دینیات

باب دوم - ایمان اور اطاعت

باب دوم ایمان اور طاعت اطاعت کے لیے علم اور یقین کی ضرورت۔ ایمان کی تعریف علم حاصل ہونے کا ذریعہ ایمان بالغیب اطاعت کے لیے علم و یقین کی ضرورت پچھلے باب میں تم کومعلوم ہو چکا ہے کہ اسلام در اصل پروردگار کی اطاعت کا نام ہےاب ہم بتانا چاہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اُس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک اسے چند باتوں کا علم نہ ہو اور وہ علم یقین کی حدتک پہنچا ہوا نہ ہو۔

سب سے پہلے تو انسان کو خدا کی ہستی کا پورا یقین ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر اسے ہی یقین نہ ہو کہ خدا ہے ، تو وہ اس کی اطاعت کیسے کرے گا ؟

اس کے ساتھ خدا کی صفات کا علم بھی ضروری ہے۔ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ خدا ایک ہے اور خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں ، وہ دوسروں کےسامنے سر جھکانے اور ہاتھ پھیلانے سے کیونکر بیچ سکتا ہے ؟ جس شخص کو اِس بات کا یقین نہ ہو کہ خدا سب کچھ دیکھنے اور ملنے والا ہے اور ہر چیز کی خبر رکھتا ہے، وہ اپنے آپ کو خدا کی نافرمانی سے کیسے روک سکتا ہے ؟ اس بات پر جب تم غور کرو گے ، توتم کومعلوم ہوگا کہ خیالات اور اخلاق اور اعمال میں اسلام کے رستے پر چلنے کے لیے انسان میں جن صفات کا ہونا ضروری ہے وہ صفات اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس کو خدا کی صفات کا ٹھیک ٹھیک علم ہو۔ اور یہ علم بھی محض جان لینے کی حد تک نہ رہے ، بلکہ اسکو یقین کےساتھ دل میں بیٹھ جانا چاہیے تاکہ انسان کا دل اُس کے مخالف خیالات سے اور اس کی زندگی اس علم کے خلاف عمل کرنے سے محفوظ رہے۔

اس کےبعد انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنےکا صحیح طریقہ کیا ہے۔ کسی بات کو خدا پسند کرتا ہے،تاکہ اسےاختیار کیا جائے۔ اور کس بات کو خدا ناپسند کرتا ہے،تاکہ اس سے پر ہیز کیا جائےاس غرض کےلیےضروری ہے کہ انسان کو خدائی قانون اور خدائی ضابطه سےپوری واقعیت ہو۔اس کےمتعلق دو پورا یقین رکھتا ہو کہ یہی خدائی قانون اور خدائی ضابطہ ہے،اور اسی کی پیروی سے خدا کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے۔کیونکہ اگر اس کو سرے سے علم ہی نہ ہو تو وہ اطاعت کسی چیز کی کرے گا ؟ اور اگر علم تو برلیکن پر یقین نہ ہو ، یا دل میں یہ خیال ہو کہ اس قانون اور اس ضابطہ کے سوا دوسرا قانون اور ضابطہ بھی درست ہو سکتا ہے ، تو اس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کیسے کر سکتا ہے ؟

پھر انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیےکہ خدا کی مرضی کےخلاف چلنےاور اس کےپسند کیےہوئے ضابطہ کی اطاعت نہ کرنےکا انجام کیا ہےاور اس کی فرماں برداری کرنےکا انعام کیا ہے۔اس غرض کےلیے ضروری ہے کہ اُسے آخرت کی زندگی کا ، خدا کی عدالت میں پیش ہونے کا ، نافرمانی کی سنز پانے کا،اور فرماں برداری پر انعام پانےکا پورا علم اور یقین ہو جو شخص آخرت کی زندگی سےناواقف ہےوہ اطاعت اور نافرمانی دونوں کو بے نتیجہ سمجھتا ہے ۔اس کا خیال تو یہ ہے کہ آخر میں اطاعت کرنے والا اور نہ کرنے والا دونوں برابر ہی رہیں گے ، کیونکہ دونوں خاک ہو جائیں گے ۔ پھر اُس سے کینو فکر امید کی جاسکتی ہےکہ وہ اطاعت کی پابندیاں اور تکلیفیں برداشت کرنا قبول کرلےگا،اور ان گناہوں سےپرهیز کرے گا جن سےاس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنےکا اس کو اندیشہ نہیں ہےایسےعقیدے کہ ساتھ انسان خدائی قانون کا کبھی مطیع نہیں ہو سکتا۔اسی طرح وہ شخص بھی اطاعت میں ثابت قدم نہیں ہو سکتا جسےآخرت کی زندگی اور خدائی عدالت کی پیشی کا علم تو ہےمگر یقین نہیں۔اس لیےکہ شک اور تردد کےساتھ انسان کسی بات پر جم نہیں سکتا تم ایک کام کو دل لگا کر اسی وقت کرسکے گےجب تم کو یقین ہو کہ یہ کام فائدہ بخش ہے اور دوسرے کام سے پرہیز کرنےمیں بھی اسی وقت مستقل رہ سکتے ہو جب تمھیں پورا یقین ہو کہ یہ کام نقصان ده ہے۔لہذا معلوم ہوا کہ ایک طریقہ کی پیروی کے لیے اس کے انجام اور نتیجہ کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔اور یہ علم ایسا ہونا چاہیے جو یقین کی حد تک پہنچا ہوا ہوں-

ایمان کی تعریف اوپر کے بیان میں جس چیز کو ہم نے علم اور یقین سے تعبیر کیا ہےاسی کا نام ایمان ہے ۔ایمان کے معنی جاننےاور ماننےکے ہیں ۔ جو شخص خدا کی رانیت اور اس کی حقیقی صفات اور اس کے قانون اور اس کی جزا و سزا کو جانتا ہو اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو اس کو مومن کہتے ہیں۔ اور ایمان کا نتیجہ ہے کہ انسان مسلم یعنی خدا کا مطیع و فرماں بردار ہو جاتا ہے۔

ایمان کی اس تعریف سےتم خود سمجھ سکتےہو کہ ایمان کےبغیر کوئی انسان علم نہیں ہو سکتا اسلام اور ایمان کا تعلق رہی ہے جو درخت کا تعلق بیج سےہوتا ہے۔ بیج کے بغیر تو درخت پیدا ہی نہیں ہوتا البتہ ہو سکتا ہے کہ بیج زمین میں بویا جائے مگر زمین خراب ہونے کی وجہ سے۔ یا آپ زہرا اچھی نہ ملنےکی وجہ سے درخت ناقص نکلے ۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص سرے سے ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ "مسلم" ہو۔البتہ یہ ضرور ممکن ہےکہ کسی شخص کےدل میں ایمان ہو گر اپنے ارادے کی کمزوری یا ناقص تعلیم و تربیت اور بری محبت کے اثر سے وہ پورا اور پکا مسلم نہ ہو ۔

ایمان اور اسلام کے لحاظ سے تمام انسانوں کے چار درجے ہیں ؟

(١) جو ایمان رکھتے ہیں اور ان کا ایمان انھیں خدا کے احکام کا پورا مطیع بنا دیتا ہے ۔ جس بات کو خُدا نا پسند کرتا ہے اس سےوہ اس طرح بچتےہیں جیسےکوئی شخص آگ کو ہاتھ لگانےسےبچتا ہے۔ اور جس بات کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کو ایسےشوق سےکرتے ہیں جیسےکوئی شخص دولت کمانے کےلیے شوق سے کام کرتا ہے۔ یہ اصلی مسلمان ہیں ۔

(٢) جو ایمان تو رکھتے ہیں مگر ان کا ایمان اتنا طاقتور نہیں ہے کہ انہیں پوری طرح خدا کا فرماں بردار بنا دے۔ یہ اگرچہ کمتر درجہ کےلوگ ہیں لیکن بہر حال مسلم ہیں۔ یہ اگر نافرمانی کرتے ہیں تو اپنے جرم کےلحاظ سےسزا کے مستحق ہیں۔مگر ان کی حیثیت مجرم کی ہے باغی کی نہیں ہےاس لیےکہ یہ بادشاہ کی بادشاہ مانتے ہیں اور اس کے قانون کو قانون تسلیم کرتے ہیں ۔

(٣) وہ جو ایمان نہیں رکھتے مگر بظاہر ایسے عمل کرتے ہیں جو خدائی قانون کے مطابق نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل باغی ہیں۔ ان کا ظاہری نیک عمل حقیقت میں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری نہیں ہے، اس لیےاس کا کچھ اعتبار نہیں۔ان کی مثال ایسےشخص کی سی ہےجو بادشاہ کو بادشاہ نہیں مانتا اوراس کے قانون کو قانون ہی نہیں تسلیم کرتا۔یہ شخص اگر بظاہر ایسا عمل کر رہا ہو جو قانون کےخلاف نہ ہو تو تم یہ نہیں کہہ سکتےکہ وہ بادشاہ کا وفادار اور اس کےقانون کا پیرو ہےاس کاشمار تو بہر حال باغیوں ہی میں ہوگا۔

(٤) وہ جو ایمان بھی نہیں رکھتے اور عمل کے لحاظ سے بھی شریر اور بدکار ہیں۔یہ سب سے بد تر درجہ کے لوگ ہیں،کیونکہ یہ باغی بھی ہیں اور مفسد بھی۔

انسانی طبقوں کی اس تقسیم سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ایمان ہی پر در اصل انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔اسلام خواہ وہ کامل ہو یا ناقص صرف ایمان کے بیج سے پیدا ہوتا ہے ۔ جہاں ایمان نہ ہوگا وہاں ایمان کی جگہ کفر ہوگا،جس کے دوسرے معنی خدا سے بغاوت کے ہیں،خواہ وہ بد تر درجہ کی بغاوت ہو یا کم تر درجہ کی۔

علم حاصل ہونے کا ذریعہ اطاعت کے لیے ایمان کی ضرورت تو تم کو معلوم ہو گئی۔اب سوال یہ ہے کہ خدا کی صفات اور اس کے پسندیدہ قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق صحیح علم جس پر یقین کیا جاسکے کس ذریعہ سے حاصل ہو سکتا ہے ؟

پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ کائنات میں ہر طرف خدا کی کاریگری کے آثار پھیلےہوئے ہیں،جو اس بات پر گواہی دےرہےہیں کہ اس کارخانے کو ایک ہی کاریگر نے بتایا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ان آثار میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے جلوے نظر آتے ہیں۔اس کی حکمت،اس کا علم ،اس کی قدرت،اس کا رحم، اس کی پروردگاری،اس کا قہر،غرض کون سی صفت ہےجس کی شان اس کے کاموں میں نمایاں نہیں ہے ۔ مگر انسان کی عقل اور اس کی قابیت نے ان چیزوں کےدیکھنےاور سمجھنےمیں اکثر غلطی کی ہے۔ یہ سب آثار آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور ان کے باوجود کسی نے کہا خدا دو ہیں اور کسی نے کہا کہ تین ہیں۔کسی نے بے شمار خدا مان لیے۔کسی نےخدائی کے ٹکڑے ٹکڑےکر دیے اور کہا ایک بارش کا خدا ہے،ایک ہوا کا خدا ہے،ایک آگ کا خدا ہےغرض ایک ایک قوت کے الگ الگ خدا ہیں اور ایک خدا ان سب کا سردار ہے۔اس طرح خدا کی ذات وصفات کو سمجھنےمیں لوگوں کی عقل نےبہت دھو کے کھاتے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ۔

آخرت کی زندگی کے متعلق بھی لوگوں نے بہت سے غلط خیالات قائم کیےکسی نے کہا کہ انسان مر کر مٹی ہو جائے گا،پھر اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔کسی نے کہا کہ انسان بار بار اسی دنیا میں جنم لے گا اور اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے گا۔

خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قانون کی پابندی ضروری ہے اس کو تو خود اپنی عقل سے بنانا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔

اگر انسان بہت صحیح عقل رکھتا ہو اور اس کی علمی قابلیت نہایت اعلیٰ درجہ کی ہو،تب بھی سالہا سال کے تجر ہے اور غور و خوض کےبعد وہ کسی حد تک ان باتوں کےمتعلق رائے قائم کر سکے گا اور پھر بھی اس کو کامل یقین نہ ہوگا کہ اس نےپورا پوراحق معلوم کر لیا ہےاگر چہ علم اور عقل کا پورا امتحان تو اسی طرح ہو سکتا تلف کہ انسان کو بغیر کسی ہدایت کےچھوڑ دیا جاتا۔پھر جولوگ اپنی کوشش اور قابلیت سےحق اور صداقت تک پہنچ جاتے،وہی کامیاب ہوتے اور جو نہ پہنچتے وہ ناکام رہتے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے سخت امتحان میں نہیں ڈالا۔ اس نےاپنی مہربانی سے خود انسانوں ہی میں ایسےانسان پیدا کیےجن کو اپنی صفات کا صحیح علم دیا۔وہ طریقہ بھی بتایا جس سےانسان دنیا میں خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کر سکتا ہے۔آخرت کی زندگی کےمتعلق بھی صحیح واقفیت بخشی۔اور ان کو بدولت کی کہ دوسرےانسانوں کو یہ علم پہنچا دیں۔ یہ اللہ کےپیغمبر ہیں۔جس ذریعہ سےخدا نے ان کو علم دیا ہےاس کا نام وحی ہے۔اور جس کتاب میں ان کو یہ علم دیا ہے اس کو اللہ کی کتاب اور اللہ کا کلام کہتے ہیں۔ اب انسان کی عقل اور اس کی قابلیت کا امتحان اس میں ہے کہ وہ پیغمبر کی پاک زندگی کو دیکھنےاور اس کی اعلی تعلیم پر غور کرنےکے بعد اس پر ایمان لاتا ہےیا نہیں ۔ اگر وہ حق شناس اور حق پرست ہے تو سچی بات اور سچے انسان کی تعلیم کو مان لےکا اور امتحان میں کامیاب ہو جائے گا۔ اور اگر اس نے نہ مانا تو انکار کےمعنی یہی ہوں گے کہ اس نے حق اور صداقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔ یہ انکار اس کو امتحان میں ناکام کر دے گا ، اور خدا اور اس کے قانون اور آخرت کی زندگیکے متعلق وہ کبھی کوئی صحیح علم حاصل نہ کرسکےگا-

ایمان بالغیب دیکھو ، جب تم کو کسی چیز کا علم حاصل نہیں ہوتا تو تم علم رکھنےوالے کو تلاش کرتے ہو اور اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہو۔تم بیمار ہوتےہو تو خود اپنا علاج نہیں کر لیتے،بلکہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو۔ ڈاکٹر کا سند یافتہ ہوتا،اس کا تجربہ کار ہوتا،اس کےہاتھ سےبہت سےمریضوں کا شفایاب ہونا،یہ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سےتم ایمان لےآتے ہو کہ تمھارے علاج کےلیے جس لیاقت کی ضرورت ہے وہ اس ڈاکٹر میں موجود ہے۔اسی ایمان کی بنا پر وہ جس دوا کر جس طریقہ سےاستعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہےاس کو تم استعمال کرتے ہو اور جس چیز سےپرہیز کا حکم دیتا ہے،اس سے پر ہیز کرتے ہو اسی طرح قانون کے معاملہ میں تم وکیل پر ایمان لاتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو۔ تعلیم کےمسلہ میں استاد پر ایمان لاتے ہو اور جو کچھ د نھیں بتا تا ہے اس کو مانتے چلےجاتے ہو۔ تمھیں کہیں جانا ہو اور راستہ علم نہ ہو تو کسی واقف کار پر ایمان لاتےہو اور جو راستہ وہ تمھیں بتاتا ہے اسی پر چلتے ہو غرض دنیا کے ہر معاملہ میں تم کو واقفیت اور علم حاصل کرنے کے لیے کسی جاننے والے آدمی پر ایمان لانا پڑتا ہے اور اس کی اطاعت کرنے پر تم مجبور ہوتے ہو ۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے ۔

ایمان بالغیب کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ تم کومعلوم نہیں اس کا علم تم جانے والےسے حاصل کرو اور اس پر یقین کر لو۔خداوند تعالیٰ کی ذات و صفات سے تم واقف نہیں ہو۔ تم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے فرشتے اس کے حکم کے ماتحت تمام عالم کا کام کر رہے ہیں اور تم کو ہر طرف سے گھیرے ہوتے ہیں ۔ تم کو یہ بھی خبر نہیں کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنےکا طریقہ کیا ہے۔تم کو آخرت کی زندگی کا بھی صحیح حال معلوم نہیں ۔ ان سب باتوں کا علم تم کو ایک ایسے انسان ہےحاصل ہوتا ہے جس کی صداقت،راست بازی ، خداترسی،نهایت پاک زندگی اور نهایت محکمانہ باتوں کو دیکھ کر تم تسلیم کرلیتےہو کہ وہ جوکچھ کہتا ہےسچ کہتا ہےاور اس کی سب باتیں یقین لانے کے قابل ہیں۔ یہی ایمان بالغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کے لیے ایمان بالغیب ضروری ہے۔کیونکہ پیغمبر کے سوکسی اور ذریعہ سے تم کو صحیح علم حاصل ہو نہیں سکتا اور صحیح علم کے بغیر تم اسلام کے طریقہ پرٹھیک ٹھیک چل نہیں سکتے ۔

کتاب دینیات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Theology