وجیه تسمیہ دنیا میں جتنے مذاہب ہیں ان میں سے ہر ایک کا نام یا تو کسی خاص شخص کے نام پر رکھا گیا ہے یا اُس قوم کے نام پر جس میں وہ مذہب پیدا ہوا ۔مثلاً عیسائیت کا نام اس لیے عیسائیت ہے کہ اس کی نسبت حضرت عیسی کی طرف ہے ۔ بوده مت کا نام اس لیے بود جو مت ہے کہ اس کے بانی مہاتما ہےتھے ۔زردشتی مذہب کا نام اپنے بانی زردشت کے نام پر ہے ۔یہودی مذہب ایک خاص قبیلہ میں پیدا ہوا جس کا نام یہوداہ تھا۔ ایسا ہی حال دوسرے مذاہب کےناموں کا بھی ہے۔ مگر اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی شخص یا قوم کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اس کا نام ایک خاص صفت کو ظاہر کرتا ہے جو لفظ اسلام" کے معنی میں پائی جاتی ہے ۔ یہ نام خود ظاہر کرتا ہے کہ ی کسی ایک شخص کی ایجاد نہیں ہے ۔ کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس کو شخص یا مک با قوم سے کوئی علاقہ نہیں ۔ صرف اسلام" کی صفت لوگوں میں پیدا کرنا اس کا مقصد ہے ۔ ہر زمانے اور ہر قوم کے جن بچے اور نیک لوگوں میں یہ صفت پائی گئی ہے وہ سب "مسلم " تھے "مسلم" ہیں اور آئندہ بھی ہوں گئے۔
لفظ اسلام کے معنی اسلام کے معنی عربی زبان میں اطاعت اور فرمانبرداری کے ہیں۔ مذہب اسلام کا نام "اسلام" اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری ہے۔
اسلام کی حقیقت تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں سب ایک قاعدے اور قانون کی تابع ہیں۔ چاند اور تارے سب ایک زبر دست قاعدے میں بندھے ہوئےہیں جس کے خلاف وہ بال برابر جنبش نہیں کر سکتے ۔ زمین اپنی خاص رفتار کےساتھ گھوم رہی ہے۔ اس کے لیے جو وقت اور رفتار اور راستہ مقرر کیا گیا ہے اُس میں ذرا فرق نہیں آتا ۔ پانی اور ہوا ، روشنی اور حرارت ، سب ایک ضابطےکے پابند ہیں۔ جمادات ، نباتات اور حیوانات میں سے ہر ایک کے لیے جو قانون مقرر ہے اُسی کے مطابق یہ سب پیدا ہوتے ہیں ، بڑھتے ہیں اور کاجیتے ہیں اور مرتے ہیں۔ خود انسان کی حالت پر بھی تم غور کر دئے تو تم کو معلوم ہوگا کہ وہ بھی قانون قدرت کا تابع ہے ۔ جو قاعدہ اس کی زندگی کے لیے مقر کیا گیا ہے اُسی کے مطابق نس لیتا ہے ، پانی اور غذا اور حرارت اور روشنی حاصل کرتا ہے۔ اس کے دل کی حرکت ، اس کے خون کی گردش، اس کے سانس کی آمد ورفت اسی ضابطے کی پابند ہے ۔ اس کا دماغ ، اس کا معدہ ، اس کے پھیپھڑے ، اس کے اعصاب اور عضلات ، اس کے ہاتھ پاؤں ، زبان ، آنکھیں ، کان اور ناک غرض اس کے جسم کا ایک ایک حصہ وہی کام کر رہا ہے جو اس کے لیے مقرر ہے اور اسی طریقہ پر کر رہا ہے جو اس کو بتا دیا گیا ہے۔
یہ زبر دست قانون جس کی بندش میں بڑےبڑے سیاروں سے لے کر زمین کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ذرہ تک جکڑا ہوا ہے،ایک بڑے حاکم کا بنایا ہوا قانون ہےساری کائنات اور کائنات کی ہر چیز اس حاکم کی مطیع اور فرماں بردار ہے،کیونکہ وہ اسی کےبنائے ہوئے قانون کی اطاعت و فرماں برداری کر رہی ہے۔ اس لحاظ سےساری کائنات کا مذہب اسلام ہےکیونکہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ خدا کی اطاعت اور فرماں برداری ہی کو اسلام کہتے ہیں۔ سورج ،چاند اور تار سب مسلم ہیں۔زمین بھی مسلم ہے۔ ہوا اور پانی اور روشنی بھی مسلم ہیں۔درخت اور پتھر اور جانور بھی مسلم ہیں اور وہ انسان بھی جو خدا کو نہیں پہچانتا اور خدا کا انکار کرتا ہےیا جو خدا کےسوا دوسروں کو پوجتا ہےاور خدا کےساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہےہاں وہ بھی اپنی فطرت اور طبیعیت کے لحاظ سے مسلم ہی ہے کیونکہ اس کا پیدا ہونا، زندہ رہنا اور مرنا سب کچھ خدائی قانون ہی کے ماتحت ہے ۔ اس کے تمام اعضاء اور اس کے جسم کے ایک ایک رونگٹے کا مذہب اسلام ہے ۔ کیونکہ وہ سب خدائی قانون کے مطابق بنتے اور بڑھتے اور حرکت کرتے ہیں۔ حتی کہ اس کی وہ زبان بھی اصل میں کلم ہے جس سے دو نادانی کے ساتھ شرک اور کفر کے خیالات ظاہر کرتا ہے۔اس کا وہ سر بھی پیدائشی مسلم ہےجس کو وہ زبر دستی خدا کے سوا دوسروں کے سامنے جھکاتا ہے ۔ اس کا وہ دل بھی خطرہ مسلم ہے جس میں وہ بے علمی کی وجہ سےخدا کے سوا دوسروں کی عزت اور محبت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہ سب چیزیں خدائی قانون کی فرماں بردار میں اور ان کی ہر جنبش خدا ہی کے قانون کے ماتحت ہوتی ہے
انسان کی ایک حیثیت تو یہ ہے کہ وہ دیگر مخلوقات کی طرح قانون قدرت کے زبر دست قاعدوں سے جکڑا ہوا ہے اور ان کی پابندی پر مجبور ہے
۔دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ عقل رکھتا ہے۔ سوچنے،سمجھنے اور برائےقائم کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ اور اپنے اختیار سے ایک بات کو مانتا ہےدوسری بات کو نہیں مانتا۔ ایک طریقہ کو پسند کرتا ہے ، دوسرے طریقہ کو پسند نہیں کرتا۔ زندگی کے معاملات میں اپنے ارادے سے خود ایک ضابطہ بناتا ہے یا دوسروں کے بناتے ہوئے ضابطہ کو اختیار کرتا ہےاس حیثیت میں دہ دنیا کی دوسری چیزوں کے مانند کسی مقر قانون کا پابند نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ اس کو اپنے خیال، اپنی رائے اور عمل میں انتخاب کی آزادی بخشی گئی ہے۔
پہلی حیثیت میں وہ دنیا کی تمام دوسری چیز ان کے ساتھ پیدایشی مسلم ہےاور مسلم ہونے پر مجبور ہے۔ جیسا کہ ابھی تم کومعلوم ہوچکا ہے۔
دوسری حیثیت میں مل ہونایا نہ ہونا اس کے اختیار میں ہے اور اسی اختیار کی بنا پر انسان دو طبقوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔
ایک انسان وہ ہے جو اپنے خالق کو پہچانتا ہے ۔ اس کو اپنا آقا اور مالک تسلیم کرتا ہے اور اپنی زندگی کے اختیاری کاموں میں بھی اسی کے پسند کیے ہوئےقانون کی فرماں برداری کرتا ہے۔ یہ پورا مسلم ہے ۔ اس کا اسلام مکمل ہو گیا ۔کیونکہ اب اس کی زندگی سراسر اسلام ہے۔ اب وہ جان بوجھ کر بھی اُسی کا فرماں بردار بن گیا جس کی فرماں برداری وہ بغیر جانے تو مجھے کر رہا تھا۔ اب وہ اپنےارادے سے بھی اسی خدا کا مطلع ہے جس کا مطیع وہ بلا ارادہ تھا۔ اب اس کا علم سچا ہے کیونکہ وہ اس خدا کو جان گیا جس نے اس کو جاننے اور علم حاصل کرنےکی قوت دی ہے ۔ اب اس کی عقل اور رائے درست ہے کیونکہ اس نے سوچ سمجھ کر اُسی خدا کی اطاعت کا فیصلہ کیا جس نے اسے سوچنے سمجھنے اور رائے قائم کرنے کی قابلیت بخشی ہے۔ اب اس کی زبان صادق ہے ، کیونکہ وہ اسی خدا کا اقرار کر رہی ہے جس نے اس کو بولنے کی قوت عطا کی ہے ۔ اب اس کی ساری زندگی میں راستی ہی راستی ہے کیونکہ وہ اختیار و بے اختیاری دونوں حالتوں میں خدا کے قانون کا پابند ہے ۔ اب ساری کائنات سے اس کی آشتی ہو گئی۔ کیونکہ کائنات کی ساری چیزیں جس کی بندگی کر رہی ہیں اسی کی بندگی وہ بھی کر رہا ہے۔اب وہ زمین پر خدا کا خلیفہ (نائب) ہے ، ساری دنیا اس کی ہے اور وہ خدا کا ہے-
کفر کی حقیقت اس کے مقابلہ میں دوسرا انسان وہ ہے جو سلم پیدا ہوا اور اپنی زندگی بھر ہے ہےمجھے قسم ہی رہا، مگر اپنے علم اور قل کی قوت سے کام لے کر اس نے خدا کو پہچا اور اپنے اختیار کی مد میں اس نے خدا کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ پیشخص کافر ہے۔ کفر کے اصلی معنی چھپانے اور پردہ ڈالنے کے ہیں۔ ایسے شخص کو کافر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی فطرت پر نادانی کا پردہ ڈال رکھا ہے ۔وہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔اس کا سارا جسم اورجسم کا ہر حصہ اسلام کی فطرت پر کام کر رہا ہے۔اس کے گرد و پیش ساری دنیا اسلام پر چل رہی ہے۔مگر اس کی عقل پر پرڈ پڑ گیا ہے۔تمام دنیا کی اور خود اپنی فطرت اس سے چھپ گئی ہے۔ وہ اس کےتےخلاف سوچتا ہے ۔ اس کے خلاف چلنے کی کوشش کرتا ہے ۔
کفر کے نقصانات کفر ایک جہالت ہے ، بلکہ اصلی جہالت کفر ہی ہے۔اس سےبڑھ کر اور کیا جہالت ہو سکتی ہے کہ انسان خدا سے ناواقف ہو ۔ ایک شخص کائنات کے اتنے بڑے کارخانے کو رات دن چلتے ہوئے دیکھتا ہے، گر نہیں جانتا کہ اس کارخانےکو بنانےاور چلانے والا کون ہے ۔ وہ کون کا ریگر ہے جس نےکو کئے اور لوہے اور تسلیم اور سوڈیم اور ایسی ہی چند چیزوں کو لاکر انسان جیسی لاجواب مخلوق پیدا کر دی۔ ایک شخص دنیا میں ہر طرف ایسی چیزیں اور ایسے کام دیکھتا ہے جن میں بے نظیر انجینیری،ریاضی دانی کیمیا دانی اور ساری دانائیوں کےکمالات نظر آتےہیں مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ علم در حکمت اور دانش والی ہستی کونسی ہےمیں نے کائنات میں یہ سارےکام انجام دیےہیں۔ سوچو اور غور کروا لیےشخص کے لیے صحیح علم کے دروازے کیسےکھل سکتےہیں جس کوعلم کا پہلا سراہی نہ ملا ہو ؟ خواہ کتنا ہی غور و فکر کرے اور کتنی ہی تلاش وجس میں سرکھپائے اس کو کسی شعبے میں علم کا سیدھا اور عینی راستہ نہ ملے گا ، کیونکہ اس کو شروع میں بھی جہالت کا اندھیرا نظر آئے گا اور آخر میں بھی وہ اندھیرے کے سوا کچھ ن دیکھے گا۔ کفر ایک فلم ہے بلکہ سب سے بڑا ظلم کفر ہی ہے۔ تم جانتے ہو کہ ظلم کسے کہتے ہیں ہے ظلم یہ ہے کہ کسی چیز سےاس کی طبیعت اور فطرت کےخلاف زیر دستی کام لیا جائے۔تم کو معلوم ہو چکا ہےکہ دنیا میں مبتنی چیزیں ہیں سب اللہ کی تابع فرمان میں اور ان کی فطرت ہی "اسلام" یعنی قانون خداوندی کی اطاعت ہے۔ خود انسان کا پورا جسم اور اس کا ہر حصہ اسی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔خدا نے ان چیزوں پر انسان کو حکومت کرنے کا تھوڑا سا اختیار تو ضرور دیا ہے مگر ہر چیز کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس سے خدا کی مرضی کے مطابق کام لیا جائے۔لیکن جو شخص کفر کرتا ہے وہ ان سب چیزوں سے ان کی فطرت کے خلاف کام لیتا ہے۔ وہ اپنے دل میں دوسروں کی بزرگی اور محبت اور خون کے بہت بٹھاتا ہے۔ حالانکہ دل کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس میں خدا کی بزرگی اور محبت اور خوف ہو۔ وہ اپنے تمام اعضاء سے اور دنیا کی اُن سب چیزوں سے جو اس کے اختیار میں ہیں ، خدا کی مرضی کے خلاف کام لیتا ہے ، حالانکہ ہر چیز کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ اس سے قانون خداوندی کے مطابق کام لیا جائے۔بتاؤ ، ایسے شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو اپنی زندگی میں ہر وقت ہر چیز پرحتی کہ خود اپنے وجود پر بھی ظلم کرتا رہے ؟
کفر صرف ظلم ہی نہیں ، بغاوت اور ناشکری اور نمک حرامی بھی ہے۔ ذرا غور کرو ،انسان کے پاس خود اپنی کیا چیز ہے؟ اپنےدماغ کو اس نے پیدا کیا ہے یا خُدا نے ؟ اپنے دل ، اپنی آنکھوں اور اپنی زبان اور اپنے ہاتھ پاؤں اور اپنےتمام اعضا کا وہ خود خالق ہےیا خدا ہےاس کےگرد و پیش مبنی چیزیں میں ان کو پیدا کرنے والا خود انسان ہے یا خدا ہے ان سب چیزوں کو انسان کے لیےمفید اور کارآمد بنانا اور انسان کو ان کے استعمال کی قوت دینا انسان کا اپنا کام ہے یا خدا کا بہ تم کہو گے یہ سب چیزیں خدا کی ہیں۔ خدا ہی نےان کو پیدا کیا ہے،خدا ہی ان کا مالک ہےاور خدا ہی کی بخشش سےیہ انسان کو حاصل ہوئی ہیں ۔ جب اصل حقیقت یہ ہے تو اس سے بڑا باغی کون ہوگا جو خدا کے دیے ہوئےدماغ سے خدا ہی کے خلاف سوچنے کی خدمت لے ؟ خدا کے بخشے ہوئے دل میں خدا ہی کےخلاف خیالات رکھے ؟ خدا نے جو آنکھیں ہو زبان،جو ہاتھ پاؤں اور جو دوسری چیزیں اس کو عطا کی ہیں ان کو خدا ہی کی پسند اور اس کی مرضی کےخلاف استعمال کرے ؟ اگر کرتی ملازم اپنے آقا کا نمک کھا کر اس سےبےو فائی کرتا ہے تو تم اس کو نمک حرام کہتے ہو۔ اگر کوئی سرکاری افسر حکومت کے دیے ہوئےاختیارات کو خود حکومت ہی کے خلاف استعمال کرتا ہے تو تم اُسےباغی کہتےہو۔اگر کوئی اپنےمحسن سےوفا کرتا ہےتو تم اسے احسان فراموش کہتے ہو۔ لیکن انسان کے مقابلہ میں انسان کی نمک حرامی ، غداری اور احسان فراموشی کی کیا حقیقت ہے ؟ انسان ، انسان کو کہاں سےرزق دیتا ہے ؟ وہ خدا کا دیا ہوا رزق ہی تو ہے۔ حکومت اپنے ملازموں کو جو اختیار دیتی ہے وہ کہاں سے آئےہیں بے خدا ہی نے تو اس کو فرماں روائی کی طاقت دی ہے ۔ کوئی احسان کرے والا دوسرے شخص پر کہاں سے احسان کرتا ہے ؟ سب کچھ خدا کا تو بخشا ہوا ہے۔انسان پر سب سے بڑا حق اس کے ماں باپ کا ہے۔ مگر ماں اور باپ کےدل میں اولاد کے لیے محبت کس نے پیدا کی ہے ماں کے سینےمیں دودھ کس نےاتارا ؟ باپ کے دل میں یہ بات کس نے ڈالی کہ اپنے گاڑھے پیسنےکی کمائی گوشت پوست کےایک بیکار لوتھڑےپر خوشی خوشی لٹادے اور اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں اپنا وقت،اپنی دولت،اپنی آسائش سب کچھ قربان کر دیےاب بتاؤ کہ جو خدا انسان کا اصلی محسن ہےحقیقی بادشاہ ہےسب سے بڑا پروردگار ہے اگر اسی کےساتھ انسان کفر کرے ، اس کو خدا نہ مانےاس کی بندگی سےانکار کرے اور اس کی اطاعت سے منہ موڑے،تو یہ کیسی سخت بغاوت ہے یہ کتنی بڑی احسان فراموشی اور نمک حرامی ہے؟
کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کفر سے انسان خدا کا کچھ بگاڑتا ہے۔ جس بادشاہ کی سلطنت اتنی بڑھی ہے کہ ہم بڑی سے بڑی دُور مین لگا کر بھی اب تک یہ معلوم نہ کر سکے کہ وہ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے ، جس بادشاہ کی طاقت اتنی زبر دست ہے کہ ہماری زمین اور سورج اور مریخ اور ہےہی کروڑوں سیارے اس کےاشاروں پر گیند کی طرح پھر رہےہیں،جس بادشاہ کی دولت ایسی بے پایاں ہے کہ ساری کائنات میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اس میں کوئی حصہ دار نہیں ، جو بادشاہ ایسا بے نیاز ہے کہ سب اس کے محتاج نہیں،بھلا انسان کی کیا ہستی ہےکہ اس کےماننےیا نہ ماننے سے ایسے بادشاہ کو کوئی نقصان ہو ؟اس سے کفر اور سرکشی اختیار کر کےانسان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑتا البتہ خود اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے ۔
کفر اور نافرمانی کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ کے لیے ناکام ونامراد ہویا۔ایسے شخص کو علم کا سیدھا راستہ کبھی نہ مل سکے گا۔ کیونکہ جو علم خود اپنے خالق کو نہ جانےو کس چیز کو صحیح جان سکتا ہے ؟ اس کی عقل ہمیشہ ٹیڑھے راستہ پر چلے گی ۔ کیونکہ بو عقل خود اپنے بنانے والے کو پہچاننے میں غلطی کرے وہ اور کس چیز کو صحیح سمجھ سکتی ہے ؟ وہ اپنی زندگی کے سارے معاملات میں ٹھوکوں پر ٹھوکریں کھائے گا۔ اس کے اخلاق خراب ہوں گے ۔ اس کا تمدن خراب ہوگا۔ اس کی معاشرت خراب ہو گی۔ اس کی معیشت خراب ہو گی۔ اس کی حکومت اور سیاست خراب ہوگی ۔ وہ دنیا میں بدامنی پھیلائے گا۔ کشت و خون کرے گا۔ دوسروں کے حقوق چھینے گا۔ فظلم وستم کرے گا۔ خود اپنی زندگی کو اپنے بڑے خیالات اور اپنی شرارت اور بد اعمالی سےاپنے لیے تلخ کرلے گا۔ پھر جب وہ اس دنیا سے گزر کر آخرت کے عالم میں پہنچے گا وہ سب چیزیں جن پردہ تمام مرظلم کرتارہا تھا اس کے خلاف نائش کریں گی۔ اس کا دماغ ، اس کا دل ، اس کی آنکھیں ہیں کے کان ، اس کے ہاتھ پاؤں ، غرض اس کا رونگٹا رونگٹا خدا کی عدالت میں اس کے خلاف استغاثہ کرے گا کہ اس ظالم نے تیرے خلاف بغاوت کی اور اس بغاوت میں ہم سے زبر دستی کام لیا۔ وہ زمین جس پر وہ نافرمانی کے ساتھ چلا اور بہا، وہ رزق میں کو اس نے ناجائز طریقوں سے کہا یا، اور وہ دولت ہو حرام ہے آئی اور حرام پر خرچ کی گئی ، وہ سب چیزیں جن پر اس نے باقی بن کر نا منا تصرف کیا ، وہ سب آلات و اسباب جن سے اُس نے اس بغاوت میں کام لیا، اس کے مقابلہ میں فریادی بن کر آئیں گے اور خدا جو حقیقی منصف ہے ان مظلوم کی داد رسی میں اس باغی کو ذلت کی سزا دے گا۔
اسلام کے فائدے یہ ہیں کفر کے نقصانات - آداب ایک نظریہ بھی دیکھو کہ اسلام کا طریق اختیا کرنے میں کیا فائدہ ہے۔ اور تم کو معلوم ہو چکا ہےکہ اس جہان میں ہر طرف خدا کی خدائی کے نشانات پھیلے ہوتے ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم الشان کارخانہ جو ایک متحمل نظام اور ایک اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے خود اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا بنانے والا اور چلانے والا ایک زبر دست فرماں روا ہے جس کی حکومت سے کوئی چیز سرتابی نہیں کر سکتی ۔ تمام کائنات کی طرح خود انسان کی فطرت بھی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کرے۔ چنانچہ بے سمجھے وہ رات دن اس کی اطاعت کر ہی رہا ہےکیونکہ اس کےقانون قدرت کی خلاف ورزی کر کے وہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔
لیکن خدا نےانسان کو علم کی قابلیت،سوچنےاور سمجھنےکی قوت اور نیک و بد کی تمیز دےکر ارادے اور اختیار میں تھوڑی سی آزادی بخش دی ہے۔اس آزادی میں در اصل انسان کا امتحان ہےاس کی عقل کا امتحان ہے۔اس کی تمیز کا امتحان ہے۔اور اس بات کا امتحان ہےکہ اسےجو آزادی عطا کی گئی ہے اس کو وہ کسی طرح استعمال کرتا ہےاس امتحان میں کوئی ایک طریقہ اختیار کرنےپر انسان کو مجبور نہیں کیا گیا ہے کیونکہ بھٹور کرنےسےامتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہےتم سمجھ سکتےہو کہ امتحان میں سوالات کا پرچہ دینےکےبعد اگر تم کو ایک خاص جواب دینےپر مجبور کر دیا جائے تو ایسے استمان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔تمهاری مثل قابلیت تو اسی وقت کھلے گی جب تم کو تقسیم کا جواب دینے کا اختیار حاصل ہو۔ اگر تم نے صحیح جواب دیا تو کامیاب ہوگئےاور آئندہ ترقیوں کا دروازہ تمھارے لیے کھل جائے گا ۔ اور اگر غلط جواب دیا تو نا کام ہو گے اور اپنی ناقابیت سے خود ہی اپنی ترقی کا رستہ روک لو گےبالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے امتحان میں انسان کو آزاد رکھا ہے کہ جو طریقہ چاہے اختیار کرے ۔
اب ایک شخص تو وہ ہے جو خود اپنی اور کا نات کی فطرت کو نہیں سمجھتا۔اپنے خالق کی ذات وصفات کو پہچاننے میں غلطی کرتا ہے۔ اور اختیار کی جو آزادی سے دی گئی ہے،اس سے فائدہ اٹھا کر نا فرمانی اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتا ہےیہ شخص علم اور عقل اور تمیز اور فرض شناسی کے امتحان میں ناکام ہو گیا۔اس نے خود ثابت کر دیا کہ وہ ہر حیثیت سے ادنی درجے کا آدمی ہے ۔ لہذا اس کا رہی انجام ہونا چاہیے ہو تم نے اوپر دیکھ لیا۔
اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص ہےجو اس امتحان میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے علم اور عقل سے صحیح کام لےکرخدا کو جانا اور مانا،حالانکہ وہ ایسا کرنےپر مجبور نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نیک وبد کی تمیز میں بھی غلطی نہ کی اور اپنےآزاد انتخاب سےنیکی ہی کو پسند کیا۔حالانکہ وہ بدی کی طرف بھی مائل ہونے کا اختیار رکھتا تھا۔ اس نے اپنی فطرت کو سمجھا، اپنے خدا کو پہچانا اور نافرمانی کا اختیار رکھنےکےباوجود خدا کی فرماں برداری ہی اختیار کی۔اس شخص کو امتحان میں اسی وجہ سےتو کامیابی نصیب ہوئی کہ اس نے اپنی عقل سے ٹھیک کام لیا، آنکھوں سے ٹھیک دیکھا، کانوں سے ٹھیک سنا، دماغ سےٹھیک رائےقائم کی اور دل سےاُسی بات کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا جو ٹھیک تھی۔ اس نےحق کو پہچان کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ حق شناس ہےاور حق کےآگےسرجھکا کر یہ بھی دکھا دیا کہ وہ حق پرست ہے ۔
وہ علم اور عمل کے ہر میدان میں صحیح راستہ اختیار کرے گا۔ اس لیے کہ جو شخص ذات خداوندی سےواقف ہےاور اس کی صفات کو پہچانتا ہےوہ در اصل علم کی ابتداء کو بھی جانتا ہے اور اس کی انتہا کو بھی۔ ایسا شخص کبھی غلط راستای میں بھٹک نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کا پہلا قدم بھی صحیح پڑا ہےاور میں آخری منزل پر اسےجانا ہےاس کو بھی وہ یقین کےساتھ جانتا ہےاب وہ فلسفیانہ غور و خوض سےکائنات کےاسرار سمجھنےکی کوشش کرےگا،مگر ایک کا فر فلسفی کی طرح کبھی شکوک و شبہات کی بھول بھلیوں میں گم نہ ہو گا۔ وہ سائنس کےذریعہ سے قدرت کے قوانین کو معلوم کرنے کی کوش کریگا۔ کائنات کے چھپے ہوئےخزانوں کو نکالے گا۔ خدا نے جو تو میں دنیا میں اور خود انسانوں کے وجود میں پیدا کی ہیں،ان سب کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کرمعلوم کرےگا۔زمین و آسمان میں متبنی چیزیں ہیں ان سب سے کام لینے کے بہتر سے بہتر طریقے دریافت کرے گا۔مگر خداشناسی ہر موقع پر اس کو سائنس کا غلط استعمال کرنے سےروکےگی ۔وہ کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑے گا کہ میں ان چیزوں کا مالک ہوں،میں نےفطرت پر فتح پالی ہے ، میں اپنے نفع کے لیے سائنس سے مددنوں گا، دنیا کو زیر و زبر کر دوں گا ، لوٹ مار اور گشت و خون کر کے اپنی طاقت کا سکہ سارےجہان میں بجھا دوں گا۔ یہ ایک کافرسائنٹسٹ کا کام ہے مسلم سائنٹسٹ جتنا زیادہ سائنس پر عبور حاصل کرے گا، اتنا ہی زیادہ خدا پر اس کا یقین بڑھے گا،اور اتنا ہی زیادہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے گا۔ اس کا عقیدہ یہ ہوگا کہ میرےمالک نے میری قوت اور میرے علم میں جو اضافہ کیا ہے اس سے میں اپنی اور تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے کوشش کروں گا۔ اور یہی اس کا صحیح شکل ہے۔
اسی طرح تاریخ ، معاشیات ، سیاسیات ، قانون اور دوسرے علوم و فنون میں بھی ایک مسلم اپنی تحقیق اور جدو جہد کے لحاظ سے ایک کافر کے مقابلہ میں کم نہ رہے گا۔ مگر دونوں کی نظر میں بڑا فرق ہوگا مسلم ہر علم کا مطالعہ صحیح نظر سےکرےگا،صحیح مقصد کےلیے کرے گا، اورصحیح نتیجه پر پہنچےگا۔ تاریخ میں وہ انسان کےگزشتہ تجربوں سےٹھیک ٹھیک سبق لےگا۔قوموں کی ترقی و تنزل کے صحیح اسباب معلوم کر لے گا۔ اُن کی تہذیب و تمدن کی مفید چیزیں دریافت کرے گا۔ان کے نیک دل لوگوں کے حالات سے فائدہ اٹھائے گا۔ اور ان تمام چیزوں سے بچے گا جن کی بدولت پچھلی قومیں تباہ ہو گئیں ۔معاشیات میں دولت کمانےاور خرچ کرنےکےایسےطریقےمعلوم کرنےگا جن سےتمام انسانوں کا بھلا ہو۔نہ یہ کہ ایک کا فائدہ اور بہتوں کا نقصان ہو۔ سیاسیات میں اس کی تمام توجہ اس طرف صرف ہو گی کہ دنیا میں امن ،عدل اور انصاف اور نیکی و شرافت کی حکومت ہو کوئی شخص یا کوئی جماعت خدا کے بندوں کو اپنا بندہ نہ بنائے۔حکومت اور اُس کی تمام طاقتوں کو خدا کی امانت سمجھا جائے اور بندگان خدا کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔ قانون میں وہ اس نظر سے غور کرے گا کہ عدل وانصاف کے ساتھ لوگوں کے حقوق مقرر کیے جائیں اور کسی صورت سے کسی پر ظلم نہ ہونے پائے ۔
مسلم کے اخلاق میں خدا ترسی حق شناسی اور راست بازی ہوگی۔ وہ دنیا میں یہ سمجھ کر رہے گا کہ سب چیزوں کا مالک خُدا ہے ۔ میرے پاس اور سب انسانوں کے پاس جو کچھ ہے خدا ہی کا دیا ہوا ہے ۔ میں کسی چیز کا جشی کہ خود اپنے جسم اور جسمانی قوتوں کا بھی مالک نہیں ہوں ۔ سب کچھ خدا کی امانت ہےاور اس امانت میں تصرف کرنے کا جو اختیار مجھ کو دیا گیا ہے ، اس کو خُدا ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ ایک دن خدا مجھ سے اپنی یہ امانت واپس لے گا، اور اس وقت مجھ کو ایک ایک چیز کا حساب دینا ہو گا۔
یہ سمجھ کر جو شخص دنیا میں رہے اس کے اخلاق کا اندازہ کرو۔ وہ اپنے دل کو بڑے خیالات سے پاک رکھے گا۔ وہ اپنے دماغ کو بڑائی کی فکر سے بچائے گا۔ وہ اپنی آنکھوں کو بری نگاہ سے روکے گا۔ وہ اپنے کانوں کو برائی سننے سے باز رکھے گا۔وہ اپنی زبان کی حفاظت کرےگا تا کہ اس سےحق کے خلاف کوئی بات نہ نکلے ۔ وہ اپنے پیٹ کو حرام کے رزق سے بھرنے کے بجائے بھوکا رہنا زیادہ پسند کرے گا۔ وہ اپنے ہاتھوں کو ظلم کے لیے کبھی نہ اٹھائے گا۔ وہ اپنے پاؤوں کو برائی کے راستے پر کبھی نہ چلائے گا۔ وہ اپنے سر کو باطل سےسامنے کبھی نہ جھکائے گا، خواہ وہ کاٹ ہی کیوں نہ ڈالا جائے۔ وہ اپنی کسی خواہش اور کسی ضرورت کو ظلم اور ناحق کے راستہ سےکبھی نہ پورا کرے گا۔ وہ نیکی اور شرافت کا مجسمہ ہو گا۔ حق اور صداقت کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھے گا اور اس کے لیے اپنی ذات کے ہر فائدے اور اپنے دل کی ہر خواہش کو بلکہ اپنی ذات کو بھی قربان کر دےگا۔ وہ ظلم اور ناراستی کو ہر چیز سے زیادہ ناپسند کرے گا اور کسی نقصان کے خون سے یا کسی فائدے کے لالچ میں اس کا ساتھ دینےپر آمادہ نہ ہوگا۔ دنیا کی کامیابی بھی ایسے ہی شخص کا حصہ ہے ۔
اُس سےبڑھ کر دنیا میں کوئی معرزا در شریف نہ ہو گا۔کیونکہ اس کا سر خدا کےسوا کسی کےسامنے جھکنے والا نہیں ۔ اور اس کا ہاتھ خدا کے سوا کسی کے آگےپھیلنے والا نہیں ۔ ذلت ایسے شخص کے پاس کیوں کر پھٹک سکتی ہے ؟
اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی طاقتور بھی نہ ہوگا۔ کیونکہ ان کے دل میں خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں اور اس کو خدا کے سوا کسی سے بخشش اور انعام کا لالچ بھی نہیں ۔ کون سی طاقت ہے جو ایسے شخص کر حق اور راستی سے بٹا سکتی ہو ؟ اور کون سی دولت ہے جو اس کا ایمان خرید سکتی ہو ؟
اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی غنی اور دولت مند بھی نہ ہوگا۔کیونکہ وہ عیش پرست نہیں خواہشات نفس کا بندہ نہیں ، حریص اور لالچی نہیں۔ اپنی جائز محنت سے جو کچھ کماتا ہے اُسی پر قناعت کرتا ہے اور ناجائز دولت کے ڈھیر بھی اگر اس کے سامنے لگا دیےجائیں تو ان کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے۔ یہ اطمینان کی دولت ہے جس سے بڑی کوئی دولت انسان کے لیے نہیں ہوسکتی۔
اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی محبوب اور ہر دلعزیز بھی نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہر شخص کا حق ادا کرے گا اور کسی کا حق نہ مارے گا۔ ہر شخص سے نیکی کرے گا اور اس کے بدلے میں اپنے لیے کچھ نہ چاہے گا۔ لوگوں کے دل آپ سےآپ اس کی طرف کھینچیں گے اور ہر شخص اس کی عزت اور محبت کرنے پر مجبور ہو گا۔
اس سے بڑھ کر دنیا میں کسی کا اعتبار بھی نہ ہو گا۔کیونکہ وہ امانت میں خیانت نہ کرےگا۔ صداقت سے منہ نہ موڑے گا۔ وعدہ کا سچا اور معاملہ کا بھرا ہو گا۔ اور ہر کام میں یہ مجھ کر ایمانداری برتے گا کہ کوئی اور دیکھنےوالا ہو یا نہ ہوں،مرند ترسب کچھ دیکھ رہا ہے۔ایسے شخص کی ساکھ کا کیا پوچھنا ؟ کون ہے جو اس پر بھروسہ نہ کرے گا ؟
ایک مسلم کی سیرت کو اچھی طرح سمجھ لو توتم کو یقین آجائے گا کرمسلم کبھی دنیا میں ذلیل اور محکوم اور مغلوب بن کر نہیں رہ سکتا۔ وہ ہمیشہ غالب اور حاکم ہی رہے گا۔ کیونکہ اسلام جو صفات اس میں پیدا کرتا ہے اس پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی ۔
اس طرح دنیا میں عزت اور بزرگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد جب و اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو گا تو اس پر خدا اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کرے گا،کیونکہ جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اُس کا پورا پورا حق اس نےادا کر دیا،اور جس امتحان میں خُدا نےاس کو ڈالا تھا اُس میں وہ پورے پورے نمبروں کےساتھ کامیاب ہوا۔ یہ ابدی کامیابی ہےجو دنیا سے لےکر آخرت تک مسلسل ملی جاتی ہے اور کہیں اس کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔
یہ اسلام ہے انسان کا فطری مذہب یہ کسی قوم اور ملک کے ساتھ خاص نہیں۔ہر زمانے اور ہر قوم اور ہر ملک میں جو خداشناس اور حق پسند لوگ گزرےہیں ان سب کا یہی مذہب تھا۔وہ سب مسلم تھے۔ خواہ ان کی زبان میں اس مذہب کا نام اسلام ہو یا کچھ اور -
| کتاب | دینیات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |