اسلامی نظام تعلیم

اسلامی نظام تعلیم

اسلامی نظام تعلیم (ذیل کا مقالہ در اصل وہ میمورنڈم ہے، جو مولانا مودودی نے اصلاح تعلیم کے سلسلےمیں پاکستان کے قومی تعلیمی کمیشن کو بھیجا تھا۔ چوں کہ کمیشن کے جاری کردہ سوال نامےکا دائرہ اس قدر محدود تھا کہ اس کے حدود میں رہتے ہوئے بنیادی تبدیلیوں کےمتعلق کوئی تجویز پیش نہیں کی جاسکتی تھی ، اس لیے یہ مقالہ کمیشن کی اجازت سے اس سے آزاد ہو کر لکھا گیا ہے ...) اس ملک کے موجودہ نظام تعلیم میں اصلاحات تجویز کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم ان نقائص کو اچھی طرح سمجھ لیں،جو ہماری تعلیم کے نظام میں اس وقت پائے جاتے ہیں۔ اس کے بغیر ہم یہ نہیں جان سکتے کہ اس میں اصلاح کس طرح اور کس شکل میں ہونی چاہیے۔ہمارےملک میں اس وقت دو طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ایک وہ جس پر ہمارے پرانے طرز کےمدارس چل رہے ہیں اور ہماری مذہبی ضروریات پوری کرنے کے لیے علماء تیار کرتا ہے۔ دوسر اوہ،جو ہمارےکالجوں اور یونی ورسٹیوں میں رائج ہے اور مذہبی دائرے سے باہر ہمارے پورےنظام زندگی کو چلانے کے لیے کارکن تیار کرتا ہے۔ ان دونوں کے نقائص کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر ہمیں ان کےبہ جائےایک ہی ایسا نظام تعلیم تجویز کرنا ہوگا،جو ہماری ساری قومی ضروریات کوبیک وقت پورا کر سکےاور اس موجودہ تعلیمی معنویت کو ختم کر دے، جو دین و دنیا کی تفریق کے گم راہانہ کو نظریے پر مبنی ہے

قدیم نظام تعلیم

اس طرح یہ نظام تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کےلیے بھی سخت نا کافی ہے، جن کی خاطر اس کو باقی رکھا گیا تھا۔رہیں دنیوی ضروریات تو ان کےساتھ جو کچھ بھی اس کو سرو کار تھا وہ گزشتہ صدی کے آغاز ہی میں ختم ہو چکا تھا۔

جدید نظام تعلیم

اگر ہمیں اپنےموجودہ نظام تعلیم کی اصلاح کرنی ہےتو پھر ہم کو ایک انقلابی قدم اٹھانا ہوگا۔در حقیقت اب یہ ناگزیر ہوچکا ہےکہ وہ دونوں نظام تعلیم ختم کر دیےجائیں، جواب تک ہمارےہاں رائج رہےہیں۔ پرانا مذ ہی نظام تعلیم بھی ختم کیا جائےاور یہ موجودہ نظام تعلیم بھی،جو انگریز کی رہ نمائی میں قائم ہوا تھا۔ ان دونوں کی جگہ ہمیں ایک نیا نظام تعلیم بنانا چاہیے، جو ان کےنقائص سے پاک ہو اور ہماری ان ضرورتوں کو پورا کر سکے، جو ہمیں ایک مسلمان قوم، ایک آزاد قوم اور ایک ترقی کی خواہش مند قوم کی حیثیت سے اس وقت لاحق ہیں۔ اسی نظام تعلیم کا نقشہ اور اس کے قائم کرنے کا طریقہ میں یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ایک انقلابی قدم کی ضرورت

چہارم یہ کہ بچے کو اسلامی زندگی بسر کرنے کے طریقے بتائے جائیں اور اس سلسلے میں وہ تمام فقہی مسائل بیان کر دیے جائیں، جو ایک دس برس کے لڑکےاور لڑکی کو معلوم ہونےچاہئیں۔ طہارت و پاکیزگی کے احکام، وضو کے مسائل ، نماز اور روزے کے طریقے، حرام اور حلال کے ابتدائی حدود، معاشرتی زندگی کے پسندیدہ اطوار، یہ وہ چیزیں ہیں، جو ہر مسلمان بچے کو معلوم ہونی چاہئیں۔ ان کو صرف بیان ہی نہ کیا جائےبلکہ ایسےطریقےسےذہن نشین کیا جائے،جس سے بچے یہ سمجھیں کہ ہمارے لیے یہی احکام ہونے چاہئیں،یہ احکام بالکل برحق ہیں اور ہم کو ایک ستھری اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کےلیے ان احکام کا پابند ہونا چاہیے۔

عملی نقشه

اس تعلیم سے جو لوگ فارغ ہوں، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ آپ ان کی ڈگری کا نام کیا رکھیں مگر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں آئندہ انھی لوگوں کو ” علمائے دین“ کہا جانا چاہیے، جو اس ڈگری کو حاصل کریں اور ان کے لیے ان تمام اعلیٰ ملازمت کےدروازے کھلےونےچاہئیں ، جو دوسرے مضامین کے ایم اے اور پی ایچ ڈی حضرات کو مل سکتی ہیں۔

لازمی تدابیر

آخری چیز اس سلسلے میں یہ ہے کہ ہمیں اپنی تعلیم گاہوں کا پورا ماحول بدل کر اسلام کےاصول اور اسپرٹ کےمطابق بنانا ہوگا۔یہ مخلوط تعلیم،یہ فرنگیت کے مظاہر، یہ از فرق تا به قدم مغربی تہذیب و تمدن کا غلبہ،یہ کالجوں کےمباحثےاور انتخابات کے طریقےاگر یہ سب کچھ آپ کےہاں یوں ہی جاری رہے اور ان میں سےکسی چیز کو بھی آپ بدلنےکےلیےتیار نہ ہوں تو پھر ختم کیجیےاصلاح تعلیم کی ساری اس گفتگو کو،اس لیےکہ اس ذہنی و تہذیبی غلامی کےماحول میں ایک آزاد مسلم مملکت کےوہ باعزت شہری اور کارکن و کار فرما کبھی پروان نہیں چڑھ سکتےجنھیں اپنی قومی تہذیب پر فخر ہو، اور اس بےسیرتی کی آب و ہوا میں بھی اس مضبوط کردار کےلوگ پرورش نہیں پاسکتے،جو اصول اور ضمیر کےمعاملےمیں کوئی کچک کھانےکےلیےتیار نہ ہوں۔ یہ ماحول برقرار رکھنا ہوتو پھر ہمیں سرے سے یہ خیال ہی چھوڑ دینا چاہیے کہ یہاں ہمیں ایک ایمان دار اور با ضمیر قوم تیار کرنی ہے۔ آخر یہ کیا مذاق ہےکہ ایک طرف آپ خدا اور رسول ﷺ کےصریح احکام کی خلاف ورزی کر کےجوان لڑکیوں اور جوان لڑکوں کو ایک ساتھ بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ انھی لڑکوں اور لڑکیوں میں خدا کا خوف اور اخلاقی قوانین کا احترام پیدا ہو۔ایک طرف آپ اپنی تمام حرکات و سکنات اور اپنے پورے ماحول سے اپنی نئی نسلوں کے ذہن پر فرنگی تہذیب اور فرنگی طرز زندگی کا رُعب بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتےہیں کہ زبانی باتوں سے ان کے دلوں میں قومی تہذیب کی قدر پیدا ہو جائے۔ ایک طرف آپ اپنےمباحثوں میں روز اپنے نو جوانوں کو زبان اور ضمیر کا تعلق توڑنے اور ضمیر کےخلاف بولنے کی مشق کراتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ ان کے اندر راست بازی اور حق پرستی پیدا ہو۔ایک طرف آپ ان کو وہ سارے انتخابی ہتھکنڈے اپنےکالجوں ہی میں برتنے کا خوگر بنا دیتےہیں، جنھوں نے ہمارے پوری سیاسی زندگی کو گندہ کر کےرکھ دیا ہے اور دوسری طرف آپ یہ امید رکھتےہیں کہ یہاں سے نکل کر وہ بڑےایمان دار اور کھرے ثابت ہوں گے۔ ایسے معجزات کا ظہور صریحاً محال ہے۔ اگر ہم اپنی قومی زندگی کو خرابیوں سے پاک کرنے کے واقعی خواہش مند ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے ماحول کی تطہیر سے اس کا آغاز کرنا ہوگا۔

عورتوں کی تعلیم

جہاں تک عورتوں کی تعلیم کے سلسلے میں عملی تدابیر و اصلاحات کا تعلق ہے، جو اصلاحات اوپر پرائمری سے اختصاصی در جوں تک بیان کی گئی ہیں وہ عورتوں کی تعلیم میں بھی اسی طرح سے شامل ہونی چاہئیں ، جیسی کہ مردوں کی تعلیم میں۔ اس کے علاوہ عورتوں کی تعلیم میں اس بات کو بھی خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان کی اصل اور فطری ذمے داری زراعتی فارم، کارخانے اور دفاتر چلانے کے بہ جائے گھر چلانے اور انسان سازی کی ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کو ان کے اندر ایک ایسی مسلمان قوم وجود میں لانے کی قابلیت پیدا کرنی چاہیے، جو دنیا کے سامنے اس فطری نظام زندگی کا عملی مظاہرہ کر سکے، جو خود خالق کائنات نے بنی نوع انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔

رسم الخط

ان نقصانات کےمقابلےمیں آخر وہ کیا فوائد ہیں،جو رومن رسم الخط اختیار کرنےمیں نظر آتےہیں کہ ان کی خاطر ان نقصانات کو انگیز کر لیا جائے؟ اگر صرف یہ مقصود ہےکہ بنگلہ اور اردو دونوں کا ایک رسم الخط ہو جائےتو یہ عربی رسم الخط اختیار کرنےسےاچھی طرح حاصل ہوسکتا ہےکیوں کہ مشرقی پاکستان کےمسلمانوں کو قرآن کی خاطر یہ رسم الخط تو بہ ہر حال سیکھنا ہی پڑتا ہےاگر طباعت کی آسانیوں کی خاطر اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو یہ مقصد بھی خط رسخ سےبه آسانی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایران، مصر، شام وغیرہ میں خط نسخ کی طباعت انتہائی ترقی پر پہنچ چکی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہمارےہاں وہ کام یاب نہ ہو سکے۔اس کے ماسوا اگر کوئی فوائد ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں ورنہ بہتر ہے کہ یہ بحث لپیٹ کر رکھ دی جائے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر ملک میں کوئی استصواب عام کر دیا جائے تو اُردو خواں لوگوں کی آبادی میں ایک فی ہزار بھی مشکل سے ملیں گے ، جو رومن رسم الخط کے حق میں رائے دیں۔یہ تبدیلی عوام کی مرضی سے کبھی نہیں ہو سکتی۔ ہاں زبردستی کی جاسکتی ہے، جو اپنے اچھے اثرات کبھی نہیں چھوڑ کر جاسکتی۔

انگریزی کا مقام

انگریزی کا مقام جہاں تک انگریزی زبان کی تعلیم کا تعلق ہے جدید علوم کے حصول کے لیے اس کی ضرورت اور اہمیت کا کوئی شخص بھی انصاف کے ساتھ انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ بات بہ ہر حال غلط ہی نہیں سخت نقصان دہ ہے کہ یہ ہمارے ہاں ذریعہ تعلیم کے طور پر جاری رہے۔ کوئی باشعور اور با مقصد قوم اس کے لیے تیار نہیں ہو سکتی اور نہ ہمیں کوئی چھوٹی یا بڑی آزاد قوم ایسی معلوم ہے، جس نے غیر ملکی زبان کو اپنے ہاں ذریعہ تعلیم بنایا ہو۔ اگر اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے میں کوئی مشکلات حائل ہیں تو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے اور بلا کسی ناگزیر تاخیر کے پرائمری سے آخری در جوں تک اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم کی حیثیت سے اختیار کرنا چاہیے۔ انگریزی کو ایک اہم زبان کی حیثیت سے شامل نصاب ضرور رکھنا چاہیے اور جولوگ سائنس اور دوسرے جدید علوم حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے اس زبان کو سیکھنا لازم بھی کیا جا سکتا ہے، مگر اسے ذریعہ تعلیم بنائے رکھنا انتہائی غلط فعل ہے۔

کتاب اسلامی نظام تعلیم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم