکہ دنیا کی مختلف قوموں میں جو نبی بھیجےگئےہیں ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ اگر تم خیال کرو کہ دنیا کب سےآباد ہےاور اس میں کتنی قومیں گزر چکی ہیں تو یہ تعداد کچھ بھی زیادہ علم نہ ہوگی۔ان سوالاکھ نبیوں میں سےجن کےنام ہم کو قرآن میں بتائےگئےہیں ان پر تو صراحت کےساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ باقی تمام کے متعلق ہم کوصرف یہ عقیدہ رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگ بھی خدا کی طرف سےاس کے بندوں کی ہدایت سے بےبھیجےگئےتھے وہ سب پیچھے تھے۔ ہندوستان، چین، ایران بمصر افریقہ، یورپ اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں جو نبی آئے ہوں گے ہم ان سب پر ایمان لاتےہیں،مگر ہم کسی خاص شخص کےمتعلق یہ نہیں کہ سکتےکہ وہ نبی تھا اورنہ یہ کہہ سکتےہیں کہ وہ نبی نہ تھا اس لیےکہ ہمیں اس کےمتعلق کچھ بتایانہیں گیا۔البتہ مختلف مذاہیب پیرو جن لوگوں کو اپنا پیشو مانتےہیں ان کےخلاف کچھ کہنا ہمارےلیےجائز نہیں-بہت ممکن ہےکہ درحقیقت وہ نبی ہوں اور بعد میں ان کےپیرؤوں نےان کےمذہب کو بگاڑ دیا ہو جس طرح حضرت موسی اور حضرت عیسی کےپیرووں نے بگاڑا۔لہذا ہم جو بھی کچھ اظہار رائےکریں گےان کےمذہب اور ان کی رسموں کے متعلق کریں گے اگر پیشواؤں کےحق میں خاموش رہیں گےتاکہ بغیر جانے بوجھے ہم سے کسی رسول کی شان میں گستاخی نہ ہو جائے ۔

پچھلےرسولوں میں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس لحاظ سےتو کوئی فرق نہیں کہ آپ کی طرح وہ بھی سچےتھے،خدا کےبھیجے ہوتےتھے،اسلام کا سیدھا راستہ بتانےوالےتھے اور ہمیں سب پر ایمان لانےکا حکم دیا گیا ہے۔مگر ان ساری حیثیتوں میں کیساں ہونےکےباوجود آپ میں اور دوسرے پیغمبروں میں تین باتوں کا فرق بھی ہے ۔

ایک یہ کہ پچھلے انبیاء خاص قوموں میں خاص زمانوں کے لیے آئے تھے اور حضرت محمد صلی الہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے اور ہمیشہ کے لیے نبی بنا کربھیجے گئے ہیں جیسا کہ ہم پیچھے باب میں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔

دوسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کی تعلیمات یا تو بالکل دنیا سےناپید ہو چکی ہیں،یا کسی قدر باقی بھی رہ گئی ہیں تو اپنی خالص صورت میں محفوظ نہیں رہی ہیں۔اسی طرح ان کےٹھیک ٹھیک حالات زندگی بھی آج دنیا میں کہیں نہیں ملتے ۔ جگہ ان پر بکثرت افسانوں کے ردے چڑھ گئے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کوئی ان کی پیروی کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتا بخلاف اس کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، آپ کی سیرت پاک،آپ کی زبانی ہدایات،آپ کےعملی طریقے ، آپ کے اخلاق،عادات خصائل بغرض ہر چیز دنیا میں بالکل محفوظ ہےاس لیےدرحقیقت تمام پیغمبروں میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک زندہ پیغمبر ہیں اور صرف آپ ہی کی پیروی کرناممکن ہے۔

تیسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کے ذریعہ سے اسلام کی جو تعلیم دی گئی تھی وہ مکمل نہیں تھی، ہر نبی کےبعد دوسرا نبی آ کر اس کے احکام اور قوانین اور هدایات میں ترمیم و اضافه کرتارہا،اور اصلاح و ترقی کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ اسی لیے ان نبیوں کی تعلیمات کو ان کا زمانہ گزر جانے کے بعداللہ تعالی نے محفوظ بھی نہیں رکھاکیونکہ ہرکامل تعلیم کےبعد پچھلی ناقص تعلیم کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ نام کےذریعےسےاسلام کی ایسی تعلیم دی گئی جوہر حیثیت سے مکمل تھی۔اس کےبعد تمام انبیاء آخر کی شریعتیں آپ سے آپ منسوخ ہوگئیں کیونکہ کامل کو چھوڑ کر ناقص کی پیروی کرنا عقل کے خلاف ہےجو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے گا اس نے گویا تمام نیوں کی پیروی کی۔اس لیے کہ تمام نبیوں کی تعلیم میں جو کچھ بھلائی تھی وہ سب آنحضرت کی تعلیم میں موجود ہےاور جو شخص آپ کی پیروی چھوڑ کر کسی پچھلےنبی کی پیروی کرےگا وہ بہت سی بھلائیوں سے محروم رہ جائے گا۔ اس لیے کہ جو بھلائیاں بعد میں آتی ہیں وہ اس پرانی تعلیم میں نہ تھیں ۔

ان وجوہ سے تمام دنیا کے انسانوں پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں ۔ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان آنحضرت پر تین حثیتیوں سے ایمان لائے ۔

ایک یہ کہ آپ خدا کے بچے پیغمبر ہیں ۔

دوسرے یہ کہ آپ کی ہدایت بالکل کامل ہے ۔ اس میں کوئی نقص نہیں اور وہ ہر غلطی سے پاک ہے۔

تیسرے یہ کہ آپ خدا کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی کسی قوم میں آنے والا نہیں ہے۔ نہ کوئی ایسا شخص آنے والا ہے میں پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے شرط ہیں جس کو نہ ماننے سے کوئی شخص کا فر ہو جاتے۔

آخرت پر ایمان پانچویں چیز جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ سلم نے ہم کو ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے وہ آخر ہے ۔ آخرت کے متعلق جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے وہ یہ ہیں :

(١) ایک دن اللہ تعالی تمام عالم اور اسکی مخلوقات کو مٹا دے گا۔ اس دن کا نام قیامت ہے۔ (٢) پھر وہ سب کو ایک دوسری زندگی بخشے گا اور سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ اس کو حشر کہتے ہیں ۔ (٣) تمام لوگوں نے اپنی دنیوی زندگی میں جو کچھ کیا ہے اس کا اچھا نامہ اعمال خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ (٤) اللہ تعالیٰ ہر شخص کےاچھےاور بڑےاعمال وزن فرمائےگا۔ جس کی بھلائی خدا کی میزان میں بُرائی سے زیادہ وزنی ہوگی اس کو بخش دے گا اور جس کی برائی کا پلہ بھاری رہے گا اسے سزا دے گا۔ (٥) جن لوگوں کی بخشش ہو جائے گی وہ جنت میں جائیں گے۔ اور جن کو سزا دی جائے گی وہ دوزخ میں جائیں گے۔

عقیدہ آخرت کی ضرورت آخرت کا یہ عقیدہ جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہےاسی طرح پچھلے تمام انبیاء بھی اسے پیش کرتے آتے ہیں اور ہر زمانے میں اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازمی شرط رہا ہےتمام نبیوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا ہےجو اس سےانکار کرےیا اس میں شک کرے کیونکہ اس عقیدہ کے بغیر خدا اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتا بالکل بے معنی ہو جاتا ہے اور انسان کی ساری زندگی خراب ہو جاتی ہے۔ اگر م غور کرو تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے تم سے جب کبھی کسی کام کے لیے کہا جا تا ہے تو ر ہے پہلا سوال جو تھا اسے دل میں پیدا ہوتا ہےوہ یہی ہے کہ اس سے کرنے کا فائدہ کیا ہے اور نہ کرنے کا نقصان کیا ہے ۔ یہ سوال کیوں پیدا ہوتا ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہر ایسے کام کو غو اور فضول بھی ہےجس کا کوئی حاصل نہ ہو تم کسی ایسے فعل پر کبھی آمادہ نہ ہو گے جس کے متعلق تم یقین ہو کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ۔ اور اسی طرح تم کسی ایسی چیز سے پرہیز کرنا بھی قبول نہ کر دگے جس کے متعلق تم کو یقین ہو کہ اس سے کوئی نقصان نہیں یہی حال شک کا بھی ہے۔ جس کام کا فائدہ مشکوک ہو اس میں تھا راجی ہر گز نہ لگے گا۔ اور میں کام کےنقصان دہ ہونے میں شک ہو اس سے بچنے کی بھی تم کوئی خاص کوشش نہ کرو گے۔بچوں کو دیکھو ، وہ آگ میں کہیں ہاتھ ڈال دیتے ہیں ہے اسی لیے نا کہ اُن کو اس ہےکا یقین نہیں ہے کہ آگ جلا دینے والی چیز ہے ۔ اور وہ پڑھنے سے کیوں بھاگتےہیں ، اسی وجہ سے ناک جو کچھ فائدے ان کے بڑے انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ ان کے دل کو نہیں لگتے۔ اب خیال کرو کہ جوشخص آخرت کو نہیں مانتا وہ خدا کو ماننے اور اس کی مرضی کےمطابق چلنےکو بے نتیجہ سمجھتا ہے۔ اس کےنزدیک نہ تو خدا کی فرمانبرداری کا کوئی فائدہ ہے اور نہ اس کی نافرمانی کا کوئی نقصان پھر کیوں کر ممکن ہےکہ وہ ان احکام کی اطاعت کرےجو خدا نے اپنے رسولوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے دیے ہیں ؟ بالفرض اگر اس نے خدا کو مان بھی لیا تو ایسا مانا بالکل بیکار ہوگا، کیونکہ وہ خدا کے قانون کی اطاعت نہ کرلے گا اور اس کی مرضی کے مطابق نہ چلے گا۔

لیکن یہ عالمہ نہیں تک نہیں رہتا۔ تم اور زیادہ غور کرو گے توتم کومعلوم ہوگا کہ آخرت کا انکار یا اقرار انسان کی زندگی میں فیصلہ کن اثر رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نےاوپر بیان کیا انسان کی فطرت ہی ایسی ہےکہ وہ ہر کام کےکرنےیا نہ کرنے کافیصلہ اس کے فائدے اور نقصان کےلحاظ سےکرتا ہے۔اب ایک شخص تو وہ ہےجس کی نظر صرف اسی دنیا کے فائدے اور نقصان پر ہے۔ وہ کسی ایسے نیک کام پر ہرگز آمادہ نہ ہو گا جس سےکوئی فائدہ اس دنیا میں حاصل ہونے کی امید نہ ہو۔ اور کسی ایسے برے کام سےپرہیز نہ کرے گا جس سے اس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔ ایک دوسرا شخص ہےجس کی نظر افعال کےآخری نتائج پر ہے۔وہ دنیا کےفائدے اور نقصان کو محض عارضی چیز سمجھے گا۔وہ آخرت کے دائمی فائدے یا نقصان کا لحاظ کر کے نیکی کو اختیار کرے گا اور بدی کو چھوڑ دے گا، نتھاہ اس دنیا میں نیکی سے کتنا ہی بڑا نقصان اور بدی سے کتنا ہی بڑا فائدہ ہوتا ہوں۔ دیکھو! دونوں میں کتنا بڑا فرق ہو گیا۔ایک کےنزدیک نیکی وہ ہےجس کا کوئی اچھا نتیجہ اس دنیا کی ذرا سی زندگی میں حاصل ہو جائےمثلاً کچھ روپیه لےکوئی زمین ہاتھ آجائےکوئی صد مل جائےکچھ نیک نامی اورشہرت ہو جائے،کچھ لوگ واہ وا کریں یاکچھ دست یا خوشی حاصل ہو جائے،کچھ خواہشات کی تسکین ہوں کچھ نفس کومزا آ جائے۔ اور بدی وہ ہے میں سے کوئی برا نتیجہ اِس زندگی میں ظاہر ہو یا ظاہر ہونے کا خوف ہو مثلاً جان ومال کا نقصان،صحت کی خرابی ، بدنامی حکومت کی سزا ، کسی قسم کی تکلیف یارنج یا بد مزگی۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے شخص کے نزدیک نیکی وہ ہے جس سےخدا خوش ہوا اور بدی در ہےجس سے خدا ناراض ہور نیکی اگر دنیا میں اس کوکسی قسم کا فائدہ نہ پہنچائے بلکہ الٹا نقصان ہی نقصان دےتب بھی وہ اس کو نیکی ہی سمجھتا ہے۔اور یقین رکھتا ہےکہ آخر کار خدا اس کو ہمیشہ باقی رہنےوالا فائدہ عطا کرےگا۔اور بدی سےخواہ یہاں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچےنہ نقصان کا خوف ہو،بلکہ سراسر فائدہ ہی فائدہ نظر آئے پھر بھی وہ اس کو بری ہی سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اگر میں دنیا کی اس مختصر زندگی میں سزا سے بچ گیا اور چند روز مزے لوشتار با تب بھی آخر کار خدا کے عذاب سے نہ بچوں گا۔

یہ دو مختلف خیالات ہیں جن کے اثر سے انسان دو مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کے لیے قطعی ناممکن ہے کہ وہ ایک قدم بھی اسلام کے طریقے پر چل سکے۔ اسلام کہتا ہےکہ خدا کی راہ میں غریبوں کو زکوۃ دو۔وہ جواب دیتا ہےزکوۃ سےمیری دولت گھٹ جائےگی، میں تو اپنےمال پر الٹا سود لوں گا اور سود کی ڈگری میں غریبوں کےگھر کا تنکا تک قرق کرالوں گا اسلام کہتا ہے ہمیشہ سچ بولو اور جھوٹ سے پرہیز کرو،خواہ سچائی میں کتنا ہی نقصان اور جھوٹ میں کتنا ہی فائدہ ہو۔ وہ جواب دیتا ہے کہ میں ایسی سچائی کو لےکر کیا کروں جس سےمجھےنقصان پہنچے اور فائدہ کچھ نہ ہو؟ اور ایسے جھوٹ سے پرهیز کیوں کروں جو فائدہ مند ہو اور جس میں بدنامی کا خوف تک نہ ہو ؟ وہ ایک سنسان راستہ سے گزرتا ہے،ایک قیمتی چیز پڑی ہوئی اس کو نظر آتی ہے،اسلام کہتا ہےکہ یہ تیرا مال نہیں ہے تو اس کو ہرگز نہ لے۔وہ جواب دیتا ہےکہ مفت آئی ہوئی چیز کو کیوں چھوڑوں ؟ یہاں کوئی دیکھنےوالا نہیں جو پولیس کو خبر کرےیا عدالت میں گواہی دہےیا لوگوں میں مجھےبدنام کرے۔پھر کیوں نہ میں اس مال سےفائدہ اٹھاؤں؟ایک شخص پوشیدہ طور پر اس کےپاس کوئی امانت رکھواتا ہے اور مرجاتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ امانت میں خیانت نہ کر۔ اس کا مال اس کے بچوں کو پہنچا دے ۔ وہ کہتا ہے کیوں ؟ کوئی شہادت اس بات کی نہیں کہ مرنے والے کا مال میرے پاس ہے ، خود اس کےبال بچوں کو اس کی خبر تک نہیں ،جب میں آسانی کے ساتھ اس کو کھا سکتا ہوں اور کسی دعوے یا کسی بدنامی کا خوف بھی نہیں تو کیوں نہ اسےکھا جاؤں بے غرض یہ ہےکہ زندگی کے راستہ میں ہر ہر قدم پر اسلام اس کو ایک طریقےپر چلنے کی ہدایت کرے گا، اور وہ اس کے بالکل خلاف دوسرا طریقہ اختیار کرے گا۔ کیونکہ اسلام میں ہر چیز کی قدر وقیمت آخرت کے دائمی نتائج کے لحاظ سے ہے مگر وہ شخص ہر معالم میں نظر صرف اُن نتائج پر لکھتا ہے جو اس دنیا کی چند روزہ زندگی میں حاصل ہوتے ہیں۔ اب تم سمجھ سکتے ہو کہ آخرت پر ایمان لائے بغیر انسان کیوں مسلمان نہیں ہو سکتا مسلمان تو خیر بڑی چیز ہے ، سچ یہ ہے کہ آخرت کا انکار انسان کو انسانیت سے گرا کر حیوانیت سے بھی بدتر درجہ میں لے جاتا ہے۔

عقیدہ آخرت کی صداقت عقیدہ آخرت کی ضرورت اور اس کی منفعت تم کو معلوم ہوگئی۔ اب ہم مختصر طور پر تھیں یہ بتاتے ہیں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جو عقیدہ آخرت کےمتعلق بیان فرمایا ہے عقل کی رو سے بھی وہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اگر چہ اس عقیدےپر ہمارا ایمان صرف سول خدا کے اعتماد پر ہےعقل پر اس کا مدار نہیں ہے لیکن جب ہم غور و فکر سےکام لیتےہیں تو ہم کو آخرت کے متعلق تمام عقیدوں میں رہےزیادہ یہی عقیدہ مطابق معقل معلوم ہوتا ہے ۔

آخرت کے متعلق دنیا میں تین مختلف عقیدے پائے جاتے ہیں :

ایک گروہ کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ دہریوں کا خیال ہے جو سائنسداں ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔

دوسرا گروہ کہتا ہے کہ انسان اپنےاعمال کا نتیجہ بھگتنےکےلیےبار بار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے۔اگر اس کے اعمال بڑے ہیں تو وہ دوسرے جنم میں کوئی جانور مثلا کتا یا بنی بن کر آئے گا، یا کوئی درخت بن کر پیدا ہوگا،یا کسی بدتر درجہ کےانسان کی شکل اختیار کرےگا۔اور اگر اچھے اعمال میں تو زیادہ اونچے درجے پر پہنچے گا۔یہ خیال بعض خام مذہبوں میں پایا جاتا ہے۔

تیسرا گروہ قیامت اور حشر اور خدا کی عدالت میں پیشی اور جزا اور سزا پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ تمام انبیاء کا متفقہ عقیدہ ہے ۔

اب پہلے گروہ کے عقیدے پر غور کرو۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے کے بعد کسی کو زندہ ہوتے ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ جو مرتا ہےوہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ لہذا مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں گر غور کرو کیا یہ کوئی دلیل ہے؟ مرنے کے بعد تم نے کسی کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتےہو کہ "ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا"۔اس سےآگےبڑھ کر تم یہ دعوی جو کرتے ہو کہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد کچھ نہ ہو گا۔اس کا تمھارے پاس کیا ثبوت ہے؟ ایک گنوار نے اگر ہوائی جہاز نہیں دیکھا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ "مجھے معلوم نہیں کہ ہوائی جہاز کیا چیز ہے" لیکن جب وہ کہے گا کہ "میں جانتا ہوں ہوائی جہاز کوئی چیز نہیں ہے" تو عقلمند اس کو احمق کہیں گے۔اس لیے کہ اس کا کسی چیز کو نہ دیکھنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ کوئی چیز ہےہی نہیں۔ایک آدمی کیا،اگر ساری دنیا کےلوگوں نےبھی کسی چیز کونہ دیکھا ہو تو یہ دھولی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نہیں ہےیا نہیں ہو سکتی۔

اس کے بعد دوسرے عقیدے کو لیجیے ۔ اس عقیدے کی رو سے ایک شخص جو اس وقت انسان ہے وہ اس لیے انسان ہو گیا کہ جب وہ جانور تھا تو اس نے اچھےعمل کیسےتھے۔اور ایک جانور جو اس وقت جانور ہے،وہ اس لیےجانور ہو گیا کہ انسان کی جون میں اُس نے بڑے عمل کیسے تھے ۔ دوسرے الفاظ میں میں کہو کہ انسان اور حیوان اور درخت ہو ناسب در اصل پہلے جنم کے اعمال کا نتیجہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پہلے کیا چیز تھی ہے اگر کہتے ہو کہ پہلے انسان تھا تو ماننا پڑےگا کہ اس سے پہلے حیوان یا درخت ہو، ورنہ پوچھا جائے گا کہ انسان کا قالب اس کو کس اچھے عمل کے بدلے میں ملا ہے اگر کہتے ہو کہ حیوان تھا یا درخت تھا تو مانا ہےگا کہ اس سےپہلےانسان ہو، ورنہ سوال ہو گا کہ درخت یا حیوان کا قالب اس کو کس بڑے عمل کی سزا میں ملا؟ غرض یہ ہے کہ اس عقیدے کے ماننے والے مخلوقات کی ابتدا کسی خون سے بھی قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ہر خون سے پہلےایک جون ہونی ضروری ہے تاکہ بعد والی جون کو پہلی جون کے عمل کا نتیجہ قرار دیا جائے ۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے۔

اب تیسرے عقید ےکو لو۔ اس میں سب سےپہلے یہ بیان کیا گیا ہےکہ ایک دن قیامت آئےگی،اور خدا اپنےاِس کارخانےکو توڑ پھوڑ کرنےسرےسےایک دوسرا زیادہ اعلیٰ درجہ کا پائیدار کارخانہ بنائےگا۔ یہ ایسی بات ہےکہ جس سے صحیح ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ دنیا کے اس کارخانے پر جتنا غور کیا جاتا ہےاتنا ہی زیادہ اس بات کا ثبوت ملتا ہےکہ یہ دائمی کارخانہ نہیں ہےکیونکہ جتنی قوتیں اس میں کام کر رہی ہیں وہ سب محدود ہیں اور ایک روز ان کا ختم ہو جانا یقینی ہے۔اس لیےتمام سائنسدان اس بات پرمتفق ہو چکے ہیں کہ ایک دن سورج ٹھنڈا اور بے نور ہو جائے گا، سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور دنیا تباہ ہو جائے گی ۔

دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ " انسان کو دوبارہ زندگی بخشی جائےگی" یا کیا یہ ناممکن ہے ؟ اگر ناممکن ہے تو اب جو زندگی انسان کو حاصل ہے یہ کیسے مکن ہوگئی ہے ظاہر ہے کہ جس خدا نے اس دنیا میں انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دنیا میں بھی پیدا کر سکتا ہے۔

تیسری بات یہ ہےکہ " انسان نے اِس دنیا کی زندگی میں جیتنے عمل کیےہیں اُن سب کا ریکارڈ محفوظ ہے اور وہ حشر کےدن پیش ہو گا ۔“ یہ ایسی چیز ہےجس کا ثبوت آج ہم کو اس دنیا میں بھی مل رہا ہے۔ پہلے سمجھ جاتاتھا کہ جو آواز ہارےمنہ سے نکلتی ہے وہ ہوا میں تھوڑی سی امر پیدا کر کے فنا ہو جاتی ہے ۔ مگر اب معلوم ہوا کہ ہر آواز اپنے گرد و پیش کی چیزوں پر اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے جس کو دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ گراموفون کا ریکارڈ اسی اصول پر بنا ہے۔ اسی سے ہی معلوم ہوا کہ ہماری ہر حرکت کا ریکارڈ ان تمام چیزوں پر منقوش ہو رہا ہے جن کےساتھ ایس حرکت کا کسی طور پر تصادم ہوتا ہے۔ جب حال یہ ہے تو یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ہمارا پورا نامہ اعمال محفوظ ہے اور دوبارہ اس کو حاضر کیا جاسکتا ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ " خدا حشر کے دن عدالت کرے گا، اور حق کے ساتھ ہمارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا اس کو کون ناممکن کہہ سکتا ہے ؟اس میں کون سی بات خلاف عقل ہے ؟ عقل تو خود یہ چاہتی ہےکہ کبھی خدا کی عدالت ہو اور ٹھیک ٹھیک حق کےساتھ فیصلےکیےجائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نیکی کرتا ہے اور اُس کا کوئی فائدہ اس کو دنیا میں حاصل نہیں ہوتا۔ ایک شخص بدی کرتا ہےاور اس سےکوئی نقصان اس کو نہیں پہنچتا۔یہی نہیں بلکہ ہم ہزاروں مثالیں ایسی دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نے نیکی کی اور اسے الٹا نقصان ہوا۔ ایک دوسر ہےشخص نے بدی کی اور وہ خوب مزےکرتا رہا۔اس قسم کےواقعات کو دیکھ کر عقل مطالبہ کرتی ہےکہ کہیں نہ کہیں نیک آدمی کو نیکی کا اور شریر آدمی کو شرارت کا پھل ملنا چاہیے ۔

آخری چیز جنت اور دوزخ ہے۔ان کا وجود بھی ناممکن نہیں۔اگر سورج اور چاند اور مریخ کو خدا بنا سکتا ہےتو آخر جنت اور دوزخ نہ بنا سکنے کی کیا وجہ ہے؟جب وہ عدالت کرے گا اور لوگوں کو جزاء سزا دے گا تو جزا پانے والوں کے لیےکوئی عزت اورلطف و مسرت کا مقام اور سزا پانےوالوں کےلیےکوئی ذلت اور رنج اور تکلیف کا مقام بھی ہونا چاہیے۔

ان باتوں پر جب تم غور کرو گے تو تمھاری عقل خود کہہ دے گی کہ انسان کےانجام کے متعلق جتنے عقید ے دنیا میں پائے جاتے ہیں ان میں سب سے زیادہ دل کو لگتا ہوا عقیدہ یہی ہے۔ اور اس میں کوئی چیز خلاف عقل یا نا ممکن نہیں ہے۔

پھر جب ایسی ایک بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسےسچےنبی نے بیان کی ہےاور اس میں سراسر ہماری بھلائی ہےتو عقلمندی یہ ہےکہ اس پر یقین کیا جائے، نہ یه که خواہ مخواہ بلا کسی دلیل کے شک کیا جائے۔

کلمئہ طیبہ یہ پانچ عقیدے ہیں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے۔ ان پانچوں عقیدوں کا خلاصہ صرف ایک کلمہ میں آجاتا ۔

جب تم لا الہ الا اللہ کہتے ہو تو تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کی بندگی کا اقرار کرتے ہوا اور جب محمد رسول اللہ "کہتے ہو تو اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں ۔ رسالت کی تصدیق کے ساتھ خود بخود یہ بات تم پر لازم ہو جاتی ہے کہ خدا کی ذات وصفات اور ملائکہ اور کتب آسمانی اور انبیا۔ اور آخرت کے متعلق جو کچھ اور جیسا کچھ آنحضرت نےتعلیم فرمایا ہےاس پر ایمان لاتا در خدا کی عبادت اور فرماں برداری کا جو طریقہ آپ نے بتایا ہے اس کی پیروی کرو ۔

(١) میں نے ایمانیات کی تعداد پانچ بتائی ہے۔ یہ پانچوں بنیادیں قرآن مجید کی آیت آمن الرسول بما انزِلَ إِلَيْهِ مِن رب الآله البقره رکوع ۴۰) اور وَمَنْ يَكْفُرُ بِاللهِ وَمَليكيه الآيہ (النساء رکوع ۲۰)سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ حدیث میں والْقَدْرِ خَيْرِهِ د شرم کو بھی ایمانیات میں شامل کیا گیا ہے اور اس طرح بنیادی عقائد پانچ کے بجائے چھ قرار پاتے ہیں لیکن در حقیقت ایمان بالقدر ایمان باللہ کا ایک جز ہے اور قرآن مجید میں اس حقید سےکر اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی لیے میں نے اس عقیدہ کو عقیدہ توحید کی تشریح میں بیان کرنے پر اکتفا کیا۔ بالکل اسی طرح بعض احادیث میں جنت اور دوزخ اور صراط اور میزان کو بھی الگ عقائد کی حیثیت سے بیان فرمایا گیا ہے،مگر درحقیقت یہ سب ایمان بالآخرہ کے اجزا ہیں۔

باب پنجم - عبادات

عبادات عیادت کا مفہوم ، نماز ، روزہ ، زکواۃ، حج ، حمایت اسلام پچھلے باب میں تم کو بتایا گیا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ امور پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے : (١) خدائے وحده لا شریک پر ، (٢) خدا کے فرشتوں پر ، (٣) خدا کی کتابوں پر ، اور بالخصوص قرآن مجید پر ، (٤) خدا کے رسولوں پر، اور بالخصوص اس کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر (٥) آخرت کی زندگی پر ۔

یہ اسلام کی بنیاد ہے۔ جب تم ان پانچ چیزوں پر ایمان لے آئے تومسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ لیکن ابھی پورے مسلم نہیں ہوئے ۔ پورا مسلم انسان اس وقت ہوتا ہے جب وہ ان احکام کی اطاعت کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی طرف سے دیے ہیں۔ کیونکہ ایمان لانے کے ساتھ ہی اطاعت تم پر لازم ہو جاتی ہے اور اطاعت ہی کا نام اسلام ہے۔ دیکھو ! تم نے اقرار کیاکہ خدا ہی تمھارا خدا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمھارا آقا ہے اور تم اس کے غلام ہوں۔وہ تمھارا فرماں روا ہے اور تم اس کے فرماں بردار - اب اگر اس کو آقا اور فرماں روا مان کر تم نے نافرمانی کی تو تم خود اپنے اقرار کے موجب باغی اور مجرم ہوئے۔ پھر تم نےاقرار کیا کہ قرآن مجید خدا کی کتاب ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں جو کچھ ہے تم نے تسلیم کر لیا کہ وہ خدا ہی کا فرمان ہے۔ اب تم پر لازم آگیا کہ اس کی ہر بات کو مانو اور ہر حکم پر سر جھکا دو پھر تم نےیہ بھی اقرار کیا کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کےرسول ہیں۔یہ در اصل اس بات کا اقرار ہےکہ آنحضرت جس چیز کا حکم دیتےہیں اور جس چیز سےروکتےہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔اب اس اقرار کےبعد آنحضرت کی اطاعت تم پر فرض ہو گئی ۔ لہذا تم پورے "مسلم " اسی وقت ہو گےجب تمھارا عمل تمھارے ایمان کے مطابق ہو ، ورنہ جس قدر تمھارے ایمان اور تمھارے عمل میں فرق رہے گا اتنا ہی تمھارا ایمان ناقص رہے گا۔

آؤ، اب ہم تھیں بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسرکرنے کا کیا طریقہ سکھایا ہے، کن چیزوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہےاور کن چیزوں سے منع فرمایا ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز وہ عبادات ہیں جو تم پر فرض کی گئی ہیں۔

عبادت کا مفہوم عبادت کےمعنی در اصل بندگی کےہیں۔تم عبد (بندہ) ہو،اللہ تمھارا معبود ہے۔عبد اپنےمعبود کی اطاعت میں جو کچھ کرے،عبادت ہے مثلا تم لوگوں سےباتیں کرتے ہو۔ ان باتوں کے دوران میں اگر تم نے جھوٹ سےغیبت سے،فحش گوئی سے اس لیےپرہیز کیا کہ خدا نے ان چیزوں سے منع کیا ہے اور ہمیشہ سچائی انصاف،نیکی اور پاکیزگی کی باتیں کیں،اس لیےکہ خدا ان کو پسند کرتا ہے،تو تمھاری یہ سب باتیں عبادت ہوں گی،خواہ وہ سب دنیا کےمعاملات ہی میں کیوں نہ ہوں تم لوگوں سےلین دین کرتےہو، بازار میں خرید و فروخت کرتے ہو،اپنےگھر میں ماں باپ اور بھائی بہنوں کےساتھ رہتےسہتےہو، اپنے دوستوں اور عزیزوں سےملتےجلتے ہو، اگر اپنی زندگی کے ان سارے معاملات میں تم نے خدا کے احکام کو اور اس کے قوانین کو ملحوظ رکھا،ہر ایک کے حقوق ادا کیے، یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے اور کس کی حق تلفی نہ کی یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس سےروکا ہےتو گیا تھاری یہ ساری زندگی خدا کی عیادت ہی میں گزری۔ تم نے کسی غریب کی مد کی کسی بھوکےکر کھانا کھلایا، کسی بیمار کی خدمت کی، اور ان سب کاموں میں تم نے اپنے کسی ذاتی فائدہ یا عزت یا ناموری کو نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی کو پیش نظر رکھا، تو یہ سب کچھ عبادت میں شمار ہو گا۔ تم نے تجارت یا صنعت یا مزدوری کی اور اس میں خدا کا خوف کر کے پوری دیانت اور ایمانداری سے کام لیا،حلال کی روٹی کمائی،اور حرام سے بیچے، تو یہ روٹی کہانا بھی خدا کی عبادت میں لکھا جائے گا،حالانکہ تم نےاپنی روزی کمانے کے لیے یہ کام کیے تھے۔غرض یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہر وقت ہر معامل میں خدا سے خوف کرنا ، اس کی خوشنودی کو پیش نظر رکھنا،اس کےقانون کی پیروی کرنا،ہر ایسےفائدےکو ٹھکرا دیا جو اس کی نافرمانی سے حاصل ہوتا ہو،اور ہر ایسےنقصان کو گوارا کرلیا جو اس کی فرمانبرداری میں پہنچےیا پہنچنےکا خون ہو، یہ خدا کی عبادت ہےاس طریقہ کی زندگی سراسر عبادت ہی عبادت ہےحتی کہ ایسی زندگی میں کھانا، پینا، چلنا پھرنا، سونا ، جاگنا، بات چیت کرنا سب کچھ داخل عبادت ہے ۔

یہ عبادت کا اصلی مفہوم ہے ۔ اور اسلام کا اصل مقصد مسلمان کو ایسا ہی-عبادت گزار بندہ بنانا ہے۔ اس غرض کے لیے اسلام میں چند ایسی عبادتیں فرض کی گئیں ہیں جو انسان کو اس بڑی عبادت کے لیےتیار کرتی ہیں۔گویا یوا کےجھو کہ یہ خاص عبادتیں اس بڑی عبادت کےلیےٹریننگ کورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔جو شخص یہ ریٹنگ متبنی اچھی طرح لے گا وہ اس بڑی اور اصلی عبادت کو اتنی ہی اچھی طرح ادا کر سکےگا۔ اسی لیےان خاص عبادتوں کو فرض عین قرار دیا گیا ہے اور انھیں ارکان دین یعینی دین کےستون" کہا گیا ہے۔جس طرح ایک عمارت چند ستونوں پر قائم ہوتی ہےاسی طرح اسلامی زندگی کی عمارت بھی ان ستونوں پر قائم ہے۔ ان کو توڑ دو گے تو اسلام کی عمارت کو گرا دو گے۔

نماز ان فرائض میں سب سے پہلا فرض نماز ہے۔یہ نماز کیا ہے؟ دن میں پانچ وقت زبان اور عمل سے انھی چیزوں کا اعادہ جن پرتم ایمان لائے ہو تم صبح اٹھے اور اسے پہلے پاک صاف ہو کر اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو گئے ۔ اس کے سامنےکھڑے ہو کر، بیٹھ کر جھک کر زمین پر سر ٹیک کر اپنی بندگی کا اقرار کیا، اس سےمدد مانگی، اس سےہدایت طلب کی،اس سےاطاعت کا عہد تازہ کیا،اس کی خوشنودی چاہنے اور اس کے غصہ سے بچنے کی خواہش کا بار بار اعادہ کیا، اس کی کتاب کا سبق دہرایا اس کے رسول کی سچائی پرگواہی دی اور اس دن کو بھی یاد کر لیا جب تم اس کی عدالت میں اپنےاعمال کی جواب دہی کے لیے حاضر ہو گے ۔ اس طرح تمھارا دن شروع ہوا چند گھنٹے تم اپنے کاموں میں لگے رہے پھر ظہر کے وقت موذن نے تم کو یاد دلایا کہ آؤ اور چند منٹ کے لیے اس سبق کو پھر دہرالو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو بھول کر تم خدا سے غافل ہو جاؤ تم اٹھے اور ایمان تازہ کر کے پھر دنیا اور اس کے کاموں کی طرف پلٹ آئے ۔ چند گھنٹوں کے بعد پھر عصر کے وقت تمھاری طیبی ہوتی اور تم نے پھر ایمان تازہ کر لیا ۔ اس کے بعد مغرب ہوئی اور رات شروع ہوگئی صبح کو تم نے دن کا آغاز جس عبادت کے ساتھ کیا تھا رات کا آغاز بھی اسی سے کیا،تا کہ رات کو بھی تم اس سب کو نہ بھولنے پاؤ اور اسے بھول کر بھیک نہ جاد چند گھنٹوں کے بعد عشا ہوئی اور سونے کا وقت آگیا۔ اب آخری بارتم کو ایمان کی سری تعلیم یاد دلادی گئی کیونکہ یہ سکون کا وقت ہے ، دن کے ہنگامے میں اگر تم کو پوری توجہ کا موقع نہ ملا ہو تو اس وقت اطمینان کے ساتھ توجہ کر سکتے ہو۔

دیکھو ! یہ وہ چیز ہےجو ہر روز دن میں پانچ وقت تمھارےاسلام کی بنیاد کو مضبوط کرتی رہتی ہے ۔ یہ بار بار تم کو اس بڑی عبادت کےلیےتیار کرتی ہےجس کا مفہوم ہم نےابھی چند سطور پلےتم کو بجھادیا ہے۔یہ ان تمام عقیدوں کو تازہ کرتی رہتی ہےجن پر تمھارےنفس کی پاکیز کی، روح کی ترقی ، اخلاق کی درستی اور عمل کی اصلاح موقوف ہے ۔ غور کرو : وضو میں تم اس طریقہ کی کیوں پیروی کرتےہو جو رسول اللہ نے بتایا ہے،اور نماز میں وہ سب چیزیں کیوں پڑھتے ہو جو آپ نے تعلیم کی ہیں یہ اسی لیے تاکہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہو۔ قرآن کر تم قصد غلط کیوں نہیں پڑھتے ؟ اسی لیے تاکہ تمھیں اس کے کلام الہی ہونے کا یقین ہے۔ نماز میں جو چیزیں خاموشی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں اگر تم ان کو نہ پڑھو یا انکی جگہ اور کچھ پڑھ دو تو تھی کس کا خوف ہے ؟کوئی انسان تو سُننے والا نہیں۔ ظاہر ہے کہ تم یہی سمجھتے ہو کہ خاموشی کے ساتھ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں اسےبھی خدا سن رہا ہےاور ہماری کسی ڈھکی چھپی حرکت سےبھی وہ بےخبر نہیں۔ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا وہاں کون سی چیز تھیں نماز کے لیے اُٹھاتی ہے ؟ وہ یہی اعتقاد تو ہے کہ خدا تم کو دیکھ رہا ہے۔ نماز کےوقت ضروری سے ضروری کام چھڑا کر کون سی چیز تھیں نماز کی طرف لے جاتی ہے ؟ وہ یہی احساس تو ہےکہ نماز خدا نےفرض کی ہے ۔ جاڑے میں صبح کےوقت اور گرمی میں دوپہر کے وقت ، اور روزانہ شام کی دلچسپ تفریحوں میں مغرب کے وقت کون سی چیز تم کونماز پڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے ؟ وہ فرض شناسی نہیں تو اور کیا ہے ؟ پھر نماز نہ پڑھنے یا نماز میں جان بوجھ کر غلطی کرنے سےتم کیوں ڈرتےہو ؟ اسی لیےتاکہ تم کو خدا کا خون ہےاور تم جانتے ہو کہ ایک دن اُس کی عدالت میں حاضر ہونا ہےاب بتاؤ کہ نماز سےبہتر اور کون سی ایسی ٹرینگ ہو سکتی ہےجوتم کو پورا اور سچا مسلمان بنانےوالی ہو؟ مسلمان کےلیےاس سےاچھی تربیت کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ہر روز کئی کئی مرتبہ خدا کی یاد اور اس کے خوف اور اس کےحاضر و ناظر ہونےکے یقین ، اور عدالت الہی میں پیش ہونے کے اعتقاد کو تازہ کرتا رہے،اور روزانہ کتنی بار لازمی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے اور صبح سےلےکر رات تک ہر چند گھنٹوں کےبعد اس کو فرض بجالانےکی مشق کرائی جاتی رہے؟ ایسے شخص سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ جب وہ نماز سے فارغ ہو کر دنیا کے کاموں میں مشغول ہو گا تو وہاں بھی وہ خدا سےڈرے گا اور اس کے قانون کی پیری کرے گا اور ہر گناہ کے موقع پر اس کو یاد آجائے گا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر کوئی اتنی اعلیٰ درجہ کی ٹرینینگ کے بعد بھی خدا سے بے خوف ہو اور اس کےاحکام کی خلاف در زمی نہ چھوڑےتو یہ نماز کا قصور نہیں، بلکہ خود اس شخص کے نفس کی خرابی ہے۔

پھر دیکھو! اللہ تعالیٰ نے نماز کو باجماعت پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے، اور خاص طور پر ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز جماعت کےساتھ پڑھنا فرض کر دیا ہےپر مسلمانوں میں اتحاد اور برادری پیدا کرنے والی چیز ہے۔اُن کو ملا کر ایک مضبوط جتھا بناتی ہے۔ جب وہ سب مل کر ایک ہی خدا کی عبادت کرتےہیں،ایک ساتھ اُٹھتےاور بیٹھتےہیں تو آپ سے آپ اُن کےدل ایک دوسرےسےجڑ جاتےہیں اور اُن میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہےکہ ہم سب بھائی بھائی ہیں۔پھر یہی چیز اُن میں ایک سردار کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہےاور ان کو باضاتگی کا سبق سکھاتی ہےاسی سےان میں آپس کی ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ مساوات اور یگانگت پیدا ہوتی ہے۔امیر اور غریب، بڑے اور چھوٹےاعلیٰ عہد دار اور ادنی چپر اسی سب ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی نہ اورینی ذات ہوتا ہے نہ نیچ ذات۔

یہ اُن بےشمار فائدوں میں سےچند فائدےہیں جو تمھاری نماز سےخدا کو نہیں بلکہ خود تھی کو حاصل ہوتےہیں۔خدا نےتمھارے فائدے کےلیےاس چیز کو فرض کیا ہے،اور نہ پڑھنے پر اس کی ناراضی اس لیے نہیں ہےکہ تم نےاس کا کوئی نقصان کیا بلکہ اس لیےہےکہ تم نےخود اپنےآپ کو نقصان پہنچایا کیسی زبر دست طاقت نماز کے ذریعہ سے خدا تم کو دے رہا ہے اور تم اس کو لینےسے جی چراتے ہو۔ کس قدر شرم کا مقام ہے کہ تم زبان سے تو خدا کی خدائی اور رسول کی اطاعت اور آخرت کی باز پرس کا اقرار کرو اور تمھارا عمل یہ ہوکہ خدا اور رسول نے سب سے بڑا فرض جو تم پر عائد کیا ہے اس کو ادا نہ کرو تمھارا یہ عمل دو حال سےخالی نہیں ہو سکتا۔یاتو تم و نماز کےفرض ہونے سے انکار ہے یا تم اسے فرض مانتے ہو اور پھر ادا کرنے سے بچتے ہو ۔ اگر فرضیت سے انکار ہےتو تم قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو جھٹلاتےہو اور پھران دونوں پر ایمان لانےکا جھوٹا ھوئی کرتےہو۔اور اگر تم اسےفرض مان کر پھر ادا نہیں کرتے تو تم سخت نا قابل اعتبار آدمی ہو تم پر دنیا کے کسی معاملہ میں بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ جب تم خدا کی ڈیوٹی میں چوری کر سکتے ہوتو کوئی یا امید کرسکتا ہے کہ انسانوں کی ڈیوٹی میں چوری نہ کرو گے ؟

روزه دوسرا فرض روزہ ہے۔ یہ روزہ کیا ہے ؟ جس سبق کو نماز روزانہ پانچ وقت یاد دلاتی ہے ، اُسے روزہ سال میں ایک مرتبہ پورےایک مہینہ تک ہروقت یاد دلاتا رہتا ہےرمضان آیا اور صبح سےلےکر شام تک تمھارا کھانا پینا بند ہوا۔ سحری کے وقت تم کھا پی رہے تھے ، یکایک اذان ہوئی اور تم نےفورا ہاتھ روک لیا۔ اب کیسی ہی مرغوب غذا سامنےآئےکیسی ہی بھوک پیاس ہو،کتنا ہی دل چاہے،تم شام تک کچھ نہیں کھاتے۔یہی نہیں کہ لوگوں کےسامنے نہیں کھاتے،نہیں تنہائی میں بھی یہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا، ایک قطرہ پانی پینا یا ایک دانہ نکل جانا بھی تمھارےلیےناممکن ہوتا ہے۔پھر یہ ساری رکاوٹ ایک خاص وقت تک رہتی ہے ۔ ادھر مغرب کی اذان ہوتی اور تم افطار کے لیے لیکے ۔ اب رات بھر بے خوف و خطر تم جب اور ہر چیز چاہتے ہو کھاتے ہو۔ غور کرو، یہ کیا چیز ہے ؟ اس کی تہ میں خدا کا خوف ہے۔ اس کے حاضر و ناظر ہونےکا یقین ہے۔آخرت کی زندگی اور خدا کی عدالت پر ایمان ہےقرآن اور رسول کی سخت اطاعت ہے۔ فرض کا زبردست احساس ہے صبر اور مصائب کے مقابلہ کی مشق ہے۔ خدا کی خوشنودی کےمقابلہ میں خواہشات نفس کو روکنےاور دبانےکی طاقت ہےہر سال رمضان کا مہینہ آتا ہے تاکہ پورے تیس دن تک یہ روزےتمھاری تربیت کریں اور تمھارے اندر یہ تمام اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں تا کہ تم پورے اور پکے مسلمان بنو، اور یہ اوصاف تمھیں اُس عبادت کے قابل بنائیں جو ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں ہر وقت بجالانی چاہیے۔

پھر دیکھو، اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کے لیے روزہ ایک ہی مہینہ میں فرض کیا تاکہ سب مل کر روزہ رکھیں ، علیحدہ علیحدہ نہ رکھیں۔ اس کے بے شمار دوسرے فائدے بھی ہیں۔ نہاری اسلامی آبادی میں پورا ایک مہینہ پاکیزگی کا مہینہ ہوتا ہے ساری فضا پر ایمان اور خوف خدا اور اطاعت احکام اور پاکیزگی اخلاق اور حسن عمل چھا جاتا ہے۔ اس فضا میں برائیاں دب جاتی ہیں اور نیکیاں ابھرتی ہیں۔ میں ایک دوسرےکی مدد کرتے ہیں۔بڑے لوگ اچھےلوگ نیک بدی کے کام کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ امیروں میں غریبوں کی امداد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ خدا کی راہ میں مال صرف کیا جاتا ہے ۔ سارہ سے مسلمان ایک حال میں ہوتےہیں۔اور یہ ایک حال میں ہونا ان کےاندر یہ احساس پیدا کرتا ہےکہ ہم سب ایک جماعت ہیں۔ ان میں برادری،ہمدردی اور باہمی اتحاد پیدا کرنے کے لیے یہ ایک کارگر نسخہ ہے ۔

یہ سب ہمارے ہی فائدے ہیں۔ ہمیں بھوکا رکھنے سے خدا کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے ہماری بھلائی ہی کےلیےرمضان کے روزے ہم پر فرض کیے ہیں ۔ اس فرض کو جو لوگ بغیر کسی معقول وجہ کے ادا نہیں کرتے، وہ اپنےاوپر خود ظلم کرتے ہیں اور سب سے زیادہ شرمناک طریقہ ان کا ہے جو رمضان میں علانیہ کھاتے پیتے ہیں۔ وہ گویا اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسمانوں کی جماعت میں سے نہیں ہیں، ہم کو اسلام کے احکام کی کوئی پروا نہیں ہے ، اور ہم ایسے بے باک ہیں کہ جس کوخدا مانتے ہیں اس کی اطاعت سے بھی کھلم کھلا منہ موڑ جاتے ہیں۔ بتاؤ ، جن لوگوں کے لیے اپنی جماعت سے الگ ہونا ایک آسان بات ہو ، جن کو اپنے خالق و رازق کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ذرا شرم نہ آئے، اور جو اپنے دین کے سب سے بڑے پیشوا کے مقرر کیے ہوئے قانون کو علانیہ توڑ دیں، ان سے کوئی شخص کس و فاداری، کسی نیک مینی اور امانت داری کس فرض شناسی اور پابندی قانون کی امید کر سکتا ہے ؟

زكوة تیسرا فرض زکواۃ سے اللہ تعالیٰ نے(١) ہر مسلمان مال دار پر فرض کیا ہےکہ اگر اس کےپاس کم سے کم چالیس روپےہوں اور ان پر پورا ایک سال گزر جائے تو وہ ان میں سے ایک روپیہ کسی غریب رشتہ دار یا کسی محتاج، کسی مسکین، کسی نو مسلم کسی مسافر یا کسی قرض دار شخص کو دے دے۔

اس طرح اللہ نےامیروں کی دولیت میں غریبوں کےلیے کم از کم ڈھائی فی صد حصہ مقرر کر دیا ہے(٢) اس سے زیادہ اگر کوئی کچھ دے تو یہ احسان ہےجس کا ثواب اور زیادہ ہو گا ۔

(١) زكوة صرف روپے میں نہیں بلکہ سونے اور چاندی اور تجارتی مال اور مویشیوں اور زمین کی پیداوار میں بھی ہے ۔ ان سب چیزوں میں کتنی مقدار میں کتنی زکرہ ہے ، یہ تم کوفتہ کی کتابوں سے معلوم ہو سکتا ہے۔ یہاں محض ذکراہ کی مصلحت اور اس کے فائدے سمجھانا مقصود ہے۔ اس لیے صرف روپے کو مثال کے طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔

(٢) یہ بات یاد رکھنےکےقابل ہےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےخاندان کےلوگوں یعنی سیدوں اور ہاشمیوں کےلیےذکراہ حرام کر دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سادات بنی ہاشم پر زکاۃ دینا تو فرض ہے مگر ذکراہ لینا اُن کے لیے جائز نہیں جو شخص کسی غریب سید ہاشمی کی مد کرنا چاہتا ہو وہ ہدیہ یا تحفہ دے سکتا ہے، صدقہ خیرات اور زکواۃ نہیں لے سکتا۔

دیکھو ! یہ حصہ اللہ کو نہیں پہنچتا۔ وہ تمھاری کسی چیز کا محتاج نہیں ہے لیکن وہ فرماتا ہے کہ تم نے اگر خوش دلی کے ساتھ میری خاطر اپنے کسی غریب بھائی کو کچھ دیا تو گویا مجھ کو دیا ، اس کی طرف سے میں تم کوکئی گنا زیادہ ہدایہ ہوں گا۔ البتہ شرط یہ ہے کہ اس کو دے کر تم کوئی احسان نہ جتاؤ ، اس کو ذلیل و حقیر نه کرو، اس سے شکریہ کی بھی خواہش نہ رکھو، یہ بھی کوشش نہ کرو کہ تمھاری اس بخشش کا لوگوں میں چرچا ہو اور لوگ تمھاری تعریف کریں کہ فلاں صاحب بڑے سخی داتا ہیں۔ اگر ان تمام نا پاک خیالات سے اپنے دل کو پاک رکھو گے اور محض میری خوشنودی کے لیے اپنی دولت میں سے غریبوں کو حصہ دو گے تو میں اپنی بے پایاں دولت میں سے تم کو وہ حصہ دوں گا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نےاس زکواۃ کو بھی ہم پراسی طرح فرض کیا ہےجس طرح نماز روزےکو فرض کیا ہےیہ اسلام کا بہت بڑا رکن ہےاور اس کو رکن اس لیےقرار دیا گیا ہےکہ یہ مسلمانوں میں خدا کی خاطر قربانی اور ایثار کرنےکی صفت پیدا کرتا ہے،اور خود غرضی،تنگ دلی اور زرپرستی کی بڑی صفات کو دُور کرتا ہے۔ کچھی کی پوجا کرنےوالا اور روپےپر جان دینےوالا حریص اور بخیل آدمی اسلام کےکسی کام کا نہیں۔جو شخص خدا کےحکم پر اپنی گاڑھی محنت سےکمایا ہوا مال اپنی کسی ذاتی غرض کےبغیر قربان کر سکتا ہو وہی اسلام کےسیدھے راستے پر چل سکتا ہے ۔ زکواۃ مسلمان کو اس قربانی کی مشق کراتی ہے اور اس کو اس قابل بناتی ہےکہ خدا کی راہ میں جیب مال صرف کرنےکی ضرورت ہو تو وہ اپنی دولت کو سینے سے چھٹائے نہ بیٹھا رہے بلکہ دل کھول کر خرچ کرے۔

لوگوں یعنی سیدوں اور ہاشمیوں کے لیے ذکراہ حرام کر دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سادات بنی ہاشم پر زکاۃ دینا تو فرض ہے مگر ذکراہ لینا اُن کے لیے جائز نہیں جو شخص کسی غریب سید ہاشمی کی مد کرنا چاہتا ہو وہ ہدیہ یا تحفہ دے سکتا ہے، صدقہ خیرات اور زکواۃ نہیں لے سکتا۔

زکواۃ کا دنیوی فائدہ یہ ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کوئی مسلمان تنگا بھوکا اور ذلیل و خوار نہ ہو ۔ جو امیر ہیں وہ غریبوں کو سنبھال لیں ۔ اور جو غریب ہیں وہ بھیک مانگتے نہ پھریں۔ کوئی شخص اپنی دولت کو صرف اپنے عیش و آرام اور اپنی شان و شوکت ہی پر نہ اڑا دےبکہ یہ بھی یاد رکھے کہ اس میں اس کی قوم کے مقیموں اور بیواؤں اور تھا جوں کا بھی حتی ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی حق ہےجو کام کرنےکی قابلیت رکھتےہیں مگر سرمایہ نہ ہونےکی وجہ سےنہیں کر سکتے اس میں اُن بچوں کا بھی حق ہےجو قدرت سےدماغ اور ذہانت لائےہیں مگر غریب ہونےکی وجہ سے تعلیم نہیں پاسکتےاس میں ان کا بھی حتی ہے جو معذور ہو گئےہیں اور کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔جو شخص اس حق کو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہوگا کہ تم اپنے پاس روپے کے کھتےکے کھتے بھرے بیٹھے رہو ، کوٹھیوں میں عیش کرو ، سوٹوں میں چڑھے پڑھےپھرو اور تمھاری قوم کے ہزاروں آدمی روٹیوں کے محتاج ہوں اور ہزاروں کام کے آدمی بیکار مارے مارے پھریں ۔ اسلام ایسی خود غرضی کا دشمن ہے۔کافروں کو ان کی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ جو کچھ دولت ان کے ہاتھ لگے اس کو سمیٹ سمیٹ کر رکھیں اور اُسے سود پر چلا کر اس پاس کے لوگوں کی کہانی بھی اپنے پاس کھینچ لیں۔ لیکن مسلمانوں کو اُن کا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ اگر خدا تمھیں اس قدر رزق دے جو تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو تو اس کو سمیٹ کر نہ رکھو، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کو دو، تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہوں اور تمھاری طرح وہ بھی کچھ کمانے اور کام کرنے کے قابل ہو جائیں۔

حج چوتھا فرض حج ہے ، یہ عمر میں صرف ایک مرتبہ ادا کرناضروری ہےاور وہ بھی صرف اُن کےلیےجو مکہ معظمہ تک جانے کا خرج برداشت کر سکتے ہیں۔

جہاں اب مکہ معظمہ آباد ہےیہاں اب سے ہزاروں برس پہلےحضرت ابراھیم علیہ السلام نےایک چھوٹا سا گھر اللہ کی عبادت کےلیےبنایا تھا۔اللہ نے ان کے خلوص اور محبت کی یہ قدر فرمائی کہ اس کو اپنا ھر قرار دیا اور فرمایا کہ جس کو ہماری عبادت کرنی ہو وہ اسی گھر کی طرف رخ کر کے عبادت کرے۔ اور فرمایا کہ ہر مسلمان خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو ، بشرط استطاعت عمر میں کم از کم ایک مرتبہ اس گھر کی زیارت کےلیےآئےاور اسی محبت کےساتھ ہمارےاس گھر کا طواف کرےجس کے ساتھ ہمارا پیارا بندہ ابراہیم طواف کرتا تھا۔ پھر یہ بھی حکم دیا کہ جب ہمارے گھر کی طرف آؤ تو اپنے دلوں کو پاک کرو۔ نفسانی خواهشات کو ردکرو خونریزی اور بدکاری اور بد زبانی سے بچو۔ اُسی ادب و احترام اور عاجزی کے ساتھ آؤ جس کے ساتھ تم کو اپنے مالک کےدربار میں حاضر ہونا چاہیے ۔ یہ سمجھو کہ ہم اس بادشاہ کی خدمت میں جارہےہیں جو زمین اور آسمان کا حاکم ہے اور جس کے مقابلہ میں سب انسان فقیر ہیں۔اس عاجزی کے ساتھ جب آؤ گے اور خلوص دل کے ساتھ ہماری عبادت کرو گے تو ہم تمھیں اپنی نوازشوں سے مالا مال کر دیں گے۔

ایک لحاظ سےدیکھو تو حج سب سےبڑی عبادت ہےخدا کی محبت اگرانسان کےدل میں نہ ہو تو وہ اپنے کاروبار چھوڑ کر اپنےعزیزوں اور دوستوں سےجُدا ہو کر اتنےلمبےسفر کی زحمت ہی کیوں برداشت کرے گا ہےاس لیےحج کا ارادہ خود ہی محبت اور اخلاص کی دلیل ہےپھر جب انسان اس سفر کےلیے نکلتا ہے تو اس کی کیفیت عام سفروں جیسی نہیں ہوتی ۔ اس سفر میں زیادہ تر اس کی توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔اس کےدل میں شوق اور ولولہ پڑھتا چلا جاتا ہے۔جوں جوں کعبہ قریب آتا جاتا ہے محبت کی آگ اور زیادہ بھڑکتی ہےگناہوں اور نافرمانیوں سے دل خود بخو نفرت کرتا ہےپچھلےگناہوں پر شرمندگی ہوتی ہے۔آئندہ کےلیےخدا سےدعا کرتا ہے کہ فرماں برداری کی توفیق بخشے۔عبادت اور ذکر الہی میں مزہ آنےلگتا ہے۔سجدے لمبےلمبےہونے لگتےہیں اور دیر تک سراٹھانے کو جی نہیں چاہتا۔ قرآن پڑھتا ہے تو اس میں کچھ لطف ہی اور آتا ہے روزہ رکھتا ہے تو اس کی حلاوت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔پھر جب وہ حجاز کی سرزمین پر قدم رکھتا ہےتو اسلام کی ساری ابتدائی تاریخ اس کی آنکھوں کےسامنےپھر جاتی ہے۔چپےچپے پر خدا سےمحبت کرنےوالوں اور اس کےنام پر جان نثار کرنےوالوں کےآثار دکھائی دیتےہیں۔وہاں کی ریت کا ایک ایک ذرہ اسلام کی عظمت پر گواہی دیتا ہےاور وہاں کی ہر کنگری پکارتی ہےکہ یہ ہے وہ سر زمین جہاں اسلام پیدا ہوا اور جہاں سےخدا کا کلم بلند ہوا ۔ اس طرح مسلمان کا دل خدا کے عشق اور اسلام کی محبت سےبھرجاتا ہےاور وہاں سےوہ ایسا گہرا انٹر لےکر آتا ہےجو مرتےدم تک دل سےمحو نہیں ھوتا-

دین کےساتھ اللہ نےحج میں دنیا کےبھی بےشمار فائدےرکھےہیں۔حج کی وجہ سےمکہ دنیا کےمسلمانوں کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔زمین کے ہر کونے سےاللہ کا نام لینے والے ایک ہی زمانے میں وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرےسےملتےہیں،آپس میں اسلامی محبت قائم ہوتی ہےاور یہ نقش دلوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ مسلمان خواہ کسی ملک اور کسی نسل کےہوں،سب ایک دوسرے کےبھائی ہیں اور ایک ہی قوم ہیں۔ اس بنا پر حج ایک طرف خدا کی عبادت ہےتو اس کے ساتھ ہی وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی کانفرنس بھی ہے اور مسلمانوں کی حالگیر برادری میں اتحاد پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔

حمایت اسلام آخری فرض جو خدا کی طرف سے تم پر عائد کیا گیا ہے ، حمایت اسلام ہے۔اگرچہ یہ ارکان اسلام میں سے نہیں ہے مگر یہ اسلامی فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے اور قرآن وحدیث میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔

حمایت اسلام کیا چیز ہے اور کیوں فرض کی گئی ہے ؟ اس کو تم ایک مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہو۔ فرض کرو کہ ایک شخص تم سے دوستی کرتا ہے،مگر ہر آزمائش کے موقع پر ثابت ہوتا ہے کہ اس کو تم سے کوئی ہمدردی نہیں۔وہ تمھارے فائدے اور نقصان کی کوئی پروانہیں کرتا۔ جس کام میں تمھارا نقصان ہوتا ہو اس کو وہ اپنے ذاتی فائد ے کی خاطر بے تکلف کر گزرتا ہے جیس کام میں تمھارا فائدہ ہوتا ہےاس میں تمھارا ساتھ دینے سے وہ صرف اس لیےپرہیز کرتا ہےکہ اس میں خود اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم پر کوئی مصیبت آئےتو وہ تمھاری کوئی مدد نہیں کرتا۔ کہیں تمھاری برائی کی جارہی ہو تو وہ خود بھی بڑائی کرنےوالوں میں شریک ہو جاتا ہے،یاکم از کم تھاری برائی کو خاموشی کےساتھ سنتا ہے۔ تمھارے دشمن تمھارےخلاف کوئی کام کریں تو وہ ان کےساتھ شریک ہوجاتا ہےیا کم از کم تھیں اُن کی شرارتوں سے بچانے کی ذرا کوشش نہیں کرتا۔ بتاؤ ! کیا تم ایسے شخص کو اپنا دوست سمجھو گے؟ تم یقینا کہو گےہرگز نہیں۔ اس لیے کہ وہ محض زبان سے دوستی کا دعوی کرتا ہے۔مگر در حقیقت دوستی اس کے دل میں نہیں ہے۔ دوستی کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان جس کا دوست ہو اس سے محبت اور خلوص رکھے۔اس کا ہمدر دو خیر خواہ ہو۔ وقت پر اس کےکام آئے۔دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی مدد کرے۔اس کی بڑائی سننےتک کا روا دار نہ ہو ۔جب یہ بات اس میں نہیں تو وہ منافق ہے اس کا دوستی کا دعوی جھوٹا ہے۔

اسی مثال پر قیاس کر لو کہ جب تم مسلمان ہونےکا دھوٹی کرتےہو تو تم پر کیا فرض عائد ہوتا ہے مسلمان ہونےکےمعنی یہ ہیں کہ تم میں اسلامی حمیت ہو، ایمانی غیرت ہو،اسلام کی محبت اور اپنے مسلمان بھائیوں کی سچی خیر خواہی ہو۔تم خواہ نیا کا کوئی کام کرد،اس میں اسلام کا مفاد اور مسلمانوں کی بھلائی ہمیشہ تمھارےپیش نظر رہےاپنے ذاتی فائدے کی خاطر یا اپنے کسی ذاتی نقصان سے بچنےکی خاطر تم سے کبھی کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اسلام کے مقاصد اور مسلمانوں کی فلاح کے خلاف ہو ، اور ہر اس کام میں دال اور جان اور مال سے حصہ لو جو اسلام اور سلمانوں کے لیے قید ہو، اور ہر اس کام سے الگ رہو جو اسلام اورمسلمانوں کےلیے نقصان دہ ہو۔ اپنے دین اور اپنی دینی جماعت کی عزت کو اپنی عزت سمجھو ۔جس طرح تم خود اپنی توہین برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کی تو ہین بھی برداشت نہ کرو جس طرح تم خود اپنے خلاف اپنے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیتے اسی طرح اسلام اور سمانوں کے دشمنوں کا بھی ساتھ نہ دو۔ جس طرح تم اپنی جان مال اور عزت کی حفاظت کےلیےہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جاتےہو ، اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھی ہر قربانی پر آمادہ رہو۔یہ صفات ہر اس شخص میں ہونی چاہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، ورنہ اس کا شمار منافقوں میں ہوگا ، اور اس کا عمل خود ہی اس کے زبانی دعوے کو جھوٹا ثابت کر دے گا۔

اسی حمایت اسلام کا ایک شعبه وہ ہےجس کو شریعیت کی زبان میں ”جہاد“ کہتےہیں۔ جہاد کے لفظی معنی ہیںکسی کام میں اپنی انتہائی طاقت صرف کر دینا۔اس معنی کے لحاظ سے جو شخص خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے روپے سے،زبان ہےقلم سے، ہاتھ پاؤوں سے کوشش کرتا ہے وہ بھی جہاد ہی کرتا ہے۔ مگر خاص طور پر جہاد کا لفظ اس جنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو تمام دنیوی اعراض سےپاک ہو کر محض خدا کےلیے اسلام کے دشمنوں سےکی جائے۔شریعیت میں اس جہاد کو فرض کفایہ کہتے ہیں۔ یعنی یہ ایسا فرض ہے جو تمام مسلمانوں پر عاند تو ہوتا ہےلیکن اگر ایک جماعت اس کو ادا کر دے تو باقی لوگوں پرسےاس کوادا کرنےکی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہےالبتہ اگرکسی اسلامی ملک پر دشمنوں کا حملہ ہو تو اس صورت میں جہاد اس ملک کے تمام باشندوں پر نماز اور روزہ کی طرح فرض عین ہو جاتا ہےاور اگروہ مقابلہ کی طاقت نہ رکھتےہوں توان کےقریب جوملک واقع ہوں وہاں کےبھی ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہےکہ جان اور مال سےان کی مدد کرے اور اگر ان کی مدد سے بھی دشمن کا حملہ دفع نہ ہو تو تمام دنیا کےمسلمانوں پر ان کی حمایت اسی طرح فرض ہو جاتی ہےجس طرح نماز اور روزہ فرض ہے۔یعنی اگر کوئی ایک شخص بھی یہ فرض ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا تو گنہگار ہو گا ایسی صورتوں میں جہاد کی اہمیت نماز اور روزے سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے،اس لیے کہ وہ وقت ایمان کے امتحان کا ہوتا ہے۔ جوشخص مصیبت کے وقت اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ نہ دے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے ۔ پھر اس کی نماز کسی کام کی اور اس کے روزے کی کیا وقعت ہے اور اگر کوئی بدبخت ایسا ہو کہ اُس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دے تو وہ یقینی منافق ہے۔اس کی نماز اور اس کا روزہ اور اس کی زکواۃ اور اس کا حج سب کچھ بیکار ہے۔

باب ششم - دین اور شریعیت

دین اور شریعت دین اور شریعت کا فرق ۔ احکام شریعت معلوم کرنے کے ذرائع ۔ فقہ تصوف

اب تک ہم نے تم کو جو کچھ باتیں بتائی ہیں وہ سب دین کی باتیں تھیں۔اب ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی "شریعیت" کے متعلق تم سے کچھ بیان کریں گے ۔ مگر سب سے پہلے تھیں یہ مجھ لینا چاہیے کہ شریعیت کسے کہتے ہیں اور شرعیت اور دین میں فرق کیا ہے ۔

دین اور شریعت کا فرق پچھلے ابواب میں تم کو بتایا جا چکا ہے کہ تمام انبیاء دینِ اسلام ہی کی تعلیم دیتےچلےآئے ہیں۔ اور دین اسلام یہ ہے کہ تم خدا کی ذات وصفات اور آخرت کی جزا و سزا پر اس طرح ایمان لاؤ جس طرح خدا کے پتے پیغمبروں نےتعلیم دی ہے۔ خدا کی کتابوں کو مانو اور تمام من مانے طریقے چھوڑ کراسی طریقے کوحق سمجھو جس کی طرف ان کتابوں میں راہ نمائی کی گئی ہے۔ خدا کے پیغمبروں کی اوقات کرو اور سب کو چھوڑ کر اُنھی کی پیروی کرو ۔خدا کی عبادت میں خدا کے سو کسی کو شریک نہ کرو۔ اسی ایمان اور عبادت کا نام دین ہے اور یہ چیز تمام انبیاء کی تعلیمات میں مشترک ہے۔

اس کے بعد ایک چیز دوسری بھی ہے جس کو شریعیت کہتے ہیں ۔ یعنی عیادت کے طریقے، معاشرت کے اصول ، باہمی معاملات اور تعلقات کےقوانین ، حرام اور حلال ، جائز اور ناجائز کے حدود وغیرہ ۔ ان امور کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں مختلف زمانوں اور مختلف قوموں کے حالات کا لحاظ کر کے اپنےپیغمبروں کےپاس مختلف شریعتیں بھیجی تھیں،تاکہ وہ ہر قوم کو الگ الگ شائستگی اور تهذیب و اخلاق کی تعلیم و تربیت دےکر ایک بڑے قانون کی پیروی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ جب یہ کام مکمل ہو گیا تو اللہ نےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بڑا قانون دےکر بھیج دیا جس کی تمام دفعات تمام دنیا کے لیے ہیں ۔ اب دین تو وہی ہے جو پچھلے انبیا نے سکھایا تھا مگر پرانی شریعتیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ان کی جگہ ایسی شریعت قائم کی گئی ہے جس میں تمام انسانوں کے لیے عبادت کے طریقے اور معاشرت کے اصول اور باہمی معاملات کے قانون اور حلال و حرام کے حدود یکساں ہیں ۔

احکام شریعت معلوم کرنے کے ذرائع شریعت محمدی کے اصول اور احکام معلوم کرنے کے لیے ہمارےپاس دو ذریعے ہیں۔ ایک قرآن مجید ، دوسرے حدیث۔ قرآن مجید کے متعلق توتم جانتے ہو کہ وہ الہ کا کلام ہے اور اس کا برلفظ الہ کی طرف سےہے۔رہی حدیث تو اس سےوہ روایتیں مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےہم تک پہنچی ہیں۔رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی قرآن کی تشریح تھی۔نبی ہونےکےبعد سے ۲۳ سال کی مدت تک آپ ہر وقت تعلیم اور ہدایت میں مشغول رہے اور اپنی زبان اور اپنے عمل سے لوگوں کو بتاتے رہےکہ اللہ کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنےکا طریقہ کیا ہے۔اس زبردست زندگی میں صحابی مرد اور صحابیہ عورتیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز رشتہ دار اور آپ کی بیویاں ، سب کے سب آپ کی ہر بات غور سےسنتےتھے۔ہر کام پر نگاہ رکھتےتھےاور مہر معاملہ میں جو ان کو پیش آتا تھا آپ سےشرعیت کا حکم دریافت کرتےتھےکبھی آپ فرماتےفلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو،جو لوگ حاضر ہوتےوہ اس فرمان کو یاد کر لیتےتھے۔اسی طرح کبھی آپ کوئی کام کسی خاص طریقے پر کیا کرتے تھے۔ دیکھنے والے اس کر بھی یاد رکھتے تھےاور نہ دیکھنے والوں سے بیان کر دیتے تھے کہ آپ نےفلاں کام فلاں طریقےپر کیا تھا۔اسی طرح کبھی کوئی شخص آپ کےسامنے کوئی کام کرتا تو آپ یاتو اس پر خاموش رہتےیا پسندیدگی کا اظہار فرماتےیا منع کر دیتےتھے۔ان سب باتوں کو بھی لوگ محفوظ رکھتے تھے۔ ایسی مبتنی باتیں صحابی مردوں اور صحابیہ عورتوں سے لوگوں نے نہیں، ان کو بعض نے حفظ یاد کر لیا اور بعض نے لکھ لیا اور یہ بھی یاد کر لیا کہ یہ خبر ہم کو کس سے پہنچی ہے ۔ پھر ان روایتوں کو رفتہ رفتہ کتابوں میں جمع کر لیا گیا۔ اس طرح حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ فراہم ہو گیا جس میں خصوصیت کے ساتھ امام مالک اور امام بخاری اور مسلم اور امام ترمذی اور امام ابو داود اور امام نسائی اور امام ابن ماجہ کی کتابیں بہت مستند خیال کی جاتی ہیں۔

فقہ قرآن اور حدیث کےاحکام پر خور کر کےبعض بزرگان دین نے عام لوگوں کی آسانی کے لیے مفصل قوانین مرتب کر دیے ہیں جن کو فقہ“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ چونکہ ہر شخص قرآن کی تمام باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا نہ شخص کے پاس حدیث کا ایسا علم ہے کہ وہ خود شریعت کے احکام معلوم کر سکتےاس لیے جن بزرگان دین نے برسوں کی محنت اور غور و تحقیق کے بعد فقہ کو تقریب کیا ہے ان کے بار احسان سے دنیا کے مسلمان کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ یہ انھی کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج کروڑوں مسلمان بغیر کسی زحمت کے شریعت کی پیروی کر رہے ہیں اور کسی کو خدا اور رسول کے احکام معلوم کرنے میں وقت نہیں پیش آتی ۔

ابتدا میں بہت سےبزرگوں نے نفقہ کو اپنےاپنےطریقہ پر مرتب کیا تھا۔مگر رفتہ رفتہ چار فقہتیں دنیا میں باقی رہ گئیں اور آج دنیا کے مسلمان زیادہ تر انہی کی پیروی کرتے ہیں :

(١) امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی فقہ جس کی ترتیب میں امام ابو یوسف اور امام محمد اور امام زفر اور ایسے ہی چند اور بڑے بڑے علماء کا مشورہ بھی شامل تھا۔ اسے فقہ حنفی کہا جاتا ہے ۔ (٢) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی فقہ ۔ یہ فقہ مالکی کے نام سے مشہور ہے۔ (٣) امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی فقہ ۔ یہ فقہ شافعی کہلاتی ہے۔ (٤) امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کی فقہ۔ اس کو فقہ حنبلی کہتے ہیں۔

یہ چاروں فقہیں رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد دو سو برس کے اندر اندر مرتب ہو گئی تھیں۔ ان میں جواختلافات پائےجاتےہیں وہ بالکل قدرتی اختلافات ہیں۔چند آدمی جب کسی معاملہ کی تحقیق کرتے ہیں یا کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں توان کی تحقیق اور سمجھ میں تھوڑا بہت اختلاف ضرور ہوتا ہےلیکن چونکہ یہ سب حق پسند اور نیک نیت اور مسلمانوں کےخیرخواہ بزرگ تھے،اس لیے تمام مسلمان ان چاروں فقہوں کو برحق مانتے ہیں۔

البتہ یہ ظاہر ہے کہ ایک معاملہ میں ایک ہی طریقہ کی پیروی کی جاسکتی ہے چار مختلف طریقوں کی پیروی نہیں کی جا سکتی،اس لیےاکثر علماء یہ کہتےہیں کہ مسلمانوں کو ان چاروں میں سے کسی ایک کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کےعلاوہ علماء کا ایک گروہ ایسا بھی ہےجو یہ کہتا ہے کہ کسی خاص فقہ کی پیری کرنےکی ضرورت نہیں ہے۔علم رکھنےوالےآدمی کو براہ راست قرآن اور حدیث سےاحکام معلوم کرنے چاہیں اور جو لوگ علم نہ رکھتے ہوں انہیں چاہیےکہ جس عالم پر بھی ان کا اطمینان ہو اس کی پیروی کریں۔ یہ لوگ اہل حدیث کہلاتے ہیں اور اوپر کے چار گروہوں کی طرح یہ بھی حق پر ہیں۔

تصوف فقہ کا تعلق انسان کے ظاہری عمل سے ہے ، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جیسا اور جس طرح حکم دیا گیا تھا اسکو تم بجا لائے یا نہیں۔اگر بجا لائے ہو تو فقہ کو اس سےکچھ بحث نہیں کہ تمھارے دل کا کیاحال تھا۔دل کےحال سےجو چیز بحث کرتی ہےاس کانام تصوف(١) ہےمثلاً تم نماز پڑھتےہو۔اس عبادت میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم نے وضو ٹھیک کیا ہے، قبلہ رو کھڑے ہونےہو، نماز کے تمام ارکان ادا کیےہیں،جو چیزیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں وہ سب پڑھ لی ہیں اور جس وقت جتنی رکعتیں مقرر کی گئی ہیں،ٹھیک اسی وقت اتنی ہی رکھتیں پڑھی ہیں۔جب یہ سب تم نےکر دیا تو فقہ کی رو سے تمھاری نماز پوری ہو گئی۔ لیکن تصوف یہ دیکھتا ہے کہ اس عبادت میں تمھارے دل کا کیا حال رہا ہے تم خدا کی طرف متوجہ ہوئے یا نہیں ہے تمھارا دل دنیا کے خیالات سے پاک ہوا یا نہیں ؟ تمھارے اندر نماز سے خدا کا خوف اور اس کےحاضر و ناظر ہونےکا یقین،اور صرف اسی کی خوشنودی چاہنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا یا نہیں؟ اس نماز نےتمھاری روح کو کس قدر پاک کیا؟تمھارے اخلاق کہاں تک درست کیے؟ تم کو کس حد تک سچا اور پکا عملی مسلمان بنادیا؟ یہ تمام باتیں جو نماز کےاصل مقصد سے تعلق رکھتی ہیں جس قدر کمال کے ساتھ حاصل ہوں گی تصوف کی نظر میں تمھاری نماز اتنی ہی زیادہ کامل ہوگی اور ان میں جتنا نقص رہے گا،اسی لحاظ سےوہ تمھاری نماز کو ناقص قرار دے گا۔ اسی طرح شریعت کےجتنےاحکام ہیں،ان سب میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جوحکم جس صورت میں دیا گیا تھا اسی صورت میں تم اسےبجا لائےیا نہیں،اور تصوف یہ دیکھتا ہےکہ اس حکم پر عمل کرنےمیں تمھارے اندر خلوص اور نیک نیتی اور سچی اطاعت کس قدر تھی۔

(١) قرآن میں اس چیز کا نام تزکیہ اور حکمت ہے ۔ حدیث میں اُسے احسان کا نام دیا گیا ہے۔اور بعد کے لوگوں میں یہی چیز تصوف کے نام سے مشہور ہوئی ۔

اس فرق کو تم ایک مثال سے اچھی طرح سمجھ سکتےہو۔جب کوئی شخص تم سےملتا ہےتو تم اس پر دو حیثتیوں سےنظر ڈالتےہو۔ایک حیثیت تو یہ ہوتی ہےکہ وہ صحیح و تندرست ہےیا نہیں۔اندھا،لنگڑا، لولا تو نہیں ہے۔خوبصورت ہےیا بد صورت۔اچھےکپڑے پہنے ہوئے ہےیا میلا کچھیلا ہے۔دوسری حیثیت یہ ہوتی ہےکہ اس کےاخلاق کیسےہیں۔اس کی عادات وخصائل کاحال کیا ہےاس کی عقل،سمجھ بوجھ کیسی ہے۔وہ عالم ہےیا جاہل،نیک ہےیابد-ان میں سےپہلی نظر گویا فقہ کی ہےاور دوسری نظر گویا تصوف کی ہے۔دوستی کےلیےجب تم کسی شخص کو پسند کرنا چاہو گےتو اس کی شخصیت کےدونوں پہلوؤں کو دیکھو گےتمھاری خواہش یہ ہےگی کہ اس کا ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا۔ اسی طرح اسلام میں بھی پسندیدہ زندگی ہی ہےجس میں شریعت کےاحکام کی پابندی ظاہر کےاعتبار سےبھی صحیح ہو اور باطن کےاعتبار سے بھی۔جس شخص کی ظاہری اطاعت درست ہےاگر باطن میں اطاعت کی روح نہیں ہے اس کےعمل کی مثال ایسی ہے جیسےکوئی آدمی خوبصورت ہو گر مردہ ہو۔ اور جس شخص کے عمل میں تمام باطنی خوبیاں موجود ہوں مگر ظاہری اطاعت درست نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص بہت شریف اور نیک ہو مگر بد صورت اور پاہچ ہو۔

اس مثال سےتم کو فقہ اور تصوف کا باہمی تعلق بھی معلوم ہوگیا ہوگا۔ مگر افسوس ہےکہ بعد کے زمانوں میں علم اور اخلاق کےزوال سےجہاں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں،تصوف کے پاک چشمے کو بھی گنا کر دیا گیا۔لوگوں نے طرح طرح کےغیراسلامی فلسفےگمراہ قوموں سےسیکھےاور ان کو تصوف کےنام سے اسلام میں داخل کر دیا۔عجیب عجیب قسم کےعقیدوں اور طریقوں پر تصوف کا نام چسپاں کیا جن کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں نہیں ہے۔پھر اس قسم کےلوگوں نےرفتہ رفتہ اپنےآپ کو شریعت کی پابندی سے بھی آزاد کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ تصوف کو شریعت سےکوئی واسطہ نہیں۔ یہ کوچہ ہی دوسرا ہے ۔ صوفی کو قانون اور قاعدے کی پابندی سے کیا سروکار۔اس قسم کی باتیں اکثر جاہل صوفیوں سے سُننے میں آتی ہیں مگر دراصل یہ بالکل غلط ہیں ، اسلام میں کسی ایسے تصوف کی گنجائش نہیں ہے جو شریعت کےاحکام سے بے تعلق ہو کسی صوفی کو یہ حق نہیں کہ وہ نماز اور روزےاور حج اور زکواۃ کی پابندی سےآزاد ہو جائے۔کوئی صوفی ان قوانین کےخلاف عمل کرنےکا حق نہیں رکھتا جو معاشرت اور معیشت اور اخلاق اور معاملات اور حقوق و فرائض اور حدود حلال و حرام کے متعلق خدا اور رسول نے بتاتے ہیں۔ کوئی ایسا شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح پیروی نہ کرتا ہو اور آپ کے مقرر کیے ہوتےطریقہ کا پابند نہ ہو، مسلمان صوفی کہلائے جانے کا مستحق ہی نہیں ہے۔ تصوف تو درحقیقت خدا اور رسول کی سچی محبت بلکہ عشق کا نام ہے اور عشق کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کے احکام اور اس کے رسول کی پیروی سے بال برابر بھی انحراف نہ کیا جائے۔ پس اسلامی تصوف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ شریعت کے احکام کو انتہائی خلوص اور نیک نیتی کےساتھ بجالانےاور اطاعت میں خدا کی محبت اور اس کےخوف کی روح بھر دینے ہی کا نام تصوف ہے۔

باب ہفتم - شریعت کے احکام

شریعت کے احکام شریعت کے اصول حقوق کی چار قسمیں۔خدا کےحقوق- نفس کے حقوق ۔ بندوں کے حقوق۔ تمام مخلوقات کے حقوق ۔ عالمگیر اور دائمی شریعت ۔

اس آخری باب میں ہم شریعیت کے اصول اور خاص خاص احکام بیان کریں گے جن سے تم کو علم ہوگا کہ اسلامی شرعیت انسان کی زندگی کو کس طرح ایک بهترین ضابطہ کا پابند بناتی ہے۔ اور ا ضابطہ میں کیسی کیسی حکمتیں رکھی گئی ہیں۔

شریعت کے اصول تم اپنی حالت پر غور کرو گے توتم کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں تم بہت سی قوتیں لےکر آئےہو اور ہر قوت کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے کام لیا جائے۔تم میں عقل ہے ، ارادہ ہے ، خواہش ہے، بنائی ہے ، سماعت ہے ، ذائقہ ہے،ہاتھ پاؤں کی طاقت ہے،نفرت اور غضب ہے،شوق اور محبت ہے، خوف اور لالچی ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔ ہر چیز تم کو اس لیے دی گئی ہےکہ تم کو اس کی ضرورت ہے۔ دنیا میں تمھاری زندگی اور زندگی کی کامیابی اسی پر موقوف ہےکہ تمھاری طبیعت اور فطرت جو کچھ مانگتی ہے اس کو پورا کرو، اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ تم ان تمام قوتوں سے کام لوجو خدا نے تم کر دی ہیں۔

پھر تم دیکھو گے کہ متبنی قوتیں تمھارے اندر رکھی گئی ہیں ان سب سے کام لینے کے ذرائع بھی تم کو دیے گئےہیں۔سب سے پہلے تو خود تمھارا اپنا جسم ہے ہیں میں تمام ضروری آلات موجود ہیں ۔ اس کے بعد تمھارے گرد در پیش کی دنیا ہے میں میں ہر طرح کے بےشمار ذرائع پھیلے ہوتےہیں۔ تمھاری مدد کے لیےخود تمھاری اپنی جنس کے انسان موجود ہیں۔تمھاری خدمت کے لیےجانور ہیں،نباتات اورجمادات ہیں،زمین اور پانی اور ہوا اور حرارت اور روشنی اور ایسی ہی بےحدو حساب چیزیں ہیں۔خدا نے ان سب کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ تم ان سےکام لو اور زندگی بسر کرنےمیں ان سے مدد حاصل کرو۔

اب ایک دوسری حیثیت سےدیکھو۔ تم کو جو قوتیں دی گئی ہیں وہ فائدہ کے لیے دی گئی ہیں، نقصان کے لیے نہیں دی گئیں۔ ان کے استعمال کی صحیح صورت وہی ہو سکتی ہے جس سے صرف فائدہ ہو اور نقصان یا تو بالکل نہ ہو یا اگر ہو بھی تک سے کم و ناگزیر ہوں اس کے سوا جتنی صورتیں ہیں عقل کہتی ہے کہ وہ سب غلط ہونی چاہیں۔ مثلا اگرتم کوئی ایسا کام کر جس خود تم کو نقصان پہنچے تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ اگر تم اپنی کسی قوت سے ایسا کام لو جس سے دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچے تویہ بھی غلطی ہوگی ۔ اگر تم کسی قوت کو اس طرح استعمال کرو کہ جو وسائل تمھیں دیے گئے ہیں وہ فضول ضائع ہوں تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ تمھاری عقل خود بھی اس بات کی گواہی دے سکتی ہے کہ نقصان خواہ کسی قسم کا ہو بچنےکے لائق چیز ہے۔اور اس کو اگر گوارا کیا جا سکتا ہے تو صرف اسی صورت میں جب کہ اس سے بچنا یا تو ممکن ہی نہ ہو یا اس کے مقابلہ میں کوئی بہت بڑا فائدہ ہو۔

اس کے بعد اور آگے بڑھو۔ دنیا میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ جو قصداً اپنی لبعض قوتوں کو اس طرح استعمال کرتے ہیں جن سے یا تو خود انھی کی بعض دوسری قوتوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے، یا دوسرے انسانوں کو پہنچتا ہے، یا ان کے ہاتھوں وہ چیزیں فضول ضائع ہوتی ہیں جو محض فائدہ اٹھانے کےلیے ان کو دی گئی ہیں نہ کہ ضائع کرنے کے لیے ۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو قصداً تو ایسا نہیں کرتے مگر نا واقفیت کی وجہ سے ایسی غلطیاں ان سے ہو جاتی ہیں۔پہلی قسم کے لوگ شریر ہیں اور ان کے لیے ایسے قانون اور ضابطہ کی ضرور رہی ہےجوان کو قابو میں رکھے، اور دوسری قسم کےلوگ ناواقف ہیں اور ان کےلیےایسےعلم کی ضرورت ہےجس سے انھیں اپنی قوتوں کے استعمال کی صحیح صورت معلوم ہو جائے۔

خدا نےجو شریعت اپنے پیغمبر کےپاس بھیجی ہےوہ اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔وہ تمھاری کسی قوت کو ضائع کرنانہیں چاہتی، نہ کسی خواہش کو مٹانا چاہتی ہے،نہ کسی جذبہ کو فنا کرنا چاہتی ہے۔ وہ تم سے نہیں کہتی کہ دنیا کو چھوڑ دو جنگوں اور پہاڑوں میں جار ہو، بھوکے مرد اور ننگے پھر نفس کشی کر کے اپنےآپ کو تکلیفوں میں ڈالو اور دنیا کی راحت و آسائش کو اپنےاوپر حرام کرلو۔ ہرگز نہیں۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی شریعت ہےاور خدا وہی ہےجس نےیہ دنیا انسان کےلیےبنائی ہےوہ اپنےاس کارخانه کومٹانا اور بے رونق کرتا کیسے پسند کرے گا ؟ اس نے انسان کے اندر کوئی قوت بے کار و بے ضرورت نہیں رکھی ہے۔ نہ زمین و آسمان میں کوئی چیز اس لیے پیدا کی ہے کہ اس سے کوئی کام نہ لیا جائے۔ وہ تو خود یہ چاہتا ہے کہ دنیا کا یہ کارخانہ پوری رونق کے ساتھ چلے۔ ہر قوت سے انسان پورا پورا کام ہے۔ دنیا کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائے۔ اور ان تمام ذرائع کواستعمال کرے جو زمین و آسمان میں مهیا کیے گئے ہیں۔ مگر اس طرح کہ جہالت یا شرارت سے نہ خود اپنا نقصان کرے، نہ دوسروں کو نقصان پہنچائے۔خدا نےشریعت کےتمام ضابطے اسی غرض کےلیے بناتے ہیں۔ جتنی چیزیں انسان کے لیے نقصان دہ ہیں ان سب کو شریعت میں حرام کر دیا گیا ہے، اور جو چیزیں مفید میں ان کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ جن کاموں سے انسان خود اپنا یا دوسروں کا نقصان کرتا ہے ان کو شریعت ممنوع ٹھراتی ہے۔ اور ایسے تمام کاموں کی اجازت دیتی ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہوں اور کسی کے لیے نقصان دہ نہ ہوں اس کے تمام قوانین اس اصول پڑنی ہیں کہ انسان کو دنیا میں تمام خواہشیں اور ضرورتیں پوری کرنے اور اپنے فائدے کےلیےہر قسم کی کوشش کرنے کا حق ہے۔مگر اس حق سے اس کو اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے کہ جہالت اور شرارت سے وہ دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے بلکہ جہاں تک ممکن ہو دوسروں کے لیے معاون اور مددگار ہو۔ پھر جن کاموں میں ایک پہلو فائدے کا اور دوسرا پہلو نقصان کا ہو ان میں شریعیت کا اصول یہ ہے کہ بڑےفائدے کے لیے چھوٹے نقصان کو قبول کیا جائے ، اور بڑے نقصان سے بچنےکے لیے چھوٹے فائدے کو چھوڑ دیا جائے ۔

چونکہ ہر شخص ہر زمانے میں ہر چیز اور ہر کام کے متعلق یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا فائدہ اور کیا نقصان ہے،اس لیے خدا نے میں کے علم سے کائنات کا کوئی راز چھپا ہوا نہیں ہے، انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک صحیح ضابطہ بنا دیا ہے۔ اس ضابطہ کی بہت سی مصلحتیں اب سے صدیوں پہلے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں مگر اب علم کی ترقی نےان پر سےپردہ اٹھا دیا ہے۔ بہت سی مصلحتوں کو اب بھی لوگ نہیں سمجھتے، مگر جتنا لم ترقی کرے گا وہ ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔ جولوگ خود اپنےناقص علم اور اپنی ناقص عقل پر بھروسہ رکھتےہیں وہ صدیوں تک غلطیاں کرنےاور ٹھوکریں کھانے کےبعد آخر کار اسی شریعیت کےکسی نہ کسی قاعدے کو اختیار کرنےپر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے خدا کے رسول پر بھروسہ کیا ہے وہ جہالت اور ناواقفیت کے نقصانات سےمحفوظ ہیں، کیونکہ ان کو خواہ مصلحتوں کا علم ہو یا نہ ہو وہ ہر حال میں محض رسول خدا کے اعتماد پر ایک ایسےقانون کی پابندی کرتےہیں جو خالص اور صحیح علم کے مطابق بنایا گیا ہے ۔

حقوق کی چار قسمیں شریعت کی رو سے ہر انسان پر چار قسم کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ ایک خدا کے حقوق، دوسرے خود اس کے نفس اور جسم کے حقوق ، تیسرے بندوں کے حقوق،چوتھے ان چیزوں کے حقوق جن کو خدا نے اس کے اختیار میں دیا ہے تاکہ وہ ان سے کام لے اور قائدہ اٹھا ئے۔ ابھی چار حقوق کو سمجھنا اور ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ایک پیچھےمسلمان کا فرض ہے۔ شریعت ان تمام حقوق کو الگ الگ بیان کرتی ہےاور ان کو ادا کرنے کے لیے ایسے طریقے مقرر کرتی ہے کہ ایک ساتھ سب حقوق ادا ہوں اور حتی الامکان کوئی حق تلف نہ ہونے پائے ۔

خدا کے حقوق خدا کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ انسان صرف اسی کو خدا مانے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔یہ حق کلمہ لا الہ الا اللہ پر ایمان لانے سےادا ہو جاتا ہے، جیساکہ ہم پہلے تم کو بتا چکے ہیں۔

خدا کا دوسرا حق یہ ہےکہ جو ہدایت اس کی طرف سےآئےاس کو سچےدل سے تسلیم کیا جائے ۔ یہ حق محمد رسول اللہ پر ایمان لانے سے ادا ہوتا ہے اور اس کی تفصیل بھی ہم نے تم کو پہلے بتادی ہے ۔

خدا کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے ۔ یہ حق اس قانون کی پیروی سے ادا ہوتا ہے جو خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں بیان ہوا ہےاس کی طرف بھی ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔

خدا کا چوتھا حق یہ ہےکہ اس کی عبادت کی جائے۔اسی حق کو ادا کرنے کےلیے وہ فرائض انسان پر عائد کیے گئے ہیں جن کا ذکر پچھلےباب میں کیا گیا ہے۔چونکہ یہ حق تمام حقوق پر مقدم ہے اس لیے اس کو ادا کرنے میں دوسرے حقوق کی قربانی کسی نہ کسی حد تک ضروری ہے۔ مثلا نماز روزہ وغیرہ فرائض کو ادا کھنےمیں انسان خود اپنے نفس اور حجیم کےبہت سےحقوق قربان کرتا ہےنماز کے لیےانسان صبح اٹھتا ہے اور ٹھنڈے پانی سے وضو کرتا ہے۔ دن اور رات میں کئی بار اپنے ضروری کام اور اپنی دلچسپ تفریحات کو چھوڑتا ہے۔ رمضان میں مہینہ بھر بھوک پیاس اور خواہشات کو روکنےکی تکلیف اٹھاتا ہے۔ زکواۃ ادا کرنے میں اپنےمال کی محبت کو خدا کی محبت پر قربان کرتا ہے۔ حج میں سفر کی تکلیف اور مال کی قربانی گوارا کرتا ہے۔جہاد میں خود اپنی جان اور مال قربان کر دیتا ہے۔اسی طرح دوسرےلوگوں کےحقوق بھی خدا کے حق پر کم وبیش قربان کیے جاتے ہیں۔ مثلا نماز میں ایک لازم اپنے آن کا کام چھوڑ کر اپنے بڑے آقا کی عبادت کے لیے جاتا ہے۔ حج میں ایک شخص سارے کارو بار ترک کرکے مکہ معظمہ کا سفرکرتا ہے اور اس میں بہت سےلوگوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ جہاد میں انسان محض خدا کی خاطر جان لیتا ہےاور جان دیتا ہے ۔ اسی طرح بہت سی وہ چیزیں بھی اللہ کے حق پر خدا کی جاتی ہیں جو انسان کے اختیار میں میں مثلا جانوروں کی قربانی اور مال کا صرفہ ۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنےحقوق کےلیےایسی حدیں مقرر کر دی ہیں کہ اس کےجس حق کو ادا کرنے کے لیے دوسرے حقوق کی جتنی قربانی ضروری ہے اُس سے زیادہ نہ کی جائے مثلا نماز کو لو۔خدا نے جو نمازیں تم پر فرض کر دی ہیں ان کو اداکرنےمیں ہر طرح کی سہولتیں رکھی ہیں۔وضو کےلیےپانی نہ ملےیا ہیمار ہو تو تیمم کرلو۔سفر میں ہوتو نماز قص کر دو۔ پیار ہوتو بیٹھ کر بالٹ کر پڑھ لو پھر نمازمیں جوکچھ پڑھا جاتا ہےوہ بھی اتنا زیادہ نہیں ہے کہ ایک وقت کی نماز میں چند منٹ سے زیادہ صرف ہوں۔سکون کے اوقات میں انسان چاہے تو پوری سورہ بقرہ پڑھ لے مگر کاروبار کےاوقات میں لمبی نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ہے ۔ پھر فرض نمازوں سے بڑھ کر اگر کوئی شخص نفل نمازیں پڑھنا چاہے تو خدا اس سے خوش ہوتا ہے ۔ مگر خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم راتوں کی نیند اور دن کا آرام اپنے اوپر حرام کرلو، یا اپنی روزی کمانے کےاوقات کو نمازیں پڑھنے میں صرف کر دو ، یا بندگان خدا کے حقوق تلف کر کےنمازیں پڑھتے چلے جاؤ۔

اس طرح روزے میں بھی ہرقسم کی آسانیاں کی گئی ہیں۔ صرف سال میں ایک مہینہ کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ وہ بھی سفر کی حالت میں اور بیماری میں قضا کیے جا سکتے ہیں۔ اگر روزہ دار بیمار ہو جائےاور جان کا خوف ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے۔روزے کےلیےجتنا وقت مقرر کیا گیا ہے اس میں ایک منٹ کا اضافہ کرنا بھی درست نہیں۔ سحری کےآخری وقت تک کھانےکی اجازت ہے اور افطار کا وقت آتے ہی فورا روزہ کھول لینےکا حکم ہے۔فرض روزوں کےعلاوہ اگر کوئی شخص نفل روزےرکھےتو یہ خدا کی مزید خوشنودی کاسب ہوگا مگر خدا اس کو پسند نہیں کرتا کہ تم پےدر پےروزے رکھتےچلےجاؤ اور اپنےآپ کو اتنا کمزور کر لو کہ دنیا کے کام کاج نہ کر سکوں۔

زکواۃ کےلیے بھی خدا نےکم سے کم مقدار مقرر کی ہے۔اور وہ بھی اُن لوگوں پر فرض ہےجو بقدر نصاب مال رکھتےہیں۔اس سےزیادہ اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں صدقہ و خیرات کرے توخدا اس سے خوش ہوگا مگر خدا یہ ہیں چاہتا کہ تم اپنے نفس اور اپنے متعلقین کے حقوق کو قربان کر کے سب کچھ صدقہ و خیرات میں دےڈالو اور خود تنگ دست ہو کر بیٹھ رہو۔اس میں بھی اعتدال برتنےکا حکم ہے ۔

پھر حج کو دیکھو۔ اول تویہ فرض ہی ان لوگوں پر کیا گیا ہےزاد راہ رکھتےہوں اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے قابل ہوں ۔ پھر اس میں مزید آسانی یہ رکھی گئی ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ جب سہولت ہو جا سکتےہو۔ اور اگر راستہ میں لڑائی ہو رہی ہو یا بدامنی ہو کہ جان کا خطرہ غالب ہو تو حج کا ارادہ ملتوی کر سکتے ہو۔ اس کے ساتھ والدین کی اجازت بھی ضروری قرار دی گئی ہے تا کہ بوڑھے ماں باپ کو تمھاری غیر موجودگی میں تکلیف نہ ہو۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق میں دوسروں کے حقوق کا کس قدر لحاظ رکھا ہے۔

اللہ کے حق پر انسانی حقوق کی سب سے بڑی قربانی جہاد میں کی جاتی ہے کیونکہ اس میں انسان اپنی جان اور مال بھی خدا کی راہ میں فدا کرتا ہے اور دوسروں کی جان ومال کو بھی قربان کر دیتا ہے مگر جیسا کہ ہم نےاوپر تھیں بتایا ہے، اسلام کا اصول یہ ہےکہ بڑے نقصان سےبچنےکےلیےچھوٹے نقصان کو گوارا کرنا چاہیے۔اس اصول کو پیش نظر کھو اور پھر دیکھو کہ چند سویاچند بزار یا چند لاکھ آدمیوں کےہلاک ہو جانے کی بہ نسبت بدر ہا زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ حق کے مقابلہ میں باطل کو فروغ ہو، خدا کا دین کفر و شرک اور دہریت کے مقابلہ میں دب کر رہے اور دنیا میں گمراہیاں اور بد اخلاقیاں پھیلیں۔ لہذا اس بڑے نقصان سےبچنےکےلیے اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو حکم دیا کہ جان و مال کےکم تر نقصان کو ہماری خوشنودی کے لیے گوارا کرلو ، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جتنی خونریزی ضروری ہے اس سے زیادہ نہ کرو ۔ بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں اور زخمیوں اور بیماروں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ ، صرف ان لوگوں سےلڑو جو باطل کی حمایت میں تلوار اٹھاتےہیں۔دشمن کےملک میں بلا ضرورت تباہی و بربادی نہ پھیلاؤ دشمنوں پر فتح پاؤ تو ان کےساتھ انصاف کرد کسی بات پر ان سےمعاہدہ ہو جائےتو اس کی پابندی کرو ۔جب وہ حق کی دشمنی سے باز آجائیں تو لڑائی بند کر دو۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ خدا کاحق ادا کرنے کے لیے انسانی حقوق کی جتنی قربانی ضروری ہے اس سے زیادہ قربانی کو جائز نہیں رکھا گیا۔

نفس کے حقوق اب دوسری قسم کے حقوق کولو ، لعینی انسان پر خود اس کے اپنےنفس اور جسم کے حقوق ۔

شاید تم کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ انسان سب سےبڑھ کر خود اپنےاوپر ظلم کرتا ہے۔یہ واقعی حیرت انگیز ہے بھی۔کیونکہ ظاہر میں تو ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ اپنے آپ سے محبت ہے اور شاید کوئی شخص بھی اس بات کا اقرار نہ کرے گا کہ وہ اپنا آپ ہی دشمن ہے۔ لیکن تم ذرا غور کرو گے تو اس کی حقیقت تم کو معلوم ہو جائے گی۔

انسان میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس پر جب کوئی خواہش غالب ہو جاتی ہے تو وہ اس کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی خاطر جان بوجھ کر، یا بے پینےبو مجھے اپنا بہت کچھ نقصان کر لیتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ ایک شخص کو نشہ کی چاٹ لگ گئی ہےتو وہ اس کےپیچھےدیوانہ ہو رہا ہےاور صحت کا نقصان؟ روپے کانقصان ، عزت کا نقصان،غرض ہر چیز کا نقصان گوارا کیے جاتا ہے۔ایک دوسرا شخص کھانے کی لذت کا ایسا دلدادہ ہے کہ ہرقسم کی الا بل کھا جاتا ایک دوسرا شخص کھانے کی لذت کا ایسا دلدادہ ہےکہ ہرقسم کی الا بل کھا جاتا کا بندہ بن گیا ہے اور ایسی حرکتیں کر رہا ہے جن کا لازمی نتیجہ اس کی تباہی ہے۔ایک چوتھے شخص کو روحانی ترقی کی دھن سمائی ہے تو وہ اپنی جان کے پیچھےہاتھ دھو کر پڑ گیا ہے ، اپنے نفس کی تمام خواہشات کو دبارہا ہے ، اپنے جسم کی ضروریات کو پورا کرنے سے انکار کر رہا ہے ، شادی سے بچتا ہے، کھانے پینےسے پر ہیز کرتا ہے، کپڑے پہنے سے انکار کرتا ہے حتی کہ سانس لینے پر بھی ماضی نہیں ۔ جنگوں اور پہاڑوں میں جابیٹھتا ہےاور یہ سمجھتا ہے کہ دنیا اس کے لیےبنائی ہی نہیں گئی ہے۔ ہم نے محض مثال کے طور پر انسان کی انتہا پسندی کےیہ چند نمونے پیش کیے ہیں، اور نہ اس کی بے شمار صورتیں ہیں جن کو ہم رات دن اپنے گردو پیش دیکھ رہے ہیں ۔

اسلامی شریعت چونکہ انسان کی فلاح و بہبود چاہتی ہے اس لیے وہ اس کو خبر دار کرتی ہے کہ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق (تیرے اوپر خود تیرے اپنےبھی حقوق ہیں)۔

وہ ان تمام چیزوں سےاس کو روکتی ہے جو اس کو نقصان پہنچانےوالی ہیں۔مثلاً شراب،تاڑی، افیون اور دوسری نشہ آور چیزیں ، سور کا گوشت درندے اور زہریلے جانور، ناپاک حیوانات ، خون اور مردار جانور وغیرہ،کیوں کہ انسان کی صحت اور اخلاق اور عقلی و روحانی قوتوں پران چیزوں کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ان کےمقابلہ میں وہ پاک اور مفید چیزوں کو اس کےلیےحلال کرتی ہےاور اس سے کہتی ہے کہ تو اپنے جسم کو پاک غذاؤں سے محروم نہ کر کیونکہ تیرے جسم کا تیرے اوپر حق ہے ۔

وہ اس کو ننگا رہنے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ خدا نےتیرے جسم کے لیے جو زینت (لباس) اتاری ہے اس سے فائدہ اٹھا،اور اپنے جسم کے ان حصوں کو ڈھانک کر رکھ جنھیں کھولنا بے شرمی ہے۔

وہ اس کو روزی کمانے کا حکم دیتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ بیکار نہ بیٹھ ، بھیک نہ مانگ، بھوکانه مرا خدا نے جو قو تیں تجھے دی ہیں اُن سے کام لے اور جس قدر ذرائع زمین و آسمان میں تیری پرورش اور آسائش کے لیےپیدا کیے گئے ہیں ان کو جائز طریقوں سے حاصل کر ۔

وہ اس کو نفسانی خواہشات کے دہانے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نکاح کر۔

وہ اس کو نفس کشی سےمنع کرتی ہےاور اسےکہتی ہےکہ تو آرام آسانش اور زندگی کےلطف کو اپنے اوپر حرام نہ کرےاگر تو روحانی ترقی اور خدا سےقربت اور آخرت کی نجات چاهتا ہےتو اس کےلیےدنیاچھوڑنے کی ضرورت نہیں،اسی دنیا میں پوری اور پنکی دنیا داری کرتےہوئےخدا کو یاد کرنا اور اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور اس کےبنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرنا دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔

وہ خود کشی کو حرام کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تیری جان دراصل خدا کی ملک ہے اور یہ امانت سمجھے اس لیے دی گئی ہے کہ تو خدا کی مقدر کی ہوئی مدت تک اس سے کام لے،نہ اس لیے کہ اس کو ضائع کردیے۔

بندوں کے حقوق ایک طرف شریعت نے انسان کو اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرتےکا حکم دیا ہے ، تو دوسری طرف یہ بھی قید لگادی ہے کہ ان حقوق کو ادا کرنےمیں وہ کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کرےجس سے دوسرے لوگوں کےحقوق متاثر ہوں۔کیونکہ اسطرح اپنی خواہشات اور ضرورتیں پوری کرنےسےانسان کا اپنانفس بھی گندہ ہوتا ہےاور دوسروں کو بھی طرح طرح کےنقصانات پہنچتےہیں۔چنانچه شریعت نےچوری،لوٹ مار،رشوت،خیانت سود خواری اور جعلسازی کو حرام کیا ہےکیونکہ ان ذرائع سےانسان جو کچھ بھی فائدہ اٹھاتا ہے وہ دراصل دوسروں کے نقصان سے حاصل ہوتا ہے۔جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور بہتان تراشی کو بھی حرام کیا ہے۔کیونکہ یہ سب افعال دوسروں کےلیےنقصان رساں ہیں۔جوئےسنتےاور لاٹری کو بھی حرام کیا ہے۔کیونکہ اس میں ایک شخص کا فائدہ ہزاروں آدمیوں کےنقصان پر مبنی ہوتا ہے دھوکےاور فریب کےلین دین اورایسےتمام تجارتی معاہدات کو بھی حرام کیا ہےجن میں کسی ایک فریق کو نقصان پہنچنےکا امکان ہو۔ قتل اور فتنہ و فساد و بھی حرام کیا ہے۔کیونکہ ایک شخص کو اپنےکسی فائدے یا اپنی کسی خواہش کی تسکین کے لیے دوسروں کی جان لینے یا ان کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے ۔ زنا اور عمل قوم لوط کو بھی حرام کیا ہے،کیونکہ یہ افعال ایک طرف خود اُس شخص کی صحت کو خراب اور اس کے اخلاق کو گندہ کرتے ہیں جو ان کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسری طرف ان سے تمام سوسائٹی میں بےحیائی اور بد اخلاقی پھیلتی ہے،گندی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،نسلیں خراب ہوتی ہیں،فتنے برپا ہوتے ہیں،انسانی تعلقات بگڑتے ہیں،اور تہذیب و تمدن کی جڑ کٹ جاتی ہے۔

یہ تو وہ پابندیاں ہیں جو شریعیت نے اس غرض سے لگاتی ہیں کہ ایک شخص اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے۔ عمر انسانی تمدن کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو نقصان نہ پہنچائے ۔ بلکہ اس کےلیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں میں باہمی تعلقات اس طرح قائم کیے جائیں کہ وہ سب ایک دوسرے کی بہتری میں مدد گار ہوں۔ اس غرض کے لیےشریعت نے جو قوانین بناتے ہیں ان کا محض ایک خلاصہ ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔

انسانی تعلقات کی ابتدا خاندان سے ہوتی ہے۔اس لیےسب سےپہلےاس پر نظر ڈالو۔خاندان در اصل اس مجموعہ کو کہتےہیں جو شوہر بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اس کےلیےاسلامی قاعدہ یہ ہےکہ روزی کمانا اور خاندان کی ضروریات مہیا کرنا اور اپنےبیوی بچوں کی حفاظت کرنا مرد کا فرض ہے۔اور عورت کافرض یہ ہےکہ مرد جو کچھ کما کر لائےاس سےوہ گھر کا انتظام کرے،شوہر اور بچوں کو زیادہ سےزیادہ آسائش بہم پہنچائےاور بچوں کی تربیت کر ہے۔اور بچوں کا فرض یہ ہےکہ ماں باپ کی اطاعت کریں ان کا ادب ملحوظ رکھیں اور جب بڑےہوں تو ان کی خدمت کریں۔خاندان کے اس انتظام کو درست رکھنے کےلیےاسلام نے دو تدبیریں اختیار کی ہیں۔ایک یہ کہ شوہر اور باپ کوگھر کا حاکم مقرر کردیا ہے،کیونکہ جس طرح ایک شہر کاانتظام ایک حاکم کےبغیر اور ایک مدرسہ کا انتظام ایک ہیڈ ماسٹر کےبغیر درست نہیں رہ سکتا،اسی طرح گھر کا انتظام بھی ایک حاکم کےبغیر درست نہیں رہ سکتا جس گھر میں ہر ایک اپنی مرضی کا مختار ہوگا، اس گھر میں خواہ مخواہ افراتفری پیچھےگی۔ آسائش اور خوشی نام کو نہ رہے گی۔ شوہر ایک طرف تشریف لےجائیں گےبیوی دوسری طرفت کا راستہ لے گی اور بچوں کی مٹی پلید ہوگی۔ ان سب خرابیوں کو دور کرنے کے لیے گھر کا ایک حاکم ہونا ضروری ہے،اور وہ مرد ہی ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ گھروالوں کی پرورش اور حفاظت کا ذمہ دار ہے۔دوسری تدبیر یہ ہےکہ گھر سےباہر کے سب کاموں کا بوجھ مرد پر ڈال کر عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ بلاضرورت گھر سے باہر نہ جائے۔اس کو بیرون خانہ کے فرائض سےاسی لیےسبکدوش کیا گیا ہےکہ وہ اندرون خانہ کے فرائض انجام وے اور اس کے باہر نکلنےسےگھر کی آسائش اور بچوں کی تربیت میں خلل نہ واقع ہو۔اس کا مطلب نہیں ہے کہ عورتیں بالکل گھر سے باہر قدم ہی نہ نکالیں۔ضرورت پیش آنےپر ان کو جانےکی اجازت ہے۔مگر شریعت کا منشا یہ ہےکہ ان کے فرائض کا اصلی دائرہ ان کا گھر ہونا چاہیے اور ان کی قوت تمام تو گھر کی زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہونی چاہیے۔

خون کے رشتوں اور شادی بیاہ کے تعلقات سے خاندان کا دائرہ پھیلتا ہے۔ اس دائرے میں جو لوگ ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں ان کے تعلقات درست رکھنےاور ان کو ایک دوسرے کا مددگار بنانےکے لیے شریعیت نے مختلف قاعدے مقرر کیے ہیں جو بڑی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے چند قاعدے یہ ہیں :

(١) جن مردوں اور عورتوں کو فطرتاً ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہنا پڑتا ہے ان کو ایک دوسرے کے لیے حرام کر دیا ہے مثلا ماں اور بیٹا،باپ اور بیٹی، سوتیلی بیٹی اور سوتیلا باپ ، سوتیلی ماں اور سوتیلا بیٹا ، بھائی اور بہن ، دودھ شریک بھائی اور بہن، چچا اور بھتیجی ، پھوپھی اور بھتیجا ، ماموں اور بھانجی، خالہ اور بھانجا ، ساس اور داماد ، خسر اور بہو ۔ ان سب رشتوں کو حرام کرنے کے بے شمار فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایسےمرد اور عورتوں کےتعلقات نہایت پاک رہتے ہیں اور وہ خالص محبت کے ساتھ بے اول اور بے تکلفت ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔

(٢) حرام رشتوں کے علاوہ کہنے کے دوسرے مردوں اور عورتوں کےدرمیان شادی بیاہ کو جائز قرار دیا گیا تاکہ آپس کےتعلقات اور زیادہ بڑھیں۔جو لوگ ایک دوسرےکی عادتوں اور خصلتوں سے واقف ہوتے ہیں اُن کےدرمیان شادی بیاہ کا تعلق زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔اجنبی گھرانوں میں جوڑ لگانےسےاکثر نا موافقت کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے اسلام میں گف والے کو غیر کف پر ترجیح دی گئی ہے۔

(٣) کنبےمیں غریب اور امیر، خوشحال اور بد حال سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ہر شخص پر سب سے زیادہ حق اس کےرشتہ داروں کا ہے۔اس کا نام شریعت میں صلہ رحمی ہے جس کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رشتہ داروں سے بے وفائی کرنے کو قطع رحمی کہتے ہیں اور یہ اسلام میں بہت بڑا گناہ ہےکوئی قرابت دار مفلس ہو یا اس پر کوئی مصیبت آئےتو خوشحال عزیزوں کافرض ہےکہ اس کی مدد کریں۔ صدقہ و خیرات ہیں بھی خاص طور پر رشتہ داروں کے حق کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

(٤) وراثت کا قانون بھی اس طرح بنایا گیا ہےکہ جو شخص کچھ مال چھوڑ کر مرےخواہ وہ کم ہو یا زیادہ،ہر حال وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائےبلکہ اس کے رشتہ داروں کو تھوڑا یا بہت حصہ پہنچ جائے۔ بیٹا،بیٹی،بیوی،شوہر،ماں،باپ، بھائی،بہن،انسان کےسب سےزیادہ قریبی قدار ہیں۔اس لیے وراثت میں پہلے ان ہی کے حصے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوں تو ان کے بعد جو رشتہ دار قریب تر ہوں ان کو حصہ پہنچا ہے ، اور اس طرح ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی دولت بہت سےعزیزوں کے کام آتی ہے۔ اسلام کا یہ قانون دنیا میں بےنظیر قانون ہے اور اب دوسری قومیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں۔ مگر افسوس کہ مسلمان اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اکثر اس قانون کی خلاف ورزی کرنےلگےہیں۔خصوصاً لڑکیوں کا حصہ نہ دینےکی رسم پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت پھیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور قرآن کے صریح احکام کی مخالفت ہے۔

خاندان کے بعد انسان کے تعلقات اپنے دوستوں ، ہمسایوں ، اہل محلہ،اہل شہر اور اُن لوگوں کے ساتھ ہوتےہیں جن سے اس کو کسی نہ کسی طرح کےمعاملات پیش آتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ راستبازی انصاف اور حسین اخلاق بر تو کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ کسی کی دل آزاری نہ کرو۔ فحش گوئی اور بدکلامی سےبچو۔ایک دوسرے کی مدد کرو۔بیماروں کی عیادت کےلیے جاؤ۔کوئی مرجائے تو اس کےجنازے میں شریک ہو کسی پر مصیبت آئےتو اس سے ہمدردی کرو.جو غریب محتاج ، معذور لوگ ہوں ان کو ڈھانک چھپ کر مدد پہنچاؤ۔قیموں اور بیواؤں کی خبرگیری کرو،بھوکوں کو کھانا کھلاؤ بنوں کو کپڑے پہناؤ بےکاروں کو کام پر لگانے میں مدد دو ۔اگرتم کو خدا نےدولت دی ہےتو اس کو صرف اپنے عیش میں نہ اڑا دو ۔ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنا اور ریشمی لباس پہننا اور اپنے روپے کو فضول تفریحوں، آسائشوں میں ضائع کرنا اسی لیے اسلام میں ممنوع ہے کہ جو دولت ہزاروں بندگان خدا کو رزق ہم پہنچا سکتی ہے اسے کوئی شخص صرف اپنے ہی اوپر خرچ نہ کردے۔یہ ایک ظلم ہے کہ جس روپےسےبہتوں کےپیٹ پل سکتےہوں وہ محض ایک زیور کی شکل میں تمھارےجسم پر لٹکا ر ہے، یا ایک برتن کی شکل میں تمھاری میز پر سجا کرے ، یا ایک قالین بنا ہوا تمھارے کمرے میں پڑا رہے ، یا آتشبازی بن کر آگی میں مل جائے۔اسلام تم سےتمھاری دولت چھینا نہیں چاہتا۔جو کچھ تم نے کمایا ہے یا ورثہ میں پایا ہے اس کے وارث تم ہی ہو۔ وہ تمھیں اس بات کا پوراحتی دیتا ہے کہ اپنی دولت سے لطف اٹھاؤ،وہ اس کو بھی جائز رکھتا ہے کہ جو نعمت خدا نے تم کو دی ہے اس کا اثر تمھارے لباس اور مکان اور سواری میں ظاہر ہو۔مگر اس کی تعلیم کا مقصد یہ ہےکہ تم ایک سادہ اور معتدل زندگی اختیار کرو۔اپنی ضرورتوں کو حد سے نہ بڑھاؤ اور اپنے نفس کے ساتھ اپنے عزیزوں،دوستوں ، ہمسایوں، اہل قوم اور اہل ملک اور عام انسانوں کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔

ان چھوٹے دائروں سے نکل کر اب بڑے دائرے پر نظر ڈالو، جو تمام دنیا کے مسلمانوں پر عادی ہے ۔ اس دائرے میں اسلام نے ایسے قوانین اور ضابطے مقرر کیے ہیں جن سے مسلمان ایک دوسرے کی بھلائی میں مددگار ہوں اور برائیاں رونما ہونے کی صورتیں جہاں تک ممکن ہو پیدا ہی نہ ہونے دی جائیں۔مثال کے طور پر ان میں سے چند کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں۔

(١) قومی اخلاق کی حفاظت کےلیےیہ قاعدہ مقرر کیا ہےکہ جن عورتوں اور مردوں کےدرمیان حرام رشتے نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سےآزادانہ میل جول نہ رکھیں۔عورتوں کی سوسائٹی الگ رہےاور مردوں کی انگ عورتیں زیادہ تر خانگی زندگی کےفرائض کی طرف متوجہ رہیں۔اگر ضرورتاً باہر نکلیں تو بناؤ سنگھار کےساتھ نہ نکلیں۔سادہ کپڑےپہن کر آئیں۔جسم کو اچھی طرح ڈھانگیں چہرہ اور ہاتھ اگر کھولنےکی شدید ضرورت نہ ہو توان کو بھی چھپائیں۔اور اگر واقعی کوئی ضرورت پیش آجائے تو صرف اس کو پورا کرنےکےلیےہاتھ منہ کھولیں۔اس کےساتھ مردوں کو حکم دیا کہ غیر عورتوں کی طرف دیکھنےسےپر ہیز کریں ۔ اچانک نظر پڑ جائے تو نظر ہٹا لیں۔ دوبارہ دیکھنےکی کوشش کرنا معیوب ہے اور ان سےملنے کی کوشش معیوب تر۔ہر مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی حفاظت کرے اور خدا نے خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کےلیےنکاح کا ہو دائرہ مقرر کر دیا ہےاس سےباہر نکلنےکی کوشش کیا معنی، خواہش بھی اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں۔

(٢) قومی اخلاق ہی کی حفاظت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ کوئی مرد گھٹنےاور ناف کے درمیان کا حصہ،اور کوئی عورت چہرے اور ہاتھ کےسوا اپنے جسم کا کوئی حصہ کسی کے سامنے نہ کھولے خواہ وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس کو شریعت کی زبان میں ستر کہتےہیں اور اس کا چھپانا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہےکہ لوگوں میں حیا کا مادہ پیدا ہو اور وہ بے حیائیاں نہ پھیل سکیں جن سے آخر کار بد اخلاقی پیدا ہوتی ہے ۔

(٣) اسلام ایسی تفریحوں اور شغلوں کو بھی پسند نہیں کرتا جو اخلاق کو خراب کرنے والے اور بڑی خواہشات کو ابھارنے والے اور وقت اور صحت اورروپے کو ضائع کرنے والے ہوں ۔ تفریح بجائے خود نہایت ضروری چیز ہےانسان میں زندگی کی روح اور عمل کی طاقت پیدا کرنے کے لیے کام اور محنت کے ساتھ اس کا ہونا بھی لازم ہے۔ مگر وہ ایسی ہونی چاہیے جوروح کو تازہ کرنے والی ہو نہ کہ اور زیادہ غلیظ اور کثیف بنانے والی۔ بیہودہ تفریحیں جن میں ہزاروں آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر جرائم کے فرضی واقعات اور بے شرمی کے نظارے دیکھتے ہیں، تمام قوموں کے اخلاق و عادات کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں ، خواہ بظا ہر کیسی ہی خوش نما ہوں ۔

(٤) قومی اتحاد اور فلاح و بہبود کےلیےمسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ آپس کی مخالفت سےبچیں۔فرقہ بندی سےپرہیز کریں۔ کسی معاملہ میں اختلاف اپنےہو تو نیک نیتی کےساتھ قرآن اور حدیث سے اس کا فیصلہ کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر تصفیہ نہ ہو سکے تو آپس میں لڑنے کے بجائے خدا پر اس کا فیصلہ چھوڑ دیں۔قومی فلاح و بہبود کےکاموں میں ایک دوسرےکی معاونت کریں۔اپنی قوم کے سرداروں کی اطاعت کرتے رہیں جھگڑے برپا کرنےوالوں سے الگ ہو جائیں اور آپس کی لڑائیوں سے اپنی طاقت کو برباد اور اپنی قوم کو رسوا نہ کریں۔

(٥) مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں سے علوم و فنون حاصل کرنے اور ان کے کارآمد طریقے سیکھنے کی پوری اجازت ہے، مگر زندگی میں ان کی نقالی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی نقالی اسی وقت کرتی ہے جب وہ اپنی ذلت اور کتری تسلیم کرلیتی ہے ۔ یہ غلامی کی بدترین قسم ہے، اپنی شکست کا کھلا ہوا اعلان ہے،اور اس کا آخری نتیجه یہ ہےکہ نقالی کرنےوالی قوم کی تہذیب فنا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے رسول الل صل اللہ علیہ وسلم نے غیر قوموں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔یہ بات معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی قوم کی طاقت اس کےلباس یا اس کےطرز زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے علم اور اس کی تنظیم اور اس کی قوت عمل کے سبب سے ہوتی ہے۔ پس اگر طاقت حاصل کرنا چاہتےہو تو وہ چیزیں لوجن سےقومیں طاقت حاصل کرتی ہیں، نہ کہ وہ چیزیں جن سے قومیں غلام ہوتی ہیں ، اور آخر کار دوسروں میں جذب ہو کر اپنی قومی ہستی ہی فنا کر دیتی ہیں۔

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں مسلمانوں کو تعصب اور تنگ نظری کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ ان کے بزرگوں کو برا کہنے یا ان کے مذہب کی توہین کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ان سے خود جھگڑا نکالنے سےبھی روکا گیا ہے ۔ وہ اگر ہمارے ساتھ صلح و آشتی رکھیں اور ہمارے حقوق پر دست درازی نہ کریں تو ہم کو بھی ان کے ساتھ صلح رکھنے اور دوستی کا برتاؤ کرنے اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ ہماری اسلامی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور خوش اخلاقی برتیں۔ کج خلقی اور ظلم اور تنگ دلی مسلمان کی شان سےبعید ہے۔مسلمان دنیا میں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ حسن اخلاق اور شرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنےاصولوں سے دلوں کی تسخیر کرے ۔

تمام مخلوقات کے حقوق اب ہم مختصر ابو تھی قسم کے حقوق بیان کریں گے ۔

خدا نے اپنی بے شمار مخلوق پر انسان کو اختیارات عطا کیے ہیں۔ انسان اپنی قوت سے ان کو تابع کرتا ہے ، ان سے کام لیتا ہے ، ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ بالاتر مخلوق ہونے کی حیثیت سے اس کو ایسا کرنے کا پوراحق حاصل ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کے حقوق بھی انسان پر ہیں اور وہ حقوق یہ ہیں کہ انسان ان کو فضول ضائع نہ کرے ، ان کو بلا ضرورت نقصان یا تکلیف نہ پہنچائے ، اپنے فائدے کے لیے ان کو کم سے کم اور اتنا نقصان پہنچائے جو ضروری ہو ، اور ان کو استعمال کرنے کے لیے بہتر سے بہتر طریقے اختیار کرے۔

شریعت میں اس کےمتعلق بکثرت احکام بیان ہوئے ہیں مثلا جانوروں کو صرف ان کےنقصان سے بچنے کےلیے یا غذا کےلیے ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے،مگر بلا ضرورت کھیل اور تفریح کے لیے ان کی جان لینےسے روکا گیا ہے۔ کھانے کے جانوروں کو ہلاک کرنے کے لیے ذبح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے جو حیوان سے سفید گوشت حاصل کرنے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔ اس کےسوا جو طریقے ہیں وہ اگرکم تکلیف دہ ہیں تو گوشت کےبہت سےفائدے ان میں منائع ہو جاتےہیں۔ اور اگر گوشت کےفائدے محفوظ رکھنے والے ہیں تو ذبح کے طریقے سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ اسلام ان دونوں پہلووں سے بچنا چاہتا ہے ۔ اسلام میں جانوروں کو تکلیف دے دے کر بے رحمی کے ساتھ مارنا سخت مکروہ ہے ۔ وہ زہریلےجانوروں اور درندوں کو صرف اس لیے مارنے کی اجازت دیتا ہے کہ انسانی جان اُن کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر ان کو بھی عذاب دے کر مارنا جائز نہیں رکھتا۔جو حیوانات سواری اور باربرداری کے کام آتے ہیں ان کو بھوکا رکھنے اوران سے سخت مشقت لینے اور ان کو بے رحمی کے ساتھ مارنے پیٹنے سے منع کرتا ہے۔ پرندوں کو خواہ مخواہ قید کرنا بھی مکروہ قرار دیتا ہے ۔ جانور تو جانور اسلام اس کو بھی پسند نہیں کہ تا کہ درختوں کو بے فائدہ نقصان پہنچایا جائے۔ تم ان کےپھل پھول توڑ سکتے ہو ۔ مگر انھیں خواہ مخواہ برباد کرنے کا تمھیں کوئی حق نہیں۔نباتات تو پھر بھی جان رکھتے ہیں ، اسلام کسی بے جان چیز کو بھی فضول ضائع کرنا جائز نہیں رکھتا، حتی کہ پانی کو بھی خواہ مخواہ بہانے سے منع کرتا ہے۔

عالمگیر اور دائمی شریعت یہ اُس شریعیت کے احکام اور قوانین کا ایک بہت ہی سرسری خلاصہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمام دنیا کےلیے اور ہمیشہ کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس شریعت میں انسان اور انسان کےدر میان بجز ع قید سے اور عمل کے کسی اور چیز کی بنا پر فرق نہیں کیا گیا ہے جن مذہبوں اور شریعتوں میں نسل اور ملک اور رنگ کے لحاظ سے انسانوں میں امتیاز کیا گیا ہے وہ کبھی عالمیگر نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ ایک نسل کا انسان دوسری نسل کا انسان نہیں بن سکتا، نہ ساری دنیا سمٹ کر ایک ملک میں سما سکتی ہے ، نہ حبشی کی سیاہی اور چینی کی زردی اور فرنگی کی پلیدی کبھی بدل سکتی ہے۔ اس لیے اس قسمہ کے مذاہب اور قوانین لازمی طور پر ایک ہی قوم میں رہتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اسلام کی شریعت ایک عالمگیر شریعت ہے۔ہر شخص جو لا إله إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پر ایمان لائےوہ شریعت کی رو سے مسلمانوں کی قوم میں بالکل مساوی حقوق کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے ۔ یہاں نسل ، زبان ، ملک ، وطن ، رنگ کسی چیز کا بھی کوئی امتیاز نہیں۔

پھر یہ شریعت ایک دائمی شریعت بھی ہے ۔ اس کے قوانین کسی مخصوص قوم اور مخصوص زمانے کے رسم و رواج پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس فطرت کے اصول پر مبنی ہیں جس پر انسان پیدا کیا گیا ہے ۔ جب یہ فطرت ہر زمانے اور ہر حال میں قائم ہے تو وہ قوانین بھی ہر زمانے اور ہر حال میں قائم رہنے چاہییں جو اس پر مبنی ہوں ____________________________

کتاب دینیات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Theology