اس طرح یہ نظام تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کےلیے بھی سخت نا کافی ہے، جن کی خاطر اس کو باقی رکھا گیا تھا۔رہیں دنیوی ضروریات تو ان کےساتھ جو کچھ بھی اس کو سرو کار تھا وہ گزشتہ صدی کے آغاز ہی میں ختم ہو چکا تھا۔
اگر ہمیں اپنےموجودہ نظام تعلیم کی اصلاح کرنی ہےتو پھر ہم کو ایک انقلابی قدم اٹھانا ہوگا۔در حقیقت اب یہ ناگزیر ہوچکا ہےکہ وہ دونوں نظام تعلیم ختم کر دیےجائیں، جواب تک ہمارےہاں رائج رہےہیں۔ پرانا مذ ہی نظام تعلیم بھی ختم کیا جائےاور یہ موجودہ نظام تعلیم بھی،جو انگریز کی رہ نمائی میں قائم ہوا تھا۔ ان دونوں کی جگہ ہمیں ایک نیا نظام تعلیم بنانا چاہیے، جو ان کےنقائص سے پاک ہو اور ہماری ان ضرورتوں کو پورا کر سکے، جو ہمیں ایک مسلمان قوم، ایک آزاد قوم اور ایک ترقی کی خواہش مند قوم کی حیثیت سے اس وقت لاحق ہیں۔ اسی نظام تعلیم کا نقشہ اور اس کے قائم کرنے کا طریقہ میں یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اس تعلیم سے جو لوگ فارغ ہوں، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ آپ ان کی ڈگری کا نام کیا رکھیں مگر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں آئندہ انھی لوگوں کو ” علمائے دین“ کہا جانا چاہیے، جو اس ڈگری کو حاصل کریں اور ان کے لیے ان تمام اعلیٰ ملازمت کےدروازے کھلےونےچاہئیں ، جو دوسرے مضامین کے ایم اے اور پی ایچ ڈی حضرات کو مل سکتی ہیں۔
آخری چیز اس سلسلے میں یہ ہے کہ ہمیں اپنی تعلیم گاہوں کا پورا ماحول بدل کر اسلام کےاصول اور اسپرٹ کےمطابق بنانا ہوگا۔یہ مخلوط تعلیم،یہ فرنگیت کے مظاہر، یہ از فرق تا به قدم مغربی تہذیب و تمدن کا غلبہ،یہ کالجوں کےمباحثےاور انتخابات کے طریقےاگر یہ سب کچھ آپ کےہاں یوں ہی جاری رہے اور ان میں سےکسی چیز کو بھی آپ بدلنےکےلیےتیار نہ ہوں تو پھر ختم کیجیےاصلاح تعلیم کی ساری اس گفتگو کو،اس لیےکہ اس ذہنی و تہذیبی غلامی کےماحول میں ایک آزاد مسلم مملکت کےوہ باعزت شہری اور کارکن و کار فرما کبھی پروان نہیں چڑھ سکتےجنھیں اپنی قومی تہذیب پر فخر ہو، اور اس بےسیرتی کی آب و ہوا میں بھی اس مضبوط کردار کےلوگ پرورش نہیں پاسکتے،جو اصول اور ضمیر کےمعاملےمیں کوئی کچک کھانےکےلیےتیار نہ ہوں۔ یہ ماحول برقرار رکھنا ہوتو پھر ہمیں سرے سے یہ خیال ہی چھوڑ دینا چاہیے کہ یہاں ہمیں ایک ایمان دار اور با ضمیر قوم تیار کرنی ہے۔ آخر یہ کیا مذاق ہےکہ ایک طرف آپ خدا اور رسول ﷺ کےصریح احکام کی خلاف ورزی کر کےجوان لڑکیوں اور جوان لڑکوں کو ایک ساتھ بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ انھی لڑکوں اور لڑکیوں میں خدا کا خوف اور اخلاقی قوانین کا احترام پیدا ہو۔ایک طرف آپ اپنی تمام حرکات و سکنات اور اپنے پورے ماحول سے اپنی نئی نسلوں کے ذہن پر فرنگی تہذیب اور فرنگی طرز زندگی کا رُعب بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتےہیں کہ زبانی باتوں سے ان کے دلوں میں قومی تہذیب کی قدر پیدا ہو جائے۔ ایک طرف آپ اپنےمباحثوں میں روز اپنے نو جوانوں کو زبان اور ضمیر کا تعلق توڑنے اور ضمیر کےخلاف بولنے کی مشق کراتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ ان کے اندر راست بازی اور حق پرستی پیدا ہو۔ایک طرف آپ ان کو وہ سارے انتخابی ہتھکنڈے اپنےکالجوں ہی میں برتنے کا خوگر بنا دیتےہیں، جنھوں نے ہمارے پوری سیاسی زندگی کو گندہ کر کےرکھ دیا ہے اور دوسری طرف آپ یہ امید رکھتےہیں کہ یہاں سے نکل کر وہ بڑےایمان دار اور کھرے ثابت ہوں گے۔ ایسے معجزات کا ظہور صریحاً محال ہے۔ اگر ہم اپنی قومی زندگی کو خرابیوں سے پاک کرنے کے واقعی خواہش مند ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے ماحول کی تطہیر سے اس کا آغاز کرنا ہوگا۔
جہاں تک عورتوں کی تعلیم کے سلسلے میں عملی تدابیر و اصلاحات کا تعلق ہے، جو اصلاحات اوپر پرائمری سے اختصاصی در جوں تک بیان کی گئی ہیں وہ عورتوں کی تعلیم میں بھی اسی طرح سے شامل ہونی چاہئیں ، جیسی کہ مردوں کی تعلیم میں۔ اس کے علاوہ عورتوں کی تعلیم میں اس بات کو بھی خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان کی اصل اور فطری ذمے داری زراعتی فارم، کارخانے اور دفاتر چلانے کے بہ جائے گھر چلانے اور انسان سازی کی ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کو ان کے اندر ایک ایسی مسلمان قوم وجود میں لانے کی قابلیت پیدا کرنی چاہیے، جو دنیا کے سامنے اس فطری نظام زندگی کا عملی مظاہرہ کر سکے، جو خود خالق کائنات نے بنی نوع انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔
ان نقصانات کےمقابلےمیں آخر وہ کیا فوائد ہیں،جو رومن رسم الخط اختیار کرنےمیں نظر آتےہیں کہ ان کی خاطر ان نقصانات کو انگیز کر لیا جائے؟ اگر صرف یہ مقصود ہےکہ بنگلہ اور اردو دونوں کا ایک رسم الخط ہو جائےتو یہ عربی رسم الخط اختیار کرنےسےاچھی طرح حاصل ہوسکتا ہےکیوں کہ مشرقی پاکستان کےمسلمانوں کو قرآن کی خاطر یہ رسم الخط تو بہ ہر حال سیکھنا ہی پڑتا ہےاگر طباعت کی آسانیوں کی خاطر اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو یہ مقصد بھی خط رسخ سےبه آسانی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایران، مصر، شام وغیرہ میں خط نسخ کی طباعت انتہائی ترقی پر پہنچ چکی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہمارےہاں وہ کام یاب نہ ہو سکے۔اس کے ماسوا اگر کوئی فوائد ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں ورنہ بہتر ہے کہ یہ بحث لپیٹ کر رکھ دی جائے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر ملک میں کوئی استصواب عام کر دیا جائے تو اُردو خواں لوگوں کی آبادی میں ایک فی ہزار بھی مشکل سے ملیں گے ، جو رومن رسم الخط کے حق میں رائے دیں۔یہ تبدیلی عوام کی مرضی سے کبھی نہیں ہو سکتی۔ ہاں زبردستی کی جاسکتی ہے، جو اپنے اچھے اثرات کبھی نہیں چھوڑ کر جاسکتی۔
| کتاب | اسلامی نظام تعلیم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |