دینیات

باب سوم - نبوت

باب سوم نبوت پیغمبری کی حقیقت۔پیغمبر کی پہچان ۔ پیغمبر کی اطاعت- پیغمبر پر ایمان لانےکی ضرورت پیغمبری کی مختصر تاریخ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت۔ نبوت محمدی کا ثبوت ختم نبوت ختم نبوت کے دلائل -

پچھلے باب میں تم کو تین باتیں بتائی گئی ہیں :

ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کے لیے خدا کی ذات وصفات اور اس کےپسندیدہ طریقے اور آخرت کی جزا و سزا کےمتعلق صحیح علم کی ضرورت ہے ۔ اور یہ علم ایسا ہونا چاہیےکہ جس پر تم کو یقین کامل یعنی ایمان حاصل ہو ۔

دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنے سخت امتحان میں نہیں ڈالا ہےکہ وہ فرد اپنی کوشش سے یہ علم حاصل کرلےجکہ اس نے خود انسانوں ہی میں سےبعض برگزیده بندوں (یعنی پیغمیوں) کو وحی کے ذریعہ سے یہ علم عطا کیا اور ان کو حکم دیا کہ دوسرے بندوں تک اس علم کو پہنچادیں۔

تیسرے یہ کہ عام انسانوں پر اب صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ خدا کےسچے پیغمبروں کو پہچائیں۔ جب ان کو معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص حقیقت میں خدا کا سچا پیغمبر ہےتو ان کا فرض ہےکہ جو کچھ وہ تعلیم دے اس پر ایمان لائیں اور جو کچھ وہ حکم دےاس کو تسلیم کریں اور جس طریقہ پر وہ چلے اس کی پیروی کریں۔

اب سب سے پہلے ہم تمھیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پیغمبری کی حقیقت کیا ہےاور پہچانے کی صورت کیا ہے۔

پیغمبری کی حقیقت تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں انسان کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہےاللہ نے ان سب کا انتظام خود ہی کر دیا ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو دیکھو کنا سامان اس کو دے کر دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں ، سُننےکے لیے کان ، سونگھنے اور سانس لینے کے لیے تاک، محسوس کرنے کے لیےسارے جسم کی کھال میں قوت لامسہ ، چلنے کے لیے پاؤں ، کام کرنے کے لیےہاتھ،سوچنےکےلیے دماغ اور ایسی ہی بے شمار دوسری چیزیں جو پہلےسے اس کی سب ضرورتوں کا لحاظ کر کے اس کے چھوٹے سے جسم میں لپیٹ کر رکھ دی گئی ہیں۔پھر جب وہ دنیا میں قدم رکھتا ہے تو زندگی بسر کرنےکے لیے اتنا سامان اس کو ملتا ہےجس کا تم شمار بھی نہیں کر سکتے۔ہوا ہے،روشنی ہے،حرارت ہے،پانی ہے، زمین ہے،ماں کے سینے میں پہلے سے دُودھ موجود ہے،ماں اور باپ اور عزیزوں حتیٰ کہ غیروں کے دلوں میں بھی اس کی محبت اور شفقت پیدا کر دی گئی ہے جین سےاس کو پالا پوسا جاتا ہے۔پھر جتنا جتنا وہ بڑھتا جاتا ہے ، اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہر قسم کا سامان اس کو ملتا جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا زمین و آسمان کی ساری قوتیں اس کی پرورش اور خدمت کے لیے کام کر رہی ہیں ۔

اس کے بعد اور آگے بڑھو۔ دنیا میں کام کرنے کے لیے متبنی قابلیتوں کی ضرورت ہے وہ سب انسان کو دی گئی ہیں۔ جسمانی قوت عقل سمجھ بوجھ، گریائی اور ایسی ہی بہت سی قابلیتیں تھوڑی یا بہت ہر انسان میں موجود ہیں ۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے عجیب انتظام کیا ہے۔ساری قابلیتیں سب انسانوں کو یکساں نہیں دیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی کسی کا محتاج نہ ہوتا۔ نہ کوئی کسی کی پروا کرتا۔اس لیے اللہ نے تمام انسانوں کی مجموعی ضرورتوں کے لحاظ سے سب قابلیتیں پیدا تو انسانوں ہی میں کیں ، مگر اس طرح کر کسی کو ایک قابلیت زیادہ دے دی اور دوسرے کو دوسری قائیت۔ تم دیکھتے ہو کہ بعض لوگ جسمانی محنت کی قوتیں دوسروں سےزیادہ لےکر آتےہیں۔بعض لوگوں میں کسی خاص هنر یا پیشه کی پیدائشی قابلیت ہوتی ہےجس سےدوسرےمحروم ہوتےہیں۔اور بعض لوگوں میں ذہانت اور عقل کی قوت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ بعض پیدائشی سپہ سالا ہوتے ہیں۔ بعض میں حکمرانی کی خاص قابلیت ہوتی ہے۔بعض تقریر کی غیر معمولی قوت لےکر پیدا ہوتےہیں۔بعض میں انشا پردازی کا فطری ملکہ ہوتا ہے۔کوئی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے کہ اس کا دماغ ریاضی میں خوب لڑتا ہے حتی کہ اس فن کےبڑے بڑے پیچیدہ سوالات اس طرح حل کر دیتا ہے کہ دوسروں کے ذہن ہاں تک نہیں پہنچتے ۔ ایک دوسرا شخص ایسا ہوتا ہے جو مجیب عجیب چیزیں ایجاد کرتا ہے اور اس کی ایجادوں کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک اور شخص ایسا بے نظیر قانونی دماغ لے کر آتا ہے کہ قانون کے جو سکتے برسوں غور کرنے کےبعد بھی دوسروں کی سمجھ میں نہیں آتے ، اس کی نظر خود بخود ان تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ خدا کی دین ہے ۔ کوئی شخص اپنے اندر خود یہ قابلیتیں پیدا نہیں کرسکتا۔تعلیم و تربیت سے یہ چیزمان پیدا ہوتی ہیں۔ دراصل یہ پیدائشی قابلیتیں ہیں اور خدا اپنی حکمت سے جس کو جو قابلیت چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے۔

خدا کی اس خیشش پر بھی غور کر دگے تو تم کو معلوم ہوگا کہ انسانی تمدن کے لیےجن قابلیتوں کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے،وہ زیادہ انسانوں میں پیدا کی جاتی ہیں اور جن کی ضرورت جس قدر کم ہوتی ہے ، وہ اسی قدر کم آدمیوں میں پیدا کی جاتی ہیں ۔ سپاہی بہت پیدا ہوتے ہیں۔ کسان اور بڑھتی اور لوہار اور ایسےہی دوسرے کاموں کے آدمی کثرت سے پیدا ہوتے ہیں گر علی و دماغی تو میں نےوالے اور سیاست اور سپہ سالاری کی قابلیتیں رکھنے والے کم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہ لوگ اور بھی زیادہ کم یاب ہوتے ہیں جو کسی خاص فن میں غیرمعولی قابلیت کےمالک ہوں۔ کیونکہ ان کے کارنامے صدیوں کے لیے انسانوں کو اپنے جیسےماہر فن کی ضرورت سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔

اب سوچنا چاہیے کہ دنیا میں انسانی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے میرےیہی ایک ضرورت تو نہیں ہے کہ انسانوں میں انجینیر، ریاضی دان،سائنسدان قانون دان،سیاست کے ماہر، معاشیات کے باکمال اور مختلف پیشوں کی قابلیت رکھنے والے لوگ ہی پیدا ہوں۔ ان سب سے بڑھ کر ایک اور ضرورت بھی تو ہے اور وہ یہ کہ کوئی ایسا ہو جو انسان کو خدا کا راستہ بنتا ہے۔ دوسرے لوگ تو صرف یہ بتانے والے ہیں کہ اس دنیا میں انسان کے لیے کیا ہے اور اس کو کس کس طرح برتا جا سکتا ہے۔ مگر کوئی یہ بتانے والا بھی تو ہونا چاہیے کہ انسان خود کس کے لیے ہے ؟ اور انسان کو دنیا میں یہ سب سامان کس نے دیا ہے؟ اور اس دینے والےکی مرضی کیا ہے تاکہ انسان اسی کے مطابق دنیا میں زندگی بسرکر کے یقینی اور دائمی کامیابی حاصل کرے ۔ یہ انسان کی اصلی اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اور عقل یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ جس خدا نے ہماری چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا ہے اُس نے ایسی اہم ضرورت کو پورا کرنے سے غفلت برتی ہوگی ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ خدا نے جس طرح ایک ایک مہنر اور ایک ایک علم و فن کی خاص تابعیت رکھنے والے انسان پیدا کیسے ہیں، اسی طرح ایسے انسان بھی پیدا کیے ہیں جن میں خود خدا کے پہچاننے کی اعلیٰ قابلیت تھی ۔ اس نے ان کو دین اور اخلاق اور شریعیت کا علم اپنے پاس سے عطا کیا ، اور ان کو اس خدمت پر مقرر کیا کہ دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کی تعلیم دیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہماری زبان میں نبی یا رسول یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔

پیغمبر کی پہچان جس طرح دوسرے علوم و فنون کے باکمال لوگ ایک خاص قسم کا ذہین اور ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر پیدا ہوتے ہیں ، اسی طرح پیغمبر بھی ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر آتے ہیں۔

ایک پیدائشی شاعر کا کلام سنتے ہی ہم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شاعری کی ناس قابلیت لے کر پیدا ہوا ہے کیونکہ دوسرے لوگ خواہ کتنی ہی کوشش کریں دیسا شعر نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح ایک پیدایشی مقرر،ایک پیدایشی انشا پرداز ایک پیدایشی موجد،ایک پیدائشی لیڈر بھی اپنے کارناموں سے صاف پہچان لیا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے کام میں غیرمعمولی قابلیت کا اظہار کرتا ہے جو دوسروں میں نہیں ہوتی۔ایسا ہی حال پیغمبر کا بھی ہے۔اس کے ذہن میں وہ باتیں آتی ہیں جو دوسرے لوگوں کےوہم وگمان میں بھی نہیں ہوتیں۔وہ ایسے مضامین بیان کرتا ہے جو اس کے سوا کوئی دوسرا انسان بیان نہیں کر سکتا۔اس کی نظر ایسی باریک باتوں ہم خود بخود پہنچ جاتی ہے،جن تک دوسروں کی نظر برسوں کے غور و فکر کے بعد بھی نہیں پہنچتی۔ وہ جو کچھ کہتا ہے ہماری عقل اس کو قبول کرتی ہے ، ہمارا دل گواہی دیتا ہے کہ ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے ، دنیا کےتجربات اور کائنات کے مشاہدوں سےاس کی ایک ایک بات بھی ثابت ہوتی ہے۔لیکن اگر ہم خود ویسی بات کہنا چاہیں تو نہیں کہ سکتے۔پھر اس کی طبیعت ایسی پاکیزہ ہوتی ہےکہ وہ ہر معاملہ میں سنچا، سیدھا اور شریفانہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔کوئی غلط بات نہیں کہتا۔ کوئی برا کام نہیں کرتا۔ ہمیشہ نیک اور صداقت کی تعلیم دیتا ہےاور جو کچھ دوسروں سے کہتا ہے اس پر خود عمل کر کے دکھاتا ہے ۔ اس کی زندگی میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ وہ جو کچھ کہے اس کے خلاف عمل کرے ۔ اس کے قول یا عمل میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہوتی ۔ وہ دوسروں کے پھیلے کی خاطر خود نقصان اٹھاتا ہے اور اپنے بھلے کے لیے کسی کا نقصان نہیں کرتا۔ اس کی ساری زندگی سچائی ، شرافت ، پاک طینتی ، بند خیالی اور اعلیٰ درجہ کی انسانیت کا نور ہوتی ہے جس میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ انھی چیزوں کو دیکھ کر صاف پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے ۔

پیغمبر کی اطاعت جب یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے تو اس کی بات ماننا،اس کی اطاعت کرنا اور اس کےطریقہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔یہ بات با لکل خلاف عقل ہےکہ تم ایک شخص کو پنیر بھی تسلیم کرو اور پھر اس کی بات بھی نہ مانوں اس لیےکہ پنیر تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تم نے مان لیا کہ وہ جو کچھ کہ رہا ہےخدا کی طرف سےکر رہا ہے اور جو کچھ کر رہا ہے خدا کی مرضی کے مطابق کر رہا ہے۔اب تم جو کچھ اس کے خلاف کرو گے یا کر دو گے وہ خدا کے خلاف ہوگا۔ اور جو بات خدا کے خلاف ہو وہ کبھی حق نہیں ہوسکتی۔ امن کسی کو پینی تسلیم کرنے سے یہ بات خود بود لازم ہو جاتی ہے کہ اس کی بات کو بےچون و چرا مان لیا جائےاور اس کےحکم کےآگےسرخی کا دیا جائے،خواہ اس کی حکمت اور اس کا فائدہ تمھاری سمجھ میں آنے یا نہ آئے۔ جو بات پیغمبر کی طرف سے ہے ، اس کا پیغمبر کی طرف سےہوتا ہی اس بات کی دلیل ہےکہ وہ بچی ہے اور تمام صلحتیں اور سکتیں اس میں موجود ہیں۔ اگر تمھاری سمجھ میں کسی بات کی مصلحت نہیں آتی ، تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس بات میں کوئی خرابی ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خود تمھاری سمجھ میں کوئی خرابی ہے ۔

جو شخص کسی فن کا ماہر نہیں ہے ظاہر ہے وہ کسی فن کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا لیکن وہ کتنا بے وقوف ہوگا اگر وہ ماہر فن کی بات کو محض اس وجہ سےنہ مانے کہ اس کی سمجھ میں وہ بات نہیں آتی ۔ دیکھو دنیا کے ہر کام میں اس کےماہر کی ضرورت ہوتی ہے اور ماہر کی طرف رجوع کرنے کےبعد اس پر پورا بھروسہ کیا جاتا ہے اور اس کے کام میں دخل نہیں دیا جاتا۔ کیوں کہ سب لوگ سب کاموں کے ماہر نہیں ہو سکتےاور نہ دنیا بھرکی تمام چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں تمھیں اپنی تمام عقل اور هوشیاری صرف اس بات میں صرف کرنی چاہیے کہ ایک بہترین ماہر فن کو تلاش کرو جب کسی کے متعلق تمھیں یقین ہو جائے کہ وہ بہترین ماہر فن ہے تو اس پر تم کو کامل بھروسہ کرنا چاہیے ، پھر اس کے کاموں میں دخل دینا اور ایک ایک بات کے متعلق یہ کہنا کہ پہلے نہیں سمجھا دو ورنہ ہم نہ مانیں گے ، عقلمندی نہیں بلکہ سراسر بے وقوفی ہے سکسی وکیل کو مقدمہ سپرد کرنے کے بعد تم ایسی تحقیں کروگے تو نہیں اپنے دفتر سے نکال دے گا۔ کسی ڈاکٹر سے تم اس کی ایک ایک ہدایت پر دلیل پوچھو گے تو وہ تمھارا علاج چھوڑ دے گا۔ ایسا ہی معاملہ مذہب کا بھی ہے تم کو خدا کا علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تم یہ جانا چاہتے ہو کہ خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے تمھارے پاس خود ان چیزوں کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اب تھارا فرض ہے کہ خدا کے پیچھے پیغمبر کی تلاش کرو۔ اس تلاش میں تم کو نہایت ہوشیاری اور سمجھ بوجہ سے کام لینا چاہیے ۔ کیونکہ اگر کسی غلط آدمی کوتم نے تغیر سمجھ لیا تو وہ تمہیں غلط راستہ پر لگا دے گا۔ مگر جب تمھیں خوب جانچ پڑتال کرنے کے بعد یہ یقین ہو جائے کہ فلاں شخص خدا کا نچا پیغمبر ہے تو اس پر تم کو پر اعتماد کہ نا چاہیے اور اس کے ہر حکم کی اطاعت کرنی چاہیے۔

پیغمبروں پر ایمان لانے کی ضرورت جب تمھیں معلوم ہو گیا کہ اسلام کا سچا اور سیدھا راستہ وہی ہے جو خدا کی طرف سےخدا کا پیغمبر بتائے،تو یہ بات تم خود سمجھ سکتے ہو کہ پیغمبر پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت اور پیروی کرنا تمام انسانوں کےلیے ضروری ہے اور جو شخص پیغمبر کے طریقے کو چھوڑ کر خود اپنی عقل سے کوئی طریقہ نکالتا ہے وہ یقینا گمراہ ہے۔

اس معاملہ میں لوگ عجیب عجیب غلطیاں کرتے ہیں بعض لوگ ایسے ہیں جو پیغمبر کی صداقت کو تسلیم کرتے ہیں،مگر نہ اس پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کی پیروی قبول کرتے ہیں۔یہ صرف کا فر ہی نہیں احمق بھی ہیں۔کیونکہ پیر کو سچا پیغمبر ماننےکے بعد اس کی پیروی نہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی جان بوجھ کر جھوٹ کی پیروی کرے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں ہو سکتی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں پیغمبر کی پیروی کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ہم خود اپنی عقل سے حق کا راستہ معلوم کرلیں گے۔یہ بھی سخت غلطی ہے۔تم نےریاضی پڑھی ہے اور تم یہ جانتے ہو کہ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک سیدھا خط صرف ایک ہی ہو سکتا ہے،اس کے سوا جتنے بھی خط کھینچے جائیں گے وہ سب یا تو ٹیڑھے ہوں گےیا اس دوسرے نقطےتک نہ پہنچیں گے۔ایسی ہی کیفیت حق کے راستے کی بھی ہے۔ جس کو اسلام کی زبان میں صراط مستقیم دبینی سیدھا راستہ) کہا جاتا ہے ۔ یہ راستہ انسان سے شروع ہو کر خدا تک جاتا ہے۔ اور ریاضی کے اسی قاعدہ کے مطابق یہ بھی ایک ہی راستہ ہو سکتا ہے۔ اس کےسوا جتنے راستے بھی ہوں گے یا تو سب ٹیڑھے ہوں گے یا خدا تک نہ پہنچیں گےاب غور کرو کہ جو سیدھا راستہ ہے وہ تو پیغمبر نے بتا دیا، اور اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ صراط مستقیم ہے ہی نہیں۔ اس راستہ کو چھوڑ کر جو شخص خود کوئی راستہ تلاش کرے گا اس کو دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ضرور پیش آئے گی۔یا تو اس کو خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ ملے گا ہی نہیں یا اگر ملا بھی تو بہت پھیر کا راستہ ہوگا،خط مستقیم نہ ہوگا بلکہ خط مشخنی ہوگا۔پہلی صورت میں تو اس کی تباہی ظاہر ہے۔رہی دوسری صورت تو اس کے بھی حماقت ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔ ایک بے عقل جانور بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے خط مسخنی کو چھوڑ کر خط مستقیم ہی کو اختیار کرتا ہے۔پھر اس انسان کو تم کیا کہو گے جس کو خدا کا ایک نیک بندہ سیدھا راستہ بنائے اور وہ کھے کہ نہیں میں تیرے بتائےہوئےراستے پر نہیں چلوں گا بلکہ خود ٹیٹرھے راستوں پر بھٹک بھٹکا کر منزل مقصود تلاش کرلوں گا۔

یہ تو وہ بات ہے جو سرسری نظر میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے ۔ لیکن اگر تم زیادہ غور کر کے دیکھو گےتو تمھیں معلوم ہوگا جو شخص پیغمبر پر ایمان لانے سےانکار کرتا ہے اس کو خدا تک پہنچنےکا کوئی راستہ نہیں مل سکتا ، نہ ٹیڑھا نہ سیدھا اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص سچے آدمی کی بات ماننے سےانکار کرتا ہے اس کےدماغ میں ضرور کوئی ایسی خرابی ہوگی جس کے سبب سے وہ سچائی سے منہ موڑتا ہے۔یا تو اس کی سمجھ بوجھ ناقص ہوگی،یا اس کے دل میں تکبیر ہوگا،یا اس کی طبیعت ایسی ٹیڑھی ہوگی کہ وہ نیکی اور صداقت کی باتوں کو قبول کرنےپر آمادہ ہی نہ ہوگی،یادہ باپ دادا کی اندھی تقلید میں گرفتار ہوگا اور جو غلط باتیں رسم کےطور سےپہلےسےچلی آتی ہیں ان کے خلاف کسی بات کو ماننے پر تیار نہ ہو گا، یادہ اپنی خواہشات کا نہ ہوگا اور پیر کی تسلی کو منانے سے اس لیے انکار کرے کیا اس کےمان لینےکےبعد گناہوں اور ناجائز باتوں کی آزادی باقی نہیں رہتی۔ یہ تمام اسباب ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک سبب بھی کسی شخص میں موجود نہ تو اس کو خدا کا راستہ بنا خیر سکن ہے ۔ اور اگر کوئی سبب بھی موجود نہ ہو تو یہ نکن ہے کہ ایک سچا ، غیر متعصب اور نیک آدمی ایک بہتے پیغمبر کی تعلیم قبول کرنے سے انکار کردئے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوتا ہےاور خدا ہی کا یہ حکم ہے کہ اس پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو ۔ اب جو کوئی پیغمبر پر ایمان نہیں لاتا وہ خدا کے خلاف بغاوت کرتا ہے ۔ دیکھو ، تم جس سلطنت کی رعیت ہو اس کی طرف سے جو حاکم بھی مقر ہو گا تمھیں اُس کی اطاعت کرنی پڑے گی۔ اگر تم اس کو حاکم تسلیم کرنے سے انکار کر دو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے خود سلطنت کے خلاف بغاوت کی ہے۔سلطنت کو ماننا اور اس کے مقرر کیے ہوئے حاکم کو نہ مانا دونوں بالکل متصف باتیں ہیں۔ ایسی ہی مثال خدا اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر کی بھی ہے۔ خدا تمام انسانوں کا حقیقی بادشاہ ہے۔ جس شخص کو اس نے انسان کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو اور جس کی اطاعت کا حکم دیا ہو ، ہر انسان کا فرض ہے کہ اس کو پیغم تسلیم کرے اور ہر دوسری چیز کی پیروی چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی اختیار کرے ۔ اس سے منہ موڑنے والا بہر حال کا فر ہے خواہ وہ خدا کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو۔

پیغمبری کی مختصر تاریخ اب ہم تم کو بتاتے ہیں کہ نوع انسانی میں پیغمبری کاسلسلہ کس طرح شروع ہوا اور کس طرح ترقی کرتے کرتے ایک آخری اور سب سے بڑے پیغمبر پر ختم ہوا-

تم نے سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ایک انسان کو پیدا کیا۔ پھر اسی انسان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور اس جوڑے کی نسل چلائی، جو بے شمار صدیوں میں پھیلتے پھیلتے تمام روئے زمین پر چھا گئی۔ دنیا میں جتنے انسان بھی پیدا ہوتے ہیں وہ سب اسی ایک جوڑے کی اولاد ہیں ۔ تمام قوموں کی مذہبی اور تاریخی روایات متفق ہیں کہ نوع انسانی کی ابتدا ایک ہی انسان سےہوتی ہے۔سائنس کی تحقیقات سےبھی ثابت نہیں ہوا کہ زمین کے مختلف حصوں میں الگ الگ انسان بنائے گئے تھے،بلکہ سائنس کےاکثر علماء بھی یہی قیاس کرتےہیں کہ پہلےایک ہی انسان پیدا ہوا ہوگااور انسان کی موجودہ نسل دنیا میں جہاں کہیں بھی پائی جاتی ہے اسی ایک شخص کی اولاد ہے ۔

ہماری زبان میں اس پہلے انسان کو آدم کہتے ہیں۔ اسی سے لفظ آدمی نکلا ہے جو انسان کا ہم معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےسب سے پہلا پیغمبر حضرت آدم ہی کو بتایا، اور انکو حکم دیاکہ وہ اپنی اولاد کواسلام کی تعلیم دیں یعنی ان کر یہ بتائیں کہ تھارا اورتمام دنیا کا خدا ایک ہے۔ اسی کی تم عبادت کرو۔اسی کےآگےسرجھکاؤ۔اسی سے مدد مانگر اور اسی کی مرضی کےمطابق دنیا میں نیکی اور انصاف کی زندگی بسر کہ وہ اگرتم ایسا کرو گے توتم کو اچھا انعام ملے گا اور اگر اس کی اطاعت سے منہ موڑو گے تو بڑی سزا پاؤ گے۔

حضرت آدم کی اولاد میں جولوگ اچھے تھے وہ اپنے باپ کے بتائے پہنچےسیدھے رستے پر چلتے رہے ، مگر جولوگ بڑے تھے انھوں سے اُسے چھوڑ دیا۔تہ رفته ہر قسم کی بانیاں پیدا ہوئیں کسی نے سورج اور چاند اور تاروں کو رہنا شروع کر دیا۔ کسی نے درختوں اور جانوروں اور دریاؤں کی پرستش شروع کر دی۔کسی نے خیال کیا کہ ہوا اور پانی اور آگ اور بیماری و تندرستی اور قدرت کی دوسری نعمتوں اور قوتوں کے خدا الگ الگ ہیں ، ہر ایک کی پرستش کرنی چاہیے تاکہ سب خوش ہو کر ہم پر مہربان ہوں۔ اسی طرح جہالت کی وجہ سےمشرک اور بت پرستی کی بہت سی صورت میں پیدا ہو گئیں جن سےبیسیوں مذہب نکل آئے۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ حضرت آدم کی نسل دنیا کےمختلف حصوں میں پھیل چکی تھی- مختلف قومیں بن گئی تھیں۔ہر قوم نے اپنا ایک نیا مذہب بنالیا تھا اور ہر ایک کی رہیں الگ تھیں۔ خدا کو بھولنےکےساتھ لوگ اس قانون کو بھی بھول گئےتھےجو حضرت آدم نےاپنی اولاد کو سکھایا تھا۔ لوگوں نے خود اپنی خواہشات کی پیروی شروع کردی۔ہر قسم کی بڑی رسمیں پیدا ہوئیں۔ ہر قسم کے جاہلانہ خیالات پھیلےاچھے اور بڑے کی تمیز میں غلطیاں کی گئیں ۔بہت سی بڑی چیزیں اچھی سمجھ لی گئیں ۔ اور بہت سی اچھی چیزوں کو برا ٹھیرا لیا گیا ۔

اب اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں پیغمبر بھیجنےشروع کیےجو لوگوں کو اسی اسلام کی تعلیم دینےلگے جس کی تعلیم اول اول حضرت آدم نےانسانوں کو دی تھی۔ ان پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا، انھیں ایک خدا کی پرستش سکھائی، شرک اور بت پرستی سے روکا ، جاہلانہ رسموں کو توڑا، خدا کی مرضی کےمطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ بتایا اور صحیح قوانین بنا کر اُن کی پیروی کی ہدایت کی ہندوستان ، چین ، عراق، ایران، مصر، افریقہ ، یورپ ، غرض دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں خدا کی طرف سے اس کے پتے پیغمبر نہ آئے ہوں ۔ ان سب کا مذہب ایک ہی تھا اور وہ یہی مذہب تھا جس کو ہم اپنی زبان میں اسلام ہیں۔(١) البته تعلیم کے طریقے اور زندگی کے قوانین ذرا مختلف تھے۔ ہر قوم میں جس قسم کی جہالت پھیلی ہوئی تھی اسی کو دور کرنے پر زور دیا گیا۔ جس قسم کے غلط خیالات رائج تھے اُنھی کی اصلاح پر زیادہ توجہ صرف کی گئی۔ تہذیب و تمدن اور علم وعقل کے لحاظ سے جب قومیں ابتدائی درجہ میں تھیں تو اُن کو سادہ تعلیم اور سادہ شریعیت دی گئی۔جیسی جیسی ترقی ہوتی گئی تعلیم اور شرعیت کو بھی وسیع کیا جاتا رہا۔مگر یہ اختلافات صرف ظاہری شکل کے تھے ، رُوح سب کی ایک تھی بینی اعتقاد میں توحید،اعمال میں نیکی و سلامت روی ، اور آخرت کی جزا و سزا پر یقین-

١- عام طور پرلوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اسلام کی ابتدا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سےہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ آنحضرت کو پانی اسلام تک کہ دیا جاتا ہے۔ در اصل بی ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جسے طالب علم کے ذہن سے قطعی طور پر نکل جانا چاہیے۔ہر طالب علم کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ اسلام ہمیشہ سے نوع انسانی کا ایک ہی حقیقی مذہب ہے اور دنیا میں جب اور جہاں بھی کوئی پیغمبر خدا کی طرف سےآیا ہے وہ یہی مذہب لے کر آیا ہے۔

پیغمبروں کے ساتھ بھی انسان نے مجیب معاملہ کیا پہلے تو ان کو تکلیفیں دی گئیں ۔ ان کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا گیا۔ کسی کو وطن سے نکالا گیا۔کسی کو قتل کیا گیا۔ کسی کو ربر کی تعلیم متقین کے بعد مشکل سے پانچ دس پیر و بستر آسکے۔ مگر خدا کے یہ برگزیدہ بندے برابر اپنا کام کیے چلے گئے،یہاں تک کہ ان کی تعلیمات نے اثر کیا اور بڑی بڑی تو میں ان کی پیروبن گئیں۔ اس کے بعد گمراہی نے دوسری صورت اختیار کی۔ پیغمبروں کی وفات کے بعد اُن کی امتوں نے اُن کی تعلیمات کو بدل ڈالا۔ ان کی لائی ہوئی کتابوں میں اپنی طرف سے ہر قسم کےخیالات ملا دی ہے۔ جہادتوں کے سنتے سنئے طریقےاختیار کیے۔ بعضوں نےخود پیغمبروں کی پرستش شروع کر دی کسی نے اپنے پیغمبر کوخدا کا اوتار قرار دیا (یعنی یہ کہ خدا خود انسان کی صورت میں اُتر آیا تھا)کسی نےاپنےپیغمبر کوخدا کا بیٹا کا کیسی نےاپنے پیر کرنائی میں شریک ٹھیرایا۔ فرض انسان نےعجیب ستم ظریفی کی کہ جن لوگوں نے بہتوں کو توڑا تھا، انسان نےخود ان ہی کو بت بنالیا۔ پھر جو شریعتیں یہ پیغمبر اپنی امتوں کو دے گئے تھےان کو بھی طرح طرح سے بگاڑا گیا۔ان میں ہر قسم کی اہانہ میں ملادی گئیں۔افسانوں اور جھوٹی روایتوں کی آمیزش کردی گئی۔انسانوں کے بناتے ہوئے قوانین کو ان کے ساتھ غلط ملط کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ چند صدیوں کے بعد یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہا کہ پنیر کی اصلی تعلیم اور اصلی شریعت کیا تھی، اور بعد والوں نے اس میں کیا کیا ملادیا۔(١) خود پیغمبروں کی زندگی کے حالات بھی روایتوں میں ایسے گم ہوگئے کہ ان کے متعلق کوئی چیز بھی قابل اعتبار نہ رہی ۔ تاہم پیغمبروں کی کوششیں سب کی سب رانگاں نہیں گئیں۔تمام ملاوٹوں کے باوجود کچھ نہ کچھ اصلی صداقت ہر قوم میں باقی رہ گئی ۔ خدا کا نیال اور آخرت کی زندگی کا خیال کسی نہ کسی صورت میں تمام قوموں کے اندر پھیل گیا ۔نیکی اور صداقت اور اخلاق کے چند اصول عام طور پر دنیا میں تسلیم کر لیے گئے اور تمام قوموں کے پیغمبروں نے الگ الگ ایک ایک قوم کو اس حد تک تیار کردیا کہ دنیا میں ایک ایسے مذہب کی تعلیم پھیلائی جاسکے جو با امتیاز ساری نوع انسانی کا مذہب ہو۔

(١) یہاں یہ بات طالب علم کے ذہن نشین ہو جانی چاہیے کہ پیغمبروں کی اقتوں نے اسی طرح اپنے اہل مذہب یعنی اسلام کو بگاڑ کر وہ مذہب بنائےہیں جو اس وقت مختلف ناموں سےدنیا میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً عیسی علیہ السلام نے جس مذہب کی تعلیم دی تھی وہ تو اسلام ہی تھا ، گمر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت عیسی کو معبود بنا ڈالا اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے ساتھ کچھ دوسری باتیں ملا جلا کر وہ مذہب ایجاد کر لیا جس کا نام آج عیسائیت ہے۔

جیسا کہ ہم نے تم کو اوپر بتایا ہے ابتداء مہر قوم میں الگ الگ پیغمبر آتے تھے اور ان کی تعلیم ان کی قوم ہی کے اندر محدود رہتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت سب قومیں ایک دوسرے سے الگ تھیں۔ ان کےدرمیان زیادہ میل جول نہ تھا۔ ہر قوم اپنے وطن کی حدود میں گویا مقید تھی۔ایسی حالت میں کوتی عام اور مشترک تعلیم تمام قوموں میں پھیلینی بہت مشکل تھی۔اس کےعلاوہ مختلف قوموں کے حالات ایک دوسرےسےبالکل مختلف تھے۔ جہالت زیادہ بڑھی ہوئی تھی اور اس جہالت کی بدولت اعتقاد اور اخلاق کی جو خرابیاں پیدا ہوئی تھیں وہ ہر جگہ مختلف صورت کی تھیں۔اس لیے ضروری تھا کہ خدا کے پیغمبر ہر قوم کو الگ جنگ تعلیم و ہدایت دیں۔ آہستہ آہستہ غلط خیالات کو مشاکر صحیح خیالات کو پھیلائیں۔رفتہ رفتہ جاہلانہ طریقوں کو چھوڑ کر اعلی درجہ کے قوانین کی پیروی سکھائیں اور اس طرح ان کی تربیت کریں جیسے بچوں کی کی جاتی ہے۔خدا ہی جانتا ہے کہ اس طریقہ سے قوموں کی تعلیم میں کتنے ہزار برس صرف ہوئے ہوں گے۔ بہر حال ترقی کرتے کرتے آخر کار وہ وقت آیا جب نوع انسانی بچپن کی حالت سےگزر کر سن بلوغ کو پہنچنےلگی۔تجارت و صنعت وحرفت کی ترقی کے ساتھ ساتھ قوموں کے تعلقات ایک دوسرے سے قائم ہو گئے۔چین د جاپان سے لے کر یورپ و افریقہ کےدور دراز ملکوں تک جہاز رانی اور خشکی کے سفروں کا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اکثر قوموں میں تحریر کا رواج ہوا۔علوم و فنون پھیلےاور قوموں کےدر میان خیالات اور علمی مضامین کا تبادلہ ہونےلگا۔ بڑے بڑے فاتح پیدا ہوتےاور انھوں نے بڑی بڑی لطفقتیں قائم کر کے کئی کئی ملکوں اور کئی کئی قوموں کو ایک سیاسی نظام میں ملا دیا۔ اس طرح وہ دُوری اور جدائی جو پہلے انسانی قوموں میں ائی جاتی تھی رفتہ رفتہ ہوتی چلی گئی اور ایک ہوگیا کہ اسلام کی ایک تعلیم او ایک ہی شریعیت تمام دنیا کے لیے بھیجی جائے۔اب سے ڈھائی ہزار برس پہلے انسان کی حالت اس حد تک ترقی کر چکی تھی کہ گویا وہ خود ہی ایک مشترک مذہب مانگ رہا تھا۔بودھ مت اگرچہ کوئی پورا مذہب نہ تھا اور اس میں محض چند اخلاقی اصول ہی تھےمگر ہندوستان سےنکل کر وہ ایک طرف جاپان اور منگولیا تک اور دوسری طرف افغانستان اور بخار ایک پھیل گیا اور اس کی تبلیغ کرنےوالےدُور دُور ملکوں یک جاپہنچے۔ اس کے چند صدی بعد میسائی مذہب پیدا ہوا ۔ اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام اسلام کی تعلیم لے کر آئے تھے مگر ان کے بعد عیسائیت کےنام سےایک ناقص مذہب بنا لیا گیا اور عیسائیوں نے اس مذہب کو ایران سےلے کر افریقہ اور یورپ کے دور دراز ملکوں میں پھیلا دیا۔یہ واقعات بتا رہےہیں کہ اس وقت دنیا خود ایک عام انسانی مذہب مانگ رہی تھی اور اس کے لیے یہاں تک تیار ہو گئی تھی کہ جب اُسے کوئی پورا اور صحیح مذہب نہ ملا تو اس نےکچھے اور نا تمام مذہبوں ہی کو انسانی قوموں میں پھیلانا شروع کر دیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت یہ تھا وہ وقت جب تمام دنیا اور تمام انسانی قوموں کے لیے ایک پیغمبر یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب کی سرزمین میں پیدا کیا گیا اور ان کو اسلام کی پوری تعلیم اور تحمل قانون دےکر اس خدمت پر مامور کیا گیا کہ اسےاور سارےجہان میں پھیلا دیں۔

دنیا کا جغرافیہ اٹھاکر دیکھو، تم ایک ہی نظر میں محسوس کر لو گے کہ تمام جہان کی پیغمبری کے لیےروئےزمین پر عرب سےزیادہ موزوں مقام او کوئی نہیں ہےکیا یہ ملک ایشیا اور افریقہ کےعین وسط میں واقع ہے،اور یورپ بھی یہاں سےبہت قریب ہے۔خصوصاً اس زمانہ میں یورپ کی متمدن قومیں زیادہ تر یورپ کےجنوبی حصہ میں آباد تھیں اور یہ حصہ عرب سےاتنا ہی قریب ہےبنا ہندوستان ہے ۔

پر اس زمانہ کی تاریخ پڑھو تم کوسلام ہو گاکر اس نبوت کے لیے اس زمانہ میں عربی قوم سے زیادہ موزوں کوئی قوم نہ تھی۔ دوسری بڑی بڑی قومیں اپنا اپنا زور دکھا کر و یا بے دم ہو چکی تھی اور عربی قوم تازہ دم تھی۔ تمدن کی ترقی سے دوسری قوموں کی عادتیں بگڑ گئی تھیں اور عربی قوم میں اس وقت کوئی ایسا تمدن نہیں تھا جو اس کو آرام طلب اور عیش پسند اور رذیل بنا دیتا۔ چھٹی صدی عیسوی کےعرب اُس زمانےکی متمدن قوموں کےبڑے اثرات سےبالکل پاک تھے۔ ان میں وه تمام انسانی خوبیاں موجود تھیں جو ایک ایسی قوم میں ہوسکتی ہیں میں کو تمدن کی ہوا نہ لگی ہو۔ وہ بہادر تھے ، بے خوف تھے ، فیاض تھے ، حد کے پابند تھےآزاد خیال اور آزادی کو پسند کرنے والے تھے، کسی قوم کے غلام نہ تھے،اپنی عزت پر جان دے دینا ان کےلیے آسان تھا ، نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور عیش و عشرت سےبیگانہ تھے۔اس میں شک نہیں کہ ان میں بہت سی برائیاں بھی تھیں جیسا کہ آگےمل کر تم کو معلوم ہو گا مگر یہ بولیاں اس لیےتھیں کہ ڈھائی ہزار برس سےان کے ہاں کوئی پیغبر ہ آیا تھا۔(١) نہ کوئی ایسا رہنما پیدا ہوا تھا جو ان کے اخلاق درست کرتا اور انہیں تہذیب سکھاتا صدیوں تک ریگستان میں آزادی کی زندگی بسر کرنےکےسبب سےان میں جہالت پھیل گئی تھی،اور وہ اپنی جہالت میں اس قدر سخت ہو گئے تھے کہ ان کو آدمی بنانا کسی معمولی انسان کے بس کا کام نہ تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ان میں یہ قابلیت ضرور موجود تھی کہ اگر کوئی زبر دست انسان ان کی اصلاح کر دے اور اس کی تعلیم کے اثر سے وہ کسی اعلیٰ درجہ کے مقصد کو لے کر اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کو زیر و زیر کر ڈالیں۔پیغمبر عالم کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے ایسی ہی جوان اور طاقتور قوم کی ضرورت تھی۔

اس کے بعد عربی زبان کو دیکھو۔ تم جب اس زبان کو پڑھو گے اور اس کے علم ادب کا مطالعہ کرو گے توتم کو معلوم ہوگا کہ بند خیالات کو ادا کرنے اور خدائی علم کی نهایت نازک اور باریک باتیں کرنے اور دلوں میں اثر پیدا کرنےکےلیےاس سےزیادہ موزوں کوئی زبان نہیں ہے ۔ اس زبان کے مخصہ حملوں میں بڑےبڑےمضامین ادا ہو جاتےہیں۔اور پھر ان میں ایسا زور ہوتا ہےکہ دلوں میں تیر و نشتر کی طرح اثر کرتے ہیں۔ ایسی شیرینی ہوتی ہے کہ کانوں میں رس پڑتا معلوم ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہوتا ہے کہ آدمی بے اختیار جھومنے لگتا ہے۔قرآن جیسی کتاب کے لیے ایسی ہی بان کی ضرورت تھی۔

(١)حضرت ابراہیم اور حضرت امیل علیها السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دھاتی ہزار برس پہلے گزر چکا تھا۔ اس لمبی مدت کے اندر کوئی پیغمبر عرب میں پیدا نہیں ہوا۔

پس اللہ تعالیٰ کی یہ بہت بڑی حکمت تھی کہ اس نے تمام جہان کی پیغمبری کے لیے عرب کے مقام کو منتخب کیا۔ آؤ اب ہم تمھیں بتائیں کہ میں ذات مبارک کو اس کام کے لیے پسند کیا گیا وہ کیسی بے نظیر تھی ۔

نبوت محمدی کا ثبوت ذرا ایک ہزار چار سو برس پیچھے پلٹ کر دیکھو، دنیا میں نہ تار برقی تھی ،نہ ٹیلیفون تھے ، نہ ریل تھی، نہ چھاپے خانے تھے، نہ اخبار اور رسالے شائع ہوتےتھے،نہ کتابیں چھپتی تھیں ، نہ سفر اور سیاحت کی وہ آسانیاں تھیں جو آج کل پائی جاتی ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک تک جانے میں مہینوں کی مسافت طے کرنی پڑتی تھی۔ ان حالات میں دنیا کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے ارد گرد ایران ، روم اور مصر کے ملک تھے جن میں کچھ علوم و فنون کا چرچا تھا۔ مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نےعرب کو ان سب سے جدا کر رکھا تھا۔عرب سود اگر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کر کے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے۔ مگر یہ تعلق صرف مال کی خرید و فروخت کی حد تک تھا۔ خود عرب میں کوئی اعلیٰ درجہ کا تمدن نہ تھا،نہ کوئی مدرسہ تھا، نہ کوئی کتب خانہ تھا نہ لوگوں میں تعلیم کا چرچاتھا۔تمام ملک میں گنتی کے چند لوگ تھے جن کو کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اُس زمانے کےعلوم وفنون سے آشنا ہوتے۔ وہاں کوئی باقاعدہ حکومت بھی نہ تھی۔ کوئی قانون بھی نہ تھا۔ ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا ۔ آزادی کے ساتھ لوٹ مار ہوتی تھی ۔آئےدن خونریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔آدمی کی جان کوئی قیمت ہی نہ رکھتی تھی جس کا جس پریس چلتا اُسے مار ڈالتا اور اس کے مال پر قبضہ کر لیتا۔ اخلاق اور تہذیب کی اُن کو ہوا تک نہ گئی تھی ۔ بدکاری اور شراب خوری اور جوئے بازی کا بازار گرم تھا۔لوگ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف بر ہنہ ہو جاتے تھے۔ اور تہیں تک نگی ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ حرام وحلال کی کوئی تیز تھی۔ عربوں کی آزادی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی قاعدے ، کسی قانون، کسی منابطہ کی پابندی کےلیے تیار نہ تھا ، نہ کسی حاکم کی اطاعت قبول کر سکتا تھا۔ اس پر جہالت کی یہ کیفیت کہ ساری قوم پتھر کے بتوں کو پوجتی تھی۔ راستہ چلتے ہیں کوئی اچھا سا چکنا پتھرمل جاتا تو اسی کو سامنے رکھ کر پرستش کر لیتے تھے۔ یعنی جو گرد میں کسی کےسامنے نہ جھکتی تھیں وہ پتھروں کے سامنے جھک جاتی تھیں ، اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ پتھر ان کی حاجت روائی کریں گے۔

ایسی قوم اور ایسےحالات میں ایک شخص پیدا ہوتا ہےبچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہےاس لیےاس گئی گزری حالت میں جو تربیت مل سکتی تھی وہ بھی اس کو نہیں ملتی- ہوش سنبھالتا ہےتو عرب لڑکوں کے ساتھ بکریاں چرانے لگتا ہے ۔ جوان ہوتا ہے تو سوداگری میں لگ جاتا ہے۔اٹھنا بیٹھنا ، ملنا جلنا سب انھی عربوں کے ساتھ ہے جن کی حالت تم نے اوپر دیکھی ہے تعلیم کا نام تک ہیں حتی کہ پڑھنا بھی نہیں آتا۔ مگراس کے باوجود اس کی عادتیں، اس کے اخلاق،اس کے خیالات سب سے جدا ہیں۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں ہوتا۔ کسی سے بدکلامی نہیں کرتا۔ اس کی زبان میں سختی کےبجائے شیرینی ہے اور وہ بھی ایسی کہ لوگ اس کے گردیدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ کسی کا ایک پیسہ بھی نا جائز طریقہ سےنہیں لیتا، اس کی ایمانداری کا حال یہ ہےکہ لوگ اپنےقیمتی مال اس کےپاس حفاظت کےلیےرکھواتےہیں اور وہ ہر ایک کےمال کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرتا ہےساری قوم اس کی دیانت پر بھروسہ کرتی ہےاور اسےامین کے نام سے پکارتی ہےاس کی شرم وحیا کا یہ حال ہےکہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے اس کو برہنہ نہیں دیکھا۔ اس کی شائستگی کا یہ حال ہے کہ ہر تمیز اور گندے لوگوں میں پلنے اور رہنے کے باوجود ہر بد تمیزی اور ہر گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں صفائی اور ستھرائی پائی جاتی ہے۔ اس کے خیالات اتنے پاکیزہ ہیں کہ اپنی قوم کو لوٹ مار اور خونریزی کرتے دیکھ کر اس کا دل دکھتا ہےاور وہ لڑائیوں کےکےقع پر صلح و صفائی کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ دل ایسا نرم ہے کہ ہر ایک کے دُکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔ یتمیوں اور بیواؤں کی مدد کرتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ مسافروں کی میزبانی کرتا ہےکسی کو اس سےدکھ نہیں پہنچتا اور وہ خود دوسروں کی خاطر دکھ اٹھاتا ہے ۔ پھر عقل ایسی صحیح ہے کہ بت پرستوں کی اس قوم میں رہ کر بھی وہ بہتوں سے نفرت کرتا ہے کبھی کس مخلوق کے آگے سر نہیں جھکاتا۔ اس کے اندر سے خود بخود آواز آتی ہے کہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں نظر آتی ہیں ، ان میں سے کوئی پوچھنے کے لائق نہیں۔ اس کا دل آپ سے آپ کہتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہو سکتا ہے اور ایک ہی ہے ۔ اس جاہل قوم میں یہ شخص ایسا ممتاز نظر آتا ہے گویا پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا چمک رہا ہے۔یا گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک شمع روشن ہے ۔

چالیس برس کے قریب اس طرح پاک،صاف اور اعلی درجه کی شریفانہ زندگی بسر کرنے کے بعد یہ شخص اُس تاریکی سے جو اس کےچاروں طرف پھیلی ہوئی تھی گھبرا اٹھتا ہے۔جہالت. بداخلاقی،بد کرداری،بد نظمی اور شرک و بت پرستی کا یہ ہولناک سمندر جو اس کے گھیرےہوئےتھا،اس سےوہ نکل جانا چاہتا ہےکیونکہ یہاں کوئی چیز بھی اس کی طبیعت کےمناسب نہیں۔آخر وہ آبادی سےدور ایک پہاڑ کے فار میں جاجا کر تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارنے لگتا ہے۔ فاقے کر کر کے اپنی روح اور اپنےدل و دماغ کو اور زیادہ پاک صاف کرتا ہےسوچتا ہے،غور و فکر کرتا ہے اور کوئی روشنی ڈھونڈھتا ہےجس سےوہ اس چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی کو دور کر دےایسی قوت و طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اس بگڑی ہوئی دُنیا کو تو پھوڑ کر پھر سے سنوار دے ۔

یکایک اس کی حالت میں ایک عظیم الشان تغییر رونما ہوتا ہے۔ ایک دم سے اس کے دل میں وہ روشنی آجاتی ہےجیس کو اس کی فطرت مانگ رہی تھی۔اچانک اس کےاندر وہ طاقت بھر جاتی ہےجس کا ظہور اس سےپہلےکبھی نہ ہوا تھا۔وہ غار کی تنہائی سےنکل آتا ہےاپنی قوم کےپاس آتا ہےاس سے کہتا ہےکہ یہ بت کسی کام کے نہیں،انھیں چھوڑ دو۔یہ زمین،یہ چاند،یہ سورج یہ تارے،یہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ وہی تمھارا پیدا کرنےوالا ہے۔وہی رزق دینے والا ہے ۔ وہی مارنے اور جلانے والا ہے۔سب کو چھوڑ کر اسی کو پوچھو۔ سب کو چھوڑ کر اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو ۔ یہ چوری ، یہ ٹوٹ مار، یہ شراب خوری ، یہ جوڑا ، یہ بدکاریاں جو تم کرتے ہو سب گناہ ہیں۔ انہیں چھوڑ دو،خدا انھیں پسند نہیں کرتا۔سچ بولو ، انصاف کرو ، نہ کسی کی جان لو ، نہ کسی کامل چیز جو کچھ وقت کے ساتھ لو، جوکچھ دین کے ساتھ دو۔ تم سب انسان ہو ،انسان اور انسان سب برابر ہیں، بزرگی اور شرافت انسان کی نسل اور نسب میں نہیں، رنگ روپ اور مال و دولت میں نہیں ، خدا پرستی نیکی اور پاکیزگی میں ہے ۔ جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور نیک اورپاک ہے وہی اعلی درجہ کا انسان ہے اور جو ایسا نہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ مرنے کے بعد تم سب کو اپنےخدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس عادل حقیقی کے ہاں نہ کوئی سفارش کام آئےگی، نہ رشوت چلے گی ، نہ کسی کا نسب پوچھا جائے گا۔ وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہو گی۔ جس کے پاس یہ سامان ہو گا ، وہ جنت میں جائے گا اور جس کے پاس ان میں سےکچھ نہ ہو گا وہ نامراد دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

جاہل قوم نے اُس نیک انسان کو محض اس تصویر میں سنانا شروع کیا کہ وہ یہی باتوں کو برا کیوں کہتا ہے جو باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی چلی آرہی ہیں اور اُن باتوں کی تعلیم کیوں دیتا ہے جو بزرگوں کےطریقے کے خلاف ہیں۔ اسی قصور پر انھوں نے اسے گالیاں دیں ، پتھر مارے ، اس کے لیے مینا مشکل کردیا اس کےقتل کی سازشیں کیں۔ ایک دن دو دن نہیں ، اکٹھے تیرہ برس تک سخت سے سخت ظلم توڑے ، یہاں تک کہ اسے وطن چھوڑنے پرمجبور کرایا۔اور پھر وطن سے نکال کر بھی دم نہ لیا۔ جہاں اس نے پناہ لی تھی وہاں بھی کتنی برس اس کو پریشان کرتے رہے ۔

یہ سب تکلیفیں اُس نیک انسان نے کس لیے اٹھائیں ؟ صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کو سیدھا راستہ بتانا چاہتا تھا۔ اس کی قوم اسے بادشاہی دینےکےلیےتیار تھی،دولت کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈالنے پر آمادہ تھی، بیٹی کےوہ اپنی اس تعلیم سے باز آجائے ۔ مگر اس نے سب چیزوں کو ٹھکرا دیا اور اپنی بات پر قائم رہا۔کیا اس سے بڑھ کر نیک دلی اور صداقت تمھارےخیال میں آسکتی ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدے کی خاطر نہیں محض دوسروں کے بھلےکی خاطر تخلیفیں اٹھا ئے ؟ وہی لوگ جن کے فائدے کے لیے وہ کوشش کر رہا ہے اس کو پتھر مارتے ہیں اور وہ ان کے لیے دُعائے خیر کرتا ہے ۔ انسان تو کیا فرشتے بھی اس کی نیکی پر قربان جائیں۔

پھر دیکھو،شخص اپنے فار سے یہ تعلیم لےکر نکلا تو اس میں کتنا بڑا انقلاب ہو گیا۔اب جو کلام وہ منا رہا تھا، وہ ایسا فصیح و بلیغ تھا کہ کسی نے نہ اس سے پہلے ایسا کلام کہا نہ اس کے بعد کوئی کہہ سکا۔ عرب والوں کو اپنی شاعری اپنی خطابت ، اپنی فصاحت پر بڑا ناز تھا۔ اس نے عربوں سے کہا کہ تم ایک ہی شورت اس کلام کے مانند بنا لاؤ۔ مگر سب کی گردنیں عاجزی سے جھک گئیں۔حد یہ ہے کہ خود اس شخص کی اپنی بول چال اور تقریر کی زبان بھی اتنی اعلیٰ درجہ کی نہ تھی جتنی اس خاص کلام کی تھی۔ چنانچہ آج بھی جب ہم اس کی دوسری تقریروں کا مقابلہ اُس کلام سے کرتے ہیں تو دونوں میں نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔

اس نے ، اُس ان پڑھ صحرانشین انسان نے حکمت اور دانائی کی ایسی باتیں کنی شروع کیں کہ نہ اس سے پہلے کسی انسان نے کسی تھیں ، نہ اس کے بعد آج تک کوئی کہ سکا ، نہ چالیس برس کی عمر سے پہلے خود اس کی زبان سے وہ کبھی سنی گئی تھیں۔

اس آمی نےاخلاق ،معاشرت، معیشت ، سیاست اور انسانی زندگی کےتمام معاملات کے متعلق ایسے قانون بناتےکہ بڑے بڑے عالم اور عاقل برسوں کےغور و خوف اور ساری عمر کے تجربات کے بعد مشکل ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتےہیں اور دنیا کے تجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔تیرہ سو برس سےزیادہ مدت گزر چکی ہےمگر آج بھی اس کےبنائےہوئےقانون ہیں کسی ترسیم کی گنجائش نظر نہیں آتی ۔ دنیا کے قانون ہزاروں مرتبہ بنے اور نیڑے،ہر آزمائش میں ناکام ہوئے اور ہر بار اُن میں ترمیم کرنی پڑی۔ مگر اس صحرانشین امی نے تن تنہا بغیر کسی دوسرے انسان کی مدد کے جو قانون بنا دیے ان کی کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں جو اپنی جگہ سے ہٹائی جا سکتی ہو۔

اُس نے تیس برس کی مدت میں اپنے اخلاق ، اپنی نیکی و شرافت اور اپنی اعلیٰ تعلیم کے زور سے اپنے دشمنوں کو دوست بنایا ، اپنے مخالفوں کو موافق بنایا،بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلہ میں اٹھیں اور آخر کار شکست کھا کر اس کے قدموں میں آرہیں۔ اس نے جب فتح پائی تو کسی دشمن سے بدلہ نہ لیا۔ کسی پر سختی نہ کی۔ جنھوں نے اس کے حقیقی چا کو قتل کیا تھا اور اس کا کلیجہ نکال کر چھا گئے تھے، ان کو بھی فتح پاکر اس نے معاف کر دیا۔جنھوں نے اس کو پتھر مارے تھے،اس کو وطن سے نکالا تھا،ان کو فتح پا کر اس نےبخش دیا۔اس نےکبھی کسی سےدغانہ کی عهد کر کےکبھی نہ توڑا،جنگ میں بھی کسی پر زیادتی نہ کی، اس کے سخت سےسخت دشمن بھی کبھی اس پر کسی گناہ یا ظلم کا الزام نہ رکھ سکے۔ یہی نیکی تھی جس نےبالآخر تمام عرب کا دل موہ لیا۔ پھر اس نے اپنی تعلیم و ہدایت سے اُنھی عربوں کو جن کا حال تم او پر پڑھ چکے ہو،وحشت اور جہالت سے نکال کر اعلی درجہ کی مہذب قوم بنا دیا۔ جو عرب کسی قانون کی پابندی پر تیار نہ تھے ، ان کو اس نے ایسا پابند قانون بنا دیا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی قوم ایسی پابند قانون نظر نہیں آتی۔جو عرب کسی کی اطاعت پر آمادہ نہ تھے ، اس نے ان کو ایک عظیم الشان سلطنت کا تابع بنا دیا۔ جن لوگوں کو اخلاق کی ہو ا تک نہ لگی تھی ان کے اخلاق ایسے پاکیزہ بنا ہےکہ آج ان کے حالات پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے ۔ جو عرب اُس وقت دنیا کی قوموں میں سب سے زیادہ پست تھے وہ اس تنہا انسان کے اثر سے ٹھیکیں برس کے اندریکا یک ایسے زبردست ہو گئے کہ انھوں نےایران ، روم اور مصر کی عظیم الشان سلطنتوں کے تختے الٹ دیئے۔ دنیا کو تمدن ، تہذیب ، اخلاق اور انسانیت کا سبق دیا اور اسلام کی ایک تعلیم اور ایک شریعیت کو لے کر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے دور دراز گوشوں تک پھیلتے چلے گئے۔

یہ تو وہ اثرات ہیں جو عرب قوم پر ہوئے ۔ اس سے زیادہ حیرت انگیز اثرات اس آنتی کی تعلیم سے تمام دنیا پر ہوئےاس نے ساری دنیا کےخیالات،عادات اور قوانین میں انقلاب پیدا کر دیا۔اُن کو چھوڑو جنھوں نے اس کو اپنا رہنما ہی مان لیا ہے۔ مگر حیرت یہ ہے کہ جنھوں نے اس کی پیروی سے انکار گیا، جو اس کے مخالف ہیں، اس کے دشمن ہیں ، وہ بھی اس کے اثرات سےنہ بچ سکے۔ دنیا توحید کا سبق بھول گئی تھی ، اُس نے یہ سبق پھر سے یاد دلایا اور اتنے زور کے ساتھ اس کا صور پھونکا کہ آج بت پرستوں اور مشرکوں کے مذہب بھی توحید کا دعوی کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اس نے اخلاق کی ایسی زبر دست تعلیم دی کہ اس کے بنائے ہوئے اصول تمام دنیا کے اخلاقیات میں پھیل گئے اور پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ اس نے قانون اور سیاست اور تہذیب و معاشرت کے جو اصول بتاتے وہ ایسے بچے اور بچے اصول تھے کہ مخالفوں نے بھی چپکے چپکے ان کی خوشہ چینی شروع کردی اور آج تک کیے جارہے ہیں۔

جیسا کہ تم کو اوپر بتایا جاچکا ہے ، یہ شخص ایک جاہل قوم اور ایک نہایت تاریک ملک میں پیدا ہوا تھا۔ چالیس برس کی عمر تک گلہ بانی اور سوداگری کےسوا اس نے کوئی کام نہ کیا تھا۔ کسی قسم کی تعلیم وتربیت بھی اس نے نہ پائی تھی۔گر غور کرو ، چالیس برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد کہاں سے اس کے اندر یکایک اتنے کمالات جمع ہو گئے ؟ کہاں سے اس کے پاس ایسا علم آگیا ؟ کہاں ہےاس میں یہ طاقت پیدا ہو گئی ؟ ایک اکیلا انسان ہے اور ایک ہی وقت ہیں بے نظیر سپہ سالار بھی ہے،ایک اعلی درجہ کا حج بھی ہے ، ایک زبر دست متفنن بھی ہےایک بے مثل فلاسفر بھی ہے ، ایک لاجواب مصلح اخلاق و تمدن بھی ہے، ایک غیرت انگیز ماہر سیاست بھی ہے۔پھر اتنی مصروفیتوں کےباوجود وہ راتوں کو گھنٹوں اپنے خدا کی عبادت بھی کرتا ہے ۔اپنی بیویوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہے ۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت بھی کرتا ہے ۔ ایک بڑے ملک کی بادشاہی مل جانے پر بھی وہ ایک فقیر کی سی زندگی بسر کرتا ہے ۔ بوریے پر سوتا ہے۔ موٹا جھوٹا پہنتا ہے۔ غریبوں کی سی غذا کھاتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی فاقے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔

یہ حیرت انگیز کمالات دکھا کر اگر وہ کہتا کہ میں انسان سے بالا تر ہستی ہوں تب بھی کوئی اس کے دعوے کی تردید نہ کرسکتا تھا۔ مگر جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ؟ اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب میرے اپنے کمالات ہیں ۔ ہنس نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں ، سب کچھ خدا کا ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے جو کلام پیش کیا ہے ، جس کی نظیر لانے سے سب انسان عاجز ہیں ، یہ میرا کلام نہیں ہےنہ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ ہے۔یہ خدا کا کلام ہے اور اس کی ساری تعریف خدا کےلیے ہے۔ میرے جتنے کام ہیں یہ بھی میری اپنی قابلیت سے نہیں ہیں، محض خدا کی ہدایت سے ہیں ادھر سے جو کچھ اشارہ ہوتا ہے وہی کرتا ہوں اور وہی کہتا ہوں ۔ اب بتاؤ کہ ایسے سچےانسان کو خدا کا پیغمبر کیسےنہ مانا جائےہےاس کےکمالات ایسےہیں کہ تمام دنیا میں ابتدا سے لے کر آج تک ایک انسان بھی اس کےمانند نہیں تھا۔مگر اس کی سچائی ایسی ہےکہ وہ ان کمالات پر فخر نہیں کرتا۔ان کی تعریف خود حاصل نہیں کرنا چاہتا۔بلکہ میں نے یہ سب کچھ دیا ہے صاف صاف اسی کا حوالہ دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں ؟ جب وہ خود اپنی خوبیوں کےمتعلق کہتا ہے کہ یہ خدا کی دی ہوئی ہیں،تو ہم کیوں کہیں کہ نہیں یہ سب کیسےاپنےدماغ کی پیداوار ہیں؟جھوٹا آدمی تو دوسروں کی خوبیوں کو بھی اپنی طرف خوب کرنےکی کوشش کرتا ہے۔مگر یہ شخص ان خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جنھیں وہ آسانی کے ساتھ اپنی خوبیاں کہ سکتا تھا،جن کے حل ہونے کا ذریعہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہو سکتا ، جن کی بنا پر اگر وہ انسان سے بالاتر ہونے کا بھی دعوی کرتا تو کوئی اس کی تردید نہ کر سکتا تھا۔ پھر بتاؤ کہ اس سے زیادہ سچا انسان کون ہوگا۔

دیکھو ، یہ ہیں ہمارے سرکار ، تمام جہان کے پیغمبر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیغمبری کی دلیل خود ان کی سچائی ہے۔ ان کے عظیم الشان کارنامےان کےاخلاق،ان کی پاک زندگی کے واقعات،سب تاریخوں سے ثابت ہیں جو شخص صاف دل سے حقی پسندی اور انصاف کے ساتھ ان کو پڑھے گا اس کا دل خود گواہی دے گا کہ وہ ضرو ر خدا کے پیغمبر ہیں۔ وہ کلام جو انھوں نے پیش کیا وہ یہی قرآن ہے جسے تم پڑھتے ہو ۔ اس بے نظیر کتاب کو جو شخص بھی سمجھ کر کھلے دل سے پڑھے گا ، اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ ضرور خدا کی کتاب ہے۔کوئی انسان ایسی کتاب تصنیف نہیں کر سکتا۔

ختم نبوت اب تم کو جانا چاہیےکہ اس زمانہ میں اسلام کا سچا اور سیدھا راستہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ محمد مصطفے صلی الہ علیہ وسلم کی تعلیم اور قرآن مجید کےسوا نہیں ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام نوع انسانی کےلیےخدا کے پغمبر ہیں۔ ان پر پیغمبری کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو جس قدر ہدایت دینا چاہتا تھا ،وہ سب کی سب اس نے اپنےآخری پیغمبر کے ذریعہ بھیج دی۔اب جو شخص حق کا طالب ہو اور خدا کا مسلم بندہ بنا چاہتا ہو اس پر لازم ہےکہ خدا کےآخری پیغمبر پر ایمان لائےجو کچھ تعلیم انھوں نے دی ہے اس کو مانے اور جو طریقہ انھوں نے بتایا ہےاس کی پیروی کرے ۔

ختم نبوت پر دلائل پیغمبری کی حقیقت ہم نےتم کو پہلےبتادی ہے۔اس کو سمجھنےاور اس پر غور کرنےسےتم کو خود معلوم ہو جائےگا کہ پیغمبر روز روز پیدا نہیں ہوتے،نہ یہ.ضروری ہے کہ ہر قوم کے لیے ہر وقت ایک پیغمبر ہو۔ پیغمبر کی زندگی در اصل اس کی تعلیم و ہدایت کی زندگی ہے۔جب تک اس کی تعلیم اور ہدایت زندہ ہے،اس وقت تک گویا وہ خود زندہ ہے۔پچھلےپیغمبر مرگئے،کیونکہ جو تعلیم انھوں نےدی تھی دنیا نےاس کو بدل ڈالا۔جو کتاہیں وہ لائےتھےان میں سے ایک بھی آج اصلی صورت میں موجود نہیں۔ خود ان کے پیرو بھی یہ دعوئی نہیں کرسکتےکہ ہمارےپاس پیغمبروں کی دی ہوئی اصلی کتابیں موجود ہیں انھوں نے اپنےپیغمبروں کی سیرتوں کو بھی بھلا دیا۔پچھلےپیغمبروں میں سےایک کےبھی صحیح اور معتبر حالات آج کہیں نہیں ملتےبھی یقین کےساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کسی زمانہ میں پیدا ہوتے ہو کہاں پیدا ہوئے ؟ کیا کام انھوں نے کیے؟ کس طرح زندگی بسر کی بہ کن باتوں کی تعلیم دی اور کن باتوں سے روکا ؟ یہی ان کی موت ہے۔ گر تو صلی للہ علیہ وسلم زندہ ہیں ، کیونکہ ان کی تعلیم وہدایت زندہ ہے۔ جو قرآن انھوں نےدیا تھا وہ اپنےاصلی الفاظ کےساتھ موجود ہے۔اس میں ایک حرف، ایک نقطہ،ایک زیر و زبر کا بھی فرق نہیں آیا۔ اُن کی زندگی کےحالات ، اُن کے اقوال ، اُن کے افعال سب کے سب محفوظ ہیں۔ اور تیرہ سو برس سےزیادہ مدت گزر جانےکےبعد بھی تاریخ میں ان کا نقشہ ایسا صاف نظر آتا ہے کہ گویا ہم خود آنحضرت کو دیکھ رہےہیں۔دنیا کےکسی شخص کی زندگی بھی اتنی محفوظ نہیں معنی آنحضرت کی زندگی محفوظ ہے۔ہم اپنی زندگی کےہر معاملہ میں ہر وقت آنحضرت کی زندگی سے سبق لے سکتے ہیں۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت کے بعد کسی دوسرے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔

ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آنے کی صرف تین وجہیں ہو سکتی ہیں : (١) یا تو پہلے پیر کی تعلیم وہدایت مٹ گئی ہو اور اس کو پھر پیش کرنےکی ضرورت ہو۔ (٢) یا پہلے پیغمبر کی تعلیم مکمل نہ ہو اوراس میں ترمیم یا اضافہ کی ضرورت ہوں۔ (٣) یا پہلے پیغمبر کی تعلیم ایک خاص قوم تک محدود ہو اور دوسری قوم یا قوموں کے لیے دوسرے پیغمبر کی ضرورت ہو(١)٠

یہ تینوں وجہیں اب باقی نہیں رہیں ۔ (١) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسل کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے اور وہ ذرائع پوری طرح محفوظ ہیں جن سے ہر وقت یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ حضور کا دین کیا تھا کیا ہدایت لے کر آپ آئے تھے ، کس طریق زندگی کو آپ نے رائج کیا اور کن طریقوں کو آپ نے مٹانے اور بند کرنے کی کوشش فرمائی پیش جب کہ آپ کی تعلیم و ہدایت مٹی ہی نہیں تو اس کو از سر نو پیش کرنے سےلیے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

(٢) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دنیا کو اسلام کی مکمل تعلیم دی جاچکی ہے۔اب نہ اس میں کچھ گھٹا نے بڑھانے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی ایسا نقص باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لیے کسی نبی کے آنے کی حاجت ہو ۔ لهذا دوسری وجہ بھی دُور ہو گئی ۔

(١) ایک چوتھی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک پیغمبر کی موجودگی میں اس کی مدد کےلیے دوسرا پیغمبر بھیجا جائے۔لیکن ہم نےاس کا ذکر اس لیےنہیں کیاکہ قرآن مجید میں اس کی صرف دو مثالیں مذکور ہیں۔اور ان مستنثنی مثالوں سےیہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مددگار پیغمبر بھیجنےکا کوئی عام قاعدہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔

(٣) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کےلیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور تمام انسانوں کے لیے آپ کی تعلیم کافی ہے۔لهذا اب کسی خاص قوم کے لیے الگ نبی آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔اس طرح تیسری وجہ بھی دور ہو گئی ۔

اسی بنا پر آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو خاتم النبین کہا گیا ہےیعنی سلسله نبوت کو ختم کر دینے والا۔ اب دنیا کو کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہیں ہےبلکہ صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقہ پر خود چلیں اور دوسروں کو چلائیں۔آپ کی تعلیمات کو سمجھیں،ان پر عمل کریں اور دنیا میں اس قانون کی حکومت قائم کریں جس کو لے کر آنحضرت تشریف لاتے تھے ۔

کتاب دینیات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Theology