اسلامی نظام تعلیم

انگریزی کا مقام

انگریزی کا مقام جہاں تک انگریزی زبان کی تعلیم کا تعلق ہے جدید علوم کے حصول کے لیے اس کی ضرورت اور اہمیت کا کوئی شخص بھی انصاف کے ساتھ انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ بات بہ ہر حال غلط ہی نہیں سخت نقصان دہ ہے کہ یہ ہمارے ہاں ذریعہ تعلیم کے طور پر جاری رہے۔ کوئی باشعور اور با مقصد قوم اس کے لیے تیار نہیں ہو سکتی اور نہ ہمیں کوئی چھوٹی یا بڑی آزاد قوم ایسی معلوم ہے، جس نے غیر ملکی زبان کو اپنے ہاں ذریعہ تعلیم بنایا ہو۔ اگر اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے میں کوئی مشکلات حائل ہیں تو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے اور بلا کسی ناگزیر تاخیر کے پرائمری سے آخری در جوں تک اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم کی حیثیت سے اختیار کرنا چاہیے۔ انگریزی کو ایک اہم زبان کی حیثیت سے شامل نصاب ضرور رکھنا چاہیے اور جولوگ سائنس اور دوسرے جدید علوم حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے اس زبان کو سیکھنا لازم بھی کیا جا سکتا ہے، مگر اسے ذریعہ تعلیم بنائے رکھنا انتہائی غلط فعل ہے۔

کتاب اسلامی نظام تعلیم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم